Ayah 20:71قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر فرعون نے (جادوگروں سے)
کہا کہ میری اجازت کے بغیر تم موسیٰ پر ایمان لے آئے واقعی وہ (سحر میں) تم سے بڑا ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے۔
لَکُمْ (ایمان کے بعد بِ آنا چاہئے لیکن) اس جگہ لام آیا ہے کیونکہ اَمَنْتُمْکے اندر اتباع کا مفہوم پوشیدہ ہے (اور اتباع کے بعد اگر آتا ہے تو لام آتا ہے ب نہیں آتا یعنی تم نے موسیٰ کی بات کو مان لیا اور اس کے پیرو ہوگئے)
اِنَّۂ لَکَبِیْرُکُمْ یعنی جادو میں تمہارا بڑا ہے تم سے زیادہ جادو مکرر جانتا ہے اسی لئے تم پر غالب آگیا اس کا نبوت کا دعویٰ غلط ہے یا کبیر سے مراد ہے استاد یعنی یہ تمہارا استاد ہے۔
الَّذِیْ عَلَّمَکُمْ السِّحْرَ جس نے تم کو جادو سکھایا ہے اسی لئے تم سب سے متفق ہو کر اس کی موافقت اور پیروی کر لی
فلا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف ولا وصلبنکم فی جذوع النخل سو اب میں تم سب
کے ہاتھ پاؤں کٹواتا ہوں ایک طرف کا ہاتھ اور ایک طرف کا پاؤں اور تم سب کو کھجور کے درختوں پر ٹنگواتا ہوں۔
مِّنْ خِلَافٍیعنی سیدھا ہاتھ اور بایاں پاؤں۔ خلاف یعنی مخالف۔
فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِدرخت کھجور کے تنوں میں درخت کھجور لمبا ہوتا ہے دور سے نظر آتا ہے (اور دوسروں کو دکھا کر عبرت دلانی مقصود تھی) اس لئے درخت کھجور کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا اور علی جذوع کی جگہ فی جذوع کہنے سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ میں تم کو تنوں کے ساتھ پیوست کر دوں گا ‘ جس طرح مظروف ظرف کے ساتھ پیوست ہوتا ہے۔
ولتعلمن اینا اشد عذابا وابقی۔ اور تم کو یقیناً یہ بھی ضرور معلوم ہوا جاتا ہے کہ ہم میں سے کس کا عذاب سخت
اور دیرپا ہے یعنی میں تم کو رب موسیٰ پر ایمان لانے کی زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰ کا رب تم کو زیادہ سخت عذاب دے سکتا تھا ‘ اگر تم اس پر ایمان نہ لاتے۔
وَاَبْقٰی اور کس کا عذاب دوامی اور لازوال ہے۔
Ayah 20:72قالوا لن نوثرک علی ما جآء نا من البینت والذی فطرنا فاقض ما انت قاض
. جادوگروں نے کہا ہم تجھ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے بمقابلہ ان دلائل کے جو ہم کو مل گئی ہیں اور بمقابلہ اس ذات کے جس نے ہم کو پیدا کیا ہے پس تجھ کو جو کچھ فیصلہ کرنا ہے کر ڈال۔ یا یوں ترجمہ کیا جائے کہ تجھ کو جو کچھ کرنا ہے کر ڈال مؤخر الذکر ترجمہ پر مَا انْتَ قَاضٍ ‘ اِقْضٍ کا مفعول ہوگا اور اگر قضا کا معنی فیصلہ اور حکم کہا جائے تو مَا اَنْتَاس کا مفعول نہ ہوگا کیونکہ باب قضا کے مفعول پر ب آنا ضروری ہے اس صورت میں مَا اَنْتَ قَاضٍمفعول مطلق ہوگا یعنی جو حکم تجھے دینا ہے دے ڈال۔
انما تقضی ہذہ الحیوۃ الدنیا۔ تو بجز اس کے کہ اس دنیوی زندگی میں کچھ کرلے اور کر ہی کیا سکتا ہے۔
تَقْضِیْیعنی اس دنیوی زندگی میں جو چاہے کرلے یا جو حکم دینا چاہے دے لے۔ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَامفعول فیہ ظرف زمان ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ بس اسی دنیوی زندگی میں تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے یا جو کچھ حکم دینا چاہے دے لے ‘ تیری حکومت اور سلطنت عنقریب ختم ہوجائے گی۔ بعض روایات میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی جادوگروں کو دی تھی اس کے مطابق اس نے جادوگروں کو ہاتھ پاؤں کاٹ کر صلیب پر لٹکوا بھی دیا۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے یہ روایت نقل کی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے وہ ایسا نہیں کرسکا کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَکُمَا۔۔ تم دونوں اور جو تمہارے متبع ہیں سب غالب ہوں گے۔
Ayah 20:73انا امنا بربنا لیغفرلنا خطینا وما اکرہتنا علیہ من السحر بلاشبہ ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے
تاکہ وہ ہماری خطاؤں کو اور اس جادو کو جس پر تو نے ہم کو مجبور کیا تھا معاف فرما دے۔
ایک شبہ جادوگر اپنے اختیار سے آئے تھے ‘ فرعون نے ان کو مجبور کب کیا تھا خود ہی انہوں نے عزت فرعون کی قسم کھا کر کہا تھا کہ ہم غالب رہیں گے ‘ پھر مَا اَکْرَہْتَنَا عَلَیْہِ مِنَ السِّحْرِکہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔
ازالہ بغوی نے حسن کا قول نقل کیا ہے کہ کچھ لوگوں کو فرعون جادو سیکھنے پر مجبور کرتا تھا تاکہ جادو کی جڑ قائم رہے ما اَکْرَہْتَنَا سے یہی مراد ہے۔ مقاتل نے کہا جادوگر بہتر تھے دو قبطی اور ستّر اسرائیلی فرعون نے اسرائیلیوں کو جادو کرنے پر مجبور کیا تھا۔ عبدالعزیز بن ابان نے کہا کہ جادوگروں نے فرعون سے درخواست کی کہ پہلے ہم کو موسیٰ کو سوتے میں دکھا دیجئے (پھر کچھ رائے قائم کریں گے) چناچہ حضرت موسیٰ جب سو رہے تھے اور لاٹھی آپ کا پہرا دے رہی تھی اس وقت فرعون نے جادوگروں کو بلوا کر حضرت موسیٰ کا معائنہ کرا دیا جادوگر دیکھ کر کہنے لگے یہ تو سحر نہیں ہے جادوگر سو جاتا ہے تو اس کا جادو بھی ختم ہوجاتا ہے (لیکن لاٹھی تو موسیٰ کی سوتے میں نگرانی کر رہی ہے ‘ یہ جادو نہیں ہوسکتا) فرعون نے جادوگروں کی بات نہیں مانی اور مقابلہ کرنے پر مجبور کیا مَا اَکْرَہْتَنَا عَلَیْہِ مِنَ السِّحْرِکا یہی مطلب ہے۔
واللہ خیر وابقی۔ اور اللہ تعالیٰ (تجھ سے بدرجہا) اچھا اور زیادہ بقا والا ہے یعنی جو شخص ایمان کے ساتھ عمل
صالح کرے اس کو ساری مخلوق سے بڑھ کر اللہ ثواب دینے والا ہے اور جو مجرم کفر کی حالت میں اس کے سامنے جائے گا اس کو عذاب بھی ساری مخلوق سے زیادہ پائیدار لازوال دے گا۔
محمد بن اسحاق نے کہا فرعون نے کہا تھا وَلَتَعْلَمُنَّ اینا اشد عَذَابًا وَّاَبْقٰیساحروں نے اس کا یہ جواب دیا۔
Ayah 20:74انہ من یات ربہ مجرما فان لہ جہنم لا یموت فیہا ولا یحیی۔ جو شخص (بغاوت کا) مجرم
اپنے رب کے سامنے جائے گا اس کے لئے جہنم مقرر ہے اس میں نہ وہ مرے گا نہ جئے گا۔
مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا یعنی کفر اور نافرمانی پر مرے گا۔ لاَ یَمُوْتُجہنم کے اندر اس کو موت نہیں آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے لاَ یَحْیٰینہ خوش گوار زندگی ملے گی کہ آرام پائے 1 ۔
Ayah 20:75ومن یاتہ مؤمنا قد عمل الصلحت فاولئک لہم الدرجت العلی۔ اور جو شخص اپنے رب کے پاس مؤمن ہو کر حاضر ہوگا جس نے نیک کام بھی کئے ہوں سو ایسوں کے لئے بڑے اونچے درجے ہیں
Ayah 20:76جنت عدن تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا یعنی ہمیشہ رہنے کے لئے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
یعنی جو شخص ایمان کی حالت میں مرے گا اور اس نے دنیا میں اعمال صالحہ کئے ہوں گے اس کو رہنے کے لئے باغ ملیں گے عدن بمعنی قیام و سکونت یہ جنات بڑے اونچے درجات ہوں گے۔
وذلک جزآو من تزکی۔ کفر و معاصی کے میل کچیل سے پاک ہونے والے کی یہی جزا ہے۔ کلبی نے
کہا تَزَکّٰیکا یہ معنی ہے کہ جس نے اپنے نفس کی زکوٰۃ دے دی اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگیا۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ اور ابن حبان نے صحیح سند سے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اونچے درجات والوں کو نیچے والے اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم چمکتے ستاروں کو آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو اور ابوبکر انہیں میں سے ہوں گے اور عمر (بھی) یہ حدیث طبرانی نے حضرت جابر ؓ بن سمرہ کی روایت سے اور ابن عساکر نے حضرت ابن عمرو حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کی ہے۔ شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد نے حضرت ابو سعید ؓ کی روایت سے اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے حدیث مذکور مرفوعاً اس طرح نقل کی ہے کہ اہل جنت اوپر والے کمروں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح (آسمان کے) مشرقی یا مغربی افق میں ڈبڈباتے چمکتے ستارے کو تم لوگ دیکھتے ہو اس کی وجہ ان کے باہم درجات کا تفاوت ہوگا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : پھر انبیاء کے مراتب کو تو ان کے علاوہ کوئی اور پہنچے گا ہی نہیں فرمایا کیوں نہیں ‘ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انبیاء کی تصدیق کی (وہ بھی انبیاء کے ساتھ ہوں گے) ۔
مؤخر الذکر تینوں آیات ساحروں کے کلام کا تتمہ اور اللہ خیر وابقی کی علت بھی ہوسکتی ہیں اور اللہ کی طرف سے ساحروں کے کلام کی تصدیق بھی ان کو قرار دیا جاسکتا ہے۔
Ayah 20:77ولقد اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی فاضرب لہم طریقا فی البحر یبسا لا تخف درکا ولا تخشی۔ اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے ان بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو (مصر سے) راتوں
رات (باہر) لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک راستہ بنا دینا نہ تو تم کو کسی کے تعاقب کا اندیشہ ہوگا اور نہ (کسی اور قسم کا) خوف ہوگا۔
یعنی جب اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کا ستیاناس کردینا چاہا اور بنی اسرائیل کو ان کے ظلم سے نجات دے دینے کا اس نے ارادہ کیا تو حضرت موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ ان لوگوں کو لے کر راتوں رات مصر سے باہر نکل جاؤ۔
فَاضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقًا یعنی ان کے لئے راستہ مقرر کر دو اس ترجمہ پر یہ جملہ محاورۂ ضرب سہم سے ماخوذ ہوگا ‘ عرب بولتے ہیں ضَرَبَ لَہُ مِنْ مَالِہٖ سَہْمًا اس نے اپنے مال میں اس کا ایک حصہ مقرر کردیا۔ یا فاضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقًا کا ترجمہ ہوگا بنا دو ان کے لئے راستہ۔ عرب کہتے ہیں ضَرَبَ اللَّبَنَاس نے اینٹیں بنائیں۔ میں کہتا ہوں اضرب سے مراد لاٹھی مارنا بھی ہوسکتا ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا فاضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ یَکُنْ طَرِیْقًا اپنی لاٹھی دریا میں مارنا راستہ خشک ہوجائے گا۔ درکاً دشمن کا پہنچ جانا مراد ہے ‘ یعنی دشمن کے تعاقب کرنے اور پہنچ جانے کا تم کو کچھ اندیشہ نہ ہوگا۔ وَلاَ تَخْشٰی اور نہ ڈوبنے کا خطرہ۔
موسیٰ نے حکم کی تعمیل کی ‘ بنی اسرائیل کو لے کر چل دیئے ‘ دریا پر پہنچے تو دریا میں لاٹھی ماری پانی پھٹ گیا اور دونوں طرف پہاڑ کی طرح رک گیا خشک زمین نکل آئی بنی اسرائیل خشک زمین پر چل کر پار نکل گئے۔
Ayah 20:78فاتبعہم فرعون بجنودہ فغشیہم من الیم ما غشیہم۔ پھر فرعون اپنے لشکروں کو لے کر ان کے پیچھے چلا تو دریا ان پر جیسے ملنے کو تھا آ ملا
Ayah 20:79واضل فرعون قومہ وما ہدی۔
اور فرعون اپنی قوم کو بری راہ پر لایا اور نیک راہ نہ بتائی۔ بِجُنُوْدِہٖمیں ب بمعنی مع کے ہے یعنی فرعون کو جب اطلاع ملی کہ موسیٰ بنی اسرائیل کو لے کر رات کو ہی مصر سے نکل گیا تو اس نے خود اپنے لشکر کے ساتھ موسیٰ کا پیچھا کیا۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک اتباع (باب افعال) بمعنی اتباع (باب افتعال) کے ہے (یعنی لازم ہے) ب کے ذریعہ سے اس کو متعدی بنایا گیا ہے ‘ یعنی فرعون اپنے لشکر کو لے کر پیچھے چلا۔ یا فرعون نے اپنے لشکر کو بنی اسرائیل کے پیچھے چلایا ‘ مِنَ الْیَمِّیعنی دریا کا کچھ پانی۔ یم دریا ‘ من تبعیضیہ ہے (کچھ پانی) یا بیانیہ ہے۔ مَا غَشِیَہُمْمیں ما کا ابہام موجوں کی عظمت پر دلالت کر رہا ہے ‘ یعنی ایسی موجیں اوپر سے آئیں کہ جن کی مقدار اور حقیقت سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ اَضَلَّیعنی دین کے معاملے میں فرعون نے اپنی قوم کو بےراہ کردیا ‘ وَمَا ہَدٰی اور صحیح راستہ نہ دکھایا ‘ دین کا مذاق اڑاتا رہا۔ اس نے قوم سے کہا تھا مَا اَہْدِیْکُمْ الاَّسَبِیْلَ الرَّشَاد میں تم کو نہیں بتاتا مگر سیدھا راستہ۔ لیکن اس نے سیدھا راستہ نہیں بتایا۔ اس آیت سے فرعون کے قول مذکور کی تکذیب کردی گئی یا یہ مطلب ہے کہ دریا کے اندر فرعون نے قوم کو بےراہ کردیا اور خود بھی نجات نہ پائی۔
Ayah 20:80یبنی اسرآئیل قد انجینکم من عدوکم ووعدنکم جانب الطور الایمن اے بنی اسرائیل
(دیکھو) ہم نے تم کو تمہارے (ایسے بڑے) دشمن سے نجات دی اور ہم نے تم سے (یعنی تمہارے پیغمبر سے) طور کے دائیں جانب آنے کا وعدہ کیا۔
یٰبَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ سے خطاب ان بنی اسرائیل کو ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے اور جو احسانات ان کے آباء و اجداد پر کئے گئے تھے وہ موجودہ بنی اسرائیل کو یاد دلائے گئے ہیں لیکن اس مطلب پر ایک لاینحل اشکال یہ وارد کیا جاسکتا ہے کہ سورة مکی ہے اور مکہ کی زندگی میں خطاب بنی اسرائیل کو نہیں ہوسکتا۔ پوری مکی زندگی میں مخاطب قریش یا کفار مکہ ہوسکتے ہیں اس لئے کہنا پڑتا ہے کہ یہ گزشتہ واقعہ کا بیان ہے جن بنی اسرائیل کو اللہ نے فرعون کے پنجے سے رہا کرایا اور فرعون کو مع لشکر کے غرق کیا تھا انہی کو اللہ نے اس وقت یہ خطاب کیا تھا اور اس خطاب کو نقل اس جگہ کیا اس مطلب پر لفظ قُلْنَامحذوف ماننا پڑے گا مطلب اس طرح ہوگا کہ فرعون کو غرق کرنے اور دوسرے واقعات ہو چکنے کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا یٰبَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰکُمْ ۔۔
جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنُجانب مفعول فیہ ظرف مکان ہے اور الایمن جانب کی صفت ہے لیکن پہاڑ کا حقیقت میں کوئی دایاں بایاں رخ نہیں ہوتا اس لئے کہا جائے گا کہ دایاں جانب موسیٰ کا تھا اور موسیٰ پہاڑ پر تھے اس لئے پہاڑ کا دایاں جانب کہہ دیا ‘ اللہ نے موسیٰ سے مناجات کا اور توریت دینے کا وعدہ کیا تھا اور یہ بھی حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں سے ستّر آدمیوں کو منتخب کر کے اپنے ساتھ لے آئیں۔ یہ وعدہ حضرت موسیٰ سے تھا لیکن اس وعدہ کا تعلق چونکہ بنی اسرائیل سے بھی تھا اس لئے (مجازاً ) فرما دیا کہ ہم نے تم کو وعدہ دیا تھا۔
ونزلنا علیکم المن والسلوی۔ اور ہم نے تم پر من وسلویٰ
Ayah 20:81کلوا من طیبت ما رزقنکم نازل کیا اور (اجازت دی کہ) ہم نے جو نفیس چیزیں تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ۔
مِنْ طَیِّبٰتِمیں مِن بیانیہ ہے یا تبعیضیہ ‘ یعنی وہ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں یا ہماری عطا کردہ پاکیزہ چیزوں میں سے کچھ چیزیں تم کھاؤ۔ طیبات سے مراد ہیں لذیذ یا حلال چیزیں (من وسلویٰ لذیذ چیزیں بھی تھیں اور حلال بھی۔ )
ہر نعمت خداداد ہی ہے لیکن اس جگہ رَزَقْنَا میں اپنی طرف دینے کی نسبت صراحۃً کرنے سے مراد ہے نعمتوں کا اظہار۔
ولا تطغوا فیہ اور اس (کھانے) میں حد (شرعی) سے مت گزرو۔ یعنی ہماری دی ہوئی نعمت میں حد سے تجاوز نہ
کرو ‘ حد سے تجاوز کرنا کئی صورتوں سے ہوتا ہے شکر نہ کرنا فضول برباد کرنا یا بےضرورت بےکار خرچ کرنا ‘ مغرور ہوجانا ‘ مستحق کو نہ دینا (اور مالی حقوق ادا نہ کرنا وغیرہ۔ مترجم) ۔
فیحل علیکم غضبی ومن یحلل علیہ غضبی فقد ہوی۔ کہیں میرا غضب تم پر واقع ہو
جائے اور جس شخص پر میرا غضب واقع ہوتا ہے وہ بالکل گیا گزرا ہوا۔ یَحْلِلْ (باب ضرب سے) واجب الادا ہونا یعنی جس پر میرا غضب لازم ہوجائے۔ یَحْلُلْ (بہ قراءت اعمش و کسائی ‘ حلول سے باب نصر) حلول کا معنی ہے نازل ہونا اترنا ‘ جس پر میرا غضب نازل ہوجائے۔ ہویٰ ہلاک ہوگیا آگ میں لڑھک گیا۔
Ayah 20:82وانی لغفار لمن تاب وامن وعمل صالحاً ثم اہتدی۔ اور (اس کے ساتھ یہ بھی کہ) میں ایسے
لوگوں کو بڑا بخشنے والا ہوں جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں پھر اسی راہ پر قائم بھی رہیں۔ تاب یعنی شرک سے توبہ کی۔ امن سے مراد ہے اللہ پر اور ان تمام احکام پر ایمان لایا جو اللہ کی طرف سے اس کے پیغمبر لے کر آئے تھے۔ عَمِلَ صَالِحًا یعنی اللہ کے حکم کے مطابق عمل کیا۔ اِہْتَدٰیسے کیا مراد ہے علماء کے اقوال اس میں مختلف ہیں عطاء کی راویت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے پھر اس نے ہدایت پائی یعنی جان لیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی توفیق سے مجھے ملا ہے۔ قتادہ اور سفیان ثوری نے ترجمہ کیا اسلام پر مرتے دم تک قائم رہا ‘ شعبی مقاتل اور کلبی نے کہا یعنی یہ جان لیا کہ اللہ کی طرف سے اس کا ثواب مجھے ملے گا۔ زید بن اسلم نے کہا یعنی اس نے علم حاصل کیا تاکہ اس کے مطابق عمل کرے ‘ ضحاک نے کہا یعنی ہدایت مذکور پر قائم رہا۔
سعید بن جبیر نے کہا سنت اور جماعت کے مسلک پر قائم رہا۔ حضرت مفسر نے فرمایا میرے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اللہ تک پہنچنے اور مقام قرب تک چڑھنے کی اس کو راہ مل گئی اور یہ رسائی و عروج ہر کیفیت سے بالاتر ہے اس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔
Ayah 20:83وما اعجلک عن قومک یموسی ط اور اے موسیٰ تمہارے لئے اپنی قوم سے جلدی آنے کا کیا سبب
ہوا ‘ یعنی کیا وجہ تھی کہ تم قوم کو پیچھے چھوڑ کر ان سے پہلے ہی آگئے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت موسیٰ نے طور پر لے جانے کے لئے بنی اسرائیل میں سے ستّر آدمیوں کا انتخاب کیا تاکہ طور پر پہنچ کر حسب وعدہ اللہ کی کتاب حاصل کرلیں پھر ان کو پیچھے چھوڑ کر دیدارِ الٰہی کے شوق میں خود پہلے آگئے اور ان سے کہہ دیا تم لوگ پیچھے آجانا اللہ نے حضرت موسیٰ سے یہی سوال کیا ہے کہ تم قوم سے پہلے کیسے چلے آئے۔ میں کہتا ہوں یہ سوال (طلب علم کے لئے نہیں ہے نہ انکاری ہے بلکہ) تقریری ہے جس طرح محبوب اپنے عاشق کے والہانہ شوق اور شیفتگی کو دیکھتے ہوئے چاہتا ہے کہ عاشق اپنے منہ سے اپنی محبت کا اظہار کرے اس لئے کہتا ہے کہ آپ کیسے آئے کیوں آئے۔
لیکن ساتھیوں کو چھوڑ کر آجانا کسی قدر نازیبا بھی تھا اس لئے سوال میں انکاری ہونے کی کچھ آمیزش بھی تھی اس لئے حضرت موسیٰ نے سوال کے دونوں رخوں کا لحاظ رکھتے ہوئے دونوں کا جواب دیا۔
Ayah 20:84قال ہم اولآء علی اثری وعجلت الیک رب لترضی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے (اپنے گمان کے موافق) عرض
کیا وہ لوگ بھی تو میرے پیچھے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں آپ کے پاس جلدی اس لئے آیا کہ آپ (زیادہ) خوش ہوں گے۔
اِلَیْکَآپ کی طرف یعنی اس مقام کی طرف جہاں عزت قرب عطا فرمانے اور تجلیات نازل کرنے اور کلام کرنے کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔
لِتَرْضٰی تاکہ آپ زیادہ خوش ہوں بعض لوگوں نے کہا تعمیل حکم میں جلدی اور وعدے کی وفا میں سبقت زیادتی خوشی کا موجب تھی ‘ یہی حضرت موسیٰ کے کہنے کا مطلب تھا میں کہتا ہوں ‘ لتَرْضٰی کا مطلب یہ ہے کہ محبت و شوق کی زیادتی ‘ دیدار کی تمنا اور کلام سننے کی بےپایاں خواہش موجب تھی زیادتی مرضی کے حصول کی۔ اسی لئے موسیٰ نے لترضی کہا۔
Ayah 20:85قال فانا قد فتنا قومک اللہ نے فرمایا ہم نے تمہاری قوم کو ایک بلا میں مبتلا کردیا ہے۔ فتن سے مراد ہے آزمائش کرنی جانچنا یا گمراہ کردینا یعنی (سامری نے گوسالہ بنایا اس میں) ہماری طرف سے جانچ تھی کہ کون اس کی پوجا کرتا ہے اور کون نہیں کرتا یا یہ مطلب ہے کہ بچھڑے کی پوجا کی وجہ سے ہم نے تمہاری قوم کو گمراہ کردیا۔
ایک شبہ فَاِنَّا : میں فَ سببیت کے لئے ہے یعنی اس سے پہلے کا کلام بعد کو آنے والے کلام کا سبب ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے جلدی چلے آنے سے تمہاری قوم گمراہ ہوگئی تمہاری عجلت آمد قوم کی گمراہی کا سبب بن گئی۔ لیکن بظاہر تو موسیٰ ( علیہ السلام) کے پہلے چلے آنے سے قوم گمراہ نہیں ہوئی تھی (کیا موسیٰ اگر جلدی کر کے ستّرآدمیوں سے پہلے نہ چلے آتے اور ان کو ساتھ لے کر آتے تو کیا باقی قوم گمراہ نہ ہوتی) میں اس کے جواب میں کہتا ہوں پیغمبروں کی رسالت کے دو مقصد ہیں (1) وہ لوگوں کو اسلام اور اللہ کے احکام سکھائیں اور تعمیل کی دعوت دیں۔ (2) لوگوں کو اپنی باطنی کشش کی قوت سے اللہ کی طرف کھینچیں اور ایمان و معرفت کا نور ان کے دلوں میں ڈالیں تاکہ ان کے سینے روشن ہوجائیں اور وہ حق کو حق اور باطل کو باطل جان لیں۔ لیکن انبیاء کے اس فریضہ کی مکمل ادائیگی اسی وقت ممکن ہے جب وہ مخلوق کی طرف کامل طور پر متوجہ ہوں حضرت موسیٰ پر بارگاہِ الٰہی میں حاضری کا شوق اور ہم کلامی کی محبت کا اس وقت غلبہ تھا اور سکر کی حالت تھی اس لئے ان کی باطنی توجہ امت کی طرف باقی نہیں رہی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ بنی اسرائیل فتنہ اور گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ یہیں سے بعض اہل تصوف نے کہا ہے کہ ولایت نبوت سے افضل ہے اس قول کی تشریح بعض اہل باطن نے اس طرح کی ہے کہ انبیاء کی ولایت ان کی نبوت سے افضل ہے کیونکہ ولایت کا تقاضا ہے استغراق اور فنا فی اللہ اور ہر طرف سے توجہ کو ہٹا کر اللہ ہی کی طرف اپنا رخ کر کے ڈوب جانا اور نبوت کا تقاضا ہے (تبلیغ و ہدایت کے لئے) مخلوق کی طرف رخ کرنا (اور ظاہر ہے کہ خالق کی طرف کامل توجہ مخلوق کی طرف رخ کرنے سے افضل ہے) تحقیق وہ ہے جو حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا کہ نبوت بہرحال ولایت سے افضل ہے۔ ولایت کسی نبی کی ہو یا غیر نبی کی بہرصورت اس کا مرتبہ نبوت سے نچلا ہے کیونکہ ولایت نام ہے تجلیات صفاتی کا اور نبوت عکس ہے تجلیات ذاتیہ کا۔ حضرت مجدد نے فرمایا نبوت ہو یا ولایت ہر ایک کے دو رخ ہیں عروج و نزول بالائی رخ کی طرف اٹھنا اور زیریں رخ کی طرف اترنا۔ نبی ہو یا ولی مرتبۂ عروج میں اس کی توجہ خالص اللہ کی طرف ہوتی ہے تاکہ خود اس کو کمال ذاتی اور ترقی مرتبہ حاصل ہو اور مرتبۂ نزول میں دونوں کی توجہ مخلوق کی طرف ہوتی ہے تاکہ دوسروں کو کامل بنا سکیں اور دوسروں کو ان سے نورچینی کا موقع مل سکے نبی اور ولی کے درمیان مرتبۂ عروج میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ولی کا عروج صفات کی جانب ہوتا ہے ذات کی جانب نہیں (یعنی سیر صفاتی اس کے پیش نظر ہوتی ہے سیر ذات تک اس کی رسائی نہیں ہوتی) اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نزول کی حالت میں بھی مبدء فیض کی طرف اس کی کسی قدر توجہ رہتی ہے کامل طور پر وہ مخلوق کی طرف متوجہ نہیں ہوجاتا لیکن نبی مرتبۂ نزول میں آکر پورے طور پر مخلوق کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور بظاہر نظر وہ اپنے آپ کو منقطع عن اللہ خیال کرتا ہے اور یہ کیفیت و حالت اس کے لئے بڑی شاق اور دشوار ہوتی ہے مگر حقیقت میں وہ اللہ سے اس حالت میں بھی منقطع نہیں ہوتا بلکہ اس کا رخ ذات کی طرف بھی ہوتا ہے اور اس کے سینے میں دونوں جانب متوجہ ہونے کی سمائی ہوتی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تب بھی غلط نہ ہوگا کہ حقیقت میں مخلوق کی طرف توجہ کرنے کی حالت میں بھی وہ اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ کے حکم اذن اور مرضی سے ہی وہ خلق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اسی لئے اس سیر نزولی کو سیر مِنْ اللّٰہ باللّٰہِ (اللہ کی طرف سے اللہ کی مرضی اور حکم کے ساتھ سیر) کہتے ہیں۔ ہم نے اس مسئلے کی تنقیح پورے طور پر سورة الم نشرح کی آیت فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاکی تفسیر کے ذیل میں کی ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور حضرت موسیٰ کو توریت عطا فرما دی تو اس وقت فرمایا اپنی قوم کے پاس لوٹ کر جاؤ ‘ ہم نے ان کی آزمائش کی ہے (جا کر دیکھو ان کی کیا حالت ہوگئی)
من بعدک تمہارے بعد یعنی تمہارے پہاڑ کی طرف روانہ ہونے کے بعد۔
واضلہم السامری۔ اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا ہے۔ اللہ گمراہی کو پیدا کرنے والا ہے اسی نے بنی
اسرائیل کے اندر گمراہی پیدا کی اور سامری کے اندر بھی گمراہی اسی کی پیدا کردہ تھی اس لئے فتنہ میں ڈالنے اور گمراہ کرنے کی نسبت (حقیقی) اپنی طرف کی لیکن عملی گمراہی پیدا کرنے والا اور گمراہ کرنے کا سبب سامری تھا ‘ پس فاعل اضلال کی حیثیت سے سامری کو گمراہ کرنے والا قرار دیا۔
بغوی نے لکھا ہے بنی اسرائیل چھ لاکھ تھے ‘ بارہ ہزار کے علاوہ باقی سب گمراہ اور گوسالہ پرست ہوگئے۔ سب نے بچھڑے کی پوجا کی۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ سامری مقام سامرہ کی طرف منسوب ہے یہ ایک کرمان کا رہنے والا کافر تھا یا بنی اسرائیل کا کوئی سردار تھا۔ بیضاوی نے لکھا ہے سامرہ بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ تھا جس کی طرف سامری منسوب تھا سامری کا نام موسیٰ بن طفر تھا یہ منافق تھا۔
Ayah 20:86فرجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا غرض موسیٰ غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس
آئے۔ یعنی چلہ پورا کر کے توریت لینے کے بعد موسیٰ ( علیہ السلام) انتہائی غمگینی اور رنج و فکر کی حالت میں قوم کی طرف لوٹے۔
قال یقوم الم یعدکم ربکم وعدا حسناً افطال علیکم العہد ام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم فاخلفتم موعدی۔ کہنے لگے اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا
تھا کیا تم پر (میعاد مقررہ سے زائد) کچھ زمانہ گزر گیا تھا یا تم کو یہ منظور ہوا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واقع ہو اس لئے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا۔
قَالَ یٰقَوْمِ واپس آکر موسیٰ نے جب قوم کو بچھڑے کی پوجا میں مبتلا پایا تو کہا ‘ وَعْدًا حَسَنًا یعنی توریت دینے کا وعدہ جو سراسر ہدایت اور نور تھی۔ افطالسوال انکاری ہے ‘ یعنی تم میرے ساتھ تھے تو اللہ پر ایمان رکھتے تھے اس کو واحد مانتے تھے اسی کی تنہا عبادت کرتے تھے اور مجھ سے تم نے وعدہ کیا تھا کہ میرے بعد بھی اسی پر قائم رہو گے مگر میرے جدا ہونے کو زیادہ زمانہ نہیں گزرا کہ تمہاری یہ حالت ہوگئی۔ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْکُمْکہ تم پر تمہارے رب کا غضب واجب ہوجائے۔ بچھڑے کی پوجا کرنے کا مطلب تو یہ ہے کہ تم کو اپنے اوپر اللہ کا غضب نازل ہونا مقصود ہے یعنی تم نے ایسا کام کرنا چاہا جو موجب غضب الٰہی ہے۔
Ayah 20:87قالوا ما اخلفنا موعدک بملکنا کہنے لگے (ایمان پر قائم رہنے کا جو وعدہ ہم نے آپ سے کیا تھا)
اپنے اس وعدے کی خلاف ورزی از خود نہیں کی۔ مَلک ملک ملک تینوں ہم معنی ہیں (کذا فی القاموس) یعنی ہم نے اختیار سے ایسا نہیں کیا۔ اگر آدمی خدا کی طرف سے آزمائش اور مصیبت میں پڑجاتا ہے تو (ظاہر ہے کہ) اس کا اپنے نفس پر قابو نہیں رہتا (اور باوجود بااختیار ہونے کے بےاختیار ہوجاتا ہے)
ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم فقذفنہا فکذلک القی السامری۔ لیکن قوم (قبط)
کے زیور کا (جو) بار ہم پر لد رہا تھا سو ہم نے اس کو (سامری کے کہنے سے آگ میں) ڈال دیا پھر سامری نے بھی اسی طرح ڈال دیا۔ جب بنی اسرائیل مصر سے نکل کر جانے لگے تو قوم فرعون سے کچھ زیور بطور عاریت شادی میں شرکت کے نام سے لے لیا تھا زمینۃ القوم سے یہی زیور مراد ہے۔ کذا اخرج عبد بن حمید و ابن ابی حاتم ‘ عن ابن عباس ؓ ۔ بغوی نے لکھا ہے بنی اسرائیل نے قوم فرعون کے زیور اپنے اوپر بار اس لئے کہا کہ عاریتہ لیا تھا اور پھر واپس نہ کیا تھا۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ فرعون اور اس کے ساتھی جب دریا میں ڈوب گئے تو دریا نے ان کا زیور باہر پھینک دیا بنی اسرائیل نے بطورمال غنیمت اس کو لے لیا ‘ لیکن مال غنیمت ان کے لئے جائز نہ تھا اس لئے انہوں نے اس کو بوجھ ہی کہا۔
فَقَذَفْنٰہَاہم نے اس کو پھینک دیا یعنی ایک گڑھے میں بغوی نے لکھا ہے بعض اہل روایت کا بیان ہے کہ سامری کے کہنے سے انہوں نے ایک گڑھا کھود کر سارا زیور اس میں ڈال دیا تاکہ موسیٰ جب واپس آئیں تو زیور کے متعلق شرعی حکم بتائیں۔
فَکَذٰلِکَ اَلْقَی السَّامِرِیُّیعنی سامری کے پاس جو زیور تھا اس کو سامری نے بھی اسی طرح گڑھے میں ڈال دیا تھا۔
سعید بن جبیر کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان منقول ہے کہ حضرت ہارون نے آگ جلوا کر بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ تم لوگوں کے پاس جو زیور ہے وہ اس میں ڈال دو حکم کی تعمیل میں بنی اسرائیل نے سارا زیور آگ میں ڈال دیا ‘ پھر سامری نے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی خاک (جو اسکے پاس تھی) آگ میں ڈال دی۔ قتادہ نے کہا وہ خاک سامری نے اپنے عمامے کے گوشہ میں رکھ لی تھی۔
Ayah 20:88فاخرج لہم عجلا جسدا لہ خوار فقالوا ہذا الہکم والہ موسیٰ فنسی۔ پھر اس (سامری)
نے ان لوگوں کے لئے ایک بچھڑا (بنا کر) ظاہر کیا کہ وہ ایک قالب تھا جس میں ایک بےمعنی آواز تھی سو وہ (احمق لوگ) ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود تو یہ ہے موسیٰ تو بھول گئے (اور معبود کی تلاش میں کوہ طور پر چلے گئے) یا نَسِیَ کا یہ مطلب ہے کہ سامری بھول گیا (یعنی) اس نے ایمان کو ترک کردیا اور اللہ کا منکر ہوگیا (گویا بھولنے سے مراد ہے بالکل ترک کردینا) خَوَارٌ سے گائے بیل کی آواز مراد ہے (جو بےمعنی ہوتی ہے) فقالوا ‘ یعنی سامری اور اس کے ساتھیوں نے سب سے پہلے بچھڑے کو دیکھا تو کہنے لگے۔
Ayah 20:89افلا یرون الا یرجع الیہم قولا ولا یملک لہم ضرا ولا نفعا۔ کیا وہ لوگ اتنا نہیں دیکھتے
تھے کہ وہ نہ تو ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا تھا اور نہ ان کو کسی طرح کا نفع و نقصان پہنچانے پر قدرت رکھتا تھا۔
استفہام انکاری اور دیکھنے سے مراد ہے جاننا یا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے (بےسمجھے) اس کو معبود بنا لیا اتنا بھی نہ جانا کہ وہ کچھ بھی قدرت نہیں رکھتا۔ اَلاَّیَرْجِعُمیں اَنْ مخففہ ہے یعنی اَنْ تھا جس کو ان کرلیا اور اس کا اسم ضمیر شان ہے جو محذوف ہے اصل میں انہ تھا (یعنی ان ناصبہ مصدریہ نہیں ہے اسی لئے یرجع پڑھا گیا یرجع نہیں پڑھا گیا) قَوْلاً یعنی وہ کوئی بات نہیں کرسکتا تھا نہ کوئی جواب دے سکتا تھا۔ اس کی کمزوری اور عاجزی تو پوجا کرنے والوں سے بھی زائد تھی ‘ پھر انہوں نے اس کو کس طرح معبود بنا لیا۔ لاَ یَمْلِکُ لَہُمْ ضَرًّا وَلاَ نَفْعًا یعنی نہ فائدہ پہنچانا اس کی قدرت میں تھا نہ نقصان پہنچانا نہ نفع یا نقصان کو روکنا ‘ بغوی نے لکھا ہے مروی ہے کہ سامری بچھڑا بنا رہا تھا کہ حضرت ہارون ادھر سے گزرے اور دریافت فرمایا کیا کر رہا ہے ‘ سامری نے کہا میں ایسی چیز بنا رہا ہوں جو مفید ہوگی ضرر رساں نہیں ہوگی آپ میرے لئے (کامیابی کی) دعا کر دیجئے حضرت ہارون نے دعا کی اے اللہ یہ جو کچھ تجھ سے مانگ رہا ہے اس کو اس کی دلی مراد کے مطابق عطا فرما دے آپ کی دعا قبول ہوئی اور سامری نے جب بچھڑے کے منہ میں خاک ڈال دی تو بولا چیختا ہوا بچھڑا بن جا ‘ چناچہ ایسا ہی ہوگیا ‘ حقیقت میں یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی جس میں اللہ نے بنی اسرائیل کو مبتلا کردیا تھا۔
Ayah 20:90ولقد قال لہم ہرون من قبل یقوم انما فتنتم بہ وان ربکم الرحمن فاتبعونی واطیعوا امری۔ اور ہارون ان لوگوں سے (موسیٰ ( علیہ السلام) کی واپسی سے) پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ میری قوم والو اس کے سوا اور کچھ نہیں
کہ تم اس بچھڑے کی وجہ سے مصیبت میں پھنس گئے اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب رحمن ہی ہے پس میری راہ پر چلو اور میرا کہا مانو۔
فُتِنْتُمْ بِہٖیعنی بچھڑے کے سبب تمہاری جانچ کی گئی ہے کہ تم توحید و ایمان پر قائم رہتے ہو یا بہک جاتے ہو۔ وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُیعنی تمہارا رب وہ ہے کہ تمہارا وجود اور لوازم وجود اسی کی رحمت کا نتیجہ ہے یہ بچھڑا تم کو کیا دے سکتا ہے۔ فَاتَّبِعُوْنِیْیعنی میری راہ پر چلو ‘ رحمن وحدہ لا شریک لہ کی عبادت پر قائم رہو۔ وَاَطِیْعُوْا اَمْرِی اور میرا حکم مانو ‘ بچھڑے کی پوجا چھوڑ دو ۔
Ayah 20:91قالوا لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الیناموسی۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب تک موسیٰ ( علیہ السلام)
ہمارے پاس واپس آئیں ہم تو اس کی پوجا کرنے پر برابر جمے بیٹھے ہیں گے۔ عَلَیْہِاس پر یعنی اس کی پوجا پر۔ عاکفین قائم رہیں گے ‘ جمے رہیں گے اس جواب کے بعد حضرت ہارون اپنے ساتھ بارہ ہزار اشخاص کو لے کر باقی جماعت سے الگ ہوگئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) واپس آئے تو آپ نے دور سے کچھ شور و غل کی آواز سنی کیونکہ لوگ بچھڑے کے گرد ناچ کود کر رہے تھے اور شور بپا تھا ‘ حضرت موسیٰ کے ساتھ جو ستّر آدمی گئے تھے انہوں نے عرض کیا یہ آواز تو کسی فتنہ کی محسوس ہو رہی ہے کوئی فتنہ بپا ہوگیا۔ حضرت موسیٰ نے آکر لوگوں کو بچھڑے کے پاس آس پاس ناچتے دیکھا تو غضبناک ہو کر دائیں ہاتھ سے حضرت ہارون کے سر کے بال اور بائیں ہاتھ سے داڑھی پکڑ لی۔
Ayah 20:92قال یہرون ما منعک اذا رایتہم ضلوا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اے ہارون جب تم نے (ان کو) دیکھا تھا کہ یہ بالکل گمراہ ہوگئے
Ayah 20:93الا تتبعن (اس وقت) تم کو میرے پاس چلے آنے سے کون امر مانع ہوا۔ چونکہ مانع اور داعی میں گہرا تعلق ہے جو کسی چیز سے مانع ہوتا ہے وہ اس چیز کو ترک کرنے کا داعی ہوتا ہے اس لئے بعض لوگوں کے نزدیک مَنَعَ کا (مجازاً ) معنی ہے دعیٰ یعنی کس چیز نے تم کو میرا اتباع نہ کرنے پر آمادہ کیا۔
جمہور کے نزدیک لا زائد ہے مطلب یہ ہے کہ میں نے تم کو وصیت کی تھی کہ ان لوگوں کو برابر توحید پر قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہنا اور شرک سے روکنا خواہ زبان سے ہو یا (آخر میں) اسلحہ کی قوت سے تم نے میرے حکم کی پابندی کیوں نہیں کی ‘ میرے حکم کی تعمیل کرنے سے تم کو کس چیز نے روکا۔
بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ میرے پیچھے آنے اور مجھے اس واقعہ کی اطلاع دینے سے کیا مانع ہوا ‘ تم نے ایسا کیوں نہیں کیا (اس مطلب پر اتباع سے مراد ہوگا حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کے پیچھے آنا اور اطلاع دینا)
افعصیت امری۔ کیا تم نے میرے کہنے کے خلاف کیا۔ پورا کلام اس طرح تھا کہ کیا تم ان کی اس حرکت
پر راضی ہوگئے اور میرے نافرمان بن گئے۔ استفہام انکاری ہے۔
Ayah 20:94قال یابنوم لا تاخذ بلحیتی ولا براسی انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرآء یل ولم ترقب قولی۔ ہارون نے کہا اے میرے ماں جائے تم میری داڑھی مت پکڑو اور نہ سر کے بال پکڑو مجھ کو یہ اندیشہ
ہوا کہ (کہیں) تم کہنے لگو کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی اور میری بات کا پاس نہیں کیا۔
یَابْنَ اُمَّاے میری ماں جائے۔ بجائے بھائی کہنے کے ماں جائے کا لفظ رقت آفریں اور مہربانی طلب ہے اور حضرت موسیٰ کے دل میں اپنے لئے رقت پیدا کرنی مقصود تھی اس لئے اخی نہیں کہا اور یہ لفظ اختیار کیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون اخیافی بھائی یعنی دونوں کی ماں ایک تھی ‘ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ دونوں حقیقی بھائی تھے۔ براسی یعنی میرے سر کے بال پکڑ کڑ نہ کھینچئے۔ حضرت موسیٰ نے شدت غضب میں حضرت ہارون کے سر کے بال پکڑ کر کھینچے تھے۔ اِنِّیْ خَشِیْتُیعنی مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں ان گوسالہ پرستوں سے سختی کروں گا اور قتل و قتال سے کام لوں گا تو لامحالہ ان کے دو فرقے ہوجائیں گے ایک میرا حامی اور دوسرا وہ جس سے میں قتال کرتا اور پھر آپ کہتے کہ بنی اسرائیل کے تو نے دو ٹکڑے کردیئے وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْاور میری بات کا لحاظ نہیں رکھا ‘ میں نے تجھ سے کہا تھا کہ میری جگہ تو ان کی درستی اور اصلاح کرتے رہنا اور ظاہر ہے کہ اصلاح نرمی سے سمجھانے سے ہی ممکن ہوسکتی تھی اس لئے میں نے نرمی سے ان کو سمجھایا خوں ریزی نہیں کی۔
Ayah 20:95قال فما خطبک یسامری۔ (پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر) موسیٰ نے کہا سامری تیرا کیا معاملہ ہے 1
(تو نے ایسا کس طرح کیا) ۔
بیضاوی نے لکھا ہے خَطْبٌ خَطَبَ الشَّیئَکا مصدر ہے اس کا معنی ہے طلب یعنی ایسی حرکت سے تیرا مقصد کیا تھا کسی چیز نے تجھے ایسا کام کرنے پر آمادہ کیا۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے خطب کا معنی ہے حال اور شان یعنی تیرا کیا حال ہے خطب ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے متعلق خطاب کیا جائے اسی لئے حال اور شان کو بھی خطب کہا جاتا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے خطب کا معنی ہے شان اور امر چھوٹا ہو یا بڑا۔
Ayah 20:96قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضیت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتہا وکذلک سولت لی نفسی۔ اس نے کہا مجھے ایسی چیز نظر آئی تھی جو اوروں کو نظر نہیں آئی تھی پھر میں نے اس فرستادۂ (خداوندی کی سواری)
کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر (خاک) اٹھا لی تھی پس میں نے وہ مٹھی (خاک) (اس قالب کے اندر) ڈال دی اور میرے جی کو یہی بات پسند آئی۔
قَبْضَۃٌایک بار قبضہ کرنا اس سے مراد وہ شے بھی ہوتی ہے جو مٹھی میں لے لی جائے یہاں ایک مٹھی خاک مراد ہے۔ اثر الرسول (مضاف محذوف ہے) یعنی فرستادۂ (خداوندی) کے گھوڑے کے نقش قدم سے۔ فَنَبَذْتُہَا میں نے وہ خاک (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دی۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ سامری نے وہ خاک حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کے گھوڑے کی ٹاپوں کے نیچے سے اٹھائی تھی ‘ کیونکہ اس کی پیدائش اس سال ہوئی تھی جس سال بنی اسرائیل کے نوزائیدہ قتل کئے جا رہے تھے سامری کی ماں نے اس کو لے جا کر ایک غار میں رکھ دیا تھا اللہ نے اس کی پرورش کے لئے حضرت جبرئیل کو مامور فرما دیا کیونکہ اس کے ہاتھوں سے ایک فتنہ بنی اسرائیل میں بپا کرانا تھا ‘ جبرئیل ( علیہ السلام) اس کی غذائی پرورش کرتے رہے یہاں تک کہ یہ خود اپنے پروں کا ہوگیا اس وقت سے یہ جبرئیل کو پہچانتا تھا (اور ان کے گھوڑے کے قدموں کے نیچے کی خاک کی حیات بخشی سے بھی واقف تھا وہی خاک اس کے پاس تھی جو اس نے بچھڑے کے کالبد کے منہ میں ڈال دی اور بچھڑا چیخنے لگا) ۔
وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْاور میرے دل نے یہی بات پسند کی اور میری نظر میں اس فعل کو پسندیدہ بنا دیا۔
Ayah 20:97قال فاذہب فان لک فی الحیوۃ ان تقول لا مساس وان لک موعدا لن تخلفہ
موسیٰ نے کہا تو بس تیرے لئے (اس دنیا کی) زندگی میں ایک اور مقرر وعدہ ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں۔ مساس علم مصدر ہے (نفی بمعنی نہی ہے) یعنی مجھے چھونا نہیں میرے قریب نہ آنا میں کہتا ہوں شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اللہ نے اس کے دل میں انسانوں سے وحشت پیدا کردی ہو اسی لئے وہ جنگلوں اور ویرانوں میں مارا مارا پھرتا تھا اسی حالت میں مرگیا۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو حکم دے دیا تھا کہ اس سے میل جول نہ رکھنا اس کے پاس بھی نہ جانا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے لا مساس کی تفسیر میں فرمایا نہ تجھے چھونا ہے نہ تیری اولاد کو (یعنی نہ تجھے کوئی چھوئے گا نہ تیری اولاد کو) مَوْعِداً یعنی آخرت میں عذاب کا اللہ کی طرف سے مقرر وعدہ ہے۔
وانظر الی الہک الذی ظلت علیہ عاکفا لنحرقنہ ثم لننفسنہ فی الیم نسفا
اور تو نے اپنے اس معبود کو دیکھ جس (کی عبادت) پر تو جما بیٹھا تھا ہم اس کو جلا دیں گے (جلا کر خاک کردیں گے) پھر اس (کی راکھ) کو دریا میں بکھیر کر بہا دیں گے۔
اِلٰہِکَیعنی تیرے باطل خیال میں جو تیرا معبود تھا اس کو دیکھ لَنُحَرِّقَنَّہٗہم اس کو آگ میں جلا ڈالیں گے۔ یا ریتی سے بالکل گھس ڈالیں گے۔ ترق ریتی سے گھس ڈالا۔ باب افعال میں حرق کو لے گئے تو گھسنے میں مبالغہ کا مفہوم پیدا ہوگیا بالکل گھس ڈالنا۔ لَنَنْسِفَنَّہٗخاک اور راکھ کو یا گھسے ہوئے چورے کو بکھیر دیں گے ‘ اڑا دیں گے ‘ دریا میں بکھیر کر بہا دیں گے ‘ پھر اس کی خاک کا کوئی ذرہ بھی ہاتھ نہیں لگے گا۔ ان بیوقوفوں کی حمایت کو ظاہر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ نے ایسا کیا بھی۔
Ayah 20:98انما الہکم اللہ الذی لا الہ الا ہو وسع کل شی علما حقیقت میں تمہارا معبود یعنی تمہاری
عبادت کا مستحق صرف اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (کیونکہ علم کی ہمہ گیری اور کمال قدرت میں کوئی اس جیسا نہیں بلکہ اس کی برابری کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا) اس کا علم ہر چیز کو (اپنے اندر) سمائے ہوئے ہے۔ یہ بچھڑا معبود کیسے ہوسکتا ہے جس کو اوّل سونے چاندی کو پگھلا کر ڈھالا گیا بنایا گیا پھر اس کو جلا کر خاک بنایا جائے گا اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو اتنا بیوقوف ہوتا کہ لوگ بےوقوفی میں اس کو ضرب المثل بناتے (اور کہتے یہ بیل ہے)
Ayah 20:99کذلک نقص علیک من انبآء ما سبق وقد اتینک من لدنا ذکرا۔ اس طرح ہم تم
سے واقعات گزشتہ کی کچھ خبریں بیان کرتے رہتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ دیا ہے۔
کَذٰلِکَ نَقُصُّیعنی جس طرح ہم نے تم کو موسیٰ کا قصہ سنایا اسی طرح ہم گزشتہ اقوام کے سابقہ احوال و واقعات بیان کرتے ہیں تاکہ تم کو بصیرت حاصل ہو تمہارے علم میں افزونی ہو معجزات میں اضافہ ہو اور تمہاری امت کے بصیرت اندوز لوگوں کے لئے سرمایۂ نصیحت و بیداری حاصل ہو۔
وَقَدْ اٰتَیْنٰکَ مِنْ لَّدُہَّاِ ذکْرًاذکر سے مراد ہے قرآن مجید یعنی ہم نے تم کو ایسا قرآن عطا کیا ہے جس میں اقوام ماضیہ کے واقعات درج ہیں یہ قابل غور و فکر یادداشت اور نصیحت نامہ ہے بعض علماء کے نزدیک ذکر سے مراد ہے رسول اللہ کا بہترین ذکر اور آپ کی عظیم الشان شہرت اور (قیامت تک قائم رہنے والا) تذکرہ ‘ یعنی ہم نے اپنی جانب سے تم کو شہرت اور اعلیٰ نام آوری عطا کی۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا کہ میں نے تمہارے ذکر کو اپنے ذکر کے ساتھ اذان میں اقامت میں تشہد میں اور (کلمہ وغیرہ جیسی) دوسری چیزوں میں ملا دیا۔
Ayah 20:100من اعرض عنہ فانہ یحمل یوم القیمۃ وزرا۔ جو لوگ اس سے منہ موڑیں گے وہ قیامت کے دن بھاری بوجھ (عذاب کا) اپنے اوپر لادے ہوں گے
Ayah 20:101خلدین فیہ وسآء لہم یوم القیمۃ حملا۔
اور وہ اس (عذاب) میں ہمیشہ رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بوجھ ان کے لئے (بہت) برا بوجھ ہوگا مَنْ اَعْرَضَ عَنْہُ یعنی جو شخص قرآن سے منہ موڑے گا ‘ اس کو نہیں مانے گا اور اس پر عمل نہیں کرے گا۔ یا عَنْہُ کی ضمیر ذکر کی طرف یا اللہ کی طرف راجع ہے یعنی جو تمہارے ذکر سے یا اللہ سے منہ موڑے گا۔
وِزْراً یعنی گناہوں کا بھاری بوجھ۔ سورة مریم کی آیت یَوْمَ نَحْشْر المُتِّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنُ وَفْدًاکی تشریح میں عمرو بن قیس ملائی کی روایت کردہ حدیث ہم نے ذکر کردی ہے اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ کافر کے سامنے اس کا برا عمل بہت ہی مکروہ شکل اور سڑاند کے ساتھ آئے گا اور کافر سے کہے گا کیا تو مجھے نہیں پہچانتا کافر جواب دے گا نہیں۔ صرف اتنا جانتا ہوں کہ اللہ نے تیری شکل بڑی مکروہ اور تیری بو بہت سڑی ہوئی بنائی ہے ‘ عمل کہے گا میں دنیا میں بھی ایسا ہی تھا میں تیرا عمل ہوں۔ دنیا میں طویل مدت تک تو مجھ پر سوار رہا آج میں تجھ پر سوار ہوں گا۔ پھر حضور اقدس ﷺ نے پڑھا وَہُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَہُمْ عَلٰی ظُہُوْرِہِمْگناہ کو ایک بھاری بوجھ قرار دیا کیونکہ جس طرح بھاری بوجھ اگر پشت پر لدا ہو تو کمر ٹوٹنے لگتی ہے اسی طرح گناہوں کا عذاب بھی ناقابل برداشت ہوگا ‘ جس پر پڑے گا اس کو اٹھانے میں انتہائی دشواری ہوگی۔ فیہ یعنی بار گناہ کی سزا میں۔
آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو قرآن سے روگردانی کرے گا وہ قیامت کے دن اپنے کندھے پر اس مال کا بار اٹھائے گا جو دنیا میں اس نے ناجائز طور پر بغیر استحقاق کے لیا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز دنیا کی اپنے حق کے بغیر نہ لے ورنہ جب اللہ کے سامنے وہ جائے گا تو وہ چیز قیامت کے دن اس کے اوپر سوار ہوگی میں تم میں سے کسی شخص کو اللہ کے سامنے اپنے اوپر بلبلاتے اونٹ ڈونکتی گائے اور منمناتی بکری کو لادے ہوئے نہ پاؤں۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین عن ابی حمید الساعدی۔
حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے بالشت بھر زمین ناحق لی قیامت کے دن اس کو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
طبرانی نے حضرت حکم بن حارث اسلمیٰ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مسلمانوں کے راستہ کی بالشت بھر زمین لی وہ سات زمینوں سے اس کو اپنے اوپر لادے ہوئے (قیامت کے دن) آئے گا۔
امام احمد اور طبرانی نے حضرت یعلی بن مرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جس نے بالشت بھر زمین ناحق لی اللہ اس کو مکلف کرے گا کہ بالشت بھر کا گڑھا ساتوں زمینوں میں (یعنی اوپر سے ساتویں زمین تک) کھودے ‘ پھر قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور لوگوں کا فیصلہ ہونے تک یہ طوق گلے میں پڑا رہے گا۔
طبرانی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے بالشت بھر زمین ناحق لی ‘ وہ قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنے ہوئے آئے گا۔ امام احمد اور طبرانی نے حضرت ابو مالک اشعری کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے۔
امام احمد اور شیخین نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ (ایک روز خطاب کرنے کے لئے) کھڑے ہوئے اور مال غنیمت میں خیانت کرنے کی بڑی برائی کی پھر فرمایا ایسا نہ ہو کہ میں قیامت کے دن تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں پاؤں کو بلبلاتے اونٹ کو اپنی گردن پر سوار کئے آ رہا ہو اور مجھ سے کہہ رہا ہو یا رسول اللہ میری مدد کیجئے۔ میں کہہ دوں گا کہ اللہ کے مقابلہ میں ‘ مَیں تیرے لئے (اب) کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھے پیام پہنچا دیا حضور ﷺ نے اس حدیث میں اسی طرح گردن پر ہنہناتے گھوڑے منمناتی بکری کے سوار ہونے کا تذکرہ فرمایا تھا ‘ ابو یعلی اور بزار نے حضرت عمر ؓ بن خطاب کی روایت سے بھی اسی طرح یہ حدیث بیان کی ہے مال زکوٰۃ وصول کرنے والے اگر اس میں خیانت کریں تو اسی مضمون کی حدیث سعد بن عبادہ کی روایت سے امام احمد نے اور حضرت ابن عمرو حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بزار نے اور حضرت ابن عباس ؓ و حضرت عبادہ بن صامت و حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے طبرانی نے بیان کی ہے۔
ابو نعیم نے حلیہ میں اور طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنی ضرورت سے زیادہ کوئی مکان بنایا اس کو مجبور کیا جائے گا کہ اس کو اپنے کندھے پر اٹھائے ‘ ابو داؤد ابن ماجہ اور طبرانی نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ : کسی انصاری کے (تعمیر کردہ) ایک قبہ (گول کمرہ) کی طرف سے گزرے اور دست مبارک سے اپنے سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ‘ جو عمارت اس سے زائد ہوگی وہ قیامت کے دن اس عمارت کے مالک کے لئے مصیبت ہوگی۔ اس مکان کے مالک کو یہ اطلاع پہنچی (کہ حضور ﷺ نے ایسا فرمایا ہے) تو انہوں نے اس عمارت کو ڈھا دیا۔ طبرانی نے حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔
منذری نے کہا اس حدیث کے دوسرے شواہد بھی ہیں۔ طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک کنویں کی طرف سے (جس سے پانی سنیچا جا رہا تھا) گزرے فرمایا اس کنویں کا مالک اگر اس کا حق ادا نہیں کرے گا۔ تو قیامت کے دن اس کو یہ کنواں اپنے اوپر لادنا ہوگا۔
Ayah 20:102یوم ینفخ فی الصور ونحشر المجرمین یومئذ زرقا۔ جس روز صور میں پھونک ماری جائے گی
اور ہم اس روز مجرموں کو اس حالت سے جمع کریں گے کہ وہ کرنجے ہوں گے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے صور کے متعلق دریافت کیا حضور : ﷺ نے فرمایا ایک سینگ ہوگا جس کے اندر پھونکا جائے گا۔ رواہ ابو داؤد والترمذی والنسائی وابن حبان وابن الحاکم والبیہقی وابن المبارک۔ نسائی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے مسدد نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ زَرْقًاسے مراد ہے نیلی آنکھوں والے ‘ آنکھ کی سیاہی میں سبزی کی آمیزش کو زرقت کہتے ہیں عرب کے نزدیک ایسے رنگ کی آنکھ بہت بدنما اور بری مانی جاتی ہے رومیوں کی آنکھیں اسی رنگ کی ہوتی تھیں اور رومی عربوں کے دشمن تھے ‘ قیامت کے دن کافروں کے چہرے کالے اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک زرقاً سے مراد ہیں نابینا آنکھوں والے نابینا کی آنکھ ازرق ہوجاتی ہے ‘ دوسری آیت سے اس مضمون کی تائید ہوتی ہے ‘ دوسری جگہ فرمایا ہے وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰیبعض نے کہا زرقاً سے مراد ہے پیاسے۔
Ayah 20:103یتخافون بینہم ان لبثتم الاعشرا۔ چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے ہوں گے کہ تم لوگ صرف دس
روز قبروں میں رہے ہوں گے۔ چونکہ ان کے دل مرعوب اور ہول زدہ ہوں گے اس لئے چپکے چپکے باہم کہیں گے کہ ہم تم لوگ دنیا میں صرف دس رات رہے یعنی بہت جلد دنیوی زندگی ختم ہوگئی۔ دس رات سے قلیل مدت مراد ہے جو مدت گزر گئی وہ ان کو قلیل ہی معلوم ہوگی اور آخرت کے مقابلہ میں تو ان کو دنیا کا قیام خصوصیت کے ساتھ قلیل محسوس ہی ہوگا ‘ یا یوں کہا جائے گا کہ شدائد آخرت سامنے آنے کے بعد ان کو افسوس ہوگا کہ ہم نے دنیوی زندگی ‘ نفسانی خواہشات پوری کرنے میں کھود ی اور چند روزہ زندگی کو بیکار ضائع کردیا۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ قبروں کے اندر ٹھہرنے کو وہ دس روزہ قیام سے تعبیر کریں گے۔ بعض نے کہا کہ صور فنا اور صور بعث کے درمیان مدت چالیس سال کی ہوگی اور ان دونوں صوروں کے درمیان ان پر کوئی عذاب نہ ہوگا (اور آرام کی مدت قلیل ہی معلوم ہوتی ہے اس لئے وہ چالیس سال کو دس روز کہیں گے)
Ayah 20:104نحن اعلم بما یقولون اذ یقول امثلہم طریقۃ ان لبثتم الا یوما۔ جس مدت کے متعلق وہ (اپنے
اندازے سے کہیں گے ہم خوب جانتے ہیں (کہ وہ کتنی ہوگی) جب کہ ان میں سب سے صائب الرائے یوں کہتا ہوگا کہ نہیں ہم تو ایک ہی روز (قبر میں) رہے۔ اَمْثَلُہُمْ طَرِیْقَۃً یعنی زیادہ سمجھدار اور بھرپور عقل والا اور سب سے بڑھ کر معتدل العقل یا معتدل العمل۔ اس قول کے قائل کو اللہ نے زیادہ صائب الرائے قرار دیا ‘ کیونکہ آخرت کے طول کے مقابلہ میں دنیوی مدت انتہائی کم ہے اور اس قول میں کمترین مدت کا ہی اظہار کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان ہے کہ کسی ثقفی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا قیامت کے دن ان پہاڑوں کا کیا ہوگا ؟ اس کے جواب میں آیت ذیل نازل ہوئی (رواہ البغوی) بعض نے کہا سوال کسی نے نہیں کیا تھا ‘ آیت میں جو جواب ہے وہ برتقدیر سوال ہے ‘ یعنی اگر وہ سوال کریں تو آپ یہ جواب دیں۔
Ayah 20:105ویسئلونک عن الجبال فقل ینسفہا ربی نسفا۔ اور وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں (کہ قیامت کے دن ان کا کیا ہوگا) سو آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب ان کو بالکل اڑا دے گا
Ayah 20:106فیذرہا قاعا صفصفا۔ پھر ان کو ایک چٹیل ہموار میدان (میں تبدیل) کر دے گا