Ayah 20:107لا تری فیہا عوجا ولا امتا۔ کہ جس میں آپ کو نہ ناہمواری دکھائی دے گی نہ (کہیں) بلندی۔ ابن المنذر نے ابن جریج کی روایت سے بیان کیا کہ قریش نے سوال کیا تھا قیامت کے دن آپ کا رب ان پہاڑوں کا کیا کرے گا ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
صحیح بات یہ ہے کہ کوئی خاص سائل نہ تھا اور برتقدیر سوال جواب کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ فَقُلْمیں فَ کا لانا بتارہا ہے کہ یہ فَ جزائیہ ہے اور شرط محذوف ہے یعنی اگر لوگ سوال کریں تو یہ جواب دیجئے دوسری آیات میں بھی سوالات کے جوابوں کی تعلیم دی گئی لیکن وہاں چونکہ کوئی شرط محذوف ہے نہ مذکور اس لئے قُلْ سے پہلےنہیں ذکر کی گئی مثلاً فرمایا ہے وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ اَذًی۔۔ یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلُ فِیْہِمَا اِثْمٌ کَبِیْرٌ۔۔ یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِوغیرہ۔
یَنْسِفُہَا یعنی ان کو جڑ سے اکھاڑ دے گا اور ریت کی طرح ریزہ ریزہ کر دے گا۔ نَسْفٌجڑ سے اکھاڑ دینا۔ ہا ضمیر زمین کی طرف راجع ہے اگرچہ زمین کا ذکر پہلے نہیں آیا کیونکہ جبال کا لفظ اپنی قرار گاہ یعنی زمین پر دلالت کر رہا ہے۔ قاع نرم نشیبی زمین جس کے ادھر ادھر پہاڑیاں اور ٹیلے ہٹ گئے ہوں ہموار زمین نکل آئی ہو (قاموس) صفصف ہموار میدان (قاموس) عوج کجی موڑ۔ امت ابھار۔ یعنی پہاڑوں کے تین احوال ہوں گے دیکھنے میں وہ ہموار چٹیل میدان محسوس ہوں گے اور نشیب فراز جانچنے کے آلہ سے دیکھو تو نہ ان میں کوئی کحجی نظر آئے گی نہ ابھار۔
Ayah 20:108یومئذ یتبعون الداعی لا عوج لہ وخشعت الاصوات للرحمن فلا تسمع الا ہمسا۔
اس روز (سب کے سب خدا کی طرف سے) بلانے والے کے کہنے پر ہو لیں گے ‘ اس کے سامنے کسی کا ٹیڑھاپن نہیں رہے گا اور ساری آوازیں رحمن کے سامنے (اس کی ہیبت کی وجہ سے) دب جائیں گی پس (اے مخاطب) مجھے پاؤں کی آہٹ کے سوا اور کوئی آواز سنائی نہیں دے گی۔
داعی یعنی اسرافیل میدان حشر کی طرف سب کو بلائیں گے اور صخرۂ بیت المقدس پر کھڑے پکار کر کہہ رہے ہوں گے اے بوسیدہ ہڈیو ‘ اے پارہ پارہ کھالو ‘ اے ٹوٹے بالو ! تم کو اللہ فیصلے کے لئے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے (سب آجاؤ) ابن عساکر نے زید بن جابر شافعی کی روایت سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ عِوَجَ لَہٗیعنی پکارے جانے پر بلانے والے سے دائیں بائیں طرف کو نہیں مڑیں گے بلکہ سیدھے تیزی کے ساتھ داعی کی دعوت پر آئیں گے۔ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُاور رحمن کی ہیبت سے آوازیں پست ہوجائیں گی دب جائیں گی۔
فَلاَ تَسْمَعُف سببیہ ہے اور خطاب ہر شخص کو ہے یعنی اسی سبب سے اے مخاطب تو کسی کی آواز نہ سن پائے گا۔ ہَمْسٌ خفیف آواز جیسے چلنے میں اونٹوں کے پاؤں کی۔ بغوی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ ہمس کا معنی ہے چپکے چپکے بات کرنا اور پست آواز سعید بن جبیر نے اس کی تشریح میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا کہ بغیر بات کئے لب ہلانا (کہ کوئی بات ادا نہ ہو) ابن ابی جارود نے بحوالۂ ابو طلحہ ؓ : حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا کہ بغیر بات کئے لب ہلانا (کہ کوئی بات ادا نہ ہو) ابن ابی جارود نے بحوالۂ ابو طلحہ حضرت ابن عباس ؓ : کا قول بیان کیا کہ قاعاً یعنی ہموار ‘ صفصفا عنی اس میں کوئی سبزہ نہ ہوگا ‘ چٹیل میدان ہوگا۔ عوج وادی (گڑھا) امت ٹیلہ۔ خَشَعقتِ الْاَصْوَاتُآوازیں ساکن ہوجائیں گی۔ ہمساً خفی آواز دوسرے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے چٹیل چکنی زمین نہ اس میں کوئی مکان بلند ہوگا نہ نشیب۔ ایک اور سند سے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول مروی ہے کہ ہمس سے مراد ہے پاؤں کی چاپ ‘ یعنی آدمیوں کے قدموں کی آواز۔ جب ان کو میدان حشر کی طرف لایا جائے گا۔
Ayah 20:109یومئذ لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا۔ اس روز (کسی کو کسی کی)
سفارش نفع نہ دے گی مگر ایسے شخص کے واسطے جس کے لئے رحمن نے اجازت دے دی ہو اور اس شخص کے واسطے بولنا پسند کرلیا ہو۔
من یا محل رفع میں ہے اور لفظ شفاعت مضاف محذوف ہے یعنی کسی کو کسی کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی ‘ ہاں اس شخص کی شفاعت فائدہ دے گی جس کو شفاعت کرنے کی اللہ نے اجازت دے دی ہوگی۔ یا من محل نصب میں ہے یعنی کسی کو کسی کی شفاعت مفید نہ ہوگی ہاں اس شخص کو سفارش فائدہ دے گی جس کے لئے سفارش کرنے کی اللہ نے اجازت دے دی ہوگی۔
وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلاً یعنی اس شفیع کی شفاعت کو اللہ نے پسند کیا ہو ‘ مطلب یہ ہے کہ شفیع عنداللہ معزز ہوگا اللہ اس کو شفاعت کرنے کی اجازت دے گا اور اس کی سفارشی گزارش کو پسند فرمائے گا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اس گناہگار کے حق میں اللہ نے سفارشی کے قول کو پسند کیا ہو (اوّل مطلب اس وقت ہوگا جب من کو محل رفع میں مانا جائے اور دوسرا مطلب اس وقت ہوگا جب من کو محل نصب میں قرار دیا جائے) ۔
Ayah 20:110یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم ولا یحیطون بہ علما۔ وہ ان سب کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا
ہے اور اس کو ان کا علم احاطہ نہیں کرسکتا۔
مَابَیْنَ اَیْدِیْہِمْیعنی سفارش کرنے والوں اور جن کی سفارش ہوگی ‘ ان کے آگے آنے والے احوال کو اللہ جانتا ہے۔ وَمَاخَلْفَہُمْیعنی دنیا میں اور قبروں میں جو احوال ان کے تھے ان کو بھی اللہ جانتا ہے۔ وَلاَ یُحِطْیُوْنَ بِہٖ عِلْمًا یعنی ان کا علم اللہ کے معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔
Ayah 20:111وعنت الوجوہ للحی القیوم اور (اس روز) تمام چہرے اس حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوں گے۔ عنت
ذلیل ہوں گے عاجز ہوں گے جیسے قیدی بادشاہ کے سامنے ذلیل و عاجز ہوتے ہیں عَنَا یَغْنُوْ عناءً ا (نصر) تھک گیا ‘ تعنی تکلیف جھیلی۔ بغوی نے لکھا ہے عانی بمعنی قیدی اسی (باب نصر عنا یعنو) سے ہے۔ الحی وہ ذات جو کبھی نہیں مرے گی اور اس پر موت نہ آنی ہی چاہئے ‘ کیونکہ جس پر موت کا طاری ہونا ممکن ہو وہ حقیقت میں میت (یعنی معدوم الاصل) ہی ہوتا ہے اور اللہ معدوم الاصل نہیں اس لئے اس پر موت آنا ناممکن ہے۔ القیوم تھامے ہوئے۔ ہر شخص جو کچھ کرتا ہے اس کے تمام اعمال کو تھامے ہوئے اور ساری مخلوق کے انتظام کو تھامے ہوئے۔ چہروں سے مراد ہیں چہروں والے۔ لفظ الوجوہ بظاہر تمام چہروں کو شامل ہے ‘ یعنی ہر شخص اللہ کے سامنے جھکا ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف مجرموں کے چہرے مراد ہوں اور الوجوہ میں الف لام مضاف الیہ کے عوض لایا گیا ہو ‘ یعنی وجوہ المجرمین۔
وقد خاب من حمل ظلما۔ اور ایسا شخص تو (ہر طرح) ناکام رہے گا جو ظلم (یعنی شرک) لے کر آیا ہوگا۔
ظلم سے مراد ہے شرک حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی تشریح میں فرمایا گھاٹے میں رہے گا جس نے اللہ کا کسی کو شریک قرار دیا۔
طلق بن حبیب کے نزدیک عناء سے مراد ہے سجدہ کرنا اس تفسیر پر آیت کا مطلب اس طرح ہوگا تمام چہرے حی وقیوم کو سجدہ کرتے ہیں اور جو شخص شرک کرے اور اللہ کو سجدہ نہ کرے وہ ناکام رہے گا۔
Ayah 20:112ومن یعمل من الصلحت وہو مؤمن فلا یخف ظلما ولا ہضما۔ اور جس نے نیک
کام ایمان دار ہونے کی حالت میں کئے ہوں گے سو اس کو نہ کسی زیادتی کا اندیشہ ہوگا نہ کمی کا۔ مِنَ الصّٰلِحٰتِمیں مِنْ بمعنی بعض نیک کام ‘ مراد فرائض کی ادائیگی۔ یا مِن ابتدائیہ ہے اور صالحات سے مراد ہیں صحیح درست نیتیں ‘ یعنی جس نے نیک نیت سے کوئی کام کیا ہوگا۔ وَہُوَ مُؤْمِنٌجملہ حالیہ ہے یعنی نیک کام بحالت ایمان کئے ہوں تمام عبادات ‘ طاعات اور نیک کاموں کے قبول ہونے کی لازمی شرط ایمان ہے۔
فَلاَ یَخَاف جزا محذوف ہے فَ سببیت کے لئے ہے ‘ یعنی محذوف جزا کی علت بےخوفی ہے مطلب یہ ہے کہ جو مؤمن نیک کام کرے گا وہ کامیاب ہوگا کیونکہ وہ حق تلفی سے بےخوف ہوگا۔ یا لاَ یَخَافُخبر ہے ہُوَ ضمیر مبتدا محذوف ہے پس وہ نہیں ڈرے گا۔ ظُلْمًا یعنی گناہوں میں اضافہ کردیئے جانے کا اس کو اندیشہ نہ ہوگا۔ وَلاَ ہَضَمًا اور نہ نیکیوں کے ثواب کم ہونے کا اس کو خوف ہوگا۔ کذا قال ابن عباس ؓ ۔ حسن نے تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا ہے نہ اس کو نیکیوں کے ثواب میں کمی ہونے کا اندیشہ ہوگا اور نہ اس امر کا خوف ہوگا کہ دوسرے گناہگار کے گناہ اس پر لاد دیئے جائیں۔ ضحاک نے کہا اس کو ناکردہ گناہ میں پکڑے جانے کا اندیشہ نہ ہوگا اور نہ کسی عمل کی اچھائی تلف ہونے کا خطرہ۔ ہَضْمٌ کا لغوی معنی ہے کم کرنا اور توڑنا ہضم الطعام اسی سے بنا ہے (معدہ کے اندر کھانے کا ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجانا)
Ayah 20:113وکذلک انزلنا قرانا عربیا وصرفنا فیہ من الوعید لعلہم یتقون او یحدث لہم ذکرا۔
اور ہم نے اسی طرح اس کو عربی قرآن کر کے نازل کیا ہے اور اس میں ہم نے طرح طرح سے وعید بیان کی ہے تاکہ وہ (سننے والے) ڈر جائیں یا یہ قرآن ان کے لئے (کسی قدر تو) سمجھ پیدا کر دے۔
یعنی جس طرح ہم نے گزشتہ اقوال اور سابق امتوں کے واقعات آپ پر نازل کئے اسی طرح یہ قرآن بھی عربی میں نازل کیا جو ہماری طرف سے نازل کردہ ہے اور اس میں نیک ایمانداروں کے لئے اچھے ثواب کا وعدہ اور کافروں بدکرداروں کے لئے برے عذاب کی وعید ہے۔ قُرْآنًا عَرَبِیًّا یعنی جو قرآن ہم نے نازل کیا وہ عربی زبان میں پڑھا جاتا ہے سب کا اسلوب اور طرز ایک ہے سارا قرآن معجز ہے۔ وَصَرَّفْنَا فِیْہِ مِنَ الْوَعِیْدِاور طرح طرح سے گھما پھرا کر بار بار وعید کی آیات بیان کیں تاکہ لوگ شرک اور معاصی سے پرہیز رکھیں اور تقویٰ کی پائیدار قوت ان کے اندر پیدا ہوجائے یا (اگر کامل تقویٰ کی راسخ قوت ان کے اندر پیدا نہ بھی ہو تب بھی) یہ قرآن سننے والوں کے لئے کسی قدر نصیحت ہی پیدا کر دے اور گناہوں سے وہ کچھ تو بچ جائیں۔
ایک شبہ یتقون میں نسبت سننے والوں کی طرف کی گئی ‘ کیونکہ تقویٰ ان ہی کے اندر ایک راسخ لازوال قوت ہوسکتا ہے پس اگر وہ ہی شرک و معاصی سے پرہیز کریں گے تو تقویٰ ان کے لئے مستحکم صفت اور راسخ قوت بن جائے گا اگر یہ نہ ہوسکا تو کم سے کم اتنا تو ہی جائے گا کہ قرآن کے ذریعہ سے اللہ ان کو کچھ نصیحت و موعظت ہی عطا فرما دے گا (خواہ تقویٰ کے درجہ تک وہ نہ پہنچیں) احداث ذکر کی نسبت قرآن کی طرف مجازی ہے۔ قرآن سبب نصیحت پذیری ہے ‘ فاعل حقیقی اور نصیحت پیدا کرنے والا تو خدا ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک او یحدثاو بمعنی واؤ ہے (اس صورت میں مطلب زیادہ واضح ہوجائے گا کہ قرآن اس لئے نازل کیا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں اور قرآن ان کیلئے نصیحت پیدا کر دے۔ )
Ayah 20:114فتعلی اللہ الملک الحق سو اللہ تعالیٰ جو بادشاہ حقیقی ہے بڑا عالی شان ہے فَتَعَالَی اللّٰہُیعنی جس طرح
اللہ اپنی ذات وصفات میں مشابہت مخلوق سے پاک ہے اسی طرح اس کا کلام بھی مخلوق کے کلام کی مماثلت سے اعلیٰ اور بالا ہے پس وہ برتر اور منزہ ہے مشرکوں کے شرکیہ اقوال سے۔ میں کہتا ہوں بلکہ وہ ان لوگوں کے بیان سے بھی برتر وبالا ہے جو اس کے اوصاف کامل طور پر بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ کوئی اس کی ذات وصفات کو پورا پورا بیان نہیں کرسکتا۔ اَللّٰہُمَّ لاَ اُحْصِیْ ثَنَاءً ا عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ عَلٰی مَا اَرَدْتَ ۔
اَلْمَلِکُیعنی وہ ایسا بادشاہ ہے جس کا حکم نافذ ہے جس کی حکومت ہمیشہ سے ہے جس کا غلبہ ہمہ گیر اور عظیم الشان ہے۔ اَلْحَقُّیعنی اس کا وجود اور تمام صفات اور اقتدار ذاتی ہے (کسی کا عطاکردہ نہیں ہے) فناء ‘ بگاڑ اور زوال کا اس کے اقتدار۔ حکومت اور صفات و ذات میں کوئی احتمال ہی نہیں ہے۔
ولا تعجل بالقران من قبل ان یقضی الیک وحیہ وقل رب زدنی علما
اور قرآن پڑھنے میں قبل اس کے کہ آپ پر اس کی وحی پوری نازل ہو عجلت نہ کیجئے اور کہئے کہ اے میرے رب میرا علم بڑھا دے۔
یعنی جب تک جبرئیل پوری وحی پہنچا نہ چکیں آپ قرآن پڑھنے میں عجلت نہ کیجئے مطلب یہ ہے کہ جب تک جبرئیل وحی مکمل نہ کرلیں آپ قرآن پڑھنا شروع نہ کیجئے۔ آیت لاَ تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖمیں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔
مجاہد اور قتادہ نے آیت کا تفسیری مطلب یہ بیان کیا ہے کہ صحابہ کو قرآن پڑھانا اور لکھوانا اس وقت تک شروع نہ کیجئے جب تک آپ کے لئے اس کا مطلب اور معنی واضح نہ ہوجائے۔ گویا مکمل بیان آنے سے پہلے مجمل آیات کی تبلیغ (اور توضیح) کی ممانعت کی گئی ہے بلکہ جلدی کرنے کی جگہ آپ زیادتی علم کی درخواست کیجئے اور دعا کیجئے کہ پروردگار جو علم تو نے مجھے عنایت کیا ہے اس میں اور ترقی عطا کر اس کی وجہ یہ ہے کہ جو وحی آگئی وہ تو بہرحال پوری آکر رہے گی (اور یاد بھی ہوجائے گی اس میں عجلت بےسود ہے 1 ) ۔
Ayah 20:115ولقد عہدنا الی ادم من قبل فنسی ولم نجد لہ عزما۔ اور اس سے (بہت زمانہ) پہلے ہم آدم کو
ایک حکم دے چکے تھے سو اس سے بھول (اور بےاحتیاطی) ہوگئی اور ہم نے اس کے اندر پختگی نہیں پائی۔ عَہِدْنَا ہم نے آدم کو حکم دیا اور نصیحت کردی کہ درخت کے قریب نہ جائے۔ قاموس نے لکھا ہے عَہِدَ اِلَیْہِاس کو حکم دے دیا یا نصیحت کردی۔ فَنَسِیَیعنی وہ حکم کو بھول گیا اور درخت سے بچے رہنے کا جو اس کو حکم دیا گیا تھا اس کو چھوڑ بیٹھا۔ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا اور حکم کو یاد رکھنے کی کوشش ہم نے اس کے اندر نہیں پائی یا جس چیز سے روکا گیا اس سے باز رہنے پر صبر اس کے اندر نہیں پایا۔ لغت میں عزم کا معنی ہے کسی کام کو کرنے کا پختہ ارادہ کرلینا۔ اِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ۔ وَلاَ تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ ۔ وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَتینوں آیات میں عزم کا معنی پختہ ارادہ ہی ہے۔ قاموس میں ہے عزم علیہ اس کام کو کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ بالکل طے کرلیا کہ ایسا کرنا ہے۔ یا اس کام کی کوشش کی (دونوں معنی آتے ہیں) نہایہ میں ہے عزم کوشش اور صبر۔ میں کہتا ہوں اگر کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیا تو اس کا تقاضا ہے کہ اس کو کرنے کی کوشش کی جائے اور جو دشواریاں اور مشکلات راستہ میں آئیں ان پر صبر کیا جائے۔
بعض اہل تفسیر نے لَمْ نَجِدَ لَہٗ عَزْمًاکا مطلب یہ لکھا ہے کہ ہم نے آدم کے دل میں نافرمانی کرنے کا ارادہ نہیں پایا وہ بھول گیا اس سے چوک ہوگئی۔ 1 [1 ابن زید نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا کہ جو آدم کو بتادیا تھا کہ اِنَّ ہٰذَا عَدُوٌّ لَکَ وَلِزَوْجِکَیہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے آدم ابلیس کی عداوت کو اور اللہ کی اس نصیحت کو بھول گئے۔ قاضی عیاض نے شفا میں لکھا ہے کہ اللہ نے فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدَ لَہٗ عَزْماً فرما کر خود ہی آدم کا عذر پیش کردیا۔] صاحب کشاف (زمخشری) اور بیضاوی نے کہا ہے کہ لَقَدْ عَہِدْنَا کا عطف صرفنا پر ہے مطلب یہ ہے کہ بار بار نصیحت اور وعید کے بعد بھی جو یہ لوگ عہد شکنی کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ آدم کی تخلیق کی بنیاد ہی عصیان پر ہے اور نسیان آدم کی سرشت میں ہے ہم نے اس سے بہت پہلے آدم کو بھی ایک حکم دیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور اس سے چوک ہوگئی ‘ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے آدم کو پیدا کردیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا جس کی وجہ سے ہر وہ نفس جس کو آدم کی نسل سے قیامت تک اللہ پیدا کرنے والا ہے آدم کی پشت سے نکل پڑا اور ہر شخص کی دونوں آنکھوں کے درمیان اللہ نے نور کی ایک چمک پیدا کردی پھر سب کو آدم کے سامنے لایا آدم نے پوچھا اے میرے رب یہ کون ہیں اللہ نے فرمایا یہ تیری نسل ہے آدم نے ان میں ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں آنکھوں کی درمیانی چمک آپ کو بہت اچھی لگی پوچھا اے میرے رب یہ کون ہے اللہ نے فرمایا داؤد۔ آدم ( علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب تو نے اس کی عمر کتنی مقرر کی ہے اللہ نے فرمایا ساٹھ برس۔ آدم ( علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب میری عمر میں سے چالیس برس لے کر اس کی عمر بڑھا دے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آدم کی عمر ختم ہوگئی اور (وہی) چالیس برس رہ گئے (جو آپ نے داؤد کو دے دیئے تھے) تو موت کا فرشتہ آگیا۔ آدم نے کہا کیا ابھی میری عمر کے چالیس برس باقی نہیں ہیں ‘ فرشتے نے کہا کیا آپ نے وہ چالیس برس اپنے بیٹے داؤد کو دے نہیں دیئے تھے ‘ آدم ( علیہ السلام) نے انکار کردیا ‘ یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے اور آدم بھول گئے اور انہوں نے درخت (ممنوعہ) میں سے کھالیا یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد بھی بھولتی ہے اور آدم نے خطا (چوک) کی یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد سے بھی خطا ہوجاتی ہے۔
بعض اہل تحقیق نے کہا زمخشری اور بیضاوی کا مذکورۂ بالا قول غلط ہے اگر اس آیت کا عطف صرفنا پر ہوگا اور ظاہر ہے کہ کذلک کا تعلق صرفنا سے ہے اور کذلک صرفنا کا عطف کذلک نقص علیک پر ہے اور کذلک نقص سے حضرت موسیٰ کے قصہ کی طرف اشارہ ہے پس حضرت آدم ( علیہ السلام) کا قصہ حضرت موسیٰ کے قصے سے مشابہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ آدم ( علیہ السلام) کے واقعہ میں نسیان اور ترک امر کا ذکر ہے اور موسیٰ کے واقعہ میں نسیان یا ترک امر کی طرف اشارہ بھی نہیں ہے۔ بلکہ آیت زیر تفسیر کا عطف وَہَلْ اَقَاکَ حَدِیْثَ موسیٰپر ہے حضرت آدم ( علیہ السلام) کا قصہ بھی گزشتہ قصوں میں داخل ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 20:116واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی۔ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کے سامنے سجدہ کرو۔ فوراً سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے کہ اس نے انکار کردیا۔
Ayah 20:117فقلنا یادم ان ہذا عدو لک ولزوجک فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی۔ ہم نے کہا آدم یقیناً یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے (نکال دینے کا سبب بن جائے) پھر تم مصیبت میں پڑجاؤ۔
وَاِذْ قُلْنَا اور یاد کرو اس وقت کا واقعہ جب ہم نے کہا تھا تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ آدم سے بھول ہوگئی تھی۔ اَبّٰیاس نے سجدہ کرنے یا حکم ماننے سے انکار کردیا۔ ابی مستقل جملہ ہے جو گزشتہ کلام کی تاکید کر رہا ہے۔ ابلیس کے استثناء کی علت بھی اس کو قرار دیا جاسکتا ہے فَقُلْنَا اس کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے یعنی ہم نے آدم اور ان کی بی بی کو جنت میں داخل کردیا پھر ہم نے کہا ہٰذَا یعنی ابلیس لاَ یُخْرِجَنَّکُمَابظاہر یہ ابلیس کے لئے ممانعت ہے مگر حقیقت میں ممانعت کا رخ آدم اور ان کی بی بی کی طرف ہے کہ دونوں (ہوشیار رہیں) ابلیس کا کہا نہ مانیں ورنہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے گا ‘ یعنی تم دونوں کو جنت سے خارج کردیئے جانے کا سبب بن جائے گا۔ اس کے بہکاوے کی وجہ سے اللہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے گا۔ فَلاَیُخْرِجَنَّکَمَا میںسببی ہے عداوت ابلیس چاہتی ہے کہ اس کا کہنا نہ مانا جائے۔ فَتَشْقٰی پھر تھک جاؤ گے ‘ تعب میں پڑجاؤ گے خود اپنے ہاتھ سے کما کر چوٹی کا پسینہ ایڑی تک بہا کر زمین کھود کر اس میں بیج بکھیر کر پھر کھیتی کاٹ کر دانہ پیس کر گوندھ کر پکا کر کھانا ہوگا۔ بغوی نے بحوالۂ سعید بن جبیر لکھا ہے آدم کے لئے ایک سرخ بیل بھی پیدا کیا گیا جس کے ذریعہ سے وہ زمین کھودتے تھے اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے جاتے تھے یہی تشقیٰ کا مفہوم ہے چونکہ آدم کا مصیبت میں پڑجانا بی بی کے دکھ اور تکلیف کو بھی مستلزم ہے۔ آدم کے دکھ کے بعد بی بی کو سکھ کہاں مل سکتا تھا اس لئے تشقیٰ سے (براہ راست) خطاب صرف آدم کو کیا گیا (بی بی سے خطاب ضمنی ہوگیا) یا یوں کہا جائے کہ شقاء سے مراد ہے روزی کی تلاش میں تھکنا اور یہ کام صرف آدم کا تھا بی بی کا نہ تھا اس لئے صرف آدم کو خطاب کیا۔
Ayah 20:118ان لک ان لا تجوع فیہ ولا تعری۔ جنت میں تو تمہارے لئے یہ بات ہے کہ اس میں نہ تم بھوکے رہو گے نہ ننگے
Ayah 20:119وانک لا تظموا فیہا ولا تضحی۔ اور یقیناً یہاں نہ پیاسے ہوگے نہ دھوپ میں تپو گے۔ عکرمہ نے کہا لا تضحیٰ کا یہ مطلب ہے کہ دھوپ میں تپنا نہ پڑے گا کیونکہ جنت کے اندر دھوپ ہی نہیں ہر وقت سایہ پھیلا رہتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کے اندر تمام ضروریات زندگی فراہم ہیں بھوک دور کرنے کے لئے کھانا پیاس کے لئے پانی برہنگی کے لئے لباس اور سایہ دار مکان۔ نہ کمانے کی تکلیف۔ نہ سامان زندگی فراہم کرنے کے لئے کوشش۔ ہر چیز خداداد موجود ہے۔
Ayah 20:120فوسوس الیہ الشیطن قال یادم ہل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی۔
پھر ان کو شیطان نے بہکایا کہنے لگا ‘ اے آدم کیا میں تم کو ہمیشگی (کی زندگی عطا کرنے) والا درخت بتاؤں اور ایسی بادشاہی جس میں کبھی زوال اور ضعف نہیں آئے گا۔
فَوَسْوَسَ اِلَیْہِیعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا جو آدم (کے دل) تک پہنچ گیا قال یٰاَدَمُیہ وسوسہ کا بیان ہے۔ شَجَرَۃِ الْخُلْدِخلد بمعنی خلود۔ یعنی ایسا درخت جس کا پھل کھانے والا ہمیشہ زندہ رہے گا ‘ گویا ابلیس نے اپنے خیال کے مطابق درخت کو حیات دوام کا سبب قرار دیا۔ لاَّ یَبْلٰیجس کو کبھی زوال نہ ہوگا نہ اس میں ضعف آئے گا۔
Ayah 20:121فاکلا منہا فبدت لہما سواتہما وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ وعصی ادم ربہ فغوی۔ سو (اس کے بہکانے سے) دونوں نے اس درخت سے کھالیا ‘ فوراً دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل
گئے اور (اپنا بدن ڈھانکنے کو) دونوں اپنے اوپر جنت کے (درختوں کے) پتے چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کا قصور ہوگیا۔ سو وہ غلطی میں پڑگئے۔
دونوں نے کھالیا یعنی آدم و حواء نے۔ ورق الجنۃ سے مراد ہیں انجیر کے درخت کے پتے۔
عَصٰی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی یعنی آدم منزل مقصود سے بھٹک گئے صحیح راستہ کھو دیا اور ناکام ہوگئے درخت کا پھل کھانے سے دوامی زندگی کے طلبگار ہوئے ‘ حالانکہ وہ درخت سبب زوال تھا یا یہ مطلب ہے کہ جس بات کا ان کو حکم دیا گیا ہے اس سے کٹ گئے کج راہ ہوگئے یا ابلیس سے فریب کھاگئے اس لئے سیدھے راستہ سے ہٹ گئے۔
ابن اعرابی نے غویٰ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ان کی آرام کی زندگی بگڑ گئی ‘ عزت سے ذلت کی طرف اور سکھ سے دکھ کی طرف چلے گئے۔ ابن قتیبہ نے کہا اگرچہ عَصٰی اٰدَمُ رَبَّہٗ کہنا درست ہے (آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی) لیکن آدم کو عاصی کہنا غلط ہے کیونکہ عاصی اسی شخص کو کہتے ہیں جو عصیان کا عادی اور خوگر ہو (ایک مرتبہ اگر کسی سے صدور عصیان ہوجائے تو اس کو عاصی نہیں کہا جاسکتا) اگر کسی نے ایک بار کوئی کپڑا سی لیا ہو تو یہ کہنا صحیح ہے کہ اس نے کپڑا سی لیا ‘ لیکن جب تک سینے کا اعادہ بار بار نہ کرے اور سینے کا عادی نہ ہوجائے اس کو خیاط (درزی) نہیں کہا جاسکتا۔ (اس فقیر مترجم کی نظر میں ابن قتیبہ کا قول نامناسب ہے اسم فاعل کو صفت مشبہ پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ‘ اسم فاعل تو وہ ہوتا ہے جس سے کسی فعل کا صدور ہوجائے یا اس کے لئے اس فعل کا ثبوت ہو خواہ ایک ہی مرتبہ ہو ہر فعل کا کرنے والا فاعل ہوتا ہے ‘ لیکن صفت مشبہ کا صیغہ اس وقت صادق آئے گا جب کوئی وصف کسی ذات کے اندر موجود ہو اور قوت صدور اس میں موجود ہو خواہ ساری عمر اس سے اس فعل کا صدور نہ ہوا ہو پس خیاط وہ شخص ہے جس میں سینے کی صفت پائی جائے خواہ کبھی نہ سئے اور خائط وہ شخص ہوگا جس نے کبھی سیا ہو خواہ ایک ہی مرتبہ سیا ہو۔ اسم فاعل اور صفت مشبہ کا یہی فرق ہے پھر خیاط صرف صفت مشبہ کا مفہوم ہی اپنے اندر نہیں رکھتا بلکہ بار بار خیاطت کرے گا تو خیاط کہلائے گا یہ مبالغہ کا صیغہ ہے ‘ مبالغہ تعداد میں ہو یا کیفیت میں بہرحال صفت خیاطت کا مبالغہ کے ساتھ موجود ہونا خیاط کہلانے کے لئے لازم ہے عاصی اسم فاعل ہے اس کے اطلاق کے لئے تو ایک بار صدور عصیان کافی ہے۔ واللہ اعلم) ۔
مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رب کے سامنے آدم اور موسیٰ کا باہم کچھ مباحثہ ہوا اور آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ موسیٰ نے آدم سے کہا آپ آدم ہیں آپ کو اللہ نے اپنے (خاص) دست قدرت سے بنایا آپ کے اندر اپنی روح پھونکی فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا ‘ پھر آپ نے اپنے قصور کی وجہ سے لوگوں کو جنت سے زمین پر اتروا دیا ‘ آدم نے کہا آپ موسیٰ ہیں آپ کو اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا اور آپ کو (توریت کی) تختیاں عطا فرمائیں جن کے اندر ہر چیز کا واضح بیان تھا اور آپ کو ہم کلام بنانے کے لئے اپنا قرب عنایت کیا کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ میری پیدائش سے کتنی مدت پہلے اللہ نے توریت لکھ دی تھی ‘ موسیٰ نے کہا چالیس برس پہلے آدم نے کہا کیا اس میں یہ بھی تھا کہ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بھٹک گیا۔ موسیٰ نے کہا ہاں۔ آدم نے کہا پھر آپ مجھے ایسا کام کرنے پر ملامت کر رہے ہیں جس کا مجھ سے صادر ہونا اللہ نے میری پیدائش سے چالیس برس پہلے لکھ دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پس آدم ( علیہ السلام) موسیٰ پر غالب آگئے۔
بغوی کی روایت میں حدیث کے مندرجۂ ذیل الفاظ ہیں موسیٰ نے کہا آدم آپ ہمارے باپ آپ ہی نے ہم کو جنت سے نکلوایا آدم نے کہا اللہ نے آپ کو اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا اور اپنے ہاتھ سے توریت لکھ کر عطا فرمائی۔ کیا آپ مجھے ایسے عمل پر ملامت کر رہے ہیں جو میری پیدائش سے چالیس سال پہلے اللہ نے میرے لئے مقرر کردیا تھا ‘ پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔
ایک شبہ جب حضرت آدم حکم کو بھول گئے اور جو کچھ کیا بھول چوک سے کیا تو پھر یہ کیسے کہا گیا کہ آدم نے گناہ کیا۔ معصیت کی نسبت آدم کی طرف کیوں کی گئی۔ انسان کا نسیان تو ناقابل مواخذہ ہے۔
جواب اس امت کے لئے نسیان ناقابل مواخذہ قرار پایا ہے۔ ہر امت اور ہر شخص کے لئے نسیان کا یہ حکم نہیں ہے۔ طبرانی نے حضرت ثوبان و حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت سے بھول چوک اور وہ فعل جو کسی کو مجبور کر کے زبردستی کرایا گیا اٹھا لیا گیا ہے (یعنی معاف کردیا گیا ہے) اس حدیث میں یہ نہیں فرمایا کہ ہر شخص اور ہر امت کے لئے بھول چوک معاف کردی گئی ہے (بلکہ صراحۃً صرف اس امت کا ذکر کیا گیا ہے) ہاں مجنون وغیرہ کے متعلق (اس امت ہی کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ عموماً بلا کسی کا نام لئے) فرمایا ہے قلم اٹھا لیا گیا دیوانے مغلوب العقل سے جب تک وہ تندرست ہو اور سوئے ہوئے آدمی سے جب تک وہ بیدار ہو اور بچہ سے جب تک وہ بالغ ہو۔ ہم نے سورة بقرہ کی آیت رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَأَنَاکی تفسیر کے ذیل میں لکھ دیا ہے کہ بھول چوک پر گرفت عقلاً ممنوع نہیں ہے گناہ ایک زہر ہے زہر قصداً کھایا جائے یا بھول چوک سے اپنا ہلاکت آفریں اثر ضرور کرے گا۔ اس طرح گناہ بھی قصداً ہو یا بھول کر اپنا نتیجہ ضرور پیدا کرے گا اور گناہگار بہرحال عذاب اور سزا میں مبتلا ہوگا۔ بشرطیکہ اللہ اس کو معاف نہ کر دے (توبہ یا مغفرت گناہ کے زہر کا علاج ہے۔ مترجم) ۔ کلبی نے کہا کہ بنی اسرائیل سے اگر کسی حکم کے خلاف کوئی حرکت بھولے سے یا غلطی سے ہوجاتی تھی تو فوراً ان کو سزا دے دی جاتی تھی اور کوئی کھانے پینے کی چیز بطور سزا بقدر گناہ حرام کردی جاتی تھی۔
میں کہتا ہوں اسی لئے حضرت آدم کی بھول پر ان کی پکڑ ہوئی اور جنت کی کھانے پینے کی چیزوں سے محروم کردیا گیا۔ دوسرا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اہل تقویٰ کی نیکیاں بھی اہل قرب کے لئے گناہ ہیں۔ عام لوگوں کی بھول چوک پر آخرت میں پکڑ نہ ہوگی اور دوزخ کا عذاب نہ ہوگا لیکن خواص کا حکم اور ہے وہ بھول چوک پر آخرت میں دوزخ کے عذاب سے گو محفوظ ہیں ان کا درجہ بلند ہے وہ اہل قرب ہیں اس لئے بھول چوک کی پاداش میں ان کے دلوں پر زنگ آجاتا ہے اور اللہ کے ساتھ ان کے معاملات قرب کے نہیں رہتے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے دل پر بھی میل آجاتا ہے اور میں ہر روز اللہ سے سو مرتبہ معافی کا طلبگار ہوتا ہوں۔ رواہ مسلم و احمد و ابوداؤد و النسائی۔
صاحب مدارک نے کہا انبیاء ایسے نسیان پر ماخوذ ہیں کہ اگر وہ تکلیف کر کے بچنا چاہتے تو بچ سکتے تھے۔
فائدہ اسی بنیاد پر بعض علماء قائل ہیں کہ نبوت سے پہلے انبیاء سے صغیرہ گناہ کا صدور ہوسکتا ہے۔
Ayah 20:122ثم اجتنبہ ربہ فتاب علیہ وہدی۔ پھر ان کے رب نے ان کو (زیادہ) مقبول بنا لیا سو ان پر توجہ فرمائی
اور راہ راست پر (ہمیشہ) قائم رکھا۔
اجْنَباہُ جَبْیٌکا لغوی معنی ہے جمع کرنا جبی الخراج اس نے خراج جمع کیا ‘ اجتباء (افتعال) اپنے پاس جمع کرلینا اپنے قرب میں لے آنا مراد چن لینا برگزیدہ بنا دینا مقرب بنا لینا یعنی آدم کو توبہ پر آمادہ کیا جب انہوں نے توبہ کرلی تو اللہ نے ان کو چن لیا۔ مقرب بنا لیا۔
تَابَ عَلَیْہِاللہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوا۔ ہدیٰ ان کو توبہ کا راستہ بتادیا ‘ اللہ ہی کی ہدایت و توفیق سے انہوں نے دعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا۔۔ اور اللہ نے ان کو درجات قرب تک پہنچنے کا راستہ بھی بتادیا۔
Ayah 20:123قال اہبطا منہا جمیعاً بعضکم لبعض عدو اللہ نے فرمایا ‘ تم دونوں (آدم و حواء) ساتھ ساتھ جنت
سے اس حالت میں (زمین پر) اترو (اور دنیا میں ایسی حالت سے جاؤ) کہ تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہوگا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حضرت حواء کے نزول کے ساتھ ان کی آئندہ نسل کا نزول لازم تھا اس لئے حضرت حواء ( علیہ السلام) اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کو خطاب مع ذریات کے ہوا اور جمیعاً کے لفظ سے اس مضمون کو پختہ کردیا۔ ایک دوسرے کا دشمن ہوگا یعنی تم دونوں کی نسل میں باہم دنیوی عداوت بھی ہوگی اور دینی و مذہبی بھی (کوئی موحد ہوگا کوئی مشرک ‘ کوئی منکر) ۔
فاما یاتینکم منی ہدی فمن اتبع ہدای فلا یضل ولا یشقی۔ پس اگر تمہارے پاس میری
طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو (تم میں سے) جو کوئی میری ہدایت پر چلے گا وہ نہ (دنیا میں) گمراہ ہوگا نہ (آخرت میں) نامراد۔
بغوی نے بروایت سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے گا اور جو تعلیم اس میں ہے اس پر چلے گا اللہ اس کو دنیا میں بھی گمراہی سے بچا کر سیدھے راستے پر چلائے گا اور قیامت کے دن بھی حساب کی خرابی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ اللہ نے خود فرما دیا ہے فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلاَ یَضِلُّ وَلاَ یَشْقٰیشعبی کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قرآن کی پیروی کرنے والے کو اللہ دنیا میں گمراہ اور آخرت میں بدنصیب ہونے سے محفوظ رکھے گا ‘ پھر حضرت ابن عباس ؓ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
Ayah 20:124ومن اعرض عن ذکری فانہ لہ معیشۃ ضنکا اور جو شخص میری نصیحت سے اعراض کرے گا تو اس
کے لئے تنگی کا جینا ہوگا۔ عَنْ ذَکْرِیْیعنی اس ہدایت سے جو میری یاد دلاتی ہے یا اس بلانے والے سے جو میری یاد کی طرف بلاتا ہے اعراض کرے گا۔ ضَنْکًابہت تنگ۔ بطور مبالغہ معیشۃ کی صفت قرار دیا ہے ورنہ ضنکاً مصدر ہے (زندگی تنگی والی یعنی تنگ ہوتی ہے خود تنگی نہیں ہوتی) چونکہ یہ لفظ مصدر ہے اس لئے مؤنث کی بھی صفت بن سکتا ہے۔
بغوی نے حضرت ابن مسعود ؓ ‘ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ معیشۃً ضنکاً سے مراد ہے عذاب قبر۔ بزار نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معیشۃً ضنکاً عذاب قبر ہے۔ حضرت ابو سعید نے فرمایا زمین اس کو دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ادھر ادھر نکل جائیں گی۔ بعض مسند احادیث میں مرفوعاً آیا ہے کہ اس پر قبر اس طرح سمٹے گی کہ اس کی پسلیاں ادھر ادھر نکل جائیں گی اور قبر سے اٹھائے جانے کے وقت تک برابر یہ عذاب اس پر ہوتا رہے گا۔ یہ حدیث سنن ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے۔
حسن نے کہا معیشۃً ضنکاً سے مراد ہے (دوزخ کے اندر) زقوم اور ضریع (تھوہر اور سینڈ کے دوزخی درخت) اور غسلین۔ عکرمہ نے کہا معیشۃً ضنکاً حرام رزق ہے۔ ضحاک نے کہا ناپاک کمائی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا بدبختی۔
میں کہتا ہوں حرام رزق ‘ ناپاک کمائی اور بدبختی قبر کی تنگی یا دوزخ کی طرف لے جانے والی چیزیں ہیں اللہ نے فرمایا ہے اِذَا اُلْقُوْ مِنْہَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ ۔
ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ بندہ کو جو مال بھی دیا جائے تھوڑا ہو یا بہت اور وہ اس میں تقویٰ نہ اختیار کرے تو ایسے مال میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی یہی معیشۃً صنکاً ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ پر بدگمانی ہوتی ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ (اگر یہ مال خرچ یا تلف ہوگیا تو) اللہ اس کی جگہ ان کو دوسری معاش (مال) عطا نہیں فرمائے گا۔ سعید بن جبیر نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ ہم اس سے قناعت چھین لیتے ہیں کہ کسی طرح وہ مال سے سیر ہی نہیں ہوتا۔ ان دونوں قولوں کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرتا ہے اس کا اصلی مقصد منتہائے خواہش اور مطمح نظر صرف دنیا کا مال و متاع ہوتا ہے ہر وقت مال کی ترقی کی فکر میں ڈوبا رہتا ہے اور گھاٹے سے اپنی جگہ ڈرتا رہتا ہے۔ اس کے برخلاف مؤمن کی حالت ہوتی ہے جو آخرت کا طلبگار ہوتا ہے۔ اللہ جو کچھ عطا فرما دیتا ہے وہ اس پر قانع اور شکرگزار ہوتا ہے اس کا بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے اسی لئے اس کی زندگی خوشگوار اور پاکیزہ ہوتی ہے۔
میں کہتا ہوں اس مطلب پر ذکر خدا سے اعراض کرنے والے صرف کافر ہی نہیں ہوں گے اور آیت میں صرف کافر ہی مراد نہ ہوں گے بلکہ جو شخص بھی اللہ کے ذکر کی کثرت سے گریز کرتا ہے وہ مراد ہوگا کافر ہو یا مسلمان بہت سے مسلمان بھی دنیا کی طلب میں ڈوبے رہتے ہیں ان کو بھی مالی کمی کا ہر وقت اندیشہ رہتا ہے کثرت ذکر خدا سے اعراض کرنے والا صرف دنیوی مال و متاع کو اپنا مقصد اوّل بنا لیتا ہے ایسے شخص کی زندگی تاریک ہوجاتی ہے اور احوال زندگی پراگندہ رہتے ہیں۔ اگر یہ شبہ کیا جائے کہ معیشۃً ضنکاً سے مراد اگر دنیوی تنگی اور شدت مصائب ہے تو اس میں کافروں فاسقوں کی ہی کیا خصوصیت ہے انبیاء اور صلحاء تو بہت زیادہ تنگ حال اور مبتلائے مصائب ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد ہے سب سے زیادہ سخت مبتلاء (مصائب) انبیاء ہوتے ہیں ‘ ان کے بعد وہ لوگ جو دوسروں سے افضل ہوں پھر ان کے بعد وہ لوگ جو مابقی سے افضل ہوں۔ دین کے مطابق آدمی مبتلاء مصیبت ہوتا ہے اگر وہ دین میں ٹھوس (یعنی پختہ اور کامل) ہوتا ہے تو اس کی جانچ بھی سخت ہوتی ہے اور اگر اس کے دین میں کچھ نرمی (کمزوری) ہوتی ہے تو دین کے مطابق اس کی جانچ ہوتی ہے (یعنی مبتلاء مصیبت ہوتا ہے) رواہ احمد والبخاری فی الصحیح والترمذی وابن ماجۃ عن سعد۔ طبرانی نے حضرت حذیفہ کی بہن کی روایت سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
بخاری نے تاریخ میں حضرات امہات المؤمنین کی روایت سے اچھی سند کے ساتھ حدیث کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں مصیبت کے لحاظ سے دنیا میں سب سے زیادہ سخت نبی ہوتا ہے یا کوئی (اور) منتخب نیک بندہ۔
میں کہتا ہوں اس شبہ کا جواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے۔
(1) آیت میں جس تنگ معیشت کا ذکر کیا ہے وہ کافروں ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ تنگی سے مراد ہے دنیوی سامان کی قلت جیسے دوسری آیت میں آیا ہے (اَمَتِّعُہٗ قَلِیْلاً ثُمَّ اَضْطَرُّہٗ اِلٰی عَذَاب النَّار) ِمطلب یہ ہے کہ جو میرے ذکر سے اعراض کرتا ہے میں اس کو دنیا میں کچھ تھوڑی سی معاش دے دیتا ہوں۔ (اگر کروڑوں کی دولت ہو تب بھی وہ قلیل ہی ہے) متاع دنیا کتنی ہو پھر بھی قلیل ہے چند روزہ ہے تھوڑی مدت کے لئے ملتی ہے ‘ پھر قیامت کے دن ہم اس کو نابینا اٹھائیں گے۔
(2) مؤمن ہو یا کافر ہر ایک کے لئے دنیا کی معیشت تکلیف اور دکھ سے خالی نہیں (خالص سکھ ہر شخص کے لئے مفقود ہے) اللہ نے فرمایا ہے (یَااَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ ) مؤمن پر جو دکھ آتا ہے اس سے اس کے گناہ مٹتے اور درجات کی ترقی ہوتی ہے جیسا کہ حدیث مذکور سے واضح ہے یہ دکھ بظاہر تنگی معیشت کی شکل میں رونما ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس سے سینہ کی کشائش اور انشراح باطن حاصل ہوتا ہے البتہ کافر کا دکھ اس دنیا میں اس کے لئے موجب ضیق بھی ہے اور عذاب آخرت کا نمونہ بھی ہے۔ اللہ کی محبت موجود ہونے کی صورت میں جو دکھ بھی اللہ کی طرف سے آتا ہے مؤمن کو اس میں لذت آتی ہے۔ دل کو فرحت ہوتی ہے محبوب کی ضرب میں بھی مٹھاس ہوتی ہے۔
ابن ماجہ ‘ عبدالرزاق اور حاکم نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے جو حدیث مذکور نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں سب سے زیادہ شدید البلاء انبیاء ہوتے ہیں ان کے بعد دوسرے نیک لوگ۔ ان میں سے بعض لوگ اس قدر فقر میں مبتلا رہے کہ سوائے تن پر پہنے ہوئے عباء کے ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا اور اس میں بھی اتنی جوئیں تھیں کہ قتل کئے ڈالتی تھیں لیکن اس مصیبت سے وہ اتنے زیادہ خوش ہوتے تھے کہ تم میں سے بعض لوگ عطیات (ملنے) سے اتنے خوش نہیں ہوتے۔
ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور قیامت کے روز ہم اس کو (قبر سے) اندھا اٹھائیں گے۔ حضرت ابن
عباس ؓ کے نزدیک اعمیٰ سے مراد ہے آنکھوں کا اندھا مجاہد کے نزدیک کور بصیرت مراد ہے (جس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی) کوئی دلیل اس کو نہ سوجھے گی۔ آئندہ آیت حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی مؤید ہے۔
Ayah 20:125قال رب لم حشرتنی اعمی وقد کنت بصیرا۔ وہ (تعجب سے) کہے گا ‘ اے میرے رب
تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ‘ میں تو (دنیا میں) آنکھوں والا تھا اگر کور بصیرت مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں دنیا میں صاحب بصیرت تھا ‘ یعنی میرے پاس شرک کی دلیل تھی۔ حالانکہ شرک کی کوئی دلیل دنیا میں بھی اس کے پاس نہ تھی اللہ نے فرمایا ‘ (وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَلاَ بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖ ) دوسری آیت میں آیا ہے (مَنْ کَانَ فِیْ ہٰذِہٖ اَعْمٰی فَہُوْ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی) جس کے پاس شرک کی کوئی دلیل اس زندگی میں نہیں ہے نابینا ہے اس کے پاس آخرت میں بھی کوئی دلیل نہ ہوگی وہاں بھی نابینا ہوگا۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت ابن عباس ؓ : کا تفسیری قول صحیح ہے اور آیت زیر تفسیر میں اعمیٰ سے مراد ہے کور بصر۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کی سند سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت کیا اللہ نے فرمایا ہے (وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَءِذٍ زُرْقًا) اور فرمایا (وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی وُجُوِہِہِمْ عُمْیًا) اس کا کیا مطلب ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قیامت کے دن وہ ایک حالت میں کرنجے ہوں گے اور دوسری حالت میں نابینا۔
Ayah 20:126قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتہا وکذلک الیوم تنسی۔ ارشاد ہوگا ایسے ہی ہمارے
احکام تیرے پاس پہنچے تھے پھر (تو اندھا بن گیا تھا) تو نے ان کا خیال نہیں کیا اور ایسا ہی آج تیرا کچھ خیال نہیں کیا جائے گا۔ کذلک کا تعلق فعل محذوف سے ہے یعنی تو نے ایسا ہی کیا تھا کہ ہماری کائناتی نشانیاں تیرے سامنے آئی تھیں یا ہماری وہ آیات جو انبیاء پر اتاری گئی تھیں تیرے پاس پہنچی تھیں ‘ پس تو نے ان کو بھولا بسرا کردیا ‘ یعنی ان کو چھوڑ دیا۔ ان کی طرف سے منہ پھیرلیا ‘ نظر اٹھا کر ان کی طرف نہیں دیکھا جیسے اندھا چھوڑ دیتا ہے (اور نہیں دیکھتا) پس آج تجھے بھی (دوزخ کے اندر ڈال کر) اسی طرح بھلا 1 دیا جائے گا۔
بعض اہل تفسیر کے نزدیک کَذٰلِکَخبر ہے مبتدا محذوف ہے یعنی الامر کذلک (بات یونہی ہے) اس کے بعد اتتک سے جملۂ سابقہ کی علت بیان کی ہے۔
Ayah 20:127وکذلک نجزی من اسرف ولم یومن بایت ربہ ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
اور اسی طرح ہم ہر اس شخص کو جو حد (اطاعت) سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے (اس کے عمل کے مناسب) سزا دیں گے اور واقعی آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بڑا دیرپا ہے۔ اَسْرَفَ حد سے گزر گیا یعنی ناجائز خواہشات میں ڈوب گیا اور آیات الٰہیہ سے منہ پھیرلیا۔ لَمْ یُؤْمِنْ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖیعنی رب کی آیات کی تکذیب کی ‘ ان کو جھوٹا جانا ‘ ان کی مخالفت کی۔ اَشَدُّ وَ اَبْقٰی یعنی تنگی معیشت اور نابینا ہونے سے آخرت میں دوزخ کا عذاب بہت سخت اور بہت زیادہ دیرپا ہے۔
Ayah 20:128افلم یہدلہم کم اہلکنا قبلہم من القرون یمشون فی مسکنہم ان فی ذلک لایت لاولی النہی۔ کیا ان لوگوں کو (اب تک) اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کر چکے
ہیں کہ ان (میں سے بعض) کے رہنے کے مقامات میں یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں یقیناً اہل فہم کے لئے اس میں کھلی ہوئی دلیلیں موجود ہیں۔
کَمْ اَہْلَکْنَا میں کَمْ خبریہ ہے یعنی بہت گروہوں کو۔ یَمْشُوْنَ فِی مَسٰکِنِہِمْاس آیت کا مطلب دو طرح سے بیان کیا گیا ہے ‘ اوّل یہ کہ جملہ حالیہ ہے اور ہُمْضمیر سے حال ہے یعنی مکہ کے کافروں کو اس بات سے بھی ہدایت نہیں ملی کہ بہت سے گزشتہ گروہوں کو ہم نے ہلاک کردیا (ایسی حالت میں) کہ ان کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ گروہ اپنے اپنے مقامات سکونت میں چلتے پھرتے تھے کہ اسی حالت میں ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ (ہم نے ترجمہ اوّل ترکیب کے موافق کیا ہے) ۔ نہی عقلیں (یہ نہیۃ کی جمع ہے۔ مترجم) جو غفلت میں پڑے رہنے اور نابینا بننے سے روکتی ہیں۔
Ayah 20:129ولو لا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی۔ اور اگر آپ کے رب کی طرف
سے ایک بات پہلے (طے شدہ) نہ ہوتی اور (عذاب کے لئے) ایک میعاد معین نہ ہوتی تو عذاب (اسی زندگی میں) لازمی ہوتا۔
کَلِمَۃٌ سَبَقَتْایک بات جو پہلے طے کردی گئی ہے ‘ یعنی یہ پہلے سے اللہ نے طے کردیا ہے کہ اس امت کے کافروں پر عذاب قیامت کے دن ہوگا اور رسول اللہ ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کی وجہ سے کافروں پر بھی اس دنیا میں ایسا عذاب نہیں آئے گا جو ان کی جڑ اکھاڑ کر پھینک دے۔
لَکَانَ لِزَامًا تو ان کافروں کو گزشتہ انبیاء کی کافر امتوں کی طرح بالکل ہلاک کردینا بھی لازم ہوجاتا۔
وَاَجَلٌ مُّسَمًّی اس کا عطف کلمۃ پر ہے یعنی اگر دنیا میں ان کے باقی رہنے کی یا قیامت برپا ہونے کی یا ان کے عذاب کی میعاد ‘ مقرر و معین نہ ہوتی تو عذاب لازم ہوتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کان کے اندر جو ضمیر پوشیدہ ہے۔ اجل مسمی کا اس پر عطف ہو اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا اگر تاخیر عذاب کا پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو دنیا میں فوری عذاب اور وہ عذاب جس کا وقت مقرر کردیا گیا ہے دونوں لازمی ہوجاتے۔
Ayah 20:130فاصبر علی ما یقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبہا
سو آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کیجئے (اس میں نماز بھی آگئی) آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔
ومن انآی الیل فسبح و اطراف النہار لعلک ترضی۔ اور اوقات شب میں بھی پاکی بیان کیجئے
(مثلاً نماز مغرب و عشاء) اور دن کے دونوں طرفوں میں بھی (یعنی اوّل اور آخر) تاکہ (جو ثواب آپ کو ملے) آپ (اس سے) خوش ہوں۔
فَاصْبِرْسے خطاب رسول اللہ ﷺ : کو ہے یعنی کفار کے عذاب کی ایک میعاد مقرر ہے جب وہ دن آئے گا تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے اب جو آپ کے متعلق (دکھ پہنچانے والی) باتیں وہ کرتے ہیں ان پر صبر کیجئے۔ وَسَبِّحْاور پاکی بیان کیجئے یعنی نماز پڑھئے۔ بِحَمْدِ رَبِّکَاللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہ اس نے آپ کو نماز اور تسبیح کی توفیق دی۔ اس فقرے میں گویا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ اگر اللہ کی عبادت کرتا ہے تو مغرور نہ ہوجائے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے عبادت کی توفیق دی اور مدد کی۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُکے بعد اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُسے بھی اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سَبِّحْکے ساتھ جو اس آیت میں بِحَمْدِ رَبِّکَآیا ہے اس سے استنباط کیا جاسکتا ہے کہ نماز میں سورة فاتحہ پڑھنی واجب ہے (کیونکہ سبح سے مراد ہے نماز پڑھو اور بحمد ربک کا مطلب ہے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور سورة فاتحہ سورة الحمد ہی ہے پس دونوں کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ سورة فاتحہ کے ساتھ نماز پڑھو۔ مترجم) شیخین نے صحیحین میں نیز امام احمد نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز نہیں مگر فاتحۃ الکتاب (سورۃ الحمد) کے ساتھ۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں جس نے فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں۔ آیت میں تسبیح کا حمد کے ساتھ اقتران مجمل تھا ‘ لیکن رسول اللہ کے ارشاد مبارک نے آیت کے اجمال کی وضاحت کردی اور آیت کے ساتھ حدیث کو ملانے سے واضح ہوگیا کہ حمد سے (آیت میں) مراد سورة فاتحہ کی قراءت ہے۔ 1 [1 حضرت مفسر قدس سرہ دور از کا تقریر کر کے قرأۃ فاتحہ کا ہر نماز میں وجوب ثابت کردیا اوّل تو بات ناقابل تسلیم ہے۔ کہ سبح سے مراد صرف نماز ہے تسبیح
کا لفظ عام ہے اس میں نماز شامل ضرور ہے صرف نماز ہی مراد ہے یہ ناقابل تسلیم ہے تو کیا جس طرح نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت کو واجب قرار دیا گیا ہے اسی طرح کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہر تسبیح بیان کرنے اور سبحان اللہ پڑھنے کے وقت سورة فاتحہ کی قرأت کا واجب ہونا اس آیت سے مستنبط ہے۔
پھر حدیث میں جو لا صلوٰۃ لمن لم یقرء فاتحۃ الکتاب آیا ہے اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد کمال صلوٰۃ کی نفی ہے کمال شئی کی نفی کو کبھی نفس شئی کی نفی سے تعبیر کرلیتے ہیں اور یہ بات احناف کو بھی تسلیم ہے کہ فضیلت اور کمال صلوٰۃ بغیر قراءت فاتحہ کے حاصل نہیں ہوتا۔ کمال کی نفی حدیث میں مراد لینے کی وجہ یہ ہے کہ آیت قرآنی میں صراحتاً آیا ہے۔ فَاقَرْءُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِاس آیت میں ما کا لفظ عام ہے پس قرآن کا جو حصہ پڑھا جائے گا نماز ہوجائے گی۔ اگر لاصلوٰۃ سے مراد نفی صلوٰۃ ہو تو حکم قرآن اور حدیث میں تعارض و تضاد پیدا ہوجائے۔ والتفصیل فی الفقہ مترجم۔] قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمس یعنی فجر کی نماز۔ قبل غروبہا یعنی عصر کی نماز۔ بعض نے کہا قبل الغروب سے پچھلا دن مراد ہے جس کے اندر ظہر اور عصر دونوں نمازیں آگئیں۔
وَمِنْ اٰنَآءِ الَّیْلِیعنی مغرب و عشاء کی نمازیں۔ انآء بمعنی ساعات یہ انی کی جمع ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس فقرہ میں اللیل سے مراد ہے رات کا اوّل حصہ۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے تہجد بھی مراد ہو کیونکہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور تہجد کی نماز رسول اللہ ﷺ پر واجب تھی۔ و اطراف النہار اس کا قَّبْلَ طُلُوْعِ الشمس پر عطف ہے یہ فجر و عصر کی نمازوں کا مکرر تاکیدی حکم ہے (کیونکہ قبل طلوع الشمس و قبل غروبہا میں نماز فجر و عصر مراد ہے) مزید تاکید اور اظہار خصوصیت کے لئے ان دونوں نمازوں کا مکرر حکم دیا فجر کا وقت میٹھی نیند کا وقت ہوتا ہے اور عصر میں دنیوی کاروبار میں مشغولیت زیادہ ہوتی ہے اس لئے دونوں نمازوں کا حکم تاکید کے ساتھ دیا۔ اسی طرح حافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَۃِ وَالصَّلٰوۃِ الوُسْطٰی میں صلوٰۃ وسطی (عصر) اگرچہ صلوٰۃ کے لفظ میں داخل تھی لیکن تاکید کے لئے اس کا ذکر صراحۃً کردیا یہ بھی ممکن ہے کہ اطراف النہار سے صرف ظہر مراد ہو کیونکہ ظہر کا وقت دن کے نصف اوّل کا اختتام اور نصف دوئم کا آغاز ہوتا ہے پس یہ وقت نصف اوّل کا بھی کنارہ ہے اور نصف دوئم کا بھی۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ آناء الیل سے صلوٰۃ عشاء اور اطراف النہار ظہر و مغرب کی نمازیں مراد ہیں کیونکہ دن کے نصف اوّل کا آخری کنارہ اور نصف دوئم کا ابتدائی کنارہ ظہر ہے پس ظہر طرفین کا مجموعہ ہے دن کا تیسرا کنارہ غروب آفتاب ہے اس وقت مغرب کی نماز پڑھی جاتی ہے یا اطراف النہار دن کے مختلف حصے ہیں اور تسبیح سے مراد نفل نماز ہے۔
لَعَلَّکَ تَرْضٰی یعنی اوقات مذکورہ میں نماز پڑھو تاکہ اللہ کی طرف سے تم کو وہ ثواب مل جائے جس سے تم خوش ہوجاؤ (تمہاری پسند کے مطابق ہو) بعض نے لَعَلَّکَ تَرْضٰیکا مطلب یہ بیان کیا ہے تاکہ تم کو اللہ پسند کرلے جس طرح دوسری آیت میں آیا ہے (کَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِیًّا) بعض نے خوش ہونے سے مراد لیا ہے شفاعت کرنے سے خوش ہونا۔ تم شفاعت (کا حق حاصل ہونے) سے خوش ہوجاؤ (اس وقت لعل کو لکی کے معنی میں لینے کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ لعل اپنے اصلی معنی پر ہی رہے گا ‘ ترجمہ اس طرح ہوگا امید ہے کہ تم شفاعت کرنے کی اجازت پا کر خوش ہوجاؤ گے) یہی مضمون آیت ( وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی) کا ہے۔ شیخین نے صحیحین میں اور چاروں اصحاب السنن نے اور امام احمد نے حضرت جریر بن عبداللہ کا بیان نقل کیا ہے حضرت جریر نے فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا یقیناً تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ جس کو دیکھنے میں تمہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی پس جہاں تک تم سے ہو سکے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے کی نمازیں تمہاری ضائع نہ ہوں (تم مغلوب نہ ہو یعنی کسی اور مشغلہ کا غلبہ نہ ہو کہ تمہاری ان اوقات کی نمازیں مغلوب ہو کر جاتی رہیں) تو ایسا نہ کرو پھر حضور ﷺ نے آیت (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَا۔۔ ) تلاوت فرمائی۔
ابن ابی شیبہ ‘ ابن مردویہ ‘ بزار اور ابویعلی نے حضرت ابو رافع کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مہمان آکر اترا آپ نے مجھے ایک یہودی کے پاس آٹا قرض خریدنے کے لئے بھیجا ‘ دوسری روایت میں آیا ہے اتنا اتنا آٹا۔ یا یہ فرمایا کہ مجھے رجب کا چاند دیکھنے (یعنی پہلی تاریخ) تک کے لئے آٹا دے دو یہودی نے کہا بغیر کسی چیز کو رہن رکھے میں نہیں دوں گا۔ میں نے حاضر خدمت ہو کر یہودی کا جواب عرض کردیا ‘ ارشاد فرمایا اگر وہ میرے ہاتھ بیچ ڈالتا یا فرمایا قرض بیچ ڈالتا تو میں (قیمت) ضرور ادا کرتا اور میں بلاشبہ آسمان میں بھی امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں ‘ جاؤ میری لوہے کی زرہ اس کے پاس لے جاؤ۔ میں حضور ﷺ کے پاس سے باہر نکلنے نہ پایا تھا کہ آیت ذیل نازل ہوئی۔