Ayah 20:39ان اقذ فیہ فی التابوت فاقذفیہ فی الیم فلیلقہ الیم بالساحل یاخذہ عدو لی وعدو لہ
کہ موسیٰ کو ایک صندوق میں رکھ پھر موسیٰ کو (معہ صندوق) دریائے نیل) میں ڈال دے پھر موسیٰ : ( علیہ السلام) کو دریا کنارے پر لے آئے گا (آخرکار) موسیٰ کو ایک ایسا شخص لے لے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے۔
فَلْیُلْقِہٖگو امر کا صیغہ ہے لیکن بمعنی خبر ہے یعنی دریا اس کو لا ڈالے گا۔ بعض نے کہا امر اپنے اصلی معنی پر ہے یعنی اللہ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ صندوق کو کنارہ پر لے جائے۔ دریا صاحب عقل نہیں اس لئے اپنے ارادے سے تعمیل حکم نہیں کرسکتا لیکن یہاں امر تکوینی ہے جس کے لئے ذی عقل ہونے کی ضرورت نہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے دریا کا صندوق کو کنارہ تک لے جانا لازمی امر تھا کیونکہ اللہ کی مشیت یونہی تھی تو گویا دریا کو ایسا قرار دیا کہ وہ امتیاز و فہم رکھتا ہے اور اللہ کے حکم سے آگاہ ہے۔
محقق اہل تصوف کہتے ہیں کہ جمادات ہمارے لحاظ سے ضرور عقل و خرد سے محروم اور بےسمجھ ہیں ہم ان کو خطاب نہیں کرسکتے نہ وہ ہماری بات سمجھ سکتے ہیں لیکن اللہ کے فرمان کو تو خوب سمجھتے اور اطاعت کرتے ہیں اللہ ان کو حکم دے سکتا ہے قرآن مجید کی متعدد آیات صراحۃً اس پر دلالت کر رہی ہیں ایک جگہ فرمایا ہے وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْاور زمین نے اپنے رب کے حکم کو سنا اور ایسا اس کے لئے لازم تھا۔ دوسری آیت میں ہے قالَتَا اَتَیْنَا طَاءِعِیْنَ رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ پہاڑ (دوسرے) پہاڑ کو پکارتا ہے (اور پوچھتا ہے) کیا تیرے اوپر سے کوئی ایسا آدمی گزرا جو اللہ کا ذکر کر رہا ہو فاضل رومی نے کہا خوب کہا ہے۔
خاک و باد آب و آتش بندہ اند پیش تو مردہ و برحق زندہ اند
اللہ نے فرعون کو اپنا دشمن بھی قرار دیا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا بھی فرعون چونکہ مشرک تھا اس لئے اللہ کا دشمن تو درحقیقت تھا ہی لیکن حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو لینے اور اپنے پاس رکھنے کے وقت آپ کا دشمن نہ تھا ‘ آئندہ زمانہ میں دشمن ہونے والا تھا اس لئے موسیٰ کا فرعون کو دشمن کہنا مجازاً ہے اسی لئے عدو کا لفظ الگ الگ دو بار ذکر کیا (اوّل عدو سے مراد حقیقی دشمن اور دوسرے عدو سے مراد آئندہ ہونے والا دشمن ہے) پھر تکرار ذکر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر صرف ایک بار ہی عدو کا لفظ ذکر کیا جاتا اور حقیقی و مجازی دونوں طرح کا دشمن ہونا مراد ہوتا تو ایک ہی وقت میں حقیقی معنی بھی مراد ہوتا اور مجازی بھی اور حقیقت و مجاز صحیح نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تکرار عدو محض مبالغہ کے لئے ہو (یعنی فرعون کا دشمن ہونا پُر زور طور پر ذکر کردیا جائے) اور دونوں جگہ عدو سے مراد ہو آئندہ ہوجانے والا دشمن خدا کا بھی اور موسیٰ کا بھی۔ یا یوں کہا جائے کہ فرعون بہرحال ایک ہی وقت میں خدا کا بھی دشمن تھا اور موسیٰ کا بھی۔ خدا کا دشمن ہونا تو ظاہر ہے وہ مشرک تھا اور موسیٰ کا دشمن اس طور پر تھا کہ کاہنوں اور نجومیوں نے اس سے کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں تیری حکومت ختم ہوجائے گی۔ اسی لئے فرعون نے ہر سال بنی اسرائیل کے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کرانا شروع کردیا تھا لیکن موسیٰ کو (باوجود سخت دشمن ہونے کے) وہ پہچانتا نہ تھا ورنہ فوراً قتل کرا دیتا بہرحال موسیٰ کا وہ دشمن ضرور تھا نہ پہچاننے کی وجہ سے قتل نہیں کرایا تھا۔ چاروں جگہ مفعولی ضمیریں اور پانچویں جگہ لہ کی مجرور ضمیر حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہیں یہ ممکن ہے کہ دوسری تیسری اور چوتھی ضمیریں تابوت کی طرف راجع ہوں اور پہلی اور پانچویں ضمیر موسیٰ کی طرف راجع ہو لیکن اس صورت میں اختلال عبارت اور تنافر ترتیب لازم آئے گا۔ دریا میں اور کنارے پر جس کو براہ راست پھینکا گیا وہ صندوق ہی تھا لیکن حضرت موسیٰ اس کے اندر تھے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ موسیٰ کو (صندوق کے اندر رکھ کر) تو دریا میں پھینک دے اور دریا موسیٰ کو صندوق سمیت کنارے پر لا ڈالے گا۔
بغوی کا بیان ہے حضرت موسیٰ کی والدہ نے ایک صندوق لے کر اس کے اندر دھنی ہوئی روئی بچھائی اور موسیٰ کو اس میں رکھ کر سر پوش ڈھانک کر تمام درزیں اور شگاف روغن قیر سے بند کر کے صندوق کو نیل میں ڈال دیا نیل سے ایک نہر نکل کر فرعون کے مکان کے اندر جاتی تھی صندوق بہتا بہتا اس شاخ میں چلا گیا۔ فرعون اپنی بی بی آسیہ کے ساتھ اس وقت نہر کے دہانے پر بیٹھا تفریح کر رہا تھا کہ بہتا ہوا صندوق اندر آگیا فرعون نے باندیوں اور غلاموں کو حکم دیا کہ اس کو نکال لائیں۔ خادم صندوق کو پکڑ لائے۔ سر پوش کھول کر دیکھا تو اندر سے ایک نہایت شگفتہ رنگ کا خوب صورت بچہ برآمد ہوا ‘ فرعون دیکھتے ہی اس پر فریفتہ ہوگیا اور ایسا بےقابو ہوا کہ ضبط نہ کرسکا ‘ آیت ذیل سے اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
والقیت علیک محبۃ منی اور میں نے تمہارے اوپر اپنی طرف سے ایک اثر محبت ڈال دیا۔ یعنی میں
نے اپنی طرف سے لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی یا یہ مطلب ہے کہ میں نے تجھ پر اپنی محبت ڈال دی۔ تجھ سے محبت کی اور ظاہر ہے کہ جب اللہ نے موسیٰ سے محبت کی تو لوگوں کے دلوں میں بھی آپ کی محبت پیدا ہو ہی گئی حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی تفسیر میں فرمایا ‘ میں نے اس سے محبت کی پس مخلوق کی نظر میں بھی اس کو محبوب بنا دیا۔ عکرمہ نے کہا جو بھی اس بچہ کو دیکھتا تھا پیار کرنے لگتا تھا۔ قتادہ نے کہا موسیٰ : ( علیہ السلام) کی آنکھوں میں عجیب ملاحت تھی کہ جو بھی آپ کو دیکھتا عاشق اور فریفتہ ہوجاتا۔
آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے اپنی طرف سے اپنی محبت تیرے دل میں ڈال دی کہ میری محبت تجھ پر غالب آگئی تو مجھ سے خالص دل سے محبت کرنے لگا تیرا دل میری محبت میں ایسا ہوگیا کہ پھر کسی دوسرے کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں رہی پس تو سر گروہ عشاق ہوگیا۔
شیخ مجدد الف ثانی نے فرمایا کلیم کا مبدء (تعین خالص مُحِبِّیِّتْ (اور عشق) ہے اسی لئے آپ اہل محبت (اور عشاق) کے سالار ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کا مبدء تعین خالص محبوبیت ہے اس لئے آپ محبوبوں کے سرگروہ قرار پائے۔
صوفی بنظر کشف دیکھتا ہے کہ محبت کا ایک دائرہ ہے اس دائرہ کا ایک محیط ہے اور ایک مرکز پھر اس مرکز کا بھی ایک محیط (گرداگرد کا کنارہ ہے) اور ایک وسطی نقطہ۔ پس دائرۂ محبت کے محیط کا نام خلت ہے حضرت خلیل اللہ کا مبدء تعین یہی خلت ہے اور دائرۂ محبت کا مرکز خالص محبت ہے اور یہی محبت کلیم اللہ کا مبدء تعین ہے اور جس طرح مرکز محیط سے افضل اعلیٰ اور وسیع تر ہوتا ہے اسی طرح مقام محبت کو مقام خلت پر فضیلت حاصل ہے مرکز (محبت) کی نسبت محیط (خلت) سے ایسی ہے جیسے چاند کی نسبت اس کے ہالہ سے۔
پھر مرکز کی بھی دو حیثیات ہیں ایک مرکز کا کنارہ اور محیط دوسرا مرکز کا وسطی نقطہ پس مقام محبیت مرکز کا محیط ہے اور یہی کلیم اللہ کا مبدء تعین ہے اور مرکز کا وسطی نقطہ مقام محبوبیت ہے جو حبیب اللہ : ﷺ کا مبدء تعین ہے آپ خالص بےآمیزش محبوبیت کے مرکز دائرہ تھے محیط دائرۂ محبوبیت یعنی مخلوط محبوبیت آپ نے اپنی امت کے بعض افراد کے لئے چھوڑ دی (حضرت مفسر نے مجدد الف ثانی (رح) کو مخلوط محبوبیت کا حامل قرار دیا بلکہ حصر کے ساتھ فرمایا کہ) جس فرد امت کے لئے مخلوط محبوبیت چھوڑی گئی وہ حضرت شیخ مجدد (رح) ہی کی شخصیت گرامی تھی۔
آیت کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہو رہا ہے کہ دریا نے صندوق ساحل پر پہنچا دیا پھر فرعون کے آدمیوں نے اس کو نکال لیا ‘ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا دشمن اور وہ شخص جو ان کے لئے آئندہ غم آفریں بن کر آنے والا تھا ان کے پاس پہنچ گیا۔ دریا کے ساحل سے مراد ہے دریا سے نکلی ہوئی نہر کا کنارہ۔
ولتصنع علی عینی۔ اور تاکہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔ صَنَعْتُ فَرَسِیْمیں نے اپنے گھوڑے کو بنا لیا
یعنی اس کی خوب خدمت اور نگہداشت کی۔ صنع کا معنی ہے حسن سلوک۔
Ayah 20:40اذ تمشی اکتک فتقول ہل ادلکم علی من یکفلہ فرجعنک الی امک کی تقر عینہا ولا تحزن (یہ قصہ اس وقت کا ہے) جب تمہاری بہن چلتی ہوئی آئی پھر کہنے لگی کیا میں تم کو ایسی عورت کا پتہ بتاؤں جو اس
(بچہ) کو (اچھی طرح سے) پالے رکھے اس تدبیر سے ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ رہے۔
یعنی حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی بہن مریم موسیٰ : ( علیہ السلام) کی خبر لینے یونہی چلتی چلتی ادھر بھی آپہنچی جہاں موسیٰ : ( علیہ السلام) کو نوکروں چاکروں نے صندوق سے باہر نکالا اور دودھ پلانے والی عورتوں کو بلوالیا تھا مگر بچہ کسی کا دودھ نہیں پی رہا تھا تو اس نے کہا میں تم کو ایسی عورت کا پتہ بتاتی ہوں جو ذمہ داری کے ساتھ اس کی نگہداشت کرے گی (اور دودھ پلائے گی) منظوری کے بعد وہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کو بلا لائی ماں نے دودھ پلایا تو آپ نے پی لیا اور اس طرح اللہ کا وہ وعدہ پورا ہوا کہ ہم اس کو لوٹا کر تیرے پاس لے آئیں گے۔ ولا تحزن اور وہ تمہاری جدائی سے غمگین نہ رہے یا تم ماں کی محبت نہ پا کر غمگین نہ ہو۔
وقتلت نفسا اور تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا۔ یعنی ایک کافر ظالم قبطی کو قتل کردیا تھا جو ایک اسرائیلی پر ظلم کر رہا تھا
اور اسرائیلی نے موسیٰ سے فریاد کی تھی۔ کذا قال ابن عباس۔ اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کی تھی کذا قال کعب الاحبار۔
فنجینک من الغم پھر ہم نے تم کو اس غم سے نجات دی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) : کو قتل کرنے کے بعد اللہ کے عذاب کا
خوف تھا لیکن اللہ نے (یہ نادانستہ جرم معاف کردیا آپ کو فرعون کی طرف سے انتقام کا بھی ڈر تھا۔ اللہ نے یہ غم بھی دور کردیا کہ مدین کی طرف مصر سے نکال کرلے گیا) ۔
وفتنک فتونا اور ہم نے تم کو خوب خوب محنتوں میں ڈالا۔ فتون بروزن قعود مصدر ہے یا جمع ہے۔ حضرت ابن
عباس ؓ نے آیت کا ترجمہ کیا ہم نے تمہاری خوب آزمائش کی۔ ضحاک نے کہا ہم نے تمہاری خوب جانچ کرلی یہ دونوں ترجمے اس وقت ہوں گے جب فتون کو مصدر اور مفعول مطلق مانا جائے۔ یا یوں ترجمہ کیا جائے گا کہ ہم نے طرح طرح سے تمہارا امتحان لیا۔ اس ترجمہ پر فتون کو فتن کی یا فتنہ کی جمع مانا جائے گا اگر فتنۃ کی جمع مانا جائے گا تو فتنۃ کی آخری تاء کو نظر انداز کردیا جائے گا جیسے حجرہ کی جمع حجور اور بدرۃ کی بدور آتی ہے۔
مجاہد نے ترجمہ کیا ہم نے خالص بنا لیا (یعنی تکلیف اور مشقت ڈال کر تم کو نکھار دیا اور پھر تم کو چن لیا) ۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا کہ فتون سے مراد ہے مصیبتوں میں پڑنا جن سے بالآخر اللہ نے آپ کو نجات عطا فرما دی۔ پہلی مصیبت یہ تھی کہ آپ اس سال ماں کے پیٹ میں آئے جو سال فرعون کی طرف سے نوزائیدہ لڑکوں کے قتل کا تھا۔ دوسری مصیبت یہ ہوئی کہ آپ کو صندوق میں رکھ کر دریا میں پھینک دیا گیا ‘ تیسرا امتحان کا موقع وہ تھا کہ آپ نے ماں کے سوا کسی اور عورت کی پستان منہ میں بھی نہیں لی چوتھا نزول مصیبت کا وقت وہ تھا کہ آپ نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی تھی اور فرعون نے آپ کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن آسیہ کی سفارش سے جب آپ کے پاس ایک طشت میں انگارے اور ایک میں یاقوت لائے گئے تو آپ نے انگارا پکڑ لیا (اور اس طرح فرعون اپنے ارادہ سے باز آیا) پانچویں مصیبت قبطی کو قتل کرنے اور مدین کی طرف بھاگ کھڑے ہونے کی تھی۔ حضرت مفسر نے فرمایا وطن کو چھوڑنے دوستوں عزیزوں سے جدا ہونے پیدل چلنے زاد راہ بھی ساتھ نہ ہونے اور گرفتاری کا ہر وقت اندیشہ ہونے پھر مزدوری کرنے کی پیہم ایک کے بعد دوسری مصیبت آنے اور متعدد دکھ اٹھانے نے موسیٰ کو نکھار دیا تھا جس طرح آگ میں تپانے سے سونا کندن ہوجاتا ہے اس کا میل کچیل صاف ہوجاتا ہے اسی طرح اللہ نے آپ کو بھی پاک صاف کردیا۔
فلبثت سنین فی اہل مدین پھر مدین والوں میں تم (دس) سال رہے حضرت شعیب کی صاحبزادی سے
نکاح کیا اور حسب قرارداد ‘ مہر کے عوض آپ دس سال تک حضرت شعیب کی بکریاں چراتے رہے۔ مدین مصر سے آٹھ منزل پر ہے۔
وہب نے کہا حضرت موسیٰ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے پاس اٹھائیس برس رہے دس سال تو مہر زوجہ کے عوض اور اٹھارہ سال اس کے بعد۔ آپ کی اولاد وہیں ہوئی۔
ثم جئت علی قدر یموسی۔ پھر اے موسیٰ تم ایک خاص وقت پر (وادی مقدس کی طرف) آئے۔ یعنی جو
وقت میں نے تمہارے آنے کا مقدر کردیا تھا اس کے موافق تم یہاں آئے۔ محمد بن کعب نے کہا یا یہ مطلب ہے کہ انبیاء کے پاس وحی بھیجنے کا اندازۂ عمر جو مقرر کردیا گیا ہے تم اس کو پہنچ گئے۔ انبیاء کے پاس وحی چالیس سال کی عمر میں آتی تھی (یعنی اس سے کم عمر میں سوائے حضرت عیسیٰ کے اور کسی کے پاس وحی نہیں آئی۔ مترجم) عبدالرحمن بن کیسان کا بھی یہی قول ہے۔ اکثر اہل تفسیر نے علی قدر کا ترجمہ کیا ہے مقررہ وعدہ پر جو اللہ نے مقدر کردیا تھا کہ اس عمر میں موسیٰ کے پاس وحی رسالت بھیجے گا ‘ یعنی چالیس سال کی عمر ‘ یہ مطلب بھی محمد بن کعب کے بیان کردہ مطلب کی (کسی قدر) تائید کر رہا ہے۔
یّٰمُوْسٰیدوبارہ فرما کر خطاب کرنے سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو مانوس بنانا اور موسیٰ سے اپنی محبت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو جس چیز سے محبت ہوتی ہے اس چیز کا ذکر زیادہ کرتا ہے۔ رواہ صاحب مسند الفردوس من حدیث ام المؤمنین عائشہ ؓ ۔
Ayah 20:41واصطنعتک لنفسی۔ اور میں نے تم کو اپنے لئے منتخب کرلیا یعنی تمہاری تربیت اپنے لئے کی اور اپنے لئے تم کو
چن لیا تاکہ میرے علاوہ تم کسی اور سے دل نہ لگاؤ نہ ظاہر میں نہ باطن میں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تم کو مکارم اخلاق کے لئے بنایا ہے اور اس طرح تربیت دی ہے کہ تم مجھ سے خطاب کرنے میرے قریب آنے اور میرا پیام پہنچانے کے قابل ہوگئے۔
Ayah 20:42اذہب انت واخوک بایتی تم اور تمہارے بھائی میرے (عطاکردہ) نشانات یعنی معجزات کے ساتھ جاؤ
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا آیات سے مراد ہیں وہ نو معجزات جو حضرت موسیٰ کو دیئے گئے تھے۔
ولا تنیا فی ذکری۔ اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرنا (سدی) یا کمی نہ کرنا (محمد بن کعب) قاموس میں
ہے ونی بروزن فتٰی تھکان 1 ۔ سستی۔ یہ وحی حضرت موسیٰ کو ہوئی تھی ‘ حضرت ہارون اس زمانہ میں مصر میں تھے۔ اللہ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ ہارون کے پاس جاؤ ادھر ہارون کو وحی بھیجی کہ تم موسیٰ سے ملو۔ حسب الحکم حضرت ہارون حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے ملنے مصر سے نکل کر ایک منزل آئے تھے کہ ملاقات ہوگئی یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ کے آنے کی اطلاع مل گئی تھی اور آپ استقبال کے لئے مصر سے نکلے تھے۔ جب دونوں جمع ہوگئے تو اللہ نے دونوں کو حکم دیا۔
Ayah 20:43اذہبا الی فرعون انہ طغی۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ (اور اس کو نصیحت کرو) وہ بہت نکل چکا ہے کہ
خدا ہونے کا مدعی بن بیٹھا ہے۔ اللہ نے شروع میں حضرت موسیٰ کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا ‘ پھر دوبارہ دونوں بھائیوں کو ملا کر حکم دیا۔ اس لئے کلام میں تکرار نہیں ہے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ پہلا حکم مطلق تھا اور دوسرا حکم مقید ہے۔ (آگے قید لگا دی ہے کہ نرمی سے کلام کرنا شاید وہ نصیحت قبول کرلے۔۔ ) ۔
Ayah 20:44فقولا لہ قولا لینا پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ بات کرنے میں درشتی
نہ کرنا۔ عکرمہ اور سدی نے کہا (نام نہ لینا بلکہ) کنیت کہہ کر کلام کرنا ‘ فرعون کی کنیت ابوالعباس یا ابوالولید تھی مقاتل نے کہا نرم کلام کرنے سے مراد ہے اس طرح کہنا ہَلْ لَکَ ۔ اِلٰی اَنْ تَزَکّٰی وَاَہْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰیایسا کلام دعوت ایمان ہے مگر بطور مشورہ نرم کلامی کے حکم کی وجہ یہ تھی کہ اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں فرعون پر حمیت جاہلیت سوار نہ ہوجائے اور وہ دونوں پر حملہ نہ کر بیٹھے (اور بات بھی نہ سنے) بعض نے کلام میں نرمی اختیار کرنے کے حکم کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ فرعون کے زیر پرورش موسیٰ رہ چکے تھے اس کو حق تربیت حاصل تھا۔ سدی نے کہا نرم کلام یہ تھا کہ حضرت موسیٰ نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ اگر تم ایمان لے آئے تو تم کو دوبارہ ایسی جوانی مل جائے گی جو کبھی پیری میں تبدیل نہیں ہوگی اور مرتے دم تک تمہاری حکومت قائم رہے گی اور کھانے پینے کی لذت اور صنفی مقاربت کی کیفیت وقت موت تک تم کو حاصل ہوتی رہے گی اور مرنے کے بعد جنت ملے گی۔ فرعون کو موسیٰ کی یہ بات پسند آئی لیکن ہامان کے مشورے کے بغیر وہ کوئی بات طے نہیں کرتا تھا۔ ہامان اس وقت موجود نہ تھا جب آیا اور فرعون نے اس سے موسیٰ کی باتیں نقل کیں اور مشورہ لیا اور قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ہامان نے کہا ‘ میں آپ کو دانشمند اور صاحب رائے سمجھتا تھا ‘ آپ رب ہو کر کیا مربوب بننا چاہتے ہیں اب تک آپ کی پوجا ہوتی ہے تو کیا اب آپ دوسرے کی عبادت کرنے کے خواستگار ہیں ‘ غرض ہامان نے فرعون کی رائے پلٹ دی۔
لعلہ یتذکر او یخشی۔ شاید وہ (برغبت) نصیحت پذیر ہوجائے یا (عذاب خداوندی سے) ڈر جائے۔ یعنی اگر
تم دونوں کی سچائی اس پر ظاہر ہوگئی تو شاید نصیحت مان لے اور سچائی ظاہر نہ ہوئی اور نصیحت پذیر نہ ہوا تب بھی کم سے کم اتنا تو شاید ہوجائے کہ وہ ڈر جائے ‘ اللہ کو تو کوئی شک نہ تھا اس کو معلوم ہی تھا کہ فرعون نصیحت پذیر نہ ہوگا۔ یہ شک کا لفظ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے اپنے علم کی مناسبت سے استعمال کیا یعنی تم دونوں امید رکھو کہ شاید وہ مان لے۔
Ayah 20:45قالا ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) نے کہا اے ہمارے رب ہم کو
اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی نہ کر بیٹھے یا یہ کہ زیادہ شرارت نہ کرنے لگے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اَنْ یَفْرُطَ عَلَیْنَاکا یہ مطلب ہے کہ تکمیل دعوت اور اظہار معجزات سے پہلے ہی کہیں وہ ہم کو قتل کرنے اور عذاب دینے کا حکم نہ دے بیٹھے۔
عربی محاورہ میں فَرَطَ عَلَیْہِکا معنی ہوتا ہے دکھ پہنچانے میں عجلت کی۔ اصل میں فَرَطَکا معنی ہے آگے بڑھ گیا فارِطٌآگے بڑھنے والا۔
اَوَْ ان یَّطْغٰیکا یہ مطلب ہے کہ کہیں وہ اور زیادہ سرکش نہ ہوجائے ‘ تیری شان میں مزید گستاخی کرنے لگے اور تیرے بندوں کو زیادہ دکھ پہنچانا شروع کر دے۔
Ayah 20:46قال لا تخافا اننی معکما اللہ نے فرمایا ‘ تم دونوں (کچھ) اندیشہ نہ کرو میں تم دونوں کے ساتھ یقینا ہوں ‘ یعنی میری حفاظت اور مدد تمہارے ساتھ ہے۔
اسمع واری۔ میں (تمہاری پکار کو) سنوں گا اور (جو حرکت تمہارے ساتھ کرنے کا ارادہ کیا جائے گا اس کو) دیکھتا
رہوں گا ‘ یعنی میں تم دونوں سے غافل نہیں ہوں تم پروانہ کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے اور فرعون کے درمیان کیا گفتگو ہوگی کیا عمل اور سلوک ہوگا۔ بہرحال میں اس کو سنوں گا اور دیکھوں گا اور تمہاری مناسب مدد کروں گا تم پر دکھ نہ آنے دوں گا۔
Ayah 20:47فاتیہ فقولا انا رسولا ربک فارسل معنا بنی اسراء یل ولا تعذبہم سو تم اس سے جا کر
کہو کہ ہم دونوں تیرے رب کے فرستادے ہیں لہٰذا ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے اور ان کو تکلیفیں مت پہنچا۔
اِنَّا رَسُوْلاَ رَبِّکَہم دونوں تیرے رب کے فرستادے ہیں یعنی ہم کو تمہاری طرف بھی بھیجا گیا ہے اور بنی اسرائیل کی طرف بھی۔
فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِی اِسْرَآءِ یْلَیعنی ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو ملک شام کو چلے جانے دے ان کو اپنی عملداری سے آزاد کر دے اور اپنے کاموں کے بار سے سبکدوش کر دے اور اپنی عبادت پر مجبور نہ کر اللہ کی عبادت آزادی کے ساتھ کرنے دے۔
وَلاَ تُعَذِّبْہُمْیعنی ان کو سخت تکلیفیں اور دکھ نہ دے فرعون بنی اسرائیل سے دشوار ترین مشقت کے کام لیا کرتا تھا۔
قد جئنک بایۃ من ربک ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے (اپنی نبوت کا) نشان یعنی معجزہ بھی
لے کر آئے ہیں اوپر کے کلام کے اندر رسالت کا دعویٰ بھی ضمناً مذکور تھا اس آیت سے دعوئے رسالت کی تائید ہو رہی ہے۔ معجزے تو دو تھے لیکن دو نشانیاں کہنا چاہئے تھا ‘ لیکن آیت سے مراد اس جگہ فقط ثبوت اور دلیل ہے ‘ دلیل کی وحدت و کثرت کا بیان پیش نظر نہیں۔ اسی طرح آیت قَدْ جِءْتُکُمْ بِبَیِّنَۃٍاور آیت فَأْتِ بِاٰیَۃٍمیں نفس ثبوت مراد ہے ‘ میں واضح دلیل تمہارے پاس لایا ہوں ‘ تم کوئی دلیل پیش کرو۔
والسلم علی من اتبع الہدی۔ اور جو سیدھی راہ پر چلے اس کے لئے سلامتی ہے (عذاب سے دونوں جہان
میں) یا یہ مطلب ہے کہ جو سیدھی راہ پر چلے اس پر سلام ہوگا۔ میری طرف سے اور ملائکہ کی طرف سے اور جنت کے کارندوں کی طرف سے۔
Ayah 20:48انا قد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی۔ ہمارے پاس یہ حکم (بذریعۂ وحی) پہنچا
ہے کہ (اللہ کا عذاب) اس شخص پر ہوگا جو (حق کو) جھٹلائے اور (اس سے) روگردانی کرے۔ الْعَذَاب دنیا اور آخرت میں اللہ کا عذاب۔ مَنْ کَذَّبَجس نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ تَوَلّٰیاللہ کو ماننے اور اس کی عبادت کرنے سے پشت پھیری۔ یعنی انکار کیا مترجم) یہ کلام حضرت موسیٰ کے رسول ہونے کی علت ہے یا ذیلی تتمہ ہے ‘ حضرت مفسر نے فرمایا یا اِنَّا رَسُوْلاَ رَبِّکَسے بدل ہے رفتار آیت سے یہی معلوم ہو رہا ہے۔
Ayah 20:49قال فمن ربکما یموسی۔ فرعون نے کہا موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے۔ جس نے تم دونوں کو بھیجا ہے۔
چونکہ اصل مخاطب موسیٰ ہی تھے اس لئے لفظ نداء (یا) صرف موسیٰ پر داخل کیا لیکن پیغامبر ہونے کا دعویٰ دونوں کا تھا اس لئے تثنیہ مخاطب کی ضمیر ذکر کی۔ موسیٰ کے وزیر ہارون ( علیہ السلام) تھے۔ پھر تعلق قدیم تربیت کا بھی موسیٰ سے ہی تھا ‘ یا فرعون گفتگو سے سمجھ گیا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کا بھائی تو بیان کے ساتھ ہے مرکز گفتگو موسیٰ ہیں۔
Ayah 20:50قال ربنا الذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ہدی۔ موسیٰ نے کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے
مناسب بناوٹ عطا فرمائی پھر اس کو راستہ دکھایا۔ حسن اور قتادہ نے کہا اللہ نے ہر چیز کو اس کی بھلائی اور بہتری کا سامان عطا فرمایا پھر اس کو اس چیز کے حصول کا جس میں اس کی بھلائی ہے راستہ بتادیا۔
مجاہد نے آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا اللہ نے ہر چیز کو اس کے مناسب صورت عطا فرمائی آدمی کی شکل جانوروں جیسی اور جانوروں کی شکل انسان جیسی نہیں بنائی پھر کھانے پینے اور قربت صنفی کرنے کی طرف اس کی راہنمائی کی۔
سعید بن جبیر نے کہا خلق سے مراد ہے ہر چیز کو اس کا ہم جنس جوڑا دیا مرد کو عورت اونٹ کو اونٹنی ‘ گدھے کو گدھی اور گھوڑے کو گھوڑی۔ پھر صنفی قربت کا طریقہ اس کو فطرتاً بتادیا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ آیت میں اوّل مفعول کو دوئم مفعول اور دوسرے مفعول کو اوّل مفعول کی جگہ دی ہے ‘ مطلب آیت یہ ہے کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو ہر وہ چیز عطا فرما دی جس کی اس کو ضرورت تھی اور جو اس کے کام آسکتی تھی پھر اس کو وہ طریقہ بتادیا جس سے وہ منفعت اندوز ہو سکے اور اپنی ہستی کی بقاء اور تکمیل تک بالارادہ یا بلا اختیار پہنچ سکے۔ بیضاوی نے لکھا ہے یہ توجیہ بہت ہی بلیغ ہے اس سے ہر مخلوق کی پوری حالت کا اظہار ہے مخلوق کوئی ہو ‘ (جاندار یا بےجان جامد یا نامی ذی حس یا بےحس۔ مترجم) اس کی کیفیت و حالت (تخلیقی) کو ظاہر کردیا اور یہ بات بھی بیان کردی کہ بےنیاز قادر مطلق اور ہر نعمت دینے والا اللہ ہی ہے اور ہر چیز اپنی ذات ‘ صفات اور افعال میں اسی کی محتاج ہے۔ اسی لئے فرعون متحیر ہو کر لاجواب ہوگیا اور کلام کا رخ اس نے پھیر دیا اور۔
Ayah 20:51قال فما بال القرون الاولی۔ اس نے کہا پھر اقوام سابقہ کا کیا حال ہوا یعنی قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود اور دوسری اقوام پارینہ کا کیا ہوگا جو بت پرست اور منکر قیامت تھیں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا (کیا ان کے عقائد افکار اقوال و اعمال ان کے ساتھ نہیں مرگئے اب وہ کہاں اور ان کے عقائد و اعمال کہاں ہیں)
Ayah 20:52قال علمہا عند ربی فی کتب لا یضل ربی ولا ینسی۔ موسیٰ نے کہا ان کا علم میرے رب کے
پاس دفتر (اعمال) میں (محفوظ) ہے میرا رب نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے ان کا علم یعنی ان کے اعمال و احوال کا علم۔ کتاب سے مراد ہے لوح محفوظ۔ ضلال کسی چیز کی جگہ کا فراموش ہوجانا کہ اس کی جگہ نہ مل سکے۔ نسیان نفس چیز کو بالکل بھول جانا کہ اس کا تصور بھی دل میں نہ آئے۔ اللہ کے لئے دونوں ناممکن ہیں اللہ کسی چیز یا اس کی جگہ سے غافل نہیں ہے (اس کو معلوم ہے کہ فلاں فلاں چیز فلاں فلاں جگہ ہے) ۔
بعض علماء نے کہا لا یضل کا معنی یہ ہے کہ نہ کوئی چیز رب سے غائب ہے نہ رب کسی چیز سے غیر حاضر اور لا ینسی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے احوال کو اللہ بھولتا نہیں ہے اس کو سب کے احوال معلوم ہیں مراد یہ ہے کہ ہمارا رب ان کو ہر عمل کا بدلہ دے گا اچھے عمل کا اچھا بدلہ۔ برے عمل کا برا بدلہ۔
Ayah 20:53الذی جعل لکم الارض مہدا و سلک لکم فیہا سبلا وہ رب ایسا ہے جس نے تم لوگوں کے لئے
زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا اور اس (زمین) میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے۔
سلوک راستہ میں چلنا۔ لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی۔ اللہ نے فرمایا ہے لِتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلاً فِجَاجًا۔ قاموس میں ہے سَلَکَ الْمَکَانَ سُلُوْکًاوہ اس جگہ چلا۔ سَلَکَہٗ غَیْرُہٗکسی دوسرے نے اس کو چلایا ‘ اوّل مثال لازم کی ہے اور دوسری متعدی کی۔ آیت میں متعدی استعمال کیا گیا ہے سُبُلاً گو ظرف ہے لیکن مفعول بہ کے طور پر مجازاً اسعمال کیا گیا ہے جس طرح مجازاً بہنے کی نسبت نہر (شگاف ‘ گڑھا ‘ خندق) کی طرف کردی جاتی ہے مثلاً کہتے ہیں نہر بہنے لگی حالانکہ پانی بہتا ہے نہر تو اس جگہ کو کہتے ہیں جس میں پانی بہتا ہے۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پہاڑوں وادیوں اور صحراؤں کے اندر زمین پر تمہارے لئے راستے بنا دیئے جن پر تم چلتے ہو راستہ پر چل کر زمین کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ کی طرف جاتے ہو ‘ حضرت ابن عباس نے آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ نے زمین میں تمہارے لئے راستے آسان کردیئے اس قول کا بھی وہی مطلب ہے جو ہم نے ابھی بیان کیا۔
بغوی نے کہا سلک کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز میں داخل کرنا (پرونا۔ چلانا) مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے زمین میں راستے داخل کردیئے تاکہ تم ان پر چلو آیت میں آیا ہے۔ مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرٍکس چیز نے تم کو دوزخ میں داخل کردیا۔ چلا دیا۔ وانزل من السمآء مآء فاخرجنا بہ ازواجا من نبات شئی۔ اور اس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے پانی کے ذریعے سے مختلف اقسام کے نباتات پیدا کئے
Ayah 20:54کلوا وارعوا انعامکم اور تم کو اجازت دی کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ۔
اَزْوَاجًا قسم قسم کی ‘ طرح طرح کی اصناف۔ مَآءًسے مراد بارش۔ شَتّٰیکا واحد شَتِیْتٌ ہے جیسے مرضی مریض کی جمع ہے۔ شتی یعنی مختلف اور متفرق صورتوں اور خواص و احوال والی جن کے منافع بھی مختلف ہیں کوئی انسان کے لئے مناسب ہے کوئی چوپایوں اور چرندوں کے لئے اَرْعَوْا رَعٰیسے بنا ہے رعی لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی (چرو اور چراؤ) عرب بولتے ہیں رَعَیتُ الْقَوْمَمیں نے قوم کی حفاظت اور نگہداشت کی۔ فَرَاعَتْ پس وہ محفوظ ہوگئی۔ اس جگہ جانوروں کو چرانے کا مفہوم ہے اور امر کا صیغہ اباحت کے لئے ہے یعنی کھانا اور جانوروں کو چرانا تمہارے لئے ممنوع نہیں ہے اس سے نعمت کی یاد دہانی مقصود ہے۔
بعض اہل تفسیر نے کہا ہے ماءا تک حضرت موسیٰ کا کلام ختم ہوگیا یعنی موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ اللہ نے بادل سے پانی برسایا پھر فاخرجنا سے اللہ نے خود اپنی طرف سے فرمایا کہ ہم نے پانی سے طرح طرح کا سبزہ پیدا کیا اور اس میں اہل مکہ کو مخاطب فرمایا ‘ اس سے موسیٰ کے اس کلام کی بھی تکمیل ہوگئی جو اللہ نے نقل کیا تھا۔
زیادہ ظاہر اور صحیح یہ ہے کہ یہ سب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ہی کلام ہے جو اللہ نے نقل فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اللہ نے بادل سے پانی نازل فرمایا اور احسان و انعام کے طور پر فرمایا کہ ہم نے اس پانی سے طرح طرح کی سبزیاں تمہارے اور تمہارے جانوروں کے لئے پیدا کی ہیں ‘ سو تم بھی کھاؤ اور جانوروں کو بھی کھلاؤ یعنی اس کا شکر کرو۔
ان فی ذلک لایت لاولی النہی۔ ان سب چیزوں میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ یعنی
زمین کو فرش کی طرح بنانے میں بادلوں سے پانی برسانے میں اور پانی سے طرح طرح کا سبزہ پیدا کرنے میں بڑی بڑی بکثرت نشانیاں ہیں جو خالق کی ہستی کو اس کے لم یزال ہونے کو ‘ اس کے علم کی ہمہ گیری اور قدرت کے محیط کل ہونے کو ‘ اس کے جامع کمالات اور منزہ از نقائص ہونے کو بتارہی ہیں لیکن عظمت ربوبیت و الوہیت کے یہ نشانات صرف دانشمندوں کے لئے ہیں۔
اَلنُّہٰی نُہْیَۃٌکی جمع ہے نَہْیَّۃٌ عقل کو کہتے ہیں نُہْیَۃ (روکنے والی) عقل بھی انسان کو بری اور ضرر رساں اور غلط باتوں سے روکتی ہے اس لئے عقل کو نہیہ کہتے ہیں۔
Ayah 20:55منہا خلقکم ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا۔
وفیہا نعیدکم اور (مرنے کے بعد) اسی میں ہم تم کو (لوٹا کر) لے جائیں گے۔
ومنہا نخرجکم تارۃ اخری۔ اور (قیامت کے دن) پھر اسی سے دوبارہ تم کو نکالیں گے۔
یعنی تمہارے باپ آدم کو اور تمہارے جسمانی مادہ کو ہم نے زمین کی مٹی سے بنایا نطفہ غذا سے پیدا ہوتا ہے۔ پس ہر آدمی کے مادۂ تخلیق کی پیدائش زمین سے ہی ہوتی ہے۔ بغوی نے عطاء خراسانی کا قول نقل کیا ہے کہ جس جگہ آدمی دفن ہونے والا ہوتا ہے اسی جگہ کی مٹی فرشتہ لے کر نطفہ پر چھڑکتا ہے پھر اس نطفہ اور مٹی سے آدمی کا جسم بنتا ہے عطاء کے قول کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی ناف میں وہ مٹی ضرور ہوتی ہے جس سے اس کی پیدائش ہوتی ہے پھر جب وہ اپنی بدترین عمر (بڑھاپے) کو پہنچ جاتا ہے تو جس مٹی سے اس کی تخلیق ہوتی ہے اسی کی جانب لوٹا دیا جاتا ہے اور اسی میں دفن کیا جاتا ہے میں اور ابوبکر اور عمر ایک ہی مٹی سے بنائے گئے ہیں اور اسی میں دفن کئے جائیں گے ‘ یہ حدیث خطیب نے بیان کی ہے اور اس کو غریب کہا ہے اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ شیخ میرزا محمد حارثی بدخشانی نے کہا کہ حضرت ابن عمر ؓ ‘ ابن عباس ؓ ابو سعید خدری ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے اس حدیث کے تائیدی اقوال (شواہد) منقول ہیں جن میں سے ایک دوسرے کی تائید کر رہا ہے اس لئے یہ حدیث حسن ہے اس حدیث کی تقویت مندرجۂ ذیل اقوال و روایات سے بھی ہوتی ہے۔
عینی نے صحیح بخاری کی شرح میں کتاب الجنائز میں لکھا ہے کہ محمد بن سیرین نے فرمایا اگر میں قسم کھا کر کہوں تو میری قسم جھوٹی نہ ہوگی نہ مجھے اس میں کوئی شک ہے نہ استثناء کرتا ہوں کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ : کو اور ابوبکر کو اور عمر کو ایک ہی مٹی سے بنایا تھا۔
ابن عساکر نے کہا حضرت عبداللہ بن جعفر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھے مبارک اور خوشگوار ہو کہ تو میرے خمیر سے پیدا کیا گیا اور تیرا باپ ملائکہ کے ساتھ آسمان میں اڑتا ہے۔
مسند الفردوس میں دیلمی نے اور ابن النجار نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (باندی غلام کو) آزاد کرنے والے کا خمیر میری مٹی کا ہے شاید حضور ﷺ نے یہ ارشاد کسی آزاد کرنے والے سے فرمایا تھا ‘ مذکورۂ بالا احادیث اور عطاء کی تفسیر مذکور سے یہ بات خوب واضح ہوجاتی ہے کہ بعض آدمیوں کی تخلیق انبیاء کے خمیر سے ہوتی ہے صوفیوں کی اصطلاح میں اس کو اصالۃ الطینۃ کہتے ہیں بلکہ بعض کی تخلیق رسول اللہ ﷺ : کی مٹی سے بھی خصوصیت کے ساتھ ہوئی ہے (اور ہوتی ہے) اصطلاح صوفیہ میں یہ اصالت کبریٰ ہے۔
میں کہتا ہوں اللہ نے جس روز آسمان و زمین کو پیدا کیا اسی روز زمین کے بعض اجزاء کو بعض انسانوں کی اور بعض اجزاء کو دوسرے انسانوں کی تخلیق کے لئے تیار کردیا (غرض ہر حصۂ زمین میں مختلف اشخاص کو پیدا کرنے کی صلاحیت و استعداد رکھ دی) جس مٹی میں کسی پیغمبر کی تخلیق کی صلاحیت رکھی تو جو انوار و برکات اور تجلیات ذاتیہ اس پیغمبر کے لئے مخصوص کردی گئی تھیں شاید ان انوار و برکات کا نزول اس حصۂ زمین پر بھی مسلسل ہوتا رہا جس سے اس نبی کی تخلیق ہونی تھی تاکہ نبی کے مبارک جسم کا خمیر اس مٹی سے ہو سکے اس کے بعد جب جسم نبی کی تخمیر ہوچکی تو اس مبارک مٹی کا کچھ حصہ باقی رہنا ناممکن نہ تھا پس ہوسکتا ہے کہ تخمیر نبی سے جو حصہ بچ رہا ہو اس سے کسی دوسرے کی تخلیق کردی جائے اس طرح خمیر نبوت کی برکت غیر نبی میں پیدا ہوجائے درخت کھجور والی حدیث سے اس طرف اشارہ ملتا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنی پھوپھی یعنی درخت کھجور کی عزت کرو ‘ اس کی تخلیق تمہارے باپ آدم کے خمیر سے پس ماندہ مٹی سے ہوئی ہے اللہ کے نزدیک کوئی درخت اس درخت سے زیادہ عزت والا نہیں جس کے نیچے مریم بنت عمران کے بطن سے لڑکا پیدا ہوا تھا تم اپنی عورتوں اور بچوں کو کھجوریں کھلاؤ اور کھجوریں نہ ملیں تو چھوارے دو ۔ یہ حدیث ابو یعلی موصلی نے مسند میں ابو نعیم نے الطب میں بخاری نے تاریخ میں نیز ابن ابی حاتم اور عقیلی اور ابن عدی اور ابن السنی اور ابن مردویہ نے حضرت علی کی روایت سے بیان کی ہے۔
ابن عساکر نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا درخت کھجور اور انار اور انگور کی تخلیق آدم کے خمیر کے پس ماندہ حصہ سے ہوئی ہے۔
شیخ احمد مجدد الف ثانی نے اپنے مکتوبات کی تیسری جلد کے ننانویں مکتوب میں اپنے کشف سے اصالت کبریٰ کا دعویٰ کیا ہے اس دعوے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا خواہ نادانی کی وجہ سے یا جذبۂ عناد کی کارفرمائی سے۔ واللہ اعلم۔
تَارۃً کا معنی ہے وقت یا باری۔
قیامت کے دن دوبارہ زمین سے برآمد کرنے کا معنی یہ ہے کہ جسم کے پراگندہ اجزاء جو مٹی میں مخلوط ہوچکے ہوں گے پھر از سر نو ان کو جمع کر کے جوڑا جائے گا اور سابق صورت پہنائی جائے گی اور پھر ان کے اندر ارواح کو واپس لایا جائے گا۔
Ayah 20:56ولقد ارینہ ایتنا کلہا فکذب وابی۔ اور ہم نے اس کو اپنی (وہ) ساری نشانیاں دکھائیں لیکن اس نے
(سب کو) جھٹلایا اور (ماننے سے) انکار کردیا۔
اَرَیْنٰہُکا ترجمہ ہے ہم نے اس کو چشم دید کرا دیں یا ان کی صحت اس کو بتادی۔ اٰیٰتِنَاسے مراد ہیں وہ نو معجزات جو حضرت موسیٰ کو دیئے گئے تھے آپ نے وہ سارے معجزات دکھائے۔ فَکَذَّبَپس فرعون نے موسیٰ کو محض عناد کی وجہ سے جھٹلایا اور آپ کو جادوگر کہا۔ وابی اور ایمان و اطاعت سے انکار کیا۔
Ayah 20:57قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسی۔ کہنے لگا موسیٰ کیا تو اس لئے ہمارے پاس
آیا ہے کہ ہم کو ہماری سرزمین (مصر) سے اپنے جادو (کے زور) سے نکال کر باہر کر دے۔ یعنی کیا تو یہ چاہتا ہے کہ ہم کو نکال کر ہمارے ملک پر تو قبضہ کرلے اور یہاں تیری حکومت ہوجائے۔
Ayah 20:58فلناتینک بسحر مثلہ فاجعل بیننا وبینک موعدا لا نخلفہ نحن ولا انت مکانا سوی۔
سو اب ہم بھی تیرے مقابلہ میں ایسا ہی جادو لائیں گے لہٰذا ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کرلے جس کے خلاف نہ ہم کریں نہ تو۔ کسی ہموار میدان میں 1 (مقابلہ کریں گے تاکہ سب دیکھ لیں ) ۔
لاَّ نُخْلِفُہٗیعنی ہم اس وعدے کے خلاف نہ کریں موعد بمعنی وعدہ۔ موعد اس جگہ ظرف زمان یا مکان نہیں ہے کیونکہ خلاف ورزی کا تعلق وعدے سے ہوتا ہے زمان و مکان سے نہیں ہوتا۔ سویٰ کا ترجمہ قتادہ اور مجاہد نے کیا برابر۔ یعنی ہمارے تمہارے درمیان مسافت برابر ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ : کا قول بھی ایک روایت میں یہی آیا ہے۔ کلبی نے کہا سوی یعنی اس جگہ کے علاوہ کوئی دوسرا مقام (جو ترجمہ ہم نے کیا ہے وہ مولانا تھانوی نے لکھا ہے اور صحیح ترین معلوم ہوتا ہے) ۔
Ayah 20:59قال موعدکم یوم الزینۃ وان یحشر الناس ضحی۔ موسیٰ نے کہا تمہارے مقابلہ کے وعدے
کا وقت وہ دن ہے جس میں (تمہارا) میلہ ہوتا ہے (یعنی تمہارے تیوہار کا دن) اور جس دن چڑھے لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔
مَوْعِد (ظرف مکان) وعدے کی جگہ یعنی تمہارے مقابلہ کے وعدہ کی جگہ تیوہارے والے دن کا مقام ہے۔ میلہ کا دن سب لوگ جانتے تھے جس میں لوگ جمع ہوتے تھے۔ مجاہد قتادہ مقاتل اور سدی نے کہا مصر والوں کا ایک تیوہار سالانہ ہوتا تھا جس میں لوگ آراستہ پیراستہ ہو کر میلہ کی شکل میں جمع ہوتے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں مصریوں کے تیوہار کا دن نوروز کا ہوتا تھا ‘ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر نے فرمایا محرم کی دس تاریخ کو وہ تیوہار مناتے تھے۔ میلہ کا دن حضرت موسیٰ نے اس لئے مقرر کیا کہ تمام لوگوں کے سامنے حق کا ظہور ہوجائے اور باطل کو شکست ہوجائے اور اس طرح اطراف ملک میں یہ خبر پھیل جائے۔
ضُحًیچاشت کے وقت دن چڑھے تاکہ سب لوگ دیکھ لیں اور کسی کو شک نہ رہے۔
Ayah 20:60فتولی فرعون فجمع کیدہ ثم اتی۔ غرض اس گفتگو کے بعد فرعون (دربار سے) لوٹ گیا پھر اپنا مکر
(کا سامان) جمع کرنا شروع کیا (یعنی جادو کا سامان) پھر وعدہ پر آگیا۔
کَیْدَ (مکر ‘ تدبیر) سے مراد ہیں جادوگر اور ان کے آلات و سامان۔
اَتٰی یعنی مقررہ وعدہ پر مقام مقررہ پر پہنچ گیا۔
Ayah 20:61قال لہم موسیٰ ویلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقد خاب من افتری
موسیٰ نے ان (جادوگروں) سے کہا ارے کم بخت مارو اللہ پر جھوٹ نہ تراشو کبھی وہ تم کو کسی قسم کی سزا سے بالکل نیست و نابود ہی کر دے اور جو دروغ تراشی کرتا ہے (آخر کو) ناکام رہتا ہے۔
لَہُمْ یعنی فرعون اور اس کے ساتھی جادوگروں سے موسیٰ نے کہا۔ بغوی نے لکھا ہے صرف جادوگروں کی طرف ضمیر راجع ہے جن کو فرعون نے (اطراف ملک سے) جمع کیا تھا یہ بہتر تھے اور ہر ایک کے پاس ایک لاٹھی اور ایک رسی تھی۔ کعب نے ان کی تعداد چار سو بتائی ہے بعض نے بارہ ہزار بلکہ اس سے زائد بھی کہا ہے۔
وَیْلَکُمْویل ہلاکت ‘ یعنی اللہ نے ہلاکت تم پر لازم کردی ہے یا وَیْلَفعل محذوف کا مفعول مطلق ہے ‘ یعنی تم ہلاک ہوچکے یا جملہ ندائیہ ہے جس کے مطابق ہم نے ترجمہ کیا ہے یا جملہ دعائیہ ہے تمہارا ستیاناس ہو بری حالت کے اظہار کے لئے ممانعت افتراء سے پہلے بطور تمہید یہ جملہ ذکر کیا۔
جھوٹ تراشنے سے مراد ہے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا۔
اِسحاتٌاور سَحْتٌ (ثلاثی مزید و مجرد) ہم معنی ہیں اہل نجد و بنی تمیم اسحات بولتے ہیں اور حجاز والے سحت کہتے ہیں۔ مقاتل اور کلبی نے یُسْحِتکُمْکا ترجمہ کیا وہ تم کو ہلاک کر دے قتادہ نے کہا وہ بیخ و بن سے تم کو اکھاڑ پھینکے بِعَذَابٍ (میں تنوین عظمت کو ظاہر کر رہی ہے) یعنی کسی بڑے عذاب کے ساتھ۔ خاب ناکام ہوا ‘ نامراد ہوا ‘ مقصد کو نہ پاسکا۔
واقعہ بھی ایسا ہوا جیسا حضرت موسیٰ نے فرمایا تھا ‘ فرعون نے اللہ پر دروغ تراشی کی اور اپنی حکومت و خدائی کو محفوظ رکھنے کی ہر تدبیر کر گزرا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا ہر تدبیر میں نامراد رہا۔
Ayah 20:62فتناعوا امرہم بینہم یہ بات سن کر وہ (یعنی جادوگر) باہم اپنی رائے میں اختلاف کرنے لگے۔ یا تنازعوا
کی جگہ ضمیر فرعون اور اس کے مشیروں کی طرف راجع ہے یعنی فرعون اور اس کے ساتھی (یاجادوگر) اس معاملہ میں مختلف الرائے ہوگئے کہ موسیٰ کا مقابلہ کرنا چاہئے یا نہیں۔ محمد بن اسحاق نے کہا جب حضرت موسیٰ نے ان کو مذکورۂ بالا نصیحت کی تو جادوگروں نے باہم کہا یہ کلام تو جادوگر کا نہیں ہے۔
واسروا النجوی۔ اور خفیہ گفتگو کرتے رہے۔
نجوی اسم ہے یا ناجَیْتُہ ( علیہ السلام) کا مصدر ہے ناجَیْتُکا معنی ہے میں نے اس سے خفیہ بات کی۔ نجوی کا اصل ماخذ نجوۃ ہے نجوۃ کا معنی ہے وہ ابھرا ہوا ٹیلہ جو بلندی کی وجہ سے الگ تھلگ معلوم ہو رہا ہو۔ بعض نے اصل ماخذ نجات کو قرار دیا ہے ‘ نجات کا معنی ہے رہائی یعنی ایسا باہمی مشورہ جس میں سب کی خلاصی اور بچاؤ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ آپس کے نزاع اور اختلاف رائے کو انہوں نے پوشیدہ رکھا۔ کلبی نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ انہوں نے اس مشورہ کو چھپائے رکھا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) ہم پر غالب آگئے تو ہم ان کا اتباع کرلیں گے۔
Ayah 20:63قالوا ان ہذن لسحرن یریدن ان یخرجکم من ارضکم بسحرہما ویذہبا بطریقتکم المثلی۔ (آخرکار سب متفق ہو کر) کہنے لگے کہ بیشک یہ دونوں جادوگر ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو کے
زور سے تم کو تمہاری سرزمین سے نکال کر باہر کردیں اور تمہارے اعلیٰ (مذہبی) طریقے کو ختم کردیں۔
قَالُوْا یعنی اختلاف رائے کے بعد آخر متفق ہو کر کہنے لگے یہ قول فرعون کا تھا (دوسرے لوگوں کو اس نے اس قول پر متفق بنا لیا تھا اس لئے سب کا قول ہوگیا۔ مترجم) غرض چاروناچار طوعاً و کرہاً سب کا اس قول پر اتفاق ہوگیا فرعون اور اس کی قوم کا باہم اختلاف رائے اللہ نے سورة المؤمن میں ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے وَقَالَ رَجُلُ مُّؤْمِنٌ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہٗ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلاً ۔۔ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْ بَاس اللّٰہِ اِنْ جَاءَ نَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَا اُرِیْکُمْ الاَّ مَا اَرٰی وَمَا اَہْدِیْکُمْ الاَّ سَبِیْلَ الرَّشَادِتک۔
اِنْ ہٰذٰنِ لَسَاحِرَنِمیں اِنْ مخففہ ہے اور لساحران میں لام فارقہ ہے (یعنی بیشک یہ دونوں یقیناً جادوگر ہیں) یا ان نفی کے لئے ہے اور لام بمعنی الاَّ ہے (یعنی نہیں ہیں یہ دونوں مگر جادوگر) ۔
ابو عمرو کی قراءت میں اِنَّ (مشددہ) ہٰذَیْنِ لَسٰحِرَنِآیا ہے اور یہ نحو کے عام ضابطہ کے موافق ہے۔ لیکن ابو عمرو کے علاوہ ہذنہی جمہور کی قراءت ہے اور اسی کے ساتھ بعض روایات میں ان کی جگہ ان آیا ہے جو عام ضابطہ کے خلاف ہے (ان کا اسم منصوب ہوتا ہے مرفوع نہیں ہوتا) اس کے جواب میں ہشام بن عروہ نے اپنے باپ کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ یہ کاتب کی غلطی ہے لیکن یہ (یعنی اصل قرآن میں کتابت کی غلطی اجماع علماء کے خلاف ہے علماء کا اتفاق ہے کہ اصل قرآن میں کتابت کی کوئی غلطی نہ تھی) بعض لوگوں نے کہا یہ قبائل ابوالحارث اور خثعم اور کنانہ کے محاورہ کے موافق ہے تثنیہ ہو یا کوئی ایسی ساکن یاء جس سے پہلے فتح ہو ان قبائل میں اس کو الف بہرحال پڑھا جاتا ہے اتانی الرجلان رَأیْتُ الرجلان مررت بالرجلان بہرحال تثنیہ کو الف ہی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ کَسَرْتُ یَدَاہُاور رَکِبْتُ عَلاَ ہُکہتے ہیں یَدَیْہ اور عَلَیْہِ نہیں کہتے۔ مشہور اسماء ستہ (اب اخ وغیرہ) بھی جب ضمیر کی طرف مضاف ہو ان میں بھی وہ ہر حال میں الف بولتے ہیں ایک شاعر کا قول ہے۔
اِنَّ اباہاوا بااباہا قد بلغا فی المجد غایتاہا
دیکھو دوسرے اباہا کو الف کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ابیہا نہیں آیا۔
بعض لوگ کہتے ہیں اِنَّکا اسم ضمیر شان محذوف ہے اور ہٰذٰنِ لسٰحِرٰنخبر ہے اصل کلام اِنَّہٗ ہٰذٰنِ لسٰحِرٰنِتھا ‘ بعض نے کہا اِنَّ نَعَمْکے معنی میں ہے (حرف مشبہ بفعل نہیں ہے) ایک اعرابی نے حضرت ابن زبیر ؓ سے کچھ مانگا آپ نے نہیں دیا ‘ اعرابی نے کہا لَعَنَ اللّٰہ نَاقَۃً حَمَلَتْنِیْ اِلَیْکَاللہ کی لعنت ہو اس اونٹنی پر جو مجھے آپ کے پاس سوار کر کے لائی ‘ حضرت ابن زبیر نے جواب دیا اِنَّ وَصَاحِبَہَا بیشک (اونٹنی پر بھی لعنت ہو) اور اس کے مالک پر بھی۔
یَذْہَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا طریقہ سے مراد سرداران قوم ‘ بڑے لوگ۔ طریقۃ القوم ‘ قوم کے سرداروں کو کہتے ہیں۔ شعبی نے اس آیت کی تشریح میں حضرت علی ؓ : کا قول نقل کیا ہے ‘ یعنی لوگوں کا رخ اپنی طرف پھیر دیں۔ قتادہ نے کہا اس زمانہ میں بنی اسرائیل تعداد میں بھی ساری قوم سے زیادہ تھے اور مال میں بھی اس لئے طریقۂ مثلی سے بنی اسرائیل مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں چاہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جائیں فرعون کے اس قول کی وجہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا اَرْسِلْمعی بنی اسرائیل میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔
عام طور پر اہل تفسیر نے کہا ہے کہ طریقۂ مثلیٰ سے مراد وہ دین ہے جس پر اہل مصر قائم تھے گویا فرعون نے جو کہا اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَکُمْ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارے مذہب کو بدل دے گا یہی مطلب ہے یَذْہَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰییہ دونوں چاہتے ہیں کہ تمہارے اعلیٰ مذہب کو ختم کردیں۔
Ayah 20:64فاجمعوا کیدکم ثم ائتوا صفا سو اب تم مل کر اپنی تدبیر کا انتظام کرو پھر صفیں آراستہ کر کے مقابلہ میں آؤ۔
اَجْمِعُوْا (مصدر اجماع باب افعال) کو بعض لوگوں نے ثلاثی مجرد۔ یعنی اِجْمَعُوْاکا ہم معنی قرار دیا ہے یعنی اپنی تدبیریں ساری جمع کرلو۔ عرب کہتے ہیں اَجْمَعْتُ الشءَی اور جَمَعْتُ الشئیدونوں کو ہم معنی کہتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اجماع کا معنی ہے متفق الرائے ہوجانا کسی رائے پر اتفاق کرلینا ‘ مطلب یہ ہے کہ اپنی تدبیر پر متفق ہوجاؤ۔ پختہ ارادہ کرلو ‘ باہم اختلاف نہ کرو۔ ورنہ کام بگڑ جائے گا۔
صَفٌّایک قطار بنا لینا آدمیوں کی ہو یا درختوں کی یا کسی اور چیز کی یہ مصدر ہے لیکن بمعنی اسم فاعل یعنی سب ایک قطار ہو کر اور جمع ہو کر آؤ تاکہ دیکھنے والوں کے دلوں میں ہیبت پیدا ہو۔ مقاتل اور کلبی نے کہا اسی کی مثل آیت اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِی سَبِیْلِہٖ صَفًّا میں صَفًّاکا معنی (ایک قطار) ہے۔ لیکن ابن عبیدہ نے کہا صف کا معنی ہے جمع ہونے کی جگہ جاء نماز کو صف اسی مناسبت سے کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو جگہ مقرر ہے اس جگہ پہنچ جاؤ۔
وقد افلح الیوم من استعلی۔ اور آج جو غالب آئے گا وہی کامیاب ہوگا۔
Ayah 20:65قالوا یموسی اما ان تلقی واما ان نکون اوّل من القی۔ انہوں نے کہا اے موسیٰ آپ (اپنا عصا) پہلے ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں
Ayah 20:66قال بل القوا موسیٰ نے کہا (میں پہلے نہیں ڈالتا) آپ لوگ پہلے ڈالو۔
قَالُوْا یعنی جب جادوگر مقرر مقام پر جمع ہوگئے تو چونکہ ان کو اپنی تدبیروں کی عظمت پر اعتماد تھا اور غالب آنے کا یقین تھا پھر تہذیب کا تقاضا بھی یہی تھا اس لئے کہا کہ اگر آپ پہلے داؤ پھینکنا چاہیں تو پھینکئے اور اگر آپ کہیں تو داؤ پھینکنے کی ابتداء کرنے والے ہم ہوجائیں (ہم پہلے اپنا داؤ پھینکیں) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ان کے جادو کی پروا نہ تھی اور کچھ کچھ ان کا میلان بھی اللہ کی طرف محسوس ہو رہا تھا ‘ انہوں نے (نحن نلقی اولاً نہیں کہا تھا بلکہ اَنْ نَکُوْنَ اوّل من القی کہا تھا) اوّل کا لفظ صراحۃً اپنے لئے بولا تھا اس لئے ان کی حوصلہ افزائی بھی کرنی تھی پھر یہ مقصد بھی تھا کہ جو جال یہ لوگ بنا کر لائے ہیں اس کو پہلے سامنے آجانا اور ان کی انتہائی طاقت کو میدان میں لانے کی مہلت دینا چاہئے تاکہ میں جب لاٹھی پھینکوں تو حق ظاہر ہوجائے اور باطل کو شکست ہوجائے مزید یہ کہ جادوگروں نے ادب کو پیش نظر رکھ کر موسیٰ کو اختیار دیا تھا۔ اس کا بھی تقاضا تھا کہ موسیٰ تہذیب کا مظاہرہ کریں اور ان سے کہہ دیں کہ آپ لوگ ہی شروع کریں اس لئے فرمایا میں آغاز نہیں کرتا آپ لوگ ہی (جو کچھ پھینکنا چاہتے ہیں) پھینکیں۔
فاذا حبالہم وعصیہم یخیل الیہ من سحرہم انہا تسعی۔ پس یکایک ان کی رسیاں اور
لاٹھیاں ان کی نظر بندی سے موسیٰ کے خیال میں ایسی معلوم ہونے لگیں جیسے (سانپ کی طرح) چلتی دوڑتی ہوں۔ عبارت میں کچھ محذوفات ہیں (جن کو سمجھنے کے لئے رفتار کلام کافی ہے ذکر کرنے میں کوئی فائدہ نہ تھا اس لئے ان کو حذف کردیا گیا) اصل کلام اس طرح تھا ‘ پس انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں تو اچانک موسیٰ کو ایسا خیال ہونے لگا کہ وہ رسیاں اور لاٹھیاں (سانپوں کی طرح) دوڑ رہی ہیں۔ قصہ کی تفصیل میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب جادوگروں نے رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں تو لوگوں کی نظر بندی کردی اور نظربندی (یا خیال بندی) کی وجہ سے موسیٰ کو اور دوسرے حاضرین کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ ایک ایک میل تک زمین سانپوں سے بھر گئی ہے اور سانپ دوڑ رہے ہیں۔
Ayah 20:67فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ ۔ پس موسیٰ نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔
وَجْسٌآہٹ ‘ ہلکی آواز۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے وَجَسٌوہ گھبراہٹ اور خوف جو کسی آواز وغیرہ سے دل میں پیدا ہوجائے یا کانوں سے سنائی دے ‘ مطلب یہ ہے کہ باقتضائے بشریت حضرت موسیٰ کے دل میں فوراً کچھ خفیہ خوف پیدا ہوگیا۔ مقاتل نے کہا (موسیٰ کو اپنا کوئی خوف نہیں ہوا تھا بلکہ) آپ کو یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ دھوکہ کھا جائیں گے اور میرے معجزے میں ان کو شک پڑجائے گا اور حق واضح نہ ہوگا۔
Ayah 20:68قلنا لا تخف انک انت الاعلی۔ ہم نے (موسیٰ سے) کہا تم کچھ خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی سب پر
غالب رہو گے۔
اِنَّکَ انْتَ الْاَعْلٰی سے خوف نہ کرنے کی وجہ بیان فرما دی اور غالب رہنے کو چند تاکیدی الفاظ سے بیان فرما دیا ‘ جملہ از سر نو شروع کیا (حرف عطف ذکر نہیں کیا) اِنَّحرف تحقیق ذکر کیا ضمیر فصل بھی ذکر کی اور خبر پر الف لام بھی داخل کیا اور اَلْاَعْلٰی فرمایا ‘ تم ہی غالب رہو گے۔ پھر اسم تفضیل کا صیغہ بھی استعمال کیا۔
Ayah 20:69والق ما فی یمینک تلقف ما صنعوا اور جو کچھ تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے اس کو (زمین پر) ڈال دو
ان لوگوں نے جو کچھ جھوٹ (فریب دینے کے لئے) بنایا ہے اس کو یہ نگل لے گی۔ مَا فِیْ یَمِیْنِکَمبہم طور پر (جو کچھ) فرمایا ‘ مراد لاٹھی ہے صراحۃً لاٹھی کا ذکر نہیں کیا اس سے ساحروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کی حقارت دکھانا مقصود ہے کہ یہ لاٹھیاں اور رسیاں تو اتنی حقیر ہیں کہ تمہارے ہاتھ میں جو یہ ایک لکڑی کا ٹکڑا ہے اس کو اگر زمین پر پھینک دوں گا تو یہ بھی ان کو نگل لے گا۔
انما صنعوا کید سحر ان لوگوں نے جو کچھ کارستانی کی ہے یہ تو جادوگر کا فریب ہے۔
ولا یفلح الساحر حیث اتی۔ اور جادوگر کہیں جائے کامیاب نہیں ہوتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جادوگر
زمین کے جس حصہ میں ہو اور جہاں جائے کامیاب نہیں ہوتا۔ بعض نے اتیٰ کا ترجمہ احتال کیا ہے یعنی جو تدبیر جہاں کرے کامیاب نہیں ہوتا۔ ابن حاتم اور ترمذی نے حضرت جندب بن عبداللہ بجلی کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم جادوگر کو پاؤ تو اس کو قتل کر دو پھر حضور نے آیت ولا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰیتلاوت فرمائی۔
Ayah 20:70فالقی السحرۃ سجدا (یہ دیکھتے ہی) جادوگر فوراً سجدہ میں گرگئے کلام میں کچھ اختصار کردیا گیا ہے (رفتار کلام
محذوفات کو سمجھنے کے لئے کافی ہے) اصل کلام اس طرح تھا پس موسیٰ نے فوراً اپنے ہاتھ سے لاٹھی زمین پر ڈال دی وہ فوراً اژدھا بن گئی اور جو کچھ جادوگروں نے کارستانی کی تھی سب کو نگلنے لگی اس وقت جادوگر پہچان گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ خدا داد معجزہ ہے اتنا پہچاننے کے بعد فوراً توبہ کی اور سجدے میں گرگئے یا معجزے کی عظمت کا اعتراف کرنے کے لئے سجدے میں گرگئے اور خود نہ گرے بلکہ عرفانِ حق (اور تعظیم معجزہ) نے بےاختیار کر کے ان کو سجدہ میں گرا دیا گویا وہ گرا دیئے گئے۔
قالوا امنا برب ہرون وموسی۔ (اور) بول اٹھے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے۔ اس جگہ
ہارون کا لفظ موسیٰ سے پہلے آیا ہے اور سورة شعراء و اعراف میں فرمایا ہے ‘ اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ رَبِّ مُوْسٰی وَہٰرُوْنَ اس میں موسیٰ کا لفظ ہارون سے پہلے آیا ہے معلوم یہ ہوا کہ کوئی ترتیب پیش نظر نہیں ہے۔ انہوں نے موسیٰ کا لفظ پہلے کہا یا ہارون کا بلکہ صرف بتانا یہ ہے کہ دونوں پیغمبروں کے رب پر وہ ایمان لے آئے۔