12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

قال سوف استغفر لکم ربي ان ھو الغفور الرحیم یعقوب نے کہا : میں اپنے رب سے تمہارے قصور کے معاف کردینے کی ضرور درخواست کروں گا۔ وہی بلاشبہ بڑا غفور و رحیم ہے (معاف فرما دے گا) ۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ حضرت یعقوب نے سحر پر دعا کو موقوف رکھا کیونکہ ہر رات کو تہائی رات رہے ہمارا رب دنیوی آسمان پر خصوصی نزول تجلی فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے : کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی دعا قبول کروں ‘ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اس کو عطا کروں اور کون ہے جو مجھ سے عفو گناہ کی درخواست کرے اور میں اسے معاف کروں۔ رواہ البخاری ومسلم عن ابی ہریرۃ فی صحیحہما۔ غرض جب مقررہ وقت آیا تو حضرت یعقوب سحر کو نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور نماز سے فارغ ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا کی : اے اللہ ! مجھے جو بےصبری یوسف کے معاملے میں ہوئی تھی ‘ اس کو معاف فرما دے اور میرے بیٹوں نے جو برا سلوک میرے اور یوسف کے ساتھ کیا ‘ اس کو بھی بخش دے۔ اللہ نے وحی بھیجی : تمہارا اور تمہارے لڑکوں کا قصور میں نے معاف کردیا۔ عکرمہ کی روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ سَوْفَ اسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبٍِيْ ط سے یہ مراد ہے کہ شب جمعہ میں ‘ میں تمہارے لئے دعا کروں گا۔ وہب نے کہا : کچھ اوپر بیس برس تک ہر شب جمعہ میں حضرت یعقوب لڑکوں کیلئے استغفار کرتے رہے۔ طاؤس نے کہا : شب جمعہ کی سحر پر حضرت یعقوب نے دعا کو موقوف رکھا تھا اور اتفاق سے وہ رات 10؍محرم کی بھی پڑگئی تھی۔ شعبی نے کہا : سَوْفَ اسْتَغْفِرُ لَکُمْ کا یہ مطلب ہے کہ میں یوسف سے معاف کردینے کو کہوں گا ‘ وہ معاف کردیں گے تو پھر اللہ سے تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ اللہ اسی وقت معاف کرتا ہے جب مظلوم (بھی اپنا حق) معاف کر دے۔ بعض علماء نے کہا : حضرت یعقوب جاننا چاہتے تھے کہ بیٹوں نے سچے دل سے توبہ کی ہے یا نہیں۔ یہ بات معلوم ہونے تک آپ نے دعا کو مؤخر کردیا۔ نووی نے لکھا ہے : روایت میں آیا کہ بشارت دینے والے قاصد کے ساتھ حضرت یوسف نے دو سو اونٹنیاں اور بکثرت سامان بھی بھیجا تھا تاکہ حضرت یعقوب تمام اہل و عیال و متعلقین کو لے کر مصر آجائیں ‘ چناچہ آپ مصر جانے کو تیار ہوگئے اور زن و مرد 72 اور مسروق کے بقول 390 شخص روانہ ہوگئے۔ جب یہ قافلہ مصر کے قریب پہنچا تو حضرت یوسف نے (اصل) شاہ مصر سے ساتھ چلنے کو کہا ‘ چناچہ حضرت یوسف اور بادشاہ چار ہزار فوج کے ساتھ استقبال کیلئے روانہ ہوگئے۔ مصر کے اور لوگ بھی حضرت یوسف کی معیت میں استقبال میں شریک تھے۔ حضرت یعقوب ‘ یہودا پر سہارا دئیے پیدل آ رہے تھے ‘ سواروں اور دوسرے لوگوں کو ملاحظہ فرمایا تو دریافت کیا : یہودا ! کیا یہ فرعون مصر ہے ؟ یہودا نے جواب دیا : نہیں ‘ ابا ! یہ تو آپ کے صاحبزادے ہیں۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا

فلما دخلوا علی یوسف اوی الیہ ابویہ جب یعقوب اور ان کے گھر والے یوسف کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی۔ میں کہتا ہوں : شاید حضرت یوسف مصر سے روانہ ہو کر کسی خاص مقام تک پہلے پہنچ گئے اور وہاں کسی خیمہ یا محل میں اتر کر رک گئے تاکہ قافلہ وہاں پہنچ جائے تو اس کا استقبال کریں اور حضرت یعقوب اپنے متعلقین کے ساتھ اسی مقام پر پہنچ کر حضرت یوسف کے پاس (قصر یا خیمہ کے اندر) داخل ہوئے ہوں۔ بغوی نے لکھا ہے : جب حضرت یوسف اور حضرت یعقوب ایک دوسرے کے قریب پہنچ گئے تو حضرت یوسف نے سلام کرنا چاہا لیکن حضرت جبرئیل نے روک دیا اور فرمایا : پہلے وہ سلام کریں ‘ پھر آپ کرنا۔ میں کہتا ہوں : شاید یہ اس محبوبیت الٰہیہ کا اثر تھا جو حضرت یوسف میں نمودار ہوگئی تھی۔ آخر حضرت یعقوب نے ہی ابتدائی سلام کیا اور کہا : اے غموں کو دور کرنے والے ! تجھے سلامتی ہو۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ ماں باپ سے مراد ہیں حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی خالہ لیَّا ‘ جس طرح دوسری آیت میں چچا کو اللہ نے باپ فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا : ٰابَآءِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اسی طرح اس آیت میں خالہ کو ماں قرار دیا ہے۔ یا یہ وجہ ہے کہ حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کی والدہ کے بعد لیَّا سے نکاح کرلیا تھا اور لیَّا ہی نے آپ کی پرورش کی تھی اور پرورش کرنے والی کو اماں کہا ہی جاتا ہے۔ حضرت یوسف کی ماں بنیامین کی ولادت کے وقت مرچکی تھیں۔ حسن بصری کا قول ہے کہ ماں زندہ تھیں اور ابوین سے ماں باپ ہی مراد ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اللہ ہے حضرت یوسف کی والدہ کو زندہ کردیا تھا اور وہ حضرت یعقوب کے ساتھ مصر آئی تھیں۔ بغوی نے لکھا ہے : روایت ہے کہ حضرت یوسف اور حضرت یعقوب دونوں نے اتر کر معانقہ کیا۔ ثوری نے کہا : ہر ایک دوسرے سے گلے ملا اور دونوں رونے لگے۔ حضرت یوسف نے کہا : ابا ! میری وجہ سے آپ اتنا روئے کہ آپ کی نظر جاتی رہی ‘ کیا آپ کو یقین نہ تھا کہ قیامت کے دن ہم دونوں ضرور ملیں گے ؟ حضرت یعقوب نے فرمایا : بیٹے ! یقین کیوں نہ تھا ‘ مجھے تو اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں تیرا مذہب نہ بدل گیا ہو اور پھر (قیامت کے دن) میرے اور تیرے درمیان رکاوٹ حائل ہوجائے۔ وقال ادخلوا مصر ان شآء اللہ امنین اور کہا : (چلو) مصر کے اندر امن کے ساتھ اللہ نے چاہا تو رہو۔ یعنی تم کو شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نامے کی ضرورت نہیں۔ شاہی اجازت نامہ کے بغیر اس زمانہ میں کوئی مصر میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اب کال اور دوسرے مصائب کا آپ لوگوں کو کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک شبہ : (انشاء اللہ کا تعلق ادْخُلُوا سے ہے اور ادْخُلُوا کا صیغہ ہے اور امر کے ساتھ مشیّت کا تعلق بےمعنی ہے۔ حکم مفید وجوب ہے ہے اور اِنْ شک کیلئے آتا ہے اور شک وجوب کے منافی ہے۔ مترجم) شبہ مذکورہ کا ازالہ : انشاء اللہ کا تعلق باامن دخول سے ہے (مطلق دخول سے نہیں ‘ گویا امن کو مشروط بہ مشیّت کیا گیا ہے۔ امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ انشاء اللہ۔ یعنی انشاء اللہ باامن رہو گے ‘ داخل ہوجاؤ۔ مترجم) جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآء اللّٰہُ ٰامِنِیْنَ ۔ بعض نے کہا : اس جگہ اِنْ بمعنی شک نہیں بلکہ اذْ (ظرفیہ) کے معنی میں ہے جیسے آیت وَاَنْتُمُ الاعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ میں اِنْ بمعنی اذْ ہے۔ بعض نے کہا : آیت میں کچھ تقدیم تاخیر ہے۔ انشاء اللہ کا تعلق سَوْفَ اسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبٍِيْ سے ہے ‘ یعنی میں انشاء اللہ تمہارے لئے اپنے رب سے استغفار کروں گا۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

ورفع ابویہ علی العرش اور یوسف نے اپنے ماں باپ کو اٹھا کر تخت پر بٹھا لیا۔ رَفَعَ کا معنی ہے نیچے سے اوپر کو اٹھا لینا۔ وخروا لہ سجدا اور سب (ماں باپ اور بھائی) یوسف کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے۔ سجدہ سے مراد زمین پر پیشانی رکھنا نہیں بلکہ تواضع سے جھک جانا مراد ہے (لیکن خَرُّوْا کا لفظ تو زمین پر گر پڑنے کا مفہوم ظاہر کر رہا ہے۔ خَرُّوْا کا معنی تو جھکنا نہیں ہے۔ مترجم) ۔ بعض نے کہا : زمین پر پیشانی رکھنا ہی مراد ہے مگر یہ سجدۂ عبادت نہ تھا ‘ سجدہ احترام و تعظیم تھا اور اس زمانہ میں احترام و تعظیم کا یہی طریقہ رائج تھا اور گذشتہ امتوں کیلئے بھی غیر اللہ کو سجدۂ تعظیمی کرنا جائز تھا۔ ہماری شریعت نے منسوخ کردیا (اب کسی قسم کا سجدہ اللہ کے سوا کسی کو نہیں کیا جاسکتا) حضرت ابن عباس کا قول اس آیت کی تفسیر میں اس طرح آیا ہے : وہ اللہ کیلئے سجدہ میں گرپڑے حضرت یوسف کے سامنے ادائے شکر کے طور پر۔ لہٗ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے (حضرت یوسف) کی طرف راجع نہیں ہے) میں کہتا ہوں : گویا حضرت ابن عباس کی تفسیر پر حضرت یوسف مسجود لہٗ نہ تھے ‘ قبلۂ سجود اور جہت سجدہ تھے اور حضرت یوسف کا قبلۂ سجود ہونا اللہ کے حکم سے تھا ‘ جیسے ہمارے لئے کعبے کو بحکم الٰہی قبلۂ سجود بنا دیا گیا ہے اور جیسے حضرت آدم کو فرشتوں کیلئے قبلۂ سجود بنا دیا گیا تھا۔ بعض نے کہا : لہٗ (میں لام اجلیہ ہے اور ضمیر حضرت یوسف کی طرف ہی راجع ہے) یعنی حضرت یوسف کے مل جانے کی وجہ سے بطور شکریہ وہ اللہ کے سامنے سجدہ میں گرپڑے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ رَفَعَ کا لفظ اگرچہ خَرُّوْا سے پہلے ذکر کیا گیا ہے لیکن مطلب یہ ہے کہ وہ سجدے میں گرپڑے اور پھر حضرت یوسف نے ماں باپ کو اٹھا کر تخت پر بٹھا لیا۔ وقال یابت ھذا تاویل رء یای من قبل قد جعلھا ربی حقا اور یوسف نے کہا : ابا ! یہ میرے گذشتہ خواب کی تعبیر ہے ‘ میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا۔ یعنی بچپن میں جو میں نے خواب میں گیارہ ستاروں اور چاند سورج کو اپنے لئے سجدہ کرتے دیکھا ‘ اس کی تعبیر یہ نکلی۔ وقد احسن بی اذ اخرجنی من السجن وجآء بکم من البدو من بعد ان نزع الشیطن بینی وبین اخوتی اور اللہ نے میرے ساتھ (بڑا) احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا اور تم سب کو جنگل سے یہاں لے آیا (یہ سب کچھ) اس کے بعد ہوا کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا۔ باوجودیکہ کنواں شدید ترین قیدخانہ تھا لیکن حضرت یوسف نے کرم ذاتی سے کام لے کر اس کا ذکر نہیں کیا تاکہ بھائیوں کو شرمندگی نہ ہو۔ اس کے علاوہ جیل خانہ سے رہائی کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اسلئے بھی کیا کہ کنویں سے نکل کر تو غلام ہونا پڑا اور عورتوں کے پھندے میں گرفتار ہونے سے سابقہ پڑا اور قیدخانہ سے نکل کر بادشاہ بنائے گئے (تو جیل خانہ سے نکالنا اللہ کا عظیم الشان احسان ہوا) اَلْبَدْوُ صحرائی میدان جہاں چرواہے اور صحرائی لوگ اپنے جانوروں کو لے کر رہتے ہیں۔ نَزَغَ یعنی ہمارے درمیان فساد ڈلوا دیا۔ یہ لفظ نَزَغَ الرافِضُ الدابۃَ سے ماخوذ ہے ‘ ایڑ مار کر سوار نے گھوڑا اٹھایا اور چلا۔ ان ربی لطیف لما یشاء انہ ھو العلیم الحکیم بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی عمدہ تدبیر کرتا ہے۔ یقیناً وہی بڑے علم اور حکمت والا ہے۔ یعنی اس کی تدبیر لطیف ہے ‘ دشوار ترین امور میں بھی کارفرمائی اور نفوذ اسی کی مشیّت کا ہے۔ بغوی نے لطیف کا ترجمہ کیا ہے : صاحب لطف ‘ یعنی مہربان۔ حقیقت میں لطیف اس محسن کو کہتے ہیں جو دوسروں تک نہایت آہستگی کے ساتھ اپنا احسان پہنچا دے۔ ھُوَ الْعَلِیْم یعنی اپنی مصلحتوں اور تدبیروں کی حقیقت سے وہی واقف ہے اور وہی حکیم ہے۔ یعنی اس کا ہر کام اسی وقت اور اسی طرح پر ہوتا ہے جیسا حکمت کا تقاضہ ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : حضرت یوسف نے اپنے ہر چیز کے ذخیرے اور خزانہ کی ماں باپ کو سیر کرائی۔ کاغذ کا ذخیرہ دیکھ کر حضرت یعقوب نے فرمایا : اتنا کثیر انبار کاغذ کا تیرے پاس پڑا ہے اور تو نے ایک خط صرف آٹھ منزل کے فاصلے پر مجھے نہیں بھیجا۔ حضرت یوسف نے جواب دیا : حضرت جبرئیل نے مجھے یہی ہدایت کی تھی۔ حضرت یعقوب نے فرمایا : تو نے حضرت جبرئیل سے اس کی وجہ کیوں دریافت نہیں کی ؟ حضرت یوسف نے کہا : آپ حضرت جبرئیل سے زیادہ بےتکلف ہیں ‘ آپ ہی دریافت فرما لیں۔ حضرت یعقوب نے حضرت جبرئیل سے (اطلاعی خط بھیجنے کی ممانعت کی) وجہ دریافت کی تو حضرت جبرئیل نے کہا : مجھے اللہ نے ایسا ہی حکم دیا تھا کیونکہ آپ نے وَاَخَافُ اَنْ یَّأکُلَہٗ الذِّءْبُ کہا تھا ‘ اس پر اللہ نے فرمایا : تم کو بھیڑئیے کا تو اندیشہ ہوا اور میرا خوف نہیں ہوا۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل تاریخ کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کے پاس مصر میں 24 سال انتہائی امن چین اور قابل رشک خوشگواری کے ساتھ گذارے ‘ پھر مصر ہی میں آپ کی وفات ہوگئی۔ وفات کے وقت حضرت یوسف کو وصیت کی کہ مجھے لے جا کر میرے باپ حضرت اسحاق کے پاس دفن کرنا۔ حضرت یوسف نے وصیت کی تعمیل کی اور لے جا کر شام میں دفن کردیا ‘ پھر مصر لوٹ آئے۔ امام احمد نے الزہد میں مالک کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب جب بہت کمزور اور اٹھنے بیٹھنے سے بھی معذور ہوگئے تو اپنے بیٹے حضرت یوسف سے فرمایا : کپڑوں کے اندر ہاتھ ڈال کر میری پشت پر رکھ کر رب یعقوب کی قسم کھا کر اقرار کرو کہ مجھے میرے باپ دادا کے ساتھ دفن کرو گے۔ میں زندگی کے کام میں ان کا شریک رہا ‘ تو مرنے کے بعد مجھے انہی کے قبرستان میں ان کے ساتھ دفن کرنا۔ جب آپ کی وفات ہوگئی تو حضرت یوسف نے ایسا ہی کیا ‘ کنعان میں لے جا کر آباؤ اجداد کے ساتھ دفن کردیا۔ سعید بن جبیر نے فرمایا : سار کے تابوت میں حضرت یعقوب کی میّت کو بیت المقدس لے گئے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسی روز عیص کا بھی انتقال ہوگیا۔ دونوں کو ایک ہی مقبرے میں (یا ایک ہی قبر میں) دفن کیا گیا۔ دونوں کی عمر 147 برس ہوئی۔ عیص اور حضرت یعقوب ساتھ ہی ایک بطن سے پیدا ہوئے تھے (اگرچہ توام نہ تھے) جب حضرت یوسف کے تمام دنیوی امور کامل طور پر درست ہوگئے تو آپ نے خیال کیا کہ راحت اور نعمت باقی رہنے والی تو ہے نہیں ‘ دنیا کی کسی نعمت کو بقا نہیں ‘ اسلئے حسن خاتمہ کی دعا کی اور کہا :
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو

رب قد اتیتنی من الملک وعلمتنی من تاویل الاحادیث فاطر السموت والارض انت ولي فی الدنیا والاخرۃ توفني مسلما والحقنی بالصلحین اے میرے رب ! تو نے مجھے سلطنت کا ایک بڑا حصہ عطا فرمایا اور خوابوں کی تعبیر دینا سکھائی ‘ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! تو میرا کارساز ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ مجھ کو پوری فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لے اور نیک بندوں کے ساتھ شامل کر دے۔ مِنَ الْمُلْکِ (میں مِنْ تبعیضیہ ہے) یعنی سلطنت کا حصہ ‘ مراد مصر کی حکومت۔ جس شخص کے ہاتھ میں نظم و نسق ہو ‘ اس کے اقتدار کی ہمہ گیری کو ملک کہتے ہیں۔ مِنْ تَاوِیْلِ (میں بھی مِنْ تبعیضیہ ہے) یعنی کچھ ‘ کسی قدر تعبیر دینی ‘ مکمل تعبیری علم تو حضرت یوسف کو دیا نہیں گیا تھا (ا اللہ کا علم کامل ہے) وفوق کل ذی علم علیم۔ فَاطِر پیدا کرنے والا ‘ ایجاد کرنے والا۔ وَلِّي ذمہ دار ‘ کارساز ‘ مددگار ‘ یا وہ ذات جو دونوں جہان میں نعمت عطا فرماتی اور کارسازی کرتی ہے اور ملک فانی کو ملک باقی سے ملاتی ہے۔ الصَّالِحِیْن سے مراد ہیں : انبیاء کیونکہ صلاح کامل اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان ہر خطا سے معصوم ہو اور معصوم انبیاء کے سوا کوئی نہیں (یعنی الصَّالِحِیْن سے مراد ہیں : کامل صالحین اور کامل صالحین صرف انبیاء ہیں) ۔ قتادہ نے کہا : سوائے حضرت یوسف کے اور کسی نبی نے اپنی موت کی دعا نہیں کی۔ میرے نزدیک یہ قول محل تامل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی تھی : اَللّٰھُمَّ الرَّفِیْق الْاَعْلٰی۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : میں سنا کرتی تھی کہ کسی نبی کی وفات اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک اس کو دنیا و آخرت (میں سے ایک کا انتخاب کرلینے) کا اختیار نہیں دے دیا جاتا (اور وہ آخرت کو پسند نہیں کرلیتا) چناچہ حضور ﷺ کی بیماری میں جب سخت بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی تو میں نے خود سنا ‘ حضور ﷺ فرما رہے تھے : مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآءَ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا یہ سن کر میں نے یقین کرلیا کہ حضور ﷺ کو (دنیا اور آخرت میں سے ایک کو پسند کرلینے کا) اختیار دے دیا گیا۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین وابن سعد۔ قصّہ کا تکملہ حضرت یوسف کے تمام دنیوی احوال جب درست ہوگئے اور ماں باپ اور دوسرے متعلقین بھی مل گئے تو اس وقت اپنے رب سے ملنے کا شوق غالب آیا اور مذکورہ دعا کی۔ حسن بصری نے فرمایا : اس کے بعد آپ چند سال زندہ رہے۔ دوسرے علماء کا خیال ہے : ایک ہفتہ بھی گذرنے نہ پایا کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف ‘ حضرت یعقوب سے کتنی مدت جدا رہے ‘ علماء کے اس سلسلہ میں مختلف اقوال ہیں۔ کلبی نے کہا : 22 سال جدا رہے۔ بعض نے 40 سال مدت جدائی بیان کی۔ حسن بصری نے کہا : 17 سال کی عمر میں کنویں میں ڈالے گئے اور باپ سے اسّی برس غائب رہے اور حضرت یعقوب کی ملاقات کے بعد 23 سال جیئے اور 120 سال کی عمر میں وفات پائی۔ توریت میں آپ کی عمر 110 سال ذکر کی گئی ہے۔ عزیز کی بیوی کے بطن سے حضرت یوسف کے تین بچے ہوئے : افرائیم ‘ میشا اور (تیسری لڑکی) رحمت۔ افرائیم کی نسل میں سے یوشع بن نون ‘ خادم حضرت موسیٰ ہوئے۔ رحمت ‘ حضرت ایوب صابر کی بیوی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ حضرت یعقوب کے بعد حضرت یوسف ساٹھ سال یا اس سے بھی زیادہ زندہ رہے ‘ بہرحال وفات کے وقت (برقول صحیح) آپ کی عمر 120 برس تھی۔ اہل مصر نے سنگ مرمر کے ایک تابوت میں بند کر کے نیل میں آپ کو دفن کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ آپ کی وفات کے بعد ہر محلے والوں نے اپنے محلہ میں آپ کو دفن کرنا چاہا تاکہ اس محلے والوں کو برکت حاصل ہو۔ اختلاف اتنا بڑھا کہ باہم جنگ ہونے اور لڑنے مرنے کا اندیشہ ہوگیا۔ آخر سب نے یہی مناسب سمجھا کہ آپ کو نیل کے اندر دفن کردیا جائے۔ نیل کا پانی پورے شہر میں پھیلتا تھا ‘ اس طرح آپ کی برکت سے پورا شہر بہرہ اندوز ہوگا۔ عکرمہ نے کہا : نیل کے دائیں جانب آپ کو دفن کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ جانب بہت سرسبز اور غلّہ آفریں ہوگیا اور دوسرا جانب خشک ہوگیا ‘ پھر آپ کو دائیں جانب سے نیل کے بائیں جانب منتقل کیا گیا تو دایاں جانب سوکھ گیا اور بایاں جانب سرسبز ہوگیا۔ آخر نیل کے وسط میں دفن کردیا ‘ اس طرح نیل کے دونوں رخ سرسبز ہوگئے۔ حضرت موسیٰ کے زمانہ تک آپ کی قبر نیل ہی میں رہی ‘ پھر حضرت موسیٰ نے آپ کا تابوت نیل سے نکلواکر ملک شام کو منتقل کیا اور باپ دادا کے قبرستان میں دفن کردیا۔ ابن اسحاق اور ابن ابی حاتم نے بحوالۂ عروہ بن زبیر بیان کیا کہ اللہ نے جب حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر (شام کو) لے جاؤ تو اس کے ساتھ یہ بھی حکم دیا تھا کہ حضرت یوسف کی ہڈیاں بھی ساتھ لے جانا ‘ مصر کی زمین میں نہ چھوڑنا بلکہ ارض مقدسہ میں لے جا کر دفن کردینا۔ حضرت موسیٰ نے تلاش کی کہ کوئی حضرت یوسف کی قبر کا نشان جاننے والا مل جائے۔ تلاش کے بعد صرف ایک بڑھیا اسرائیلی ملی جس نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! میں حضرت یوسف کی قبر کا مقام جانتی ہوں۔ اگر آپ مجھے اپنے ساتھ یہاں سے نکال کرلے جائیں اور سرزمین مصر میں چھوڑ کر نہ جائیں تو میں آپ کو قبر بتادوں گی۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا : میں تیری خواہش کے مطابق کر دوں گا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ جس وقت چاند نکلے گا ‘ اس وقت یہاں سے روانہ ہوں گے (چاند نکلنے کا وقت آگیا اور حضرت یوسف کا تابوت اس وقت تک آپ برآمد نہ کرسکے ‘ اسلئے) آپ نے اللہ سے دعا کی کہ چاند کے طلوع میں کچھ تاخیر ہوجائے (تاکہ وعدہ خلافی نہ ہو) دعا قبول ہوگئی اور چاند کے طلوع میں کچھ تاخیر ہوگئی ‘ پھر بڑھیا آپ کو اپنے ساتھ لے گئی اور نیل کے پانی کے اندر ایک طرف کو حضرت یوسف کی قبر دکھا دی جس کے اندر سے ایک مرمر کا صندوق حضرت موسیٰ نے نکلوا لیا اور اس کو اٹھا کرلے گئے۔ حضرت یوسف کے بعد عمالقہ کے خاندان میں پے در پے مصر کے فرعون ہوتے رہے اور بنی اسرائیل ان کے زیرحکم رہے مگر حضرت یوسف کے مذہب پر قائم رہے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ پیغمبر بنا کر بھیجے گئے اور آپ کے ہاتھ سے اللہ نے فرعون کو ہلاک کرایا۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے

ذلک من انبآء الغیب نوحیہ الیک وما کنت لدیھم اذ اجمعوا امرھم وھم یمکرون یہ (قصۂ یوسف) غیب کی خبروں میں سے ہے جو وحی کے ذیعہ سے ہم آپ کو بتا رہے ہیں اور آپ ان (برادران یوسف) کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا تھا اور وہ تدبیریں کر رہے تھے۔ یعنی کنویں کے گڑھے میں حضرت یوسف کو ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ قصۂ یوسف کا وحی کے ذریعہ سے آپ کے پاس آنا اور آپ کا بذریعہ وحی اس پر مطلع ہونا ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اولاد یعقوب میں سے کسی سے آپ کی ملاقات نہیں ہوئی کہ آپ نے ان کی زبانی سن لیا ہو اور خود وہاں موجود نہ تھے اور نہ آپ کی قوم والوں کو یہ قصہ معلوم تھا کہ کسی سے پوچھ کر آپ نے بیان کردیا ہو۔ یہ موخر الذکر آیت مَا کُنْتَ تَعْلَمُھَا اَنْتَ وَلاَ قَوْمُکَ میں ذکر کردی گئی ہے ‘ اسلئے یہاں ذکر نہیں کی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے : روایت میں آیا ہے کہ یہود و قریش دونوں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت یوسف کا قصہ دریافت کیا تھا۔ جب آپ ﷺ نے توریت کے موافق ذکر کردیا تب بھی وہ اسلام نہیں لائے ‘ اس پر رسول اللہ ﷺ کو سخت رنج ہوا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں

وما اکثر الناس ولو حرصت بمؤمنین : اور اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے گو آپ کی کتنی ہی زیادہ خواہش ہو
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے

وما تسئلھم علیہ من اجر ان ھو الا ذکر للعلمین اور آپ ان سے اس کا کچھ معاوضہ تو طلب نہیں کرتے ‘ یہ تو صرف تمام جہان والوں کیلئے ایک نصیحت ہے۔ یعنی آپ کتنی ہی ان کے مؤمن ہونے کی خواہش کریں اور کتنے ہی معجزات کا اظہار کریں لیکن اللہ نے چونکہ ان کے کافر رہنے کا فیصلہ کردیا ہے ‘ اس لئے وہ ایمان نہیں لائیں گے اور آپ ان سے اس قرآن کو پیش کرنے یا خبریں بیان کرنے کی کوئی اجرت بھی تو نہیں مانگتے (کہ ان پر کچھ مالی بوجھ پڑتا ہو) یہ قرآن تو محض ایک عمومی نصیحت نامہ ہے (جس کو ماننے میں پیسے صرف کرنا نہیں پڑتے) جو اس کو نہ مانے گا تو اتمام حجت ہوجائے گا اور جو ایمان لانے والے ہیں ‘ ان کیلئے رحمت و بصیرت ہے۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں

وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون : اور بہت سی نشانیاں آسمانوں اور زمین میں ہیں جن پر ان کا گذر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں

وما یؤمن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون اور جو لوگ اللہ کو مانتے بھی ہیں تو اس طرح کہ ان میں سے اکثر شرک بھی کرتے جاتے ہیں۔ کَاَیِّنْ کے معنی ہیں : کثیر۔ یعنی اللہ کی صنعت ‘ حکمت اور کمال قدرت و توحید کی کتنی ہی دلیلیں ہیں جو ان کی نظر کے سامنے آتی ہیں اور یہ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں مگر ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ‘ منہ پھیر لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بہت سی آیات عبرت ان کے سامنے آتی ہیں اوراقوام پارینہ کے آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں مگر غور و فکر نہیں کرتے اور عبرت اندوز نہیں ہوتے اور اگر اللہ کے وجود و خالقیت کا اقرار کرتے بھی ہیں تو اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک بنا لیتے ہیں ‘ اللہ کی عبادت کے ساتھ دوسروں کی بھی پوجا کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا تو جواب دیتے تھے : اللہ نے اور جب دریافت کیا جاتا تھا کہ اوپر سے پانی کوئی برساتا ہے تو کہتے تھے : اللہ۔ مگر اس کے باوجود وہ پتھروں کی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے : نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی (یعنی بعض ستاروں کو بارش ہونے میں دخیل سمجھتے تھے ‘ فقط مادّی اشیاء کی حیثیت سے نہیں بلکہ علّت تامہ کی حیثیت سے۔ مترجم) حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کا نزول عرب کے مشرکوں کے لبیک کہنے کے سلسلے میں ہوا۔ عرب کے مشرک (احرام یا طواف کعبہ کے وقت) ان الفاظ میں لبیک کہتے تھے : اے اللہ ! ہم حاضر ہیں ‘ ہم حاضر ہیں ‘ تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک ہے جس کو تو نے شریک بنا لیا ہے اور تو اس کا مالک ہے ‘ وہ مالک نہیں۔ عطاء نے کہا : مشرکوں کی یہ دعا (یعنی شرک آمیز دعا) آسائش و فراغت کے زمانے میں ہوتی تھی کہ اپنے رب (کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ‘ شریکوں کو پکارتے اور رب) کو بھول جاتے تھے لیکن جب مصیبت میں گرفتار ہوتے اور بپتا پڑتی تو اس وقت صرف اللہ کو پکارتے تھے۔ اِذَا رَکِبُوْا فِی الْفَلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجَّاھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ جب جہازوں اور کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالص طور پر اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ سمندر سے بچا کر خشکی میں پہنچا دیتا ہے تو پھر شرک کرنے لگتے ہیں۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ الاّوھم مشرکون کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے حکم کے خلاف علماء و مشائخ کے احکام پر چلتے اور ان کو رب قرار دیتے ہیں ‘ یا اللہ کی طرف سے والد ہونے کی نسبت کرتے ہیں اور کہتے ہیں : اللہ کی اولاد ہیں ‘ یا (مجوسی ہیں) نور و ظلمت کی الوہیت کے قائل ہیں۔ منجملہ شرک کے قدریہ فرقہ کا یہ قول بھی ہے کہ بندہ اپنے افعال کا خالق ہے ‘ توحید خالص تو اہل سنت کا قول ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں۔ بلکہ مسبب کی طرف سے غافل ہو کر اسباب پر نظر رکھنا (اور عملی طور پر اسباب کو ہی کارساز قرار دینا) بھی شرک کی قسم ہے۔ اہل توحید صرف صوفیاء ہیں (جن کی نظر اسباب پر نہیں بلکہ ہر وقت مسبب پر ہوتی ہے۔ مترجم) ۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

افامنوا ان یاتیھم غاشیۃ من عذاب اللہ او تاتیھم الساعۃ بغتۃ وھم لا یشعرون سو کیا پھر بھی ان کو اس بات کا خوف نہیں کہ اللہ کے عذاب کی کوئی آفت ان پر آپڑے جو ان کو گھیر لے یا اچانک ان پر قیامت آجائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ یعنی کیا یہ اپنے رب کو بھول گئے اور مطمئن ہوگئے کہ کوئی چھا جانے والا عذاب خداوندی ان پر آجائے۔ قتادہ نے غاشِیَۃ کا ترجمہ کیا : پڑنے والی آفت اور ضحاک نے کہا : اس سے مراد ہیں : آسمانی بجلیاں اور غیبی حوادث۔ بَغْتَۃً اچانک ‘ جس کی پہلے سے نہ کوئی علامت ہو ‘ نہ علم ‘ نہ وقت معین ہو۔ وَھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ اور وہ بیخبر ہوں ‘ اس کیلئے تیار بھی نہ ہوں۔ اَفَاَمَنُوْا میں استفہام انکاری ہے یعنی ان کیلئے یہ خدا فراموشی اور عذاب سے بےخوفی مناسب نہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : لوگ بازاروں میں مشغول ہوں گے کہ ایک سخت چیخ لوگوں کو ہیجان میں ڈال دے گی۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو آدمی (بائع اور مشتری) کپڑا پھیلائے ہوئے (سودا کرنے میں مشغول) ہوں گے کہ قیامت آجائے گی ‘ نہ خریدو فروخت کرسکیں گے نہ کپڑے کو لپیٹ سکیں گے۔ یہ حدیث اور قیامت کی تشریح سورة اعراف کی آیت یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرسَاھا الخ کی تفسیر کے ذلیل میں کردی گئی ہے۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں

قل ھذہ سبیلی ادعو الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعني وسبحن اللہ وما انا من المشرکین (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ یہ (توحید اور آخرت کی تیاری کی دعوت) میرا راستہ ہے میں (لوگوں کو) اللہ کی طرف بلاتا ہوں ‘ میں بھی دلیل پر قائم ہوں اور وہ لوگ بھی جو میرے پیرو ہیں اور اللہ (ہر طرح کے نقص اور) شرک سے پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ سَبِیْلِیْ میرا طریقہ ‘ میرا راستہ۔ اَدًعُوْٓ اِلَی اللّٰہِ یہ سبیلی کی تشریح ہے ‘ یعنی میں اللہ کی ہستی اور اس کی توحید پر ایمان لانے اور ہر نامناسب وصف سے اس کو پاک سمجھنے اور اسی کے قرب کی طلب کرنے کی طرف لوگوں کو بلاتا ہوں۔ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ بصیرت سے مراد ہے : یقین اور معرفت ‘ یعنی میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو خود تراشیدہ خیالات کو مانتے ہیں جن کا ان کو خود کوئی علم نہیں ہوتا۔ یا بصیرت سے مراد ہے : بیان اور واضح ‘ روشن دلیل۔ وَمَنِ اتَّبِعَنِيْ یعنی جو لوگ مجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور میری تصدیق کرتے ہیں ‘ وہ بھی اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ کلبی اور ابن زید نے کہا : رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرنے والوں پر لازم ہے کہ جس راستے کی طرف رسول اللہ ﷺ نے دعوت دی ہے ‘ اس کی طرف وہ بھی لوگوں کو بلائیں اور قرآن کا ذکر کرتے رہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں اور میرا اتباع کرنے والے بصیرت پر ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مَنِ اتَّبِعَنِيْ سے صحابہ کرام مراد ہیں۔ صحابہ راہ ہدایت پر تھے ‘ معدن علم تھے ‘ کنز ایمان تھے اور اللہ کا لشکر تھے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جو سنت پر چلنا چاہے وہ مردوں کے طریقے پر چلے ‘ یعنی صحابۂ رسول ﷺ کے راستہ پر چلے۔ صحابہ کا گروہ اس امت میں سب سے زیادہ پاک باطن گروہ تھا جن کا علم بہت گہرا تھا اور بناوٹ بالکل نہ تھی۔ اللہ نے اپنی نبی ﷺ کی رفاقت اور اپنے دین کی اشاعت کیلئے ان کا انتخاب کیا تھا ‘ وہ راہ مستقیم پر گامزن تھے۔ تم لوگ انہیں کے اخلاق اور زندگی کے طریقوں کو اختیار کرو اور انہیں سے مشابہت پیدا کرو۔ وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ یعنی میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور شرک سے اس کے پاک ہونے کا اعتراف و اقرار کرتا ہوں۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحي الیھم من اھل القری اور آپ سے پہلے ہم نے مختلف بستیوں والوں میں جتنے رسول بھیجے (اور) جن کو وحی بھیجتے رہے ‘ وہ سب آدمی ہی تھے (فرشتے نہیں تھے) یہ تردید ہے کافروں کے اس قول کی کہ ہمارا رب چاہتا تو ملائکہ کو ہدایت کیلئے اتار دیتا۔ نُوْحِيْٓ اِلَیْھِمْ یعنی جس طرح آپ کے پاس وحی بھیجی ‘ اسی طرح ان پیغمبروں کے پاس بھی وحی بھیجتے رہے جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز ہوگئے۔ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی یعنی وہ قصبوں اور بستیوں کے رہنے والے تھے ‘ صحرائی خانہ بدوش نہ تھے۔ صحرائی لوگ بدخلق ‘ اکھڑ اور درشت خو ہوتے ہیں اور بستیوں ‘ شہروں والے دانش مند ‘ ذی علم اور حلیم الطبع ہوتے ہیں۔ حسن بصری نے کہا : اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ نے نہ کسی جن کو پیغمبر بنایا ‘ نہ کسی عورت کو ‘ نہ کسی خانہ بدوش صحرائی کو۔ میں کہتا ہوں : اس آیت سے نبوت جن کی نفی نہیں ہوتی (رجال جنات میں سے بھی ہوتے ہیں) اللہ نے فرمایا : کَانَ رَجَالٌ مِنَ الْاِنْس یَعُوْذُوْنَ برجال من الجنّ ۔ اس کے علاوہ اس جگہ انسانوں کے پاس پیغمبر بھیجنے کا ذکر ہے ‘ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جنات کے پاس جن کو پیغمبر بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ اللہ نے خود فرمایا ہے : لَوْ کَانَ فِی الْاَرْضِ مَلاَءِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَءِنِیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَکًا رَسُوْلاً ۔ افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم ولدار الاخرۃ خیر للذین اتقوا افلا تعقلون تو کیا یہ لوگ ملک میں کہیں چلے پھرے نہیں کہ (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا کیسا برا انجام ہوا جو ان سے پہلے (کافر) ہو گذرے ہیں اور آخرت کا گھر ان لوگوں کیلئے بہت ہی اچھا ہے جو (گناہوں سے) بچتے ہیں۔ سو کیا تم اتنا نہیں سمجھتے ؟ یعنی آپ کی تکذیب کرنے والے مشرک ملک میں چل پھر کر اتنا نہیں دیکھتے کہ پہلے پیغمبروں کو اور ان کے معجزات کو جھوٹا قرار دینے والوں کا کیسا برا نتیجہ ہوا۔ ان کے برے انجام کو دیکھ کر ان کو عبرت حاصل کرنا اور آپ کی تکذیب نہ کرنا چاہئے تھا۔ یا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیا میں ڈوبے ہوئے ہیں اور آخرت کی طرف سے غافل ہو کر دنیا پر ٹوٹے پڑتے ہیں ‘ ان کا انجام کیا ہوا ‘ اس کو دیکھنے کیلئے دیدۂ عبرت نگاہ کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ پچھلے دنیا پرستوں کا کیا انجام ہوا اور اللہ نے اپنے دوستوں اور اطاعت شعار بندوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ دنیا میں نازل شدہ عذاب سے ان کو بچا لیا اور آخرت میں جو کچھ ان کو دیا جائے گا ‘ وہ اس دنیا سے کہیں بہتر ہوگا۔ عقل سے کام لینے کی اور یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخرت ہی بہتر ہے۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا

حتی اذا استایئس الرسل وظنوا انھم قد کذبوا جآء ھم نصرنا فنجي من نشآء ولا یرد باسنا عن القوم المجرمین یہاں تک کہ جب پیغمبر (اس بات سے) مایوس ہوگئے اور ان پیغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی تو ان کو ہماری مدد پہنچی پھر اس عذاب سے ہم نے جس کو چاہا ‘ وہ بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں لوٹایا جاتا۔ حَتّآی اِذَا اسْتَایْءَسَ الرُّسُلُ کا تعلق سابق آیت وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ الاَّ رِجَالاً سے ہے ‘ یعنی ہم نے آپ سے پہلے آدمیوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی امتوں نے ان کی تکذیب کی ‘ یہاں تک کہ جب وہ ناامید ہوگئے الخ۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس کا تعلق محذوف کلام سے ہے ‘ اصل کلام یوں تھا کہ ان کافروں کو اس بات سے فریب خوردہ نہ ہونا چاہئے کہ اتنے زمانے تک ان پر عذاب نہیں آیا اور اب تک تباہی سے بچے ہوئے ہیں کیونکہ ان سے پہلے لوگوں (مثلاً امت نوح وغیرہ) کو بڑی طویل مہلتیں دی جا چکی ہیں یہاں تک کہ پیغمبر بھی ان کے ایمان کی طرف سے مایوس ہوگئے تھے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ باوجود کفر میں ڈوب جانے کے یہ لوگ عیش و آرام میں ہیں ‘ مدت دراز سے چین و راحت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا کچھ نہیں بگڑا۔ قَدْ کُذِبُوْا کا معنی بظاہر یہی ہے کہ پیغمبروں کو گمان ہوگیا کہ اللہ نے جو ہم سے وعدہ کیا تھا ‘ اس کے خلاف کیا ‘ وعدہ پورا نہیں کیا۔ چونکہ یہ معنی غلط ہے ‘ اسی لئے حضرت عائشہ نے کُذِبُوْا کی قراءت کا انکار کردیا اور کُذِبُوْا کی جگہ کُذِّبُوْا پڑھا۔ مگر کُذِبُوْا کی قراءت متواتر ہے خواہ حضرت عائشہ کو اس کا علم نہ ہو۔ البتہ ظاہری معنی نہیں ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر قوم کے ایمان کی طرف سے مایوس ہوگئے اور انہوں نے خیال کرلیا کہ قوم نے جو ہم سے ایمان کا وعدہ کیا ‘ وہ غلط کیا ‘ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ پیغمبروں نے گمان کرلیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی ‘ ہم سمجھتے تھے کہ ہماری مدد (بہت جلد) کی جائے گی مگر ہمارا یہ فہم غلط تھا۔ یا ظنوا کی ضمیر کافروں کی طرف راجع ہے ‘ یعنی یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ کافر خیال کرنے لگے کہ پیغمبروں نے جو ہم کو توحید کی دعوت دی تھی اور بصورت خلاف ورزی عذاب کی دھمکی دی تھی ‘ وہ غلط تھی ‘ ہم سے جھوٹ کہا گیا تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ پیغمبروں پر ایمان لانے والوں کو خیال ہوگیا کہ پیغمبروں نے جو ہم سے فتح و نصرت کا اور کافروں کی ہلاکت کا وعدہ کیا تھا ‘ وہ غلط نکلا ‘ کچھ معاملہ گڑبڑ ہوگیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس کے نزدیک آیت کا ظاہری مطلب ہی مراد ہے۔ پیغمبر بھی بشر تھے اور بےتقاضائے بشریت ان کو گمان ہونے لگا کہ ہم سے جو فتح و نصرت کا وعدہ کیا گیا تھا ‘ وہ غلط نکلا۔ یہ گمان پیغمبروں کے ضعف قلب اور تقاضائے بشریت کا نتیجہ تھا۔ پھر حضرت ابن عباس نے یہ آیت پڑھی : حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ ٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ یہاں تک کہ پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے لوگ کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ یہ مطلب وہی ہے جس کا حضرت عائشہ نے انکار کردیا (اور اسی وجہ سے کُذِبُوْا کی قراءت کا بھی انکار کردیا) ۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اگر صحیح روایت سے حضرت ابن عباس کا یہ قول ثابت ہوجائے تو اس وقت ظن سے مراد ہوگا : وسوسہ اور بےاختیار دل میں پیدا ہونے والا خیال۔ طیبی نے لکھا ہے : روایت صحیح ہے۔ بخاری نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ آیت کا (حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ) تمثیلی معنی مراد ہے ‘ طول مہلت اور نزول عذاب میں انتہائی تاخیر کو بطور تمثیل بیان کیا گیا ہے۔ کُذِبُوْا بغیر تشدید ذال کے کو فیوں کی قراءت ہے ‘ دوسرے لوگوں کی قراءت کُذِّبُوْا بتشدید ذال ہے ‘ یعنی پیغمبروں کو یقین ہوگیا کہ کافروں نے ان کی ایسی تکذیب کی ہے کہ اس کے بعد ایمان لانے کی امید نہیں رہی۔ قتادہ نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ پیغمبر جب تکذیب کرنے والوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے اور انہوں نے گمان کرلیا کہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ‘ ان کو بھی جھوٹا کردیا گیا اور سخت شدائد میں مبتلا ہونے اور امداد میں تاخیر کی وجہ سے ان میں بھی تزلزل پیدا ہوگیا اور وہ بھی ایمان سے پھرجائیں گے۔ مَنْ نَّشَاءُ سے مراد ہیں : انبیاء اور ان کے ساتھی اہل ایمان۔ چونکہ انبیاء اور ان کے ساتھی مستحق نجات تھے اور کسی دوسرے کے نجات پانے کا گمان بھی نہیں ہوسکتا ‘ اسلئے صراحۃً ان کا ذکر نہیں کیا گیا اور مبہم طور پر مَنْ نَّشَاء فرما دیا۔ وَلاَ یُرَدُّ بَاسُنَا باس عذاب ‘ یعنی آیا ہوا اللہ کا عذاب لوٹایا نہیں جاتا۔ میں کہتا ہوں : ممکن ہے مَنْ نَّشَاءُ سے بعض مؤمن مراد ہوں اور کافروں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بعض مؤمن عذاب سے ہلاک کر دئیے گئے ہوں ‘ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَ نُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً اور اس عذاب سے ڈرو جو صرف انہیں لوگوں پر نہیں آئے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

لقد کان في قصصھم عبرۃ لاولی الالباب ان (انبیاء اور ان کی امتوں کے یا حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں) کے قصے میں عقل والوں کیلئے بڑی عبرت ہے۔ یعنی ان دانش مندوں کیلئے عبرت ہے جن کی عقلیں سلیم اور محسوس پرستی کی طرف میلان سے پاک ہیں۔ قید چاہ سے مرتبۂ شاہ پر فائز کرنا اور بوریا سے اٹھا کر تخت شاہی پر پہنچانا بڑا عبرت آفریں ہے۔ صبر کا انجام سلامتی اور عزت ہے اور فریب کا نتیجہ رسوائی اور ندامت ہے۔ ما کان حدیثا یفتری ولکن تصدیق الذی بین یدیہ و تفصیل کل شيء وھدی ورحمۃ لقوم یومنون یہ (قرآن) نہیں ہے تراشی ہوئی بات (کہ اس سے عبرت و نصیحت نہ ہو) بلکہ اس سے پہلے کی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور ہر (ضروری بات کی تفصیل کرنے والا ہے اور ایمان والوں کیلئے ذریعۂ ہدایت و رحمت ہے۔ یُفْتَرٰی ازخود گڑھی ہوئی ‘ تراشی ہوئی۔ اَلَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے مراد ہے : توریت و انجیل۔ کُلِّ شَیْءٍ سے مراد ہے : ہر ضروری دینی بات جس کی بندوں کو حاجت ہوتی ہے۔ ہر دینی امر کا ثبوت قرآن سے ملتا ہے خواہ براہ راست یا (حدیث کو اجماع اور اجتہاد کے) واسطہ سے۔ جو مسئلہ حدیث سے ثابت ہے ‘ وہی قرآن سے بھی ثابت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَِمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلِ الاَّ لِیْطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ہم نے ہر پیغمبر کو اسلئے بھیجا کہ بحکم خدا اس کی اطاعت کی جائے۔ اَطِیْعُوْا اللّٰہِ وَاطِیْعُوْا الرَّسُوْل اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔ مَآ ٰاتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہٗ فَانْتَھُوْا رسول اللہ جو کچھ تم کو دے دیں ‘ لے لو اور جس چیز سے روک دیں ‘ رک جاؤ۔ جو مسئلہ اجماع سے ثابت ہے ‘ وہی قرآن سے بھی ثابت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَمَنْ یُّشَافِقِ الرَّسُوْلُ مِن کَعْدِمَا تَبَلَنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِہٖ مَا تَوَلّٰی ہدایت ظاہر ہونے کے بعد جو شخص رسول ﷺ سے کٹ جائے گا اور اہل ایمان کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ پر چلے گا تو ہم اس کو اسی کے اختیار کردہ راستہ پر چلنے دیں گے اور جو مسئلہ قیاس سے ثابت ہے ‘ وہ بھی قرآن سے ہی ثابت ہے۔ ا اللہ نے فرمایا ہے : فَاعتبِرُوْا یَا اُولی الْاَبْصَارِ اے عقل والو ! نصیحت حاصل کرو ‘ عبرت پکڑو۔ چونکہ اہل ایمان ہی قرآن سے نفع اندوز ہوتے ہیں ‘ اس لئے انہی کا خاص طور پر ذکر کیا (اگرچہ قرآن کی راہنمائی ہر شخص کے لئے عام ہے) ۔ شیخ ابو منصور ماتریدی نے فرمایا : حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں رسول اللہ ﷺ کیلئے صبر کی تلقین ہے۔ حضرت یوسف کے بھائی تو حضرت یوسف کے ساتھ دین میں موافق تھے اور سب ایک باپ کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف کے ساتھ انہوں نے بدسلوکی کی اور حضرت یوسف نے صبر کیا اور دانستہ ان کی خطاؤں سے درگذر کی اور معاف کردیا ‘ پس آپ کو تو اپنی قوم کی ایذاء رسانیوں پر زیادہ صبر کرنا چاہئے ‘ آپ کی قوم تو کافر اور جاہل ہے۔ وہب کا قول ہے کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ‘ اس میں قرآن کی طرح پوری سورت یوسف نازل فرمائی۔ الحمد اللہ یکم صفر 1202 ھ ؁ کو سورة یوسف کی تفسیر ختم ہوئی۔ بحمدا اللہ 15؍ رمضان 1386 ھ ؁ کو تفسیر سورة یوسف کا ترجمہ ختم ہوا۔