12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا

وجآءت سیارۃ ایک قافلہ ادھر آ گذرا۔ یہ لوگ مدین سے مصر کو جا رہے تھے۔ غلط راستے پر پڑگئے تھے تو کنویں کے قریب اتر پڑے۔ کنواں چرواہوں اور راہ گیروں کیلئے آبادی سے دور تھا۔ اس کا پانی شور تھا ‘ جب حضرت یوسف کو اس میں ڈالا گیا تو اس کا پانی میٹھا ہوگیا۔ فارسلوا واردھم (جب کنویں کے پاس اترے) تو ایک ہر اوّل کو (کنویں سے پانی لینے کیلئے) بھیجا۔ یہ شخص مدین کا باشندہ تھا جس کا نام مالک بن وعر تھا۔ وارد اس شخص کو کہتے ہیں جو قافلہ کے آگے پانی کی تلاش میں بطور ہر اوّل جاتا ہے۔ فادلی دلوہ اس نے (جا کر) اپنا ڈول (کنویں میں) لٹکایا۔ ادْلاَء الدَّلِو کنویں میں ڈول ڈالنا۔ اَدْلَیْتُ الدلو میں نے کنویں میں ڈول ڈالا۔ دَلَوْتُ الدَّلْوَ میں نے کنویں سے ڈول نکالا۔ حضرت یوسف رسی کو پکڑ کر لٹک گئے اور اوپر آگئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک حسین ترین لڑکا برآمد ہوا تو تعجب میں پڑگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حضرت یوسف کو (سارے انسانوں کے) حسن کا آدھا حصہ دیا گیا تھا۔ رواہ ابن ابی شیبہ واحمد وابویعلی والحاکم عن انس۔ بغوی نے لکھا ہے : حضرت یوسف میں یہ حسن ان کی دادی حضرت سارہ کا منتقل ہو کر آیا تھا ‘ حضرت سارہ کو (کل) حسن کا چھٹا حصہ اللہ کی طرف سے ملا تھا۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف اور ان کی والدہ کے حصے میں دو تہائی حسن آگیا تھا۔ مالک بن وعر نے جب حضرت یوسف کو دیکھا تو قال یبشری بولا : اے لوگو ! (تم کو) بشارت ہو۔ یا فرط مسرت میں اس نے بشارت کو پکارا۔ بعض علماء نے کہا : بشری اس کے ساتھی کا نام تھا۔ مدد کرنے کے لئے مالک نے بشری کو پکارا تھا۔ ھذا غلم یہ تو لڑکا ہے۔ مجاہد نے اپنے باپ کا قول بیان کیا کہ جب حضرت یوسف کنویں سے نکال لئے گئے تو کنواں رونے لگا۔ واسروہ اور انہوں نے یوسف کو چھپائے رکھا۔ یعنی مالک اور اس کے ساتھیوں نے دوسرے قافلے والوں سے حضرت یوسف کو چھپالیا تاکہ وہ شرکت کے دعویدار نہ بن جائیں۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ حضرت یوسف کے معاملے کو ان لوگوں نے چھپالیا اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ کنویں پر رہنے والوں نے ہم کو یہ لڑکا دیا ہے تاکہ ان کی طرف سے مصر میں لے جا کر اس کو فروخت کردیں۔ بعض علماء نے کہا کہ برادران یوسف نے حضرت یوسف کی بات قافلہ والوں سے پوشیدہ رکھی (اور حضرت یوسف کو بھائی نہیں بتایا) بات یہ ہوئی کہ یہودا روز حضرت یوسف کا کھانا لاتا تھا۔ ایک روز جو کھانا لایا اور حضرت یوسف کو کنویں میں نہ پایا تو بھائیوں کو جا کر اطلاع دی تو بھائی ڈھونڈنے نکلے۔ تلاش کرتے کرتے مالک کے پاس حضرت یوسف دستیاب ہوئے۔ انہوں نے قافلے والوں سے اصل بات چھپالی اور حضرت یوسف کو اپنا بھائی ظاہر کرنے کے بجائے کہنے لگے : یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھائیوں نے حضرت یوسف کو بھی ڈرا دھمکا دیا تھا۔ بھائیوں کے ڈر سے حضرت یوسف کچھ نہ بولے ‘ خاموش رہے۔ بضاعۃ یعنی یوسف کو بطور مال تجارت چھپائے رکھا۔ بضاعت ‘ بضع سے مشتق ہے۔ بضع تجارتی مال کو کہتے ہیں۔ وا اللہ علیم بما یعملون اور وہ جو کچھ کر رہے تھے ‘ اللہ اس سے بخوبی واقف تھا۔ اس سے ان کی کوئی پوشیدہ بات بھی مخفی نہیں تھی۔ یا برادران یوسف اپنے باپ اور بھائی سے جو سلوک کر رہے تھے ‘ اللہ اس سے واقف تھا۔
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا

وشروہ بثمن بخش دراھم معدودۃ انہوں نے (یعنی برادران یوسف نے) یوسف کو حقیر قیمت یعنی گنتی کے چند درہموں میں بیچ ڈالا۔ بعض اہل علم نے شروہ کا ترجمہ اشترو کیا ہے ‘ یعنی قافلے والوں نے حضرت یوسف کو بہت کم قیمت یعنی چند درہموں میں خرید لیا۔ ضحاک ‘ مقاتل اور سدی نے بخس کا ترجمہ کیا ہے : حرام ‘ کیونکہ آزاد انسان کی قیمت حرام ہے۔ بخس کا لغوی معنی ہے : کم کرنا ‘ گھٹانا۔ مال حرام کی برکت گھٹ جاتی ہے ‘ اسلئے حرام کو بخسکہا۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے بخس کا ترجمہ کیا : کھوٹے۔ عکرمہ اور شعبی نے ترجمہ کیا : قلیل ‘ تھوڑے۔ کیونکہ اگر اوقیہ کے برابر درہم ہوتے تو وزن سے بکتے اور خریدے جاتے تھے اور اوقیہ سے کم کا تبادلہ گنتی سے ہوتا تھا۔ حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن مسعود اور قتادہ نے فرمایا : بیس درہم کو فروخت کردیا۔ ہر بھائی کے حصے میں دو دو درہم آئے۔ عکرمہ نے کہا : چالیس درہم کو بیچا اور مجاہد نے بائیس درہم کی صراحت کی۔ وکانوا فیہ من الزاھدین اور وہ (برادران یوسف یا خریدار) یوسف کی طرف سے بےرغبت تھے۔ ان کو معلوم ہی نہ تھا کہ حضرت یوسف کا مرتبہ اللہ کے نزدیک کتنا بڑا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے فیہ کی ضمیر کو ثمن کی طرف لوٹایا ہے ‘ یعنی حضرت یوسف کی قیمت کی ان کو رغبت نہ تھی۔ ان کا مقصد حصول قیمت نہ تھا بلکہ حضرت یوسف کو دور پھینک دینا تھا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ کانوا کی ضمیر اگر قافلے والوں کی طرف راجع کی جائے تو دو صورتیں ہیں : قافلہ والوں نے بےرغبتی سے خریدا تھا ‘ حضرت یوسف کی طرف راغب نہ تھے کیونکہ ان کو معلوم ہوگیا تھا کہ یہ بھاگا ہوا غلام ہے اور اگر قافلہ والوں کو بائع قرار دیا جائے (کیونکہ مصر میں لے جا کر انہوں نے حضرت یوسف کو فروخت کردیا تھا) تو یہ مطلب ہوگا کہ چونکہ انہوں نے مفت میں حضرت یوسف کو پا لیا تھا ‘ ان کو آپ کی قدر نہ تھی اور اندیشہ نہ تھا کہ کوئی دعویدار نہ پیدا ہوجائے ‘ اسلئے جلدی فروخت کرنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد مالک اور اس کے ساتھی حضرت یوسف کو لے کر روانہ ہوگئے۔ بھائیوں نے پھر بھی پیچھا نہ چھوڑا ‘ پیچھے ہو لئے اور خریداروں سے کہنے لگے : مضبوطی کے ساتھ اس کی حفاظت کرنا ‘ کہیں بھاگ نہ جائے۔ مالک آپ کو لے کر مصر پہنچا اور فروخت کیلئے پیش کیا۔ قطفیر نے آپ کو خرید لیا۔ یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا نام اطفیر بتایا ہے۔ یہ بادشاہ کا نائب اور شاہی خزانہ کا سب سے بڑا آفسیر تھا ‘ اس کا خطاب عزیز تھا۔ اس زمانہ میں مصر اور اطراف مصر کا بادشاہ ریان بن ولید بن ثروان عملیقی تھا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ بادشاہ اپنی موت سے پہلے حضرت یوسف کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا تھا اور مذہب یوسفی کا پابند ہوگیا تھا اور آپ کی زندگی میں اس کا انتقال ہوگیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب حضرت یوسف مصر میں داخل ہوئے تو قطفیر نے مالک بن وعر سے مل کر حضرت یوسف کو بیس دینار یا ایک جوڑے جوتے اور دو سفید کپڑوں کے عوض خرید لیا۔ وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ قافلہ حضرت یوسف کو لے کر مصر کے بازار میں پہنچا اور فروخت کیلئے آپ کو پیش کیا تو لوگوں نے بڑھ چڑھ کر قیمت لگائی یہاں تک کہ آپ کے وزن کے برابر سونا اور اتنی ہی چاندی اور اتنے وزن کا ریشمی کپڑا اور اتنا ہی مشک آپ کی قیمت قرار پائی۔ آپ کی عمر 13 سال تھی اور وزن چار سو رطل تھا۔ آخر اس قیمت پر قطفیر نے آپ کو مالک سے خرید لیا۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وقال الذی اشتراہ من مصر لامراتہ اور مصر کے جس شخص نے یوسف کو خریدا تھا ‘ اس نے اپنی بیوی راعیل یا زلیخا سے کہا : اکرمی مثوں ہ اس کو خاطر سے رکھنا۔ مثوٰی ٹھہرنے کی جگہ ‘ اس جگہ مراد مرتبہ ہے۔ قتادہ کا یہی قول ہے۔ ابن جریج نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ بعض نے کہا : مثوٰی سے مراد ہے : غذا ‘ لباس اور مکان۔ عسی ان ینفعنا امید ہے کہ یہ ہم کو فائدہ پہنچائے۔ یعنی اگر ہم اس کو فروخت کریں تو نفع مل جائے اور اگر نہ فروخت کریں تو ہمارے مال ‘ جائیداد اور دوسرے کاموں کا انتظام کرلے۔ او نتخذہ ولدا یا (بیٹا بنانا ہو تو) ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے (کیونکہ اس کے اندر ہم کو ہوشیاری کی علامات دکھائی دے رہی ہیں) عزیز مصر لاولد اور ناقابل تولید تھا۔ وکذالک مکنا لیوسف فی الارض اور (جس طرح ہم نے یوسف کو قتل سے بچایا ‘ کنویں سے نکلوایا اور عزیز کو اس پر مہربان بنایا) اسی طرح ہم نے اس کو ملک مصر میں جماؤ عطا کیا (اور مصر کی ساری پیداوار کا اس کو حاکم اعلیٰ بنا دیا) ۔ ولنعلمہ من تاویل الاحادیث (تاکہ وہ وہاں انصاف کے ساتھ حکومت کرے) اور تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھا دیں۔ یعنی حضرت یوسف کو بچانے اور حکومت عطا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ انصاف کے ساتھ حکومت کرے اور عدل کے ساتھ انتظام خلق کرے اور اللہ کی کتابوں کی صحیح تعلیم دے اور اللہ کے احکام کو جاری کرے (اس مطلب پر تاویل احادیث سے مراد ہوگی : کتب الٰہیہ کی تعلیم اور اللہ کے احکام کا اجراء) یا اس سے خوابوں کی تعبیر مراد ہے ‘ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ حضرت یوسف کو ان خوابوں کی تعبیر سکھا دیں جو آئندہ ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں تاکہ ان کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے حضرت یوسف ان کیلئے تیار ہوجائیں اور پہلے سے انتظام کرلیں (جیسے قحط کے سات سال بادشاہ نے خواب میں سات دبلی گایوں کی شکل میں دیکھے تھے اور حضرت یوسف کو اللہ نے ان کی تعبیر بتادی تھی ‘ پھر آپ نے کال پڑنے سے برسوں پہلے غذا کا سٹاک کرنا شروع کردیا تھا اور جب کال پڑا تو اندوختہ غلّہ ملک میں تقسیم کیا اور اس طرح قحط پر قابو پایا) ۔ بعض علماء کے نزدیک ولنعلمہ کا عطف فعل محذوف پر نہیں ہے بلکہ واؤ زائد ہے۔ وا اللہ غالب علی امرہ اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔ امرہٖ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘ اس کے حکم کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔ یا حضرت یوسف کی طرف ضمیر لوٹ رہی ہے ‘ یعنی حضرت یوسف کے بھائی حضرت یوسف کے متعلق کچھ اور چاہتے تھے اور اللہ کچھ اور چاہتا تھا اور ہوا وہی جو اللہ چاہتا تھا۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون لیکن اکثر لوگ اللہ کی حکمت کی باریکیوں کو نہیں جانتے اور اس کی مخفی مہربانیوں سے ناواقف ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ کہ اللہ جو کچھ چاہتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے ‘ اس سے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔
Ayah 12:22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

ولما بلغ اشدہ اتینہ حکما وعلما اور جب یوسف اپنی بھرپور جوانی اور قوت کو پہنچ گئے تو ہم نے ان کو حکم اور علم عطا کیا۔ اشد انتہائی جوانی اور قوت۔ مجاہد نے کہا : 33 سال کی عمر۔ سدی نے کہا : 30 سال کی عمر ‘ یہی سن وقوف ہے۔ ضحاک نے کہا : 20 سال۔ کلبی نے کہا : اشد کی عمر 18 سے 30 سال کے درمیان ہوتی ہے۔ امام مالک سے اشد کا ترجمہ پوچھا گیا تو فرمایا : سمجھ اور دانش۔ حکم سے مراد ہے : نبوت۔ بعض نے کہا : درستئ قول۔ علم سے مراد ہے : دینی سمجھ یا خواب کی تعبیر کا علم۔ بعض اہل علم نے کہا : حکیم اور عالم کے درمیان فرق یہ ہے کہ عالم تو جاننے والے کو کہتے ہیں اور حکیم وہ ہوتا ہے جو علم کے تقاضے کے مطابق عمل بھی کرے۔ وکذلک نجزی المحسنین اور اسی طرح نیکوکاروں کو ہم بدلہ دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس کے ایک قول میں محسنین کا ترجمہ مؤمنین آیا ہے۔ دوسرے قول میں آیا ہے کہ محسنین سے مراد ہیں : ہدایت یافتہ لوگ۔ ضحاک نے کہا : مصائب پر صبر کرنے والے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ اللہ نے حضرت یوسف کو یہ جزاء ان کے حسن عمل اور عنفوان جوانی میں متقی رہنے کی دی تھی۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے

وراودتہ التی ھو فی بیتھا عن نفسہ وغلقت الابواب اور یوسف جس عورت کے گھر میں تھے ‘ اس عورت نے اپنا مطلب ان سے حاصل کرنے کیلئے ان کو پھسلایا اور دروازے بند کر دئیے۔ راودت کا مصدر مراودت ہے۔ اس کا مجرد رادیرود آتا ہے۔ رودٌ کا مادہ ہے ‘ رودٌ کا معنی ہے : کسی چیز کی طلب میں آنا جانا۔ اسی سے رائد بنا ہے (قافلہ یا لشکر سے پہلے پانی اور گھاس کی تلاش میں جانے والا ہر اوّل) بعض نے کہا : آہستگی کے ساتھ کسی چیز کے طلب کرنے کو رود کہتے ہیں۔ رُوَیْدَ (کچھ ڈھیل دو ) اسی سے بنا ہے ‘ یہاں مراد یہ ہے کہ زلیخا نے تدبیر اور بہانے سے حضرت یوسف سے اپنے مطلب کی درخواست کی۔ زلیخا عزیز کی بیوی تھی۔ دروازے سات تھے۔ تغلیق خوب مضبوط یا بکثرت۔ دروازے بند کر دئیے ‘ باب تفعیل ‘ تکثیر یا مبالغہ کیلئے آیا ہے۔ وقالت ھیت لک اور کہا : آجاؤ ‘ تمہیں سے کہتی ہوں۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے ھَیْتَ لَکَ ہی پڑھایا تھا۔ کسائی نے کہا : یہ اہل حوران کا محاورہ تھا جو حجاز میں مستعمل ہوگیا تھا۔ کسائی کا یہ قول ابو عبیدہ نے نقل کیا ہے ‘ اس کا معنی ہے : آ۔ عکرمہ نے بھی کہا کہ حورانی محاورہ میں اس کا معنی آ ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ عربی لفظ ہے ‘ کسی چیز کی ترغیب دینے کیلئے بولا جاتا ہے گویا یہ اسم بمعنی فعل ہے اور اَیْنَ کی طرح مبنی بر فتح ہے ‘ اس کا نہ تثنیہ آتا ہے نہ جمع۔ کذا قال ابو عبیدۃ۔ قاموس میں ہے : ھَیْتَ ‘ ھَیْتِ ‘ ھَیْتُ تینوں حرکات کے ساتھ آتا ہے ‘ اس کا معنی ہے : آ۔ کبھی ہا کو مکسور بھی بولا جاتا ہے۔ قال معاذ اللہ یوسف نے (اس وقت زلیخا سے) کہا : میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں (اس بری حرکت سے) ۔ انہ ربی احسن مثوای بلاشبہ وہ میرا آقا ہے ‘ اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ اِنَّہٗ میں ضمیر شان ہے ‘ یعنی بات یہ ہے کہ میرے آقا قطفیر نے میری خاطر مدارات اور پرداخت اچھی طرح کی ہے۔ اس نے تجھ سے بھی کہا تھا کہ اس کی خاطر اچھی طرح کرنا۔ ایسے محسن کا بدلہ یہ تو نہیں کہ میں اس کی خیانت کروں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اِنَّہٗ کی ضمیر قطفیر کی طرف راجع ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ کی طرف ضمیر راجع ہے ‘ یعنی اللہ بلاشبہ میرا خالق ہے ‘ اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنا دیا ‘ قطفیر کے دل کو مجھ پر مہربان کردیا۔ میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ انہ لا یفلح الظلمون حقیقت یہ ہے کہ ظالم فلاح یاب نہیں ہوتے۔ بھلائی کا بدلہ برائی سے دینے والے ظالم ہیں۔ بعض نے کہا : الظالمون سے مراد ہیں : زنا کرنے والے۔ زنا کرنے والے اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور اس شخص پر بھی ظلم کرتے ہیں جس کی بیوی سے زنا کرتے ہیں۔ سدی اور ابن اسحاق نے بیان کیا کہ عزیز کی بیوی نے حضرت یوسف کو جب پھسلانا چاہا تو اس کی تدبیر یہ کی کہ حضرت یوسف کے حسن کی تعریف کرنی شروع کردی ‘ کہنے لگی : یوسف ! تمہارے بال کیسے حسین ہیں۔ حضرت یوسف نے جواب دیا : (مرنے کے بعد) سب سے پہلے یہی میرے بدن سے منتشر ہوں گے۔ زلیخا نے حضرت یوسف کی آنکھوں کی تعریف کی تو فرمایا : چہرے پر بہ کر یہ سب سے پہلے آئیں گی۔ چہرے کی تعریف سن کر فرمایا : اس کو مٹی کھالے گی۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ زلیخا نے کہا : ریشمین بستر بچھا ہوا ہے ‘ اٹھو اور میرا مقصد پورا کرو۔ حضرت یوسف نے فرمایا : اگر میں ایسا کروں گا تو جنت کے اندر میرا کوئی حصہ نہ رہے گا۔ غرض اسی طرح زلیخا حضرت یوسف کو راغب کرتی رہی۔ حضرت یوسف بھی جوان تھے ‘ دوسرے لوگوں کی طرح جوانی کے تقاضے رکھتے تھے ‘ خوبصورت عورت کو دیکھ کر آپ کو بھی طبعی میلان ہوگیا۔ اسی طبعی میلان کو اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے

ولقد ھمت بہ وھم بھا عورت نے تو بلاشبہ یوسف کو مقصد بنا لیا تھا ‘ یوسف بھی اس کا ارادہ کر ہی چکے تھے۔ یعنی زلیخا کی جانب حضرت یوسف کے دل میں فطری اور طبعی میلان پیدا ہوگیا ‘ مگر آپ نے اس کو اپنے عزم سے روکا اور بازداشت کی۔ عزم اور ارادے کے ساتھ طبعی میلان کو روکنے پر لفظ معاذ اللہ دلالت کر رہا ہے۔ مراد یہ ہے کہ آپ کا ارادہ اختیاری نہ تھا ‘ میلان طبعی تھا جس کا پیدا نہ ہونے دینا انسان کے اختیار سے خارج ہے اور اس پر آدمی مکلف بھی نہیں ہے بلکہ میلان طبعی کو عزم کے ساتھ روکنے والا مستحق ستائش ہے۔ فرشتوں پر انسان کی برتری صرف اسی وجہ سے ہے کہ فرشتے فطری میلان گناہ سے خالی ہیں اور آدمی طبعی میلان نفس کو عزم سے روکتا ہے۔ شیخ ابو المنصور ماتریدی نے فرمایا : ارادۂ یوسف درحقیقت ایک خودآمدہ خیال تھا جو بےاختیار دل میں آگیا تھا اور یہ قابل گرفت نہیں۔ خود رو خیال اور غیر ارادی خطور قلبی ناقابل مؤاخذہ ہیں۔ اگر آپ کا ارادہ ہمارے ارادے کی طرح ہوتا تو اللہ آپ کی تعریف نہ کرتا اور آپ کے متعلق اِنَّہٗ منْ عبَادِنَا الْمُخْلَصِیْن نہ فرماتا۔ بعض اہل حقائق نے کہا : ارادہ دو قسم کا ہوتا ہے (1) ارادۂ محکم ‘ یعنی عزم راسخ اور غیر متزلزل دل پسندی۔ عزیز کی بیوی کا ارادہ اسی طرح کا تھا ‘ یہ ارادہ قابل مؤاخذہ ہے۔ (2) عارضی ارادہ اور دل میں خیال کا گذر جانا اور غیر ارادی تصور۔ اس قسم کا ارادہ حضرت یوسف کا تھا اور یہ ناقابل مؤاخذہ ہے اور ظہور قولی اور فعلی سے پہلے اس کی پکڑ نہ ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ نے فرمایا ہے کہ جب میرا بندہ کوئی نیکی کرنے کی بات (اپنے دل میں) کرلیتا ہے تو کہے بغیر میں اس کی ایک نیکی لکھ لیتا ہوں اور جب وہ نیکی کر بھی لیتا ہے تو اس جیسی دس نیکیاں اس کیلئے لکھ دیتا ہوں۔ اگر میرا بندہ کوئی بدی کرنے کی بات (دل میں ( کرتا ہے تو جب تک اس کا عملی اظہار نہ کرے ‘ میں معاف کردیتا ہوں اور جب عملاً وہ کر ہی لیتا ہے تو میں اتنی ہی بدی (اس کے نامۂ اعمال میں) لکھ دیتا ہوں۔ رواہ البغوی من حدیث ابو ہریرۃ۔ صحیحین اور جامع ترمذی میں حدیث مذکور کے یہ الفاظ ہیں : جب میرا بندہ کسی نیکی کا ارادہ کرلیتا ہے اور کرتا نہیں تو میں اس کیلئے ایک نیکی لکھ دیتا ہوں ‘ پھر اگر وہ عملاً نیکی کر بھی لیتا ہے تو میں اس کیلئے دس سے سات سو تک نیکیاں لکھ دیتا ہوں اور اگر کسی بدی کا ارادہ کرتا ہے اور بدی عملاً نہیں کرتا تو میں اس کیلئے کچھ نہیں لکھتا اور اگر وہ بدی کر گذرتا ہے تو اس کا ایک گناہ لکھ دیتا ہوں۔ بعض لوگوں نے کہا (اور اس قول کی نسبت سعید بن جبیر جیسے متقدین کی طرف کی) کہ حضرت یوسف نے اپنے کمر بند کھول لیا تھا اور بیٹھ گئے تھے جیسے مرد (وقت حاجت) بیٹھتے ہیں یا اپنا پائجامہ کھول لیا تھا اور کپڑے سمیٹ رہے تھے۔ ھَمَّ بِھَا کا یہی معنی ہے۔ اس قسم کی غلط توجیہات کلام الٰہی کی رفتار کے خلاف ہیں ‘ اللہ نے فرمایا ہے : لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْءَ وَالْفَحْشَاءَ ۔ ظاہر ہے کہ سوء سے مراد صغیرہ گناہ ہے جس سے دور رکھنے کی اللہ نے صراحت فرمائی ہے اور قائل مذکور نے جو تفصیل کی ‘ اس سے گناہ صغیرہ کا مرتکب ہوجانا ثابت ہوتا ہے۔ اگر حضرت یوسف سے صغیرہ گناہ کا صدور ہوگیا تو اللہ ان کی توبہ و استغفار کا تذکرہ فرماتا ‘ جیسے حضرت آدم ‘ حضرت نوح ‘ حضرت داؤد اور حضرت یونس کی توبہ و استغفار کا ذکر فرمایا ہے ‘ حالانکہ ان بزرگوں سے غیر ارادی خطا ہوئی ہے (گناہ کا قصد و ارادہ نہ تھا ‘ اجتہادی غلطی تھی) اور حضرت یوسف کی توبہ و استغفار کا تذکرہ نہیں فرمایا بلکہ حضرت یوسف نے اپنی بےگناہی کی صراحت فرمائی اور فرمایا : ھِیَ رَاوَدَنْنِیْ عَنْ نَفَسِی اور فرمایا : ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بالْغَیْبِ اور فرمایا : اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ اور اللہ نے بھی آپ کے متعلق فرمایا : اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ ۔ لو لا ان را برھان ربہ اگر نہ دیکھ لیتے وہ اپنے رب کی دلیل کو۔ شرط کا جواب محذوف ہے ‘ یعنی اگر نہ دیکھ لیتے برہان رب کو تو جماع کرلیتے۔ بعض کے نزدیک لَوْلَا کا جواب مقدم ہے اور شرط مؤخر ہے۔ اس وقت مطلب اس طرح ہوگا کہ حضرت یوسف زلیخا کا ارادہ کر ہی چکے تھے اگر برہان رب کو نہ دیکھ لیتے ‘ یعنی ارادہ نہ کیا تھا ‘ قریب تھا کہ ارادہ کرلیتے۔ مگر لَوْلَا کا جواب پہلے آجانا قانون نحو کے خلاف ہے۔ لَوْلَا حروف شرط میں سے ہے ‘ اسلئے حرف شرط پر جواب کا تقدم ناجائز ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ لَوْلَا کا جواب شرط کے بعد محذوف ہو اور جواب اسی مضمون کا جو پہلے ذکر کردیا گیا چونکہ ھَمَّ بِھَا فرما دیا تھا ‘ اسلئے لَوْلَا کا دوبارہ جواب ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اسی طرح کا محاورہ عرب استعمال کرتے ہیں ‘ کہا جاتا ہے : قتلتہ لو لم اخف اللہ میں اس کو قتل ہی کرچکا تھا اگر مجھے اللہ کا خوف نہ ہوتا۔ برہان کیا تھی اور حضرت یوسف نے کیا دیکھ پایا تھا ‘ اس سلسلے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت جعفر صادق نے فرمایا : برہان وہ نبوت تھی جو اللہ نے حضرت یوسف کے سینہ میں ودیعت کردی تھی ‘ یہی نور نبوت اس عمل سے مانع ہوگیا جو اللہ کی ناراضگی کا موجب تھا۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے۔ قتادہ اور اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ حضرت یعقوب کی صورت دیکھ لی تھی ‘ حضرت یعقوب فرما رہے تھے : یوسف ! نادانوں کا جیسا عمل کر رہا ہے۔ تیرا نام تو بہ زمرۂ انبیا لکھا ہوا ہے۔ حسن اور سعید بن جبیر اور مجاہد اور عکرمہ اور ضحاک نے کہا : حضرت یوسف نے چھت میں ایک شگاف دیکھا جس کے اندر حضرت یعقوب (افسوس کے ساتھ) اپنی انگلی دانت سے کاٹتے نظر آئے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت یعقوب مجسم ہو کر سامنے آگئے اور اپنا ہاتھ حضرت یوسف کے سینہ پر مارا جس سے حضرت یوسف کا جوش ہیجان جاتا رہا۔ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن سیرین کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت یعقوب دانت سے انگلی کاٹتے کھڑے نظر آئے جو فرما رہے تھے : یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ ! تیرا نام تو انبیاء میں شامل ہے اور تو نادانوں جیسا کام کر رہا ہے۔ سدی نے کہا : حضرت یوسف کو (غیبی) نداء آئی : یوسف ! تو جب تک اس پر نہیں پڑا ہے ‘ تیری حالت اس پرندے کی سی ہے جو ہوا میں اڑ رہا ہو اور اس کو کوئی پکڑ نہ سکتا ہو اور جب تو اس پر پڑجائے گا تو تیری حالت اس پرندے کی طرح ہوجائے گی جو مر کر زمین پر گرگیا ہو کہ کسی چیز کو دفع نہ کرسکتا ہو۔ قبل از وقوع تیری حالت اس سرکش بیل کی طرح ہے جو کسی کے قابو میں نہ آسکتا ہو اور وقوع کے بعد تیری حالت اس بیل کی طرح ہوجائے گی جو مردہ پڑا ہو اور اس کے سینگوں کی جڑوں میں چیونٹیاں گھس رہی ہوں اور وہ کسی کو دفع نہ کرسکتا ہو۔ ابن جریر نے قاسم بن ابی بزہ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت یوسف کو نداء آئی : اے یعقوب کے بیٹے ! اس پرندے کی طرح نہ ہوجا جس کے پَر اچھے خاصے موجود ہیں ‘ لیکن زنا کے بعد سب گرجائیں گے۔ حضرت یوسف نے نداء کی کوئی پرواہ نہیں کی ‘ پھر اوپر کو سر اٹھایا تو حضرت یعقوب کی شکل نظر آئی جو دانت سے انگلی کاٹ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر آپ پر خوف طاری ہوگیا اور باپ سے شرما کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ مجاہد کا ایک قول بحوالۂ ابن عباس ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت جبرئیل نیچے اترے اور دانت سے اپنی انگلی کاٹتے نظر آئے جو کہہ رہے تھے : یوسف ! نادانوں جیسا کام کر رہے ہو ‘ تمہارا نام تو اللہ کے نزدیک انبیاء میں لکھا ہوا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت جبرئیل نے اپنا پَر حضرت یوسف کے بدن سے لگا دیا جس کی وجہ سے سارا جوش انگلیوں کے پوروں سے نکل گیا۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : حضرت یوسف نے جب ارادہ کیا اور چھت کی طرف سر اٹھایا تو کسی دیوار پر لکھا ہوا دیکھا : لَا تَقْرَبُوْا الزِّنَآ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاءَ سَبِیْلًا زنا کے قریب بھی نہ جاؤ __ یہ بےحیائی کا کام اور برا راستہ ہے۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس کا قول برہان رب کے متعلق نقل کیا ہے کہ حضرت یوسف نے فرشتے کی صورت دیکھ لی تھی۔ حضرت علی (زین العابدین) بن امام حسین کا قول منقول ہے کہ وہاں گھر کے اندر ایک بت تھا ‘ عورت اس پر پردہ ڈالنے کے لئے گئی۔ حضرت یوسف نے پوچھا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : مجھے شرم آئی کہ یہ مجھے اس گناہ میں مبتلا دیکھے گا۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تم کو تو ایسی چیز سے شرم آئی جو نہ سنتی ہے نہ دیکھتی ہے نہ سمجھتی ہے ‘ پھر مجھے تو بدرجۂ اولیٰ اپنے رب سے شرمانا چاہئے (جو دانا بینا ہے) یہ کہہ کر آپ بھاگ نکلے۔ کذلک لنصرف عنہ السواء والفحشاء ایسا ہی ہم نے کیا اور اس لئے کیا کہ یوسف سے چھوٹے بڑے گناہ کو پھیر دیں (گناہ کا رخ ان کی طرف سے موڑ دیں) السُّوْءَ چھوٹا گناہ۔ الْفَحْشَاء بڑا گناہ ‘ یعنی زنا۔ انہ من عبادنا المخلصین بلاشبہ وہ ہمارے منتخب بندوں میں سے تھا۔ یعنی ان بندوں میں سے تھا جن کو نبوت کے لئے چن لیا گیا تھا اور اللہ نے اپنے لئے ان کو خالص کرلیا تھا۔ اور ایک قرأت میں المخلصین بکسر لام بصیغۂ اسم فاعل آیا ہے ‘ یعنی یوسف ان بندوں میں شامل تھا جو اللہ کیلئے خالص طور پر عبادت اور طاعت کرتے ہیں۔
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے

واستبقا الباب اور دونوں (حضرت یوسف و زلیخا) دروازے کو دوڑے (حضرت یوسف آگے اور زلیخا پکڑنے کیلئے ان کے پیچھے) جب حضرت یوسف باہر نکلنے کیلئے بھاگے تو زلیخا ان کو روکنے کیلئے پیچھے سے دوڑی اور پیچھے سے کرتہ پکڑ کر کھینچا۔ الباب سے مراد ہے : آخری دروازہ جہاں سے بالکل گھر سے باہر آسکتے تھے۔ حضرت یوسف جب بھاگے تھے تو دروازوں کے قفل ٹوٹ ٹوٹ کر خود گر رہے تھے۔ آخری دروازہ پر پہنچے تو زلیخا نے کرتہ پکڑ کر کھینچا۔ وقدت قمیصہ من دبر اور عورت نے یوسف کا کرتہ پیچھے سے چیر دیا۔ قَدٌ لمبائی میں پھاڑنا ‘ قطٌّ چوڑائی میں کاٹنا یا پھاڑنا۔ والفیا سیدھا لدا الباب اور دروازہ کے بعد دونوں نے عورت کے شوہر کو پایا (جو آ رہا تھا) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ زلیخا کے چچا کے بیٹے کے ساتھ قطفیر کو بیٹھا پایا۔ بعض نے کہا : آتا پایا جو اپنے گھر میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ زلیخا یہ دیکھ کر ڈر گئی۔ قالت ما جزاء من اراد باھلک سوء الا ان یسجن او عذاب الیم (شوہر کی نظر میں اپنے کو پاک دامن ظاہر کرنے اور جذبۂ انتقام کے زیر اثر حضرت یوسف کے خلاف اس کو بھڑکانے کیلئے) عورت نے کہا : جس شخص نے آپ کی بیوی سے برے کام کا ارادہ کیا ہو (آپ کی بیوی پر بری نیت کی ہو) اس کی سزا اس کے سوا نہیں کہ اس کو قید میں ڈال دیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے یعنی کوڑے مارے جائیں۔
Ayah 12:26

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا

قالھی روادتنی عن نفسی یوسف نے کہا : اسی نے مجھے پھسلایا تھا۔ یعنی یہی مجھ سے بدکاری کی طلبگار تھی۔ چونکہ عورت نے جھوٹ باندھا تھا اور شوہر کو ترغیب دی تھی کہ حضرت یوسف کو سزائے تازیانہ دی جائے یا قید میں ڈال دیا جائے ‘ اسلئے بطور مدافعت حضرت یوسف نے یہ راز فاش کیا۔ اگر زلیخا ایسا نہ کرتی تو آپ بھی پردہ دری نہ کرتے۔ وشھد شاھد من اھلھا اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے شہادت دی۔ بعض نے کہا : یہ زلیخا کا چچا کا بیٹا تھا۔ بعض نے کہا : ماموں کا بیٹا تھا۔ سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا : شیرخوار بچہ تھا جس کو اللہ نے گویا کردیا تھا۔ بغوی نے لکھا ہے : عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بیان بھی آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چار بچے بچپن میں بولے : (1) بنت فرعون کے بال بنانے والی خادمہ کا بچہ ‘ (2) شاہد یوسف ‘ (3) جریج والا بچہ ‘ (4) عیسیٰ بن مریم۔ محمد بن محمد سعاف نے تخریج بیضاوی میں لکھا ہے کہ یہ حدیث امام احمد نے مسند میں اور ابن حبان نے صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں بیان کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے۔ حاکم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی اس کو بیان کیا ہے اور شرط شیخین کے موافق قرار دیا ہے لیکن طیبی کو اس حدیث کی صحت کی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے اس کی تردید میں وہ حدیث پیش کی ہے جو حضرت ابوہریرہ کی روایت سے صحیحین میں مذکور ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے کہا : پالنے کے اندر تین بچوں کے علاوہ کسی نے بات نہیں کی : عیسیٰ بن مریم اور جریج والا بچہ اور ایک بچہ جس کو اس کی ماں دودھ پلا رہی تھی۔ ایک خوبصورت سوار ادھر سے گذرا تو عورت نے کہا : اے اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی طرح کر دے۔ بچہ بولا : مجھے اس کی طرح نہ کرنا۔ اگر اس مؤخر الذکر بچے کو بھی مذکورۃ الصدر چار بچوں کے ساتھ ملا دیا جائے تو پالنے میں بولنے والے پانچ بچے ہوجائیں گے۔ سیوطی ؔ نے لکھا ہے کہ شیرخوارگی کی حالت میں بولنے والے اس سے زیادہ بچے ہوئے ہیں۔ صحیح مسلم میں آیا ہے کہ اصحاب الاخدود (یوسف ذونواس شاہ یمن اور اس کے ساتھی جنہوں نے ایک بڑا گڑھا کھدوا کر ‘ آگ سے بھروا کر اہل ایمان کو اس میں ڈلوایا تھا اور شیرخوار بچے کو جب اس کی مؤمنہ ماں کی گود سے چھین کر آگ میں ڈالا تو ماں بیتاب ہوگئی اور قریب تھا کہ کلمۂ کفر زبان پر لے آئے کہ بچے نے ماں کو آگ کے اندر سے آواز دی : ماں ! یہ پھولوں کا چمن ہے ‘ تو بھی چلی آ۔ مترجم) کے قصے میں بھی آتا ہے کہ ایک شیرخوار بچہ بولا تھا۔ سیوطی نے لکھا ہے کہ شیرخوارگی میں بولنے والے گیارہ بچے ہوئے جن کو میں نے ان اشعار میں جمع کردیا ہے : تَکَلَّمَ فِی الْمَھْدِ الَّنِبِیَّ مُحَمَّدٌ ویحیٰی وعیسٰی والخلیل ومریم ومبری جریج ثُمَّ شاھد یوسف وطفل لذی الاخذ ویردیہ مسلم وطفل علیہ مبریا لامہ التّی یقال لھا تزنی ولا تتکلم وما شطۃ فِی عھد فرعون طفلھا وفی زمن الھادی المبارک یختم ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکذبین اگر یوسف کا کرتہ آگے سے پھٹا ہے تو زلیخا سچی ہے اور یوسف جھوٹا ہے۔ کرتہ کا آگے سے پھٹنا اس بات کی دلیل ہے کہ یوسف نے دست درازی کی تھی اور زلیخا نے آگے سے اس کا کرتہ اس کو دفع کرنے کیلئے پکڑا جس سے کرتہ چر گیا۔ یا یہ کی زلیخا کے پیچھے یوسف دوڑا اور تیز دوڑنے کی وجہ سے کرتے کے دامن میں الجھ کر گرا اور کرتہ کا گریبان پھٹ گیا۔
Ayah 12:27

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے

وان کان قمیصہ قد من دبر فکذبت وھو من الصدقین اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو عورت نے جھوٹ کہا اور یوسف سچا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت یوسف کے پیچھے اس کو پکڑنے دوڑی اور کرتہ پکڑ کر کھینچ لیا جس کی وجہ سے کرتہ پھٹ گیا۔ حقیقت میں یہ شہادت نہ تھی (بلکہ سچ جھوٹ معلوم کرنے کی ایک تدبیر تھی) مگر مفہوم شہادت کو چونکہ یہ قول ادا کر رہا ہے ‘ اسلئے اس کو شہادت قرار دیا۔
Ayah 12:28

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں

فلما را قمیصہ قد من دبر قال انہ من کیدکن پس جب اس نے یوسف کا کرتہ پیچھے سے پھٹا دیکھا (تو سمجھ گیا کہ یوسف پاکدامن اور سچا ہے اور بیوی مکار و قصوروار ہے) بولا : بلاشبہ یہ (بدی ‘ یا یہ کام ‘ یا تیرا یہ قول مَا جزاء من اَرَادَ بِاَھْلَکَ الخ) تم عورتوں کی مکاری کی وجہ سے ہے۔ خطاب بصیغۂ جمع زلیخا اور اس جیسی عورتوں کو ہے ‘ یا تمام عورتوں کو۔ ان کیدکن عظیم یقیناً تم عورتوں کا مکر بڑا ہے۔ عورتوں کا ظاہر تو کمزور نظر آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سچی ہیں (بھولی بھالی صورت پر کون جھوٹا ہونے کا احتمال کرسکتا ہے) لیکن ان کا باطن ٹیڑھا اور گندا ہے ‘ ان کی تخلیق آدم کی (ٹیڑھی) پسلی سے ہوئی ہے ‘ ان کے عقلوں میں کمزوری اور دینداری میں نقصان ہے ‘ ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے جو مکر کا جال لے کر مردوں کے سامنے سے آتا ہے اور شیطان تو پھر چھپ کر چوری سے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورتیں شیطان کا جال ہیں۔ یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا : تم عورتوں میں سے کسی ایک سے بھی زیادہ کوئی ناقص العقل والدین شخص دانشمند مرد کی عقل و دانش کو زائل کرنے والا میں نے نہیں دیکھا۔ بعض علماء کا قول ہے : شیطان سے زیادہ مجھے عورتوں سے ڈر لگتا ہے۔ اللہ نے شیطان کے مکر کو تو ضعیف فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے : اِنَّ کَیْدَا الشَّیْطٰنَ کَانَ ضَعِیْفًا اور عورتوں کے متعلق فرمایا ہے : اِنَّ کَیْدَ کُنَّ عَظِیْمٌ تمہارا مکر بڑا ہے۔
Ayah 12:29

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے

یوسف اعرض عن ھذا اے یوسف ! اس قصہ سے درگذر کرو۔ کسی سے اس کا تذکرہ نہ کرنا ‘ کہیں یہ واقعہ پھیل نہ جائے۔ واستغفری لذنبک ان کنت من الخطئین اور (اے زلیخا ! ) تو اپنے گناہ کی معافی طلب کر ‘ یقیناً تو ہی قصوروار ہے۔ یعنی قصور وار لوگوں میں سے ہے۔ الخاطِئین ‘ خطأً سے اسم فاعل جمع مذکر ہے۔ خطأً کا معنی ہے : قصداً گناہ کیا۔ الخاطِئین مذکر کا صیغہ ہے اور بظاہر مؤنث کا صیغہ ہونا چاہئے تھا کیونکہ زلیخا عورتوں میں سے تھی ‘ مگر یہاں صرف خطاوار عورتوں کی جماعت مراد نہیں ہے بلکہ مرد خطاوار ہو یا عورت ‘ سب کی جماعت مراد ہے اور مذکر کو مؤنث پر تغلیب دے کر مذکر کا صیغہ استعمال کیا ہے ‘ جیسے دوسری آیت ہے : وَکَانَتْ مِنَ الْقَانِتِیْنَ وَاِنَّھَا کَانَتْ مِنْ قَوْمٍ کَافِرِیْنَ ۔ عزیز بردبار آدمی تھا ‘ غیرت کم تھی اسی لئے زبانی سرزنش پر اکتفا کی۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے

وقال نسوۃ فی المدینۃ اور شہر میں عورتوں نے کہا۔ نِسوۃ اسم جمع ہے ‘ یعنی جب زلیخا کی سازش اور مکاری کا قصہ شہر میں پھیلا اور حضرت یوسف کے واقعہ کی عورتوں کو اطلاع ہوئی تو عورتوں نے کہا۔ مقاتل نے کہا کہ کہنے والی پانچ عورتیں تھیں : کمیدان کی بیوی ‘ منصرم آبدار خانہ کی بیوی ‘ مہتمم باروچی خانہ کی بیوی ‘ جیلر کی بیوی اور منصرم اصطلبل کی بیوی۔ امرات العزیز تراودفتھا عزیز کی بیوی اپنے (کنعانی) غلام کو پھسلانے اور بہکانے لگی۔ عن نفسہ اس کے نفس کی طرف سے۔ یعنی اس سے وصال کی طلبگار ہوگئی۔ قد شغفھا حبا اس غلام کا عشق اس کے دل میں گھر کر گیا ہے۔ یعنی یوسف ‘ عزیز کی بیوی کے دل کے غلاف کو پھاڑ کر اس کے دل کے اندر گھس گیا۔ مطلب یہ کہ حضرت یوسف کی محبت زلیخا کے دل میں رچ گئی۔ سدی نے کہا : شفاف دل کے اوپر کی باریک جھلی۔ کلبی نے شغف کا ترجمہ کیا : حب یعنی زلیخا کے دل پر حضرت یوسف کی محبت چھا گئی ‘ محبت نے عقل پر پردہ ڈال دیا کہ سوائے حضرت یوسف کے اور کسی بات کو سمجھنے کا اس کو ہوش نہ رہا۔ انا لنرھا فی ضلل مبین ہم اس کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ سیدھے اور راستے سے بھٹک گئی ہے ‘ پاک دامنی کو چھوڑ دیا ہے۔
Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے

فلما سمعت بمکرھن ارسلت الیھن جب زلیخا نے ان کے غیبت کرنے کی خبر سنی تو ان کے پاس (دعوت کا پیام دے کر) کسی کو بھیجا۔ مکر سے مراد ہے : خفیہ بات۔ مکر بھی مکار چھپاتا ہے اور غیبت بھی پس پشت چھپا کر کی جاتی ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : مکر سے مکر ہی مراد ہے۔ عورتوں نے زلیخا کے متعلق یہ بات اس لئے کہی تھی کہ زلیخا ان کو بلوا کر حضرت یوسف کا نظارہ کرا دے کیونکہ حضرت یوسف کے حسن و جمال کا تذکرہ زلیخا ان سے کرتی تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زلیخا نے اپنا راز ان سے کہہ دیا تھا اور ان سے چھپانے کی تاکید کردی تھی مگر وعدۂ اخفاء کرنے کے بعد بھی انہوں نے راز فاش کردیا اسی لئے اس کو مکر کہا۔ اَرْسَلَتْ کا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی ارسلت رسولاً ایک قاصد بھیجا۔ وہب نے کہا : زلیخا نے کھانے پر چالیس عورتوں کو بلایا تھا جن میں یہ غیبت کرنے والی عورتیں بھی تھیں ‘ جنہوں نے زلیخا کو غلام سے محبت کرنے کی عار دلائی تھی۔ واعتدت لھن متکا اور ان کے واسطے مسند (تکیہ) لگا دیا۔ حضرت ابن عباس ‘ سعید بن جبیر ‘ حسن بصری ‘ قتادہ اور مجاہد نے مُتَّکأً کا ترجمہ طعام کیا ہے۔ کھانے والے کھانے بیٹھتے ہیں تو تکیہ مسند لگاتے ہیں ‘ اس لئے مجازاً مُتَّکأً کا ترجمہ ہوگیا : طعام۔ اِتَّکأْنَا عِنْدَ فُلاَنٍ ہم نے فلاں شخص کے پاس کھانا کھایا۔ تکیہ لگا کر کھانے کی عادت چونکہ عیش پسندوں کی تھی ‘ اسلئے رسول اللہ ﷺ نے الٹے ہاتھ سے کھانے اور تکیہ لگا کر کھانے کی ممانعت فرما دی۔ رواہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف عن جابر۔ بعض لوگوں نے کہا : مُتَّکأً وہ کھانا ہے جو کاٹ کر کھایا جائے ‘ گویا کاٹنے ولا چھری سے اس پر دباؤ ڈالتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے کہ وہ ترنج تھا۔ بعض علماء نے کہا : حبشی زبان میں مُتَّکأً ترنج کو کہتے ہی ہیں۔ عکرمہ اور ابو زید انصاری نے کہا : جو چیز چھری سے کاٹی جائے ‘ عرب اس کو متک کہتے ہیں۔ متک اور بتک کا لغوی معنی ہے : کاٹنا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ عزیز کی بیوی نے ایک کمرہ میں طرح طرح کے پھل اور کھانے سجا کر رکھوائے اور تکیے بھی لگا دئیے اور عورتوں کو بلوایا۔ واتت کل واحدۃ منھن سکینا اور ان میں سے ہر عورت کو ایک چھری (کاٹنے کے لئے) دے دی۔ ان عورتوں کا قاعدہ تھا کہ گوشت چھری سے کاٹ کر کھاتی تھیں۔ وقالت اخرج علیھن اور (یوسف سے) کہا : ان عورتوں کے سامنے سے نکلو۔ زلیخا نے حضرت یوسف کو ایک اور جگہ بٹھا دیا تھا ‘ وہاں سے آپ عورتوں کے سامنے برآمد ہوئے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ حسن میں حضرت یوسف کی دوسرے لوگوں پر برتری ایسی تھی جیسی ستاروں پر چودھویں رات کے چاند کی۔ ابن جریر ‘ حاکم اور ابن مردویہ نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس رات مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا (یعنی شب معراج میں) میں نے دیکھا کہ حضرت یوسف چودھویں کے چاند کی طرح تھے۔ ابو الشیخ نے اپنی تفسیر میں اسحاق بن عبد اللہ ابی فروہ کا قول بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف مصر کے گلی کوچوں سے گذرتے تو دیواریں آپ کے چہرے کی چمک سے جگمگا جاتیں ‘ جیسے سورج کی دھوپ جب دیواروں پر پڑ رہی ہو تو اسکے عکس سے پانی جگمگا جاتا ہے۔ فلما راینہ اکبرنہ عورتیں آپ کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں ‘ مبہوت ہوگئیں۔ یہ ابو العالیہ نے کہا : عورتیں آپ کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں ‘ مبہوت ہوگئیں۔ بعض علماء نے اَکْبَرنَ کا ترجمہ کیا : ان کو (ہیجانی کیفیت کی وجہ سے) حیض چھوٹ گیا۔ عرب کہتے ہیں : اَکْبَرَتِ الْمَرَأَۃُ عورت بڑی ہوگئی ‘ یعنی حائضہ ہوگئی۔ اس صورت میں ضمیر مصدری ہوگی ‘ یعنی حضرت یوسف کی وجہ سے۔ وقطعن ایدیھن اور (چھریوں سے) اپنے ہاتھ کاٹ لئے۔ کاٹنا چاہتی تھیں پھل اور حضرت یوسف کو دیکھتے ہی ہوش اڑ گئے تو کاٹ لئے ہاتھ اور تکلیف کا بھی احساس نہیں ہوا۔ مجاہد نے کہا : ان کو خون بہنے کا بھی احساس نہ ہوا۔ قتادہ نے کہا : ہاتھ کاٹ کر الگ کر دئیے۔ صحیح یہ ہے کہ ہاتھ تو کاٹ لئے مگر الگ کر کے نہیں پھینکے۔ وہب نے کہا : ان میں سے کچھ عورتیں مرگئیں۔ وقلن حاش اللہ اللہ (عزوجل) ضعف قدرت سے پاک ہے۔ یعنی اللہ ضعف قدرت سے پاک ہے ‘ اللہ کی قدرت پر انہوں نے تعجب کیا۔ حاش اصل میں حاشا تھا۔ حاشا کلمۂ استثناء ہے ‘ تخفیف الف کے بعد تنزیہ کے مقام میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ما ھذا بشرا یہ آدمی نہیں ہے۔ مَا اور لَیْسَدونوں نفی حال کیلئے مستعمل ہیں ‘ اسلئے اہل حجاز کے استعمال میں مَا کی خبر بھی لَیْسَکی خبر کی طرح منصوب ہوتی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : اصل میں یہ خبر مجرور تھی ‘ یعنی مَا ھٰذَا بِبَشَرٍ تھا ‘ حرف جر کو حذف کرنے کے بعد خبر کو منصوب کردیا۔ ان ھذا الا ملک کریم یہ تو بس معزز فرشتہ ہے۔ یعنی اللہ کی نظر میں بڑی عزت والا فرشتہ ہے۔ انسانوں میں تو ایسا حسن ہوتا نہیں اور انسانوں سے اونچا حسن فرشتوں ہی میں ہوسکتا ہے۔ یا اس وجہ سے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو فرشتہ کہا کہ ایسا جمال ‘ ایسا کمال اور ایسی پاکدامنی تو فرشتوں میں ہی ہوسکتی ہے ‘ انسان تو ان سب کا مجموعہ ہو نہیں سکتا۔
Ayah 12:32

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا

قالت فذلکن الذی لمتنني فیہ زلیخا نے کہا : یہی وہ (کنعانی غلام) ہے (جس کی صورت تم نے اپنے ذہنوں میں بنا رکھی تھی اور) جس کی محبت کے بارے میں تم نے مجھے برا کہا تھا۔ یعنی تم نے اس کے جمال کی صحیح تصویر کشی اپنے خیال میں کی ہی نہ تھی ‘ اس کے حسن کا اندازہ کیا ہی نہ تھا ورنہ مجھے اس کے عشق میں معذور سمجھتیں۔ ولقد راودتہ عن نفسہ فاستعصم اور میں نے ہی اس کو (اپنی طرف مائل کرنے کیلئے) پھسلایا تھا مگر یہ بچا رہا۔ اس نے اپنی عصمت کو بچانے کیلئے میری درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا۔ زلیخا نے ان عورتوں کے سامنے اس وقت اپنی حرکت کا اقرار کیا جب اس کو معلوم ہوگیا کہ میری مجبوری ان کی نظر میں ثابت ہوگئی اور آئندہ حضرت یوسف کے دل کو نرم کرنے میں یہ میری مدد کریں گی۔ چناچہ عورتوں نے حضرت یوسف سے سفارش کی کہ جیسا تمہاری مالکہ چاہتی ہے ویسا کرو ‘ اس کا کہا مانو۔ ولئن لم یفعل ما امرہ لیسجنن ولیکونا من الصغیرین اور اگر اس نے میرے کہنے کے مطابق نہیں کیا تو اس کو یقیناً قید کردیا جائے گا اور یہ ضرور ذلیل و خوار ہوگا۔ لَیَکُوْنًا اصل میں لَیَکُوْنَنْ بنون خفیفہ تھا ‘ حالت وقف میں نون کو تنوین سے مشابہت رکھنے کی وجہ سے بشکل الف لکھ دیا گیا جیسے لَنَسْفَعًا بالنَّاصیۃ ۔ الصَّاغِرِیْنَ ذلیل لوگ۔ یہ باب سمع سے ہے ‘ اس کا مصدر صغر اور صغار ہے۔
Ayah 12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا

قال رب السجن احب الی مما یدعونني یوسف نے کہا : اے میرے رب ! جس چیز کی طرف وہ مجھے بلا رہی ہیں ‘ اس سے تو مجھے جیل خانہ زیادہ پسند ہے۔ یعنی زنا سے تو جیل اچھی۔ دعوت گناہ صراحۃً اگرچہ صرف زلیخا نے دی تھی لیکن اشارہ دوسری عورتوں کی طرف سے بھی تھا کہ حضرت یوسف مان لیں ‘ اسلئے دعوت کی نسبت سب عورتوں کی طرف کردی۔ یا اس وجہ سے دعوت کی نسبت سب عورتوں کی طرف کی کہ نافرمانی کے نتیجۂ بد سے ان عورتوں نے یوسف کو ڈرایا تھا اور فرمان پذیری ہی کو حضرت یوسف کے حق میں بہتر قرار دیا تھا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ ہر عورت نے حضرت یوسف کو اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا۔ بعض علماء نے کہا : اگر حضرت یوسف قید خانہ کو پسند نہ کرتے اور السِّجْنُ اَحْبُّ اِلَیَّ نہ کہتے تو قید خانہ کی مصیبت میں مبتلا نہ ہوتے۔ آدمی کو چاہئے کہ عافیت کا طلبگار ہو اور اللہ سے عافیت ہی کی دعا کرے۔ ترمذی نے حضرت معاذ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا : الٰہی ! میں تجھ سے صبر کی درخواست کرتا ہوں (کہ مجھے مصائب پر صبر عطا کر) فرمایا : تو مصیبت کا طلبگار ہوا ‘ عافیت کی دعا کر۔ طبرانی نے حضرت عباس کا قول نقل کیا ہے ‘ حضرت عباس کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کی دعا میں اللہ سے کروں۔ فرمایا : اپنے رب سے عافیت کی دعا کرو۔ کچھ مدت کے بعد میں پھر خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے کوئی ایسی دعا بتائیے جو میں اللہ سے مانگوں۔ فرمایا : چچا ! اللہ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کی طلب کرو۔ والا تصرف عني کیدھن اصب الیھن واکن من الجھلین اور اگر تو ان کی مکاری کا رخ میری طرف سے نہیں پھیر دے گا (اور مجھے عصمت پر ثابت قدم نہیں رکھے گا) تو میں ان کی (خواہش کو قبول کرنے کی) طرف جھک جاؤں گا اور (ارتکاب گناہ کی وجہ سے) نادانوں میں سے ہوجاؤں گا۔ یعنی طبعی میلان مجھ پر غالب آجائے گا۔ صبوۃٌ خواہش نفس کی طرف جھکاؤ۔ بےحیائی کا کام کرنا نادانوں کا کام ہے ‘ دانش مند برا کام نہیں کرتا۔ یا جاہلوں سے مراد ہیں : وہ جاننے والے جو جاننے کے باوجود علم کے مطابق عمل نہیں کرتے ‘ ایسے لوگ جاہلوں کے حکم میں ہیں۔ بغوی نے کہا : اس فقرہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ مؤمن اگر کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو محض جہالت اور نادانی کی وجہ سے کرتا ہے۔
Ayah 12:34

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے

فاستجاب لہ ربہ پس اللہ نے یوسف کی دعا قبول کرلی۔ حضرت یوسف نے کہا تھا : وَاِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْدَھُنَّ یہ لفظ درپردہ دعا کو متضمن تھا۔ فصرف عنہ کیدھن انہ ھو السیمع العلیم پس اس کی طرف سے ان عورتوں کے مکر کو پلٹ دیا (عصمت پر حضرت یوسف کو ثابت قدم رکھا کہ انہوں نے لذت آگیں گناہ پر قیدخانہ کو ترجیح دی) بلاشبہ وہ (اہل التجا کو دعاؤں کو) سننے والا اور (ان کے احوال و مصالح کو) بخوبی جاننے والا ہے۔
Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں

ثم بدالھم من بعد ما راوا الایت لیسجننہ حتی حین پھر مختلف نشانیاں دیکھنے کے بعد ان لوگوں کی یہی رائے ہوئی کہ یوسف کو ایک مدت کیلئے قید میں رکھیں۔ لَھُمْ یعنی عزیز اور اس کے ساتھیوں کی پھر یہ رائے ہوئی۔ مِنْ مبَعْدِ مَا رَاَوْا الْاٰیٰتِ یعنی حضرت یوسف کی پاکدامنی اور برأت کی نشانیاں دیکھنے کے بعد۔ بچہ کا کلام اور قمیص کا پیچھے سے پھٹنا اور عورتوں کا ہاتھوں کو کاٹنا اور حضرت یوسف کا ان سے باعصمت رہنا ‘ جب انہوں نے دیکھ لیا تو یہ رائے قرار پائی کہ کچھ مدت کیلئے حضرت یوسف کو قید کردیا جائے۔ زلیخا کا شوہر زن پرست تھا ‘ شوہر کی لگام زلیخا کے ہاتھ میں تھی ‘ وہ جس طرف چاہتی موڑ دیتی ‘ اس نے شوہر کو بازیچہ بنا رکھا تھا۔ اس کو خیال تھا کہ یوسف قید کی سختی سے تنگ ہو کر میرا ہوجائے گا۔ پھر راز فاش ہوجانے کی وجہ سے وہ لوگوں سے شرمندہ بھی ہوگی اور بدنامی کا دھبہ دھونا چاہتی ہوگی ‘ اسلئے اس نے حضرت یوسف کو قید کردینا ہی مناسب سمجھا۔ جب دیدار اور وصال سے وہ محروم ہوگئی تو سماع احوال پر ہی اس کو قناعت کرنی پڑی۔ مجبوراً اس نے شوہر سے کہا کہ اس عبرانی غلام نے مجھے لوگوں میں رسوا کردیا۔ دنیا سے کہتا پھرتا ہے کہ میں نے اس کو ورغلا کر اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا۔ اب یا تو آپ مجھے اجازت دیں کہ میں گھر سے نکلوں اور لوگوں سے جا کر اپنی بےگناہی ظاہر کروں یا اس کو آپ قید کردیں کہ لوگوں میں یہ چرچے ختم ہوجائیں اور لوگ اسی کو مجرم قرار دے دیں۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف سے تین لغزشیں ہوئیں جن کی پاداش ان کو اٹھانی پڑی : 1) انہوں نے اس عورت (کی طرف بڑھنے) کا ارادہ کیا تو قید بھگتنی پڑی۔ 2) انہوں نے (ا اللہ کے سوا) اپنے ساتھی سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا تذکرہ کردینا تو چند سال (مزید) قید میں رہنا پڑا۔ 3) انہوں نے بھائیوں سے کہا کہ تم بلاشبہ چور ہو تو بھائیوں نے کہا : اگر اس نے (بنیامین نے) چوری کی تو تعجب نہیں کیونکہ اس کے بھائی (حضرت یوسف) نے بھی اس سے پہلے چوری کی تھی۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں

ودخل معہ السجن قتین اور یوسف کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان اور بھی داخل ہوئے تھے (ان کو بھی قید کردیا گیا تھا) یہ دونوں ریان بن ولید بن ثروان شاہ مصر کے غلام تھے ‘ ایک باورچی یعنی منصرم باورچی خانہ تھا اور دوسرا ساقی یعنی منصرم آبدار خانہ۔ بادشاہ نے ناراض ہو کر ان کو بھی قید کردیا تھا اور اتفاقاً ان کی قید بھی حضرت یوسف ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔ مَعَ کے لفظ سے یہی معلوم ہو رہا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کچھ لوگوں نے بادشاہ کو ہلاک کرنے کی سازش کی اور بادشاہ کو زہر دینے کیلئے شاہی باورچی کو مالی لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ اقرار کے بعد ساقی نے تو سازش میں شریک ہونے سے انکار کردیا اور باورچی نے رشوت لے کر کھانے میں زہر ملا دیا۔ کھانا بادشاہ کے سامنے آیا تو ساقی نے بادشاہ سے کہہ دیا کہ یہ کھانا زہرآمیز ہے ‘ اس کو نہ کھائیے۔ باورچی نے (ضد میں آ کر) کہا : حضور ! پانی میں زہر ملا ہوا ہے ‘ اس کو نہ پیجئے۔ بادشاہ نے ساقی کو حکم دیا : یہ پانی تجھے پینا ہوگا۔ ساقی نے پی لیا ‘ اس کو کوئی ضرر نہ پہنچا اور باورچی کو حکم دیا : یہ کھانا تجھے کھانا پڑے گا ‘ اس کو کھا۔ مگر اس نے انکار کردیا۔ بادشاہ نے کھانا کسی جانور کے سامنے ڈلوا دیا۔ جانور نے کھایا تو وہ مرگیا۔ بادشاہ نے دونوں کو جیل خانہ بھیج دینے کا حکم دے دیا (باورچی کو زہر دینے کی کوشش کی وجہ سے اور ساقی کو رازدار ہونے کی وجہ سے) حضرت یوسف جیل خانے میں پہنچے تو ان کے علم کی شہرت ہوگئی۔ آپ نے خود بھی اعلان کردیا کہ میں خواب کی تعبیر دینا جانتا ہوں۔ غرض ساتھ داخل ہونے والے دونوں قیدیوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس عبرانی غلام کے دعوے کی جانچ کرنا چاہتے ہیں ‘ چلو تجربہ کریں۔ خواب تو انہوں نے کوئی دیکھا نہ تھا ‘ جھوٹ موٹ خواب بنا کر تجربہ کرنا چاہا۔ حضرت ابن مسعود نے یہی فرمایا ہے۔ بعض علماء نے کہا : انہوں نے واقعی خواب دیکھے تھے۔ حضرت یوسف نے ان کو غمگین پا کر وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا : ہم دونوں بادشاہ کے مصاحب تھے۔ ہم نے خواب دیکھے ہیں جن کی وجہ سے پریشان ہیں۔ حضرت یوسف نے کہا : جو کچھ دیکھا ہے ‘ بیان کرو۔ تو قال احدھما انی اراني اعصر خمرا ایک نے یعنی ساقی نے کہا : میں نے دیکھا کہ میں (انگور نچوڑ رہا ہوں اور ان کو) نچوڑ کر شراب بنا رہا ہوں۔ انگور سے شراب بنتی ہے ‘ انگور مآل کار شراب ہوجاتے ہیں اسلئے انگور کی جگہ لفظ خمر ذکر کیا ‘ خمر سے مراد انگور ہیں۔ فلاں شخص کھانا پکاتا ہے ‘ یعنی وہ چیز پکاتا ہے جو پک کر کھانا بن جاتی ہے۔ بعض نے کہا : اہل عمان کے محاورہ میں خمر انگوروں کو کہتے ہیں۔ تفصیلی خواب اس نے اس طرح بیان کیا : میں نے دیکھا کہ میں ایک باغ میں درخت انگور کی جڑ کے پاس ہوں ‘ درخت میں تین خوشے لگے ہیں۔ میرے ہاتھ میں بادشاہ کا پیالہ ہے ‘ میں نے وہ انگور نچوڑ کر پیالے میں عرق بھرا اور بادشاہ کو پلا دیا۔ بادشاہ نے اس کو پی لیا۔ وقال الاخر انی اراني احمل فوق راسی خبزا تاکل الطیر منہ اور دوسرے نے یعنی باورچی نے کہا : میں نے دیکھا کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے (اوپر سے جھپٹ کر) ان میں سے کھا رہے ہیں۔ اس نے خواب کی تفصیل اس طرح بیان کی تھی کہ میں نے دیکھا کہ میرے سر پر تین ٹوکریاں ہیں جن میں روٹیاں اور طرح طرح کے کھانے ہیں اور شکاری پرندے ان کو نوچ کر لئے جا رہے ہیں۔ نبئنا بتاویلہ انا نراک من المحسنین آپ ہم کو ہر ایک کے خواب کی تعبیر بتا دیجئے۔ ہمارے خیال میں آپ صحیح تعبیر دینے والوں میں سے ہیں ‘ یا آپ اہل علم میں سے ہیں۔ اس صورت میں احسان سے مراد ہوگا : علم اور اوّل ترجمہ پر محسن سے مراد ہوگا : اچھی تعبیر دینے والا۔ یا یہ مطلب ہے کہ آپ قیدیوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں ‘ ہم پر بھی احسان کیجئے اور صحیح تعبیر بتا دیجئے۔ ضحاک بن مزاحم سے پوچھا گیا کہ آیت اِنَّا نَرٰمکَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ میں کس احسان کا اظہار ہے ‘ حضرت یوسف کیا بھلائی کرتے تھے ؟ ضحاک نے جواب دیا : کوئی قیدی بیمار ہوجاتا تو آپ اس کی عیادت اور نگہداشت کرتے تھے۔ اگر کسی قیدی کی جگہ تنگ ہوتی تو آپ اس کو کشادہ جگہ دے دیتے۔ اگر کسی کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ چیز فراہم کردیتے اور ان تمام باتوں کے باوجود عبادت کی بہت زیادہ کوشش کرتے اور راتوں کو نماز میں کھڑے رہتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب آپ قید خانہ میں داخل ہوئے تو لوگوں کو دیکھا کہ مصیبت میں مبتلا ہیں ‘ غمگین ہیں ‘ ہر قسم کا سہارا ٹوٹ چکا ہے۔ آپ ان کو تسلی دینے لگے ‘ فرمایا : لوگو ! پریشان نہ ہو ‘ صبر کرو ‘ اللہ اجر دے گا۔ قیدیوں نے کہا : نوجوان ! اللہ تجھے برکت عطا فرمائے ‘ تیرا چہرہ کیسا حسین ہے ‘ اخلاق کتنے اعلیٰ ہیں اور باتیں کتنی پیاری ہیں۔ تیرے ساتھ رہنے سے ہم کو برکت حاصل ہوگی۔ تیرا کیا نام ہے ‘ تو کون ہے ؟ آپ نے کہا : میں یوسف بن یعقوب صفی اللہ بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ ہوں (اس روایت میں اسحاق کا خطاب ذبیح اللہ قرار دیا گیا ہے ‘ مگر جمہور علماء کے نزدیک ذبیح اللہ حضرت اسماعیل کا لقب تھا۔ احادیث سے اسی کی تائید ہوتی ہے اور قرآنی آیات بھی شہادت دے رہی ہیں کہ حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کا حکم حضرت ابراہیم کو خواب میں دیا گیا تھا۔ مترجم) ۔ جیلر نے کہا : نوجوان ! اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں تجھے آزاد کردیتا (مگر میرا اختیار نہیں ہے) پھر بھی میں تیر 1 حق مصاحبت اچھی طرح ادا کروں گا ‘ تیرے ساتھ اچھا سلوک کروں گا۔ جیل خانہ کی کوٹھڑیوں میں سے تو جہاں رہنا پسند کرے ‘ رہ سکتا ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ دونوں (خواب دیکھنے والے) جوانوں نے حضرت یوسف کو دیکھ کر کہا : یوسف ! ہم کو تو اسی وقت سے تم سے محبت ہوگئی تھی جب ہم نے تم کو دیکھا تھا۔ آپ نے فرمایا : میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ مجھ سے محبت نہ کرنا۔ خدا کی قسم ! جس نے بھی مجھ سے محبت کی ‘ اس کی محبت سے مجھ پر مصیبت ہی آئی۔ میری پھوپھی نے مجھ سے محبت کی تو مجھ پر مصیبت آئی ‘ پھر میرے باپ نے مجھ سے محبت کی تو مجھے کنویں میں ڈالا گیا ‘ پھر عزیز کی بیوی نے مجھ سے محبت کی تو مجھے قید ہونا پڑا۔ غرض جب دونوں قیدیوں نے اپنا اپنا خواب حضرت یوسف سے بیان کیا تو حضرت یوسف کو تعبیر دینا مناسب معلوم نہیں ہوا کیونکہ ایک کی تعبیر تکلیف دہ تھی ‘ اس پر مصیبت آنے والی تھی ‘ اسلئے آپ نے تعبیر کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور بعض دوسرے معجزے ظاہر کرنے اور توحید کی دعوت دینے لگے اور