12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں

قال یا یاتینکما طعام ترزقنہ الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یاتیکما یوسف نے کہا : جو کھانا تمہارے کھانے کیلئے (تمہارے گھروں سے یا جیل خانہ کے مطبخ سے) آتا ہے ‘ وہ آنے نہیں پاتا ‘ اس کے آنے سے پہلے ہی میں اس کی حقیقت اور کیفیت تم کو بتادیا کرتا ہوں۔ بعض کا قول ہے کہ لاَ یَأتِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِہٖ سے مراد ہے : خواب میں کھانے کا آنا اور تاوِیْلِہ سے مراد ہے : بیداری میں اس کی تعبیر دینا اور قَبْلَ اَنْ یَّأتِیَکُمَا سے مراد ہے : خواب میں نظر آنے والے واقعہ کا بیداری میں ظہور پذیر ہونا۔ یعنی خواب میں تمہارے کھانے کیلئے آتا ہوا جو کھانا تم کو نظر آتا ہے ‘ خارج میں ایسا واقعہ ہونے سے پہلے میں اس کی تعبیر اور تشریح تم کو بتادیتا ہوں۔ (اکثر علماء کے نزدیک آیت کا مطلب اس طرح) بیان کیا گیا ہے کہ تمہارے گھروں سے جو کھانا کھانے کیلئے تمہارے پاس آتا ہے ‘ میں اس کے آنے سے پہلے اس کی مقدار ‘ رنگ ‘ قسم ‘ وقت اور دوسری کیفیت بتادیتا ہوں۔ گویا آپ کا یہ معجزہ حضرت عیسیٰ کے معجزے کی طرح تھا ‘ حضرت عیسیٰ نے بھی فرمایا تھا : وَاُنْبِّءُکُمْ بِمَا تَأکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ ۔ کہنے لگے : یہ کام تو غیبی خبریں بتانے والوں اور کاہنوں کا ہے ‘ تم کو یہ علم کہاں سے حاصل ہوا ؟ حضرت یوسف نے فرمایا : میں کاہن نہیں ہوں ‘ بلکہ ذلکما مما علمني ربي یہ بتادینا اس علم کی وجہ سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمایا ہے۔ یعنی میرے رب نے قطعی ‘ یقینی وحی کے ذریعے سے مجھے یہ باتیں بتادی ہیں ‘ یہ علم عطا فرما دیا ہے۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا کہ جو خواب تم دونوں نے مجھ سے بیان کئے ‘ ان کی تعبیر میں تمہارے گھروں سے مقررہ کھانا آنے سے پہلے بتادوں گا اور یہ تعبیر الہام اور وحی کے ذریعے سے اللہ نے مجھے بتادی ہے۔ نہ اس کا تعلق نجوم سے ہے اور نہ کہانت سے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : دونوں قیدیوں کے سوال کا جواب دینے سے پہلے حضرت یوسف نے ان کو توحید کی اور صراط مستقیم اختیار کرنے کی دعوت دینی چاہی۔ انبیاء اور انبیاء کے جانشینوں کی ہدایت و دعوت کا طریقہ ہی یہ ہے۔ آپ نے پہلے کچھ غیبی اطلاع بطور معجزہ دی تاکہ دعوت توحید اور تعبیر خواب کی سچائی ان کے دلوں میں جم جائے۔ اني ترکت ملۃ قوم لا یؤمنون باللہ وھم بالاخرۃ ھم کٰفرون جو لوگ اللہ کو واحد نہیں مانتے اور آخرت کا انکار خصوصیت کے ساتھ کرتے ہیں ‘ ان کا دین تو میں نے قطعاً اختیار ہی نہیں کیا ہے۔ یہ مذکورہ جملہ کی علت ہے ‘ یعنی میرے رب نے مجھے یہ علم عطا فرمایا ہے کیونکہ میں نے کافروں کا دین اختیار ہی نہیں کیا ہے۔
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

واتبعت ملۃ اباء ي ابرھیم واسحق و یعقوب اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی اختیار کی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِنِّیْ تَرَکْتُ سے الگ مستقل کلام ہو ‘ جو دعوت کی تمہید اور خانوادۂ نبوت سے اپنے کو ظاہر کرنے کیلئے آپ نے فرمایا ہو تاکہ وہ دونوں قیدی رغبت سے سنیں اور آپ کے بیان کا اعتبار کریں۔ اسی جگہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر کسی جگہ کسی عالم کے مرتبے سے لوگ واقف نہ ہوں اور وہ اپنی دعوت پھیلانی چاہے تو اگر وہ اپنے اوصاف کسی قدر بیان کر دے تاکہ اس کی بات کی وقعت پیدا ہوجائے تو ناجائز نہیں ‘ اس تدبیر سے لوگوں کو اس کے علم سے فائدہ اندوز ہونے کا موقع مل جائے گا۔ یہ بات خود ستائی کے ذیل میں نہیں آتی۔ اعمال کا مدار نیت پر ہے۔ انبیاء کو تو تحدیث نعمت کا حکم دیا گیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَاَمَّا بِنَعِمَۃِ رَبِّکَ فَحدِّثْ ۔ جن اولیاء نے اپنے مراتب قرب اور مدارج فوز کا کسی قدر ذکر کیا ہے ‘ مثلاً حضرت مجدد الف ثانی ‘ شیخ احمد سرہندی (یا حضرت شیخ عالم سید الاولیاء محی الدین عبدالقادر جیلانی) افسوس بعض لوگ نادانی یا حسد کی وجہ سے ان پر طعن کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ بات خودستائی میں داخل نہیں (بلکہ تحدیث نعمت ہے) ۔ ما کان لنا ان تشرک باللہ من شیء ہمارے (گروہ انبیاء) کیلئے جائز (اور ممکن) نہیں کہ اللہ کے ساتھ (اس کی ذات وصفات میں) کسی چیز کو شریک کریں۔ کیونکہ توحید ہماری فطرت ہے اور اللہ نے شرک سے ہماری حفاظت کی ہے۔ ذلک من فضل اللہ علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون یہ (نعمت توحید و علم) ہم پر اور دوسرے لوگوں پر اللہ کے فضل کی وجہ سے ہے (ہم پر براہ راست وحی کے ذریعے سے اور دوسرے لوگوں پر ہماری بعثت و رسالت کے ذریعے سے اور توفیق ثبات ادا کرنے کے سبب سے) لیکن اکثر لوگ (یعنی امت دعوت) اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے اور متنبہ نہیں ہوتے ‘ کتراتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ (توحید و علم) اللہ کے فضل کی وجہ سے ہے جو ہم پر بھی ہے اور دوسرے لوگوں پر بھی ‘ کہ اس نے روشن دلائل اور کھلی نشانیاں قائم کردیں مگر اکثر لوگ ان آیات قدرت کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے اور اللہ کی قائم کردہ نشانیوں سے استدلال نہیں کرتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس نعمت کی کوئی قدر ہی نہیں اور وہ کافر نعمت ہیں ‘ شکر گذار نہیں ہیں۔ آئندہ آیت میں حضرت یوسف نے جیل خانہ والوں کو اسلام کی دعوت دی اور فرمایا :
Ayah 12:39

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟

یٰصاحبي السجنء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار اے جیل کے ساتھیو ! کیا متعدد و متفرق رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے۔ مُتَفَرِّقُوْنَ مختلف ‘ متعدد جو عاجز اور ممکن ہونے میں ایک جیسے ہیں (سب عاجز اور سب ممکن ‘ معدوم الاصل ‘ فنا پذیر ہیں) خواہ سونے ‘ چاندی ‘ لوہے ‘ پتھر وغیرہ کی مورتیاں ہوں یا ملائکہ ‘ جن ‘ انسان وغیرہ ہوں۔ الْوَاحِدُ اپنی ذات وصفات میں اکیلا ‘ بےہمتا ‘ بےمثال۔ نہ اس کی ذات وصفات میں کوئی اس جیسا ہے نہ افعال میں۔ القَھَّارُ سب پر غالب ‘ جس کا کوئی مقابل اور مقادم نہیں۔
Ayah 12:40

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا انتم واباؤکم تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر چند بےحقیقت ناموں کی ہی پوجا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اَسْمَآء سے مراد ہیں : وہ چیزیں جو الوہیت کے معنی سے خالی ہیں۔ ستمیتُم کا دوسرا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی جن کا نام تم نے اور تمہارے باپ دادا نے الٰہ اور رب رکھ چھوڑا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ایسے اسماء کی پوجا کرتے ہو جن کا کوئی واقعی وجود نہیں۔ تم خیال کرتے ہو کہ وہ بتوں میں حلول کئے ہوئے ہیں یا مجرد اور (مادّی دنیا سے) الگ ہیں۔ ما انزل اللہ بھا من سلطن اللہ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یعنی ان کے وجود یا ان کے مستحق الوہیت ہونے کی کوئی دلیل کہیں موجود نہیں ‘ جبکہ اللہ کی ہستی اور اس کے استحقاق الوہیت کے بکثرت دلائل وبراہین موجود ہیں اور اللہ نے اپنے انبیاء اور پیغمبروں پر آیات توحید و معبودیت نازل کردی ہیں۔ ان الحکم الا اللہ امر الا تعبدوا الا ایاہ اور حکم دینے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے اور اس نے حکم دیا ہے کہ سوائے اس کے کسی کی عبادت نہ کرو ‘ یعنی عبادت کرنے کا حکم تو صرف اللہ کیلئے ہے۔ وہ واجب الوجود بالذات ہے ‘ ہر چیز کا خالق اور موجد (عدم سے وجود میں لانے والا) ہے۔ وہی منعم ‘ مالک ‘ ہر چیز پر غالب اور نفع و ضرر پہنچانے والا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی مالک اور قاہر ہے نہ کسی کے ہاتھ میں حقیقتاً کسی کا نفع و ضرر ہے ‘ لہٰذا وہی بالذات مستحق عبادت ہے۔ اگر کسی دوسرے کی پوجا جائز ہوتی تو اسی کے حکم سے اس کا جواز ہوسکتا تھا ‘ مگر اس نے پیغمبروں کی زبانی حکم دے دیا ہے کہ اس کی ذات کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون یہی (توحید کا) سیدھا (ثابت شدہ) طریقہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یعنی یہی ثابت شدہ دین ہے ‘ دلائل اور براہین اسی کو ثابت کر رہے ہیں لیکن اکثر لوگ حق و باطل میں امتیاز نہیں کرتے اور جہالت میں بھٹکے پھرتے ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : حضرت یوسف کا یہ بیان ترتیبی دعوت توحید اور تدریجی اظہار ثبوت ہے۔ اوّل آپ نے قیدیوں کو مخاطب کر کے توحید الٰہ کی تعدد آلہہ پر برتری ظاہر فرمائی ‘ پھر دلیل کے ساتھ بیان کیا کہ جن کو تم الہٰہ کہتے ہو اور جن کی تم پوجا کرتے ہو ‘ وہ معبود ہونے کے مستحق نہیں کیونکہ استحقاق عبادت یا ذاتی ہوگا یا بالغیر اور اللہ کے سوا کسی اور کو نہ معبودیت کا استحقاق بالذات ہے نہ اللہ کا عطا کردہ۔ اس کی آپ نے پرزور صراحت کردی کہ دین مستقیم اور واقعی حق بات یہی ہے۔ یہی تقاضۂ عقل و علم ہے ‘ اس کے سوا ہر بات فہم و دانش کے خلاف ہے۔ اس سے آگے آپ نے خواب کی تعبیر دی اور فرمایا :
Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے

یٰصاحبي السجن اما احد کما فیسقی ربہ خمرا واما الاخر فیصلب فتاکل الطیر من راسہ اے جیل خانہ کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک (یعنی ساقی) تو اپنے آقا (یعنی بادشاہ) کو شراب پلائے گا اور دوسرے (یعنی باورچی) کو صلیب دی جائے گی اور پرندے اس کے سر کو (نوچ نوچ کر) کھائیں گے۔ انگور کے تین خوشوں سے تین روز کی طرف اشارہ ہے یعنی جیل خانہ کے اندر تین روز رہے گا ‘ تین روز کے بعد بادشاہ اس کو طلب کرلے گا اور سابق عہدہ پر دوبارہ مقرر کر دے گا اور تین ٹوکریوں سے بھی تین دن کی طرف اشارہ ہے یعنی باورچی جیل خانہ میں تین روز رہے گا ‘ تین روز کے بعد جیل خانہ سے نکلوا کر اس کو صلیب پر چڑھا دیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں : اس تعبیر کا قرینہ شاید یہ ہو کہ باورچی نے کھانے میں واقعی زہر ملا دیا تھا اور ساقی بےقصور تھا (اسلئے بادشاہ کا صحیح فیصلہ یہی ہوسکتا ہے کہ باورچی کو صلیب دے دے اور ساقی کو رہا کر کے سابق عہدے پر فائز کر دے) ۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : حضرت یوسف کا بیان سن کر دونوں قیدی کہنے لگے : ہم نے تو کوئی خواب نہیں دیکھا تھا ‘ محض دل لگی کر رہے تھے۔ اس پر حضرت یوسف نے فرمایا : قضي الامر الذي فیہ نستفتین جس بارے میں تم پوچھتے تھے ‘ وہ اسی طرح مقرر ہوچکا۔ یعنی جس بات کو تم دریافت کرنا چاہتے تھے ‘ اس کے متعلق اللہ کا فیصلہ ہوچکا۔ تم نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو ‘ قضائے خداوندی ویسی ہی ہوچکی ہے جیسا میں نے بیان کردیا۔ تم دونوں کا انجام یہی ہونا ہے۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے

وقال للذي ظن انہ ناج منھما اذ کرني عند ربک اور جس شخص کے رہا ہوجانے کا یوسف کو یقین تھا ‘ اس سے یوسف نے کہا کہ اپنے آقا کے سامنے میرا تذکرہ کردینا اور کہہ دینا کہ جیل خانہ کے اندر ایک غلام قیدی ہے جس کو بلاقصور ظلم سے قید کردیا گیا ہے اور اس کے احوال اس طرح ہیں۔ ظَنَّ کا فاعل اگر حضرت یوسف کو قرار دیا جائے تو ظَنَّ کا معنی یقین ہوگا کیونکہ ساقی کے رہا ہونے کا آپ کو یقین تھا ‘ آپ کا قول قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِیْہِ تَسْتَفْتِیٰنِ اس پر دلالت کر رہا ہے ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ظَنَّ کی ضمیر ساقی کی طرف لوٹ رہی ہے ‘ اس وقت ظَنَّ کا معنی ہوگا : غالب گمان۔ یعنی حضرت یوسف نے اس شخص سے جس کو اپنی رہائی کا غالب گمان ہوگیا تھا ‘ کہا : فانسٰہ الشیطن ذکر ربہ پھر اس کو شیطان نے اپنے آقا کا ذکر یعنی آقا کے سامنے حضرت یوسف کا ذکر کرنا بھلا دیا۔ رب سے مراد ہے : بادشاہ۔ حضرت ابن عباس اور اکثر اہل تفسیر نے لکھا ہے (انساہ میں ہُ ضمیر اور ربہٖ میں ہٖ ضمیر حضرت یوسف کی طرف راجع ہے یعنی) حضرت یوسف کو شیطان نے اللہ کی یاد بھلا دی کہ انہوں نے مخلوق سے مدد کی خواہش کی ‘ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے مصیبت دور کرنے کی درخواست کی اور حضرت یوسف کی یہ غفلت شیطان کی اثر اندازی سے پیدا ہوئی (ان کے مقام کا تقاضا تھا کہ وہ کسی شخص سے سفارش کرنے کی بھی تمنا نہ کرتے۔ مقام نبوت و معرفت غیر اللہ سے ظاہری اور مجازی مدد لینے سے بھی انکار کرتا ہے۔ مترجم) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ میرے بھائی حضرت یوسف پر رحم کرے ‘ اگر وہ (ایک انسان سے) اذْکُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّکَ نہ کہتے تو جیل کے اندر اتنی طویل مدت نہ رہنا پڑتا۔ رواہ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ۔ فلبث فی السجن بضع سنین پس وہ جیل خانہ میں چند سال رہے۔ قتادہ نے کہا : بِصْغَ کا اطلاق تین سے نو تک ہوتا ہے۔ بِضْعَ کا معنی ہے : کاٹنا۔ مجاہد نے تین سے سات تک کی مدت بیان کی ہے۔ اکثر مفسرین کا قول ہے : حضرت یوسف قیدخانہ میں سات سال رہے۔ کلبی نے کہا : پانچ برس پہلے رہ چکے تھے اور مزید سات برس اذْکُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّکَ کہنے کے بعد رہے ‘ کل بارہ سال رہے۔ میں کہتا ہوں : آیت دَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیَان بتارہی ہے کہ ساقی اور باورچی آپ کے ساتھ ہی قید ہوئے تھے اور جب وہ دونوں قید خانہ میں تین روز رہے تو حضرت یوسف کا ان سے پہلے قید خانہ میں پانچ سال رہنا کیسے ہوسکتا ہے (شاید حضرت مفسر قدس سرہٗ نے غور نہیں فرمایا کہ باورچی اور ساقی کی کل مدت قید تین روز نہیں ہوئی بلکہ عرض خواب اور تعبیر کے بعد تین روز رہے۔ ممکن ہے کہ عرض خواب سے پہلے پانچ سال قید میں گذر گئے ہوں۔ فوراً جیل خانہ میں داخل ہوتے ہی تو دعوتی تقریریں اور تبلیغ ایمانی اور عام قیدیوں سے موانست اور ہر ایک کی خدمت اور اخلاق کریمہ کا اظہا رممکن نہیں ‘ جیسا کہ حضرت مفسر نے سابق روایات کی روشنی میں بیان کیا ہے نہ داخل ہوتے ہی عرض خواب کا امکان ہے ‘ اسلئے کلبی کا قول ضعف روایت کی بناء پر خواہ ضعیف ہو مگر درایت کے خلاف نہیں۔ مترجم) مالک بن دینار نے کہا : جب حضرت یوسف نے ساقی سے فرمایا کہ اپنے آقا سے میرا تذکرہ کردینا تو (ا اللہ کی طرف سے) کہا گیا : یوسف ! مجھے چھوڑ کر تو نے دوسرے کو اپنا وکیل (ذمہ دار) بنایا ‘ اب میں ضرور تیری قید طویل کر دوں گا۔ حضرت یوسف رونے لگے اور عرض کیا : اے میرے رب ! مصائب کی کثرت نے میرے دل پر فراموشی طاری کردی اور میں نے (بےسمجھے) ایک بات کہہ دی ‘ آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ حسن بصری نے کہا : حضرت جبرئیل قیدخانہ کے اندر حضرت یوسف کے پاس آئے ‘ آپ نے ان کو پہچان لیا اور فرمایا : یَا اَخَا المنذرین (ا اللہ کے عذاب سے ہلاک ہوجانے سے ڈرانے والے کے سردار) میں آپ کو (آج) ان گناہگاروں میں کیسے دیکھ رہا ہوں ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : اے پاک باپ دادا کے پاک بیٹے ! اللہ رب العالمین نے تم کو سلام فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ کیا تم کو شرم نہیں آئی کہ (میرے ہوتے ہوئے) تم نے آدمیوں سے سفارش کی خواستگاری کی۔ قسم ہے اپنی عزت کی ! میں تم کو مزید چند سال جیل خانہ میں رکھوں گا۔ حضرت یوسف نے فرمایا : کیا اللہ اس حالت میں مجھ سے راضی بھی ہوگا ؟ حضرت جبرئیل نے جواب دیا : ہاں۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تو پھر مجھے (قید میں رہنے کی) پرواہ نہیں۔ کعب کا بیان ہے کہ حضرت جبرئیل نے حضرت یوسف سے کہا : اللہ فرماتا ہے کہ تجھے کس نے پیدا کیا ؟ حضرت یوسف نے جواب دیا : اللہ نے۔ حضرت جبرئیل نے کہا : (ا اللہ فرماتا ہے) تجھے باپ کا چہیتا کس نے بنایا ؟ حضرت یوسف نے جواب دیا : اللہ نے۔ حضرت جبرئیل نے کہا : (ا اللہ فرماتا ہے) تجھے کنویں کی تکلیف سے کس نے نجات دی ؟ حضرت یوسف نے جواب دیا : اللہ نے۔ حضرت جبرئیل نے کہا : (ا اللہ فرماتا ہے) تجھے خواب کی تعبیر کس نے سکھائی ؟ حضرت یوسف نے جواب دیا : اللہ نے۔ حضرت جبرئیل نے کہا : (ا اللہ فرماتا ہے) چھوٹے بڑے گناہ کا رخ کس نے تیری طرف سے پھیر دیا ؟ حضرت یوسف نے جواب دیا : اللہ نے۔ حضرت جبرئیل نے کہا : (ا اللہ فرماتا ہے) پھر تو نے اپنے جیسے آدمی سے کیسے سفارش کی درخواست کی ؟ آئندہ وہ حدیث آئے گی جو طبرانی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر ایک بات (حضرت یوسف سے) نہ ہوجاتی کہ اللہ کے سوا دوسرے سے انہوں نے ازالۂ مصیبت کی درخواست کی تو قید خانہ میں (مزید) رہنا نہ پڑتا۔ غرض جب سات سال گذرے اور حضرت یوسف کی کشائش کا وقت قریب آگیا تو مصر کے شاہ اعظم یعنی ریان بن ولید نے ایک عجیب خواب دیکھا جس سے وہ دہشت زدہ ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ سات موٹی گائیں دریا سے برآمد ہوئیں اور ان کے پیچھے سات گائیں اور دریا سے نکلیں جو نہایت دبلی تھیں ‘ پھر دبلی گائیں موٹی گائیوں کو نگل گئیں اور موٹی گائیں دبلی گائیوں کے پیٹ میں گھس گئیں ‘ ان کا کوئی نشان بھی نہیں رہا۔ پھر (غلہ کی) سات سبز بالیاں دیکھیں جن میں دانہ پڑچکا تھا اور سات خشک بالیاں دیکھیں جو کاٹنے کے قابل ہوگئی تھیں۔ خشک بالیاں سبز بالیوں سے لپٹیں اور ان پر غالب آگئیں یہاں تک کہ ان کی سبزی بالکل جاتی رہی۔ بادشاہ نے جادوگروں کو ‘ کاہنوں کو ‘ اہل دانش و فہم کو اور خواب کی تعبیر دینے والوں کو جمع کیا اور ان سے اپنا خواب بیان کیا۔ یہی تذکرہ آیات ذیل میں اللہ نے فرمایا ہے :
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ

وقال الملک اني اری سبع بقرٰت سمان یاکلھن سبع عجاف وسبع سنبلت خضر واخر یٰبسٰت یایھا الملا افتوني في رء یاي ان کنتم للرء یا تعبرون اور بادشاہ نے کہا : میں نے خواب میں دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا گئیں اور سات بالیں سبز ہیں (اور ان کے علاوہ سات) اور خشک بالیں ہیں۔ اے درباری سردارو ! اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کے بارے میں کچھ دقیق جواب دو ۔ عجاف ‘ عجفائ کی جمع نہیں ہے۔ عجفاء کی جمع عجف آتی ہے لیکن سمان کی (لفظی اور وزنی) مناسبت کی وجہ سے لفظ عجاف ذکر کیا۔ تعبیر کا معنی ہے : مثالی صورتوں سے ان معانی طرف انتقال جن کی عالم مثال (عالم اشباح) میں یہی شکلیں ہیں۔ تعبیر ‘ عبور سے بنا ہے جس کا معنی ہے : گذر جانا۔ عبرت الرویا عبارۃً ، عَبَّرت الرَّؤیا تعبیرًا سے زیادہ ثابت ہے۔
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی

قالوا اضغاث احلام وما نحن بتاویل الاحلام یعلمین وہ کہنے لگے کہ یہ تو پریشان خیالات ہیں اور ہم (ایسے) خوابوں کی تعبیر سے واقف نہیں۔ اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ گڑبڑ جھوٹے خواب۔ اضغاث ‘ ضغث کی جمع ہے۔ ضغث کا معنی ہے : گھاس وغیرہ کا گڈا۔ مجازاً جھوٹا خواب مراد لیا گیا ہے۔ حلم خواب۔ اس کا فعل باب نصر سے آتا ہے۔ چونکہ خواب میں مختلف چیزیں جمع تھیں ‘ اسلئے اضغاث کو بصیغۂ جمع ذکر کیا۔ بِتَأوِیْلِ الْاَحْلاَمِ میں احلام سے مراد ہیں : جھوٹے خواب۔ یعنی ان خوابوں کی ہمارے پاس کوئی تعبیر نہیں ‘ تعبیر تو سچے خوابوں کی ہوتی ہے۔ تعبیر نہ جاننے کا دوسرا عذر انہوں نے پیش کیا (اوّل عذر اضغاث احلام کا لفظ کہہ کر انہوں نے پیش کیا) ۔
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے

وقال الذي نجامنھما واد کر بعد امۃ انا انبئکم بتاویلہ فارسلون دونوں (قیدیوں) میں سے جس شخص نے (قید اور الزام قتل سے) رہائی پائی تھی اور ایک مدت کے بعد (حضرت یوسف کی) یاد اس کو ہوئی ‘ اس نے کہا : میں اس کی تعبیر تم کو بتاؤں گا ‘ مجھے (جیل خانہ میں حضرت یوسف کے پاس) بھیج دو ۔ یعنی ساقی نے کہا جس کو حضرت یوسف کی اور آپ کے قول اذْکُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّکَ کی یاد مدت کے بعد ہوئی۔ امّۃ بمعنی جماعت ‘ اس جگہ مراد مجموعۂ ایام یعنی ایک طویل مدت ‘ سات برس کا زمانہ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ساقی نے بادشاہ کے سامنے دو زانو ہو کر کہا : جیل خانہ میں ایک آدمی ہے جو خواب کی تعبیر دیا کرتا ہے۔ مجھے اس کے پاس جانے کی اجازت دے دیجئے۔ بادشاہ نے اس کو حضرت یوسف کے پاس بھیج دیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : قیدخانہ شہر کے اندر نہیں تھا۔ جب ساقی حضرت یوسف کے پاس پہنچا تو اس نے کہا :
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں

یوسف ایھا الصدیق اے یوسف ! اے بڑے سچے (آدمی) ۔ ساقی نے یوسف اسلئے کہا کہ وہ اپنے اور اپنے ساتھی کے بارے میں آپ کی سچی تعبیر کا تجربہ کرچکا تھا اور آپ کی صداقت کو جان چکا تھا۔ افتنافي سبع بقرٰت سمان یاکلھن سبع عجاف وسبع سنبلت خضر واخر یٰبسٰت آپ ہم لوگوں کو اس (خواب) کا جواب (یعنی تعبیر) دیجئے کہ سات گائیں موٹی ہیں ‘ ان کو سات دبلی گائیں کھا گئیں اور سات بالیں ہری ہیں اور دوسری (سات) بالیں خشک ہیں (اور خشک بالیوں نے لپٹ کر ہری بالیوں کو بھی خشک کردیا) مطلب یہ کہ یہ خواب بادشاہ نے دیکھا ہے اور آپ کے پاس بھیجا ہے ‘ اس کی تعبیر دیجئے۔ تعلي ارجع الی الناس لعلھم یعلمون تاکہ میں ان لوگوں کے (یعنی بادشاہ اور اہل دربار) کے پاس لوٹ کر جاؤں (اور خواب کی تعبیر دوں) تاکہ ان کو علم ہوجائے۔ اس شخص نے لعلّی (شاید) کلمۂ شک کا استعمال کیا اور قطعی یقین کا لفظ نہیں کہا کیونکہ خواب ہی ایسا تھا کہ لوگ اس کی تعبیر سے عاجز ہوگئے تھے اور بادشاہ دہشت زدہ ہوگیا تھا۔ گویا بڑا خوفناک خواب تھا ‘ نتیجہ پر پہنچنے کا یقین نہ تھا۔ لَعَلَّھُمْ یَعْلَمُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ خواب کی تعبیر سن کر شاید لوگوں کو آپ کا مرتبہ معلوم ہوجائے اور وہ آپ کے کمال علمی کے متعارف ہوجائیں۔ اس جگہ بھی لَعَلَّ کا لفظ اسلئے استعمال کیا کہ اس کو اس بات میں تردد تھا کہ لوگ مانیں گے بھی یا نہیں۔ اہل فضل کے فضائل کو دیکھ کر بھی متنبہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ حضرت یوسف کے کمالات اور طہارت و عفت کو دیکھ کر بھی عزیز مصر نے آپ کی فضیلت کا اعتراف نہیں کیا اور جیل میں ڈا لدیا۔
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا

قال یوسف نے کہا : سات موٹی گائیں اور سبز بالیں تو ارزانی اور کثرت پیداوار کے سات سال ہیں اور سات دبلی اور خشک بالیں قحط کے سات برس ہیں۔ تزرعون سبع سنین دابا تم سات سال متواتر غلہ بونا۔ دَأْبٌ معمول ‘ عادت۔ بعض علماء کے نزدیک دَأْبٌ سے مراد ہے : انتہائی محنت اور کوشش۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا : یہ جملہ اگرچہ خبریہ ہے مگر مقصد حکم دینا ہے (امر بصورت خبر بھی کبھی آتا ہے) ۔ فما حصدتم فذروہ في سنبلہ پھر جو (فصل) کاٹو ‘ اس کو بالیوں میں ہی رہنے دینا (تاکہ گھن نہ لگ جائے) ۔ الا قلیلا مما تاکلون مگر تھوڑا سا جو تمہارے کھانے میں آئے (اس کو بالیوں سے نکال لینا) یعنی پیداوار کے سات سالوں میں جتنا غلّہ کھانے میں صرف ہو ‘ وہ نکال لینا۔
Ayah 12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے

ثم یاتي من بعد ذلک سبع شداد یاکلن ما قدمتم لھن پھر اس کے بعد سات برس بہت سخت آئیں گے کہ جو تم نے ان کیلئے پہلے سے جمع کر رکھا ہوگا ‘ اس کو کھا جائیں گے۔ یعنی ان سالوں میں لوگ پچھلا اندوختہ کھا جائیں گے۔ خواب کے ساتھ تعبیر کے مطابق بنانے کیلئے کھانے کی نسبت قحط کے سالوں کی طرف کی ‘ ورنہ کھانے والے لوگ ہوتے ہیں ‘ سال نہیں کھایا کرتے۔ الا قلیلا مما تحصنون مگر تھوڑا سا حصہ (کھانے سے محفوظ رکھا) جو بیج کیلئے تو بچا رکھو گے۔
Ayah 12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے

ثم یاتي من بعد ذلک عام فیہ یغاث الناس وفیہ یعصرون پھر اس (کال) کے بعد ایک برس ایسا آئے گا جس میں لوگوں کیلئے خوب بارش ہوگی ‘ اس میں لوگ (پھلوں کے) عرق نچوڑیں گے (اور شرابیں بنائیں گے) ۔ یغاث ‘ غیث سے مشتق ہے ‘ غیث کا معنی ہے : بارش ہوگی۔ یا غوث سے مشتق ہے ‘ غوث فریادرسی یعنی لوگوں کی واویلا اور فریاد قبول کی جائے گی (اور اللہ ان پر رحم فرمائے گا۔ مترجم) یَعْصِرُوْنَ وہ نچوڑیں گے یعنی انگور ‘ زیتون (طرح طرح کے پھل) اور تِل (سرسوں اور دوسرے روغن دانہ سے) نچوڑیں گے۔ مطلب یہ کہ سرسبزی ‘ پیداوار اور آسائش کا سال ہوگا۔ ابو عبیدہ نے تعصرون بصیغۂ خطاب بضم صاد پڑھا ہے ‘ اس کا مصدر عصر ہے جس کا معنی ہے : نجات پانا ‘ یعنی تم تکلیف اور کال سے نجات پالو گے۔ حضرت یوسف نے اوّل سات موٹی اور دبلی گایوں اور سات سبز اور سات خشک بالیوں کی مراد بیان کی اور دبلی گایوں کے موٹی گایوں کو کھا جانے اور خشک بالیوں کے سبز بالیوں سے لپٹ کر ان کو بھی خشک کردینے کا تعبیری مطلب بیان کیا ‘ پھر کال کے ختم ہونے اور ارزانی کا سال آنے کی بشارت دی (بشارت کا تعلق اگرچہ خواب کی تعبیر سے نہ تھا مگر آپ نے بشارت اسلئے دی) کہ قحط کے سالوں کی تعداد پیداوار کے سالوں سے نہ بڑھ جائے (اور اس طرح تعبیر میں غلطی ہوجائے کیونکہ دبلی گایوں اور خشک بالیوں کی تعداد بھی سات ہی تھی ‘ اگر پندرھواں سال بھی قحط کا ہوتا تو سات سے ایک عدد بڑھ جاتا) بیضاوی نے لکھا ہے : شاید آپ کو پیداوار اور ارزانی کا سال آنے کی اطلاع وحی سے ہوگئی ہو ‘ یا اپنی فراست ایمانی سے سمجھ لیا ہو کہ اللہ کا دستور اور ضابطہ یہی ہے کہ تنگی کے بعد فراخی عطا فرماتا ہے ‘ اسلئے کال کے بعد پیداوار کا سال ضرور آئے گا۔
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے

وقال الملک ائتوني بہ اور بادشاہ نے کہا : میرے پاس اس کو لاؤ۔ یعنی ساقی خواب کی تعبیر لے کر جب بادشاہ کے پاس پہنچا اور وہ سمجھ گیا کہ تعبیر یقیناً صحیح ہے اور ایسا ضرور ہوگا اور اس بات سے اس نے حضرت یوسف کی بزرگی کا اندازہ کرلیا تو آپ کو بلوایا۔ فلما جاءہ الرسول پس جب بادشاہ کا قاصد حضرت یوسف کے پاس پہنچا اور اس نے کہا : بادشاہ نے آپ کو طلب کیا ہے تو حضرت یوسف نے اس وقت تک اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا جب تک آپ پر سے بدچلنی کی تہمت دور نہ ہوجائے اور سب لوگ آپ کی پاکدامنی کا اقرار نہ کرلیں۔ قال ارجع الی رب فسئلہ ما بال النسوۃ التي قطعن ایدیھن کہا : اپنے آقا کے پاس لوٹ کر جاؤ اور اس سے پوچھو کہ جن عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ‘ ان کا کیا حال ہے (کچھ تم کو بھی پتہ ہے کہ کیا واقعہ ہوا تھا) ۔ اس آیت سے یہ مسئلہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو آدمی کو اپنے اوپر سے تہمت کو دفع کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ خصوصاً اگر پیشوا اور مقتدا ہو تو اس کیلئے تو بہت ہی ضروری ہے کہ لگائی گئی تہمت سے اپنی برأت ثابت کرے۔ حضرت یوسف نے عزیز کی بیوی کا نام لے کر ذکر نہیں کیا ‘ ایسا محض ادب اور احترام کے پیش نظر کیا (ورنہ اصل مجرم تو وہی تھی) ۔ اسحاق بن راہویہ نے مسند میں اور طبرانی نے معجم میں ‘ نیز ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے اپنے بھائی یوسف کے صبر اور کرم پر تعجب ہے ‘ اللہ ان کی مغفرت کرے کہ ان کے پاس خواب کی تعبیر لینے آدمی پہنچا (اور انہوں نے تعبیر دے دی) اگر میں (ان کی جگہ) ہوتا تو جب تک جیل خانے سے باہر نہ آجاتا ‘ ایسا نہ کرتا اور ان کے صبر اور کرم پر مجھے (اسلئے بھی) تعجب ہے ‘ اللہ ان کی مغفرت کرے کہ ان کے پاس رہائی کا حکم لے کر آدمی پہنچا اور انہوں نے باہر نکلنے سے انکار کردیا اور اپنا عذر بیان کردیا۔ اگر میں (ان کی جگہ) ہوتا تو فوراً دروازے کی طرف دوڑ پڑتا۔ اگر ایک بات حضرت یوسف کے منہ سے نہ نکل جاتی تو وہ قید خانہ میں (مزید) سالوں کیلئے نہ رہتے۔ انہوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں سے مصیبت دور کرنے کی خواہش کی۔ عبدالرزاق اور ابن جریر نے اپنی تفسیروں میں عکرمہ کی روایت سے مرسلاً نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے حضرت یوسف اور ان کے کرم و صبر پر تعجب ہے ‘ اللہ ان کو بخشے کہ جب ان سے موٹی اور دبلی گایوں کی تعبیر پوچھی گئی (تو انہوں نے بغیر شرط پیش کئے تعبیر دے دی) اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو جب تک قید سے باہر نکلنے کی شرط نہ کرلیتا ‘ تعبیر نہ بتاتا اور مجھے تعجب ہے کہ جب قاصد (بادشاہ کا پیام طلب لے کر) ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : اپنے آقا کے پاس لوٹ کر جاؤ۔ اگر میں ان کی جگہ ہوتا اور اتنی مدت مجھے جیل خانہ کے اندر رہنا پڑتا جتنی مدت وہ رہے تو میں فوراً طلب کو قبول کرلیتا اور آگے آگے دروازے پر پہنچ جاتا اور عذر معذرت کا طلبگار نہ ہوتا۔ بلاشبہ وہ صاحب حلم اور بڑے بردبار تھے۔ اصل حدیث صحیحین میں مختصر آئی ہے۔ فائدہ : رسول اللہ ﷺ نے حضرت یوسف کے حال پر تعجب کیا اور فرمایا : میں فوراً طلب کو قبول کرلیتا۔ حقیقت میں یہ قول آپ کے کمال نزول پر دلالت کر رہا ہے (بہت پیغمبروں کو بلکہ سبھی کو کمال عروج تو حاصل تھا مگر کمال نزول کے مرتبے پر فائز کم ہی پیغمبر ہوئے جن میں سے حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ ‘ حضرت عیسیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کو شمار کیا جاسکتا ہے۔ مترجم) کمال نزول پر ہی دین کی عمومی اشاعت و قبول اور تاثیر و تکمیل (اور متعبین کی کثرت) موقوف ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہٗ نے اس بحث کی پوری تنقیح اپنے مکتوبات میں کی ہے۔ یہ اتنا باریک نکتہ ہے کہ اکثر کاملین کی رسائی فہم سے بھی خارج ہے ‘ ناقصوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ ان ربی بکیدھن علیم بلاشبہ میرا رب ان کے مکر سے خوب واقف ہے۔ جبکہ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اپنی مالکہ کا کہا مان لو یا مجھے اپنی طرف بہکا کر مائل کرنا چاہا تھا۔ اس جملہ میں ان عورتوں کے مکر کی بڑائی کا اظہار کیا ہے اور علم الٰہی کو بطور شہادت پیش کیا ہے اور عورتوں کی تہمت سے اپنی پاکدامنی کا اظہار کیا ہے اور عورتوں کو ان کی مکاری پر (انجام بد کی) دھمکی بھی دی ہے (یہ سارا مضمون اس ایک فقرہ سے مترشح ہو رہا ہے) حضرت یوسف کے پاس سے جواب لے کر قاصد بادشاہ کے پاس پہنچا اور بادشاہ نے ان عورتوں کو اور عزیز کی بیوی کو بلوایا اور
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے

قال ما خطبکن کہا : تمہارا کیا واقعہ ہے ‘ جواب دو ۔ خطب اس امر کو کہتے ہیں جس کا خطاب کیا جاسکے۔ یعنی صاحب واقعہ سے پوچھا جاسکے۔ بادشاہ نے سب عورتوں سے خطاب کیا ‘ اس سے مراد یا تو صرف عزیز کی بیوی سے خطاب کرنا تھا ‘ یا سب عورتیں مخاطب تھیں کیونکہ سب نے حضرت یوسف کو مکر کے ساتھ اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ سب نے زلیخا کا کہا ماننے کا مشورہ دیا تھا۔ ازروادنن یوسف عن نفسہ جبکہ یوسف کو تم نے پھسلایا تھا۔ یعنی کیا تم میں سے کسی نے حضرت یوسف کو اپنی طرف مائل ہوتے پایا جبکہ تم نے ان کو بہکانے کی سازش کی تھی۔ قلن حاش اللہ انہوں نے کہا : پاکی ہے اللہ کیلئے اور تعجب ہے کہ اللہ نے حضرت یوسف کو کیسا پاکدامن پیدا کیا ہے۔ ما علمنا علیہ من سوء ہم کو ان میں ذرا بھی تو برائی کی بات نہیں معلوم ہوئی۔ سوء سے مراد ہے : گناہ اور خیانت۔ کہا گیا ہے کہ ان عورتوں نے عزیز کی بیوی کو سخت سست کہا۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ عزیز کی بیوی کو جب اندیشہ ہوا کہ یہ عورتیں میرے خلاف شہادت دیں گی تو اس نے خود اپنے جرم کا اقرار کرلیا اور قالت امرات العزیز الن حصحص الحق انا راوادتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین عزیز کی بیوی نے کہا : اب تو حق بات (سب پر) ظاہر ہو ہی گئی ہے کہ میں نے ہی اپنے مطلب کیلئے ان کو پھسلایا تھا اور بلاشبہ وہ ہی سچے ہیں۔ حَصْحَصَ ظاہر ہوگیا۔ حَصْحَصَ الشَّعْرُ بال گرگئے اور جلد ظاہر ہوگئی۔ یا حَصْحَصَ کا معنی ہے : ثابت ہوگیا ‘ ٹھہر گیا۔ حَصْحَصَ البعیر اونٹ اپنی جگہ جم کر بیٹھ گیا۔ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصَّدِقِیْنَ یعنی وہ اس بات میں سچے ہیں کہ میں نے ان کو پھسلایا تھا۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا

ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب وان اللہ لا یھدی کید الخائنین یہ (باتیں یعنی قاصد کو جواب دے دینا ‘ اس کے ساتھ نہ جانا) میں نے اسلئے کیں کہ اس کو (یعنی عزیز کو) یقین کے ساتھ معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کے پس پشت اس کی غیر موجودگی میں (اس کی آبرو میں) کوئی خیانت نہیں کی اور یہ بھی (معلوم ہوجائے) کہ اللہ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔ بِالْغَیْبِ پس پشت جبکہ میں اس کے اور وہ میرے سامنے موجود نہ تھا۔ یا غیب سے مراد ہے : پوشیدہ مقام ‘ بند کمروں کے اندر۔ لاَ یَھْدِیْ نافذ نہیں کرتا ‘ درست نہیں ہونے دیتا بلکہ حق کو ظاہر کرتا ہے خواہ کچھ مدت کے بعد ہی ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ خیانت کرنے والوں کو ان کے مکر کے سبب ہدایت نہیں کرتا۔ الْخَآءِنِیْنَ اصل میں لاَ یَھْدِیْ کا مفعول تھا مگر اس کی جگہ کَیْدَ کو مفعول قرار دینے سے کلام میں زور آگیا۔ اس میں زلیخا کی خیانت کاری پر طنز اور اپنی امانت کا قوت کے ساتھ اظہار ہے۔ اسی لئے آگے فرمایا۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

وما ابری نفسي اور میں (بذات خود) اپنے نفس کو پاک نہیں قرار دیتا۔ اس کلام میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ اس سے میری مراد اپنی پاکیزگی کا اظہار اور برخود غرور نہیں بلکہ اللہ کے انعام کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اس نے مجھے محفوظ رکھا اور عصمت کی توفیق دی اور بادشاہ کو میرا پیرو بنایا۔ ابن مردویہ نے حضرت انس کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جب حضرت یوسف نے کہا : میرے اس جواب کی وجہ یہ ہے کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی آبرو میں اس کی غیرموجودگی میں کوئی دست درازی نہیں کی تو حضرت جبرئیل نے کہا : (کیا اس وقت بھی آپ نے خیانت نہیں کی تھی) جب گناہ کا ارادہ کیا تھا ؟ اس پر حضرت یوسف نے کہا : وَمَآ اُبُرِّئُ نَفْسِيْ ج بیضاوی نے یہ حدیث حضرت ابن عباس سے موقوفاً نقل کی ہے۔ ان النفس لامارۃ بالسوء کیونکہ نفس تو (از خود) بری ہی بات بتاتا ہے۔ نفس سے مراد ہے : نفس حیوانی جو عناصر اربعہ (مادیہ) سے پیدا ہوتا ہے۔ عام امر کے لطائف میں سے قلب اور روح ہے ‘ قلب اور روح کا حامل یہی نفس ہے۔ چونکہ اس نفس کا تولیدی مرکز عناصر اربعہ مادیہ ہیں ‘ اسلئے اس کا بالطبع میلان (حیوانی) خواہشات اور اخلاق رذیلہ کی جانب ہے۔ غضب اور غرور عنصر نار کا مقتضی ہے ‘ کمینگی اور دناءت کا اقتضاء زمین کا ہے ‘ نیرنگی اور صبر کا فقدان پانی کی خصوصیت ہے ‘ دل لگی اور لہو و لعب ہوا کا خاص کرشمہ ہے۔ الا ما رحم ربي سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم کرے۔ مَا رََحِمَ میں مَا بمعنی مَنْ ہے جیسے آیت مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِسَاء میں مَا بمعنی مَنْ ہے۔ یعنی جس پر میرا رب رحم کرے اور اس کو بچا لے تو وہ نفس کی اطاعت نہیں کرتا بلکہ اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ اسی جہاد نفس کی وجہ سے اس کو ملائکہ پر برتری حاصل ہوجاتی ہے۔ یا وقت رحمۃ ربّی مراد ہے ‘ اس وقت مَا مصدریہ ہوگا۔ یعنی جس وقت انسان اللہ کی رحمت کو پا لیتا ہے ‘ خواہ اللہ کی طرف سے براہ راست انتخاب کی وجہ سے یا انبیاء کی پیروی کے ذریعہ سے تو اللہ کی طرف سے پاکیزگی عطا ہونے کی وجہ سے اس کا نفس پاک ہوجاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَلاَ تُزَکُّوْآ اَنْفُسَکُمْ تم اپنے نفوس کو پاک نہ قرار دو ۔ دوسری آیت ہے : بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآء بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ‘ پاک کردیتا ہے۔ ایسا نفس اللہ کی رضامندی پر راضی ہوجاتا ہے۔ اللہ کی طرف سے اس کو خطاب ہوتا ہے : اِرْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَّۃً مَرْضِیَّۃً فَادْخُلِيْ فِیْ عِبَاديْ اے نفس مطمئنہ ! اپنے رب کی طرف لوٹ ‘ تو اللہ سے خوش ‘ اللہ تجھ سے خوش اور میرے نیک بندوں میں شامل ہوجا۔ اس حالت میں اللہ نفس کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہے اور نیکیوں اور بھلائیوں میں تمام لطائف امر کا امام بنا دیتا ہے اور جن صفات کی تجلی کو عالم امر کے (خالص) لطائف برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ‘ ان صفات کی تجلی کا حامل یہ نفس ہوجاتا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ الا ما رحم میں استثناء منقطع ہے۔ اِلاَّ کا معنی ہے : لٰکِنَّ یعنی نفس بدی کا راستہ بتاتا ہے لیکن میرے رب کی رحمت بدی کو اس کی طرف سے پھیر دیتی ہے اور بدی کو نیکی سے بدل دیتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں آیتیں زلیخا کا مقولہ ہیں اور مَنْ رَحِمَ سے مراد ہیں : حضرت یوسف اور ان جیسے دوسرے لوگ۔ اس قول پر آیات کا مطلب اس طرح ہوگا : زلیخا نے کہا : میں نے یوسف کی بےگناہی کے متعلق جو کچھ کہا ہے ‘ وہ اسلئے کہا کہ یوسف کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی خیانت نہیں کی ‘ یعنی اس کے غیر حاضر ہونے کی حالت میں بھی اس پر دروغ تراشی نہیں کی اور جب مجھ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو میں نے سچی بات ہی کہہ دی اور میں خیانت سے اپنے نفس کو بالکل پاک نہیں کہتی کیونکہ اتنی خیانت میں نے ضرور کی کہ اس کو متہم کیا اور عزیز سے کہا : مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَھْلِکَ سُوْءًٓ الاّآ اَنْ یُسْجَنَ ۔ پھر میں نے ہی اس کو قید بھی کرایا۔ گویا اس قول سے اس نے اپنی پچھلی حرکت کا عذر پیش کرنا چاہا اور کہا : نفس تو برائی کا راستہ بتانے والا ہے سوائے ان لوگوں کے جن پر میرا رب رحم کرے ‘ جیسے یوسف اور اس کی طرح دوسرے لوگ کہ اللہ نے اپنی رحمت سے اس کو گناہ سے بچا لیا۔ ان ربي غفور رحیم بیشک میرا رب بڑا بخشنے والا ‘ مہربان ہے۔ نفس کے ارادے اور تصورات کو بخشنے والا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے ‘ گناہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو گناہگار اس سے معافی طلب کرے ‘ اس کو معاف کردیتا ہے اور طالب رحم و مغفرت پر رحم کرتا ہے۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو

وقال الملک ائتوني بہ استخلصہ لنفسي اور بادشاہ نے (اہل دربار سے) کہا : ان کو میرے پاس لے آؤ ‘ میں ان کو خاص اپنے (کام کے) لئے رکھوں گا۔ جب حضرت یوسف کی بےگناہی بادشاہ پر ظاہر ہوگئی اور آپ کے علم و امانت کا مرتبہ بھی اس کو معلوم ہوگیا تو اس نے حضرت یوسف کو طلب کیا اور کہا : میں براہ راست اپنے لئے ان کو رکھنا چاہتا ہوں (یعنی عزیز مصر یا کسی اور کی ماتحتی میں رکھنا نہیں چاہتا۔ مترجم) حسب الحکم قاصد آپ کے پاس پہنچا اور کہا : چلئے ‘ بادشاہ نے طلب کیا ہے۔ عبدالحکم نے فتوح مصر میں بطریق کلبی بوساطت ابو صالح حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ قاصد نے حضرت یوسف کے پاس پہنچ کر گذارش کی : اب قید خانہ کے کپڑے اتار کر نئے کپڑے پہن لیجئے اور بادشاہ کے پاس چلئے۔ ابن ابی شیبہ ار ابن المنذر نے فرید عمی کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت یوسف نے جب عزیز مصر کو دیکھا تو دعا کی : الٰہی ! میں تجھ سے اس کی خیر کی بجائے تیری خیر کا طلبگار ہوں اور اس کے شر سے تیرے غلبہ کی پناہ پکڑتا ہوں۔ بغوی کا بیان ہے : آپ کھڑے ہوگئے اور قیدیوں کیلئے دعا کی : اے اللہ ! نیکوں کے دلوں کو ان پر مہربان کر دے اور (شہر و ملک کی) خبریں ان پر پوشیدہ نہ کر۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شہر کی خبروں سے وہاں کے قیدی بہت زیادہ باخبر ہوتے ہیں۔ قیدخانہ سے نکلے تو قیدخانہ کے دروازہ پر یہ بات لکھ دی : یہ زندوں کا قبرستان ہے ‘ غموں کا گھر ہے ‘ دوستوں کی آزمائش اور دشمنوں کی خوشی کا مقام ہے۔ پھر آپ نے قیدخانہ کا میل کچیل دھویا ‘ بدن صاف پاک کیا اور خوبصورت کپڑے پہن کر بادشاہ کے پاس جانے کے ارادے سے چل دئیے۔ وہب کا بیان کیا : جب شاہی دروازہ پر پہنچے تو فرمایا : میرا رب میرے لئے کافی ہے دنیا سے بےنیاز کرنے والا ہے ‘ میرا رب کافی ہے اپنی مخلوق سے بےاحتیاج کردینے والا ہے۔ اس کی پناہ لینے والا غالب رہتا ہے ‘ اس کی ثنا بڑی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد گھر کے اندر داخل ہوئے اور بادشاہ کے سامنے پہنچے تو دعا کی : اے اللہ ! میں اس کی خیر کی بجائے تیری خیر کا تجھ سے طالب ہوں اور اس کے اور دوسروں کے شر سے تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ بادشاہ نے جب آپ کی طرف دیکھا تو آپ نے اس کو عربی میں سلام کیا۔ بادشاہ نے کہا : یہ کیا زبان ہے ؟ فرمایا : میرے چچا حضرت اسماعیل کی زبان ہے۔ پھر آپ نے بادشاہ کو عبرانی زبان میں دعا دی۔ بادشاہ نے پوچھا : یہ کونسی زبان ہے ؟ فرمایا : یہ میرے باپ دادا کی زبان ہے۔ بادشاہ ان دونوں زبانوں سے ناواقف تھا اگرچہ ستر زبانوں میں گفتگو کرسکتا تھا۔ جس زبان میں بات کرتا تھا ‘ آپ اسی زبان میں جواب دیتے تھے ‘ مگر عبرانی اور عربی مزید جانتے تھے جن سے بادشاہ واقف نہ تھا۔ حضرت یوسف کی اس وقت عمر تیس سال کی تھی ‘ اس نوجوانی میں آپ کے یہ کمالات دیکھ کر متحیر ہوگیا اور (اپنے قریب) بٹھایا۔ فلما کلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین جب بادشاہ نے ان سے باتیں کیں تو ان سے کہا کہ آپ ہمارے نزدیک آج (سے) بڑے معزز اور معتبر ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : بادشاہ نے حضرت یوسف سے کہا : میں اپنا خواب آپ کے منہ سے اپنے سامنے سننا چاہتا ہوں۔ فرمایا : بہت اچھا ‘ سنئے : اے بادشاہ ! آپ نے خواب میں دیکھا کہ سات سفید رنگ کی خوبصورت گائیں نیل سے برآمد ہوئیں اور ساحل نیل سے نکل کر آپ کے سامنے آئیں ‘ ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے۔ اس کے بعد نیل کی کیچڑ سے سات دبلی گائیں برآمد ہوئیں جو بھوکی تھیں ‘ ان کے پیٹ لگے ہوئے تھے۔ ان کے پاس نہ دودھ تھا نہ تھن ‘ ان کی داڑھیں تھیں اور کیلے (جیسے نوکیلے دانت) تھے اور کتوں کے پنجوں کی طرح پنجے تھے اور درندوں کی ناک کی طرح ان کی ناکیں تھیں۔ درندوں کی طرح انہوں نے موٹی گایوں کو چیرپھاڑ ڈالا ‘ کھال کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ‘ گوشت کھالیا ‘ ہڈیوں کو ریزہ ریزہ کردیا اور مینگنی کو چوس لیا۔ آپ یہ منظر دیکھ کر تعجب ہی کر رہے تھے کہ ایک ہی جڑ سے اناج کی سات سبز بالیں اور سات سیاہ (خشک) بالیں نمودار ہوئیں۔ جڑ کے سوتے سب کے کیچڑ اور پانی کے اندر تھے۔ آپ یہ تماشا دیکھ ہی رہے تھے اور تعجب کر رہے تھے کہ جب جڑ ایک ہے اور سوتے سب کے پانی میں ہیں تو یہ سبز خوشہ دار اور وہ سوکھی بالیں کہاں سے پیدا ہوگئیں ؟ یکایک ایک ہوا چلی جس کی وجہ سے خشک بالوں کے پتّے جھڑ کر خوشبودار بالیوں پر گرے اور سبز بالیوں میں آگ لگ گئی اور وہ جل کر سیاہ ہوگئیں۔ یہ خواب دیکھ کر آپ بیدار ہوگئے اور دہشت زدہ ہوگئے۔ بادشاہ نے کہا : خدا کی قسم ! یہ خواب اگرچہ عجیب تھا مگر اس کی تعجب آفرینی اس بیان سے زیادہ نہیں جو میں نے آپ سے سنا۔ اے سچے انسان ! اب اس خواب کے متعلق آپ کیا مشورہ دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میری رائے یہ ہے کہ ان پیداوار کے سالوں میں آپ کاشت بہت زیادہ کرائیں اور پیدا شدہ غلہ کو مع ان کے درختوں اور بالیوں کے ذخیرہ کرلیں تاکہ (قحط کے سالوں میں) درخت اور بالیں (یعنی سب کا بھوسہ) جانوروں کی خوراک بن جائے اور لوگوں کو آپ یہ بھی حکم دے دیں کہ وہ اپنے غلہ کا پانچواں حصہ اٹھا کر الگ رکھ دیا کریں (اور اس طرح ہر سال کی پیداوار کا پانچواں حصہ ان کے پاس جمع ہوجائے) جو غلہ اسٹاک کرلیں گے ‘ وہ تو مصر اور اطراف مصر کیلئے کافی ہوجائے گا اور جب دور کے اطراف سے لوگ آپ کے پاس غلہ کی طلب میں آئیں گے تو آپ کے پاس ان سے وصول کیا ہوا روپیہ اتنا جمع ہوجائے گا کہ آپ سے پہلے (مصر کے بادشاہوں میں سے) کسی کے پاس جمع نہ ہوا ہوگا۔ بادشاہ نے کہا : اس کام کی سرانجام دہی کون کرے گا ‘ کون غلہ جمع کرے گا ‘ کون فروخت کرے گا ‘ یہ دھندا میری طرف سے کون کرے گا ؟
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں

قال اجعلنی علی خزائن الارض اني حفیظ علیم حضرت یوسف نے کہا : مجھے ملک (مصر) کی پیداوار اور مال پر مقرر کر دو ‘ میں (اس کام کی) بخوبی نگہداشت کرنے والا اور جاننے والا ہوں۔ حضرت یوسف نے اپنی امانت داری اور کارگذاری کا خود اظہار کیا اور خود عہدہ طلب کیا تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے احکام مخلوق میں جاری کرسکیں ‘ حق کو قائم کریں اور عدل کو دنیا میں پھیلائیں۔ اسی کام کیلئے انبیاء آتے ہیں اور ان کی بعثت کی غرض یہی ہوتی ہے۔ آپ کو معلوم تھا کہ میرے سوا اور کوئی اس کام کو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ‘ پس آپ نے عہدۂ حکومت کی طلب اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کی تھی ‘ جاہ و اقتدار کی طلب نہ تھی۔ خلفاء راشدین کی خلافت کا مقصد بھی یہی تھا اور حضرت علی کا حضرت معاویہ سے جھگڑا بھی اسی بنیاد پر تھا کیونکہ آپ اس کام کے زیادہ اہل تھے۔ حضرت معاویہ کے مقابلہ میں آپ کو اپنے نفس پر زیادہ قابو تھا اور احکام الٰہی کو جاری کرنے کی صلاحیت آپ میں حضرت معاویہ سے زیادہ تھی۔ بیضاوی نے کہا : طلب عہدہ کی شاید یہ وجہ ہو کہ آپ نے یہ تو محسوس کرلیا تھا کہ بادشاہ مجھے کوئی کام سپرد کرنا چاہتا ہے ‘ اسلئے آپ نے عہدہ کی تعیین کردی اور ایسے کام کی ذمہ داری طلب کی جس کا فائدہ عمومی تھا اور سب لوگ اس سے مستفید ہوسکتے تھے۔ اس آیت سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اگر انسان کو اپنی ذات پر اطمینان اور بھروسہ ہو تو حکومت کا کوئی عہدہ اور قضاء کی طلب جائز ہے اور اپنی اہلیت کار کے اظہار میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ایک بات یہ بھی نکلتی ہے کہ بادشاہ کافر ہو یا ظالم ‘ اس کی طرف سے کسی کام پر مامور ہونا (بشرطیکہ) وہ کام افادیت عامہ رکھتا ہو اور جاہ طلبی کا داعیہ نہ ہو) جائز ہے۔ ظالموں اور فاسقوں کی طرف سے ہمارے محترم اسلاف محکمۂ قضاء کی خدمت اسی غرض سے قبول کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ (حاکم حضرت یوسف نہ تھے ‘ صرف مشیر تھے) بادشاہ آپ سے مشورہ لے کر خود حکم جاری کرتا تھا اور آپ کی رائے میں دخل نہ دیتا تھا ‘ گویا اجراء احکام میں آپ کا تابع تھا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ میرے بھائی یوسف پر رحم فرمائے ‘ اگر وہ اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآءِنِ الْاَرْضِ نہ کہتے تو بادشاہ ان کو فوراً حاکم بنا دیتا مگر (اس لفظ کو کہنے کی وجہ سے) بادشاہ نے وہ سال ٹال دیا۔ اس مدت میں حضرت یوسف بادشاہ کے پاس اس کے گھر میں رہتے رہے۔ بغوی نے دوسری سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جس روز حضرت یوسف نے درخواست حکومت کی تھی ‘ اس دن سے جب ایک سال کی مدت گذر گئی تو بادشاہ نے آپ کو بلا کر تاج پہنایا اور شاہی تلوار باندھی اور جواہر سے جڑا ہوا تخت آپ کیلئے بچھوایا اور تخت کے گرد ریشمی پردہ لٹکا دیا۔ تخت تیس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا تھا۔ اس پر دس بستر بچھے ہوئے تھے اور ساٹھ باریک پردے تھے۔ پھر تاج پہن کر آپ کو برآمد ہونے کا حکم دیا ‘ آپ سر پر تاج رکھے برآمد ہوئے۔ برف کی طرح آپ کا رنگ گورا اور چاند کی طرح چہرہ روشن تھا۔ بدن کی صفائی کی وجہ سے چہرے کا رنگ (یعنی عکس) بدن پر نظر آتا تھا۔ آپ اس شان کے ساتھ جا کر تخت پر بیٹھ گئے۔ تمام حکام آپ کے فرمانبردار ہوگئے۔ بادشاہ ‘ مصر کی پوری حکومت آپ کو سپرد کر کے اپنے گھر چلا گیا۔ بادشاہ نے قطفیر کو اس کے عہدے سے معزول کردیا اور حضرت یوسف کو اس کی جگہ مقرر کردیا۔ یہ قول ابن اسحاق کا ہے۔ ابن زید کا بیان ہے کہ ریان شاہ مصر کے پاس خزانے بہت تھے ‘ تمام خزانے اس نے حضرت یوسف کے تصرف میں دے دئیے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق کی روایت سے بیان کیا ہے : اہل روایت نے ذکر کیا ہے کہ اسی زمانہ میں قطفیر کا انتقال ہوگیا اور بادشاہ نے اس کی بیوی زلیخا سے یوسف کا نکاح کرا دیا۔ نکاح کے بعد حضرت یوسف زلیخا کے پاس پہنچے تو ان سے فرمایا : کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے جو تم چاہتی تھیں ؟ زلیخا نے جواب دیا : اے صدیق ! مجھے آپ ملامت نہ کریں۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں خوبصورتی میں ایک ہی عورت تھی اور یہ بھی جانتے ہی ہیں کہ حکومت اور دنیا کے لحاظ سے کتنے عیش میں تھی اور میرا شوہر عورتوں کے قابل نہ تھا اور آپ کے حسن و صورت کی جو حالت تھی ‘ وہ بھی خداداد تھی اس لئے آپ کو دیکھ کر مجھ سے صبر نہ ہوسکا۔ اہل روایت کا خیال ہے کہ حضرت یوسف نے زلیخا کو دوشیزہ پایا ور زلیخا کے بطن سے آپ کے دو لڑکے پیدا ہوئے ‘ افرائیم اور میثا۔ غرض مصر کی حکومت حضرت یوسف کیلئے مستقل ہوگئی ‘ آپ وہیں مقیم ہوگئے۔ مرد اور عورت سب آپ کو پسند کرتے تھے ‘ آیت ذیل اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے

وکذلک مکنا لیوسف فی الارض یتبوا منھا حیث یشاء اور ہم نے ایسے (عجیب) طور سے یوسف کو اس سرزمین میں جماؤ عطا کردیا کہ وہاں جس جگہ چاہیں رہیں __ یعنی بادشاہ کی مجلس میں جس طرح ہم نے حضرت یوسف کو جگہ دی ‘ اسی طرح سرزمین مصر میں ہر جگہ اس کو رہنے کا اختیار دیا ‘ وہ جہاں چاہتا رہ سکتا تھا۔ نصیب برحمتنا من نشاء ولا نضیع اجر المحسنین ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نعمت عطا کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔ رحمت سے مراد ہے : نعمت اور اجر سے مراد ہے : فوراً یا کچھ مدت کے بعد نکلنے والا اچھا نتیجہ۔ المحسنین سے حضرت ابن عباس اور وہب کے نزدیک صبر کرنے والے مرد ہیں۔ مجاہد وغیرہ نے کہا : حضرت یوسف برابر بادشاہ کو اسلام کی دعوت دیتے رہے ‘ آخر بادشاہ مسلمان ہو ہی گیا اور بہت سے لوگ بھی مشرف باسلام ہوگئے۔ اس طرح حضرت یوسف کو دنیوی اجر مل گیا۔