12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا

وتولی عنھم اور سب کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ وقال یاسفے علی یوسف اور افسوس و حسرت سے کہنے لگے : ہائے یوسف۔ اَسَفَ کا معنی ہے : انتہائی حزن واندوہ۔َ اَسَفاصل میں اسفی بیاء متکلم تھا۔ عبدالرزاق اور ابن جریر نے موقوفاً سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ سوائے امت محمدیہ کے کسی اور امت کو مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰہِ وَانَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہنے کی تعلیم نہیں دی گئی۔ حضرت یعقوب پر بھی بپتا پڑی تو انہوں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ نہیں کہا بلکہ حسرت و افسوس کا اظہار کیا۔ بیہقی نے بھی یہ روایت شعب الایمان میں نقل کی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ ضعیف سند میں بوساطت حضرت ابن عباس اس کو مرفوعاً بیان کیا گیا ہے۔ ثعلبی نے سعید بن جبیر کے طریق سے اس کو مرفوعاً بیان کیا ہے۔ وابیضت عینہ من الحزن فھو کظیم اور (روتے روتے) ان کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور وہ (غم سے جی ہی جی میں) گھٹا کرتے۔ یعنی روتے روتے آنکھوں کی سیاہی جاتی رہی اور نابینا ہوگئے۔ مقاتل نے کہا : چھ برس نابینا رہے۔ بعض اہل تفسیر نے تشریح کہ کی نگاہ کمزور ہوگئی (یعنی آنکھوں کے سفید ہونے سے مراد ہے : نگاہ کا ضعف) ۔ کظم سانس کا مخرج۔ اَخذَ بِکَظَمِہٖ اس نے فلاں شخص کے سانس باہر آنے کے راستے کو پکڑ لیا۔ کظوم سانس رک جانا ‘ سانس بند ہوجانا۔ مجازی معنی خاموش ہوجانا۔ کَظِیْم بمعنی کا ظم جس کا سانس رک گیا ہو ‘ بند ہوگیا ہو۔ مطلب یہ کہ حضرت یعقوب اپنے غم و غصے کو ضبط کرنے والے تھے ‘ لوگوں سے کہتے نہ تھے۔ اسی سے ہے : کَظَمَ الْبَعِیْرُ اونٹ نے جگالی کرنی چھوڑ دی اور کھائی ہوئی غذا پیٹ میں روک لی۔ کظم السقاء بھرنے کے بعد مشک کا منہ باندھ دیا۔ کظیم کا معنی کبھی پُر (بھرا ہوا) بھی آتا ہے۔ بھری ہوئی مشک کا منہ باندھ دیا جاتا ہے اور جو کچھ اس کے اندر ہوتا ہے ‘ بند کردیا جاتا ہے۔ مؤخر الذکر معنی کے لحاظ سے کظیم بمعنی مکظوم ہوسکتا ہے یعنی غم و غصہ سے بھرا ہوا۔ قتادہ نے کہا : حضرت یعقوب کے سینے میں غم گھومتا تھا مگر زبان سے کلمۂ خیر کے سوا کچھ نہیں کہتے تھے۔ حسن نے کہا : جس روز سے حضرت یوسف باپ کی گود سے جدا ہوئے ‘ اس روز سے یوم ملاقات تک اسّی سال گذر گئے اور اس مدت میں حضرت یعقوب کا آنسو خشک نہیں ہوا ‘ باوجودیکہ آپ کے زمانے میں روئے زمین پر آپ سے زیادہ اللہ کے نزدیک کسی کی عزت نہ تھی اور اللہ کو آپ سے زیادہ پیارا کوئی نہ تھا۔ تنقیح مبحث علماء تصوف اور اصحاب معرفت کہتے ہیں کہ فناء قلب کے بعد صوفی کے دل کا لگاؤ اللہ کے سوا کسی سے نہیں رہتا اور سوائے محبوب حقیقی کے کسی مخلوق کی محبت کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ حضرت یعقوب تو جلیل القدر پیغمبر اور صاحب بصیرت مقرب ولی اللہ تھے ‘ حضرت یوسف کی محبت آپ کے دل میں کیسے سما گئی اور فراق یوسف میں اتنے کیوں روئے کہ نور نظر جاتا رہا ‘ اگر اس کی یہ توجیہ کی جائے کہ سارا عالم جلوہ گاہ الوہیت اور آئینۂ حقیقت ہے ‘ حضرت یوسف سے حضرت یعقوب کے دل کی وابستگی حقیقت میں اللہ ہی کی محبت تھی تو کہا جاسکتا ہے کہ پھر اس میں حضرت یوسف ہی کی کیا خصوصیت ہے ‘ سارا عالم مظہر حقیقت ہے ‘ دوسروں سے دل کا لگاؤ نہ ہونے کی کیا وجہ۔ اس کے علاوہ یہ کہ عالم کو جلوہ گاہ حقیقت سمجھ کر غیر اللہ سے دل کی وابستگی تو علم تصوف کی ابتداء یا توسط کا درجہ ہے۔ حضرت یعقوب تو کاملین میں سے تھے ‘ معرفت کی آخری چوٹی پر پہنچے ہوئے تھے ‘ ان کے دل کا حضرت یوسف سے لگاؤ اور وابستگی کس طرح ممکن تھی۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے مندرجہ ذیل تنقیح پر غور کرو۔ تنقیح فناء کے بعد صوفی کے دل کا لگاؤ کسی دنیوی چیز سے نہیں رہتا ‘ آخرت سے تعلق رکھنے والی چیزوں کی حالت اس سے جدا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : دنیا ملعون ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ ملعون ہے ‘ مگر اللہ کی یاد اور اللہ کی یاد پیدا کرنے والی چیزیں اور عالم اور طالب علم (ملعون نہیں ہے) یہ حدیث ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور طبرانی نے صحیح سند سے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کی ہے۔ بزار نے بھی حضرت ابن مسعود کی روایت سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور طبرانی نے صحیح سند سے حضرت ابو درداء کی روایت سے بھی اس کو بیان کیا ہے۔ آخرت اللہ کو پسند ہے اور اس سے دل کا تعلق بھی پسند ہے۔ ارشاد خداوندی ہے : وَاذْکُرْ عِبَادَنَا اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَار میرے خاص بندوں ابراہیم ‘ اسحاق اور یعقوب کا ذکر کرو جو طاقت والے اور صاحبان بصیرت تھے۔ یعنی اللہ کی طاعت میں قوی اور اللہ کی معرفت و بصیرت رکھنے والے تھے۔ انّا اخلصناھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ ہم نے ان کو ایک خصلت خالص طور پر عطا کی تھی جس میں کوئی کدورت اور آمیزش نہ تھی ‘ یعنی دار آخرت کی یاد کیلئے مخصوص کردیا تھا۔ مالک بن دینار نے فرمایا : مراد یہ ہے کہ ہم نے دنیا کی محبت اور یاد ان کے دلوں سے نکال لی تھی اور آخرت کی محبت و یاد کیلئے ان کو مخصوص کردیا تھا ‘ ہر عمل و ترک عمل میں آخرت ہی ان کے پیش نظر رہتی تھی۔ آخرت ہی کو دار (مکان) کہنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا مکان نہیں گذر گاہ ہے اور مکان صرف آخرت ہے۔ یہ آیت واضح طور پر بتارہی ہے کہ آخرت اور آخرت کی یاد ہی اللہ کو پسند ہے اور آخرت کی ہر چیز قابل پسندیدگی اور مستحق ستائش ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ سے (خواب میں) کہا گیا کہ ایک سردار نے ایک مکان بنوایا (مکان کے اندر دسترخوان لگوایا اور (کھانے والوں کو بلانے کیلئے) ایک بلانے والے کو بھیجا (بلانے والے نے جا کر لوگوں کو کھانے کی دعوت دی) داعی کی دعوت کو جس نے قبول کرلیا ‘ اس نے گھر کے اندر آکر دسترخوان سے کھانا کھالیا اور سردار اس سے خوش ہوگیا اور جس نے داعی کی دعوت کو قبول نہیں کیا ‘ وہ گھر میں داخل نہ ہوا اور نہ کھانا کھایا اور سردار اس سے ناراض ہوگیا۔ پس اللہ سردار ہے ‘ محمد مدعی ہے اور گھر اسلام ہے اور دسترخوان جنت ہے۔ رواہ الدارمی عن ربیعۃ الجرشی۔ یہ معرفت کی وہ چوٹی ہے جس پر کاملین ہی کی رسائی ہے۔ عوام اور ابتدائی زینے پر قد م رکھنے والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے ‘ درمیانی درجہ والوں کی بھی وہاں تک پہنچ نہیں ہے۔ رابعہ بصری کو اگر معرفت کی یہ رفعت حاصل ہوتی تو وہ نہ کہتیں کہ میں جنت کو جلا دینا چاہتی ہوں تاکہ جنت کے لالچ میں لوگ اللہ کی عبادت نہ کریں ‘ خالص اللہ کیلئے اس کی عبادت کریں۔ کیا ان کو یہ آیت معلوم نہ تھی ‘ اللہ تو فرماتا ہے : مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَاء اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ یعنی جو شخص اللہ سے ملنے کا امیدوار ہے تو اللہ کی ملاقات کا وقت آخرت میں ضرور آنے والا ہے اور جنت اس کی ملاقات کا نام ہے۔ ایک اور حدیث میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت کی مٹی پاکیزہ (خوشبودار) اور اس کا پانی شیریں ہے اور وہاں بڑے میدان ہیں (جہاں سرسبز درخت ہیں) اور اس کے درخت یہ (تنزیہی کلمات) ہیں : سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ ُ اکبر۔ رواہ الترمذی عن ابن مسعود۔ شیخین نے صحیحین میں اور حاکم اور طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : تمہارے لئے ہر ایک (لفظ) کے بدلہ میں جنت کے اندر ایک درخت لگایا جائے گا۔ حضرت مجدد قدس سرہٗ نے فرمایا : تنزیہی معنی کا دنیوی لباس تو یہی (سبحان اللہ وغیرہ) حروف و الفاظ ہیں ‘ آخرت میں ان کا پیرایۂ ظہور جنت کے پھل و درخت ہیں (دنیا میں ان کلمات کے ساتھ اور آخرت میں جنت کے ساتھ) محبت کا تعلق گویا تنزیہی معنی سے وابستگی (کی شکل) ہے۔ حضرت مجدد نے فرمایا : میں کہتا ہوں کہ ہر شخص کی جنت یہ ہے کہ اللہ کے اسماء (وصفات) میں سے جو اسم بھی اس شخص کے تعین اور تشخص کا مبدأ ہے ‘ اس کا ظہور ہوجائے اور یہ ظہور اس شخص کیلئے درختوں ‘ نہروں ‘ شاندار مکانوں اور حور و غلمان کی شکل میں ہوگا اور چونکہ اللہ کے اسماء وصفات میں تفاوت ہے ‘ کوئی صفت جامع ہے ‘ کوئی غیر جامع ‘ کسی کا قرب ذات سے زیادہ ہے ‘ کسی کا کم۔ پس جیسی صفت کا مبدء تعین ہوگی ‘ ویسی جنت اس کیلئے ہوگی۔ جنتوں کے تفاوت اور اونچ نیچ کا فرق اسماء وصفات کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ (1) [ اللہ کی صفات متعدد ہیں ‘ رحمانیت بھی اس کی صفت ہے اور رحمن و رحیم اس کا وصفی نام ہے۔ اسی طرح قدرت ‘ علم ‘ ارادہ ‘ مشیت وغیرہ اس کی صفات ہیں اور قدیر ‘ علیم ‘ مرید وغیرہ اس کے نام ہیں۔ اب جس شخص کی تعیین ذات جس اسم کی پرتو اندازی سے ہوئی ہے ‘ ویسی ہی جنت اس کیلئے ہوگی کیونکہ جنت ایک شکل ہے صفت خداوندی کی۔ ان صفات میں بعض جامع ہیں اور بعض کا درجہ ذات کے قریب ہے ‘ جیسے صفت الوہیت یا قدرت یا علم۔ پس جس شخص کا مبدء تعین یہ صفات ہوں گی اس کو ایسی جنت ملے گی جو جامع نعم اور ذات کی جلوہ پاشی کے قریب ہوگی (مترجم) ۔] جنت کے بعض درخت بلوری اور آبگینی اجسام کی شکل و کیفیت کے بھی ہوجائیں گے۔ پس ایسے ہی درخت اس حالت میں ذات بےکیف کے دیدار کے ذرائع بن جائیں گے اور رویت ذات بےکیف ہوجائے گی ‘ پھر ان درختوں کی بلوریت ختم ہوجائے گی تو وہ آئینۂ ذات بھی نہیں رہیں گے اور اس حالت میں رویت نہ ہوگی۔ چکاچوند کی یہ حالت اور درختوں کی بلوریت و عدم بلوریت ہمیشہ ہمیشہ ہوتی رہے گی۔ ایک شبہ : تمام ممکنات (خواہ ان کا ظہور دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ مترجم) اپنی ذات کے لحاظ سے معدوم ہیں ‘ ناقص ہیں ‘ شر ہی شر ہیں ‘ حسن ذاتی سے محروم ہیں ‘ ان میں جو حسن و جمال آیا ہے اور جس خیر و کمال کا ظہور ہو رہا ہے ‘ وہ واجب تعالیٰ کا عطیہ ہے ‘ اسی کا فیض ہے ‘ پھر دنیوی و اخروی چیزوں میں کیا فرق ہے اور کیوں دنیوی چیزوں سے دل کی وابستگی جرم ہے اور اخروی چیزوں سے دل کا لگاؤ قابل ستائش ہے ؟ الزالہ : ہم کہتے ہیں : تمام ممکنات اللہ کے اسماء وصفات کا مظہر ہیں اور اللہ کی صفات بھی بجائے خود اور بذات خود ممکن ہیں کیونکہ ذات کی محتاج ہیں (اور ہر محتاج کا ممکن ہونا ظاہر ہے) لیکن ذات خداوندی کیلئے ان کا ثبوت لازم ہے (کیونکہ ذات صفات سے خالی نہیں ہوسکتی اور بغیر صفات کے ذات کا نہ تحقق ہوسکتا ہے نہ تعقل) پس یہ واجب بالغیر ہوگئیں ‘ یعنی ذات کی وجہ سے یہ بھی واجب ہوگئیں۔ لیکن صفات الٰہی پر امکان اور وجوب بالغیر کا اطلاق اسلئے نہیں کیا جاتا کہ ان کے حدوث کا وہم نہ ہوجائے اور ذات سے منفک ہوسکنے کا خیال نہ پیدا ہوجائے ورنہ واقعہ میں صفات خداوندی ممکن ہیں اور چونکہ ذات سے اس کا انفکاک محال ہے ‘ اسلئے واجب بالغیر بھی ہیں۔ اہل معرفت کیلئے ان صفات کا انکشاف ہوتا ہے تو ان کے دو رخ نظر آتے ہیں ‘ ایک رخ ان کے امکان ذاتی کا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان میں عدم کا احتمال ہوتا ہے اور دوسرا رخ وجوب بالغیر کا ہے جو سراسر وجود ہی وجود ہے۔ وجود کا رخ تو سرتاپا حسن و جمال اور خیر و کمال ہے اور عدم کا رخ بھی اگرچہ امکان ذاتی کی وجہ سے قبیح ‘ شر ‘ ناقص اور ہر کمال سے بےبہرہ ہے مگر وجود کے ساتھ ہر وقت ہم آغوش رہنے اور غیرمنفک ہونے کی وجہ سے فی الجملہ حسن سے خالی نہیں ہے خواہ یہ حسن و جمال وہمی ہی ہو۔ پس صوفی کی نظر میں صفات الٰہیہ کی جلوہ پاشی اور پر تواندازی دو شکلوں میں دکھائی دیتی ہے ‘ دنیوی چیزوں میں تو اس کو صفات کا عدمی رخ (یعنی ذاتی امکان) پَرتو انداز نظر آتا ہے اور آخرت کی چیزوں میں ان کا وجودی رخ (یعنی وجوب بالغیر کا رخ) عکس ریزہ دکھائی دیتا ہے ‘ اسی وجہ سے دنیوی اشیاء سے وابستگی اللہ کے نزدیک بری ہے اور اخروی چیزوں سے دل کی آویختگی اللہ کو پسند ہے ‘ ان سے محبت اللہ سے محبت ہے۔ جو لوگ اللہ کی محبت میں کامل ہیں ‘ وہی دار آخرت سے بھی کامل محبت رکھتے ہیں۔ دنیوی اور اخروی اشیاء میں یہی فرق ہے اور ایک سے محبت کے عدم جواز اور دوسری سے محبت کے وجوب کی یہی علت ہے۔ (2) [ فقیر مترجم کی ناقص سمجھ میں حضرت محقق کی تشریح صفات نہیں آئی۔ خلاصۂ تنقیح اور تشریح کا سنگ بنیاد یہ ہے کہ صفات الٰہیہ بالکل ذات کے علاوہ ہیں اور ممکن الذات ہیں۔ البتہ ان کا ثبوت ذات کیلئے واجب ہے ‘ اسلئے واجب بالغیر ہیں ‘ پس ان کا عدم ذاتی ہے اور وجوب وجود عارضی یا لحوقی۔ اگر یہ بات صحیح مان لی جائے تو پھر ان غلط گو مشائیہ فلاسفہ کے قول کو کیوں تسلیم نہ کیا جائے جو اس سارے عالم کو ممکن الذات ‘ محتاج الی الواجب اور قدیم بالغیر یعنی ازلی ابدی کہتے ہیں اور قائل ہیں کہ یہ عالم اپنی ذات کے اعتبار سے واجب کا محتاج ہے ‘ اس کا عدم ذاتی ہے لیکن معلول کا تخلف علت تامّہ سے نہیں ہوتا ‘ اسلئے قدیم بالواجب ہے یعنی اس میں قدامت واجب کی وجہ سے آئی ہے۔ پس یہ ساری کائنات قدیم بالنوع ہے اگرچہ ظہور تشخصی اور تعینات شخصیہ کے اعتبار سے اس میں تغیرات ہر وقت رونما ہوتے رہتے ہیں۔ رئیس الفلاسفہ شیخ ابن سینا نے بھی تو اس عالم کے متعلق وہی بات کہی ہے جو حضرت مفسر نے صفات کے متعلق فرمائی۔ شیخ بھی ہر مادہ کو قدیم بالغیر اور ممکن الذات کہتا ہے ‘ خواہ مادہ عنصری ہو یا فلکی اور صورت جسمیہ کو طبیعت نوعیہ کہتا ہے جو قدم ہے اگرچہ اس کے افراد حادث ہیں۔ افراد کا حدوث نوع کے حدوث کو مستلزم نہیں۔ اثبات ہیولیٰ کے خاتمہ پر شیخ نے اشارات میں ایک مجمل جملہ لکھ دیا اور یہ کہہ دیا کہ ومن ھمنا ظھر ثلٰث نکات۔ محقق طوسی اور امام رازی نے اس جملہ کی تشریح میں ایک نکتہ یہ بیان کیا کہ اس سے قدم عالم ثابت ہوجاتا ہے (لیکن یاد رکھو کہ یہ قدم ذاتی نہیں قدم بالغیر ہے ‘ قِدم ذاتی کا تو کوئی فلسفی قائل نہیں (فقیر مترجم عفی عنہٗ )] تمہید مذکور کے بعد ہم کہتے ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہٗ نے مکتوب نمبر 100‘ جلد سوئم میں بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف کا وجود اور آپ کا حسن و جمال اگرچہ اسی دار و دنیا میں پیدا ہوا لیکن دوسری مخلوق کی طرح نہ تھا بلکہ درحقیقت وہ موجودات آخرت کی جنس میں سے تھا ‘ دنیوی اشیاء کا مربی تو صفات کا عدمی (ذاتی) رخ ہوتا ہے اور جنت اور اس کے موجودات کی تربیت صفات کا وجودی رخ کرتا ہے۔ پس جس طرح اہل کمال کی قلبی وابستگی آخرت کی چیزوں سے درست ہے ‘ اسی طرح حضرت یوسف سے حضرت یعقوب کی شیفتگی بھی نامناسب نہیں۔ حضرت مجدد کا یہ صحیح انکشاف اور واضح بصیرت ہے ‘ نظر اور کشف نے ہی آپ کو حسن یوسف کی اس تنقیح تک پہنچایا ہے۔ اگر اس تحقیق کو مان لیا جائے تو دو شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا شبہ : حضرت مجدد قدس سرہٗ نے ایک اور جگہ صراحت کی ہے کہ انبیاء اور ملائکہ کے علاوہ باقی ممکنات ظلال اسماء وصفات (اسماء وصفات کے عکس اور پرتو) کے جولان گاہ اور مقامات ظہور ہیں۔ نفس اسماء وصفات کے مظہر و جلوہ گاہ نہیں ہیں (یعنی انبیاء و ملائکہ کے علاوہ دوسری مخلوق پر براہ راست صفات و اسماء کا پرتو نہیں پڑتا بلکہ ظلال صفات کا عکس پڑتا ہے) اور (جس طرح انبیاء و ملائکہ کے مبدء تعینات اسماء وصفات ہیں ‘ اسی طرح ظلال صفات دوسری مخلوق کے تعین کا مبدء ہیں ‘ نفس صفات اس کیلئے مبدء تعین نہیں۔ لیکن اس جگہ فرمایا کہ تمام ممکنات (مجردہ ہوں یا مادیہ ‘ انبیاہ ہوں یا اولیاء ‘ خواص ہوں یا عوام) کے مبادی تعین اصل اسماء اور نفس صفات ہیں۔ یہ بیان میں تضاد اور اختلاف کیوں ہے اور کیسے ممکن ہے کہ دنیوی اشیاء بھی جلوہ گاہ صفات ہوں اور اخروی اشیاء بھی پرتو گاہ اسماء لیکن اوّل الذکر کی طرف صفات کا عدمی اور امکانی رخ ہو اور مؤخر الذکر کی مظہریت صفات کے وجودی رخ کی ممنون کرم۔ ازالہ : انبیاء اور ملائکہ کے علاوہ باقی ممکنات اگر ظلال صفات کی جولان گاہ اور مظاہر ہوں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ نفس صفات کے مظاہر اور جلوہ گاہ نہ ہوں کیونکہ ظل کا ظل اصل کا ظل ہوتا ہے ‘ پس یہ ممکنات ظلال صفات کے ظل ہیں تو نفس صفات کے بھی ظل ہوں گے (اول ظلیت براہ راست ہوگی اور دوسری ظلیت بالواسطہ) پس اسماء وصفات انبیاء اور ملائکہ پر جلوہ انداز ہوں گے ‘ بالواسطہ اور باقی ممکنات پر ان کی جلوہ پاشی ظلال کی وساطت سے ہوگی۔ اس کے بعد دنیوی اشیاء پر صفات کی جو جلوہ پاشی بواسطۂ ظلال ہو رہی ہے ‘ اس جلوہ پاشی میں صفات کا عدمی رخ (یعنی ذاتی امکان) ملحوظ ہے اور اخروی اشیاء پر جلوہ ریزی میں ان کا وجودی اور اضافی (یعنی ذات خداوندی کیلئے ثبوت وجوبی کا) رخ معتبر ہے۔ دوسرا شبہ : کلام سابق سے ظاہر ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق خواہ انبیاء ہوں یا عوام ‘ علاوہ حضرت یوسف کے جلوہ گاہ صفات اور جولان گاہ اسماء ہیں لیکن صفات کا عدمی رخ ملحوظ ہے (یعنی صفات کے ذاتی ‘ امکانی ‘ عدمی رخ کی جلوہ گاہ تمام مخلوق ہے) اور حضرت یوسف بھی صفات خداوندی کا مظہر ہیں مگر اس میں صفات کا اضافی وجودی رخ ملحوظ ہے (یعنی صفات کے وجودی اور نسبت الی الذات کا پرتو حضرت یوسف پر پڑا تھا ‘ اسی لئے آپ آخرت کی چیزوں کے ہم جنس ہوگئے تھے) اس سے حضرت یوسف کی تمام انبیاء بلکہ سید الانبیاء ﷺ پر فضیلت لازم آتی ہے۔ الزالہ : آخرت کی جنس سے تو تمام ہی انبیاء تھے ‘ حسن آخرت تو سب ہی کے اندر پوشیدہ تھا۔ کہیں یوسفی لقب پا کر ظاہر ہوگیا ‘ کہیں ظاہر نہیں ہوا۔ لقب کا مفہوم کوئی اہمیت نہیں رکھتا ‘ حق بات یہی ہے کہ تمام انبیاء صفات کے وجودی رخ کے اعتبار سے مظہر صفات ہیں۔ ان پر صفات کی نور پاشی ذاتی اعتبار سے نہیں بلکہ نسبت الی اللّٰہی کے اعتبار سے ہے۔ رہا حسن آخرت کا ‘ علاوہ حضرت یوسف کے اوروں سے عدم ظہور تو اس کی وجہ اللہ ہی کے علم میں ہے ‘ ہم واقف نہیں۔ بہرحال یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ انبیاء کا مظہر صفات ہونا دوسرے انسانوں کے مظہر صفات ہونے سے الگ نوعیت کا ہے ‘ عدمی رخ کے اعتبار سے نہیں (بلکہ) صفات کے وجودی رخ کے لحاظ سے ہے۔ حضرت مجدد (رح) نے حضور ختم المرسلین ﷺ کے حسن کے متعلق لکھا ہے کہ محمد ﷺ کی تربیت کرنے والا اور آپ کا مبدء تعین اللہ کا علم اجمالی ہے ‘ صفت علم اجمالی تمام صفات سے زیادہ ذات سے قرب رکھتی ہے۔ علم حضوری اور عالم و معلوم تو متحد الذات ہی ہوتے ہیں ‘ باقی صفات قدرت ‘ ارادہ ‘ کلام ‘ سمع و بصر کا درجہ علم کے برابر نہیں۔ ان صفات کی تفصیلات سے بھی علم اجمالی کا مرتبہ بلند اور ذات سے قریب ترین ہے۔ علم کا وہ حسن ذاتی ہے جو دوسری صفات کو حاصل نہیں۔ علم بہ نسبت دوسری صفات کے ذات خداوندی کو زیادہ پسند ہے۔ علم کا حسن و جمال بےکیف ہے۔ علم کا حسن و جمال اتنا لطیف ہے کہ ختم المرسلین ﷺ میں جب یہ جلوہ پاش ہوا تو بصارت کے ضعف اور نارسائی کی وجہ سے حسن محمدی ﷺ کو بھی اسی طرح آنکھیں نہیں پا سکتیں اور نہیں دیکھ سکتیں جیسے ذات خداوندی کو دیکھنے اور پانے سے اس دنیا میں عاجز ہیں۔ آخرت میں آپ کا جمال باکمال نمودار ہوگا اور آنکھوں کو نظر آئے گا۔ یہ تسلیم ہے کہ حضرت یوسف کو 3؍2 حسن عطا کیا گیا تھا لیکن وہ اس دنیا میں تھا اور آخرت میں تو حسن محمدی ﷺ ہی ہوگا (کسی پیغمبر کو وہ حسن حاصل نہ ہوگا) دیکھو رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا ہے : میرے بھائی یوسف زیادہ شگفتہ رنگ کے تھے اور میں زیادہ ملیح ہوں۔ اہل نظر کو صباحت اور ملاحت کے درمیان ایسا فرق نظر آتا ہے جو چاند اور سورج یا چاندی اور سونے کے درمیان ہے۔ حسن یوسف پر فریفتہ حضرت یعقوب اور دوسرے انسان تھے اور حسن محمدی ﷺ سے محبت رکھنے والا یعقوب کا رب ہے۔ مٹی کس طرح خالق کائنات کی ہمسری کرسکتی ہے۔ اس ساری تقریر سے واضح ہوگیا کہ فناء قلب کے بعد صوفی کو اللہ کے سواء کسی مخلوق سے دل بستگی نہیں رہتی ‘ اس کے دل میں ماسوا اللہ کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انبیاء کی محبت سے بھی صوفی کا دل خالی ہوجاتا ہے ‘ انبیاء کی محبت تو بعینہٖ اللہ کی محبت ہے۔ متفق علیہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایماندار نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ مجھ سے اس کو محبت اپنے باپ ‘ اولاد اور تمام لوگوں (کی محبت) سے زیادہ نہ ہو۔ یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے آئی ہے۔ حضرت انس کی دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کی شیرینی ان خصائل کی وجہ سے پالے گا (تین میں سے ایک یہ ہے کہ) جس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ان کے ماسوا سے زیادہ محبت ہو ( وہ حلاوت ایمان پالے گا) ۔ (3) [ از مفسر قدس سرہ۔۔ یوسف از ثمہ جمال او۔۔ خوشہ چیں شد قسم بحال او دل از عشق محمد ریش دارم۔۔ رقابت باخدائے خویش دارم ] حضرت رابعہ بصری نے فرمایا تھا : میرے دل کے اندر اللہ کی محبت اتنی بھر گئی ہے کہ محمد ﷺ کی محبت کی اس میں گنجائش ہی نہیں ہے۔ آپ کا یہ کلام حالت سکر کا ہے۔ حضرت مجدد نے بھی اپنی ابتدائی حالت میں غلبۂ سُکر ہی کے زیر اثر فرمایا تھا : میں اللہ سے محبت اسلئے کرتا ہوں کہ اس نے محمد ﷺ کو پیدا کیا ہے۔ یہ کلام بھی حالت جذب کا ہے اگرچہ اس میں کچھ نہ کچھ اصلیت ضرور ہے۔ مسئلہ : یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ مصیبت پر رونا اور اظہار افسوس کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں نوحہ اور اس جیسی کوئی دوسری چیز شامل نہ ہو۔ منہ پیٹنا ‘ گریبان پھاڑنا وغیرہ بھی نوحہ کی صف میں آتا ہے جو ناجائز ہے۔ ہاں غم واندوہ اور افسوس و حسرت کا اظہار غیر اختیاری چیز ہے اور غیر اختیاری چیز سے بچنے کا آدمی مکلف نہیں۔ صحیحین میں حضرت انس کا بیان آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم سکرات کی حالت میں تھے۔ حضور ﷺ نے یہ حالت دیکھی تو دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! اور آپ (رو رہے ہیں) فرمایا : اے ابن عوف ! یہ دل کی رقت ہے۔ اس کے بعد ایک اور حالت ہوئی تو فرمایا : آنکھ روتی ہے ‘ دل غمزدہ ہے اور ہم (زبان سے) کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے ہمارا رب ناراض ہو۔ اے ابراہیم ! ہم تیری جدائی سے غمگین ہیں۔ صحیحین میں حضرت اسامہ بن زید کی روایت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک نواسے کی نزع کی حالت تھی ‘ خراٹا شروع ہوگیا تھا۔ اسی حالت میں حضور ﷺ پہنچ گئے اور یہ حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضرت سعد نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : یہ دل کی رقت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ دی ہے۔ اللہ اپنے رحم دل بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : اللہ آنکھ سے رونے اور دل سے غمگین ہونے پر عذاب نہیں دیتا بلکہ اس کی وجہ سے عذاب دیتا ہے گویا رحم فرما دیتا ہے (یعنی معاف کردیتا ہے) اس کی کے لفظ سے حضور ﷺ نے زبان کی طرف اشارہ کیا ہے اور میّت کو عذاب دیا جاتا ہے اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے (اس حدیث کا یہ ترجمہ مشہور ہے لیکن اس فقیر کے نزدیک اگر یُبِکَاء اھلہ عَلَیْہِ کا ترجمہ اس طرح کیا جائے تو بہتر ہے کہ میّت پر عذاب ہوتا ہے باوجودیکہ اس کے گھر والے (اس کی اچھائیوں کا ذکر کر کے) اس پر روتے ہیں۔ وا اللہ اعلم صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے آیا ہے حضور ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے رخسار پیٹے ‘ گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی ایسی پکار مچائے ‘ وہ ہم سے (متعلق) نہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے صحیحین میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں بیزار ہوں اس شخص سے جو مونڈن کرائے ‘ منہ پیٹے اور کپڑے پھاڑے۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے

قالوا تا اللہ تفتؤ تذکر یوسف حتی تکون حرضا او تکون من الھالکین بیٹے کہنے لگے : آپ تو ہمیشہ یوسف ہی کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گھل گھل کر جاں بلب ہوجائیں یا مر ہی جائیں۔ حَرَضًا بیماری یا پیرانہ سالی کی وجہ سے ہلاکت کے قریب پہنچا ہوا شخص۔ حرض اصل میں مصدر ہے ‘ اسلئے نہ اس کی جمع آتی ہے نہ مؤنث کا صیغہ ‘ اس جگہ مصدر بمعنی صفت ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : حرض کا معنی ہے : غم یا عشق پیرانہ سالی کی وجہ سے بدن کا ‘ یا مذہب کا ‘ یا عقل کا بگاڑ اور خرابی اور جس کے بدن ‘ یا مذہب ‘ یا عقل میں خرابی پیدا ہوگئی ہو ‘ یا بیمارہو ‘ یا جان بلب ہو ‘ اس کو بھی حرض کہا جاتا ہے۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

قال انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ یعقوب نے کہا : میں تو بس اللہ ہی سے اپنے رنج و غم کا شکوہ کرتا ہوں۔ بَثَّسخت ترین غم جس کو ضبط کرنے کی تاب نہ رہے اور آدمی اس کو ظاہر کرنے اور پھیلانے پر مجبور ہوجائے (لغت میں بَثَّ کا معنی ہے : پھیلانا) حسن بصری نے بَثَّ کا ترجمہ کیا ہے : حال۔ مقصد یہ ہے کہ میں تم سے ‘ کسی سے شکایت نہیں کرتا ‘ اللہ ہی سے شکوہ کرتا ہوں۔ تم مجھے چھوڑ دو ‘ مجھے شکایت سے نہ روکو۔ بغوی کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب کے پاس ان کا ایک ہمسایہ آیا اور اس نے کہا : یعقوب ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی صحت بدن تباہ ہوگئی اور آپ فنا ہوچکے حالانکہ اپنے باپ کی عمر کو نہیں پہنچے ہیں۔ فرمایا : یوسف کے غم میں جو اللہ نے مجھے مبتلا کردیا ‘ اس سے میری قوت ٹوٹ گئی اور اسی نے مجھے فنا کردیا۔ ا اللہ نے حضرت یعقوب کے پاس وحی بھیجی : یعقوب ! تو میرا شکوہ میری مخلوق سے کرتا ہے۔ حضرت یعقوب نے کہا : اے میرے رب ! مجھ سے خطا ہوگئی تو میری خطا معاف فرما دے۔ اللہ نے فرمایا : میں نے تجھے معاف کردیا۔ اس کے بعد حضرت یعقوب سے جب کیفیت اور حالت پوچھی جاتی تو فرماتے : اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حضرت یعقوب سے دریافت کیا گیا : آپ کی نظر کیوں جاتی رہی اور کمر کیوں کمان ہوگئی ؟ فرمایا : یوسف پر روتے روتے میری نظر جاتی رہی اور یوسف کے بھائی کے غم میں میری کمر کمان ہوگئی۔ اس پر اللہ نے حضرت یعقوب کے پاس وحی بھیجی : تو میری شکایت کرتا ہے۔ قسم ہے اپنی عزت کی ! جب تک تو مجھ سے دعا نہیں کرے گا ‘ میں تیرا یہ دکھ دور نہیں کروں گا۔ اس وقت حضرت یعقوب نے کہا : اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ۔ اللہ نے وحی بھیجی : قسم ہے اپنی عزت کی ! (اب) اگر وہ دونوں مردہ بھی ہوگئے ہوتے تو تیرے لئے میں ان کو زندہ کردیتا۔ تجھ سے میری ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ ایک بار تم لوگوں نے ایک بکری ذبح کی تھی اور تمہارے دروازے پر ایک مسکین آکر کھڑا ہوگیا مگر تم نے اس کو اس میں سے کچھ کھانے کو نہیں دیا۔ تمام مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ پیارے انبیاء ہیں اور ان کے بعد مساکین۔ اب تم کھانا تیار کرو اور مسکینوں کی دعوت کرو۔ حسب ہدایت حضرت یعقوب نے کھانا بنوایا ‘ پھر فرمایا : جو روزہ دار ہو وہ آج رات کو یعقوب کے گھر والوں کے پاس کھانا کھائے۔ روایت ہے کہ اس کے بعد حضرت یعقوب جب دن کا کھانا کھاتے تو نداء کرا دیتے کہ جو شخص دن کا کھانا کھانا چاہئے وہ یعقوب کے پاس آجائے اور جب شام کو افطار کرتے (یعنی رات کا کھانا کھاتے) تو نداء کرا دیتے کہ جو شخص شام کا کھانا کھانا چاہے وہ یعقوب کے پاس آجائے۔ اس طرح صبح شام آپ مسکینوں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ وہب بن منبہ نے بیان کیا : اللہ نے حضرت یعقوب کے پاس وحی بھیجی (اور فرمایا :) کیا تجھے معلوم ہے کہ میں نے کس وجہ سے تجھے سزا دی اور اسّی برس یوسف کو تجھ سے الگ رکھا ؟ حضرت یعقوب نے کہا : میرے اللہ ! مجھے نہیں معلوم۔ فرمایا : وجہ یہ تھی کہ تو نے ایک مرتبہ ایک بکری کا بچہ بھونا اور پڑوسی سے کنجوسی کی کہ خود کھالیا ‘ اس کو کچھ نہیں دیا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت یعقوب کے مبتلاء مصیبت ہونے کا سبب یہ ہوا کہ آپ نے ایک مرتبہ ایک بچھڑے کو اس کی ماں کے سامنے ذبح کیا اور وہ (بیچاری) چیختی رہی۔ وہب اور سدی وغیرہ کا بیان ہے کہ حضرت جبرئیل جیل خانہ کے اندر حضرت یوسف کے پاس پہنچے اور پوچھا : صدیق ! کیا آپ نے مجھے پہچانا ؟ حضرت یوسف نے فرمایا : میں ایک پاک صورت دیکھ رہا ہوں اور پاکیزہ خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔ حضرت جبرئیل نے فرمایا : میں روح الامین ہوں ‘ رب العالمین کا قاصد ہوں۔ حضرت یوسف نے فرمایا : آپ تو سب سے بڑھ کر پاکیزہ ‘ مقربین کے سردار اور رب العالمین کے امین ہیں اور یہ گناہگاروں کے داخل ہونے کی جگہ ہے ‘ یہاں آپ کے آنے کا کیا سبب ہے ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : یوسف ! کیا آپ واقف نہیں کہ انبیاء کی پاکی کی وجہ سے اللہ (ناپاک) گھروں کو پاک کردیتا ہے اور جس زمین میں پیغمبر داخل ہوتے ہیں ‘ وہ ہر زمین سے زیادہ پاک ہوجاتی ہے۔ اے اطہر الطاہرین اور اے منتخب نیک بندوں کی اولاد ! آپ کی وجہ سے اللہ نے قیدخانہ کو اور اس کے ماحول کو پاک کردیا۔ حضرت یوسف نے فرمایا : آپ نے مجھے صدیق کے نام سے کیوں پکارا اور منتخب پاک لوگوں میں میرا شمار کیوں کیا ؟ مجھے تو گناہگاروں کے مقام میں داخل کیا گیا ہے اور بدچلن لوگوں کے ناموں میں میرا نام بھی شامل کردیا گیا ہے۔ حضرت جبرئیل نے فرمایا : اللہ نے آپ کا نام صدیقوں میں شامل کیا ‘ مخلص منتخب بندوں میں آپ کا شمار کیا اور آپ کے صالح اسلاف کی فہرست میں آپ کو بھی داخل کردیا ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے دل کو فتنہ میں نہ پڑنے دیا اور اپنی مالکہ کے کہے کو نہیں مانا۔ حضرت یوسف نے پوچھا : روح الامین ! کیا آپ کو حضرت یعقوب کی بھی کوئی اطلاع ہے ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : جی ہاں ‘ اللہ نے ان کو صبر جمیل عطا فرمایا۔ وہ آپ کے غم میں مبتلا ہوئے اور غم سے جی ہی جی میں گھٹتے رہے۔ حضرت یوسف نے پوچھا : ان کے غم کا کچھ اندازہ بھی ہے ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : ان ستر عورتوں کے غم کے برابر جن کے بچے مرگئے ہوں۔ حضرت یوسف نے فرمایا : جبرئیل ! پھر ان کو اس کا اجر کس قدر ملے گا ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : سو شہیدوں کے برابر۔ حضرت یوسف نے فرمایا : کیا آپ کو کچھ معلوم ہے کہ میری ان سے ملاقات بھی (کبھی) ہوگی۔ حضرت جبرئیل نے جواب دیا : جی ہاں۔ یہ سن کر حضرت یوسف کا دل خوش ہوگیا اور فرمایا : جو کچھ مجھے پیش آیا ‘ اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر میں حضرت یعقوب کو دیکھ لوں۔ واعلم من اللہ ما لا تعلمون اور اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں ‘ تم نہیں جانتے۔ یعنی اللہ کی حکمت و رحمت کو جتنا میں جانتا ہوں کہ وہ پکارنے والے کو نامراد نہیں چھوڑتا اور جو بیقراری کے ساتھ اس کی طرف لوٹتا ہے ‘ اس کو رد نہیں کرتا۔ یا یہ مطلب ہے کہ ازروئے الہام حضرت یوسف کے زندہ ہونے سے جو میں واقف ہوں ‘ تم واقف نہیں۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت عزرائیل ‘ حضرت یعقوب کی ملاقات کو گئے تو حضرت یعقوب نے پوچھا : اے پاکیزہ خوشبو اور حسین صورت والے فرشتے ! کیا آپ نے میرے بچہ کی روح قبض کی ہے ؟ حضرت عزرائیل نے جواب دیا : نہیں۔ یہ سن کر حضرت یعقوب کو کچھ سکون ہوگیا اور آپ کو حضرت یوسف کے دیکھنے کی تمنا ہوئی۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے : میں جانتا ہوں کہ یوسف کا خواب سچا ہے ‘ میں اور تم سب آئندہ اس کو ضرور سجدہ کریں گے۔ سدی نے بیان کیا : جب بیٹوں نے باپ کو بادشاہ کے حسن سلوک کی اطلاع دی تو آپ کو حضرت یوسف کے زندہ ہونے کا خیال پیدا ہوگیا اور (ملنے کی) خواہش بھی اور فرمایا : شاید وہ یوسف ہو۔ ابن ابی حاتم نے نصر بن عربی کا بیان نقل کیا ہے ‘ نصر نے کہا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ حضرت یعقوب کو 24 سال حضرت یوسف کے زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی خبر نہیں ہوئی ‘ آخر ایک روز موت کا فرشتہ انسانی شکل میں آپ کے سامنے آکھڑا ہوا۔ حضرت یعقوب نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ ملک الموت نے کہا : میں موت کا فرشتہ ہوں۔ حضرت یعقوب نے فرمایا : میں تم کو یعقوب کے معبود کی قسم دیتا ہوں ‘ مجھے بتاؤ کہ کیا تم نے یوسف کی جان قبض کرلی ؟ ملک الموت نے جواب دیا : نہیں۔ یہ جواب سن کر حضرت یعقوب نے فرمایا :
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں

یبني اذھبوا فتحسسوا من یوسف واخیہ ولا تایئسوا من روح اللہ انہ لا یایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون میرے بیٹو ! جاؤ ‘ یوسف کی اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو۔ اللہ کی رحمت سے آس کافر لوگ توڑا کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے تَحَسَّسُوا کا ترجمہ کیا : تلاش کرو ‘ ڈھونڈو۔ لغت میں تَحَسُّس کا معنی ہے : کسی کی سن گن ‘ تلاش کرنا۔ روح سے مراد ہے : رحمت۔ بعض کے نزدیک مراد ہے : مصیبت سے نجات اور اللہ کی عطا کردہ خوشی۔ الْکَافِرُوْن یعنی وہ لوگ جوا اللہ کی ذات وصفات کو نہیں جانتے اور انکار کرتے ہیں۔ اللہ کو پہچاننے والا اس کی رحمت سے کبھی بےآس نہیں ہوتا۔ غرض سب بھائی لوٹ کر مصر کو گئے اور حضرت یوسف کے پاس پہنچے۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے

فلما دخلوا علبہ قالوا یایھا العزیز مسنا واھلنا الضر وجئنا ببضاعۃ مرحبۃ فاوف لنا الکیل وتصدق علینا ان اللہ یجزی المصدقین پھر جب یوسف کے پاس پہنچے تو کہنے لگے : اے عزیز ! ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو (قحط کی وجہ سے) بڑی تکلیف پہنچی ہے اور ہم کچھ نکمی چیز لائے ہیں ‘ سو آپ پورا غلّہ دے دیجئے اور ہم کو خیرات (سمجھ کر) دے دیجئے۔ بیشک اللہ خیرات دینے والوں کو جزاء (خیر) دیتا ہے۔ الضُّرُّ بھوک کی شدت۔ مزجاۃ کا مرادی ترجمہ حضرت ابن عباس نے کیا : کھوٹے ‘ ردّی ‘ نہ چلنے والے درہم۔ حضرت ابن عباس کا یہ قول ابوعبید اور ابن ابی شیبہ اور ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ کی روایت میں آیا ہے۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کا بھی یہی قول نقل کیا ہے لیکن سعید بن منصور اور ابن المنذ اور ابو الشیخ نے کہا کہ عکرمہ نے اس کا ترجمہ کیا : تھوڑے درہم۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ کی روایت ہے کہ عبد اللہ بن حارث نے کہا : (بضاعت مزجاۃ سے مراد ہے) صحرائی لوگوں کا مال ‘ یعنی اون اور گھی۔ بعض روایات میں گھی کی جگہ پنیر آیا ہے۔ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو صالح کے حوالے سے لکھا ہے : جتہ الخضراء اور صنوبر کی لکڑی۔ ابن النجار نے کہا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مقل کے ستو تھے۔ بعض علماء نے کہا : کچے چمڑے اور جوتے تھے۔ ازجاء (مصدر باب افعال۔ مزجاۃ اسم مفعول مؤنث) کا اصل لغوی معنی ہے : دھکا دینا اور ہنکانا۔ اللہ نے فرمایا ہے : اَنَّ اللّٰہَ یُجْزِیْ سَحَابًا کہ اللہ بادل کو ہنکاتا ہے ‘ چلاتا ہے۔ ردی درہموں کو بھی مزجاۃ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ کوئی ان کو لیتا نہیں ‘ ان کو پھینکا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر بیش قیمت سامان کے عوض تھوڑے درہم دیئے جائیں تو ان کو بھی نہیں لیا جاتا ‘ رد کر دئیے جاتے ہیں۔ یہی حالت دوسری ردّی چیزوں کی ہے کہ ان کو بطور قیمت کوئی شخص نہیں لیتا۔ اگر بائع خود چشم پوشی کرے اور قبول کرلے تو دوسری بات ہے۔ فَاَوْفِ لَنَا یعنی ان قلیل یا کھوٹے درہموں میں غلّہ ہم کو اتنا ہی پورا پورا دیجئے جتنا اس سے پہلے آپ نے کھرے درہموں میں دیا تھا اور جو قیمت کم رہ جائے ‘ وہ بطور خیرات آپ چھوڑ دیجئے۔ اکثر مفسروں نے تَصَدَّقْ عَلَیْنَا کا تفسیری مطلب یہی بیان کیا ہے لیکن ابن جریج اور ضحاک نے کہا کہ درخواست تصدق کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی خیرات میں ہمارے بھائی کو واپس کر دیجئے۔ جزاء دینے سے مراد ہے : دنیا اور آخرت میں اچھا بدلہ دینا۔ اجزاء اور تصدیق دونوں کا معنی ہے : مہربانی کرنا۔ حالت سفر میں صلوٰۃ کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ (ا اللہ کی طرف سے) صدقہ (مہربانی) ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے ‘ تم اللہ کی مہربانی کو قبول کرو۔ رواہ البخاری ‘ لیکن عرف شرع میں تصدق ایسی مہربانی کرنے کو کہتے ہیں جس کا مقصد ثواب کی طلب اور اللہ کی خوشنودی کا حصول ہو اور یہ تصدق اسی شرعی عرف پر مبنی ہے۔ حسن بصری کا یہ قول کہ جب آپ نے ایک آدمی کو ان الفاظ میں دعا کرتے سنا : اے اللہ ! مجھ پر صدقہ کر ‘ تو فرمایا : اللہ تصدق نہیں کرتا ‘ تصدق تو وہ کرتا ہے جو ثواب کا طلبگار ہو۔ تم یوں دعا کرو : اے اللہ ! مجھے عطا فرما ‘ مجھ پر مہربانی کر (حسن بصری نے جو اللہ کی طرف سے صدقہ دینے کی نسبت سے انکار کیا اور ممانعت فرمائی) تو آپ کی مراد اس سے شرعی صدقہ و خیرات تھی جو طلب ثواب کیلئے ہوتی ہے (لغوی اعتبار سے اس کا معنی صحیح ہے۔ لغت میں تصدق کا معنی ہے : مہربانی کرنا ‘ پس اللہ سے مہربانی کی درخواست کرنا صحیح ہے) ۔ ضحاک نے کہا : بادشاہ سے برادران یوسف نے یہ نہیں کہا : اللہ آپ کو جزاء دے گا کیونکہ ان کو معلوم نہیں تھا کہ شاہ مصر مؤمن ہے یا نہیں (اور اللہ کی طرف سے آخرت میں جزائے خیر صرف مؤمن کیلئے مخصوص ہے) اصل میں ان کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ شاہ مصر خیرات بھی دے گا یا نہیں۔ فائدہ : سفیان بن عیینہ سے کسی نے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور پیغمبر کیلئے بھی صدقہ حرام تھا۔ فرمایا : (نہیں) کیا تم نے آیت وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا اِنَّ اللّٰہَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ نہیں سنی۔ کذا اخرج ابن جریر۔ میں کہتا ہوں : سفیان نے اس آیت سے استدلال کیا کہ دوسرے پیغمبروں کیلئے صدقہ لینا جائز تھا۔ مگر یہ استدلال اس وقت صحیح ہوگا جب حضرت یوسف کے بھائیوں کا نبی ہونا ثابت ہوجائے۔ (یہ فقیر کہتا ہے کہ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا کا مطلب یہ ہے کہ ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر جن میں حضرت یعقوب بھی شامل تھے ‘ کچھ صدقہ کیجئے۔ حضرت یعقوب علینا کی ضمیر سے مستثنیٰ نہیں۔ اس صورت میں سب بھائیوں کی نبوت ثابت ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حضرت یعقوب تو مسلم الثبوت نبی تھے۔ مترجم) بھائیوں کا دردناک کلام سن کر حضرت یوسف کے دل میں رقت آگئی ‘ آنسو ٹپک پڑے اور پوشیدہ راز ظاہر ہوگئے ‘ اسلئے
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا

قال ھل علمتم ما فعلتم بیوسف واخیہ اذا انتم جاہلون بولے : کیا وہ بھی تم کو یاد ہے جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھا جبکہ تمہاری جہالت کا زمانہ تھا۔ یعنی جو ظلم تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کہ یوسف کو لے جا کر اس کے بھائی کو اکیلا کردیا اور طرح طرح سے اس کو ذلیل کیا کہ وہ بےچارا اب اپنی ذلت کو زبان پر بھی نہیں لاسکتا تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو برا سلوک اور بےجا حرکت تم نے کی ‘ وہ بھی تم کو یاد ہے ‘ اس سے توبہ کرو۔ اِذْ اَنْتُمْ جَاھِلُوْنَ کا یہ مطلب ہے کہ اس وقت اپنے فعل کی برائی سے تم ناواقف تھے یا اس کے نتیجے سے ناواقف تھے۔ حضرت یوسف کا مقصد تھا توبہ کی ترغیب دینا اور بھائیوں پر مہربانی کا اظہار کرنا ‘ ڈانٹنا اور ملامت کرنا مقصود نہیں تھا۔ آیت لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ میں صراحت ہے کہ ملامت کرنا مقصود نہ تھا۔ کلبی نے حضرت یوسف کے اس قول کی یہ وجہ بیان کی کہ آپ کے بھائیوں سے جب مالک بن وعر کا یہ قول نقل کیا گیا کہ میں نے کنویں کے اندر ایک ایسا غلام پایا تھا جس کو اتنے درہم میں میں نے خرید لیا تو بھائیوں نے حضرت یوسف سے کہا : اے بادشاہ ! ہم نے ہی وہ غلام بیچا تھا۔ حضرت یوسف کو یہ بات سن کر غصہ آیا اور آپ نے سب بھائیوں کو قتل کرنے کا حکم صادر کردیا۔ شاہی آدمی ان کو قتل کرنے لے چلے۔ یہودا نے منہ پھیر کر دیکھا اور کہا : یعقوب پر ہم میں سے ایک کے نہ ہونے کا اتنا غم پڑا اور اتنا روئے کہ نظر جاتی رہی ‘ جب سب بیٹوں کے مارے جانے کی ان کو اطلاع ملے گی تو ان کا کیا حال ہوگا۔ پھر سب بھائیوں نے کہا : اگر آپ ایسا ہی کر رہے ہیں تو ہمارے والد کو ہمارا یہ سامان بھیج دینا ‘ وہ فلاں مقام پر رہتے ہیں۔ اس وقت حضرت یوسف کو رحم آگیا اور آپ رونے لگے اور قول مذکور کہا۔ عبدا اللہ بن یزید بن ابی فروہ کا قول روایت میں آیا ہے کہ حضرت یعقوب نے جب سنا کہ بنیامین کو روک لیا گیا تو ایک خط لکھ کر بیٹوں کے ہاتھ حضرت یوسف کو بھجوایا۔ یہ بیٹوں کے تیسرے پھیرے کا ذکر ہے۔ یعقوب اسرائیل اللہ (عبدا اللہ) بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ کی طرف سے شام مصر کے نام ! حمد و ستائش کے بعد واضح ہو کہ ہم ایسے گھرانے والے ہیں جو ہمیشہ سپرد مصائب رہے ہیں۔ میرے دادا حضرت ابراہیم کو ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کو آگ میں ڈالا گیا ‘ پھر اللہ نے اس آگ کو ان کیلئے ٹھنڈا اور سلامتی بنا دیا۔ میرے باپ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کی گردن پر چھری رکھ دی گئی تاکہ ان کو ذبح کردیا جائے مگر اللہ نے ان کا فدیہ (جنت سے مینڈھے کی شکل میں) بھیج دیا (اور ان کو محفوظ رکھا) اب رہا میں تو میرا ایک بیٹا تھا جو سب اولاد سے مجھے پیارا تھا۔ اس کے بھائی اس کو جنگل میں لے گئے ‘ پھر (شام کو) اس کا خون آلودہ کرتا لا کر مجھے دے دیا اور کہا : اس کو بھیڑیے نے کھالیا۔ اس پر روتے روتے میری آنکھیں جاتی رہیں۔ پھر میرا ایک بیٹا اور تھا جو مرحوم کا ماں جایا بھائی تھا ‘ میں اس کو دیکھ کر تسلی حاصل کرلیتا تھا۔ اب آپ نے اس کو روک لیا اور یہ خیال کیا کہ اس نے چوری کی ہے۔ ہم ایسے خاندان والے ہیں جو چوری نہیں کرتے نہ چور ہمارے ہاں پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ میرے بیٹے کو مجھے واپس کردیں تو بہتر ہے ورنہ آپ کو ایسی بددعا دوں گا کہ اس کا اثر آپ کی ساتویں نسل تک پڑے گا۔ حضرت یوسف نے خط پڑھا تو آنسوؤں کو روک نہ سکے اور سامنے آکر فرمایا : ھَلْ عَلِمْتمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَاَخِیْہِ اِذْ اَنْتُمْ جَاھِلُوْنَ یعنی جبکہ تم کو معلوم نہ تھا کہ یوسف آخر میں کس مرتبہ تک پہنچے گا ‘ اس وقت تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ‘ کچھ معلوم بھی ہے۔ بعض لوگوں نے جاھِلُوْنَ کا ترجمہ کیا ہے : قصور وار ‘ گنہگار۔ حسن بصری نے ترجمہ کیا : جبکہ تم جوان تھے اور جوانی کی جہالت میں مبتلا تھے ‘ اس وقت تم نے کیا کیا تھا۔
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

قالواء انک لانت یوسف کہنے لگے : کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں ؟ یہ استفہام تقریری ہے (کیا واقعی آپ ہی یوسف ہیں ؟ ) ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ پہلے حضرت یوسف پردے کے پیچھے سے کلام کرتے تھے ‘ پھر جب ھَلْ عَلِمْتمْ مَّا فَعَلْتُمْ فرمایا تو پردہ ہٹا دیا اور نقاب اٹھا دیا۔ اس وقت بھائیوں نے پہچان لیا۔ میں کہتا ہوں : قصۂ مذکورہ کا تفصیلی بیان ابن اسحاق کے اس قول سے انکار کر رہا ہے اور ہے بھی بعد از فہم۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس بات کو کہتے وقت آپ مسکرا دئیے ‘ مسکرانے سے موتیوں کے ہار کی طرح اگلے دانت سامنے آگئے اور بھائیوں نے دیکھ کر ان کو حضرت یوسف کے دانتوں کی طرح قرار دیا۔ عطاء کی روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ بھائی حضرت یوسف کو اس وقت تک نہ پہچان سکے جب تک آپ نے سر سے تاج نہ اتار دیا۔ آپ کے سر کے اوپر ایک جانب لہسن تھا جو موروثی تھا۔ حضرت یعقوب کے بھی تھا ‘ حضرت اسحاق کے بھی تھا اور (حضرت اسحاق کی والدہ) حضرت سارہ کے بھی تھا۔ علامت کو پہچان کر بھائی بولے اٹھے : بلاشبہ آپ یوسف ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ بھائیوں نے (یقین کے ساتھ نہیں بلکہ) یونہی گمان سے کہا تھا۔ قال انا یوسف وھذا اخی یوسف نے کہا : میں یوسف ہوں اور یہ میرا (ماں جایا) بھائی ہے۔ بھائیوں نے صرف آپ کو دریافت کیا تھا ‘ مگر آپ نے اپنے مزید تعارف اور بھائی کی عظمت ظاہر کرنے کیلئے بھائی کا بھی ذکر کردیا اور واضح کردیا کہ اللہ نے جو احسان کیا ‘ وہ ہم دونوں پر کیا۔ قد من علینا بلاشبہ اللہ نے ہم دونوں پر کرم فرمایا کہ سلامتی اور عزت کے ساتھ دونوں کو یکجا کردیا اور ملا دیا۔ ان من یتق ویصبر فان اللہ یا یضیع اجر المحسنین واقعی جو شخص (گناہوں سے) بچتا اور (مصائب و طاعات پر صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیک کام کرنے والوں کا اجر نہیں کھوتا۔ یعنی جو اللہ سے ڈرتا ہے ‘ ادائے فرائض کرتا ہے اور معاصی سے اجتناب کرتا ہے اور مصائب پر صبر کرتا ہے اور ادائے طاعات پر پابندی کرتا ہے اور گناہوں سے اپنے آپ کو روکے رکھتا ہے تو ایسے لوگوں کا اجر اللہ ضائع نہیں کرتا۔ نہ دنیا میں نہ آخرت میں ‘ وہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ بجائے اَجْرھُمْ کے اَلْمُحْسِنِیْنَ کا لفظ ذکر کرنا بتارہا ہے کہ نیکوکار وہی ہے جو متقی بھی ہو اور صابر بھی۔
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے

قالوا تا اللہ لقد اترک اللہ علینا وان کنا لخطئین بولے : بخدا ! بلاشبہ اللہ نے آپ کو ہم پر برتری عطا فرمائی اور ہم یقیناً خطاوار تھے۔ یعنی معذرت پیش کرتے ہوئے انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ جمال صورت اور کمال سیرت اور تمام دنیوی و اُخروی فضائل کے لحاظ سے اللہ نے آپ کو ہم پر برتری عطا فرمائی اور ہم نے جو کچھ آپ کے ساتھ کیا ‘ اس کے ہم خطاوار ہیں۔ خٰطِءِیْنَ قصداً خطا کرنے والے) خَطَأَ قصداً خطا کی اور اَخْطَأَ (باب افعال) نادانستہ خطا کی۔
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے

قال لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وھو ارحم الرحمین یوسف نے کہا : آج تم پر کوئی الزام نہیں (یعنی میں نے معاف کیا) اللہ تمہارا قصور معاف کرے۔ وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے (امید ہے معاف کر دے گا) ۔ تَثْرِیْبٌ آنکھوں کی چربی چھیل دینا۔ ثرب آنکھوں پر چھائی ہوئی چربی۔ مجازاً کسی کو لعنت و ملامت کرنا جس سے مجرم کی آبروریزی اور توہین ہو رہی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ آج جبکہ میں تم لوگوں کو لعنت و ملامت کرسکتا ہوں لیکن کچھ نہیں کہتا تو پھر آئندہ کچھ برابھلا کہنے کا تو احتمال ہی نہیں ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے اقرار کے بعد میں نے تم کو معاف کردیا۔ اللہ تم کو معاف کرے ‘ وہ ارحم الراحمین ہے اور میں نادار و محتاج ہوں۔ جب میں نے معاف کردیا تو اللہ تو بےنیاز اور غفور ہے ‘ وہ ضرور معاف کر دے گا اور توبہ کرنے والے پر مہربانی فرمائے گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے : جب بھائیوں نے حضرت یوسف کو پہچان لیا تو کہا : آپ صبح شام ہم کو کھانے پر بلواتے ہیں اور ہم سے جو آپ کے معاملے میں قصور ہوگیا تھا ‘ اس کی وجہ سے ہم کو آپ سے شرم آتی ہے۔ حضرت یوسف نے کیسا کریمانہ جواب دیا ‘ فرمایا : مصر والے مجھے گذشتہ نظر ہی سے دیکھتے تھے۔ لوگ کہتے تھے : سبحان اللہ ! ایک غلام جو بیس درہم میں بیچا گیا تھا ‘ اللہ نے اس کو کہاں پہنچایا۔ اب جو لوگوں کو معلوم ہوا کہ میں (غلام نہیں تھا) تمہارا بھائی ہوں اور حضرت ابراہیم کا پوتا ہوں تو تمہاری وجہ سے مجھے عزت مل گئی اور مصر والوں کی آنکھوں میں میری عظمت پیدا ہوگئی۔ بغوی نے لکھا ہے : حضرت یوسف نے اپنا تعارف کرا دیا تو پھر باپ کا حال پوچھا اور فرمایا : میرے بعد میرے باپ کی کیا حالت ہوئی ؟ بھائیوں نے بتایا کہ باپ کی آنکھیں (روتے روتے) جاتی رہیں۔ حضرت یوسف نے اپنا کرتا ان کو دیا اور باپ کو بلوایا اور فرمایا :
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ

اذھبوا بقمیصی ھذا فالقوہ علی وجہ ابي یات بصیرا میرا یہ کرتا لے جا کر میرے باپ کے منہ پر ڈال دو (اس سے) وہ بینا ہوجائیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ میرے پاس بینا ہو کر آجائیں گے۔ حسن نے کہا : حضرت یوسف کو اللہ نے اطلاع دے دی ہوگی جب ہی تو آپ نے فرمایا کہ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اللہ کی طرف سے اطلاع پانے کے بغیر وہ ایسی بات نہیں کہہ سکتے تھے۔ مجاہد نے کہا : حضرت جبرئیل نے حضرت یوسف کو (ا اللہ کی طرف سے) حکم دیا تھا کہ حضرت یعقوب کو اپنا کرتا بھیج دیجئے۔ یہ قمیص حضرت ابراہیم کا تھا ‘ جب آپ کو آگ میں ڈالا گیا تو کپڑے اتار لے گئے تھے ‘ اس وجہ سے حضرت جبرئیل نے جنت سے ایک ریشمی قمیص لا کر آپ کو پہنا دیا تھا۔ یہ کرتہ حضرت ابراہیم کے پاس رہا ‘ پھر آپ کی وفات کے بعد حضرت اسحاق کو میراث میں ملا اور حضرت اسحاق کے بعد حضرت یعقوب کو پہنچا۔ حضرت یوسف جب جوان ہوگئے تو حضرت یعقوب نے وہ کرتہ ایک نلکی میں سربند کر کے بطور تعویذ حضرت یوسف کے گلے میں ڈال دیا تاکہ آپ کو نظر نہ لگے۔ ہر وقت وہ حضرت یوسف کے گلے میں رہتا تھا۔ جب آپ کو کرتہ اتار کر کنویں میں ڈالا گیا تو حضرت جبرئیل نے آکر تعویذ کھول کر اس میں سے کرتہ نکال کر حضرت یوسف کو پہنا دیا۔ پھر حضرت یوسف جب بھائیوں سے مذکورۂ بالا گفتگو کر رہے تھے تو حضرت جبرئیل نے آکر کہا : وہ قمیص بھیج دیجئے ‘ اس کے اندر جنت کی خوشبو ہے۔ جس دکھی اور بیمار پر اس کو ڈالا جائے گا ‘ وہ تندرست ہوجائے گا۔ اس اطلاع کے بعد آپ نے وہ کرتہ اپنے بھائیوں کے سپرد کردیا اور فرمایا : اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا ‘ وہ بینا ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں : حضرت مجدد قدس سرہٗ کے کشف سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ حسن یوسف دنیوی چیزوں سے نہ تھا بلکہ آپ کا حسن اور وجود جنت کی چیزوں کی جنس سے تھا تو اب کوئی ضرورت نہیں کہ ہم اس کرتے کو جنت سے آیا ہوا مانیں بلکہ اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ وہ حضرت یوسف کا پہنا ہوا تھا۔ وجود یوسف تو خود جنت کی چیزوں کی جنس میں سے تھا (آپ کی ہستی اس عدمی دنیا کی چیز ہی نہ تھی) ۔ واتونی باھلکم اجمعین اور آپ (سب بھائی اور باپ) اپنے سب گھر والوں کو (عورتوں کو ‘ بچوں کو ‘ خادموں کو) میرے پاس لے آئیں۔
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے

ولما فصلت العیر قال ابوھم انی لاجد ریح یوسف لو لا ان تفندون اور جب قافلہ چلا تو ان کے باپ نے کہنا شروع کیا کہ اگر تم مجھ کو بڑھاپے کی وجہ سے بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو تو ایک بات کہوں کہ مجھ کو تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ یعنی جب وہ قافلہ جس میں حضرت یوسف کا قمیص تھا اور مصر سے کنعان جانے کیلئے چلا تھا ‘ شہر کی آبادی سے نکلا تو حضرت یعقوب نے حاضرین سے کہا : مجھے یوسف کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے۔ اگر تم سٹھیایا ہوا نہ قرار دو تو میں کہتا ہوں کہ یوسف کی ملاقات ہونے والی ہے۔ ریح یوسف فرمایا ‘ ریح قمیص یوسف نہیں فرمایا۔ اس سے مترشح ہو رہا ہے کہ جنت کی خوشبو حضرت یوسف کی ہی خوشبو تھی ‘ قمیص یوسف کی نہ تھی۔ بغوی نے لکھا ہے : باد صبا نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ بشارت دینے والے کے پہنچنے سے پہلے حضرت یوسف کی خوشبو حضرت یعقوب کو پہنچا دے۔ مجاہد نے کہا : تین روز کی مسافت سے حضرت یوسف کی خوشبو حضرت یعقوب کو پہنچ گئی تھی۔ حضرت ابن عباس کے ایک قول میں آٹھ رات کی مسافت کا ذکر آیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہوا قمیص یوسف کی خوشبو لے کر حضرت یعقوب تک پہنچی تھی جس سے آپ کو جنت کی خوشبو محسوس ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ زمین پر سوائے قمیص کی خوشبو کے جنت کی اور کوئی خوشبو نہ تھی ‘ اسی لئے آپ نے اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ فرمایا۔ فند کا معنی ہے : بڑھاپے کی وجہ سے عقل میں نقصان آجانا اور تفنید (باب تفعیل) کا معنی ہے : کسی کو سٹھیایا ہوا قرار دینا۔ اس لئے عَجُوْزٌ مُفَنَّدَۃٌ نہیں کہا جاتا کیونکہ عورت کا نقصان عقل ذاتی ہوتا ہے (صرف بڑھاپے کی وجہ سے نہیں ہوتا ‘ عورت ناقص العقل فطرتاً ہوتی ہے) ۔ لَوْلَا کا جواب محذوف ہے ‘ یعنی اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ سمجھو تو مجھے سچا جانو۔ یا میں کہتا ہوں کہ یوسف کی ملاقات عنقریب ہوگی۔
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں

قالوا تا اللہ انک لفي ضللک القدیم وہ کہنے لگے : آپ تو اپنے اسی پرانے غلط خیال میں مبتلا ہیں۔ ضلال سے مراد یہ ہے کہ حضرت یوسف کی محبت ‘ اس کی یاد کی کثرت اور امید وصال رکھنے کی وجہ سے آپ کی عقل صحیح راستہ سے ہٹ گئی ہے (اور آپ پرانی غلطی میں مبتلا ہیں) ۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

فلما ان جآء البشیر القٰہ علی وجھہ فارتد بصیرا پھر جب بشارت دینے والا (حضرت یوسف کے پاس سے) یعقوب کے پاس پہنچا تو کرتہ یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا جس سے فوراً یعقوب لوٹ کر بینا ہوگئے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : قافلے کے پہنچنے سے پہلے بشارت دہندہ پہنچا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ یہودا تھا۔ سدی کا بیان ہے : یہودا نے کہا : جب میں خون آلودہ کرتہ لے کر باپ کے پاس گیا تھا اور ان کو اطلاع دی تھی کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا تو اب میں ہی یہ کرتہ لے کر جاؤں گا اور اطلاع دوں گا کہ یوسف زندہ ہیں۔ جیسے ان کو غم دیا تھا ‘ ویسے ہی ان کو خوش بھی کروں گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کرتہ لے کر یہودا ننگے سر دوڑتا ہوا نکل چلا ‘ صرف سات روٹیاں ساتھ لی تھیں ‘ وہ بھی پوری نہ کھا سکا اور اسّی فرسخ کی مسافت طے کر کے باپ کے پاس پہنچا۔ بعض نے کہا : خوش خبری دینے والا مالک بن وعر تھا۔ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا کا معنی ہے کہ حضرت یعقوب دوبارہ بینا ہوگئے ‘ کمزور سے طاقتور اور بڑھاپے کے بعد جوان ہوگئے۔ قال الم اقل لکم انی اعلم من اللہ ما لا تعلمون یعقوب نے کہا : کیا میں نے تم لوگوں سے نہیں کہہ دیا تھا کہ اللہ کی جو باتیں میں جانتا ہوں ‘ تم نہیں جانتے۔ یعنی یوسف کے زندہ ہونے اور ان سے ملاقات ہونے کی اطلاع میں نے تم کو پہلے ہی دے دی تھی ‘ یا میں نے تم سے کہہ دیا تھا کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو اور مجھے یوسف کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے۔ بغوی کا بیان ہے : روایت میں آیا ہے کہ حضرت یعقوب نے پوچھا : یوسف کس حال میں ہے ؟ بشارت دینے والے نے جواب دیا : وہ مصر کے بادشاہ ہیں۔ حضرت یعقوب نے فرمایا : بادشاہ ہے تو میں کیا کروں ‘ میں پوچھتا ہوں تم نے کس مذہب پر ان کو چھوڑا۔ بشیر نے کہا : اسلام پر۔ فرمایا : اب نعمت کامل ہوگئی۔
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے

قالوا یابانا استغفر لنا ذنوبنا انا کنا خطئین بیٹوں نے کہا : ابا ! ہمارے گناہوں کو معاف کردینے کی اللہ سے دعا کر دیجئے ‘ کوئی شک نہیں کہ ہم خطاوار تھے۔ یعنی ہم اپنی خطا کا اقرار کرتے ہیں۔ آپ کے اور حضرت یوسف کے حق میں ہم نے جو قصور کیا ‘ اس کی معافی کی دعا اللہ سے کر دیجئے۔