Ayah 12:57ولاجر الاخرۃ خیر للذین امنوا وکانوا یتقون اور بلاشبہ ثواب آخرت (دنیوی اجر سے) ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو ایمان لائے اور (نافرمانی سے) بچتے رہے۔
جب حضرت یوسف اطمینان کے ساتھ حکومت پر جم گئے تو انہوں نے غلہ جمع کرنے کی تدبیر کی۔ بڑی بڑی حفاظت گاہیں اور غلہ رکھنے کے گھر بنوائے اور قحط سالی کیلئے وہاں غلہ جمع کیا اور معمول کے مطابق بقدر ضرورت خرچ کیا یہاں تک کہ پیداوار کی کثرت کے سال گذر گئے اور قحط سالی کا دور آگیا اور ایسا ہولناک قحط پڑا جس کی نظیر کبھی سننے میں آئی تھی نہ دیکھنے میں۔
روایت میں آیا ہے کہ حضرت یوسف نے بادشاہ اور بادشاہ کے مصاحبین کیلئے ہر روز صرف ایک بار دوپہر کے وقت کھانا مقرر کیا تھا۔ قحط سالی کے دور میں سب سے پہلے آدھی رات کے وقت بادشاہ ہی کو بھوک نے ستایا اور وہ بھوک بھوک کہہ کر چلا اٹھا۔ حضرت یوسف نے فرمایا : یہ کال کا زمانہ ہے۔ کال کے اوّل سال پبلک کا سارا اندوختہ ختم ہوگیا اور لوگ حضرت یوسف سے غلہ خریدنے لگے۔ حضرت یوسف نے نقد روپیہ لے کر غلہ دے دیا اور اس طرح مصر کا ہر سکہ اور درہم و دینار آپ کے پاس پہنچ گیا۔ دوسرے سال زیور اور جواہر لے کر اناج فروخت کیا۔ تیسرے سال چوپائے اور مویشی دے کر لوگوں نے غلہ لیا۔ چوتھے سال غلام اور باندیاں دے کر غلہ حاصل کیا۔ پانچویں سال جائیدادیں ‘ زمینیں اور گھر بھی غلے کے عوض بیچ ڈالے۔ چھٹے سال بچے فروخت کر دئیے اور ساتویں سال خود اپنی جانوں کا بیعنامہ کردیا ‘ یہاں تک کہ نقد ‘ جنس ‘ زیور ‘ جانور ‘ باندی ‘ غلام سب کچھ حضرت یوسف کا ہوگیا۔ اہل مصر کی کوئی چیز نہیں رہی اور آخر میں اولاد بھی اپنی نہیں رہی ‘ بلکہ ہر شخص حضرت یوسف کا غلام ہوگیا۔
میں کہتا ہوں : اگر یہ روایت صحیح ہو تو شاید شریعت یوسفی میں جائز ہو کہ کوئی شخص اپنی جان و اولاد کو فروخت کر دے ‘ چور کو غلام بنا لینا تو آپ کی شریعت میں جائز ہی تھا۔ بعض علماء نے فتویٰ بھی دیا ہے کہ کال کی وجہ سے روٹی کیلئے آدمی اپنی جان اور اپنی اولاد کو بھی فروخت کرسکتا ہے ‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔
غرض یہ حالت دیکھ کر رعایا بول اٹھی کہ ایسا عالی قدر مالک کل بادشاہ اور کوئی نہیں ہوا جو ساری رعایا کے جان ‘ مال اور اولاد کا مالک ہوگیا ہو۔ حضرت یوسف نے بادشاہ سے کہا : اب آپ کی کیا رائے ہے ؟ بادشاہ نے کہا : جو آپ کی رائے ‘ وہی میری رائے۔ ہم تو آپ کے تابع ہیں۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تو میں اللہ کو اور آپ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ تمام اہل مصر کو میں نے آزاد کردیا ‘ ان کی ساری املاک (زر و جواہر ‘ مویشی ‘ جانور) ان کو واپس کرتا ہوں۔
روایت میں آیا ہے کہ حضرت یوسف کال کے زمانے میں خود بھی بھوکے رہتے تھے۔ لوگوں نے کہا : سارا غلہ ملک مصر کا تو آپ کے قبضے میں ہے اور آپ بھوکے رہتے ہیں۔ فرمایا : میرا پیٹ بھرا ہوگا تو اندیشہ ہے کہ میں بھوکے کو بھول جاؤں گا۔ بادشاہ کے باورچیوں کو بھی آپ نے حکم دے دیا تھا کہ بادشاہ کیلئے صرف دوپہر کا ہی کھانا تیار کریں ‘ کہیں پیٹ بھرنے کے بعد بادشاہ بھوکوں کو بھول نہ جائے۔ اسی بناء پر بادشاہ ناشتہ دوپہر کو کرتے ہیں (کہ صبح سے دوپہر تک بھوکے رہیں اور بھوکوں کو بھولنے نہ پائیں) ۔
اہل مصر کے علاوہ چاروں طرف سے لوگ حضرت یوسف کے پاس غلہ لینے آتے تھے مگر آپ کسی کو خواہ وہ کتنا بڑا آدمی ہو ‘ بارِشتر سے زیادہ اناج نہیں دیتے تھے تاکہ تھوڑا تھوڑا سب لوگوں کو پہنچ جائے۔ لوگوں کے آپ کے پاس ٹھٹ لگے رہتے تھے اور آپ سب کو دیتے تھے۔ کنعان اور شام کے باشندے بھی قحط میں مبتلا ہوگئے ‘ عمومی کال سے وہ بھی محفوظ نہیں رہے۔ حضرت یعقوب اور آپ کے اہل و عیال مقام غرمات علاقۂ فلسطین سرحد شام میں رہتے تھے۔ ان لوگوں کی زندگی صحرائی زندگی تھی ‘ اونٹ اور بکریاں پالتے تھے۔ حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو غلہ لینے کیلئے مصر بھیجا اور فرمایا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ وہاں کا بادشاہ مرد صالح ہے ‘ لوگوں کے ہاتھ غلہ فروخت کرتا ہے۔ تم بھی تیار ہوجاؤ اور مصر جا کر غلہ لاؤ۔ آپ نے حضرت یوسف کے بھائی بنیامین کو اپنے پاس روک لیا اور دوسرے بیٹوں کو روانہ ہوجانے کا حکم دے دیا۔
Ayah 12:58وجاء اخوۃ یوسف فدخلوا علیہ فعرفھم وھم لہ منکرون اور یوسف کے بھائی آئے اور یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ یوسف کو نہ پہچان سکے۔ یعنی دس بھائی یوسف کے پاس پہنچے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) نے فرمایا : حضرت یوسف نے پہلی ہی نظر میں بھائیوں کو پہچان لیا۔ حسن نے کہا : اوّل نظر میں نہیں پہچانا ‘ جب انہوں نے اپنے تعارف کرایا تو پہچانا۔
حضرت ابن عباس نے بھائیوں کے حضرت یوسف کو نہ پہچاننے کی یہ وجہ بیان کی کہ کنویں میں ڈالنے اور اب سامنے آنے کے درمیان چالیس برس کی مدت گذر گئی تھی۔ طول زمانہ شناخت سے مانع ہوا۔ عطاء نے کہا : حضرت یوسف اس وقت شاہانہ تاج پہنے ‘ شاہی تخت پر رونق افروز تھے ‘ اسلئے بھائی نہ پہچان سکے۔ بعض نے کہا : اس وقت آپ شاہی ریشمی لباس پہنے تھے اور گردن میں سونے کا ہار تھا۔
میں کہتا ہوں : اس قول کی بنیاد اس مسلمہ پر ہوسکتی ہے کہ شریعت یوسفی میں مرد کیلئے سونا اور ریشمی لباس کا پہننا درست تھا۔
حضرت یوسف نے بھائیوں کو دیکھا تو انہوں نے عبرانی زبانی میں کلام کیا۔ آپ نے فرمایا : مجھے بتاؤ تم کون لوگ ہو اور تمہارا کام کیا ہے ‘ میں تم کو نہیں جانتا۔ بھائیوں نے کہا : ہم ملک شام کے چرواہے ہیں ‘ قحط کی تکلیف میں مبتلا ہو کر آپ کے پاس غلہ لینے آئے ہیں۔ حضرت یوسف نے فرمایا : شاید آپ لوگ ہمارے ملک میں یہاں کے احوال کی جستجو میں آئے ہیں۔ کہنے لگے : خدا کی قسم ! ہم جاسوس نہیں ہیں ‘ سب ایک باپ کی اولاد ہیں۔ ہمارا باپ پیر صادق ہے ‘ اس کو اللہ کے پیغمبروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حضرت یوسف نے کہا : آپ لوگ کتنے ہیں ؟ بولے : ہم بارہ (بھائی) تھے ‘ ایک بھائی جاتا رہا ‘ وہ ہم سب میں چھوٹا تھا۔ جنگل کو گیا تھا ‘ وہاں مرگیا۔ باپ کی نظر میں وہ سب سے پیارا تھا۔ آپ نے پوچھا : یہاں تم کتنے ہو ؟ بولے : دس ہیں۔ فرمایا : ایک اور کہاں ہے ؟ بولے : باپ کے پاس رہ گیا ہے۔ جب سے اس کا ماں جایا بھائی مرا ہے ‘ باپ کو اسی سے تسکین خاطر ہوتی ہے۔ فرمایا : کون جانے کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو ‘ وہ سچ بھی ہے یا نہیں ؟ کہنے لگے : بادشاہ سلامت ! ہم تو اجنبی ملک میں ہیں ‘ یہاں تو ہم کو جاننے والا کوئی نہیں ہے۔ آخر حضرت یوسف نے ہر ایک کو ان کی تعداد کے مطابق ایک ایک اونٹ غلے کا دے دیا اور سب کا سامان سفر درست کرا دیا۔ جہاز ‘ سامان سفر کو کہتے ہیں۔
Ayah 12:59ولما جھزھم بجھازھم قال ائتوني باخ لکم من ابیکم اور جب ان کا سامان سفر درست کرا دیا تو یوسف نے ان سے کہا : (اب کی مرتبہ) اپنے علاتی بھائی کو میرے پاس لے کر آنا ‘ اگر تم سچے ہو۔ اگر تم اپنے بھائی کو لے آؤ گے تو ایک بارشتہ میں تم کو اور دوں گا اور تمہاری عزت بڑھاؤں گا۔
الا ترون اني اوف الکیل وانا خیر المنزلین کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں غلہ کا ناپ پورا دیتا ہوں (کسی کو کم نہیں دیتا) اور میں بہترین میزبان ہوں۔ مجاہد نے کہا : یعنی تمہاری مہمانی اچھی طرح کرتا ہوں۔
Ayah 12:60فان لم تاتوني بہ فلا کیل لکم عندي ولا تقربون اور تم اس کو میرے پاس لے کر نہ آئے تو میرے پاس نہ آنا۔ تم کو ایک ناپ غلہ بھی میرے پاس سے نہیں ملے گا اور میرے ملک میں بھی داخل نہ ہونا۔
لاَ تَقْرَبُوْنِ یا نہی کا صیغہ ہے یا نفی ہے جس کا عطف جزاء پر ہے (میرے پاس نہ آنا ‘ یا قریب بھی نہ آؤ گے) ۔
Ayah 12:61قالوا سنرا ودعنہ اباہ وانا لفاعلون بولے : اس کی طرف سے باپ کو پھسلانے کی ہم کوئی تدبیر ضرور کریں گے اور (جو کچھ آپ نے حکم دیا اس کی) بلاشبہ تعمیل کریں گے۔ یعنی اس کی جدائی کا غم باپ کو ضرور ہوگا ‘ مگر ہم کوئی چال چلیں گے اور باپ کے پاس سے لانے کی کوئی تدبیر کریں گے اور اس کی طرف سے باپ کو پھسلائیں گے۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تو اپنے میں سے کسی بھائی کو میرے پاس بطور ضمانت چھوڑ جاؤ تاکہ اس کو لا سکو۔ یہ سن کر بھائیوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی ‘ قرعہ میں شمعون کا نام نکل آیا۔ شمعون وہی شخص تھا جس کی حضرت یوسف کے متعلق سب بھائیوں سے زیادہ اچھی رائے تھی (اور اسی نے مشورہ دیا تھا کہ حضرت یوسف کو قتل نہ کرو) چناچہ شمعون کو حضرت یوسف کے پاس چھوڑ دیا ‘ باقی سب چلے گئے۔
Ayah 12:62وقال لفتینہ اجعلوا بضاعتھم فی رحالھم لعلھم یعرفونھا اذا انقلبوا الی الھلم لعلھم یرجعون اور یوسف نے اپنے (غلہ ناپنے والے) خادموں سے کہا : ان کا سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت جو انہوں نے دی ہے) انہی کے سامان میں رکھ دو تاکہ گھر لوٹ کر جب وہ (لوٹایا ہوا) سرمایہ دیکھیں گے تو (واپسی کا حق پہچان کر) امید ہے لوٹ آئیں گے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے بیان کیا کہ ان کا سرمایہ جو انہوں نے غلہ کی قیمت میں دیا تھا ‘ جوتے اور کھالیں تھیں۔ بعض نے کہا کہ آٹھ بورے کسی قسم کے ستو تھے۔ اوّل قول حسب رائے بغوی زیادہ صحیح ہے۔
بعض علماء نے کہا کہ حضرت یوسف نے تکمیل احسان اور اتمام نوازش کے جذبہ کے زیر اثر بھائیوں کا سامان واپس رکھوا دیا تاکہ وہ جانیں کہ بادشاہ کی ہم پر بڑی عنایت ہے کہ اس نے سامان بھی واپس کردیا اور اسی خیال کے تحت دوبارہ مصر کو لوٹ آئیں۔ بعض نے کہا : حضرت یوسف نے باپ اور بھائیوں سے غلہ کی قیمت وصول کرنا اچھا نہ سمجھا اور ایسی حالت میں کہ باپ بھائی محتاج تھے ‘ قیمت لینے کو کمینہ پن خیال کیا۔ کلبی نے کہا : حضرت یوسف کو اندیشہ ہوا کہ کہیں باپ کے پاس اور روپیہ نہ ہو اور روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ لوٹ کر نہ آئیں۔ بعض نے کہا : حضرت یوسف کو معلوم تھا کہ یہ امانت دار لوگ ہیں ‘ ان کی دیانت ان کو آمادہ کرے گی کہ یہ سرمایہ لوٹا کر لائیں۔ یہ اس پونجی کو اپنے لئے حلال نہ سمجھیں گے۔
Ayah 12:63فلما رجعوا الی ابیھم قالوا جب لوٹ کر باپ کے پاس پہنچے تو بولے : ابا ! ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے کہ اس نے ہماری بڑی مہمانی کی اور ایسی عزت کی کہ اگر نسل یعقوب کا بھی کوئی آدمی ہوتا تو ہماری اتنی عزت نہ کرتا۔ حضرت یعقوب نے یہ بات سن کر فرمایا : جب تم شاہ مصر کے پاس لوٹ کر جاؤ تو اس سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ آپ نے جو ہمارے ساتھ احسان کیا ہے ‘ اس کے عوض ہم آپ کیلئے دعا کرتے ہیں ‘ اللہ آپ پر رحمت نازل فرمائے۔ پھر فرمایا : شمعون کہاں ہے ؟ بیٹوں نے جواب دیا : اس کو شاہ مصر نے بطور ضمانت اپنے پاس روک لیا ہے۔ اس کے بعد پورا قصّہ بیان کردیا۔ حضرت یعقوب نے فرمایا : اس کو یہ بات بتائی ہی کیوں ؟ بیٹوں نے جواب دیا : اس نے ہم سے عبرانی زبان میں گفتگو کی اور کہا کہ تم جاسوس ہو اور پورا قصّہ بیان کر کے کہا :
یابا نا منع منا الکیل ہم کو غلہ دینے کی ممانعت کردی گئی ہے۔ یعنی اگر ہم بنیامین کو لے کر نہ جائیں گے تو آئندہ ہم کو غلہ نہیں ملے گا۔ کَیْل (ناپ ‘ پیمانہ) سے مراد ہے : غلہ۔ کذا قال الحسن۔ بعض اہل تفسیر نے اس جملہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ شاہ مصر نے ہم میں سے ہر ایک کے نام بنام تو غلہ دے دیا اور بنیامین کے نام کا غلہ نہیں دیا۔
فارسل معنا اخانا نکتل وانا لہ لحٰفظون لہٰذا آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں تاکہ ہم کو غلہ مل جائے (اور کوئی مانع نہ رہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کے حصہ کا غلہ بھی مل جائے) اور ہم یقیناً اس کی حفاظت کریں گے ‘ کوئی تکلیف اور دکھ نہ ہونے دیں گے۔
Ayah 12:64قال ھل امنکم علیہ الا کما امنتکم علی اخیہ من قبل فا اللہ خیر حفظا وھو ارحم الرحمین یعقوب نے کہا : کیا میں اس کے بارے میں تمہارا ویسا ہی اعتبار کروں جیسا اس کے بھائی کے بارے میں اس سے پہلے کیا تھا (تم کیا حفاظت کرو گے) اللہ ہی سب سے بڑھ کر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ امید ہے کہ اللہ اس کی حفاظت کرے گا اور مجھ پر رحم فرمائے گا۔
Ayah 12:65ولما فتحوا متاعھم وجدوا بضاعتھم ردت الیھم اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اپنا سرمایہ (یعنی وہ سرمایہ جو غلہ کی قیمت میں انہوں نے شاہ مصر کو دیا تھا) اس کے اندر پایا جو ان کو واپس کردیا گیا تھا۔
قالوا یابا ناما نبغی کہنے لگے : ابا ! (لیجئے) اور ہم کو کیا چاہئے ___ یعنی اس سے بڑھ کر اور کیا احسان و کرم ہوگا کہ شاہ مصر نے ہماری مہمان نوازی کی ‘ خاطر و مدارات کی ‘ اچھی طرح سے رکھا ‘ پھر غلہ ہمارے ہاتھ فروخت کیا اور پھر ہماری دی ہوئی قیمت بھی ہم کو لوٹا دی۔
یا یہ مطلب ہے کہ اس سے بڑھ کر ہم بھلائی کے طالب نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بادشاہ کے احسان کے متعلق کلام کرنے میں ہم اور کیا چیز طلب کریں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم اپنے بیان میں اضافہ کرنا نہیں چاہتے ‘ ہماری سچائی کی دلیل آپ کے سامنے آگئی۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مزید سرمایہ آپ سے طلب نہیں کرتے۔
ھذہ بضاعتنا ردت الینا یہ ہمارا سرمایہ موجود ہے جو ہم کو لوٹا دیا گیا ہے۔
ونمیر اھلنا ونحفظ اخانا ونزداد کیل بعیر اور اپنے گھر والوں کے واسطے رسد لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک بار شتر غلّہ زیادہ لائیں گے۔ نَمِیْرُ کا عطف فعل محذوف پر ہے ‘ یعنی ہمارا یہ سامان واپس کردیا گیا تاکہ ہم اس سے قوت حاصل کریں اور گھر والوں کیلئے رسد خریدنے کے واسطے بادشاہ کے پاس لوٹ کر جائیں اور وہاں سے غلّہ لائیں۔ اس صورت میں مَا نَبْغِیْ میں مَا استفہامیہ ہوگا۔
مَارَ ، یَمِیْرُ ، مَیْرًا (مجرد) اِمْتَارَ ، یَمْتَارُ ، اِمْتِیَارًا (ثلاثی مزید باب افتعال) دوسرے شہر سے غلہ لے کر آیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا عطف مَا نَبْغِیْ پر ہو اور مَا نافیہ ہو ‘ یعنی ہم اور کسی چیز کے طلبگار نہیں اور گھر والوں کیلئے غلّہ لائیں گے۔
نَحْفَظُ اَخَانَا یعنی آمد و رفت میں ہر خطرہ سے اس کی حفاظت کریں گے۔ نَزْدَادُ کَیْلَ بَعِیْرٍ یعنی اس کے حصّہ کا ایک بار شتر غلّہ ہم مزید حاصل کریں گے۔ فی کس ایک اونٹ غلہ ملتا تھا۔
ذلک کیل یسبر یہ غلّہ (جو ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے ‘ گھر والوں کیلئے کافی نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ (مزید) غلّہ آسان ہے ‘ بادشاہ سخی ہے ‘ اس کو کوئی دشواری نہیں ‘ نہ اس سے ملنے میں دشواری ہے۔
Ayah 12:66قال لن ارسلہ معکم حتی یؤتون موثقا من اللہ لتاتنني بہ الا ان یحاط بکم یعقوب نے کہا :
اس کو اس وقت تک ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک اللہ کی قسم کھا کر مجھے پکا وعدہ نہ دو گے کہ تم اس کو ضرور میرے پاس لے ہی آؤ گے ‘ ہاں اگر کہیں گھِر ہی جاؤ تو مجبوری ہے۔
مَرْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ یعنی ایسا عہد جس کو اللہ کی قسم کھا کر پختہ کیا گیا ہو ‘ یا اس پر اللہ کو گواہ بنایا گیا ہو۔
اِلاّآ اَنْ یُّحَاطَ بِکُمْ کا مطلب مجاہد نے بیان کیا : مگر یہ کہ تم سب ہلاک ہوجاؤ گے۔ قتادہ نے کہا : مگر یہ کہ تم بےبس اور مغلوب ہوجاؤ اور تم میں حفاظت کی طاقت ہی نہ رہے۔
یہ استثناء مفرغ ہے یعنی ہر حال میں تم اس کی حفاظت کرو گے ‘ ہاں اگر ایسی حالت ہوجائے کہ تم بےبس ہوجاؤ۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کو واپس لانے سے کسی وجہ سے تم باز نہ رہو گے مگر یہ کہ تم مغلوب ہوجاؤ۔
فلما اتوہ موثقھم پس جب انہوں نے باپ کو مضبوط عہد دے دیا۔ کہا گیا ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ ‘ رب محمد کی قسم۔
غرض یہ کہ انہوں نے جب انتہائی کوشش کی اور قسمیں کھا لیں اور بنیامین کو بھیجے بغیر حضرت یعقوب کو کوئی چارہ نہ رہا تو۔
قال اللہ علی ما نقول وکیل یعقوب نے کہا : جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں ‘ اس پر اللہ گواہ (یا نگراں) ہے۔ کعب نے کہا : جب حضرت یعقوب نے فا اللہ خیر حافظا کہا تو اللہ نے فرمایا : اپنی عزت کی قسم ! تو نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے تو میں دونوں کو لوٹا کر تیرے پاس پہنچا دوں گا۔
Ayah 12:67وقال یبني لا تدخلوا من باب واحدوا دخلوا من ابواب متفرقہ (بیٹے جب حضرت یعقوب کے پاس سے جانے لگے تو) یعقوب نے کہا : میرے بیٹو ! شہر کے ایک دروازے سے (یعنی ساتھ ساتھ) داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے گھسنا۔ حضرت یعقوب کے بیٹے بڑے حسین و جمیل ‘ سرو قامت ‘ گل رخسار ‘ صحتمند اور طاقتور جوان تھے اور شاہ مصر کے نزدیک ان کی عزت زباں زد خلائق تھی ‘ اس وجہ سے حضرت یعقوب کو خیال ہوا کہ کہیں (اجتماعی ہیئت میں داخل ہوتے دیکھ کر) کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نظر حق ہے۔ نظر لگنے کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ‘ سورة نون کی وان یکاد الذین کفروا لیزلقونک بِاَبْصَرھِمْ لما سمعوا الذکرالخ کی تفسیر میں ہم نے ذکر کردی ہیں۔
پہلی مرتبہ روانگی کے وقت حضرت یعقوب نے بیٹوں کو نصیحت نہیں کی تھی ‘ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس وقت ان سے کوئی مصر میں واقف نہ تھا ‘ پھر بنیامین بھی ان کے ساتھ نہ تھا اور اس مرتبہ (کوئی بیٹا پاس نہیں رہا تھا) بنیامین بھی روانہ ہو رہا تھا۔ ابراہیم نخعی نے کہا کہ حضرت یوسف کے سامنے جدا جدا جانا مقصود تھا۔ اوّل تشریح زیادہ صحیح ہے۔
وما اغنی عنکم من اللہ من شیء اور میں اللہ کی طرف سے آئی ہوئی کسی بات کو بھی اس کے مقابلہ میں دفع نہیں کرسکتا۔ یعنی جو ہونے والی چیز ہے ‘ وہ ہو کر رہے گی۔ اللہ کا جو حکم ہوچکا ہے ‘ وہ پورا ہو کر رہے گا۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : احتیاط تقدیر سے نہیں بچاتی۔ رواہ الحاکم۔ امام احمد نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے اور بزاز نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
ان الحکم الا اللہ حکم تو بس اللہ ہی کا (چلنا) ہے۔ اللہ کے سوا اور کسی کا حکم نہیں چلتا۔ جو حکم خدا ہوچکا ہے ‘ وہ برابر تم کو پہنچے گا ‘ اس کے مقابلہ میں کوئی چیز تم کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ اس سے آگے حضرت یعقوب نے اللہ ہی پر اپنے اعتماد و توکل کا اظہار کیا اور فرمایا :
علیہ توکلت وعلیہ فلیتوکل المتوکلون اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو توکل کرنا چاہئے۔
Ayah 12:68ولما دخلوا من حیث امرھم ابوھم ما کان یغنی عنھم من اللہ من شئ الاحاجۃ في نفس یعقوب قضھا اور جب وہ (مصر پہنچ کر شہر کے اندر اس طور پر داخل ہوئے جس طرح باپ نے ان کو حکم دیا تھا تو یہ (داخلہ) اس چیز کو بالکل دفع نہ کرسکتا تھا جو اللہ کی طرف سے آنے والی تھی ‘ مگر حضرت یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جس کو انہوں نے پورا کرلیا (اور ہمارے سکھا دینے کی وجہ سے وہ تھے بلاشبہ جاننے والے ‘ اسی لئے انہوں نے وَمَآ اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیءً کہہ دیا تھا لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے) ۔ روایت میں آیا ہے کہ شہر کے چار دروازے تھے ‘ چاروں دروازوں سے یہ لوگ داخل ہوئے تھے۔ مَا کَانَ یُغْنِیْ یعنی دفع نہیں کرسکتا۔ مِنَ اللّٰہ اللہ کے طے شدہ فیصلے سے کچھ بھی۔ چناچہ بنیامین پکڑے گئے اور حضرت یعقوب پر دوہری مصیبت پڑگئی۔ اِلاَّ حَاجَۃً یعنی یہ فقط حضرت یعقوب کا ارمان تھا ‘ فقط شفقت پدرانہ تھی کہ کہیں ان کو نظر نہ لگ جائے۔ قَضَاھَا یعنی اپنی خواہش کو حضرت یعقوب نے ظاہر کردیا اور بیٹوں کو نصیحت کردی۔
وانہ لذوعلم لما علمنہ اور وہ بلاشبہ جاننے والے تھے ہمارے سکھا دینے کی وجہ سے۔ تعلیم دینے سے مراد ہے :
وحی کے ذریعہ سے واقف بنانا ‘ یا عقلی دلائل بتانا۔
مَا عِلَّمْنَا (میں اگر مَا موصولہ ہو تو اس) سے مراد ہوگا : مَآ اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیءٍ کہنا یاما مصدریہ ہوگا اور مَا عِلَّمْنَا کا معنی ہوگا : ہمارا سکھانا ‘ تعلیم دینا۔ بعض نے کہا : ذوعلم سے مراد ہے : باعمل ‘ یعنی جو علم ہم نے حضرت یعقوب کو عطا کیا تھا ‘ اس پر وہ عامل بھی تھے۔ سفیان کا قول ہے : جو عالم علم کے مطابق عمل نہیں کرتا ‘ وہ عالم ہی نہیں ہے۔ بعض نے کہا : ذوعلم سے مراد ہے : نگہداشت رکھنے والا۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یعنی حضرت یعقوب کی بات کو ‘ یا تقدیر کو نہیں جانتے اور اس سے واقف نہیں کہ تدبیر ‘ تقدیر کو دفع نہیں کرسکتی۔ یا اس بات سے واقف ہیں کہ اللہ اپنے دوستوں کو الہام کردیتا ہے۔
Ayah 12:69ولما دخلوا علی یوسف اور جب برادران یوسف ‘ یوسف کے پاس پہنچے۔ تو کہا : آپ نے جو بھائی لانے کا حکم دیا تھا ‘ ہم اس کو لے آئے۔ حضرت یوسف نے کہا : تم نے بہت اچھا کیا ‘ ٹھیک کیا اور تم کو عنقریب اس کا اچھا بدلہ ملے گا۔ پھر آپ نے ان کو عزت اور آرام کے ساتھ ٹھہرایا اور ان کی مہمانی کی اور دسترخوان بچھوایا اور حکم دیا کہ (آمنے سامنے) دو ‘ دو بیٹھیں (یعنی دو ‘ دو شریک ہوجائیں۔ حکم کی تعمیل کی گئی اور دو ‘ دو بیٹھ گئے) بنیامین تنہا رہ گئے اور رو پڑے اور کہنے لگے : اگر میرا بھائی یوسف زندہ ہوتا تو مجھے اپنے ساتھ بیٹھا لیتا۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تمہارا یہ بھائی اکیلا رہ گیا ہے ‘ میں اس کو اپنے ساتھ بٹھا لیتا ہوں۔ چناچہ آپ نے بنیامین کو اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھا کر کھلایا۔ پھر رات ہوئی تو آپ نے بستر کرانے کا حکم دے دیا اور فرمایا : دو ‘ دو بھائی ایک بستر پر ساتھ سو جائیں۔ بنیامین اس وقت بھی تنہا رہ گئے تو حضرت یوسف نے فرمایا : یہ میرے ساتھ ‘ میرے بستر پر سو جائے گا۔ سوتے میں بنیامین کو حضرت یوسف چمٹا لیتے تھے اور ان کی خوشبو سونگھتے تھے۔ صبح تک یونہی کرتے رہے۔ روبیل کہنے لگا : (بھائیو ! ) ہم نے تو کبھی ایسا واقعہ دیکھا نہیں (کہاں بادشاہ مصر اور کہاں ہم اور ہم پر بادشاہ کی یہ مہربانی اور بنیامین پر یہ خصوصی عنایت) صبح کو حضرت یوسف نے بھائیوں سے فرمایا : میں دیکھ رہا ہوں کہ (یہ شخص اکیلا ہے) اس کا کوئی دوسرا رفیق نہیں ہے ‘ اسلئے اس کو میں اپنے ساتھ اپنے گھر میں رکھوں گا۔ اس کے بعد آپ نے ایک مکان میں قیام کرنے کا حکم دیا اور کھانا جاری کردیا۔
اوی الیہ اخاہ اور اپنے ساتھ اپنے بھائی (بنیامین) کو جمع کرلیا اور اپنے ہی ساتھ اس کو ٹھہرایا۔ جب محفل چھٹ گئی اور تنہائی کا وقت آیا تو بنیامین سے پوچھا : تمہارا کیا نام ہے ؟ بنیامین نے کہا : بنیامین۔ حضرت یوسف نے پوچھا : بنیامین کا کیا معنی ؟ بنیامین نے کہا : مردہ کا بیٹا (وضع حمل کی حالت میں بنیامین کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا) حضرت یوسف نے کہا : کیا تم پسند کرو گے کہ تمہارے مرحوم بھائی کی جگہ میں تمہارا بھائی بن جاؤں ؟ بنیامین نے کہا : بادشاہ کی طرح بھائی کس کو نصیب ہے ؟ لیکن آپ یعقوب اور راحیل کے بیٹے نہیں ہیں۔ حضرت یوسف یہ سن کر رو دئیے اور کھڑے ہو کر ان کو گلے لگا لیا ‘ اور
قال انی انا اخوک کہا : میں (حقیقت میں) تمہارا بھائی ہوں ‘ یعنی یوسف ہوں۔
فلا تبتئس بما کانوا یعملون اب تم ان کی ان حرکات سے رنجیدہ نہ ہو جو (ہمارے ساتھ) یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔ اللہ نے ہم پر اپنا کرم کردیا۔ جو اطلاع میں نے تم کو دی ہے ‘ اس کی خبر ان کو نہ دینا۔ اس کے بعد آپ نے ہر بھائی کو ایک ایک بار شتر غلہ دے دیا اور بنیامین کو بھی اس کے نام کا ایک اونٹ بھر اناج دے دیا۔
Ayah 12:70فلما جھزھم یحھازھم جعل السقایۃ فی رحل اخیہ پھر جب ان کو سامان سفر دے کر تیار کردیا تو پانی پینے کا ایک کٹورا اپنے بھائی (بنیامین) کے سامان میں رکھ دیا ___ یعنی خادموں کو حکم دے دیا کہ کٹورا بنیامین کے سامان میں چھپا دو ۔ خادموں نے چھپا دیا۔
سقایۃ اور صواع دونوں سے مراد ایک ہی چیز ہے۔ سقایۃ پانی پینے کا برتن جس میں بادشاہ پانی پیتا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ برتن زبرجد کا تھا۔ ابن اسحاق نے کہا : چاندی کا تھا۔ کسی نے کہا : سونے کا تھا۔ عکرمہ نے کہا : چاندی کا تھا مگر مرصع تھا۔ غلے کے احترام میں حضرت یوسف نے اس کو غلہ ناپنے کا پیمانہ مقرر کردیا تھا اور اس میں آپ پانی بھی پیتے تھے۔ سدی نے کہا : بھائی کے سامان میں یہ پیمانہ پوشیدہ کرا دیا اور بھائی کو بتایا بھی نہیں۔ اس کو معلوم ہی نہ ہوا۔ کعب نے کہا : جب حضرت یوسف نے بنیامین سے کہا : میں تمہارا بھائی ہوں تو بنیامین نے کہا : اب تو میں تم کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تم واقف ہو کہ میری وجہ سے باپ پر کیسا غم پڑا تھا ‘ اب اگر میں تم کو روک لوں گا تو ان کا غم اور بڑھ جائے گا اور جب تک میں تم کو بدنام کر کے مشہور نہ کر دوں اور کسی نازیبا فعل کی تمہاری طرف نسبت نہ کر دوں اور ناروا حرکت کا مرتکب نہ قرار دے دوں ‘ اس وقت تک میں تم کو روک بھی نہیں سکتا (روکنے کا کوئی قانون نہیں اور جھوٹی وجہ حبس قائم کرنے میں تمہاری بدنامی ہوگی) بنیامین نے کہا : کچھ بھی ہو مجھے پرواہ نہیں۔ جو بات آپ چاہیں کریں ‘ میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔ حضرت یوسف نے کہا : تو میں اپنا ناپ تمہارے سامان میں پوشیدہ کرائے دیتا ہوں ‘ پھر تمہارے اوپر چوری کا الزام قائم کروں گا تاکہ تم کو چھوڑ دینے (اور روانہ کردینے) کے بعد پھر تم کو لوٹا لینا میرے لئے ممکن ہو سکے۔ بنیامین نے کہا : آپ جو چاہے کریں۔
ثم اذن مؤذن ایتھا العیر انکم لسارقون پھر ایک اعلانچی نے پکارا : اے قافلے والو ! تم یقیناً چور ہو۔
مؤذن منادی۔ لفظ ثُمَّ بتارہا ہے کہ قافلے والوں کی روانگی سے کچھ وقت کے بعد اعلانچی نے اعلان کیا تھا (کیونکہ ثُمَّ فعل دوئم کی تاخیر اور کچھ مدت پہلے فعل سے پیچھے آنے کو ظاہر کرتا ہے۔ جاء زید ثم بکر زید آیا ‘ پھر کچھ مدت کے بعد بکر آیا۔ مترجم) اور واقعہ بھی اسی طرح ہوا تھا۔ قافلہ روانہ ہوگیا اور حضرت یوسف نے اتنی تاخیر کی کہ قافلہ ایک منزل پہنچ گیا ‘ یا گھروں کی آبادی سے نکل گیا ‘ پھر ان کے پیچھے آدمی دوڑایا جس نے پیچھے سے نداء دی۔ العیر لدے ہوئے اونٹ ‘ مجازاً مراد اونٹوں والے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : یاخیل اللہ ارکبوا اے اللہ کے سوارو ! سوار ہوجاؤ۔ رواہ ابو داؤد من حدیث سمرۃ بن جندب (گھوڑوں کو خیل کہتے ہیں ‘ مگر حدیث میں گھوڑوں کے سوار مراد ہیں) آمد و رفت رکھنے کی وجہ سے اونٹوں کو عیر کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا : عیر جمع ہے عیر کی ‘ سُقْفٌ کی طرح۔ عین پر ضمہ تھا ‘ پھر یاء کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اور عیر کا معنی ہے : گدھا ‘ مجازاً مراد ہوتا ہے گدھوں والا قافلہ۔ پھر اس لفظ کے استعمال میں مزید توسیع کرلی گئی اور پھر قافلہ پر اس کا اطلاق ہونے لگا۔ مجاہد نے کہا : وہ قافلہ گدھے سواروں ہی کا تھا۔ فراء نے کہا : وہ اونٹ والے تھے (برادران یوسف چور نہ تھے ‘ پھر ان کو چور کیوں کہا اور چوری کی تہمت ان پر کیوں لگائی ‘ اس سوال کے جواب میں) کہا جاسکتا ہے کہ حضرت یوسف کے حکم کے بغیر منادی نے یہ لفاظ ازخود کہہ دیا تھا ‘ یا یہ کہ حضرت یوسف نے حکم دیا تھا اور بےساختہ یہ لفظ ان کی زبان سے نکل گیا تھا۔ یا یوں کہا جائے کہ واقعی وہ چور تھے ‘ حضرت یوسف کو انہوں نے چرایا تھا۔ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اللہ ہی نے ایسا کہنے کا حکم دیا تھا اور اس سے کسی بات کی وجہ نہیں دریافت کی جاسکتی۔ لاَ یُسْءَلُ عما یَفْعَلُ وَھُمْ یُسَأَلُوْنَ ۔ اس میں حکمت حضرت یعقوب کا امتحان تھا۔ آئندہ ہم اس کا ذکر کریں گے۔
Ayah 12:71قالوا واقبلوا علیھم ما ذا تفقدون قافلے والے تلاش کرنے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے : تمہاری کیا چیز گم ہوگئی (تم کس چیز کو ڈھونڈ رہے ہو) فَقَدٌ کسی چیز کا کھو جانا کہ یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں گئی اور کہاں ہے۔
Ayah 12:72قالوا نفقد صواع الملک تلاش کرنے والوں نے کہا : بادشاہ کا پانی پینے کا کٹورا ہم کو نہیں ملتا۔ ہم اس کو تلاش کررہے ہیں اور تمہارے سوا ہمارا خیال کسی اور پر نہیں ہے۔
ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم اور جو شخص اس کو لا کر حاضر کرے گا ‘ اس کو ایک بار شتر غلہ ملے گا اور میں اس (کے دلوانے) کا ذمہ دار ہوں __ یعنی بطور مزدوری اس کو ایک بار شتر غلہ ملے گا اور میں ذمہ دار ہوں اس کو مزدوری دوں گا (مزدوری سے مراد ہے : اجرت ‘ معاوضہ ‘ انعام۔ مترجم) اس آیت سے مزدوری اور کفالت اور کام سے پہلے مزدوری مقرر کردینے کا جواز ثابت ہو رہا ہے۔
Ayah 12:73قالوا تا اللہ لقد علمتم ما جئنا لنفسد فی الارض وما کنا سارقین بولے : اللہ کی قسم ! تم یہ یقینا جانتے ہو کہ ہم اس سرزمین میں فساد کرنے نہیں آئے اور ہم چور نہیں ہیں۔ یہ لوگ دو مرتبہ مصر آئے تھے ‘ اسلئے اہل مصر ان کی امانت داری سے واقف ہوچکے تھے۔ جو سرمایہ ان کے سامان میں بندھ کر ان کے ساتھ چلا گیا تھا ‘ وہ بھی انہوں نے واپس لا کر دے دیا تھا اور اپنے جانوروں کے منہ پر انہوں نے جالیاں بھی چڑھا دی تھیں کہ کسی کی کھیتی باڑی پر منہ نہ ڈال دیں۔ یہ تمام باتیں ان کی امانت داری پر دلالت کرتی تھیں اور لوگ ان باتوں سے واقف تھے ‘ اسی لئے اہل مصر کے علم کو ان لوگوں نے اپنی شہادت میں پیش کیا۔
Ayah 12:74قالوا فما جزاؤہ ان کنتم کذبین (منادی اور اس کے ساتھیوں نے) کہا : اگر تم لوگ (بےگناہی کے دعوے میں) جھوٹے ہو تو چور یا چوری کی سزا (تمہارے نزدیک) کیا ہونی چاہئے ؟
Ayah 12:75قالوا جزاؤہ من وجد في رحلہ فھو جزاؤہ کذلک نجزی الظلمین انہوں نے جواب دیا :
اس (چور) کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں پیمانہ نکلے تو سامان والا ہی اس کا عوض ہے (یعنی اسی کو غلام بنا لیا جائے) اور ہم ظالموں (یعنی چوروں) کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
حضرت یعقوب کی شریعت میں چور کی یہی سزا تھی کہ جب چوری ثابت ہوجائے تو چور کو صاحب مال کے سپرد کردیا جائے اور وہ چور کو اپنا غلام بنا لے۔ اس پر منادی نے کہا : اچھا ! تو تمہارے سامان کی تلاشی لی جائے گی۔
روایت میں آیا ہے کہ سرکاری آدمی ان سب کو لوٹا کرلے گئے اور حضرت یوسف نے سامان کی تفتیش کا حکم دیا۔
Ayah 12:76فبد اباوعیتھم قبل وعاء اخیہ پس اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے (دوسرے) بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی شروع کی۔ یعنی بنیامین کے سامان کی تلاشی سے پہلے ایک ایک کر کے بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی اور انہی کی تلاشی سے آغاز کیا تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو۔ قتادہ نے کہا : ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ جب بھی کسی کے سامان کو کھولتے اور اس کے تھیلے کے اندر دیکھتے تھے تو تہمت لگانے کے گناہ کے خوف سے استغفر اللہ کہتے تھے (کیونکہ جانتے تھے کہ میں تلاشی غلط لے رہا ہوں ‘ یہ شخص چور نہیں ہے) جب سب کی تلاشی ہوچکی اور صرف بنیامین رہ گیا تو خود ہی بولے : میرے خیال میں اس نے نہیں لیا ہے (اس کی تلاشی لینے کی ضرورت نہیں) بھائیوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک اس کی بھی تلاشی نہ لی جائے گی ‘ ہم نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے آپ کے دل کو بھی پورا اطمینان ہوجائے گا اور ہمارے دلوں کو بھی۔
ثم استخرجھا من وعاء اخیہ آخر (بنیامین کا سامان کھولا اور) اپنے بھائی (بنیامین) کے تھیلے سے پیمانہ برآمد کرلیا۔ یہ دیکھ کر بھائیوں نے شرم سے سر جھکا لئے اور بنیامین کی طرف رخ کر کے کہنے لگے : تو نے یہ کیا حرکت کی ‘ ہمارے منہ کالے کر دئیے ‘ ہم کو رسوا کردیا۔ تو نے یہ لیا کب ؟ اے اولاد راحیل ! تمہارے ہاتھوں ہمیشہ ہم پر مصیبت ہی آئی ہے۔ بنیامین نے کہا : اولاد راحیل کو ہمیشہ تمہارے ہاتھوں مصائب اٹھانے پڑے ہیں۔ تم نے ہی میرے بھائی کو لے جا کر جنگل میں ہلاک کیا (رہا یہ معاملہ تو) یہ پیمانہ اسی نے میرے سامان میں رکھا جس نے تمہارے سامانوں میں تمہارا سرمایہ رکھا تھا۔ غرض (بنیامین) غلامی میں پکڑ لیا گیا اور اسی آدمی (یعنی تلاشی لینے والے) نے بنیامین کی گردن پکڑ کر حضرت یوسف کے روبرو پیش کردیا جیسے چوروں کو لے جایا جاتا تھا۔
کذلک کدنا لیوسف ایسی تدبیر ہم نے یوسف کی خاطر کی تھی۔ کہ ہم نے یہ تدبیر اس کو سکھائی اور وحی بھیجی۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ منادی نے جو انکم لسارقون کہا تھا ‘ وہ کلام ازخود نہ تھا بلکہ حضرت یوسف کے حکم سے تھا اور آپ کا حکم بھی وحی پر مبنی تھا ‘ اسلئے گناہ نہیں تھا۔
بغوی نے لکھا ہے : اس جگہ کید سے مراد ہے : کید کا بدلہ ‘ یعنی جس طرح برادران یوسف نے حضرت یوسف کے ساتھ پہلے فریب کیا تھا ‘ اسی طرح اس وقت ہم نے ان کے ساتھ کیا۔ حضرت یعقوب نے تو حضرت یوسف سے پہلے ہی فرما دیا تھا : فَیَکِیْدُوْا لَکَ کَیْداکہ وہ تم سے فریب کریں گے۔ پس جب انہوں نے فریب کیا تو ان کے معاملہ میں حضرت یوسف کیلئے ہم نے بھی ویسا ہی کیا۔ بغوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ مخلوق کی طرف سے کید کا معنی ہے : سازش ‘ فریب اور اللہ کی طرف سے کید کا معنی ہے : صحیح (مخفی) تدبیر۔
ما کان لیاخذ اخاہ فی دین الملک (ہم نے یہ تدبیر اسلئے کی) کہ حضرت یوسف ‘ بادشاہ (مصر) کے مذہب (اور قانون) کے اعتبار سے اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے (اور اپنے پاس روک نہیں سکتے تھے) بادشاہ کے قانون و مذہب میں تو چور کو مارا جاتا تھا اور چوری کے مال سے دوگنا جرمانہ کیا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباس نے اس جگہ دین کا ترجمہ کیا : سلطان (عملداری) اور قتادہ نے کہا ؛ حکم (اور قانون) ۔
الا ان یشاء اللہ ہاں اللہ کو منظور ہوتا تو وہ اس حکم کو بادشاہ کا حکم کرسکتا تھا (استثناء منقطع ہے) چناچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے دریافت کیا کہ تمہارے نزدیک چور کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ تو اللہ نے ان سے کہلوا دیا کہ چوری کی سزا یہ ہے کہ چور کو مالک مال کا غلام بن جانا ہوگا۔ اس طرح بمشیت الٰہی حضرت یوسف کا مقصد حاصل ہوگیا۔
نرفع درجٰت من نشاء (علم عطا فرما کر) ہم جس کو چاہتے اونچے درجے عنایت کرتے ہیں۔
وفوق کل ذی علم علیم اور ہر جاننے والے سے اوپر دوسرا جاننے والا ہے۔ یعنی ہر ذی علم مخلوق سے زیادہ اللہ علیم ہے۔ علیم کا معنی ہے : بہت زیادہ علم رکھنے والا (مراد اللہ) یا ہر ذی علم مخلوق سے اوپر دوسری ذی علم مخلوق ہے ‘ خواہ یہ فوقیت علمی بعض لحاظ سے ہو ‘ جیسے حضرت خضر کو بعض اعتبار سے حضرت موسیٰ پر علمی فوقیت حاصل تھی (اگرچہ حضرت موسیٰ نبی مرسل ہونے کی وجہ سے صاحب شریعت تھے اور حضرت خضر پر علمی برتری رکھتے تھے ‘ مگر بعض کائناتی واقعات کا انکشاف حضرت خضر کو تھا ‘ حضرت موسیٰ کو نہ تھا) اسی بناء پر حضرت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا : موسیٰ 1 جو علم مجھے اللہ نے عطا فرمایا ہے ‘ اس سے تم ناواقف ہو اور جو علم تم کو اللہ نے عطا فرمایا ہے ‘ اس کو میں نہیں جانتا۔ یہ حدیث بخاری نے حضرت خضر و حضرت موسیٰ کے طویل قصہ کے ذیل میں نقل کی ہے۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : تم اپنی دنیا کے کاموں کو (خود ہی) مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص ہر اعتبار اور ہر حیثیت سے دوسرے سے برتر ہے ورنہ تسلسل علمی لازم آئے گا (اگر علم کی انتہا اللہ کی ذات پر نہ مانی جائے اور یونہی مخلوق میں باہم علمی برتری اور کامل برتری کا سلسلہ قائم کیا جائے تو یہ برتری کہیں جا کر نہیں ٹھہرے گی۔ علمی تسلسل کا یہی معنی ہے) حضرت ابن عباس نے فرمایا : ہر عالم کے اوپر دوسرا عالم ہے اور یہ سلسلہ اللہ کی ذات پر جا کر ختم ہوتا ہے ‘ پس اللہ ہر عالم سے بڑھ کر علم رکھنے والا ہے۔
Ayah 12:77قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل برادران یوسف نے کہا : اگر یہ (بنیامین) چوری کرتا ہے تو (کوئی تعجب نہیں) اس سے پہلے اس کے ایک بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ یعنی حضرت یوسف نے بھی چوری کی تھی جو اس کا ماں جایا تھا۔ سعید بن جبیر اور قتادہ نے کہا : حضرت یوسف کے نانا کا ایک بت تھا ‘ وہ اس کی پوجا کرتا تھا۔ حضرت یوسف نے خفیہ طور پر اس کو لے لیا اور توڑ کر راستہ میں پھینک دیا تاکہ نانا اس کی پوجا نہ کرسکے۔ کذا اخرج ابن مردویہ عن ابن عباس مرفوعاً ۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے سعید بن جبیر کی روایت سے بھی اسی طرح یہ حدیث نقل کی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد نے بیان کیا : ایک روز ایک سائل آیا ‘ حضرت یوسف دسترخوان سے (چھپا کر) کچھ کھانا اٹھا لیتے تھے اور فقیروں کو دے دیتے تھے ‘ اس روز بھی ایسا ہی کیا۔
میں کہتا ہوں : حضرت یوسف سخی گھرانے کے ایک فرد تھے اور فقیروں کو دینے پر حضرت یعقوب راضی تھے ‘ اس لئے یہ چوری نہ تھی۔ بھائیوں نے حضرت یوسف کی جلن کی وجہ سے اس کو چوری کہا۔
محمد بن اسحاق نے مجاہد کے حوالہ سے بیان کیا کہ حضرت یوسف کی والدہ راحیل کا انتقال ہوگیا تو آپ اپنی پھوپھی بنت اسحاق کے پاس رہنے لگے۔ پھوپھی کو آپ سے بڑی محبت تھی اور پھوپھی نے ہی آپ کی پرورش کی۔ جب آپ بڑے ہوگئے تو حضرت یعقوب کو آپ سے حد سے زیادہ محبت ہوگئی اور آپ نے اپنی بہن سے کہا : بہن ! اب تم یوسف کو مجھے دے دو ۔ خدا کی قسم ! یوسف کا ایک ساعت بھی میری نظر سے غائب ہونا میرے لئے ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔ بہن نے کہا : ایسا نہیں ہوسکتا۔ حضرت یعقوب نے فرمایا : میں اس کو چھوڑنے والا نہیں۔ بہن نے کہا : اچھا ! تو چند روز کیلئے میرے پاس رہنے دو ‘ شاید چند روز کے بعد اللہ مجھے اس کی طرف سے صبر عطا کر دے۔ حضرت یعقوب نے یہ بات مان لی۔ حضرت اسحاق کی کمر کا ایک پٹکا تھا اور بطور وراثت بڑی اولاد کو ملتا تھا ‘ حضرت یعقوب کی بہن آپ سے بڑی تھیں اسلئے وہ پٹکا بہن کو ملا تھا اور ان کے پاس تھا۔ بہن نے یہی پٹکا حضرت یوسف کی کمر سے (کپڑوں کے اندر) لپیٹ دیا ‘ پھر خود ہی کہا : حضرت اسحاق کا پٹکا گم ہوگیا ہے ‘ گھر والوں کی تلاشی لی جائے۔ چناچہ سب کی تلاشی لی گئی تو حضرت یوسف کے پاس برآمد ہوگیا۔ حضرت یعقوب کی بہن نے کہا : اب تو یہ میری سپردگی میں رہے گا۔ حضرت یعقوب نے فرمایا : اس نے اگر ایسا کیا ہے تو تمہاری ہی سپردگی میں رہے گا (حضرت اسحاق کی شریعت میں چور کا مالک مال والا ہوجاتا تھا) غرض اس تدبیر سے حضرت یعقوب کی بہن نے حضرت یوسف کو مرتے دم تک اپنے پاس روکے رکھا۔ یہی بات آپ کے بھائیوں نے آپ کے متعلق کہی : اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ ط۔
فاسرھا یوسف فی نفسہ ولم یبدھا لھم بھائیوں کی یہ بات یوسف نے اپنے دل میں چھپالی (گویا سنی ان سنی کردی) اور ان پر ظاہر بھی نہیں کیا (کہ میں نے تمہاری یہ بات سن لی ہے) یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یوسف نے جو بات دل میں چھپالی تھی اور بھائیوں سے نہیں کہی تھی ‘ وہ بات وہی تھی جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے ‘ یعنی
قال انتم شر مکانا یوسف نے کہا : (یعنی دل میں کہا کہ) اس (چوری کے) درجہ میں تو تم اور بھی برے ہو۔
یعنی حضرت یوسف نے اپنے دل میں کہا کہ تم نے تو اپنے بھائی کو چرایا ‘ تم تو یوسف سے زیادہ برے ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم نے چوری کی نسبت یوسف کی طرف کی ‘ اس سے زیادہ بری تو تمہاری حرکت ہے۔
وا اللہ اعلم بما تصفون اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو ‘ اس سے بخوبی اللہ واقف ہے۔ یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ تم بیان کر رہے ہو ‘ وہ غلط ہے۔
جب حضرت یوسف نے بنیامین پر قبضہ کرلیا تو بھائی غضبناک ہوگئے۔ اولاد یعقوب کو غصہ آتا تھا تو ان کے غصہ کو برداشت کرنے کی تاب کسی میں نہیں رہتی تھی۔ روبیل کی تو یہ حالت تھی کہ اس کے غصہ کے سامنے کوئی چیز ٹھہری نہیں رہتی تھی۔ جب وہ غصہ سے چیختا تھا تو حاملہ عورتوں کے حمل دہشت کی وجہ سے گرجاتے تھے۔ لیکن یہ بھی ان کی خصوصیت تھی کہ غصہ کی حالت میں اگر نسل یعقوب میں سے کوئی شخص ان کو ہاتھ سے چھو دیتا تھا تو غصہ فرو ہوجاتا تھا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ خصوصیت اور حالت شمعون کی تھی۔
غرض سب بھائی حضرت یوسف کے پاس پہنچے۔ روبیل نے کہا : یا تو ہمارے بھائی کو واپس دو ورنہ میں ایسی چیخ ماروں گا کہ مصر کی ہر حاملہ عورت کا حمل گرجائے گا۔ غصہ سے روبیل کے بدن کے بال کھڑے ہوگئے اور کپڑوں سے باہر نکل آئے۔ حضرت یوسف کا ایک چھوٹا بچہ تھا ‘ آپ نے بچہ سے فرمایا : روبیل کے برابر جا کر اس کو ہاتھ سے چھو دو ۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ آپ نے بچے سے فرمایا : اس کا ہاتھ پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔ بچے نے جا کر روبیل کو ہاتھ لگا دیا۔ بچے کا ہاتھ لگانا تھا کہ روبیل کا غصہ جاتا رہا۔ کہنے لگا : یہاں حضرت یعقوب کے تخم کا کوئی تخم ضرور موجود ہے۔ حضرت یوسف نے فرمایا : (حضرت یعقوب کے تخم کا تخم کیا) یعقوب کا بیٹا موجود ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ روبیل کو دوبارہ غصہ آیا تو حضرت یوسف نے اس کے ایک ٹھوکر ماری اور گریبان سے پکڑ کر زمین پر گرا دیا اور فرمایا : عبرانیو ! تم گمان کرتے ہو کہ تم سے زیادہ طاقتور (دنیا میں) کوئی اور نہیں ہے۔ جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا اور بھائی سمجھ گئے کہ بنیامین کو کسی طرح چھڑا نہیں سکتے تو عاجزی کرنے لگے اور نرم پڑگئے ‘ اور
Ayah 12:78قالوا یایھا العزیز ان لہ ابا شیخا کبیرا فخذ احدنا مکانہ انا نرٰمک من المحسنین کہنے لگے : اے عزیز ! اس کو بوڑھا باپ ہے (جو اس سے بڑی محبت کرتا ہے۔ اس کا بھائی تو مرچکا ہے ‘ یہی باپ کے دل کا بہلاوا ہے ‘ مہربانی کیجئے) اور ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ پکڑ لیجئے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ بھلائی کرنے والوں میں سے ہیں (بھلائی اور مہربانی کرنے کی آپ کی عادت ہی ہے ‘ آپ اپنے اخلاق کو نہ بدلیں۔ آپ نے ہم پر کرم کیا ہے ‘ ہم کو پورا پورا غلہ دیا ‘ اچھی طرح مہمان رکھا ‘ ہمارا سرمایہ بھی ہم کو لوٹا دیا ‘ پس یہ بھی کرم کیجئے کہ اس کی جگہ ہم میں سے کسی اور کو پکڑ لیجئے) ۔
Ayah 12:79قال معاذ اللہ ان تاخذا الا من وجدنا متاعنا عندہ یوسف نے کہا : جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے ‘ اس کی جگہ دوسرے کو پکڑ لیں ‘ اس ناانصافی سے اللہ کی پناہ (ایسا نہیں کرسکتے ‘ مجرم کی جگہ دوسرے کو پکڑنا تو تمہارے فتوے کے لحاظ سے بھی ظلم ہے) ۔
حضرت یوسف نے مَنْ وَّجَدْنَا مَتَا عَنَا عِنْدَہٗ فرمایا مَنْ سَرَقَ نہیں فرمایا کیونکہ بنیامین نے چوری نہیں کی تھی ‘ اس کے سامان میں شاہی پیمانہ ملا تھا۔
انا اذ الظلمون اگر ہم ایسا کریں گے تو (تمہارے ہی قانون اور فتوے کی رو سے) اس وقت ہم ظالم ہوں گے۔
حضرت یوسف کے کلام کا مفہوم اور مقصد یہ تھا کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے سامان میں پیمانہ برآمد ہو ‘ اس کو پکڑ لیا جائے۔ ہم اللہ کی رضامندی کیلئے ایسا کریں گے ‘ اس کے خلاف کریں گے تو ظلم ہوگا اور ہم ظالم قرار پائیں گے۔
Ayah 12:80فلما استایئسوا منہ خلصوا نجیا جب بھائی کی طرف سے ناامید ہوگئے تو الگ جا کر باہم مشورہ کیا۔ ابوعبیدہ نے ترجمہ کیا : جب انہوں نے یقین کرلیا کہ بنیامین کی واپسی نہیں ہوسکتی۔
نَجِیًّا بمعنی جمع ہے اگرچہ لفظ مفرد ہے ‘ یعنی الگ جا کر ایک نے دوسرے سے مشورہ کیا اور سب مشورہ کرنے لگے۔
قال کبیرھم بڑے نے کہا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : عمر میں بڑا ہونا مراد نہیں ‘ بلکہ علم و فضل میں بڑا ہونا مراد ہے ‘ اور یہ یہودا تھا۔ کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ ‘ سدی اور ضحاک کے نزدیک عمر میں بڑا مراد ہے۔ یہ روبیل تھا ‘ اسی نے حضرت یوسف کو قتل کرنے سے بھائیوں کو روکا تھا۔ مجاہد نے کہا : وہ شمعون تھا ‘ بھائیوں کا (سفر میں) وہی سردار تھا۔
الم تعلموا ان اباکم قد اخذ علیکم موثقا من اللہ کیا تم ناواقف ہو کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کی قسم کے ساتھ مضبوط عہد لے لیا تھا۔
ومن قبل ما فرطتم فی یوسف اور یوسف کے معاملہ میں بھی جو تم قصور کرچکے ہو ‘ کیا تم اس سے ناواقف ہو۔ مَا فَرَّطْتُّمْ میں مَا زیادہ ہے ‘ یا مصدری ‘ یا موصولہ۔ بیضاوی کے نزدیک مَا محل رفع میں نہیں ہوسکتا ‘ یعنی اس کو مبتداء نہیں قرار دیا جاسکتا۔ کیونکہ مِنْ قَبْلُ اس وقت خبر ہوگا تو قَبْلُ کا مضاف الیہ مذکور ہونا ضروری ہے۔
فلن ابرح الارض حتی یازن لی ابی اسلئے میں اس سرزمین کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا تاوقتیکہ میرا باپ مجھے اجازت (نہ) دے۔
او یحکم اللہ لی یا اللہ حکم دے دے۔ یعنی حضرت یعقوب کی معرفت اللہ مجھے یہاں سے جانے اور بھائی کو چھوڑ جانے کا حکم بھیج دے ‘ یا میری موت کا حکم بھیج دے ‘ یا میرے بھائی کو رہا کرنے کا حکم دے دے ‘ یا بھائی کو چھڑانے کیلئے اہل مصر سے لڑنے کا حکم دے دے۔
وھو خیر الحکمین اور وہ سب حاکموں سے اعلیٰ اور بالا ہے ‘ اس کا حکم غلط نہیں ہوتا۔
Ayah 12:81ارجعوا الی ابیکم فقولوا یابانا ان ابنک سرق تم لوگ اپنے والد کے پاس لوٹ جاؤ اور جا کر کہہ دو :
ابا ! آپ کے بیٹے (بنیامین) نے چوری کی۔ یعنی بظاہر امر ہم نے اس کے سامان سے چوری کا مال برآمدہوتے دیکھا (جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی نے چوری کی) ۔
وما شھدنا الا بما علمنا اور ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو مشاہدہ سے ہم کو معلوم ہوا۔ یعنی ہم جو کہہ رہے ہیں کہ اس نے چوری کی ‘ اس وجہ سے کہہ رہے ہیں کہ ہم کو یقین ہوچکا اور ہم نے خود دیکھ لیا کہ بادشاہ کا پیمانہ اس کے تھیلے سے برآمد ہوا۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا : ہم نے کوئی شہادت کبھی بغیر ذاتی علم کے نہیں دی ‘ اسلئے ہماری طرف سے شہادت نہیں ہے (ہم کو حقیقت کا کیا علم ‘ ہمارے سامنے تو اس نے چرایا نہیں۔ مترجم) بلکہ آپ کے بیٹے کی حرکت کی اطلاع ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ حضرت یعقوب نے ان سے فرمایا : عزیز مصر کو تو معلوم نہ تھا کہ چور کو چوری کی سزا میں غلام بنا لیا جاتا ہے ‘ یہ بات اس کو تمہارے قول سے معلوم ہوئی۔ اس کے جواب میں بیٹوں نے کہا : ہم نے تو عزیز مصر سے وہی بات کہی جو ہم کو (اپنے مذہب سے) معلوم تھی۔ حضرت یعقوب اور آپ کی اولاد کا چور کے متعلق شرعی فیصلہ یہی ہوتا تھا۔
وما کنا للغیب حفظین اور غیب کی باتوں کے تو ہم حافظ تھے نہیں (یا یہ ترجمہ ہے کہ باطنی احوال کے تو ہم نگراں تھے نہیں) حضرت ابن عباس نے ترجمہ کیا : ہم رات دن اس کے اٹھنے بیٹھنے اور آنے جانے کے تو نگراں تھے نہیں ‘ ممکن ہے کہ رات کو اس کے سامان میں پیمانہ چھپا دیا گیا ہو (اور واقع میں اس نے نہ چرایا ہو) ۔ مجاہد اور قتادہ نے یوں مطلب بیان کیا کہ جب قسم کھا کر ہم نے عہد کیا تھا تو ہم کو معلوم نہ تھا کہ آپ کا بیٹا آئندہ چوری کرے گا (اور پکڑا جائے گا) اور آپ پر ویسی ہی بپتا پڑے گی ‘ جیسی یوسف کی پڑی تھی۔ ہم نے جو اس کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا ‘ وہ انہی چیزوں سے کیا تھا جن سے حفاظت ممکن تھی۔
Ayah 12:82واسئل القریۃ التی کنا فیھا اور اس بستی سے جہاں ہم تھے ‘ آپ دریافت کرلیں۔ قریہ سے مراد ہے : مصر۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : مصر کا وہ گاؤں مراد ہے جہاں منادی نے آکر روکا تھا اور اسی جگہ سے ان کو مصر واپس لوٹناپڑا تھا۔
والعیر التی اقبلنا فیھا اور جس قافلے میں ہم آئے ہیں ‘ اس سے بھی آپ دریافت کرلیں۔ حضرت یعقوب کے ہم وطن کچھ کنعانی باشندے بھی اسی قافلے میں آئے تھے۔ ابن اسحاق نے کہا : جو بھائی مصر میں رک گیا تھا ‘ وہ جانتا تھا کہ حضرت یوسف کے سابق واقعہ کی وجہ سے میں اور میرے بھائی باپ کی نظر میں متہم ہیں ‘ اسلئے اس نے بھائیوں سے کہا کہ باپ سے یہ بات کہنا۔
وانا لصدقون اور ہم بلاشک و شبہ یقیناً سچے ہیں۔
بقول بغوی ایک شبہ : حضرت یوسف نے باپ کو اپنی موجودگی کی اطلاع نہیں دی بلکہ اپنے بھائی بنیامین کو بھی ہمیشہ کیلئے روک لیا اور باپ سے جدا کردیا ‘ حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ میری جدائی میں باپ کا کیا حال ہوا اور بنیامین کے چھوٹنے سے کیا حال ہوگا۔ آپ کے اس کردار سے تو قطع رحم ‘ عقوق اور سنگدلی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟
حضرت مفسر کی صراحت کے موافق شبہ کا ازالہ : لوگوں نے اس کردار اور سلوک پر بہت لے دے کی ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت یوسف نے (اپنے قلبی تقاضوں کے خلاف) یہ سب کچھ اللہ کے حکم کی تعمیل میں کیا۔ اللہ کو حضرت یعقوب کا پے در پے کڑا امتحان لینا تھا تاکہ ان کے درجات میں ترقی کی جائے اور اسلاف کی صف میں ان کو شامل کردیا جائے (حضرت ابراہیم کا بھی تو بار بار بہت سخت امتحان لیا گیا ہے یہاں تک کہ بیٹے کو خود ذبح کردینے کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے پہلے بےآب و گیا ہ ‘ ویران ریگستان میں شیر خوار بچہ اور اس کی ماں کو ڈال دینے کا حکم ہوچکا تھا ‘ مگر یہ تمام امتحان درجات نبوت تھے جس میں حضرت ابراہیم پورے اترے۔ اس سے کم درجے کا امتحان حضرت یعقوب سے لیا گیا اور فقط بیٹوں کو باپ سے جدا کردیا گیا۔ مترجم)
بعض نے کہا : حضرت یوسف نے بھائیوں سے اپنا یوسف ہونا ظاہر نہیں کیا کیونکہ آپ کو اندیشہ تھا کہ بھائی کوئی اور سازش نہ کریں اور باپ کو جا کر اطلاع نہ دیں ‘ باپ سے چھپا لیں (آپ چاہتے تھے کہ اس تدبیر سے باپ مصر میں آجائیں اور آکر اپنی آنکھوں سے حضرت یوسف کی حالت دیکھیں۔ مترجم) اوّل جواب ہی صحیح ہے ‘ دوسرا جواب کچھ نہیں ہے۔
یہ فقیر مترجم کہتا ہے کہ حضرت یوسف کو پہلے ہی بتادیا گیا تھا کہ گیارہ ستارے اور چاند سورج ان کو سجدہ کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس خواب کی تعبیر پوری ہونی تھی جس کی ظہوری صورت اللہ نے یہ پیدا کردی ‘ گوا جو کچھ ہوا اس سب کا اہتمام اللہ نے ظہور واقعہ سے پہلے کردیا تھا ‘ ترتیب ظہوری تو بعد کو ہوئی ‘ اسلئے شبہ کی کوئی گنجائش نہیں اور حضرت مفسر قدس سرہٗ کا جواب ہی صحیح جواب ہے۔
غرض بڑے بھائی کو مصر میں چھوڑ کر دوسرے (نو) بھائی کنعان کو لوٹ آئے اور بڑے بھائی نے جو کچھ کہا تھا ‘ وہ باپ سے عرض کردیا۔
Ayah 12:83قال یعقوب نے کہا : بات یوں نہیں جیسی تم نے بیان کی۔
بل سولت لکم انفسکم امرا بلکہ تم نے خود اپنے د ل سے اپنے لئے ایک بات بنا لی ہے۔ بادشاہ کو کب معلوم تھا کہ (شریعت اسرائیلی میں) چور کو پکڑ کر غلام بنا لینے کا حکم ہے ‘ تم خود اس غرض کیلئے بھائی کو مصر لے گئے تاکہ تم کو کچھ فوری فائدہ مل جائے۔
فصبر جمیل سو صبر ہی کروں گا ‘ جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا (یعنی لوگوں سے شکایت نہ ہوگی) ۔
عسے اللہ ان یتیني بھم جمیعا اللہ سے امید ہے کہ ان سب کو مجھ تک پہنچا دے گا۔ یعنی حضرت یوسف کو ‘ بنیامین کو اور جو بھائی مصر میں رہ گیا ہے ‘ ان کو ‘ سب کو۔
انہ ھو العلیم الحکیم (میرے اور ان کے احوال سے) وہی خوب واقف ہے (اور اپنے انتظام اور تدبیر میں) حکمت والا ہے۔ اس نے مجھے اس دکھ میں بھی کسی مصلحت ہی سے ڈالا ہے۔ بنیامین کے قید اور غلام ہوجانے کی اطلاع جب حضرت یعقوب کو پہنچی تو اس وقت آپ کا غم واندوہ آخری حد پر پہنچ گیا اور خیال کرلیا کہ ان بیٹوں کی سازش سے مجھے یہ پیہم دکھ پہنچے ہیں۔