Ayah 11:119الا من رحم ربک سوائے ان کے جن پر آپ کا رب رحم کرے۔ یعنی سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ اپنی مہربانی سے راہ مستقیم کی ہدایت کر دے۔ یہ لوگ تو صحیح عقائد اور اوامر الٰہیہ کی تعمیل پر متفق رہیں گے ‘ باقی گمراہ گروہ اور اشخاص اختلاف کرتے ہی رہیں گے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا : یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر دائیں ‘ بائیں کچھ خطوط (ترچھے) اور کھینچے اور فرمایا : یہ (مختلف) راستے ہیں۔ ان میں سے ہر راستہ پر شیطان بیٹھا اپنی طرف بلا رہا ہے۔ پھر آپ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی : وَاَنَّا ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمَا فَاتَّبِعُوْہُ وَلاَ تَتَبِعُوا السُّبُلَ ۔ رواہ احمد و النسائی والدارمی۔
ولذلک خلقھم اور اسی کے لئے اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ یعنی رحمت کے لئے ہی ان کی پیدائش کی ہے۔ اس مطلب پر ذٰلک سے اشارہ رحمت کی طرف ہوگا اور ہُمْ ضمیر مَنْ رَّحِمَ کی طرف راجع ہوگی۔ حسن اور عطاء نے کہا : ذٰلک سے اشارہ اختلاف کی طرف ہے اور ہُمْ ضمیر اختلاف کرنے والوں کی طرف راجع ہے ‘ یعنی اختلاف ہی کے لئے اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اشہب نے کہا : میں نے مالک سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا تو مالک نے فرمایا : اللہ نے ان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ ایک فریق جنت میں اور دوسرا فریق جہنم میں چلا جائے۔ ابو عبیدہ نے کہا : میرے نزدیک بھی یہی صحیح ہے کہ اللہ نے ایک فریق کو رحمت کے لئے اور دوسرے فریق کو عذاب کے لئے پیدا کیا ہے۔ فراء نے کہا : اللہ نے اہل رحمت کو رحمت کے لئے اور اہل اختلاف کو اختلاف کے لئے پیدا کیا۔ فراء کے نزدیک ذٰلک سے اشارہ رحمت اور اختلاف دونوں کی طرف ہے اور ضمیر کا مرجع اہل رحمت و اہل اختلاف دونوں میں ہے۔ گویا النّاس ضمیر کا مرجع ہے۔ اس کی تائید آئندہ آیت سے ہو رہی ہے۔
وتمت کلمۃ ربک اور آپ کے رب کی بات پوری ہوگئی۔ کلمہ سے مراد ہے : حکم یا وہ قول جو فرشتوں سے فرمایا تھا۔
لا ملن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین کہ میں جہنم کو (نافرمان) جنات اور انسانوں سے ‘ سب سے ضرور بھر دوں گا۔
Ayah 11:120وکلا نقص علیک من انباء الرسل ما نثبت بہ فوادک اور ہم پیغمبروں کے قصے میں سے یہ سارے (مذکورہ) قصے آپ سے بیان کرتے ہیں جن کے ذریعے سے ہم آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں۔
وَکُلاًّ اور ہر خبر۔ اَمنْبَآء الرُّسُلِ پیغمبروں کی اور ان کی امتوں کی خبریں۔ مَا نُثَبِّتُ ، کُلاًّ کا بیان ہے یا بدل ہے ‘ یعنی انبیاء اوراقوام پارینہ کے احوال بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے یقین میں استحکام اور ادائے رسائے کے لئے دل میں قوت اور ایذائے کفار کو برداشت کرنے کی طاقت پیدا ہو۔
وجاءک فی ھذہ الحق اور اس (دنیا) میں آپ کے پاس حق آگیا (حسن و قتادہ) ۔ دوسرے اہل تفسیر نے کہا :
ھٰذِہِ سے مراد ہے : سورت۔ ظاہر ہے کہ امنْبَآء الرُّسُل کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی بیان کردہ قصص و اخبار میں جو بات حق تھی ‘ وہ آپ کے پاس آگئی۔
وموعظۃ وذکری للمؤمنین اور (وہ چیز آگئی جو) اہل ایمان کے لئے نصیحت اور یادداشت ہے۔ یہ رسل و اقوام کے احوال کے بیان کے فوائد کا اظہار ہے۔
Ayah 11:121وقل للذین لا یؤمنون اعملوا علی مکانتکم انا علمون اور جو لوگ نہیں مانتے ‘ ان سے آپ کہہ دیجئے کہ آپ لوگ اپنی جگہ (جو چاہو) کئے جاؤ ‘ ہم اپنی جگہ قدرت کے موافق کر رہے ہیں۔
مکانت سے مراد ہے : حالت قدرت اور وہ رخ جس پر وہ چل رہے ہیں۔ اس کلام میں تہدید اور نتیجۂ بد کی کافروں کے لئے دھمکی ہے۔
Ayah 11:122وانتظروا اور (ہم پر مصائب آنے کا) تم انتظار کرتے رہو۔
انا منتظرون ہم بھی (تم پر اس عذاب کے آنے کے) منتظر ہیں (جو تم جیسے لوگوں پر گذشتہ زمانوں میں آچکا ہے۔
Ayah 11:123واللہ غیب السموت والارض اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کا وہ علم جو بندوں کے علم میں نہیں ہے۔
اس سے کوئی مخفی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے ‘ اس لئے وہی تمہارے اعمال سے واقف ہے۔
والیہ یرجع الامر کلہ اور (بندوں کے) تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے آپ کے امور کا بھی اور ان کے امور کا بھی ‘ وہی آپ کا ان سے انتقام لے گا۔ وہ جو چاہتا کرتا ہے اور جیسی اس کی مرضی ہوتی ہے حکم دیتا ہے۔
فاعبدہ و توکل علیہ پس تم اس کی عبادت کرو اور اس پر بھروسہ رکھو۔ عبادت کا حکم توکل کے حکم سے پہلے دینے سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ توکل کی افادیت اس وقت ہے جب عبادت ساتھ ہو (تنہا عبادت بغیر توکل کے مغرور بنا سکتی ہے اور تنہا توکل بغیر عبادت کے اندھا توکل ہے جو اعمال کو غیر مکلف قرار دے دیتا ہے۔ مترجم) ۔
وما ربک بغافل عما تعملون اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو ‘ آپ کا رب اس سے غافل نہیں ہے۔
بغوی نے کعب کا قول نقل کیا ہے کہ توریت کا خاتمہ جس آیت پر ہوا ہے ‘ اسی پر سورة ہود کا خاتمہ ہوا۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ پر بڑھاپا آگیا۔ فرمایا : مجھے (سورۂ ) ہود اور الواقعہ اور المرسلات اور عما یتسائلون اور اذ الشمس کورت نے بوڑھا کردیا۔ رواہ الترمذی والحاکم۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ بغوی نے بھی اس کی تصحیح کی ہے۔ اس حدیث کو حاکم نے حضرت ابوبکر کی روایت سے اور ابن مردویہ نے حضرت سعد کی روایت سے بھی بیان کیا ہے۔
ابن مردویہ نے حضرت ابوبکر کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ حدیث نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے سورة ہود اور اس کے ساتھ والیوں نے بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کردیا۔
ابو یعلی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت انس کی روایت سے اور ابن مردویہ نے حضرت عمران کی روایت سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : مجھے سورة ہود اور اس کے ساتھ والی مفصلات نے بوڑھا کردیا۔ (1) [ حضرت ابو سعید خدری روای ہیں کہ حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ پر بڑھاپا جلد آگیا۔ فرمایا مجھے سورة ہود اور اس کی ساتھ والی الواقعہ اور عم یتسالون اور اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا۔ (ازالۃ الخفاء)]
ابن مردویہ نے حضرت انس کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ حدیث نقل کی ہے : مجھے سورة ہود نے اور اس کے ساتھ والیوں نے (یعنی) الواقعہ اور القارعہ اور الحاقہ اور اذ الشمس کورت اور سأل سائل نے بوڑھا کردیا۔
طبرانی نے الکبیر میں حضرت عقبہ بن عامر اور حضرت ابو جحیفہ کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ حدیث نقل کی ہے : مجھے سورة ہود اور اس کے ساتھ والیوں نے بوڑھا کردیا۔ طبرانی میں ضعیف سند کے ساتھ سہیل بن سعد کی روایت سے اتنا زائد آیا ہے : الواقعہ ‘ الحاقہ اور اذ الشمس کورت نے۔ ابن عساکر نے بروایت محمد بن علی مرسلاً نقل کیا ہے : مجھے سورة ہود اور اس کے ساتھ والیوں نے اور ان واقعات نے جو مجھ سے پہلے دوسری امتوں کو پیش آئے ‘ بوڑھا کردیا۔
عبدا اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں اور ابو الشیخ نے اپنی تفسیر میں ‘ ابو عمران جونی کے حوالہ سے مرسلاً بیان کیا کہ مجھے سورة ہود اور اس کے ساتھ والیوں نے اور روز قیامت کے ذکر نے اور (گذشتہ) امتوں کے قصوں نے بوڑھا کردیا۔
احادیث مذکورہ سے صراحۃً معلوم ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر بڑھاپا روز قیامت کے تذکرے اور گذشتہ امتوں (پر ہونے والے عذاب) کے ذکر سے آیا۔ امر بالاستقامۃ کو بڑھاپا آنے میں دخل نہیں ورنہ سورة ہود کا ذکر کیا جاتا (کیونکہ استقامت کا حکم صرف اسی سورت میں ہے) دوسری ساتھ والی سورتوں کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ وا اللہ اعلم
سورۃ ہود کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی ‘ اس کے بعد سورة یوسف کی تفسیر آرہی ہے
16/ذیعقدہ 1201 ھ۔ الحمد اللہ سورة ہود کی تفسیر کا ترجمہ مع تشریحی اضافت کے 7/دسمبر 1966 ء کو ختم ہوا۔