Ayah 11:20اولئک لم یکونوا معجزین فی الارض یہ لوگ (تمام) زمین پر اللہ کو (کہیں بھی) عاجز نہیں کرسکتے تھے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے معجزینکا ترجمہ کیا ہے آگے نکل جانے والے ‘ اور قتادہ نے کیا ہے بھاگ جانے والے اور مقاتل نے کیا ہے چھوٹ جانے والے۔ مطلب سب کا ایک ہی ہے ‘ یعنی یہ لوگ اللہ کو دنیا میں سزا دینے سے روک نہیں سکتے۔
وما کان لھم من دون اللہ من اولیاء اور (دنیا میں) اللہ کے عذاب سے ان کو بچانے والا کوئی ان کا حمایتی نہیں مگر اللہ نے ہی خود ان کے عذاب کو آخرت پر ٹال رکھا ہے تاکہ ان کو عذاب سخت اور لافانی میں مبتلا کر دے (دنیا کا عذاب کتنا ہی بڑا ہو ‘ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں کم ہے اور ختم ہوجانے والا بھی ہے۔ آخرت کا عذاب اس سے بدرجہا شدید اور غیرمنقطع ہے) ۔
یضعف لھم العذاب ایسے لوگوں کو (اوروں سے) دوگنی سزا ہوگی۔ بعض علماء نے کہا : دوہرے عذاب کی یہ وجہ ہے کہ یہ دوسروں کو بہکاتے ہیں اور ان کے چیلے ان کی پیروی کرتے ہیں۔
ماکانوا یستطیعون السمع وما کانوا یبصرون۔ یہ لوگ (گوش حق نیوش سے) نہ سن سکتے نہ (چشم بصیرت سے تصور حق کو) دیکھ سکتے تھے۔ یعنی اللہ نے حق کو سننے کی ان میں استعداد ہی نہیں پیدا کی ‘ اسلئے حق کو نہیں سنتے۔ ان کے پاس گوش حق نیوش ہی نہیں اور سیدھا راستہ ان کو نہیں دکھائی دیتا۔ اللہ نے ان کے دلوں میں بصیرت پیدا ہی نہیں کی ‘ اسلئے آیات خداوندی کو دیکھنے سے بےبہرہ ہیں۔
Ayah 11:21اولئک الذین خسروا انفسھم یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے خود اپنا نقصان کیا کہ اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر پتھروں کی پوجا کو اختیار کیا اور جنت دے کر دوزخ مول لی۔
وضل عنھم ما کانوا یفترون۔ اور ان کے خود تراشیدہ معبود ان سے غائب اور گم ہوگئے ___ یعنی بتوں کی سفارش کرنے کا جو ان کا خیال تھا اور یقین رکھتے تھے کہ بت شفاعت کر کے ان کو بچا لیں گے ‘ ایسا نہ ہو سکے گا۔
Ayah 11:22لا جرم انھم فی الاخرۃ ھم الا خسرون۔ لامحالہ وہ ہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نامراد ہوں گے۔
لاَ جَرَمَ (کی لفظی ساخت اور معنوی دلالت) میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک لا زائد ہے ‘ یعنی مشرکوں کے گمان کے موافق نہ ہوگا۔ اس کے بعد جَرَمَ فعل ماضی متعدی ہے ‘ اس کے اندر ضمیر فاعل ہے اور اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ الخ مفعول ہے۔ اس وقت جَرَمَکا معنی ہوگا کَسَبَیعنی ان کا گمان آخرت میں یہ نتیجہ پیدا کرے گا کہ وہی سب سے خسارے میں رہیں گے۔ یا جَرَمَفعل ماضی ہے ‘ لازم بمعنی وَجَبَاور بعد والا جملہ اس کا فاعل ہے ‘ یعنی آخرت میں سب سے بڑھ کر نامراد ہونا واجب ہوگیا۔
بعض کے نزدیک لاَ جَرَمَ دو لفظوں کا مرکب ہے اور مرکب کا معنی ہے حقّا اور بعد والا جملہ فاعل ہے ‘ یعنی ان کا سب سے زیادہ نامراد رہنا حق اور ثابت شدہ ہے۔ یا لاَ جَرَمَ کا معنی ہے لامحالہ۔ قاموس میں ہے : لاَ جَرَمَ اور لاَ ذَا جَرَمَ اور لاَ اَنْ جَرَمَ اور لاَ اَنْ ذا جَرَمَاور لاَ جَرُمَ سب کا معنی ہے کوئی چارہ نہیں کہ ‘ یا یقیناً یا لامحالہ۔ یہ تو لفظ لاَ جَرَمَ کی لغوی و وضعی تنقیح ہے ‘ لیکن استعمال میں کبھی اس کو بجائے قسم کے لے آتے ہیں اور اس وقت جواب میں لَ تاکیدی استعمال کرتے ہیں ‘ جیسے کہتے ہیں : لاَ جَرَمَ لَاٰتیَنَّکَ ۔
الْاَخْسَرُوْنَ اسم تفضیل کا صیغہ ہے ‘ یعنی سب سے زیادہ نامراد اور خسارہ یاب۔ بات یہ ہے کہ دوسروں کی نامرادی تو کفر اور معاصی کی وجہ سے ہوگی ‘ اور یہ خود کافر ہونے کے علاوہ دوسروں کو بھی ایمان سے روکنے والے ہیں ‘ اسلئے ان کی نامرادی سب سے زیادہ ہوگی۔
Ayah 11:23ان الذین امنوا وعملوا الصلحت واخبتوآ الی ربھم اولئک اصحب الجنۃ ھم فیھا خٰلدون۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور (دل سے) اپنے رب کی طرف جھکے وہی جنتی ہوں گے ‘ وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اَخْبَتُوْا کا ترجمہ کیا ہے خافُوْا (ڈرے ‘ اللہ سے خوف کیا) قتادہ نے کہا : رجوع کیا ‘ اللہ کی طرف لوٹے۔ مجاہد نے کہا : اطمینان حاصل کرلیا (یعنی ایمان کے بعد مرتبۂ اطمینان پر فائز ہوگئے) قاموس میں ہے : اَخْبَتَ فروتنی کی ‘ خشوع کیا۔ خَبِیْتٌ حقیر چیز۔
Ayah 11:24مثل الفریقین دونوں فریقوں کی مثال (ایسی ہے) دونوں فریقوں سے مراد ہے مؤمنوں کا فریق اور کافروں کا فریق۔
کالاعمٰے والاصم والبصیر والسمیع جیسے (ایک) اندھا بہرا ہو اور (دوسرا) بینا شنوا۔ کافروں کے پاس گوش حق نیوش نہیں ‘ وہ حق کی بات نہیں سنتے اور راہ حق نہیں دیکھتے۔ حق کا راستہ ان کو سجھائی نہیں دیتا ‘ اسلئے وہ اندھے بہرے کی طرح ہیں اور مؤمن پیام حق سنتے اور اس کو قبول کرتے ہیں اور راہ حق اپنی قلبی خداداد روشنی سے دیکھتے ہیں اور اس پر چلتے ہیں ‘ اسلئے ان کی حالت بینا اور شنوا کی طرح ہے۔
ھل یستوین مثلاً کیا یہ دونوں فریق تمثیل میں ‘ یا صفت میں ‘ یا حالت میں برابر ہیں۔ (1) [ مَثَل مِثَال اور مِثْل کے معنی ہم شبیہ ‘ ہم شکل اور نظیر کے بھی ہیں اور صفت کے بھی اور عظیم الشان حالت کے بھی اور نفس کیفیت و حالت کے بھی۔ اس جگہ یا تمثیل مراد ہے ‘ یا صفت ‘ یا حالت۔ حضرت مفسر کی تشریح میں اسی طرف اشارہ ہے۔]
افلا تذکرون۔ کیا اب بھی تم نصیحت اندوز نہیں ہو گے ؟ یعنی ان تمثیلات کے بیان اور ان پر غور کرنے کے بعد بھی نصیحت قبول نہیں کرو گے۔
Ayah 11:25ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ انی لکم نذیر مبین۔ اور یقیناً ہم نے نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی قوم کی طرف بھیجا تھا (اور) نوح نے کہا تھا کہ میں تم کو (ا اللہ کے عذاب سے) واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ مُبِیْنٌ کا یہ مطلب ہے کہ تم کو عذاب اور ثواب کے اسباب سے کھول کر اطلاع دے رہا ہوں۔
Ayah 11:26ان لا تعبدوا الا اللہ انی اخاف علیکم عذاب یوم الیم۔ کھول کر بیان کر رہا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہ کرو (اگر ایسا نہ کرو گے تو) مجھے دکھ والے دن کے عذاب کا تمہارے متعلق ڈر ہے۔ الیم بمعنی الم رساں (دکھ دینے والا) نہ حقیقت میں عذاب کی صفت ہے ‘ نہ وقت عذاب کی بلکہ عذاب دینے والا حقیقت میں الم رساں ہوتا ہے۔ عذاب اور زمان عذاب کی صفت اس کو مجازاً قرار دے دیا جاتا ہے۔
Ayah 11:27فقال الملا الذین کفروا من قومہ ما نراک الا بشرًا مثلنا نوح کی قوم کے کافر سردار بولے : ہم تو تم کو اپنی طرح کا آدمی دیکھ رہے ہیں۔ یعنی تم کو ہم پر کوئی ایسی فضیلت نہیں کہ تم واجب الاطاعت نبی ہوجاؤ ‘ گویا ان کی مراد یہ تھی کہ نبی کو بادشاہ یا فرشتہ ہونا چاہئے اور تم نہ فرشتہ ہو اور نہ بادشاہ ‘ ہماری طرح معمولی آدمی ہو۔
مَلَأٌ (اس کا لغوی ترجمہ ہے بھرنے والے ‘ مراد سرداران قوم کیونکہ) سرداروں ہی کی ہیبت لوگوں کے دلوں میں بھر جاتی ہے اور جلسوں میں انہی کی وجہ سے رونق اور شان پیدا ہوجاتی ہے۔
وما نراک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا بادي الراي اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے تمہارا اتباع کیا ہے ‘ وہ ہم میں نچلے طبقے کے لوگ ہیں اور اتباع بھی کیا ہے تو بغیر سوچے سمجھے کیا ہے۔ رَذْلٌ کی جمع ارذل ہے اور ارذل کی جمع اراذل ‘ جیسے کلب کی جمع اکلب اور اکلب کی جمع اکالب۔ ہر نچلے درجے کی چیز کو رذل کہا جاتا ہے۔ عکرمہ نے کہا : نچلے طبقے سے مراد تھے جولا ہے ‘ موچی۔ رَايِ آنکھوں سے دیکھنا یا دل سے دیکھنا۔ نیز اعتقاد (پختہ خیال) کو رای کہا جاتا ہے (قاموس) ۔
بادی یا بُدُو (بمعنی ظہور) سے مشتق ہے ‘ یعنی بغیر سوچے ‘ سطحی ظاہری نظر کے ساتھ۔ یا بَدْء (بمعنی ابتداء) سے ماخوذ ہے ‘ یعنی ابتدائی رای۔ رذیل سمجھنے کی وجہ یا تو یہی تھی کہ انہوں نے بغیر تامل کے حضرت نوح کا اتباع کرلیا تھا ‘ یا یہ وجہ تھی کہ وہ غریب تھے ‘ دنیوی مال و جاہ ان کے پاس نہ تھا اور ان کے نزدیک وہی رذیل تھا جو مالدار نہ ہو اور دنیوی عزت و جاہ سے خالی ہو۔
وما نری لکم علینا من فضل اور ہم تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی اپنے اوپر کوئی فضیلت نہیں دیکھتے __ نہ مال میں نہ اور کسی بات میں جس کی وجہ سے تم مستحق نبوت قرار پا سکو۔
بل نظنکم کٰذبین۔ بلکہ ہم تم سب کو جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ تم کو نبوت کے دعوے میں جھوٹا سمجھتے ہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس دعوے میں کاذب جانتے ہیں کہ ان کو تمہاری سچائی معلوم ہوگئی۔
Ayah 11:28قال یقوم ارء یتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتني رحمۃ من عندہ فعمیت علیکم انلزمکموھا وانتم لھا کٰرھون نوح نے کہا : اے میری قوم ! یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر ہوں (جس سے میری نبوت ثابت ہو رہی ہے) اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت (نبوت) عطا فرمائی ہو ‘ پھر وہ (دلیل) تم کو نہ سوجھتی ہو تو (میں کیا کروں) کیا ہم اس کو تم پر چمٹا دیں اور تم اس سے نفرت کئے جاؤ۔
بَیِّنَۃٍ سے مراد ہے روشن دلیل ‘ جو میرے دعوے کی صحت کو ثابت کر رہی ہے۔ رَحْمَۃً سے مراد ہے بَیِّنَۃٍ ‘ یا ہدایت ‘ یا نبوت۔ عُمِّیَتْتم سے پوشیدہ رکھی جائے ‘ تم کو اس کی طرف راہ نہ ملے۔ بصیرۃٌ اور مُبْصَرۃ دیکھی جانے والی سامنے کی چیز۔ عمیاء اندر ہی پوشیدہ ‘ جہاں تک پہنچنے کا راستہ نہ ملے۔ انلزمکموھا یعنی تم تو ہدایت چاہتے ہی نہیں ‘ برا سمجھتے ہو تو ہم خداداد بینہ اور رحمت کو تم پر چمٹا دیں گے اور بجبر تم سے قبول کرائیں گے ‘ ایسا نہیں ہوسکتا۔ قتادہ نے کہا : اگر انبیاء میں یہ قدرت ہوتی کہ بجبر لوگوں کو مؤمن بنا سکتے تو وہ ایسا بھی کرلیتے ‘ مگر ان میں یہ قدرت ہی نہیں تھی۔
Ayah 11:29ویقوم لا اسئلکم علیہ مالاً اور اے قوم والو ! میں تم سے تبلیغ کے عوض کسی مال کا تو طالب ہوں نہیں جس کا دینا تم پر بار گذرے اور نہ دو تو مجھ پر بار گذرے۔
ان اجری الا علی اللہ (چونکہ اللہ نے اپنی مہربانی سے تبلیغ و ہدایت کا معاوضہ دینے کا وعدہ فرما لیا ہے ‘ اسلئے) میرا اجر تو بس اللہ کے ذمے ہے۔
اونچے طبقہ کو نچلے طبقے کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہ تھا ‘ اسلئے انہوں نے کہا : ہم ایمان اس وقت لائیں گے جب تم ان رذیلوں کو اپنے پاس سے نکال دو گے۔ اس درخواست کے جواب میں حضرت نوح نے فرمایا :
وما انا بطارد الذین امنوا انھم ملقوا ربھم اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ‘ میں ان کو نکالنے والا نہیں (کیونکہ) یہ لوگ یقیناً اپنے رب سے ملیں گے اور وہاں نکالنے والے سے جھگڑا کریں گے۔ یا یہ مطلب کہ یہ لوگ رب کے قرب کو پہنچیں گے اور ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔ ایسے مقربان خداوندی کو میں اپنے پاس سے کیسے نکال سکتا ہوں۔
ولکنی ارا کم قوما تجھلون لیکن واقعی میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ جہالت کر رہے ہو۔ یعنی اپنے رب کی پیشی سے ناواقف ہو ‘ یا اپنے انجام سے ناواقف ہو ‘ یا ان مؤمنوں کے مرتبۂ قرب کو نہیں جانتے ‘ یا اس بات سے ناواقف ہو کہ تمہارا ان کو رذیل قرار دینا حماقت ہے ‘ یا ان کو نکال دینے کی درخواست نادانی سے کر رہے ہو۔
Ayah 11:30ویقوم من ینصرنی من اللہ ان طردتھم اور اے میری قوم ! (ایسے مرتبہ والوں کو) جب میں نکال دوں گا تو اللہ سے مجھے کون بچائے گا اور میرے اوپر سے اس کے عذاب کو کون دفع کرے گا۔
افلا تذکرون۔ تو کیا اب بھی تم نصیحت پذیر نہ ہو گے اور اتنی بات بھی نہیں سمجھو گے کہ ان کو نکال دینا صحیح نہیں ہے۔
Ayah 11:31ولا اقوال لکم عندي خزآئن اللہ اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے دئیے ہوئے رزق کے ذخیرے میرے پاس جمع ہیں۔ یعنی مجھے اس کا دعویٰ نہیں کہ میں تم پر مالی فضیلت رکھتا ہوں اور میرے پاس خداداد مال کے خزانے ہیں۔
ولا اعلم الغیب اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب سے واقف ہوں کہ تم کو میری اس بات پر تعجب ہو اور تم مجھے جھوٹا سمجھو۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں غیب داں نہیں کہ ان لوگوں کا بغیر غور و تامل کے محض سطحی طور پر ایمان لانا مجھے معلوم ہوجائے۔
ولا اقول انی ملک اور نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں کہ تم انکار کرسکو ‘ اور تم کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ تو تو ہماری طرح آدمی ہے ‘ فرشتہ نہیں۔
ولا اقول للذین تزدری اعینکم لن یوتیھم اللہ خیرًا اور جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقیر جانتی ہیں ‘ میں نہیں کہتا کہ اللہ ان کو بھلائی عطا نہیں فرمائے گا۔
یعنی جن لوگوں کو ان کی مفلسی کی وجہ سے تم حقیر سمجھتے ہو اور ان کو رذیل کہتے ہو۔ چونکہ ظاہری ناداری اور مفلسی کو آنکھوں سے دیکھ کر وہ حقیر جانتے تھے ‘ ان کے کمالات اور خصائل فاضلہ پر غور نہیں کرتے تھے ‘ اسلئے حقیر جاننے کی نسبت آنکھوں کی طرف کلام کو پرزور بنانے کیلئے کردی (ورنہ آنکھوں کا کام حقیر جاننا نہیں۔ تحقیر ہو یا اعزاز ‘ اس کو جاننا انسان کے دماغ کا کام ہے) بلکہ دنیا میں اللہ نے ان کو ایمان و ہدایت کی جو توفیق عطا فرما دی اور آخرت میں جو بلندئ مرتبہ اور جنت عطا فرمائے گا ‘ وہ تمہارے اس دنیوی مال و جاہ سے بہتر ہے (پھر میں کیسے کہہ دوں کہ اللہ ان کو بھلائی نہیں عطا فرمائے گا) ۔
ا اللہ اعلم بما فی انفسھم ان کے دلوں میں (کسی اللہ کی محبت ہے اور ان کے عقائد و خصائل کتنے صحیح اور اعلیٰ ہیں) جو کچھ بھی ہے ‘ اللہ اس سے بخوبی واقف ہے۔
انی اذا لمن الظلمین۔ ایسی حالت میں (اگر میں ان کو اپنے پاس سے نکال دوں اور کہہ دوں کہ اللہ ان کو کوئی بھلائی عطا نہیں فرمائے گا تو) میں ظالموں میں سے ہوجاؤں گا۔
Ayah 11:32قالوا ینوح قد جادلتنا فالترت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصٰدقین۔ قوم والوں نے کہا : نوح ! جھگڑا تو تم ہم سے بہت کرچکے (یہ باتیں سب بیکار ہیں ‘ ان کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا) اب تو وہ عذاب ہم پر لے آؤ جس کی دھمکیاں تم ہم کو دیتے ہو اگر (نبوت کے دعوے میں اور عذاب کی وعید میں) تم سچے ہو۔
Ayah 11:33قال انما یاتیکم بہ اللہ ان شآء وما انتم بمعجزین۔ نوح نے کہا : (میرے اختیار میں نہ عذاب لانا ہے نہ تمہاری درخواست فوراً پوری کرنا) اگر اللہ ہی چاہے گا تو تم پر عذاب لے آئے گا اور تم اس کو بےبس بنا دینے والے نہیں (کہ آئے ہوئے عذاب کو ٹال سکو یا اس سے بھاگ سکو) ۔
Ayah 11:34ولا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم اور اگر تم کو گمراہ کرنا چاہے اور میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں تو میری نصیحت تمہارے لئے کچھ سودمند نہ ہوگی۔
اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ گمراہ کرنے کا تعلق بھی اللہ کی مشیت سے ہے اور مشیت الٰہیہ کے خلاف واقع ہونا ناممکن ہے (اگرچہ حکم خدا کے خلاف واقع ہونا ممکن ہے بلکہ کثرت نافرمانیاں کی جاتی ہیں) یا یُغْوِیَکُمْ کے معنی ہیں یُھْلِکُمْ یعنی اللہ اگر تم کو ہلاک کرنا ہی چاہتا ہے تو میری نصیحت تمہارے لئے مفید نہ ہوگی (اور تم ہلاکت سے نہ بچ سکو گے) اس وقت یہ لفظ غوی الفصیلْ سے ماخوذ ہوگا (غوی الفصیل اونٹ کا بچہ ہلاک ہوگیا)
ھو ربکم وہی تمہارا رب ہے۔ یعنی خالق ہے اور جس طرح چاہے تصرف کرنے والا ہے۔
والیہ ترجعون۔ اور اسی کی طرف تم کو لوٹا کرلے جایا جائے گا ‘ وہی تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 11:35ام یقولون افتراہ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن خود بنا کر اللہ پر دروغ بندی کی ہے (مقاتل) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (اس جملہ کا اور اس کے بعد والے خطابی جملہ کا تعلق بھی حضرت نوح کے قصے سے ہے) کیا نوح کی قوم والے کہتے تھے کہ نوح نے اللہ پر دروغ بندی کی ہے۔
قل (اے محمد ﷺ یا اے نوح (علیہ السلام) ! ) آپ کہہ دیجئے۔
ان افتریتہ فعلی اجرامی اگر میں نے اللہ پر دروغ بندی کی ہے تو میرے جرم کا وبال مجھ پر پڑے گا۔ اِجْرَام جرم کرنا ‘ گناہ کرنا۔
وانا برئ مما تجرمون۔ اور میں تمہارے جرم سے پاک ہوں۔ یعنی تم جو کہہ رہے ہو کہ تو نے اللہ پر دروغ بندی کی ہے ‘ یہ تم لوگوں کا جرم ہے ‘ میں اس سے بیزار ہوں۔
بغوی نے بروایت ضحاک حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت نوح کی قوم والے آپ کو اتنا مارتے تھے کہ آپ گرپڑتے تھے اور مردہ سمجھ کر لوگ لبادہ میں لپیٹ کر گھر ڈال جاتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ حضرت نوح مرگئے ‘ لیکن دوسرے روز آپ پھر باہر آکر لوگوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دیتے تھے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ ایک بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے سے جا رہا تھا ‘ اس کا بیٹا ساتھ تھا۔ بیٹے سے اس نے کہا : میرے بیٹے ! اس دیوانے بوڑھے کے دھوکے میں نہ آجانا۔ بیٹے نے کہا : باپ ! مجھے لاٹھی دیجئے۔ باپ نے لاٹھی دے دی۔ بیٹے نے لاٹھی لے کر حضرت نوح کے سر پر ماری اور آپ کو سخت زخمی کردیا۔ اس پر حضرت نوح کے پاس مندجہ ذیل وحی آئی :
Ayah 11:36واوحی الی نوح انہ لن یؤمن من قومک الا من قد امن اور نوح کے پاس وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم کے جو لوگ ایمان لا چکے (لا چکے) اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔
فلا تبتئس بمام کانوا یفعلون اب جو کچھ (تکذیب ایذاء کا سلوک) یہ تیرے ساتھ کرتے رہے ہیں ‘ اس سے رنجیدہ نہ ہو (عنقریب ان کو ہلاک کردیا جائے گا) ۔
ا اللہ نے حضرت نوح کو آئندہ کسی کے مؤمن ہونے سے ناامید کردیا تاکہ آپ لاحاصل تبلیغ کی تکلیف سے محفوظ رہیں اور آئندہ کسی کو سرکشی سے نہ روکیں اور کوئی فکر نہ کریں۔ جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ اللہ ان کو ہلاک کرنے والا ہے تو دعا کی : رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔
محمد بن اسحاق نے عبید بن عمیر لیثی کی روایت سے لکھا ہے کہ قوم نوح والے حضرت نوح کو پکڑ کر ‘ پچھاڑ کر اتنا گلا گھونٹتے تھے کہ آپ بیہوش ہوجاتے تھے۔ جب آپ کو ہوش آتا تو دعا کرتے : الٰہی ! میری قوم کو معاف کر دے ‘ وہ نادان ہیں۔ جب قوم کی نافرمانی بڑھتی چلی گئی اور قوم کے ہاتھوں سے دکھ اور اذیت میں اضافہ مسلسل ہوتا رہا تو آپ ناامید ہوگئے اور آئندہ نسل کا انتظار کرنے لگے کہ شاید ان کی اگلی نسل ہدایت یاب ہوجائے۔ یونہی نسل در نسل چلتی گئی اور ہر پچھلا اگلے سے زیادہ خبیث ہوتا رہا اور پچھلے لوگ کہنے لگے : یہ دیوانہ تو ہمارے باپ دادا کے زمانے سے چلا آتا ہے ‘ پاگل ہے۔ وہ اس کو منہ نہیں لگاتے تھے۔ آخر حضرت نوح نے اللہ سے اپنا دکھ عرض کیا اور دعا کی : رَبّ اِنّی دعوت قومی لیلا ونھارا۔ اسی کلام کے آخر میں عرض کیا : رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔ اس وقت وحی آئی :
Ayah 11:37واصنع الفلک باعیننا ووحینا اور بنا کشتی ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق۔ یعنی ہم نے جیسا بنانا تجھے بتایا ہے ویسی بنا ‘ یا ہمارے حکم کے موافق بنا (اس صورت میں وحی کا معنی ہوگا حکم) ۔
حضرت ابن عباس نے اعینکا ترجمہ کیا ہے نظر اور مقاتل نے اعین سے مراد لی ہے علم۔ بعض نے ترجمہ کیا ہے نگرانی ‘ حفاظت۔ آنکھ کو نگرانی اور حفاظت میں دوسرے تمام حواس سے زیادہ دخل ہے ‘ اسلئے نگرانی کو اعین (چشم) کے لفظ سے تعبیر کیا۔
ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون۔ اور ان ظالموں (کو بچانے) کے سلسلہ میں مجھ سے کوئی خطاب (دعاء) نہ کرنا ‘ کیونکہ بلاشبہ یہ غرق کئے جانے والے ہیں (ان کو ضرور غرق کیا جائے گا) ۔ مطلب یہ کہ ان کو ڈبونے کا ازل میں فیصلہ ہوچکا ہے۔ بغوی نے اس قصہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ حضرت جبرئیل نے حضرت نوح سے آکر کہا : آپ کا رب آپ کو کشتی بنانے کا حکم دے رہا ہے۔ حضرت نوح نے کہا : میں تو نجار (بڑھئی) نہیں ہوں ‘ کیسے بناؤں ؟ حضرت جبرئیل نے کہا : آپ کا رب فرماتا ہے تو میری آنکھوں کے سامنے ہے ‘ کشتی بنا (غلطی نہ ہوگی) حضرت نوح بنانے لگے اور ٹھیک ٹھیک بنانے لگے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ نے کشتی پرندہ کے سینہ کی شکل کی (یعنی سینہ ابھری ہوئی) بنائی۔
Ayah 11:38ویصنع الفلک اور نوح کشتی بنا رہے تھے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت نوح قوم کی طرف سے غافل ہو کر کشتی بنانے میں مشغول ہوگئے۔ ادھر قوم نوح کی ساری عورتیں بانجھ ہوگئیں ‘ اس کے بعد ان کے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ حضرت نوح تختے چیرنے اور لوہا لگانے اور کشتی کیلئے ضروری سامان کی تیاری کرنے لگے مثلاً تارکول یا روغن قیر (ملنے لگے) ۔ لوگ ادھر سے گذرتے اور آپ کو مشغول دیکھ کر کہتے تھے۔
وکلما مر علیہ ملا من قومہ سخروا منہ اور جب سرداران قوم ادھر سے گذرتے تھے تو نوح سے ٹھٹھا کرتے تھے۔
حضرت نوح خشکی میں کشتی بنا رہے تھے ‘ قریب کہیں پانی بھی نہیں تھا ‘ اسلئے لوگ ٹھٹول کرتے اور کہتے تھے : نوح ! پہلے تم نبی تھے ‘ اب درو دگر ہوگئے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ لوگ پوچھتے : نوح ! کیا بنا رہے ہو۔ حضرت نوح جواب دیتے۔ میں ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا۔ لوگ آپ کی ہنسی بنانے لگتے۔
قال ان نسخروا منا فانا نسخر منکم کما تسخرون۔ نوح نے کہا : اگر (آج) تم ہم سے ٹھٹھا کر رہے ہو تو (آئندہ) ہم بھی تم سے ایسا ہی ٹھٹھا کریں گے جیسا تم کر رہے ہو۔ یعنی جس طرح کشتی بنتے دیکھ کر تم ہم سے ٹھٹھا کر رہے ہو ‘ آئندہ ہم بھی تم کو طوفان میں ڈوبتے اور دوزخ میں جلتے دیکھ کر ٹھٹھا کریں گے۔ اس کا معنی یا تو یہ ہے کہ جس طرح تم اب ہم کو نادان اور جاہل قرار دیتے ہو ‘ آئندہ ہم بھی تم کو جاہل قرار دیں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اس وقت تم ہماری ہنسی بنا رہے ہو ‘ آئندہ تم کو اپنی اس ٹھٹول بازی کا انجام دیکھنا ہوگا۔
Ayah 11:39فسوف تعللمون من یاتیہ عذاب یخزیہ ویحل علیہ عذاب مقیم۔ اور آئندہ تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کن عذاب آئے گا اور اٹل عذاب نازل ہوگا۔ چناچہ طوفان میں غرق ہونے کا عذاب ان پر آگیا اور سب ڈوب کر عالم برزخ میں پہنچ گئے جہاں قیامت تک ان کو عذاب ہوتا رہے گا ‘ پھر قیامت میں ان پر عذاب ہوگا اور دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔
بغوی نے لکھا ہے : اہل تورات کا خیال ہے کہ اللہ نے حضرت نوح کو حکم دیا تھا کہ ساگوان یا سار کی لکڑی کی کشتی بنائیں جس کا سینہ آگے کو نکلا ہوا ہو اور کشتی کے اندر باہر ہر طرف روغن قار کا پالش کردیں۔ کشتی کی لمبائی اسّی ہاتھ ‘ چوڑائی پچاس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ ہو۔ ہاتھ سے مراد ہے انگلیوں کے پوروں سے مونڈھے تک پورا ہاتھ (یعنی آدھا گز مراد نہیں ہے) اور تین منزلیں بنائیں ‘ نچلی ‘ درمیانی اور بالائی ‘ اور بالائی منزل میں دریچے رکھیں۔ حضرت نوح نے حکم کے مطابق کشتی بنائی۔ اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ اللہ نے جب حضرت نوح کو کشتی بنانے کا حکم دیا تو حضرت نوح نے عرض کیا : میرے مالک ! تختے کہاں ہیں ؟ اللہ نے فرمایا : ساگوان یا سار کا درخت لگاؤ۔ حضرت نوح نے سار کا درخت بویا ‘ بیس برس تک وہ درخت پرورش پاتا رہا۔ اس مدت میں نہ حضرت نوح نے تبلیغ کی ‘ نہ قوم والوں نے کوئی استہزاء کیا۔ جب درخت بھرپور ہوگیا تو اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے اس کو کاٹ کر خشک کیا اور عرض کیا : اے میرے رب ! میں گھر (یعنی کشتی کی شکل) کیسے بناؤں ؟ حکم ہوا : اس کی تین شکلیں رکھو ‘ اگلا سرا تو مرغ کے سر کی طرح ہو اور پچھلا حصہ بھی مرغ کی دم کی طرح اور سینہ پرندے کے سینہ کی طرح (آگے کو نکلا ہوا) اور دونوں پہلوؤں پر دریچے ہوں اور لوہے کی کیلوں سے اس کو مضبوط کردیا گیا ہو۔ اللہ نے حضرت جبرئیل کے ذریعہ حضرت نوح کو کشتی بنانا سکھا دی۔
ابن عساکر نے حضرت سعید بن مسیب کی وساطت سے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص اور حضرت کعب کا بیان بھی یہی نقل کیا ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت نوح نے دو سال میں کشتی تیار کی۔ کشتی کا طول تین سو ہاتھ اور عرض پچاس ہاتھ اور اوپر کو بلندی تیس ہاتھ تھی۔ کشتی کی ساخت سار کے تختوں کی تھی اور تین درجے تھے ‘ نچلے درجہ میں جنگلی جانور اور درندے اور چوپائے تھے ‘ درمیانی منزل میں گھوڑے ‘ اونٹ (اور پالتو چوپائے) تھے اور بالائی منزل میں حضرت نوح اور آپ کے ساتھی اور کھانے پینے کا ضروری سامان تھا۔
ابن مردویہ نے حضرت سمرہ بن جندب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کشتی کا طول تین سو ہاتھ ‘ عرض پچاس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ تھی۔
ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے جو روایت بیان کی ہے ‘ اس میں عرض کا ذکر نہیں ہے۔ عبدبن حمید اور ابن المنذر اور ابو الشیخ نے قتادہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کشتی کی لمبائی تین سو ہاتھ اور چوڑائی پچاس ہاتھ اور اونچائی میں لمبائی تیس ہاتھ تھی۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ عرض میں اس کا دروازہ تھا۔
ابن جریر نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے بیان کیا کہ کشتی کے تین طبقے تھے ‘ ایک طبقے میں جنگلی جانور ‘ چوپائے اور درندے تھے ‘ دوسرے طبقے میں پرندے تھے۔ شرح خلاصۃ السیرین میں آیا ہے کہ نچلے طبقے میں پرندے ‘ چوپائے اور جنگلی جانور وغیرہ تھے اور درمیانی طبقے میں کھانے پینے کی چیزیں اور کپڑے تھے اور بالائی طبقہ آدمیوں کیلئے تھا۔
شامی نے لکھا ہے کہ کشتی کا طول اسّی ہاتھ تھا اور عرض پچاس ہاتھ اور بلندی اوپر کو تیس ہاتھ۔ اور ہاتھ سے مراد ہے (پنجہ سے) مونڈھے تک۔
ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ کشتی کی لمبائی چھ سو ہاتھ تھی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ایک روایت میں حسن کا قول آیا ہے کہ کشتی کا طول بارہ سو ہاتھ اور عرض چھ سو ہاتھ تھا۔ مشہور اوّل روایت ہے کہ طول تین سو ہاتھ تھا۔
زید بن اسلم کا قول ہے کہ حضرت نوح سو برس تک درخت بوتے اور (لکڑی) کاٹتے رہے اور سو برس تک کشتی بناتے رہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چالیس برس تک درخت بوئے اور چالیس برس تک (ان کی لکڑی کو) خشک کرتے رہے۔ کعب احبار کا قول آیا ہے کہ حضرت نوح نے تیس برس میں کشتی بنائی۔ یہ بھی منقول ہے کہ کشتی کی تین منزلیں تھیں ‘ نچلا درجہ چوپایوں اور جنگلی جانوروں کیلئے تھا ‘ درمیانی منزل میں آدمی تھے اور بالائی طبقے میں پرندے۔ جب جانوروں کا گوبر زیادہ ہوگیا تو حضرت نوح کے پاس وحی آئی کہ ہاتھی کی دم دباؤ۔ دُم دباتے ہی ہاتھی کے اندر سے ایک سور اور سوریا نکل پڑی اور دونوں نے گوبر (کھا کر) صاف کردیا۔ چوہوں نے جب کشتی کو نقصان پہنچایا اور رسیاں کاٹنے لگے تو اللہ کی طرف سے حضرت نوح کو حکم ہوا کہ شیر کی دونوں آنکھوں کے درمیان ضرب لگاؤ۔ ضرب لگاتے ہی شیر کی ناک کے سوراخوں سے ایک بلی اور ایک بلّا نکل پڑے اور دونوں چوہوں پر دوڑ پڑے۔
Ayah 11:40حتی اذا جآء امرنا وفار التنور یہاں تک کہ جب ہمارا حکم (یعنی عذاب کا حکم) آپہنچا اور تنور ابل پڑا __ ابو الشیخ نے عکرمہ اور زہری کا قول نقل کیا ہے کہ تنور کا معنی ہے روئے زمین۔ بغوی نے بھی یہی نقل کیا ہے۔ سعید بن منصور ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے اس قول کی نسبت حضرت ابن عباس ؓ کی طرف بھی کی ہے۔ صورت اس طرح ہوئی کہ حضرت نوح سے کہا گیا : جب تم روئے زمین پر پانی ابلتا دیکھو تو کشتی میں سوار ہوجانا۔ عبد بن حمید ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت میں تنور سے مراد ہے زمین کا اونچا بلند حصہ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے کہ آیت میں عین الوردہ مراد ہے جو جزیرہ میں ایک چشمہ تھا۔
ایک روایت میں حضرت علی ؓ کا قول آیا ہے کہ فار التنور کا مطلب یہ ہے کہ فجر نکل گئی اور صبح کی روشنی ہوگئی۔ حسن ‘ مجاہد اور شعبی نے تنور سے مراد یہی تنور بتائی ہے جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔ اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ بروایت عطیہ ‘ حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے آیت کا مطلب اس طرح فرمایا : جب تم اپنے گھر کے تنور سے پانی نکلتا دیکھو تو سمجھ لو کہ یہ تمہاری قوم کا پیام ہلاکت ہے۔ حسن نے کہا : پتھروں سے بنا ہوا ایک تنور تھا جس میں حضرت حوا روٹی پکایا کرتی تھیں (وراثتہً ) وہ حضرت نوح کے پاس پہنچ گیا اور آپ کو حکم ہوا کہ جب تنور سے پانی ابلتا ہوا دیکھو تو تم اپنے ساتھیوں کو لے کر سوار ہوجانا۔
یہ تنور کہاں تھا ؟ مجاہد اور شعبی نے کہا : کوفہ کے ایک کنارہ پر تھا۔ شعبی نے اللہ کی قسم کھا کر کہا : تنور کوفہ کے کنارہ سے ہی جوش زن ہوا تھا۔ حضرت نوح نے کوفہ کی مسجد کے اندر ہی کشتی تیار کی تھی اور باب کندہ کی جانب سے مسجد میں داخل ہونے والے کے دائیں جانب وہ تنور تھا اور تنور سے پانی کا ابلنا حضرت نوح کیلئے (طوفان آب کی) علامت تھی۔
ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حضرت علی بن ابی طالب کا قول نقل کیا ہے کہ مسجد کوفہ کے اندر باب کندہ کی جانب سے تنور ابلا تھا۔ ابو الشیخ نے باسناد شعبی نقل کیا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس نے دانہ کو چیرا اور جاندار کو پیدا کیا کہ یہ مسجد مسلمانوں کی چار مسجدوں میں چوتھی مسجد ہے اور سوائے مسجد حرام (کعبہ) اور مسجد رسول اللہ ﷺ کے دوسری کسی مسجد میں دس رکعت نماز پڑھنے سے اس مسجد میں دو رکعت پڑھنا مجھے زیادہ عزیز ہے۔ اسی کے دائیں جانب قبلہ کی طرف تنور ابلا تھا۔
مقاتل نے کہا : یہ حضرت آدم والا تنور تھا اور شام میں اس جگہ واقع تھا جس کو عین الوردہ کہا جاتا ہے۔
ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ یہ تنور ہند میں تھا (معلوم نہیں ہند سے مراد ہندوستان ہے یا وہ مقام جو عراق میں ہے) یہ قول ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ اور حاکم نے نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی قرار دیا ہے۔
(فارَماضی کا صیغہ ہے ‘ اس کا مصدر فوران ہے) فَورانکا معنی ہے جوش زن ہونا (اچھلنا ‘ ابلنا) ۔
قلنا احمل فیھا من کل زوجین اثنین ہم نے کہا : ہر ایک (قسم کے جانوروں) میں سے ایک ایک نر اور ایک مادہ ‘ یعنی دو عدد کشتی میں چڑھا لو۔
زَوْجَیْنِ دو زوج ‘ نر مادہ کا جوڑ ہوتا ہے اور مادہ نر کا جوڑ ‘ نر یا مادہ کوئی بھی دوسرے سے بےنیاز نہیں ہوتا ‘ اسلئے ہر ایک کو جوڑ کہا جاتا ہے۔ ہر ایک موزہ کو دوسرے موزہ کا اور ہر جوتہ کو دوسرے جوتہ کا زوج (جوڑ) کہا جاتا ہے ‘ یعنی ہر حیوان کا ایک جوڑا (نر و مادہ) کشتی میں سوار کرلو۔ لفظ اثنین ‘ زوجین کی تاکید ہے اور زوجین مفعول ہے۔
بغوی نے اس قصے کے ذیل میں بیان کیا ہے کہ حضرت نوح نے عرض کیا : پروردگار ! میں ہر ایک کا جوڑا کس طرح لوں ؟ اللہ نے آپ کے سامنے درندوں اور پرندوں کو جمع کردیا اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ان پر مارے۔ دایاں ہاتھ نر پر پڑا اور بایاں ہاتھ مادہ پر ‘ اس طرح ایک نر اور ایک مادہ آپ کے ہاتھ میں آگیا اور آپ نے ان کو کشتی میں سوار کرلیا۔
واھلک الا من سبق علیہ القول ومن امن اور اپنے گھر والوں کو بھی باستثناء اس کے جس (کے ڈوبنے) کا حکم پہلے ہی نافذ ہوچکا ہے اور (گھر والوں کے علاوہ دوسرے) مؤمنوں کو بھی۔ یعنی ازل میں اللہ نے جن کو غرق کرنے کا فیصلہ کردیا ہے ‘ ان کو چھوڑ کر دوسرے گھر والوں کو سوار کرلو۔ حضرت نوح کی بیوی واہلہ اور واہلہ کے پیٹ سے حضرت نوح کا بیٹا کنعان ‘ یہ دونوں کافر تھے۔ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ سے یہی دونوں مراد ہیں۔
وما امن معہٓ الا قلیل۔ اور نوح کے ساتھ ایمان لانے والے بس تھوڑے ہی تھے۔
حضرت نوح پر ایمان لانے والوں کی تعداد کیا تھی ؟
اس کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ قتادہ ‘ ابن جریج اور محمد بن کعب قرظی کے قول پر کشتی میں سوار ہونے والے صرف آٹھ آدمی تھے : حضرت نوح ‘ آپ کی بیوی ‘ آپ کے تین لڑکے سام ‘ حام ‘ یافث اور تینوں کی بیویاں۔
ابن جریر ‘ ابو الشیخ نے ابن جریج کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت نوح نے اپنے ساتھ اپنے تینوں بیٹوں اور ان کی بیویوں کو سوار کرلیا تھا۔ حام نے کشتی میں اپنی بیوی سے قربت کرلی۔ حضرت نوح نے بددعاء کی کہ اس کے نطفہ کا رنگ بدل جائے۔ چناچہ اس عورت سے حبشی پیدا ہوئے۔
اعمش کا قول ہے کہ کشتی میں کل سات آدمی تھے : حضرت نوح ‘ ان کے تین بیٹے اور بیٹوں کی تین بیویاں۔
یہ دونوں قول صراحت قرآنی کے خلاف ہیں۔ آیت میں مَنْ اٰمَنَکا عطف اھْلَکَ پر ہے اور مذکورہ بالا تمام لوگ حضرت نوح کے گھر والوں میں داخل تھے (لہٰذا گھر والوں کے علاوہ کچھ دوسرے مؤمنوں کا بھی کشتی میں ہونا لازم ہے) ۔
ابن اسحاق نے کہا : دس شخص تھے : حضرت نوح ‘ آپ کے تینوں بیٹے سام ‘ حام ‘ یافث اور چھ دوسرے مؤمن اور سب کی بیویاں ‘ یعنی دس مرد اور دس عورتیں۔ مقاتل نے کہا : کل اٹھتر آدمی تھے ‘ آدھے مرد اور آدھی عورتیں۔ تین بیٹے اور ان کی بیویاں اور بہتر دوسرے مؤمن۔
ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ کشتی میں کل اسّی مرد تھے جن میں سے ایک جرہم بھی تھا۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت نوح نے اپنے ساتھ اسی آدمیوں کو سوار کرلیا تھا اور آپ کی زبان عربی تھی۔ یہ بھی حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ سب سے پہلے حضرت نوح نے کشتی میں چھوٹی چیونٹی کو لیا اور سب سے آخر میں گدھے کو۔ گدھا داخل ہونے لگا اور اس کا سینہ اندر آگیا تو ابلیس اس کی دم سے لٹک گیا جس کی وجہ سے اس کی ٹانگیں اٹھ نہ سکیں۔ حضرت نوح نے فرمایا : ارے ! اندر آ جا۔ گدھا اٹھا ‘ مگر اٹھ نہ سکا۔ حضرت نوح نے فرمایا : ارے ! اندر آ جا ‘ خواہ شیطان ہی تیرے ساتھ ہو۔ یہ لفظ بیساختگی میں آپ کی زبان سے نکل گیا۔ ان الفاظ کو سنتے ہی شیطان نے گدھے کا راستہ چھوڑ دیا ‘ گدھا اندر آگیا اور شیطان بھی اس کے ساتھ داخل ہوگیا۔ حضرت نوح نے فرمایا : دشمن خدا ! تجھے کس نے داخل کیا ؟ شیطان نے کہا : آپ نے (گدھے سے) نہیں فرمایا تھا کہ اندر آ جا ‘ خواہ شیطان ہی تیرے ساتھ ہو۔ آپ نے فرمایا : دشمن خدا ! نکل جا۔ شیطان نے کہا : اب تو مجھے اپنے ساتھ سوار کرنے کے بغیر آپ کیلئے کوئی چارہ نہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ شیطان کشتی کی پشت پر تھا۔
بعض اہل روایت کا خیال ہے کہ سانپ اور بچھو حضرت نوح کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ہمیں بھی چڑھا لیجئے۔ حضرت نوح نے فرمایا : تم ضرررساں اور سبب مصیبت ہو ‘ میں تم کو نہیں چڑھاؤں گا۔ کہنے لگے : آپ ہمیں چڑھا تو لیجئے ‘ ہم ذمہ دار ہیں کہ جو بھی آپ کا ذکر کرے گا ‘ ہم اس کو ضرر نہیں پہنچائیں گے۔ چناچہ جس سانپ اور بچھو کے ضرر کے خوف سے سلاَمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعَالَمِیْنَ پڑھا ‘ اس کو سانپ اور بچھو نے کوئی ضرر نہیں پہنچایا۔
حسن کا قول ہے کہ حضرت نوح نے کشتی میں صرف ان جانوروں کو چڑھایا تھا جو بچہ یا انڈہ دیتے ہیں۔ جو کیچڑ سے پیدا ہیں جیسے مچھر ‘ پسّو وغیرہ ان کو کشتی میں سوار نہیں کیا تھا۔
Ayah 11:41وقال ارکبوا فیھا اور نوح نے کہا : کشتی میں سوار ہوجاؤ پڑھتے ہوئے۔
بسم اللہ مجرھا ومرسھا اللہ ہی کے نام کے ساتھ (یا سبب و مدد سے) ہے کشتی کا چلنا اور لنگر انداز ہونا (یعنی ٹھہرنا) مجری اور مرسا یا ظرف زمان ہے یعنی چلنے اور ٹھہرنے کا وقت ‘ یا ظرف مکان ہے یعنی چلنے اور ٹھہرنے کا مقام ‘ یا مصدر ہے یعنی چلنا اور ٹھہرنا۔
ان ربی لغفور رحیم۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب بڑی مغفرت اور رحمت والا ہے۔ یعنی اگر وہ تمہارے قصور معاف نہ کرتا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم کو نجات نہ ملتی۔
بغوی نے ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت نوح نے جب ارادہ کیا کہ کشتی روانہ ہوجائے تو بسم اللہ کہا ‘ کشتی چل دی اور جب کشتی کو ٹھہرانا چاہا تو بسم اللہ کہا ‘ کشتی ٹھہر گئی۔
Ayah 11:42وھی تجری بھم فی موج کالجبال اور کشتی ان کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلنے لگی۔ مَوْجٌ‘ موجۃٌ کی جمع ہے ‘ لہریں۔
ونادی نوح انبہ وکان في معزل اور نوح نے پکارا اپنے بیٹے کو اور بیٹا (حضرت نوح سے یا دین نوح سے) الگ تھا۔
یٰبنی ارکب معنا ولا تکن مع الکفرین۔ اے میرے پیارے بیٹے ! (ایمان لے آ اور) ہمارے ساتھ سوار ہوجا ‘ اور کافروں کے ساتھ نہ رہ (یعنی کافروں کے مذہب یا ہم سے الگ رہنے میں کافروں کے ساتھ شامل نہ ہو) اس بیٹے کا نام کنعان یا عبید بن عمیر یام تھا۔
Ayah 11:43قال ساوي الی جبل یعصمني من المآء بیٹے نے کہا : میں (آپ کے ساتھ سوار نہیں ہوں گا بلکہ) پہاڑ کی پناہ پکڑ لوں گا ‘ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا (یعنی پہاڑ پر چڑھ کر ڈوبنے سے محفوظ رہوں گا) ۔
قال لاعاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم نوح نے کہا : آج اللہ کے عذاب سے (جس کا حکم ہوچکا ہے) بچانے والا کوئی نہیں ‘ سوائے اس کے جس پر وہ رحم کرے۔
استثناء یا متصل ہے اور مَنْ محل رفع میں ہے یعنی رحم کرنے والا اللہ ہی بچا سکتا ہے ‘ یا لفظ مکان محذوف ہے یعنی اس شخص کا مقام بچا سکتا ہے جس پر اللہ رحم کرے یعنی اہل ایمان کا مقام۔ مطلب یہ کہ پہاڑ وغیرہ کوئی چیز بچا نہیں سکتی ‘ ہاں کشتی جو اہل ایمان کا مقام ہے ‘ ڈوبنے سے بچا سکتی ہے) ۔
یا مَنْ محل نصب میں ہے یعنی آج کوئی بھی محفوظ نہ رہے گا ‘ سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے۔ یا استثناء منقطع ہے یعنی سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے ‘ اللہ اس کو بچا لے گا۔
وحال بینھما الموج فکان من المغرقین۔ اور دونوں کے درمیان ‘ یعنی حضرت نوح اور ان کے بیٹے کے درمیان ‘ یا پسر نوح اور پہاڑ کے درمیان لہریں حائل ہوگئیں اور وہ غرق کردہ لوگوں میں سے ہوگیا۔ یعنی ڈوبنے والوں کے ساتھ وہ بھی ڈوب گیا۔ یا علم الٰہی میں پہلے ہی یہ بات تھی۔ روایت میں آیا ہے کہ پانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے چالیس ہاتھ یا پندرہ ہاتھ اوپر چڑھ گیا تھا۔
بغوی نے لکھا ہے : بعض روایات میں آیا ہے کہ جب گلی کوچوں میں پانی بہت چڑھ گیا تو ایک بچے کی ماں کو اپنے بچے کے ڈوب جانے کا اندیشہ ہوا تو وہ بچے کو لے کر پہاڑ کی طرف بھاگی۔ پہاڑ کے ایک تہائی حصہ پر ہی چڑھی تھی کہ کچھ دیر میں وہاں تک پانی پہنچ گیا۔ عورت اور اوپر چڑھی اور دو تہائی پہاڑ تک پہنچ گئی۔ پانی وہاں بھی پہنچ گیا تو عورت اور اوپر چڑھی اور چوٹی پر پہنچ گئی ‘ مگر پانی وہاں بھی پہنچ گیا اور عورت کے گلے تک آگیا۔ اس نے بچے کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھا لیا ‘ آخر پانی عورت کو بہا لے گیا۔ اگر (اس روز) اللہ کسی پر رحم کرنے والا ہوتا تو اس بچے کی ماں پر ضرور کرتا۔
میں کہتا ہوں : یہ قصہ اس روایت کے خلاف ہے جس میں آیا ہے کہ طوفان آنے سے برسوں پہلے سے قوم نوح کی عورتیں بانجھ ہوگئی تھیں ‘ طوفان آنے کے وقت کوئی بچہ ہی نہ تھا۔
Ayah 11:44وقیل یارض ابلعي مآءک اور حکم دیا گیا (یعنی امر طوفان پورا ہونے کے بعد زمین کو حکم دیا گیا) اے زمین ! اپنا پانی پی لے (نگل جا ‘ جذب کرلے) یعنی وہ پانی جو تیرے اندر سے پھوٹ کر نکلا ہے ‘ وہ جذب کرلے تو زمین نے اپنے اندر سے نکلا ہوا پانی جذب کرلیا۔ آسمان سے برسا ہوا پانی باقی رہا اور دریاؤں اور نہروں کی شکل میں (سمٹ کر) بہنے لگا۔
ویسمآء اقلعي اور اے آسمان ! تھم جا ‘ پانی برسانا ختم کر دے۔ آسمان سے بارش ہونی بند ہوگئی۔
وغیض الماء اور پانی کم کردیا گیا۔ یعنی اللہ نے پانی کو کم کر یا۔ غَیْضٌ فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی ‘ اس جگہ متعدی ہے۔
وقضي الامر اور کام تمام کردیا گیا (کام پورا ہوگیا) یعنی اللہ نے کافروں کو ہلاک کرنے اور مؤمنوں کو بچانے کا جو وعدہ کیا تھا ‘ وہ پورا ہوگیا۔
واستوت علی الجودي اور کشتی جودی پر ٹھہر گئی۔ جودی جزیرہ میں موصل کے قریب ایک پہاڑ کا نام ہے ‘ یا ملک شام میں ایک پہاڑ ہے۔
وقیل بعدًا للقوم الظلمین۔ اور کہا گیا (یعنی اللہ نے فرمایا) دوری ہو ظالم قوم کو (یا) ظالم قوم اللہ کی رحمت سے دور ہوگئی اور سب ہلاک ہوگئی۔
بغوی نے لکھا ہے : روایت میں آیا ہے کہ حضرت نوح نے زمین کی خبر لانے کیلئے کوّے کو بھیجا۔ وہ کسی مردار پر جا پڑا اور لوٹ کر نہیں آیا تو آپ نے کبوتر کو بھیجا۔ کبوتر واپس آیا تو اس کی چونچ میں زیتون کا ایک پتا تھا اور پاؤں کیچڑ میں آلودہ تھے۔ یہ حالت دیکھ کر حضرت نوح سمجھ گئے کہ پانی خشک ہوگیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ آپ نے کوّے کو بددعا دی کہ (ہمیشہ) ڈرتا رہے ‘ اسی بددعا کا اثر ہے کہ کوّا گھروں میں نہیں رہتا اور کبوتر کی گردن میں ایک سبز کنٹھا ڈال دیا اور اس کو امن کی دعا دی ‘ اسلئے وہ گھروں میں رہنے کا عادی ہے۔
عبد بن حمید ‘ ابن المنذر اور ابو الشیخ نے بیان کیا کہ قتادہ نے کہا : ہم سے ذکر کیا گیا تھا کہ دس رجب کو کشتی سب کو لے کر اٹھی اور ایک سو پچاس روز پانی میں رہی ‘ پھر دس محرم کو جودی پر ٹھہری اور لوگ زمین پر اترے۔ ابن عساکر نے خالد زیات کی روایت سے اتنا زائد نقل کیا ہے کہ عاشورہ کا دن کشتی ٹھہری۔ حضرت نوح نے اپنے ساتھ والے جن و انس سے فرمایا : آج روزہ رکھو۔ بغوی نے بھی لکھا ہے کہ نوح 10؍رجب کو کشتی میں سوار ہوئے اور چھ مہینہ تک کشتی چلتی رہی اور بیت اللہ (کعبہ) کی طرف سے گزری تو اس کے گرداگرد سات چکر لگائے۔ کعبے کو اللہ نے اوپر اٹھا دیا تھا ‘ اس کی جگہ ڈوبنے سے) باقی رہ گئی تھی۔ 10؍ محرم کو کشتی سے اترے۔ حضرت نوح نے شکرانہ کا روزہ خود بھی رکھا اور ساتھ والوں کو بھی حکم دیا۔
بعض اقوال میں آیا ہے کہ صرف ایک کافر یعنی عوج بن عنق ڈوبنے سے بچ گیا تھا ‘ طوفان کا پانی اس کی کمر تک آیا تھا۔ محفوظ رہنے کی وجہ یہ تھی کہ کشتی کے لیے سار کی لکڑیوں کی ضرورت تھی اور ان کو ڈھونا ممکن نہ تھا تو اس نے ملک شام سے خود لا کر حضرت نوح کو لکڑیاں دی تھیں۔
میں کہتا ہوں : عوج کی یہ داستان قرآن مجید کی ظاہری عبادت کے خلاف ہے۔ اللہ نے تو فرمایا ہے : قَالَ نُوْحٌ رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔ دوسری آیت میں ہے : قِیْل بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّلِمِیْنَ اس سے پہلے آیا ہے : لاَ عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ الاَّ مَنْ رَّحِمَ (ان تمام آیات سے معلوم ہو رہا ہے کہ کوئی کافر زندہ نہیں بچا تھا) عموم آیات سے کسی کی تخصیص بغیر قطعی نص کے ممکن نہیں اور قصۂ مذکورہ کی تائید نہ عقل سے ہوتی ہے نہ نقل سے (عوج کا قصہ محض افسانہ اور داستان ہے) ۔
Ayah 11:45ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اھلی وان وعدک الحق اور نوح نے پکارا اپنے رب کو اور کہا : اے میرے رب ! یہ واقعہ ہے کہ میرا بیٹا (کنعان) میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ بلاشبہ سچا ہے۔ جس کی خلاف ورزی ممکن نہیں اور تو نے میرے اہل کو بچانے کا وعدہ کرلیا ہے (اسلئے میرے بیٹے کو ڈوبنے سے بچا لے) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈوبنے کے بعد حضرت نوح نے یہ عرض کیا ہو کہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور تو نے میرے اہل کو بچانے کا وعدہ کرلیا تھا ‘ پھر میرے لڑکے کو کیوں نہیں بچایا۔
وانت احکم الحٰکمین۔ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔
کیونکہ تو سب سے زیادہ علم والا اور سب سے بڑھ کر منصف ہے ‘ تیرے حکم کے خلاف نہیں ہوسکتا اور تو قوم کی ہلاکت اور میرے اہل کی نجات کا فیصلہ کرچکا ہے۔ یا احکم الحاکمینکا یہ مطلب ہے کہ تو ہر حکم و حکمت والے سے زیادہ حکمت والا ہے (اس مطلب پر احکم کا ترجمہ ہوگا سب سے بڑی حکمت والا اور الحاکمین سے مراد ہوں گے حکم والے یا حکمت والے) ۔
Ayah 11:46قال یٰنوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح اللہ نے فرمایا : نوح ! حقیقت یہ ہے کہ وہ تیرے اہل میں سے ہی نہیں (مؤمن کا کافر سے کوئی رشتۂ ولایت نہیں) کیونکہ اس کے عمل درست نہیں۔ عَمَلٌ سے پہلے مضاف محذوف ہے ‘ یعنی عمل والا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کو بچانے کا سوال کرنا درست عمل نہیں ہے۔
فلا تسئلن ما لیس لک بہ علم پس تو ایسی بات کا مجھ سے سوال نہ کر جس (کے صحیح یا غلط ہونے) کا تجھے علم نہیں۔
چونکہ حضرت نوح کی نداء کے اندر نجات اہل کا وعدہ تھا اور وعدہ کو پورا کرنے کی درخواست اس نداء کے اندر مضمر تھی ‘ اسلئے نداء کو سوال قرار دیا اور سوال کی ممانعت فرما دی۔ یا یوں کہا جائے کہ وعدہ پورا نہ کرنے کی وجہ حضرت نوح نے دریافت کی تھی ‘ اس کو اللہ نے سوال قرار دیا اور ایسے سوال کی ممانعت فرما دی اور اس سوال کو نادانی قرار دے کر اس سے روک دیا اور بطور زجر فرمایا :
اني اعظک ان تکون من الجٰھلین۔ میں تجھے قطعی نصیحت کرتا ہوں کہ نادانوں میں سے نہ ہوجائے۔
کیونکہ جب مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُکا نجات سے استثناء کردیا تو خود ڈوبنے والوں کی کیفیت معلوم ہوگئی ‘ مزید سوال کی ضرورت نہ رہی (بیان کردہ چیز پر غور نہ کرنا اور نہ سمجھنا اور سوال کرنا نادانوں کا کام ہے) ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد و حسن نے کہا : یہ لڑکا حضرت نوح کا نہ تھا ‘ حرامی تھا۔ امام ابو جعفر باقر (رح) نے فرمایا : وہ حضرت نوح کی بیوی کا بیٹا تھا ‘ حضرت نوح کا بیٹا نہ تھا ‘ اسی لئے آپ نے مِنْ اَہْلِیْ (میری بیوی کا) کہا تھا ‘ مِنِّیْ (میرا) نہیں کہا۔
حضرت ابن عباس ‘ سعید بن جبیر ‘ ضحاک اور اکثر علماء کا قول ہے : وہ حضرت نوح کا ہی حقیقی بیٹا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کسی پیغمبر کی بیوی نے زنا کا ارتکاب کبھی نہیں کیا۔ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کا ہم مذہب نہیں ‘ آپ کے دین والوں میں سے نہیں ‘ یعنی کافر ہے اور اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْْجٰھِلِیْنَ کا یہ مطلب ہے کہ خود ہی کافروں کے ہلاک ہوجانے کی دعا کرتے رہے اور خود ہی ایک کافر کو بچا دینے کی درخواست کر رہے ہو ‘ یہ نادانی ہے۔
شیخ ابو منصور نے کہا : حضرت نوح کا یہ بیٹا منافق تھا ‘ ظاہر میں مؤمن ‘ باطن میں کافر اور حضرت نوح کو اس کا باطنی کفر معلوم نہ تھا ورنہ آپ کبھی بھی اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَھْلِیْ نہ کہتے نہ درخواست نجات کرتے جبکہ کافروں کے سلسلے میں بولنے کی آپ کو ممانعت کردی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ لاَ تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (کافروں کے بچانے کے سلسلے میں مجھ سے کچھ نہ کہنا) پھر اللہ نے حضرت نوح کو بتادیا کہ تیرا یہ بیٹا (باطنی طور پر) کافر ہے۔
شیخ کا یہ قول قابل تسلیم نہیں کیونکہ یَا بُنَيَّ ارْکَبْ مَّعَنَا وَلاَ تَکُنْ مَّعَ الْکَافِرِیْنَ قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَآء صراحۃً دلالت کر رہی ہے کہ وہ کافر تھا۔
Ayah 11:47قال رب انی اعوذ بک ان اسئلک ما لیس لي بہ علم والا تغفر لي وترحمني اکن من الخٰسرین۔ نوح نے کہا : اے میرے رب ! جس چیز (کی صحت) کا مجھے علم نہ ہو ‘ اس کے متعلق (آئندہ) سوال کرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں اور (ممانعت کے بعد اپنی اجتہادی غلطی کی وجہ سے جو میں نے کافر کی نجات کی درخوست کی تھی) اگر تو (میری اس خطا کو معاف نہ کر دے گا اور (بصورت توبہ و عصمت) مجھ پر رحم نہ فرمائے گا تو میں خاسر (الاعمال) ہوجاؤں گا (عملی خسارے میں رہوں گا) ۔
Ayah 11:48قیل یٰنوح اھبط بسلم منا و برکت علیک وعلی امم ممن معک کہا گیا : اے نوح ! (کشتی سے) اترو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں لے کر جو تم پر نازل ہوں گی اور ان جماعتوں پر جو تمہارے ساتھ ہیں (حضرت مولانا تھانوی نے جودی سے زمین پر اترنا مراد لیا ہے) برکت کا معنی ہے : نمو پذیر چیز۔ برکات سے مراد ہیں : اللہ کے قرب کے درجات ‘ اس کی رحمت و فضل ‘ نسل کی کثرت اور قیامت تک ان کی بقاء اور انبیاء و اولیاء کا انہی میں سے پیدا ہونا۔
اَلْاُمَمْ جماعتیں ‘ یعنی وہ لوگ جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ وہ خود بھی جماعتوں کی شکل میں تھے اور تمام اقوام انہیں کی نسل سے پیدا ہونے والی تھیں ‘ اسلئے ان کو امم فرمایا۔ یا مِمَّنْمیں مِنْابتدائیہ ہے ‘ یعنی وہ اقوام جو تمہارے ساتھیوں کی نسل سے پیدا ہوں گی ‘ ان پر بھی اللہ کی طرف سے سلامتی اور برکات کا نزول ہے۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : قیامت تک جتنے مؤمن ہوں گے ‘ سب اس لفظ میں داخل ہیں۔
ایک شبہ : آیت وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّتَہٗ ھُمُ الْبَاقِیْنَ (ہم نے نوح کی نسل کو ہی باقی رکھا) بتارہی ہے کہ صرف حضرت نوح کی نسل باقی رہی ‘ دوسرے ساتھیوں کی نسل باقی نہ رہی۔
ازالہ : بیشک حضرت نوح کی نسل ہی باقی رہی ‘ لیکن آپ کے ساتھ کشتی میں آپ کے تینوں بیٹے بھی تھے ‘ انہی کی نسل چلی اور باقی رہی۔ دوسرے ساتھیوں کی نسل نہیں رہی (مِمَّنْ مَّعَکَسے تینوں بیٹے ہی مراد ہیں) ۔
وامم سنمتعھم ثم یمسھم منا عذاب الیم۔ اور (تمہارے ساتھیوں کی نسل سے) کچھ ایسی قومیں ہوں گی جن کو (تحریر ازلی کے مطابق دنیا میں) ہم بہرہ اندوز کریں گے ‘ پھر ہماری طرف سے (آخرت میں ان کے کفر کی وجہ سے) دردرساں عذاب ان کو پہنچے گا۔
بعض علماء کے نزدیک امم سے مراد حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت لوط اور حضرت شعیب کی قومیں ہیں۔ اور عذاب الیم سے مراد ہے دنیوی عذاب۔
Ayah 11:49تلک من انبآء الغیب یہ (نوح کا قصہ) منجملہ غیبی خبروں کے ہے۔
یعنی جو خبریں تم کو معلوم نہ تھیں (ان میں سے ایک حضرت نوح کا قصہ بھی ہے) ۔
نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا جس کو ہم تمہارے پاس وحی کے ذریعہ پہنچا رہے ہیں ‘ نہ تم اس سے پہلے اس کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ اس کلام میں تنبیہ ہے اس بات پر کہ قصۂ نوح کا علم ایک معجزہ ہے منجانب اللہ کیونکہ آپ کی پوری قوم اس سے واقف نہیں تھی ‘ ہم نے آپ کو اطلاع دی اور اسی کے مطابق اطلاع دی جیسی گزشتہ آسمانی کتابوں میں تھی۔ گزشتہ آسمانی کتابوں کے بیان سے اس اطلاع کی مطابقت یقیناً معجزہ ہے۔
فاصبر پس (نوح کی طرح تبلیغ رسالت پر اور تبلیغ کے راستہ میں کافروں کی طرف سے پہنچنے والے دکھوں) پر صبر کیجئے ‘ کیونکہ
ان العاقبۃ للمتقین۔ بلاشبہ (دنیا و آخرت میں) اچھا نتیجہ اور انجام انہیں لوگوں کیلئے ہے جو لوگ شرک و معاصی سے بچنے والے ہیں۔ اس جملہ میں صبر کرنے اور نہ گھبرانے کی علت کا اظہار ہے۔