Ayah 11:50والی عادٍ اخاھم ھودًا اور عاد کے پاس (ہدایت کیلئے) ان کے (نسبی) بھائی ہود کو ہم نے بھیجا۔
قال یٰقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ ان انتم الا مفترون۔ ہود نے کہا : اے میری قوم ! (برادران نسب) تنہا اللہ کی پوجا کرو (عبادت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (تم جو اس کی عبادت میں بتوں کو بھی حصہ دار بنا لیتے ہو اور ان کو دربار الٰہی میں اپنا سفارشی قرار دیتے ہو ‘ یہ محض اختراع ہے) تم محض دروغ بندی کرنے والے ہو (کہ خود ایک عقیدہ تم نے تراش رکھا ہے اور اللہ کی طرف اس کی نسبت کردی ہے۔ مترجم)
Ayah 11:51یٰقوم لا اسئلکم علیہ اجرًا اے قوم والو ! میں اس نصیحت کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کہ تم پر مالی بوجھ پڑے ‘ اور بار پڑنے کی وجہ سے تم میری نصیحت کو نہ مانو۔ یا مال کا لالچ مجھے دروغ بندی پر آمادہ کرے۔
ان اجري الا علی الذی فطرتی میرا ثواب تو بس اسی کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا (یعنی ثواب کا ذمہ تو اسی نے لے رکھا ہے ‘ اس لئے مجھے تم سے کوئی لالچ نہیں۔ مترجم)
افلا تعقلون۔ کیا تم نہیں سمجھتے۔ یعنی کیا اپنی اپنی عقل سے کام لے کر تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ ایسے (بےلالچ ‘ مخلص) کا قول جھوٹ کے احتمال سے بھی پاک ہوتا ہے اور اس کی تصدیق کرنی تم پر لازم ہے۔
Ayah 11:52ویٰقوم استغفروا ربکم اور اے میری قوم ! اپنے رب سے مغفرت طلب کرو۔ یعنی سابق شرک اور گناہ کرنے کی معافی مانگو۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان لے آؤ ‘ مسلم ہوجاؤ۔ حضرت عمرو بن عاص کی مرفوع روایت صحیح مسلم میں آئی ہے کہ اسلام گزشتہ (گناہوں) کو ڈھا دیتا ہے۔
ثم تو بوا الیہ پھر (شرک کو چھوڑ کر اور خالص توحید کے ساتھ مطیع بن کر) اس کی طرف لوٹو۔
یرسل السمآء علیکم مدرارًا ویزدکم قوۃً الی قوتکم وہ خوب بارشیں تم پر برسائے گا اور تمہاری (موجودہ) قوت میں مزید ترقی دے گا۔
سورۂ اعراف میں ہم نے بیان کردیا ہے کہ قوم عاد سہ سالہ کال میں مبتلا ہوگئی تھی۔ تین سال سے بارش نہیں ہوئی تھی اور عورتیں بھی بانجھ ہوگئی تھیں ‘ کسی کے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ حضرت ہود نے فرمایا : اللہ سے استغفار اور توبہ کرو ‘ وہی پانی برسائے گا جس سے تمہاری مالی ترقی ہوگی اور وہی عورتوں کا بانجھ پن دور کرے گا اور بچے پیدا ہونے لگیں گے۔ اس طرح تم کو مال و اولاد کی مزید طاقت حاصل ہوجائے گی۔ بعض نے قوت سے مراد لی ہے بدنی طاقت ‘ یعنی اللہ تمہاری جسمانی طاقت بڑھا دے گا۔
ولا تتولوا مجرمین۔ اور مجرم رہ کر رخ گردانی مت کرو۔ یعنی اپنے جرائم پر قائم رہتے ہوئے میری دعوت سے منہ نہ پھیرو اور جس چیز کی طرف آنے کی میں تم کو دعوت دے رہا ہوں ‘ اس سے اعراض نہ کرو۔
Ayah 11:53قالوا بھودما جئتنا ببینۃ قوم نے کہا : ہود ! تم نے کوئی قطعی دلیل پیش نہیں کی۔ یعنی ایسی دلیل پیش نہیں کی جس سے تمہارے دعوے کی صحت ثابت ہو سکے۔ حضرت ہود نے معجزات تو پیش کئے تھے (جو ثبوت رسالت کیلئے کافی تھے ( مگر قوم والوں کے دلوں میں عناد تھا ‘ اسلئے انہوں نے مذکورہ جملہ کہا۔
وما نحن بتارکی الھتنا عن قولک وما نحن لک بمؤمنین۔ اور ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کی عبادت چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں۔ یعنی تمہاری تصدیق نہیں کریں گے۔ مطلب یہ کہ نہ تمہارے قول کا عملی اتباع کریں گے کہ اپنے معبودوں کی عبادت ترک کریں ‘ نہ اعتقادی تصدیق کریں گے۔
Ayah 11:54ان نقول الا اعتراک بعض الھتنا بسوءٍ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم کو ہمارے کسی معبود کا جھپٹا لگ گیا ہے۔
اِعْتَرٰی (باب افتعال) عَرٰی یعرو سے ماخوذ ہے ‘ عَرٰیکا معنی ہے پہنچ گیا۔ سوئ سے مراد ہے جنون ‘ بدحواسی۔ یعنی تم جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہو اور ان کی عبادت سے ہم کو روکتے ہو تو ہمارے کسی معبود نے اس کا انتقام تم سے لیا ہے اور تمہارا دماغ خراب کردیا ہے کہ ایسی خرافات بک رہے ہو۔
یا ماضی بمعنی مضارع ہے کہ تم جو معبودوں کو برا کہتے ہو ‘ ہمارا یقینی خیال ہے کہ کوئی معبود تم کو پٹ کر دے گا ‘ ہلاک کر دے گا۔ چونکہ ایسا ہوجانا قوم کے نزدیک ضروری اور یقینی تھا ‘ اسلئے دھمکی دینے کیلئے مضارع کی جگہ ماضی کا صیغہ بولا۔ حضرت ہود کا جواب آگے ذکر کیا گیا ہے۔ یہ توجیہ اس کے مناسب ہے۔
قال انی اشھد اللہ واشھدوا انی بريء مما تشرکون : میں اللہ کو شاہد بتاتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جو اللہ کے سوا دوسرے (بتوں وغیرہ) کو اس کا شریک قرار دیتے ہو ‘ میں اس سے بیزار ہوں۔
Ayah 11:55من دونہ ہود نے کہا : میں نہ اللہ کے سوا بتوں کی پوجا کرتا ہوں ‘ نہ کسی بت سے ڈرتا ہوں۔
فکیدونی جمیعًا پس اب تم سب (باہم امداد و تعاون کے ساتھ) مجھے دکھ پہنچانے (اور ہلاک کرنے) کی تدبیریں کر دیکھو۔
ثم لا تنظرون۔ پھر مجھے مہلت بھی نہ دو ۔ حضرت ہود کے اس کلام میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تمہاری تدبیریں میری نظر میں حقیر ہیں۔ مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے۔ تمہارے معبود عاجز ہیں ‘ پتھر ہیں ‘ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ آپ کا یہ قول ایک معجزہ تھا جو پورا ہوا۔ قوم والے شہ زور تھے ‘ بڑے طاقتور اور جابر ظالم تھے۔ آپ کے خون کے پیاسے بھی تھے مگر کچھ نہ بگاڑ سکے۔
Ayah 11:56انی توکلت علی اللہ ربی وربکم ما من دابۃ الا ھو اخذ بنا صیتھا مجھے بلاشک و شبہ اللہ پر اعتماد ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ ہر جاندار کو اللہ پیشانی کے بالوں سے پکڑے ہوئے ہے۔ یعنی ہر جاندار اس کے پورے قابو میں ہے ‘ اس کی قدرت و قابو کے آگے عاجز و ذلیل ہے۔ وہی جیسا چاہتا ہے ‘ تصرف کرتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ناصیہ کا لفظ خصوصیت کے ساتھ اسلئے ذکر کیا گیا کہ اگر کسی چیز کی ذلت و بےبسی کا اظہار کرنا ہوتا ہے تو عرب کہتے ہیں : فلاں شخص کے پیشانی کے بال فلاں شخص کے ہاتھ میں ہیں (جس طرف کو چاہے موڑ دے۔ اردو میں پیشانی کے بالوں کی جگہ گردن کا لفظ بولا جاتا ہے : فلاں شخص کی گردن فلاں شخص کے ہاتھ میں ہے۔ مطلب دونوں محاوروں کا ایک ہی ہے۔ مترجم)
ضحاک نے کہا : ناصیہ ہاتھ میں ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہی زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ فراء نے کہا : وہی مالک اور قادر ہے۔ قتیبی نے کہا : وہی ہر جاندار کو مقہور (وبے بس) کردیتا ہے۔ جس کی پیشانی کے بال تم پکڑ لو ‘ وہ بےبس (و مقہور) ہوجاتا ہے۔
ان ربی علی صراط مستقیم۔ یقیناً میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔ یعنی حق اور عدل پر قائم ہے ‘ نیک کو نیکی کی جزا اور بد کو بدی کی سزا دے گا۔ جو اس کا دامن پکڑ لے ‘ کبھی نامراد نہیں رہے گا۔
Ayah 11:57فان تولوا فقد بلغتکم ما ارسلت بہ الیکم اب اگر (میری دعوت سے) تم اعراض کر رہے ہو تو (میرا نقصان نہیں) میں تم کو وہ پیام پہنچا چکا جس کو پہنچانے کیلئے مجھے تمہارے پاس بھیجا گیا ہے۔
ویستخلف ربي قومًا غیرکم (اگر تم اعراض کرو گے تو اللہ تم کو ہلاک کر دے گا) اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا۔ جو موحد ہوں گے ‘ اللہ ہی کے عبادت گذار اور اس کے فرمانبردار ہوں گے۔
فلا تضرونہ شیءًا اور (رو گرداں ہو کر) تم اس کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکو گے (بلکہ اپنا ہی نقصان کرو گے) بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تمہارا وجود و عدم اس کیلئے برابر ہے ‘ اسلئے اگر وہ تم کو ہلاک کر دے گا تو اس کا کچھ بگاڑ نہ ہوگا۔
ان ربی علی کل شییء حفیظ میرا رب یقیناً ہر چیز کا نگران ہے۔ تم جو کچھ کر رہے ہو ‘ اس سے پوشیدہ نہیں ہے نہ وہ تم کو سزا دینے سے غافل ہے۔ یا یہ مطلب کہ اللہ ہر چیز پر غالب ہے ‘ ہر چیز اس کی نگہداشت میں ہے ‘ کوئی چیز اس کو ضرر نہیں پہنچا سکتی۔
Ayah 11:58ولما جاء امرنا نجینا ھودًا والذین امنوا معہ برحمۃ منا ونجینھم من عذاب غلیظ اور جب ہمارا حکم (یعنی عذاب کا حکم یا عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے مؤمنوں کو اپنی مہربانی کے ساتھ بچا لیا اور سخت عذاب سے بچا لیا۔ یعنی ان کے اعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اپنی رحمت سے ان کو محفوظ رکھا۔ یا رحمت سے مراد ہے ایمان ‘ یعنی ہم نے جو ایمان ان کو عطا کیا تھا ‘ اس کی وجہ سے ان کو محفوظ رکھا۔ مؤمنوں کی کل تعداد چار ہزار تھی۔ عذاب غلیظ سے مراد ہے طوفان جس سے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا تھا۔
Ayah 11:59وتلک عاد جحدوا بایت ربھم وعصوا رسلہ اور یہ ہیں عاد (کے قبائل یا عاد کی بستیوں کے نشانات) جنہوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی۔ یعنی ہود اور دوسرے پیغمبروں کو نہیں مانا۔ ہر پیغمبر توحید کی دعوت دیتا ہے اور ہر پیغمبر کی تصدیق کرتا ہے ‘ اسلئے ایک کا انکار سب کا انکار ہے اور ایک کی نافرمانی سب کی نافرمانی۔ قوم عاد نے حضرت ہود کی رسالت کا انکار کیا تو گویا پیغمبروں کا انکار کیا۔
واتبعوا امر کل جبارٍ عنیدٍ اور تمام تر ایسے لوگوں کے کہنے پر چلتے رہے جو ظالم اور ضدی تھے۔
عَنِیْدکسی چیز کو قبول کرنے سے انکار کرنے والے کو کہتے ہیں ‘ یہاں مراد ہے حق کو قبول کرنے سے انکار کرنے والا۔ یہ لفظ عند یَعْند عنودًا سے مشتق ہے۔ عنودًا انکار کرنا۔
ابو عبیدہ نے کہا : عنید ‘ عنود اور معاند مخالفت کرنے والے مقابل کو کہتے ہیں۔ جبار عنید سے مراد ہیں قوم عاد کے سرکش سردار ‘ یعنی دعوت ایمان دینے والے ہادیان برحق کی تو انہوں نے نافرمانی کی اور جو تعلیم ان کیلئے ذریعۂ نجات تھی ‘ اس کو ترک کردیا اور ایسے لوگوں کے پیرو بنے جو کفر کی طرف لے کر جا رہے تھے اور ان کی تعلیم تباہ کن تھی۔
Ayah 11:60واتبعوا فی ھذہ الدنیا لعنۃً ویوم القیۃ اور اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے (انسانوں اور فرشتوں کی) لعنت ڈالی گئی اور قیامت کے دن بھی (لعنت پڑے گی) ۔
لعنت کا معنی (اس جگہ) ہے اللہ کی رحمت سے دور کردینا ‘ مردود بنا دینا۔ یعنی انسانوں اور فرشتوں کی طرف سے ان پر لعنت ہونے کی دعا پڑے گی۔
الا ان عادًا کفروا ربھم گوش ہوش سے سن لو کہ عاد والوں نے اپنے رب کا انکار کیا تھا ‘ یا رب کی نعمتوں کی ناشکری کی تھی۔
الا بعدًا لعادٍ قوم ھودٍ خوب سن لو ! دوری ہے (ا اللہ کی رحمت سے یا ہلاکت ہے) عاد کیلئے جو ہود کی قوم تھی۔
بغوی نے لکھا ہے : بعد کے دو معنی ہیں (1) دوری ‘ یعنی قرب کی ضد (2) ہلاکت۔ وکذا فی القاموس۔ جملہ الا بعدًا لعاد بددعائیہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ قوم عاد اپنے مذکورہ جرائم کی وجہ سے اس عذاب کی مستحق تھی جو ان پر آیا (مقصد یہ کہ جملہ اگرچہ دعائیہ انشائیہ ہے مگر خبریہ کے معنی میں ہے۔ دعا وہ شخص کرتا ہے جس کو کسی چیز کی خواہش ہو اور وقت دعا تک وہ حاصل نہ ہوئی ہو۔ اللہ تو محتاج نہیں ‘ پھر وہ کس طرح اور کس سے دعا کرسکتا ہے ؟ اس کے دعائیہ کلام کا مطلب محض خبر ہے اور اس جگہ تو خبر کے ساتھ ساتھ یہ ظاہر کرنا بھی مقصود ہے کہ قوم عاد عذاب کی مستحق ہی تھی ‘ جو عذاب ان پر آیا غلط نہیں آیا (مترجم) ۔
قوم عاد کی مزید تشنیع ظاہر کرنے اور ان کی حالت کو سبق عبرت بنانے کیلئے حرف تنبیہ (اَلاَ ) کو مکرر ذکر کیا۔ قوم ہود کا لفظ اشارہ کر رہا ہے اس بات کی طرف کہ قوم کو استحقاق عذاب و لعنت صرف اس وجہ سے ہوا کہ حضرت ہود کی انہوں نے مخالفت کی۔ حضرت ہود اور قوم کے درمیان جو واقعات ہوئے ‘ انہوں نے قوم کو مستحق لعنت و عذاب بنا دیا (یہ بھی ممکن ہے کہ قوم ہود کہنے کی یہ وجہ ہو کہ عاد نام کی دو قومیں گذری ہیں ‘ عاد اولیٰ اور عاد ثانیہ یعنی قوم ثمود اور آیت میں عاد اولیٰ یعنی قوم ہود مراد ہے ‘ قوم ثمود کا ذکر کرنا اس جگہ مطلوب نہیں ہے) ۔
Ayah 11:61والی ثمود اخاھم صلحًا قال یٰقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ صالح نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی پوجا کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کیونکہ
ھو انشأکم من الارض اسی نے تم کو زمین کے مادہ سے پیدا کیا۔ یعنی تم کو آدم (کی نسل) سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔
واستعمر کم فیھا اور تم کو زمین میں آباد کیا۔
استعمرکا مادہ عمر ہے اور عمر سے یہ لفظ بنا ہے۔ ضحاک نے ترجمہ کیا ہے : تمہاری عمریں دراز کیں۔ 300 سے 1000 برس تک قوم ثمود والوں کی عمریں ہوتی تھیں۔ قوم عاد کی بھی یہی عمریں تھیں۔
استعمر کم فیھا کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے تم کو زمین میں آباد ہونے کی قدرت دی ‘ تم کو زمین کا آباد کرنے والا اور زمین کا باشندہ بنایا۔
مجاہد نے کہا : استعمر کا لفظ عمرٰی سے مشتق ہے (عمری ہبہ کی ایک قسم ہے۔ عمر بھر کیلئے اگر کوئی چیز کسی کو دے دی جائے اور موہوب لہ کے مرنے کے بعد وہ چیز واہب کی طرف لوٹ آئے تو ایسے ہبۂ عمری کو عمرٰی کہا جاتا ہے ‘ یعنی اللہ نے یہ زمین تمہارے لئے بنا دی ہے جب تک تم زندہ رہو ‘ پھر تمہارے مرنے کے بعد اللہ اپنی ملک میں لے لیتا ہے (یعنی تمہارا عارضی قبضہ بھی ختم ہوجاتا ہے) یا یہ مطلب کہ زمین پر مکانوں میں تم کو عمر بھر رکھا جاتا ہے ‘ پھر تمہارے مرنے کے بعد تمہارے مکان دوسروں کو دے دئیے جاتے ہیں۔
فاستغفروہ ثم تو بوا الیہ پس تم اللہ سے استغفار کرو ‘ نادم و شرمسار ہوتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرو۔
ان ربی قریب مجیب بلاشبہ میرا رب (اپنے بندوں کے) قریب ہے) اور ان کی دعاؤں کو) قبول کرنے والا ہے۔
یعنی اللہ کا بندوں سے قرب ذاتی ہے مگر کیفیت معلوم نہیں ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ بندوں سے قریب ہے کہ اس نے وجود عطا کیا ‘ یا یہ مراد ہے کہ اللہ کی رحمت اپنے دوستوں سے قریب ہے۔
Ayah 11:62قالوا یٰصٰلح قد کنت فینا مرجوًا قوم ثمود نے کہا : صالح ! تم تو ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے ‘ یعنی ہمیں امید تھی کہ تم ہمارے سردار ہو گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم امید کرتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر ہو گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم امید کرتے تھے کہ تم ہمارے مذہب پر ہو گے اور ہمارے دین کی طرف رجوع کرو گے۔
قبل ھذا اس سے پہلے ‘ یعنی نبوت کے دعوے اور ترک بت پرستی کی دعوت سے پہلے۔ لیکن اب چونکہ ہم نے تمہاری یہ باتیں سن لیں تو ہماری امید تم سے ٹوٹ گئی۔
اتنھنا ان نعبد ما یعبد ابآؤنا کیا تم ہمیں ان معبودوں کی پوجا سے منع کیا کرتے تھے ؟ (حکایت حال ماضی ‘ یا منع کرتے ہو) جن کی پوجا ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔
واننا لفی شکٍ مما تدعونآ الیہ مریبٍ اور جس (توحید کو ماننے اور بت پرستی کو ترک کرنے) کی تم ہم کو دعوت دے رہے ہو ‘ ہم قطعی طور پر اس کی طرف سے تردد آفریں شک میں ہیں۔ مریب (اسم فاعل) اَرَابَ فِی الْاَمُوْرِسے ماخوذ ہے : تردد پیدا کردینے والا۔ یا ارابہٗ سے ماخوذ ہے : بےچینی ‘ اضطراب طبع اور بےاطمینانی پیدا کرنے والا۔
Ayah 11:63قال یٰقوم ارء یتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتني منہ رحمۃً فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ آپ نے فرمایا : اے قوم ! اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلائل پر قائم ہوں اور اللہ نے مجھ کو نبوت سے نوازا ہے تب اگر میں اللہ کی نافرمانی کرنے لگوں تو اللہ کے عذاب سے مجھے کون بچائے گا۔ چونکہ کافروں کو حضرت صالح کا صاحب بصیرت ہونا تسلیم نہ تھا ‘ اسلئے آپ نے بھی لفظ اِنْ شکیہ بولا (ورنہ آپ کو اپنی جگہ یقین تھا کہ میں صداقت و بصیرت پر ہوں) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِنْ (شرطیہ شکیہ نہ ہو بلکہ) مخففہ ہو ‘ یعنی بلاشبہ میں اپنے رب کی طرف سے بینہ پر ہوں۔ رحمت سے مراد ہے : نبوت اور حکمت۔ مِنَ اللّٰہ سے مراد ہے : من عذاب اللہ۔ نافرمانی سے مراد ہے : تبلیغ احکام اور ممانعت شرک میں کوتاہی کرنا۔
فما تزیدونني غیر تخسیر۔ (یعنی اللہ نے جو نبوت و ہدایت مجھے عطا فرمائی ہے ‘ تم اس کی تکذیب کرتے ہو اور اللہ کے عذاب کے مستحق بنتے ہو اور اس میں میرا سراسر نقصان ہے) پس تم لوگ میرے خسارے کو ہی بڑھا رہے ہو۔ حسین بن فضل نے کہا : حضرت صالح تو کبھی بھی خسارے میں نہیں رہے۔ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ تم میرے لئے خسارہ بڑھا رہے ہو ‘ بلکہ تخسیر کا معنی ہے : کسی کی طرف خسارے کی نسبت کردینا ‘ خسارہ یاب قرار دینا۔ جیسے تکفیر و تفسیق کا معنی ہے : کسی کو کافر اور فاسق قرار دینا ‘ کفر و فسق کی طرف منسوب کرنا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری تکذیب سے میرے لئے اس بات کا اضافہ ہوجاتا ہے کہ میں تم کو خاسر قرار دوں اور خسارہ یاب کہوں۔ حضرت ابن عباس نے تخسیر کا ترجمہ کیا ہے : خسارے کو دیکھنا۔ یعنی تمہاری تکذیب سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ تم بہت نقصان اٹھاؤ گے ‘ بڑے خسارے میں رہو گے۔ یا بڑے خسارے اور نقصان میں ہو۔
قوم ثمود نے کہا : اپنی نبوت کو ثابت کرنے کیلئے پتھر کی چٹان سے ایک اونٹنی جو دس ماہہ گابھن ہو ‘ برآمد کر دو ۔ حضرت صالح نے دعا کردی ‘ فوراً چٹان سے ایک اونٹنی برآمد ہوگئی جس کا بچہ بھی فوراً ہوگیا۔ اس وقت آپ نے فرمایا :
Ayah 11:64ویٰقوم ھذہ نافۃ اللہ لکم ایۃ اور اے قوم والو ! یہ (براہ راست بغیر ماں باپ کے پیدا کی ہوئی) اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے۔
فذروھا تاکل في ارض اللہ پس اس کو اللہ کی زمین میں (گھومتی پھرتی) رہنے دو تاکہ زمین کا سبزہ چرتی پھرے اور زمین کا پانی پیتی رہے۔ تم پر اس کی خوراک اور پانی کا کوئی بار نہیں۔
ولا تمسوھا بسوءٓ فیاخذ کم عذاب قریب۔ اور اس کو بری نیت سے ہاتھ مت لگانا ورنہ تم کو عذاب الٰہی سے دوچارہونا پڑجائے گا۔
یعنی تین دن میں تم پر عذاب آجائے گا۔
Ayah 11:65فعقروھا پس ثمود نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ یعنی قوم ثمود کے مشورے اور حکم سے قدار بن سالف نے اونٹنی کو قتل کردیا۔
فقال تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام ذلک وعد غیر مکذوب۔ صالح نے کہا : تم اپنے گھر (یعنی دنیا یا بستی) میں تین روز مزے اڑاؤ (تین روز کے بعد ہلاک کر دئیے جاؤ گے) یہ جھوٹا وعدہ نہیں ہے۔ یعنی چہارشنبہ ‘ پنجشنبہ اور جمعہ ‘ تین روز زندہ رہو گے۔ پہلے روز صبح کو تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے ‘ دوسرے روز سرخ اور تیسرے روز سیاہ ‘ پھر سب مرجاؤ گے 0
Ayah 11:66فلما جاء امرنا نجینا صٰلحًا والذین امنوا معہ برحمۃ منا ومن خزی یومئذ پھر جب ہمارا (عذاب کا) حکم آپہنچا تو ہم نے صالح کو اور ان کے ساتھ والے مؤمنوں کو اپنی رحمت کے سبب بچا لیا اور اس روز کی رسوائی (یعنی ہلاکت) سے محفوظ رکھا۔
ان ربک ھو القوي العزیز بلاشبہ تمہارا رب ہر شے پر قادر اور غالب ہے۔
Ayah 11:67واخذ الذین ظلموا الصیحۃ اور جن لوگوں نے ظلم یعنی کفر کیا تھا ‘ ان کو ایک چیخ نے پکڑ لیا۔
یعنی حضرت جبرئیل نے ایک چیخ ماری ‘ یا آسمان سے ایک کڑک دار چیخ آئی اور زمین سے بھی ایک گرجدار چیخ نکلی جس کی وجہ سے ان کے دل پھٹ گئے۔
فاصبحوا فی دیارھم جٰثمین۔ اور سب اپنے گھروں میں مردہ ہوگئے (یعنی صبح کو مرے کے مرے رہ گئے۔ مترجم)
Ayah 11:68کان لم یغنوا فیھا گویا گھروں میں رہتے ہی نہ تھے۔
الا ان ثمود اکفروا ربھم الا بعد الثمود۔ خوب سن لو ! (قوم) ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔
خوب سن لو ! (قوم) ثمود کو رحمت سے دوری ہوئی۔
Ayah 11:69ولقد جآءت رسلنا ابرھیم بالبشری اور یقیناً پہنچے ہمارے قاصد (ملائکہ) ابراہیم کے پاس (اسحق اور یعقوب بن اسحاق کی پیدائش یا قوم لوط کی ہلاکت کی) خوشخبری لے کر۔ بقول حضرت ابن عباس وعطاء ‘ یہ ملائکہ تین تھے : حضرت جبرئیل ‘ حضرت میکائیل ‘ حضرت اسرافیل۔ محمد بن کعب نے کہا : حضرت جبرئیل اور ان کے ساتھ دوسرے سات ملائکہ تھے۔ ضحاک نے کہا : نو تھے۔ مقاتل نے کہا : بارہ تھے۔ سعدی نے کہا : گیارہ تھے۔ سب ملائکہ خوبصورت لڑکوں کی شکل میں پہنچے تھے۔
قالوا سلمًا قال سلمٌ فرشتوں نے کہا : (ہم آپ کو) سلام (کرتے ہیں) ابراہیم نے کہا : (تم پر بھی) سلام (ہو) فرشتوں نے جملہ فعلیہ استعمال کیا جو حدوث فعلی اور زمانے کو بتارہا ہے اور حضرت ابراہیم نے سلامٌ کہہ کر جملہ اسمیہ کیا جو استمرار و دوام پر دلالت کر رہا ہے۔ حضرت ابراہیم کا جواب فرشتوں کے سلام سے بہتر تھا۔
بعض علماء کے نزدیک سلامًا سے مراد ہے صلح و سلامتی ‘ یعنی ہماری تم سے دشمنی اور جنگ نہیں ہے ‘ دوستی اور صلح ہے۔
فما لبث ان جآء بعجل حنیذ حنیذ گرم پتھر پر بھنا ہوا۔ قاموس میں ہے : حَند الشَاۃ (ماضی) __ یَحْنِذُ (مضارع) حَنْدًا یا تَحْنَاذًا (دونوں مصدر) بکری کا گوشت بھوننا ‘ گوشت پر گرم پتھر بھوننے کے لئے رکھ دے۔ حَنِیْذٌ (صفت مشبہ بمعنی اسم مفعول) بھونا ہوا۔
بعض نے کہا : حنیذکا ترجمہ ہے : چربی ٹپکتا ہوا۔ حَنَدْتُ الْفَرَسَمیں نے گھوڑے پر جھول ڈال کر اس کے بدن سے پسینہ نکال دیا۔ قاموس میں ہے : حَنَدْتُ الْفَرَسَ گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اس کو ایک مخصوص حد تک دوڑایا ‘ پھر اس پر تہہ بہ تہہ جھول ڈال کر دھوپ میں کھڑا کردیا تاکہ خوب پسینہ آجائے۔
مؤخر الذکر ترجمہ پر بطور مجاز فربہ بچھڑا مراد ہوگا اور دوسری آیت میں جو بعجلٍ سمینٍ آیا ہے ‘ اس سے معنیً مطابقت ہوجائے گی۔ قتادہ نے کہا : حضرت ابراہیم کا اکثر مال گائیں تھیں (یعنی آپ بطور ذخیرہ گائے پالتے تھے) ۔
Ayah 11:70فلما را ایدیھم لاتصل الیہ نکرھم جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ کھانے کی طرف راغب نہیں ہیں تو ان سے اجنبیت محسوس کی۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ نَکِرَ (ثلاثی ‘ مجرد باب سمع) اور اَنْکَرَ (ثلاثی ‘ مزید باب افعال) اور استَنْکَرَ (باب استفعال) ہم معنی ہے۔ قاموس میں ہے : تَنُکُّرٌ (باب تفعل) خوشگوار حالت سے بدل کر کسی کا ناگوار حالت پر پہنچ جانا۔
واوجس منھم خیفۃ اور محسوس کیا اپنے دل میں ان کی طرف سے خوف۔ قاموس میں ہے : اَوْجَسَ محسوس کیا اور دل میں چھپایا۔ مقاتل نے کہا : اَوْجَسَ یعنی حضرت ابراہیم کے دل میں پیدا ہوگیا۔ بغوی نے لکھا ہے : وجوسٌ کا اصل (لغوی) معنی ہے داخل ہونا۔ یعنی خوف حضرت ابراہیم کے دل میں داخل ہوگیا۔
مِنْھُمْ مہمانوں کی طرف سے دل میں خوف محسوس کیا۔ قتادہ نے کہا : اس زمانہ میں ان لوگوں کا دستور تھا کہ اگر مہمان میزبان کا کھانا نہیں کھاتے تھے تو میزبان خیال کرتا تھا کہ یہ لوگ برے ارادے سے آئے ہیں ‘ ان کی نیت بخیر نہیں ہے۔ رات کو آنے والے مہمان کو کھانا پیش کیا جاتا ‘ اگر وہ کھا لیتا تو گھر والے اس کی طرف سے بےخوف ہوجاتے اور نہ کھاتا تو ڈرنے لگتے کہ کہیں یہ چور تو نہیں کہ لوٹنے آیا ہو۔ حضرت ابراہیم کو بھی مہمانوں کی طرف سے برے ارادے کا اندیشہ ہوا۔ صحیح ظاہر مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو یہ تو معلوم ہوگیا کہ وہ ملائکہ ہیں کیونکہ انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھائے (مگر آپ کو یہ خوف ہوا کہ کہیں اللہ کو میری کوئی حرکت پسند نہ آئی ہو اور فرشتے کوئی مصیبت ڈالنے کیلئے بھیجے گئے ہوں ‘ یا ان کی قوم پر عذاب نازل کرنے کیلئے مقرر کئے گئے ہوں۔
قالوا لا تخف انا ارسلنا الی قوم لوط۔ ملائکہ نے کہا : آپ (اپنے یا اپنی قوم کے متعلق۔ مترجم) کوئی خوف نہ کریں ‘ ہم کو تو قوم لوط کی طرف (ان پر عذاب نازل کرنے کیلئے) بھیجا گیا ہے۔
Ayah 11:71وامراتہ قآئمۃ اور ابراہیم کی بیوی (سارہ بنت ہاران بن ناخور جو حضرت ابراہیم کے چچا کی بیٹی تھی) کھڑی ہوئی تھی۔
پردہ کے پیچھے سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم بیٹھے ہوئے تھے اور بیوی کھڑی مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی۔
فضحکت پس۔ حضرت سارہ بشارت سن کر ہنس پڑیں __ مجاہد اور عکرمہ نے ترجمہ کیا ہے : اس کو اسی وقت حیض ہوگیا۔
عرب بولتے ہیں : ضَحِکَتِ الارنب خرگوش کو حیض ہوگیا۔ قاموس میں بھی یہی ہے۔ ضحکت السمرۃُ کیکر کے درخت سے گوند بہنے لگا۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک اس جگہ ضحکت سے مراد ہنس دینا ہی ہے۔ ہنسنے کا سبب کیا تھا ‘ علماء نے اس کے مختلف اسباب بیان کئے ہیں۔
1) خوشی کی وجہ سے ہنس پڑی تھیں۔ فرشتوں نے جب لا تخف کہا تو حضرت ابراہیم کا خوف بھی جاتا رہا اور بیوی کا بھی۔ اس سے خوشی ہوئی اور خوشی سے ہنسی۔
2) سدی نے کہا : ہنسی کا سبب تعجب تھا۔ حضرت ابراہیم نے کھانا پیش کیا ‘ مہمانوں نے نہیں کھایا۔ حضرت ابراہیم کو ان کی طرف سے خوف ہوا ‘ خیال کیا کہ کہیں یہ چور نہ ہوں۔ پوچھا : کیوں نہیں کھاتے ؟ مہمانوں نے کہا : ہم بغیر قیمت (ادا کئے) نہیں کھاتے۔ حضرت ابراہیم نے کہا : تو اس کی قیمت دے دو ۔ مہمانوں نے پوچھا : قیمت کیا ہے ؟ حضرت ابراہیم نے کہا : کھانے سے پہلے بسم اللہ کہنا اور کھانے کے بعد الحمد اللہ کہنا۔ یہ جواب سن کر حضرت جبرئیل نے حضرت میکائل کی طرف دیکھا اور کہا : اس شخص کو حق ہے کہ اللہ اس کو اپنا خلیل بنا لے۔ اس کے بعد بھی حضرت ابراہیم اور حضرت سارہ نے مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہ دیکھے تو حضرت سارہ تعجب سے ہنس دیں اور بطور تعجب کہا : ہم ان مہمانوں کی خدمت کر رہے ہیں ‘ ان کے اعزاز میں کھانا پیش کر رہے ہیں ‘ تعجب ہے کہ یہ نہیں کھاتے۔
3) قتادہ نے کہا : اس بات پر ہنسیں کہ قوم لوط پر عذاب قریب آگیا اور وہ غفلت میں پڑی ہے۔
4) بیوی کو اس بات پر ہنسی آئی کہ میں نے حضرت ابراہیم سے جو بات پہلے کہی تھی ‘ وہ ہی آخر صحیح نکلی۔ بیوی نے حضرت ابراہیم سے کہا تھا کہ لوط کو اپنے پاس بلا لیجئے ‘ مجھے نظر آ رہا ہے کہ اس کی قوم پر عذاب آئے گا۔
5) مقاتل اور کلبی نے کہا : بیوی کو اس بات پر ہنسی آئی کہ یہ تو تین شخص ہیں جن سے حضرت ابراہیم ڈر رہے ہیں اور حضرت ابراہیم کے ساتھ تمام نوکر چاکر ‘ خدمت گار موجود ہیں ‘ پھر ڈرنے کے کیا معنی۔
6) بیٹے اور پوتے کی بشارت اور قوم لوط کے ہلاک ہونے کی خبر سن کر خوشی سے ہنس پڑیں۔
7) حضرت ابن عباس اور وہب کا قول ہے کہ اس بات پر ان کو تعجب ہوا کہ میرا شوہر بوڑھا اور میں بوڑھی ‘ ایسی حالت میں اولاد ہونا عجیب بات ہے۔ اور عبارت میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے وامْرَأَتُہٗ قَآءِمَۃٌکے بعد ہے۔
فبشرنھا باسحٰق ومن ورآء اسحٰق یعقوب (علیہ السلام) پس ہم نے عورت کو اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے (اسحق کے بیٹے) یعقوب کے پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اس کے بعد ہے فَضَحِکَتْ یعنی یہ بشارت سن کر وہ ہنس پڑیں۔
عورت کو خصوصیت کے ساتھ بشارت دینے کی تین وجوہ تھیں :
1) یہ بتانا مقصود تھا کہ اسحاق و یعقوب تیری نسل سے ہوں گے ‘ کسی دوسری عورت سے حضرت ابراہیم کی یہ نسل نہ ہوگی۔
2) اولاد ہونے کی خوشی مردوں سے زیادہ عورتوں کو ہوتی ہے۔
3) بیوی بانجھ تھی اور اولاد سے ناامید ‘ اسلئے اس کو بشارت دی گئی کہ تیرے لڑکا ہوگا اور پوتا بھی تیرے سامنے ہی ہوجائے گا ‘ تو پوتے کا منہ بھی دیکھ لے گی۔ جب بیوی کو اولاد کی بشارت دی گئی تو اس نے منہ پیٹ لیا اور کہا :
Ayah 11:72قالت یٰویلتٰٓی الدو انا عجور وھذا بعلي شیخًا ان ھذا الشيء عجیب۔ کہنے لگیں : کیا خوب ‘ بھلا اس بڑھاپے میں ہمارے بچے ہوں گے ؟ یہ بڑے اچھنبے کی بات ہے۔
یٰوَیْلَتٰٓی کلمۂ تعجب ہے۔ اصل لغت میں یہ کلمۂ نوحہ ہے (جو کسی کے مرنے پر کہا جاتا ہے) پھر ہر مصیبت اور قابل تعجب چیز میں اس کا استعمال کیا جانے لگا۔ حضرت ابراہیم کی بیوی کی عمر اس وقت بقول ابن اسحاق 90 سال اور بقول مجاہد 99 سال تھی۔
بَعْلشوہر۔ اصل میں کسی کام کے منتظم کو بَعْلکہا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم کی عمر اس وقت بقول ابن اسحاق 120 برس اور بقول مجاہد 100 سال تھی ‘ اور بشارت سے ایک سال بعد بچہ پیدا ہوگیا تھا۔
Ayah 11:73قالوا اتعجبین من امر اللہ فرشتوں نے کہا : کیا اللہ کے حکم پر تجھے تعجب ہو رہا ہے ؟ حکم سے مراد ہے اللہ کی قدرت اور قضاء۔ یعنی اللہ کی قدرت پر تجھے تعجب نہ ہونا چاہئے ‘ کیونکہ اللہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے : ہوجا ‘ پس وہ چیز ہوجاتی ہے۔
ایک شبہ : تعجب نام ہے اس حالت کا جو کسی انوکھے اور غیر معمولی امر کو دیکھنے کی وجہ سے انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ اور اولاد کی بشارت تھی بھی انوکھی ‘ غیر معمولی چیز۔ لیکن کسی امر کے غیر معمولی اور انوکھے ہونے سے یہ بات تو نہیں کہی جاسکتی کہ وہ اللہ کی قدرت سے باہر ہے۔ ہر نادر امر اللہ کی قدرت میں داخل ہے اور اس پر تعجب کرنا نامناسب (اور خلاف فطرت۔ مترجم) بھی نہیں ہے۔ پھر فرشتوں نے حضرت ابراہیم کی بیوی کے تعجب کا انکار کیوں کیا (اور اس کو نازیبا کیوں قرار دیا۔ مترجم)
ازالہ : کاشانۂ نبوت اور مہبط وحی و معجزات میں رہنے والوں کے خصوصی مرتبہ کا تقاضا تھا کہ (روزمرہ) ہونے والے غیرمعمولی واقعات اور خارق عادت حوادث ان کیلئے غیر معمولی اور کوئی اچھنبے کی چیز نہ ہوں ‘ نہ ان کو ان پر کوئی تعجب کرنا چاہئے۔ کوئی ہوش مند (مؤمن) ایسے نادر واقعات پر (روزمرہ دیکھنے کی وجہ سے) تعجب نہیں کرسکتا۔ حضرت ابراہیم کی بیوی کی تو ساری عمر ایسے نشانہائے قدرت دیکھنے ہی میں بیتی تھی ‘ ان کا تعجب کرنا تو بہت ہی زیادہ تعجب آفریں تھا۔
رحمت اللہ وبرکتہ علیکم اھل البیت اے اہل خانہ ! تم پر اللہ کی رحمت اور اسکی برکتیں (نازل) ہیں (یا ہوں)
بعض علماء نے کہا : یہ جملہ دعائیہ ہے۔ بعض نے کہا : خبریہ ہے (ہم نے دونوں ترجمے کر دئیے ہیں۔ مترجم) رحمت سے مراد ہے نعمت یا محبت اور برکت سے مراد ہے ہر خیر کی ترقی اور بڑھوتری۔ بعض علماء کے نزدیک رحمت سے مراد ہے نبوت اور برکات سے مراد ہیں بنی اسرائیل کے (بارہ) خاندان ‘ کیونکہ تمام انبیاء بنی اسرائیل حضرت سارہ کی نسل سے ہوئے ہیں۔
رحمت اللہ الخ مستقل جملہ ہے اور رفع تعجب کی علت ہے۔ مطلب یہ کہ اے اہل خانہ ! تم کو بشارت اولاد پر تعجب نہ کرنا چاہئے۔ اللہ کی ایسی رحمتیں اور برکتیں تو تمہارے لئے بکثرت موجود ہیں۔ اَھْلَ الْبَیْتِ میں لازم کا زبر فعل مدح کے محذوف ہونے کی وجہ سے ہے ‘ یا نداء کی وجہ سے ‘ یا فعل تخصیص مقدر ہونے کی وجہ سے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل نہ تھیں۔ آیت میں شیعہ کے اس قول کی تردید ہے (حضرت سارہ کو اہل بیت کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے) لغت کے لحاظ سے اہل خانہ تو بیویاں ہی حقیقت میں ہوتی ہیں ‘ دوسرے لوگوں کو تو تبعاً اہل بیت کہا جاتا ہے۔
انہ حمید مجید۔ وہ نہایت قابل ستائش ‘ بڑی ہی شان والا ہے۔
حَمِیْدٌ یعنی مستحق ستائش کام کرنے والا۔ مجد کے معنی جوہری نے صحاح میں لکھے ہیں : (ذاتی) بزرگی اور (افادی) کرم کی وسعت۔ کریم اللہ کی صفت بھی ہے اور انسان کی بھی۔ اللہ کے کرم کا معنی ہے : احسان اور پیہم عطائے نعمت ‘ اور انسان کے کریم ہونے کا معنی ہے : اس کے اخلاق و افعال کا قابل ستائش ہونا۔ جب تک اخلاق حمیدہ کا ظہور انسان سے نہ ہوگا ‘ اس کو کریم نہیں کہا جاسکتا۔
بغوی نے لکھا ہے : (لغت میں) مجد کا اصل معنی ہے بلندئ شان۔ بیضاوی نے مجید کا ترجمہ کیا ہے : کثیر الخیر والاحسان۔ قاموس میں ہے : مجید بلند شان والا۔ کریم شرف والا ‘ فعال۔
Ayah 11:74فلما ذھب عن ابرھیم الروع پھر جب ابراہیم (کے دل) سے خوف جاتا رہا اور گھبراہٹ دورہو گئی۔
وجآء تہ البشرٰی اور اس کے پاس (اسحق و یعقوب کی) بشارت آگئی۔ یعنی خوف کی جگہ بشارت نے لے لی۔
یجادلنا تو ہم سے جھگڑنے لگا۔ یعنی ہم سے کلام کرنے لگا۔ حضرت ابراہیم کا اپنے رب سے جھگڑا کرنا تو ممکن ہی نہ تھا ‘ اس لئے جھگڑنے سے مراد ہے سوال اور دعا کرنا۔
عام اہل تفسیر نے (مضاف کو محذوف مانا ہے اور) مطلب بیان کیا ہے : ہمارے قاصدوں سے جھگڑنے لگا۔
فی قوم لوط۔ قوم لوط کے بارے میں۔ حضرت ابراہیم نے ملائکہ سے فرمایا : اگر لوط کی بستیوں میں پچاس مؤمن ہوں گے تو کیا تم ان کو ہلاک کر دو گے ؟ فرشتوں نے جواب دیا : نہیں۔ فرمایا : اگر چالیس ہوں ؟ فرشتوں نے کہا : نہیں (ہلاک کریں گے) فرمایا : اگر تیس ہوں ؟ فرشتوں نے کہا : نہیں۔ اسی طرح آپ پانچ تک پہنچے اور فرشتے نہیں کہتے رہے۔ آخر آپ نے فرمایا : اگر وہاں ایک مسلمان ہوگا تو کیا تم اس کو ہلاک کر دو گے ؟ فرشتوں نے کہا : نہیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا : تو وہاں لوط موجود ہے (اسلئے تم ان بستیوں کو ہلاک نہ کرو) فرشتوں نے کہا : ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون (کون مؤمن) ہے۔ ہم حضرت لوط کو اور ان کی بیوی کے علاوہ دوسرے گھر والوں کو بچا لیں گے۔ ان کی بیوی پیچھے رہ جانے (اور ہلاک ہوجانے) والے لوگوں میں شامل ہوگی۔
Ayah 11:75ان ابرھیم لحلیم اواہ منیب۔ واقعی ابراہیم بڑے حلیم الطبع ‘ رحیم المزاج ‘ رقیق القلب تھے۔
لَحَلِیْمٌ سے مراد ہے مجرم سے انتقام لینے میں جلدی نہ کرنے والا (بردبار ‘ متحمل مزاج) اَوَّاہٌ گناہوں پر بہت زیادہ آہ آہ کرنے والا ‘ اور لوگوں کی حالت پر بڑا افسوس کرنے والا) ۔ مُنِیْبٌ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا۔ قاموس میں ہے : اَوَّاہٌ یقین کرنے والا ‘ یا بہت دعا کرنے والا ‘ یا مہربان ‘ نرم دل ‘ یا دانش مند۔ حبشی زبان میں اَوَّاہٌ کا معنی ہے : مؤمن۔
حضرت ابراہیم نے قوم لوط کو ہلاک نہ کرنے کے متعلق جو ملائکہ سے جھگڑا کیا ‘ اس کی وجہ آپ کے یہ تین اوصاف تھے : آپ کا دل نرم تھا ‘ آپ کے دل میں بڑا جذبۂ رحم تھا ‘ آپ مجرم سے انتقام لینے میں عجلت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ آخر حضرت ابراہیم کے جواب میں فرشتوں نے کہا :
Ayah 11:76یا ابراھیم اعرض عن ھذا انہ قد جآء امر ربک ابراہیم ! یہ جھگڑا چھوڑو (قضاء ازلی کے موافق قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا) تمہارے رب کا حکم ہوچکا۔
وانھم ایتھم عذاب غیر مردود۔ اور ان پر عذاب ضرور آئے گا جو لوٹایا نہیں جاسکتا ‘ نہ جھگڑے سے ‘ نہ دعا سے ‘ نہ کسی اور طرح سے۔
Ayah 11:77ولما جآءت رسلنا لوطا اور جب ہمارے قاصد (یعنی وہی ملائکہ) لوط کے پاس پہنچے۔ نوخیز ‘ خوبصورت ‘ بےڈاڑھی مونچھ کے لڑکوں کی شکل میں۔
سیء بھم تو لوط کو ان کا آنا ناگوار ہوا۔ حضرت لوط ان کو آدمی سمجھے ‘ اسلئے (قوم کی طرف سے خطرے کے زیراثر) آپ کو فکر ہوگئی کہ کہیں قوم والے کچھ ناشائستہ ارادہ نہ کریں اور میں ان کو دفع کرنے پر قادر نہ ہوں۔
وضاق بھم ذرعًا ان قاصدوں کی وجہ سے لوط دل تنگ ہوئے۔
بغوی نے ذرع کا ترجمہ کیا ہے : دل۔ بیضاوی نے لکھا ہے : ان کی موجودگی سے حضرت لوط کا سینہ تنگ ہوگیا۔ یعنی آنے والی مصیبت کو دفع کرنے کی قوت نہ تھی اور کوئی تدبیر نظر نہ آتی تھی ‘ اسلئے آپ کے دل میں کوفت پیدا ہوگئی کہ اب کیا کروں۔ میں کہتا ہوں : ذرع کا لغت میں معنی ہے : بانہہ یا کلائی ‘ مجازاً قوت مراد ہوتی ہے۔ یَدْسے بھی بطور مجاز قوت مراد ہوتی ہے ‘ یہاں مراد یہ ہے کہ ان کی قوت مدافعت سے عاجز ہوگئی۔ کذا فی القاموس
وقال ھذا یوم عصیب۔ اور کہا : یہ بڑا سخت دن ہے۔
قتادہ اور سدی کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم کے پاس سے نکل کر فرشتے حضرت لوط کے پاس ان کی بستی میں دوپہر کے وقت پہنچے۔ حضرت لوط اپنی زمین میں کچھ کام کر رہے تھے یا لکڑیاں جمع کرنے جنگل کو گئے تھے اور اللہ نے حکم دے دیا تھا کہ جب تک چار مرتبہ حضرت لوط اپنی قوم کے خلاف شہادت نہ دے دیں ‘ تم ان کو ہلاک نہ کرنا۔ فرشتوں نے حضرت لوط کے پاس بطور مہمان رکنا چاہا۔ حضرت لوط ان کو لے کر چل دئیے۔ تھوڑی دیر چلے تھے کہ آپ نے مہمانوں سے پوچھا : تم کو اس بستی کی حالت بھی معلوم ہے ؟ فرشتوں نے پوچھا : ان کی کیا حالت ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس زمین پر سب سے زیادہ بدعمل بستی ہے۔ حضرت لوط نے یہ الفاظ چار مرتبہ کہے۔ غرض ملائکہ آپ کے ساتھ آپ کے گھر آگئے۔ یہ بھی منقول ہے کہ آپ لکڑیاں اٹھائے آ رہے تھے اور فرشتے پیچھے پیچھے تھے۔ قوم کی ایک جماعت کی طرف سے گذر ہوا ‘ ان لوگوں نے آپس میں آنکھ ماری۔ حضرت لوط نے فرمایا : اللہ کی مخلوق میں میری قوم سب سے زیادہ بری ہے۔ اسی طرح دوسری جماعت کی طرف سے گذر ہوا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور حضرت نے یہی فرمایا۔ تیسری جماعت کا قصہ بھی یونہی ہوا۔ حضرت لوط جب بھی مذکورہ الفاظ زبان سے ادا کرتے تھے ‘ حضرت جبرئیل فرشتوں سے کہتے تھے : گواہ رہو۔ آخر حضرت لوط اپنے گھر پہنچ گئے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ فرشتے حضرت لوط کے گھر (پوشیدہ طور سے) آئے تھے اور گھر والوں کے سوا کسی کو ان کا آنا معلوم نہ تھا۔ حضرت لوط کی بیوی نے جا کر اپنی قوم کو اطلاع دی کہ حضرت لوط کے گھر ایسے لوگ آئے ہیں کہ ان سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی آدمی نہیں دیکھا۔
Ayah 11:78وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ اور لوط کے پاس اس کی قوم والے لپکتے ہوئے آئے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ نے ترجمہ کیا ہے : تیز تیز آئے۔ مجاہد نے کہا : لپکتے آئے۔ شمر بن عطیہ نے کہا : تیز چال اور لپکنے کے درمیان چال سے آئے۔ حسن نے کہا : دونوں چالوں کے درمیانی رفتار سے آئے۔ صاحب قاموس نے ہرع کا ترجمہ کیا ہے : ایسی چال جس میں جھپک اور تیزی ہو۔
یُھْرَعُوْنَ (فعل مجہول) انتہائی سرعت و اضطراب پر دلالت کر رہا ہے ‘ گویا کوئی (اندرونی یا بیرونی قوت) ان کو تیز تیز لئے جا رہی تھی۔
ومن قبل کانوا یعملون السیاٰت اور اس سے پہلے بھی وہ بری حرکتیں کرتے رہے تھے۔ مردوں سے لواطت کرتے
تھے اور طرح طرح کی فحش حرکتوں کے عادی تھے ‘ بےحیا ہوگئے تھے ‘ اسی لئے ایسے برے ارادے سے علی الاعلان لپکتے جھپکتے آئے تھے۔
قال یٰقوم ھؤلاآ بناني لوط نے کہا : اے میری قوم ! یہ میری لڑکیاں ہیں۔ یعنی تم ان سے نکاح کرلو۔ پہلے حضرت کی لڑکیوں سے نکاح کرنے کی درخواست قوم والوں نے کی تھی مگر ان کی بدکاریوں کو دیکھ کر آپ نے انکار کردیا تھا۔ درخواست کو رد کردینے کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ کافر تھے ‘ کافروں سے نکاح کی حرمت تو شریعت اسلامیہ میں بعد کو ہوئی ہے ‘ پہلے ازدواجی رشتہ کافر و مؤمن کا جائز تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دونوں صاحبزادیوں کا رشتہ عتبہ بن ابی لہب اور ابو العاص بن ربیع سے نزول ممانعت سے پہلے کیا تھا۔ حسین بن فضل نے کہا : حضرت لوط نے اپنی لڑکیوں سے نکاح کی پیشکش ان کے مسلمان ہوجانے کی شرط پر کی تھی۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا : بناتی سے قوم کی ساری عورتیں مراد ہیں ‘ ہر نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے۔ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں آیت النَّبِیُّ اَوْلٰی بالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھَاتُھُمْ کے آخر میں وَھُوَاَبٌ لَھُمْ بھی آیا ہے ‘ اس سے قول کی تائید ہوتی ہے۔ اس قول کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت لوط کی لڑکیاں دو تھیں اور لڑکوں کی طلبگار پوری جماعت تھی ‘ دو لڑکیوں کا ایک جماعت سے نکاح کیسے ممکن تھا۔ جو لوگ بنات سے مراد حضرت لوط کی لڑکیاں لیتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ قوم لوط کے د و سردار تھے ‘ سب لوگ ان کا حکم مانتے تھے ‘ انہی دونوں سے آپ نے اپنی لڑکیوں کا نکاح کرنا چاہا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت لوط نے جو ھٰٓؤُ لاآءِ بَنَاتِیْ فرمایا اس سے (نکاح کی حقیقتاً پیشکش مقصود نہ تھی بلکہ) مقصد تھا قوم والوں کی بدترین خباثت کا اظہار اور دفاع۔
ھن اطھر لکم وہ زیادہ پاک ہیں تمہارے لئے (اس کا یہ مطلب نہیں کہ لواطت پاک ہے اور امرد پرستی سے لڑکیوں سے نکاح زیادہ پاک ہے) مطلب یہ کہ تمہارے لئے اس فعل میں زیادہ نظافت ہے ‘ یا اس میں بےحیائی کم ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کہے کہ چھینے ہوئے مال سے تو مردار زیادہ پاک اور زیادہ حلال ہے (ظاہر ہے کہ حلال نہ مردار ہے نہ مال مغصوب ‘ مگر مال مغصوب کی زیادہ برائی ظاہر کرنے کیلئے ایسا جملہ بولا جاتا ہے) ۔
فاتقوا اللہ پس اللہ سے ڈرو۔ یعنی ان بےحیائی کے کاموں کو ترک کرو۔
ولا تخزون اور مجھے رسوا نہ کرو۔ یہ لفظ یا خزی سے بنا ہے ‘ خزی کا معنی ہے رسوائی (اس کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے)
یا خزایتہ سے بنا ہے ‘ خزایتہ کا معنی ہے حیا۔ یعنی مجھے شرمندہ نہ کرو۔
فی ضیفی میرے مہمانوں کے مقابلہ میں۔ مہمان کو ذلیل کرنے کا معنی ہے میزبان کو ذلیل کرنا۔
الیس منکم رجل رشید کیا تم میں کوئی بھی ہدایت یافتہ نہیں جو حق پر چلے اور بری حرکتوں سے پرہیز کرے۔
ابن اسحاق نے رَّشِیْد کا ترجمہ کیا ہے : بھلائی کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا۔
Ayah 11:79قالوا لقد علمت ما لنا فی بنتک من حق قوم والوں نے کہا : (لوط ! ) تم جانتے ہو کہ تمہاری لڑکیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ یعنی وہ ہماری بیویاں نہیں ‘ ان سے ہمارا نکاح نہیں ہوا کہ ہم ان کے حقدار بن جائیں۔
بعض علماء نے اس جملہ کا یہ مطلب بیان کیا کہ تمہاری لڑکیوں کی ہم کو کوئی ضرورت نہیں۔
وانک لتعلم ما نرید اور ہمارا جو کچھ ارادہ ہے ‘ اس کو تم یقیناً جانتے ہو۔ یعنی ہم لڑکوں کو چاہتے ہیں۔
Ayah 11:80قال لو ان لی بکم قوۃ لوط نے (ان سے) کہا : اگر میرے (بدن کے) اندر تم کو دفع کرنے کی طاقت ہوتی ‘ تو میں بچاؤ کرلیتا (تم کو دفع کردیتا) ۔
او اوي الی رکن شدید یا میں کسی مضبوط پایہ کی پناہ پکڑ سکتا۔ یعنی یا میرے خاندان طاقتور ہوتا اور مجھے برادری کی طاقت حاصل ہوتی تو میں برادری کی قوّت پر تم سے اپنی حفاظت کرلیتا۔ رُکْنٍ شَدِیْدٍ : (مضبوط تھم) سے قوت و استحکام میں اپنے خاندان کو تشبیہ دی۔ اس سے مراد ہے : قوی پہلو۔ صاحب قاموس نے رکن کے معنی لکھے ہیں : قوی ترین پہلو۔ قوت کے تمام اسباب جیسے حکومت ‘ فوج ‘ عزت ‘ غلبۂ اقتدار۔ بخاری و مسلم نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ میرے بھائی لوط پر رحم فرمائے ‘ وہ رکن شدید کی پناہ لینے کے خواستگار ہوئے تھے۔ دوسری روایت میں رحم فرمائے کی جگہ معاف فرمائے کا لفظ آیا ہے۔
ابن عساکر اور اسحاق نے بسند جریر و مقاتل بروایت ضحاک ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے اور بغوی نے بھی یہی بیان کیا ہے کہ حضرت لوط نے دروازہ بند کرلیا۔ ملائکہ اندر گھر میں تھے اور دروازہ کے اندر سے ہی آپ قوم والوں سے جھگڑا کر رہے تھے اور ان کو قسمیں دے رہے تھے۔ وہ لوگ سب دروازہ کے باہر تھے ‘ آخر وہ لوگ دیوار پھاند کر اندر جانے کی تدبیر کرنے لگے۔ جب ملائکہ نے حضرت لوط کی یہ حالت دیکھی تو :
Ayah 11:81قالوا یلوط انا رسل ربک لن یصلوا الیک انہوں نے کہا : لوط ! ہم آپ کے رب کے فرستادہ ہیں ‘ ان لوگوں کی دسترس آپ تک ہرگز نہیں ہو سکے گی۔ دروازہ کھول دیجئے اور ہم کو ان سے نبٹنے دیجئے۔ حضرت لوط نے دروازہ کھول دیا ‘ وہ لوگ اندر گھس آئے۔ حضرت جبرئیل نے اپنے رب سے عذاب نازل کرنے کی اجازت طلب کی ‘ اجازت مل گئی تو انہوں نے اپنی وہی صورت اختیار کرلی جو ان کی (عموماً اور معمولاً ) ہوتی ہے۔ پَر پھیلا دئیے ‘ موتیوں کا ہار پہنے ‘ چمکدار دانت ‘ جھلکتی پیشانی ‘ سر کے بال گھنگریالے ‘ برف کی طرح سفید اور دونوں پاؤں مائل بہ سبزی (یہ شکل تھی حضرت جبرئیل کی) پھر جبرئیل نے اپنا ایک پَر ان لوگوں کے منہ پر مارا جس کی وجہ سے ان کی آنکھیں پٹ نابینا ہوگئیں ‘ گھروں کا راستہ بھی سجھائی نہیں دیتا تھا ‘ فوراً یہ کہتے ہوئے پلٹ پڑے : بھاگو بھاگو ‘ لوط کے گھر میں روئے زمین کے سب سے بڑے جادوگر آئے ہیں جنہوں نے ہم پر جادو کردیا۔ پھر حضرت لوط سے کہنے لگے : ذرا ٹھہرو ‘ صبح ہونے دو کل صبح ہم تم سے سمجھیں گے ‘ صبح کو تم کو پتہ چل جائے گا۔ حضرت لوط نے فرشتوں سے قوم والوں کے ہلاک ہونے کی میعاد دریافت کی۔ فرشتوں نے کہا : صبح کو ___ حضرت لوط نے کہا : میں اس سے بھی جلد چاہتا ہوں۔ ابھی ان کو ہلاک کردو تو بہتر ہے۔ فرشتوں نے کہا : کیا صبح قریب نہیں ہے ؟
فاسر باھلک بقطع من الیل آپ اپنے گھر والوں کو لے کر کچھ رات سے ہی چل دئیے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے قطع کا ترجمہ کیا ہے : ایک ٹکڑا۔ ضحاک نے کہا : بقیۂ شب۔ قتادہ نے کہا : اوّل رات گذرنے کے بعد۔ بعض نے فجر اوّل (صبح کاذب) ۔
ولا یلتفت منکم احد اور تم میں سے کوئی پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھے۔ یعنی کوئی تمہارے ساتھ سے مڑ کر پیچھے نہ رہ جائے۔
قاموس میں ہے : لَفَتَہٗ اس کو موڑ دیا ‘ رائے سے پھیر دیا۔ التفات (افتعال) اور تَلَفَّت (تَفَعُّل) اسی سے بنا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ثلاثی مجرد (لفت) متعدی ہے اور ثلاثی مزید (افتعال اور تفعل) لازم۔ بعض نے لا یلتفت کا ترجمہ کیا ہے : کوئی پیچھے کو نہ دیکھے۔ رات سے سب کو لے کر نکلنے کا حکم تو حضرت لوط کو دیا گیا اور منہ پھیر کر پیچھے کو نہ دیکھنے یا مڑ کر پیچھے نہ رہ جانے کا حکم حضرت لوط کے ساتھ والوں کو دیا گیا۔
الا امراتک مگر اپنی عورت کو (ساتھ لے کر نہ نکلو) یا سوائے تمہاری عورت کے اور کوئی مڑ کر پیچھے کو نہ دیکھے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ الاَّ امْرَأَتَکَ کا استثناء فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ سے ہے۔ یعنی بیوی کو ساتھ نہ لو ‘ قوم کے ساتھ چھوڑ دو ۔ اس کا میلان قوم کی طرف ہے۔ اس مطلب کی تائید حضرت مسعود کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت ابن مسعود کی روایت میں آیت اس طرح ہے : فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ الاَّ امْرَأَتَکَ وَلاَ یَلْتَفِتُ مِنْکُمْ اَحَدٌ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ زوجۂ لوط کو ساتھ لے کر نکلنے کے متعلق دو روایتیں ہیں : ایک روایت میں ساتھ لے نکلنا مذکور ہے ‘ اس وقت ساتھ والوں کو حکم دیا گیا تھا کہ کوئی مڑ کر پیچھے نہ دیکھے یا پیچھے نہ رہ جائے ‘ مگر عورت نے منہ پھیر کر اپنی قوم کی طرف دیکھا اور (ان کو ہلاک ہوتے دیکھ کر) کہا : ہائے میری قوم والے (تباہ ہوگئے) ۔ دوسری روایت میں ہے کہ عورت کو کافروں کے ساتھ چھوڑ کر جانے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ عورت کا قلبی جھکاؤ قوم کی طرف تھا۔ اسی اختلاف روایت کی وجہ سے الاَّ امْرَٰاتَکَ کے اعراب میں اختلاف منقول ہے۔ ایک میں الاَّ امْرَٰاتُکَ آیا ہے اور دوسری روایت میں الاَّ امْرَٰاتَکَ ۔ کذا قال صاحب المدارک۔
اور چونکہ دونوں روایتوں کی بنا پر مفہوم حکم میں تضاد ہوجاتا ہے اور اس تضاد کو دور نہیں کیا جاسکتا ‘ اس لئے ایک روایت یقیناً غلط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیضاوی نے صراحت کی ہے کہ کوئی قرأت بھی مانی جائے بہرحال الاَّ امْرَٰاتَکَ استثنائلاَ یَلْتَفِتُ مِنْکُمْ اَحَدٌ سے قرار دینا اولیٰ ہے ‘ یعنی التفات کی ممانعت سے عورت مستثنیٰ تھی یعنی اس کو ممانعت نہ تھی۔ لیکن کیا اس کو التفات کی اجازت تھی ‘ یہ بات آیت میں مذکور نہیں ہے۔
انہ مصیبھا ما اصابھم جو عذاب قوم والوں پر آئے گا ‘ وہ اس عورت پر بھی یقیناً آئے گا۔ بیضاوی کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعود کی قرأت کی بناء خود ان کی تفسیر پر ہے ‘ جبکہ اکثر اہل تفسیر کا خیال ہے کہ استثناء اہل سے ہے ( یعنی قرأت ابن مسعود روایت پر مبنی نہیں ہے بلکہ حضرت ابن مسعود نے چونکہ استثناء اہل سے قرار دیا ہے اور آیت کی تفسیر اسی طرح کی ہے ‘ اس لئے آپ نے اس جگہ اعراب بھی وہی پڑھا جو تفسیر کے مناسب تھا) میں کہتا ہوں : اِمْرَأَتَکَ کی تاء پر اگر زبر پڑھا جائے تو استثناء منقطع بھی ہوسکتا ہے کیونکہ حضرت لوط کی بیوی مؤمنہ صالحہ نہ تھی ‘ اس لئے حضرت لوط کے اہل میں داخل ہی نہیں تھی۔ حضرت نوح کے بیٹے کو عدم صلاح کی بناء پر اہل نوح میں شمار نہیں کیا گیا اور جب وہ اہل لوط میں داخل نہ تھی تو لاَ یَلْتَفِتُ مِنْکُمْ اَحَدٌ سے جن لوگوں کو خطاب کیا گیا ‘ وہ ان سے خارج تھی۔ ہاں اگر اِمْرَأَتُکَ کی تاء پر پیش پڑھا جائے تو ضرور اہل لوط میں داخل رہے گی ‘ مگر اس داخلے کی وجہ صلاحیت اعمال و ایمان نہیں بلکہ محض رشتۂ زوجیت تھا۔ زوجیت کی وجہ سے عورت حضرت لوط کی اہل تھی اور صلاح اعمال نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے اہل نہیں بھی تھی۔ دونوں اعتبارات مختلف ہیں۔
میں کہتا ہوں : دونوں قرأتوں کا اختلاف اس وجہ سے نہیں ہے کہ ایک روایت میں عورت کا نکلنا مذکور ہے اور دوسری روایت میں نہ نکلنا ‘ بلکہ زبر کی قرأت اس بناء پر ہوسکتی ہے کہ اِمْرَأَتَکَ کا اہل سے استثناء ہے اور پیش کی قرأت پر اَحَدٌ سے استثناء ہے۔ اوّل صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ اپنے اہل کے ساتھ نکل جاؤ ‘ بیوی کو ساتھ نہ لو۔ ان الفاظ کا یہ مطلب نہیں کہ جن کو ساتھ لے کر جانے کا حکم دیا گیا وہ ساتھ گئے بھی تھے یا نہیں گئے تھے ‘ ایسی صورت میں نافرمان بیوی کا ساتھ جانا ضروری نہیں۔ جبکہ ساتھ لے جانے کا حضرت لوط کو حکم بھی نہیں دیا گیا ‘ نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ساتھ نہیں گئی اور اگر اَحَدٌ سے استثناء مانا جائے تو حضرت لوط کے ساتھ والوں کو منہ پھیر کر دیکھنے کی ممانعت ہوجائے گی ‘ بیوی کو ممانعت نہیں ہوگی۔ اس صورت میں بھی بیوی کا ساتھ جانا نہ جانا معلوم نہیں ہوتا۔ دونوں باتوں کی طرف سے آیت میں سکوت ہے۔ ممکن ہے وہ گئی ہو اور منہ پھیر کر دیکھا ہو اور ممکن ہے ساتھ ہی نہ گئی ہو خواہ حضرت لوط نے اس کو بھی حکم دیا ہو کیونکہ بہرحال وہ سرکش اور نافرمان تھی ‘ ماننے والی نہ تھی۔
شاید بیضاوی نے جو لفظ اولیٰ استعمال کیا ہے اور واجب کا لفظ استعمال نہیں کیا ‘ اس کی مصلحت یہی ہو۔
ان موعدھم الصبح ان پر عذاب آنے کا وقت وعدہ یقیناً صبح ہے۔ یہ سابق حکم کی گویا علّت ہے ‘ یعنی تم اپنے ساتھیوں کو لے کر رات ہی سے نکل جاؤ ‘ اس لئے کہ ان لوگوں کی ہلاکت کا وقت صبح مقرر کردیا گیا ہے۔ لیکن جب حضرت لوط نے درخواست کی کہ جلد عذاب آجائے تو فرمایا :
الیس الصبح بقریب کیا صبح قریب نہیں ہے۔