11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (اُلٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہہ بہ تہہ (یعنی پےدرپے) کنکریاں برسائیں

فلما جآء امرنا پر جب ہمارا حکم (یعنی عذاب کا حکم یا عذاب) آگیا۔ اوّل مفہوم کی تائید اگلی آیت سے ہو رہی ہے۔ جعلنا عالیھا سافلھا تو ہم نے ان بستیوں کو (اُلٹ) کر زیر و زبر کردیا (یعنی الٹ دیا ‘ اوپر کا تختہ نیچے اور نیچے کا اوپر کردیا) اگرچہ یہ فعل ملائکہ کا تھا ‘ ملائکہ نے اٹھا تھا لیکن چونکہ بحکم الٰہی تھا اس لئے الٹنے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی۔ اس سے اپنے امر کی عظمت کا اظہار مقصود ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : قوم لوط کی پانچ بستیاں تھیں ‘ حضرت جبرئیل نے بستیوں کے نیچے اپنا ایک بازو ڈال کر اتنا اٹھا لیا کہ اوپر والوں نے مرغ کی بانگ کی اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی اور کسی کا کوئی برتن بھی نہ الٹا نہ کوئی سویا ہوا شخص بیدار ہوا ‘ پر بالکل الٹ دیا۔ سب زیر و زبر ہوگئے۔ ان پانچوں شہروں کی آبادی چار لاکھ یا چار کروڑ تھی۔ ان بستیوں کو مُؤْتَفِکَاتْ (الٹی ہوئی بستیاں) کہا جاتا ہے۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کی روایت سے بھی یہی نقل کیا ہے۔ وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل اور ہم نے ان پر کنکریلے پتھر برسائے۔ یعنی ان کو الٹنے کے بعد اوپر سے سنگساری کی یا یہ مطلب ہے کہ جو ادھر ادھر بچے کھچے مقامات میں راہ گیر رہ گئے تھے ‘ ان پر کنکروں کی بارش کی اور اس طرح ان کو ہلاک کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ سجّیل سنگ گل کا معرب ہے۔ قتادہ اور عکرمہ کا قول ہے کہ سجّیل سے مراد ہے کیچڑ ‘ کیونکہ آیت میں آیا ہے : لنرسل علیھم حجارۃ من طین۔ مجاہد نے کہا : شروع میں پتھر اور آخر میں (خشک) کیچڑ کی بارش کی۔ حسن نے کہا : وہ پتھر اصل میں کیچڑ ہی کے تھے ‘ کیچڑ (خشک ہو کر) پتھر ہوگئی تھی۔ صحاک نے کہا : سجّیل سے مراد ہی پختہ اینٹیں۔ بعض علماء نے کہا کہ سجّیل کا لفظ اَسْجَلَ سے بنا ہے۔ اِسجال کا معنی ہے : رواں کردینا ‘ دے دیا۔ گویا ہر پتھر بھیجا ہوا اور دیا ہوا تھا۔ یا سجِلٌّ سے ماخوذ ہے ‘ سجل لکھا ہوا۔ یعنی اللہ نے پتھروں پر لکھ دیا تھا کہ قوم لوط کو ان سے عذاب دیا جائے گا۔ بعض نے کہا : سجّیل اصل میں سجّین (دوزخ کا ایک طبقہ) تھا ‘ نؔ کو لؔ سے بدل دیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیوی آسمان کا نام سجّیل ہے۔ بعض نے کہا کہ سجّیل آسمان میں پہاڑ ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : وینزل مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَال فِیْھَا من برد۔ منضود حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا ہے پیہم۔ نَضْدٌ کا معنی ہے : ایک چیز پر دوسری چیز چننا۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں

مسومۃ عند ربک جو نشان زدہ تھے تمہارے رب کے پاس۔ ابن جریج نے کہا : ان پتھروں پر ایک خاص علامت تھی ‘ وہ زمین کے پتھروں کے ہم شکل نہ تھے۔ قتادہ اور عکرمہ نے ان پر سرخ دھاریاں بتائی ہیں۔ حسن اور سدی نے کہا : وہ مہر زدہ تھے ‘ مہر کی طرح ان پر نشان تھا۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس پر وہ گرنے والا تھا۔ وما ھي من الطلمین ببعید اور وہ (اجاڑ بستیاں) ان ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ الظلمین سے مراد ہے مشرکین مکہ ‘ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ اور عکرمہ کے نزدیک الظلمین سے مراد ہیں : اس امت کے ظالم۔ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے بھی قتادہ کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے ‘ یعنی اس امت کے ظالم بھی اس امر کے مستحق ہیں کہ ان پر سنگساری کی جائے۔ قتادہ اور عکرمہ نے کہا : اللہ نے کسی ظالم کو ان پتھروں سے محفوظ نہیں رکھا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ بعض آثار میں آیا ہے : کوئی ظالم ایسا نہیں کہ وہ پتھروں کے نشانہ پر نہ ہو ‘ ہر ظالم پر ہر وقت پتھر گر سکتا ہے۔ بیضاوی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دریافت کرنے پر حضرت جبرئیل نے کہا کہ آپ کی امت کے ظالم مراد ہیں۔ کوئی ظالم ایسا نہیں کہ وہ پتھر کے نشانے پر نہ ہو ‘ ہر وقت پتھر اس پر گر سکتا ہے۔ سیوطی نے لکھا ہے : ثعلبی نے اس کو بغیر سند کے نقل کیا ہے اور مجھے اس کی سند معلوم نہیں۔ در منثور میں ہے کہ ابی ابن حاتم اور ابو الشیخ نے آیت مذکورہ کے ذیل میں ربیع کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ہم نے جو کچھ سنا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ ہر ظالم کی سیدھ میں ایک پتھر موجود ہے جو اس بات کا منتظر ہے کہ کب اس کو (ظالم پر) گرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ھي ضمیر ان بستیوں کی طرف راجع ہے جو شام کو جاتے ہوئے کفار مکہ کے راستہ میں ادھر ادھر پڑتی تھیں۔ بعید کو بصیغہ مذکر لانا (باوجودیکہ ھي مؤنث ہے) اس وجہ سے ہے کہ ھي سے مراد پتھر یا مقام ہے (یعنی لفظ مؤنث کا اعتبار نہیں کیا گیا بلکہ معنی کے لحاظ سے مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا) ۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا

والی مدین اخاھم شعیبا اور ہم نے (قوم) مدین کے (نسبی) بھائی شعیب کو (اہل) مدین کی طرف (ہدایت کے لئے) بھیجا۔ حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے کا نام یدنہ تھا ‘ اسی کے نام پر حضرت شعیب کی بستی کا نام بھی مدین رکھ دیا گیا تھا۔ آیۃ میں مراد اہل مدین (مدین کے باشندے) یا مدین کی نسل ہے۔ قال یقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ ولا تنقصوا المکیال والمیزان حضرت شعیب نے کہا : اے میری قوم ! (صرف) اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود (واقع میں) نہیں ہے اور ناپ تول میں (خریداروں کے ساتھ یا آپس میں) کمی نہ کرو۔ توحید پر ہی تمام احکام کا مدار ہے ‘ اس لئے اوّل توحید کی تبلیغ کی ‘ پھر ناپ تول کی کمی سے روکا۔ قوم شعیب والے ناپ تول میں بےایمانی کے خوگر تھے اور یہ بےایمانی عدل کے خلاف ہے اور تبادلۂ اشیاء کی حکمت کے بھی منافی ہے۔ انی ارا کم بخیر میں تم کو فراغت کی حالت میں دیکھتا ہوں۔ یعنی میں تم کو مالدار پاتا ہوں ‘ آرام اور چین سے ہو۔ لوگوں کے حق مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے کی تم کو ضرورت نہیں ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ نعمتیں اور آسائشیں تم کو حاصل ہیں جن کا تقاضا ہے کہ تم اللہ کا شکر کرو اور لوگوں پر مہربانی کرو۔ کسی کا حق مارنے کا تو کوئی مقام ہی نہیں ہے۔ مجاہد نے کہا : حضرت شعیب نے ان کو ڈرایا کہ اگر توبہ نہ کرو گے تو یہ نعمت تم سے چھین لی جائے گی ‘ ہر چیز کا نرخ گراں ہوجائے گا اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔ وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط اور مجھے تمہارے متعلق اندیشہ ہے اس دن کے عذاب کا جو (طرح طرح کی تکلیفوں کو اپنے) گھیرے میں لینے والا ہوگا۔ یعنی مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر اس روز کا عذاب آجائے گا جو تم کو گھر لے گا اور سب کو ہلاک کر دے گا ‘ کوئی بھی نہیں بچے گا۔ بعض لوگوں نے محیط کا ترجمہ کیا ہے : ہلاک کرنے والا۔ وَاُحِیْطَ بِثَمَرِہٖ اور اس کے پھل تباہ کر دئیے گئے۔ عذاب یوم محیط سے مراد ہے : روز قیامت کا عذاب یا سب کی جڑ ‘ بنیاد اکھاڑ پھینکنے اور سب کو تباہ کردینے کا عذاب۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو

ویقوم اوفوا المکیال والمیزان اور اے میری قوم ! ناپ تول پوری پوری کیا کرو۔ پہلے ناپ تول میں کمی کرنے کی ممانعت تھی (جس سے ضمناً پورا ناپ تولنے کا حکم معلوم ہوگیا) پھر زور دینے کے لئے اس جملہ میں صراحۃً پورا ناپنے تولنے کا حکم دیا۔ اس صریح حکم سے اس امر پر بھی تنبیہ ہوگئی کہ قصداً ناپ تول میں کمی سے اجتناب کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ پورا پورا دینے کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ کچھ زیادہ ہی دینا پڑے ‘ جس کے بغیر پورا پورا ادا کرنا مقصود نہ ہو۔ اسی لئے امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ اگر کوئی پیمائشی یا وزنی چیز کسی نے ناپ تول کر خریدی ہو اور بائع نے ناپ تول کردی ہو تو جب تک خریدار خود دوبارہ اس کی ناپ تول نہ کرلے ‘ نہ خود اس کو استعمال کرسکتا ہے نہ فروخت کرسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے (خریدے ہوئے) غلّہ کو فروخت کرنے سے اس وقت تک روکا ہے جب تک دو بار (ایک بار بائع نے اور ایک بار مشتری نے) اپنے اپنے پیمانوں سے اس کی ناپ تول نہ کرلی ہو۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں غلّہ پیمانوں سے ناپ کر فروخت کیا جاتا تھا۔ صاع یا فرق یا وسق وغیرہ غلّہ ناپنے کے پیمانے تھے ‘ تول کر نہیں بیچا جاتا تھا۔ یہ حدیث حضرت جابر کی روایت سے ابن ماجہ اور اسحاق بن ابی شیبہ نے نقل کی ہے لیکن اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بی ابی لیلیٰ ہے جس کی وجہ سے محدثین نے اس روایت کو معلّل قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث آئی ہے۔ حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کی رویت سے یہ حدیث منقول ہے لیکن یہ روایت بھی ضعیف ہے۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ یہ حدیث بہت سندوں سے آئی ہے اور ائمہ نے اس کو قبول کیا ہے ‘ اس لئے قابل استدلال ہے۔ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد بھی اسی کے قائل ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : وزن کر کے ذرا جھکتا ہوا دو ‘ کیونکہ ہم گروہ انبیاء اسی طرح تولتے ہیں۔ رواہ احمد و ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والحاکم وابن حبان من حدیث سوید بن قیس۔ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ بالقسط انصاف کے ساتھ۔ ولا تبخسوا الناس اشیآءَھم اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو ۔ پہلے صرف ناپ تول میں کمی نہ کرنے کی ہدایت تھی ‘ اس آیۃ میں عمومی حکم ممانعت ہے کہ ناپ سے بکنے والی چیز ہو یا تول سے مقداری ہو یا زرعی ‘ کیسی ہی چیز ہو اور جس کے حق کی ہو ‘ اس میں کمی نہ کرو۔ ولا تعثوا فی الارض مفسدین اور زمین میں فساد کرتے ہوئے (حد توحید و عدل سے) مت نکلو۔ عَثو (مصدر ہے) ہر طرح کے فساد کو شامل ہے ‘ خواہ ادائے حقوق کی کمی کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں۔ بعض علماء نے کہا کہ بخس (جس کی پہلے ممانعت کی گئی) سے مراد ہے ٹیکس اور معاملات میں دوسری حق تلفیاں اور عثو (جس کی ممانعت اس آیت میں کی گئی ہے) سے مراد ہے چوری ‘ ڈاکہ ‘ رہزنی۔ لاَ تَعًثَوْا کا معنی جب لاَ تُفْسِدُوْا ہے تو پھر مفسدین کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟ یہ ایک سوال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مفسدین کہنے سے وہ صورتیں نکل گئیں جو واقعی صحیح ہوتی ہیں لیکن بظاہر فساد نظر آتی ہیں ‘ جیسے حضرت خضر کا فعل (بچے کو قتل کرنا ‘ کشتی کا تختہ اکھاڑ دینا) یہ بھی کہا گیا ہے کہ مفسدین (کا مفعول محذوف ہے ‘ اس لفظ کو بڑھانے) سے مراد یہ ہے کہ اپنی دینی امور اور دنیوی مصالح کو بگاڑ کر فساد کرتے نہ پھرو۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ حال مؤکدہ ہے کیونکہ عثی کا معنی خود ہی اَفْسَدَ ہے (یعنی عثو جب افساد کے ہم معنی ہے تو مفسدین سے تاکید ہوگئی ‘ کوئی نیا معنی مراد نہیں ہے) ۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں

بقیت اللہ خیر لکم اللہ کا دیا ہوا جو کچھ (حلال مال) بچ جائے ‘ وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس جملہ کا یہ مطلب بیان کیا کہ صحیح صحیح ناپ تول کردینے کے بعد جو حلال چیز باقی رہ جاتی ہے ‘ وہ بہتر ہے اس حرام مقدار سے جو ناپ تول میں کمی کر کے تم حاصل کرتے ہو۔ مجاہد نے کہا : بَقِیَّتُ اللّٰہِ سے مراد ہے اللہ کی اطاعت ‘ جیسے دوسری آیت میں فرمایا ہے : وَالْبَاقیات الصالحات خیر۔ ان کنتم مؤمنین اگر تم مؤمن ہو۔ یعنی بَقِیَّتُ اللّٰہِ کا تمہارے لئے بہتر ہونا ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔ مؤمن کو ہی نیکی کا اجر ملے گا ‘ کافر کی بھلائیاں تو اکارت جائیں گی۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا کہ اگر تم میرے قول کو سچ مانتے ہو تو میں نے جو صحیح ناپنے تولنے کا تم کو حکم دیا ہے ‘ اس پر عمل کرو۔ وما انا علیکم بحفیظ اور میں تمہارا پہرہ دینے والا نہیں ہوں کہ برائیوں سے تم کو بچا لوں یا تمہارے اعمال کی نگہداشت کرو اور پھر ان کا بدلہ دوں۔ میں تو صرف ناصح اور مبلغ ہوں ‘ میرا فرض تو حکم پہنچانے کے بعد پورا ہوجاتا ہے (مانو یا نہ مانو) یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم اپنی بداعمالی نہ چھوڑو تب بھی میں اللہ کی نعمت تم پر قائم رکھوں ‘ میں ایسا نہیں کرسکتا۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو

قالوا یشعیب اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباؤنا او ان نفعل في اموالنا ما نشوا انہوں نے کہا : شعیب ! کیا تمہاری نماز تم کو حکم دیتی ہے کہ جن (بتوں) کی پوجا ہمارے بڑے کرتے چلے آئے ہیں ‘ ہم ان کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی منشاء کے مطابق جو ہم تصرف کرتے ہیں ‘ اس کو ترک کردیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت شعیب نماز بہت پڑھتے تھے ‘ اسی لئے کافروں نے آپ کی نماز کا تذکرہ کیا۔ اعمش کے نزدیک نماز سے مراد ہے نماز پڑھنا۔ حضرت شعیب نے قوم کو توحید کی دعوت دی ‘ اس کے جواب میں انہوں نے آپ سے استہزاء کیا اور آپ کی نماز کا مذاق بنایا اور اس استہزاء میں اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ اس قسم کی دعوت تم سے یہ نماز کی پابندی اور مداومت کرا رہی ہے ‘ اس نے تمہارے دماغ میں خلل پیدا کردیا ہے ورنہ صحیح ہوش و خرد کا تو یہ تقاضا نہیں۔ انک لانت الحلیم الرشید واقعی آپ ہیں بڑے عقلمند ‘ دین دار۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (انہوں نے حضرت شعیب کو حلیم و رشید بطور طنز کہا تھا (حقیقت میں ان کا مقصد تھا یہ کہنا کہ تم سادہ لوح گمراہ ہو۔ عرب لوگ ایک مفہوم کی تعبیر اس کی ضد سے کرلیتے ہیں (نیک شگون یا دعا کے طور پر) اس شخص کو جس کو بچھو ڈس لے ‘ سلیم کہتے ہیں اور خطرناک بیابان کو مفازہ (کامیابی کی جگہ) ۔ بعض علماء نے کہا : انہوں نے حلیم و رشید بطور استہزاء کہا تھا ‘ مقصد تھا حضرت شعیب کے اندر سفاہت و ضلالت ثابت کرنا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول پر استعمال مجازی ہوگا اور مؤخر الذکر قول پر حقیقی کنائی (یعنی بطور کنایہ مذمت مراد ہوگی) بعض نے کہا : کلام مبنی برحقیقت ہے اور کنایتہ مذمت کرنا بھی غرض نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے خیال میں تو تم بڑے سنجیدہ اور صاحب رشد ہو۔ ہم تو گمان بھی نہیں کرتے تھے کہ تم ایسی بات کہو گے۔ حضرت صالح کی قوم نے بھی حضرت صالح سے ایسا ہی کلام کیا تھا اور کہا تھا : قَد کُنْتُ فِیْنَا مَرْجُوْا قَبْل ھٰذَا۔ بعض علماء نے کہا : (بزعمک کا لفظ محفوظ ہے اور کلام حقیقی ہے ‘ یعنی) تم تو اپنے خیال میں حلیم و رشید ہو ‘ پھر ایسی بات تم نے کیوں کی ؟
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو (تو کیا میں ان کے خلاف کروں گا؟) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے (تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں اور (اس بارے میں) مجھے توفیق کا ملنا خدا ہی (کے فضل) سے ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں

قال یقوم ارء یتم ان کنت علی بینۃ من ربي ورزقنی منہ رزقا حسنا حضرت شعیب نے کہا : اے میری قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا فرما دیا ہے (تو کیسے اس کا حکم نہ مانوں) ۔ بَیِّنَۃٍ بصیرت اور واضح بیان۔ مِنْ رَّبِّیْ اپنے رب کی طرف سے ‘ یعنی وحی اور نبوت کے ذریعہ سے۔ رَزَقَنِیْ مِنْہُ یعنی محنت مشقت اٹھائے بغیر اللہ نے حلال رزق عطا فرما دیا۔ رِزْقًا حَسنًاط سے مراد ہے حلال رزق۔ کہا گیا کہ حضرت شعیب بڑے مالدار تھے۔ (1) [ اس فقیر کی نظر میں حضرت شعیب کے مالدار ہونے نہ ہونے کا آیت کے مفہوم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ آپ نے قوم کو ایسے بلیغ طرز سے ہدایت کی کہ کسی کو برا منانے کا موقع نہ ملے۔ آپ کا مقصد تو یہ تھا کہ جب اللہ نے اپنی رحمت سے تم کو وحی کے ذریعے سے بصیرت عطا فرما دی اور واضح طور پر بیان کردیا اور کثیر حلال عطا فرما دیا تو پھر شرک کرنا اور حرام رزق حاصل کرنے کی تدبیریں اور طریقے اختیار کرنا حماقت ہے۔ اس مضمون کو ادا کرنے کے لئے عبارت کو متکلم کے سانچے میں ڈھال لیا اور فرما دیا کہ اگر مجھ پر اللہ کا اتنا کرم ہوگیا تو پھر اس کے احکام کی مخالفت کیسے جائز ہوسکتی ہے۔ اسلوب کلام بدلنے اور خطاب سے متکلم کی طرف کلام کا رخ موڑنے سے ہدایت بحسن اسلوب ہوگئی اور مخاطب کی ناگواری کا احتمال بھی نہیں رہا۔ (مترجم)] اِنْ کُنْتُ میں اِنْ حرف شرط ہے ‘ جزاء محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے نبوت و وحی کے ذریعے سے مجھے بصیرت عطا فرما دی اور مجھے بغیر محنت و مشقت کے حلال رزق عطا فرما دیا تو کیا اب یہ جائز ہے کہ میں اس کے احکام کی مخالفت کروں اور وحی میں خیانت کروں اور اس کا پیام نہ پہنچاؤں ؟ قوم نے حضرت شعیب پر طنز کیا تھا کہ تم ساری قوم کے مذہب کی مخالفت کر رہے ہو۔ حضرت شعیب نے مذکورہ بالا الفاظ میں ان کو جواب دیا اور قوم کے افکار و اعمال کی مخالفت کرنے کی وجہ بیان کردی۔ وما ارید ان اخالفکم الی ما انھکم عنہ اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ تمہارے برخلاف ان کاموں کو کروں جن سے تم کو روکتا ہوں۔ یعنی جس بات سے تم کو روک رہا ہوں ‘ خود اس کا ارتکاب کروں اور اپنے عمل کو قول کے خلاف ظاہر کروں ‘ میں ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ اگر یہ بات بہتر ہوتی تو میں اس کو کیوں چھوڑتا ؟ میں تمہارے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں اور تمہارے لئے وہی بات ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں۔ اگر زید کوئی کام نہ کر رہا ہو اور تم نے اس کام کو کرنے کا ارادہ کرلیا ہو تو کہہ سکتے ہو : خالفت زیدًا انی کذا اور اگر زید ایک کام کر رہا ہو اور تم اس کو کرنا پسند نہیں کرتے تو کہہ سکتے ہو : خالفت زیدًا عن کذا۔ ان ارید الا الاصلاح ما استطعت (یعنی شرک اور ناپ تول میں کمی کرنے کی ممانعت اور توحید و ایفاء کا حکم دینے سے) میرا مقصد تو محض (تم کو اور سارے عالم کو) بگاڑ (سے روکنا اور فساد) کی درستی کرنا ہے ‘ جہاں تک یا جب تک مجھ سے ہو سکے (یعنی بقدر امکان و طاقت میں اصلاح کی کوشش کا ارادہ رکھتا ہو ‘ کوشش میں کمی نہیں کروں گا) ۔ وما توفیقی الا اللہ اور (عمل صالح کی) مجھے جو کچھ توفیق ہے ‘ وہ اللہ ہی کی مدد سے ہے۔ یعنی اللہ کی ہدایت و مدد کے بغیر میرے لئے صداقت و حقانیت کا حصول ناممکن ہے۔ توفیق کا معنی ہے : مقصد خیر کے حصول کے اسباب و ذرائع فراہم کردینا اور اسباب کو مقصد کے موافق بنا دینا۔ علیہ توکلت ولیہ انیب میں نے اسی پر بھروسہ کرلیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ یعنی اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے ‘ اسی کے قابو میں سب کچھ ہے۔ اس کے سوا ہر چیز عاجز بلکہ حقیقتاً معدوم ہے ‘ ناقابل اعتماد ہے اس لئے میرا بھروسہ اسی پر ہے اور تمام مصائب و حوادث میں میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اس آیت میں خالص توحید کی طرف اشارہ ہے۔ اِلَیْہِ اُنِیْبُ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مرنے کے بعد لوٹ کر میں اسی کی طرف جاؤں گا۔ انابت کا معنی ہے : تمام امور میں اللہ ہی سے توفیق صداقت و حقانیت کی درخواست کرنا ‘ ہر کام میں اللہ ہی سے مدد کا طلبگار ہونا اور کامل طور پر سراسر اسی کی طرف متوجہ ہوجانا۔ پورے کلام میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ میں تمہاری (مخالفتوں کی) پرواہ نہیں کرتا۔ میرا رجوع اپنے رب کی طرف ہے ‘ تم کو مجھ سے کوئی امید موافقت نہیں رکھنی چاہئے۔ اس میں کافروں کو تہدید ہے کہ اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے ‘ وہ سزا جزا دے گا۔
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں

ویقوم لا یجر منکم شقاقي ان یصیبکم مثل ما اصاب قوم نوح اوقوم ھود او قوم صالح اور اے میری قوم ! مجھ سے عداوت و مخالفت کا تمہارے لئے کہیں یہ نتیجہ نہ نکلے کہ جو (عذاب) قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر آیا تھا ‘ ویسا ہی (عذاب) تم پر آجائے۔ یعنی غرق ہوجانے کا یا طوفان کا یا زلزلہ اور کڑک کا عذاب تم پر کہیں نہ آجائے۔ شقاق کا معنی ہے : عداوت اور مخالفت۔ وما قوم لوط منکم ببعید اور قوم لوط (کا زمانہ) تم سے دور نہیں ہے۔ یعنی عذاب سے ہلاک ہونے والی قوموں میں سب سے قریب ترین زمانہ حضرت لوط کی قوم کا ہے ‘ تم سمجھ لو کہ (پیغمبر کی مخالفت کی وجہ سے) کیسے عذاب نے ان کو ہلاک کردیا یا یہ مراد ہے کہ قوم لوط کی (اجڑی ہوئی) بستیاں تم سے دور نہیں ہیں ‘ تمہارے ملک کے متصل ہیں۔ یا یہ مراد ہے کہ شرک و معاصی کی وجہ سے مستحق عذاب ہونے میں قوم لوط تم سے بعید نہیں تھی (تم دونوں میں زیادہ تفاوت نہیں) لفظ قریب و بعید اور قلیل و کثیر میں مذکر مؤنث برابر ہیں ‘ دونوں کے لئے ان کا استعمال ہوتا ہے ‘ اس لئے بعید کو بصیغہ مفرد لانے میں کوئی خرابی نہیں۔
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے

واستغفروا ربکم اور اپنے رب سے (گذشتہ شرک و معاصی کی) معافی طلب کرو۔ یعنی ایمان لے آؤ اور گذشتہ گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرو اور معافی مانگو۔ ثم تو بوا الیہ پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ آئندہ اس کے احکام کی تعمیل کرو اور ممنوعات سے باز رہو۔ ان ربی رحیم ودود بلاشبہ میرا رب (توبہ کرنے والے مؤمنوں پر) بڑا مہربان اور (ان سے بڑی) محبت کرنے والا ہے۔ ودود بروزن فعول اسم فاعل کے معنی میں بھی آتا ہے اور اسم مفعول کے معنی میں بھی۔ اللہ مؤمنوں سے محبت کرنے والا ہے اور مؤمن اللہ سے محبت کرتے ہیں ‘ پس وہ محب بھی ہے اور محبوب بھی۔ اوّل آیات میں حضرت شعیب نے کفر و معصیت پر جمے رہنے کی صورت میں عذاب الٰہی سے ڈرایا ‘ پھر توبہ کرلینے کی صورت میں مغفرت کا امیدوار بنایا۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو

قالوا یشعیب ما نفقہ کثیرا مما تقول کہنے لگے : شعیب ! ہماری سمجھ میں تو تیری بہت سی باتیں آتی نہیں۔ نہ توحید سمجھ میں آتی ہے ‘ نہ ناپ تول میں کمی کرنے کی ممانعت ‘ نہ تیری بیان کی ہوئی دلیلیں۔ چونکہ ان کی قوت فہم کمزور تھی اور سوچنے سمجھنے سے وہ عاری تھے ‘ اس لئے ایسی بات کہی یا یہ وجہ تھی کہ حضرت شعیب کے کلام کو وہ حقیر ‘ ناقابل التفات سمجھتے تھے یا یہ وجہ تھی کہ ان کو حضرت شعیب کے پیام سے انتہائی نفرت تھی ‘ اس لئے اس کو سمجھنے کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے۔ میرے نزدیک حقیقت یہ تھی کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تھی۔ انسانوں کے دل اللہ کی چٹکی میں ہیں ‘ وہ جس طرف چاہتا ہے دلوں کو موڑ دیتا ہے۔ وانا لنراک فینا ضعیفا اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تم کو اپنے (گروہ کے) اندر کمزور پاتے ہیں۔ اگر ہم تم کو کچھ دکھ پہنچائیں تو تمہارے اندر دفاع کی طاقت نہیں۔ یا ضعیفًا سے مراد ہے : ذلیل ‘ یعنی ہم اپنے گروہ میں تم کو ذلیل پاتے ہیں ‘ ہم میں تمہاری کوئی عزت نہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : ضعیف سے مراد ہے ضعیف البصر۔ حضرت شعیب نابینا تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حمیری محاورہ میں ضعیف اندھے کو ہی کہا جاتا ہے ‘ مگر فینا کا لفظ بتارہا ہے کہ نابینا مراد نہیں ہے (اس فقیر کے نزدیک یہ بات ممکن ہے کہ بےبصر کہہ کر قوم کی مراد بےبصیرت ہو ‘ یعنی ہمارے گروہ میں تم بےبصیرت ہو ‘ بیوقوف ہو جو ایسی بات کہتے ہو۔ مترجم) ۔ فائدہ : بعض علماء معتزلہ نے نبوت کو قضاء اور شہادت پر قیاس کیا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک جس طرح نابینا ‘ شاہد اور قاضی نہیں ہوسکتا ‘ اسی طرح نبی بھی نہیں ہوسکتا۔ مگر یہ قیاس غلط ہے (قضاء و شہادت کا تعلق معائنہ سے ہے اور نبوت کا مدار مشاہدے پر نہیں۔ واقعات کا اظہار اور فیصلہ الگ چیز ہے اور ہدایت و رسالت جدا حیثیت رکھتی ہے۔ مترجم) ۔ حضرت یعقوب کا نابینا اور پھر بینا ہو جاناعبارت قرآنی سے ثابت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الْحُزْنِ فَھُوَکَظِیْم۔ پھر فرمایا : فَارْتَدَّا بَصِیْرًا۔ ولولا رھطک لرجمنک اور اگر تمہارے قبیلے کی پاسداری نہ ہوتی تو ہم پتھراؤ کر کے تم کو ہلاک کردیتے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم طاقتور تھی اور آپ ان کی حفاظت میں تھے۔ بیضاوی نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تمہاری قوم چونکہ ہماری ہم مذہب ہے ‘ اس لئے ان کی عزت ہماری نظر میں ہے۔ اگر تمہاری قوم کی عزت ہماری نظر میں نہ ہوتی تو ہم تم کو سنگسار کردیتے۔ حضرت شعیب کے قبیلے کی طاقت کا خوف مراد نہیں ہے کیونکہ تین سے دس تک یا سات تک جس جماعت کے افراد ہوں ‘ اس کو رہط کہ جاتا ہے (اور ظاہر ہے کہ دس پانچ آدمیوں کی طاقت پوری بستی کے مقابل کیا ہوسکتی ہے ؟ ) میں کہتا ہوں کہ اوّل قول کی تائید آیۃ تسعۃُ رھطٍ سے ہوتی ہے۔ جوہری نے صحاح میں لکھا ہے کہ دس سے کم کی جماعت کو رہط کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا : چالیس تک رہط کا اطلاق ہوتا ہے۔ جزری نے نہایۃ میں لکھا ہے کہ رہط دس سے کم مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں جن میں کوئی عورت نہ ہو۔ بعض نے چالیس سے کم کو رہط کہا ہے۔ قاموس میں ہے : رہط کسی شخص کی قوم اور اس کا قبیلہ یا تین سے سات تک یا دس تک یا دس سے نیچے (یعنی نو) تک کی جماعت جبکہ ان میں کوئی عورت نہ ہو۔ لفظ رہط کا کوئی مفرد اس لفظ سے نہیں (یعنی کوئی ایسا مفرد لفظ نہیں ہے جس کی جمع رہط ہو) بغوی کے کلام میں بھی صاحب قاموس کے بیان کئے ہوئے اوّل معنی کی طرف اشارہ ہے۔ وما انت علینا بعزیز اور تم ہمارے لئے کوئی عزت والے نہیں ہو کہ تمہاری عزت تم کو سنگساری سے محفوظ رکھے۔ جو احمق ‘ جاہل دلائل وبراہین کا جواب دلیل سے نہیں دے سکتے ‘ وہ گالیاں اور دھمکیاں دینے پر اتر آتے ہیں۔ مَا (حرف نفی) کے بعد اَنْتَ کا لفظ ذکر کرنا اس امر پر دلالت کر رہا ہے کہ کافروں کا کلام حضرت شعیب کی ذات سے متعلق تھا ‘ آپ کی عزت سے متعلق نہ تھا۔ عزت تو خاندان شعیب کی حضرت شعیب کو ایذاء دینے سے روک رہی تھی۔
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے۔ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کیے ہوئے ہے

قال یقوم ارھطی اعز علیکم من اللہ واتخذتموہ ورآء کم ظھریا حضرت شعیب نے کہا : اے میری قوم : کیا میرا خاندان تمہارے نزدیک اللہ سے بھی زیادہ عزت والا ہے اور تم نے اس کو پس پشت ڈال دیا ہے ؟ یعنی میرے خاندان کی رعایت سے تم نے مجھے قتل نہیں کیا اور اللہ کی طرف سے جو مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ اس خداداد رسالت کا تم نے کوئی لحاظ نہیں کیا اور اللہ کو بالکل فراموش کردیا۔ نہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے تم کو کوئی اندیشہ ہوا ‘ نہ اس کے رسول کی توہین کرنے سے کوئی باک۔ اَرَھْطِی میں ہمزہ استفہام انکاری کی بھی ہوسکتی ہے اور زجر و تہدید کی بھی۔ ظِہریَّا، ظَھر (پشت) سے بنایا گیا ہے۔ یائے نسبت کی وجہ سے دوسر تغیرات لفظی کے ساتھ ظا کو زیر بھی دے دیا گیا۔ ان ربی بما تعملون محیط جو کچھ تم کر رہے ہو بلاشک و شبہ اللہ اس کو (اپنے علمی دائرے میں) گھیرے ہوئے ہے۔ یعنی تمہارا کوئی عمل اس سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ وہ یقیناً تم اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور برادران ملت! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) کام کیے جاتا ہوں۔ تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے اور تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

ویقوم اعملوا علی مکانتکم انی عامل سوف تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ ومن ھو کاذب اور اے میری قوم ! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو ‘ میں بھی (اپنے طو رپر) عمل کر رہا ہوں۔ اب جلد ہی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کر دے اور وہ کون شخص ہے جو جھوٹا ہے۔ مکانتہ سے مراد ہے : عداوت پر قائم رہنا۔ مَنْ یَّاْتِیْہِ میں مَن استفہامیہ ہے (کس پر عذاب آئے گا ‘ تم پر یا مجھ پر) یا موصولہ ہے (جس پر عذاب آئے گا) سورة انعام میں بھی ایسی آیت گذر چکی ہے۔ وَمَنْ ھُوَ کَاذِبٌ کا عطف مَنْ یَّاْتِیْہِ پر ہے ‘ یعنی عنقریب تم جانو گے کہ کس پر عذاب آتا ہے ‘ تم پر یا مجھ پر اور تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا ہے ‘ تم یا میں۔ وارتقبوا اني معکم رقیب اور تم (انجام کا) انتظار کرو ‘ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ رقیب بروزن فعیل بمعنی راقب ‘ جیسے صریم بمعنی صارم یا بمعنی مراقب (باہم ایک دوسرے کا نگراں) جیسے عشیر بمعنی معاشر (باہم ساتھ رہنے والے) یا بمعنی مرتقب (منتظر) جیسے رفیع بمعنی مرتفع (اونچا) ۔
Ayah 11:94

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو تو اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اور جو لوگ ظالم تھے، ان کو چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

ولما جآء امرنا اور جب ہمارا (عذاب یا عذاب کا) حکم آپہنچا۔ اس جگہ اور عاد کے قصے میں عذاب کا وعدہ پہلے مذکور نہیں ہے ‘ اس لئے جملہ کو واؤ سے شروع کیا اور صالح و لوط کے قصوں میں نزول عذاب سے پہلے وعدۂ عذاب مذکور ہے۔ فرمایا ہے : وَعْدٌ غَیْرٌ مَکْذُوبٍ - اِنَّ مَوْعِدَھُمْ الصُّبْحُ اس لئے ان دونوں مقاموں میں فاء سے جملہ شروع کیا اور فلمّا فرمایا ہے گویا فاء نتیجہ پر آئی جس کا سبب پہلے ذکر کردیا گیا ہے۔ نجینا شعیبا والذین امنوا معہ برحمۃ منا واخذت الذین ظلموا الصیحۃ فاصبحوا في دیارھم جثمین ہم نے بچا لیا شعیب کو اور ان کے ساتھ والے مؤمنوں کو اپنی رحمت سے اور کافروں کو پکڑ لیا ایک چیخ نے اور وہ اپنے گھروں میں صبح کو مرے کے مرے رہ گئے۔ کہا گیا ہے کہ حضرت جبرئیل نے ایک چیخ ماری تھی جس سے سب کی جانیں نکل گئیں ‘ یا آسمان کی طرف سے ایک چیخ آئی تھی جس سے سب مرگئے۔ جثوم کا لغوی معنی ہے : زمین سے چمٹ جانا۔
Ayah 11:95

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ مدین پر (ویسی ہی) پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی

کان لم یغنوا فیھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ گھروں میں زندگی کی حالت میں رہتے ہی نہ تھے (یعنی گھر اجاڑ ہوگئے) ۔ الا بعد المدین کما بعدت ثمود خوب سن (اور عبرت حاصل کرو) کہ مدین کو رحمت سے دوری ہوئی جیسے ثمود رحمت سے دور ہوئے تھے۔ قوم ثمود کی ہلاکت بھی ایک چیخ سے ہوئی تھی ‘ اس لئے اہل مدین کی ہلاکت کو قوم ثمود کی ہلاکت سے تشبیہ دی۔ فرق اتنا تھا کہ قوم ثمود کی ہلاکت زمین کی اندرونی چیخ سے ہوئی تھی اور قوم شعیب کی ہلاکت آسمانی چیخ سے۔ بَعُدَ (باب کرم) اصل ہے اور بَعِدَ (باب سمع سے) بھی آیا ہے ‘ دونوں کا مصدر بعد آتا ہے۔ بَعُدَ (باب کرم) دور ہوگیا۔ بَعِدَ (باب سمع) ہلاک ہونے کی وجہ سے دور ہوگیا۔ صرف باب سمع سے مصدر بَعُد بھی آتا ہے۔
Ayah 11:96

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا سلطین مبین : اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور کھلا ہوا غلبہ عطا کر کے۔
Ayah 11:97

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا

الی فرعون وملاۂ : فرعون کے اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا۔ آیات سے مراد ہیں : معجزات۔ توریت کی آیات مراد نہیں ہیں کیونکہ توریت کا نزول تو فرعون کے ڈوبنے کے بعد ہوا تھا۔ سُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ : کھلا ہوا غلبہ۔ ایک طرف تنہا حضرت موسیٰ تھے ‘ دوسری طرف فرعون اور اس کا لاؤ لشکر تھا جو سب کے سب حضرت موسیٰ کے قتل کے درپے تھے مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ حضرت موسیٰ کو اللہ نے کھلا ہوا غلبہ عنایت فرمایا۔ یا سُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ سے مراد صرف عصا کا معجزہ ہے۔ یہ معجزہ سب سے زیادہ واضح اور غالب تھا۔ یا آیات اور سلطان سے مراد ایک ہی ہے۔ آیات و معجزات حضرت موسیٰ کی نبوت کی کھلی نشانیاں بھی تھے اور سبب غلبہ بھی۔ مبین لازم بھی ہے اور متعدی بھی ‘ اس لئے اس کا ترجمہ روشن و واضح بھی ہے اور روشنی پیدا کرنے والا ‘ واضح کردینے والا بھی ہے۔ آیۃ کا مفہوم سلطان کے مفہوم سے عام ہے ‘ آیۃ نشانی (علامت) کو بھی کہتے ہیں اور دلیل قطعی کو بھی اور سلطان صرف دلیل قطعی کو۔ فاتبعوا امر فرعون وما امر فرعون برشید سو وہ لوگ بھی فرعون ہی کی رائے پر چلتے رہے اور فرعون کی رائے کچھ صحیح نہیں تھی۔ یعنی کفر ‘ سرکشی اور حد سے بڑھی ہوئی گمراہی میں فرعونیوں نے فرعون کی پیروی کی اور فرعو کا فکریہ و عملیہ محض گمراہی اور کجروی تھا۔ نام کو بھی اس میں صلاح و رشد نہ تھا۔ ہر پسندیدہ ‘ قابل ستائش امر کو رشد اور ہر برے امر کو غَیّ کہا جاتا ہے۔ آیت میں فرعون کے گروہ کی جہالت و حماقت کا اظہار ہے کہ فرعون الوہیت کا مدعی تھا باوجودیکہ اپنے مصاحبین کی طرح معمولی انسان تھا ‘ علی الاعلان کفر و شرک اور ظلم کرتا تھا اور حضرت موسیٰ ہادئ برحق تھے۔ آپ کا قول مبنی برحق تھا ‘ عقل و نقل کی شہادت اور معجزات کی تائید آپ کے قول کو ثابت کر رہی تھی۔ پھر بھی فرعون کے ساتھی ایسے کو دن تھے کہ حضرت موسیٰ جیسے ہادئ برحق کے اتباع سے روگرداں اور فرعون جیسے باطل پرست کے پیرو تھے۔
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور ان کو دوزخ میں جا اُتارے گا اور جس مقام پر وہ اُتارے جائیں گے وہ برا ہے

یقدم قومہ یوم القیمۃ فاو ردھم النار قیامت کے دن دوزخ کی جانب وہ اپنی قوم کا پیشوا ہوگا اور دوزخ میں سب کو اتار دے گا۔ جس طرح دنیا میں گمراہی کی جانب بڑھنے میں سب کا امام تھا۔ قیامت کے دن چونکہ ایسا ہونا اتنا یقینی ہے کہ گویا ایسا ہوگیا ‘ اس لئے بجائے مستقبل کے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا اور اَوْرَدَھُم فرمایا۔ ورود کا معنی ہے : چشمہ وغیرہ میں اترنا۔ دوزخ کو پانی فرض کر کے اس میں داخل ہونے کو ورود قرار دیا (گویا دوزخ ایک چشمہ یا تالاب ہوگا جس میں فرعون آگے آگے اور اس کے اتباع جو جانوروں کی طرح جاہل ‘ ناسمجھ تھے ‘ پیچھے پیچھے اس میں اتریں گے) ۔ وبئس الورد المورود اور وہ دوزخ بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے۔ پانی میں اترنا ‘ پیاس بجھانے اور خنکی حاصل کرنے کے لئے ہوتا ہے اور دوزخ میں اترنے سے پیاس اور سوزخ میں مزید اضافہ ہوگا ‘ اس لئے فرمایا کہ برا چشمہ ہوگا۔ آیۃ میں وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ ایک دعویٰ تھا اور یَقْدُمُ قَوْمَہٗ الخ اس کی دلیل ہے کیونکہ جس کی رہنمائی دوزخ میں لے جائے وہ یقیناً غلط رو ہوگا اور اس کی رہبری تباہ کن ہوگی۔ یا یوں کہا جائے کہ رشید وہ ہے جس کا انجام اچھا ہو اور فرعون کی پیشوائی کا انجام تباہ کن ہوگا۔ گویا دوسری آیت ‘ پہلی آیت کی تشریح ہے۔
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس جہان میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی (پیچھے لگی رہے گی) ۔ جو انعام ان کو ملا ہے برا ہے

واتبعوا في ھذہ لعنۃ ویوم القیمۃ اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (وہ ملعون ہوں گے) یعنی اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے انبیاء اور مؤمنوں کی زبانی ان پر لعنت کی گئی اور قیامت کے دن بھی ان پر لعنت کی جائے گی۔ بئس الرفد المرفود برا انجام ہے جو ان کو دیا گیا۔ رِفد کا معنی ہے : مدد۔ مرفود اسی سے اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ یا رفد کا معنی ہے عطیہ اور مرفود کا معنی ہے عطا کیا ہوا۔ قاموس میں ہے : ارفاد مدد کرنا اور عطا کرنا۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا

ذلک من انبآء القری ہ (جو ہم نے بیان کیا ‘ ہلاک شدہ) بستیوں کی کچھ اطلاعات ہیں۔ نقصہ علیک ہم آپ کو ان کی خبریں بتا رہے ہیں۔ یعنی ان کی خبریں آپ کو بتائی گئی ہیں۔ منھا قاءم وحصید ان بستیوں میں سے کچھ تو کھڑی ہیں۔ یعنی ان کے نشانات باقی ہیں اور کچھ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح (بےنشان ہوگئی) ہیں۔ مقاتل نے کہا : قائم سے مراد وہ ہیں جن کے نشان دکھائی دے رہے ہوں اور حصید سے مراد وہ ہیں جن کی نمود بھی دکھائی نہیں دیتی۔ بعض علماء نے قائم کا ترجمہ آباد اور حصید کا ترجمہ ویران کیا ہے۔
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اُوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔ اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے

وما ظلمنھم ولکن ظلموا انفسھم اور ہم نے (ان کو ہلاک کر کے) ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ کفر و معصیت کر کے اپنی جانوں کو تباہی کا مستحق بنا دیا۔ جمع مذکر غائب کی ضمیریں بستیوں والوں کی طرف راجع ہیں۔ فما اغنت عنھم الھتھم التی یدعون من دون اللہ من شيء لما جآء امر ربک وما زادوھم غیر تتبیب اور جب آپ کے رب (کی طرف سے ہلاکت) کا حکم آگیا تو ان کے معبود جن کو (وہ پوجتے تھے اور) اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے ‘ کچھ بھی کام نہ آئے (اور عذاب کو دفع نہ کرسکے) اور ہلاکت آفرینی و بربادی کے سوا اور کچھ (ان کے لئے) نہ بڑھا سکے۔ امر رب سے مراد ہے : عذاب تتبیب بربادی ‘ ہلاکت اور نقصان۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اس کی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور سخت ہے

وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وھي ظالمۃ اور مذکورہ اقوام کی گرفت کی طرح آپ کے رب کی طرف سے پکڑ (دوسری) بستیوں والوں کی بھی ہوئی ہے جبکہ وہ ظالم تھے۔ یعنی وہ ظالم ہونے کی وجہ سے مستحق عذاب تھے ‘ اس لئے اللہ نے ان کی بھی گرفت کی۔ ان اخذہ الیم شدید بیشک اللہ کی پکڑ سخت دکھ پہنچانے والی ہے جس سے رہائی ناممکن ہے۔ حضرت ابو موسیٰ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے۔ آخر اس کی گرفت کرتا ہے تو ایسی کرتا ہے کہ پھر وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ یہ فرمانے کے بعد حضور ﷺ نے آیت : کَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَآ اَخَذَا الْقُرٰی وَھِيَ ظَالِمَۃٌ تلاوت فرمائی۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین والترمذی (فی السنن) وابن ماجۃ۔
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

ان (قصوں) میں اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کیے جائیں گے

ان في ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ بیشک اس میں (یعنی کافر و ظالم بستیوں کو ہلاک کرنے اور ان کے مذکورہ واقعات میں) بڑی عبرت ہے ان لوگوں کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اللہ سے ڈرنے والے عذاب آخرت کی عظمت کا اندازہ اس سے کرسکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ مجرموں پر دنیا میں جو عذاب آیا ‘ وہ عذاب آخرت کا ایک نمونہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان واقعات کے بیان کو سن کر وہ اللہ کی نافرمانیوں کو ترک کردیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عذاب اس الٰہ مختار کی طرف سے آیا ہے جو اپنی مرضی کے مطابق جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر رحم کرنے چاہے رحم کرے۔ رہے منکرین آخرت تو وہ جانوروں کی طرح ہیں ‘ نہ ان میں فہم ہے نہ بصیرت بلکہ وہ اس قسم کے عذاب کو محض اتفاق (اور سلسلۂ اسباب و مسببات کی پوشیدہ کڑی) قرار دیتے ہیں۔ ذلک یوم مجموع لہ الناس یہ (یوم قیامت جس میں عذاب ہوگا) ایسا دن ہوگا کہ سب لوگ (اس روز) جمع کئے جائیں گے۔ یعنی اس روز سب کی حساب فہمی ہوگی ‘ جزا و سزا ہوگی۔ اس کے لئے سب کو جمع کیا جائے گا۔ وذلک یوم مشھود اور یہ ہی ایسا دن ہوگا کہ جس میں شہادت دینے والے لوگوں پر شہادت دیں گے یا یہ مطلب ہے کہ سب کو حاضر کیا جائے گا ‘ کوئی غائب نہیں ہوگا۔
Ayah 11:104

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اس کے لانے میں ایک وقت معین تک تاخیر کر رہے ہیں

وما نوخرہ الا لاجل معدود اور ہم اس دن کو صرف اس لئے پیچھے رکھ رہے ہیں کہ وہ مدت (زندگی) جو اللہ کے نزدیک مقرر ہے ‘ پوری ہوجائے۔ اجل سے پہلے لفظ انتہاء محذوف ہے۔ اجل سے پوری مدت زندگی مراد ہے ‘ ختم زندگی کا وقت مراد نہیں ہے کیونکہ ساعت اختتام میں تعدد نہیں ہے ‘ اس کو معدود نہیں کہا جاسکتا۔
Ayah 11:105

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت

یوم یات لا تکلم نفس الا باذنہ جب وہ دن آجائے گا تو کوئی شخص اللہ کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرسکے گا یعنی شفاعت نہ کرسکے گا یا ایسی کوئی بات نہ کہہ سکے گا جو اس کو فائدہ پہنچا سکے۔ دوسری آیت میں آیا ہے : لاَ یَتَکَلَّمُوْنَ الاَّ مَنْ اَذنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ ۔ یَوْمَ یَاْتِ میں یَاْتِ کا فعال یا جزا ہے ‘ یعنی جس روز سزا و جزا آجائے گی۔ یا یوم سے مراد ہے وقت اور یات کا فاعل ہے یوم یعنی جب اور جس وقت وہ دن آجائے گا۔ یا اللہ فاعل ہے ‘ یعنی جس روز اللہ آجائے گا۔ اللہ کے ظہور کو دوسری آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے ‘ فرمایا ہے : ھَلْ یَنْظُرُوْنَ الاّآ یَّاْتِیَھُمُ اللہ - وَجَآءَ رَبُّکَ ۔ فمنھم شقي و سعید پس کچھ ان (اہل حشر) میں بدبخت ہوں گے اور (کچھ) خوش نصیب۔ جس کے لئے بدبختی لکھ دی گئی ہے ‘ وہ بدبخت ہوگا اور جس کے لئے خوش نصیبی لکھ دی گئی ‘ وہ سعید ہوگا۔ حضرت علی ؓ بن ابی طالب نے فرمایا : ہم ایک جنازہ کے ساتھ نکلے۔ بقیع میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ بھی (چھڑی ہاتھ میں لئے سامنے سے آتے) نظر آئے۔ آپ ﷺ تشریف لا کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر چھڑی سے زمین کریدتے رہے ‘ پھر فرمایا : کوئی جان (کسی بدن میں پھونکی ہوئی) ایسی نہیں کہ جنت یا دوزخ میں اس کی جگہ (پہلے سے) لکھ نہ دی گئی ہو یا اس کا شقی و سعید ہونا نہ لکھ دیا گیا ہو۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! تو پھر اپنے (مقدر میں) لکھے پر بھروسہ کیوں نہ کروں اور عمل کر ترک کیوں نہ کر دوں ؟ فرمایا : نہیں۔ عمل کئے جاؤ ‘ ہر ایک کو (تقدیر میں لکھے ہوئے عمل کی) توفیق دی جاتی ہے۔ شقاوت والوں کو اہل شقاوت کے عمل کی توفیق دی جاتی ہے اور اہل سعادت کو سعادت مندوں کے عمل کی توفیق دی جاتی ہے۔ اس کے بعد آپ نے آیت : فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی واتَّقٰی وَصَدَقَ بالْحُسنٰی۔۔ تلاوت فرمائی۔ رواہ البغوی۔ بخاری و مسلم میں بھی اسی طرح کی حدیث آئی ہے۔
Ayah 11:106

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں ان کا چلانا اور دھاڑنا ہوگا

فاما الذین شقوا ففی النار لھ مفیھا فیر وشھیق سو جو لوگ شقی ہیں وہ دوزخ میں ہوں گے ‘ دوزخ میں ان کی چیخ و پکار ہوگی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زفیر سخت آواز اور شہیق پست آواز۔ ضحاک اور مقاتل نے کہا : گدھے کی آواز کی ابتدائی حالت کو زفیر کہتے ہیں اور آواز کی آخری حالت جب آواز لوٹ کر گدھے کے پیٹ میں گھومتی ہے شہیق کہلاتی ہے۔ قاموس میں بھی یہی ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : حق میں ہونے کی حالت میں آواز کو زفیر اور سینے میں (اترنے) کی حالت میں آواز کو شہیق کہا جاتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : سانس کا باہر نکلنا زفیر ہے اور سانس کا لوٹ کر اندر لے جانا شہیق ہے۔ لیکن زفیر کا استعمال گدھے کی ابتدائی آواز کے لئے اور شہیق کا استعمال گدھے کی آخری آواز کے لئے ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے : زفَرَ ، یزفِر، زفرًا اَو زفیرًا کھینچ کر سانس کو باہر نکالیا (یعنی زفیر آہ بھرنے کو کہتے ہیں) ۔