11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 11:107

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

(اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں، اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے

خلدین فیھا ما دامت السموت والارض ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔ ضحاک نے کہا : آسمان و زمین سے جنت و دوزخ کے آسمان و زمین مراد ہیں۔ جو چیز سر کے اوپر کی جانب ہو وہ سماء ہے اور جس پر قدم ٹکے ہوئے ہوں وہ ارض ہے۔ یہ بات ناقابل انکار ہے کہ حشر میں سب لوگوں کا اجتماع ہوگا تو وہ کسی جگہ ہوگا۔ قدموں کے نیچے بھی کوئی چیز ہوگی اور سر کے اوپر کی جانب بھی کچھ ہوگا۔ اہل معنی کہتے ہیں کہ عرب لوگ جب کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کو آسمان و زمین کے وجود کے ساتھ مشروط کرتے ہیں تو ان کی مراد اس فعل یا عدم فعل کا دوام ہوتا ہے۔ اس قول کی روشنی میں مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالاَرْضِ کی مراد ہوگی : دوامی ‘ ہمیشہ۔ الا ما شآء ربک ہاں اگر آپ کے رب ہی کو (نکالنا) منظور ہو تو دوسری بات ہے۔ یہ جملہ بظاہر دلالت کر رہا ہے کہ دوزخ کے اندر دوزخ ایک خاص وقت تک رہیں گے ‘ پھر مدت سکونت دوزخ ختم ہوجائے گی۔ ایک روایت میں حضرت ابن مسعود ؓ و حضرت ابوہریرہ ؓ کے جو اقوال آئے ہیں ان سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ جہنم پر ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ اس میں کوئی نہ ہوگا اور یہ حالت اس وقت ہوگی جب لوگ اس میں احقاب (صدیوں) تک رہ چکے ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ کا ایک بیان بھی اسی طرح آیا ہے۔ صوفیاء میں سے شیخ محی الدین ابن عربی کا قول بھی یہی ہے ‘ لیکن یہ قول اجماع کے اور صریحی آیات و احادیث کے خلاف ہے۔ اللہ نے فرمایا : فِی العذابِ ھُمْ خَالِدُوْنَ عذاب میں ہی وہ ہمیشہ رہیں گے۔ طبرانی ‘ ابونعیم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر دوزخیوں سے کہہ دیا جائے کہ تم کو (دوزخ میں) اتنے (برسوں) رہنا ہے جتنی سنگریزوں کی تعداد ہے تو وہ اس کو سن کر خوش ہوجائیں گے اور اگر اہل جنت سے کہہ دیا جائے کہ تم کو (جنت میں) اس قدر (مدت) رہنا ہے جتنی سنگریزوں کی گنتی ہے تو ان کو یہ سن کر غم پیدا ہوجائے گا۔ مگر (ایسا نہ ہوگا بلکہ) ان سب دوزخیوں اور جنتیوں) کے لئے وہاں دوام سکونت مقرر کردیا گیا ہے۔ طبرانی نے الکبیر میں اور حاکم نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ کو یمن (کا حاکم بنا کر) بھیجا۔ حضرت معاذ وہاں پہنچے تو (ایک تقریر میں) فرمایا : لوگو ! میں اللہ کے رسول ﷺ کا قاصد ہوں ‘ مجھے تمہارے پاس یہ اطلاع دینے کے لئے بھیجا گیا ہے کہ لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف ‘ وہاں دوامی قیام ہوگا (دوامی زندگی ہوگی) بغیر موت کے اور قیام ہوگا بغیر کوچ کے (یعنی کبھی وہاں سے کوچ نہیں کیا جائے گا) اور ایسے جسموں کے اندر ہوگا جو کبھی نہیں مریں گے۔ شیخین نے حضرت ابن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے۔ پھر ایک منادی (دونوں فریق کے درمیان) ندا کرے گا : اے دوزخ والو ! (آئندہ) موت نہیں اور اے جنت والو ! (آئندہ) موت نہیں۔ ہر شخص جس حالت میں ہے ‘ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہا جائے گا : اے اہل جنت ! (تمہارے لئے) دوام ہے ‘ موت نہیں ہے اور اے اہل نار ! (دوزخ میں تمہارے لئے) دوام ہے ‘ موت نہیں ہے۔ ایک اور حدیث جس میں موت کو ذبح کردینے کا ذکر ہے ‘ اس میں بھی یہ آیا ہے کہ ندا دی جائے گی : اے اہل جنت ! موت نہیں ہے اور اے دوزخ والو ! (آئندہ) موت نہیں ہے۔ یہ حدیث شیخین نے حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابو سعید کی روایت سے اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابوہریرہ کا اوّل الذکر قول اگر صحیح روایت سے ثابت ہوجائے تو اس قول کا یہ مطلب ہے کہ جہنم پر ایک ایسا وقت آئے گا جب اس کے اندر کوئی اہل ایمان میں سے نہیں رہے گا (سب کافر ہی رہ جائیں گے) اور کافر تو اس میں ہمیشہ بھرے رہیں گے۔ میں نے آیت : لٰبثین فیھا احقابًا کی تفسیر میں لکھ دیا ہے کہ یہ آیت بدعتی مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی۔ لیکن اکثر اہل تفسیر کے نزدیک احقاب سے مراد غیر متناہی صدیاں ہیں۔ جب علماء کا یہ اجماع ہوگیا کہ کفار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے تو اب اس آیت کا اور آیۃ کے اندر جو دو استثناء ہیں ‘ ان کا مطلب کیا ہوگا ؟ اس کی توضیح علماء نے مختلف طور پر کی ہے۔ میرے نزدیک سب سے اچھا مطلب یہ ہے کہ کفار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ‘ مگر جب ان کو بھڑکتی آگ سے نکال کر کھولتے ابلتے پانی میں لے جا کر ڈالنا ہوگا تو جحیم سے کھینچ کر حمیم میں ڈال دیا جائے گا اور اس طرح ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ بغوی نے آیۃ یَطُوْفُّوْنَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ وہ حمیم و جحیم کے درمیان چکر لگاتے رہیں گے۔ آگ کی شدت کی وجہ سے جب وہ فریاد کریں گے تو گرم ابلتا پانی جو پگھلے ہوئے تانبے یا تیل کی طرح ہوگا ‘ ان کو پلایا جائے گا۔ ا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَاءِ کَالْمُھْلِ یا آگ اور زمہریر (سخت ترین سردی) کے عذاب میں چکر لگاتے رہیں گے۔ شیخین نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی اور عرض کیا : اے میرے رب ! میرے ایک حصے کو (شدت گرمی کی وجہ سے) دوسرا حصہ کھائے جاتا ہے۔ اللہ نے اس کو (سال میں) دو سانسیں لینے کی اجازت دے دی ‘ ایک سردی کے موسم میں اور ایک گرمی کے موسم میں (موسم گرما میں) جو لوگ سخت ترین گرمی محسوس کرتے ہیں ‘ وہ دوزخ کی سانس کی وجہ سے ہوتا ہے اور سخت ترین سردی جو محسوس کرتے ہیں ‘ وہ بھی دوزخ کے سانس کے سبب سے ہوتا ہے۔ بزار نے حضرت ابو سعید کی روایت سے اور حضرت ابو سعید نے حضرت انس کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ آیۃ فَاَمَا الَّذِیْنَ شَقُوْا میں استثناء کا رجوع (گناہ گار) مؤمنوں کی طرف ہے۔ بدبخت مؤمنوں کو گناہوں کی سزا میں اللہ دوزخ میں ڈال دے گا ‘ پھر (ایک مدت کے بعد) وہاں سے رہا کر دے گا۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کچھ لوگوں کو گناہوں کی سزا میں دوزخ کی لپٹ لگے گی ‘ پھر اللہ اپنی رحمت سے ان کو جنت میں داخل فرما دے گا اور ان کو (اہل جنت کی طرف سے) جہنمی کہا جائے گا۔ رواہ البخاری۔ حضرت عمران بن حصین راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی شفاعت سے دوزخ سے نکال لئے جائیں گے ‘ پھر ان کو جنت میں داخل کرلیا جائے گا۔ لوگ ان کو جہنم والے کہیں گے۔ رواہ البخاری۔ طبرانی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے بھی ایسی حدیث نقل کی ہے۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ وہ لوگ اللہ سے دعا کریں گے کہ جہنمی کا نام ان سے مٹا دے۔ ان کی دعا پر اللہ یہ نام ان سے مٹا دے گا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا اور جتنی مدت اللہ چاہے گا وہ دوزخ میں رہیں گے۔ (دوزخ میں) مشرک ان کو عار دلائیں گے کہ تم کو تمہارے ایمان نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا (ہماری طرح تم بھی دوزخ میں ہو) اس پر اللہ ہر موحد کو دوزخ سے نکال لے گا ‘ کوئی موحد وہاں باقی نہیں رہے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ۔ اسی مفہوم کو (دوسرے الفاظ میں) ایک طویل حدیث کے ذیل میں طبرانی اور بیہقی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے بیان کیا ہے اور طبرانی نے حضرت ابو سعید کی روایت سے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ گناہگار مؤمنوں کا دوزخ میں جانا ‘ پھر وہاں سے نکلنا اتنی احادیث میں آیا ہے جو حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : بدکار مؤمن دوزخ سے نکالے جائیں گے اور صحت استثناء کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ مجموعے سے کسی حکم کے منفی ہونے کے لئے بعض افراد سے حکم کا زوال کافی ہے اور استثناء دویم سے یہی (گناہگار مؤمن) مراد ہیں ‘ عذاب کے زمانے میں باوجود مؤمن ہونے کے یہ لوگ جنت سے دور ہوں گے۔ دوامی ‘ ابدی حکم کی نفی دونوں طور پر ہوتی ہے ‘ انتہاء کی جانب منقطع ہونا اور ابتداء کی جانب نقطہ آغاز ہونا۔ سے یہ لوگ نہ دوامی سعید ہوں گے نہ ابدی شقی ‘ بلکہ گناہوں کی وجہ سے شقی اور ایمان و یقین کی وجہ سے سعید۔ ایک شبہ اس صورت میں فَمِنْھُمْ شقی و سعید کہنا صحیح نہ ہوگا کیونکہ جب تیسری قسم نکل آئی جو سعید بھی ہے اور شقی بھی (عقیدہ کے اعتبار سے سعید اور اعمال کی وجہ سے شقی) تو شقی اور سعید کو دو قسمیں قرار دینا اور دونوں کو باہم مقابل اور حریف سمجھنا غلط ہوگا۔ ازالہ تقابل اور دو چیزوں کے اتصال کی تین صورتیں ہوتی ہیں : 1) دونوں چیزیں ایک وقت میں ایک جگہ جمع نہ ہو سکیں اور نہ یہ ممکن ہو کہ دونوں نہ ہوں بلکہ ایک کا ہونا اور دوسری کا نہ ہونا ضروری ہے ‘ جیسے وجود و عدم ۔ اثبات و نفی۔ 2) دونوں چیزوں کا ایک ہی وقت میں ایک جگہ جمع ہونا ممکن نہ ہو لیکن یہ ممکن ہو کہ دونوں چیزیں نہ ہوں ‘ تیسری کوئی چیز ہو جیسے سیاہی اور سفیدی۔ ایک چیز سیاہ بھی ہو اور سفید بھی ‘ ایسا نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ سیاہ بھی نہ ہو اور سفید بھی نہ ہو ‘ سرخ یا زرد ہو۔ 3) یہ ممکن نہ ہو کہ دونوں چیزیں نہ ہوں لیکن دونوں کا جمع ہونا ممکن ہو۔ جیسے یہ ممکن نہیں کہ قیامت کے دن حشر کے بعد کوئی شخص سعید بھی نہ ہو اور شقی بھی نہ ہو ‘ البتہ یہ ممکن ہے کہ سعید بھی ہو اور شقی بھی۔ عارضی مدت کے لئے دوزخ میں چلا جائے ‘ یہ اس کی شقاوت ہو پھر رہائی پا کر جنت میں داخل ہوجائے ‘ یہ اس کی سعادت ہو (مترجم) ۔ آیت میں یہی تیسری قسم مراد ہے یعنی کچھ لوگ خالص سعید ہوں گے ‘ کچھ خالص شقی اور کچھ سعید و شقی کا مجموعہ۔ ایسا کوئی نہ ہوگا کہ سعید بھی نہ ہو اور شقی بھی نہ ہو۔ بعض علماء نے کہا : ما شاء سے مراد ہے من شاء اور من شاء سے مراد ہیں گنہگار مؤمن۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ حساب کے لئے میدان حشر میں کھڑے ہونے کا وقت یا دنیا میں عالم بزرخ میں رہنے کا وقت مستثنیٰ ہے۔ اہل سعادت کا دوامی جنتی ہونا اور اہل شقاوت کا دوامی دوزخی ہونا ‘ حساب کتاب کے بعد ہوگا۔ اللہ نے حساب کا پورا وقت یا دنیا میں رہنے کا وقت یا بزرخ میں رہنے کا وقت ‘ سکونت جنت و دوزخ کے حکم سے مستثنیٰ کردیا۔ ان اوقات میں آدمی نہ جنت میں ہوگا نہ دوزخ میں۔ اس تفسیر پر ممکن ہے بلکہ احتمال ہے کہ حسب قول بیضاوی خلود سے استثناء ہو یعنی ان اوقات کے علاوہ جنتی کا جنت میں اور دوزخی کا دوزخ میں خلود و دوام ہوگا۔ بعض علماء نے کہا کہ استثناء کا رجوع لَھُمْ فِیْھَا زَفِیْرٌ وَّ شَھِیْقٌ کی طرف ہے ‘ یعنی جتنی مدت اور جن اوقات میں اللہ کو منظور ہوگا ‘ ان کا زفیر و شہیق نہ ہوگا۔ سیوطی نے البدور السافرہ میں لکھا ہے : زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ لفظ الاَّ کو لیس کے معنی میں قرار دیا جائے ‘ استثناء کے لئے نہ قرار دیا جائے یعنی الاَّ کے معنی اس جگہ علاوہ اور سوا کے ہیں۔ جیسے عربی میں بولا جاتا ہے : لَکَ عَلَيَّ اَلْفُ درھمٍ الاَّ الْاَلْفَانِ الْقَدِیْمَان تیرے مجھ پر ہزار درہم ہیں ‘ علاوہ سابق کے دوہزار کے (یعنی کل تین ہزار ہیں) آیۃ کا مطلب اس صورت میں یہ ہوگا کہ وہ وہاں اتنی مدت رہیں گے جتنی مدت دنیا کے آسمان و زمین باقی تھے ‘ علاوہ اس زیادہ (غیر متناہی) مدت کے جتنا اللہ ان کو وہاں رکھنا چاہے گا۔ مراد یہ ہے کہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ لیکن اس پیچ دار اسلوب عبارت کا فائدہ کیا ہے اور بیچ میں مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالاَرْض ذکر کرنے کا نتیجہ کیا ہے ‘ اس نکتہ کو سمجھنے کے لئے دقت نظر کی ضرورت ہے۔ پہلے طول مدت کو ذہن نشین کرنے کے لئے مدت بقائے سماء و ارض کو ذکر کیا جس سے لوگ واقف تھے ‘ پھر اس کے بعد غیر متناہی اور ان گنت مدت کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ غیر متناہی مدت کا طول سمجھ میں آجائے۔ بعض علماء نے کہا : اِلاَّ بمعنی واؤ (اور) ہے ‘ جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ الاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا تاکہ تمہارے خلاف لوگوں کو کوئی دلیل نہ ملے اور نہ ظالموں کو تم پر کوئی حجت حاصل ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ وہاں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم رہیں گے اور جب تک اللہ چاہے گا ‘ یعنی ہمیشہ رہیں گے۔ فراء نے کہا : یہ استثناء تو ہے مگر ایسا استثناء ہے کہ اس کا فعلی ظہور کبھی نہیں ہوگا۔ اگر تمہارا ارادہ پختہ طور پر کسی کو مارنے کا ہو مگر تم اس طرح کہو : خدا کی قسم ! میں تجھے ضرور ماروں گا مگر اس وقت جب کہ نہ مرنا میری نظر میں بہتر ہو (تو نہیں ماروں گا) اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ وہ وہاں اس وقت تک رہیں گے جب تک اللہ چاہے گا ‘ جب اللہ اس کے خلاف چاہے گا تو وہ نکال لئے جائیں گے یعنی اگر اللہ چاہے گا تو ان کو رہائی دے گا ‘ لیکن وہ ایسا کبھی نہیں چاہے گا۔ قتادہ نے کہا : (ہمیں نہیں معلوم) اللہ ہی اس استثناء کے مطلب سے واقف ہے۔ (1) [ اس فقیر کی نظر میں آیۃ کے مطلب میں کوئی ابہام نہیں بلکہ اس طرز بیان میں خاص ندرت ہے اور کوتاہ نظر لوگوں کے دماغوں میں پیدا ہونے والے شبہ کا جواب ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ آیۃ میں بعض احوال آخرت کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ مؤمنوں کے لئے دوامی جنت اور کافروں کے لئے دوامی دوزخ کی صراحت کی ہے اور یہی قرینہ ہے اس بات کا کہ سماوات و ارض سے مراد جنت و دوزخ کے آسمان و زمین ہیں اور چونکہ یہ اخروی آسمان و زمین لازوال ہیں اور جنت کے اندر سکونت کو بقائے سماء و ارض کے ساتھ مقید کیا ہے ‘ اس لئے جنت و دوزخ کی سکونت بھی دوامی ہوگی۔ لیکن اس صراحت کے بعد کیا خدا مجبور ہوگیا ؟ کیا وہ مشیت سے معطل ہوگیا ؟ کیا اس کا کوئی اختیار نہیں رہا ؟ یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا ‘ اس کو زائل کرنے کے لئے مشیت کا استثناء کرلیا جس کا مطلب یہ نکلا کہ اللہ نے جنتیوں کے لئے جنت اور دوزخیوں کے لئے دوزخ گو دوامی کردی لیکن وہ مجبور نہیں ہوگیا ‘ اس کی مشیت اس کے خلاف بھی کارفرما ہوسکتی ہے یعنی یہ دوامی حکم اس نے اپنی مشیت سے جاری کیا ہے اور اس حکم کے اجراء کے بعد اس کی مشیت و اختیار کی صفت سلب نہیں ہوگئی ‘ وہ جب چاہے مذکورہ صراحت کے خلاف بھی اپنے اختیار کو استعمال کرسکتا ہے مگر چونکہ اس نے وعدہ کرلیا ہے اور سز او جزا دوامی ہونے کی صراحت کردی ہے ‘ اس لئے باوجود اختیار کامل اور مشیت تامہ کے اس حکم کو منسوخ نہیں کرے گا۔ وا اللہ اعلم (مترجم)] ان ربک فعال لما یرید بیشک آپ کا رب جو کچھ چاہے پورے طور پر اس کو کرسکتا ہے۔ یعنی اس کا اختیار کلی اور ہمہ گیر ارادہ اور محیط کل مشیت آزاد ہے ‘ وہ مجبور نہیں ہے کہ اہل جنت کو جنت اور اہل نار کو دوزخ کی سکونت دوامی دینے کے بعد بےاختیار ہوگیا ہو کہ کسی کو اس کے مسکن سے باہر نہ نکال سکے ‘ لیکن نکالے گا نہیں۔ بقول فراء یہ استثناء صحیح ہے ‘ اس کا فعلی ظہور کبھی نہیں ہوگا (مترجم)
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو نیک بخت ہوں گے، وہ بہشت میں داخل کیے جائیں گے اور جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ اور جو نیک بخت ہوں گے وہ بہشت میں داخل کئے جائیں گے (اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ یہ (خدا کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی

واما الذین سعد واففی الجنۃ خلدین فیھا ما دامت السموت والارض الا ما شآء ربک اور لیکن جو خوش نصیب ہوں گے وہ جنت میں ہوں گے جہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے مگر جب آپ کے رب کی مشیت ہوگی (تو نکل سکیں گے اگرچہ کبھی نہیں نکل سکیں گے) استثناء کے متعلق علماء کے مختلف اقوال اس آیت میں بھی وہی ہیں جو گزشتہ آیت کی تفسیر میں بیان کر دئیے گئے۔ میرے نزدیک اس جگہ پسندیدہ قول یہ ہے کہ بعض اوقات میں اہل جنت کو اس درجہ پر فائز کردیا جائے گا جو جنت سے بھی اعلیٰ ہوگا ‘ یعنی اللہ کے دیدار میں استغراق اور بارگاہ اقدس سے ناقابل بیان اتصال۔ اہل تفسیر نے آیۃ وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّھَا ناظِرَۃٌ کی تشریح میں لکھا ہے کہ اِلٰی رَبِّھَا ناظِرَۃٌ میں اِلٰی رَبِّھَاکو ناظِرَۃٌ سے پہلے ذکر کرنا مفید حصر ہے (اپنے رب ہی کی طرف دیکھ رہے ہوں گے) یعنی اللہ کے دیدار میں اتنا غرق ہوں گے کہ کسی دوسری چیز کی طرف نگاہ بھی نہیں اٹھائیں گے۔ حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل جنت اپنے عیش میں ہوں گے کہ اچانک اوپر سے ایک نور ان پر نمودار ہوگا۔ وہ سر اٹھا کر دیکھیں گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اوپر ان کو جھانکتا دکھائی دے گا اور خطاب فرمائے گا : اے اہل جنت ! تم پر سلام ہو۔ آیت سَلَامٌ قَوْلاً رَّبٍّ رَحِیْمٍ کا یہی مطلب ہے۔ غرض اللہ ان کی طرف دیکھے گا اور وہ اللہ کی طرف۔ اللہ کی جانب دیکھنے کے وقت وہ کسی اور نعمت کی طرف التفات بھی نہیں کریں گے ‘ یہاں تک کہ اللہ حجاب کرلے گا اور اس کی چمک و برکت اہل جنت کی گردن میں رہ جائے گی۔ (رواہ ابن ماجہ ‘ وابن ابی الدنیا ودارقطنی) حضرت مجدد (رح) نے اپنے مکتوب نمبر 100‘ جلد سوئم میں حضرت یعقوب کی حضرت یوسف کے ساتھ دلآویزی کی حقیقت کی تشریح کے ذیل میں لکھا ہے کہ اللہ کے اسماء میں سے جو اسم جس شخص کو مبدء تعین (مرکز ظہور) ہوتا ہے ‘ اس اسم کا ظہور (کسی جسم کے اندر) اس شخص کی جنت ہوتا ہے اور اس اسم کا ظہور تجلی درختوں ‘ نہروں ‘ شاندار محلات اور حور و غلمان کی شکل میں ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” جنت کی مٹی پاکیزہ ہے اور پانی شیریں ہے اور وہاں میدان ہیں اور اس کے پودے یہی ہیں یعنی : سُبْحَان اللہ والْحَمْدُ اللہ ولا اِلٰہَ الاَّ اللہ جنت کے پودے ہیں “۔ حضرت مجدد (رح) نے فرمایا : کبھی یہ درخت اور نہریں (چمکدار ‘ روشن) زجاجی اجسام (جیسے عینک کے آئینے) کی شکل اختیار کرلیں گے اور اللہ کے بےکیف دیدار کے حصول کا ذریعہ ہوجائیں گے (انہیں کے ذریعے سے اللہ کا دیدار حاصل ہوجائے گا مگر یہ رویت ہر کیفیت سے پاک ہوگی ‘ پھر اپنی اصلی (شجری یا نہری) شکل کی طرف لوٹ آئیں گی اور مؤمن پھر انہیں سے (اسی شجری یا نہری شکل میں) تفریح کرے گا اور اس طرح ہمیشہ ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ ہم نے اس مقام کی مزید توضیح سورة القیامۃ کی آیۃ رویت کی تفسیر کے ذیل میں کی ہے۔ عطاء غیر مجذوذ وہ غیر منقطع علیہ ہوگا۔ یعنی اللہ کا وصال اور دیدار ایک ایسا عطیۂ خداوندی ہوگا جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ یوں تو جنت کی ہر نعمت غیر منقطع اور لازوال ہوگی ‘ لیکن اللہ کا وجود اصل اور حقیقی ہے اور دوسری چیزوں کا وجود ظلّی ہے ‘ اللہ کے وجود سے وابستہ (بلکہ اس کا پرتو۔ مترجم) پس بذاتہ اور خود بخود موجود صرف اللہ ہے ‘ باقی ہر چیز ہلاک (اور معدوم الاصل) ہے ‘ جیسے مانگے کپڑے اپنے نہیں ہوتے ‘ مالک کے ہوتے ہیں۔ پس اللہ جو اہل جنت کو اپنا بےکیف وصل عنایت کرے گا اور بےحجاب دیدار دکھائے گا وہی اصل ‘ حقیقی اور غیر منقطع عطا ہوگی ‘ باقی دوسری نعمتیں واصل ذات کے مقابلے میں ذیلی ظلّی اور اصلاً معدوم ہوں گی۔ وا اللہ اعلم۔ ابن زید نے کہا : اہل جنت کے لئے تو اللہ نے اپنی غیر منقطع عطا کا ذکر کردیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ دوزخیوں کے لئے کیا چاہے گا ‘ کیا کبھی ان کا عذاب منقطع کرنا چاہے گا یا ان کا عذاب بھی لازوال ہوگا بلکہ دوزخیوں کے حق میں فرمایا : اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں۔ اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں۔ اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پورا بلا کم وکاست دینے والے ہیں

فلاتک في مریۃ مما یعبد ھولا ما یعبدون الا کما یعبد اباؤھم من قبل وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص سو (اے مخاطب ! ) جس چیز کی یہ پرستش کرتے ہیں ‘ اس کے بارے میں ذرا شبہ نہ کرنا۔ یہ لوگ بھی اسی طرح (بلادلیل کے) غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں جس طرح ان کے بزرگ ان سے پہلے عبادت کرتے تھے۔ یعنی تمام لوگوں کی سزا و جزا کی جو تفصیل ہم نے بیان کردی ‘ اس کے بعد آپ شک میں نہ رہیں کہ مشرک جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں ‘ وہ سراسر گمراہی ہے اور اسی عذاب کا مستحق بنا دینے والی ہے جس عذاب کے مستحق ان کے اسلاف اپنی مشرکانہ عبادت کی وجہ سے ہوئے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہمارے بیان کے بعد آپ کو شک نہ کرنا چاہئے کہ ان مشرکوں کے معبود نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ضرر۔ ان کے معبود بھی ویسے ہی ہیں جیسے ان کے مشرک اسلاف (اوّل مطلب پر مِمَّا یعبد میں مَا مصدریہ ہوگا اور دوسرے مطلب پر موصولہ۔ مترجم) ۔ اِلاَّ کَمَا یَعْبُدُ ۔۔ یہ ممانعت شک کی علّت ہے یعنی ان کی عبادت بھی ویسی ہی مشرکانہ ہے جیسی ان کے اسلاف کی تھی (مَا مصدریہ) یا یہ بھی انہیں کی پوجا کرتے ہیں جن کی ان کے اسلاف کرتے تھے مَا موصولہ) اور یہ آپ کو پہلے معلوم ہی ہوچکا کہ ان کے اسلاف کا نتیجہ کیا ہوا۔ پس جو نتیجہ ان کا ہوا ‘ وہی ان کا ہوگا۔ اسباب ایک جیسے ہیں تو نتائج بھی ایک ہی طرح کے ہوں گے۔ نَصِیْبَھُمْ نصیب سے مراد ہے : حصۂ عذاب ‘ یعنی ان کا عذاب کا حصہ بھی اپنے اسلاف کی طرح پورا پورا ہوگا۔ یا حصہ رزق مراد ہے ‘ اس مطلب پر تاخیر عذاب کی وجہ کا اظہار ہوجائے گا کہ ہم نے جو ان کے عذاب کو مؤخر کردیا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان کے رزق کا حصہ پورا کر رہے ہیں۔ لَمُوَقُّوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ کا مصدر تو فیہ (باب تفعیل) ہے جس کا معنی ہے : ادا کرنا ‘ خواہ پورا پورا ہو یا کمی کے ساتھ۔ وَفَّیْتہٗ حَقَّہٗ میں نے اس کا حق دے دیا۔ اگر کچھ حصۂ حق بھی دے دیا ہو تب بھی یہ جملہ بولا جاتا ہے (اور یہاں مراد ہے پورا پورا حق دینا ‘ اس لئے) تاکید کے لئے غیر منقوص فرمایا (کہ ان کے حصے کی ادائیگی میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی) ۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہے میں (پڑے ہوئے) ہیں

ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (یعنی توریت) پھر اس میں اختلاف کیا گیا۔ کسی نے اس کو مانا ‘ تصدیق کی ‘ کسی نے نہ مانا ‘ تکذیب کی۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی کا پیام ہے کہ قرآن کی تصدیق و تکذیب کوئی نئی بات نہیں ‘ حضرت موسیٰ کو جو توریت دی گئی تھی اس کو ماننے نہ ماننے میں ایسے ہی اختلاف ہوگیا تھا۔ ولا لا کلمۃ سبقت من ربک لقضي بینھم اور اگر ایک بات آپ کے رب کی طرف سے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کا قطعی فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا۔ یعنی اگر قیامت تک مہلت دینے کا اللہ کا (ازلی) حکم نہ ہوگیا ہوتا تو حق پرست اور باطل پرست کا فیصلہ یہیں ہو چکتا۔ حق پرست کو بچا لیا جاتا اور باطل پرست پر عذاب آجاتا۔ وانھم لفی شک منہ مریب اور وہ (یعنی کفار مکہ) قرآن (یا عذاب) کی طرف سے شک میں مبتلا ہیں جو ان کو متردد بنائے ہوئے ہے۔
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بےشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے

وان کلا لما لیوفینھم ربک اعمالھم اور بالیقین یہ سب کے سب ایسے ہیں کہ آپ کا رب ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا حصہ دے گا۔ اِنَّ حرف تحقیق ہے۔ نافع ‘ ابن کثیر اور ابوبکر کے نزدیک اِنْ مخففہ ہے (اصل میں اِنَّ تھا) کلاًّ میں تنوین مصاف الیہ کے بجائے آئی ہے یعنی اختلاف کرنے والوں میں سے ہر ایک خواہ مؤمن ہو یا کافر۔ لَمَّا اصل میں لَمَنْ ما تھا ‘ نون کو میم سے بدل دیا۔ تین میم جمع ہوگئے۔ اوّل میم کو حذف کردیا ‘ پھر ایک میم کو دوسرے میم میں ادغام کردیا۔ ما زیادہ ہے۔ بعض نے کہا : اصل میں لماً تھا ‘ لَمْتُ کا مصدر لَمًّا ہے جس کا معنی ہے جمع کرنا۔ صاحب ایجاز نے لکھا ہے کہ یہ لما ظرفیہ ہے اور کلام میں کچھ اختصار ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : وَاِن کلا لما بعثُوْا لَیُوَفِّیَنَّھُمْ جب ہر شخص کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو اللہ اس کے اعمال کا ضرور بدلہ دے گا۔ ان بما یعملون خبیر جو کچھ وہ کرتے ہیں (یا کرتے تھے) اللہ اس سے پورا واقف ہے۔ کوئی پوشیدہ عمل بھی اس سے مخفی نہیں ہے ‘ خیر ہو یا شر (ہر چیز سے وہ باخبر ہے) ۔
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرنا۔ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

فاستقم کما امرت ومن تاب معک پس جو حکم آپ کو دیا گیا ہے ‘ آپ بھی اس پر قائم رہیں اور وہ لوگ بھی جو آپ کے ساتھ ایمان لائے ہیں۔ جب اللہ نے مؤمنوں اور کافروں یعنی توحید و نبوت کو ماننے اور نہ ماننے والوں کا ذکر پہلے کردیا اور سزا و جزا کے وعد اور وعید کی بھی وضاحت کردی تو اب استقامت کا حکم دیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اور دوسرے اہل ایمان کو بھی۔ استقامت کا لفظ اپنے اندر عموم رکھتا ہے ‘ ہر طرح کی استقامت کو شامل ہے۔ 1) عقائد کی استقامت ‘ یعنی اللہ کی ذات کو تمام صفات کمالیہ کا جامع سمجھنا (صفات خداوندی کا انکار نہ کرنا) مگر اس کی صفات کو مخلوق کو صفات کے مشابہ بھی نہ قرار دینا (یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ کی کوئی صفت مخلوق کی صفت کی طرح نہیں ہے ‘ اس کی صفات کامل ہیں) اور نہ بندوں کو بالکل مجبور سمجھ لینا نہ کامل مختار (یعنی انسان کو در و دیوار اور چرند و پرند کی طرح بےاختیار بھی نہ سمجھنا اور نہ قادر مطلق ‘ بےلگام مختار کہ جیسا چاہے کرسکے اور جب چاہے کرسکے ‘ بلکہ درمیانی سیدھی راہ پر ہی چلنا) ۔ 2) اعمال کی استقامت ‘ یعنی وحی اور شریعت کو پورا پورا بیان کردینا ‘ نہ اس میں زیادتی کرنا نہ کمی۔ 3) عبادات اور معاملات کو ان کے حقوق کے موافق ادا کرنا ‘ نہ ان میں (جذبۂ خیر کے زیر اثر) زیادتی کرنا (کہ پانچ وقت کی جگہ چھ وقت نماز فرض قرار دے دی جائے) نہ کمی کرنا (کہ چار رکعت فرض کی جگہ تین رکعتیں مقرر کرلی جائیں) ۔ حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اسلام کے متعلق مجھے کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ آپ کے بعد میں کسی سے پوچھنے کا محتاج نہ رہوں۔ فرمایا : اٰمَنْتُ باللٰہِ کہو اور استقامت رکھو۔ رواہ مسلم (یعنی سیدھی چال چلو اور اس پر قائم رہو) لفظ استقامت تمام امور کو حاوی ہے۔ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے فرمایا : استقامت (سے مراد) یہ ہے کہ اوامرو نواہی پر قائم ہوجائے اور لومڑی کی طرح (راہ مستقیم سے ادھر ادھر نہ مڑے۔ استقامت بہت ہی سخت حکم ہے (یعنی اس پر عمل کرنا انتہائی دشوار ہے) اس لئے صوفیاء کا قول ہے کہ استقامت کا مرتبہ کرامت سے اونچا ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پوری نبوت کی مدت میں اس آیت سے زیادہ سخت آپ ﷺ پر کوئی اور آیت نازل نہ ہوئی ‘ اس لئے حضور ﷺ نے فرمایا تھا : مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا۔ میں کہتا ہوں : حضرت ابن عباس ؓ کے اس قول سے معلوم ہو رہا ہے کہ سورة ہود نے جو رسول اللہ ﷺ کو بوڑھا کردیا ‘ اس سے مراد پوری سورة نہیں بلکہ) اس سورة کی یہی ایت ہے جس میں استقامت کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ حضور ﷺ گو فطرتاً اور تخلیقاً استقامت کے حامل تھے مگر آپ ﷺ پر ایمان لانے والے اور آپ ﷺ کا اتباع کرنے والی ساری امت تو ایسی نہ تھی اور امت پر آپ ﷺ بڑے مہربان تھے ‘ اسی فکر نے آپ ﷺ کو بوڑھا کردیا کہ امت کے لئے استقامت سخت دشوار ہے ‘ اس کا کیا ہوگا۔ بظاہر فرمان نبوی شیبتنی سورة ہود کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ سورة ہود میں گذشتہ امتوں کی نافرمانی اور ان کی ہلاکتوں کا بیان کیا گیا ہے جس سے اشارہ اس امر کی طرف بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اس امت کے ظالموں کو بھی دنیا اور آخرت میں ایسے ہی عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ اس اندیشے نے حضور ﷺ کو بوڑھا کردیا۔ ولا تطغوا انہ بما تعملون بصیر اور (حدو و شرع سے) تجاوز نہ کرو کہ اللہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ بعض علماء نے کہا : طغیان نہ کرنے سے مراد غلو کرنا ‘ یعنی اوامرو نواہی کو ان کی مقررہ حدود سے آگے بڑھانا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دین آسان ہے ‘ اس میں جو شدت اختیار کرے گا (آخر تھک جائے گا ‘ قوت جسمانی جواب دے دے گی اور) دینی شدت اس کو مغلوب کر دے گی۔ لہٰذا تم سیدھی اور درمیانی چال چلو اور (کامیابی کی لوگوں کو) بشارت دو (سختی کر کے مایوس نہ بناؤ) اور رفتار صبح و شام اور کچھ سیر شب سے مدد حاصل کرو۔ رواہ البخاری و النسائی۔ میں کہتا ہوں : اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بوڑھا کردینے والابار استقامت تھا (کہ لوگ احکام میں استقامت نہیں رکھ سکیں گے) ۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آلپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں۔ اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی

ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ (اس میلان کی وجہ سے) تم کو بھی آگ لگ جائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : رکون سے مراد ہے : محبت اور دل کا جھکاؤ یعنی دل سے مائل نہ ہو۔ ابو العالیہ نے کہا : ظالموں کے اعمال کو پسند نہ کرو۔ سدی نے کہا : ظالموں کے معاملہ میں چشم پوشی اور مداہنت نہ کرو۔ عکرمہ نے کہا : ظالموں کا کہا نہ مانو۔ بیضاوی نے لکھا ہے : ادنیٰ جھکاؤ بھی ظالموں کی طرف نہ کرو۔ رکون کا معنی ہے : ادنیٰ میلان۔ مثلاً ظالموں کا کلچر اور طور طریقہ اختیار کرنا ‘ ان کا ذکر تعظیم کے ساتھ کرنا ‘ یہ ادنیٰ میلان ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : جب ظالموں کی طرف ادنیٰ جھکاؤ کا نتیجہ دوزخ ہے تو سمجھو کہ خود ظلم کرنے اور ظلم میں منہمک رہنے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ یہ ظلم سے بازداشت کرنے کا بلیغ ترین اسلوب بیان ہے۔ روایت میں ایا ہے کہ ایک شخص کسی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا۔ امام نے یہ آیت پڑھی ‘ یہ شخص سن کر بےہوش ہوگیا۔ کچھ دیر کے بعد ہوش میں آیا اور بےہوشی کی وجہ دریافت کی گئی تو بولا : یہ سزا تو ظالم کی طرف مائل ہونے والے کی ہے ‘ ظالم کا کیا ہوگا (اس تصور نے مجھے بےہوش کردیا) ۔ حسن بصری کا قول منقول ہے کہ اللہ نے دین کو دو لاَ کے درمیان کردیا ہے ‘ ایک لا یطغوا اور دوسرا لا ترکنوا (خود بھی حد سے تجاوز نہ کرو اور ظالم کی طرف مائل بھی نہ ہو) ۔ امام اوزاعی نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ عالم ہے جو ظالم کی ملاقات کو جاتا ہے۔ حضرت اوس کا بیان ہے : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص ظالم کو ظالم جانتے ہوئے قوت پہنچانے کے لئے اس کے ساتھ جاتا ہے ‘ وہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ ایک شخص کہہ رہا تھا : ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے ‘ دوسرے کا نہیں کرتا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ بات سن کر فرمایا : کیوں نہیں ‘ ظالم کے ظلم سے تو چڑیاں بھی اپنے آشیانے میں بھوکی مرجاتی ہیں۔ یہ دونوں حدیثیں شعب الایمان میں مذکور ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : رسول اللہ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ساتھ مؤمنوں کو اس آیت میں خطاب کی غرض یہ ہے کہ استقامت یعنی عدل پر ثابت قدم رہیں (افراط وتفریط کی طرف مائل نہ ہوں) افراط وتفریط کی طرف جھکاؤ سے اپنے اوپر ظلم ہو یا دوسرے پر ‘ وہ تو فی نفسہٖ ظلم ہے (خواہ اس کی زد کی پر پڑے یا نہ پڑے) ۔ وما لکم من دون اللہ من اولیاء ثم لا تنصرون اور اللہ کے مقابلہ میں تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا ‘ پھر تمہاری مدد (کہیں سے بھی) نہیں کی جائے گی۔ اولیاء یعنی مدد گار ‘ جو عذاب کو دفع کرسکیں۔ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُوْنَ یعنی پھر اللہ تمہاری مدد نہیں کرے گا ‘ تم کو عذاب دینے کا محکم ازلی فیصلہ ہوچکا ہے۔ ثُمَّ استبعاد کے لئے ہے یعنی اللہ کی طرف سے تمہاری مدد ہونی بہت بعید (ناممکن) ہے ‘ یا کسی طرف سے بھی تمہاری مدد ممکن نہیں۔ جس کو اللہ عذاب دینا طے کرلے اس کی مدد کون کرسکتا ہے۔ ترمذی اور نسائی نے بیان کیا کہ حضرت ابو الیسر (بقول بغوی ان کا نام عمرو بن عریہ انصاری تھا) نے فرمایا : ایک عورت کچھ چھوارے خریدنے میرے پاس آئی۔ میں نے کہا : گھر کے اندر اس سے اچھے چھوارے ہیں (تم میرے ساتھ چل کر دیکھ لو) وہ میرے ساتھ اندر چلی گئی۔ اندر پہنچ کر میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس کا بوسہ لے لیا (کرنے کو تو ایسا کر گذرا) پھر مجھے اپنے کئے پر پچھتاوا ہوا اور حضرت ابوبکر کی خدمت میں آکر واقعہ عرض کردیا۔ آپ نے فرمایا : توبہ کرو اور اس کو ظاہر نہ کرو۔ آخر مجھ سے ضبط نہ ہوسکا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے گیا ہوا ہے ‘ تو نے اس کی غیبت میں اس کی بیوی کے ساتھ ایسی حرکت کی ؟ اندازہ ہوتا تھا کہ حضور ﷺ نے میرے دوزخی ہونے کا خیال کرلیا۔ پھر آپ ﷺ نے تھوڑی دیر سر جھکایا اور آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح اور شام کے اوقات میں) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں

واقم الصلوۃ طرفی النھار وزلفا من الیل آپ نماز کی پابندی رکھئے دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں ‘ جو دن کے قریب ہوں۔ صحابہ نے عرض کیا : یہ آیت کیا آپ ﷺ کے لئے مخصوص ہے یا سب لوگوں کے لئے ہے ؟ فرمایا : سب لوگوں کے لئے ہے۔ صاحب لباب النقول نے لکھا ہے : حضرت ابو الیسر کی روایت کی طرح حضرت ابو امامہ ‘ حضرت ابن عباس اور حضرت بریدہ وغیرہم کی روایت سے بھی یہ حدیث آئی ہے۔ ان کے دونوں کناروں سے مراد ہے : صبح اور شام۔ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ رات کا ایک ٹکڑا یا چند ساعات جو دن سے متصل ہوں (یعنی پچھلی رات یا شروع رات) زلف، زلفۃٌ کی جمع ہے۔ اَزَلَفہٗ اس کو قریب کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک دن کے دونوں کناروں سے فجر اور مغرب کی نمازیں اور زُلَفًا سے عشاء کی نماز مراد ہے۔ حسن نے کہا : دن کے دونوں کناروں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں اور زلف سے مراد مغرب و عشاء ہیں __ حسن بصری کی اس تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہر و عصر کی اور مغرب و عشاء کی نمازیں بوقت ضرورت ایک ہی شمار کی جاتی ہیں ‘ اسی بناء پر امام مالک و امام شافعی و امام احمد کا قول ہے کہ اگر عصر کے آخر وقت میں کوئی کافر مسلمان ہوجائے ‘ یا حائضہ پاک ہوجائے ‘ یا لڑکا بالغ ہوجائے تو اس پر ظہر و عصر دونوں نمازیں واجب ہوجائیں گی اور عشاء کے آخر وقت میں صورت مذکورہ اگر پیدا ہوجائے تو مغرب اور عشاء دونوں کا وجوب ہوگا۔ امام ابوحنیفہ کا قول جمہور ائمہ کے قول کے خلاف ہے۔ آپ کے نزدیک صرف عصر اور عشاء کی نماز واجب ہوگی۔ آیت : اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْقًا کی تشریح میں سورة نساء میں ہم نے امام ابوحنیفہ کے قول کی تائید میں مختلف احادیث نقل کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر نماز کا وقت دوسری نماز کے وقت سے جدا ہے ‘ اس لئے امام صاحب کے نزدیک سفر ‘ یا بیماری ‘ یا بارش کے عذر کی وجہ سے بھی ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر ایک وقت میں پڑھنا درست نہیں اور بغیر عذر کے تو دو نمازوں کو ایک وقت میں ادا کرنا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں۔ امام مالک و امام احمد کے نزدیک سفر کی حالت میں دو نمازوں کو جمع کرنا درست ہے۔ امام مالک اور امام احمد بارش کی وجہ سے صرف مغرب و عشاء کو ایک وقت میں ادا کرنا جائز کہتے ہیں اور امام شافعی بارش کی وجہ سے صرف ظہر و عصر کو ملا کر پڑھنا درست قرار دیتے ہیں اور امام احمد کے نزدیک بیماری کی وجہ سے بھی دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔ جمہور نے اپنے مسلک کے ثبوت میں حضرت حمنہ بنت جحش کا واقعہ پیش کیا ہے۔ حضرت حمنہ استحاضہ کی مریضہ تھیں (استحاضہ یعنی پیرا کا مرض جس میں ہر وقت خون جاری رہتا ہے) رسول اللہ ﷺ نے ان کو دو نمازوں کو جمع کرنے کا حکم دے دیا تھا اور فرمایا تھا : ظہر میں تاخیر اور عصر میں عجلت (یعنی اوّل وقت ادا) کرلیا کرو ‘ پھر غسل کر کے دونوں نمازیں (ترتیب کے ساتھ) جمع کرلیا کرو۔ رواہ احمد والترمذی۔ ترمذی نے اس روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے سفر کی حالت میں ظہر کو عصر سے اور مغرب کو عشاء سے ملا کر پڑھا تھا۔ صحیحین میں حضرت ابن عباس کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں مغرت اور عشاء کی دونوں نمازیں ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب زوال سے پہلے سفر کرتے تھے تو ظہر (آغاز) عصر تک مؤخر کردیا کرتے تھے ‘ پھر اتر کر دونوں کو ملا کر ادا کرتے تھے اور زوال کے بعد سفر کرتے تھے تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے تھے۔ مسلم میں حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک میں ظہر کو عصر سے اور مغرب کو عشاء سے ملا کر پڑھا تھا۔ میں نے عرض کیا : حضور ﷺ نے ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا : تاکہ امت کو دشواری نہ رہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے ان تمام احادیث کے جواب میں فرمایا کہ ان احادیث میں ملا کر پڑھنے سے مراد ہے جمع صوری یعنی ظہر کا آخر وقت میں پڑھنا اور عصر کو شروع وقت میں ‘ مغرب کو دیر کر کے آخر وقت میں پڑھنا اور عشاء کو جلدی کر کے آغاز وقت میں ادا کرنا۔ اس طرح حضور ﷺ نے ہر نماز اسی کے وقت میں ادا کی لیکن ایک میں تاخیر اور دوسری میں عجلت کرنے کی وجہ سے دونوں نمازیں ملی ہوئی (بیک وقت) نظر آنے لگیں اور حقیقت میں ہر نماز اپنے وقت میں ہوئی۔ حضرت حمنہ والی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے اور اسی معنی پر وہ حدیث محمول ہے جو صحیحین میں حضرت ابن عباس کی روایت سے آئی ہے کہ مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر سفر کے رسول اللہ ﷺ نے دو نمازیں جمع کر کے پڑھیں (یعنی ایک میں تاخیر کی اور دوسری میں عجلت) مسلم کی دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ بغیر خوف اور بغیر بارش کے ظہر کو عصر سے اور مغرب کو عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت کیا گیا : اس سے حضور ﷺ کی غرض کیا تھی ؟ فرمایا : امت کو دشواری میں نہ رکھنا۔ طبرانی کی روایت ہے : بغیر کسی وجہ کے مدینے میں دو نمازوں کو جمع کیا تھا۔ دریافت کیا گیا : اس سے حضور ﷺ کا مقصد کیا تھا ؟ فرمایا : امت کے لئے سہولت پیدا کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس حدیث میں جمع صوری (یعنی اوّل نماز کو آخر وقت میں اور دوسری کو اوّل وقت میں پڑھنا) ہی مراد ہے۔ بلاوجہ دونوں نمازوں کو ایک نماز کے وقت میں پڑھنا تو بالاجماع درست نہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عمرو بن دینار کی روایت سے تو صریحاً یہی مضمون آیا ہے ‘ الفاظ اس طرح ہیں : میں نے کہا : ابو الشعثاء ! میرا خیال ہے کہ حضور ﷺ نے ظہر کے وقت میں تاخیر اور عصر کی نماز میں عجلت کی ہوگی اور مغرب کو آخر وقت میں اور عشاء کو شروع وقت میں ادا کیا ہوگا۔ ابو الشعثاء نے جواب دیا : میرا بھی یہی خیال ہے۔ ایک سوال جمع تاخیر کو تو جمع صوری قرار دیا جاسکتا ہے (یعنی ظہر کو اتنا مؤخر کرنا کہ عصر سے مل جائے اور مغرب کو اتنا مؤخر کرنا کہ عشاء سے متصل ہوجائے) لیکن بعض روایات میں تو جمع تقدیم کی شکل میں آئی ہے جس کو جمع صوری قرار ہی نہیں دی جاسکتا (یعنی عصر کو وقت سے پہلے ظہر کے وقت میں ادا کیا اور عشاء کو اس کا وقت آنے سے پہلے مغرب کے وقت میں پڑھا) چناچہ حضرت ابن عباس کی روایت ہے جس کو امام احمد اور بیہقی و دارقطنی نے حسین بن عبیدا اللہ بن عبد اللہ بن عباس اور عکرمہ و کریب از ابن عباس کے سلسلہ سے نقل کیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : فرودگاہ پر زوال آفتاب ہوجاتا تو سوار ہونے سے پہلے حضور ﷺ ظہر و عصر کو جمع کرلیا کرتے اور فرودگاہ پر (قیام کی حالت میں) زوال نہ ہوتا تھا تو (بغیر ظہر پڑھے) روانہ ہوجاتے تھے ‘ پھر جب عصر کا وقت آجاتا تھا تو اتر کر ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھتے تھے۔ (اسی طرح) فرودگاہ پر (مغرب کے وقت) ہوتے تھے تو مغرب و عشاء کو (مغرب کے وقت) پڑھ لیتے تھے اور (مغرب کے وقت) فرودگاہ پر نہیں پہنچتے تھے تو سوار رہ کر چلتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب عشاء کا وقت آجاتا تو اتر کر دونوں نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔ رہی حضرت انس والی روایت تو اسماعیلی و بیہقی نے اسحاق بن راہویہ کے حوالے سے اس کے الفاظ اس طرح نقل کئے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے تھے اور آفتاب ڈھل جاتا تھا تو ظہر و عصر کو ملا کر پڑھ لیتے تھے پھر کوچ کرتے تھے۔ نووی نے اس کی اسناد کو صحیح کہا ہے اور حضرت معاذ والی حدیث کو امام احمد ‘ ابو داؤد ‘ ترمذی ‘ ابن حبان ‘ حاکم ‘ دارقطنی اور بیہقی نے بحوالۂ قتیبہ از لیث از یزید بن حبیب از ابو الطفیل از معاذ بن جبل ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ غزوۂ تبوک میں اگر روانگی سے پہلے زوال ہوجا تاتو حضور ﷺ ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت میں جمع کر کے پڑھتے اور اگر زوال سے پہلے روانہ ہوجاتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے یہاں تک کہ عصر کے لئے اترتے تھے (تو ظہر بھی شروع میں پڑھتے تھے ‘ پھر عصر پڑھتے تھے) مغرب کے متعلق بھی ایسی ہی روایت آئی ہے۔ ہم کہتے ہیں : حسین بن عبد اللہ کی روایت سے جو حدیث آپ نے بیان کی ہے ‘ وہ روایت ضعیف ہے۔ حسین ضعیف ہے ‘ ابن معین کا یہی تبصرہ ہے اور نسائی نے اس کو متروک کہا ہے۔ رہی حضرت انس والی حدیث تو اس کی اسناد کو نووی نے صحیح کہا ہے۔ لیکن ذہبی نے بیان کیا ہے کہ ابو داؤد نے اسحاق بن راہویہ کی تردید کی ہے مگر اس روایت کی متابع وہ روایت بھی ہے جس کو حاکم نے الاربعین میں بیان کیا ہے ‘ اس کے الفاظ اس طرح ہیں : جب روانہ ہونے سے پہلے زوال ہوجاتا تو ظہر و عصر پڑھ کر سوار ہوتے۔ یہ زیادتی اگرچہ غریب ہے مگر صحیح ہے۔ طبرانی نے الاوسط میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور روانگی سے پہلے زوال آفتاب ہوجاتا تو ظہر و عصر کو یکجا (ظہر کے وقت میں) پڑھ لیتے تھے اور اگر زوال سے پہلے روانہ ہوجاتے تو شروع عصر میں دونوں کو جمع کر کے پڑھ لیتے اور مغرب اور عشاء میں ھی ایسا ہی کرتے تھے۔ مگر طبرانی نے کہا : یعقوب بن محمد زہری اس روایت میں منفرد ہیں۔ حضرت معاذ والی (مذکورۂ بالا) حدیث کے متعلق ترمذی نے کہا : اس کی روایت میں قتیبہ منفرد ہے اور معروف وہ ہے جو مسلم نے نقل کیا ہے۔ او داؤد نے کہا : یہ حدیث منکر ہے۔ جمع تقدیم کے متعلق کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔ ابو سعید بن یونس نے کہا : یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی نے نہیں بیان کی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے بیان میں غلطی ہے۔ ابو حاتم نے اس کو مغلل کہا ہے۔ حاکم نے بھی اس پر لمبی جرح کی ہے۔ بخاری اور ابن حزم کے نزدیک قتیبہ مجروح ہے۔ سفر کی حالت میں دو نمازوں کو (اوّل نماز کے وقت میں) جمع کرنے کے سلسلے میں ایک اور حدیث بھی آئی ہے جس کو دارقطنی نے اپنی سند سے بواسطہ اہل بیت بیان کیا ہے مگر اس سند میں بھی غیرمعروف راوی ہیں۔ اس میں ایک راوی منظر قابوسی بھی ہے جو ضعیف ہے۔ امام ابوحنیفہ نے اپنے استدلال میں حضرت ابن مسعود کی وہ روایت پیش کی ہے جو صحیحین میں مذکور ہے۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی نماز غیروقت میں پڑھی ہو سوائے مزدلفہ کے۔ مزدلفہ میں تو حضور ﷺ نے مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھا تھا اور دوسرے دن فجر کی نماز تڑکے سے وقت سے پہلے پڑھی تھی۔ شاید حضرت ابن مسعود کی مراد یہ ہے کہ معمولاً فجر کی نماز جس وقت پڑھتے تھے ‘ اس سے پہلے مزدلفہ میں پڑھ لی تھی۔ عرفہ میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا مسئلہ چونکہ مشہور ہے ‘ اسی لئے شاید حضرت ابن مسعود ؓ نے عرفہ کو ذکر نہیں کیا (صرف مزدلفہ کا ذکر کیا) ۔ لیلۃ التعریس والی (جبکہ پچھلی رات کو ایک جگہ سفر میں حضور ﷺ نے پڑاؤ کیا تھا اور حضرت بلال کو جاگتے رہنے اور فجر کے لئے بیدار کرنے کا حکم دے کر خود سو گئے تھے اور صحابہ بھی سو گئے اور اتفاقاً حضرت بلال بھی سو گئے اور سب کی نماز قضاء ہوگئی تو حضور ﷺ نے یہ حدیث فرمائی۔ اس) حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ سونے کی حالت میں (نماز قضاء ہونے میں) کوئی قصور نہیں ‘ قصور تو اس بات میں ہے کہ بیداری کی حالت میں نماز میں اتنی تاخیر کردی جائے کہ دوسری نماز کا وقت آجائے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے۔ ان الحسنت یذھبن السیئات نیکیاں لے جاتی ہیں برائیوں کو بیشک۔ یعنی نیکیوں کی وجہ سے برائیاں ساقط کردی جاتی ہیں۔ طبرانی نے ضعیف سند سے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نئی نیکی پرانی بدی کا جس طرح خوبی سے پیچھا کرتی اور تیزی کے ساتھ اس کو پہنچ جاتی ہے ‘ اتنی پہنچ والی اور کوئی خبر میں نے نہیں دیکھی۔ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّءٰاتِ ۔ امام احمد ناقل ہیں کہ حضرت ابوذر نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ فرمایا : جب تو کوئی گناہ کرے تو اس کے پیچھے نیکی (بھی ضرور) کرنا۔ نیکی ‘ بدی کو مٹا دے گی۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا نیکیوں میں سے لا اِلٰہ الاّ اللہ (کا اقرار) بھی ہے ؟ فرمایا : وہ سب نیکیوں سے افضل ہے۔ حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ کسی شخص نے کسی (اجنبی) عورت کا بوسہ لے لیا ‘ پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کردیا۔ اس پر اللہ نے آیت : وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ ۔۔ نازل فرمائی۔ اس شخص نے عرض کیا : کیا یہ تنہا میرے لئے ہے ؟ فرمایا : میری تمام امت کے لئے۔ دوسری روایت میں ہے : میری امت میں سے جو بھی اس پر عمل کرے ‘ اس کے لئے (یہی حکم) ہے۔ رواہ البخاری و مسلم۔ مسلم کی روایت میں اس کے بعد اتنا اور بھی ہے کہ حضرت عمر نے اس شخص سے فرمایا : اللہ تیری پردہ پوشی کرتا اگر تو اپنا جرم چھپا لیتا۔ حاکم اور بیہقی نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے اسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچوں نمازیں اور جمعہ (کی نماز) جمعہ تک اور رمضان (کے روزے) رمضان تک درمیانی گناہوں کو ساقط کردیتے ہیں ‘ جبکہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچا رہے۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر دریا ہو اور وہ اس میں روز پانچ بار غسل کرتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل رہ جائے گا ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : کچھ نہیں رہے گا۔ فرمایا : پس یہی حالت پانچ نمازوں کی ہے ‘ اللہ ان سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے (اور دل گناہوں کی کثافت سے پاک ہوجاتا ہے) رواہ البخاری و مسلم فی صحیحہما۔ ذلک یہ۔ یعنی استقم اور اس کے بعد والا حکم یا قرآن۔ ذکری للذاکرین نصیحت ہے نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے۔
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کیے رہو کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

واصبر اور (اے محمد ﷺ ! ) آپ (طاعت پر) قائم رہیں ‘ یا (جو دکھ آپ کو پہنچتا ہے اس پر) آپ صبر کریں۔ بعض نے کہا : نماز پر پابند رہیں۔ جیسا دوسری آیت میں آیا ہے : وَأْمُرْ اَھْلَکَ بالصَّلٰوۃٍ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا۔ فان اللہ لا یصیع اجر المحسنین بلاشبہ نیکی کرنے والوں کا ثواب اللہ ضائع نہیں کرے گا۔ ضمیر (یعنی اجرھُمْ ) کی جگہ اسم ظاہر (یعنی الْمُحْسِنِیْنَ ) سے کلام حامل دلیل ہوگیا کہ چونکہ وہ نیکوکار ہیں ‘ اس لئے اللہ ان کے ثواب کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس آیت میں اشارہ ہے اس امر کی جانب کہ صلوٰۃ اور صبر ہم زاد ہیں اور اخلاص نیت نہ ہو تو دونوں ناقابل اعتبار ہیں۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے

فلو لا کان من القرون من قبلکم اولوا بقیۃ ینھون عن الفساد فی الارض جو امتیں تم سے پہلے ہو گذری ہیں ‘ ان میں ایسے سمجھ دار لوگ نہ ہوئے جو دوسروں کو ملک میں بگاڑ پیدا کرنے (یعنی شرک و کفر) سے منع کرتے۔ بقیۃ (وہ شے جس کو باقی رکھا جائے یا وہ شے جو باقی رہے) سے مراد ہے عقل و خرد اور فضیلت۔ جو چیزیں آدمی باقی رکھتا ہے یا جو باقی رہنا چاہئے ان میں عقل و دانش ہی اس سے اعلیٰ چیز ہے (جسمانی طاقت و صحت اور مال وغیرہ کا درجہ دانش و عقل سے کم ہے) اگر کسی میں کوئی اچھی بات اور بھلائی ہو تو اس کو ذوبقیۃ کہا جاتا ہے اور اگر کوئی برگزیدہ اور اعلیٰ طبقے میں سے ہو تو کہا جاتا ہے : ھُوَ مِنْ بقیۃ القوم۔ ایک اور کہاوت ہے : فی الزوایا خنایا وفی الرجال بقایا یعنی گوشوں میں کچھ چھپی چیزیں ہوتی ہیں اور آدمیوں میں کچھ اعلیٰ اشخاص ہوتے ہیں۔ بعض کے نزدیک بقیۃ سے طاعت مراد ہے۔ آیت بَقِیَّۃُ اللّٰہ خَیْرٌ لَّکُمْ اور الباقیات الصالحات خیر میں ہم نے اس کی تشریح کردی ہے۔ بعض نے کہا : بقیۃ سے مراد ہے خیر باقی ‘ یعنی اچھی خصلت۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بقیۃ مصدر ہو جیسے تقیۃ۔ قاموس میں ہے : بقی یبقٰی (فتح یفتح) بقاءًا اور بقًا اور بقیًا اس صورت میں اولو بقیۃ کا معنی ہوا : اپنے اوپر رحم کرنے والے اور اپنی جانوں کو عذاب سے محفوظ رکھنے والے۔ الا قلیلا ممن انجینا منھم سوائے تھوڑے آدمیوں کے جن کو ہم نے بچا لیا۔ یعنی سوائے ان لوگوں کے جو انبیاء کے متبع تھے اور لوگوں کو زمین میں تباہی پھیلانے سے روکتے تھے۔ واتبع الذین ظلموا ما اترفوا فیہ وکانوا مجرمین اور جو لوگ نافرمان تھے اور جس ناز و نعمت میں تھے اس کے پیچھے پڑے رہے اور جرائم کے خوگر ہوگئے۔ اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا سے مراد ہیں وہ لوگ جنہوں نے برائی سے بازداشت نہیں کی۔ یعنی خواہشات عیش میں پڑے رہے ‘ آرام و عیش کی تلاش میں سرگرم رہے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے روگرداں ہوگئے۔ مقاتل بن حبان نے مَا اُتْرِفُوْا کا ترجمہ کیا ہے : وہ چیزیں جن کی گردش میں ان کو منتقل کیا جاتا رہا تھا۔ فراء نے کہا : جن چیزوں کے وہ خوگر تھے۔ مجرمین سے مراد ہیں : کافر۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جب کہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہِ ظلم تباہ کردے

وما کان ربک لیھلک القری بظلم واھلھا مصلحون اور آپ کا رب ہرگز ایسا نہیں کہ ظلم کے ساتھ بستیوں کو تباہ کر دے جبکہ بستیوں والے مسلم ہوں۔ لیہلک میں لام تاکید نفی کے لئے ہے اور ان مصدریہ محذوف ہے ‘ یعنی ظلم کے ساتھ بستیوں کو تباہ کردینا اللہ کی عادت نہیں ہے۔ اہلہا یعنی ان بستیوں کے باشندے۔ مصلحون سے مراد ہیں : مسلمان۔ مراد یہ ہے کہ اللہ ظالم نہیں۔ بعض کے نزدیک ظلم سے مراد ہے شرک ‘ یعنی بستی والوں کے شرک کی وجہ سے اللہ ان کو تباہ اور ہلاک نہیں کرتا بشرطیکہ ان کے آپس کے تعلقات میں بےانصافی نہ ہو اور وہ باہم حق تلفیاں نہ کرتے ہوں (حاصل مقصد یہ ہے کہ شرک سے تباہی نہیں آتی۔ بکثرت مشرک آباد اور دنیوی لحاظ سے مرفہ الحال اور کثیر النسل ہوتے ہیں۔ تباہی کی جڑ یہ ہے کہ لوگ باہم حق تلفیاں کرنے لگیں ‘ کسی کی آبرو اور جان و مال محفوظ نہ ہو۔ خیانت ‘ بےایمانی ‘ ڈاکہ ‘ چوری ‘ زنا ‘ امرد پرستی ‘ ناپ تول میں کمی بیشی اور معاملات میں کھوٹ اور باہم بغض وعناد پیدا ہوجائے۔ ایسی بستیوں کو اللہ تباہ کردیتا ہے (مترجم) ۔ طبرانی اور ابو الشیخ نے حضرت جریر بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے (مصلحون کی تشریح میں) فرمایا : باہم انصاف کرتے ہوں (تو اللہ ان کو ہلاک نہیں کرتا) شرک کی وجہ سے ہلاک نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ بڑی رحمت والا ہے ‘ اپنے حقوق سے درگذر فرما دیتا ہے۔ اگر اللہ کے اور بندوں کے حقوق میں کہیں ٹکراؤ ہوتا ہو (کہ بندوں کے حقوق ادا کرنے سے اللہ کا حق فوت ہوتا ہو اور حق اللہ کی ادائیگی سے بندوں کی حق تلفی ہوتی ہو) تو فقہاء نے حقوق العباد کی ادائیگی کو قابل ترجیح قرار دیا ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے کہ حکومت شرک کے ساتھ تو باقی رہ جاتی ہے ‘ ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہتی۔
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے

ولو شاء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ اور اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک گروہ بنا دیتا ‘ یعنی سب کو نیکوکار مسلمان بنا دیتا (اگرچہ اس نے سب کو نیک مسلمان ہوجانے کا حکم دیا ہے) آیۃ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ کی مشیت الگ چیز ہے اور حکم جدا حیثیت رکھتا ہے اور دونوں ایک نہیں ہیں۔ اللہ نے ہر شخص کو مؤمن بنانے کا وعدہ کیا ہے ‘ اگر وہ چاہتا تو اس کی مشیت کے مطابق ضرور ہوجاتا۔ ولا یزالون مختلفین اور لوگ ہمیشہ (حق سے) اختلاف کرتے رہیں گے اور طرح طرح سے باطل کی طرف مائل ہوتے رہیں گے۔ کوئی یہودی رہے گا ‘ کوئی عیسائی ‘ کوئی آتش پرست ‘ کوئی بت پرست ‘ کوئی جبری ‘ کوئی قدری ‘ کوئی رافضی ‘ کوئی خارجی وغیرہ (جبریہ فرقہ انسان کو بالکل بےاختیار قرار دیتا ہے ‘ اس کے نزدیک پتھر اور انسان میں کوئی فرق نہیں۔ غیر اختیاری تکوین کی طرح عملاً بھی آدمی پتھر کی طرح غیر مختار ہے۔ قدریہ انسان کو اپنے افعال کا خالق و مختار جانتا ہے اور اختیار کامل کا حامل قرار دیتا ہے) ۔