Ayah 7:195287 ۔ یعنی تم مع اپنے گونگے بہرے معبودوں کے سب مل کر اپنے دل کا ارمان نکال لو، اور میری مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دیکھ لو کہ مجھے کہاں تک نقصان پہنچا سکتے ہو۔ (آیت) ” قل ادعوا شرکآء کم ثم کیدون فلا تنظرون “۔ خطاب پیغمبر سے ہے کہ آپ ان بت پرستوں سے ان پر ان کے معبودوں کی بےکسی اور بےبسی واضح کرنے کو یوں فرمائیے۔ (آیت) ” الھم۔۔۔ یسمعون بھا “۔ جسمانیات میں کمال کا تحقق انہی آلات واعضاء پر موقوف ہے۔ اس لیے ان پر جرح تفصیل سے فرمائی گئی۔ آیت میں یہ پہلو بھی آگیا ہے کہ انسان میں قوت وقدرت کے ظاہری آلات، پیر، ہاتھ، آنکھ کان تو کم سے کم ہیں بھی۔ یہ بےجان وبے حس بت تو ان سے بھی محروم ہیں پھر یہ مشرک انسان کی کیا شامت ہے کہ وہ ان کی پرستش میں لگا ہوا ہے جو خود اس سے بھی ابتر وکمتر ہیں۔ المقصود من ھذا الایۃ بیان ان الانسان افضل واکمل حالا من الصنم واشتغال الافضل الاکمل بعبادۃ الاخس الادون جھل (کبیر)
Ayah 7:196288 ۔ (تو پھر اپنے نبی اور نبی بھی کیسا افضل الانبیاء کی کارسازی کیوں نہ کرے گا ؟ یہاں اکیلے اور سچے معبود کے دو وصف بیان کردیئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے کتاب نازل کی ہے جو دنیا وآخرت میں نافع اور سارے علوم کی جامع ہے دوسرے یہ کہ وہ صالح بندوں کی نصرت وکار سازی کرتا ہے دیوی دیوتا نام کے معبود ان دونوں ہی وصفوں سے عاجز و عاری ! اے ومن عادتہ تعالیٰ ان یتولی الصالحین من عبادہ فضلا عن انبیاۂ (بیضاوی)
Ayah 7:197289 ۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبرت 284، اصل مقصود ان معبودوں کا کمال عجز دکھانا تھا اس لیے اس پر توجہ اس آیت میں دلائی گئی ہے۔
Ayah 7:198290 ۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 285 ۔ (آیت) ” لایسمعوا “۔ ابھی اوپر کی ایک آیت میں اسی مضمون کے خاتمہ پر (آیت) ” لایتبعوکم “۔ وارد ہوا ہے۔ یہاں اس سے ترقی کرکے (آیت) ” لایسمعوا “۔ ہے۔ عدم اسماع یقیناً عدم اتباع سے بڑھ کر ابتر وصف ہے یہ معبود ان باطل اتباع تو کیا کرتے سننے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔ (آیت) ” ھذا ابلغ من نفع الاتباع (روح)
291 ۔ ترھم “۔ میں ضمیر انہی معبود ان باطل کی طرف ہے۔ صناع مشرک وجاہلی قومیں اپنی صناعی کے زور سے جیسی ” جاندار “۔ مورتیں تراش لیتی ہیں، ان کے اوپر قرآن مجید کا یہ بیان کس قدر صادق آتا ہے۔
Ayah 7:199292 ۔ (اور بہت زیادہ ان کے درپے نہ ہوجئے) (آیت) ” خذالعفو “۔ یعنی ان لوگوں کی جاہلانہ اور اشتعال انگیز حماقتوں سے درگزر ہی کرتے رہیے۔ اے خذ العفو عن المذنبین والمراد اعف عنھم والی ھذا ذھب جمع من السلف یشھد لہ ما اخر جہ ابن جریر وابن المنذر وغیرھما عن الشعبی (روح) آیت سے محققین نے طرح طرح کے سبق حاصل کیے ہیں، تحصیل علم، اعراض اہل ظلم اور ترک مجادلہ سفہاء وغیرہ کے۔ الحض علی التخلق بالعلم والاعراض عن اھل الظلم والتنزہ عن منازعۃ السفھاء (قرطبی) اور جعفر صادق (رح) سے منقول ہے کہ اس سے زیادہ کوئی آیت اخلاق کی جامع نہیں۔ (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں لوگوں کے ساتھ تسامح اور شفقت کے برتاؤ کی اور جاہلوں کے ساتھ حلم سے پیش آنے کی تعلیم ہے۔
Ayah 7:200293 ۔ اس لیے آپ کے استعاذہ کو خوب سنے گا اور آپ کے مقصود کو خوب سمجھے گا۔ (آیت 9” من الشیطن نزغ “۔ نزغہ شیطانی سے یہاں مراد طبیعت میں اس غصہ واشتعال کا پیدا ہونا اور اس کے مقتضا پر عمل کرنا ہے، جو مشرکوں اور جاہلوں کی پیہم اشتعال انگیزیوں سے پیدا ہونا تقریبا ایک امر طبعی تھا لیکن اس پر عمل کرنے سے مصالح انتظامی میں فرق پڑنے کا بھی احتمال تھا۔ نزغ الشیطان وساوسہ (قرطبی) الا غواء بالوسوسۃ و اکثر ما یکون عند الغضب (جصاص) (آیت) ” اما ینزغنک من الشیطن نزغ “۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ آیا پیغمبر کے لیے نزع شیطانی ممکن بھی ہے ؟ سیدھا اور صاف جواب یہ کہ ممکن کیوں نہیں پیغمبر سے صرف صدور معصیت ممتنع ہے، گناہ کی رائے وتجویز کا پیغمبر کے سامنے پیش ہونا، چاہے وہ انسان کی طرف سے ہو یا شیطان کی طرف سے، یہ تو کسی درجہ میں بھی ممتنع نہیں، اور نزغ شیطان کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہ شیطان نے ایک رائے آپ ﷺ کے سامنے پیش کی اور قرآن مجید تو ہر بری تحریک کو شیطان ہی کی جانب منسوب کرتا ہے۔ (آیت) ” فاستعذ باللہ “۔ آپ ﷺ اللہ سے پناہ مانگئے اور خو دآپ ﷺ کو پناہ میں لے لے گا۔ یعنی اس عارضی وسوسہ کو آپ سے دور کردے گا۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہاں یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ حضور ﷺ کی لطافت قلب اسی سے ظاہر ہے کہ جو وسوسہ شیطانی محض مس کے درجہ میں ہوتا تھا (چنانچہ اگلی آیت میں ایسے ہی موقع کے لیے لفظ مس آیا ہے اور وہاں ذکر صالحین ومتقین امت کا ہے) تو حضور ﷺ کے قلب مبارک کو اس کی اذیت مثل نزع کے محسوس ہوتی تھی، ایراد النزغ فی موضع والمس فی اخر لعلہ للاشارۃ الی ان لطافۃ قلبہ ﷺ ازید من غیرہ حیث یکون الوسوسۃ التی لایکون ورودہ اکثر من المس نزغا وایذاء شدیدا فی حقہ ولذا اکد باسنادہ الی النزغ نفسہ مبالغۃ (تھانوی (رح)
Ayah 7:201294 ۔ یعنی حقیقت امر ان پر منکشف ہوجاتی ہے مکاید شیطانی ان پر واضح ہوجاتے ہیں۔ اور وہ شیطانی خطرہ ان پراثر نہیں کرتا۔ (آیت) ” تذکروا “۔ یاد الہی میں لگ جاتے ہیں۔ یعنی دعاء استعاذہ وغیرہ کے ذریعہ سے اللہ کی عظمت کا استحضار کرکے اپنے ایمان کو تازہ کرلیتے ہیں۔ (آیت) ” طئف من الشیطن “۔ یعنی شیطان کی تحریک پر ان کے دلوں میں غصہ واشتعال یا اور کسی امرناجائز وناپسندیدہ کا جذبہ بھڑکنے لگتا ہے۔ الشیطن سے یہاں مراد جنس شیاطین ہے نہ کہ ذات ابلیس۔ والمراد بالشیطن ولذلک جمع ضمیرہ (بیضاوی) انما جمع الضمیر فی اخوانھم والشیطان مفرد لان المراد بہ جنس (مدارک) محققین نے لکھا ہے کہ وسوسہ شیطانی سے تقوی میں کوئی نقصان نہیں آتا۔ اور اس محفوظیت کے تین درجہ ہیں۔ درجہ اعلی یہ کہ وسوسہ کا اثر ہی سرے سے نہ ہو، جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ذبیح کے واقعہ میں منقول ہے۔ اور درجہ اوسط یہ کہ وسوسہ اثر دکھائے مگر معاتنبیہ بھی ہوجائے اور وسوسہ کے شر سے حفاظت رہے۔ یہ مقام صدیقین کا ہے اور قصہ یوسف وزلیخا میں اس کی نظیر موجود ہے۔ اور درجہ ادنی محفوظیت کا یہ ہے کہ پھسلے مگر معا سنبھل جائے۔ ڈرے جھجکے اور باز آجائے۔ یہ مقام تائبین کا ہوتا ہے اور ان تینوں مقامات کا صاحب عارف، متقی، ولی، صاحب دل ہوتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں کاملوں کو وسوسہ آنے کے امکان کی مع اس کے علاج یعنی استعاذہ اور تذکر امرونہی کی تصریح ہے۔
Ayah 7:202295 ۔ (گمراہیوں سے) اور باز آئیں بھی تو کیسے ؟ نہ اس کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ شیطان کے شر سے پناہ مانگتے ہیں۔ ولا یکفون عن الغی ولا یقصرون کالمتقین “ (بیضاوی) لایتوبون ولا یرجعون (قرطبی) (آیت) ” اخوانھم “۔ یعنی مشرکین واہل جاہلیت جو اہل طاعت وتقوی نہیں بلکہ اپنی حرکتوں کے باعث گویا شیطانی برادری کے لوگ ہیں۔ ضمیر۔ ھم، الشیطن (اسم جنس) کی جانب ہے۔ المعنی اخوان الشیاطین وھم الفجار من ضلال الانس (قرطبی) قال الحسن وقتادہ والسدی اخوان الشیاطین فی الضلال یمدھم الشیاطین (جصاص) ای اخوان الشیاطین من شیاطین الانس (مدارک) (آیت) ” یمدونھم فی الغی “۔ ضمیر ھم انہی اخوان کی طرف ہے۔ وھم الفجار من ضلال الانس یمدھم الشیاطین فی الغی (قرطبی) (آیت) ” یمدونھم “۔ مد اور امد۔ دو قریب المعنی لفظ ہیں۔ قرآن مجید میں دونوں برابر آتے ہیں۔ امد عموما موقع مدح پر مد عموما محل ذم میں۔ قال الواحد عامۃ ما جاء فی التنزیل مما بمحمد ویستحب امددت علی افعلت وما کان بخلافہ فانہ یجیء علی مددت (کبیر)
Ayah 7:203296 ۔ (کہ جب آپ نبی ٹھیرے تو سب کچھ آپ کے اختیار میں ہوگا) (آیت) ” لم تاتھم بایۃ “۔ یعنی ہمارے فرمایشی معجزوں میں سے آپ کوئی معجزہ کیوں نہیں لاتے۔ کانوا یطلبون ایات معینۃ وممعجزات مخصوصۃ علی سبیل التعنت (کبیر)
297 ۔ یعنی میرا کام تو صرف فرائض رسالت کو انجام دینا ہے، نہ کہ تمہارے فرمایشی معجزات بہ اختیار خود دلانا۔ جاہلی مشرک قوموں کے سمجھانے کے لئے جو نبوت کو الوہیت کی کوئی شاخ قرار دینے پر مصررہتے ہیں، قرآن مجید نے اس حقیقت کو بیسیوں مرتب مختلف طریقوں سے ادا کیا ہے، عارفوں نے یہیں سے یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ نبوت نام ہے کمال عبدیت و عبودیت کا، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں تصریح ہے اس کی کہ امور غیبی غیر اختیاری ہیں اس لیے وہ کمال کی علامت بھی نہیں، کمال کی بڑی علامت بس اتباع وحی ہے۔
298 ۔ یعنی قرآن تو اپنے اعجاز لفظی واعجاز معنوی کے اعتبار سے خود ہی بہت سے معجزات و دلائل کا قائم مقام ہے۔
Ayah 7:204299 ۔ حکم کے مخاطب ظاہر ہے کہ کفار ومنکرین ہیں اور مقصود اصلی یہ ہے کہ جب قرآن بہ غرض تبلیغ وغیرہ پڑھ کر تم کو سنایا جائے تو اسے توجہ وخاموشی کے ساتھ سنوتا کہ اس کا معجز ہونا اور اس کی تعلیمات کی خوبیاں تمہاری سمجھ میں آجائیں اور تم ایمان لاکر مستحق رحمت ہوجاؤ۔ اصل حکم تو اسی قدر تھا لیکن علماء حنفیہ نے اس کے مفہوم میں توسع پیدا کرکے اس سے حالت نماز میں مقتدی کے لیے قرآنی سورة فاتحہ کی ممانعت بھی نکالی ہے۔ اور اس باب میں علمائے امت کے درمیان طویل مباحثے ہیں جن کے اعادہ کا یہاں محل نہیں۔ ظاہرہ وجوب الاستماع والانصات وقت قراء ۃ القران فی الصلوۃ والتھلیل ونحو ذالک (مدارک) وظاہر اللفظ یقتضی وجوبھما حیث یقراء القران مطلقا (بیضاوی) (آیت) ” فاستمعوالہ وانصتوا “۔ صیغہ امر میں ہیں لیکن امر سے مراد یہاں وجوب ہے یا محض استحباب ؟ فقہاء نے جواب یہ دیا ہے کہ بہ سبب حرج اور اختلاف مجتہدین کے اولی اور اصح یہ ہے کہ صیغہ امر کو استحباب کے لیے سمجھا جائے عامۃ العلماء علی استحبابھما خارج الصلوۃ (بیضاوی) (آیت) ” انصتوا “۔ انصات ایسی خاموشی کو کہتے ہیں جو سننے ہی کے غرض سے اور بہ طور ادب ہو۔ الانصات السکوت للاستماع والاصغاء والمراعاۃ (قرطبی) قال اھل اللغۃ الانصات الامساک عن الکلام والسکوت لاستماع القران (جصاص)
Ayah 7:205300 ۔ (کہ ذکر الہی سے غفلت سے بڑھ کر اور کون غفلت ہوگی) (آیت) ” دون الجھر “۔ جو چیز ممنوع ہے ہو جہر مفرط ہے ورنہ جہر مطلق یا جہر معتدل ممنوع نہیں۔ المراد منہ ان یقع ذالک الذکر بحیث یکون متوسطا بین الجھر والمخالفۃ (کبیر) ملاحظہ ہوں اسی سورة کی آیت نمبر 55 پر حاشیے پارہ 8 میں۔ (آیت) ” واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ “۔ مقصود تعلیم ادب ہے۔ ہئیت آواز ہر شے سے تذلل کا اظہار ہونا چاہیے۔ (آیت) ” بالغدو والاصال “۔ الفکر (مدارک) المراد مداومۃ الذکر والمواظبۃ علہ بقدر الامکان (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ولا تکن من الغفلین سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ غفلت نہ ہو۔ یعنی فکر ہو اگرچہ اس میں زبان کی حرکت نہ ہو نہ جلی نہ خفی۔
Ayah 7:206301 ۔ یعنی دل سے، زبان سے، جوارح سے، سب طرح اس کی عبادت میں لگے رہتے اور اپنی عبدیت کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ اور ان میں سے کوئی بھی اپنے کو کسی صفت باری میں شریک نہیں سمجھتا۔ یہ آیت آیت سجدہ کہلاتی ہے۔ اور اس طرح کی آیتیں قرآن مجید میں بقول اصح چودہ ہیں۔ اور بعض کے شمار میں پندرہ (اختلاف سورة حج کے دوسرے سجدہ سے متعلق ہے) سجدۂ تلاوت، آیت سجدہ کی تلاوت کے وقت حنفیہ کے یہاں واجب ہے۔ تفصیلی احکام کتب فقہ میں ملیں گے۔ (آیت) ” ان الذین عند ربک “۔ مراد اصلی تو فرشتہ ہیں توسع کرکے انبیاء اولیاء مقربین بھی اس میں داخل کئے جاسکتے ہیں۔ یعنی الملائکۃ بالاجماع (قرطبی) عند سے مراد قرب منزلت ومرتبت ہے نہ کہ قرب مکانی۔ ھو عبارۃ عن قربھم فی الکرامۃ لا فی المسافۃ (قرطبی) مکانۃ ومنزلۃ لا مکانا ومنزلا (مدارک) القرب المعتبر ھو القرب بالشرف لاالقرب بالجھۃ (کبیر) آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب ملائکہ بہ ای شرف و عظمت ہر وقت عبادت الہی وتسبیح میں لگے ہوئے ہیں تو انسان کو اپنی ناسوتی آلایشوں کے لحاظ سے اور زیادہ اس پر مستعد رہنا چاہیے۔ والمعنی ان الملائکۃ مع نھایۃ شرفھم وغایۃ طھارتھم لما کانوا مواظبین علی العبودیۃ والسجود والخضوع والخشوع فالانسان مع کونہ مبتلی بظلمات عالم الجسمانیات اولی بالمواظبۃ علی الطاعۃ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” لا یستکبرون “۔ یعنی تکبر سے بری ہونے کو دوسری طاعتوں پر مقدم رکھنے سے یہ نکلتا ہے کہ زوال کبر اصلاح کی باقی صورتوں کے لیے بہ منزلہ شرط ہے اور امام رازی (رح) نے الفاظ آیت کی ترتیب سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اعمال قلوب، اعمال جوارح پر مقدم ہیں۔