Ayah 7:80106 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بن حاران بن تارح (آزر) حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے۔ توریت میں ان کا ذکر بڑی تفصیل سے ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب پیدائش باب 1 1 تا باب 19 ۔ البتہ محرفین توریت نے اپنے حسب معمول بعض بہت ہی گندی حرکتیں بھی حضرت کی جانب منسوب کردی ہیں۔ باب 19 ۔ آپ نے جس ملک کو اپنا وطن بنالیا تھا۔ وہ شرق یردن یعنی شام کا جنوبی علاقہ تھا۔ جو دریائے یردن کے اردگرد ہے۔ لقومہ “۔ عربی کا لفظ ” قوم “ یہاں اردو کے لفظ ” امت “ کے مفہوم میں ہے۔ عام قاعدہ اس سارے سیاق میں امت اور نبی کے درمیان ” بھائی “ کا رشتہ بیان کرنے کا ہے لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) کی بعثت اپنی برادری یا وطن والوں کی جانب نہیں ہے بلکہ ایک دوسری قوم کی جانب ہوئی تھی۔ اس لیے وہ عام طرز بیان یہاں حذف کردیا گیا۔ قرآن سے زیادہ ان نازک تاریخی حقائق کی رعایت اور کون کرسکتا ہے ؟ آپ جس قوم کی جانب بھیجے گئے۔ یہ لوگ ملک شام کے جنوب میں دریائے یردن کی وادی میں آباد تھے، سدوم، عمورہ کا یہ علاقہ خوب سرسبز و شاداب تھا۔” یردن کی ساری ترائی۔۔ خداوند کے باغ اور مصر کے ملک کی مانند خوب سیراب تھی “ (پیدائش۔ 13: 10)
107 ۔ مراد اغلام جیسے گندے عمل سے ہے۔ اسکی طرف رغبت وکشش ہونا تو درکنار، تصور ہی سے ہر فطرت سلیم رکھنے والے کو ایک طبعی کراہت پیدا ہوتی ہے۔ جو جگہ تمامتر گندہ فضلہ کے لیے ہو اور جو عضو بجزاخراج فضلات کے اور کسی ضرورت سے اندر کی جانب کھلتا ہی نہیں اسے محل شہوت سمجھ لینا اور اسے لطف ونشاط کا آلہ بنالینا اپنی حددرجہ غلاظت پسندی اور گھناؤنے پن کا ثبوت دینا ہے۔ (آیت) ” ماسبقکم بھا من احد من العلمین “۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ گو بعد کو (مثلا یونانی تہذیب کی ترقی کے زمانہ میں) اس شیطانی حرکت کو بھی بڑی ترقی ہوئی۔ اور آج تو یہ یورپی اور امریکی تہذیب کا جزولاینفک ہے اور پورا زور کتابوں اور رسالوں کے ذریعہ سے لگایا جارہا ہے کہ اسے بجائے غیر طبعی کے ایک طبعی تحریک قرار دیا جائے لیکن قوم لوط (علیہ السلام) سے قبل اس کے وجود کاتاریخ سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے حضرت لوط (علیہ السلام) کے قول میں دہری دہری ملامت اپنی قوم پر آگئی یعنی ایک تو یہ کہ ایسی شدید بدکاری میں مبتلا ہو اور پھر یہ کہ اس کے موجد بھی تم ہی ہو، یہ بھی تو نہیں کہ کسی اور کو دیکھ کر تم نے سیکھا ہو۔ کانہ وبخھم اولا باتیان الفاحشۃ ثم باختراعھا فانہ اسوأ (بیضاوی) (آیت) ” من احد من العلمین “۔ پہلا من زائد ہے تاکید نفی واستغراق معنی کے لیے ہے۔ اور دوسرا من تبعیض کے لیے ہے۔ من اولی زائدۃ لتوکید النفی افادۃ معنی الاستغراق والثانیۃ للتبعیض (کشاف) من لا ستغراق الجنس (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ قوم لوط (علیہ السلام) کی بدکاری کے ساتھ اس کے عدم مسبوقیت کو لانا دلیل ہے اس پر کہ منکرات پر محض عمل سے کہیں بڑھا ہوا درجہ ایجاد منکرات کا ہے۔ تو اسی پر کہ منکرات پر محض عمل سے کہیں بڑھا ہوا درجہ ایجاد منکرات کا ہے۔ تو اسی پر بدعت کے درجہ شناعت کا قیاس کرلیا جائے۔
Ayah 7:81108 ۔ (چنانچہ ایک اسی عادت پر کیا موقوف ہے ہر معاملہ میں ایسے ہی حدود سے گزرنے والے) ای انتم مسرفون فی کل الاعمال (کبیر) توریت میں اسی مقام پر ہے :۔ ” اور سدوم کے لوگ خداوند کی نظر میں نہایت بدکار اور گناہگار تھے “۔ (پیدائش 13: 13)
Ayah 7:82109 ۔ (اور ہم کو گندہ بتاتے ہیں تو ہم گندوں میں ان پاکوں کا کیا کام۔ یہ نکلیں ہمارے شہر سے) (آیت) ” اخرجوھم “ میں ضمیر جمع غائب اتباع حضرت لوط (علیہ السلام) کی جانب ہے۔ ای لوطا ومن امن معہ (مدارک) (آیت) ” یتطھروان “ یعنی بڑی پاکبازی بگھارتے ہی۔ بڑے اپنی پاکبازی کے مدعی ہیں ای یدعون الطھارۃ (مدارک)
Ayah 7:83110 ۔ توریت کی روایت میں ہے کہ وہ نافرمان عورت نمک کا ستون بن گئی :۔ ” مگر اس کی جورو نے اس کے پیچھے سے پھر کر دیکھا۔ اور وہ نمک کا کھمبابن گئی (پیدائش۔ 19:26) (آیت) ” انجینہ “۔ یعنی اپنے عذاب سے انہیں بچا دیا۔ (آیت) ” اھلہ “۔ اھل میں خاندان والے اور دوسرے معتقدین مومنین سب شامل ہیں ای انصارہ واتباعہ الذین قبلوا دینہ (کبیر) (آیت) ” امراتہ “۔ ان کی بیوی جو ایمان سے بھی خالی تھیں۔ کانت کافرۃ موالیۃ لاھل سدوم (مدارک) اس سے یہ معلوم ہوا کہ عذاب الہی کا سبب مشترک علاوہ فسق عملی کے کفر اعتقادی بھی تھا۔
Ayah 7:84111 ۔ خطاب یہاں عام مخاطب قرآنی سے ہے۔ (آیت) ” وامطرنا علیھم مطرا “۔ یعنی انگریزی تفسیر القرآن۔ ہماری تفسیروں میں آتا ہے کہ چار یا پانچ شہر تھے، جو اس طرح برباد کیے گئے ہیں۔ اور ان کی آبادی کا مجموعہ چار لاکھ تھا۔
Ayah 7:85112 ۔ ان پیغمبر شعیب (علیہ السلام) بن میکیل کا نام تو ریت میں کہیں توتیروآیا ہے۔ (مثلا خروج 3: 1 میں) اور کہیں حوباب (مثلا گنتی 10:29 میں) نسب نامہ ہماری تفسیروں میں یوں درج ہے۔ شعیب (علیہ السلام) بن میکیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) ۔ (آیت) ” مدین “۔ اس شہر کا محل وقوع بحراحمر کا ساحل عرب تھا۔ کوہ طور کے جنوب ومشرق میں شمالا جنوب عرض البلد 29 درجہ، 29 دقیقہ اور 27 درجہ 39 دقیقہ کے درمیان۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک زوجہ محترمہ بیوی قطورہ تھیں۔ انہی کے بطن سے ایک صاحبزادہ مدین نامی تھے۔ شہر جب آباد ہوا تو قدیم دستور کے مطابق انہی کے نام سے موسوم ہوا۔
113 ۔ ممکن ہے کوئی خاص معجزہ مراد ہو، جس کی صراحت قرآن مجید میں نہیں۔ ای معجزۃ وان لم تذکر فی القران (مدارک) ای معجزۃ مشاھدۃ بصحۃ نبوتی (کشاف) یجب ان یکون المراد من البینۃ ھھنا المعجزۃ (کبیر) اور ممکن ہے پیغمبر کا نفس آنا ہی مراد ہو۔ وھو مجیء شعیب بالرسالۃ (قرطبی)
114 ۔ (اور میری تصدیق پر آمادہ ہو) (آیت) ” فاوفوالکیل والمیزان ولا تبخسوا الناس اشیآء ھم “۔ اہل مدین ایک تجارت پیشہ قوم تھی۔ ان کا اصلی فسق معاملات تجارت میں بدمعاملگی اور بددیانتی تھی، اسی لیے پیغمبر وقت بعد عام دعوت توحید کے، سب سے پہلا سبق تجارتی اخلاق کا دے رہا ہے۔ (آیت) ” اوفوالکیل “ کیل سے مراد آلہ کیل یعنی مکیال ہے یا وہ چیز جونا پی جائے۔ ارید بالکیل الۃ الکیل وھو المکیال اوسمی مایکال بہ بالکیل (کشاف) (آیت) ” ولا تفسدوافی الارض بعد اصلاحھا “۔ اصلاحی نظام یعنی شریعت خداوندی کو جزءا یاکلا قبول کرنے سے انکار کرنا، اور بندوں کے ادائے حقوق میں کمی کرتے رہنا یہ سب صورتیں فساد فی الارض ہی کی ہیں۔ (آیت) ” ولا تبخسوا “ کے اطلاق وعموم کے ماتحت خیانت و بددیانتی کی ہر صنف آگئی، چوری، ڈکیتی، رشوت غصب وغیرہا۔ المراد من البخص التنقیص بجمیع الوجوہ ویدخل فیہ المنع من الغصب والسرقۃ واخذالرشوۃ وقطع الطریق وانتزاع الاموال بطریق الحیل (کبیر) (آیت) ” ولا تبخسوا الناس اشیآء ھم “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مدلول نص پر قیاس کرکے صاحب روح المعانی نے کہا ہے کہ جو اہل علم اپنے معاصرفضلاء کی تعظیم و توقیر کا حق واجب نہیں ادا کرتے وہ بھی اس آیت کی زد میں آجاتے ہیں۔ (آیت) ” ذلکم خیرلکم “۔ اشارہ ان پانچ چیزوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ یعنی دو چیزیں عقاید میں سے ایک اقرار توحید، دوسرے رسالت اور تین چیزیں اعمال میں سے، ایک شفقت علی خلق اللہ، دوسرے ترک، بخس، تیسرے ترک افساد (کبیر)
Ayah 7:86115 ۔ (اعتراض واعراض کی نیت سے) (آیت) ” تو عدون “۔ یہ لوگ ایمان والوں کو طرح طرح کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے۔ جیسا کہ ہر سرکش بدراہ قوم کا قاعدہ ہے۔ کانوا یوعدون العذاب من امن (قرطبی) (آیت) ” من امن بہ “۔ ضمیر اسم اللہ کی طرف ہے اور شعیب (علیہ السلام) کی طرف بھی جائز ہے۔ یحتمل ان یعود الی اسم اللہ وان یعود الی شعیب (قرطبی) ای باللہ (مدارک) قوم کے امراض خبیثہ ایک ایک کرکے بیان ہورہے ہیں۔ امام قرطبی آیت کی تفسیر کے ذیل میں اپنے زمانہ کا حال تأسف وقلق کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں بھی خلاف شرع جبرستانی اور ظلم و زیادتی کے طریقہ جاری ہوگئے ہیں۔ اور اسلام بجز نام اور رسم کے اب باقی ہی کہاں رہ گیا ہے۔ لم یبق من الاسلام الارسمہ ولا من الدین الا اسمہ۔
116 ۔ یعنی ان مکذب ومنکر حق قوموں کا انجام جو تم سے قبل ہوچکی ہیں۔ کس کس طرح تباہ وبرباد ہوکررہی ہیں اور ان کے علوم وفنون، ان کی صنعتیں اور حرفتیں، ان کی دولت وتمول، ان کی تہذیب و تمدن ان کی ترقیاں کوئی چیز بھی انہیں ہلاکت سے نہ بچاسکی۔
Ayah 7:87117 ۔ (اور دونوں فریقوں کی حالت یکساں ہے اور اس ظاہری یکسانی نے تمہیں تردو میں ڈال رکھا ہے)
(اور اس کا فیصلہ اپنے وقت مناسب پر عذاب کے ذریعہ سے ہوگا) (آیت) ”’ فاصبروا “ وعید وتہدید کے مفہوم میں ہے۔ یہ مراد نہیں کہ آپ انہیں کفر پر قائم رہنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ لیس ھذا مرا بالمقام علی الکفر ولکنہ وعید تھدید (قرطبی)
Ayah 7:88118 ۔ گفتگو میں لاجواب ہو کر اب قوم شعیب (علیہ السلام) جبر وتشدد پر اتر آئی ہے۔ اور پیغمبر اور ان کے رفیقوں کو شدید دھمکیاں دے رہی ہے۔
119 ۔ (آیت) ” لتعودن فی ملتنا “۔ عاد کے ایک معنی تو صار کے ہیں قال غیر واحد ان تو تعودبمعنی تصیر کما اثبتہ بعض النحاۃ واللغویین (روح) ای لتصیرن الی ملتنا وقال الزجاج یجوز ان یکون العود بمعنی الابتداء (قرطبی) یہ معنی لے کر تو فقرہ کا مطلب صرف اس قدر ہوا کہ تم ہمارے مذہب میں آجاؤ یا ہمارے دین میں شامل ہوجاؤ۔ اور اس پر کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا لیکن عود کے عام معنی لوٹ آنے، پلٹ آنے کے ہیں۔ العود الرجوع الی الشیء بعد الانصراف عنہ (راغب) اس پر یہ اشکال پیش کیا گیا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) بہ حیثیت نبی ہونے کے ہمیشہ ہی سے مومن تھے۔ پھر ان سے ملت کفر کی طرف واپس آنے کی فرمایش کے کیا معنی ؟ لیکن یہ اشکال کچھ یونہی سا ہے پیغمبر ظاہر ہے کہ بعثت سے قبل اپنے یہاں کے موروثی مذہب کی مخالفت نہیں کرتا اور اس لیے وہ قدرۃ اسی میں سمجھا ہی جاتا ہے۔ یہ تو جوں جوں اس کا شعور بیدار ہوتا جاتا ہے ہو گردوپیش کی خرابیوں پر توجہ کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ منصب نبوت پر آجانے کے بعد علانیہ مخالفت اپنے آبائی مذہب کی کرنے لگتا ہے۔ بعض اکابر تفسیر نے بھی شعیب (علیہ السلام) کے قبل بعثت کے مذہب کی تعبیر سکوت سے کی ہے۔ یراد بعود شعیب فی الملۃ حال سکوتہ عنھم قبل ان یبعث (بحر) حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قول کا حاصل یہ ہوا کہ جب ہم بہ دلیل اور علی وجہ البصیرت مذہب جاہلیت کو لغو و باطل سمجھ رہے ہیں۔۔ اور اس سے ہمارا ذوق اور ہماری عقل بیزار ہے تو ہم اسے اختیار کیسے کرلیں ؟
Ayah 7:89120 ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اللہ نے تو ہم پر جاہلی مذہب کی حماقتیں واضح کردیں، اور ہم پھر اس کو اختیار کرلیں تو اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ہم قصدا تنزیہ و توحید باری سے متعلق افتراء واختراع کرتے رہے۔ (آیت) ” عدنا “۔ یہ لفظ حضرت نے انہی لوگوں کا کہا ہوا دہرا دیا ہے۔
121 ۔ (کسی مصلحت تکوینی کے اعتبار سے) عارف ہمیشہ تقدیر الہی کے سامنے لرزاں وترساں رہتا ہے۔ پہلے تو اپنا ارادہ مضبوطی کے ساتھ ظاہر کردیا کہ ہم ہرگز کفر نہیں اختیار کرنے کے لیکن یہ ایک صورت دعوی اور اثبات خودی کی تھی، اس لیے معا یہ جزء بھی اضافہ کردیا۔ عام مومنین کے لیے تو اس کا دھڑکا اور احتمال ہر وقت لگا ہی ہوا ہے۔ باقی خود پیغمبر کا اپنے لئے یہ کہنا اظہار عبدیت کے لیے ہے جو کمالات نبوت کے لوازم میں سے ہے۔ اور اکابر انبیاء سے ایسے ہی کلمات برابر منقول ہیں قال الواحدی لم تزل الانبیاء والاکابر یخافون العاقبۃ وانقلاب الامر الاتری الی قول الخیل واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام وکثیرا ماکان محمد ﷺ یقول یامقلب القلوب والابصار ثبت قلوبنا علی دینک وطاعتک وقال یوسف توفنی مسلما (کبیر)
122 ۔ (اور وہ ہم کو دین حق سے کسی منزل میں بھی متزلزل نہ ہونے دے گا) (آیت) ” علی اللہ توکلنا “۔ فقرہ کی ترکیب حصر کے معنی دیتی ہے۔ یعنی بھروسہ صرف اللہ پر ہے نہ کہ کسی اور پر۔ تکیہ اسباب پر نہیں مسبب الاسباب پر ہے۔ فھذہ یفید الحصر ای علیہ توکلنا لا علی غیرہ وکانہ فی ھذا المقام عزل الاسباب وارتقی عنھا الی مسبب الاسباب (کبیر)
123 ۔ یہ دعا ہے اس کی کہ اب آپ عملی ومشاہد طور پر حق کا حق ہونا ظاہر کردیجئے۔ المراد منہ ان ینزل علیھم عذابا یدل علی کو نھم مبطلین وعلی کون شعیب وقومہ محقین (کبیر)
Ayah 7:90124 ۔ کہ ہماری سرپرستی سے محروم ہوجانے کے بعد دنیوی نقصان جو کچھ ہوگا ظاہر ہی ہے اور اپنے آباء کے دین سے انحراف جس درجہ کا مذہبی وبال ہے وہ بھی بالکل ظاہر ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تبلیغ میں خاص زور مالی احتیاط اور معاشی تقوی پر تھا۔ جاہلی قومیں اسے اپنی مالی بربادی ومعاشی تباہ حالی کا پیش خیمہ سمجھتی رہی ہیں۔ (آیت) ” انکم اذا الخسرون “۔ جملہ کی ترکیب خاص زور دینے کے لیے ہے۔ جیسے اردو میں کہیں کہ ” بس تم بالکل ہی چوپٹ ہو کر رہے “۔
Ayah 7:91125 ۔ (اور مدین کی بستی تباہ اور آبادی ہلاک ہوکررہ گئی) توریت میں بھی ذکر اہل مدین کی بیہودگی اور پھر اسرائیلیوں کے ساتھ ان کے قتل وہلاک ہونے کا مفصل آتا ہے (گنتی باب 3 1 وباب 35) لیکن قرآن مجید اس زمانہ سے قبل کا حال بیان کررہا ہے۔ (آیت) ” دارھم “۔ مرادف مساکنھم کے ہے۔ فی دارھم ای فی مساکنھم (کبیر)
Ayah 7:92126 ۔ منکرین ومستکبرین دعوی کے ساتھ پیشین گوئی مومنین کے نقصان اٹھانے کی کررہے تھے۔ واقعۃ وعملا خود ہی سب سے زیادہ نقصان میں رہے۔ اور دنیا نے اس کا مشاہدہ کرلیا۔ یہی مآل آخرکار اور ایک مدت کے مقابلہ کے بعد ہر سرکش و خدا فراموش قوم کا ہوتا رہا ہے۔ (آیت) ” فیھا “۔ میں ضمیر (آیت) ” دارھم “۔ کی طرف ہے۔ (آیت) ” لم یغنوا فیھا “۔ غنی فی مکان کے معنی محاورہ میں یہ آتے ہیں کہ کوئی شخص فلاں مکان میں اپنے دوسرے مکانات سے بےنیاز ہوگیا۔ اسی سے ایک مجازی معنی بسنے اور آباد ہونے کے بھی پیدا ہوگئے اور وہی یہاں مراد ہیں۔ ای لم یقیموا فیھا یقال غنینا بمکان کذا ای اقمنا فیہ (ابن قتیبہ) آیت سے ظاہر ہے کہ ہلاکت وتباہی ہمیشہ مادی ہی اسباب سے نہیں آئی بلکہ کثرت معاصی بھی باعث ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” الذین کذبوا “۔ کی تکرار اور (آیت) ” کانوا ھم الخسرین “ کی ترکیب واقعہ کے اظہار اہمیت کے لیے ہیں وللتنبیہ علی ھذا والمبالغۃ فیہ کرر الموصول (بیضاوی) العرب تکرر مثل ھذا فی التفخیم والتعظیم (کبیر) وفیہ معنی الاختصاص ایاھم المخصوصون بالخسران العظیم دون اتباعہ (کشاف)
Ayah 7:93127 ۔ تم پر یہ مصیبت تو اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی ہے۔ اور میرے ہر طرح سمجھانے کے بعد اسے تم اپنے اوپر لائے ہو، اب تم میری ہمدردی کے مستحق ہی کب باقی رہے۔ (آیت) ” فتولی عنھم وقال “۔ یہ ذکر اس وقت کا ہے جب قوم مبتلائے عذاب ہوچکی تھی۔ (آیت) ” ابلغتکم رسلت ربی “۔ یعنی میں پیام رسانی کا حق ادا کرچکا (آیت) ” نصحت لکم “۔ یعنی فرط شفقت سے تمہیں ہر طرح سمجھا بجھا کر دیکھ چکا (آیت) ” علی قوم کفرین “۔ بجائے (آیت) ” علیھم “۔ کے (آیت) ” قوم کفرین “۔ کی تصریح نے اسے صاف کردیا کہ عدم استحقاق تاسف وہمدردی کفر اختیاری ہی کی بناء پر ثابت ہوا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبغوضین مستحق ترحم نہیں ہوتے۔
Ayah 7:94128 ۔ (اور استکبار وخود بینی چھوڑ کر عاجزی وفروتنی اختیار کرلیں) بلاؤں کا نزول اصلااسی لیے ہوتا ہے کہ لوگ اپنی گمراہیوں پر متنبہ اور ان سے تائب ہو کر خدا پرستی کی راہ اختیار کرلیں۔ التضرع ھو الخضوع والانقیاد للہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” اخذنا اھلھا بالباسآء والضرآء “۔ یہ تنگدستی اور مرض میں ابتلاء بہ طور تنبیہ کے ہوتا ہے۔
Ayah 7:95129 ۔ یعنی اس قدر غفلت اور مدہوشی میں پڑے ہوئے تھے۔ (آیت) ” حتی عفوا “۔ یعنی خوب بڑھے، خوب پھلے، خوب پھولے، دولت، صحت، کثرت آبادی، ہر طرح انہیں ترقی ہی ترقی ہوئی کثروا ونموا فی انفسھم واموالھم (کشاف) (آیت) ” قالوا قد مس آبآء نا الضرآء والسرآء “۔ یعنی یہ رنج و راحت اور ادل بدل کر واقعات خارجی وتکوینی تو ہمیشہ سب کو پیش آتے رہتے ہیں۔ انہیں عقاید کی صحت وگمراہی اور حق و باطل کی بحث سے کوئی تعلق نہیں۔ ای وما ذالک الا من عادۃ الدھر یعاقب فی الناس بین الضراء والسراء ویداولھما بینھم (روح) (آیت) ” فاخذنھم بغتۃ “۔ یعنی اس پر ہم نے انہیں کسی نہ کسی عذاب عذاب شدید میں دفعۃ پکڑ لیا محققین نے لکھا ہے کہ حضرات انبیاء کے مخالفین کو دنیا میں بھی سزا ضرور ملی ہے۔ تاکہ حجت الہی ظاہر ہوجائے اور امر نبوت مخفی نہ رہے ایسی علانیہ نصرت واعانت اولیاء صالحین کے لئے بھی ہوتی ہے مگر ضروری نہیں۔ (آیت) ” الضرآء والسرآء “۔ محققین نے لکھا ہے کہ جس نعمت کے بعد شکر اور مصیبت کے بعد صبر ورجوع حاصل ہو وہ حالت محمود ہے اور جس نعمت کے بعد غفلت و غرور اور مصیبت کے بعد شکایت یا انکار ظاہر ہو وہ حالت سرتاسرمذموم ہے۔
Ayah 7:96130 ۔ (اور ہلاک کردیا) (آیت) ” اھل القری “۔ وہی آبادیاں مراد ہیں۔ جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے تھے اور جو ان کی تکذیب کے پاداش میں ہلاک میں کردی گئیں۔ (آیت) ” ولو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت من السمآء والارض “۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مومنین، متقین کے لئے غیب سے کارسازیاں ہوتی رہتی ہیں اور برکات سماوی وارضی سے مراد بھی وہ کل چیزیں ہیں جو انجام کار کے لحاظ سے مبارک ومفید ہوتی ہیں قیل المراد بالبرکات السماویۃ والارضیۃ الاشیاء التی تحمد عواقبھا ویسعد فی الدارین صاحبھا ولا یفتح ذلک الا للمومن (روح) (آیت) ” لفتحنا علیھم برکت من السمآء ولارض “۔ ہر طرح کی برکتیں ان پر نازل کرتے اور بلاؤں سے مصیبتوں سے انہیں محفوظ رکھتے۔ آسمان و زمین کی برکتوں سے مراد ہر قسم کی برکات ہیں۔ اور ” فتح برکات “ سے مراد ہر امر میں آسانیاں پیدا کردینا ہے۔ منھما یحصل جمیع المنافع والخیرات (کبیر) اے لاتیناھم بالخیر من کل وجہ (کشاف) ومعنی فتح البرکات علیھم تیسیرھا علیھم کما یسرامر الابواب المستغلقہ بفتحھا (کشاف) ای یسرنا علیھم الخیر من کل جانب (روح)
Ayah 7:97131 ۔ (یعنی خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہوں) (آیت) ” نآیمون “۔ نوم سے مراد یہاں غفلت لی گئی ہے۔ ای غافلون عن ذلک (ابن عباس ؓ (آیت) ” اھل القری “۔ مراد رسول اللہ ﷺ کے معاصرین منکرین اہل مکہ ہیں۔ ای اھل مکۃ (ابن عباس) المراد بالقری مکۃ وماحولھا (قرطبی) قیل المراد بھم اھل مکۃ وما حوالیھا وھو الاولی عندی والی ذالک ذھب محی السنۃ (روح)
Ayah 7:98132 ۔ یعنی خدا اور آخرت کو بھولجے دنیا کی غفلتوں اور بدمستیوں میں پڑے ہوں۔ اھل القری سے مراد یہاں بھی وہی مکہ والے ہیں۔ (آیت) ” ان یاتیھم باسنا “۔ یعنی ان پر ہمارا عذاب آپڑے جیسا کہ منکرین سابقین پر آچکا ہے۔
Ayah 7:99133 ۔ (آیت) ” مکر اللہ “ سے مراد عذاب الہی ہے جس کی گرفت مجرموں پر عموما بالکل اچانک ہوتی ہے۔ ای اخذہ العبد من حیث لا یشعر (مدارک) (آیت) ” الخسرون “۔ سے مراد محاورۂ قرآنی میں عموما کافر ہی ہوتے ہیں۔ یہ معنی لے کر آیۃ سے یہ استنباط کیا گیا ہے کہ عذاب الہی سے قطعا بےخوف ہوجانا کفر ہے۔
Ayah 7:100134 ۔ یعنی منکرین مکذبین سابق کا انجام دیکھ کر بھی کیا یہ حقیقت ابھی کفار معاصرین پر منکشف نہیں ہوئی ہے ؟ (آیت) ” اولم یھد للذین “۔ ھدایۃ کا تعدیہ جب ل، کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں۔ تبیین۔ کے یعنی روشن وواضح ہوجانے کے انما عدی یھدباللام بمعنی یبین (بیضاوی) (آیت) ” للذین۔۔ اھلھا “۔ مراد کفار عرب رسول اللہ ﷺ کے معاصرین ہیں یرید کفار مکۃ ومن حولھم (قرطبی)
135 ۔ (کلام حق وپیام حق کو تو جہ والتفات یا ارادۂ قبول سے) (آیت) ” قلوبھم “۔ میں ضمیر انہی کافروں کی طرف ہے جو عدم ایمان پر جمے ہوئے تھے۔ ای علی قلب من لم یرد منہ الایمان۔
Ayah 7:101136 ۔ یہ بیان ہورہا ہے کافروں کے کمال قساوت قلب اور شدت عناد کا کہ جس سے ایک بار یا پہلے وہلہ میں انکار کربیٹھے اس پر انہیں پھر ایمان لانے کی توفیق نہ ہوئی اور ہر دلیل ہر ثبوت، ہر معجزہ ان کے لیے بیکار ہی رہا۔ (آیت) ” البینت “۔ دلائل ومعجزات سب پر حاوی ہے۔ ای الحجج علی صدقھم (ابن کثیر) ای الایات والمعجزات والعجائب (معالم)
137 ۔ (ان کے کفر اختیاری کی بنا پر) اس اصل کا بیان قرآن مجید میں بار بار آچکا ہے کہ جب بندہ اپنے قصد سے کفر کی راہ اختیار کئے رہتا ہے تو حق تعالیٰ اسے اسی راہ پر جما دیتا ہے اور ان کے دل پر مہرلگا دیتا ہے۔ لما علم منھم انھم یختاروں الثبات علی الکفر (مدارک)
Ayah 7:102138 ۔ خطاب پیغمبر سے ہے کہ ان نافرمانوں کی سرشت اور ذہنیت ہمیشہ سے یہی رہی ہے۔ سو آپ ان پر زیادہ غم نہ کریں۔ اکثرھم میں ضمیر الناس (لوگوں) کی طرف ہے، یا امم سابقہ کی طرف۔ الضمیر للناس علی الاطلاق یعنی ان اکثر الناس نقضوا عھد اللہ (مدارک) ای لا کثر الامم الماضیۃ (ابن کثیر) (آیت) ” من عھد “۔ عھد یہاں وفاء العہد کے معنی میں ہے اور حذف مضاف کی مثالین قرآن مجید میں بکثرت ملتی ہیں۔ ای من وفاء عھد (بیضاوی) لیکن خود عھد سے یہاں مراد کیا ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ مراد عہد یوم میثاق ہے۔ قال ابن عباس یرید الوفاء بالعھد الذی عاھد ھم اللہ وھم فی صلب ادم (کبیر) قال ابن مسعود العھد ھنا عھد الایمان (کبیر) دوسرا قول یہ ہے کہ یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے تھے لیکن مصیبت دور ہوجانے پر پھر اسے بھلادیتے تھے۔ ای ما عھدوا الیہ حین کانوا فی ضرومخافۃ (بیضاوی) من عھد میں من زاید ہے جنس پر دلالت کرنے لیے۔ من زائدۃ وھی تدل علی معنی الجنس (قرطبی)
Ayah 7:103139 ۔ (اسی دنیا میں چناچہ وہ غرق وہلاک ہو کر رہے) من بعدھم میں ھم کی ضمیر رسل کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے یا پھر امم کی طرف۔ الضمیر للرسل فی قولہ ولقد جآء تھم رسلھم اوللامم (مدارک وبیضاوی) ای الرسل المتقدم ذکرھم (ابن کثیر) (آیت) ” فظلموا بھا “۔ یعنی ان نشانیوں کا حق ادا نہ کیا بلکہ برابر انکار وتکذیب ہی کرتے رہے۔ ان نشانیوں کا حق ادا کرنا یہی تھا کہ ان پر ایمان لے آتے۔ (آیت) ” بھا “ میں ضمیر آیات کی طرف ہے جو دلائل ومعجزات سب کی جامع ہے۔ (آیت) ” بایتنا “۔ ای بحججنا ودلائلنا البینۃ (ابن کثیر) بایتنا ای بادلتنا (معالم) (آیت) ” فرعون “۔ پر حاشیے سورة بقر رکوع 5 میں گزر چکے۔ آیت سے متکلمین نے استدلال کیا ہے کہ نبی کے لئے کسی امتیازی اور روشن نشان کا ہونا لازمی ہے۔ ھذا الایۃ تدل علی ان النبی لابدلہ من ایۃ ومعجزۃ بھا یمتاز عن غیرہ (کبیر)
Ayah 7:104140 ۔ مصرکا یہ فرعون قاہر تو خود الوہیت اور مظہریت کا مدعی تھا وہ نہ عقیدہ توحید اور وجود رب العلمین ہی کے ماننے کے لیے تیار تھا اور نہ عقیدۂ رسالت کے یعنی اس ذات مطلق کی طرف سے کسی انسان کے پیامبر ہونے کے !
Ayah 7:105141 ۔ یعنی ایسا معجزہ جو تمہاری سمجھ میں بھی آجائے۔ (آیت) ” حقیق علی۔۔۔ الحق “۔ پیغمبر کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا وصف اس کی غیر متزلزل وغیر مشتبہ دیانت، اور امانت وراست بازی ہوتی ہے اسی لیے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے متعلق سب سے پہلے اسی کو اعلان فرماتے ہیں حقیق۔ قیل معناہ جدیر وقیل واجب (راغب) (آیت) ” قد جئتکم “۔ صیغہ جمع مخاطب سے مراد کل فرعونی ہیں۔
142 ۔ بنواسرائیل اصلا ایک موحد قوم تھی اور اس وقت ایک مشرک تاجدار کے ظلم وستم کی تختہ مشق بنی ہوئی تھی۔ اسی لیے موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا مطالبہ قدرۃ یہی ہے کہ میں ان موحدوں کو اس مشرکانہ وجاہلی فضا سے دور اور الگ لے جا کر ایک الگ خطہ زمین میں آباد کروں گا۔ آج ( 1365 ھ 1946 ء میں) ہندوستان میں جو تحریک ایک مستقل اور جداگانہ اسلامی آبادکاری کی پاکستان کے نام سے چلی ہوئی ہے اس تحریک کو خلاف اسلام کہنے والے علماء براہ کرم اس آیت پرخلوئے ذہن کے ساتھ غور فرمائیں۔
Ayah 7:106143 ۔ مشرکوں کی سمجھ میں بجائے عقلی دلائل اور شہادت ضمیر ووجدان کے مادی معجزات ہی زیادہ آسانی سے آتے ہیں اور وہ فرمائشیں ہمیشہ مادی معجزہ وخارق عادت ہی کی سب سے بڑھ کر کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 7:107144 ۔ یہ خیال رہے کہ مصر قدیم میں سانپ ایک مقدس جانورسمجھا جاتا تھا جیسے ہندوستان میں گائے بلکہ ہندوستان میں تو خود سانپ بھی مقدس سمجھا جاتا ہے اور ہندوؤں میں سانپ کی پوجا کا دن ” ناگ پنچمی “ بڑے دھوم سے منایا جاتا ہے۔ (آیت) ” ثعبان “۔ کہتے ہیں ایک بڑے اور موٹے قسم کے سانپ یا اژدرکو۔ الحیۃ الضخم الذکر وھو اعظم الحیات (قرطبی) الثعبان الحیۃ الضخمۃ الذکر فی قول جمیع اھل اللغۃ (کبیر) عصائے موسوی جسامت کے لحاظ سے ایسا ہی ہوگا۔ باقی جہاں اس کی تیز رفتاری کا اظہار مقصود ہے وہاں قرآن مجید اس کے لیے جان لایا ہے۔ امکان اس کا بھی ہے کہ وہی عصا کہیں ثعبان بن جاتا ہو اور کہیں۔ جان۔ توریت میں یہ واقعات درج ہیں مگر حسب معمول بڑے خلط ملط کے ساتھ، ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” ثعبان مبین “۔ یعنی اژدر بھی ایسا جس کے اژدر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہوسکتا تھا۔ ای حیۃ لا لبس فیھا (قرطبی) لایشک فیہ انہ ثعبان (کشاف) یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ تبدیل حقیقت ہوجاتی تھی خیالی قصہ نہ تھا (تھانوی (رح)
Ayah 7:108145 ۔ (آیت) ” للنظرین “۔ سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیوں کہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی، جیسے کہا کرتے ہیں کہ کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا اور انقلاب حقایق کا محال ہونا جو فلاسفہ میں مشہور ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ حقایق ثلاثہ یعنی وجوب وامتناع وامکان ایک دوسرے کی طرف منقلب نہیں ہوتے ورنہ عناصر کا استحالہ کون نہیں دیکھتا “۔ (تھانوی) (آیت) ” نزع یدہ “۔ یعنی اپنا ہاتھ گریبان سے باہر نکالا۔
Ayah 7:109146 ۔ مصرکا جادو قدیم سے مشہور چلا آتا ہے اس وقت مصر علوم سحروکہانت کا مرکز تھا۔
Ayah 7:110147 ۔ (اور خود اپنی حکومت یہاں قائم کرے) دنیا پرستوں کی یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی اہل حق اغراض دنیوی سے بالاتر ہو کر خالصۃ للہ بھی کام کرسکتا ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ فرعون نے موسیٰ (رح) کے طریق حق کو ایک باطل کی صورت میں ظاہر کیا۔ یہی حال اہل باطل کا ہے کہ عوام کو اہل حق سے نفرت دلانے کے لیے ان کے حق کو برے برے عنوان سے ظاہر کرتے ہیں۔
Ayahs 7:111–112148 ۔ ارکان دربار ومشیران سلطنت نے مشورہ یہ پیش کیا کہ موسیٰ وہارون کو سردست مہلت دے دی جائے اور اس درمیان میں قلم روبھر میں سرکاری ہر کاروں کے ذریعہ سے منادی کرا کے ماہرین فن جادوگروں کو جمع کرلیا جائے (آیت) ” ارجہ “۔ یعنی انہیں روکے رکھیے، ٹالے رکھیے۔ یقال ارجأتہ وارجیتہ ای اخرتہ وقال ابن عباس اخرہ (قرطبی)
Ayah 7:113149 ۔ مشورہ پر عمل ہوا اور اب بیان اس کے نتائج کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” لاجرا “۔ میں تنوین اجر کی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ التنکیر للتعظیم (کشاف)
Ayah 7:114150 ۔ یعنی مال وجاہ ہر طرح کے انعام و اعزاز سے سرفراز کئے جاؤ گے۔
Ayah 7:115151 ۔ اب بیان ایک دوسرے منظر کا ہورہا ہے۔ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہوچکی ہے۔ اس تاریخ پر سب میدان میں جمع ہوئے ہیں۔ قرآن مجید شعر بلیغ کی طرح درمیانی مضامین کی جو از خود سمجھ میں آسکتے ہیں صراحت نہیں کرتا۔ انہیں چھوڑ کر دوسری منزل بیان کردیتا ہے۔ ساحر اس وقت تک موسیٰ (علیہ السلام) نبی کو بھی اپنے ہی طرح کا ایک ماہر فن ساحر سمجھ کر گویا کہہ رہے ہیں کہ مقابلہ ہمارے تمہارے فن کا تو اب ہو ہی رہا ہے۔ اب یہ بتلاؤ شروع کون کرے گا ؟ کرکٹ کی اصطلاح میں پہلی ایننگز (innings) کس کی ہوگی ؟
Ayah 7:116152 ۔ احقاق حق کیلیے مقابلہ معجزہ سے سحر کا تو بہرحال ناگزیر تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قدرۃ وہ شق اختیار کی جس میں احقاق حق کا پہلو زیادہ قوی ونمایاں تھا۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصود اس سے خود اذن نہیں بلکہ اذن کو ان کے کفر کے ابطال اور اپنے معجزہ کے اثبات کا ذریعہ بنانا تھا۔ ایسی ہی مصلحت سے بعض اوقات شیوخ ایسے امر میں اذن دیتے ہیں کہ اس کا ظاہر معصیت ہوتا ہے مگر اس آخر میں اس میں کوئی مصلحت دینی ہوتی ہے اور وہی مصلحت ان کو مقصود ہوتی ہے۔
153 ۔ ساحر اپنے فن کے ماہر تھے اور انہوں نے پورا ثبوت اپنے کمال فن کا دے دیا۔ (آیت) ” فلما القوا “۔ یعنی جب ساحروں نے زمین پر اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کو ڈال دیا۔ (آیت) ” سحروا اعین الناس “۔ اور اس اثر سے وہ رسیاں اور لاٹھیاں سانپوں کی طرح لہراتی دکھائی دینے لگیں۔ یہ نظر بندی اور آنکھوں کی مسحوریت سحر ہی کی قسم ہے۔ قرآن ساحروں کے کرتب کے سلسلہ میں تبدیلی حقیقت کا مدعی نہیں اور یہ دعوی کہ یہ لاٹھیاں یا رسیاں واقعی سانپ بن گئی تھیں اور سحر نے بھی وہی کردکھایا جو معجزہ کا حاصل تھا۔ قرآن کا نہیں۔ البتہ توریت کا ہے۔ چناچہ مصر کے جادو گروں نے بھی اپنے جادؤں سے ایسا ہی کیا کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا عصا پھینکا۔ اور وہ سانپ ہوگیا۔ (خروج۔ 7: 1 1، 12) قرآن کے شارحین تو سب اسے خیال بندی ہی کے معنی میں لیتے ہیں ای خیلوا لھم وقلبوھا عن صحۃ ادراکھا (قرطبی) اروھا بالحیل والشعوذۃ وخیلوا لیھا ما الحقیقۃ بخلافہ (کشاف) ای خیلوا الی الابصار ان ما فعلوہ لہ حقیقۃ فی الخارج ولم یکن الا مجرد صنعۃ و خیال (ابن کثیر) ای صرفوا اعینھم عن ادراک حقیقتہ ما فعلوہ من التمویہ والتخییل وھذا ھو السحر (معالم) معجزہ حق دیکھئے کہ بائبل کے محققین کا فیصلہ آج تو ریت کی روایت کے حق میں نہیں۔ قرآنی بیان کی تائید میں ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی کی تفسیر القرآن۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سورة طہ میں ہے۔ (آیت) ” یخیل الیہ “۔ تو اس سے امور ذیل مستنبط ہوئے۔ ( 1) خوارق سے دھوکانہ کھانا، اس لیے کہ یہ تو اہل باطل سے بھی صادر ہوسکتے ہیں۔ (2) سحر کی ایک قسم خیال میں تصرف کرنا بھی ہے اور اسی میں مسمر یزم داخل ہے (3) ایسی چیزوں سے متاثر ہوجانا کمال باطنی کے منافی نہیں چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی خائف ہوئے (4) اہل حق کا ایسے امور پر یا ان کے ابطال پر قادر ہونا ضروری نہیں۔
Ayah 7:117154 ۔ (اژدہابن کر) (آیت) ” مایافکون “۔ کا فاعل السحرۃ (جادوگر ہے) (آیت) ” ان الق عصاک “۔ یعنی اپنا عصاڈال دیجئے جیسا کہ اس سے پیشتر بھی کئی موقعوں پر ڈال چکے ہیں۔
Ayah 7:118155 ۔ (جیسا کہ اکثر دنیا میں حق و باطل کے تصادم کے موقعوں پر ہوتا رہتا ہے) آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو حق تھا وہ ظاہر بھی حق ہو کر اور جو باطل تھا اس کے بطلان کا بھی عملی ظہور ہو کر رہا۔
Ayah 7:119156 ۔ یہ مغلوبیت اور ذلت ظاہر ہے کہ علاوہ ساحروں کے ساری فرعونی پارٹی کے حصہ میں آئی تھی (آیت) ” انقلبوا صغرین “۔ انقلب ہمیشہ رجع ہی کا مترادف نہیں ہوتا۔ صار کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں یہی مراد ہے۔ ای صاروا اذلاء (روح)