Ayah 7:4054 ۔ یعنی یہ عام ضابطہ اور قانون ہمارے ہاں کا ہے جو جیسا کرے گا بھگتے گا۔ ہمیں کسی بندہ کے ساتھ کوئی کد تو ہے نہیں۔ (آیت) ” لا تفتح لھم ابواب السمآء۔ براء بن عازب ؓ صحابی کی روایت سے حدیث میں آتا ہے کہ بعد وفات جب کافر کی روح آسمان کی طرف لے جائی جانے لگتی ہے تو اس سے ایسی سخت بدبو نکلتی ہے جیسی دنیا میں مردار کی ہوتی ہے۔ اس پر آسمان کے فرشتے اسے راستہ دینے اور اس کے لیے در آسمان کھولنے سے انکار کردیتے ہیں۔ قال السدے وغیرہ لا تفتح لارواحھم ابواب السماء وتفتح لارواح المومنین (کبیر) ذکروا فی صعود الروحین الی السماء الاذن لروح ال مومن ورد روح الکافر احادیث وذلک عند موتھما (بحر) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مکذبین ومنکرین کے اعمال برکت ومقبولیت سے محروم رہیں گے اور آسمان کی طرف بلند نہ کیے جائیں گے۔ ای لایصعد لھم عمل صالح (کشاف) وقیل لاتنزل علیھم البرکۃ ولا یغاثون (کشاف) (آیت) ” حتی یلج الجمل فی سم الخیاط “۔ محاورۂ زبان میں اس سے مراد مطلقا ایک امر محال عادی کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ یعنی نہ اونٹ سوئی کے ناکہ سے نکل سکے گا اور نہ فلاں فعل ہوگا وقد کثر فی کلامھم مثل ھذہ الغایۃ و مراد ھم لاافعل کذا ابدا (روح) ھذا نفی مغیاۃ بمستحیل (بحر) انجیل میں بھی اس محاورہ کا استعمال ایک ایسے ہی موقع پر ہوا ہے ” اور یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکہ سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو “۔ (متی۔ 19:23 ۔ 24) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسی طرح ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی ابواب ملکوت کشادہ نہیں ہوتے۔
Ayah 7:4155 ۔ یہ (آیت) ” الظلمین “۔ یا اپنے اوپر ظلم کرنے والے وہی ہیں جن کا ذکر اوپر (آیت) ” فمن اظلم “۔ سے شروع ہوا ہے۔ قال ابن عباس یرید الذین اشرکوا باللہ واتخذوا من دونہ الھا وعلی ھذہ الاتقدیر فالضلمون ھھنا ھم الکافرون (کبیر) (آیت) ” لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش “ عذاب ہی کا اوڑھنا عذاب ہی کا بچھونا، غرض ہر طرف عذاب ہی عذاب ہوگا۔
Ayah 7:4256 ۔ بندوں کی ہمت افزائی اور تسلی قلب کے لیے قرآن مجید کا ایک عام دستور سا ہے کہ اہل جہنم کی وعیدوں کے مقابل اہل جنت کی بشارتوں کا بھی ذکر کردیتا ہے۔ (آیت) ” لانکلف نفسا الا وسعھا “۔ یہاں ذکر جنت کے ضمن میں یہ جملہ معترضہ لا کر یہ بتا دیا کہ جنت تک رسائی کچھ دشوار نہیں۔ اس کا ذریعہ عمل صالح ہے اور عمل صالح انہی احکام کی تعمیل کا نام ہے جو ہر بندہ کو اس کی وسعت و طاقت کے اندر ہی دیئے جاتے ہیں۔ جنت کے نام سے کوئی یہ خیال کرکے نہ گھبرائے کہ وہاں تک رسائی کے لیے خدا معلوم کیسی کیسی دشوار منزلوں سے ہو کر گزرنا ہوگا۔ دوسری طرف کافروں کے حق میں بھی تنبیہ ہے کہ جنت جو ایسی آسانی سے حاصل ہوسکتی ہے اسے یہ اپنے ہاتھوں چھوڑے بیٹھے ہیں۔ وسع کے معنی خود ایسی چیز کے ہیں جو انسان کو آسانی اور معمولی کوشش سے حاصل ہوسکے، سخت وشدید کوشش کے لیے لفظ جہد کا آتا ہے وسع کا نہیں، معنی الوسع مایقدر الانسان علیہ فی حال السعۃ والسھولۃ لا فی حال الضیق والشدۃ (کبیر) واما الطاقۃ یسمی جھدا لا وسعا (کبیر)
Ayah 7:4357 ۔ (اور اس رفع کدورت کے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ کامل لطف و انبساط کے ساتھ ہنسی خوشی رہیں گے) ابھی اوپر ذکر تھا اہل جہنم کے باہم بعض ونفرت کا، اب اس کے مقابل اہل جنت کے سلسلہ میں ذکر ہورہا ہے ان کے باہمی رفق والفت کا۔۔۔ خوشدل دوستوں کی یکیجائی ہر شخص دنیا میں تجربہ رکھتا ہے کہ بجائے خود کتنی بڑی نعمت ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے تھے کہ انشاء اللہ میرا اور عثمان وطلحہ وزبیر ؓ کا معاملہ ایسا ہی ہوگا (کبیر، مدارک وغیرہ) آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ دنیا میں اہل حق کے درمیان بھی کدورت ومخالفت کی نوبت پہنچ سکتی ہے خواہ رنجش کی بنیاد محض طبعی ہومرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو کینہ طبعی غیراختیاری ہو وہ دخول جنت سے مانع نہیں۔
58 ۔ (چنانچہ انہوں نے جن اعمال پر جنت کا وعدہ کیا تھا وہ وعدہ بالکل سچ نکلا) (آیت) ” من تحتھم “۔ ان کے نیچے “ سے مراد ہے ان کے محلوں اور بالاخانوں کے نیچے والمراد تجری میں تحت غرفھا میاہ الانھار (روح) (آیت) ” الحمد للہ الذی۔۔۔ اللہ “۔ عبدیت تو اہل جنت کے رگ وریشہ میں رچی ہوگی۔ وہاں پہنچ کر بھی زبان تمامتر حمد الہی اور اپنی عبدیت ہی کے اقرار پر کھلے گی۔ (آیت) ” لھذا “۔ میں ھذا کا اشارہ مقام یعنی جنت کی طرف بھی ہوسکتا ہے اور مرتبہ یعنی درجہ قدر ومنزلت کی جانب بھی اور خود ایمان کی جانب بھی۔ مآل سب صورتوں کا ایک ہے۔ ای الی ھذا الفوز العظیم وھو الایمان (مدارک) (آیت) ” ھدنا اللہ “۔ (چنانچہ ہمیں ایمان و اعمال کا وہ طریقہ بتا دیا جو جنت تک پہنچاتا ہے اور اس پر چلنے کی بھی توفیق دے دی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ وصول الی المقصود وہبی ہے کسبی نہیں اور جس کسب کا ظاہرا کچھ دخل ہے خود وہ کسب بھی وہبی ہے۔
59 ۔ (اور جنت تو تمہاری اصلی میراث اور تمہارے مورث اعلی آدم (علیہ السلام) کی جگہ تھی ہی) (آیت) ” تلکم “۔ تلک جو اشارۂ بعید کے لیے آتا ہے۔ یہاں ھذہ کے معنی میں اشارۂ قریب کے لیے ہے۔ تلکم بمعنی ھذہ (قرطبی) (آیت) ” نودوا “۔ یہ ندادینے والا ایک فرشتہ ہوگا (آیت) ” اور ثتموھا “۔ اس لفظ میں کمال تعظیم واحترام اور مزید تقویت ہے اہل جنت کے لیے۔ یعنی اب تم تو اسے جیت چکے ہو اب کوئی تمہیں یہاں سے بےدخل نہ کرسکے گا۔ معناہ صارت الیکم کما یصیر المیراث الیہ اھلہ (کبیر) (آیت) ” بماکنتم تعملون “۔ اس سے ظاہر دخول جنت کا سبب اعمال معلوم ہوتے ہیں لیکن حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ جنت میں کوئی بھی اپنے اعمال کے سبب سے نہیں بلکہ رحمت الہی سے جائے گا، مفسر تھانوی (رح) نے خوب کہا ہے کہ قرآن مجید میں ذکر سبب ظاہری اور قریبی کا ہے اور حدیث میں سبب حقیقی کو بیان کیا گیا ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ اور دونوں میں کوئی تناقض نہیں۔ امام رازی (رح) نے جو تشریح کی ہے وہ بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔
Ayah 7:4460 ۔ (اور انہی کے وعدہ کے مطابق ایمان اور عمل صالح سے جنت کے حقدار ہوگئے) (آیت) ” ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار “۔ اہل جنت یہ ندا فرط فرحت و سرور میں آکر دیں گے۔ بعضوں نے سوال یہ پیدا کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان جو بعد مسافت دکھایا گیا ہے اگر اسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو اہل جنت کی آواز اہل جہنم تک کیسے پہنچے گی ؟ سوال تمام تر سطحی ہے، اور سائل نے عالم آخرت کے قوی کو ناسوت کے قوی اور ناسوتیوں کی پابندیوں پر قیاس کیا ہے۔
61 ۔ (کہ کفر کے باعث دوزخ میں پڑوگے اور اب تو اللہ اور رسول کے صدق کی اور اپنی گمراہی کی حقیقت ظاہر ہو کر رہی ؟ )
62 ۔ (آیت) ” اذن مؤذن “۔ یہ پکارنے والا ایک فرشتہ ہوگا یعنی من الملئکۃ (قرطبی) وھو ملک یسمع اھل الجنۃ والنار (مدارک)
Ayah 7:4563 ۔ (آیت) ” وھم بالاخرۃ کفرون “۔ معنی ماضی ہے اور کانوا محذوف ہے۔ ای کانوا بھاکافریں محذف وھو کثیر فی الکلام (قرطبی) (آیت) ” یبغونھا عوجا۔ یعنی دین حق میں عیب واعتراض تلاش کیا کرتے تھے، اور دوسروں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے رہتے تھے المراد القاء الشکوک والشبھات فی دلایل دین الحق (کبیر) (آیت) ” یصدون “۔ جس طرح متعدی ہے، لازمی بھی ہے اور یہاں اسی معنی میں ہے۔ ای یعرضون (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ انہی کے مشابہ وہ لوگ بھی ہیں جو طریق سلوک کو اس رنگ میں ظاہر کرتے ہیں، جس سے طالب صادق کو اس سے نفرت ہوجائے مثلا اہل بدعت واہل ریاء۔
Ayah 7:4664 ۔ (بہ طور دیوار کے جس کا خاصہ یہ ہوگا کہ نہ جنت کی لذتوں اور نعمتوں کا اثر دوزخ تک پہنچ سکے اور نہ دوزخ کی سختیوں اور کلفتوں کا اثر جنت تک) اس پر یہ سوال پیش کرنا کہ پھر اس دیوار کے ہوتے جنت اہل جہنم کے درمیان مخاطبت کیونکر ہوسکے گی، عالم آخرت کی فضا کو تمام تر اس عالم عنصری کے مادی قوانین کا پابند و محکوم سمجھ لینا ہے۔ یہ آڑ تو صرف اسی لیے ہوگی کہ ایک مقام کی لذت یا اذیت دوسرے مقام تک نہ پہنچ سکے نظر کی حائل نہ ہوگی۔ ایسی نہ ہوگی کہ ایک جگہ دکھائی نہ دے سکے۔ لیس یعنی بہ ما یحجب البصر وانما یعنی یایمنع من وصول لذۃ اھل الجنۃ الی اھل النار واذیۃ اھل النار الی اھل الجنۃ۔ (راغب) (آیت) ” بینھما “۔ ھما سے مراد دونوں فریق بھی ہوسکتے ہیں اور دونوں مقام بھی، ای بین النار والجنۃ (قرطبی) بین الجنۃ والنار اوبین الفریقین (کشاف۔ مدارک)
65 ۔ (چنانچہ ان کی یہ آرزوپوری کردی جائے گی اور یہ جنت میں داخل ہوجائیں گے) (آیت) ” الاعراف “۔ لفظی معنی بلند چیز کے ہیں۔ الاعراف فی اللغۃ المکان المشرف (قرطبی) عن ابن عباس انہ قال الاعراف الشیء المشرف (قرطبی) یہاں جنت و جہنم کی اس درمیان دیوار سے ہے جس کا ذکر ابھی ابھی آچکا ہے ھوالذی علیہ الاکثرون ان المراد من الاعراف اعالی ذلک السور المضروب بین الجنۃ والنار وھذا قول ابن عباس (کبیر) وھوالسورالذی ذکرۃ اللہ فی قولہ (آیت) ” فضرب بینھم بسور “ (قرطبی) سوربین الجنۃ والنار (راغب) (آیت) ” علی الاعراف رجال “۔ یہ اہل اعراف کون لوگ ہوں گے ؟ متعدد صحابیوں اور متعدد صحابیوں اور متعدد تابعین سے منقول ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ابرابر ہوں گی۔ قال عبداللہ بن مسعود وحذیفۃ بن الیماں وابن عباس والشعبی والضحاک وابن جبیر ھم قوم استوت حسناتھم وسیاتھم (قرطبی) (آیت) ” یعرفون کلابسیمھم “۔ علاوہ اس کے کہ جنتی اور دوزخی دونوں اپنے مقام پر ہوں گے، اور اس لیے بھی پہچان لیے جائیں گے کہ جنتی کون ہیں۔ اور دوزخی کون ان کی پیشانیاں اور چہرہ بھی ذریعہ شناخت ہوں گے۔ اہل جنت کے بشرہ پر نورانیت برس رہی ہوگی۔ اور اہل دوزخ کے چہرہ پر ظلمت و کدورت۔ ای بعلامتھم التی اعلمھم اللہ بھا کبیاض الوجہ وسوادہ (بیضاوی) ای بعلاماتھم وھی بیاض الوجوہ وحسنھا فی اھل الجنۃ وسواد ھا وقبحھا فی اھل النار الی غیر ذلک من معرفۃ حیز ھؤلاء و حیز ھؤلآء (قرطبی) (آیت) ” ونادوا اصحب الجنۃ “۔ یہ اہل جنت کو پکارنے والے وہی اصحاب اعراف ہوں گے۔ (آیت) ” وھم یطمعون “۔ طمع کے ایک معنی علم کے بھی آتے ہیں۔ اس لحاظ سے مفہوم یہ ہوگا کہ وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے لیکن جانتے ہوں گے کہ اب داخل ہوں گے۔ بمعنی وھم یعلمون انھم یدخلونھا وذلک معروف فی اللغۃ ان یکون طمع بمعنی علم (قرطبی)
Ayah 7:4766 ۔ یہ مناجات فرط خشیت و عبودیت سے ہوگی، ورنہ اہل اعراف تو جانتے ہی ہوں گے کہ ان کا شمار اہل جہنم میں نہیں ہوسکتا۔ وقد علموا انہ لایجعلھم معھم فھذا علی سبیل التذلل (قرطبی)
Ayah 7:4867 ۔ (اور اپنی اس قوت و جمعیت کی بنا پر انبیاء کی راہ کا اتباع نہ کرنا) (آیت) ” قالوا یہ بول اٹھنا فرط ہول و دہشت سے ہوگا۔
Ayah 7:4968 ۔ (اور تمہارے خیال میں ہر طرح حقیر و ذلیل اور مستحق حقارت وذلت تھے) (آیت) ” اھؤلآء الذین “۔ یعنی یہی لوگ جو آج جنت میں عیش کررہے ہیں۔ اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو باوجود دولت ایمان سے مالا مال ہونے کے مادی دولت ووجاہت سے دنیا میں تہی دامن ہوتے ہیں اور اس لیے اہل کبر وضلال کی نظروں میں حقیر و ذلیل۔ جیسے حضرات صحابہ میں بلال حبشی و سلمان فارسی ؓ وغیرھما تھے۔ اشارۃ الی قوم من ال مومنین الفقراء کبلال وسلم ان وخباب وغیرھم (قرطبی) الاشارۃ الی ضعفاء اھل الجنۃ الذین کان الکفرۃ یحتقرونھم فی الدنیا (روح)
69 ۔ قول انہی اہل اعراف کا اہل دوزخ کو مخاطب کرکے چل رہا ہے کہ تم تو دنیا میں اہل ایمان کو ہر طرح حقیر و ذلیل سمجھتے تھے، مگر یہاں تو دیکھو انہیں اس اعزازو تکریم کا مقام مل گیا۔
Ayah 7:5070 ۔ (اس کے حکم کے خلاف ہم دیں کیسے اور ہم دیں بھی تو تمہیں نفع کیا ہو ؟ تم نے اپنے قوی کو ان سے لطف اٹھانے کے قابل رکھا ہی کب ہے ؟ پھر تمہارے مسخ شدہ اور قہر زدہ حلق اور منہ میں پہنچ کر یہی نعمتیں اور آگ لگا دیں گے) (آیت) ” حرمھما علی الکفرین “۔ تحریم سے مراد دارالجزاء میں حرمت شرعی تو ہو نہیں سکتی۔ مراد یہی ہے کہ یہاں کے کھانے پینے تو تمہارے حلق سے اتریں گے ہی نہیں۔ حضرت مولانا رومی (رح) کی ملفوظ فیہ مافیہ گوفن تصوف و سلوک میں ہے لیکن بعض تفسیری نکتہ بھی اس میں خوب آگئے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں :۔ ” اہل دوزخ بااہل بہشت فغان کنند کہ آخر کرم شما۔۔۔۔ ازاں عطاہاو بخششہا کہ حق تعالیٰ بہ شما کردہ است، ازروئے صدقہ بندہ نوازی بہرمانیز اگر چیزے ریزیدہ ایثار کنید چہ شور۔ واللارض من کاس الاکرام نصیب کہ مادریں آتش می سوزیم ومی گدازیم ازاں میوہ یاد انہ آں آبہائے زلال قرطرہ برجان ماریزید چہ شود۔۔۔ بہشتیاں جواب دہند کہ آن راخدا برشما حرام کردہ است تخم ایں نعمت دردار دنیا بود۔ چوں آنجانہ کشتید ونور زید وآں ایمان وصدق بود وعمل صالح، ایجا چہ برگیریدو اگر ما از روئے کرم برشما ایثار کنیم چوں خدا آں رابر شما حرام کردہ است حلقہارابسوز اندوبہ گلوفرون رود۔ و اگر در کیسہ نہید دریدہ شود وبیفتد (فیہ مافیہ صفحہ 77، 78 معارف پریس اعظم گڑھ) (آیت) ” ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ “۔ اہل دوزخ کی یہ فریاد اہل جنت سے فرط اضطرار وشدت اضطراب سے ہوگی۔ (آیت) ” ان افیضوا علینا من المآء اومما رزقکم اللہ “۔ کہ شاید اسی سے کچھ ہماری تسکین ہوجائے، ورنہ ہم تو بھوک اور پیاس اور گرمی سے مرے پھنکے جاتے ہیں بھوک اور پیاس کی شدت سے اہل دوزخ کی تڑپ آیت سے بالکل عیاں ہے۔ ویکون فی الایۃ دلیل علی نھایۃ عطشھم وشدۃ جو عھم (روح) (آیت) ” حرمھما “۔ ضمیر تثنیہ سے مراد جنت کا کھانا پانی ہے۔ یعنی طعام الجنۃ وشرابھا (قرطبی) بعض فقہاء نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ پانی پلانا بہترین اعمال میں سے ہے۔ فی ھذہ الایۃ دلیل علی ان سقی الماء من افضل الاعمال (قرطبی)
Ayah 7:5171 ۔ جحد کے معنی اوپر بیان ہوچکے ہیں کہ مطلق انکار یا کسی غلط فہمی کی بناء پر انکار کے نہیں بلکہ دل سے حق کے قائل ہو کر بھی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی سے انکار کیے چلے جانے کے ہیں۔ الجحود نفی مافی القلب اثباتہ و اثبات ما فی القلب نفیہ (راغب) (آیت) ” ماکانوا “۔ میں ما مصدری ہے یعنی جیسا کہ انہوں نے بھلادیا تھا۔ مامصدریۃ ای کنسیھم (قرطبی) (آیت) ” دینھم “۔ سے مراد مفسرین نے لی ہے وہ دین جس کا قبول کرنا ان لوگوں پر واجب تھا۔ الذی امر ھم اللہ تعالیٰ بہ (روح) لیکن دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ خود وہی دین جسے وہ اختیار کیے ہوئے تھے اسی کو انہوں نے بچائے زاد آخرت بنانے کے محض ایک کھیل، تماشہ یا سوانگ کی حیثیت دے رکھی تھی، عبادات ہیں تو ان میں ناچ گانا، روشنی باجا، عقاید ہیں تو ان میں دیوی دیوتاؤں کے ساتھ تلعب، ساری ساری عمربس میلے ٹھیلے میں گزار دیتے ہیں۔ (آیت) ” غرتھم الحیوۃ الدنیا “۔ چونکہ دنیوی زندگی میں کوئی صریح اور بین وبال ان پر نہیں آتا۔ یہ دھوکے میں آجاتے اور اپنے انہی عقائد باطلہ پر جم جاتے ہیں۔ ننسھم “۔ انساء الہی سے جو ظاہر ہے کہ بالکل ارادی اختیاری ہوگا، مراد اللہ کا ان لوگوں کو رحمت کے ساتھ یاد نہ فرمانا ہے۔ محاورۂ عرب میں نسیان وانساء کا یہ استعمال نامعلوم نہیں۔ وقد جاء النسیان بمعنی الترک کثیرا (روح)بکتاب۔ کتاب سے مراد قرآن مجید ہی ہے۔ بجائے الکتب کے کتاب تنوین کے ساتھ لانا عظمت شان کے لیے ہے۔ الکتاب ھو القران وتنوینہ للتفخیم (روح)
Ayah 7:5272 ۔ (اور جس کتاب میں کسی خطاوغلطی کا امکان نہیں) علی علم منا بہ لم یقع فیہ سھو ولا غلط (قرطبی)
Ayah 7:5373 ۔ (اور اب تو ہمیں ان حقائق کا مشاہدہ ہورہا ہے) (آیت) ” ھل ینظرون “۔ یعنی منکرین یا اتمام حجت ووضوح حق کے بعد بھی انکار کیے جانے والے تو بس اسی کے منتظر ہیں۔ (آیت) ” تاویلہ “۔ یعنی وعدۂ سزا کے عملی ظہور اور قرآن کے بتائے ہوئے مصداق کے۔ تاویل سے مراد وعید قرآنی کے آخری نتیجہ کے ہیں۔ عاقبۃ ما وعدلھم فی القران (ابن عباس ؓ ای لاعاقبۃ امرہ وما یؤل الیہ من تبین صدقہ (کشاف) (آیت) ” یوم یاتی تاویلہ “۔ یعنی ان آخرنتائج اور حقائق کے ظہور کا وقت۔ یوم آخرت۔ اے تبدو عواقبہ یوم القیامۃ (قرطبی)
74 ۔ یعنی یہ اقرار واعتراف اب سب بےاثر رہے گا اور کوئی ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ (آیت) ” نرد “۔ یعنی دنیا میں جو دارالعمل ہے ایک بار پھر واپس جائیں۔ (آیت) ” فنعمل غیر الذی کنا نعمل “۔ یعنی دنیا میں جاکر ان اعمال کفروفسق کے برعکس اب کی ایمان و اعمال صالحہ اختیار کریں۔
Ayah 7:5475 ۔ یعنی عزت و جلال کے تحت پر۔ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ خلق یعنی عدم محض سے انہیں وجود میں لے آیا، یہ نہیں کہ مادہ سب پہلے سے خود بخود یا خود آفریدہ موجود تھا اور خدا نے ان میں صرف ترکیب وترتیب پیدا کردی جیسا کہ بہت سی جاہل مشرک قوموں نے فرض کر رکھا ہے۔ (آیت) ” السموت والارض “۔ یہ پر عظمت وہیبت ناک آسمان جن کی پرستش بطور دیوتا یا خدائے اعظم کے کلدانی اور مصری، ہندی اور یونانی، سب اپنے اپنے اوج تمدن کے وقت کرتے آتے ہیں اور یہ زمین جو دھرتی مائی کی حیثیت سے دنیا میں بہ کثرت پوجی گئی ہے۔ یہ معبود ومسجود ہونا تو الگ رہا، خود اپنے کو وجود میں لانے پر بھی قادر نہیں رہے ہیں، بلکہ ساری دوسری موجودات کی طرح اللہ کی مخلوق ہی ہیں۔ (آیت) ” ستۃ ایام “۔ یوم سے مراد ظاہر ہے کہ یہ متعارف یوم چوبیس گھنٹوں والا تو ہو نہیں سکتا کہ یہ خود نتیجہ ہے حرکت ارض یا حرکت شمس کا اور بیان اس وقت کا ہورہا ہے جب یہ چاند، سورج، زمین، آسمان سرے سے موجود ہی نہ تھے، بلکہ مراد یہاں مطلق زمانہ ہے۔ یعنی چھ مختلف زمانوں میں یا چھ مراتب وجود کے ساتھ۔ ای فی ستۃ اوقات (بیضاوی۔ روح) اور یوم کے معنی مطلق مدت کے محاروۂ عرب میں برابر مستعمل ہیں۔ قد یعبر بہ عن مدۃ من الزمان ای مدۃ کانت (راغب) البتہ توریت (کتاب پیدائش باب اول) میں صبح شام کی تصریح بار بار آئی ہے۔ (آیت) ” استوی علی العرش “۔ یعنی پہلا مرتبہ خلق کائنات کا تھا، اب اس کے بعد اس نے حکومت وتدبیر کے احکام جاری کرنے شروع کردیئے۔ عرش کے لفظی معنی تخت کے ہیں۔ اور العرش سے مراد تخت حکومت الہی ہوتا ہے جو ہر قسم کے مادی تعینات سے ماوراء ہے۔ وکنی بالعرش عن العز والسلطان والمملکۃ (راغب) والمراد بالاستواء علی العرش نفاذ القدرۃ وجریان المشیۃ (کبیر) واذا استقام لہ ملکہ واطرد امرہ وحکمہ قالوا استوی علی عرشہ ھذا ماقالہ القفال واقول من الذی قالہ حق وصدق وصواب (کبیر) (آیت) ” یغشی الیل النھار “۔ اس میں یہ بتادیا کہ رات اور دن کوئی صاحب ارادہ ہستیاں نہیں (جیسا کہ بعض جاہلی قوموں نے سمجھ رکھا ہے) کہ اپنے قصد و خواہش سے اپنا ظہور ونمود کرتی رہیں۔ اور نہ مشین کی طرح اضطرار ان رد وبدل ہوتا رہتا ہے۔ (جیسا کہ ملحدوں نے فرض کر رکھا ہے) بلکہ دونوں اپنے ظہور، نمود، وجود میں ہر مخلوق کی طرح تمامتر ارادہ الہی کے تابع و محکوم ہیں۔ (آیت) ” یطلبہ حثیثا “۔ دن آنافانا گزرتا معلوم ہوتا ہے، حتی کہ دفعۃ رات آجاتی ہے (تھانوی) حث کے عام معنی جلدی وتیزی کے ہیں۔ الحث والاعجال والسرعۃ لیکن حثیثا کے دوسرے معنی لازمی کے بھی کیے گئے ہیں۔ ای یطلبہ دائما من غیر فتور (قرطبی) (آیت) ” الشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ چاند، سورج، ستارے ان میں سے کوئی بھی صاحب ارادہ، صاحب تصرف دیوی دیوتا نہیں بلکہ اپنی ایجاد میں، آثار میں، اختیار میں ہر شے میں مجبور و محکوم ہے۔ اللہ ہی جو اور جس طرح چاہے ان میں تصرفات کرے۔ (آیت) ” بامرہ “۔ میں امر سے مراد احکام تکوینی ہیں کہ چاند، سورج، ستارے، احکام تشریعی کے مکلف نہیں۔ (آیت) ” لہ الخلق والامر “۔ یعنی کوئی اس کا مطلقا شریک نہیں۔ نہ خالق ہونے میں نہ حاکم ہونے میں۔ شرک کی عموما دو ہی صورتیں رائج رہی ہیں۔ ایک یہ کہ کائنات کی تخلیق میں دوسروں کو شریک سمجھا جائے۔ دوسرے یہ کہ خالق تو تنہا اللہ کو تسلیم کرکے انتظامات خلق دوسروں کے ذمہ سمجھے جائیں، خلق وامر دو لفظ لانے سے دونوں شقوں کی کلی نفی وتردید مقصود ہے۔
76 ۔ (یعنی وہ پر دودگار عالم ہر قسم کے کمالات کا جامع ہے)
Ayah 7:5577 ۔ (اور دعا میں آداب دعاوعبودیت کا لحاظ نہ رکھنا بھی ایک صورت حد سے نکل جانے ہی کی ہے) آداب دعا میں یہ بھی داخل ہے کہ دعا نہ محالات عقلیہ وعادیہ کی مانگی جائے۔ اور نہ معاصی کی طلب و تمنا پیش کی جائے۔ (آیت) ” ادعواربکم “۔ یہ دعا مانگنے کی دعوت ہر حال میں اور بڑی چھوٹی ہر حاجت کے لیے دی جارہی ہے۔ (آیت) ” ربکم “ کے لفظ نے بندوں کو یاد دلادیا کہ جس سے دعا مانگ رہے ہو، وہ کوئی ظالم اور سخت گیر حاکم نے، وہ تو تمہار شفیق پروردگار ہے۔ وہی تو تمہاری مادی وروحانی ہر طرح کی ترقیوں کا ضامن ہے۔ (آیت) ” تضرعا “۔ دعا تو خود ایک عبادت ہی ہے چاہیے کہ حسب شان عبودیت لجاجت کے لہجہ میں اور خشوع قلب کے ساتھ ہو۔ بہ طور حکومت کے نہ ہو کہ جیسے موکلوں، جنات یا شیاطین کے لیے منتر، عملیات وغیرہ پڑھے جاتے ہیں، (آیت) ” خیفۃ “۔ اور دعا چلا چلا کر بھی نہ مانگو کہ نعوذباللہ) جیسے تمہارا پروردگار اونچا سنتا ہے۔ انجیل میں ہے کہ :۔” اور دعا مانگتے وقت غیر قوموں کے لوگوں کی طرح بک بک نہ کرو، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بہت بولنے کے سبب ہماری سنی جائے گی “۔ (متی۔ 6:7) دوسری بات یہ ہے کہ دعا چپکے چپکے مانگنے میں ریا ونمائش کا بھی احتمال نہیں رہتا، حدیث میں ایسی ہی دعا کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم دونوں میں یہ روایت آتی ہے کہ لوگ دعا چلا چلا کر مانگ رہے تھے، ان پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم جسے پکار رہے ہو وہ نہ گراں گوش ہے اور نہ کہیں دور ہے وہ تو قریب بھی ہے اور خوب سنتا بھی ہے۔ عن ابی موسیٰ الا شعری قال رفع الناس اصواتھم بالدعا فقال رسول اللہ ﷺ ایھا الناس ارجعوا علی انفسکم فانکم لاتدعون اصم ولا غائبا ان الذی تدعون سمیع قریب اور حنیفہ نے یہیں سے استدلال کیا ہے کہ نماز میں سورة فاتحہ کے بعد آمین بھی جو دعا ہی کی ایک شکل ہے آہستہ کہنی چاہیے، وقد استدل اصحاب ابی حنفیۃ بھذا علی ان اخفاء امین اولی من الجمربھا لانہ دعاء (قرطبی) وفی ذلک دلیل علی ان اخفاء امین من قراء ۃ فاتحہ الکتب فی الصلوۃ افضل من اظھارہ لانہ دعاء (جصاص) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں اشارہ ہے طریق جلوت وخلوت یا عبادات جوارح و عبادات قلب کی طرف۔
Ayah 7:5678 ۔ (سو تمہیں اجر ہی ملنا یقینی نہیں ہے اس کا جلد ملنا بھی یقینی ہے) (آیت) ” ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا “۔ کائنات کی اصلاح ودرستی قانون اسلام کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے ہی سے ہوتی ہے اور اس مکمل دستور العمل سے انکار ہی پہلے فساد عقاید اور پھر فساد اعمال، فساد، اخلاق، جرائم ومعاصی، قتل و خونریزی ہر قسم کے فسادات کا باعث ہوتا ہے۔ (آیت) ” وادعوہ خوفا وطمعا “۔ خوف تو اس لحاظ سے کہ شرائط قبول دعا میں سے کوئی چیز چھوٹ نہ گئی ہو، اور آرزو اس کی کہ کوئی شرط چھوٹنے نہ پائی ہو۔ ای مع الخوف من قوع التقصیر فی بعض الشرائط المعتبرۃ فی قبول ذلک الدعاء ومع الطمع فی حصول تلک الشرائط باسرھا (کبیر) ایک پہلویہ بھی ہے کہ اگر کہیں اس نے عدل شروع کردیا تو ہمارے اعمال کس قابل ہیں۔ ہمیں تو ڈرتے ہی رہنا چاہیے البتہ آرزو اس کے فضل کی رکھنا چاہیے۔ قال ابن جریج خوف العدل وطمع الفضل (معالم) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ خوف کا لفظ ناز، عجب وپندار کی تردید میں ہے اور آرزو کی تاکید مایوسی کے مقابلہ میں ہے۔ (آیت) ” رحمت اللہ قریب “۔ رحمۃ کا لفظ مؤنث ہے۔ اس لیے قاعدہ سے قریب کے بجائے قریبۃ ہونا تھا۔ لیکن رحمۃ کو جو مؤنث غیر حقیقی ہے یہاں رحم یا ثواب یا غفران کے مرادف قرار دیا گیا ہے۔ اور خبر مذکر قریب اسی مناسبت سے لائی گئی ہے۔ انما ذکر قریب علی تاویل الرحمۃ بالرحم اوللتراحم (کشاف) او لان تانیث الرحمۃ غیر حقیقی (کشاف) قال سعید بن جبیر الرحمۃ ھھنا الثواب فرجع النعت الی المعنی دون اللفظ (معالم) قال الزجاج انما قیل قریب لان الرحمۃ والغفران فی معنی واحد وکذلک کا تانیث لیس بحقیقی (امالی ابن الشجری جلد 2 صفحہ 256) قال النضر بن شمیل الرحمۃ مصدر ومن حق المصادر التذکیر کقولہ فمن جاء ہ موعظۃ (کبیر)
Ayah 7:5779 ۔ (عموما وعادۃ) قرآن مجید کی اس قسم کی آیتوں میں اور ان کی تعداد دو ایک کی نہیں پچاسوں کی ہے، یہ خوب یادرکھا جائے کہ بیان واقعات تکوینی کی صرف غالب اور عمومی حالت کا ہوتا ہے۔ حصروکلیت کہیں بھی مقصود نہیں ہوتی ورنہ پھر معجزات وخوارق کا تو سری سے سد باب ہوجائے۔ خارق کے معنی بھی ایک عمومی دستور میں خرق ہوجانے کے ہیں۔
80 ۔ یعنی یہ تکوینی داستان تمہارے سامنے اس لیے دہرائی گئی کہ تم اس مشاہدہ فطرت سے توحید الہی اور مردوں کے زندہ کرنے کی قدرت پر استدلال کرسکو۔ (آیت) ” اقلت سحابا ثقالا “۔ یعنی ہوا بادل کے اجزاء کو باہم ملائے رہتی اور انہیں فضا میں معلق رکھتی ہے۔ سقنہ۔ فانزلنا بہ۔ “ دونوں میں ضمیر بادل کی طرف ہے۔ (آیت) ” فاخرجنا بہ “۔ ضمیر پانی کی طرف ہے۔ (آیت) ” البلدالطیب۔۔۔ نکدا “۔ سعدی (رح) نے اسی مفہوم کو ادا کیا ہے۔ باراں کہ درلطافت طبعش خلاف نیست۔ درباغ لالہ روید و درشورہ بوم خس۔ رحمت الہی کی بارش سب پر یکساں ہوتی رہتی ہے۔ خوش طینت اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بدطینت پر وہ سارا لطف ضائع جاتا ہے۔ (آیت) ” باذن ربہ “۔ یہ ٹکڑا بڑھا کر یاد دلادیا کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے آپ ہی آپ مشین کی طرح نہیں ہوتا رہتا بلکہ کوئی اس نظام فطرت کا ناظم منظم بھی ہے۔ سب کچھ اسی کی مشیت تکوینی سے ہوتا ہے۔ متکلمین نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ مومن خیروطاعت کی قسم سے جو کچھ بھی کرتا ہے سب توفیق الہی ہی سے انجام دیتا ہے۔ ذلک یدل علی ان کل ما یعملہ المومن من خیر وطاعۃ لایکون الا بتوفیق اللہ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلیل ہے مسئلہ استعداد کی یعنی اس میں مثال آئی ہے ایسے شخص کی جس میں وعظ مؤثر ہوتا ہے اور ایسے کی جس میں مؤثر نہیں ہوتا۔ شخص طیب الاستعداد اور شخص فاسد الاستعداد کی۔
Ayah 7:5881 ۔ (یعنی وہ لوگ جو انہیں اپنی فلاح کی چیز سمجھ کر ان کی قدر کرتے، ان میں غور کرتے اور ان پر عمل کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 7:5982 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بن لامک قدیم ترین انبیاء میں سے ہیں۔ زمانہ کی تعیین دشوار ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ان کا زمانہ 3800 ق، م تا 2850 ق، م سمجھئے۔ توریت کی کتاب پیدائش میں ان کا مفصل ذکر باب 5 سے باب 9 تک آتا ہے البتہ اس میں مناقب کے ساتھ ساتھ مثالب بھی موجود ہیں۔ (آیت) ” قومہ “۔ یہ لوگ ملک عراق میں آباد تھے۔ اور دنیا کی ہر جاہلی، گو بہ ظاہر مہذب قوم کی طرح شرک میں مبتلا تھے۔ (آیت) ” عذاب یوم عظیم “۔ سے مراد دونوں عذاب ہوسکتے ہیں۔ عذاب قیامت بھی اور دنیا کا عذاب طوفان بھی۔ ولا شک ان المراد منہ اما عذاب یوم القیامۃ او عذاب یوم الطوفان (کبیر)
Ayah 7:6083 ۔ (کہ آبائی دین سے باغی ومنحرف ہو کر ایک نئے عقیدۂ توحید کی دعوت دے رہے ہو) (آیت) ” الملا من قومہ “۔ ہر صحیح اور سچی اصلاحی تحریک کی مخالفت میں سب سے پیش پیش قوم کے امراء واہل وجاہت ہی ہتے ہیں۔ یہی تاریخ کا تجربہ ہے اور اس کو قرآن مجید نے بھی ہر جگہ نمایاں رکھا ہے۔ الملا اشراف القوم ورؤساؤھم (قرطبی)
Ayah 7:6184 ۔ (آیت) ” رب العلمین “۔ شرک کے پورے فلسفہ پر ضرب کاری لگانے والا لفظ یہی (آیت) ” رب العلمین “ ہے۔ مشرک نظام کائنات کو متفرق ومنتشر صورت میں دیکھنے کا عادی ہوتا ہے۔ وہ یہ تو سمجھ سکتا ہے کہ فلاں دیوی اور فلاں دیوتا فلاں، فلاں شعبہ کے مالک ہیں لیکن یہ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کوئی مالک الملک سارے عالموں کا تاجدار اور پروردگار بھی ہے۔
Ayah 7:6285 ۔ (چنانچہ میں جانتا ہوں کہ دعوت توحید سے انکار کا وبال تم پر ضرور پڑ کر رہے گا) (آیت) ” ابلغکم رسلت ربی “۔ پیغمبر خدا کا مظہر یا اوتار نہیں ہوتا۔ صرف مبلغ وداعی ہوتا ہے۔ (آیت) ” رسول من رب العلمین “ میں یہ بات ابھی پہلے بھی آچکی ہے۔ اور اب دوبارہ مزید تصریح وتاکید کے لیے ہے۔ مشرک قوموں کی سمجھ میں جس طرح توحید نہیں آتی، اسی طرح رسالت کا تصور بھی ان کے ذہن کی گرفت سے باہر ہی رہتا ہے۔ اور وہ ہمیشہ اوتار وغیرہ کے مشرکانہ تخیل کے پھیر میں پڑے رہتے ہیں۔ (آیت) ” انصح لکم “۔ شفقت، خیر خواہی تو گویا پیغمبر کے ضمیر ہی میں داخل ہوتی ہے۔ وہ امت اجابت تو خیر امت دعوت کے ساتھ بھی جو کچھ معاملہ کرتا ہے اس کی بنیاد اخلاق و شفقت ہی پر ہوتی ہے۔ جس میں خود غرضی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ النصح اخلاص النیۃ من شوائب الفساد فی المعاملۃ (قرطبی) (آیت) ” اعلم من اللہ “۔ پیغمبر کا یہ علم اس کا اپنا کسب کیا ہوا نہیں۔ اللہ ہی کی طرف سے عطا کیا ہوا ہوتا ہے۔
Ayah 7:6386 ۔ (باوجود تمہارے پچھلے انبار معاصی کے) (آیت) ” او عجبتم۔۔۔ منکم “۔ مشرک جاہلی قوموں کی الٹی سمجھ میں اوتار کا عقیدہ تو آجاتا ہے۔ یعنی یہ کہ خالق کائنات خود کسی انسان یا کسی دوسری مخلوق کے قالب میں جلوہ گر ہو کر آگیا۔ لیکن یہ کسی طرح سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کسی اعلی ظرف و کمالات والے انسان کے ذریعہ سے اپنے احکام وہدایات دنیا کو بھیج سکتا ہے۔ (آیت) ” علی رجل منکم “۔ منکم سے مراد من جنسکم اور علی رجل سے مراد منزل علی رجل ہے۔ المعنی ان جاء کم ذکر من ربکم منزل علی رجل منکم (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اپنے ہم عصراولیاء سے محض ان کی معاصرت کی بنا پر نفرت و حقارت کا برتاؤ جاہلوں کا آج تک شیوہ چلا آرہا ہے۔ (آیت) ” لینذرکم ولتتقوا “۔ ل دونوں میں تعلیلیہ ہے اور پورے فقرہ میں سببیت کی ایک خاصترتیب پائی جاتی ہے۔ یعنی پیغمبر کا آنا تو انذار کے لیے ہوتا ہے اور یہی انذار سبب ہوجاتا ہے، تقوی کا اور تقوی سبب بن جاتا ہے جلب رحمت کا
Ayah 7:6487 ۔ (اپنی فرط جہالت سے، اور انہیں حق و باطل نفع ونقصان کچھ نہیں سوجھتا تھا) (آیت) ” فانجینہ والذین معہ “۔ اس نجات کا تعلق عذاب طوفان سے ہے۔ یعنی انہیں ہمہ گیر غرقابی سے صاف بچا لیا۔ (آیت) ” واغرقنا الذین کذبوا بایتنا “۔ یہ الفاظ خود اس پر دلالت کررہے ہیں کہ طوفان صرف مکذبین ومنکرین کے لیے بہ طور سزا کے آیا تھا۔ ساری دنیا سے اس کا تعلق نہ تاھ۔ عراق کی سرزمین خصوصا کوہ ارارات کی وادیوں میں اب تک ایک مہیب طوفان کے نشانات اہل فن کو ملتے رہتے ہیں۔ توریت میں اس طوفان کے سلسلہ میں تصریحات ذیل ملتی ہیں :۔ ” وہ نوح (علیہ السلام) چھ سو برس کا تھا جب طوفان کا پانی زمین پر آیا “۔ (پیداء 7:6) ” جب نوح (علیہ السلام) کی عمر چھ سو برس کی ہوئی، دوسرے مہینہ کی سترھویں تاریخ کو اسی دن بڑے سمندر کے سب سوتے پھوٹ نکلے اور آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں۔ اور چالیس دن اور چالیس رات زمین پر پانی کی جھڑی لگی رہی۔ “ (پیدائش 7: 1 1، 12) طوفان نوح (علیہ السلام) کا تخمینی سال، 3200 ، ق م، ہے یعنی آج ( 1946 ء) سے پورے 5 146 سال قبل۔ (آیت) ” فی الفلک “۔ کشتی کے لفظ سے یہ دھوکانہ ہو کہ یہ کوئی چھوٹی موٹی ڈون گیا ناؤ تھی۔ محققین اثریات کا خیال ہے کہ یہ خاصہ بڑا جہاز اوپر نیچے تین درجوں کا تھا۔ اور اس کی پیمائش توریت میں حسب ذیل دی ہوئی ہے :۔ ” اس کی لمبائی 300 ہاتھ اور اس کی چوڑائی 50 ہاتھ اور اس کی اونچائی 30 ہاتھ کی “۔ (پیدائش۔ 6: 15) گویا اتنا بڑا مسافروں کا جہاز (Liner) تھا جو برطانیہ اور امریکہ کے درمیان عموما چلتے رہتے ہیں۔ حسب روایت توریت یہ جہاز 150 دن (یا 5 مہینہ) تک چلتا رہا۔
Ayah 7:6588 ۔ (بہ طور پیغمبر کے) ھود۔ سامی نسل کے قدیم ترین پیغمبروں میں سے ہوئے ہیں۔ عرب آپ سے خوب واقف تھے۔ جنوبی عرب میں آج بھی قبر نبی ہود (علیہ السلام) کے نام سے ایک مقام مرجع خلایق وزیارت گاہ ہے۔ جس کا ذکر انگریزی سیاح بھی برابر کرتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ آپ ہی کا نام توریت (کتاب پیدائش) میں عبر کرکے آیا ہے۔ عاد ایک قدیم عرب قوم کا نام ہے۔ جو جنوبی عرب میں آباد تھی۔ اور اس کے حدود مشرق میں خلیج فارس کے شمال سے مغرب میں بحر قلزم کے جنوب تک وسیع تھے۔ گویا آج کے یمن، عمان وغیرہ سب اس میں شامل تھے۔ اور ان کا پایہ تخت یمنی شہر حضرموت تھا۔ قوم کا نام اپنے مورث اعلی کے نام پر ہے۔ اور ان کا مشہور نسب نامہ یہ ہے عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح۔ اپنے زمانہ کی متمدن ترین قوم تھی۔ اپنے لمبے لمبے سفروں کے لیے ضرب المثل (آیت) ” اخاھم “۔ اخ سے مقصود ہے اشتراک وطنیت یا اشتراک قومیت کا اظہار۔ یہ ایک عام سنت الہی رہی ہے کہ قوم کی ہدایت کے لیے پیغمبر اسی کا ہم قوم وہموطن بھیجا جاتا تھا۔ ای اخاھم فی القبیلۃ (قرطبی) ومعنی کونہ اخاھم انہ منھم نسبا وھو قول الکثیر من النسابین (روح) والعرب تسمی صاحب القوم اخا القوم (کبیر)
89 ۔ (شرک کے دنیوی واخروی وبال سے) شرک کی تردید اور توحید کی دعوت بس یہی سارے انبیاء کی تبلیغ کا لب لباب رہی ہے۔ (آیت) ” تتقون “۔ میں اشارہ ادھر بھی ہوسکتا ہے کہ قوم نوح (علیہ السلام) کے انجام غرقابی سے بھی تم نہیں ڈرتے ! (آیت) ” اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “۔ یہ پیام توحید تو ہر نبی کی دعوت میں مشترک ملے گا۔
Ayah 7:6690 ۔ داعیان حق کو جواب بھی ہر قوم کے ” روشن خیالوں “ کی طرف سے یکساں ہی ملا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ عقلاء دین کو سفیہ کہنے کا طریقہ سفہاء قدیم سے آج چلا آرہا ہے۔
Ayahs 7:67–6891 ۔ (آیت) ” رب العلمین۔ رسول۔ رسلت ربی۔ ناصح “۔ وغیرہ پر حاشیے ابھی ابھی اوپر گزر چکے ہیں۔
Ayah 7:6992 ۔ (کہ یہی فلاح دنیوی واخروی ہر پیغمبر کی تبلیغ و دعوت کا اصل مقصود رہی ہے) (آیت) ” جعلکم خلفآء من بعد قوم نوح “۔ یعنی بعد قوم نوح (علیہ السلام) کے بہ حیثیت ایک زبردست وپرقوت قوم کے تم ہی کو زمین پر آباد کیا۔ خلفاء سے مراد زمین پر نفس آبادی کی جانشینی ہے۔ یہ مراد نہیں کہ قوم نوح (علیہ السلام) کے وطن وملک ہی میں آباد کیا ہے۔ چناچہ قوم ہود (علیہ السلام) وقوم نوح (علیہ السلام) (عراق) سے بہت ہٹ کر جنوبی عرب میں آباد تھی۔ من علیھم بان جعلھم سکان الارض بعد قوم نوح (قرطبی) (آیت) ” وزادکم فی الخلق بصطۃ “۔ قوم عاد جسمانی حیثیت سے بڑے قد آور وقوی ہیکل لوگ تھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے معلوم ہوا کہ قوت وجسامت میں زیادتی بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے تو دنیوی نعمتوں کی تحقیر زہد میں داخل نہیں، جیسا کہ بعض اہل تقشف وتشدد کا مذاق ہے۔ (آیت) ” فاذکروا لآء اللہ “۔ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور اس کے احسانات یاد کرکے اس کی شکر گزاری پر زیادہ راغب ومائل ہو۔
Ayah 7:7093 ۔ (ابھی اور فی الفور) دور انبیاء میں مشرکوں کو یہ مغالطہ بھی ہمیشہ ہی رہا ہے جب پیغمبروں کا فی الفور) دور انبیاء میں مشرکوں کو یہ مغالطہ بھی ہمیشہ ہی رہا ہے جب پیغمبروں کا وعظ سنتے اور دلائل و جواب میں کچھ بن نہ پڑتا تو یہی کہنے لگتے کہ ” لے آؤنا اپنا عذاب دیکھیں تو وہ کیسا ہے “ ؟۔۔ گویا پیغمبروں کا وعدہ فی الفور عذاب کا تھا۔ اور گویا عذاب الہی کا لانا پیغمبروں کے اختیار کی چیز تھی ! (آیت) ” اجئتنا۔۔۔ ابآؤنا “۔ اسے وہ بڑے استعجاب کے لہجہ میں اور ایک انتہائی عجیب و غریب بات سمجھ کر کہتے۔ مشرکوں کو اصلی چڑ ہمیشہ توحید سے رہی ہے۔ انکار انہیں نفس وجود باری سے نہیں۔ وہ ملحد اور دہری نہیں ہوتے صرف مشرک ہوتے ہیں۔ یعنی نام خدا کا جتنی بار چاہیے لیجئے مگر جب بھی لیجئے تنہا نہ لیجئے۔ دوسروں کے ساتھ ملا جلا کرلیجئے۔
Ayah 7:7194 ۔ یعنی مستحق عقوبت تو تم اپنے قول وکردار سے ہو ہی چکے۔ اب نزول عذاب جس وقت بھی ہوجائے۔ معنی وقع ای وجب (قرطبی) ای حق علیکم ووجب (کشاف)
95 ۔ (عذاب الہی کے) (آیت) ” فی اسمآء سمیتموھآ انتم وابآؤکم “۔ یعنی تمہارے ان دیوتاؤں اور منہ بولے خداؤں کی حقیقت اور حیثیت اور ہے کیا بجز چند گڑھے ہوئے ناموں اور اصطلاحوں کے ؟ معنویت اور حقیقت سے معری۔ بھا۔ یعنی ان کی معبودیت پر۔ ای فی عبادتھا (قرطبی) (آیت) ” مانزل اللہ بھا من سلطن “۔ یعنی کوئی شہادت، کوئی ثبوت تمہارے ان گڑھے ہوئے دیوی دیوتاؤں کے وجود کانہ تو عقل سلیم کو اور فطرت بشری کو ملتا ہے اور نہ کوئی قدیم آسمانی نوشتہ ہی اس کی تائید میں ہے۔ نہ دلیل عقلی نہ دلیل نقلی۔ (آیت) ” الذین معہ “۔ معیت سے مراد رفاقت ایمانی ہے۔ یعنی جو لوگ ان پر ایمان لے آئے تھے ای من امن بہ (مدارک) عذاب الہی کیا ایک بڑی پہچان یہ ہے کہ اس سے صرف نافرمان ہی ہلاک ہوتے ہیں۔ اور اہل ایمان اس سے محفوظ رہتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ہر نبی کے قصہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اسی سے ظاہر ہوگیا کہ موجودہ زمانہ کے ہولناک واقعات طبعی وتکوینی قحط، زلزلہ، جنگ، سیلاب، وباء وغیرہ جس سے فاسق وزاہد، کافر و مومن بلاامتیاز یکساں ہوتے رہے ہی۔ یہ عذاب الہی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ عذاب الہی کے نمونے کہے جاسکتے ہیں۔ یہ عذاب الہی ایک طوفانی آندھی کی شکل میں آیا تھا۔
Ayah 7:7296 ۔ یعنی ایمان کا ان میں گزر ہی نہ تھا۔ ایمان اگر موجود ہوتا تو یہ نوبت ہی کیوں آتی۔ تنبیہ علی ان الفارق بین من نجا وبین من ھلک ھو الایمان۔ (بیضاوی)
Ayah 7:7397 ۔ قوم کے مورث اعلی کا نام ثمود تھا۔ اور مشہور نسب نامہ یہ ہے :۔ ثمود بن حبشیر بن ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) ۔ عاد جس طرح عرب جنوبی ومشرقی کے مالک تھے، ثمود اس کے مقابل عرب مغربی وشمالی پر قابض تھے۔ ان کے دارالحکومت کا نام حجر تھا یہ شہر حجاز سے شام کو جانے والے قدیم راستہ پر واقع تھا۔ اب عموما اس شہر کو مدائن صالح کہتے ہیں۔ یہ شمالی عرب کی ایک زبردست قوم تھی، فن تعمیر میں عاد کی طرح اس کو بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بنانا، پتھروں کی عمارتیں اور مقبرے تیار کرنا اس قوم کا خاص پیشہ تھا۔ یہ یادگاریں اب تک باقی ہیں۔ ان پر ارامی وثمودی خط میں کتبے منقوش ہیں۔ (ارض القران) از سلیمان الندوی جلد اول صفحہ 188، 189) (آیت) ” اخاھم “۔ یعنی قوم ثمود کے ہم وطن یا ہم قوم۔ (آیت) ” صالح “۔ توریت میں ان سے ملتا جلتا ایک نام سلح آتا ہے۔ اگر انہی کو حضرت صالح (علیہ السلام) فرض کیا جائے تو شجرۂ نسب یہ پڑتا ہے۔ صالح بن ارفخشدبن سام بن نوح۔ ایک نسب نامہ یوں بھی منقول ہے۔ صالح بن عبید بن اصف بن شیخ بن عبید بن جو ربن ثمود (خطبات احمدیہ از سید احمد خان) آپ کا مزار مبارک جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی کنارہ پر آج بھی زیارت گاہ خلائق ہے۔ ملاحظہ ہو، انگریزی تفسیر القرآن)
98 ۔ وہی پیمام توحید جو سارے انبیاء کی دعوتوں کا خلاصہ اور سب میں مشترک رہا ہے۔
99 ۔ (آیت) ” قد جآء تکم بینۃ من ربکم “۔ یعنی میری صداقت کا کھلا ہوا مادی نشان وہ بھی تمہاری خواہش و فرمائش کے مطابق۔ مشرک وجاہلی قوم نے فرمایش کی تھی کہ کوئی خارق عادت ہمیں دکھاؤ تو ہم تمہیں سچا سمجھیں۔ ایک خاص قسم کی اونٹنی کا ظہور اسی فرمایش کا نتیجہ تھا۔ (آیت) ” ناقۃ اللہ “۔ ناقہ کی اضافت یہاں اللہ کی جانب اسی طرح کی ہے جیسے بیت اللہ میں گھر کی اضافت اللہ کی جانب۔ یعنی تشریف وتعظیم و تخصیص کے لیے۔ واضیفت الناقۃ الی اللہ علی جھۃ اضافۃ الخلق الی الخالق وفیہ معنی التشریف والتخصیص (قرطبی) اضیفت الی اسم اللہ تعظیما لھا وتفخیما لشانھا (کشاف) اللہ نے قوم کی درخواست معجزہ قبول کرکے، ایک اونٹنی کسی عجیب طریقہ سے پیدا کردی تھی، اور پیغمبر (علیہ السلام) کے ذریعہ سے حکم یہ دے دیا تھا کہ کوئی اسے چھیڑے نہیں، یہ اپنے آزاد گھومتی پھرے گی، اور جس وقت کوئی اسے نقصان پہنچائے گا بس وہی گھڑی عذاب الہی کی ہوگی۔ انگریز مترجم قرآن سیل نے فرنگی سیاحوں کے مشاہدات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جس پہاڑ سے وہ اونٹنی بہ طور خارق عادت برآمد ہوئی تھی اس میں اب تک ایک شگاف (60) ساٹھ فٹ کا موجود ہے۔ اور جزیرہ نمائے سینا میں جبل موسیٰ کے قریب ” ناقۃ النبی “ کا نقش قدم آج بھی زیارت گاہ خلائق ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
Ayah 7:74100 ۔ (آیت) ” جعلکم خلفآء من بعد عاد “۔ یعنی قوم عاد جیسی متمدن، سرسبز، ترقی یافتہ قوم کے بعد تہذیب و تمدن کا مالک تمہیں بنایا۔ یہ مطلب نہیں کہ انہیں کا ملک تمہیں دیا۔۔۔۔ عاد وثمود دونوں کے مرکز بالکل جداگانہ تھے۔ عاد کا مستقر جنوب مشرقی عرب تھا۔ اور ثمود کا جو لانگاہ ترقی مغربی عرب۔ (آیت) ” تتخذون من سھولھا قصورا وتنحتون الجبال بیوتا “۔ عاد یوں کی طرح ثمودی بھی بڑے صناع سنگتراش اور اپنی تعمیرات کے لیے مشہور ہوئے ہیں۔ اور جب ان صنعتوں اور صناعیوں میں اتنے بڑھے ہوئے تھے تو لازمی ہے کہ جن علوم وفنون پر یہ صنعتیں مبنی ہیں، یعنی ریاضی ہندسہ، انجیزی ان میں بھی نہایت ممتاز وبلند پایہ ہوں۔ (آیت) ” فاذکروا الآء اللہ “۔ اس جزء سے معلوم ہوا کہ دنیوی علوم وفنون میں کمال کا بھی شمار اللہ کی نعمتوں میں ہے۔ اور انہیں مطلقا حرام یا ناجائز سمجھ لینا بہت زیادتی ہے۔ بعض نے اس جزؤ سے یہ بھی نکالا ہے کہ کافر بھی محل نعمت ہوتے ہیں۔ وھذا یدل علی ان الکفار منعم علیھم (قرطبی) (آیت) ” ولا تعثوا فی الارض مفسدین “۔ تہذیب و تمدن کی پیدا کی ہوئی عیش پرستیوں میں پڑ کر خوف آخرت سے بےنیاز ہوجانا قونون شریعت کے حدود کو توڑ کر اپنے کو فسق وفجور میں ڈال دینا۔ اللہ کی عظمت اور اپنی عبدیت کو فراموش کرجانا، یہ سب فساد فی الارض میں داخل ہے۔ فقہاء کے ایک گروہ نے آیت سے نکالا ہے کہ بڑے بڑے محلوں کی تعمیرات بالکل جائز ہے۔ استدل بھذہ الایۃ میں اجاز جواز البناء الرفیع کالقصور ونحوھا (قرطبی)
Ayah 7:75101 ۔ یہ لوگ بولے کہ صالح (علیہ السلام) کو سچا نبی سمجھنا کیا معنی ہم تو ان کے لائے ہوئے پیاموں کو بھی سچا اور برحق سمجھ رہے ہیں۔ ان کی پیغمبری کا مسئلہ تو قابل بحث ہی نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ ان کی تصدیق کون کون کرتا ہے۔ سو ہم کو تو ان کی تصدیق کی توفیق ہوگئی ہے۔ کانھم قالوا العلم بارسالہ وبما ارسل بہ مالا کلام فیہ ولا شبھۃ تدخلہ لوضوحہ وانا رتہ وانما الکلام فی وجوب الایمان بہ فنخبرکم انابہ مومنون (کشاف) تنبیھا علی ان ارسالہ اظہرمن ان یشک فیہ عاقل ویخفی علی ذی رأی وانماالکلام فی من امن بہ ومن کفر (بیضاوی) (آیت) ” الذین استکبروا “ کے صیغہ کا معروف اور (آیت) ” الذین استضعفوا “ کے صیغہ کا مجہول ہونا بہت معنی خیز ہے۔ رؤساء منکرین تو متکبر ونخوت پرست تھے۔ قرآن مجید نے یہ صاف وبے تکلف کہہ دیا۔ مومنین صادقین بجائے خود ضعیف و حقیر تھے یا نہیں، یہ قرآن مجید کچھ نہیں بتاتا۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ وہ لوگ ضعیف قرار دیئے گئے تھے۔ حقیر سمجھ لیے گئے تھے۔ اور تعبیر کے ان دو طرزوں کے درمیان کتنا فرق ہے ؟ متکبرین میں تو ذم خود اہم استکبار کی ہے اور مستضعفین میں ذم حقیروں کی نہیں، انہیں حقیر سمجھنے والوں کی ہے۔ للذین استضعفوا ای للذین استضعفھم رؤساء الکفار واستذلوھم (کشاف) کو نھم مستکبرین فعل استوجبوا بہ الذم وکون المومنین مستضعفین معناہ ان غیرھم مستضعفھم ویستحقرھم وھذا لیس فعلا صادرا عنھم بل عن غیرھم فھولا یکون صفۃ ذم حقھم بل الذم عائد الی الذین یستحقرونھم ویستضعفونھم (کبیر) ضمنا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تکبر شعار ہے اہل کفر وفسق کا، اور مومنین کو حقیر و ضعیف سمجھنا بھی انہی کا شیوہ ہے۔ اور یہیں سے یہ اصل بھی ہاتھ آجاتی ہے کہ غنی سے فقر بہتر ہے۔ بین اللہ تعالیٰ ان کثرۃ المال والجاہ حملھم علی التمرد والاباء والانکار والکفر وقلۃ المال والجاہ حملھم علی الایمان والتصدیق والانقیاد وذلک یدل علی ان الفقر خیر من الغنی (کبیر)
Ayah 7:76102 ۔” قوم “ کے ” خواص “ اور ” روشن خیالوں “ کی ذہینت کا کیساصحیح نقشہ یہ مکالمہ پیش کررہا ہے !
Ayah 7:77103 ۔ گویا پیغمبر کا کام فرمایشی عذاب کی فی الفور تعمیل کرنا ہے۔ (آیت) ” فعقروالناقۃ “۔ عقر کے معنی کونچیں کاٹ ڈالنے کے ہیں۔ مراداس سے اونٹ کو ہلاک کر ڈالنا ہے۔ فعل عقر کا اسناد قرآن مجید ساری قوم کی جانب کررہا ہے حالانکہ اونٹنی کے مارنے میں ظاہر ہے کہ گنتی کے چند افراد شریک ہوں گے۔ لیکن یہ عمل ساری قوم کی رضامندی واتفاق رائے سے ہوا۔ اس لیے اسے منسوب بھی قوم کی جانب کیا گیا۔ اسندالعقر الی جمیعھم لانہ کان برضاءھم وان لم یباشرہ الا بعضھم۔ (آیت) ” امرربھم “۔ یہ امر پروردگار کا کیا تھا ؟ یہ حکم اعتقاد توحید و رسالت کا تھا۔ ای ما امر بہ علی لسان صالح۔۔۔ اوشان ربھم وھو دینہ (کشاف)
Ayah 7:78104 ۔ قوم ثمود کی زلزلہ سے ہلاکت تو زمانہ قبل تاریخ کی ہے۔ یعنی اس زمانہ میں ہوئی جس کی تاریخ اس وقت محفوظ نہیں لیکن اٹلی کے مشہور اور گل و گلزار شہر پامپئی کی زلزلہ سے بربادی عہد تاریخ کی بات ہے۔ 63 ء تھا جب ایک زلزلہ سے یہاں کے فسق پیشہ باشندے تباہ وہلاک ہو کر رہ گئے۔ اور جو کچھ بچ رہے تھے انہیں 79 ء میں ایک قدرتی آتش بازی نے بھون ڈالا۔ (آیت) ” دارھم “ میں راد بہ طور اسم جنس کے آیا ہے۔ قیل وحد علی طریق الجنس (قرطبی) دار کو بلد کے معنی میں لیا گیا ہے۔ ای بلدھم (قرطبی) یعنی فی فلدھم ولذلک وحد الدار کما یقال دار الحرب (کبیر)
Ayah 7:79105 ۔ (بلکہ ناقدری کے ساتھ ان کی بات ٹھکراتے رہے جبھی تو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا) (آیت) ” ونصحت لکم یعنی کس کس شفقت سے تمہیں سمجھایا، بجھایا ! (آیت) ” قال لقومہ “۔ ہلاک شدہ افراد امت سے یہ فرضی خطاب بےساختہ اظہار قلق و حسرت کے لیے ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس خطاب سے سماع موتی ثابت ہوتا ہے۔ تاوقتیکہ کوئی دلیل قوی اس کے رد میں نہ ہو۔