Ayah 7:157218 ۔ (آیت) ” الذین “۔ کا لفظ سب انسانوں کے لئے عام ہے، یہاں خاص اشارہ اہل کتاب کی جانب ہے۔ امی سے مراد ان پڑھ بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے کہ ہمارے رسول اللہ ﷺ تھے اور ام القری والا یعنی مکی بھی اور امت والا بھی، اور حاصل ان دونوں آخری نسبتوں کا بھی وہی ہے یعنی ان پڑھ ہونا، قیل منسوب الی الامۃ الذین لم یکتبوالکونہ علی عادتھم وقیل سمی بذلک لانہ لم یکن یکتب ولایقرء من کتاب وقیل سمی بذلک لنسبتہ الی ام القری (راغب) قال الزجاج معنی الامی الذی ھو علی صفۃ امتہ العرب فالعرب اکثرھم ماکانوا یکتبون ولا یقرء ون والنبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کان لذلک (کبیر) اے الذی لایکتب ولا یقرأ (روح)
219 ۔” جسے “ یعنی جس کی صفات و علامات کو۔ اے یجدنعتہ (کشاف)
220 ۔ یہاں تک کہ اتنی وتصحیف کے بعد بھی یہ حوالے مروجہ توریت وانجیل سے اب تک بالکل نہ دھل سکے چناچہ توریت میں ہے :۔ خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں میری مانند ایک نبی برپا کریگا، تم اس کیطرف کان دھریو (استثناء 18: 15) اور خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا سوا اچھا کیا، میں ان کے لئے انکے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپاکروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ (استثناء 18: 18) دونوں آیتوں میں بنی اسرائیل کے بھائیوں سے مراد ظاہر ہے کہ بنی اسمعیل ہی ہوسکتے ہیں۔ ” خدواند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی “۔ (استثناء 33:2) آتشی شریعت بھی ہمارے ہی رسول ﷺ کی تھی فتح مکہ کے وقت آپ ﷺ ہی داخل ہوئے شہر میں دس ہزار پاک نفس صحابہ ؓ اجمعین (قدوسیوں) کے جلو میں اور سینا (حضرت موسیٰ علیہ السلام) اور شعیر (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی نبوتوں کے بعد فاران سے جو نور نبوت جلوہ گر ہوا وہ بھی ہمارے ہی نبی کا تھا (فاران مکہ کے ایک پہاڑ کا نام ہے) ” اور اسمعیل (علیہ السلام) کے حق میں میں نے تیری سنی، دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اس سے بارہ سردارپیدا ہوں گے میں اسے ایک بڑی قوم بناؤں گا ، (پیدائش۔ 17:2 1) حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی نسل کے حق میں یہ سارے وعدہ ہمارے رسول ﷺ کی ذات سے جاکر پورے ہوئے ہیں۔ ” یہوداہ سے ریاست کا عصا جدانہ ہوگا اور نہ حاکم اس کے پاؤں کے درمیان سے جاتا رہے گا۔ جب تک کہ وہ نہ آئے جو بھیجا جانے والا ہے اور قومیں اس کے پاس اکٹھی ہوں گی۔ (پیدائش 49 ۔ 10) زیر خط عبارت کا ترجمہ رومن کیتھولک بائبل یعنی Dowey version کے مطابق ہے) دنیا کی مختلف قومیں ہمارے رسول ہی کے علم کے نیچے جمع ہوئیں وہی نبی مرسل تھے۔ انہی کے بعد سے یہود کا اقتدار نمایاں اور دیرپا طور پر ختم ہوگیا اور داؤد کے ایک نغمے میں ہے :۔” میں ساری پشتوں کو تیرا نام یاددلاؤں گا پس سارے لوگ ابدالآباد تک تیری ستایش کریں گے “ (زبور 45: 17) ستایش ہی کو عربی میں محمد ت کہتے ہیں اسم محمد ﷺ صاف ترجمہ ہے ستودہ کا۔” دیکھو بندہ جسے میں سنبھالتا۔ بڑا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے میں نے اپنی روح اس پر رکھی وہ قوموں کے درمیان عدالت جاری کرے گا۔ اس کا زوال نہ ہوگا اور نہ مسلا جائے گا جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرے گا اور بحری ممالک اس کی شریعت کی راہ تکیں (یسعیاہ 42؛ 1 ۔ 4) یہ میرا بندہ (عبدہ ورسولہ) اور میرا برگزیدہ (مصطفی) جس کا ” زوال نہ ہوگا “ (خاتم النبیین) صاف ہمارہی رسول اکرم ﷺ ہیں جن کی شریعت بحری ممالک تک پھیلی ہوئی ہے “ نیز ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیرالقرآن کے حاشیے۔ اور انجیل میں ہے۔” یسوع نے ان سے کہا کہ کیا تم نے کتاب مقدس میں نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا۔ یہ خداوند کیطرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی، اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی، اور جو اس پتھر پر گرے گا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے مگر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا “۔ (متی 2 1:42:44) جس پتھر کو اسرائیلیوں (معماروں) نے ہمیشہ رد کیا تھا وہ اسماعیلی تھے آخر میں اسی اسماعیلی نسل کے ایک فرد کو نبوت ملی، اور نبوت بھی اس شان کی کہ یہود ونصاری جو بھی اس سے ٹکرائے چورچور ہوکررہ گئے یسوع مسیح شہر یروشلم کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں کہ ” جب تک عالم بالا پر سے تم کو خوف کا لباس نہ ملے اس شہر میں ٹھیرے رہو۔ (لوقا 24:49) جب تک ہمارے حضور کا نزول اجلال نہ ہولیا تقدس شہریروشلم ہی کا قیام رہا اور اس کے بعد کعبہ (واقع شہر مکہ) کی جانب منتقل ہوا حضرت یحی (علیہ السلام) کے ظہور کے بعد ” جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے کیا تو ایلیاہ ہے اس نے کہا میں نہیں ہوں کیا تو وہ نبی ہے اس نے جواب دیا کہ نہیں “۔ (یوحنا 1: 19 ۔ 2 1) ” انہوں نے اس سے یہ سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے اور نہ ایلیاہ اور نہ وہ نبی تو پھر بتپسمہ کیوں دیتا ہے “۔ (یوحنا۔ 1:25) یہ صاف اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ علاوہ مسیح کے ایک اور نبی ” وہ نبی “ (النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معلوم ومعروف ہستی کا انتظار یہود کو عرصہ سے تھا۔ ” پس بھیڑ میں سے بعض نے یہ باتیں سن کر کہا بیشک یہی وہ نبی ہے اوروں نے کہا یہ مسیح ہے “۔ (یوحنا۔ 7:40) ثبوت مزید اس امر کا کہ علاوہ مسیح کے ایک اور نبی موعود (النبی۔ اس نبی “ ) کا انتظار ہورہا تھا۔ اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار (یا وکیل یا شفیع) بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ ( 14: 1) جب وہ مددگار (یاوکیل یا شفیع) آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا یعنی سچائی کا روح جو باپ کی طرف نکلتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا۔ ( 15:26) یہ ابد تک ساتھ رہنے والا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والابجز خاتم المرسلین کے جنہوں نے آکر حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تصدیق کی اور کون ہوسکتا ہے ؟ یہ حوالے ان نام نہاد ” اناجیل “ اربعہ کے تھے جو مسیحی کلیسا میں آج بھی مسلم ہیں باقی انجیل برنابا تو اس سے کہیں زیادہ اور کھلی ہوئی تصریحات سے لبریز ہے۔
221 ۔ یعنی اس کی شریعت تمام رسم و رواج اور سابق شریعتوں کی ناسخ اور ان پر حاکم ہے (آیت) ” یامرھم۔۔ عن المنکر “۔ چناچہ جیسا کہ ظاہر ہے شریعت اسلامی جامع ہے تمدن، معاشرت، اخلاق، سیاست، ہر شعبہ حیات میں انفرادی واجتماعی بہترین احکام وقوانین کی۔ (آیت) ” یحل الخآئث “۔ چناچہ اسلامی شریعت پر عمل کے بعد چناچہ اسلامی شریعت پر عمل کے بعد کسی بھی گندگی، پلیدی کا اثر باقی نہیں رہ سکتا۔
222 ۔ (دنیا آخرت دونوں میں) دنیا میں بہترین دستور حیات ونظام عمل کا مالک اور آخرت میں ہر طرح کی آسایش، فراغت سے مالا مال۔ اے ھم الفائزون بالمطلوب فی الدنیا والاخرۃ (کبیر) (آیت) ” النورالذی انزل معہ “۔ اس نازل شدہ نور سے مراد ہے قرآن وسنت وھوالقران وقیل الھدی والبیان والرسالۃ (کبیر)
Ayah 7:158223 ۔ جس میں استثناء نہ کسی قوم ونسل کا ہے نہ کسی ملک وزمانہ کا) آیت ایک محکم و روشن دلیل رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ پر ہے یعنی قرآن کی دعوت عالمگیر ہے، اس کی مخاطب ساری دنیا ہے نہ کہ عرب قوم، یاچھٹی یا ساتویں صدی مسیحی کی دنیا۔ (آیت) ” یایھا الناس “۔ اس طرز خطاب نے صراحت کردی کہ قرآن کے مخاطب سارے آدم زاد ہیں نہ کہ ان کا کوئی خاص ٹکڑا۔ (آیت) ” رسول اللہ الیکم “ اس نے ایک بار اور صراحت کردی کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ایک قاصد اور سفیر ہیں اور بس، نہ کہ اس کے مظہر یا اوتار، یا اس کے فرزند و رشتہ دار
224 ۔ یہ نہیں کہ بقاوحیات کے دیوتا وشنوجی ہوں اور موت واہلاک کے دیوتا شوجی۔ (آیت) ” لاالہ الا ھو “۔ یہ نہیں کہ معبود اعظم تو وہ ہے، اور چھوٹے بڑے دیوی، دیوتا اس کے ماتحت ہزاروں ہیں۔ نہیں بلکہ کسی دوسرے کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ معبود تو صرف وہی ایک اور اکیلا ہے۔ (آیت) ” الذی لہ ملک السموت والارض “۔ اس میں ایک لطیف اشارہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح خدائے اسلام کی ربوبیت والوہیت ہمہ گیر ہے، رسول اللہ ﷺ کی بھی دعوت عالمگیر ہے۔
225 ۔ ( اور انفرادی، اجتماعی، معاشی، معادی ہر قسم ونوعیت کی فلاح پاجاؤ) (آیت) ” رسولہ النبی “۔ رسول اور نبی دہری صفت لانے سے مقصود تاکید اور زور کلام ہے۔ رسول اور نبی کے درمیان فرق بھی متعدد بتائے گئے ہیں اور ان میں سے ایک فرق یہ ہے کہ نبی بشر کے لیے مخصوص ہے اور رسول ملائکہ کے لئے بھی عام ہے اسمان لمعنیین فان الرسول اخص من البنی وقدم الرسول اھتماما لمعنی الرسالۃ والا فمعنی النبوۃ ھو المتقدم (قرطبی) (آیت) ” الذی یؤمن باللہ وکلمتہ “۔ یہاں یہ بتادیا کہ خود اس رسول اشرف واکرم کے لئے یہ امر باعث شرف واکرام ہے کہ اس کا ایمان اللہ اور اس کے سارے کلاموں پر کامل ومحکم ہے۔ (آیت) ” کلمتہ “۔ یعنی جو وحی خدا ان پر نازل ہوئی اس پر اور اس کے سابق کی ساری وحیوں پر۔ اے ماانزل علیہ وعلی سائر الرسل علیھم السلام من کتبہ ووحیہ (روح)
Ayah 7:159226 ۔ یہود میں یہ وہی اہل حق واہل انصاف ہیں جو آگے چل کر ایمان لے آئے۔ قیل ھم الیہود الذین کانوا فی زمان الرسول علی الصلوۃ والسلام واسلموا (کبیر) (آیت) ” ومن قوم موسیٰ ۔ قوم موسیٰ “۔ قوم موسیٰ سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ (آیت) ” بہ یعدلون “۔ ضمیر الحق کی طرف ہے اور یعدلون یعنی حکم و فیصلہ میں انصاف کرتے ہیں۔ بہ ای بالحق ویعدلون بینھم فی الحکم (بیضاوی) قال الزجاج العدل الحکم بالحق (کبیر) (آیت) ” یھدون بالحق “۔ یعنی دوسروں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں۔ اے یدعون الناس الی الھدایۃ (قرطبی)
Ayah 7:160227 ۔ (اور ہر جماعت کا نگراں ایک ایک سردار کو مقرر کردیا) یہی مضمون سورة مائدہ میں بھی آیا ہے۔ (آیت) وبعثنا منھم الثنی عشرنقیبا “۔ توریت میں اسی سلسلہ میں ہے۔ ” یہ سب بنی اسرائیل کے بارہ فرقہ ہیں اور یہی ہے جو انکے باپ نے انہیں کہہ کے برکت دی۔ “ (پیدائش۔ 4 1:28) نیز (خروج 28:2 1) (آیت) ” اسباط امما “۔ اسباط یہاں بدل ہے۔ (آیت) ” اثنتی عشرۃ “ سے اور امما صفت ہے اسباط کی اسباطا بدل من اثنی عشر امما نعت للاسباط (قرطبی) امما بدل بعد بدل اونعت اسباط (بیضاوی) (آیت) قطعنھم “ یعنی انہیں اتنے گروہوں میں تقسیم کردیا۔ اے صیرنا ھم قطعا ای فرقا (کبیر)
228 ۔ حاشیے سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 7 کے تحت میں گزر چکے۔ (آیت) ” انبجست “۔ بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ یہ انفجرت کے معنی میں ہے اور انبج اس وانفجارمرادف ہیں اس قول پر آگے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یقال بجس الماء یبجس اونبجس اذا تفجر ھذا قول اھل اللغتہ (کبیر) اے انفجزت کما قال ابن عبا س) (روح) لیکن بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ انبج اس پانی کے تھوڑے تھوڑے نکلنے کو اور انفجار پانی کے جوش سے نکلنے کو کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں وجہ تطبیق یہ ہوگی کہ قرآن مجید نے یہاں جو انبجست کہا ہے یہ پانی نکلنے کی ابتداء کا ذکر ہے اور سورة بقرہ میں جو انفجرت ارشاد ہوا ہے وہاں آخر میں جوش و خروش سے جاری کرنے کا بیان ہے۔ قال اخرون الانبج اس خروج الماء بقلۃ والانفجار خروجہ بکثرۃ و طریق الجمع ان الماء ابتدا بالخروج قلیلاثم صار کثیرا وھذا الفرق مروی عن ابی عمرو بن العلاء (کبیر 9
229 ۔ حاشیے سورة بقرہ پارہ اول رکوع 6 کے تحت میں گزر چکے۔
230 ۔ (احکام الہی کی نافرمانی کر کرکے) مشرک جاہلی قوموں میں خدا سے موت خود کے لئے باعث مصیبت سمجھی گئی ہے۔ یہ اسی کی تردید ہے اور اس حقیقت کا بیان ہے کہ قانون الہی کے توڑنے سے خدا کا کیا نقصان ؟ نقصان تو انسان کا اپنا ہوتا ہے۔
Ayah 7:161231 ۔ حاشیے پارۂ اول سورة بقرہ، رکوع 6 میں گزرچکے۔
Ayah 7:162232 ۔ حاشیے سورة بقرہ، پارۂ اول، رکوع 6 میں گزر چکے۔
Ayah 7:163233 ۔ (اے پیغمبر) (آیت) ” وسئلھم “۔ میں ضمیر عہد رسول ﷺ کے معاصر یہود کی طرف ہے۔ ای واسئل الیہود الذین ھم جیرانک عن اخبار اسلافھم (قرطبی) (آیت) ” القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر “۔ حاشیے سورة البقرہ پارۂ اول رکوع 7 میں گزر چکے۔ (آیت) ” عن القریۃ “۔ القریہ سے مراد اھل القریۃ ہیں۔ ای عن اھل القریۃ (قرطبی)
234 ۔ (بلکہ وہاں سے کہیں اور نکل جاتیں) (آیت) ” حیتانھم “۔ یعنی ان کے سمندر کی مچھلیاں۔ (آیت) ” تاتیھم۔۔۔ شرعا “۔ یعنی وہ مچھلیاں سطح آب پر پانی سے سرنکال نکال کرنمودار ہوجاتی تھیں، اے شوارع ظاہرۃ علی الماء کثیرۃ (قرطبی)
235 ۔ یعنی اس سخت آزمائش میں وہ اسی لئے ڈالے گئے کہ وہ نافرمانیاں پہلے کرتے آرہے تھے، آزمائشیں حق تعالیٰ کے ہاں سے تو نافرمانوں اور فرماں برداروں دونوں کی ہوا کرتی ہیں لیکن جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے، اہل طاعت کی آزمائش لطف اور تائید اور توفیق سے مقرون ہوا کرتی ہے۔ بعض اہل علم نے آیت سے استدلال کیا ہے کہ احکام شریعت سے بچنے کے لیے حیلہ کرنا حرام ہے۔ واستدل بعض اھل العلم بقصۃ ھؤلآء المعتدین علی حرمۃ الحیل فی الدین (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جن حیلوں کا مشروع ہونا فقہاء وحکماء امت سے وارد ہوا ہے وہ احکام شرعی کی تعمیل کے لئے ہے نہ کہ ان سے بچنے کے لئے۔
Ayah 7:164236 ۔ (ان کے مسلسل جرائم کی پاداش میں) (آیت) ” اذ قالت امۃ “۔ یہ کہنے والے وہ لوگ تھے جو خود نیک کار تھے لیکن مجرموں کی اصلاح کی طرف سے مایوس ہوگئے تھے اور یہ کہا انہوں نے ان نیک کاروں سے جواب تک وعظ ونصیحت میں لگے ہوئے تھے۔
237 ۔ (اور اس خشیت الہی سے اپنی اصلاح کرلیں) (آیت) ” معذرۃ الی ربکم “۔ یعنی کم از کم اپنی صفائی تو ہم پیش ہی کردیں گے کہ ہم نے اپنی والی پند ونصیحت تو بہت کچھ کر ڈالی تھی، غرض یہ کہ ان مصلحین نے جواب دودیئے، ایک یہ کہ اپنے اوپر تو تلقین واتمام حجت کا بار نہ رہے۔ دوسرے یہ کہ شاید اب بھی یہ لوگ اصلاح قبول کرلیں، مفسرتھانوی (رح) نے فرمایا کہ جب نصیحت کے مؤثر ہونے کہ امید ہو بالکل نہ رہے تو نصیحت کرنا واجب نہیں رہتا گودلیل عالی ہمتی ہے۔ چناچہ اہل حق میں سے جنہوں نے (آیت) ’ لم تعظون “ کا سوال کیا انہوں نے بوجہ یاس فتوائے عدم وجوب پر عمل کیا اور جنہوں نے (آیت) ” معذرۃ الی ربکم “۔ سے جواب دیا انہوں نے یا تو یاس ہی نہیں ہوئی اور یا انہوں نے عالی ہمتی سے کام لیا اور دونوں فریقوں نے پورا پورا اجر پایا۔
Ayah 7:165238 ۔ عذاب الہی کی یہ خصوصیت بار بار بیان کرنے کے قابل ہے (بار بار اس لیے کہ لوگ اسے بھول بھول جاتے ہیں) کہ اس گنہگار اور بےگناہ سب نہیں صرف گنہگار ہی مبتلا کئے جاتے ہیں (آیت) ” انجینا الذین ینھون عن السوٓء “۔ جو لوگ راہ ہدایت پر قائم رہے اور اس کی تلقین دوسروں کو کرتے رہے۔ وہ عذاب الہی سے محفوظ رہے۔
Ayah 7:166239 ۔ مفصل حاشیہ سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 8 میں گزر چکا۔
Ayah 7:167240 ۔ اور یہ سزا دنیا میں اس قوم کی مسلسل نافرمانیوں اور گستاخیوں کی پاداش میں مقرر ہوئی ہے) اس کا مشاہدہ آج تک ( 1946 ء تک) ہورہا ہے جرمنی میں ابھی کل تک انپرجو قیامت برپارہی وہ اظہر من الشمس ہے۔ باقی یوں بھی بنی اسرائیل اس دنیا کے پردہ پر کسی خطہ وعلاقہ میں مطمئن نہیں، روس، برطانیہ، فرانس، امریکہ کوئی بھی ان کا دوست اور مخلص نہیں ہر ایک موقع پا کر انہیں پیس ہی ڈالنا چاہتا ہے اور مشہور عالم دولت و ثروت کے باوجود یہ قوم آج تک مقہور ہی چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” علیھم “۔ ضمیر ھم کس کی جانب ہے ؟ قول جمہور یہ ہے کہ اس سے عہد نبوی کے معاصر یہود مراد ہیں انہی کو یہ خبر پہنچا دینا مقصود ہے کہ اگر اب بھی ایمان نہ لائے تو بس حشر تک اس دنیا میں ذلت و خواری کے ساتھ نسلا بعد نسل رہنا ہے۔ قال الاکثرون ھذہ الایۃ فی الیھود الذین ادرکھم الرسول ﷺ ودعاھم الی شریعتہ وھذا اقرب (کبیر) لیکن خود سیاق قرآنی اس خیال کی تائید میں ہے کہ یہ وعید انہی قدیم سبت شکن یہود کو سنائی جارہی ہے کہ تم نے اگر اپنی اصلاح حال نہ کرلی تو قیامت تک محکومیت کے دنیوی عذاب میں مبتلا رکھے جاؤ گے۔ تو ریت کے بھی بعض بیانات اسی مضمون کے ملاحظہ ہوں :۔” اگر تم میرے سننے والے نہ وہ اور ان سب حکموں پر عمل نہ کرو۔ اور مجھ سے عہد شکنی کرو، تو میں بھی تم سے ایسا ہی کروں گا۔۔۔ اور میرا چہرہ تمہارے برخلاف ہوگا۔ اور تم اپنے دشمنوں کے سامنے قتل کئے جاؤ گے۔ اور جو تمہارا کینہ رکھتے ہیں تم پر حکومت کریں گے۔ (احبار 26: 14 ۔ 17) ” تیرے بیٹے اور عزیز بیٹیاں دوسری قوم کو دی جائیں گی، اور تیری آنکھیں دیکھیں گی، اور سارے دن ان کی راہ تکتے تکتے تھک جائیں گے۔ اور تیرے ہاتھ میں کچھ زور نہ ہوگا۔ (آیت) ” استثناء 28:32)
241 ۔ (تائبوں کے حق میں) بدکار نافرمان قومیں مایوس نہ ہوں۔ ان کے لیے اب بھی توبہ ورجوع کے بعد اللہ کے غفر و رحمت سے پوری طرح استفادہ کا موقع باقی ہے اور یہود کے لئے تو اس میں خاص بشارت کا اشارہ نکلتا ہے کہ اگر وہ اپنی اسلام دشمنی سے باز آگئے تو اللہ کی رحمت ان کی پوری دستگیری کو موجود ہے۔ (آیت) ” لسریع العقاب “۔ اس کی اس صفت کا ظہور صرف مجرموں اور عادی مجرموں کے حق میں ہوتا ہے۔
Ayah 7:168242 ۔ (اپنی مجرمانہ حرکتوں سے، اور ایمان و اطاعت کی طرف لوٹ آئیں) ای لیرجعوا عن کفرھم (قرطبی) یرید کے یتوبوا (کبیر) (آیت) ” بلونھم “۔ ضمیر جمع افراد کی طرف نہیں بلکہ مجموعا قوم یا امت کی طرف ہے۔ قومی خوشحالی کی مثالیں یہ ہیں کہ قوم معزز ہو، دولت مند ہو، صحیح، تندرست ہو، قومی بدحالی کی مثالیں یہ ہیں کہ قوم محکوم وماتحت ہو، ذلیل و ضعیف ہو، مفلس وتنگدست ہو، (آیت) ” بلونھم بالحسنت والسیات “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں مراد تو ظاہری ومادی تنگی وفراخی ہے لیکن بندہ کا ابتلا کبھی حسنات باطنی سے بھی کیا جاتا ہے۔ مثلا معاصی کے ہوتے ہوئے بھی ذوق ووجد حاصل ہوجاتا ہے اس سے بندہ کو دھوکا ہوتا ہے کہ میں حق پر ہوں حالانکہ وہ باطل پر ہوتا ہے تو اگر معصیت کے ساتھ بسط جمع ہوجائے تو وہ استدراج ہے اس سے دھوکانہ کھانا چاہیے۔ (آیت) ” لعلھم یرجعون “۔ اس میں اس کا اشارہ آگیا کہ ابتلاء بھی اصلاح ہی کی غرض سے تھا قال اھل المعانی وکل واحد من الحسنات والسیئات یدعوا الی الطاعۃ اما النعم فلا جل الترغیب واما النقم فلاجل الترھیب (کبیر) (آیت) ” قطعنھم فی الارض امما “۔ یعنی وہ قوم منتشر ومتفرق ہو کر زمین پر پھیل گئی اور مختلف حصوں میں آباد ہوگئی۔ اے فرقنا ھم فی البلاد (قرطبی) فرقنا ھم تفریقا شدیدا۔ (کبیر)
Ayah 7:169243 ۔ (اس کتاب آسمانی کے مضامین کے عوض میں) یہ بیان ہورہا ہے یہود کے کسب مال رشوت خواری و بددیانتی کا۔ پیسہ کے ایسے حریص ہیں کہ اپنی ہدایات آسمانی تک اس کے عوض میں بیچ ڈالتے ہیں حالانکہ ان کی شریعت اس باب میں اتنی سخت ہے کہ رشوت اور خیانت تو الگ رہی ہدیہ تک اس میں ممنوع ہے۔” تو ہدیہ نہ لینا کیونکہ یہ دنشمندوں کو اندھاکر دیتا ہے اور صادقوں کی باتوں کو پھیر دیتا ہے۔ (خروج 23:8) (آیت) ” خلف “۔ (بسکون لام) کے معنی نالایق وارث کے ہیں۔ المتاخر بقصور منزلتہ یقال لہ خلف (راغب) قال ابن الاعرابی الخلف بالفتح الصالح وبالجزم الطالح (قرطبی) فخلف بالاسکان فی الذم وخلف بالفتح فی المدح ھذا ھو المستعمل المشھور (قرطبی) قیل ان الا غلب فی خلف بتسکین العین انہ للذم (جصاص) (آیت) ” عرض ھذالادنی “۔ عرض کے لفظ سے مال کے مفہوم میں پہلو بےثباتی اور زود فنائی کا بھی آگیا۔ اور یہاں مراد رشوت سے لی گئی ہے۔ جو انہیں احکام دین میں تحریف پر ملتی تھی۔ وروی ان معناۃ الرشوۃ علی الحکم (جصاص) المراد ماکانوا یاخذونہ من الرشافی الاحکام علی تحریف الکلام (کبیر) (آیت) ” وان یتھم عرض مثلہ یاخذوہ “۔ یہ اشارہ یہود کی طمع غلیظ اور رشوت خواری وغیرہ کی جانب ہے۔ والاشارۃ فی ھذہ الایۃ الی الرشا والمکاسب الخبیثۃ (قرطبی) (آیت) ” یاخذون عرض ھذا الادنی “۔ یعنی اپنی طمع غلیظ کے آگے ہر سامان دنیوی پر گرے پڑتے ہیں العرض متاع الدنیا واخبرعنھم انہم یاخذون ما یعرض لھم من متاع الدنیا لشدۃ حرصھم ونھمھم (قرطبی) (آیت) ” بانھم “۔ میں ضمیر یہود مدینہ معاصرین رسول اللہ ﷺ کی جانب ہے۔ یعنی جیسے ان کے اسلاف مال حرام کے حرایص تھے ویسے ہی یہ بھی ہی۔ اے ان یات یھود یثرب الذین کانوا علی عہد النبی ﷺ عرض مثلہ یاخذوہ کما اخذ اسلافھم (قرطبی) (آیت) ” یقولون سیغفرلنا “۔ یہود کی اپنی نجات ومغفوریت پر گھمنڈ اپنے اسی غرور نسب وفخر نسل کی بناء پر تھا۔ پارۂ اول کی آیت (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ “۔ اور دوسری متقارب المعانی آیتوں کے ماتحت حاشیے گزر چکے۔ مفسر آلوسی (رح) بغدادی نے اس موقعہ پر جو کچھ لکھا ہے وہ اس قابل ہے کہ اس کو عبرت کے لیے ڈیڑھ سو سال کے بعد آج کے اہل ہند کے سامنے بجنسہ پیش کردیا جائے۔ ھذا حال کثیر من المتصوفۃ رأینا فانھم یتھافتون علی شھوات تھا فۃ الفراش علی النار ویقولون ان ذالک لایضرنا لانا واصلون۔ وحکی عن بعضھم انہ یا کل الحرام الصرف ویقول ان النفی والاثبات رافع ضررہ وھو خطا فاحش وضلال بین اعاذنا اللہ تعالیٰ من ذلک (روح) (ترجمہ) یہی حال ہمارے زمانے کے بہ کثرت صوفیہ کا ہے شہوات ولذات دنیوی پر پروانوں کی طرح گرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو مضر نہیں اس لیے کہ ہم واصل ہیں اور کسی کسی کی بابت تو یہ بھی سنا گیا ہے کہ وہ خالص حرام کھاتا تھا اور کہتا تھا کہ ذکر نفی و اثبات اس کے ضرر کو دفع کردیتا ہے۔ یہ لغزش صریح اور کھلی ہوئی گمراہی ہے۔ اللہ ہم سب کو سے محفوظ رکھے۔
244 ۔ توریت موجودہ کے صرف چند حوالے ملاحظہ ہوں :۔ ” تو ہر ایک بات پر جس کا حکم میں تمہیں دیتا ہوں دھیان رکھ کے عمل کیجیوتو اس سے زیادہ نہ کرنا اور نہ اس سے کم کرنا۔ “ (استثناء 12 :32) فقط تو مضبوط ہو اور خوب دل اوری کرنا تاکہ تو اس سب شریعت کے موافق جس کا میرے بندہ موسیٰ نے تجھ کو حکم کیا کہ دھیان کرکے عمل کرے اس سے دہنے یا بائیں ہاتھ کو مت پھرتا کہ تم ہر جگہ جہاں جہاں تو جاتا ہے کامیاب ہو۔ “ (یشوع 1:7) (آیت 9” میثاق الکتب “۔ اس ترکیب اضافی میں اضافت فی کے قائم مقام ہے یعنی المیثاق المذکور فی الکتاب۔ اے المیثاق المذکور فی الکتاب (کشاف) الاضافۃ بمعنی فی (جلالین)
245 ۔ (اس لیے کہ عقل سے ذرا بھی کام لیں تو یہ حقایق ان پر خود روشن ہو کر رہیں) (آیت) ” ودرسوا مافیہ “۔ یعنی یہ لوگ اس مضمون سے خوب واقف بھی ہوچکے ہیں۔ اور اس لیے ناواقفیت کا عذر بھی پیش نہیں کرسکتے۔ (آیت) ” الذین یتقون “۔ یعنی جو لوگ اللہ سے تقوی اور خشیت اختیار کئے رہتے ہیں۔ اور عقاید کفر و اعمال فسق سے پرہیز کئے رہتے ہیں۔
Ayah 7:170246 ۔ (چنانچہ جو لوگ اس معیار پر پورے اتر جاتے ہیں وہ یقیناً اپنا صلہ دنیا وآخرت دونوں عالموں میں پا کر رہتے ہیں۔ ) یہاں یہ بتلا دیا کہ اپنی اصلاح کے اہم ترین اجزاء یہ دو ہیں ایک کتاب آسمانی کے احکام کی تعمیل دوسرے نماز کی پابندی۔ (آیت) ” الذین یمسکون بالکتب “۔ اور ” کتاب “۔ میں رسول اسلام پر ایمان لانے کا حکم بھی درج ہے تو تمسک بالکتب بغیر اسلام کی حلقہ بگوشی کے ممکن نہیں۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے اس سیاق میں کھلی ہوئی مراد توریت سے ہے۔ ای بالتورۃ (قرطبی) (آیت) ” اقاموالصلوۃ “۔ اقامت صلوۃ کا حکم تو تمسک بالکتب میں شامل ہی ہے۔ پھر الگ سے جو اس کا تصریحا ذکر ہے تو وہ اس حکم کی عظمت خاص و امتیاز کے اظہار کے لیے ہے۔ اظھار العلو مرتبۃ الصلوۃ وانھا اعظم العبادات بعد الایمان (کبیر)
Ayah 7:171247 ۔ (جیسا کہ ہر صالح موحد قوم کو ہونا چاہیے) اس رفع طور پر حاشیے سورة البقرہ پارۂ اول رکوع 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” واذکروا مافیہ “۔ اور توریت میں اہم ترین تعلیم توحید کی تھی۔ (آیت) ” ظنوا “۔ ظن۔ یہاں گمان و خیال کے معنی میں نہیں علم ویقین کے معنی میں ہے۔ قال المفسرون اے علموا وایقنوا (کبیر) اے تیقنوا (بیضاوی)
Ayah 7:172248 ۔ (بقدر ضرورت انہیں سمجھ عطا کرکے) واقعہ عالم ارواح کا بیان ہورہا ہے۔ اوپر ذکر بنی اسرائیل کے میثاق توحید کا تھا۔ اور اس سے پہلے بھی بنی اسرائیل کو بار بار ان کا میثاق توحید یاد دلایا جاچکا ہے۔ اس پر سوال ہوسکتا تھا کہ اسرائیلی میثاق دنیا کی غیر اسرائیلی آبادی کے لیے کیونکر حجت بن سکتا ہے ؟ اب بیان اس کا ہورہا ہے کہ توحید کا عہد تو ساری نسل انسانی سے لیا جا چکا ہے اور توحید شناسی، توحید پرستی انسان کی فطرت میں راسخ کی جا چکی، اور بشر کی سرشت میں رچی جاچکی ہے۔ فطرت اگر مسخ نہیں ہوچکی ہے تو ایک خالق و رازق ومربی کا اعتراف ہر فطرت سلیم کا جزو ہے۔ ھی عامۃ لجمیع الناس لان کل احد یعلم انہ کان طفلا فغذی وربی وان لہ مدبرا وخالقا (قرطبی) (آیت) ” من ظھورھم ذریتھم “۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب پہلے پشت آدم (علیہ السلام) سے نسل آدم وجود میں آچکی ہے۔ من ظھورھم ترکیب میں من بنی ادم سے بدل اشتمال ہے۔ بدل اشتمال من قولہ من بنی ادم والفاظ الایۃ تقتضی ان الا خذانھا کان من بنی ادم۔ (قرطبی)
249 ۔ (اور ہم پر اس کی ذمہ داری ہی نہیں عاید ہوتی) (آیت) ” عن ھذا “۔ یعنی اس عقیدۂ ربوبیت اور عقیدۂ توحید سے (آیت) ” شھدنا “۔ یہ قول بلی کے تسلسل میں ذریت آدم ہی کی زبان سے ہے۔ شھدنا من بقیۃ کلام الذریۃ (کبیر) قال ابن عباس وابی بن کعب قولہ شھدنا ھو من قول بنی ادم (قرطبی) معنی یہ ہوئے کہ اعتراف توحید ان کے دل میں اتر گیا اور یہ نقش ان کی فطرت میں جم گیا۔ اے نصب لھم دلائل ربوبیتہ ورکب فی عقولھم مایدعوھم الی الاقرار بھا حتی صاروا بمنزلۃ من قیل لھم الست بربکم قالوا بلی فنزل تمکینھم من العلم بھا وتمکنھم منہ بمنزلۃ الاشھاد والاعتراف علی طریق التمثیل (بیضاوی) ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ (آیت) ” شھدنا “۔ کلام باری تعالیٰ ہے اور بلی کا تتمہ نہیں بلکہ مستقل عبارت ہے یعنی بنی آدم کے اس میثاق توحید پر حق تعالیٰ کی شہادت۔ ھو خبر من اللہ عن نفسہ وملائکتہ (ابن جریر عن السدی) وقد قیل ان قولہ شھدنا من قول اللہ تعالیٰ والملائکۃ والمعنی فشھدنا علی اقرارکم قالہ ابومالک وروی عن السدی ایضا (قرطبی) (آیت) ” قالوا بلی “۔ یہ اقرار خالق گویا ان پر واجب ہوگیا ہے۔ اے ان ذالک واجب علیھم (قرطبی) (آیت) ” ان تقولوا “۔ یعنی تاکہ کہیں یہ نہ کہنے لگو۔ ای کراھۃ ان تقولوا (بیضاوی)
Ayah 7:173250 ۔ یہاں قرآن نے گویا تصریح کردی کہ نسل انسانی کا اصل اور ابتدائی دین توحید ہے اور شرک بہت بعد کی پیداوار ہے۔” دانایان فرنگ “۔ ابھی چند سال ادھر کی بات ہے کہ زور دے دے کر اس کے برعکس کہہ رہے تھے کہ نسل انسانی کا ابتدائی دین شرک ہے، اور توحید تک تو انسان بہت بعد کو رفتہ ہی رفتہ پہنچا ہے، لیکن اب ان کے ماہرین فن (Ethnologists.) کی آنکھیں کھلی ہیں اور اب علانیہ اقرار ہونے لگا ہے کہ انسان کا ابتدائی دین توحید ہی تھا۔ ملاحظہ ہوں حاشیے انگریزی تفسیر القرآن کے۔
Ayah 7:174251 ۔ (دین توحید کی طرف اور باز آجائیں کفر وشرک سے)
Ayah 7:175252 ۔ ایسا کوئی شخص حقیقۃ سلف میں گزر چکا ہے۔ کون تھا ؟ کہاں کا تھا ؟ کب تھا ؟ یہ متعین نہیں اور جب قرآن اس بارے میں ساکت ہے تو کسی فرد کی تعیین پر اصرار صحیح ہی نہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ اشارہ رسول اللہ ﷺ کے معاصر امیہ بن ابی الصلت کی جانب ہے۔ وھو صاحبکم امیہ بن ابی الصلت (ابن جریر۔ عن ابن عمر) ایک گروہ کی رائے میں اشارہ عہد بنی اسرائیل کے مشہور زاہد بلعم باعور کنعانی کی طرف ہے ھو بلعم بن باعورا (ابن جریر عن ابن عباس ؓ رجل من بنی اسرائیل یقال لہ بلعم (ابن جریر، عن ابن مسعود ؓ) قال اخرون کان من الکنعانیین (ابن جریر) قال ابن مسعود ؓ وابن عباس ؓ ھو بلعام بن باعوراء (قرطبی) اسی بلعم باعور اء (قرطبی) اسی بلعم باعور کا ذکر توریت میں بھی ہے۔ (گنتی۔ باب 22 ۔ باب 23 ۔ باب 24) بہرحال اشارہ جس بھی فرد متعین کی طرف ہو اہل تحقیق کا اس پر اتفاق ہے کہ مثال عام ہے اور ہر اس شخص پر صادق آتی ہے کہ جو دین حق کی نعمت پاچکنے کے بعد پھر اس کا تارک ہوگیا ہو۔ قتادہ۔ عکرمہ۔ وغیرہ تابعین اور اکثر مفسرین کا مسلک یہی ہے۔ (آیت) ” واتل علیھم “۔ الخ، یعنی ایک ایسے شخص کا حال بہ طور مثال ونظیر پڑھ کر سنائیے۔ (آیت) ” الذی اتینہ ایتنا “۔ یعنی اسے اپنے احکام علم کی نعمت ہم نے عطاء کی تھی۔ (آیت) ” فانسلخ منھا “۔ یعنی اس نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی بلکہ تمردد سرکشی پر آمادہ ہوگیا۔ ضمیر ھا، ایات کی طرف ہے اے من معرفۃ اللہ تعالیٰ اے نزع منہ العلم الذی کان یعلمہ (قرطبی) فانسلخ من الایات (مدارک) (آیت) ” فاتبعہ الشیطن “۔ سو شیطان اس پر مسلط ہوگیا۔ انسان جب اپنے ارادہ سے فسق اختیار کرتا ہے تو شیطان لازمی طور پر اس سے مستقل رفاقت پیدا کرلیتا ہے۔ “ محدث طیبی نے لکھا ہے کہ جو شخص اس مثال میں غور کرے گا اس پر روشن ہوجائے گا کہ علماء سوء اس سے بھی ابتر حالت میں ہیں مال وجاہ دنیوی اور اس کی لذتوں میں کھپے ہوئے۔ عن الطیبی ان من تفکر فی ھذ المثل تحقق لہ ان علماء السوء اسوء واقبح من ذلک (روح)
Ayah 7:176253 ۔ یعنی بہرحال وبہر صورت اسے ان آیات پر عمل کی توفیق دیتے ہی رہتے۔ (آیت) ” لوشئنا “۔ یعنی اگر ہماری مشیت تکوینی یہی ہوتی کہ ہم بندہ کے ارادہ میں دخل دے کر اسے بہ جبر سیدھی راہ پر ڈال دیا کرتے۔ (آیت) ” لرفعنہ بھا “۔ بھا کے معنی بالعمل بھا کے کئے گئے ہیں۔ اے بالعمل بھا (قرطبی)
254 ۔ یعنی عقیدہ وعمل کا معیار بجائے وحی الہی کے اپنی ہوائے نفس کو بنالیا۔ (آیت) ” ولکنہ “۔ یعنی یہ قانون تکوینی تو ہم نے رکھا ہی نہیں۔ چناچہ (آیت) ” اخلد الی الارض “۔ وہ اپنے قصد واختیار سے دنیا کی پستیوں کی طرف جھک گیا، اے مال الی زینۃ الحیوۃ الدنیا وزھر تھا (ابن کثیر) رای الی شھوات الدنیا ورغب فیھا (بحر)
255 ۔ تشبیہ پریشانی وپریشان خاطری کے لحاظ سے ہے، یعنی ایسے شخص کو راحت کسی حال میں بھی نہیں۔ پریشانی، ذلت اس کے نصیب میں دائمی طور پر آگئی۔ کفر و ارتداد پر جو یہاں ذلت و پریشانی کو مرتب فرمایا گیا، تو آخرت میں اس کا تحقق ظاہر ہی ہے۔ دنیا میں بھی اگر قلب کو ٹٹولا جائے تو اہل حق کی سی عزت و راحت نصیب نہیں ہوتی خصوصا ارتداد کی حالت میں ھذا المثل فی قول کثیر من اھل العلم بالتاویل عام فی کل من اوتی القرآن فلم یعمل بہ وقیل ھو فی کل منافق (قرطبی)
256 ۔ یہاں یہ صاف کردیا کہ مقصود کسی فرد متعین کی تاریخ یا سیرت کو سنانا نہیں بلکہ کل منکرین، مکذبین، مرتدین کی حالت پر آگاہ کرنا اور اس سے عبرت دلانا ہے۔ اے ھو مثل جمیع الکفار (قرطبی)
Ayah 7:177257 ۔ آیات الہی کی تکذیب سے شامت زدہ انسان نقصان کسی اور کا نہیں، خود اپنا ہی کرتا ہے۔ اسی حقیقت کا یہاں ایک بار پھر اعادہ ہے۔
Ayah 7:178258 ۔ اور اللہ کا کسی کو بےراہ کرنا خود بہ خود نہیں ہوگا۔ بلکہ بندہ کے قصد ضلالت پر محض نتیجہ کے طور پر مرتب ہوگا۔
Ayah 7:179259 ۔ یعنی ایسے لوگ پیدا کئے ہیں جو نہ قصد اور طلب ہدایت کی کریں گے۔ اور نہ ہدایت انہیں نصیب ہوگی اس لیے لامحالہ انکا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔ حق تعالیٰ کی طرف اس فعل کا انتساب محض تکوینی حیثیت سے یعنی بہ طور العلل کے ہے نہ یہ کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہی یہ ہے۔ (آیت) ” لجھنم “۔ میں ل عاقبت کا ہے یعنی ان کی غرض آفرینش یہ نہیں بلکہ وہ اعمال ایسے اختیار کریں گے جس کا نتیجہ یہ ہو کر رہے گا۔ واللام للعاقبۃ عند الکثیر (روح) توریت وانجیل، دونوں میں یہ مضمون وارد ہوا ہے :۔ ” شریر ہلاکت کے دن کے لیے رکھ چھوڑا گیا ہے۔ “ (ایوب 2 1:30) ” خداوند نے ہر ایک چیز اپنے لئے بنائی ہاں شریروں کو بھی اس نے برے دن کے لیے بنایا۔ (امثال 16:4) یہ لوگ بےعقل جانوروں کی مانند ہیں جو پکڑے جانے اور ہلاک ہونے کے لیے حیوان مطلق پیدا ہوئے ہیں۔۔۔ اپنی خرابی میں خود خراب کیے جائیں گے۔ “ (2 پطرس 2: 12) ۔
260 ۔ یعنی عقل سے کام لینے میں اور فکر آخرت رکھنے سے بےپروارہتے ہیں۔ (آیت) ” بل ھم اضل “۔ کیونکہ چوپائے تو ہدایت کے مکلف ہی نہیں یہ مکلف ہونے پر بھی اس قدر بےتوجہ ہیں۔ جو لوگ انسان انسان کو بلاقید کفر واسلام مساوی سمجھتے ہیں وہ دیکھیں کہ قرآن نے کافر کا درجہ مراتب انسانیت میں کتنا پست رکھا ہے کہنا چاہیے کہ اسے دائرہ انسانیت ہی سے خارج کردیا ہے۔ (آیت) ” لھم اعین لا یبصرون بھا ولھم اذان لایسمعون بھا “۔ یعنی یہ لوگ دل، آنکھ اور کان سے حق کے سوچنے سمجھنے حق کے دیکھنے بھالنے، حق کے سننے سنانے کا کبھی کام ہی نہیں لیتے۔ (آیت) ” اولئک کالانعام “۔ ایک مضمون توریت میں اس سے ملتا جلتا ہوا ملتا ہے :۔ بیل اپنے مالک کو پہچانتا ہے اور گدھا اپنے صاحب کی چرنی کو۔ بنی اسرائیل نہیں جانتے یہ لوگ کچھ نہیں سوچتے۔ (یسعیاہ۔ 1:3) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت کا مدلول لفظی تو یہ ہے کہ غفلت عن اللہ سبب ہوتی ہے دوزخ کا۔ لیکن مدلول قیاسی یہ ہے کہ غفلت عن اللہ سبب بن جاتی ہے شہوات وحرص دنیا کے جہنم کی۔ جیسا کہ ذکر الہی سبب بن جاتا ہے دنیا میں جنت قناعت وانوار کا۔ اور یہ دونوں مشاہدات دنیا میں برابر ہوتے رہتے ہیں۔
Ayah 7:180261 ۔ (آیت) ” وذروالذین یلحدون فی اسمآۂ “۔ یعنی جو لوگ اللہ کے اسماء وصفات میں الحاد سے کام لیتے رہتے ہیں انہیں چھوڑ رہو۔ ایسوں سے بالکل بےتعلق رہو لیکن خود الحاد فی الاسماء کیا چیز ہے ؟ الحد کے لفظی معنی کجروی کے یا انحراف کے ہیں۔ اور یلحدون فی اسماۂ کے دو پہل وہیں ایک یہ کہ جو صفات موصوف میں نہ موجود ہوں، یا جو اس کے مرتبہ کے خلاف ہوں، انہیں اس کی جانب منسوب کردیا جائے، دوسرے یہ کہ جو صفات اس موصوف میں ہوں، ان میں خواہ مخواہ دوسروں کو شریک کرلیاجائے، والالحاد فی اسماۂ علی وجھین احدھما ان یوصف بما لا یصح وصفہ بہ والثانی ان یتأول اوصافہ علی ما لا یلیق بہ (راغب) یہاں ممانعت دونوں چیزوں کی ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کو اس کے کمالات سے خالی سمجھو اور نہ اس کے کمالات میں دیوی، دیوتاؤں اپنے من گھڑت معبودوں کو شریک کرو۔ (آیت) ” للہ الاسمآء الحسنی “۔ اللہ کے اسماء حسنی اس کے صفات کمال کے حامل ہیں۔ اور یہ وہ مخصوص نام ہیں جن کا اسماء الہی ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ یونان وغیرہ کے بعض مشرک فلسفیوں کا قول ہے کہ ذات الہی کی نہ کوئی صفت ہے اور نہ کوئی اس کا نام۔ اکابر یہود بھی اس مہمل فلسفہ سے متاثر ہوگئے تھے۔ یہاں ان کی تردید بھی مدنظر ہے۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ الاسماء الحسنی سے مراد صفات کمالیہ بھی ہی۔ المراد بھا الالفاظ وقیل الصفات (بیضاوی)
Ayah 7:181262 ۔ یعنی ہماری مخلوق میں سب کے سب ہی گمراہ نہیں۔ ایک جماعت اہل حق کی بھی ہے۔ جو دوسروں کی دین حق کے مطابق ہدایت کرتی رہتی ہے اور خود بھی بندوں کے ساتھ معاملات میں اسی قانون حق کے ماتحت برتاؤ کرتی رہتی ہے۔
Ayah 7:182263 ۔ پھر جب ان لوگوں کو آخری منزل جہنم معلوم ہوگئی تو ان کی ظاہری فلاح سے یا مادی چمک ودمک سے دھوکا کھانا ہی کیا معنی ؟ (آیت) ” سنستدرجھم “۔ یعنی چپکے چپکے انہیں جن ہم کی طرف لیے جارہے ہیں۔ (آیت) ” من حیث لایعلمون “۔ یعنی انہیں اصل منزل مقصود کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اور اپنی شامت سے ہمیشہ دوسرے اسباب کے الجھاوے میں پڑے رہتے ہیں۔
Ayah 7:183264 ۔ اور خدائی تدبیر کی مضبوطی یہی ہے کہ کافروں کو ڈھیل ملتی چلی جاتی ہے۔ اعمال موجب عذاب پر عذاب دنیوی معا نہیں نازل ہوجاتا۔ اور گرفت فورا نہیں ہوتی۔ مجرم کو یہ غرہ ہوجاتا ہے کہ کوئی گرفت کرنے والا نہیں اور اس لیے جرأت عصیاں اور بڑھتی جاتی ہے۔
Ayah 7:184265 ۔ (منکروں کو کہ جو قانون الہی کی نافرمانی کریں گے۔ وہ عذاب الہی کے مستحق قرار پائیں گے) (آیت) ” اولم یتفکروا “۔ اشارہ ارسول اللہ ﷺ کے معاصر منکرین کی طرف ہے، صاحبھم “۔ یعنی تمہارے ہر وقت کے ساتھی رسول اللہ ﷺ جن کے مزاج و سیرت واوضاع واطوار اخلاق ومعاملات کی تم ہر طرح جانچ وپڑتال کرسکتے ہو۔ (آیت) ” مابصاحبھم من جنۃ “۔ یعنی شائبہ جنون ہونا تو کجا وہ تو ایسے ایسے کارناموں اور کمالات کے مالک ہیں کہ ایک دنیا ان پر دنگ رہ گئی ہے۔ اور کمال ہے تمہیں کہ تم انہیں مجنون قرار دیئے چلے جارہے ہو !
Ayah 7:185266 ۔ (کہ اس غوروفکر سے انہیں توحید کا علم استدلالی حاصل ہوجاتا)
267 ۔ کہ اس مراقبہ استحضار موت سے احتمال عذاب سے ڈرتے اور اس سے بچنے کی فکر کرتے) ۔
268 ۔ (کہ سب سے زیادہ مؤثر وبلیغ کلام تو یہ ہے) بعدہ میں ضمیرہ قرآن مجید ہی کی طرف ہے۔
Ayah 7:186269 ۔ (اور گرفت ہمیشہ فورا ہی نہیں کرتا) (آیت) ” من یضلل اللہ “۔ اللہ کی طرف سے یہ اضلال، جیسا کہ بارہا پہلے آچکا ہے، بندہ کے عدم طلب ہدایت کے نتیجہ کے طور پر ہوتا ہے۔
Ayah 7:187270 ۔ (علم وواقفیت کے لیے نہیں، بلکہ تمسخر و استہزاء کی راہ سے) منکرین کے اس سوال میں سنجیدگی ذرا بھی نہ ہوتی۔ محض تمسخر مقصود ہوتا۔ کانوا یسئلون عن وقت الساعۃ استبعادا لوقوعھا وتکذیبا لوجودھا (ابن کثیر)
271 ۔ اور وہ ظاہر کرنا یہی ہے کہ قیامت واقع ہو کر رہے گی) التجلیۃ اظھار الشیء (قرطبی) (آیت) ” علمھا “۔ یعنی اس کے وقت وقوع کا تفصیلی علم، (آیت) ” انما “۔ اس کلمہ حصر نے صاف کردیا کہ اس علم میں کوئی بھی مخلوق، نبی ہو یا فرشتہ باری تعالیٰ کا شریک نہیں۔ انجیل تک میں یہ قول موجود ہے :۔ اس دن اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا، نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ (متی 24:36) (آیت) ” ایان “۔ حتی کے معنی میں ہے۔ متی کے معنی میں بھی لیا گیا ہے۔ عبارۃ عن وقت الشیء ویقارب معنی متی (راغب)
272 ۔ جاہل منکرین حشر کے استدلال میں ترتیب مقدمات یہ تھی کہ جب آپ رسالت کے مدعی ہیں تو علم غیب بھی آپ کو ضرور ہی ہوگا اور جب علم غیب ہے، تو وقوع قیامت کا تفصیلی علم بھی آپ کے لیے لازمی ہے۔ اس لیے اگر یہ علم نہیں رکھتے تو آپ کا دعوائے رسالت بھی صحیح نہیں کھلی ہوئی غلطی اس استدلال میں یہ تھی کہ غیب دانی کو کوئی جزومنصب رسالت کا فرض کرلیا گیا تھا۔ (آیت) ” کانک حفی عنھا “۔ وقت قیامت کے علم کی یہ مکرر اور تاکیدی نفی ان تمام ظنی وتخمینی معلومات کی تردید وتغلیط کررہی ہے۔ جو دنیا کی مدت عمر سے متعلق عوام میں کبھی کسی اور کبھی کسی کے حوالہ سے مشہور ہوتے رہتے ہیں۔ فی ھذہ الایۃ دلیل علی بطلان قول من یدعی العلم ببقاء مدۃ الدنیا (جصاص) (آیت) ” ولکن اکثر الناس لایلمون “۔ یعنی اتنی موٹی بات بھی نہیں جانتے کہ وقت قیامت کا تفصیلی علم ہرگز لازمہ نبوت نہیں (آیت) ” ثقلت فی السموت والارض “۔ یعنی وہ ایسا پر ہیبت وعظیم الشان واقعہ ہے کہ آسمان و زمین کوئی بھی اس کی برداشت کی قوت نہیں رکھتے، سب اس وقت ٹوٹ پھوٹ کر رہیں گے۔ قال قتادۃ وغیرہ المعنی لاتطیقھا السموت والارض لعظمھا (قرطبی)
Ayah 7:188273 ۔ (اور جس امر میں اس کی مشیت مجھے اختیار دینے کی متقضی نہیں ہوئی، اس میں ہر بشر کی طرح میں بھی بالکل عاجز وبے بس ہوں)
274 ۔ لیکن چونکہ میرا علم کامل و محیط نہیں اس لئے نفع تکوینی کے بہت سے مواقع ہاتھ سے جاتے ہی رہتے ہیں) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ نص ہے اس باب میں کہ قدرت مستقل اور علم محیط مقبولین سے بھی منفی ہیں اور جہلاء اپنے مشائخ سے کس کس طرح اس کا گمان رکھتے ہیں۔
275 ۔ (حالانکہ تکوینی حیثیت سے مجھے بھی مضرتیں حسب مشیت الہی واقع ہوتی رہتی ہیں) پیغمبر بھی کبھی بیمار پڑتے ہیں، کبھی مالی نقصان اٹھاتے ہیں۔ وقس علی ہذا۔ اور یہ امور ان کے کمال نبوت میں ذرا بھی قادح نہیں ہوتے۔
276 ۔ (تو اس لیے میں علوم شرعی اور احکام شرعی سے تو خوب بہرہ ور کردیا گیا ہوں باقی امور تکوینی کے علم کامل کی توقع ہی مجھ سے کیوں کی جاتی ہے ؟ ) ۔
Ayah 7:189277 ۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے۔ نہ کہ متعدد مورثوں سے۔ قال جمھور المفسرین المراد بالنفس الواحدۃ ادم (قرطبی) (آیت) ” خلقکم “۔ میں ضمیر نوع انسان کی جانب ہے، یعنی کل نسل انسانی ایک ہی ابو البشر کی اولاد میں ہے۔ یہ نہیں کہ مختلف قوموں، نسلوں قبیلوں کے مورث اعلی بھی الگ الگ ہوں۔
278 ۔ یعنی حضرت حوا کو۔ (آیت) ” منھا “۔ ضمیر نفس کی طرف بالکل ظاہر ہے لیکن خود نفس سے مراد جنس بھی لی جاسکتی ہے اور لی گئی ہے۔ قیل یرید بہ الجنس (جصاص) والمراد خلق من النوع الانسانی زوجۃ ادم والمقصود التنبیہ علی انہ تعالیٰ جعل زوج ادم انسانا مثلہ (کبیر) ای من جنسھا (روح) ملاحظہ ہو پارہ 4 سورة النساء کی آیت اول۔
279 ۔ گویا عورت کی پیدایش کی غرض ہی یہ ہے کہ مرد اس سے راحت و سکون حاصل کرے اور (آیت) ’ لیسکن الیھا “۔ کے عموم کے تحت میں مادی، روحانی، دماغی، جسمانی، ہر قسم کی راحتیں آگئیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ ضمنا یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ مقصود آفرینش اصلا مستقلا مرد ہے اور عورت تو گویا مرد کے لیے ہے۔ اور ایک تبعی حیثیت رکھتی ہے۔
280 ۔ اب ابوالبشر وام البشر کے قصہ سے گزر کر مرد وزن کی عام خلقت کا بیان شروع ہوگیا۔ خاص سے عام کی جانب التفات قرآن مجید کا ایک عام اور پسندیدہ اسلوب بیان ہے۔ (آیت) ” فلما تغشھا “۔ کنایہ مباشرت سے ہے۔ کنایۃ عن الوقاع (قرطبی) اے جامعھا والغشیان اتیان الرجل المراۃ (کبیر)
281 ۔ (اور ادائے حقوق توحید کریں گے) (آیت) ” فلما اثقلت “۔ یعنی جب عورت کا پیٹ بھاری ہونے لگتا ہے اور طرح طرح کے مشکلات و خطرات کا سامنا شروع ہوجاتا ہے۔
Ayah 7:190282 ۔ آیت کے اندر شرک کی ساری قسمیں آگئیں۔ (آیت) ” جعلا “۔ کی ضمیر تثنیہ کس کی جانب ہے ؟ بعض اس طرف گئے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) وحوا مراد ہیں۔ لیکن قول محقق یہ ہے کہ بنی آدم میں سے ہر نفس اور زوج نفس مراد ہیں بعض تابعین سے بھی یہی منقول ہے۔ قال الحسن وقتادۃ الضمیر فی جعلا عائد الی النفس وزوجہ من والد ادم لا الی ادم وحواء (جصاص) جعل الزوج والزوجۃ للہ شرکاء (کبیر۔ عن القفال) امام رازی (رح) نے قفال کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ قصہ بہ طور تمثیل کے مشرکین کی عام حالت کو بیان کررہا ہے اور اس تفسیر کو بہت ہی پسند فرمایا ہے۔ ھذا جواب فی غایۃ الصحۃ والسداد (کبیر) اور محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت میں ضمیر کو آدم (علیہ السلام) وحوا (علیہما السلام) کی طرف راجع کرنے کی کوئی تائید نہ قرآن سے ملتی ہے نہ حدیث صحیح سے اور نہ ایسے قصہ پیغمبروں کے لائق ہیں۔ لم تثبت فی قران ولا حدیث صحیح فاطر حت ذکرھا (بحر) وامثال ذالک لا تلیق بالانبیاء (بیضاوی)
Ayah 7:191283 ۔ اس میں مورتیوں بت، عناصر طبعی وغیرہ سارے ہی معبودان باطل آگئے۔
Ayah 7:192284 ۔ مشرکوں کی کمال، حماقت دکھائی ہے کہ ایسوں کے آگے جھکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ جو کسی کو تو پیدا کیا کرتے خود اپنے پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ بلکہ اپنی پیدائش تک کے لئے دوسرے ہی کے تمام تر محتاج ہیں۔ دوسری آیت میں ترقی کرکے ارشاد ہوا ہے کہ اتناہی نہیں بلکہ تخلیق الگ رہی وہ تو امداد تک پر قادر نہیں۔ نہ کسی دوسرے کی نہ خود اپنی ہی ! حیرت اور کمال حیرت ہے کہ ایسی بےبس ہسیتوں کو معبود کے درجہ پر رکھا جائے !
Ayah 7:193285 ۔ (آیت) ” تدعوھم الی الھدی “۔ کے ایک معنی تو یہی ہیں کہ اگر تم انہیں اس غرض سے پکارو کہ یہ تمہیں کوئی راہ بتلائیں تو تمہارا کہنا یہ نہ کرسکیں۔ یعنی راہ نہ بتلا سکیں۔ اور دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ اگر تم انہیں اس لئے پکارو کہ تم انہیں راہ دکھلادو تو یہ تمہارے کہنے پر نہ چلیں یعنی ہدایت پر عمل نہ کرسکیں۔ (آیت) ” تدعوھم “۔ میں خطاب مشرکین سے ہے اور ضمیر ھم اصنام کی جانب ہے۔ قیل الخطاب للمشرکین وھم ضمیر الاصنام (بیضاوی)
Ayah 7:194286 ۔ (لیکن وہ جواب کہاں دے پاتے ہیں ؟ اور یہی ایک بات تمہارے دعوے کو بدیہی البطلان بنا دینے کے لئے کافی ہے) (آیت) ” عباد امثالکم “۔ یہ مثلیت ومشابہت انسان اور ان دیوتاؤں کے مخلوق ہونے اور بےبس وبے اختیار ہونے میں ہے۔ قال الحسن فی کونھا مملوکۃ اللہ وقال التبریزی فی کونھا مخلوقۃ (بحر) اے مماثلۃ لکم من حیث مملوکۃ للہ تعالیٰ مسخرۃ لامرہ عاجزۃ عن النفع والضر (روح) من حیث انھا مملوکۃ مسخرۃ (بیضاوی) اشارہ ہے جاہلی قوموں کے دیوتاؤں، سورج، چاند، زہرہ مشتری، آکاش دیوتا وغیرہ کی جانب۔ (آیت) ” ان کنتم صدقین “۔ اگر تم سچے ہو۔ ان کے معبود ورب ہونے کے باب میں۔ توریت میں بعل پرستوں اور بعل کے نبیوں کے سلسلہ ذکر میں ہے :۔” انہوں نے وہ بیل جو انہیں د یا گیا تھا لیا اور اسے تیار کیا اور صبح سے دوپہر تک بعل کا نام لیاکئے کہ اے بعل ہماری سن، پر کچھ آواز نہ ہوئی اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا۔ اور وہ اس مذبح پر جو بنا تھا کو دا کئے اور دوپہر کو ایسا ہوا کہ ایلیاہ ان پر ہنسا اور بولا، بلندآواز سے پکارو کیونکہ وہ تو ایک خدا ہے، شاید وہ باتیں کررہا ہے یا خلوت میں ہے یا کہیں سفر میں ہے اور شاید کہ وہ سوتا ہے۔ سو ضرور ہے کہ وہ جگایا جائے ( 1 ۔ سلاطین 18:26، 27) (آیت) ” تدعون “۔ میں دعاء سے مراد ان بتوں کو معبود قرار دینا اور فادعوھم میں دعاء سے مراد ان سے طلب نفع ودفع ضرر چاہنا ہے۔ عنی بالدعاء الاول تسمیتھم الاصنام الھۃ۔ والدعاء الثانی طلب المنافع وکشف المضار من جھتھم (جصاص) تدعون اے تعبدونھم وتسمونھم الھۃ (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ نداء غیر اللہ بہ طور استغاثہ آیت کی رو سے ناجائز ثابت ہورہی ہے۔