7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 7:120–122

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور ساحر سجدے میں گر پڑے۔

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

(اور) بولے کہ ہم تو ایمان لے آئے (سارے) جہانوں کے پروردگار پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

(وہی جو) پروردگار ہے موسیٰ اور ہارون کا157

157 ۔ یعنی ہم تو شرک و مخلوق پرستی کے گورکھ دھندے سے نکل آئے۔ ہم نے دین توحید اختیار کرلیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی ہم تصدیق کررہے ہیں۔ ساحروں کو اب اس کا احساس ہوگیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جو کچھ ہے وہ سحر وطلسم سے کہیں بلند تر کوئی اور ہی چیز ہے۔ اور اسی احساس نے انہیں سجدے میں گرایدیا۔ (آیت) ” سجدین “۔ لازمی نہیں کہ سجدہ یہاں اصطلاحی معنی میں ہو، ہوسکتا ہے کہ جادوگروں کا محض جھک جانا اور اطاعت اختیار کرلینا مراد ہو۔ وحمل السجود علی الخضوع ای انھم خضوا (روح)
Ayah 7:123

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون بولا تم ایمان لے آئے بغیر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ہو نہ ہو یہ ایک چال ہے جو شہر میں تم چلے ہو تاکہ تم اس (شہر) سے یہاں والوں کو نکال دو ،158 ۔ سو تم کو ابھی (حال) معلوم ہوا جاتا ہے

158 ۔ (اور موسیٰ وہارون (علیہما السلام) سے سازش کرکے اپنی حکومت قائم کرلو) قبل سے مراد ہمیشہ پیشتر ہی نہیں ہوتا۔” بغیر “۔ بھی مراد ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں آیا ہے۔ (آیت) ” لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی “۔ (کہف) یا اس حدیث میں وارد ہوا ہے۔ اللھم ارزقنی عینین ھطالتین تسقیان القلب بذروف الدمع من خشیتک قبل ان تکون الدموع دم والا ضر اس جمرا۔
Ayah 7:124

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں تمہارے ہاتھ اور تمہارے پیر الٹی طرف سے کاٹے دالتا ہوں پھر تم سب کو سولی پر ٹانک کر رہوں گا،159 ۔

159 ۔ سولی کی سزا قدیم قوموں خصوصا قدیم مصریوں میں عام تھی ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” من خلاف “۔ مثلا داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور داہنا پاؤں۔
Ayah 7:125

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

وہ بولے (خیر) ہم اپنے پروردگار ہی کے پاس لوٹیں گے،160 ۔

160 ۔ (تو اس سزا اور موت سے ہمیں ڈراتا کیا ہے ؟ ) اللہ اللہ، ایمان باللہ بھی ذہن کے اندر کیسا انقلاب برپا کردیتا ہے۔ یہ ساحر وہی ہیں کہاں تو ابھی اپنا کمال فن دکھانے کے لیے مال وجاہ، انعام واکرام کے طالب تھے۔ اور کہاں اب سر فروشی پر بےتکلف آمادہ ہوگئے۔
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو ہمیں کیوں سزا دے رہا ہے، بجز اس کے کہ ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان لے آئے جب وہ ہم تک پہنچیں اے ہمارے پروردگار ہمارے اوپر صبر (کے مشکیزے) انڈیل دے اور ہماری جان اسلام پر نکال،161 ۔

161 ۔ خاتمہ بالخیر کی دعا کرتے رہنا خاص شیوۂ مومنین ہے۔ (آیت) ” ربنا افرغ علینا صبرا “۔ یعنی ہم کو صبر سے اتنا بہرہ ور کر کہ ہم ہر سختی پر ثابت قدم رہیں۔ باوجود کمال عزم وہمت اپنے عزم وہمت پر تکیہ نہ کرنا اور اللہ ہی سے مدد چاہے جاناخاص شعار مومنین ہے۔
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے سردار بولے کیا آپ مسوسی (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو (یوں ہی) چھوڑے رہیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلاتے پھریں اور موسیٰ (علیہ السلام) آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑے رہیں،162 ۔ وہ بولا (نہیں جی) ہم ابھی ان کے لڑکوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے، اور ہم ان پر (ہر طرح) غالب ہی ہیں،163 ۔

162 ۔ یعنی آپ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی آزادی برابر دیئے رہیں گے کہ وہ خوب آپ کی، آپ کے دین کی، آپ کے دیوتاؤں کی جتنی چاہیں توہین کریں اور موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم اسرائیل سلطنت میں انقلاب وبغاوت پھیلاتے رہیں ؟ (آیت) ” یذرک۔ لیفسدوا “۔ میں ابھی ابھی ضمیر جمع غائب کی گزر چکی ہے اب ضمیر واحد غائب کی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ گویا ملکی انقلاب میں تو ساری قوم اسرائیل شریک اور مجرم ہے باقی مذہبی بغاوت کے کرتادھرتا موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (آیت) ” الھتک “۔ فرعون خود تو سورج دیوتا کا اوتار تھا ہی۔ اور اس کے علاوہ بھی مصر کے دین شرک میں بہت سے دیوی دیوتا موجود تھے۔ 163 ۔ (سو جو انتظام ہم کرنا چاہیں بےتکلف کرسکتے ہیں) (آیت) ” سنقتل ابنآء ھم ونستحی نسآء ھم “۔ یعنی ہم پھر وہی طریقے انسداد شروفساد کے اختیار کریں گے جو ولادت موسیٰ (علیہ السلام) سے قبل کرچکے ہیں۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ (ہی) کا سہار رکھو اور صبر کئے رہو زمین اللہ ہی کی ہے وہ جس کو چاہیں اپنے بندوں میں سے اس کا مالک بنا دیں اور انجام کار خدا سے ڈرنے والوں ہی کے ہاتھ رہتا ہے،164 ۔

164 ۔ (سودنیوی عارضی حاکمیت ہرگز کوئی معیار مقبولیت وحقانیت کا نہیں) یہاں یہ اہم حقیقت صاف ہوگئی کہ حکومت کا کوئی لازمی تعلق مقبولیت سے نہیں۔ بلکہ یہ مصالح تکوینی کے تابع ہے نہ یہ ضرور ہے جو حاکم ہے وہ مقبول ہی ہو، اور نہ یہ ضرور ہے کہ جو مقبول ہے وہ حاکم ہی ہو۔ محکومیت، مقبولیت کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے۔ دونوں کے درمیان منافات نہیں۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

(وہ لوگ) کہنے لگے ہم تو تمہارے آنے سے قبل بھی مصیبت میں رہے اور تمہارے آنے کے بعد بھی،165 ۔ (موسی (علیہ السلام) نے) کہا کہ عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور تم کو زمین کا حاکم بنا دے گا پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسا عمل کرتے ہیں،166 ۔

165 ۔ بنی اسرائیل کے اس شکوہ سے متعلق ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” قالوا “۔ کے فاعل یعنی یہ کہنے والے بنی اسرائیل ہی تھے۔ 166 ۔ (اور اپنے فرائض خلافت ارض کہاں تک انجام دیتے ہو) سو دیکھنے اور فکر رکھنے کی اصل چیز انسان کے اپنے اعمال ہیں نہ کہ انسان کا موقف تکوینی (آیت) ” فی الارض “۔ ارض کا لفظ عام ہے۔ مخصوص ارض مصر ہی مراد نہیں شام فلسطین کہیں بھی بنی اسرائیل کا آزاد وخود مختار حاکم ہوجانا اس وعدہ کے ایفاء وتحقیق کے لئے کافی ہے عسی۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی میں شک واحتمال نہیں رہتا بلکہ یقین اور وعدہ پیدا ہوجاتا ہے۔ عسی من اللہ واجب (قرطبی) عن ابن عباس کل عسی فی القران فھی واجبۃ الافی موضعین (ابوالبقاء) (آیت) ” عسی۔۔۔۔ فی الارض “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیۃ اس پر دلالت کررہی ہے کہ کافروں کا مغلوب اور مومنوں کا غالب ہونا ایک نعمت عظیم ہے۔ پس ترک دنیا کے یہ معنی نہیں کہ مومن کافروں کے ہاتھ میں بلاکسی عذر ومجبوری کے ذلت و خواری کے ساتھ پڑا رہے۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون والوں کو قحط سالی میں اور پھلوں (کی پیداوار) کی کمی میں پکڑا تاکہ وہ تنبیہ حاصل کریں،167 ۔

167 ۔ یہ اس وقت پیش آیا جب فرعون اور فرعونی حکومت کی طرف سے انکار ومخالفت بڑھتی ہی گئی (آیت) ”’ بالسنین “۔ سنین۔ سنۃ۔ کی جمع ہے جس کے معنی محض سال کے ہیں لیکن محاورۂ زبان میں اس کا اطلاق قحط والے سال پر ہوتا ہے اور وہی یہاں مراد ہے یعنی الجدوب وھذا معروف فی اللغۃ (قرطبی) عبارۃ عن الجدب و اکثر ما یستعمل فی الحول الذی فیہ الجدب (راغب) (آیت) ” لعلھم یذکرون “۔ غایب اس نافرمان و سرکش قوم کے ابتلاء کی بھی اس کی اصلاح ہی تھی۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

لیکن جب ان پر خوشحالی آتی تو کہتے یہ تو ہمارے لئے ہی ہے اور اگر انہیں بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتاتے،168 ۔ سنو جی ! ان کی نحوست تو بس اللہ ہی کے علم میں ہے لیکن ان میں سے اکثر (اتنی موٹی بات بھی) نہ جانتے،169 ۔

168 ۔ (بجائے اس کے کہ اسے اپنی تکذیب و بدعملی کا نتیجہ سمجھ کرتائب ہوتے اور ان واقعات و حوادث سے عبرت کا سبق حاصل کرکے اپنے اصلاح کرتے) (آیت) ” فاذا جآء تھم الحسنۃ قالوا لنا ھذہ “۔ یعنی اسے تمام تر اپنی خوش بختی خود تدبیری پر محمول کرتے۔ بجائے اس کے کہ اسے اللہ کی طرف سے نعمت سمجھ کر توحید وطاعت کی راہ اختیار کرتے۔ 169 ۔ یعنی یہ بدبخت اپنی بدنصیبیوں اور محرومیوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے سر تھوپتے حالانکہ یہ موٹی سی بات ہے کہ ان کے اعمال کفریہ اللہ پر روشن تھے۔ اور ان کی دنیوی محرومیاں انہی اعمال کفریہ کا وبال تھیں۔ انماسبب شؤمھم عند اللہ وھو عملھم المکتوب عندہ (کشاف)
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم کیسا ہی نشان ہمارے سامنے لاؤ جس سے ہم کو مسحور کرنا چاہو ہم تو تم پر ایمان لانے کے نہیں،170 ۔

170 ۔ جب حق کے مقابلہ میں ضد وعناد حد سے بڑھ جاتا ہے اور انسان ہر صورت میں مخالفت ہی کی ٹھان لیتا ہے تو اس مسخ شدہد ذہنیت میں مبتلا ہو کر ہر سیدھی سی سیدھی بات اور صاف سی صاف دلیل سے اسی طرح انکار کرسکتا ہے۔ بجنسہ یہی ذہنیت جاہلین عرب کی دین محمد ﷺ کے عناد میں رہی اور جاہلین فرنگ کی آج تک چلی آرہی ہے۔ سیرت نبوی ﷺ کے روشن سے روشن اور پاکیزہ سے پاکیزہ واقعات کو اس طرح توڑ مروڑ کر کے پیش کرنا۔ الٹے سے الٹے نتیجہ نکالنا یہ خاص الخاص جو ہر آج کے ” روشن خیال محققین فرنگ “ کے ہیں۔ مھما اصل ما مکرر سے مرکب ہے۔ پہلا ما شرطیہ اور دوسرا ما تاکید کے لیے ہے پھر تکرار کے ثقل سے بچنے کے لئے پہلے ما کا الف ہ سے بدل دیا گیا ہے۔ اصلھا ما الشرطیہ ضمت الیھا ما المزیدۃ للتاکید ثم قلبت الفھا ھاء استثقالا للتکریر (بیضاوی) خلیل نحوی اور نحوئین بصرہ کی تحقیق یہی ہے۔ ھذا قول الخلیل والبصریین (کبیر)
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر بلانازل کی اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون (یہ سب) جداجدا نشان تھے،171 ۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی (عادی) مجرم،172 ۔

171 ۔ (قہر خداوندی کی بھی اور صداقت موسوی کے بھی) توریت کی کتاب خروج باب 7 ۔ 8 ۔ 9 ۔ کی مختلف آیتوں میں ان میں سے اکثر عذابوں کا ذکر موجود ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن الجراد۔ ٹڈیوں نے مصریوں کی زراعت کو برباد کردیا (آیت) ” القمل “۔ مصریوں کے کپڑوں اور جسموں میں یہ گندے کیڑے لپٹ گئے۔ (آیت) ” الضفادع “۔ مینڈکوں کی ہر جائی افراط نے مصریوں پرکھانا، پانی سب حرام کردیا۔ (آیت) ” الدم “۔ دریائے نیل مصریوں کے حق میں خونیں ہوگیا تھا۔ (آیت) ” الطوفان “۔ عربی میں طوفان ہر شدید وملک گیر حادثہ ابتلاء کو کہتے ہیں۔ الطوفان کل حادثۃ تحیط بالانسان (راغب) قال الزجاج الطوفان من کل شیء ماکان کثیرا محیطا مطبقا بالقوم کلھم (کبیر) توریت میں ذکر آتشیں ذالہ باری (اولوں میں لپٹی ہوئی آگ) کا آتا ہے (خروج۔ 9:23 ۔ 27) ہوسکتا ہے کہ الطوفان سے اشارہ اسی جانب ہو۔ عام طور پر مفسرین نے اس سے مراد موت یا وبائی مرض لیا ہے۔ الطوفان ھو الموت (کبیر عن ابن عباس ؓ قیل الجدری وقیل الطاعون (بیضاوی) وجاء من عطاء و مجاھد تفسیرہ بالموت (روح) ۔ 172 ۔ (کہ اتنے کھلے عجائب قدرت دیکھ کر بھی قائل نہ ہوئے)
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر کوئی عذاب آپڑتا تو کہتے کہ اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو جس کا اس نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے،173 ۔ اگر تم ہم پر سے (اس) عذاب کو ہٹا دو تو ہم ضرور تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم تمہارے ہمراہ بنی اسرائیل کو کردیں گے،174 ۔

173 ۔ کہ ہمارے تائب ہوجانے پر وہ اپنے قہر کو ہم سے ہٹا لے گا) بما میں ماء الذی کے معنی میں ہے بمعنی الذی ای بما استودعک من العلم (قرطبی) 174 ۔ یہ مضمون توریت کی متعدد آیتوں میں ملتا ہے مثلا :۔ تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو بلایا اور کہا کہ خداوند سے شفاعت کرو کہ مینڈکوں کو مجھ سے اور میری رعیت سے دفع کرے۔ اور میں ان لوگوں کو جانے دوں گا تاکہ وہ خداوند کے لئے قربانی کریں۔ (خروج 8:8) تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو بلوایا اور انہیں کہا کہ اس دفعہ میں نے گناہ کیا ہے۔ خداوند عادل ہے میں اور میری قوم گنہگار ہیں۔ خداوند سے شفاعت کرو (کہ بس) کہ آگے کو اس طرح سے نہ گرجے اور اولے نہ گریں تب میں تمہیں جانے دوں گا اور تم اس سے آگے یہاں نہیں رہنے کے (خروج 9:27 ۔ 28) تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو جلد بلایا اور کہا کہ میں خداوند تمہارے خدا کا اور تمہارا گنہگار ہوں سو اب میں تمہاری منت کرتا ہوں فقط اس مرتبہ گناہ بخشوا اور خدا وند اپنے خدا سے شفاعت کرو کہ فقط اسی موت کو مجھ سے دور کرے۔ (خروج 10: 16 ۔ 17)
Ayah 7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم ان سے عذاب کو اسی مدت تک کے لیے ہٹا دیتے جس تک انہیں پہنچنا تھا تو وہ فورا ہی عہد شکنی کرنے لگتے،175 ۔

175 ۔ یعنی جب جب وہ عذاب عارضی طور پر ان سے ٹل جاتا تو معا ان کی وہ سرکشی ونافرمانی پھر لوٹ آتی۔ توریت میں یہ مضمون بار بار آیا ہے۔ مثلا :۔ جب فرعون نے دیکھا کہ مہلت ملی تو اس نے اپنا دل سخت کیا اور جیسا خداوند نے کہا تھا ان کی نہ سنی۔ (خروج 8:5 1) فرعون نے اس بار بھی اپنادل سخت کیا۔ اور لوگوں کو ہرگز جانے کی رخصت نہ دی (خروج 8:32) اس مضمون کی آیتیں کتاب خروج کے باب 7 ۔ 8 ۔ 9 میں بار بار آئی ہیں باب 1 1 میں آتا ہے :۔ اور موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے یہ عجائب فرعون کو دکھائے اور خداوند نے فرعون کے دل کو سخت کردیا کہ اس نے اپنے ملک سے بنی اسرائیل کو جانے نہ دیا (خروج۔ 1 1: 10) (آیت) ” الی اجل ھم بلغوہ “۔ یعنی اس وقت کے لئے جو علم الہی میں ان کی ہلاکت کیلئے مقرر تھا۔ اے الی اجل معین (کبیر)
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

غرض ہم نے انہی سزا دے دی اور انہیں سمندر میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کی طرف سے (بالکل ہی) غفلت میں پڑے رہتے تھے،176 ۔

176 ۔ غرق فرعون پر مفصل حاشیہ سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 6 کی تفسیر میں گزر چکے۔ (آیت) ” انتقمنا “۔ انتقام کے معنی محاورۂ عرب میں عذاب سے کسی نعمت کو سلب کرلینے کے ہیں۔ الانتقام فی اللغۃ سلب النعمۃ بالعذاب (کبیر) (آیت) ” فاغرقنھم فی الیم “۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ عقوبت دنیوی کبھی معصیت پر بھی مرتب ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین “۔ اس میں تصریح کردی کہ سزا کی بناء ان لوگوں کی تکذیب آیات الہی اور ان کی طرف سے اعراض تھا۔ (آیت) ” عنھا “۔ میں ضمیر ایات کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ اور نقمت کی طرف بھی (آیت) ” فانتقمنا “ َ کا مدلول ہے۔ الکنایۃ عائدۃ الی الایات وھو اخیتار الزجاج (کبیر) قیل انھا عائدۃ الی النقمۃ (کبیر) (آیت) ” غفلین “۔ غفلت سے یہاں وہ کیفیت قلب مراد نہیں جو انسان کے اختیار کے باہر ہے بلکہ اعراض اختیاری مراد ہے۔ المراد بالغفلۃ ھنا الاعراض الایات وعدم الالتفات الیھا فھم اعرضوا عنھا حتی صاروا کا لغافلین (کبیر) فانتقمنا میںاس پر دلالت کررہی ہے کہ یہ سزا انہیں مسلسل گستاخانہ عہد شکنیوں کے بعد دی گئی۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھ لیے گئے تھے اس سرز میں کے پچھم اور پورب کا مالک بنا دیا جس میں ہم نے برکت رکھ دی ہے،177 ۔ اور آپ کے پروردگار کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں صبر کی بنا پر پورا ہو کر رہا اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم نے تیار کیا تھا اور جو جو اونچی (عمارتیں) بنائی تھیں ان (سب) کو ہم نے مل یا میٹ کردیا،178 ۔

177 ۔ (ظاہری وباطنی، مادی، وروحانی دونوں قسم کی) (آیت) ” مشارق الارض ومغاربھا التی برکنا فیھا “۔ یعنی سرزمین شام جس کی آبادیاں دریائے یردن کے مشرقی ومغربی دونوں ساحلوں پر ہیں۔ المراد بارکنا فیھا بالخصب وسعۃ الارزاق وذالک لایلیق الابارض الشام (کبیر) (آیت) ” القوم الذین کانوا یستضعفون “۔ ظاہر ہے کہ مراد بنی اسرائیل ہیں۔ علاقہ شام پر بنی اسرائیل کا پورا قبضہ چند نسلوں بعد حضرت داؤد حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے زمانہ میں ہوا۔ 178 ۔ (آیت) ” ماکان یصنع “۔ سے مراد عمارتیں ہیں۔ یرید المصانع (کبیر۔ عن ابن عباس ؓ ماکانوا یعملون ویسورون من العمارات وبناء القصور (کشاف) (آیت) ” وما کانوا یعرشون “۔ سے بھی مراد وہی اونچی عمارتیں ہیں۔ قال ابو عبیدۃ یبنون (راغب) یرفعون الابنیۃ المشیدۃ فی السماء (کبیر) یہ فرعون مغروق اپنے شوق تعمیرات کے لئے تاریخ میں مشہور بھی ہوا ہے وما کانوا یعرشون کے دوسرے معنی فرعون کے لگائے ہوئے باغ اور چمن بھی ہوسکتے ہیں۔ ای ماکانوا یعرشون من الجنات (کبیر) (آیت) ” کلمت ربک الحسنی “۔ میں وعدہ نیک، فرعون کی غلامی سے آزادی حاصل ہونے اور خود مختاری کا تھا۔ ومعنی تمام الکلمۃ الحسنی انجاز الوعد الذی تقدم باھلاک عدوھم واستخلافھم فی الارض (کبیر) (آیت) ” بما صبروا “۔ یعنی یہ مرتبے جو کچھ حاصل ہوئے انہیں صبر ہی کی بنا پر نصیب ہوئے۔ انما حصل ذالک التمام بسبب صبرھم (کبیر)
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتار دیا پھر وہ ایسے لوگوں پر گزرے جو اپنے بتوں کو لیے بیٹھے تھے (اس پر بنی اسرائیل) کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لئے بھی ایک دیوتا ایسا ہی بنا دیجیے جیسے ان کے (یہ) دیوتا ہیں (موسی (علیہ السلام) نے) کہا واقعی تم لولوں میں بڑی جہالت ہے،179 ۔

179 ۔ کہ توحید جیسی بےنظیر نعمت سے مشرف ہو کر بت پرستی جیسی لعنت پر گرتے ہو) (آیت) ” وجوزنا ببنی اسرآء یل البحر “۔ یعنی جب بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو عبور کرکے جزیرہ نمائے سینا میں قدم رکھ چکے۔ اس پر حاشیہ سورة بقرہ رکوع 6 میں گزر چکا۔ (آیت) ” قوم یعکفون علی اصنام لھم “۔ یہ قوم ممکن ہے کہ عمالقہ کی ہو اور ممکن ہے کہ بنی لخم ہو۔ بہرحال تھی کوئی بت پرست قوم (آیت) ” اجعل لنا الھا “۔ بنی اسرائیل کی اس بیہودہ فرمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید پرستی ان کے دل میں بالکل ہی نہیں اتری تھی اور جیسے وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ معبود سازی اپنے اختیار وانتخاب کی چیز ہے اور قومی سردار ورہبر کے بس میں ہے کہ وہ جب اور جیسے چاہیے اپنی قوم کے لیے معبود قرار دیدے عجب نہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب (آیت) ” انکم قوم تجھلون “ میں اس جانب بھی اشارہ ہو کہ تمہاری سمجھ میں اتنی موٹی سی بات ہی نہیں آتی ! کیا معبود ٹھیرا دینا میرے یا کسی کے اختیار کی بات ہے ؟
Ayah 7:139

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں وہ تباہ ہو کر رہے گا اور یہ جو کچھ کررہے ہیں ہے بھی (بالکل) باطل،180 ۔

180 ۔ یعنی ان کا یہ شغل بت پرستی بجائے خود بھی باطل ہے اور انجام کار اس کے حق میں خدائے قادر وقدوس کی طرف سے تباہی و بربادی بھی ہے۔ تم آخر کیا ایسوں کی تقلید کی طرف جارہے ہو ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل باطل کے ساتھ تشبہ تو دنیوی عادات میں بھی مذموم ہے چہ جائیکہ رسول عبادت وغیرہ میں !
Ayah 7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) کہا کیا میں اللہ کے سوا کسی (اور) کو تمہارا معبود تجویز کردوں درآنحالیکہ وہ تم کو دنیا جہان والوں پر فضلیت دے چکا ہے،181 ۔

181 ۔ (بہ حیثیت علمبردار توحید کے) حضرت (علیہ السلام) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ شرک تو کسی قوم کے لیے کسی حال میں بھی جائز نہیں چہ جائیکہ تمہارے لیے جو شروع توحید کے حامل اور علمبرداربنا کر بھیجے گئے ہو۔ افضیلت بنی اسرائیل پر حاشیے سورة بقرہ، پارۂ اول رکوع 5، 6، میں گزر چکے۔
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی تھی جو تم کو سخت عذاب میں ڈالے ہوئے تھے تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے، اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے لیے تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی،182 ۔

182 ۔ ان سب واقعات پر حاشیے سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 6 میں گزر چکے۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے وعدہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس شعبوں کا پھر ان کا تکملہ دس (اور راتوں) سے کیا سو موسیٰ (علیہ السلام) کے پروردگار کی مدت چالیس شب کی پوری ہوئی،183 ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور اصلاح کرتے رہنا اور مفسدین کی روش نہ چلنے لگنا،184 ۔

183 ۔ ان چالیس شبوں پر حاشیے سورة بقرۂ پارہ اول رکوع 6 میں گزر چکے، اب وقت وہ ہے کہ قوم بنی اسرائیل مصر سے نکل کر آزاد خود مختار ہوچکی ہے اور اب اس قوم کے لئے ایک دستور شریعت نازل ہونے کو ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کو لینے کے لیے کوہ طور پر طلب کئے گئے ہیں پہاڑ پر ایک چلہ کی مدت کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خاص ریاضتوں کے ساتھ قیام کیا۔ (آیت) ” لیلۃ “۔ میں دن اور رات دونوں شامل ہیں۔ اور لفظ (آیت) ” لیلۃ “۔ ہی سے استنباط کیا گیا ہے کہ شریعت میں معتبر تاریخ کا وہی حساب ہے جو بجائے دن کے رات سے کیا جائے دلت الایۃ علی ان التاریخ یکون باللیالی دون الایام (قرطبی) اور جو تقویم قمری حساب سے قائم ہوگی اس میں رات کی یہ اہمیت ویسی ہی قدرتی ہے جیسی تقویم شمسی میں دن کی اہمیت (آیت) ” اربعین لیلۃ “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہی عدد اصل ہے صوفیہ کے ہاں چلہ کی جس کی برکتیں مشاہد ہیں۔ 184 ۔ (جیسا کہ مجھے اپنے وسیع ترتجربہ کی بنا پر حق حاصل ہے کہ تمہیں اپنی غیر حاضری کے زمانہ کے لئے انتظامی امور میں مفصل احکام وہدایت دے جاؤں) (آیت) ” اخلفنی فی قومی “۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) تو خود نبی تھے۔ ان کی یہ جانشینی بہ حیثیت نبی نہیں، بہ حیثیت اعلی سردار قوم کے تھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انہیں نبوت کی جانشینی سونپ کر نہیں جارہے ہیں بلکہ بہ حیثیت نائب سردار اپنا جانشین بنا رہے ہیں اور اسی کے متعلق ہدایات بھی دے رہے ہیں۔ یہ نیابت وخلافت اسی طرح کی تھی جیسے نبی کریم ﷺ جب مدینہ سے باہر کسی غزوہ وغیرہ میں جاتے تو انتظامی امور کی باگ کبھی حضرت علی ؓ کے، کبھی حضرت ابن ام مکتوم ؓ کے اور کبھی کسی اور صحابی کے ہاتھ میں دے جاتے اس کو خلافت نبوت سے کوئی تعلق نہیں۔ (آیت) ” اخلفنی فی قومی “۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں اصل ہے شیوخ کے اس عمل کی کہ مریدوں کو اپنے خلفاء کے سپرد کردیتے ہیں۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وقت (موعود) پر آگئے اور ان سے ان کا پروردگار ہم کلام ہوا،185 ۔ موسیٰ (علیہ السلام) بولے اے میرے پروردگار مجھے اپنے کو دکھلادیجیے (کہ) میں آپ کو ایک نظر دیکھ لو۔186 ۔ (اللہ نے) فرمایا تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے البتہ تم (اس) پہاڑ کی طرف دیکھو، سو اگر یہ اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی دیکھ سکوگے،187 ۔ پھر جب ان کے پروردگار نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو (تجلی نے پہاڑ کو) ریزہ ریزہ کردیا،188 ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے،189 ۔ پھر جب انہیں افاقہ ہوا تو بولے تو پاک ہے میں تجھ سے معذرت کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں،190 ۔

185 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے جناب باری سے ہم کلامی کا یہ دوسرا موقع ہے۔ ایک بار اس سے قبل عطائے نبوت کے وقت کوہ طور پر ہی اس شرف سے مشرف ہوچکے تھے گو اس وقت کلام اس حد تک بےواسطہ اور براہ راست نہیں ہوا تھا جیسا کہ (آیت) ” نودی من شاطیء الواد الایمن “۔ سے اشارہ ہورہا ہے۔ (آیت) ” لمیقاتنا “۔ میں ل، اختصاص کا ہے۔ ای لوقتنا الذی وقتناہ واللام للاختصاص (روح) 186 ۔ (اپنی انہی مادی آنکھوں سے) ایک پیغمبر جلیل القدر کی زبان سے یہ درخواست بجائے خود اس امر کی دلیل ہے کہ رویت باری مادی آنکھوں سے عقلا محل وممتنع نہیں۔ (آیت) ” ارنی انظر الیک “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول فرط اشتیاق سے مغلوب ہو کر تھا۔ 187 ۔ اصل درخواست کا جواب (آیت) ” لن ترنی “۔ پر ختم ہوگیا۔ یعنی اس ناسوتی دنیا میں اپنی مادی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے ہو اور یہ جواب اس ناسوت میں رؤیت باری کے امتناع شرعی کی دلیل ہے گویا بہ طور اصول کے یہ حقیقت بتا دی گئی کہ انسان اپنی ترکیب جسمانی کے اعتبار سے ضعیف البنیان ہے۔ اس کے قوائے ظاہری اس عالم عنصری میں رؤیت جمال باری کی تاب نہیں لاسکتے۔ اصل جواب تو وہی ختم کہو گیا آگے مزید شفقت وکرم سے ایک موقع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عملی تجربہ اور اطمینان قلب کا اور دیا جارہا ہے۔ اور ارشاد ہورہا ہے کہ اچھا دیکھو پہاڑ جو ظاہری ومادی اعتبار سے انسان سے کہیں زیادہ قوت رکھتا ہے۔ اس پر ہم اپنی تجلی کی ایک جھلک ڈالے دیتے ہیں۔ اگر وہ اسے برداشت کرلے گیا تو تمہارے لیے بھی برداشت کرنا ممکن ہوگا۔ پیغمبر بھی آخر جسمانی قوی وہی رکھتا ہے جو دوسرے انسان رکھتے ہیں۔ 188 ۔ (اور اس سے یہ عیانا ظاہر ہوگیا کہ بصر بشری میں رؤیت جمال باری کا تحمل نہیں) (آیت) ” جعلہ دکا “۔ ضمیر ۂ سے مراد پہاڑ کا وہ ٰخاص حصہ ہے جس پر بہ اختیار خود تجلی فرمائی گئی تھی۔ (آیت) ” تجلی ربہ للجبل “۔ یعنی جو حجابات نور خداوندی کو بہ ارادہ خداوندی آج نظر خلائق سے محجوب کئے ہوئے ہیں وہ پہاڑ کے حق میں کسی قدر اور کسی حد تک مرتفع کردیئے گئے۔ 189 ۔ (اپنے سے جسما کہیں قوی تر پہاڑ کی یہ حالت مشاہدہ کرکے) حضرت کی غشی کی وجہ اغلبا یہ ہوئی کہ محل تجلی (پہاڑ) سے آپ بھی گونہ تعلق وتلبس رکھے ہوئے تھے۔ 190 ۔ (ذاتی تجربہ کے بعد تیرے اس ارشاد پر کہ ” مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے “۔ (لن ترانی) بانک لاتری فی الدنیا لوعدک السابق فی ذلک (قرطبی) (آیت) ” فلما افاق “۔ یعنی جب آپ کے ہوش بجا ہوئے۔ (آیت) ” الافاقۃ رجوع العقل والفھم الی الانسان بعد ذھابھما عنہ (روح) (آیت) ” سبحنک “۔ یعنی تو پاک اور منزہ ہے۔ اس سے کہ عالم ناسوت میں انسانی حاسۂ بصر کی گرفت میں آسکے۔ (آیت) ” تبت الیک “۔ یعنی اپنی اس مشتاقانہ وبے تابانہ درخواست پر معذرت کرتا ہوں۔ قال مجاھد من مسألۃ الرؤیۃ فی الدنیا (قرطبی) یہ خیال رہے کہ تو بہ ہمیشہ معصیت ہی سے نہیں ہوتی۔ ہر نامناسب درخواست سے بھی ہوسکتی ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔ واجمعت الامۃ علی ان ھذہ التوبۃ ما کانت من معصیۃ (قرطبی) مذہب اہل سنت میں رؤئت باری اس دنیا میں عقلا بالکل جائز ہے۔ صرف شرعا ممتنع ہے۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں انسانوں پر اپنی پیامبری اور اپنے کلام کے ذریعہ سے ممتاز کیا،191 ۔ سو اب لو جو کچھ میں نے تم کو عطا کیا ہے اور شکر گزاروں میں سے رہو،192 ۔

191 ۔ (سو تمہارے لیے یہ امتیازات خاصہ کچھ کم ہیں ؟ ) (آیت) ” برسلتی وبکلامی “۔ دونوں کے درمیان عطف مغایرت لاکرگویا ادھر بھی اشارہ کردیا کہ رسول اور کلیم دو مختلف منصبوں کے نام ہیں۔ اور ہر رسول کے لئے کلیم ہونا لازمی نہیں۔ 192 ۔ (بہ خلاف اپنی ناشکری قوم کے) (آیت) ” مااتیتک “۔ کے عموم میں رسالت ہم کلامی اور شریعت توریت سب آگئے۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو تختیوں پر ہر چیز لکھ دی نصیحت اور تفصیل ہر چیز سے متعلق،193 ۔ تو انہیں قوت کے ساتھ پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کے اچھے اچھے (احکام) کو لازم کرلیں،194 ۔ عنقریب میں تم لوگوں کو نافرمانوں کا مقام دکھا دوں گا،195 ۔

193 ۔ یعنی مسائل و احکام دین سے متعلق ہر ضروری تفصیل ان میں درج کردی گئی۔ (آیت) ” من کل شیء “۔ سے ساری دنیا کی چیزیں مراد نہیں بلکہ وہی ومسائل دین مراد ہیں۔ ای ممایحتاج الیہ فی دینہ من الاحکام (قرطبی) ولا شبھۃ فیہ انہ لیس علی العموم بل المراد من کل مایحتاج الیہ موسیٰ وقومہ فی دینھم (کبیر) من یہاں مزیدہ ہے نہ کہ تبعیضیہ من مزید لاتبعیضیۃ (روح) (آیت) ” لہ “۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے۔ (آیت) ” الالواح “۔ انہی لکھی ہوئی تختیوں کا نام توریت پڑا۔ اجمال کی کسی قدر تفصیل خود توریت میں ہے :۔ اور موسیٰ پھر کر پہاڑ سے اتر گیا اور شہادت کے دونوں تختے اس کے ہاتھ میں تھے اور وہ تختے لکھے ہوئے تھے دونوں طرف ادھر اور ادھر لکھے ہوئے تھے اور وہ تختے خدا کے کام سے تھے اور جو لکھا ہوا سو خدا کا لکھا ہوا اور ان پر کندہ کیا ہوا تھا۔ (خروج 32: 15) (آیت) ” موعظۃ وتفصیلالکل شیء “۔ جارومجرور سے بدل ہے یعنی مواعظ و تفصیل احکام میں سے ہر چیز وبدل من الجارو والمجرور اے کتبنا لہ کل شیء من المواعظ و تفصیل الاحکام والی ھذا ذھب غیر واحد من المعربین (روح) 194 ۔ یعنی اس کے سارے احکام کو، کہ اچھے تو اس کے سب ہی احکام ہیں۔ (آیت) ” خذھا بقوۃ “۔ یعنی اے موسیٰ (علیہ السلام) کوشش واہتمام کے ساتھ ان پر عمل کرو۔ 195 ۔ (اے قوم اسرائیل) خطاب ابھی صیغۂ واحد میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا اب صیغہ جمع میں امت موسوی سے ہورہا ہے۔ (آیت) ” الفسقین “۔ سے مراد سرکش وبے دین عمالقہ ہیں۔ جو اس وقت تک ارض کنعان پر قابض تھے۔ (آیت) ” ایۃ “ کو بشارت کے معنی میں بھی لیاجاسکتا ہے کہ عنقریب تمہیں تمہارے دشمنوں کے ملک پر قابض ومالک کو دیا جائے گا۔ ای سیورثھم ارض اعداءھم ودیارھم (کبیر) اور عبرت کا پہلو بھی نکل سکتا ہے کہ تم اپنے دشمنوں کے ملک میں داخل ہوگے۔ ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو گے چناچہ قتادہ تابعی سے یہی معنی مروی ہیں۔ فادخلکم الشام واریکم منازل الکافرین الذین کانوا متوطنین فیھا من الجبابرۃ والعمالقۃ لتعتبروابھا (کبیر)
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو پھرا ہوا ہی رکھوں گا جو روئے زمین پر ناحق تکبر کرتے رہتے ہیں،196 ۔ اور اگر یہ ساری نشانیاں (بھی) دیکھ لیں جب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھ لیں تو اسے (اپنا) راستہ بنالیں یہ (ساری برگشتگی) اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان کی طرف سے اپنے کو غافل رکھا،197 ۔

196 ۔ (اور دنیا میں تکبر کا حق کسی کو بھی نہیں پہنچتا اس لیے تکبر جہاں کہیں بھی ہوگا ناحق ہی ہوگا) یعنی ایسے لوگ قصدا راہ کبر وانانیت اختیار کئے ہوئے ہیں، انہیں کبھی بھی قبول حق کی توفیق نہ ہوگی اور یہ برابر راہ حق سے برگشتہ ہی رہیں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کو تکوینی طور پر قبول حق پر مجبور کردیا جائے۔ (آیت) ” بغیر الحق “۔ یعنی یہ راہ کبروگردن کشی خود ان گردن کشوں کے معیار سے بھی سرتاسرمہمل و باطل ہے۔ 197 ۔ معاندین حق کی یہ نفسیت آج تک برابر چلی آرہی ہے۔ نیک سے نیک نمونے ان کے لیے بےاثر رہتے ہیں اور بدی کی ہ رمثال ان کے لیے ایک سند اور نظیر کا کام دینے لگتی ہے۔ ساری آیت ان کے قساوت قلب کی ترجمان ہے۔ (آیت) ” ذلک بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین “۔ آخر میں اس حقیقت کو اور زیادہ صراحت سے بیان کردیا کہ ان گردن کشوں پر یہ خدائی پھٹکار آپ ہی آپ نہیں ہے۔ بلکہ یہ سارا وبال خود انہی کی ارادی عدول حکمیوں، کج اندیشیوں اور نخوت پسندیوں کا ہے۔ ذلک مجازاۃ من تکبرھم (قرطبی) (آیت) ” کذبوا بایتنا “۔ یعنی ہمارے تکوینی نشانوں اور تشریعی احکام کی انہوں نے بالقصد محض اپنے عناد سے تکذیب کی۔ (آیت) ” کانوا عنھا غفلین “۔ یعنی ہمارے ان نشانوں پر غور سے کام ہی نہ لیا اور قصدا ان سے اعراض کئے رہے۔ (آیت) ” غفلۃ “۔ یہاں نادانستہ بیخبر ی ولا علمی کے معنی میں نہیں دانستہ اعراض کے معنی میں ہے۔
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو اور آخرت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال اکارت گئے اور ان کو بدلہ اسی کا ملے گا جو کچھ کہ وہ کرتے رہے ہیں،198 ۔

198 ۔ یعنی یہ سزا ان کو خواہ مخواہ ہرگز نہ ملے گی، تمام سر ان کا کفر ہی اس کا مقتضی ہوگا۔ (آیت) حبطت اعمالھم “۔ یہ سزا انہیں قیامت میں پہنچ کر ملے گی۔ جن جن اعمال پر انہیں دنیا میں بھروسہ اور ناز تھا قیامت میں دیکھیں گے تو وہ سب کے سب صفر محض ! ان کی کوئی وقعت کوئی قیمت ہی نہیں، ایمان سے خالی، اس لیے ہر اجر سے خالی، صحیح مقصد تو ان کا تھا ہی نہیں پھر نتیجہ بھی نیک کیسے نکلتا۔
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے (جانے کے) بعد ایک بچھڑا اپنے زیوروں سے بنایا (یعنی) ایک قالب جس کے اندر ایک آواز تھی،199 ۔ کیا ان کو یہ تک نہ سوجھا کہ وہ نہ تو ان سے بات کرسکتا تھا اور نہ انہیں کوئی راہ بتلا سکتا تھا اسی کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور بڑا ہی ظلم (اپنے حق میں) کربیٹھے،200 ۔

199 ۔ اس نئے معبود زرین کی کیفیت یہ تھی کہ وہ محض ایک جسد تھا، بےجان، ایک قالب تھا، بےروح، ایک جسم، حیات سے معری، بس اس میں سے ایک آواز نکلتی تھی جیسے گوسالہ بھیں، بھیں کرتا ہے۔ اور ایسی آوازیں تو مٹی کے کھلونوں تک میں صنعت سے پیدا ہوجاتی ہیں، گراموفون وغیرہ اعلی آلات صناعی کا ذکر ہی نہیں۔ یہ بچھڑا سچ مچ کا نہیں بن گیا، وہی چاندی سونے کا رہا تھا جیسا کہ محققین سلف نے کہا ہے۔ کان جسدا من ذھب لاروح فیھا کان یسمع منہ صوت (معالم) (آیت) ” من بعدہ “۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر توریت کے لینے کو تشریف لے گئے تو ان کی چہل روزہ غیرحاضری سے فائدہ اٹھا کر اسرائیلیوں نے پہلے تو ایک پچھڑے کی سنہری مورت بنائی جس کے اندر سے آواز بھی نکلتی تھی، اور پھر اس کی پرستش شروع کردی، (آیت) من حلیھم “۔ یہ زیور وہ تھے جو اسرائیلوں نے مصر سے اپنے کوچ سے قبل قبطیوں سے حاصل کئے تھے، توریت میں ہے :۔” اور انہوں نے مصریوں سے روپے کے برتن اور سونے کے برتن اور کپڑے عاریت لیے۔ اور خداوند نے ان لوگوں کو مصریوں کی نگاہ میں ایسی عزت بخشی کہ انہوں نے عاریت دی۔ (خروج 12:35، 36) یہ زیور تو اصلا قبطیوں یا فرعونیوں کے تھے۔ اور قرآن مجید یہاں ان کینسبت اسرائیلوں کی جانب کررہا ہے۔ اس سے فقہاء مفسرین نے استدلال کیا ہے کہ کافر کا مال جب مسلم کے قبضے میں آجائے تو اس سے کافر کا حق ملکیت زایل ہوجاتا ہے۔ فیہ دلیل علی ان الاستیلاء علی اموال الکفار یوجب زوال ملکھم عنھا (مدارک) (آیت) ”’ اتخذ قوم موسیٰ “۔ ” قوم موسیٰ (علیہ السلام) “ کی یہ تصریح موجودہ توریت محرف کی تردیدد میں ہے جس نے گوسالہ سازی کی ساری ذمہ داری حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سر ڈال دی ہے۔ (خروج باب 32) 200 ۔ کیسی شدید حماقت وجہالت تھی ایسے بےبس وبے قدرت کو اپنا معبود بنالینا ! (آیت) ” اتخذوہ “۔ توریت میں ہے :۔” انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا “۔ (خروج 32:4) ” انہوں نے اپنے لیے ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا اور اسے پوجا اور اس کے لیے قربانی ذبح کرکے کہا کہ اسے اسرائیل یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے چھڑا لایا “ (خروج 32:8) (آیت) ” الم یروا۔۔۔ سبیلا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حجت شرعی کے سامنے خوارق سے دھوکا کھانا سفاہت ہے۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور محسوس کیا کہ وہ بڑی گمراہی میں پڑگئے تو بولے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحمت نہ کرے اور ہماری مغفرت نہ کردے تو ہم تو بالکل گھاٹے میں پڑگئے،201 ۔

201 ۔ یہ ندامت و استغفار کا واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی کے بعد کا ہے، جس کا ذکر ابھی آگے آتا ہے۔۔۔ آیت نمبر 128 کے بعد متصل سلسلہ بیان کے لحاظ سے آیت نمبر 150 کو پڑھا جائے یہ آیت نمبر 149 بہ طور جملہ معترضہ کے ہے، اور قرآن مجید کا عام اسلوب بلاغت ہی یہ ہے کہ واقعات کی تقدیم وتاخیر کا اعتبار کئے بغیر وہ نتائج اور عبرتوں کو درمیان کلام میں لے آتا ہے۔ (آیت) ” سقط فی ایدیھم “۔ محاورہ میں اس کے معنی نادم ہونے کے ہیں۔ یعنی الندم (راغب) تقول العرب لکل نادم علی امر قدسقط فی یدیہ (معالم) قال ابوعبیدۃ یقال لمن ندم علی امر وعجزعنہ سقط فی یدہ (بحر) یقال للنادم المتحیر قد سقط فی یدہ (قرطبی) سقط الندم قالہ الازھری والنحاس وغیرھما (قرطبی)
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) غصہ اور رنج سے بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو بولے تم (لوگوں) نے میرے پیچھے بہت ہی بری حرکت کی، کیا تم نے اپنے پروردگار کے حکم (آنے) سے پہلے ہی جلد بازی کرلی،202 ۔ اور تختیاں تو (ایک طرف) ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بال) پکڑ کر لگے انہیں اپنی طرف گھسٹینے،203 ۔ (ہارون (علیہ السلام) نے) کہا اے میرے ماں جائے (قوم کے) لوگوں نے مجھے بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ہی ڈالیں،204 ۔ سو میرے اوپر دشمنوں کو نہ ہنسوایئے اور مجھے (ان) ظالم لوگوں کے زمرے میں نہ داخل کرلیجیے،205 ۔

202 ۔ یعنی میں تو احکام شریعت ہی لینے گیا تھا کم ازکم انہی کا انتظار کرلیا ہوتا ! (آیت) ” رجع۔ غضبان اسفا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ابھی طور ہی پر تھے کہ آپ (علیہ السلام) کو وحی الہی سے یہ حال معلوم ہوگیا۔ جیسا کہ سورة طہ میں مذکور ہے۔ (آیت) ” بئسما خلفتمونی من بعدی “۔ یعنی یہی کہ توحید چھوڑ شرک میں مبتلا ہوگئے۔ 203 ۔ (کہ تم نے یہ کیا غضب کیا اور اس بےہودگی کو کیسے روا رکھا ! ) (آیت) ” والقی الالواح۔ توریت میں ذکر تختیوں کے ” توڑڈالنے “ کا ہی ہے :۔” اور یوں ہوا کہ جب وہ لشکر گاہ کے پاس آیا اور بچھڑا اور ناچ راگ دیکھا تب موسیٰ (علیہ السلام) کا غضب بھڑکا اور اس نے تختے اپنے ہاتھوں سے پھینک دیئے اور پہاڑ کے نیچے توڑ ڈالے “۔ (خروج 32: 19) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سارے افعال غیرت توحید کے جوش اور بےخودی میں سرزد ہوئے اس لیے نہ ان پر گرفت کی جاسکتی ہے اور نہ یہ افعال دوسروں کے لیے ارادے بعد سند ونظیر کا کام دے سکتے ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غضب چونکہ تمام تر للہ تھا اس پر دوسروں کے غصے کا قیاس نہیں کرسکتے جس میں نفس کا واسطہ شامل ہوتا ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ جو سکر حرام سے پیدا ہو اسے شارع نے عذر نہیں قرار دیا ہے۔ بعض جاہل صوفیہ نے ان اعمال موسوی کو اپنے حالت تواجد میں کپڑے پھاڑ ڈالنے کو سند ونظیر بنانا چاہا ہے محققین نے لکھ دیا ہے کہ یہ قیاس مع الفارق سرتاسر لغو و باطل ہے۔ کیف تق اس احوال الانبیاء علی احوال ھولاء السفھاء وقد سئل ابن عقیل عن تواجدھم وتخریق ثیابھم فقال خطاء و حرام (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ معاملہ حضرت ہارون (علیہ السلام) سے اپنے اس اجتہاد کی بناء پر کیا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) سے کوتاہی واقع ہوئی تھی، حالانکہ کوتاہی واقع نہیں ہوئی تھی تو جب پیغمبر برحق کے اجتہاد کا مطابق واقع ہونا ضروری نہیں تو شیوخ غیر معصومین سے غلطی کا صدور کیوں ممکن نہیں۔ امام ابن جریر طبری کا شمار اکابر ومشاہیر میں ہے لیکن غلطی سے معصوم بہرحال وہ بھی نہیں اپنی تفسیر میں طویل روایت قتادہ تابعی کے حوالے سے اس مفہوم کی بھی نقل کردی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو (معاذ اللہ) اتنا غصہ اس پر آیا کہ ان الواح میں مدح وستایش ان کی امت کی نہیں بلکہ ایک دوسری امت (امت محمد) کی درج تھی۔ ایسی روایت ایک معمولی صالح و متقی انسان کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی چہ جائیکہ کلیم اللہ جیسے جلیل القدر والوا العزم پیغمبر کے متعلق ! اور مقام مسرت ہے کہ دوسرے محققین نے ایسی بےاصل روایت کی پوری طرح پردہ دری کردی ہے۔ چناچہ علامہ ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں۔ ظاھر السیاق انہ انما القی الالواح غضبا علی قومہ وھذا قول جمھور العلماء سلفا وخلفا وروی ابن جریر عن قتادۃ فی ھذا قولا غریبا لایصح اسنادہ الی حکایۃ قتادہ وقدردہ ابن عطیۃ وغیر واحدمن العلماء وھو جدیر بالرد وکانہ تلقاہ قتادۃ عن بعض اھل الکتاب وفیھم کذابون ووضاعون وافاکون وزنادقۃ۔ سیاق کلام کھلاہوا کہہ رہا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے جو تختیوں کو پٹخا ہے تو اپنی قوم پر غضبناک ہو کر پٹخا ہے اور یہ قول جدید وقدیم اہل علم کا متفقہ ہے اور وہ جو اپنی جریر نے اس سلسلہ میں قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے اس کی سند بھی قتادہ تک نہیں پہنچی۔ اور ابن عطیہ اور دوسرے علماء نے اس کی پوری طرح تردید کردی ہے اور وہ تردید ہی کا مستحق ہے عجب نہیں جو وہ روایت قتادہ کو اہل کتاب سے پہنچی ہو جن میں بڑے بڑے زندیق اور جھوٹے لپاڑیئے پڑے ہوئے تھے۔ اور علامہ قرطبی نے لکھا ہے۔ ولا التفات لما روی عن قتادۃ ان صح عنہ ولا یصح۔۔۔ وھذا قول ردی لا ینبغی ان یضاف الی موسیٰ (علیہ السلام) ۔ قتادہ کے حوالہ سے جو روایت بیان کی گئی ہے وہ صحیح ہو بھی تو قابل التفات نہیں لیکن وہ صحیح ہی نہیں، وہ روایت بالکل لغو ہے اس قابل ہی نہیں کہ اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب منسوب کیا جائے۔ 204 ۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) اپنی صفائی میں کہتے ہیں کہ اے میرے پیارے بھائی میری بات تو سن لیجئے میں نے اپنی والی بہت کوشش کی لیکن یہ ظالم و سرکش جب خدا کے خلاف گردن کشی میں باک نہیں رکھتے تو میری کیا پروا کرتے میری ایک نہ چلنے پائی بلکہ جب میں نے زیادہ روک ٹوک کرنا چاہا تو الٹے مجھ سے بغاوت پر آمادہ ہوگئے میری جان بچ گئی یہی بہت ہے۔ کہاں عصمت انبیاء کا یہ قرآنی مقام اور کہاں توریت کی یہ تصریحات کہ اس بت پرستی کے بانی و باعث ہی معاذ اللہ حضرت ہارون (علیہ السلام) تھے ! کتنا فرق دونوں کتابوں میں ہے بلکہ قرآن کی زبان سے یہ تفصیلات بھی کچھ غیر ضروری سی معلوم ہورہی ہے۔ جب تک توریت میں درج کی ہوئی فرد جرم سامنے نہ ہو نیز ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” ابن ام “۔ محاورۂ عرب میں انتہائی شفقت دلانے کے موقعہ پر آتا ہے۔ کلمۃ لین وعطف (قرطبی) و تخصیص الام بالذکر للترقیق (روح) 205 ۔ توریت کے بیانات کے پیش نظر اور ان کی تردید کے لئے ان سب فقروں کا اضافہ ضروری تھا۔ (آیت) ” فلاتشمت بی الاعدآء “۔ یعنی آپ میرے اوپر بلاقصور اتنی سختی کررہے ہیں اس سے دشمنوں کو ہنسنے اور طعنہ زنی ہی کا موقع ملے گا۔
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے اب) کہا کہ اے میرے پروردگار مجھ سے اور میرے بھائی سے درگزر کر، اور ہم دونوں کو اپنی رحمت (خاص) میں داخل کر اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے،206 ۔

206 ۔ حضرات انبیاء سے بڑھ کر رحمت الہی کا قدر شناسا اور اندازہ دان اور کون ہوسکتا ہے۔ صحیح صورت حال کا علم ہوتے ہی معا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کلیم اللہ استغفار ومناجات میں مشغول ہوگئے۔ (آیت) ” رب اغفرلی ولاخی “۔ درخواست مغفرت اپنے ہی لیے نہیں اپنے ان بھائی کے لئے بھی ہے جن پر ابھی ابھی یہ تشدد ہورہا تھا ! اپنے لئے تو استغفار اس امر پر کہ غیرت توحید سے بےخود ہو کر قبل تحقیق ہارون (علیہ السلام) نبی پر سخت گیری کیوں شروع کردی تھی، اے فیما اقدمت علیہ من ھذا الغضب والحدۃ (کبیر) بما صنعت باخی (بیضاوی) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے لئے استغفار اس امر پر کہ دفع فتنہ پر پوری طرح کامیاب نہ ہوسکے۔ اے فی ترکہ التشدید العظیم علی عبدۃ العجل (کبیر) تو ھما بانہ قصر فی کفھم (بیضاوی) بھائی کو اپنی دعائے مغفرت کے ساتھ ملا لینا اس لیے بھی تھا کہ وہ ان سے خوش ہوجائیں اور اس لیے بھی کہ ان پر سے شماتت دفع ہوجائے۔ ضمہ الی نفسہ فی الاستغفار ترضیۃ لہ ودفعا للشمالۃ عنہ (بیضاوی)
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے گوسالہ کو (اپنا معبود) بنا لیا ہے ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے غضب اور ذلت بہت جلد پڑے گی (اسی) دنیا کی زندگی میں اور ہم تہمت گڑھنے والوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں،207 ۔

207 ۔ ئی اسئ گو سالہ پرستی کے سلسلہ میں سارا کلام حق تعالیٰ کا حضرت موسیٰ کے ساتھ ہوا (ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن) کذلک نجزی المفترین۔ یعنی مفتری دنیا میں بھی مغضوب و ذلیل ہو کر رہتے ہیں، گو کسی خاص حکمت سے کسی خاص عارض کے باعث اس کا ظہور دیر میں ہو یا بالکل نہ ہو، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دنیا میں ذلت کبھی سزائے معصیت کے طور پر بھی ہوتی ہے۔
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے گناہوں کے کام کیے پھر ان کے بعد انہوں نے تربہ کرلی اور ایمان لے آئے (تو) بیشک تمہارا پروردگار اس کے بعد (ان کے حق میں) بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،208 ۔

208 ۔ یہ عام قاعدہ وغفر و رحمت کا بیان کردیا کہ گنہگارومنکر کو زندگی بھر مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ خدائے اسلام ان بےرحم وخونخوار دیوتاؤں کی طرح نہیں جو معاف کرنا کسی حال میں جانتے ہی نہیں۔ (آیت) ” ربک من بعدھا “۔ میں ضمیر ھاتوبہ وتجدید ایمان کے لیے ہے۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرد ہوا تو انہوں نے تختیوں کو اٹھا لیا اور اس نسخہ (توریت) میں ہدایت و رحمت تھی، ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں،209 ۔

209 ۔ (اور اس خوف خدا کی بنا پر اس نسخہ ہدایت سے فائدہ اٹھانا بھی چاہتے ہیں) (آیت) ” سکت عن موسیٰ الغضب “۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عذر معقول سن کر قدرۃ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جوش غضب فروہوجاتا ہے۔ (آیت) ” اخذ الالواح “۔ لفظ قرآنی الواح ہے یعنی نفس تختیاں نہ کہ ان کے ٹوٹے پھوٹے ٹکڑے۔ اس سے ضمنا یہ بھی نکل آیا کہ تختیاں سالم تھیں ٹوٹ گئیں تھیں۔ وظاھر ھذا یدل علی ان شیئا منھا لم ینکسر ولم یبطل (کبیر) (آیت) ” فی نسختھا ھدی ورحمۃ۔۔ یعنی اس نسخہ کے مضامین ہدایت سے بھرے ہوئے اور رحمت کی طرف لے جانے والے تھے۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ستر مرد انتخاب کیے ہمارے وقت موعود کے لیے،210 ۔ پھر جب انہیں زلزلہ نے آپکڑا،211 ۔ تو (موسی (علیہ السلام) نے) کہا کے اے میرے پروردگار اگر تجھے (یہی) منظور تھا تو تو نے اس کے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کردیا ہوتا تو کیا تو ہمیں اس (حرکت) پر ہلاک کردے گا جو ہم میں سے (چند) بیوقوفوں نے کی،212 ۔ یہ تو بس تیری طرف سے آزمائش ہے، ان (آزمائشوں) سے تو جس کو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم کردے۔213 ۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے ہماری مغفرت کر ہم پر رحم کر اور تو ہی بہترین مغفرت کرنے والا ہے،214 ۔

210 ۔ یعنی وقت معین پر اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے جانے کے لئے۔ یہ حاضری دوبارہ تھی یا یہ اسی پہلی حاضری کی مزید تشریحات ہیں ؟ توریت میں ذکر کسی دوسری میقات کا نہیں اور ہمارے یہاں کے عام مفسرین کا بھی یہی خیال ہے کہ یہ کوئی دوسراواقعہ نہیں بلکہ نزول توریت کے وقت کی اس حاضری کا ذکر ہے۔ لیکن قرآن پاک میں ایک دوسری آیت۔ (آیت) ” فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم ثم اتخذوا العجل “۔ (سورۂ نساء) نیز خود اسی رکوع کی ترتیب مضامین ظاہرا اس خیال کی منافی ہے واللہ اعلم۔ 211 ۔ (اور وہ ستر کے ستر مردہ یا نیم مردہ ہو کر رہ گئے) اس پر حاشیہ سورة بقرہ پارۂ اول رکوع 6 میں گزر چکا۔ قول جمہوریہ ہے کہ یہ لوگ واقعۃ مرگئے تھے پھر دوبارہ زندہ کئے گئے۔ والکثیر علی انھم ماتواجمیعا ثم احیاھم اللہ تعالیٰ (روح) لیکن ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ صرف بیہوش ہوگئے تھے پھر ہوش میں لائے گئے۔ قیل غشی علیھم ثم افاقوا (روح) 212 ۔ یعنی گستاخی کا اور تجھے عیانا دیکھنے پر اصرار کا جرم تو ہم میں سے ایک محدود جماعت نے کیا ہے کہیں یہ تھوڑے ہی ہوسکتا ہے کہ تو اس کے پاداش میں ہم سب کو ہلاک کردے ! (آیت) ” اتھلکنا “۔ یہ استفہام، استفہام استعظام کہلاتا ہے مفہوم یہ ہے کہ تو ہرگز ایسا نہ کرے گا۔ قال المبرد المراد بالاستفھام استفھام استعظام کانہ یقول لا تھلکنا (قرطبی) (آیت) ” لو شئت “۔ یعنی اگر تجھے مصالح تکوینی کے اعتبار سے یہی منظور ہوتا۔ (آیت) ” اھلکتھم من قبل وایای “۔ یعنی میری اور ان لوگوں کی ہلاکت سے قصہ ہی ختم ہوگیا ہوتا نہ میری بدنامی ہوتی اور نہ قوم مجھ سے بدگمان ہو کر مجھ سے انتقام لینے کی فکر میں پڑتی ! لیکن تو نے ایسا نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا اہلاک بالذات مقصود نہیں۔ 213 ۔ (اور وہ تیری حکمتوں اور مصلحتوں کا اور زیادہ قائل ہوجائے) (آیت) ” تضل بھا من تشآء “۔ تو جسے اپنی مشیت تکوینی کے لحاظ سے چاہے گمراہ کردے اور وہ تیرے شکوہ وشکایت اور ناشکری میں لگ جائے۔ (آیت) ” انھی الا فتنتک “۔ یہ تو تیری طرف سے ایک آمایش ہے جس سے مقصود مجرموں کو سزا دینا ہے، نہ کہ ساری قوم کو ہلاک کردینا۔ 214 ۔ (سو تو اگر مجرموں اور خطاکاروں پر بھی مغفرت و رحمت کی نظر کردے تو کیا بعید ہے) (آیت) ” انت ولینا “۔ تو ہی ہمارا کارساز وکفیل ہے، اور ہمیں تیری ہی کارسازی اور چارہ فرمائی پر بھروسہ ہے۔
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

ہمارے حق میں بھلائی لازم کردے اس دنیا میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) ہم تو تیرے ہی آگے جھک گئے ہیں،215 ۔ (اللہ نے) فرمایا اپنا عذاب میں ا سی پر واقع کرتا ہوں جس کے لیے چاہتا ہوں اور میری رحمت تو ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے،216 ۔ سو اسے ان لوگوں کے لیے تو ضرور ہی لازم کردوں گا جو خوف خدا رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو لوگ ہماری نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں،217 ۔

215 ۔ (اخلاص و اطاعت کے ساتھ) (آیت) ” واکتب لنا “۔ کے معنی لازمی طور پر یہ نہیں کہ قید کتابت میں لے آ، یا ہمارے لیے تحریر کردے، بلکہ یہ ہیں کہ ہمارے حق میں لازم ومقرر کردے، محاورۂ عرب میں کتابۃ کے یہ معنی عام ہیں، اے اوجب لنا والکتابۃ تذکر بمعنی الایجاب (کبیر) واثبت لنا (کشاف) ویعبرعن الاثبات والتقدیر والایجاب والفرض والعزم بالکتابۃ (راغب) (آیت) ” ھدنا الیک “۔ یعنی ہم تیرے آگے رجوع و توبہ کے ساتھ حاضر ہورہے ہیں، قال المفسرون اے تبنا ورجعنا الیک (کبیر) 216 ۔ یعنی میرے قانون رحمت کے ماتحت معاملہ تو مجرم وغیرمجرم نیک وبد سب ہی کے ساتھ ہورہا ہے۔ البتہ قانون مکافات ومجازات کا عمل خاص خاص افراد کے ساتھ ہوتا ہے۔ 217 ۔ مناجات موسوی کے جواب میں ارشاد ہورہا ہے کہ میری رحمت تو، بہ طور کلیہ اور اصول کے ہر ایک کے لیے عام ہے تو اس کا تحقق ان لوگوں کے حق میں کیسے نہ ہوگا (ہوگا اور ضرور ہوگا) جو عقاید و اعمال میں صفات ایمان وتقوی سے آراستہ ہیں۔ (آیت) ” فساکتبھا “۔ میں ضمیر رحمت کی طرف ہے اور س تاکید کے لئے ہے۔ (آیت) ” الذین یتقون “۔ تقوی سے اشارہ اعمال قلب کی طرف ہے (آیت) ” یؤتون الزکوۃ “۔ اس سے اشارہ اعمال جو ارح و عبادات کی طرف ہے۔ (آیت) ”‘ یؤمنون “ میں اشارہ عقاید کی جانب ہے۔