5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوسکتے۔ گوتجھے ناپاک کی کثرت حیرت میں ڈالتی ہو،311 ۔ سو اے عقل والو ! اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ (پوری) فلاح پاجاؤ،312 ۔

311 ۔ (اے مخاطب) (آیت) ”(الخبیث) نافرمان یا نافر مانی، ذات وصفات سب کے لئے جامع۔ والصحیح ان اللفظ عام فی جمیع الامور یتصور فی المکاسب والاعمال والناس والمعارف من العلوم وغیرھا (قرطبی) (آیت) ” الطیب “۔ فرمان بردار یا فرمان برداری۔ (آیت) ” لایستوی “۔ اس لئے کہ ایک اللہ کے ہاں محبوب ومحمود ہے اور دوسری مبغوض ومردود۔ امام رازی (رح) نے فرمایا ہے کہ عالم روحانیت میں جو چیزیں گندی یا خبیث ہیں، وہ عالم جسمانیات میں بڑی مقداروالی اور بڑی لذت والی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن ان کی یہ ظاہری تعداد اور لذت دائمی اور سرمدی لذتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم کردینے والی ہے، اس لئے ان کا اور ان کا کوئی مقابلہ ہی کیا ؟ یعنی ان الذی یکون خبیثا فی عالم الروحانیات قد یکون طیبا فی عالم الجسمانیات ویکون کثیر المقدار ووعظیم اللذۃ الا انہ مع کثرۃ مقدارہ ولذاذۃ متناولہ وقرب وجدانہ سبب للبحر مان من السعادات الباقیۃ الابدیۃ السرمدیۃ (کبیر) (آیت) ” ولواعجبک “۔ یعنی اس پر حیرت نہ کرو کہ جب نافرمان اور نافرمانی اس قدر مبغوض ہیں تو پھر ان کی کثرت وفراوانی کیوں ہے ؟ یہ ترقی یقیناً دلیل مقبولیت نہیں، اس کی بنا دوسری ہی تکوینی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اعجابہ لہ ان صار عندہ عجبامما یشاھدہ من کثرۃ الکفار والمال الحرام وقلۃ المومنین والمال الحلال (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل حقائق کے مقابلہ میں اہل رسول کی کثرت سے دھوکا نہ کھانا چاہیے (آیت) ” ولو اعجبک “۔ کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ” گو تجھے بھلی لگے “۔ ای وان سرک ایھا الناظر (روح) آج دنیا میں بدی کی کثرت بھی ہے اور ظاہری خوشمنائی بھی، اور ایسا ہی کم وبیش ہر زمانے میں رہا ہے۔ 312 ۔ (دنیا اور آخرت دونوں میں) (آیت) ” فاتقوا اللہ “۔ یعنی راہ ہدایت اور پاکیزگی ہی کی راہ اختیار کرو اور بدی اور گندگی کی کثرت یا ظاہری خوشنمائی سے متاثر ہو کر ادھر نہ جھک جاؤ۔ ای اثروا الطیب وان قل علی الخبیث وان کثر ، (کشاف) (آیت) ” تفلحون “۔ کو ” فاتقوا “ پر مرتب کرکے گویا یہ بتادیا کہ فلاح کی بنیاد تقوی الہی ہی پر ہے۔ خطاب اولی الالباب سے کرکے ادھر اشارہ کردیا کہ عین عقل وبصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ احکام الہی کی خلاف ورزی سے بچا جائے اور راہ تقوی اختیار کی جائے۔ اولی الالباب۔ لب کے معنی عقل خالص کے ہیں جو ہر طرح کی آمیزش و کدورت سے پاک ہو۔ اللب العقل الخالص من الشوائب (راغب) عقل انسان کے پاس اللہ ہی کی بخشی ہوئی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ قرآن مجید نے عقل کو دبایا نہیں، بلکہ صحیح حدود کے اندر عقل سلیم سے کام لینے پر تاکید کی ہے۔
Ayah 5:101

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں،313 ۔ اور اگر تم انہیں دریافت کرتے رہو گے، اس زمانہ میں جب کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی،314 ۔ اللہ نے ان کی بات درگزر کی، اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا حلم والا ہے،315 ۔

313 ۔ ممانعت ایسے سوالات سے ہورہی ہے جو سرتاسر فضول اور لایعنی ہوں مثلا لوگوں کے جزئیات زندگی کی بابت سوالات کرتے رہنا۔ سوال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کوئی معاشی یا معادی ضرورت واقعی پیش آجائے یا اس کے پیش آجانے کا احتمال قوی ہو اور صاحب شریعت سے ادب واحترام کے ساتھ اس کی بابت پوچھ لیا جائے، دوسرے یہ کہ غرض ومقصد صحیح کچھ بھی نہ ہو اور دور دور کے احتمالات پیدا کرکے سوال محض سوال کرنے کی نیت سے کیا جائے تشقیقات اپنے دل سے گڑھے جائیں اور گویا رسول کا امتحان لینے کو سوالات اس کے سامنے پیش کئے جائیں۔ یہاں ذکر اسی آخری قسم کا ہے اور اسی سوال بازی کو ممنوع قرار دیا جارہا ہے۔ (آیت) ان تبدلکم تسؤکم ناگوار ہونے کی صورتیں مثلا یہ کہ تمہارے کسی چھپانے والے واقعہ کی پردہ دری ہوجائے اور تمہیں تفضیح ورسوائی کا سامنا کرنا پڑے یا ایسے احکام نازل ہوجائیں جن کی تعمیل تم پر شاق گزرے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ صحابی سے روایت آئی ہے کہ ایک شخص نے آکر رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ اچھا یہ بتائیے کہ میرا باپ کون تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ فلاں شخص، اسی طرح ترمذی وغیرہ میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ جب فرضیت حج کی آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کرنا شروع کردیا کہ یہ ہر سال فرض ہے ؟ یہ دو نمونہ ہیں اس قسم کے بیجا سوالات کے جن کے خلاف یہاں تنبیہ کی جارہی ہے۔ ” احکام میں جیسا یہ سوال بوجہ افراط ممنوع ہے، واقعات میں یہ سوال موجب تفریط فی الاطاعت والادب بھی ہے۔ چناچہ بخاری میں یہ بھی ہے کہ استہزاء پوچھتے تھے، پس آیت سب اقسام سوال کو اور سب اقسام جواب کو شامل ہے۔ گوعلت نہی کی کہیں افراط ہوگی، اور ناگواری جواب کا احتمال کہیں تحریم سے ہوگا کہیں رسوائی سے کہیں زجر سے اور بعد نزول وحی کے ایسے سوالات سے نہی کی علت اضاعت وقت اور مجیب کو ضیق میں ڈالنا ہے “ (تھانوی (رح) روی مسلم عن المغیرۃ بن شعبۃ عن رسول اللہ ﷺ قال ان اللہ کرہ لکم ثلاثا قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال وقال کثیر من العلماء المراد بقولہ کثرۃ السؤال التکثیر من السؤال فی المسائل الفقھیۃ تنطعا وتکلفا فی مالم ینزل والاغلوطات وتشقیق المولدات وقد کان السلف یکرھون ذلک یرونہ من التکلیف (قرطبی) 314 ۔ تو ایسے ہی سوالات جن میں یہ احتمالات ہوں ممنوع قرار دیئے جاتے ہیں۔ ھذاتادیب من اللہ لعبادہ المومنین ونھی لھم عن ان یسالوا عن اشیاء مما لا فائدۃ لھم فی السؤال والتنقیب عنھا لانھا ان اظھرت لھم تلک الامور بھا ساء تھم وشق علیھم سماعھا (ابن کثیر) 315 ۔ (اس لیے حکم کی خلاف ورزی پر گرفت اگر فوری نہیں ہوئی تو اس سے مطمئن اور بےخوف نہ ہوجاؤ) (آیت) ” عنہا “۔ یعنی ان سوالات کے بارے میں جو تم اب تک کرچکے، ای عن المسئلۃ التی سلف منھم (قرطبی) ای عما سلفکم من مسائلکم (کبیر) (آیت) ” غفور “۔ اس صفت غفر کا تقاضا ہے کہ اس نے ماضی کو معاف کردیا۔
Ayah 5:102

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

لوگ تم سے قبل بھی ایسی ہی پوچھ پاچھ کرچکے ہیں پھر ان سے منکر ہوگئے،316 ۔

316 ۔ اس کفر و انکار کی دو صورتیں ممکن ہیں اور دونوں واقع ہوچکی ہیں۔ ایک یہ کہ جو احکام دیئے گئے ان کا حق ادا نہ کیا، یہ کہ جو واقعات بیان کئے گئے ان سے متاثر نہ ہوئے۔ (آیت) ” قوم من قبلکم “۔ یہ کن لوگوں کی طرف اشارہ ہے ؟ عام طور سے بنی اسرائیل سے مراد لی گئی ہے کہ سابق انبیاء کی امتوں میں وہی کھود کھود کر اور کرید کرید کر سب سے زیادہ سوال کرنے کے عادی رہے ہیں۔ گنجائش دوسری امتوں کے مراد ہونے کی بھی ہے۔
Ayah 5:103

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ نے نہ بحیرہ کو مشروع کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو نہ حامی کو،317 ۔ البتہ جو لوگ کافر ہیں وہی اللہ پر جھوٹ جوڑتے رہتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے،318 ۔

317 ۔ (آیت) ” ما جعل اللہ “۔ یعنی اللہ نے ان چیزوں کو مشروع نہیں کیا۔ والمعنی ما سمی اللہ ولا سن ذلک حکما ولا تعبدبہ شرعا (قرطبی) یہ سب اصطلاحیں عرب جاہلیت کی ہیں۔ (آیت) ” بحیرۃ “۔ وہ اونٹنی ہے جو دس بچہ جنتی اور ان میں کا آخری نرہوتا۔ اس کا کان چیر کر اسے سانڈ کی طرح آزاد چھوڑ دیا جاتا اور کوئی کام اس سے نہ لیا جاتا (آیت) ” سآئبۃ “۔ وہ اونٹنی ہے جو کسی دیوتا کے نام پر سانڈ کی طرح آزاد چھوڑ دی جاتی اور اسے چارہ پانی سے نہ روکا جاتا۔ (آیت) ” وصیلۃ “۔ یہ بھی اونٹنی ہی کی ایک قسم ہے مادہ بچہ جننے والی۔ اسے بھی دیوتاؤں کے نام پر آزاد چھوڑ دیا جاتا۔ (آیت) ’ حامی “۔ نراونٹ کی ایک قسم ہے جس کو آزاد چھوڑ دیا جاتا۔ اہل شرک کی رسمیں ہر ملک میں ملتی جلتی سی ہیں۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ اس قسم کی گھڑی ہوئی رسمیں اور ایسے جانوروں کا ادب واحترام ہرگز مشروع نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ابطال ہے اہل جاہلیت کی اس بدعت کا کہ بعض چیزوں کو غیر اللہ سے نامزد کردیتے تھے جیسا کہ اب بھی بعض جہلاء ارواح طیبہ سے تقرب حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ 318 ۔ (اور سمجھتے رہتے ہیں کہ خدا ان لغویات و خرافات سے خوش ہوگا) ای ما شرع اللہ ھذہ الاشیاء ولاھی عندہ قربۃ ولکن المشرکون افتروا ذلک وجعلوہ شرعا لھم وقربۃ یتقربون بھا الیہ (ابن کثیر) (آیت) ” یتفرون علی اللہ الکذب “۔ اہل شرک اپنے عقائد وغیرہ دوسرے مسائل کی طرح رسوم کے باب میں بھی افتراء علی اللہ پر بڑے جری وبے باک ہوتے ہیں اور گھڑنے والے عموما مشرکین کے خواص و اکابر ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اکثرھم لا یعقلون “۔ یہ کو رانہ تقلید کرنے والے مشرکین کے عوام ہوتے ہیں۔ اور انہی کی تعداد بڑی ہوئی ہے۔ والمعنی ان الرؤسا یتفرون علی اللہ الکذب فاما الاتباع والعوام فاکثرھم لایعقلون (کبیر)
Ayah 5:104

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ نازل کیا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ،319 ۔ تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے،320 ۔ تو کہنا چاہئے کہ انکے بڑے نہ کسی شے کا علم رکھتے ہوں نہ ہدایت ؟ ،321 ۔

319 ۔ یعنی حق و باطل کا معیار محض احکام اخدا و رسول کو قرار دو ، اپنے مزعومات ومظنونات کو شریعت کی کسوٹی پر کسو، پرکھو، جانچو ، 320 ۔ (اور ہمیں کسی مزید تحقیق کی ضرورت نہیں) تقلید جامد جاہلوں کا سہارا ہر ملک اور ہر دور میں رہا ہے کسی صاحب علم کی تقلید اگر اس اعتماد پر کی جائے کہ وہ احکام شریعت کا ماہر ہے۔ تو یہ ممنوع نہیں بلکہ عین مطلوب ہے۔ لیکن آنکھ بند کر کے باپ دادا کی راہ پر اس لئے چلتے رہنا کہ وہ باپ دادا تھے۔ یہ اندھی تقلید محض معصیت ہی نہیں بلکہ بعض اوقات شرک تک پہنچا دیتی ہے۔ اوار اسی کا نام رسم پرستی ہے۔ آج ہندوستان کی بڑی آبادی کے پاس نہ کوئی ” کتاب “ ہے نہ کسی ” رسول “ کی تعلیم محفوظ۔ بس رسوم کا ایک مجموعہ ہے۔ جو سینکڑوں، ہزاروں برس ہوئے ہاتھ آگیا تھا۔ اور اسی طرح اندھا دھند اس کی پوجا ہوتی چلی آرہی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ابطال ہے جاہل صوفیہ کے اس طریقہ کا کہ جب ان کے سامنے شریعت پیش کی جاتی ہے تو اس کے بجائے وہ اپنے مشائخ کے معمولات سے تمسک کرنا کافی سمجھتے ہی۔ 321 ۔ یعنی کیا ان کا یہ خیال جب بھی ہے جب ان کے بزرگ علم نہ رکھتے ہوں حقائق دین سے کسی شے کا اور ہدایت نہ رکھتے ہوں کسی کتاب الہی کے ذریعہ سے۔ وتقدیرہ وحسبھم ذلک ولو کان اباؤ ھم (کشاف) او میں و حالیہ ہے اور اس پر ہمزہ (ا) انکار کا داخل ہوا ہے واو الحال وقد دخلت علیھا ھمزۃ الانکار (کشاف)
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اپنی ہی فکر میں لگے رہو کوئی بھی گمراہ ہوجائے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں جب کہ تم راہ پر چل رہے ہوف 322 ۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کی واپسی ہے وہ تمہیں جتلا دے گا جو کچھ کہ تم کرتے رہے تھے،323 ۔

322 ۔ حکم افراد کو ہے کہ دوسروں کی فکر میں اتنا زیادہ کیوں گھلے جاتے ہو۔ مقدم فکر اپنی ہے۔ اپنے مطالبات دین ادا کئے جاؤ تم پر دوسروں کی ذمہ داری نہیں تم سے پرسش تمہارے ہی احوال کی ہوگی، آیت میں ایک زبردست اصول یعنی شخصی ذمہ داری کا اثبات ہے۔ اور ان لوگوں کا ابطال ہے جو انفرادیت کو اجتماعیت میں گم رکھنا چاہتے ہیں۔ (آیت) ” علیکم انفسکم “۔ یعنی اپنے نفس کی نگرانی اپنے اوپر لازم کرلو۔ معناہ احفظوا انفسکم من المعاصی (قرطبی) (آیت) ” علیکم “۔ محاورہ میں جب صیغہ مخاطب میں آتا ہے تو اس کے معنی لازم پکڑ لینے کے ہوتے ہیں۔ صیغہ غائب وغیرہ میں نہیں آتا۔ تقول علیک زیدا بمعنی الزم زیدا ولا یجوز علیہ زیدا بل انما یجری ھذا فی المخاطبۃ (قرطبی) دوسروں کی بھی بہ قدر وسعت واستطاعت اصلاح شخصی مطالبات دین ہی میں شامل ہے۔ ان کے منافی نہیں۔ مقصود دوسروں کی اصلاح کے کام سے روکنا نہیں۔ صرف اس کے مبالغہ آمیز تخیل میں اعتدال پیدا کرنا ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کو اچھی بری بات بتاؤ نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ دوسروں کی عیب چینی اور کھوج میں نہ پڑے رہو۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر تو بجائے خود ایک انفرادی فریضہ ہے اس کا سقوط مقصود نہیں۔ قال ابن خویز منداد تضمنت الایۃ اشتغال الانسان بخاصۃ نفسہ وتر کہ التعرض لمعایب الناس والبحث عن احوالھم بانھم لایسالون عن حالہ فلایسال عن حالھم (قرطبی) ومن الاھتداء اتباع امر اللہ فی انفسنا وفی غیرنا فلادلالۃ فیھا اذا علی سقوط فرض الامر بالمعروف والنھی عن المنکر (جصاص) اخبر ابوبکر ؓ ان ھذہ الایۃ لا رخصۃ فیھا فی ترک الامر بالمعروف والنھی عن المنکر وانہ لا یضر ضلال من ضل اذا اھتدی ھو بالقیام بفرض اللہ من الامر بالمعروف والنھی عن المنکر (جصاص) آیت کا ایک محمل یہ بھی ہے کہ انسان جب یہ دیکھ لے کہ وعظ وپند مطلق کارگر نہیں ہوتا بلکہ الٹا اس پر اور مضحکہ ہوتا ہے تو ایسے موقع پر چاہیے کہ سکوت سے کام لے اور بس اپنے ہی ذاتی عمل کی فکر میں لگا رہے۔ قیل الایۃ فی اھل الاھواء الذین لاینفعھم الوعظ فاذا علمت من قوم انھم لایقبلون بل یستخفون ویظھرون فاسکت منھم (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہی طریقہ ہے عارفین سالکین کا وہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کردینے کے بعد پھر کسی کے زیادہ درپے نہیں ہوتے۔ 323 ۔ (کہ حشر ہی اصلی وقت ومقام نتائج کے ظہور تام کا ہوگا)
Ayah 5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے وصیت کے وقت تمہارے آپس میں گواہ دو شخص تم میں سے معتبر ہوں،324 ۔ یا دو گواہ تم میں سے کے علاوہ ہوں،325 ۔ جب تم زمین پر سفر کررہے ہو اور تم پر موت کا واقعہ آپہنچے تو اگر تم کو شبہ ہوجائے،326 ۔ تو دونوں (گواہوں) کو بعد نماز روک رکھو اور وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس کے عوض کوئی نفع نہیں لینا چاہتے خواہ کسی قرابت دار (ہی کیلئے) ہو اور نہ ہم اللہ کی گواہی چھپائیں گے ورنہ ہم بیشک گنہہ گار ہوں گے،327 ۔

324 ۔ قرآن محض ایک پند نامہ اخلاق نہیں قانون کی بھی کتاب ہے زندگی میں قانون اخلاق، خطابت سب ہی کی اپنی اپنی جگہ ضرورت پڑتی ہے اور قرآن نے جو ممکن ہدایت نامہ اور زندگی کا مکمل دستور العمل ہے۔ سب میں اپنی اپنی جگہ کام لیا ہے۔ اس جگہ قانون وصیت ووراثت کا بیان مختلف پہلوؤں سے آرہا ہے۔ (آیت) ” بینکم “۔ یعنی تمہارے آپس کے معاملات میں، مثلا موت کے وقت ورثہ کو مال سپرد کرنے کے وقت (آیت) ” شھادۃ بینکم “۔ اصطلاح فن میں انہی کو وصی کہتے ہیں۔ اور انہی کے اقرار و اظہار کو گواہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں کوئی نہیں مل رہا ہے۔ صرف بہ طور مشورۂ مناسب کے ارشاد ہورہا ہے۔ (آیت) ” اثنن ذوا عدل منکم “۔ منکم “۔ یعنی مسلمان ہوں، تم میں ہوں، تمہارے غیرنہ ہوں، ان اوصیاء کا مسلمان اور عادل ہونا صرف افضل ہے۔ شرط لازم نہیں۔ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ وصی اگر دو نہ ہوں، یا ایک بھی نہ ہو، جب بھی وصیت جائز رہے گی، یہ آیتیں اپنی ترکیب نحوی وغیرہ کے لحاظ سے قرآن کے مشکل ترین مقامات میں سے ہیں اور یہ دشواری اس بےعلم وکم سواد ہی کو نہیں محسوس ہوئی ہے، اکابر قدیم بھی کچھ ایسا ہی فرماگئے ہیں۔ ھذہ الایات الثلاثۃ عند اھل المعانی من اشکل ما فی القران اعرابا ومعنی وحکما (قرطبی) وقال ابن عطیۃ ھذا کلام من لم یقع لہ الثلج فی تفسیر ھا (قرطبی) اتفق المفسرون علی انھا فی غایۃ الصعوبۃ اعرابا ونظما وحکما (کبیر) 325 ۔ یعنی اگر حالت سفر وغیرہ میں مسلمان اور عادل اوصیاء نہ مل سکیں، تو غیر مسلم گواہ بھی جائز ہیں۔ صحابہ اور تابعین اور فقہاء میں سے اکثر کا مذہب یہی ہے۔ (آیت) ” من غیرکم “۔ ضمیر للکافرین وھذا اشبہ لبیان الایۃ مع ما تقرر من الاحادیث وھو قول ثلاثۃ من الصحابۃ الذین شاھدوا التنزیل ابو موسیٰ الاشعری وعبداللہ بن قیس وعبداللہ بن عباس ؓ (قرطبی) ھذا معنی الایۃ علی مذھب ابی موسیٰ الاشعری و سعید بن المسیب ویحی بن یعمر و سعید بن جبیر وابی مجلزہ وابراھیم وشریح وعبیدۃ السلیمانی وابن سیرین و مجاھد وقتادۃ والسدی وابن عباس وغیرھم وقال بہ من الفقھاء سفیان الثوری واختارہ احمد بن حنبل کلھم یقولون منکم من ال مومنین ومعنی من غیرکم یعنی الکفار (قرطبی) 326 ۔ (ان اوصاء کی دیانت وشہادت کے باب میں) خطاب یہاں وارثوں سے ہے۔ 327 ۔ شریعت اسلامی، جو انفرادی واجتماعی ہر بشری ضرورت کی کفیل ہے، یہاں ایک اکثر پیش آجانے والی ضرورت کا صحیح طریقہ تعلیم کررہی ہے۔ ارشاد یہ ہے کہ مسلمان اگر اپنی موت کے وقت اپنا مال کسی کو حوالہ کرنا چاہے تو بہتر ہے کہ دو معتبر مسلمانوں کو گواہ کرجائے۔ لیکن گواہ اگر مسلمان نہ مل سکیں جیسا کہ حالت سفر وغیرہ میں اکثر اتفاق ہوجاتا ہے تو پھر دو غیر مسلموں ہی کو گواہ بنا لے۔ پھر اگر ان گواہوں کی دیانت ہی سے متعلق شبہ ہوجائے اور وارث اپنا دعوی ان کے بیان کے خلاف پیش کردیں، لیکن گواہ نہ رکھتے ہوں تو اس وقت خود ان اوصیاء سے مؤکد بہ حلف بیان لیاجائے۔ کب اور کہاں ؟ بعد نماز کہ وہ وقت عموما عظمت الہی کے استحضار کا ہوتا ہے۔ اور مسجد میں کہ خلق کے سامنے انسان عادۃ کذب بیانی سے شرماتا ہے۔ (آیت) ” بعد الصلوۃ “۔ نماز سے یہاں مراد عموما نماز عصر لی گئی ہے، گوجائز ہر نماز کا وقت سمجھا گیا ہے۔ یرید صلاۃ العصر قالہ الاکثر من العلماء وقیل ای صلاۃ کانت (قرطبی) ای صلاۃ العصر کما روی عن ابی جعفر وقتادہ وابن جبیر وغیرھم وجوزان تکون اللام للجنس ای بعد ای صلاۃ (روح) (آیت) ” تحبسونھما من بعد الصلوۃ “۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا کہ اس سے مقصود قسم کی قوت اور اہمیت کو اور بڑھا دینا ہے۔ زمان متبرک اور مکان اجتماع خلق کی قید کے ساتھ (آیت) ” ولوکان ذا قربی “۔ انسان عموما اور عادۃ عزیزوں قریبوں ہی کے نفع کا لحاظ کرکے جھوٹ بولنے اور جھوٹا حلف اٹھانے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ خالق فطرت کا کلام ہے، فطرت بشری کے کیسے کیسے چھپے ہوئے چوروں کا لحاظ رکھا ہے۔ (آیت) ” شھادۃ اللہ “۔ یعنی جس بات کے بیان کرنے پر ہم اللہ کی طرف سے مامور ہیں۔ عظمت الہی کے استحضار اور خشیت قلب کے بیدار کرنے کے لئے قرآن مجید اسلوب بھی کیسے کیسے مؤثر اختیار کرتا ہے۔ یہاں محض شہادت کو شہادۃ اللہ سے تعبیر کرکے اس کی کتنی اہمیت بڑھا دی۔
Ayah 5:107

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر خبر ہوجائے کہ وہ دونوں (وصی) حق بات دباگئے،328 ۔ تو دو گواہ ان کی جگہ اور مقرر ہوں ان لوگوں میں سے جن کا حق دبا ہے (میت کے) قریب ترلوگوں میں سے،329 ۔ اور یہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ درست ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی ہے ورنہ بیشک ہم ہی ظالم ٹھیریں گے،330 ۔

328 ۔ یعنی ظاہرا ان گواہوں کا کاذب وخائن ہونا معلوم ہوجائے۔ (آیت) ” عثر علی “۔ یعنی اگر اس کی خبر ہوگئی۔ اگر یہ کھل گیا۔ عثر علی کذا ای اطلع علیہ (قرطبی) آیت کی ترکیب حضرت عمر ؓ جیسے اہل زبان صحابی اور زجاج جیسے نحوی کو دشوار معلوم ہوئی ہے اور دوسرے مفسرین کرام کا ذکر ہی نہیں۔ قال عمر ھذہ الایۃ اعضل ما فی ھذہ السورۃ من الاحکام وقال الزجاج اصعب ما فی القران من الاعراب (قرطبی) 329 ۔ اب مقدمہ کا رخ بدل گیا، اوصیاء جو پہلے مدعاعلیہ تھے ورثہ کے مقابل، اب خود مدعی ہوگئے۔ اور ورثہ جو اوصیاء کی خیانت کا دعوی لے کر آئے تھے اب مدعا علیہ بن گئے یعنی فی الایمان اوفی الشھادۃ (قرطبی) (آیت) ” یقومن مقامھما “۔ اگر دو کے بجائے ایک ہی گواہ ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (آیت) ” من الذین استحق علیھم الاولین “۔ یعنی ان لوگوں میں سے جنہیں مال وصیت پہنچتا تھا۔ یعنی میت کے قریب تر اور مال کے وارث۔ روی عن سعید بن جبیر قال معنی الاولیان بالمیت یعنی الورثۃ (جصاص) الاقربان الی المیت (کبیر) (آیت) ” اولین “۔ آیت میں بدل ہے فاخران سے۔ والمعنی عند اھل التفسیر من الذین استحقت علیھم الوصیۃ الاولیان بدل من قولہ فاخر ان قالہ ابن السری واختارہ النحاس (قرطبی) امام ابوحنفیہ (رح) نے اسی آیت سے ذمیوں کے آپس کے معاملات میں ان کے قبول شہادت کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ استدل ابوحنیفۃ بھذہ الایۃ علی جواز شھادۃ الکفار من اھل الذمۃ فی ما بینھم قال ومعنی اواخران من غیرکم ای من غیر اھل دینکم فدل علی جواز شھادۃ بعضھم علی بعض (قرطبی) (آیت) ” ضربتم فی الارض “۔ ضرب فی الارض کے معنی محاورہ میں سفر کرنے کے آتے ہیں (مطلق ضرب کے معنی سفر کرنے اور چلنے کے نہیں جیسا کہ آج کل کے ایک نادان فرقہ نے اپنی تفسیروں میں لکھ دیا ہے بلکہ جب فعل ضرب کا صلہ فی کے ساتھ آئے، اس وقت یہ معنی ہوجاتے ہیں) ای سافرتم (قرطبی) پوری تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ ان انتم ضربتم فی الارض فاصابتکم مصیبۃ الموت فاوصیتم الی اثنین عدلین فی ظنکم ودفعتم الیھما ما معکم من المال ثم متم وذھبا الی ورثتکم بالترکۃ فارتابوا فی امر ھما وادعوا علیھما خیانۃ فالحکم ان تحبسوھما من بعد الصلاۃ ای تستوثقوا منھما (قرطبی) اگر تم سفر کررہے ہو اور اس حال میں تمہیں موت آگئی اور تم نے اپنے خیال میں دومتدین شخصوں کو اپنا وصی مقرر کرکے مال ان کے سپرد کردیا اور تمہاری وفات ہوگئی، اور دونوں وصی تمہارا ترکہ لے کر تمہارے وارثوں کے پاس گئے اور ان لوگوں کو ان گواہوں کے بیان میں شک پیدا ہوا اور ان دونوں پر انہوں نے دعوی دائر کردیا تو اب چاہیے کہ نماز کے بعد ان دونوں گواہوں کو روک لو اور ان سے پوچھ پاچھ کرلو۔ 330 ۔ یہ سب تعلیم اس غرض سے مل رہی ہے کہ یہ گواہ بھی اپنی ذمہ داری کا خوب اچھی طرح احساس و استحضار کرلیں (آیت) ” وما اعتدینا “۔ یعنی ہم نے حق وصداقت سے ذرا تجاوز نہیں کیا ہے، نہ مال کے مطالبہ میں اور نہ اوصیاء پر الزام خیانت لگانے میں۔ ای مااعتدینا فی طلب ھذا المال وفی نسبتھم الی الخیانۃ (کبیر)
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

یہ اس کا قریب ترین (طریقہ) ہے کہ لوگ گواہی ٹھیک دیں یا اس سے ڈرے رہیں کہ ہماری ان کی قسموں کے الٹی پڑیں گی،331 ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے رہو اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا،332 ۔

331 ۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) اپنے تفسیری حاشیہ میں لکھتے ہیں، یعنی وارثوں کو شبہ پڑے تو قسم دینے کا حکم رکھا۔ اس لیے کہ قسم سے ڈر کر اول ہی جھوٹ نہ ظاہر کریں، پھر اگر ان کی بات جھوٹ نکلے تو وارث قسم کھائیں، یہ بھی اسی واسطے کہ وہ قسم میں دغا نہ کریں، جانیں کہ ہماری قسم الٹی پڑے گئی “۔ (موضح القرآن) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی قانون جو دو آیتوں میں بیان ہوا ہے۔ ای الحکم الذی ذکرنا والطریق الذی شرعنا (کبیر) (آیت) ” علی وجھھا “۔ یعنی مطابق حقیقت، بلاآمیزش۔ ای علی حقیق تھا من غیر تغییر لھا (روح) (آیت) ” اویخافوا “۔ ایمانھم “۔ اور اس ڈر سے جھوٹی قسم کھانے سے رک جائیں۔” اگر سپردگی مال زائد کی نہیں ہوئی تو قسم کھالیں اور اگر ہوئی ہے تو گناہ سے ڈر کر انکار کردیں۔ یہ حکمت تو تحلیف اوصیاء میں ہے “ (تھانوی (رح) اور ہم کو خفیف ہونا پڑے گا، یہ حکمت تحلیف ورثہ میں ہے “ (تھانوی (رح ) 332 ۔ یہ راہ ہدایت سے محرومی دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے حصہ میں آتی ہے جو گویا نافرمانی کو اپنا پیشہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس عادی نافرمانی کا وبال یہ پڑتا ہے کہ نہ دنیا میں انہیں راہ راست پر چلنے کی توفیق ہوتی ہے اور نہ آخرت میں انہیں اس کا ثمرہ یا جنت نصیب ہوگی، ای لایھدیھم الی حجۃ اوالی طریق الجنۃ (بیضاوی) (آیت) ” واتقوا اللہ “۔ یعنی تقوی الہی پر نظر اپنے تمام معاملات میں رکھو اور ادائے شہادت میں بھی (آیت) ” واسمعوا “۔ یعنی اللہ کے احکام کو سنتے اور مانتے رہو۔
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(اس دن سے ڈرو) جس دن اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا،333 ۔ پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا،334 ۔ وہ عرض کریں گے کہ ہم کو علم نہیں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جاننے وال تو بس تو ہی ہے،335 ۔

333 ۔ (مع ان کی امتوں کے) ذکر قیامت کے موقع کا ہے تقدیر کلام یوں ہے واتقوا یوم یجمع اللہ الرسل۔ بعض نے احذروا اور بعض نے اذکروا فرض کیا ہے، مقصود ہر صورت میں تخویف وتہدید ہے۔ قیل التقدیر واتقوا یوم یجمع اللہ الرسل عن الزجاج وقیل التقدیر اذکروا اواحذروایوم القیمۃ حین یجمع اللہ الرسل والمعنی متقارب والمراد التخویف والتھدید (قرطبی) 334 ۔ (ان امیتوں کی طرف سے) یعنی تمہاری دعوت آیا قبول کی یارد کی ؟ ماذا یہاں بماذا کے مرادف ہے۔ بای شیء اجبتم (بیضاوی) قیل التقدیر بما ذا اجبتم “۔ (روح) امت کے نافرمانوں کے مواجہہ میں یہ مکالمہ بجائے خود ایک عذاب ان نافرمانوں اور سرکشوں کے حق میں ہوگا۔ انہ ارادان یفضحھم علی رء وس الاشھاد لیکون ذلک نوعا من العقوبۃ لھم (قرطبی) امام رازی (رح) نے سچ کہا ہے کہ قرآن مجید کا ایک عام اسلوب بیان یہ ہے کہ احکام وشرائع کے مفصل بیان کے معا بعد یا تو ذکر صفات الہی کا شروع کردیا جاتا ہے یا حالات انبیاء کا، یا احوال قیامت کا، اور مقصود ان سب صورتوں میں ان احکام کی تعمیل کے لئے قلب کو زیادہ آمادہ کردینا ہوتا ہے چناچہ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ اعلم ان عادۃ اللہ تعالیٰ جاریۃ فی ھذا الکتاب الکریم انہ اذا ذکرانواعا کثیرۃ من الشرائع والتکالیف والاحکام اتبعھا اما بالالھیات واما بشرح احوال الانبیاء او بشرح احوال القیمۃ لیصیر ذلک موکدا لما تقدم ذکرہ من التکالیف والشرائع (کبیر) 335 ۔ یعنی ہمیں علم نہیں کہ ہمارے پیچھے انہوں نے کیا کیا یا یہ کہ ان کے واقعی عقائد کیا تھے ؟ ہم تو اپنے سامنے ان کے صرف ظاہری اقوال و اعمال کو جانتے تھے، باطن کا علم تو صرف تجھی کو ہوسکتا ہے اور جزا صرف انہیں اصل عقائد پر ملے گی، معناہ لاعلم لنا بباطن ما اجاب بہ اممنا لان ذلک ھو الذی یقع علیہ الجزاء (قرطبی) دوسری تفسیر اسی سے ملتی جلتی یہ بھی کی گئی ہے کہ یہ جواب محض غلبہ خشیت سے ادبا ہوگا۔ یعنی تیرے علم کامل و محیط کے آگے ہمارا علم ہیچ ہے۔ جو کچھ ہمیں علم ہے بھی، خود اس کا بھی تو ہم سے عالم تر ہے۔ بعض صحابیوں اور تابعین سے یہی معنی مروی ہیں۔ لاعلم لنا لانک تعلم ما اظھروا وما اضمروا ونحن لانعلم الا ما اظھروا فعلمک فیھم انفذ من علمنا (ابن عباس (رح) امام المفسرین ابن جریر طبری اور فخر المفسرین امام رازی (رح) دونوں نے اسی کو ترجیح دی ہے واولی الاقوال بالصواب قول من قال معناہ لاعلم لنا الا علم انت اعلم بہ منا (ابن جریر) وھو الاصح (کبیر) دونوں تفسیروں کے درمیان کچھ زیادہ فرق نہیں، امام رازی (رح) نے ایک تیسرے معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ہمیں جو کچھ حاصل ہے وہ محض درجہ ظن کی چیز ہے اور آج جو کشف حقائق کا دن ہے محض ظن کام نہیں دے سکتا، آج تو علم ہی کام دے گا اور وہ بس تجھی کو حاصل ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس ذہول کی وجہ بعض نے تجلی جلال کے آثار ظہور کو بتایا ہے۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

(وہ وقت یاد میں رکھو) جب اللہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) سے کہے گا کہ میرا انعام اپنے اور اپنی والدہ کے اوپر یاد کرو،336 ۔ جبکہ میں نے تمہاری تائید روح القدس (کے واسطہ) ،337 ۔ سے کی تھی تم آدمیوں سے کلام (ان کی) گود میں بھی کرتے تھے اور بڑی عمر میں بھی،338 ۔ اور جب کہ میں نے تمہیں کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل کی تعلیم دی،339 ۔ اور جب تم مٹی سے پرندہ جیسی ایک شکل میرے حکم سے وجود میں لاتے تھے پھر تم اس کے اندر پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا،340 ۔ اور تم مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کردیتے تھے اور جب تم مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑے کرتے تھے،341 ۔ اور جبکہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روک رکھا جب تم ان کے پاس روشن (نشانیاں) لے کر آئے تھے،342 ۔ پھر ان میں سے جو کفر اختیار کئے رہے وہ بولے کہ یہ تو اور کچھ نہیں، ایک کھلا ہوا جادو ہے،343 ۔

336 ۔ انعامات کا سرچشمہ صرف وہی ذات تبارک وتعالیٰ ہے، مسیح (علیہ السلام) اس کے صرف ایک انعام پائے ہوئے معزز ومقرب بندے ہیں، اور والدہ مسیح (علیہ السلام) اس کی صرف ایک انعام پائی ہوئی معزز ومقرب بندی۔ (آیت) ” عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) سے یاد دلادیا گیا کہ وہی جو ایک عورت کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں، نہ کہ ابن اللہ۔ (آیت) ” وعلی والدتک “۔ اس طریق تخاطب سے مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل اللہ کی اولاد میں ہونا بھی ایک نعمت وشرف ثابت ہوتا ہے۔ 337 ۔ مختلف انبیاء کی امتیازی شانیں بھی مختلف رہی ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان امتیازی یہ تھی کہ آپ کو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی تائید ایک درجہ خاص میں حاصل تھی، سورة آل عمران میں اس فقرہ اور لفظ روح القدس پر حاشیہ گزر چکے۔ 338 ۔ اس پورے فقرہ پر حاشیے سورة آل عمران میں گزر چکے۔ 339 ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) براہ راست حق تعالیٰ کے شاگرد تھے جیسا کہ اور سب انبیاء ہوئے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے حضرت خاتم النبیین ﷺ (آیت) ” الکتب “۔ یہاں بہ طور اسم جنس کے ہے۔ یعنی آسمانی کتابوں کی جنس۔ المراد منہ جنس الکتاب (کبیر) الکتاب والحکمۃ لان المراد بھما جنس الکتاب والحکمۃ (کشاف) (آیت) ” الحکمۃ۔ التورۃ۔ الانجیل۔ ان سب پر حاشیہ گزر چکے 340 ۔ ان سب معجزات پر حاشیے سورة آل عمران میں گزر چکے۔ معجزہ اصطلاح میں ہر اس خارق عادت کو کہتے ہیں جس کا ظہور پیغمبر کے ہاتھ سے کافروں اور منکروں پر پیغمبر کی تائید غیبی اور نصرت الہی کے اظہار کے لئے کرایا جاتا ہے۔ اور خارق عادت وہ واقعہ بھی ہے جو تکوینیات میں بندوں کے سمجھے اور قرار دیئے ہوئے کسی قاعدہ سے الگ ہومثلا عام قاعدہ بندوں کے مشاہدہ میں یہ آیا ہے کہ ہندوستان میں جون کے مہینہ میں تیز گرمی اور دسمبر میں تیز سردی پڑتی ہجے۔ اب اگر کسی پیغمبر کی دعا سے جون میں برف جمنے اور دسمبر میں لو چلنے لگے، تو یہ اس پیغمبر کا معجزہ کہا جائے گا۔ نیچر پرستوں یا منکرین معجزات کی پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ بندوں کے مشاہدہ و تجربہ کو خود قدرت کی طرف سے کسی مستقل قاعدہ یا قانون کا اعلان سمجھ بیٹھے اور دوسری غلطی یہ کہ قاعدوں اور قانون کو قانون ساز اور قاعدہ گر کی مرضی و ارادہ سے بےنیاز، خود مستقل، مستمر، لایزال، حقیقتیں سمجھ بیٹھے۔ (آیت) ” باذنی “۔ کی تکرار اس سارے سلسلۂ معجزات میں قابل غور ہے۔ جو کچھ بھی ہو رہا تھا بادی النظر میں کیسا ہی عجیب و غریب ہو، بہرحال تھا وہ اذن الہی قانون تکوینی ہی کی کسی نہ کسی دفعہ کے ماتحت۔ انما اعاد قولہ باذنی تاکیدا لکون ذلک واقعا بقدرۃ اللہ وتخلیقہ لابقدرۃ عیسیٰ وایجادہ (کبیر) (آیت) ” تخلق “۔ خلق کے معنی یہاں صورت بنانے کے ہیں۔ تخلق ای تصور (روح) ای تصورہ وتشکلہ علی ھیءۃ الطائر (معالم) (آیت) ” تنفخ فیھا “۔ میں ضمیر مونث ھیءۃ کی طرف نہیں بلکہ کھیءۃ کے، ک، کی جانب ہے۔ الضمیر للکاف لانھا صفۃ الھیءۃ التی کان یخلق عیسیٰ (علیہ السلام) ولا یرجع الی الھیءۃ المضاف الیھا لانھا لیست من خلقہ (کشاف) 341 ۔ ان سارے معجزوں پر بھی حاشیے سورة آل عمران میں گزر چکے۔ (آیت) ” باذنی “۔ کی تکرار ہر فقرہ میں بہت ہی قابل لحاظ ہے۔۔ پیغمبر کے سارے معجزات کی تہ میں کار فرما خالق کائنات ہی کا کوئی نہ کوئی قانون تھا۔ باذنی ای بفعلی ذلک عند دعائک (کبیر) ذکر الاذن فی ھذہ الافاعیل انما ھو علی معنی اضافۃ حقیقۃ الفعل الی اللہ تعالیٰ ۔ (کبیر) 342 ۔ یہ اشارہ ہے اس حقیقت تاریخی کی جانب ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی گرفتاری کی کوشش بار بار کی تھی اور ہر دفعہ اس میں ناکام رہے تھے۔ انجیل بھی اس تذکرہ سے خالی نہیں۔ مثلا ” انہوں نے اس کو مارنے کو پتھر اٹھائے مگر یسوع چھپ کر ہیکل سے نکل گیا “۔ (یوحنا 8 ۔ 59) ” انہوں نے پھر اس کے پکڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا “۔ (یوحنا 10 ۔ 39) (آیت) ” بالبینت “۔ بینات میں دلائل عقلی اور معجزات دونوں آگئے۔ ای الدلالات والعجزات (قرطبی) (آیت) ” اذجئتھم “۔ ضمنا سہی تاہم ایک بار پھر یہ حقیقت معرض بیان میں آگئی کہ حضرت کا خطاب صرف بنی اسرائیل سے تھا۔ ملاحظہ ہوں سورة آل عمران کے حاشیے۔ 343 ۔ یہود کی جو قدیم ترین کتابیں ملتی ہیں یعنی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے زمانہ ہی کی لکھی ہوئی ان میں بھی جو اس بیسویں صدی عیسوی میں یہ ودی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہیں۔ (آیت) ” الذین کفروا منھم “۔ سے مراد وہی یہود ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے منکر تھے عام اس سے کہ وہ اسرائیلی انبیاء سابقین کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں، یعنی الذین لم یومنوا بک وجحدوا بنبوتک (قرطبی)
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب میں نے حواریوں کو حکم دیا کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر، تو وہ بولے کہ ہم ایمان لے آئے اور آپ شاہد رہیے کہ ہم (پورے) فرمانبردار ہیں،344 ۔

344 ۔ یا یہ کہ ” ہم پورے مسلم ہیں۔ “ ” مسلم “۔ کا لفظ کوئی نوپیدا اصطلاح نہیں، انبیاء کے ماننے والے تو ہمیشہ اور ہر نبی کے دور میں میں مسلم ہی کہلائے ہیں۔ (آیت) ” واذاوحیت الی الحوارین “۔ حواری۔ پر حاشیہ سورة آل عمران میں گزر چکا۔ وحی کا اطلاق عربی زبان میں بہت وسیع ہے۔ وحی کے معنی قلب میں القاء یا الہام کے بھی ہوتے ہیں۔ الوحی کل شی دللت بہ من کلام او کتاب او اشارۃ اور سالۃ (ابن قتیبہ) والوحی فی کلام العرب معناہ الالھام۔۔۔ اے الھمتھم وقذفت فی قلوبھم (قرطبی) المراد بذلک الوحی الالھام والالقاء فی القلب (کبیر) قیل المراد بالوحی الیھم الھامہ تعالیٰ ایاھم (روح) عن السدی یقول قذفت فی قلوبھم (ابن جریر) قیل المراد بھذا الوحی وحی الھام (ابن کثیر) وحی کے یہ معنی تو لیکر آگے کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ لیکن وحی کو امر کے مرادف ہی قرار دیا گیا ہے۔ قال ابو عبیدۃ اوحیت بمنعی امرت وقیل اوحیت ھنا بمعنی امرتھم (قرطبی) وجاء استعمال الوحی بمعنی الامر فی کلام العرب کما قال الزجاج (روح) اس صورت میں صرف اتنا محذوف ماننا پڑے گا کہ ” اے عیسیٰ (علیہ السلام) تمہارے ذریعہ سے “ ای امرتھم فی الانجیل علی لسانک (روح) یحتمل ان یکون المراد اذ اوحیت الیہم بواسطتک (ابن کثیر)
Ayah 5:112

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

اور (وقت قابل ذکر ہے) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا پروردگار اس کو جائز رکھتا ہے کہ ہم پر کھانا آسمان سے اتارے،345 ۔ (اس پر عیسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا کہ اللہ سے ڈرو ! اگر ایمان رکھتے ہو،346 ۔

345 ۔ (آیت) ” یعیسی ابن مریم “۔ اس طرز خطاب سے صاف ظاہر ہے کہ حواری بھی آپ (علیہ السلام) کو ابن مریم ہی سمجھتے تھے۔ ابن اللہ کا کوئی شائبہ بھی ان کے خیال میں نہ تھا۔ (آیت) ” ھل یستطیع ربک “۔ حواری بہرحال صاحب ایمان تھے۔ سوال سے ان کی مراد بہ قول مفسر تھانوی (رح) یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی امر، مثلا اس کا خلاف حکمت ہونا، اس سے مانع تو نہیں ! المراد من ھذا الکلام استفھام ان ذلک ھل ھو جائز فی محکمۃ ام لا (کبیر) قیل ھذہ الاستطاعۃ علی ما تقتضیۃ الحکمۃ والارادۃ فکانھم قالوا ھل ارادۃ اللہ تعالیٰ و حکمتہ تعلقت بذلک اولا (روح) (آیت) ” مآئدۃ من السمآء “۔ مائدہ کے معنی طعام کے بھی ہیں اور خوان طعام کے بھی۔ المائدۃ فی المشھور الخوان الذی علیہ الطعام وتطلق المائدۃ علی نفس الطعام ایضا (روح) المائدۃ الطبق الذی علیہ الطعام ویقال لکل واحدۃ منھما مائدۃ (راغب) یہاں مراد کھانے ہی سے لی گئی ہے۔ قیل اتدعواطعاما (راغب) 346 ۔ یعنی بلاضرورت خرق عادت کی طلب و فرمائش آداب ایمانی کے بالکل خلاف ہے۔ اتقوا اللہ فی تعیین لمعجزۃ فانہ جار مجری التعنت والتحکم (کبیر) اتقوا اللہ من امثال ھذا السؤال واقتراح الایات (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں زجر ہے کہ اہل اللہ میں خوارق کو تلاش کیا جائے۔
Ayah 5:113

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ لوگ بولے کہ ہم تو (بس) یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور اپنے دلوں کو مطمئن کرلیں اور یقین کرلیں کہ آپ ہم سے سچ بولے ہیں اور اہم اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں،347 ۔

347 ۔ حواری اپنی صفائی میں یہ تقریر کررہے ہیں کہ سوال سے ہماری غرض کوئی بےادبی نہیں مقصود صرف اس قدر تھا کہ (آیت) ” ناکل منھا۔ ہم اس آسمانی غذا سے کچھ کھائیں اور اس سے لذت و برکت حاصل کریں، اکل تبرک (روح) (آیت) ” وتطمئن قلوبنا “۔ اور اس خرق عادت کے مشاہدہ سے ہمارا ایمان اور ترقی حاصل کرے۔ بازدیاد الیقین کماقال عطاء (روح) (آیت) ” ونعلم “۔ اور ہم مشاہدہ کی مزید قوت کے ساتھ یقین حاصل کرلیں۔ علم مشاھدۃ وعیان علی ما قدمناہ (روح) (آیت) ” ان قدصدقتنا کہ آپ اپنے دعوی نبوت میں بالکل سچے ہیں۔ ای انہ قد صدقتنا فی ادعاء النبوۃ (روح) ونکون علیھا من الشھدین “۔ اور اس کے بعد ہم دوسروں کے سامنے بھی گواہی دے سکیں کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسا معجزہ دیکھا ہے اور اسی طرح ان کی ہدایت کا ذریعہ بھی بن جائیں، عند من لم یحضرھا من بنی اسرائیل (روح) (آیت) ” نرید “۔ ارادہ یا تو اپنے عام معنی میں ہے، یا شوق و تمنا کے معنی میں۔ والا رادتۃ اما معناہ الظاہر اوبمعنی المحبۃ (روح)
Ayah 5:114

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے اللہ،348 ۔ اے ہمارے پروردگار ہمارے لئے ایک (خوان) طعام آسمان سے ایسا اتار دے کہ وہ ہمارے لئے (یعنی) ہم میں سے اگلوں اور پچھلوں کے لئے ایک جشن بن جائے اور تیری طرف سے ایک نشان ہوجائے تو ہمیں عطا کر اور تو ہی بہترین عطا کرنے والا ہے،349 ۔

348 ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا لیا کہ حواریوں کی غرض فاسد نہیں تو اب ان کے فرمائشی معجزہ کے لئے حضرت حق سے دعا ومناجات کی۔ 349 ۔ دعا کے الفاظ (آیت) ” اللھم ربنا، ورزقنا، وانت خیرالرزاقین “۔ کس کس طرح عقیدۂ الوہیت و ربوبیت والے ہیں، خوب خیال کرلیا جائے۔ (آیت) ” اللھم “۔ اور۔ ربنا۔ دونوں میں الوہیت و ربوبیت کا مکرر انتساب حق تعالیٰ کی جانب حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے ہے۔ (آیت) ” عیدا “۔ عید کہتے ہیں خوشی کو جو بار بار لوٹ کر آتی رہے۔ یعنی اپنے تہوار کا دن منالیں۔ العید السرور العائد (کشاف) یستعمل العید فی کل یوم فیہ مسرۃ (راغب) ای یکون یوم نزولھا عیدا (مدارک) (آیت) ” لاولنا واخرنا “۔ یعنی ہم لوگ جو موجود ہیں ان کے لئے بھی اور جو ہمارے بعد آئیں ان کے لئے بھی، ای لاھل زماننا ولمن یجیء بعدنا (روح) (آیت) ” ایۃ منک “۔ ایک الہی نشان بن جائے میری پیغمبری کا، کہ اس سے مومنین کا ایمان بڑھ جائے اور منکرین پر حجت قائم ہوجائے۔ ایۃ کائنۃ منک دالۃ علی کمال قدرتک وصحۃ نبوتی (روح) علی صحۃ نبوتی (مدارک) (آیت) ” من السمآء “۔ یہ لازمی نہیں کہ نزول آسمان ہی سے مراد ہے بلکہ صرف جہت آسمان سے بلندی بھی مراد ہوسکتا ہے۔ والمراد بھا اما المحل المعھود وھو المتبادر من اللفظ واما جھۃ العلو (روح)
Ayah 5:115

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ وہ کھانا ضرور تم پر اتار دوں گا۔ لیکن پھر جو کوئی تم میں سے کفر اختیار کرے گا اسے سزا بھی وہ دوں گا کہ وہ سزا دنیا والوں میں سے کسی کو بھی نہ دوں گا،350 ۔

350 ۔ ایسی کھلی ہوئی حس ومشاہدہ میں آئی ہوئی نعمت کا انکار جس شدید درجہ کی ناشکر گزاری ہے۔ سزا بھی اسی درجہ میں شدید ملے گی، اجر ایمان کا دارومدار غیبیت پر ہے اور جو واقعہ سلسلہ اسباب عادیہ سے اس قدر الگ ہو، جیسا کہ بلااسباب ظاہری بلکہ خلاف اسباب ظاہری، آسمان سے یا جہت آسمان سے تیار شدہ کھانے کا اتر آنا، نہایت بین اور معمول سے زیادہ نمایاں معجزہ ہے، اتنے کھلے ہوئے خارق عادت سے ایمان پر انکار گویا غیب ہی نہیں، کہنا چاہیے کہ شہود کے بعد بھی انکار پر قائم رہنا ہے۔ جو جحود کی قبیح ترین شکل ہے۔ اور ایسے جرم کی سزا بھی شدت جرم ہی کی مناسبت سے شدید ترین ہوگی، (آیت) ” انی منزلھا علیکم “۔ مفسرین کے ایک گروہ نے ان الفاظ سے یہ استنباط کیا ہے کہ نزول مائدہ ضرور واقع ہو کر رہا، لیکن مفسرین ہی کے دوسرے گروہ نے ان الفاظ کے ساتھ اس کی بھی قید لگا دی ہے۔ یعنی ان سالتم اور نزول سے انکار بعض تابعین تک سے منقول ہے فقال مجاھد والحسن لم تنزل (معالم)
Ayah 5:116

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی قابل یاد رکھنے کے ہے) جب اللہ فرمائے گا،351 ۔ کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم (علیہ السلام) کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ ” خدا کے علاوہ مجھے اور میری والدہ کو بھی معبود بنالو “ ؟ ،352 ۔ (عیسی علیہ السلام) عرض کریں گے، پاک ہے،353 ۔ تو میرے لئے یہ کسی طرح بھی ممکن نہ تھا کہ میں ایسی بات کہہ دیتا جس کا مجھے کوئی حق ہی نہ تھا اگر میں نے کہا ہوتا تو یقیناً تجھے اس کا علم ہوتا،354 ۔ تو جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے، اور میں نہیں جانتا جو کچھ تیرے دل میں ہے، بیشک تو ہی تو ہے پوشیدہ چیزوں کا خوب جاننے والا،355 ۔

351 ۔ (قیامت کے دن) قال قتادۃ وابن جریج و اکثر المفسرین انما یقول لہ ھذا یوم القیامۃ (قرطبی) الجمھور علی ان ھذا السؤال یکون فی یوم القیامۃ (مدارک) قال سائر المفسرین انما یقول اللہ لہ ھذا القول یوم القیامۃ (معالم) 352 ۔ مسیح پرستی تو خیر موجودہ مسیحیت کے مرادف ہی ہے۔ لیکن مریم پرستی بھی مسیحی دنیا کا کوئی غیرمعمولی واقعہ نہیں، دعائیں اس ” خدائی کنواری “ کو مخاطب کرکے کی جاتی ہیں، نذریں نیازیں ان کے نام پر کی جاتی ہیں۔ کیتھولک گرجاؤں میں قد آدم تصویریں ان کی لگی ہوتی ہیں جن کے آگے مراسم پرستش بجالائے جاتے ہیں۔ مریم پرستی پر مزید معلومات کے لئے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ سوال سے مقصود ظاہر ہے کہ استفہام واستفسار نہیں، بلکہ مسیح پرستوں اور مریم پرستوں پر مزید حجت قائم کرنا اور انہیں اور زیادہ خجل ولا جواب کرنا اور انہیں خود انہی کی نظر میں ذلیل کرنا ہے۔ ولیس ھو باستفھام۔۔ انہ سالہ عن ذلک توبیخا لمن ادعی ذلک علیہ لیکون انکارہ بعد السوال ابلغ فی التکذیب واشد فی التوبیخ والتقریع (قرطبی) 353 ۔ (ہر قسم کی شرکت کی آلودگی سے، اور ہر ایسے انتساب سے جو تیری شان کے لائق نہ ہو) 354 ۔ (میری مجال تھی کہ میں ایسا صریح کلمہ باطل زبان سے نکال سکتا) فخر المفسرین امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ حق تعالیٰ کے براہ راست (آیت) ” ءانت قلت للناس “ کا جواب براہ راست (آیت) ” ماقلت “۔ دینے اور یوں اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے اسے تمامتر علم الہی کے حوالہ کردیا اور یہی مقام ادب و تواضع کے زیادہ مناسب بھی تھا۔ فلم یقل بانی ماقلت ھذا الکلام لان ھذا یجری مجری دعوی الطھارۃ والنزاھۃ والمقام مقام الخضوع والتواضع (کبیر) 355 ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ بالفرض میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوتی تو وہ ضرور ہی تیرے علم میں ہوتی اور جب تیرے علم میں نہیں، تو ظاہر ہے کہ وہ سرے سے واقع ہی نہیں ہوئی، میرے ناقص و محدود علم اور تیرے کامل وغیرمحدود علم کا مقابلہ ہی کیا، میری ہر چھپی ہوئی چیز آپ تجھ پر روشن، لیکن تیری کوئی سی بھی چھپی ہوئی چیز مجھ پر روشن نہیں، اور ایک میرے ہی مغیبات پر کیا موقوف ہے، تجھ پر تو ہر غیب روشن ہے۔ (آیت) ” انک انت علام الغیوب “۔ سے مقصود حق تعالیٰ کے علم محیط وکامل کا اثبات ہے۔ اور اس میں راد آگیا بہت سی مشرک قوموں کے عقائد واہیہ کا۔ (آیت) ” مافی نفسک “۔ بعض اہل باطل نے حق تعالیٰ کی تجسیم نکالنا چاہی ہے، اور کہا ہے کہ نفس سے مراد شخص ہوتی ہے۔ لیکن جیسا کہ امام رازی (رح) نے فرمایا اول تو نفس وذات مرادف ہیں۔ شخصیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ النفس عبارۃ عن الذات یقال نفس الشیء وذاتہ بمعنی واحد (کبیر) قال الزجاج النفس عبارۃ عن جملۃ الشیء وحقیقتہ یقول تعلم جمیع مااعلم من حقیقۃ امری ولا اعلم حقیقۃ امرک (معالم) ای ذاتک فنیفس الشیء وھو یتہ والمعنی تعلم معلومی ولا اعلم معلومک (مدارک) اور پھر نفسی کے مقابلہ میں (آیت) ” نفسک “ لانا ہی بہ قاعدہ مشاکلت عربی اسلوب بیان میں فصیح تر ہے۔ ذکر ھذا الکلام علی طریقا المطابقۃ والمشاکلۃ وھو من فصیح اللکلام (کبیر)
Ayah 5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں کہا تھا بجز اس کے کہ جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا یعنی یہ کہ میرے اور اپنے پروردگار اللہ کی پرستش کرو،356 ۔ میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا پھر جب تو نے مجھے (دنیا سے) اٹھا لیا (جب سے) تو ہی ان پر نگران ہے اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے،357 ۔

356 ۔ موجودہ انجیلیں بھی باوجود اپنی تثلیثی شرک کے اس توحیدی تعلیم کو مٹا نہ سکیں :۔ ” یسوع نے اس سے کہا، اے شیطان دور ہو، کیونکہ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر، تب ابلیس اس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آکر اس کی خدمت کرنے لگے “ (متی۔ 4: 10، 1 1) ” یسوع نے جواب میں اس سے کہا۔ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر، اور صرف اسی کی عبادت کر “ (لوقا۔ 4:8) (آیت) ” ان اعبدوا “۔ میں ان مفسرہ ای کے مرادف ہے۔ ان مفسرۃ بمعنی ای (مدارک) ان مفسرۃ (کبیر) حضرت کا یہ کلام آپ کی کمال عبدیت اور انتہائی عبودیت پر دلالت کررہا ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے اس پیام توحید کو بھی براہ راست اپنی جانب منسوب نہیں کردیا کہ میں انہیں یہ پیام دے آیا تھا، بلکہ یوں عرج کیا کہ میں تو وہی کہہ آیا تھا جس کا تو نے ہی حکم دیا تھا، پیام توحید بھی میری اپنی طرف سے نہ تھا، تیرے ہی ارشاد کی تعمیل یہ بھی تھی، 357 ۔ آیت میں ایک بار پھر حضرت حق کے علم محیط وکامل کا اثبات ہے۔ (آیت) ” کنت علیھم شھیدا مادمت فیھم “۔ یعنی میں جب تک دنیا میں موجود رہا۔ میری امت کا حال میرے علم ومشاہدہ میں آتا رہا۔ (آیت) ” فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم “ یعنی جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا۔ اس کے بعد سے مجھے کچھ خیر خبر نہیں۔ (آیت) ” توفیتنی “۔ یہ لفظ دونوں مفہوموں کو شامل ہے۔ زندہ آسمان پر اٹھا لیے جانے کو بھی اور دوبارہ اپنے وقت اصلی پر وفات کو بھی۔ المراد منہ وفاۃ الرفع الی السماء (کبیر) ای قبضتنی بالرفع الی السماء کما یقال توفیت المال اذا قبضتہ وروی ھذا عن الحسن وعلیہ الجمھور (روح)
Ayah 5:118

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

تو اگر انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ ،358 ۔ اور اگر تو انہیں بخش دے تو بھی تو زبردست ہے حکمت والا ہے،359 ۔

358 ۔ (اور تو ان کا مالک ومختار ہے، تو جو چاہے ان کے ساتھ سزا کا معاملہ کرے، میں دخل دینے کی مجال نہیں رکھتا) 359 ۔ تو ان کی مغفرت ہی کردینا چاہے تو کون روک سکتا ہے۔ تو سب پر غالب، (آیت) ” العزیز “۔ ہے تیرا ارادہ سب پر حاکم ومقتدر لیکن تو اسی کے ساتھ (آیت) ” الحکیم “۔ بھی تو ہے، تیرا کوئی فیصلہ خلاف حکمت ہو نہیں سکتا، تو کرے گا وہی جو تیرے آئین حکمت ومصلحت کے مطابق ہوگا۔ میں ایک بندہ ہو کر اس میں دخل دینے والا کون ؟ یعنی انت قادر علی ما ترید، حکیم فی کل ما تفعل لا اعتراض لا حد علیک فمن انا والخوض فی احوال الربوبیۃ (کبیر) واضح رہے کہ یہ ساری گفتگو قیامت میں ہوگی۔ جہاں کافروں اور منکران دین حق کے لیے کوئی محل ہی شفاعت کا نہیں۔ یہیں سے یہ ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اس کلام میں ان کے پیغمبر جلیل القدر ہونے کے باوجود کوئی شائبہ شفاعت کا نہیں۔ بلکہ مقصود تمامتر اللہ کی طرف تفویض ہے۔ ومقصودہ منہ تفویض الامور کلھا الی اللہ وترک التعرض والاعتراض بالکلیۃ (کبیر) دل ذلک علی ان غرضہ تفویض الامر بالکلیۃ الی اللہ تعالیٰ وترک التعرض لھذا الباب من جمیع الوجوہ (کبیر) ضمنا حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اس کلام سے تردید بھی مسیحیوں کے اس عقیدہ کی نکل آئی کہ قیامت میں عدالت کا کام خدا کے نہیں، خدا کے بیٹے کے ہاتھ میں ہوگا، چناچہ موجودہ انجیل میں ہے :۔ ” باپ کسی کی بھی عدالت نہیں کرتا، بلکہ اس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے “ (یوحنا۔ 5:23)
Ayah 5:119

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا آج وہ دن ہے جب سچوں کے کام ان کا سچ آئے گا،360 ۔ ان کیلئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ ہمیش کو رہیں گے اللہ ان سے خوش رہا اور وہ اللہ سے خوش رہے، یہی بڑی کامیابی ہے،361 ۔

360 ۔ حق تعالیٰ کا یہ ارشاد اوپر کے سب مکالمات ومخاطبات کے بعد ہوگا۔ (آیت) ” صدقین “۔ وہ ہیں جو دنیا میں عقائد صحیحہ و اعمال پر قائم رہے ہوں۔ المعنی ان صدقھم فی الدنیا ینفعھم فی القیامۃ (کبیر) اس کے تحت میں انبیاء کے علاوہ عام مومنین بھی داخل ہیں۔ 361 ۔ (آیت) ” یہ بڑی کامیابی یا فوز عظیم کس چیز کو کہا گیا ہے ! جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ یہ اشارہ پوری آیت کی جانب، یعنی نعمت جنت اور نعمت رضوان الہی سب کی جانب ہے۔ الجمھور علی ان قولہ ذلک عائد الی جملۃ ما تقدم من قولہ لھم جنات الی قولہ ورضواعنہ (کبیر) لیکن امام رازی (رح) نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ (آیت) ” الفوز العظیم “۔ کا تعلق صرف رضوان الہی سے ہے جس کے مقابلہ میں جنت کی عام نعمتوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔ وعندی انہ یحتمل ان یکون ذلک مختصا بقولہ رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ فانہ ثبت عند ارباب الالباب ان جملۃ الجنۃ بما فیھا بالنسبۃ الی رضوان اللہ کالعدم بالنسبۃ الی الوجود وکیف والجنۃ مرغوب الشھوۃ والرضوان صفۃ الحق وای مناسبۃ بینھما (کبیر) امام موصوف تصوف کے بھی ذوق شناس تھے، خدا جانے خشک متکلم کیسے مشہور ہوگئے، خودبھی خشک متکلموں سے عاجز تھے۔ چناچہ یہیں اپنا خیال لکھ کر فرماتے ہیں :۔ وھذا الکلام یشمئز منہ طبع المتکلم الظاھری ولکن کل میسر لما خلق (کبیر) (آیت) ” ابدا “۔ صراحت کے ساتھ یہ دوام اور ہدایت کی خوشخبری اہل جنت ہی کے حصہ میں آئی ہے۔ ورنہ اہل دوزخ کے لیے وعید صرف لفظ خلود کی حد تک ہے۔ اشارۃ الی الدوام (کبیر)
Ayah 5:120

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ انمیں ہے اس (سب) کی اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،362 ۔

362 ۔ مخلوقات پر حکومت وسلطنت جو کچھ ہے وہ خدائے واحد ویکتا کی ہے۔ نہ کہ کسی فرزند خدایا مظہر خدا وغیرہ کی (آیت) ” مافیھن “۔ ما غیر ذوی العقول یا بےجانوں کے واسطے آتا ہے، اور من ذوی العقول کے لیے۔ امام رازی (رح) نے یہ سوال قائم کرکے کہ یہاں من کے بجائے ما کا استعمال کیوں ہوا ہے۔ جواب یہ دیا ہے کہ ساری مخلوقات اپنے مسخر ہونے کے اعتبار سے خالق کی قضاوقدرت کے آگے ایسی ہیں کہ جیسے ان میں جمادات کی طرح نہ کوئی قوت ہے، اور نہ بہائم کی طرح عقل ہے۔ اللہ کی قدرت کے سامنے وہ گویا بےقدرت اور اللہ کے علم کے سامنے وہ گویا لاعلم ہیں۔ ولم یقل ومن فیھن فغلب غیر العقلاء علی العقلاء والسبب فیہ التنبیۃ علی ان کل المخلوقات مسخرون فی قبضۃ قھرہ وقدرتہ وقضاۂ وقدرہ وھم فی ذلک التسخیر کالجمادات التی لا قدرۃ لھا وکالھائم التی لاعقل لھا فعلم الکل بالنسبۃ الی علمہ کلا علم وقدرۃ الکل بالنسبۃ الی قدرتہ کلاقدرۃ (کبیر)