Ayah 5:744 ۔ (اور اس کی بڑی نعمت یہی ہے کہ اس نے فلاح دنیوی واخروی کے طریقے اس تفصیل اور اس تکمیل کے ساتھ تمہیں بتا دیئے ہیں) (آیت) ” النعمۃ ھنا الاسلام (بحر) وھی نعمۃ الاسلام (روح) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ (آیت) ” نعمۃ اللہ “۔ سے یہاں مراد ان نعمتوں کی تعداد نہیں بلکہ جنس نعمت ہے۔ (آیت) ” نعمۃ “۔ بہ طور اسم جنس مستعمل ہوا ہے۔ اس لیے ضرورت صیغہ جمع کی نہیں پڑی۔
45 ۔ (آیت) ” میثاقکم “۔ اس سے کون سا عہد مراد ہے ؟ ایک گروہ کا خیال ہے کہ اس سے مراد عالم ارواح کا وہ عہد ہے جو سارے بنی آدم سے اقرار ربوبیت کی بابت لیا گیا تھا، قال مجاہد وکلبی ومقاتل ھو المیثاق الذی اخذہ اللہ تعالیٰ منہم حین اخرجھم من ظہر ادم (کبیر) روح انسانی کے اندر جو فطری طلب خدا رسی کی اور طبعی خواہش خدا طلبی کی ہے، یہ اسی عہد کا عملی ظہور ہے۔ لیکن خطاب یہاں عام نوع بشر سے نہیں، بلکہ اہل ایمان سے ہے۔ اس لیے آسان اور بےتکلف صورت یہ ہے کہ وہ عہد مراد لیا جائے جو ہر کلمہ گو اسلام قبول کرتے وقت کرتا ہے یعنی تعمیل احکام کا اجمالی عہد۔ قیل المیثاق اقرار کل م من بما ائتمربہ (بحر) اس سے بھی زیادہ دلشنین تفسیر یہ ہے کہ میثاقکم سے مراد بیعت و اطاعت کے وہ عہد ہیں، جو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے لیے تھے ابن عباسؓ اور سدی وغیرہم سے یہی معنی مروی ہیں، والذی علیہ الجمھور من المفسرین کا بن عباس ؓ والسدی ھو العھد والمیثاق الذی جری لھم مع النبی ﷺ علی السمع والطاعۃ من المنشط والمکرہ کما جری لیلۃ العقبۃ وتحت الشجرۃ۔ (قرطبی) المراد ھو المواثق التی جرت بین رسول اللہ ﷺ وبینہم فی ان یکونوا علی السمع والطاعۃ فی المحبوب والمکروہ (کبیر) وھذہھی البیعۃ التی کانوا یبایعون علیھا رسول اللہ ﷺ عند اسلامہم (ابن کثیر) وذلک حین بایعوا رسول اللہ ﷺ علی السمع والطاعۃ فی ما احبوا وکرھوا وھو قول المفسرین (مالم) ایسے عہد تو لیے تھے رسول اللہ ﷺ نے لیکن حق تعالیٰ نے ان کے اہتمام شان کے اظہار کے لیے انہیں منسوب اپنی ہی جانب فرمایا۔ واضافۃ تعالیٰ الی نفسہ کما قال انما یبایعون اللہ فبایعوا رسول اللہ ﷺ (قرطبی) انہ تعالیٰ اضاف المیثاق الصادر عن الرسول سدی تابعی سے یہ تفسیر بھی منقول ہے کہ اس سے میثاق سے مراد حقانیت اسلام کے دلائل عقلی ونقلی ہیں، اور متکلمین نے عموما یہی معنی اختیار کیے ہیں، قال السدی المراد بالمیثاق الدلائل العقلیۃ والشرعیۃ نصبھا اللہ تعالیٰ علی التوحید والشرائع وھو اختیار اکثر المتکلمین، (کبیر)
46 ۔ اس حقیقت کے استحضار سے تعمیل احکام میں اخلاص کا پیدا ہوجانا لازمی ہے۔ ورنہ عمل بلا اخلاص سے تو محض مشقت ہی مشقت ہاتھ رہے گی۔ (آیت) ’ ’ واتقواللہ “۔ سے ڈرنا یہ ہے کہ اس کے احکام کی مخالفت سے بچو۔ پہلے یہ تھا کہ تعمیل احکام میں نفع تمہارا ہی ہے۔ اپنی خیرخواہی کا تقاضایہ ہے کہ ان احکام پر عمل کیا جائے۔ پھر یہ یاد دلا دیا کہ تم عہد ومعاہدہ بھی تو کرچکے ہو، اب اخلاقی فرض ان معاہدوں کو پورا کرنا ہے اب (آیت) ” واتقوا اللہ “۔ میں اشارۃ یہ بتایا جارہا ہے کہ مخالفت وعدم تعمیل میں ضرر بھی تمہارا ہی ہے۔
Ayah 5:847 ۔ (آیت) ” قومین للہ “۔ یعنی اللہ کے احکام کی پوری پابندی کرتے رہو “۔ معناہ کونوا قوامین للہ بالحق فی کل ما یلزمکم القیام بہ من الامر بالمعروف والعمل بہ والنھی عن المنکر واجتنابہ (جصاص) والمراد حثھم علی الانقیاد لتکالیف اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” للہ “۔ یعنی کی رضاجوئی کے لیے لاجل ثواب اللہ (قرطبی) مطلب یہ ہوا کہ حقوق اللہ کی ادائی میں ہمہ وقت مستعد رہو۔ اشارۃ الی التعظیم لا مرا للہ (کبیر) (آیت) ” شہدآء بالقسط “۔ یعنی ہر معاملہ میں مرتبہ انصاف کا لحاظ رکھو، یہ تاکید ہوئی حقوق العباد کی ادائی ہوئی۔ اشارۃ الی الشفقۃ علی خلق اللہ (کبیر)
48 ۔ گویا ادائے حقوق ہی کا دوسرا نام تقوی ہے (آیت) ” الاتعدلوا اعدلوا “۔ یہ بالکل حکیمانہ ترتیب کے مطابق پہلے ممانعت ناانصافی اور زیادتی سے ہوئی۔ پھر اس سلب کے بعد ایجابی حکم عدل کا ملا۔ (آیت) ” شنان قوم “۔ جس قوم یا جماعت سے مسلمانوں کو بہ حیثیت مسلمان کے دشمنی ہوگی ظاہر ہے کہ وہ دشمن اسلام کافروں ہی کی ہوگی، تو گویا تاکید اس کی ہوئی کہ دشمنوں تک کے ادائے حقوق میں کمی نہ کرو، اللہ اللہ ! دنیا کا کون قانون ایسا ملے گا، جس نے اپنے باغیوں اور معاندوں تک کے حقوق کی یہ رعایت رکھی ہو ! فقہا نے آیت سے یہ حکم نکالا ہے کہ کافر کا کفر اسے اس سے محروم نہیں کردیتا کہ اس کے حق میں عدل کیا جائے، یا اس کے حقوق ادا کیے جائیں۔ دلت الایۃ علی ان کفر الکافر لا یمنع من العدل علیہ (قرطبی) اور عدل کا وجوب جب کفر کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے، تو کفر سے کمتر درجہ کی چیزوں، فسق، بدعت وغیرہ کے ساتھ اس کا وجوب کیونکر نہ جمع ہوگا۔ جب منکروں، باغیوں، سرکشوں کے ساتھ عدل واجب ہے تو توحید و رسالت کے قائلوں کے ساتھ یہ وجوب کتنا اور مؤکد ہوگا ! اکابر شارحین نے اس طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔ فیہ تنبیہ عظیم علی ان وجوب العدل مع الکفار الذین ھم اعداء اللہ اذا کان بھذہ الصفۃ من القوۃ فما الظن بوجوبہ مع ال مومنین (کشاف، کبیر۔ مدارک) وفی الایۃ تنبیۃ علی مراعاۃ حق ال مومنین بالعدل اذا کان تعالیٰ قد امر اللہ بالعدل مع الکافرین (بحر) شدت غضب میں کون اپنے آپ پر قابو رکھ سکا ہے۔ یہاں تاکید اسی کی ہورہی ہے کہ جو غصہ تمہارے دلوں میں کافروں کے خلاف ہے وہ کہیں تمہیں ان کے مقابلہ میں زیادتی پر نہ آمادہ کردے۔ تو زیادتی نہ ہونے پائے۔ عدل و اعتدال کا لحاظ ہر معاملہ میں رہے۔ عداہ بعلی لتضمنہ معنی الحمل والمعنی لا یحملنکم شدۃ بغضم للمشرکین علی ترک العدل فیھم فتعتدوا بارتکاب مالا یحل (بیضاوی) نھاھم اولا عن ان یحملھم البغضاء علی ترک العدل ثم استانف فصرح لھم بالامر بالعدل تاکیدا وتشدیدا (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ معاملات میں طبیعیات پر عمل نہ کرنا ایک مجاہدہ ہے، اور یہاں اسی کی تعلیم ہے۔
49 ۔ اللہ کی اس ہمی بینی وہمی دانی کا استحضار ہی تقوی کی ہر منزل اور ہر مرحلہ کو آسان بنا سکتا ہے۔ اسی لیے یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں تقوی کا حکم ہے، اکثر اسی کے متصل ہی اس مضمون کا بھی بیان ملتا ہے۔ اسی سے ملتی جلتی ایک آیت پارۂ پنجم، سورة النساء میں بھی آئی ہے۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شھدآء للہ “۔ الخ۔ مفسرتھانوی (رح) نے خوب فرمایا کہ معاملات میں بےانصافی کے سبب عموما دو ہی ہوتے ہیں۔ یا تو کسی فریق کی رعایت ومروت اور یا کسی فریق کی عداوت ومخالفت سورة النساء میں اقامت عدل کا حکم اول کی مناسبت ہے، اور یہاں سبب دوم کی مناسبت ہے۔
Ayah 5:950 ۔ (آیت) ” وعداللہ “۔ آیت میں جان ڈال دینے والا لفظ یہی وعدۂ الہی ہے اہل ایمان کے لیے کس قدر شوق افزاء اور کس درجہ محرک عمل ! (آیت) ” اجرعظیم “۔ اللہ جس اجروصلہ کو ” عظیم “ کہے، کون بندہ اس کا اندازہ بھی کرسکتا ہے ؟
Ayah 5:1051 ۔ (آیت) ” اصحب الجحیم “۔ صاحب میں مفہوم عارضی وہنگامی اجتماع کا نہیں، بلکہ مستقل اور طویل تعلق کا پایا جاتا ہے۔ اس لیے کافروں کو اصحاب دوزخ کہنے کے معنی یہ ہوئے کہ وہ گویا دوزخ ہی کے لیے بنے ہیں یا دوزخ انہی کے لیے بنی ہے اگر صرف وعید کی صورت ہوتی تو کچھ امیدنجات کی باقی بھی رہ جاتی۔ الصاحب الملازم ولا یقال فی العرف الالمن کثرت ملازمتہ (راغب) والمصاحبۃ والاصطحاب ابلغ من الاجتماع لاجل ان المصاحبۃ تقتضی طول لبثہ (راغب) ای ملا بسوالنار الشدیدۃ التاجج ملابسۃ مؤبدۃ (روح) فخر المفسرین فخر رازی (رح) نے حسب معمول اس موقع پر بھی ژرف نگاہی سے کام لیا ہے۔ اور دوسرے بھی ان کی راہ پر چلے ہیں :۔ یفید الحصر والمصاحبۃ تقتضی الملازمۃ کما یقال اصحاب الصحراء ای الملازمون لھا (کبیر) فھم دائمون فی عذاب اذ حتم لھم انہم اصحاب الجحیم ولم یات بصورۃ الوعید فکان یکون الرجاء لھم فی ذلک (بحر) لم یؤت بالجملۃ فی سیاق الوعید قطعا لرجاءھم (روح) اور آیت ہی سے یہ نکتہ بھی خوب نکالا ہے کہ خلود جہنم کفار ہی کے لیے ہے۔ فھذہ الایۃ نص قاطع فی ان الخلود لیس الالکفار (کبیر)
Ayah 5:1152 ۔ (اور اس تنبیہ کے ساتھ کہ تمہارا خاتمہ ہی کردیں۔ اور ظاہر میں قرائن بھی ان کے اسی ارادہ کی تائید میں تھے) (آیت) ” یبسطوا الیکم ایدیھم “۔ بسط ید کے ایک معنی عربی محاورہ میں حملہ کرنے، پکڑنے، مارنے کے ہیں، اور وہی یہاں مراد ہیں۔ یستعمل تارۃ للصولۃ والضرب (راغب) یقال بسط الیہ یدہ اذا بطش بہ (کبیر) اردو میں بھی ” درازدستی “ ایسے ہی موقعوں کے لیے ہے۔ (آیت) ” اذ ھم قوم “۔ یہ کون لوگ تھے ؟ مخالفین ومعاندین سے مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ سوال یہ رہ جاتا ہے کہ یہاں متعین طور پر کن کی جانب اشارہ ؟ اشارہ اگر اسلام کی ابتدائی تاریخ کی طرف سمجھا جائے، تو اس وقت تو سب سے بڑے دشمن مشرکین قریش تھے۔ اور ارباب تفسیر کا ایک گروہ اسی جانب گیا ہے۔ وھم المشرکون (کبیر) روی ابو صالح عن ابن عباس انھا نزلت من اجل کفار قریش (بحر) اور اگر مراد بابعد کے زمانہ سے لی جائے، تو اس وقت سب سے پر قوت مخالفین یہود عرب تھے، اور ایک گروہ سے یہی تفسیر منقول ہے موقع نزول کی روایتیں متعدد ہیں، لیکن ان تعارض وتناقض کچھ بھی نہیں، اور قوم کے لفظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی جماعت ہی مراد ہو۔ کوئی مخصوص لیڈریاسرغنہ بھی مراد ہوسکتا ہے۔ لایخفی ان سبب النزول یجوز تعددہ وان القوم قد یطلق علی الواحد (روح)
53 ۔ (بلکہ آخر میں تمام قرآئن ظاہری کے خلاف تمہی کو کامیاب اور غالب کردیا) کف ید۔ بسط ید کی ضد ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ دشمنوں نے تم پر حملہ کرکے تمہارا قلع قمع کردینا چاہا تھا، لیکن اللہ نے ان کے حملوں کا ناکام رکھا، اور ان کے منصوبے خاک میں ملادیئے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں رد ہے ان افراد پسند جاہلوں کا جو اللہ کی دینوی نعمتوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔
54 ۔ (جیسا کہ اب تک ڈرتے رہے ہو) غلبہ و کامیابی کی مسرت کو یاد دلا کر معا بعد معا تقوی الہی کے استحضار سے صاف اشارہ اس امر کی طرف پایا جاتا ہے کہ غلبہ و کامیابی میں بڑا دخل تقوی الہی کو ہے، قناعت، بےطمعی، بےنفسی، ہمدردی، صداقت شعاری، ایثار، حفظ حدود غرض سیرت وکردار کی ساری انفرادی واجتماعی خوبیاں اس ایک جامع لفظ ” تقوی “۔ کے اندر آگئیں۔
55 ۔ (نہ کہ اپنے دست وبازو، اپنی ہمت وتدبیر پر) کامیابی و کامرانی کے بعدبڑا خطرہ یہی رہتا ہے کہ گھمنڈ اپنی قوت بازو اور اپنی عقل وفرزانگی پر ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید انسان کو پست ہمتی اور تعطل کی تعلیم ہرگز نہیں دیتا، اسے سرگرم عمل برابر رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کا بھی روادار نہیں کہ انسان خود پرستی کی لعنت میں مبتلا ہوجائے۔ وہ تعلیم باربار اسی کی دیتا ہے۔ کہ نظراسباب سے بڑھ کر مسبب الاسباب پر رکھنا چاہیے۔ اسی نے پہلے بھی بگڑے کام بنائے تھے، اور اسی کی ذات کا سہارا آخرت تک قائم ہے۔
Ayah 5:1256 ۔ (ان کی اطاعت ووفاداری کا، ان کے پیغمبروں کے واسطے سے) ابھی تاکید اللہ پر اعتماد اور اس کے احکام کی تعمیل کی آچکی ہے، اس شہادت بنی اسرائیل کی تاریخ سے لائی جارہی ہے کہ دیکھو اس موحد قوم نے جب نافرمانی اختیار کی کیسے کیسے وبال میں پڑنے لگی۔
57 ۔ (ان کے قبیلوں کی تعداد کے مطابق) قوم اسرائیل 12 قبیلوں میں تقسیم تھی، اور ہر ہر قبیلہ کا ایک ایک سردار تھا۔ 12 سرداروں کا قرآنی عدد، توریت کے بیان کے عین مطابق ہے۔ تو ریت میں ہے کہ مصر سے نکلنے کے دوسرے برس خداوند نے موسیٰ کو خطاب کرکے فرمایا :۔ ” تو بنی اسرائیل کی ساری جماعت کا، مطابق ان کے فرقوں کے اور ان کے آبائی خاندانوں کے اسم شماری کے ساتھ ہر ایک مرد سے سے سر کر حساب کر۔۔ اور ہر فرقہ سے ایک ایک آدمی ہر ایک جو اپنے اپنے آبائی خاندان کا سردار ہے تمہارے ساتھ ہو “۔ (گنتی۔ 1:2 ۔ 4) آگے ان سرداروں کے نام درج ہیں، اور وہ تعداد میں 12 ہیں، اسی طرح توریت میں ایک دوسری جگہ، کنعان (فلسطین) پر فوج کشی سے ذرا قبل کے موقع پر ہے :۔” خداوند نے موسیٰ کو خطاب کرکے فرمایا کہ تو لوگوں کو بھیج تاکہ کنعان کی زمین کی جو میں بنی اسرائیل کے سردار تھے “ یہاں بھی سرداروں کی تعداد 12 درج ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس آیت میں اصل ہے مشائخ اہل تربیت کی اس عادت کی کہ وہ مریدوں پر ان کی اصلاح، نگرانی کی غرض سے اپنے نائبوں کو مقرر کردیتے ہیں۔ اور اس میں ان کی باہمی مناسبت کا لحاظ رکھ لیتے ہیں۔
58 ۔ یہ معیت الہی کا تصور ایک خدا پرست قوم کے لیے کس درجہ ہمت آفرین وشوق افزا ہے ! دل اس کے بعد کس قدر قوی اور مطمئن ہوجاتا ہے اور شکست کا کوئی امکان بھی اس کے بعد ذہن کے سامنے نہیں آسکتا۔ آج محض وائسرائے اگر رعایا کے ایک معمولی فرد سے کہہ دے کہ ” گھبرانا مت ہم تمہارے ساتھ رہیں گے “ تو اسے کس قدر قوت و استقامت حاصل ہوجائے۔ چہ جائیکہ یہاں خالق کائنات مالک الملک، حاکم علی الاطلاق اپنی معیت کا یقین دلا رہا ہے ! تسکین و اطمینان کا کوئی درجہ اس کے بعد اور ہو کیا سکتا ہے ؟ یہ ایک پہلو تھا۔ اب دوسرے پہلو سے دیکھئے۔ کوئی معصیت اس استحضار معیت الہی کے بعدبندہ سے ممکن ہے ؟ جہاں کوئی اپنے سے ذرا بڑا اگر نگرانی کے لیے پاس موجود رہتا ہے، جب تو اس کی مروت لحاظ یا دباؤ سے اپنے اوپر قابوا رکھتے ہیں، اور کوئی لغزش یا معصیت سرزد نہیں ہونے دیتے، چہ جائیکہ ہمہ بین وہمہ تواں مالک ومولا کی معیت کا استحضار ! کوئی معصیت بھی اس کے بعد ممکن رہ سکتی ہے ؟ غرض ترغیب وترہیب کے جس اعتبار سے بھی دیکھا جائے معیت الہی کا مراقبہ بہترین ومؤثر ہے۔ محققین نے یہ بھی صاف کردیا ہے کہ معیت سے یہاں مرادنعوذ باللہ معیت جسمانی نہیں جیسے مخلوق مخلوق کے درمیان ہوتی ہے، بلکہ احاطہ علم وقدرت ونصرت کے لحاظ سے ہے، انی معکم بالعلم والقدرۃ فاسمع کلامکم واری افعالکم واعلم ضمائر کم واقدر علی ایصال الجزاء الیکم (کبیر) ای بالعلم والحیاطۃ وفی ھذہ المعیۃ دلالۃ علی عظم الاعتناء والنصرۃ (بحر) ای ناصرکم ومعینکم (مدارک)
59 ۔ خوب خیال رہے کہ ایمان وحسن عمل کی اصل جزاء قرآن مجید نے آخرت ہی میں رکھی ہے۔ اور سارا زور جنت اور اس کی نعمتوں ہی پر دیا ہے۔ یہاں تک کہ یہود وغیرہ قدیم قوموں کے تذکرہ کے سلسلہ میں بھی اسی کو بار بار دہرایا ہے، دنیوی کامیابی اور غلبہ کو بھی بیان کیا ہے، لیکن صرف کہیں کہیں اور وہ بھی گویا ضمنی اور ثانوی طور پر، بہ طور انعام اصلی کے تتمہ کے۔۔۔ اور یہی بڑا فرق قرآن اور توریت کے درمیان ہے۔ (آیت) ” امنتم برسلی “۔ یعنی جو پیغمبر میری طرف سے آئندہ آتے رہیں گے، ان کی تصدیق کرو گے۔ (آیت) ” وعزرتموھم “۔ یعنی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کروگے۔ ای رددتم عنھم امدادھم (قرطبی) نصرتموھم بان تردوا عنھم اعداء ھم (مدارک) (آیت) ” اقرضتم اللہ قرضا حسنا “۔ یعنی اللہ کی راہ میں، نیک کاموں میں اخلاص وخوشدلی کے ساتھ خرچ کرتے رہو گے، ہر زبان کے کچھ خاص محاورے ہوتے ہیں جو دوسری زبان والوں کو نامانوس معلوم ہوتے ہیں، انہی میں سے کچھ عربی کا یہ محاورہ ہے۔ جو اردو خوانوں کو بہت ہی اجنبی سا محسوس ہوتا ہے قرض کی حقیقت عربی زبان میں صرف اس قدر ہے کہ یہ وہ مال ہے جس کی واپسی کچھ مدت بعد لینے والے پر لازم اور واجب ہوجاتی ہے۔ سمی مایدفع الی الانسان من المال بشرط رد بدلہ قرضا (راغب) تو اسی واپسی کے لزوم ووجوب کی بنا پر اللہ کی خدمت میں مال پیش کرنے کو قرض سے تعبیر کردیا گیا ہے اور (آیت) ” حسنا “۔ کے اضافہ نے یہ قید لگا دی کہ وہ صرف مال اخلاص اور خوشدلی کے ساتھ ہو۔
60 ۔ (اور بھٹک گیا) (آیت) ” بعد ذلک “ یعنی اس عہد و پیمان کے بعد۔
Ayah 5:1361 ۔ چناچہ خود توریت بنی اسرائیل کی مسلسل نافرمانی، عہد شکنی اور ملعونیت کی داستان سے لبریز ہے۔ (آیت) ” فبما نقضھم “۔ ب سببیہ ہے۔ اورنے یہ صاف کردیا کہ یہ ساری فہمائشیں بیکار گئیں۔ اور بنی اسرائیل خود اپنے عہدہ واقرار کے توڑنے پر تل گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ روز بہ روز لعنت الہی میں گرفتار ہوتے گئے۔ لعنت کے مفہوم یعنی رحمت الہی سے محرومی پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ لعناھم ای طردنا ھم وابعد نا ھم من الرحمۃ قالہ عطاء والزجاز (بحر) (آیت) ” بما “۔ میں ما نے معنی تاکید کے پیدا کردیئے ہیں۔ مازائدۃ للتوکید عن قتادۃ وسائر اھل العلم وذلک انھا موکد الکلام بمعنی تمکنہ فی النفس من جھۃ حسن النظم ومن جھۃ تکثیرہ للتوکید، فالتاکید بعلامۃ موضوعۃ کالتاکید بالتکریر (قرطبی) الباء سببیۃ وما مزیدۃ لتوکید الکلام وتمکینہ فی النفس (روح) مامزیدۃ لافادۃ تفخیم الامر (مدارک) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے یہ نکلا کہ بعض معاصی سے قبض طاری ہوجاتا ہے۔
62 ۔ (کہ حق بات قبول نہیں کرتے) یہ قلب کی قساوت یعنی کلمہ حق کے قبول کرنے سے گریز اسی ملعونیت کے اثر سے ہے۔ اور لعنت کی حقیقت سے، لطف حق سے دوری اور رحمت حق سے مہجوری۔ اللعن الابعاد والطردمن الرحمۃ (قرطبی) یحتمل التاویل الباطل ویحتمل تغییر اللفظ (کبیر) یہود کی قساوت قلب کا ذکر انجیل میں بھی بار بار آیا ہے :” اس نے ان کی سخت دلی کی سبب غمگین ہو کر اور چاروں طرف ان پر غصہ سے نظر کرکے اس آدمی سے کہا “ (مرقس۔ 3:5) ” ان کی بےاعتقادی اور سخت دلی پر ملامت کی “۔ (مرقس۔ 16: 14) ” تو اپنی سختی اور غیر تائب دل کے مطابق اس قہر کے دن کے لیے اپنے واسطے غضب کما رہا ہے “۔ (رومیوں۔ 3:5) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس طرح معاصی سے قبض طاری ہوجاتا ہے۔ اسی طرح قبض سے معاصی پیدا بھی ہوجاتے ہیں۔
63 ۔ (اور اسی بڑے حصہ میں تصدیق رسالت محمدی ﷺ بھی شامل ہے) ۔ قال ابن عباس ؓ ترکوا نصیبا بما امروا بہ فی کتابھم وھو الایمان بمحمد ﷺ (کبیر) (آیت) ” حضا “۔ تنکیر معنی کی بڑی کے لیے ہے، یعنی بڑا حصہ ای نصیبا جزیلا وقسطاوافیا (مدارک) (آیت) ” نصیبا “ وافیا ‘(بیضاوی) (آٰیت) ” یحرفون الکلم عن مواضعہ “۔ اس میں لفظی اور معنوی دونوں قسم کی تحریفیں آگئیں۔ ای یتاولونہ علی غیر تاویلہ (قرطبی) قیل معناہ یبدلون حروفہ (قرطبی) یہود مسیحیوں کی طرح خود بھی وحی لفظی کے قائل نہیں اور نہ اپنے صحیفوں بلکہ خود توریت تک کی محفوظیت کے مدعی۔ ان کا تو سارا کام مسیحیوں کی طرح بجائے اصل متن کے، ترجمہ کے زور پر چل رہا ہے۔ اور ترجمہ بالفرض بہتر سے بہتر ہو، جب بھی اصل سے جتنا دور ہوتا ہے، ہر صاحب علم پر روشن ہے۔ اور ترجمہ در ترجمہ میں یہ لوگ ارادی ترمیم و تصرف سے شرماتے نہیں، فخریہ اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
64 ۔ یہود کی دینی ودینوی خیانتوں کی مثالیں خود قرآن ہی میں جابجا مذکور ہیں۔ مثلا ان کا اخفاء احکام توریت، ان کی جھوٹی اور جعلی شہادتیں پیش کرنا، وقس علی ہذا “۔ خائنۃ سے مراد خیانت ہے اور ایسا استعمال عربی میں عام ہے۔ الخائنۃ الخیانۃ قال قتادۃ وھذا جائز فی اللغۃ (قرطبی) الخائنۃ فی ھذا الموضع الخیانۃ وضع وھو اسم موضوع المصدر (ابن جریر) بمعنی المصدر ونظیرہ کثیر کالکافیۃ والعافیۃ وقال تعالیٰ فاھلکوا بالطاغیۃ اے الطغیان (کبیر) خائنۃ کا اطلاق کبھی علامہ ونسابہ کی طرح مبالغہ کے لیے بھی ہوتا ہے۔ ان تقع خائنۃ للواحد کما یقال رجل نسابۃ علامۃ فخائنۃ علی ھذا للمبالغۃ یقال خائنۃ اذا بالغت فی وصفہ بالخیانۃ (قرطبی) (آیت) ” الاقلیلا منہم “۔ اور وہ معدودے چند منکرین وہ تھے، جو بعد کو ایمان لے آئے۔
65 ۔ یعنی ان کے ان جرائم کے باوجود ابھی ان سے انتقام نہ لیجئے اور بلا ضرورت شرعی ان کی تفضیح ورسوائی کا سامان نہ کیجئے۔
66 ۔ (اور اسی نیک کاری کی ایک فرد یہ ہے کہ بلاضرورت شرعی کسی کی تفضیح ورسوائی نہ کی جائے) (آیت) ” محسنین “۔ احسان کی معنی عربی میں صرف حسن عمل اور نیک کاری کے ہیں۔ اردو کے ” احسان “ کا اسے مرادف نہ سمجھا جائے، نکتہ سنجوں نے یہیں سے یہ حقیقت اخذ کی ہے کہ جب کافروں اور کافر بھی کیسے، غیر متدین وخائن کے ساتھ عفو ودر گزر کا معاملہ حسن عمل اور نیک کاری قرار پایا تو پھر مسلمان کے ساتھ عفو و درگزر کے معاملہ کی فضیلت کا کیا کہنا ! تنبیہ علی ان العفو عن الکافر الخائن احسان فضلا عن العفو عن غیرہ (بیضاوی)
Ayah 5:1467 ۔ (ویسا ہی عہد جس کا ذکر ابھی بنی اسرائیلی کے سلسلہ میں اوپر آچکا ہے) (آیت) ” قالوا انا نصری “۔ انداز بیان کی احتیاط ملاحظہ ہو۔ یہ ارشاد نہیں ہوا کہ ہم نے نصاری سے عہد لیا بلکہ یہ ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے نصاری کہتے ہیں، ان سے ہم نے عہد لیا ، (آیت) ” نصری “۔ نصرانی کی جمع ہے۔ اور اس لفظ پر حاشیے پ 1 میں گزر چکے۔ زیر (آیت) ” وقالت النصری لیست الیھود “ الخ۔
68 ۔ (اور اسی بھلائے ہوئے بڑے حصہ میں توحید الہی بھی شامل ہے اور تصدیق رسالت محمدی ﷺ بھی) یہ قرآن کا ایک عجیب معجزہ ہے، کہ آج جو صحیفے انجیلوں کے نام سے مسیحی ہاتھوں میں موجود ہیں، صدگونہ تحریفات کے بعد بشارات محمدی ان میں اب تک باقی ہیں، حضرت یحییٰ کے سلسلہ میں ہے :۔ ” جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے، کہ تو کون ہے ؟ اس نے انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں، انہوں نے اس سے پوچھا، پھر کون ہے : کیا تو ایلیاہ ہے ؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کیا تو وہ نبی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ بس انہوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون ؟ (یوحنا۔ 1: 19 ۔ 22) ” اس نے جواب دیا کہ نہیں، بس انہوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون ؟ (یوحنا۔ 1: 19 ۔ 22) ” انہوں نے اس سے سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے نہ ایلیاہ ہے۔ نہ وہ نبی۔ تو پھر بپتسمہ کیوں دیتا ہے “۔ ؟ (یوحنا۔ 1:25) یہ بارباروہ نبی کے سوال کے کیا معنی ؟ ضرور ہے کہ کسی معروف نبی کی پیشگوئی یہود میں مدت سے چلی آرہی ہے، اور یہ النبی یقینامسیح (علیہ السلام) سے الگ کوئی تھے، جیسا کہ اوپر کے سوالات سے ظاہر ہے۔ اور آگے چلئے۔ خود مسیح (علیہ السلام) نے ایک بار عید کے اخیر دن کھڑے ہو کر پکارا کہ اگر کوئی پیاسا ہو تو میرے پاس آکر زندگی کا پانی پئے۔” بس بھیڑ میں سے بعض نے یہ باتیں سن کر کہا، بیشک یہی وہ نبی ہے۔ اوروں نے کہا، یہ مسیح (علیہ السلام) ہے “۔ (یوحنا 7:40) ایک حوالہ اور ملاحظہ ہو۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) دنیا سے رخصت ہونے سے قبل اپنے شاگردوں کو تسلی دیتے ہیں۔” اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کروگے۔ اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے “۔ (یوحنا۔ 14: 16) (” مددگار “ کے لفظ پر اردو وانجیل میں نسخہ ” یا وکیل یا شفیع “ بھی درج ہے) اب یہ ابد تک ساتھ رہنے والا مددگار یا شفیع یا وکیل بجزنبی ” خاتم النبیین “ کے اور کون ہے ؟ اسی کی تاکید ایک بار پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے ملاحظہ ہو :۔ ” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار (وکیل یا شفیع) تمہارے پاس نہ آئے گا۔ لیکن اگر میں جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔ اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا “۔ (یوحنا 16:7، 8) اس کے کھلے ہوئے معنی یہ ہوئے کہ وہ نبی آکر پرانی شریعتیں منسوخ کرے گا، اور نئی شریعت چلائے گا۔ (آیت) ” حضا “۔ پر حاشیہ ابھی نمبر 63 میں گزر چکا۔
69 ۔ (آیت) ” بینھم “۔ یعنی مسیحی قوموں کے درمیان۔ اشارہ نصرانیوں کے اندرونی مذہبی اختلاف کی جانب ہے۔ مسیحیوں کے اندرجس کثرت سے فرقے ہیں اور پھر ان باہم جس درجہ شدید اختلافات ہیں، باہر والوں کو اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ اور اگر اس مفہوم میں یورپ کی موجودہ سیاسی قومیں شامل سمجھی جائیں تو ان کی باہمی رقابتیں اور عداوتیں تو اور زیادہ ظاہر و روشن ہیں۔ جرمنی کی آویزش فرانس سے، برطانیہ کا غصہ روس پر، فرانس کی عداوت اسپین سے، امریکہ کی بدگمانی اٹلی سے، وغیرہا۔ اندرونی نفسانیت اور کشمکش کی حدوحساب ہی نہیں۔ (آیت) ” الی یوم القیمۃ “۔ یعنی ہمیشہ، مستقل طور پر، قرآن مجید ظاہر ہے کہ محاورہ انسانی کے مطابق ہے۔ اور محاورہ میں ” قیامت تک سے “ مراد یہ ہوتی ہے کہ جب تک اس شے کا وجود باقی ہے۔ قرآن مجید ہی میں ابلیس کے ذکر میں ہے کہ اس پر لعنت قیامت تک رہے گی، معنی بالکل ظاہر ہیں کہ وہ لعنت اس پر ہمیشہ رہے گی، نہ یہ کہ وہ یوم حشر کے بعد لعنت سے نجات پاجائے گا۔ اس لیے زائغین جدید میں سے ایک صاحب کا آیت کے ذیل میں یہ کہنا کہ ” اس سے یہ معلوم ہوا کہ عیسائی قیامت کے دن تک رہیں گے۔ اور یہ خیال کہ کسی وقت کل کے کل مسلمان ہوجائیں گے، اس آیت کے رو سے غلط ٹھہرتا ہے “ جہل محض ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ معاصی جس طرح عقاب آخروی کا سبب بنتے ہیں، عقاب دنیوی کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔
70 ۔ (آیت) ” سوف “۔ یعنی قیامت میں، قرآن مجید نے قرب آخرت کے استحضار کے لیے بار بار اس کی آمد ووقوع کے لیے (آیت) ” سوف “۔ کا لفظ اختیار کیا ہے۔ القاء عداوت وبغض باہمی میں ذکر وبال دنیوی کا تھا، اب سزائے آخرت کا آگیا۔
Ayah 5:1571 ۔ (اور یہ بجائے خود ایک شہادت ہے ان کے پیغمبرانہ علم کی) مطلب یہ ہوا کہ یہ پیغمبر امی ہونے کے باوجود، توریت وانجیل کے اصل مضامین کو تمہاری کوشش اخفاء کے باوجود وحی الہی سے معلوم کرکے ظاہر کردیتے ہیں۔ (آیت) ” یاھل الکتب “۔ اب خطاب یہود ونصاری دونوں سے ہے۔
72 ۔ (اور یہ حلم وعفو بجائے خود ایک شہادت ہے ان کے پیغمبرانہ اخلاق کی) (آیت) ” یعفوا عن کثیر “۔ یہ مضامین جہنیں آپ ﷺ نظر انداز کرجاتے ہیں وہ ہیں، جن کے اظہار سے بجز مجرموں کی تفضیح کے اور کوئی شرعی غرض وابستہ نہیں، انما لم یظھرہ لانہ لا حاجۃ الی اظہارہ فی الدین (کبیر) لایبینہ اذا لم تضطر الیہ مصلحۃ دینیۃ وما فیہ احیاء الشریعۃ واماتۃ بدعۃ (کشاف) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہیں سے اہل اللہ کی یہ عادت ہے کہ جب تک کوئی مصلحت دینی نہ ہو مقتضائے غیظ پر عمل نہیں کرتے، اور عداوت میں بھی شفاء غیظ نفسانی کا قصد نہیں کرتے۔
73 ۔ (آیت) ” نور “۔ سے اشارہ ہے رسالت محمدی ﷺ کی جانب اور (آیت) ” کتب مبین “۔ سے قرآن مجید کی جانب۔ یعنی بالنور محمدا ﷺ و کتاب مبین ھو القران الذی انزلہ علی نبینا (ابن جریر) نور قیل محمد ﷺ عن الزجاج و کتاب مبین ای القران فانہ یبین الاحکام (قرطبی)
Ayah 5:1674 ۔ یعنی رضائے حق کا ارادہ کرتے ہیں، اور اس کی تلاش وفکر میں رہا کرتے ہیں۔ ای من یعلم اللہ تعالیٰ انہ یرید اتباع رضاء اللہ تعالیٰ بالایمان بہ (روح) یہیں سے یہ حقیقت بھی روشن ہوجاتی ہے کہ راہ ہدایت انہی کے نصیب میں آتی ہے، جو از خود اس کی تلاش وطلب میں رہتے ہیں۔ (آیت) ” سبل السلم “۔ پوری سلامتی، مادی وروحانی، ہر حیثیت سے مکمل جنت ہی میں جاکر نصیب ہوسکتی ہے۔ اس کے راستے یعنی جنت میں جانے کے طریقے، صحیح عقائد اور صحیح اعمال میں طرق السلام ۃ الموصلۃ الی دارالسلام وھی الجنۃ (قرطبی) قیل طرق الجنۃ (بحر) (آیت) ” بہ “ میں ضمیر کتاب کی طرف ہے۔ ای بالکتاب المبین (کبیر) ظاہرہ انہ یعود علی کتاب اللہ (بحر) ای بالقران (مدارک)
75 ۔ یعنی عمر بھر انہیں سیدھی راہ پر قائم رکھتا ہے۔ (آیت) ” الظلمت “۔ سے مراد کفر کی تہ بہ تہ تاریکیاں ہیں۔ ای من ظلمات الکفر والجھالات (قرطبی) (آیت) ” النور “ سے مراد ایمان وطاعت کی روشنی ہے۔ اے الی نور الاسلام والھدایات (قرطبی) (آیت) ” باذنہ “۔ سے مراد ارادۂ الہی، توفیق الہی، یا مشیت تکوینی ہے۔ ای بتوفیقہ (کبیر) ای بارادتہ و توفیقہ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اصل مقصود طلب رضا ہے، دخول جنت اس کے تابع ہے۔
Ayah 5:1776 ۔ اس عقیدہ کو جو کھلا ہوا شرک ہے، خوب خیال کرکے دیکھ لیا جائے کہ قرآن مجید ” نصرانیت سے تعبیر نہیں کرتا، نہ ایسے لوگوں کو نصاری یا اہل الکتب سے موسوم کرتا ہے۔ ان کا ذکر تو (آیت) ” الذین قالوا انا نصری “۔ کے تحت میں ابھی اوپر آچکا ہے، اب جن لوگوں کا ذکر ہے، ان کے لیے تو کھلا ہوا اور قطعی حکم تکفیر ہی کا ہے۔ (آیت) ” لقد کفر الذین “۔ الخ، مسیحت موجودہ کی متعدد شاخوں کے عقیدے تو کھلے ہوئے مشرکانہ ہیں، مثلا Monarchianism Docetism , Sabellanism وغیرہا۔ ان کے لیے ملاحظہ ہوراقم سطور کی تفسیر انگیریزی، اردو میں ان کی اصطلاحوں کے ترجمے بھی دشوار ہیں۔ اب رہی وہ مسیحیت جو مسلک جمہور کے مطابق ہے اور صدیوں سے دنیا میں خوب پھیلی ہوئی ہے، وہ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں عقیدۂ اتھانیاسیس (Athanasian Creed) جو کیتھولک، پروٹسٹنٹ وغیرہ سب مشہور ومقبول فرقوں میں مشترک ہے، اس میں یہ الفاظ صراحۃ موجود ہیں :۔” باپ بیٹے اور روح القدس کی الوہیت ایک ہی ہے۔ جلال برابر، عظمت ازلی یکساں، جیسا باپ ہے ویسا ہی بیٹا۔ باپ غیر مخلوق، بیٹا غیر مخلوق۔ باپ غیرمحدود، بیٹا غیر محدود۔ باپ ازلی، بیٹا ازلی، یونہی باپ قادر مطلق، بیٹا قادر مطلق، ویسا ہی باپ خدا، بیٹا خدا “ کھلا شرک اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے ؟ مسیح اور مریم دونوں پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” المسیح “ کے ساتھ ابن مریم کا اضافہ بجائے خود ایک ضرب کاری ہے۔ عقیدہ الوہیت مسیح (علیہ السلام) پر کہ جسے تم عین خدا قرار دے رہے ہو، وہ تو خود ایک خاتون کا فرزند تھا۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں صریح رد ہے ان لوگوں پر جو خالق و مخلوق میں اتحاد کے قائل ہیں۔
77 ۔ (اس مسیح پر ستی کی تردید میں، اے ہمارے پیغمبر ! )
78 ۔ (طبعی موت سے) (آیت) ” ان یھلک “۔ اہلاک ایک تو ہوتا ہے بہ صورت عذاب، وہ یہاں مراد نہیں۔ یہاں اہلاک بہ صورت موت طبعی مراد ہے۔ المراد بالاھلاک الاماتۃ والاعدام مطلقالاعن سخط وغضب (روح) (آیت) ” من یملک من اللہ شیئا “۔ ملک یہاں قدرت کے معنی میں ہے۔ الملک ھو القدرۃ (کبیر) یملک بمعنی یقدر من قولھم ملکت علی خلاف امرہ ای اقتدرت علیہ (قرطبی) پورے فقرہ کا مفہوم یہ ہوا کہ کون اللہ کے ارادہ کی راہ میں حائل ومانع ہوسکتا ہے ؟ یعنی فمن الذی یقدرعلی دفع شیء من افعال اللہ تعالیٰ ومنع شیء من مرادہ (کبیر) ای فمن یقدر ان یمنع من ذلک شیئا (قرطبی) فمن یمنع من قدرتہ (بیضاوی) (آیت) ” میں ” من “ لانے سے مراد یہ ہے کہ اگر تمہارا یہ عقیدہ صحیح ہے تو بتاؤ۔ اسی مفہوم کو ترجمہ میں ” اچھا تو “ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ (آیت) ” وامہ “۔ مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکرلانے کی ایک مناسبت یہ ہے کہ دنیائے مسیحیت کی ایک بڑی آبادی کے نزدیک وہ بھی شریک الوہیت ہیں، اور لاکھوں بلکہ کروڑوں مسیحیوں کے اعتقاد میں مرتبہ خدائی پر فائز ہیں۔ اصل حوالوں کے لیے ملاحظہ ہو راقم سطور کی تفسیر انگریزی، حاصل استدلال یہ ہوا کہ قوت، قدرت ارادہ واختیار میں کوئی مخلوق، حتی کہ مسیح (علیہ السلام) ومریم (علیہ السلام) بھی خدائے تعالیٰ خالق کائنات کے مقابلہ میں کچھ بھی لائے جاسکتے ہیں ؟ اور اللہ کی مشیت کی راہ میں ذرا بھی حائل ہوسکتے ہیں ؟ کھلا ہوا جواب ہے کہ نہیں۔ پھر جب یہ ہے تو تمہاری عقل کیسی ماری گئی ہے، کہ تم مسیح (علیہ السلام) (یا مسیح ومریم دونوں) کو شریک الوہیت ٹھہرا رہے ہو !
79 ۔ (کہ بےاختیاری، بےبسی، اور مخلوقیت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) بھی ساری ہی مخلوق جیسے ہیں، اور اس اعتبار سے ان میں اور ان میں کوئی فرق نہیں) اراد بعطف من فی الارض علی المیسح وامہ انھما من جنسھم لاتفاوت بینھما وبینھم فی البشریۃ (کشاف) یعنی ان عیسیٰ مشاکل بمن فی الارض فی الصورۃ والخلقیۃ والجسمیۃ والترکیب وتغییر الصفات والا حوال (کبیر)
80 ۔ (بلاکسی کی شرکت واعانت کے) ” آسمانوں پر اور زمین پر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس پر ” یعنی ساری موجودات وکائنات پر۔
81 ۔ مسیحیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں، اور اس سے ان کا استدلال یہ تھا کہ ایسے محیرالعقول وجود کو انسان یا بشر کیسے تسلیم کرلیا جائے ؟ وہ یقیناً فوق البشر ہے اور الوہیت کا حصہ دار یہاں جواب اسی کا دیا گیا ہے کہ اللہ تو پیدا کرنے ہر صورت پر، ہر صورت سے پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اس نے اگر کسی مخلوق کو عام اور عمومی عادت کے خلاف طریقہ سے پیدا کردیا، تو اس سے اس مخلوق کی الوہیت یا غیرمخلوقیت کیسے ثابت ہوگئی ؟ (آیت) ” یخلق ما یشآء “۔ جو کچھ چاہے اور جس طرح چاہیے، خواہ سنت عادی کے موافق ہو یا مخالف، پیدا کرسکتا کرتا رہتا ہے۔ اس کی قوت خلاقی کسی صورت اور کسی طریق کے ساتھ مخصوص ومعین نہیں، تخلیق کی ہر نوع اور ہر صنف، بلاواسطہ، بہ واسطہ سب پر یکساں قادر ہے۔ اے یخلق ای خلق یشاءہ فتارۃ یخلق من غیر اصل اخری من اصل وتارۃ من اصل یجانسہ ویخلق بلاتوسط شیء من المخلوقات وقد یخلق بتوسط مخلوق اخر (روح) ای ان خلقہ لیس مقصورا علی نوع واحد بل ماتعلقت مشیئتہ بایجادہ اوجدہ واخترعہ (بحر)
Ayah 5:1882 ۔ (اور اس لیے عام نوع انسان سے کہیں افضل و اشرف) (آیت) ’ نحن “۔ صیغہ جمع متکلم (ھم) سے مرادیہاں افراد نہیں بلکہ قوم یا ملت، مجموعہ افراد مراد ہے۔ یعنی یہود من حیث القوم اور نصاری بہ حیثیت ملت۔ موجود محرف اور مسخ شدہ بائبل تک میں اس قسم کے حوالے موجود ہیں :۔ ” خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے “۔ (خروج۔ 4:22) ” تم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو “۔ (استثناء 14: 1) ” جب اسرائیل لڑکا تھا میں نے اس کو عزیز رکھا اور اپنے بیٹے کو مصر سے بلایا “۔ (ہوسیع۔ 1 1: 1) (جیوش انسائیکلوپیڈیا) (جلد 6 ۔ صفحہ 15) میں بھی انہیں عقائد کی تکرار موجود ہے) ” جتنوں نیا سے قبول کیا، اس نے انہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا “۔ (یوحنا۔ 1: 12) ” جتنے خدا کی روح کی ہدایت سے ملتے ہیں، وہی خدا کے بیٹے ہیں “۔ (رومیوں۔ 8: 14) مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوراقم سطور کی انگریزی تفسیر۔ (آیت) ” ابآؤا اللہ “۔ ابآؤا سے مراد حقیقی صلبی بیٹے نہیں اور نہ ابن کے یہ معنی ہی لازمی طور پر ہیں اس کے لیے عربی میں دوسرا لفظ ہے۔ ولد۔ ابن کا اطلاق مجازی منہ بولے لڑکوں پر پوری طرح ہوتا ہے۔ اور عربی میں اس کا مجازی استعمال بہت عام ہے یقال لکل ما یحصل من جھۃ شیء او من تربیتہ اوبتفقدہ اوکثرۃ خدمتہ لہ اوقیامہ بامرہ ھو ابنہ نحو فلان ابن حرب وابن السبیل للمسافر وابن اللیل وابن العلم وفلان ابن بطنہ وابن فرجہ اذاکان ھمتہ مصروفا الیھما وابن یومہ اذا لم یتفکر فی عدہ (راغب) اور اہل لغت نے لکھا ہے کہ اب، ابن، بنت یہ تین لفظ ایسے ہیں کہ بڑی کثرت سے چیزیں ان کی جانب منسوب ومضاف مستعمل ہوتی ہیں۔ وللاب والابن والبنت اسماء کثیرۃ تضاف الیھا (تاج، لسان) اور آگے ازہری لغوی اور ابن العربی لغوی کے حوالہ سے ایک بڑی طویل فہرست ایسے ناموں کی دے دی ہے جو عربی میں کسی کے ’ ابن ‘ کی حیثیت سے مشہور و متعارف ہیں، مثلا ابن الطین حضرت آدم (علیہ السلام) کے لیے، ابن اللیل چور کے لیے، ابن الاقوال باتونی شخص کے لیے وغیرہا، ہمارے مفسرین رحمہم اللہ نے بھی بغیر اس کے کہ بائبل کے محاوروں کا مطالعہ کیا ہو، محض اپنے اشراق ایمانی سے یہاں یہی معنی قرار دیئے ہیں۔
یعنی ہم خاصان خدا میں سے ہیں ہمارا اور عام خلقت کا مقابلہ ہی کیا۔ کما کان یقول رھط مسیلمۃ نحن انبیاء اللہ ویقول اقرباء الملک وذووۂ وحشمہ نحن الملوک (کشاف) ای اعزۃ علیہ کالابن علی الاب (مدارک) لفظ الابن کما یطلق علی ابن الصلب فقد یطلق علی ابن الصلب فقد یطلق ایضا علی من یتخذ ابنا واتخاذہ ابنا بمعنی تخصیصہ بمزید الشفقۃ والمحبۃ (کبیر) ارادوا ان اللہ تعالیٰ لنا کالاب فی الحنووالعطف ونحن کالابناء لہ فی القرب والمنزلۃ (معالم، ابوسعود) قالوا ھذا یطلق عندھم علی التشریف والاکرام (ابن کثیر) ومرادھم بالابناء المقربون ای نحن مقربون عند اللہ تعالیٰ قرب الاولاد من والدھم (روح) البنوۃ ھنا بنوۃ الحنان والرأفۃ (بحر) حاصل تقریر ان کا یہ تھا کہ ہم سب سے اونچی ذات والے، اور خاص مقربین حق میں ہیں، ٹھیک وہی ذہنیت جو ہندوستان میں برہمنوں کی اور اپنے کو چندر بنسی اور سورج بنسی کہلانے والے راجپوتوں کی ہوتی ہے۔ ومقصود الفریقین ھو المعنی المتضمن مدحا وحاصل دعواھم ان لھم فضلا ومزیۃ عند اللہ تعالیٰ علی سآئر الخلق (روح) وجملۃ الکلام ان الیھود والنصاری کانوا یرون لانفسھم فضلا علی سائر الخلق بسبب اسلافھم الافاضل من الانبیاء حتی انتھوا فی تعظیم انفسھم (کبیر) اور یہ ذہنیت خود مسلمانوں کے اندر بھی پیرزادگی، مشائخ زادگی، مخدوم زادگی کے گھمنڈ سے کچھ بہت زیادہ مختلف تھیں۔
83 ۔ (جس کے تم خود قائل ہو) بداعمالی پر دنیوی سزاؤں کا ترتب تو ایک کھلی ہوئی حقیقت تھی، جس سے یہود ونصاری کسی کے لیے انکار ممکن نہ تھا۔ اور ان دنیوی سزاؤں کے تذکرہ سے عہد عتیق کے صحیفے بھرے پڑے ہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں صریح رد ہے اس شخص پر جو اللہ کے ساتھ ایسے قرب کا قائل ہو جس میں معصیت پر بھی مؤاخذہ نہ ہو۔
84 ۔ (اور بلاامتیاز و استثناء انہیں کی طرح عام قاعدوں کے تحت میں داخل ہو) یعنی جزاء وسزا کا جو قانون ساری دنیا کے لیے ہے۔ وہی تمہارے لیے بھی ہے۔
85 ۔ (اور وہی قادر مطلق، حاکم برحق یہ وعدہ کرچکا ہے کہ اہل ایمان کے لیے مغفرت ہے، اور اہل کفر کے لیے دائمی عذاب) یعنی اسی کی مشیت سب پر غالب ہے، وہ کسی کی محکوم نہیں۔
86 ۔ (نہ کہ کسی نبی یا ولی کی طرف، فرشتہ یا دیوتا کی طرف) مسیحیوں کا عقیدہ تھا کہ وہ ابن اللہ مسیح کے دربار میں پیش ہوں گے اور یہود اس خیال میں تھے، کہ ان کے آباؤاجداد، یعقوب اور اسحاق اور ابراہیم (علیہ السلام) انہیں عذاب الہی کی گرفت سے بچالیں گے حکیم الامت تھانوی (رح) نے اس موقع پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ لفظ بہ لفظ نقل ہونے کے قابل ہے :۔ ” یہ دعوی مذکورہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا ہمارے زمانہ کے جاہل پیر زادوں کا انتساب تولد یا اتصال سلسلہ کی بنا پر گھمنڈ ہے کہ حق تعالیٰ کو ہمارے ساتھ ایک گونہ ذاتی خصوصیت اور نسبت ہے جو معاصی وغیرہ سے قطع نہیں ہوتی۔ اور ہم کیسے ہی ہوں مگر اس انتساب یا اتصال کے زور سے کھڑے جنت میں جائیں گے “۔
Ayah 5:1987 ۔ اور دنیا صدہا سال سے وحی تازہ کی نعمت سے محروم تھی) (آیت) ” رسولنا “۔ ہمارے یہ رسول جن کی آمد آمد تم اہل کتاب مدت سے سن رہے تھے، انجیل میں بار بار ذکر ” وہ نبی “ The Prophet کا یہود کی زبان سے آتا ہے۔ اس کے کھلے ہوئے معنی یہ ہیں کہ ایک متعارف نبی کا آنا مدتوں سے مسلم چلا آرہا تھا۔ (آیت) ” یمین لکم “ تمہیں صاف صاف احکام شریعت بتاتے رہتے ہیں، (آیت) ” علی فترۃ من الرسل “۔ کی تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ علی حین فترۃ من الرسل، ای جاء کم علی حین فترۃ من ارسال الرسل (کشاف) ای علی فتور من الارسال (کبیر) فترۃ کے لفظی معنی انقطاع عمل یا سکون کے ہیں۔ ای سکون والاصل فیھا انقطاع العمل عما کان علیہ من الجد فیہ (قرطبی) اصطلاح میں دو نبوتوں کے درمیانی زمانہ کو کہتے ہیں۔ الفترۃ ما بین کل نبیین (تاج) ای علی انقطاع ما بین النبیین عن ابی علی وجماعۃ من اھل العلم (قرطبی) سمیت المدۃ التی بین الانبیاء فترۃ (کبیر) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ہمارے نبی کریم ﷺ کے درمیان وفقہ کم وبیش چھ سو سال کا رہا ہے۔ حضور ﷺ کا سال ولادت 570 ء ہے اور سال بعثت 6 10 ء ہمارے ہاں بھی متعدد تعابعین سے یہی مدت منقول ہے۔ وقال قتادۃ کان بین عیسیٰ ومحمد علیھما السلام ستماءۃ سنۃ وقال مقاتل والضحاک ووھب بن منبہ الاان وھبا زاد عشرین سنۃ (قرطبی)
88 ۔ (اس لیے ہم کو دین کے باب میں صحیح اور تفصیلی کافی علم ہونے ہی نہیں پایا) (آیت) ” ان تقولو “۔ یعنی کہیں قیامت کے دن یہ عذر نہ پیش کرنے لگو۔ ” ان “۔ یہاں لئلا کے معنی میں ہے۔ ای لئلا او کراھۃ ان تقولو ا (قرطبی) قدرہ القراء لئلا تقولوا (ابوسعود) (آیت) ” من بشیر “۔ میں من نفی و انکار میں زیادتی کے لیے ہے، کہ کوئی بھی تو نہیں آیا۔ وزیادۃ من فی الفاعل للمبالغۃ فی نفی المجیء (روح)
89 ۔ (سوسن لو کہ اب عذر کی کوئی گنجائش تمہارے پاس باقی نہیں رہی۔ آگے ماننا نہ ماننا تمہارا فعل ہے) والتقدیر ھنا لا تعتذروا فقد جاء کم (روح) والفاء متعلق بمحذوف ای لا تعتذروا فقد جاء کم (مدارک)
90 ۔ (اور یہ اسی کی قدرت کا ایک ظہور ہے کہ اس نے صدیوں کے بعد ایک پیغمبر اور وہ بھی سب پیغمبروں سے بڑا، مبعوث کردیا) آیت کے اس ٹکڑے سے یہ پہلو بھی صاف ہوا جاتا ہے کہ گو اس نے تمہاری حجت قطع کرنے کو یہ پیغمبر مبعوث کردیا، تاہم اگر وہ چاہتا تو بغیر اس کے بھی تم پر حجت قائم کردیتا، اور تمہیں دم مارنے کی مجال نہ تھی ،
Ayah 5:2091 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تقریر کا وہ زمانہ ہے کہ جب بنی اسرائیل مصریوں کی غلامی ومحکومی سے آزاد ہو کر جزیرہ نمائے سینا میں آزادی سے نقل و حرکت کررہے ہیں، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک ہی وقت میں ان کے دینی پیغمبر بھی تھے اور دنیوی لیڈر بھی، انہیں آمادہ کررہے ہیں، کہ اپنے وطن فلسطین چلو، ظالم وغاصب قوم عمالقہ کو وہاں سے نکال دو اور خود اس پر حکمرانی کرو۔ تازہ ترین تاریخی اور اثری تحقیق کے مطابق مصر سے خروج بنی اسرائیل کا زمانہ 1440 ق۔ م کا ہے، اور فلسطین پر اسرائیل کی فوج کشی کا زمانہ 1400 ق۔ م کا۔ اس لحاظ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تقریر کا زمانہ اسی درمیانی مدت کا ہے، عجب نہیں کہ آپ کے بالکل آخری زمانہ کی ہو۔ جیسا کہ توریت کے صحیفہ استثناء باب اول سے اندازہ ہوتا ہے۔ یہ اگر صحیح ہے تو اس صحیفہ استثناء میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ آپ نے یہ تقریر دریائے یردن کے اسی پارموآب کے میدان میں، واقعہ خروج مصر کے چالیسویں سال کے گیارہویں مہینہ کی پہلی تاریخ کو ارشاد کی تھی۔
92 ۔ (آیت) ” یقوم “۔ خطاب یہاں قوم سے بہ حیثیت مجموعی ہے، افراد سے نہیں، (آیت) ” فیکم “ میں فی، من کے مرادف ہے، فیکم ای منکم (ابن عباس ؓ نبوت ایک انفرادی اور شخصی منصب ہوتا ہے۔ اسی لیے (آیت) ” فیکم “۔ وارد ہوا ہے۔ یعنی تمہاری قوم کے اندر افراد انبیاء ہوتے رہے۔ (آیت) ” جعلکم ملوکا “۔ ملک کے معنی عربی میں لازمی طور پر بادشاہ اور تاجدار ہی کے نہیں، ہر آزاد، خود مختار اور ؔ صاحب حیثیت شخص پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ یقال من استغنی عن غیرہ فھو ملک (قرطبی) الملک اسم لکل من یملک السیاسۃ اما فی نفسہ واما فی غیرہ سواء تولی ذلک اولم یتول (راغب) کل من کان مستقلا بامرنفسہ ومعیشتہ ولم یکن محتاجا فی مصالحہ احد فھو ملک (کبیر) کل من ملک بیتا وخادما وامرأۃ فھو ملک (ابن جریر) حدیث میں ہر ایسے شخص پر ملک کا اطلاق آیا ہے، جو اپنا ذاتی مکان اور زوجہ و خادم رکھتا ہو۔ عن النبی ﷺ من کان لہ بیت او قال منزل یاوی الیہ وزوجۃ و خادم یخدمہ فھو ملک (قرطبی) عن زید بن اسلم قال قال رسول اللہ ﷺ من کان لہ بیت و خادم فھو ملک (ابن جریر) اور قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ ملک سردار، افسر یا فوجی قائد کے معنی میں آچکا ہے۔ ابعث لنا ملکا (بقرہ۔ رکوع 32) خود اہل فلسطین کے محاورہ میں بھی تقریبا ہر سردار بادشاہ ہی کہلاتا تھا۔ (جیوش انسائیکلوپیڈیا۔ جلد 7 صفحہ 500) اسی لیے یہاں متعدد ائمہ اکابر نے ملک کا ترجمہ مخدوم یا اور ایسے ہی مترادفات سے کیا ہے۔ ای ھو مخدومون کالملوک وعن ابن عباس ایضا یعنی الخادم والمنزل وقالہ مجاھد وعکرمۃ والحکم بن عیینۃ، (قرطبی) اصحاب خدم وحشم (جلالین) قال ابن اسحاق یعنی اصحب خدم وحشم (کمالین) اسرائیلی ابھی چند سال قبل تک محکوم، مغلوب ومقہور تھے، اور اب ہر طرح آزاد خود مختار تھے، بالکل بجا تھا کہ تقابل حالات کے اظہار کے لیے اب انہیں ملوک سے تعبیر کیا جاتا۔ بعدماکنتم مما لیک فرعون (ابن عباس ؓ قال السدی یعنی وجعلکم احرارا تملکون انفسکم بعد ماکنتم فی ایدی القبط بمنزلۃ اھل الجزیۃ فینا (کبیر)
93 ۔ یہ نعمت عظمی نعمت توحید ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ اقوام عالم میں نسلی وقومی حیثیت سے توحید اسرائیلیوں کیساتھ مخصوص رہی ہے، ورنہ اور قومیں تو من حیث القوم شرک ہی میں مبتلا رہی ہیں، ہمارے مفسریں کو اس مضمون کی آیتوں کی تفسیر میں بڑی دشواری یہ پیش آتی رہی ہے کہ اگر بنی اسرائیل کو سب سے افضل مان لیا جائے، تو پھر امت محمدی کے لیے کون سا مقام باقی رہ جائے گا ؟۔۔ اشکال اور دشواری کی بنیاد ہی سرے سے غلط ہے۔ یہاں مقابلہ تو دنیا کی ساری قوموں اور نسلوں کا ہورہا ہے۔ ان میں بیشک سب سے افضل، اشرف، نسل اسرائیلی ہی ہے۔ کہ بہ خلاف دوسری قوموں کے شرک اور وہم پرستیوں کے توحید اور اس کے لوازم یعنی رسالت، وحی، حشروغیرہ عقائد صحیحہ کی حامل، دنیا کی تاریخ میں یہی ایک قوم رہی ہے۔ بہ خلاف اس کے امت محمدی تو کسی قوم یا نسل کا نام ہی نہیں، یہاں تو اسرائیلی، اسمعیلی، حبشی، چینی، رسوی جاپانی جو کوئی بھی عقائد اسلامی پر ایمان لے آئے، وہی امت محمدی ﷺ میں داخل ہے۔ اس پر مفصل حاشیے (آیت) ” انی فضلتکم علی العلمین “۔ کے تحت میں سورة بقرہ کے رکوع 5، 6، میں گزر چکے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل اللہ کے خاندان میں سے ہونا ایک نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے، کیونکہ اس تعلق سے دین اس پر سہل ہوجاتا ہے، البتہ اس پر فخر اور گھمنڈ روا نہیں ،
Ayah 5:2194 ۔ (لوح محفوظ میں، یا اپنے علم میں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) موقع ترغیب پر فرما رہے ہیں کہ وہ زمین تو تمہارے لیے مقدر ہو ہی چکی ہے، ذرا سی ہمت و کوشش کرو تو ابھی ملی جاتی ہے۔ (آیت) ” الارض المقدسۃ “۔ مقدس سرزمین سے مراد شام ہے۔ فلسطین (کنعان) اسی کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ ھی الشام (ابن جریر، عن قتادۃ) الارض المقدسۃ دمشق و فلسطین وبعض الاردن۔ (ابن جریر عن ابن عباس ؓ توریت میں ان وعدوں کی صراحتیں موجود ہیں۔” دیکھو میں نے یہ زمین جو تمہارے آگے ہے تمہیں عنایت کی داخل ہو اور اس زمین کو جس کی بابت خداوند نے تمہارے باپ دادوں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کی کہ تم کو اور تمہارے بعد تمہاری نسل کو دوں گا، میراث میں لو “۔ (استثناء۔ 1:8) ” تو اس سرزمین میں جس کی بابت خداوند نے تیرے باپ دادوں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کے کہا کہ اسے میں تمہیں دوں گا، سکونت کرے۔ “ (استثناء۔ 30:20) ” مضبوط ہوجاؤ اور دل اور ہو خوف نہ کھاؤ اور ان سے مت ڈرو، کیونکہ خداوند تیرا خدا وہی ہے جو تیرے ساتھ جاتا ہے۔ وہ تجھ سے غافل نہ ہوگا اور تجھ کو نہ چھوڑے گا “۔ (استثناء 3 1:6)
95 ۔ دنیوی خسارہ تو ظاہر ہی ہے کہ حکومت اور اتنی بڑی حکومت سے محروم ہوجاؤ گے، اور اخروی خسارہ یہ کہ حکم جہاد کی نافرمانی کا خمیازہ آخرت میں اٹھانا پڑے گا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ معاصی سے کبھی کبھی دنیوی مضرتیں بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔
Ayah 5:2296 ۔ یہ قوم عمالقہ کی تھی، جو ایک بڑی زور آور اور جنگ آزما قوم تھی، بنی اسرائیل کی پرانی حریف توریت اور تاریخ اسرائیل اس کی خونریزیوں کی داستان سے رنگین ہے، توریت میں اس قوم پر بنی اسرائیل کی زبان سے یہ الفاظ ادا کئے گئے ہیں :۔ ” ہمیں زور نہیں کہ ہم ان لوگوں پر چڑھیں، کیونکہ وہ ہم سے زیادہ زور آور ہیں “۔ (گنتی۔ 13:32) ” یہ زمین جس کی جاسوسی میں ہم گئے تھے، ایک زمین ہے جو اپنے بسنے والوں کو نگلتی ہے۔ اور سب لوگ جنہیں ہم نے وہاں دیکھا اور ہم اپنی نظروں میں ان کے سامنے ایسے تھے جیسے ٹڈے اور ایسے ہی اہم ان کی نظروں میں تھے۔ “ (گنتی۔ 13:33) (آیت) ” جبارین “۔ جبار کا اطلاق بڑے ڈیل ڈول والوں، کلے ٹھلے والوں پر بھی ہوتا ہے۔ چناچہ یہاں یہی مراد ہے۔ ای عظام الاجسام طولا (قرطبی) یقال رجل جبارا اذا کان طویلا عظیما قویا والقوم کانوا فی غایۃ القوۃ وعظم الاجسام (کبیر) روایات یہود میں ذکر بہت مبالغہ کے ساتھ ان کے قدوقامت کی درازی کا آیا ہے اور ان کے درازدستیاں بھی بہت کچھ مذکور ہیں۔ لفظ جبار جو قرآن مجید نے ان کے لیے استعمال کیا ہے، یہ وہی ہے جو خود توریت میں ان کے لیے آیا ہے، جیسا کہ اوپر کے اقتباسات میں نقل ہوچکا۔
97 ۔ بنی اسرائیل ایک طرف تو اپنے ان مخالفین یعنی عمالقہ کی ہیت و شوکت سے اس قدر مرعوب تھے، اور دوسری طرف تن آسانیوں کے طالب اور فرائض جہاد سے جی چرانے والے بھی۔ اپنے وطن تک کے لیے، اپنے پیغمبر اور دنیوی لیڈر کی ترغیب کے باوجود بھی آمادہ نہ ہوئے، تو ریت میں ان کی زبان سے ادا کیا گیا ہے :۔ ” وہ لوگ جو وہاں بستے ہیں زور آور ہیں۔ اور ان کے شہر بڑے مضبوط قلعوں میں ہیں، اور ہم نے بنی عناق کو بھی وہاں دیکھا اور اس زمین میں دکھن کی طرف عمالیقی بستے ہیں۔ ہمیں زور نہیں کہ ہم ان لوگوں پر چڑھیں، کیونکہ وہ ہم سے زیادہ، زور آور ہیں “۔ (گنتی۔ 13 :28، 32) نیز ملاحظہ ہو حاشیہ ما قبل۔ اسرائیلیوں کا یہ قول بھی بہ طریق استبعاد تھا، خوب سمجھے ہوئے تھے کہ نہ عمالقہ وہاں سے از خود نکلیں گے اور نہ ہمیں چڑھائی کی نوبت آئے گی، انما قالوا ھذا علی سبیل الاستبعاد (کبیر) قیل قالوا ذلک علی سبیل الاستبعاد ان یع خروج الجبارین منھا (بحر)