5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 5:38

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو،135 ۔ ان کے کرتوتوں کے عوض میں، اللہ کی طرف سے بہ طور عبرت ناک سزا کے،136 ۔ اور اللہ بڑا قوت والا ہے، بڑا حکمت والا ہے،137 ۔

135 ۔ (اے حکام) اجرائے حدود شرعی وقصاص کا حق صرف اہل حل وعقد یا حکومت اسلامی کے حکام ہی کو حاصل رہتا ہے، اس لیے خطاب بھی قدرۃ انہی سے ہے۔ خطاب مع قوم فیحتمل ان یکون واقعا علی شخص متعین منھم وھو امام الزمان کمایذھب الیہ الاکثرون (کبیر) (آیت) ” السارق والسارقۃ “۔ لا کر یہ بتا دیا گیا ہے کہ مجرم قابل تعزیر کی حیثیت سے مرد و عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں، یہ نہ ہوگا کہ مجرم اگر عورت ہے تو اس کی سزا کچھ بڑھا دی جائے یا عورت ہونے کی بنا پر اس کی سزا کچھ گھٹا دی جائے۔۔ دوسری قوموں کے قانون میں مرد و عورت کے درمیان سزا کی عدم مساوات کی مثالیں کثرت سے ملیں گی، سرقہ اپنے لغوی معنی میں تو مطلقا ہر چوری کو کہیں گے۔ لیکن اصطلاح شریعت میں اس سے مراد ہوتی ہے غیر کے مال کو کسی خاص جگہ سے اور کسی خاص مقدار میں چرا کرلینا، السرقۃ اخذمالیس لہ اخذہ فی خفاء وصار ذلک فی الشرع لتناول الشیء من موضع مخصوص وقدر مخصوص (راغب) قد ثبت عندنا ان الحکم متعلق بمعنی غیر الاسم یجب اعتبارہ فی ایجابہ وھو الحرز والمقدار (جصاص) ان دوقیدوں کے لگ جانے سے ایسی بیسیوں چیزیں جو ہر جگہ اور ہر مقدار میں مل جاتی ہیں، ان کی چوری، چوری کی فقہی تعریف سے خارج ہوگئی، پھر چوری کے ثبوت کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک جرم کا اقرار، دوسرے عادل گواہوں کی شہادت السرقۃ انما تظھر باحد الامرین اما بالبینۃ او بالاقرار (محیط) جس چوری پر حد جاری ہوگی، اس کی مالیت حنفیہ کے ہاں کم از کم ایک دینار یا دس درہم کی ہونا چاہیے، اور اس چیز کو کسی محفوظ مقام میں ہونا چاہیے، اور خود وچور جس پر حد واجب ہوگئی، اسے عاقل وبالغ ہونا چاہیے، اذا سرق العاقل البالغ عشرۃ دراھم اومایبلغ قیمتہ عشرۃ دراھم مضروبۃ من حرز لاشبھۃ فیہ وجب القطع (ہدایہ) حفاظت عرف عام کے تابع ہے، کوئی جامع ومانع معیار اس کا خارج میں موجود نہیں۔ الحرز ھو مانصب عادۃ لحفظ اموال الناس وھو یختلف فی کل شیء بحسب حالہ (قرطبی) فقہاء نے اور بھی متعدد شرطیں، کتاب وسنت کے مزاج کو سمجھ کر اور انہیں سے اخذ کرکے لگائی ہیں، حنفی فقہ میں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے :۔ ( 1) چور عاقل وبالغ ہو۔ بچہ اور مجنون پر حد نہیں ہے۔ (2) مال نظر بچا کرلے گیا ہو، کھلے خزانہ چھین جھپٹ کر نہ لے گیا ہو، غاصب اور اچکے کی سزائیں دوسری ہیں، حد سرقہ نہیں، (3) مال کسی کی ملک ہونا چاہیے، غیر مملوک مال (مثلا کفن جو کسی کی ملک نہیں ہوتا) کی چوری سرقہ مستوجب الحد کی تعریف میں نہ آئے گی، (4) مال کسی غیر کی غیر مشترک ملک ہو، چور کے اپنے مال کے ساتھ مخلوط ومشترک نہ ہو، شوہر، بیوی، اولاد وغیرہ پر حد اسی لیے جاری نہ ہوگی، کہ ان کے مال کے ساتھ خلاط و اشتراک رہا کرتا ہے۔ (5) مال کسی حد اور درجہ تک حفاظت میں ہو، خواہ حقیقۃ (مثلا کسی سپاہی، چوکیدار وغیرہ کے پہرہ میں) خواہ حکما (مثلا مکان کے اندر، صندوق کے اندر وغیرہ) سرراہ کھلے اور پڑے ہوئے مال کے اٹھا لینے پر حد سرقہ جاری نہ ہوگی، چوکیدار، پہرہ دار وغیرہ اگر چوری کریں، تو وہ خیانت کی دفعہ میں ملزم ہوں گے، حد سرقہ کے مستوجب نہ ہوں گے۔ علماء متکلمین نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ امت کے لیے نصب امام ضروری ہے۔ اس لیے کہ اجرائے حدود کا حکم درجہ فرض میں ہے، اور اجراء کی صورت اجماع امت سے طے ہوچکا ہے کہ افراد سے ممکن نہیں، اس لیے امام معین کا ہونا لازمی ہے۔ احتج المتکلمون بھذہ الایۃ فی انہ یجب علی الامۃ ان ینصبوا لانفسھم امام معینا والدلیل علیہ انہ تعالیٰ اوجب بھذہ الایۃ اقامۃ الحد علی السراق والزناۃ فلابد من شخص یکون مخاطبا بھذا الخطاب واجمعت الامۃ علی انہ لیس لاحاد الرعیۃ اقامۃ الحدود علی الجناۃ بل اجمعوا علی انہ لا یجوز اقامۃ الحدود علی الاحرار الجناۃ الاللامام (کبیر) (آیت) ” فاقطعوا ایدیھما “۔ چوری کی سزا میں پہلی بار داہنا ہاتھ پہونچے سے کاٹا جائے گا، دوسری بار کی چوری میں بایاں پیر ٹخنہ سے قطع کردیا جائے گا، اس کے بعد کی چوریوں میں فقہاء نے سنت ہی سے اخذ کرکے لکھا ہے کہ اب مزید سزا اقطع اعضاء کی نہیں۔ بلکہ قید کی دی جائے گی، چوری کی سزا، قطع ید، عرب میں قبل سے جاری تھی، اسلام نے آکر اسے قائم رکھا، اور اس میں چند قیودوشرائط کا اضافہ کردیا، وقد کان القطع معمولا بہ فی الجاھلیۃ فقرر فی الاسلام ویزید شروط اخر۔ (ابن کثیر) دنیا کے او قانونوں اور دوسری تہذیبوں میں بھی چوری کی یہ سزا کہیں تو ایک طویل مدت کی اسیری رہی ہے، اور کہیں جلاوطنی اور کہیں قطع اعضاء اور کہیں پھانسی یا اور کسی طریقہ سے ہلاکت رہی ہے۔ 136 ۔ (آیت) جزآء بما کسبا “۔ چوری شریعت اسلامی میں ایک بدترین جرم ہے، اسلام نے فرد وجماعت دونوں کے لیے امن وامان اور سکون خاطر کا جو بہترین وکامل تیرن نظام قائم کیا ہے، چور اس میں رخنہ ڈالنا، اور اس ساری فضا کو درہم وبرہم کر ڈالنا چاہتا ہے آیت کے اس ٹکڑے نے واضح کردیا کہ چوری کا بدبخت مجرم ہے ہی ایسی سخت سزا کا مستحق، شریعت موسوی کا قدم بھی اس باب میں کچھ پیچھے نہیں، کچھ آگے ہی ہے نقب زن کی جان سے امان اٹھ جاتی ہے۔ کوئی اگر اسے قتل کرڈالے تو اس کے خون کا بدلہ نہ لیاجائے گا۔ ” اگھر چور سیند مارتے ہوئے دیکھاجائے اور کوئی اسے مار بیٹھے اور وہ مرجائے تو اس کے لیے خون نہ کیا جائے گا “۔ (خروج۔ 22:2) اجازت ہی نہیں، ایک جگہ تو حکم تک نقب زن کے قتل کا ملتا ہے۔” اگر کوئی شخص اپنے بھائیوں بنی اسرائیل میں سے کسی کو چرانے میں پکڑا جائے اور اس کا بیوپار کرے یا اسے بیچ ڈالے تو چور مارا جائے۔ اور تو شرکو اپنے درمیان سے دفع کر “۔ (استثناء۔ 24:7) (آیت) ” نکالا من اللہ “۔ نکال کہتے ہیں ایسے عذاب وسزا کو جس سے دوسرے عبرت حاصل کریں، ای مایوجب ان ینکل بہ عن ذلک الفعل (قرطبی) ای عظمۃ من اللہ بما عوقبا بہ لمن راھما (ابن قتیبہ) فلسفہ تعزیر کے واقفین جانتے ہیں کہ مجرم کے لیے سزا کی تجویز کرنے میں دو بڑے پہلو پیش نظر ہوتے ہیں :۔ ایک انتقامی، یعنی مظلوم یا مستغیث کے جذبات کی تسکین، دوسرے انتظامی، یعنی آئندہ کے ممکن مجرموں کی حوصلہ فرسائی وہمت شکنی (آیت) ” نکالا من اللہ “۔ اسی دوسرے پہلو کی تاکید وتقویت کے لیے ہے۔ اور پھر (آیت) ” من اللہ “۔ سے اشارہ یہ بھی ہوگیا، کہ یہ خدائی فیصلہ ہے۔ بندوں کو اس میں ترمیم وتنسیخ کا حق حاصل نہیں۔ (آیت) ” جزآء۔ نکالا “۔ دو لفظ الگ الگ آئے، اور دونوں مفعول لہ، بلا عطف میں، علماء بلاغت نے کہا ہے کہ جزاء میں اشارہ الی ان فیہ حق العبد کے اتلاف کا ہے، اور نکال میں حق اللہ کے اتلاف کا، والجزاء اشارۃ الی ان فی حق العبد والنکال اشارۃ الی ان فیہ حق اللہ تعالیٰ ۔ (روح) 137 ۔ صف (آیت) ” عزیز “۔ لاکر یہ یاددلا دیا کہ اللہ حاکم مطلق ہے۔ وہ جس جرم کی جو سزا چاہیے، مقرر کردے، کسی کو اس پر اعتراض کا حق نہیں پہنچتا، اور صفت (آیت) ” حکیم “۔ سے اشارہ اس طرف کردیا کہ اس کا کوئی سا بھی حکم حکمتوں اور مصلحتوں سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لیے اس نے چوری کی بھی سزا وہی مقرر کی، جو فرد اور جماعت دونوں کی مصلحتوں کے عین مطابق ہے۔ امام رازی (رح) نے اس مقام پر اصمعی کے حوالہ سے یہ حکایت نقل کی ہے کہ میں زبان سے (آیت) ” غفور رحیم “ نکلا۔ بدوی نے کہا کہ یہ کس کا کلام ہے ؟ میں نے کہا کلام الہی ہے۔ اس پر وہ بولا، کہ اسے دوبارہ پڑھو، میں نے پھر پڑھا، اور اب مجھے تنبیہ ہوگئی کہ بجائے (آیت) ” عزیزحکیم “۔ کہ میری زبان سے (آیت) ” غفور رحیم “ نکل گیا تھا، بدوی نے کہا کہ بیشک اب ٹھیک پڑھا، میں نے کہا تمہیں کیسے پتہ چلا۔ اس نے جواب دیا کہ سیاق کلام سے۔ یہاں جب ذکر سزا و عقاب کا ہے، تو عین مقتضائے بلاغت یہی ہے کہ صفات بجائے غفور ورحیم کے عزیز و حکیم ہی لائی جائیں۔
Ayah 5:39

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جو شخص اپنی حرکت ناشائستہ کے بعد توبہ کرلے، اور اپنی اصلاح کرلے، تو بیشک اللہ اس پر توجہ کرے گا،138 ۔ بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے، بڑا مہربان ہے،139 ۔

138 ۔ (رحمت کے ساتھ یوں کہ پچھلا گناہ معاف کردے گا، اور توبہ پر استقامت کی بھی توفیق دے گا) (آیت) ” فمن تاب “۔ یہ توبہ قاعدۂ شریعت کے مطابق ہونا چاہیے، فقہاء نے کہا ہے کہ چرائی ہوئی چیز مالک کو واپس کردینا چاہیے، اور اگر تلف ہوچکی ہو تو اس کا تاوان مالک کو دے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو، تو مالک سے معاف کرانے کی کوشش کرے، کہ یہ سب شرائط تکمیل توبہ میں سے ہیں، سزائے قطع ید جو حق العباد کی اتلاف کی سزا ہے، محض توبہ سے معاف نہیں ہوجاتی۔ فاما القطع فلا یستقط عنہ بالتوبۃ عندالاکثرین (معالم) والقطع لا یستط بالتوبۃ (قرطبی) لم یسقطہ شیء ولا توبۃ السارق (ابن العربی) وقال الجمھور لا یسقط عنہ ھذا الحد (کبیر) حنفیہ ومالکیہ کا اس پر اتفاق ہے۔ البتہ امام شافعی (رح) کے ایک قول میں اس سے اختلاف نقل ہوا ہے اور ایک گروہ نے اس پر استدلال اس سے کیا ہے کہ آیت کے آخر میں (آیت) ” غفور رحیم “۔ جو آگیا ہے۔ قال بعض العلماء التابعین یسقط عن الحد لان ذکر الغفور الرحیم فی اخرھذہ الایۃ (کبیر) فقیہ مفسر ابن العربی مالکی نے اس موقع پر شافعیہ کو مخاطب کرکے جو کچھ لکھا ہے (احکام القرآن، جلد اول۔ صفحہ 254) وہ پڑھنے کے قابل ہے۔ (آیت) ” واصلح “۔ یعنی آیندہ کے لیے ایسی عادتیں اور حرکتیں چھوڑ دے۔ توبہ کا تعلق ماضی سے تھا، اور اصلاح حال کا تعلق مستقبل سے ہے۔ باریک بین فقہاء نے لفظ (آیت) ” واصلح “ سے یہ بھی استنباط کرلیا ہے کہ مجرم نے جب توبہ کرکے اپنی حالت کی اصلاح کرلی، تو اب اس پر طعن جائز نہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ توبہ کا معتبر ہونا اصلاح پر موقوف ہے۔ مثلا سرقہ وغیرہ کا مال بہ شرط امکان واپس کردینا، ورنہ مالک سے معاف کرالینا، اور جب مالک نہ معلوم ہو تو اللہ کی راہ میں تصدق کردینا۔ 139 ۔ چناچہ صفت غفر کے تقاضہ سے اس نے پچھلا گناہ معاف کردیا، اور صفت رحمت کے تقاضہ سے آئندہ کے لیے توفیق تقوی دے دی۔ امام رازی (رح) نے آیت میں ان صفات کے آنے سے جو موقع مدح پر لائی گئی ہیں، معتزلہ کے رد میں یہ استدلال کیا ہے کہ توبہ کی قبولیت اللہ کے ذمہ کچھ واجب نہیں ہے، واجب ہوتی تو یہ فضل و احسان کو یاد دلانے والی صفات نہ لائی جاتیں، دلت الایۃ علی ان قبول التوبۃ غیر واجب علی اللہ تعالیٰ لانہ تعالیٰ تمدح بقبول التوبۃ والتمدح انما یکون بفعل التفضل والاحسان لا باداء الواجبات (کبیر)
Ayah 5:40

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تو نہیں جانتا کہ بس اللہ ہی کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے،140 ۔ وہ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کردے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے،141 ۔

140 ۔ (اے مخاطب ! ) پھر یاد دلا دیا ہے کہ جس نے یہ سزائیں تجویز کی ہیں، بس وہی ایک مالک حقیقی اور قادر تحقیقی ہے۔ الم تعلم میں خطاب عام ہر انسان کے لیے ہے۔ قیل معناہ الم تعلم ایھا الانسان فیکون خطابا لکل واحد من الناس (معالم) 141 ۔ (اور کوئی چیز اس پر قدرت نہیں رکھتی) وہ حاکم مطلق ہے، آمر علی الاطلاق ہے۔ وہ کسی قانون سے مجبور نہیں کہ مجرم کو ہمیشہ سزا ہی دے۔ اس میں تردید آگئی ہندی مشرکوں کے قانون ” کرم “ (ناگزیر مکافات عمل) کی۔ (آیت) ” یعذب من یشآء “۔ لیکن وہ سزا اسی کو دیتا ہے جو سزا ہی کے لائق ہے (آیت) ” یغفرلمن یشآء “۔ یہ معافی چاہے صرف آخرت میں، چاہے دونوں جگہ۔
Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کو وہ لوگ رنج میں نہ ڈالیں جو دوڑ دوڑ کر کفر میں پڑتے ہیں،142 ۔ (خواہ) ان میں سے ہوں جو اپنے منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے،143 ۔ (خواہ) ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں جھوٹ کے بڑے سننے والے،144 ۔ سننے والے دوسرے لوگوں کی خاطر جو آپ کے پاس نہیں آتے،145 ۔ کلام کو اس کے صحیح موقعوں سے بدلتے رہتے ہیں،146 ۔ کہتے رہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ ملے تو قبول کرلینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتیاط رکھنا،147 ۔ اور جس کے لئے اللہ ہی کو گمراہی منظور ہو تو اس پر تیرا زور اللہ کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں چل سکتا،148 ۔ یہی لوگ وہ ہیں جن کے لیے اللہ کو منظور نہ ہوا کہ ان کے دلوں کو پاک (صاف) کرے،149 ۔ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے، اور ان کے لئے آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے،150 ۔

142 ۔ یعنی آپ ایسے لوگوں کی باتوں سے رنج نہ قبول کریں۔ (آیت) ” یایھا الرسول “۔ قرآن مجید جیسی قیامت تک باقی رہنے والی کتاب میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر صیغہ غائب میں صرف الرسول والنبی سے، اور صیغہ حاضر میں ایھا الرسول اور ایھا النبی سے بغیر صفات کے لانا بجائے خود اس امر کی طرف مشیر ہے کہ اب کوئی دوسرا شخص وصف نبوت و رسالت میں شریک آنے والا نہیں۔ (آیت) ” یسارعون فی الکفر “۔ یعنی کفریات کی طرف بےتکلف اور بہ شوق ورغبت لپکتے ہیں، (آیت) ” یسارعون “۔ مضارع ہے مسارعۃ، باب مفاعلۃ سے، مراد یہ ہے کہ یہ لوگ کفر کی جانب ایسے ساعی ہیں، کہ گویا ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں، امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ (آیت) ” یایھا النبی “۔ تو قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے۔ لیکن (آیت) ” یایھا الرسول “ سے مخاطبت صرف دو ہی جگہ وارد ہوئی ہے۔ ایک یہاں، اور دوسری جگہ (آیت) ” یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک “۔ میں، اور یہ طرز خطاب شرف وتعظیم کے لیے ہے۔ وھذا الخطاب لاشک انہ خطاب تشریف وتعظیم (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے اہل طریق کی اس عادت کی اصل نکلتی ہے کہ اہل اعراض کی بدحالی پر کچھ زیادہ فکر نہیں کرتے۔ 143 ۔ ظاہر ہے کہ مراد منافقین ہیں، زبان پر دعوی ایمان، دل میں ایمان کا گزر نہیں، (آیت) ” من الذین “ میں من بیانیہ ہے۔ مراد ہے من المنافقین۔ اور اسی پر عطف ہے۔ (آیت) ” من الذین ھادوا “ کا جو ابھی آرہا ہے۔ 144 ۔ منافقین اور یہود دونوں قسم کے لوگوں میں وصف مشترک یہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹ اور باطل کے بڑے سننے والے اور قبول کرنے والے ہیں، (آیت) ” سمعون “۔ میں سمع قبول کرنے کے معنی میں ہے اور عربی میں یہ استعمال عام ہے۔ والسمع یستعمل ویراد منہ القبول (کبیر) ای قابلون لما تفتریہ الاحبار (بیضاوی) (آیت) ” للکذب “۔ کے معنی لا جل الکذب کے بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی یہ لوگ خبریں اس لیے سنتے ہیں کہ جھوٹ بولیں اور غلط شہرت دیں، ای یسمعون منک لکی یکذبوا علیک (کبیر) 145 ۔ (بربنائے کبر وبغض) تجافوا عنک تکبرا وافراطا فی البغضاء (بیضاوی) یعنی کچھ تو ایسے ہیں جو بربنائے کبر وبغض آپ ﷺ کی خدمت میں آتے ہی نہیں، مثلا یہود خیبر، اور کچھ ایسے ہیں جو آپ کی مجلس میں حاضر تو ہوتے ہیں، لیکن طلب حق کی غرض سے نہیں، بلکہ مثل مخبروں اور جاسوسوں کے کہ دوسروں سے لگائی بجھائی کریں ، 146 ۔ یہ وصف انہی کا اکابر یہود کا بیان ہوا۔ جو فرط عداوت وکبر سے خود تو بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے نہ تھے اور جب موقع دیکھتے تو اپنے ہاں کے کلام الہی میں تحریف سے بھی نہ چوکتے، روایتوں میں آتا ہے کہ یہود اپنے ہاں کی زنا کاری کا ایک مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے آپ ﷺ نے فرمایا کہ توریت میں حکم سنگساری کا موجود ہے، اس کے مطابق سزا جاری کرو، وہ ظالم اس سزا ہی کو چھپاگئے۔ 147 ۔ یعنی اس کے مان لینے کا اقرار نہ کرنا (آیت) ” یقولون “۔ یعنی یہ لوگ اپنے والوں سے، اپنے جتھے کے لوگوں سے، جنہیں یہ مجلس نبوی ﷺ میں بھیجتے رہتے تھے، کہتے ہیں، (آیت) ” ھذا “۔ یعنی یہ حکم محرف، اصلی اور آسمانی حکم کے بجائے ان کا اختراعی حکم۔ (آیت) ” فخذوہ “۔ یعنی اس کے ماننے کا اقرار کرلینا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے اس شخص کی مذمت نکل رہی ہے جو اہل علم کی طرف رجوع اس غرض سے نہیں کرتا کہ مسئلہ پر عمل کرے گا، بلکہ اس امید پر کرتا ہے کہ اگر اس کی مرضی کے موافق قول مل گیا تو اس کو اپنی بدنامی کی سپر بنالے۔ 148 ۔ (کہ تو اس گمراہی کو پیدا ہونے روک سے دے، اے مخاطب) (آیت) ” ومن یرد اللہ فتنتہ “۔ اس ارادۃ اللہ کا ترتب خود اس شخص کے عزم گمراہی پر ہوگا، (آیت) ” من اللہ “۔ یعنی اللہ کے قانون تکوینی کے مقابلہ میں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ کی شفقت و توجہ بدون فضل وتوفیق الہی کچھ نفع نہیں دیتی۔ 149 ۔ (ان کے کفریات سے، اس لیے کہ یہ لوگ خود ہی اس کا عزم نہیں کرتے) مطلب یہ ہوا کہ جب یہ لوگ خود ہی اپنی اصلاح کا قصد نہیں کرتے، بلکہ اس کے برعکس یہ مصر ہیں، تو یہ عادات الہیہ تکوینیہ میں سے ہے کہ بندہ کے عزم فعل پر اس فعل کی تخلیق بھی حق تعالیٰ کی طرف سے ہوجاتی ہے، اور اس قانون تکوینی کو کوئی روک نہیں سکتا، اس سے ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ کو تسکین دے دی گئی، اور دوسری طرف معتزلہ کا رد بھی نکل آیا، جو خالق افعال اللہ کو نہیں، بندہ کو سمجھتے ہیں۔ 150 ۔ عذاب کا ظہور تو آخرت میں ہوگا، لیکن دنیا کے عذاب تفضیح کا ظہور تو اس شدومد سے چند ہی روز کے اندر ہو کر رہا، کہ دوست دشمن سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، منافقین میں سے نفاق ایک ایک کا ظاہر ہو کر رہا، سب کے سب سوسائٹی میں حقیر و ذلیل ہوئے، رہے یہود تو ان کے بڑے سے بڑے پر قوت قبیلہ بنو نظیر، بنو قریظہ، بنو قینقاع، سب کے سب قید ہوئے جلاوطن ہوئے، قتل ہوئے۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں، حرام کے بڑے کھانے والے ہیں،151 ۔ اور اگر یہ آپ کے پاس آئیں تو (خواہ) ان کے درمیان فیصلہ کردیجیے (خواہ) انہیں ٹال دیجیے،152 ۔ اور اگر آپ انہیں ٹال دیں جب بھی یہ آپ کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان (قانون) عدل کے مطابق فیصلہ کریں،153 ۔ بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے،154 ۔

151 ۔ (آیت) ” سمعون للکذب “۔ یہ وصف یہود کے خواص وعوام دونوں کا بیان ہوا۔ سمع میں یہ اں سننے کے ساتھ کذب و باطل کا قبول کرنا بھی داخل ہے ابھی یہ لفظ آیت ماقبل میں گزر چکا ہے۔ دوبارہ زور وتاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ کر رہ تاکیدا وتعظیما (قرطبی) کر را للتاکید (مدارک) (آیت) ” اکلون للسحت “۔ سحت ہر حرام خوری کے لیے عام ہے۔ السحت الحرام اوما خبث من المکاسب (قاموس) وھو کل مالایحل کسبہ (مدارک) یہاں مراد رشوت ہے اور یہی معنی اب اس کے خاص ہوگئے ہیں، سمی الرشوۃ فی الحکم سحتا (راغب) قال الزجاج سمیت الرشوۃ التی کانو ایاخذونھا بالسحت (کبیر) وفی الحدیث ھو الرشوۃ فی الحکم (مدارک) ھو الرشوۃ (ابن کثیر) یہ وصف یہود کے خواص و اکابر کا بیان ہورہا ہے جو رشوت اور نذرانے لے لے کر غلط سلط احکام بتانے اور مسائل کے مسخ کر ڈالنے کے عادی ہوگئے تھے کو ان کی کتاب آسمانی میں ان کو عدل پر قائم رہنے اور رشوت نہ لینے کے باب میں حکم یہ ملا تھا کہ ” اپنے سارے فرقوں میں قاضی اور حاکم مقرر کیجیو۔ وہ انصاف سے لوگوں کی عدالت کریں تو عدالت میں مقدمہ مت بگاڑیو، تو طرفداری نہ کیجیو اور نہ رشوت لیجیو کہ رشوت دانشمند کی آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے۔ اور صادق کی باتوں کی باتوں کو پھیرتی ہے۔ “ (استثناء۔ 16: 18 ۔ 19) لیکن انہی کے بزرگوں نے تالمود میں احکام یہ جاری کردیئے تھے کہ جب کسی مقدمہ میں ایک فریق اسرائیلی ہو، اور دوسرا غیر اسرائیلی، تو اگر اسرائیلی کے موافق فیصلہ یہودی شریعت کے مطابق ہوسکتا ہے تو وہی کردو، اور یہ کہہ دو کہ یہی ہمارا قانون ہے۔ اور اگر اس کے موافق فیصلہ غیر اسرائیلی قانون کے مطابق ہوسکتا ہو، تو یہی کردو، اور غیراسرائیلی سے کہہ دو کہ تمہارے ہاں کا ضابطہ یہی ہے۔ اور اگر ایسا فیصلہ دونوں ضابطوں میں سے کسی ضابطہ سے بھی نہ ہورہا ہو تو کسی حیلہ سے کام لو “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اللہ کی رحمت پر بڑی دلیل ہے کہ اس میں مذمت کو کثرت و عادت معصیت پر مرتب فرمایا۔ سرسری خطاپرمذمت نہیں فرمائی جس سے عادۃ کوئی خالی نہیں ہوتا، یہی شان ہوتی ہے مشائخ اہل تربیت کی کہ خفیف امور سے تسامح کرتے ہیں، 152 ۔ (آپ کو دونوں چیزوں کا اختیار ہے، جیسی بھی آپ کو مصلحت معلوم ہو) (آیت) ” فان جآءوک “ یعنی جب یہ کوئی مقدمہ معاملہ لے کر آپ کے پاس آئیں، مدینہ میں رسول اللہ ﷺ اب حاکم اور دنیوی حیثیت سے بھی آمرو مقتدر تھے۔ کچھ تو اس لیے بھی یہود کو اپنے معاملات آپ کے سامنے لامحالہ لانے پڑتے تھے، پھر یہ بھی تھا کہ بہت سے مسائل میں شریعت محمد ﷺ شریعت یہود سے کہیں زیادہ نرم تھی، اس لالچ میں بہت سے یہود مدینہ اپنے قصے قضیے فیصلہ کے لیے رسول اللہ ﷺ ہی کی خدمت میں لایا کرتے تھے، فیصلہ واجب امیر اسلام پر تو ذمیوں ہی کے درمیان ہے۔ دوسرے کافروں کے لیے واجب نہیں، صرف جائز ہے، حسب ضرورت ومصلحت، ھذا تخییر من اللہ تعالیٰ والا یجب علینا الحکم بین الکفار اذا لم یکونوا اھل ذمۃ بل یجوز الحکم ان اردنا (قرطبی) ھذا التخییر مختص بالمعاھدین الذین لاذمۃ لھم (کبیر) 153 ۔ (اور وہ قانون عدل اب منحصر ہے قانون اسلام میں) (آیت) ” وان تعرض عنھم “۔ آپ ﷺ کا یہ ٹالنا بھی کسی مصلحت دینی ہی کے ماتحت ہوتا۔ (آیت) ” فلن یضروک شیئا “۔ اس لیے آپ اندیشہ نہ کریں کہ ناخوش ہو کر یہ لوگ آپ سے دشمنی نکالیں گے۔ بالقسط ای بالعدل الذی امرت بہ وھو ما تضمنہ القران واشتملت علیہ شریعۃ الاسلام (روح) اختیار اس امر میں تو دیا گیا تھا کہ غیر ذمی کافروں کے درمیان فیصلہ کیا جائے یا نہ کیا جائے، لیکن فیصلہ اگر کیا جائے، تو یہ قطعی ہے کہ قانون شریعت ہی کے ماتحت کیا جائے۔ اس کا اختیار نہیں کہ فیصلہ کسی اور قانون کے مطابق کردیا جائے۔ 154 ۔ (اور اللہ جن کے ساتھ محبت کرتا ہے، ظاہر ہے کہ انہیں توفیق بھی حق پر قیام کی دیتا رہے گا) یہاں یہ یاد دلا دیا ہے کہ وہ لوگ کیسے ہی اہل جور ہوں، آپ بہرحال ان کے معاملہ میں بھی طریق حق وعدل سے ذرا تجاوز نہ کیجئے۔ بالقسط ای بالحق والعدل وان کانوا ظلمۃ خارجین عن طریق العدل (ابن کثیر)
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور آپ سے یہ کیسے فیصلہ کراتے ہیں درآنحالیکہ ان کے پاس توریت موجود ہے،155 ۔ اور اس میں اللہ کا حکم (درج) ہے،156 ۔ پھر اس کے بعد ہٹ جاتے ہیں،157 ۔ اور یہ لوگ ہرگز ایمان والے نہیں،158 ۔

155 ۔ (جس کا کتاب الہی ہونا انہیں مسلم ہے) (آیت) ” کیف “۔ کلمہ تعجب ہے، یعنی اس پر اظہار حیرت ہے کہ یہ لوگ اپنی کتاب آسمانی رکھنے کے باوجود دین کے کسی معاملہ میں فیصلہ کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ! تعجیب من تحکیمھم من لایؤمنون بہ والحال ان الحکم منصوص علیہ فی الکتب الذی ھو عندھم (بیضاوی) تعجیب من تحکیمھم (کشاف) اوپر کسی حاشیہ میں گزر چکا ہے کہ یہود کا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا معرفت حق کے لیے تو ہوتا نہ تھا، اپنے مطلب اور اپنی غرض کے لیے شاید کوئی آسان ترحکم مل جائے، تنبیۃ علی انھم ما قصدوا بالتحکیم معرفۃ الحق واقامۃ الشرع وانما طلبوا بہ ما یکون اھون علیھم وان لم یکون حکم اللہ تعالیٰ فی زعمھم (بیضاوی) 156 ۔ جس خاص حکم یہ ذکر برابر چل رہا ہے، اور یہود نے اسے رسول اللہ ﷺ سے چھپا ڈالنا چاہا تھا، وہ حکم رجم یا سنگساری ہے۔ اور قرآن کے اعجاز کے لیے یہ دلیل بھی بجائے خود کافی اور قوی ہے کہ یہود کی ہزار کوشش اخفاء کے باجود، شادی شدہ زنا کاروں کے لیے حکم قتل ورجم کسی نہ کسی صورت میں آج تک باقی ہے، اور موجودہ توریت سے پیہم تحریفات بھی اسے یکسر اور تمامتر دور نہ کرسکیں، چند حوالے ملاحظہ ہوں :۔” اور وہ شخص جو دوسرے کی جورو کے ساتھ یا اپنے پڑوسی کی جورو کے ساتھ زنا کرے، وہ زنا کرنے والا اور زنا کرنے والی دونوں قتل کیے جائیں “۔ (احیاء۔ 20: 10) ” اور وہ مرد یا عورت جس کا یار دیو ہے یا جادوگر ہو تو دونوں قتل کیے جائیں اور چاہیے کہ تم ان پر پتھراؤ کرو، ان کا خون انہی پر ہو وئے “۔ (احبار۔ 20:27) ” اگر کوئی جورو کرے اور اس سے خلوت کرے،۔۔ اور کہے کہ میں نے اس عورت سے بیاہ کیا، اور جب میں اس کے پاس گیا تو میں نے اسے کنواری نہ پایا ، ، ، اگر یہ بات سچ نکلے اور لڑکی کے کنوارے پن کی نشانیاں پائی نہ جائیں، تو وہ اس لڑکی کو اس کے ماں باپ کے گھر کے دروازہ پر نکال لائیں اور اس کی بستی کے لوگ اس پر پتھراؤ کریں کہ وہ مرجائے “۔ (استثناء۔ 20: 13 ۔ 20، 2 1) ” اگر کوئی مرد شوہر والی عورت سے زنا کرتے پایا جائے تو وہ دونوں مارڈالے جائیں، مرد جس نے اس عورت سے صحبت کی، اور عورت بھی “۔ (استثناء 22:23) اور انجیل کے واسطہ سے جو گواہی پہنچی ہے وہ تو اس سے بھی زیادہ کھلی ہوئی ہے :۔ ” فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی، اور اسے بیچ میں کھڑا کرکے یسوع سے کہا اے استاد، یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے توریت میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ہم کو حکم دیا کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں، پس تو اس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے ؟ “ (یوحنا 8:4 ۔ 6) 157 ۔ پہلے تو خود ہی فیصلہ کرانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے، اور جب فیصلہ کرانے کے لیے رسول ﷺ کی خدمت میں آئے، اور جب فیصلہ سن لیا، تو اس سے ہٹ بھی گئے۔ (آیت) ” ثم “۔ تعجب میں ترقی کے لیے ہے، یعنی حیرت بالائے حیرت کے اظہار کے لیے۔ ثم للتراخی فی الرتبۃ (روح) تصریح بما علم لتاکید الاستبعاد والتعجب (روح) 158 ۔ ان کے کے اس طرز عمل نے ظاہر کردیا کہ ان کا ایمان قرآن وصاحب قرآن پرتو کیا ہوتا، توریت وصاحب توریت پر بھی مکمل ومستحکم نہیں، مومنین بک اوبکتا بھم کمایدعون (مدارک) مومنین بکتابھم کما یدعون (کشاف)
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بےشیک ہم ہی نے توریت نازل کی ہے جس میں ہدایت اور روشنی ہے،159 ۔ اسی کے مطابق وہ نبی جو اللہ کے مطیع تھے، یہودی لوگوں کا فیصلہ کرتے تھے، اور (اسی طرح) ان کے مشائخ وعلماء (بھی) ،160 ۔ اس لیے کہ انہیں کتاب اللہ کی نگہداشت کا حکم دیا گیا تھا،161 ۔ اور وہ اس کے گواہ تھے،162 ۔ سو تم انسانوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو،163 ۔ اور میرے احکام کو دنیا کی متاع قلیل کے عوض نہ بیچ ڈالو،164 ۔ اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو یہی لوگ تو کافر ہیں،165 ۔

159 ۔ (آیت) ” ھدی “۔ یعنی عقائد ومسائل سے متعلق ہدایات و احکام تھے۔ (آیت) ” نور “۔ یعنی وضوح تھا احکام عملی سے متعلق۔ توریہ پر حاشیہ سورة آل عمران کے شروع میں گزر چکا۔ (آیت) ” انا انزلنا التورۃ “۔ اس میں رد آگیا یہود کے موجودہ عقیدہ کا کہ توریت، صاحب الہام انبیاء کی مرتب کی ہوئی ایک انسانی کتاب ہے۔ توریت اسلامی عقیدہ کے مطابق، خدا کے ہاں سے نازل شدہ کتاب ہے۔ 160 ۔ مقصود توریت کی اہمیت وشرف کا اظہار ہے۔ یہ وہ کتاب الہی ہے جو پچھلی صدیوں میں معیار حق وعدل رہا کی ہے۔ علماء ومشائخ وانبیاء بنی اسرائیل کیلیے۔ (آیت) ” النبیون الذین اسلموا “۔ یہود کی اصطلاح میں ” نبوت “ اسلامی نبوت سے بالکل الگ ایک مفہوم رکھتی ہے، ان کے ہاں یہ ہزگز ضروری نہیں کہ نبی کا تعلق اللہ کے ساتھ جڑا ہوا اور مستحکم ہو یا اس کی نسبت مع اللہ قوی ہو، وہ ” نبی “ یا ” نبوت “۔ کے قائل صرف ان کے لفظی معنی میں تھے، نبی ان کے ہاں پیشگوئی کرنے والا، زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ صاحب کشف بھی ہو، جیسے مشرک قوموں میں کاہن، خود یہود کے ہاں نبی اور کاہن کی اصطلاحیں ساتھ ساتھ چلتی تھیں، توریت میں ذکر ایک جگہ نہیں، متعدد مقامات پر جعلی اور جھوٹے نبیوں کا آیا ہے، جو کفر وشرک کی طرف دعوت دینے والے تھے، صرف چند بہ طور نمونہ کے ملاحظہ ہوں : اگر تمہارے درمیان کوئی نبی یا خواب دیکھنے والا ظاہر ہو اور ،۔۔۔۔ تمہیں کہے آؤ ہم غیر معبودوں کی جنہیں تم نے نہیں جانا، پیروی کریں، تو ہرگز اس نبی یا خواب دیکھنے والے کی بات پر کان مت دھریو۔۔۔۔ وہ نبی یا خواب دیکھنے والا قتل کیا جائے گا “۔ (استثناء 13: 1 ۔ 3، 5) ” وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے “۔ (استثناء 18:20 ۔ 22) ” انبیاء میرا نام لے کر جھوٹی نبوت کرتے ہیں، میں نے انہیں نہیں بھیجا، اور حکم نہیں دیا، نہ انہیں کہا۔۔۔ یہ نبی تلوار اور کال سے ہلاک کیے جائیں گے۔ “ (یرمیاہ۔ 14: 13 ۔ 16) قرآن مجید نے انہی عقاید کے مدنظر (آیت) ” الذین اسلموا کی قید لگا کر بتادیا کہ (آیت) ” النبیون “۔ سے مراد جھوٹی اور شیطانی نبوت کرنے والے نہیں، بلکہ سچے اور وحی الہی سے مشرف نبی ہیں۔ (آیت) ” الربینون “۔ مراد اہل اللہ ومشائخ وعلماء باطن ہیں۔ العلماء الحکماء (قرطبی) الربانیوں فوق العلماء (قرطبی) الاحبار۔ مراد علماء ظاہر وفقہاء ہیں۔ قال ابن عباس ھم الفقھاء (قرطبی) الحبر الرجل العالم وھو ما خوذ من التحبیر فھم یحبرون العلم ای یتبیتونہ ویزینونہ (قرطبی) (آیت) ” للذین ھادوا “ میں۔ ل۔ علی کے معنی میں ہے۔ اللام بمعنی علی اے علی الذین ھادوا (بحر) 161 ۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ توریت حفاظت اور عملدرآمد کے لیے اکابر یہود کی سپردگی میں دے دی گئی تھی۔ (آیت) ” استحفاظ کے معنی ہیں کسی سے سوال کرنا کہ وہ حفاظت ونگہداشت رکھے، ای بسبب ما طلب اللہ منہم حفظھم لکتاب اللہ وکلفھم حفظھا واخذعہدہ علیھم فی العمل بھا والقول بھا (بحر) من کتاب اللہ میں من بیانیہ ہے۔ من للتبیین (بیضاوی) بما میں ب سببیہ ہے الباء فی بما للسبب (بحر) 162 ۔ گواہ اس امر کے، کہ یہ کتاب، کتاب الہی ہے، اور محافظ اس کے متن وعبارت کے۔ ای علی الکتب بانہ من عند اللہ (قرطبی) کانوا علیہ رقباء لئلا یتبدل (بحر) رقباء لایترکون ان یغیر (بیضاوی) شھداء علی ان کل ما فی التورۃ حق وصدق ومن عند اللہ (کبیر) 163 ۔ (کہ میں ہی انکار حق پر ہر سزا پر قادر ہوں) خطاب قرآن اپنے معاصر مقتدایان یہود سے کررہا ہے۔ (آیت) ” فلا تخشوا الناس “۔ خلقت سے ڈرتے ہو، کہ اگر ہم نے حسب بشارات توریت نبوت محمدی ﷺ کی تصدیق کردی، تو ہمارے عوام ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ رؤساء و اکابر یہود کے لیے قبول حق یا تصدیق محمدی ﷺ سے پہلا مانع یہی حب جاہ تھا، یہ ضرب اسی پر لگائی گئی۔ 164 ۔ (اور یہ نذرانے وغیرہ جو عوام سے حاصل ہوتے ہیں، ان کے بند ہوجانے کا ڈردل سے نکال ڈالو) مقتدایان یہود کو قبول حق وتصدیق اسلام سے پہلا مانع تو حب جاہ تھا، جس کا ذکر ابھی اوپر آچکا ہے، اور دوسرا مانع یہ حب مال تھا۔ 165 ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ “۔ بلکہ غیر شرعی احکام کو شرعی احکام قرار دے دے، اور انسانی قانون کو خدائی قانون کہہ کر چلائے۔ مقتدایان یہود کا اصلی اور سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ وہ اپنے گھڑے ہوئے قوانین ومسائل کو خدائی قوانین ومسائل کہہ کر چلاتے تھے۔ فتوی خود اور اپنی طرف سے دیتے، اور کہتے کہ یہی مذہب کا حکم ہے۔ اتنی جسارت رکھنے والوں کے کفر میں شک ہی کیا ہوسکتا ہے۔ اور یہی تفسیر بعض اکابر تابعین سے منقول ہے۔ عن ابن زید قال من حکم بکتابہ الذی کتب بیدہ وترک کتاب اللہ وزعم ان کتابہ ھذا من عند اللہ فقد کفر (ابن جریر) اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔ ومن لم یحکم میں۔ من۔ الذی کا مترادف ہے۔ اور آیت یہود کے حق میں ہے۔ من ھنا بمعنی الذی (قرطبی) معنی یہ ہوئے کہ وہ یہود جو احکام الہی رجم وقصاص وغیرہ کو مٹا کر اپنی تجویزوں کو حق تعالیٰ کی جانب منسوب کردیتے، وہ کافر ہوگئے۔ والتقدیر والیھود الذین لم یحکموا بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون فھذا من احسن ماقیل فی ھذا (قرطبی) آیت سے خوارج نے بڑے زور ودعوی کے ساتھ استدلال کیا ہے کہ مسلمان فاسق بھی کافر کے حکم میں داخل ہے، جب اس نے غیر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ شروع کردیا، تو وہ کفر میں داخل ہوگیا، لیکن یہ استدلال (خوارج کے دوسرے استدلالات کی طرح) تمامتر سطحی ہے۔ اس لیے کہ جس فیصلہ کا یہاں ذکر ہے، اس کا تعلق عمل سے نہیں، بلکہ عقیدہ سے ہے۔ اور وہ شخص کافر یقیناً ہوجاتا ہے، جو عقیدۃ بھی اللہ کے قانون کو غلط اور اپنے قانون کو صحیح سمجھنے لگتا ہے۔ المراد بہ ھنا عمل القلب وھو التصدیق ولا نزاع فی کفر من لم یصدق بما انزل اللہ تعالیٰ (روح) آیت کے عام نہ ہونے بلکہ کفار خصوص یہود کے ساتھ مخصوص ہونے پر ابوصالح، عکرمہ، ضحاک، قتادہ وغیرہ تابعین کے علاوہ حذیفہ، ابن عباس صحابی ؓ بلکہ خود نبی کریم ﷺ تک کی سند موجود ہے۔ عن البراء بن عازب عن النبی ﷺ فی قولہ ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاولئک ھم الکافرون ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظالمون، ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولٓئک ھم الفاسقون فی الکافرین کلھا (ابن جریر) عن ابی صالح قال الثلاث الایات التی فی المائدۃ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون والظالمون والفاسقون لیس فی اھل الاسلام منھا شیء ھی فی الکفار (ابن جریر) عن الضحاک قال نزلت ھولاء الایات فی اھل الکتاب (ابن جریر) عن ابی جعفر قال انزلت فی الیھود والنصاری واھل الشرک اونحوا من ھذا (ابن جریر) عن عکرمۃ قال ھؤلآء الایات فی اھل الکتاب (ابن جریر) عن عبید اللہ بن عبداللہ قال انما عنی بذلک ھؤلآء الیھود وفیھم نزلت ھذہ الصفۃ (ابن جریر) عن ابن عباس ؓ قال انما انزل اللہ تعالیٰ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولٓئک ھم الکافرون والظلمون والفاسقون فی الیھود خاصۃ (روح) قال البراء بن عازب وحذیفۃ بن الیمان وابن عباس وابو مجلز وابو رجاء العطاردی وعکرمہ وعبید اللہ بن عبداللہ والحسن البصری وغیرھم نزلت فی اھل الکتاب (ابن کثیر) قال قتادۃ والضحاک نزلت ھذہ الایات الثلاث فی الیھود دون من اساء من ھذہ الامۃ (معالم) امام ابن جریر طبری حسب دستور، موافق و مخالف سارے اقوال کو نقل کرکے ترجیح اسی کو دیتے ہیں کہ آیت کا تعلق صرف کفار اہل کتاب سے ہے کہ انہی کا ذکر سیاق میں بھی ہے۔ اور انہی کا ذکر سباق میں بھی، اور دوسرے محققین مفسرین بھی اسی طرف گئے ہیں، واولی ھذہ الاقوال عندی بالصواب قول من قال نزلت ھذہ الایات فی کفار اھل الکتاب لان ماقبلھا وما بعدھا من الایات ففیھم نزلت وھم المعتبون بھا (ابن جریر) قال الشعبیھی فی الیھود خاصۃ واختارہ النحاس (قرطبی) یعنون ان من جحد حکما او حکم بغیر حکم اللہ تعالیٰ ثم قال ان ھذا حکم اللہ فھو کافر کما کفرت بنو اسرائیل حین فعلوا ذلک (جصاص) کفر کی دفعہ اگر کسی غیر خدائی قانون کے مطابق فیصلہ کرنے والے مسلمان پر عائد ہوگی بھی، تو صرف اس صورت میں جب وہ بین وصریح حکم کی خلاف ورزی دیدہ و دانستہ کرے، نہ اس وقت جبکہ حکم کی دلالت ہی خفی ہو اور نادانستہ تعبیر ہی غلط کررہا ہو۔ قال العلماء ھذا اذا رد نص حکم اللہ عیانا فاما من خفی علیہ واخطافی تاویل فلا (معالم) عکرمہ تابعی نے کہا ہے، اور امام رازی (رح) نے بھی اس قول کی تصویف کی ہے کہ جب تک کوئی کسی حکم الہی کو دل سے مان رہا ہے، اور زبان سے اس کا اقرار کررہا ہے، اس وعید کے تحت میں آکیونکر سکتا ہے ؟ عمل اس کا اس کے مخالف ہی ہو، جب بھی وہ محض عاصی یا تارک کہا جائے گا نہ کہ منکر یا باغی، قال عکرمۃ قولہ ومن لم یحکم بما انزل اللہ انما یتناول من ان کر بقلبہ وجحد بلسانہ امامن عرف بقلبہ کونہ حکم اللہ واقربلسانہ کونہ حکم اللہ الا انہ اتی بما یضادہ فھو حاکم بما انزل اللہ تعالیٰ ولکنہ تارک لہ فلا یلزم دخولہ تحت ھذہ الایۃ وھذا ھو الجواب الصحیح (کبیر) خارجیوں کے مذہب کی ہمارے زمانہ میں پھر زبردست تجدید شروع ہوئی ہے، بڑے بڑے خوشنما القاب واسماء کے ساتھ، اور اس دعابۃ میں خاص کام اسی آیت سے لیا جاتا ہے، اس لیے ضروری معلوم ہوا کہ آیت کی تفسیر مذہب اہل سنت کے مطابق ذرا تفصیل سے کردی جائے۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر اس میں یہ فرض کردیا تھا،166 ۔ کہ جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کا آنکھ اور ناک کا ناک اور کان کا کان اور دانت کا دانت،167 ۔ اور زخموں میں قصاص ہے سو جو کوئی اسے معاف کردے،168 ۔ تو وہ اس کی طرف سے کفارہ ہوجائے گا،169 ۔ اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے (احکام) کے موافق فیصلہ نہ کرے تو ایسے ہی لوگ تو ظالم ہیں،170 ۔

166 ۔ (قتل عمد یا دانستہ ضرب رسانی کی صورت میں) (آیت) ” علیھم “۔ ضمیر یہود کی طرف ہے۔ ذکر انہی کا برابر چل رہا ہے، اور یہ بجائے خود ایک دلیل اس امر کی ہے کہ (آیت) ” من لم یحکم بما انز ل اللہ “۔ کا تعلق بھی یہود ہی سے ہے۔ (آیت) ” فیھا “۔ ضمیر متفقہ طور پر توریت کی جانب ہے۔ (آیت) ” وکتبنا “۔ سے اس کی صراحت ہوگئی کہ توریت کی تعزیرات اللہ ہی کی مقرر کی ہوئی ہیں ،۔ 167 ۔ موجودہ توریت میں اتنے تحریفی انقلابات کے بعد بھی یہ حکم ان الفاظ میں موجود رہ گیا ہے :۔ ” اگر وہ اس صدمہ سے ہلاک ہوجائے تو تو جان کے بدلہ میں جان لے اور آنکھ کے بدلہ میں آنکھ، دانت کے بدلہ دانت۔ اور ہاتھ کے بدلہ میں ہاتھ پاؤں کے بدلہ پاؤں۔ جلانے کے بدلہ جلانا۔ زخم کے بدلہ زخم اور چوٹ کے بدلہ چوٹ “۔ (خروج۔ 2 1:23 ۔ 25) ” اگر کوئی اپنے ہمسایہ کو چوٹ لگا دے سو جیسا کرے گا ویسا ہی پائے گا۔ توڑنے کے بعد توڑنا، آنکھ کے بدلہ آنکھ، دانت کے بدلہ دانت۔ جیسا کوئی کسی کا نقصان کرے، اس سے ایسا ہی کیا جاوے “۔ (احبار 24:20) ” اور تیری آنکھ مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان، آنکھ کا بدلہ آنکھ، دانت کا بدلہ دانت ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہوگا، “ (استثناء۔ 19:2 1) 168 ۔ (آیت) ” بہ “۔ اس کو یعنی اس قصاص کو۔ اس بدلہ لینے کے حق کو، ای تصدق بالقصاص (قرطبی) (آیت) ” والجروح قصاص “۔ قصاص سے مراد ہے کہ زخم محل قصاص ہیں ای ذات قصاص (بیضاوی) ای متقاصۃ (قرطبی) ای یقتص فیھا (جلالین) 169 ۔ یعنی موجب اجر وثواب، اور اس معاف کردینے والے کے گناہوں کے دور ہونے کا باعث بن جائے گا۔ (آیت) ” ھو “۔ یعنی یہ معاف کردینا۔ یہ اپنے جائز حق سے دستبرداری۔ (آیت) ” لہ “۔ یعنی اس معاف کردینے والے کے حق میں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ترغیب ہے، عفو کی، اور یہ اہل اللہ کی عادات میں داخل ہے۔ 170 ۔ (اپنے حق میں) یعنی بہت برا کام کرنے والے ہیں، یہود کا ذکر اب بھی چلا جارہا ہے پہلے ذکر یہ تھا کہ ان کے اکابر ومشائخ اپنی طرف سے ایک فتوی گھڑ کر دے دیتے ہیں، اور اسے شریعت الہی کی جانب منسوب کردیتے ہیں، ایسے لوگ اپنی اس حرکت سے یقیناً کافر ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” فاولئک ھم الکفرون “۔ اب ذکر انہی یہود کا ہے کہ یہ اجراء حدوقصاص میں احکام شریعت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، تو یہ اپنے ہی اوپر ظلم کررہے ہیں، (آیت) ” فاولئک ھم الظلمون “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 165 ۔
Ayah 5:46

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ہم نے انکے پیچھے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا تصدیق کرنے والے اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توریت کے،171 ۔ اور ہم نے انہیں انجیل دی جس میں ہدایت اور نور ہے،172 ۔ تصدیق کرنے والی اپنے قبل کی کتاب یعنی توریت کی،173 ۔ اور پرہیزگاروں کے لئے ایک ہدایت اور نصیحت،174 ۔

171 ۔ یہ تصدیق خود موجودہ محرف اور مسخ شدہ انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے موجود ہے :۔ ” یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں “۔ (متی۔ 5: 17) (آیت) ” اثارھم “۔ میں ضمیر انبیاء اسرائیل کی جانب ہے۔ ای النبیین الذین اسلموا من قبلک یا محمد ﷺ (ابن جریر) (آیت) ” و 1 قفینا علی اثارھم “۔ یعنی ہم نے ان کے نقش قدم پر پیچھے پیچھے بھیجا۔ ان الفاظ میں اشارہ اس جانب بھی ہوگیا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اسی طرح کے ایک نبی تھے، جیسے کہ ان کے قبل بنی اسرائیل میں اور نبی ہوچکے تھے، ان کی شخصیت اور ان کی وحی دوسرے انبیاء کی شخصیت اور وحی سے کچھ مختلف نہ تھی ، 172 ۔ قرآن مجید بار بار یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل نامی کوئی کتاب وحی یا الہام کی گئی تھی، اب یہ کتاب دنیا کی نظروں سے معدوم ہے۔ اور آئندہ کے کسی اسلامی محقق کا کام یہ پتہ لگانا ہے کہ آخر یہ کتاب آسمانی ہوئی کیا ؟ اور کب اور کیسے غائب ہوگئی ” عہد نامہ جدید “ جسے عوام انجیل کا مرادف سمجھتے ہیں، اس کے کتاب الہی یا آسمانی ہونے کا دعویدار تو کوئی بھی نہیں، نہ عیسائی، نہ غیر عیسائی، وہ تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کچھ ملفوظات اور کچھ حالات ہیں، آپ کے بہت بعدمجہول الحال لوگوں کے لکھے ہوئے ” ھدی “۔ یعنی عقائد ومسائل صحیحہ۔ (آیت) ” نور “۔ یعنی واضح احکام عملی۔ 173 ۔ انجیل کی اصطلاح میں ” شریعت “۔ (Law) سے مراد شریعت موسوی یا تو ریت ہوتی ہے، اور اس کی بابت موجودہ انجیل میں تصریح موجود ہے، کہ ” آسمان اور زمین کا ٹل جانا شریعت کے ایک نقطہ کے ہٹ جانے سے آسان ہے “۔ (لوقا۔ 16: 17) 174 ۔ یعنی نفع اس سے صرف پرہیزگاری ہی اٹھائیں گے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اس کے مخاطب اس ملک اور زمانہ کے عام وخاص سب ہی تھے۔
Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور اہل انجیل پر بھی لازم ہے کہ اللہ نے جو کچھ اس میں نازل کیا ہے، اس کے مطابق فیصلہ کریں،175 ۔ اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ نہ کرے، تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں،176 ۔

175 ۔ خود انجیل مروجہ کی تعلیم اس سلسلہ میں یہ ہے :۔ ” جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا، اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہت میں سب سے چھوٹا کہلائے گا۔ لیکن جو ان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہت میں بڑا کہلائے گا۔ “ (متی۔ 5: 19) مگر ایک لطیفہ یہ ہے کہ موجودہ ” انجیل “ میں احکام قانونی کا حصہ کہنا چاہیے کہ بس برائے نام ہی ہے۔ فوجداری اور دیوانی کے قانون کے بیسیوں باب سرے سے خالی ہیں۔ اخلاقی مواعظ ان کے بجائے البتہ ملتے ہیں۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نکتہ بھی اخذ کیا ہے کہ پچھلی شریعتوں سے جو حصہ منسوخ نہیں ہوا ہے وہ اس معنی میں اب بھی واجب العمل ہے کہ وہ اب عین ہماری شریعت کا جزوبن گیا اور اسی میں شامل ہوگیا۔ فیہ دلالۃ علی مالم ینسخ من شرائع الانبیاء المتقدمین فھو ثابت علی معنی انہ صار شریعۃ البنی ﷺ (جصاص) انھم مامورون باستعمال احکام تلک الشریعۃ علی معنی انھا قدصارت شریعۃ للنبی (علیہ السلام) (جصاص) 176 ۔ ظاہر ہے کہ آیت کا خاص تعلق اہل انجیل ہی سے ہے۔ مسیحیوں ہی کو حکم مل رہا ہے کہ جب دعوی انجیل کے ماننے کا ہے، تو عمل بھی اسی کتاب الہی کے مطابق وماتحت ہونا چاہیے۔ وقد تقدم ان ھذہ الایۃ نزلت فی النصاری وھو ظاہر من السیاق (ابن کثیر) امر القسیسین والرھبان ان یحکم بما فی الانجیل (معالم) قال الاصم فی النصاری (کبیر) آیت کو آج مسلمانوں پر چسپاں کرنا، خوارج کی دعابت کا دانستہ یا نادانستہ شکار ہوجانا ہے۔
Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور ہم نے آپ پر (یہ) کتاب اتاری ہے سچائی کے ساتھ، تصدیق کرنے والی ان کتابوں کی جو اس سے پیشتر اتر چکی ہیں اور ان پر محافظ،177 ۔ تو آپ ان لوگوں کے درمیان اللہ کے اتارے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ کیا کیجئے اور ان لوگوں کی خواہشوں پر عمل نہ کیجیے،178 ۔ اس سچائی سے الگ ہو کر جو آپ کے پاس آچکی ہے،179 ۔ تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک (خاص) شریعت اور راہ رکھی تھی،180 ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی امت بنا دیتا،181 ۔ لیکن (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ تمہیں آزماتا رہے اس میں جو وہ تمہیں دیتا رہا ہے تو تم نیکیوں کی طرف لپکو،182 ۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے تو وہ تمہیں وہ بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو،183 ۔

177 ۔ (اے پیغمبر ! ) توریت وانجیل کے بعد اب ذکر قرآن مجید کا شروع ہورہا ہے۔ (آیت) ” بالحق “۔ یعنی ایسی کتاب جو بجائے جو بجائے خود سچی ہے، ہر شک وکذب سے برتر، ای بالامر الحق (قرطبی) یعنی بقولہ بالحق بالصدق ولا کذب فیہ ولا شک انہ من عند اللہ (ابن جریر) (آیت) ” من الکتب “۔ کتاب بہ طور اسم جنس آیا ہے۔ من جنس الکتب (قرطبی) (آیت) ” مصدقالما بین یدیہ من الکتب “۔ تصدیق کرنے والی ان پچھلی کتابوں کی کہ وہ بھی منزل من اللہ ہی ہیں۔ اس تصدیق سے ان کتابوں کی تحریفات وتصحیفات کی تصدیق ہرگز لازم نہیں آتی۔ (آیت) ” مھیمنا “۔ مھیمن کے لفظی معنی ہیں، حفظ ونگہبانی کرنے والا۔ اصل المھیمنۃ الحفظ والارتقاب (ابن جریر) مراد یہ کہ قرآن ہی سب اگلی کتابوں کے لیے معیار صحت وصداقت ہے۔ شھیدا علی الکتب کلھا ویقال امینا علی الکتب (ابن عباس ؓ مؤتمنا علیہ (ابن جریر عن ابن عباس ؓ) قال قتادۃ معناہ الشاھد وقیل الحافظ (قرطبی) قال بعضھم معناہ شھیدا وقال بعضھم معناہ امینا علیہ (ابن جریر) عن ابن عباس ؓ ای شاھدا علیہ وھو قول مجاھد وقتادۃ والسدی والکسائی (معالم) قال سعید بن جبیر وابو عبیدۃ مؤتمنا علیہ (معالم) محقق ابن کثیر نے ” حاکم “۔ اور ” امین “ اور ” شہید “۔ اور ” موتمن “ وغیرہ متعدد معنی نقل کرکے لکھا ہے کہ یہ سب قریب المعنی ہیں اور مھیمن کا مفہوم ان سب پر شامل ہے۔ اور قرآن سب کتابوں کی خاتم اور سب سے اکمل و اعظم واشمل ہے۔ ھذہ الاقوال کلھا متقاربۃ المعنی فان اسم المھیمن یتضن ھذا کلہ فھو امین وشاھد وحاکم علی کل کتاب قبلہ جعل اللہ ھذا الکتاب العظیم الذی انزلہ اخر الکتب وخاتمھا اشملھا واعظمھا واکملھا۔ مجاہد تابعی کی جانب منسوب ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ مھیمن سے مراد محمدی ہے، اور علیہ میں ضمیر قرآن (الکتب) کی طرف ہے، گویا محمد ﷺ قرآن پر بطور مھیمن کے ہیں، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کی نقل میں کہیں غلطی ہوگئی ہے۔ امام ابن جریر لکھتے ہیں، کہ یہ معنی تو قواعد عربیت کے لحاظ سے غلط ہیں۔ اگر یہی مراد ہوتی تو، (آیت) ’ مصدقا “۔ اور (آیت) ” مھیمنا “۔ کے درمیان واوعطف نہ ہوتا، عطف کے بعد تو دونوں صفتیں ایک ہی موصوف، قرآن کی ہوسکتی ہیں۔ وھذا التاویل بعید من المفھوم فی کلام العرب بل ھو خطا وذلک ان المھیمن عطف علی المصدق فلایکون الامن صفۃ ما کان المصدق صفۃ لہ (ابن جریر) قرآن مجید کی دو صفتیں پہلے بیان ہوچکی تھیں، ایک یہ کہ وہ بذات خود صحیح اور سچی ہے، دوسری یہ کہ وہ قبل کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے تیسری صفت مھیمن کی اب بیان ہوئی۔ مصدق ومھیمن۔ ان دو صفات کے لانے سے قرآن مجید کی دو حیثیتوں کو بیان کرنا ہے۔ ایک یہ کہ سابق کتابوں کے کل مضامین اس کے اندر آگئے۔ اور اس میں جمع و محفوظ ہیں۔ دوسرے یہ کہ قرآن ان کتابوں پر بطور نگران کے بھی کام دے گا، یعنی ان کی تحریفات وتصحیفات کے لیے معیار کا کام بھی دے گا۔ 178 ۔ (جیسا کہ اب تک بھی نہیں کیا ہے) (آیت) ” ما انزل اللہ “۔ اللہ کے اتارے ہوئے احکام کے مطابق جو اب سب کے سب قرآن میں محفوظ ہیں۔ ای بما فی القران (مدارک) (آیت) ” بینھم “۔ یعنی اہل کتاب کے درمیان، جبکہ ان کے معاملات آپ کے سامنے پیش ہوں، ای بین الیھود (کبیر) ای بین اھل الکتاب کما قال ابن عباس ؓ (روح) 179 ۔ (اور وہ سچائی وحی الہی کی روشنی ہے) ای بالقران والوحی الذی نزلہ اللہ تعالیٰ علیک (کبیر) 180 ۔ خطاب عام ہے، نوع انسان بھی مراد ہوسکتی ہے، اور اہل کتاب بھی، ایھا الناس (مدارک، بیضاوی) ایھا الامم الباقیۃ (روح) (آیت) ” شرعۃ “۔ سے مراد ہر نبی کی لائی ہوئی تعلیم یا کتاب ہے۔ اور منھاج اس پیغمبر کا تعامل یا سنت ہے۔ گویا یہ بتادیا کہ کتاب وسنت کی دو گونہ نعمت قدیم موحد قوموں کے حصہ میں بھی ودیعت رہی ہے۔ عن ابن عباس ؓ سبیلا وسنۃ وکذا روی عن مجاہد وعکرمۃ وحسن البصری وقتادۃ وضحاک والسدی (ابن کثیر) ایک قول یہ بھی ہے کہ شرعۃ سے مراد مطلق شریعت ہے اور منھاج سے مراد کمالات شریعت، قال اخرون بینھما فرق فالشرعۃ عبارۃ عن مطلق الشریعۃ والطریقۃ عبارۃ عن مکارم الشریعۃ وھی المراد بالمنھاج فالشریعۃ اول والطریقۃ اخر وقال المبرد الشریعۃ ابتداء الطریقۃ والطریقۃ المنھاج المستقر (کبیر) 181 ۔ (اور آپ میں کوئی دینی اختلاف باقی ہی نہ رکھتا سب کے سب دین حق پر متحد ومتفق ہوتے) ای فجعل شریعتکم واحدۃ فکنتم علی الحق (قرطبی) فجمع الناس کلھم علی دین واحد وشریعۃ واحدۃ (ابن کثیر) (آیت) ” ولو شآء اللہ “۔ یعنی اگر مشیت تکوینی یہی ہوتی۔ اگر اللہ تعالیٰ کو مصالح تکوینی کے اعتبار سے یہی منظور ہوتا، مخاطبت یہاں ساری نوع انسانی یا مختلف اقوام سے ہے، ھذا خطاب لجمیع الامم واخبار عن قدرتہ (ابن کثیر) 182 ۔ یعنی قانون اسلام کی طرف، جو نام ہی نیکیوں اور بھلائیوں کے تسلسل کا ہے۔ (آیت) ” الخیرت “۔ خیرات کا لفظ جامع ہے، اس کا اطلاق نیکیوں کے جملہ اقسام پر ہوگا۔ المراد کل ما امر اللہ تعالیٰ بہ (مدارک) یہاں مطلقہ کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ سب کو یکساں راہ حق ہی پر رکھا جاتا تو تکوینیات کے قانون ہی دوسرے ہوتے۔ نہ یہ اختلاف عقول باہم باقی رکھا جاتا، نہ یہ اختلاف طبائع، نہ یہ اختلاف استعدادات، سب انسان، اختلاف ماحول کے باوجود یکساں ویک رنگ ہوتے، بہ ظاہر سب حق ہی پر ہوتے، لیکن حقیقۃ سب بےارادہ، بےاختیار، مجبور مشین کی طرح حرکت کرتے رہتے، لیکن مشیت تکوینی کو یہ منظور ہی نہ ہوا۔ اس لیے انسان کی خلقت و ترکیب ہی دوسرے طریق پر ہوئی، وہ فاعل مختار وباارادہ بنا کر بھیجا گیا کہ اپنے قصد و ارادہ سے کام لے کر ایک راستہ کو چھوڑ، دوسرے کو انتخاب کرسکے، (آیت) ” لیبلوکم “۔ اس میں انسان کے صاحب ارادہ واختیار ہونے کی غایت ومقصود کی جانب صحیح استعمال ہے، اور یہی انسان کی آزمائش۔ (آیت) ” فاستبقوا الخیرات “۔ یعنی طاعتوں کی طرف قدم بڑھاؤ، لپکو، ای سارعوا الی الطاعات (قرطبی) فقہاء نے لفظ استباق سے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ عبادات واجب میں عجلت کرنا تاخیر سے افضل ہے۔ وھذا یدل علی ان تقدیم الواجبات افضل من تاخیرھا (قرطبی۔ جصاص)183 ۔ (باوجود وضوح حق کے۔ اور جزا بھی اسی کے مطابق دے گا) (آیت) ” مرجعکم جمیعا “۔ سب کی واپسی اسی کے حضور میں ہونا اور اسی سے سابقہ پڑنا ہے، اسی میں رد آگیا ان تمام مشرکانہ خیالات کا، جن کا ماحصل یہ ہے کہ حشر کی داوری، بجز حق تعالیٰ یا علاوہ حق تعالیٰ کے کسی اور کے سپرد ہوگی۔ (آیت) ” ینبئکم “۔ خبردینا یہاں محض اطلاع دینے کے معنی میں نہیں، بلکہ سزا دینے پر بھی شامل ہے۔ ای فیفعل بکم من الجزاء الفاصل بین الحق والباطل (روح) فالانبیاء ھنا مجاز عن المجازاۃ بما فیھا من تحقق الامر (روح)
Ayah 5:49

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے رہیے اسی (قانون) کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں پر عمل نہ کیجئے،184 ۔ اور ان لوگوں سے احتیاط رکھیے کہ کہیں وہ آپ کو بچلا نہ دیں، آپ پر اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے،185 ۔ پھر اگر یہ روگردانی کریں تو جان لیجئے کہ اللہ کو بس یہی منظور ہے کہ ان کے بعض جرموں پر انہیں پاداش کو پہنچا دے،186 ۔ اور یقیناً زیادہ آدمی تو بےحکم ہی ہوتے آئے ہیں،187 ۔

184 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” فاحکم بینھم “۔ یعنی ان اہل کتاب خصوصا یہود کے درمیان فیصلہ کیجئے جب وہ اپنا مقدمہ آپ کے سامنے لائیں۔ آیت کا یہ ٹکڑا ابھی اوپر آچکا تھا، دوبارہ اس کا ورد تاکید کے لیے ہے۔ وتکرر وان احکم بینھم للتاکید (قر طبی) (آیت) ” بما انزل اللہ۔ ولا تتع اھوآء ھم “۔ اللہ سے مراد قرآن مجید کا ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن اگر توریت وانجیل ہی مراد لی جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ان کتابوں کے بھی ٹھیک الہامی اور وحی شدہ احکام کے مطابق ہی فیصلہ کیجئے، نہ کہ ان اضافوں اور تحریفوں کے مطابق جو انہوں نے اپنے دل سے ان کتابوں میں کرلیے ہیں۔ (آیت) ” اھوآء ھم “۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ حکم دو مختلف مسئلوں کے بارے میں ہے، اس لیے تکرار صرف ظاہری ہے، حقیقی نہیں۔ لیس بتکرار لماتقدم من مثلہ لانھما نزلا فی شیئین مختلفین احدھما فی شان الرجم والاخر فی التسویۃ بین الایات (جصاص) 185 ۔ اس حذر کا التزام اور اتنی احتیاط کا اہتمام ہر بار کرتے رہنا بہ قول مفسر تھانوی (رح) خود باعث اجر ہے۔ (آیت) ” ان یفتنوک “۔ رسول معصوم ﷺ کا کسی الہی سے بچلنا قصد وعمد سے تو ہو ہی نہیں سکتا، لامحالہ سہو ونسیان ہی کی بنا پر ہوگا۔ اور یہیں سے ہے کہ آیت سے بعض محققین نے پیمبر کے لیے جواز نسیان پر استدلال کیا ہے۔ وفی الایۃ دلیل علی جواز النسیان علی النبی ﷺ (قرطبی) قال اھل ھذہ الایۃ تدل علی ان الخطاء والنسیاں جائز ان علی الرسول (کبیر) 186 ۔ (اسی دنیا میں) (آیت) ” بعض ذنوبھم “۔ جرموں سے یہاں مراد یہود کا فیصلہ قرآنی اور تحکیم رسول سے انکار ہے۔ یعنی ذنب التولی عن حکم اللہ سبحانہ وتعالیٰ (بیضاوی) یہ حقیقت مدنظر رہے کہ کفر یا محض بدعقیدگی کی سزا آخرت پر رکھی گئی ہے۔ لیکن حربیت یا دنیا میں فتنہ و فساد پھیلانے کی سزا اسی دنیا میں ملتی ہے۔ چناچہ یہود کو قید کی، جلاوطنی کی، اور قتل کی سزا پاتے سب نے اسی دنیا میں دیکھ لیا۔ (آیت) ” بعض کا لفظ لانے سے اظہار عظمت واہمیت مقصود ہے، جیسا کہ لفظ کے نکرہ لانے سے ہوتی ہے۔ فیہ دلالۃ علی التعظیم کمافی التنکیر (بیضاوی) ھذا الابھام فیہ تعظیم التولی وفرط اسرافھم فی ارتکابھم (بحر) (آیت) ” فان تولوا “۔ روگردانی آپ ﷺ کے فیصلہ سے ہوگی، جو عین حکم قرآنی کے مطابق ہوگا، عن الحکم المنزل وارادوا غیرہ (بیضاوی) 187 ۔ (اس لیے آپ زیادہ رنج وتردد میں نہ پڑیں) (آیت) ” الناس “۔ سے مراد عام نوع انسانی بھی لی گئی ہے، اور قوم یہود بھی جن کا ذکر برابر چلا آرہا ہے، والمراد من الناس العموم وقیل الیھود (روح) ظاھر الناس العموم ویحتمل ان یکون الناس للعھد وھم الیھود الذین تقدم ذکر ھم (بحر)