5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

(اس پر) وہ وہ آدمی جو (اللہ سے) ڈرنے ولوں میں تھے (اور) ان دونوں پر اللہ کا فضل تھا بولے،98 ۔ تم ان پر چڑھائی کرکے شہر کے دروازہ تک تو چلو، سو جس وقت تم دروازہ میں قدم رکھو گے اسی وقت غالب آجاؤ گے اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اگر تم ایمان رکھتے ہو،99 ۔

98 ۔ (ان کم ہمتوں کو حوصلہ دلانے کے لیے) (آیت) ”۔ رجلن “۔ ان میں سے ایک کا نام یوشع بن نون تھا۔ اور دوسرے کا کالب بن یوقنا۔ یوشع سردار تھے قبیلہ بنی افرائیم کے اور کالب قبیلہ بنی یہودا کے۔ (آیت) ” من الذین یخافون “۔ یعنی وہ لوگ جن میں خوف خدا تھا۔ جن کے دلوں میں تقوی الہی اور خشیت تھی، ای یخافون اللہ سبحانہ ویتقونہ (بیضاوی) کانہ قیل رجلان من المتقین (کشاف) (آیت) ” انعم اللہ علیہما “۔ اللہ کا فضل وانعام اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ انہیں حق گوئی پرستی کی توفیق دی اور وہ شوکت کفار سے مرعوب نہ ہوئے۔ ای بالیقین والصلاح (قرطبی) موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسا کہ ہر دانشمند فوجی لیڈر کو ایسے موقع پر کرنا چاہیے کیا یہ تھا، کہ فلسطین پر فوج کشی سے قبل اپنی قوم کے ہر ہر قبیلہ سے اس کے لیڈر کو چن کر، کل 12 معززین وشرفاء کو ملک کے متعلق تحقیق حال کے لیے یا بہ اصطلاح توریت ” جاسوسی “ کے لیے آگے روانہ کردیا۔ ان میں سے دس نے آکر یہ مبالغہ آمیز رپورٹ دی، کہ غنیم بہت ہی طاقتور ہے، اس سے مقابلہ کرنا اپنی جان کھونا ہے، باقی دو نے اس کے برعکس ہمت افزا باتیں بیان کیں توریت کے بیانات اس موقع پر بھی حسب معمول بڑے طویل ہیں۔ تاہم کچھ اقتباسات تو بہرحال قابل نقل ہیں :۔ ” پھر خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب کرکے فرمایا کہ تو لوگوں کو بھیج تاکہ کنعان کی زمین کی جو میں بنی اسرائیل کو دیتا ہوں، جاسوسی کریں ایک ایک مرد اس کے آبائی فرقہ میں سے جو اس میں سردار ہے، بھیج دے، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے خداوند کے ارشاد کے موافق دشت فاران سے ان کو بھیجا۔ وہ سب لوگ بنی اسرائیل کے سردار تھے اور ان کے نام یہ ہیں۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں بھیجا کہ زمین میں کنعان کی جاسوسی کریں۔ اور اس زمین کو دیکھو کہ کیسی ہے۔ وہ لوگ جو وہاں کے بسنے والے ہیں، کیسے ہی، زور آور ہیں یا کمزور۔ تھوڑے ہیں یا بہت۔ اور وہ زمین جس میں وہ رہتے ہیں کیسی ہے، اچھی ہے کہ بری اور وہ شہر جن میں وہ بستے ہیں کیسے ہیں خیموں میں ہیں یا قلعوں میں۔ اور زمین کیسی ہے، جید یا بنجر، اس میں درخت ہیں یا نہیں “۔ (گنتی۔ 13: 1 ۔ 20) ” وہ لوگ چڑھے اور زمین کی جاسوسی دشت سین سے حوب تک جو حمات کے راستہ میں ہے کی۔۔ وہ چالیس دن کے بعد اس زمین کی جاسوسی کرکے پھرے “۔ (گنتی۔ 13:2 1 ۔ 25) انہوں نے آکر جو کچھ کہا، وہ حاشیہ نمبر 96 میں نقل ہوچکا۔ 99 ۔ ان لوگوں نے ایک بڑی گہری اور عارفانہ حقیقت بیان کردی، کہ اصل امتحان تو حضرت حق کے ہاں بس عزم وہمت ہی کا ہوتا ہے۔ باقی نتائج میں برکت تو از خود پید اہوجاتی ہے۔ توریت میں اس مقام کی منظر کشی یوں کی ہے :۔” تب کالب نے موسیٰ کے حضور لوگوں کو چپ کروایا اور کہا کہ البتہ ہم لوگ چڑھیں گے اور ملک پالیں گے، کیونکہ ہمیں بلاشبہ اس کے لینے کا زور ہے “۔ (گنتی۔ 13:30) ” اور نون کے بیٹے یشوع اور یفنہ کے بیٹے کالب نے جو اس زمین کی جاسوسی کرنے والوں میں سے تھے، اپنے کپڑے پھاڑے اور انہوں نے بنی اسرائیل کی ساری جماعت کو کہا، وہ زمین جس پر ہمارا گزر اس کی جاسوسی کے لیے ہوا نہایت خوب زمین ہے۔ اگر خدا ہم سے راضی ہے تو ہم کو اس زمین پر لے جائے گا اور یہ زمین جس پر دودھ اور شہد بہہ رہا ہے۔ ہم کو عنایت کرے گا۔ مگر تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ تم اس زمین کے لوگوں سے ڈرو، وہ تو ہماری خوراک ہیں۔ ان کا سایہ ان سے جاچکا ہے پر خداوند ہمارے ساتھ ہے۔ ان کا خوف نہ کرو۔ تب ساری جماعت نے چاہا کہ ان پر پتھراؤ کرے “۔ (گنتی۔ 14:6 ۔ 9)
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ لوگ بولے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم ہرگز وہاں کبھی بھی نہ داخل ہوں گے جب تک وہ لوگ بولے اے موسیٰ ہم ہرگز وہاں کبھی بھی نہ داخل ہوں گے جب تک کہ وہ لوگ وہاں موجود ہیں، سو آپ خود اور آپ کے خداوند چلے جائیں اور آپ دونوں لڑبھڑلیں ہم تو یہاں سے ٹلتے نہیں،100 ۔

100 ۔ یہ کہنے والی بنی اسرائیل کی عام جماعت تھی، جو ان فہمائشوں سے غیر متاثر رہی تھی۔ توریت میں اس موقع کی منظر کشی یوں کی گئی ہے :۔” تب ساری جماعت چلا کر روئی اور لوگ اس رات بھر رویا کیے، پھر سارے بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر کڑکڑائے اور ساری جماعت نے انہیں کہا کہ اے کاش ہم مصر میں مرجاتے اور کاش کہ ہم اسی بیابان میں فنا ہوتے ! خداوند کس لیے ہم کو اس زمین میں لایا کہ تلوار سے گرجائیں اور ہماری جوروں اور بچے پکڑے جائیں “۔ (گنتی۔ 14: 1 ۔ 3) ” تب ساری جماعت نے چاہا کہ ان پر (یوشع اور کالب پر) پتھراؤ کرے “۔ (گنتی۔ 14: 10) (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ اسرائیلیوں کی اس تقریر کا گستاخانہ طنز تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مشرک قوموں سے متاثر ہو کر یہ موحد قوم بھی اپنے عقیدہ میں شرک اس حدتک داخل کرچکی ہو۔ مشرک قوموں کا یہ ایک عام دستور تھا کہ میدان جنگ میں جاتے تو اپنی مورتیوں، ٹھاکروں کو اپنے ساتھ لے جاتے اور یہ عقیدہ بھی رکھتے کہ ان کے دیوتا بھی ان کے ساتھ ساتھ ہیں۔ (آیت) ” انا ھھنا قعدون “۔ یہ واضح رہے کہ اسرائیلیوں کی اس وقت تک کوئی الگ باقاعدہ فوج نہ تھی، بلکہ ساری قوم کا ہر بالغ وتندرست مرد مسلح اور فوجی سپاہی تھا۔
Ayah 5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) عرض کی اے میرے پروردگار میں تو سوا اپنے اور اپنے بھائی کے اور کسی پر اختیار رکھتا نہیں، سو تو ہی ہمارے اور (اس) بےحکم قوم کے درمیان فیصلہ کردے،101 ۔

101 ۔ یعنی فیصلہ ان دو فریقوں کے درمیان، جن میں ایک طرف ہم دو بھائی ہیں، بےبس وبے اختیار، اور دوسری طرف یہ جم غفیر ہے، ہر طرح گستاخ ونافرمان۔ (آیت) ” اخی “۔ بھائی سے مراد حضرت ہارون (علیہ السلام) تھے، جو خود بھی پیغمبر برحق تھے، یہ دعا ظاہر ہے کہ ان پیغمبران برحق نے اپنی ناکارہ قوم کی سرکشی اور بغاوت اور اپنی بےبسی پوری طرح محسوس کرنیکے بعد ہی کی، توریت کے صفحات اسرائیلیوں کی گستاخانہ روش کے تذکرہ سے لبریز ہیں۔ آیت میں بڑی تسکین کا سامان اکابر امت کیلیے ہے، قوم جب سرکشی اور نافرمانی کے لیے تل جائے، تو پیغمبران برحق تک کی کوششیں ناکام رہتی ہیں۔ پھر کسی ولی یا بزرگ کی سعی اصلاح اگر نام رہے تو وہ دل شکستہ کیوں ہو۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دعائے موسوی میں لفظ اخی کے بڑھانے سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ شیخ اپنے مخلص تابع میں بھی وہی حاکمانہ تصرف رکھتا ہے جو خود اپنے نفس میں۔
Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ اچھا تو وہ ملک ان پر چالیس سال کے لیے حرام کردیا گیا یہ لوگ زمین پر بھٹکتے پھریں گے،102 ۔ سو آپ (اس) بےحکم قوم پر (ذرا) غم نہ کیجئے،103 ۔

102 ۔ (اور اسی جزیرہ نمائے سینا میں ٹھوکریں کھاتے رہیں گے) (آیت) ” محرمۃ علیھم “۔ یعنی ان کے لیے تکوینی طور پر اب یہ ممکن ہی نہ ہوگا کہ 40 سال سے قبل اس ارض مقدس میں داخل ہوسکیں اور جو نعمت انہیں تھوڑی سی جدوجہد کے بعد فی الفور ملی جارہی تھی، اب اس کیے لیے انہیں 40 سال کا انتظار کرنا ہوگا، اور ان کی موجودہ نسل کا بڑا حصہ اسی انتظار میں ختم ہوجائے گا۔ (آیت) ” کتب اللہ لکم “۔ میں ان سے جو وعدہ تھا وہ بالکل مطلق اور غیر مشروط صورت میں نہ تھا وہ مشروط تھا ان کی جدوجہد کے ساتھ۔ والمراد بقولہ کتب اللہ لکم ای بشرط ان تجاھدوا اھلھا فلما ابوالجھاد قیل فانھا محرمۃ علیہم (مدارک) ینبغی ان یکون اللہ قد جعلھا علی شریطۃ القیام بطاعتہ واتباع امرہ فلما عصوا حرمھم ایاھا (جصاص) توریت میں اس مقام پر ہے :۔ ” مجھے اپنی حیات کی قسم کہ ساری زمین خداوند کے جلال سے معمور ہوگی کہ وہ سب لوگ جنہوں نے میری شوکت اور میرے معجزے جو میں نے مصر میں اور اس بیابان میں ظاہر کیے دیکھے اب تک مجھے اس مرتبہ آزماتے اور میری آواز پر کان نہ دھرتے وہ اس زمین کو جس کی بابت میں نے ان کے باپ دادوں سے قسم کی تھی نہ دیکھیں گے بلکہ کوئی ان میں سے جنہوں نے مجھے غصہ دلایا اسے نہ دیکھے گا “۔ (گنتی۔ 14:2 1، 22) ” مجھے اپنی حیات کی قسم جیسا تم نے مجھے سنا کے کہا ہے میں تم سے ویسا ہی کروں گا، تمہاری لاشیں اور ان سب کی جو تم میں شمار کیے گئے ان کے کل جمع کے مطابق 20 برس والے سے لے کے اوپر والے تک جنہوں نے میری شکایتیں کیں، اس بیابان میں گریں گے “۔ (گنتی 14:28، 29) ” تم جو ہو تمہاری لاشیں اس بیابان ہی میں گریں گی اور تمہارے لڑکے اس دشت میں چالیس برس تک بھٹکتے پھریں گے۔ اور تمہاری برگشتگی کے اٹھانے والے ہوں گے “۔ (گنتی۔ 14:23) ” ان دونون کے شمار کے موافق جن میں تم اس زمین کی جاسوسی کرتے تھے جو چالیس دن ہیں، دن پیچھے ایک سال ہوگا، سو تم چالیس برس تک اپنے گناہ کو اٹھاتے رہوگے، تب تم میری عہد شکنی کو جان لوگے۔ میں نے جو خداوند ہوں کہا ہے کہ میں اس سارے خبیث گروہ سے جو میری مخالفت پر جمع ہیں، ایسا ہی کروں گا۔ اس دشت میں وہ بربات ہوجائیں گے اور یہیں ہلاک ہوں گے “ (گنتی۔ 14:34، 35) عصر حاضر ایک فرنگی ماہر اثریات سرچارلس مارسٹن کے تخمینہ کے مطابق یہ زمانہ 2440 ؁ ق۔ م اور 1400 ؁ ق، م کے درمیان کا ہے (آیت) ” اربعین “۔ فعل حرم کا ظرف ہے۔ اربعین ظرف التحریم (مدارک) 103 ۔ پیغمبر آخر پیغمبر ہوتے ہیں، رحمت و شفقت کے پتلے، عفو وکرم کے مجسمے۔ کہاں خود ہی تو دعا کی تھی کہ نافرمان قوم کو سزا ملے، اور کہاں اب جو سزا، وہ بھی صرف دنیوی، ملنے لگی تو لگا خود آپ (علیہ السلام) ہی کا دل پسیجنے اور ان لوگوں پر غم کرنے عین اسی وقت حکم ہوا کہ حکمت کاملہ میں ایسے نافرمانوں کے لیے سزا یہی مناسب ہے اور آپ ان پر غم نہ کیجئے خطاب موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے، جیسا کہ جمہور مفسرین کا قول ہے، اور سیاق خود اسی کا مقتضی ہے، فالخطاب لموسی (علیہ السلام) کما ھو الظاھر والیہ ذھب اجلۃ المفسرین (روح)
Ayah 5:27

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھک پڑھ سنائیے،104 ۔ (یہ اس وقت ہوا) جب دونوں نے ایک نیاز پیش کی،105 ۔ ان میں سے ایک کی تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی،106 ۔ (اس پر وہ دوسرا) بولا کہ میں تجھ کو قتل کرکے رہوں گا،107 ۔ (پہلے نے) کہا اللہ تو متقین کا (عمل) قبول کرتا ہے،108 ۔

104 ۔ (اے ہمارے پیغمبر ! ) (آیت) ” علیہم “ َ میں ضمیر کس طرف ہے ؟ اہل کتاب، خصوصا معاندین اہل کتاب کی طرف ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ واتل علی اھل الکتاب (کبیر) ای اقصص علی ھولاء البغاۃ الحسدۃ (ابن کثیر) واتل علی ھولاء الیھود الذین ھموا ان یبسطوا ایدیھم الیکم (ابن جریر) لیکن عام نوع انسانی بھی مراد ہوسکتی ہے۔ واتل علی الناس (کبیر) قصہ کا مقصد دو امور کی تعلیم دینا ہے، ( 1) ایک یہ کہ نسب کی بزرگی مطلق کام نہیں آتی، مقبول صرف وہی ہوتا ہے جو حکم کا مطیع ہوتا ہے۔ (2) دوسرے یہ کہ انسان حسد سے متاثر ہو کر کیسی کیسی شیطانی حرکتیں کر گزرتا ہے۔ (آیت) ” ابنی ادم “۔ مراد قابیل وہابیل ہیں، یا بہ اصطلاح توریت قائن وہابل۔ قابیل بڑے تھے، ہابیل چھوٹے، حسب تصریح توریت قابیل کاشتکار تھے اور ہابیل بھیڑ بکری کے چرواہے یا گلہ بان۔ (آیت) ” بالحق “۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ متلبسا بالحق، تلاوۃ متلبسۃ بالحق والصحۃ (کشاف) عجب نہیں مقصود یہ ظاہر کرنا ہو کہ قرآن کی یہ بیان کی ہوئی روداد بالکل سچ ہی سچ ہے، توریت وغیرہ کی روایتوں کی طرح یہ قصہ بھی حق و باطل کی ملاوٹ نہیں رکھتا، محقق رازی (رح) نے ایک پہلو اور بھی رکھا ہے۔ یعنی یہ قرآنی حکایت، دوسری قرآنی حکایتوں کی طرح ہدایت کا سبق لینے کے لیے ہے۔ جاہلیت جدید وجاہلیت قدیم کی طرح قصہ محض قصہ کی غرض سے، آرٹ محض آرٹ کی غرض سے۔ قرآن مجید کا مقصود نہیں ہوسکتا۔ ای لیعتبروا بہ لا لیحملوہ علی اللعب والباطل مثل کثیر من الاقاصیص التی لافائدۃ فیھا وانماھی لھو الحدیث (کبیر) اور یہ بات اسی ایک حکایت کے ساتھ خاص نہیں، قرآن مجید کی ساری حکایتوں اور قصوں سے مقصود یہی عبرت، موعظت وہدایت ہے وھذا یدل علی ان المقصود بالذکر من الاقاصیص والقصص فی القرن العبرۃ لا مجرد الحکایۃ (کبیر) 105 ۔ (اللہ کے حضور میں) (آیت) ” قربانا “۔ قربانی یہاں اصطلاحی معنی میں یعنی ذبیحہ کے مرادف نہیں، بلکہ لفظی معنی اور وسیع مفہوم میں ہے، نذر ونیاز کے مفہوم میں ہے۔ القربان ما یتقرب بہ الی اللہ (راغب) القربان اسم لما یتقرب بہ الی اللہ تعالیٰ من ذبیحۃ اوصدقۃ (کبیر) القربان مایقصد بہ القرب من رحمۃ اللہ تعالیٰ من اعمال البر (جصاص) قربان اسم جنس ہے۔ واحد وجمع دونوں موقعوں پر اسی صورت سے آتا ہے۔ اسم جنس فھو یصلح للواحد والعدد (کبیر) 106 ۔ (اس لیے کہ وہ مخلصانہ نہ تھی) روایتوں میں آتا ہے کہ چھوٹے بھائی ہابیل کی نذر مخلصانہ تھی، اس نے اپنے گلے کی بہترین بھیڑ پیش کردی تھی، وہ قبول ہوگئی بڑے بھائی قابیل نے اپنے کھیت کی پیداوار کا ناقص حصہ پیش کیا، وہ قبول نہ ہوا، قبول نیاز کی علامت اس زمانہ میں یہ تھی کہ ایک آگ آسمان سے آکر نذر قبول کرلے جاتی تھی، توریت میں اس کے اشارے بار بارے آئے ہیں۔ 107 ۔ قابیل ہابیل سے خفا پہلے ہی کسی معاملہ میں تھا، اور یوں بھی سن میں بڑا تھا، اپنے کو بزرگی ومقبولیت کا زیادہ حقدار سمجھتا تھا، اب شدت حسد سے بہت ہی برا فروختہ ہو کر بےگناہ بھائی کی جان لینے تک پر آمادہ ہوگیا، توریت میں یہ پورا قصہ یوں درج ہے :۔” چند روز کے بعد یوں ہوا کہ قائن اپنے کھیت میں سے خداوند کے واسطے ہدایہ لایا اور ہابل میں اپنی پلوٹھی اور موٹی بھیڑ بکریوں میں سے لایا۔ اور خداوند نے ہابیل کو اور اس کے ہدیہ کو قبول کیا، پر قائن کو اور اس کے ہدیہ کو قبول نہ کیا۔ اس لیے قائن نہایت غصہ اور ترش رو ہوا۔ اور خداوند نے قائن سے کہا تجھے کیوں غصہ آیا اور اپنا منہ کیوں بگاڑا۔ اگر تو اچھا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر موجود ہے۔ اور تیرا ارادہ رکھتا ہے۔ پر تو اس پر غالب آ۔ اور قائن نے اپنے بھائی ہابل سے باتیں کیں، اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے، تو یوں ہوا کہ قائن اپنے بھائی ہابل پر اٹھا، اور اسے مار ڈالا “۔ (پیدائش۔ 4:3، 8)108 ۔ (اور تم چونکہ مقام تقوی واخلاص پر قائم نہ رہے، اس لیے قبول نذر کے معاملہ میں ناکام رہے، اس میں میری کیا خطا ہے ؟ ) لان حصول التقوی شرط فی قبول الاعمال (کبیر) محقق رازی (رح) نے لکھا ہے کہ تقوی میں ان تین امور کی رعایت لازمی ہے۔ ایک یہ کہ قبول طاعت میں غایت خشیت کا استحضار ہو، اور اپنی طرف سے کوئی بات تکمیل طاعت میں اٹھا نہ رکھی جائے، دوسرے یہ کہ امکانی کوشش اس امر کی رہے کی طاعت سے رضاء الہی کے سوا اور کچھ مقصود نہ ہو، تیسرے یہ کہ غیر اللہ کی شرکت وآمیزش ذرا بھی اس طاعت میں نہ ہو۔ وحقیقۃ التقوی اموراحدھا ان یکون علی خوف ووجل من تقصیر نفسہ فی تلک الطاعۃ فیتقی باقصی مایقدر علیہ عن جھات التقصیر وثانیھا ان یکون فی غایۃ الاتقاء من ان یاتی بتلک الطاعۃ لغرض سوی طلب مرضاۃ اللہ تعالیٰ وثالثا ان یتقی ان یکون لغیر اللہ تعالیٰ فیہ شرکۃ (کبیر) محققین اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ تقوی سے اس سیاق میں مراد تقوی شرک ہے، تو جو شرک سے محفوظ اور توحید پر قائم رہا، تو جن اعمال میں اس نے صدق نیت سے کام لیا، وہ مقبول ٹھہریں گے اور جو شرک ومعصیت دونوں سے بچا، وہ قبول و رحمت دونوں کا حقدار ٹھہرا۔ قال ابن عطیۃ المراد بالتقوی ھنا اتقاء الشرک باجماع اھل السنۃ فمن اتقاہ وھو موحد فاعمالہ التی تصدق فیھا نیتہ مقبولۃ (قرطبی۔ بحر) واما المتقی الشرک والمعاصی فلہ الدرجۃ من القبول والختم بالرحمۃ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اپنے کسی کمال کا اظہار موقع شکر پر جائز ہے، بہ طور فخر نہیں۔
Ayah 5:28

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

تو اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر اٹھائے گا کہ مجھے قتل کرڈالے،109 ۔ تو میں (جب بھی) اپنا ہاتھ تجھ پر اٹھانے کا نہیں کہ تجھے قتل کرڈالوں،110 ۔ (کیونکہ) میں تو اللہ پروردگار عالم سے ڈرتا ہوں،1 1 1 ۔

109 ۔ (باوجود اپنے اس علم کے کہ میں بےقصور ہوں) 110 ۔ (حالانکہ تیرے ارادۂ قتل پر مطلع ہو کر اور تیری آمادگی قتل دیکھ میرے پاس جواز قتل کا عذر بھی موجود ہے) فقرہ کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ تم جس طرح آغاز قتل میں دلیر ہو، میں ابتداء بالقتل کی جرأت نہیں رکھتا، یہ مطلب نہیں کہ مدافعت میں تلوار اٹھانا جائز نہ ہو، شریعت اسلامی میں جب قرآئن قوی سے یہ معلوم ہوجائے کہ قاتل حملہ کیا ہی چاہتا ہے، تو جواب ومدافعت میں تلوار اٹھانا بالکل جائز ہے، بلکہ اگر مصلحت اسلامی اس کی مقتضی ہو، تو اسے موقع پر واجب ہوجاتا ہے۔ قال ابن عباس ؓ لئن بدأتنی بقتل لم ابدأک بہ ولم یردانی لا ادفعک علی نفسی اذا قصدت قتلی (جصاص) یجب علی من قصدہ انسان بالقتل قتلہ اذا امکنہ (جصاص) انہ فی شرعنا یجوز دفعہ اجماعا وفی وجوب ذلک علیہ خلاف والاصح وجوب ذلک (قرطبی) واختلف فی ھذا الان فالصحیح من المذھب انہ یلزم الرجل دفع الفساد عن نفسہ وغیرہ وان ادی للقتل (روح) محققین اہل سنت نے اس فتوی پر علاوہ احادیث نبوی کے متعدد آیات قرآنی سے بھی استدلال کیا ہے۔ مثلا : ( 1) (آیت) ” وقتلوھم حتی لاتکون فتنۃ “۔ کہ قصد قتل یقیناً فتنہ میں شامل ہے۔ (2) (آیت) ” ولکم فی القصاص حیوۃ “۔ کہ اسی سزائے قتل کے خوف سے قاصد قتل باز رہے گا۔ (3) (آیت) ” فان بغت احدھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی “۔ الخ کہ فءۃ باغیہ قصد قتال ہی رکھتی ہے۔ اور انہی آیات قرآنی و احادیث نبوی سے استدلال کرکے حضرت علی ؓ نے خوارج سے قتال، ان کے قصد قتال کی بنا پر جائز رکھا تھا، اور سب صحابیوں نے آپ ؓ کی رائے سے اتفاق کیا، وقد قتل علی ابن ابی طالب الخوارج حین قصد وا قتل الناس واصحاب النبی ﷺ معہ وافقون علیہ وقدروی عن النبی ﷺ اثار فی وجوب قتلھم (جصاص) (آیت) ” ماانا بباسط “ کے فقرۂ نفی میں ایک تو بجائے فعل کے اسم فاعل اور پھر حرف ب نفی بسط کی تاکید و استمرار کے لیے ہے۔ تاکید النفی بما فی خبرھا من الباء للمبالغۃ فی اظھار برأتہ عن بسط الید ببیان استمرارہ علی نفی البسط (ابو سعود) واکد النفی بالباء (بیضاوی) ذکر الشرط بلفظ الفعل والجزاء بلفظ اسم الفاعل مقرونا بالباء المزیدۃ لتاکید النفی (نیشاپوری) 1 1 1 ۔ (اور مدافعت تک میں ہاتھ نہیں اٹھاتا، تیری سی جسارت کہاں سے لاسکتا ہوں کہ خدا سے ذرا نہیں ڈرتا، اور بالکل بلاوجہ میرے قتل پر آمادہ ہوگیا ہے) اصل مسئلہ شرعی تو وہی ہے جو اوپر کے حاشیہ میں مذکور ہوچکا، البتہ الفاظ قرآنی کے ظاہر سے سند پکڑ کے بعض بزرگوں نے ایسے موقع پر بھی عفو و درگزر ہی کو اختیار کیا ہے۔ اور بعض اکابر سے منقول ہے کہ خلیفہ راشد حضرت عثمان ؓ کا آخری وقت کا طرز عمل اسی آیت کے مطابق تھا۔ یعنی اپنی جان دینا گوارا کرلی، اور جان کے دشمنوں سے مقابلہ و قتال قبول نہ فرمایا۔ قال ایوب السختیانی ان اول من اخذ بھذا الایۃ من ھذہ الامۃ عثمان ؓ بن عفان رواہ ابن ابی حاتم (ابن کثیر) وھذا فی الشرع جائز لمن ارید قتلہ ان ینقاد ویستلم طلباللاجر کما فعل عثمان ؓ (معالم) قال بعضھم المقصود بالقتل ان اراد ان یستسلم جازلہ ذلک وھکذا فعل عثمان ؓ (کبیر) انما استسلم کما استسلم عثمان بن عفان ؓ (بحر) (آیت) ” انی اخاف “۔ جملہ تعلیلیہ ہے، اور اسی لیے ترجمہ میں ” کیونکہ “ بڑھا دیا گیا، اشارۃ الی کون الجملۃ تعلیلیۃ لما قبلہ وھذا التقریر احسن من کل مایوجد فی التفاسیر (تھانوی) علل ذلک بقولہ انی اخاف اللہ (ابوسعود) تعلیل للامتناع عن بسط یدہ لیقتلہ (روح)
Ayah 5:29

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تو میرے (قتل کا) گناہ اور اپنا (پچھلا) گناہ (دونوں) اپنے سر رکھ لے پھر تو دوزخیوں میں شامل ہوجائے،112 ۔ یہی سزا ہے ظلم کرنے والوں کی،113 ۔

112 ۔ (جو کھلا ہوا نتیجہ تیری بدکرداریوں کا ہوتا ہے) اثمی کے معنی ” میرے “ گناہ کے نہیں، بلکہ اہل تحقیق کے نزدیک ” میرے قتل کے گناہ “ کے ہیں۔ اور تقدیر کلام یوں ہے، باثم قتلی من قتلک ایای (ابن جریر ابن عباس وابن مسعود ؓ ون اس من اصحاب الرسول) ای باثم قتلی (ابن کثیر عن ابن عباس ؓ ومجاہد والضحاک وقتادہ والسدی) ای باثم قتلی وھذا قول اکثر المفسرین (معالم) (آیت) ” اثمک “ سے مراد وہ گناہ ہیں جو قابیل اس تازہ اقدام گناہ سے قبل کرچکا تھا، یا وہ پہلا گناہ جس کے پاداش میں اس کی نذر قبولیت سے محروم رہ گئی تھی، واثمک فی معصیۃ اللہ بغیر ذلک من معاصیک (ابن جریر عن ابن عباس وابن مسعود ؓ ون اس من اصحاب الرسول) اثم الذی علیک قبل ذلک (ابن کثیر وعن ابن عباس ؓ ومجاہد والضحاک وقتادہ والسدی) اثمک الذی لاجلہ لم یتقبل قربانک (مدارک) قال اکثر العلماء ان المعنی ترجع باثم قتلی واثمک الذی عملتہ قبل قتلی قال الثعلبی ھذا قول عامۃ اکثر المفسرین (قرطبی) (آیت) ” فتکون من اصحب النار “۔ اس جزو سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ قابیل کافر تھا، اس لیے کہ اصحاب النار کا اطلاق قرآنی اصطلاح میں کافروں ہی پر ہوتا ہے۔ وقد استدل بقول ھابیل لاخیہ قابیل انہ کان کافرا لان لفظ اصحاب النار انما ورد فی الکفار حیث وقع فی القران (قرطبی) لیکن اہل تحقیق کے نزدیک یہ استدلال صحیح نہیں، اصحاب النار وہ بھی ہیں جو کچھ دیر کے لیے بھی دوزخ میں جائیں، اور یہ سزا مومن عاصی کے لیے ممکن ہے۔ وھذا مردود بما ذکرناہ عن اھل العلم فی تاویل الایۃ ومعنی من اصحب النار مدۃ کو نک فیھا (قرطبی) ولا یقوی ھذا الاستدلال لانہ یکنی عن المقام فی النار مدۃ بالصحبۃ (بحر) (آیت) ” انی ارید ان تبوٓا باثمی واثمک “۔ یعنی میں چاہتا ہوں کہ سارا وبال تمہی پر پڑے، مجھ پر نہ پڑے، یہ مراد نہیں کہ میں چاہتا ہوں تم بھی گناہ کرو کسی کے لیے یہ چاہنا کہ وہ گناہ کرے، جائز نہیں، البتہ اس چاہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ گناہ کا وبال گنہگار ہی پر پڑے، والمراد انی ارید ان تبوء بعقاب اثمی واثمک لانہ لایجوز ان یکون مرادہ حقیقۃ الاثم اذغیر جائز لاحد ارادۃ معصیۃ اللہ من نفسہ ولا من غیرہ (جصاص) معناہ انی ارید ان تبوء بعقاب قتلی فیکون ارادۃ صحیحۃ لانھا موافقۃ لحکم اللہ عزوجل (معالم) (آیت) ” تبوٓا “۔ باء کے معنی الٹ کر پڑنے کے ہیں، ومعنی تبوء ترجع والبواء الرجوع بالقود (جصاص) وقیل تحتمل (معالم) 113 ۔ اپنے عام حکیمانہ اسلوب کے مطابق قرآن مجید نے یہاں بھی ایک مخصوص واقعہ کے بیان کے معا بعد ہی قانون عام بھی سنادیا۔
Ayah 5:30

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

غرض اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا، تو اس نے اسے مار (ہی) ڈالا،114 ۔ جس سے وہ بڑا نقصان اٹھانے والوں میں ہوگیا،115 ۔

114 ۔ ہابیل کی اس مؤثر تقریر سے قابیل ذرا بھی متاثر نہ ہوا، بلکہ مقابلہ ومزاحمت کی طرف سے بےفکر ہو کر عجب نہیں جو قتل پر اور زیادہ آمادہ ہوگیا ہو (آیت) ’ فقتلہ “۔ توریت میں ہے۔” اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یوں ہوا کہ قائن اپنے بھائی ہابل پر اٹھا اور اسے مار ڈالا “۔ (پیدائش 4:8) (آیت) ” فطوعت لہ نفسہ “۔ یعنی اسے نفس نے اس کام پر رفتہ رفتہ دلیر ومستعد بنا دیا اور اسے اس کی نظر میں خوشگوار کردکھایا۔ ای فحسنت وسولت نفسہ وشجعتہ علی قتل اخیہ (ابن کثیر) یہ حال ہر بدی ومعصیت کا ہے، ابتداء ہر فطرت سلیم اس سے رکتی ہے، ہچکچاتی ہے، لیکن نفس رفتہ رفتہ اس کی جانب مائل اور اس پر گرویدہ ہوتا جاتا ہے، اور اس کی طرف سے جھجک مٹتی جاتی ہے، یہاں تک کہ انسان اسے بےدھڑک کر گزرتا ہے۔ ؛ 115 ۔ خسران اور نقصان اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ دنیا میں سب سے پہلا قتل کیا، قتل انسانی اور برادر کشی کا مرتکب ہوا۔ اور آخرت میں عذاب شدید کا مستحق ہوا۔ (آیت) ” فاصبح “۔ سے یہ مراد نہیں کہ قتل رات ہی کے وقت ہوا تھا۔ (آیت) ” اصبح “۔ کا اطلاق وقت مبہم کے لیے عام ہے۔ وقوع قتل و حصول خسران دن رات کے جس حصہ میں بھی ہوا ہو، اس لفظ کے اعتبار سے بےتکلف جائز ہے، اصبح ہوگیا کے معنی میں اور صار کے مرادف عرب کا عام محاورہ ہے۔ بعضوں کو اس محاورہ کے سمجھنے میں عجب غلطی ہوئی ہے۔ ولا دلالۃ فی قولہ فاصبح علی ان القتل کان لیلا وانما المراد بہ وقت مبھم جائز ان یکون لیلا و جائز ان یکون نھارا وھذا عادۃ العرب فی اطلاق مثلہ والمراد بہ الوقت المبھم (جصاص) اصبح بمعنی صار (بحر) الاتری انہم جعلوا اضحی وضل وامسی وبات بمعنی صار (بحر)
Ayah 5:31

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

اس پر اللہ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کو کھودتا تھا تاکہ اسے دکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے،116 ۔ (یہ دیکھ کر) وہ بولا، ہائے میری کمبختی کہ میں اس سے بھی گیا گزرا ہوا کہ اس کوے ہی کے برابر ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا،117 ۔ غرض وہ (بہت ہی) شرمندہ ہوا،118 ۔

116 ۔ یہ روئے زمین پر پہلا قتل تھا، اور قابیل غریب کو یہ بھی خبر نہ تھی، کہ اپنے مقتول بھائی کی لاش کو آخر کرے کیا۔ آخر ایک معمولی اور حقیر ساپرندہ، انتظامات تکوینی کے ماتحت اس قاتل کو دفن کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا۔ (آیت) ” سوء ۃ “۔ کے لفظی معنی جسم کے پوشیدہ رکھے جانے والے حصہ کے ہیں، یہاں مراد نعش سے ہے۔ ای جیفۃ اخیہ (کبیر) قیل جمیع جیفتہ فان المیت کلہ عورۃ (بحر) 117 ۔ قاتل اب بہ کمال حسرت وندامت کہہ رہا ہے، کہ مجھے تو اس مردار خوار جانور کے برابر بھی فہم و شعور نہیں ! توریت میں تو ہابیل کی تدفین کا کچھ ذکر نہیں، البتہ شارحین توریت نے ایک پرندہ کا ذکر کیا ہے، کہ اس کے عمل تدفین کو دیکھ کر آدم (علیہ السلام) وحوا (علیہ السلام) نے بھی ہابیل کا لاشہ زمین میں دفن کیا، لیکن پرندہ کا نام بجائے کوے کے جنگلی فاختہ آیا ہے، ملاحظہ ہوجیوش انسائیکلوپیڈیا جلد اول صحفہ 49 ۔ (آیت) ” اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب “۔ بعض فقہاء نے اس بیان سے جو از قیاس تمثیلی کا استنباط کیا ہے فیہ دلیل علی قیاس الشبہ (ابن العربی) 118 ۔ (اپنی اس تباہ حالی پر) یہ ندامت نفس قتل پر بالکل نہ تھی، جو توبہ کی قائم مقام کسی درجہ میں بھی ہوسکتی، بلکہ قتل کے بعد اسے جو دشواریاں نظر آئیں، صرف ان پر تھی جسے ندامت طبعی کہا جاسکتا ہے، جو کسی حد تک بھی توبہ کا کام نہیں دے سکتی، گویا قاتل صرف پریشان ہوا، پشیمان اب بھی نہ ہوا، ولم یکن ذلک ندم توبۃ (قرطبی) قیل انہ ندم علی القتل علی غیر جھۃ القربۃ الی اللہ تعالیٰ منہ وخوف عقابہ (جصاص) ۔۔۔ فکان ندمہ لاجل ھذہ الاسباب لالکونہ معصیۃ (کبیر) حکیم الامت تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اگر یہ ندامت عواقب قتل پر نہیں، بلکہ قتل ہی پر مانی جائے، جب بھی ہر ندامت توبہ نہیں، جب تک معذرت اور انکسار اور فکر تدارک بھی اس کے ساتھ شامل نہ ہو، یہ ندامت اگر کہیں معصیت کو معصیت سمجھ کر، اور خوف خدا سے ہوتی تو توبہ قبول ہی نہ ہوگئی ہوتی، ولوندم علی الوجہ الماموربہ لقبل اللہ توبتہ وغفر ذنوبہ (جصاص) الندم لہ شروط فکل من جاء بشروطہ قبل منہ ومن اخل بھا اوبشیء منھا لم یقبل (ابن العربی) الندم علی المعاصی انما ینفع بشرط العزم علی ان لایفعل فی المستقبل (ابن العربی)
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی باعث ہم نے بنی اسرائیل پر یہ مقرر کردیا کہ جو کوئی کسی کو کسی جان کے (عوض کے) یا زمین پر فساد (کے عوض) کے بغیر مار ڈالجے،119 ۔ تو گویا، اس نے سارے آدمیوں کو مار ڈالا،120 ۔ اور جس نے ایک کو بچا لیا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا،121 ۔ اور یقیناً ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر کھلے ہوئے احکام لے کر آئے،122 ۔ اس پر بھی ان میں سے بہت سے لوگ ملک میں زیادتی کرنے والے ہی رہے،123 ۔

119 ۔ (اور اس طرح قتل ناحق کا مرتکب ہو) آیت سے ظاہر ہوگیا کہ جو بھی قتل ارادی بجزان دو صورتوں کے کیا جائے، وہ قتل ناحق ہوگا : (آیت) ” نفسا بغیر نفس “۔ یعنی وہ قتل بہ طور قصاص یا کسی قتل کے عوض میں ہو (آیت) ” فساد فی الارض “۔ یعنی وہ قتل کسی ایسے جرم کے پاداش میں ہو جس سے ملک میں بدامنی اور فساد کی بنیاد پڑ رہی ہو، اور نظام عالم پر اس سے ضرب لگ رہی ہو، مثلا جرم رہزنی، جرم ارتداد، جرم حرامکاری وغیرہ، (آیت) ” من اجل ذلک “۔ یعنی ان مفاسد کے باعث جو قتل ناحق سے پیدا ہوتے ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ سے اشارہ قصہ قتل ہابیل کی جانب نہیں، بلکہ ان مفاسد کی جانب ہے جو قتل ناحق سے لازم آتے ہیں، ھو اشارۃ الی ما مر ذکرہ فی ھذہ القصۃ من انواع المفاسد الحاصلۃ بسبب القتل الحرام (کبیر) آیت کے اس ٹکڑے سے فقہاء نے قیاس شرعی کا بھی اثبات واستناد کیا ہے۔ فیہ ابانۃ عن المعنی الذی من اجلہ کتب علی بنی اسرائیل ما ذکر فی الایۃ (جصاص) وفیہ دلیل علی اثبات القیاس ووجوب اعتبار المعانی التی علق بھا الاحکام وجعلت عللا واعلاما لھا (جصاص) 120 ۔ آیت پر یہ جو اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ایک فرد کا قاتل اور ساری نوع کا قاتل برابر کیسے ہوسکتے ہیں، تو یہ لفظ (آیت) ” فکانما “۔ پر غور کرنے سے جاتا رہتا ہے۔ یہ ارشاد ہرگز نہیں ہورہا ہے، کہ ایک کا قاتل اور سب کا قاتل قانون کی نظر میں یکساں ہوگا، قانون، عدالت، ضابطہ کی نظر میں دونوں کی مساوات کا یہاں مطلق ذکر نہیں، مقصود قاتل کی فطرت پر روشنی ڈالنا ہے۔ جو ظالم وفاجر ایک شخص کی بھی جان بلاوجہ اور بےقصور لے ڈالنے میں نہیں ہچکچاتا، اس کی جسارت اور خبث نفس سے بعید کیا ہے، جو وہ پائے تو سارے انسانوں کو تہ تیغ کرکے رکھ دے، اصل شے تو اس کی نظر میں قانون شریعت کی بےوقری اور اس کے خلاف ورزی پر اس کی دلیری ہے۔ من حیث انہ ھتک حرمۃ الدماء وسن القتل وجرأالناس علیہ (بیضاوی) المقصود من تشبیہ قتل النفس الواحدۃ بقتل النفوس المبالغۃ فی تعظیم امر القتل العمد العدوان وتفخیم شانہ (کبیر) قیل المعنی من استحل واحدا فقد استحل جمیعا لانہ ان کر الشرع (قرطبی) حدیث نبوی ﷺ میں بھی یہ مضمون ایک جگہ آیا ہے کہ روئے زمین پر جو بھی قتل ناحق ہوتا ہے، اس کے وبال کا ایک حصہ قابیل کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے کہ بانی اول میں جو روستم کا تو وہی ہوا ہے۔ عن عبداللہ قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقتل نفس ظلما الا کان علی ابن ادم الاول کفل من دمھا لانہ اول من سن القتل (بخاری، کتاب الانبیاء، باب خلق آدم وزریتہ) موجودہ توریت میں تو جرم قتل انسانی سے متعلق صرف اس قدر ہے :۔ ” جو کوئی آدمی کا لہو بہاوے آدمی ہی سے اس کا لہو بہایا جائے گا، کیونکہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے “۔ (پیدائش۔ 9:6) لیکن تالمود میں (حسب روایت راڈول، انگریزی مترجم قرآن) حسب ذیل مضمون بھی موجود ہے :۔ ” جو کوئی کسی ایک اسرائیلی کو بھی مارڈالے گا، اس کے لیے یوں سمجھا جائے گا کہ گویا اس نے ساری نسل اسرائیل کو قتل کردیا “۔ 121 ۔ ایک حدیث صحیح میں بھی یہ مضمون، ایک عام قاعدہ وضابطہ کی صورت میں آیا ہے : من سن سنۃ حسنۃ فعمل بھا کان لہ اجرھا ومثل اجرمن عمل بھا لاینقص من اجورھم شیئا ومن سن سنۃ سیءۃ فعمل بھا کان علیہ وزرھا ووزرمن عمل بھا لا ینقص من اوزارھم شیئا۔ جو کوئی کسی نیک رسم کی بنیاد ڈال دے اور اس پر عمل بھی کرے اسے اجر اپنا بھی ملتا ہے اور اس کے بعد اس پر تمام عمل کرنے والوں کا بھی۔ بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے اجر سے کچھ کیا جائے اور جو کوئی کسی رسم بد کی بنیاد ڈال دے، اور اس پر عمل بھی کرے اس پر گناہ اپنے کئے کا بھی پڑتا ہے، اور اس کے بعد اس پر دوسرے عمل کرنے والوں کا بھی، بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا گناہ کچھ ہلکا ہو، اگر نص کی اتنی تصریحات نہ موجود ہوتیں، جب بھی یہ مسئلہ اپنی جگہ پر عقلی تھا، (آیت) ” احیاھا “۔ احیا کے معنی یہاں زندہ کرنے کے نہیں، موت سے بچا لینے اور اسباب ہلاکت سے دور رکھنے کے ہیں، قال مجاھد لحاھا من الھلاک (جصاص) من سلم من قتلھا (معالم) المراد من احیاء النفس تخلیصھا عن المھلکات مثل الحرق والحرق والغرق والجوع المفرط والبردو الحر المفرطین (کبیر) یہ بچالینا مستحق مدح واجر جب ہے جب خون حق سے بچایا جائے، ورنہ بچالینے کو اگر اپنے مطلق اور عمومی معنی میں رکھا جائے، تو موقع قصاص وغیرہ پر قتل واجب سے کسی کو بچانا بجائے خود ایک معصیت اور اعانت علی الحرام ہے۔ 122 ۔ (اور انہیں احکام میں قتل ناحق اور خونریزی کی ممانعت بھی داخل تھی) (آیت) ’ البینت “۔ سے مراد دلائل ومعجزات بھی ہوسکتے ہیں، لیکن یہاں زیادہ چسپاں معنی احکام وہدایات کے ہیں، ای بالامر والنھی والعلامات (ابن عباس ؓ ” صاف حکم “ (شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) (آیت) ” جآء تھم “۔ ھم کی ضمیر انہی بنی اسرائیل کی جانب ہے۔ 123 ۔ (یہاں تک کہ بعض اوقات تو خود انہی پیغمبروں کو قتل کر ڈالا) (آیت) ” ثم “۔ کبھی استبعاد کے لیے بھی آتا ہے۔ ثم للتراخی فی الرتبۃ والاستبعاد (روح) چناچہ یہاں اس معنی میں ہے کہ جو نتیجہ ان پیغمبروں کے آنے کا نکلتا تھا وہ تو کچھ بھی نہ نکلا، البتہ اس کے برعکس۔ (آیت) ” لمسرفون “۔ اسراف میں ہر قسم کی زیادتی اور ہر قسم کے گناہ آگئے، اور مطلب یہ ہوا کہ پیغمبروں کی آمد کے باوجود اسرائیلوں کی اکثریت قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرتی رہی، الاسراف فی کل امر التباعد عن حد الاعتدال مع عدم مبالاۃ بہ (روح) ای ان اکثرھم مجاوزون الحد وتار کون امر اللہ (قرطبی) ای محادوا اللہ ورسلہ باتباعھم اھواء ھم والحد وتار کون امر اللہ (قرطبی) ای محادوا اللہ ورسلہ باتباعھم اھواء ھم و خلافھم علی انبیاء ھم وذلک کان اسرافھم فی الارض (ابن جریر)
Ayah 5:33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد پھیلانے میں لگے رہتے ہیں،124 ۔ ان کی سزا بس یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں، یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پیر مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ ملک سے نکال دیئے جائیں،125 ۔ یہ تو ان کی رسوائی دنیا میں ہوئی،126 ۔ اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے،127 ۔

124 ۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ اور آیت کے ان دو جملوں میں باہمی تعلق کیا ہے ؟ اہل تحقیق کے نزدیک دونوں فقروں کے درمیان کا و واؤ تفسیری ہے، اور اس لیے دوسرا فقرہ (آیت) ” یسعون فی الارض “۔ پہلے فقرہ (آیت) ” الذین یحاربون اللہ ورسولہ “۔ کی تشریح و تفسیر اور اس کی مراد متعین کررہا ہے ویسعون فی الارض فسادا ھذا ھو معنی محاربۃ المسلمین (جمل) مراد یہاں رہزنوں اور ڈاکوؤں کے گروہ سے ہے، عام اس سے کہ وہ کافر ہوں یا مسلم، یہی گروہ جب نکلتا ہے تو ہتھیار باندھ کر، پوری شان و شوکت کے ساتھ کہ جن پر حملہ کیا جائے وہ بیچارے مقابلہ بھی نہ کرسکیں، عاصیوں اور نافرمانوں کے طبقہ میں یہ گروہ خصوصیت کے ساتھ محاربین کا مصداق ہوتا ہے۔ ذھب اکثر المفسرین وعلیہ جملۃ الفقھاء الی انھا نزلت فی قطاع الطریق (روح) والصحیح ان ھذہ الایۃ عامۃ فی المشرکین وغیرھم فی من ارتکب ھذہ الصفات (ابن کثیر) یتناول کل من کان موصوفا ھذہ الصفۃ سواء کان کافرا او مسلما (کبیر) نزلت فی قطاع الطریق من المسلمین وھذہ قول اکثر الفقھاء (کبیر) المراد قطاع الطریق من اھل الملۃ (جصاص) ولم یسم بذلک کل عاص للہ تعالیٰ اذلیس بھذہ المنزلۃ فی الامتناع واظھار المغالبۃ فی اخذالاموال وقطع الطریق (جصاص) ایک قول بعض غیر مستند متاخرین (عن بعض المتاخرین ممن لا یعتدبہ) کا یہ بھی نقل ہوا ہے کہ آیت کے مصداق مرتدین ہیں، لیکن محققین نے تصریح کے ساتھ لکھ دیا ہے کہ یہ قول سرتا سر لغو و باطل ہے، ھو قول ساقط مردود مخالف للایۃ واجماع السلف والخلف (جصاص) لا خلاف بین السلف والخلف من فقھاء الامصار ان ھذا الحکم غیر مخصوص باھل الردۃ وانہ فی من قطع الطریق وان کان من اھل الملۃ (جصاص) (آیت) ” یحاربون اللہ ورسولہ “۔ محاربہ اپنے لفظی معنی میں اللہ سے تو کسی کا ممکن ہی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے ممکن تھا، لیکن کبھی کسی مسلم سے واقع نہیں ہوا، اور بعد وفات شریف تو اس کا امکان ہی نہ رہا، یہاں محاربہ سے مراد معصیت اور مخالفت یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قانون کو توڑنا اور اس سے مقابلہ کرنا ہے، اہل لغت نے یہی معنی لیے ہیں، یعنی المعصیۃ ای یعصونہ (لسان) ای یعصونہ (تاج) اور اہل تفسیر تو سب اسی طرف گئے ہیں، ای الذین یخالفون احکام اللہ و احکام رسولہ (کبیر) المحاربۃ ھی المضادۃ والمخالفۃ وھی صادقۃ علی الکفر وعلی قطع الطریق واخافۃ السبیل (ابن کثیر) (آیت) ” یسعون فی الارض فساد ا “۔ مسلمان تو خیر مسلمان ہی ہیں ان کے ساتھ ذمیوں کے بھی مال اور جان دونوں اللہ اور اس کے رسول کے بخشے ہوئے حفظ وامن میں ہوتے ہیں، اب جو کوئی ان پر بلاعذر حملہ کرتا ہے، وہ پوری طرح سعی فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے، اور یہی اللہ اور رسول سے محاربہ بھی ہے۔ سمی قاطع الطریق محاربا للہ لکون المسافر معتمدا علی اللہ تعالیٰ فالذی یزیل امتہ فحارب لمن اعتمد علیہ فی تحصیل الامن (فتح القدیر) سموا محاربین تشبیھا لھم بالمحاربین من الناس (جصاص) فقہاء حنفیہ نے یہاں یہ قید لگائی ہے کہ جس رہزنی کا یہاں ذکر ہے، اور جس کی سزا یہاں درج ہے، یہ شہر یا قرب شہر میں معتبر نہیں، شہر اور قرب شہر صرف تعزیر وقصاص کا محل ہے۔ یہاں حد جاری نہ ہوگی، ومذھب ابی حنیفۃ وجماعۃ ان المحاربین ھم قطاع الطریق خارج المصر واما فی المصر فیلزمہ حدما اجترح من قتل اوسرقۃ اوغصب ونحوذلک (بحر) وقال قوم المکابرون فی الامصار لیس لھم حکم المحاربین فی استحقاق ھذا الحد وھو قول ابی حنیفۃ (معالم) قالت طائفۃ لاتکون المحاربۃ فی المصر انما تکون خارجا عن المصر ھذا قول سفیان الثوری واسحق والنعمان (قرطبی) 125 ۔ چار سزائیں یہاں مذکور ہوئیں اور چاروں الگ الگ موقعوں کے لیے اختیار دے دیا گیا ہے، اگرچہ بعض اکابر اس طرف بھی گئے ہیں، ذھب اکثرون الی ان ھذہ العقوبات علی ترتیب الجرائم لاعلی التخییر (معالم) وقال ابن عباس وابو مجلز وقتادہ والحسن وجماعۃ بکل رتبۃ من الحرابۃ رتبۃ من العقاب (بحر) والمراد منہ واللہ اعلم التوزیع علی الاحوال (ہدایہ) او۔ حرف او، جو یہاں سزاؤں کے درمیان بار بار آیا ہے، تخییر کے لیے نہیں، تفصیل کے لیے ہے۔ و اوفی الایۃ علی ھذاللتفصیل (بیضاوی) قال ابن عباس فی روایۃ عطاء کلمۃ اوھنا لیست للتخییر بلھی لبیان ان الاحکام تختلف باختلاف الجنایات وھذا قول الاکثرین من العلماء (کبیر) ” (آیت) ” یقتلوا “۔ یہ سزا اس موقع کے لیے ہے، جب رہزنوں نے کسی کو صرف قتل کیا ہو، اور نوبت مال لینے کی نہ آئی ہو، تقتیل باب تفعیل سے ہے اور اس کے معنی میں باب قتل یا قصاص پر زیادتی ہے۔ یہیں سے اشارہ اس نکتہ کی طرف ہورہا ہے کہ یہ حق شریعت ہے۔ محض ولی کے معاف کردینے سے معاف نہیں ہوگا ویقتلون حدا حتی لوعفا الاولیاء عنھم لا یلتفت الی عفوھم لانہ حق الشرع (ہدایہ) رہزنی کا جرم تنہا فرد یا افراد کے خلاف نہیں، معاشرہ کے خلاف بھی ہے۔ اس لیے مستغیث افراد کی دستبرداری ایسے مقدمہ کو ختم کرنے کو کافی نہیں۔ (آیت) ” یصلبوا “۔ یہ سولی پر چڑھانا اس صورت کے لیے ہے جب رہزنی میں قتل و غارت دونوں کا ارتکاب ہوا ہو، حنفیہ کے ہاں سولی کی سزا کے لازمی ہونے نہ ہونے میں اختلاف ہے۔ امام ابو الحسن قدوری کا قول ہے اور یہی ظاہر الروایۃ ہے کہ سولی دینے نہ دینے کا امام کو اختیار ہے۔ ثم ذکر فی الکتاب التخییربین الصلب وتر کہ وھو ظاہر الروایۃ (ہدایہ) فی ظاہر الروایۃ ھو مخیر فی الصلب ان شاء فعلہ وان شاء لم یفعلہ واکتفی بالقتل (مبسوط) لیکن امام ابو یوسف (رح) کا قول ہے کہ سولی ضرور دی جائے، اس لیے کہ اولا تو یہ نص قرآنی کے مطابق ہے اور دوسرے سزا سے جو مقصود تشہیر اور دوسروں کے لیے عبرت ہے، وہ بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے۔ وعن ابی یوسف (رح) انہ لا یتر کہ لانہ منصوص علیہ المقصود والتشھیر لیعتبر بہ غیرہ (ہدایہ) وعن ابی یوسف (رح) قال لیس للامام ان یدع الصلب لان المقصود بہ الاشتھار لیعتبر غیرہ (مبسوط) خود صاحب ہدایہ کا کہنا یہ ہے کہ تشہیر جو نفس قتل ہی سے ہوجاتی ہے۔ البتہ سولی سے اس تشہیر میں اور زیادتی ہوجاتی ہے، اس لیے یہ امام ہی کی رائے پر چھوڑنا چاہیے۔ ونحن نقول اصول التشھیر بالقتل والمبالغۃ فی الصلب فیخیرفیہ (ہدایہ) (آیت) ” تقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف “۔ یعنی دہنا ہاتھ اور بایاں پیر کا ٹا جائے گا۔ یہ سزا اس صورت میں ہے کہ صرف مال لوٹا ہو اور جان نہ لی ہو، اس سزا کے باب میں بھی فقہاء حنیفہ میں کسی قدر اختلاف ہے، امام محمد سے منقول ہے کہ جب قتل یا سولی کی سزا اپنے اپنے دفعات جرم کی بنا پر نافذ ہورہی ہو، تو یہ قطع اعضاء کی سزا نافذ نہ کی جائے گی، اس لیے کہ بڑی حد کے اجراء کے بعد پھر چھوٹی حد کے اجراء کا سوال باقی نہیں رہتا، مثلا اگر کسی پر چوری اور زنا دونوں ثابت ہوں، تو سزا صرف زنا کی ملے گی، اور سنگساری کے ہوتے ہوئے، ہاتھ کاٹے جانے کی الگ سزا کی ضرورت نہ رہے گی، لیکن امام ابوحنیفہ (رح) اور امام ابویوسف (رح) کا فرمانا ہے کہ قطع اعضاء اور سولی، یہ تعداد میں دو سزائیں ہی نہیں، بلکہ مجرم کے ہاتھ پیر کاٹ کر قتل یا سولی ایک ہی سزاہوئی، یہ سزا سخت تر بیشک ہے، لیکن یہ اس لیے کہ جرم بھی تو سخت تر ہے، اور جرم کی اشدیت یہ ہے کہ مجرم نے قتل و غارت (مار اور لوٹ) دونوں کرکے امن عامہ کو انتہاء درجہ کا نقصان پہنچا دیا۔۔۔ یہ ساری تفصیلات ہدایہ وغیرہ کتب فقہ میں مذکور ہیں، (آیت) ” ینفوا من الارض “۔ یہ اس صورت میں کہ ابھی نوبت نہ جان لینے کی آئی، نہ مال لوٹنے کی، محض قصد واقدام ہی کے بعد گرفتاری ہوگئی، ملک سے نکال دیئے جانے سے مراد ایک تو جلاوطنی ہے، دوسرے یہ کہ مجرم ملک میں آزاد انہ چلنے پھرنے نہ پائیں، ان کی آزادی سلب کرلی جائے، اور وہ قید خانہ میں بند کردیئے جائیں، فقہاء حنفیہ نے بھی آخری معنی اختیار کیے ہیں، اور لغت بھی اس کی تائید میں ہے۔ وقال ابو حنفیۃ النفی بھی من الارض ھو الحبس وھو اختیار اکثر اھل اللغۃ (کبیر) والمراد بالنفی عندنا ھو الحبس والسجن والعرب تستعمل النفی بذلک المعنی لان الشخص یفارق بیتہ واھلہ (روح) قیل نفیھم ان یخلدوا فی السجن (تاج۔ لسان) فقہاء حنفیہ کہتے ہیں کہ جلاوطنی کی صورت میں مجرم یا تو کسی دوسرے اسلامی شہر میں چلاجائے گا تو وہاں جا کر فتنہ و فساد کا باعث بنے گا، یا اگر دارالحرب چلا گیا تو وہاں دشمنان اسلام کی تقویت کا سبب بن جائے گا، اس لیے یہاں مراد حبس اور قید ہی ہے۔ مبسوط، ہدایہ فتح القدیر وغیرہ میں یہ بحثیں تفصیل سے ملیں گی۔ ان چار صورتوں کے علاوہ پانچویں صورت یہ بھی ممکن ہے کہ رہزنوں نے کسی کو محض زخمی کرکے چھوڑ دیا ہو، تو اس کا حکم مثل عام زخمیوں کے ہوگا، یہاں قانون قصاص وضمان کی دفعات چلیں گی۔ اور یہ حق العبد ہونے کے باعث معاف بھی ہوسکے گا۔” روشن خیالی “ اور ” تجدد نوازی “ جو دوسرا نام ہے، جاہلیت فرنگ سے مرعوبیت کا، ممکن ہے اسلامی سزاؤں کی ان سختیوں پر چیں بہ جبیں ہو لیکن ساری قیاسی اور عقلی بحثوں سے قطع نظر، صرف عملی اور تجربی حیثیت سے نہ دیکھ لیا جائے کہ جن ملکوں نے اپنے ہاں قانون کو نرم سے نرم کرکے سزائیں ہلکی سے ہلکی کردی ہیں، ان کے ہاں جرائم اور بدامنی کا کیا حال ہے، اور ان قوموں کے ہاں کیا، جن کے ہاں اب تک اسلامی تعزیرات وحدود کا نفاذ جاری ہے ؟۔۔۔ امریکہ اور برطانیہ اور فرانس کا ریکارڈ جرایم کے لحاظ سے، بلووں اور ڈاکوں، قتل و غارت کے لحاظ سے، کیا ہے، اور نجد وحجاز ویمن کا کیا Gunmen اور Gangster قسم کی نئی نئی اصطلاحیں روز کہاں پیدا ہورہی ہیں ؟ بدنام تو لوٹ مار، نوچ کھسوٹ، کشت وخون کے لیے عرب کے بدوی تھے، لیکن اب کیا نسبت انہیں مہذب دنیا کے روز روشن میں ڈاکوں سے رہی ہے ؟۔۔ یہ تو واقعات ہیں واقعات، خوش اعتقادی کا کوئی سوال نہیں، عقلا اور اصلا ہے بھی یہی بات کہ اسلام نے معاش اور معیشت اور معاشرت کا جو بہترین نظام دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے اور فرد وجماعت دونوں کے لیے فراغ خاطری اور آسائش و سہولت کے جتنے موقعے بہم پہنچا دیئے ہیں، ان کے بعد بھی جو ظالم اللہ کی ان نعمتوں کی شدید ناشکری کرکے امن عامہ پر ڈاکہ ڈالتا، اور اللہ کے بندوں کی جان اور مال بہ جبر لے لینا چاہتا ہے، اور ثبوت جو اپنے انتہائی خبث نفس کا دے رہا ہے، ایسا خبیث الفطرت مستحق بھی سخت ترین سزا کا ہے۔ 126 ۔ عبرت وموعظۃ کے لیے سزاؤں کا محض سخت یا جسمانی حیثیت سے تکلیف دہ ہونا ہی کافی نہیں، تفضیح ورسوائی، دماغی وقلبی تکلیف کا پہلو بھی ان میں نمایاں ہونا چاہیے، فقہاء نے یہ بھی طے کردیا ہے کہ رہزنی اور ڈکیتی کا ارتکاب اگر ایک غول یا جتھے نے کیا ہے، تو فردا فردا ہر ایک کے تعین جرم کے ثبوت کی حاجت نہیں، محض اس گروہ سے وقوع جرم کا ثبوت کافی ہے، اس لیے کہ جتھے کے کسی فرد نے بھی جو کچھ کیا ہے، جتھے ہی کی قوت کے بھروسہ پر کیا ہے، چناچہ قتل بالفرض رہزنوں کی جماعت میں سے کسی ایک نے بھی کیا ہے، تو محاربہ میں بہرحال پورا جتھا شریک ہوا اور قصاص میں قتل سب ہوں گے، فان باشر القتل احدھم اجری الحد علیھم باجمعھم لانہ جزاء المحاربہ (ہدایہ) ان باشر القتل احدھم یجب الحد علی الجمیع (شرح قایہ) 127 ۔ (اور یہ نہ سمجھا جائے کہ دنیا کی سزا ایسے مجرموں کے لیے کافی ہوگئی) یہیں سے فقہائے حنفیہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ اجرائے حد کفارۂ معصیت کے لیے کافی نہیں، یدل علی ان اقامۃ الحد علیہ لا تکون کفارۃ لذنوبہ (جصاص) والایۃ اقوی دلیل لمن یقول ان الحدود لا تسقط العقوبۃ فی الاخرۃ (روح) اور یہی مذہب مالکیہ کا بھی ہے۔ واذا خرج المحاربون فاقتتلوا مع القافلۃ فقتل بعض المحاربین ولم یقتل بعض قتل الجمیع (قرطبی)
Ayah 5:34

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابوپاؤ تو جانے رہو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا مغفرت والا ہے، بڑا رحمت والا ہے،128 ۔

128 ۔ (اس لیے وہ توبہ کرنے والوں سے حد بھی ساقط کیے دیتا ہے) اب نہ ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے، نہ سولی اور نفی فی الارض (حبس) کا اختیار باقی رہے گا، یہ متعین حدود جو اللہ کی مقرر کی ہوئی تھیں، توبہ کے بعد ساقط ہوجائیں گی، اور کوئی دعوی اور مطالبہ اب حکومت اسلامی کی طرف سے باقی نہیں رہے گا البتہ وارثوں اور مدعیوں کو اب بھی اختیار ہے کہ خواہ معاف کردیں، خواہ مال پر صلح کرلیں، خواہ کون کے بدلہ میں خون کا مطالبہ کریں اب معاملہ صرف بندوں کے درمیان رہ گیا، وان اخذ بعد ما تاب وقد قتل عمدا فان شاء الاولیاء قتلوہ ون شاء واعفوا عنہ لان الحد فی ھذہ الجنایۃ لا یقام بعد التوبۃ (ہدایہ) ومتی سقط الحد المذکور فی الایۃ وجبت حقوق الاد میین فی المال والنفس والجراحات (جصاص) فان کان قد قتل فان شاء الاولیاء قتلوہ وان شاء وا عوفواعنہ لان ھذا القتل قصاص فصح العفو عنہ والصلح بہ (فتح القدیر) (آیت تابوا من قبل ان تقدروا علیھم “۔ توبہ کے تحقق کے لیے یہ شرط ضروری ہے کہ اس کا وجود مجرموں پر قابوپائے جانے سے پہلے پایا جائے بغیر اس کے صدق توبہ اور اخلاص ثابت نہ ہوگا، فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ توبہ محض زبانی ولفظی کافی نہیں، عملی علامتیں بھی اصلاح حال اور صدق توبہ کی ظاہر ہونی چاہیے۔ حتی یتوب لابالقول بل بظھور سیماء الصلحاء (درمختار)
Ayah 5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو،129 ۔ اور اس کا قرب تلاش کرو،130 ۔ اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو،131 ۔ تاکہ (ہر طرح) فلاح پاؤ،132 ۔

129 ۔ یعنی اس کے احکام کی نافرمانی سے ڈرو اور بچو، تقوی ہی ایسی چیز ہے جو جاہ ومال کی ہر حرص بیجا سے بچا سکتا ہے۔ 130 ۔ (طاعتوں کے ذریعہ سے) وسیلۃ کے معنی قرب کے ہیں۔ اہل لغت اور تابعین سب سے یہی معنی مروی ہیں۔ یعنی بالوسیلۃ القربۃ (ابن جریر) توسلت الی فلان بکذا بمعنی تقربت الیہ (ابن جریر) الوسیلۃ القربۃ التی یبتغی ان یطلب بھا (قرطبی) الوسیلۃ ھی القربۃ عن ابی وائل والحسن و مجاھد وقتادہ وعطاء والسدی وابن زید وعبداللہ بن کثیر (قرطبی) الوسیلۃ القربۃ الزلفۃ یقال توسل الی ھکذا ای تقرب (ابن قتیبہ) اور قرب کا بہترین زریعہ احکام الہی کی تعمیل ہے۔ اطلبوا الیہ القرب فی الدرجات بالاعمال الصالحۃ (ابن عباس ؓ استعیرت لما یتوسل بہالی اللہ تعالیٰ من فعل الطاعات وترک السیئات (مدارک) فالمراد طلب الوسیلۃ الیہ فی تحصیل مرضاتہ وذلک بالعبادات والطاعات (کبیر) وحقیقۃ الوسیلۃ الی اللہ تعالیٰ مراعاۃ سبیلہ بالعلم والعبادۃ وتحری مکارم الشریعۃ وھی کالقربۃ (راغب) جن لوگوں نے وسیلہ کے تحت میں بزرگان دین کی استعانت اور انبیاء واولیاء سے استغاثہ جائز رکھا ہے، انہوں نے عربی کے وسیلہ (بہ معنی قرب) کو اردو کے وسیلہ (بہ معنی ذریعہ) کا مرادف سمجھ لیا ہے۔ اور ایسی شدید وفاحش غلطیاں نادر نہیں، کثیر الوقوع ہیں، علامہ آلوسی نے بڑے بسط و تفصیل سے اس موضوع پر گفتگو کی ہے اور لکھا ہے کہ واما اذا کان المطلوب منہ میتا او غائبا فلایستریب عالم انہ غیر جائز وانہ من البدع التی لم یفعلھا احد من السلف (روح) (میت یا غائب شخص سے دعا کرانے کے ناجائز ہونے میں کسی عالم کو بھی شک نہیں، اور یہ ایک ایسی بدعت ہے جس کا ارتکاب سلف میں کسی نے بھی نہیں کیا ہے) اور لکھا ہے کہ :۔ ولم یرو عن احد من الصحابۃ ؓ وھم احرص الخلق علی کل خیر انہ طلب من میت شیئا (حضرات صحابہ ؓ سے بڑھ کر نیکی اور ثواب کا حریص اور کون ہوا ہے، لیکن کسی ایک صحابی سے بھی منقول نہیں کہ انہوں نے صاحب قبر سے کچھ طلب کیا ہو) صحابیوں میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا اتباع سنت ضرب المثل کی حد تک شہرت رکھتا ہے، ان کی حالت میں تھی۔ قد صح عن ابن عمر ؓ انہ کان یقول اذا دخل الحجرۃ النبویۃ زائر السلام علیک یا رسول اللہ السلام علیک یا ابابکر السلام علیک یا ابت ثم ینصرف ولا یزید علی ذلک ولا یطلب من سید العلمین ﷺ او من ضجیعیۃ المکرمین شیا وھم اکرم من ضمتہ البسیطۃ وارفع قدرا من سائر من احاطت بہ الافلاک المحیطہ (جب روضہ نبوی میں زیارت کے لیے داخل ہوتے، تو صرف اس قدر کہتے کہ السلام علیک یا رسول اللہ، السلام علیک یا ابابکر، السلام علیک اباجان، اور اسے زائد کچھ نہ کہتے نہ کچھ مانگتے نہ سرور عالم سے نہ ان کے ان مکرم مقربین سے۔ درآنحالیکہ سارے زمین و آسمان کی مخلوقات میں ان سے بڑھ کر اور کون ہوسکتا ہے) روضہ مبارک کے سامنے دعا کرنے سے بڑھ کر کون سی شے مقبول ہوسکتی ہے۔ لیکن فقد کانت الصحابۃ تدعوا اللہ تعالیٰ ھناک مستقبلین القبلۃ ولم یرو عنھم استقبال القبر الشریف عند الدعاء مع افضل من العرش یہاں بھی صحابہ کرام ؓ اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرتے تھے قبلہ رخ ہوکر، اور یہ نہیں کرتے تھے کہ دعا کرتے وقت قبر شریف کی طرف منہ کرلیں باوجود اسکے کہ وہ مقام عرش سے بھی افضل ہے) اور تو اور سلام پڑھتے وقت تک کے لیے، واختلف الائمۃ فی استقبالہ عند السلام فعن ابی حنفیۃ انہ لا یستقبل بل یستدبر ویستقبل القبلۃ (ائمہ میں اختلاف ہے کہ منہ کس طرف رکھنا چاہیے، لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کا فیصلہ اس موقع کے لیے بھی یہی ہے کہ منہ قبر شریف کی طرف نہ کرے، بلکہ ادھر پشت رکھے اور چہرہ قبلہ شریف کی طرف ہے) غرض کی بعض اہل بدعت نے لفظ وسیلہ سے جو اپنے لیے پناہ ڈھونڈی ہے، وہ سرتاسر بودی اور بےبنیاد ہے۔ 131 ۔ وسیلہ ہی کی طرف عربی کے جھاد کو بھی لوگوں نے اردد کے جہاد کے مفہوم میں لے رکھا ہے، اردو میں جہاد ایک دینی اصطلاح کی حیثیت سے صرف قتال فی سبیل اللہ کے معنی میں مخصوص ہوچکا ہے۔ عربی میں یہ حصروتحدید صحیح نہیں، عربی میں جہاد کا مفہوم بہت وسیع اور عام ہے۔ ہر سخت کوشش جو کسی بھی دینی غرض سے کی جائے، خاص کر دشمنان دین کے مقابلہ میں اصطلاح قرآنی میں جہاد کا درجہ رکھتی ہے۔ الجھاد والمجاھدۃ استفراغ الوسع فی مدافعۃ العدو (راغب) وھو المبالغۃ والا ستفراغ ما فی الوسع والطاقۃ من قول اوفعل (تاج) اور جہاد جس طرح میدان جنگ میں تیغ وتفنگ سے ہوسکتا ہے، اسی طرح جہاد مال و دولت سے اور قلم و زبان سے بھی ہوسکتا ہے۔ 132 ۔ فلاح کا لفظ دنیوی، اخروی، مادی وروحانی ہر طرح کی کامیابیوں اور کامرانیوں پر شامل ہے۔ لیس فی کلام العرب کلہ اجمع من لفظۃ الفلاح لخیری الدنیا والاخرۃ کما قالہ ائمۃ اللسان (تاج) اور سب سے بڑی کامیابی رضائے الہی کا حصول ہے۔ لعل پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں کہ جب اس کا استعمال حق تعالیٰ کی زبان سے ہوتا ہے، تو معنی میں مفہوم شک واحتمال کا باقی نہیں رہتا، بلکہ یقین پیدا ہوجاتا ہے۔
Ayah 5:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس ساری دنیا کی چیزیں ہوں، اور اتنی ہی ان کے پاس اور بھی ہوں، تاکہ وہ انہیں معاوضہ میں دے کر قیامت کے دن عذاب سے چھوٹ جائیں، تو وہ ان سے (ہرگز) قبول نہ کی جائے گی، اور ان کے لیے عذاب درد ناک (ہی) ہے،133 ۔

133 ۔ توحید و رسالت کی طرف معاد وآخرت کے مسئلہ میں اہل جاہلیت سیکڑوں غلطیوں میں مبتلا رہتے ہیں، انہی میں سے ایک بڑی اہم غلطی یہ ہے کہ وہاں کے معاملات کو بھی دنیا پر قیاس کرکے یہ سمجھا جاتا ہے، کہ جس طرح یہاں کی عدالتوں، دفتروں، محکموں میں لین دین سے کام چلا لیا جاتا ہے، ایسے ہی نذرانوں، رشوتوں کی گرم بازاری وہاں بھی ہوگی، اور ہر خطا ولغزش پر کسی نہ کسی مالی معاوضہ سے قلم پھیر دیا جاسکے گا۔ قرآن مجید کو اس عالمگیر غلطی کی بار بار تردید کرنی پڑی، اور بتانا پڑا ہے، کہ کفر کا فدیہ یا کفارہ آخرت میں کسی مال و دولت سے بھی ادا نہیں ہوسکتا۔ (آیت) ” ان لھم “۔ ان لکل واحد منھم “۔ کے معنی میں ہے، یعنی ان میں سے ایک ایک کے پاس بھی اگر اتنا مال ہوتا۔ (آیت) ” معہ “۔ میں ضمیر واحد غائب اسی (آیت) ” ما فی الارض جمیعا “۔ کی طرف ہے۔ (آیت) ” لو “۔ یہ حرف اکثر جس عبارت پر آتا ہے، اس سے مراد ایک ان ہونی بات بہ طور فرض محال کے ہوتی ہے۔ چناچہ یہاں بھی یہی مراد ہے کہ اس فرض محال پر بھی کوئی صورت عذاب سے نجات کی نہ ہوسکے گی۔ (آیت) ” مافی الارض جمیعا “۔ اس کے تحت میں وہ سب کچھ آگیا، جو ذہن انسانی میں سماسکتا ہے۔
Ayah 5:37

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

چاہیں گے کہ نکل آئیں آگ سے حالانکہ اس سے (کبھی) نہ نکل پائیں گے اور ان کے لیے مستقل عذاب ہے،134 ۔

134 ۔ (آیت) ” عذاب مقیم “۔ وہ عذاب بائدار ومستقل ہے، جو کبھی ہٹنے والا اور مٹنے والا نہیں۔ معناہ دائم ثابت لایزول ولا یحول (قرطبی) عذاب دائم ثابت لا یزول عنھم ولا ینتقل ابدا “۔ (ابن جریر) (آیت) ” یریدون ان یخرجوا من النار “۔ عذاب اور وہ بھی عذاب الیم !۔۔ ظاہر ہے کہ دوزخیوں کو کیسی کچھ تڑپ، کیسی کچھ حسرت، کیسی کچھ تمنا اس عذاب سے نکل بھاگنے کی ہوگی ! (آیت) ” ما ھم بخرجین منھا ولھم عذاب مقیم “۔ اس ارشاد سے ان حسرت نصیبوں کی حسرت نصیبی پر گویا مہرلگ گئی۔ عذاب سے نکلنے کا نہ کوئی امکان ہے، نہ کوئی تدبیر کام دے سکتی ہے، بلکہ اب یہ بھی سنادیا گیا کہ یہ عذاب جس درجہ کا شدید وہولناک ہوگا، اسی طرح لازوال بھی ہوگا، اشتداد عذاب قبل کی آیت میں بیان ہوچکا، امتداد عذاب اب بتادیا گیا، اس عذاب دائمی کی خصوصیت چونکہ کافروں کے ساتھ بیان ہوئی، اس سے متکلمین نے یہ نتیجہ اور صحیح نتیجہ نکالا ہے کہ مخلص کلمہ گوہر صورت عذاب سے مخلصی پاجائے گا، احتج اصحابنا بھذہ الایۃ علی انہ تعالیٰ یخرج من النار من قال لا الہ الا اللہ علی سبیل الاخلاص (کبیر) اور امام رازی (رح) نے یہ بات بھی خوب فرمائی ہے کہ (آیت) ” ولھم عذاب مقیم “۔ کی ترکیب خود حصر پر دلالت کررہی ہے، یعنی یہ عذاب دائمی صرف کافروں کے لیے ہوگا، نہ کہ غیر کافروں کے لیے، وھذا یفید الحصر فکان المعنی ولھم عذاب مقیم لا لغیرھم (کبیر)