5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

آپ کہیے کہ کیا اللہ کے سوا ایسے کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نقصان پہنچا سکے نہ نفع، اور اللہ ہی (سب کی) سننے والا، (سب کچھ) جاننے والا ہے،257 ۔

257 ۔ اس ایک عالم کل ہمہ دان بین کے سوا عبادت وپرستش کے قابل اور ہے کون ؟ (آیت) ” قل اتعبدون من “۔ الخ۔ یہ سارا خطاب مسیحیوں ہی سے ہے، اور ان کے مشرک ہونے پر نص قرآنی کی مہر لگا رہا ہے۔ مسیحیوں کی مشہور وضخیم ومستند انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس میں ایک جگہ فخر کے ساتھ درج ہے کہ کلیسا نے اپنی طویل تاریخ میں ” کبھی ایسا نہیں کیا کہ خدا کے ساتھ ساتھ مسیح سے بھی دعا نہ کی ہو “۔ (جلد اول۔ صفحہ 104) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں رد ہے مشائخ کو مستقل متصرف سمجھنے والے جاہلوں کا۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو،258 ۔ اور ان لوگوں کی من مانی باتوں پر نہ چلو،259 ۔ جو پہلے (خود بھی) گمراہ ہوچکے ہیں اور بہتوں کو گمراہ کرچکے ہیں اور راہ راست سے (بہت) بھٹک چکے ہیں،260 ۔

258 ۔ (بلکہ اپنے اصل دین اور عقائد حق پر قائم رہو) (آیت) ” اھل الکتب “۔ سے یہاں مراد مسیحی ہیں۔ اور (آیت) ” الکتب “ سے انجیل۔ یعنی بالکتب الانجیل (ابن جریر) قل یا محمد لھؤلاء الغالیۃ من النصاری فی المسیح (ابن جریر) قیل الخطاب للنصاری خاصۃ (بیضاوی) (آیت) ” لا تغلوا فی دینکم “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 846 ۔ 853 سورة نساء۔ 259 ۔ اس میں صاف اشارہ اس حقیقت کا آگیا کہ مسیحیوں کی گمراہیاں اور بدعقیدگیاں کسی اور کجر اور گمراہ قوم کی ریس اور تقلید سے پیدا ہوئی ہیں۔ (آیت) ” اھوآء “۔ لغو وبے بنیاد خیالات، من گھڑت عقائد، خیالی ڈھکوسلے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ان رسول کا ابطال ہے جو شریعت کے خلاف ہیں اگرچہ وہ منسوب مشائخ کی جانب ہوں، مشائخ اگر محقق ہیں تو ان کی طرف یا تو یہ نسبت ہی صحیح نہ ہوگی، اور یا پھر عذر صحیح پر انہیں محمول کیا جائے گا۔ 260 ۔ جو لوگ مسیحیت کی ابتدائی تاریخ پر نظر رکھتے ہیں، اور خود فرنگیوں کی موجودہ Biblical Critcism سے پوری طرح سے واقف ہیں۔ وہ قرآن مجید کے اس بیان پر عش عش کرجائیں گے۔ چھٹی صدی عیسوی کا ایک عرب امی، لاکھ ذہین وباخبر ہو، ان اہم تاریخی حقائق پر نظر رکھ ہی کیسے سکتا تھا۔ تاوقتیکہ عالم الغیب والشھادۃ براہ راست اسے تعلیم نہیں دے رہا تھا۔ مصری شرک یونانیوں میں پوری طرح حلول کر آیا تھا، اور بڑے بڑے یونانی فلاسفر اسکندریہ کے مرکز ” عقلیت “ و ” روشن خیالی “ سے مرعوب ومتاثر تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم جب شروع شروع پھیلی تو انہی یونانیوں میں اکابر یہود (مثلا فایلو) پہلے ہی سے یونانیوں کے آگے گردن ڈال چکے، اور ان سے Logos وغیرہ کے عقائد اخذ کرچکے تھے۔ مسیحیوں نے ان تعلیمات کو بلاتامل قبول کرلیا، اور پھر پولوس (سینٹ پال) نے تو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مذہب اور تعلیمات کو تمامتر مسخ کرکے اسے یونانی شرک کی ایک شاخ ہی بنادیا۔ آخر میں رہی سہی کسر رومیوں کے مشرکانہ عقائد و خرافات نے پوری کردی، موجودہ مسیحی قوموں کے عقائد ورسوم کثرت سے مصری یونانی رومی شرک ہی کی صدائے باز گشت ہیں اور بس۔
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر اختیار کیا، ان پر لعنت ہوئی داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی زبان سے،261 ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے (برابر) نافرمانی کی، اور حد سے آگے نکل نکل جاتے تھے،262 ۔

261 ۔ ان دونوں لعنتوں کا ذکر عہد عتیق کے صحیفہ زبور اور عہد جدید کے صحیفہ متی میں علی الترتیب موجود ہے۔ چناچہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان سے :۔ ” خداوند نے سنا اور نہایت غصہ ہوا۔ اس لیے یعقوب میں ایک آگ بھڑکائی گئی، اور اسرائیل پر قہر بھی اٹھا۔ کیونکہ انہیں نے خدا پر اعتماد کیا، اور اس کی قیامت پر اعتماد نہ رکھا “۔ (زبور۔ 78:2 1، 22، 23) اور حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے :۔ ” غرض اپنے باپ دادوں کا پیمانہ بھردو، اے سانپو، اے افعی کے بچو، تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے “ ! (متی۔ 23:3 1، 32) (آیت) ” الذین کفروا “۔ اسرائیلیوں کا یہ کفر اپنے اپنے پیغمبروں کے مقابلہ میں چناچہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں قانون سبت کو توڑا۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں تو خود ان کی نبوت ہی کا انکار کردیا۔ 262 ۔ ان مسلسل نافرمانیوں کی داستان سے اسرائیلیوں کے مذہبی نوشتے اور صحیفے خود بھرے ہوئے ہیں، نمونہ کے طور پر صرف ایک اقتباس ملاحظہ ہو :۔ ” انہوں نے ایسی شرارتیں کیں کہ جن سے خداوند کو غصہ ور کیا۔ کیونکہ انہوں نے بت پوجے باوجودیکہ خداوند نے انہیں کہا تھا کہ تم یہ کام نہ کیجیو۔ اور باوجود اس کے کہ خداوند نے سارے نبیوں اور غیب بینوں کی معرفت سے اسرائیل اور یہوداہ پر باتیں جتائی تھیں۔۔ پر انہوں نے نہ سنا، بلکہ اپنے باپ دادوں کی گردن کشی کی مانند جو خداوند اپنے خدا پر ایمان نہ لائے تھے، گردن کشی کی، اور اس کے قانونوں کو، اور اس کے عہد کو جو اس نے اپنے باپ دادوں سے باندھا تھا اور اس کی گواہیوں کو جو اس نے ان پر دی تھیں رد کیا اور بطالتوں کو اختیار کیا، اور بہیودہ ہوئے اور ان امتوں کے پیرو ہوگئے جو ان کے گرد وپیش تھیں، جنہیں دکھا کر خداوند نے انہیں حکم کیا تھا کہ تم ان کے سے کام مت کیجیو۔ اور انہوں نے خداوند اپنے خدا کے سب حکم ترک کیے۔ اور اپنے لیے ڈھالی ہوئی مورتیں یعنی دو بچھڑے بنائے۔ اور یسیرت تیار کی، اور آسمانی ستاروں کی ساری فوج کی پرستش کی، اور بعل کی عبادت کی، اور انہوں نے اپنے بیٹے بیٹی کو آگ کے درمیان گزارا۔ اور فال گیری اور جادوگری کی، اور اپنے تئیں بیچ ڈالا کہ خداوند کے حضور بدکاریاں کریں کہ اسے غصہ دلاویں، ان باعثوں سے خداوند بنی اسرائیل پر نپٹ غصہ ہوا “۔ (2 ۔ سلاطین۔ 17: 12 ۔ 18) پارۂ اول آیت نمبر 87 کے حاشیے بھی ملاحظہ ہوں۔
Ayah 5:79

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

جو برائی انہوں نے اختیار کر رکھی تھی، اس سے باز نہ آتے تھے، کیسا بےجا تھا جو کچھ وہ کررہے تھے،263 ۔

263 ۔ (باوجود بار بار کی تبلیغ وہدایت کے) یعنی بجائے ندامت و استغفار کے انہیں اپنی کفریات پر شدید اصرار تھا۔ ای کانوا لاینتھون عن منکراتوہ (ابن جریر) التناھی بمعنی الانتھاء (روح) دوسرے معنی لایتناھون کے یہ ہوسکتے ہیں کہ ” وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے “ اور یہی معنی اکثر نے لیے ہیں۔ وھو الذی علیہ الجمھور انہ تفاعل من النھی ای کان لاینھی بعضھم بعضا (کبیر) اور یہ معنی لے کر فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ منکرات سے ایک دوسرے کو نہ روکنا بڑا سنگین گناہ اور امت کے لیے بڑی حسرت کی چیز ہے۔ فیہ دلیل علی ان ترک النھی عن المنکر من العظائم فیاحسرۃ علی المسلمین فی اعراضھم عنہ (مدارک)
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

آپ ان میں سے بہتوں کو دیکھیں گے کہ کفر کرنے والوں سے دوستی رکھتے ہیں،264 ۔ کیسا بیجا ہے وہ جسے وہ اپنے آگے بھیج چکے ہیں، جس سے اللہ ان سے ناخوش ہوا اور وہ لوگ عذاب میں ہمیشہ پڑے رہیں گے ! ،265 ۔

264 ۔ یعنی مشرکین عرب سے سازوبازرکھتے ہیں۔ تاریخ اسلام کا یہ ایک مشہور ومسلم واقعہ ہے کہ رسول اسلام ﷺ کی مخالفت وعناد میں اور اسلام کو مٹانے کی خاطر یہود نے مشرکین عرب سے ہر طرح کی سازشیں کی تھیں۔ 265 ۔ یہی ان کا عذاب دوزخ میں پڑے رہنا اللہ کی ناخوشی کا ظہور ہے۔ (آیت) ” ان سخط اللہ “۔ میں ان موصولہ کا کام دیتا ہے ای الذی اوجب لھم سخط اللہ علیہم (جمل) (آیت) ” ما قدمت لھم انفسھم “۔ یعنی اپنے اعمال و عقائد کفریہ جنہیں آخرت میں وہ بھگتیں گے۔
Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ ایمان لے آئیں اللہ اور (اس) نبی پر اور جو کچھ اس (نبی) پر نازل ہوا ہے اس پر، تو وہ ان لوگوں کو دوست نہ بناتے،266 ۔ لیکن ان میں سے اکثر تو نافرمان ہی ہیں،267 ۔

266 ۔ (بلکہ ایسی صورت میں تو وہ اسلام کے جان نثاروں میں ہوتے) (آیت) ” النبی “ سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک ہے یصدقون نبیہ محمدا ﷺ (ابن جریر) (آیت) ’ ’ وما انزل الیہ “۔ یعنی قرآن۔ ویقرون بما انزل الی محمد ﷺ (ابن جریر) (آیت) ” النبی “۔ سے اشارہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور (آیت) ” ماانزل الیہ “۔ سے توریت کی جانب بھی سمجھا گیا ہے۔ 267 ۔ اور اسی نافرمانی کے آثار میں سے انکی عداوت اسلام ومسلمین کے ساتھ اور ان کی موالات مشرکین عرب کے ساتھ ہے۔ (آیت) ” فسقون “۔ فاسق یہاں محض بدعمل کے معنی میں نہیں بلکہ خارج از ایمان کے معنی میں ہے۔ ای خارجون عن الایمان (قرطبی جلالین)
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

آپ لوگوں میں ایمان والوں کے ساتھ سب سے بڑھ کر دشمنی رکھنے والے یہود اور مشرکین ہی کو پائیں گے،268 ۔ اور آپ ایمان والوں کے ساتھ دوستی میں سب سے زیادہ قریب انہیں پائیں گے جو اپنے کو نصاری کہتے ہیں،269 ۔ یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں، اور اس لیے کہ یہ تکبر نہیں کرتے،270 ۔

268 ۔ یعنی اسلام سے مخالفت وعداوت تو ہر غیر مسلم کو ہے۔ لیکن اس عموم میں مرتبہ خصوص مشرکین و یہود کو حاصل ہے کہ وہ شدید تیرن دشمنان اسلام ہیں۔ 269 ۔ (آیت) ” قالو انا نصری “۔ آیت پر اشکالات متعدد وارد ہوئے ہیں، اور جوابات بھی متعدد دیئے جاچکے ہیں۔ مثلا ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہاں مراد صرف رسول اللہ ﷺ کے معاصر مسیحی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ پر صحیح ہے لیکن بنیادی اشکال صرف اس لیے پیدا ہوا ہے کہ آیت کے لفظ نصاری پر کافی غور نہ کیا گیا اور اسے ” مسیحیوں “ کا مرادف سمجھ لیا گیا، آیت میں مسیحی یا عیسائی سرے سے مراد ہی نہیں، بلکہ نصاری سے مراد نصاری ہی ہیں۔ جو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی ماننے والا، نہ کہ انہیں ابن اللہ قرار دینے والا ایک قدیم فرقہ ہوا ہے۔ اور جس کا شمار آج ڈیڑھ ہزار سال سے موجودہ مسیحی ” ملحدوں “ میں کررہے ہیں۔ قال قتادۃ نزلت فی ناس من اھل الکتاب کانوا علی شریعۃ مما جاء بہ عیسیٰ امنوا بالرسول فاثنی اللہ علیہم (بحر) قال آخرون ھذہ صفۃ قوم کانوا علی شریعۃ عیسیٰ من اھل الایمان (ابن جریر) لفظ نصاری پر مفصل حاشیہ پارہ اول میں گزر چکا ہے ،۔ وہ ملاحظہ کرلیا جائے۔ (آیت) ” قالوا “۔ کا لفظ بھی حشو نہیں۔ ذکر ان کا ہورہا ہے جو اپنے نصاری ہونے کا اقرار کررہے ہیں، موجودہ فرنگی قومیں اور حکومتیں تو اپنی مسیحی ہونے کا بھی کھلی طرح اقرار نہیں کررہی ہیں۔ چہ جائیکہ اپنے کو نصرانی کہیں !۔۔۔ ان نیم ملحد، نیم مشرک قوم کو قدیم ” نصرانیت “ سے کوئی علاقہ ہی نہیں، اس لیے ان کی مودت وغیر مودت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ (آیت) ” اقربھم “۔ ذکر یہاں قرب مطلق کا نہیں صرف قرب اضافی کا ہورہا ہے۔ 270 ۔ یہاں نصاری کے اسلام سے نسبۃ قریب تر ہونے کے دو وجوہ بھی بیان کردیئے، ایک یہ کہ ان کی جماعت میں علم دوست، شب بیدار علماء اور تارک الدنیا درویش ہوتے ہیں، دوسرے یہ کہ ان کے قلوب میں تواضع کی نرمی ہوتی ہے، ان دو خصوصیات نے اس حقیقت کو اور زیادہ روشن ومؤکد کردیا کہ مراد عام مسیحی، خصوصا فرنگی قومیں ہو ہی نہیں سکتیں، یہاں ان دونوں اوصاف کا قحط ہے۔ بلکہ مراد اسی قدیم فرقہ نصاری (Nazarenes) ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی نصاری کا اسلام سے قرب اضافی۔ (آیت) ” قسیسین “۔ قس کے لفظی معنی عربی میں رات کو کسی شیء کے طلب کرتے رہنے کے ہیں، اصل القس تتبع الشیء وطلبہ بالیل (راغب) اور علماء نصاری چونکہ شب بیدار ہوتے تھے، اس لیے انہیں بھی قسیس کہنے لگے۔ والقسیس العالم العابد من رء وس النصاری (راغب) لیکن یہ بھی اہل لغت سے مروی ہے کہ قسیس کسی بیرونی زبان، ثریانی یا لاطینی سے منتقل ہو کر عربی میں آیا ہے۔ اور لغت عرب میں داخل ہوگیا ہے۔ قال قطرب القس والقسیس للعالم بلغۃ الروم (کبیر) ولفظ القسیس اما ان یکون عرب یا واما ان یکون بلغۃ الروم ولکن خلطتہ العرب بکلامھم فصار من لغتھم اذلیس فی الکتاب مالیس من لغۃ العرب (قرطبی) محققین نے آیت سے یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ تواضع وغیرہ صفات محمودوہ بہرحال قابل قدر ہیں خواہ وہ کہیں مل جائیں یہاں تک کہ نصاری میں بھی، وفی الایۃ دلیل علی ان التواضع والاقبال علی العلم والعمل والاعراض عن الشھوت محمودۃ اینما کانت (روح) وفی ھذا التعلیل دلیل علی جلالۃ العلم وانہ سبیل الی الھدایۃ وعلی حسن عاقبۃ الانقطاع (بحر) وفیہ دلیل علی ان العلم انفع شیء واھداہ الی الخیر وان کان علم القسیسین وکذا علم الاخرۃ وان کان فی راھب والبراء ۃ من الکبر وان کانت فی نصرانی (مدارک) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے معلوم ہوا کہ علوم واخلاق کو اعمال میں دخل عظیم ہے، اور اسی لیے مشائخ طریقت کو علوم واخلاق کا اہتمام اعمال سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔
Ayah 5:83

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب وہ اس (کلام) کو سنتے ہیں جو پیغمبر پر اتارا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھیں دیکھیں گے کہ ان سے آنسوبہہ رہے ہیں، اس لیے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے، سو تو ہم کو بھی تصدیق کرنے والوں میں لکھ لے،271 ۔

271 ۔ یہ تصدیق کرنے کون لوگ تھے ؟ حدیث وسیر کی کتابیں اس پر متفق ہیں، کہ اس سے مراد نجاشی شاہ حبشہ (متوفی 9 ؁ ہجری) اور اس کے درباری ہیں۔ یہ لوگ سچے مسیحی تھے، قبل ہجرت نبوی جب آپ ﷺ نے مکہ معظمہ سے صحابیوں کی ایک جماعت کی ہجرت ملک حبشہ کو کرائی تھی تو ایک موقع پر حضرت جعفر طیار ؓ نے نجاشی کی فرمائش پر سردربار سورة مریم کی آیتیں پڑھ کر سنائیں، اس پر نجاشی اور اہل دربار متا ثر ہو کر روپڑے۔ قال ابن عباس ؓ یرید النجاشی و اصحابہ (کبیر) عن عبداللہ بن زبیر قال نزلت ھذہ الایۃ فی النجاشی و اصحابہ (ابن کثیر) فبکی واللہ النجاشی حتی اخضلت لحیتہ وبکت اساقفتہ حتی اخضلوا مصاحفھم حین سمعوا ما تلا علیھم وثم قال النجاشی ان ھذا والذی جاء بہ عیسیٰ لیخرج من مشکاۃ واحدۃ (ابن ہشام) (آیت) ” ما انزل الی الرسول “۔ یہ سورة مریم کی آیتیں تھیں، فقرأ علیہ صدرا من کھیعص (ابن ہشام) ثم امر جعفر ان یقرأ علیہم القران فقرأ سورة مریم (قرطبی) (آیت) ” اعینہم تفیض “ من الدمع “۔ افاضہ یعنی آنسو کثرت سے رواں ہوگئے۔ خبر مستفیض اذا کثر وانتشر کفیض الماء عن الکثرۃ (قرطبی) اہل علم کا تاثر اسی قسم کا ہوتا ہے، وہ ہائے وائے نہیں کرتے البتہ ان کے آنسو چلنے لگتے ہیں۔ وھذہ احوال العلماء یبکون ولا یصعقون ویسالون ولایصیحون (قرطبی) (آیت) ” مما عرفوا من الحق “۔ کلام حق سے متاثر ہو کر آبدیدہ ہو آنا اور گریہ طاری ہوجانا گویا سنت صالحین ہے۔ توریت میں ہے :۔” سب لوگ شریعت کی باتین سن کر روتے تھے “ (نحمیاہ۔ 8:9) زیادہ ہنسی جس طرح غفلت کی دلیل ہے اسی طرح رقت قلب علامت عبرت پذیری اور بیداری روح کی ہے۔ الحق کا لفظ لانے میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے جس آخری نبی کی پیش گوئی درج ہے اسے تعبیر بھی ” روح حق “ ہی سے کیا (یوحنا۔ 14: 17 ۔ یوحنا 16: 13) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے وجد صوفیہ کا اثبات ہوتا ہے۔ اور وجد نام ہے بےاختیاری کی کیفیت محمودوہ کا۔ حالۃ محمودۃ غریبۃ غیر اخیتاریۃ (آیت) ” فاکتبنا “۔ اکتاب یہاں قطع طور پر بنا دینے یا کردینے کے معنی میں ہیں۔ ومعنی فاکتبنا اجعلنا فیکون بمنزلۃ ما قد کتب ودون (قرطبی) (آیت) ” الشھدین “۔ یعنی قرآن کے کلام الہی اور محمد ﷺ کے رسول برحق ہونے کی گواہی دینے والے، قال ابو علی الذین یشھدون بتصدیق نبیک وکتابک (قرطبی) (آیت) ” مما عرفوا من الحق “۔ میں پہلا من سببیہ ہے اس لیے کے معنی میں اور دوسرا میں تبعیضیہ ہے بعض الحق کے معنی میں۔ الاول لابتداء الغایۃ والثانیۃ للتبعیض (کبیر)
Ayah 5:84

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور آخر کیوں ہم ایمان نہ لائیں اللہ اور (اس) حق پر جو ہمیں (اب) پہنچا ہے اور (پھر) امید اس کی رکھیں کہ ہمارا پروردگار ہم کو صالح لوگوں کی معیت میں داخل کردے گا،272 ۔

272 ۔ یعنی ہماری اس آرزو کا پورا ہونا موقوف ہی ہے اسلام لانے پر۔ استفھام انکار واستبعاد لانتفاء الایمان مع قیام الداعی وھو الطمع فی الانخراط مع الصالحین (بیضاوی) مع مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بغیر عمل کے محض آرزو یا طمع مفید یا معتدبہ نہیں۔
Ayah 5:85

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

تو اللہ ان کو اس قول کے عوض میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں پڑیں بہہ رہی ہوں گی ان میں وہ (ہمیشہ) رہیں گے اور نیکوکاروں کا ایسا ہی معاوضہ ہے،273 ۔

273 ۔ خاص سے عام کی طرف آنا اور جزئیات سے کلیات پیدا کرنا قرآن مجید کا ایک عام اسلوب بیان ہے۔ اوپر ایک خاص گروہ کے انعامات کا ذکر تھا، اب عام قاعدہ بیان کردیا ہے کہ ہمارے قانون میں ایسی جزائے خیر تو ہر نیکو کار کو ملتی ہی رہتی ہے اور اخلاص طلب رائگاں نہیں جاتا۔ وھکذا من خلص ایمانہ وصدق یقینہ یکون ثوابہ الجنۃ (قرطبی) (آیت) ” فاثابھم اللہ بما قالوا “۔ سے معلوم ہوا کہ جنت اس اقرار اور اس معرفت سے معا واجب ہوجاتی ہے اگرچہ صاحب اقرار وصاحب معرفت صاحب کبیرہ ہی ہو۔ اسی لیے متکلمین نے کہا ہے کہ آیت میں قوی دلیل اس کی موجود ہے کہ مومن فاسق کی سزا خلود فی النار نہیں۔ الایۃ دالۃ علی ان ال مومن الفاسق لایبقی مخلدا فی النار (کبیر) (آیت) ’ فاثابھم اللہ بما قالوا “۔ سے اہل سنت نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ اقرار داخل ایمان ہے وفیہ دلیل علی ان الاقرار داخل فی الایمان کما ھو مذھب الفقھاء (مدارک) (آیت) ” مع القوم الصلحین “۔ میں مع۔ فی کے معنی میں بھی سمجھا گیا ہے۔ قیل مع بمعنی فی (قرطبی) ونطمع میں، و حالیہ لیا گیا ہے۔ والواو فی ونطمع واوالحال (کشاف)
Ayah 5:86

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر کرتے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے رہے تو وہی دوزخ والے ہیں،274 ۔

274 ۔ (آیت) ” اولئک “ کے حصر سے یہ ظاہر ہوگیا کہ اصحاب جحیم یعنی دوزخ میں مستقل رہنے والے کافر ہی ہوں گے نہ کہ غیر کافر یا فاسق مسلم۔ یفید الحصرای اولئک اصحاب الجحیم لا غیرھم فھذا یقتضی تخصیص ھذا الدوام بالکفار (کبیر)
Ayah 5:87

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے اوپر ان پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لئے جائز کی ہیں حرام نہ کرلو اور حدود سے آگے نہ نکلو، بیشک اللہ حدود سے آگے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا،275 ۔

275 ۔ تحریم حلال کی ایک عام اور چلی ہوئی صورت یہ ہے کہ کسی جائز لذت سے بہ قصد قربت حق اپنے کو ہمیشہ کیلیے محروم کردیا جائے۔ غیر مذہب والے اس عادت کا شکار بہ کثرت ہوچکے ہیں کسی مسلمان کا ایسی جسارت کرنا گویا اس کا اقرار کرنا ہے کہ شریعت سے فلاں فلاں پرہیز کے مقرر نہ کرنے میں کمی ہوئی ہے اور اب میں اپنی عقل و تجربہ سے اس فروگذاشت کی تلافی کررہا ہوں، کسی جائز چیز سے کسی طبی یا انتظامی مصلحت کی بنا پر دست بردار ہوجانا اور چیز ہے اور بعض بزرگوں سے جو ترک لذات کے سلسلہ میں جو مجاہدے منقول ہیں، سمجھنا چاہیے کہ وہ اسی قبیل سے ہوں گے۔۔ کم از کم حسن ظن کا تقاضا تو یہی ہے۔ (آیت) ” لا تحرموا “۔ تحریم اعتقادی، تحریم قولی، تحریم عملی کی تینوں صورتوں پر شامل ہے۔ ای پاکیزہ تعتقدواتحریم ما احل اللہ تعالیٰ لکم ولا تظھروا باللسان تحریم ما احل اللہ لکم ولا تجتنبوا عنھا اجتنابا شبیہ الاجتناب من المحرمات (کبیر) (آیت) ” طیبت ما احل اللہ لکم “۔ ان پاکیزہ اور جائز چیزوں میں غذا، لباس، ازدواج وغیرہ ہر قسم کی لذتیں آگئیں اور طیبات کے تحت میں ہر وہ جائز لذت شامل ہے جس کی طرف قلب اور طبیعت کو میلان ہوتا ہے۔ الطیبات اللذیذات التی تشتھیھا النفوس وتمیل الیھا القولب (کبیر) الطیبات اسم یقع علی ما یستلذ ویشتھی ویمیل الیہ القلب (جصاص) (آیت) ” ولا تعتدوا “۔ اعتداء یاحدود سے نکل جانا یہی ہے کہ شریعت کی احتیاطوں اور قیدوں کو ناکافی سمجھ کر ان پر اپنی رائے تو تجویز سے اضافہ کرلیا جائے یا اسکے برعکس انہیں زیادہ سمجھ کر ان میں سے کچھ چیزوں کو گھٹا دیاجائے۔ جو حکمت یا صنعت ہر لحاظ سے اکمل اور ہر اعتبار سے اجمل ہو اس میں ایک ذرہ کا اضافہ کردینا بھی اس کے کمال حسن کے غارت کردینے کے لیے ایسا ہی کافی ہے جیسا اس میں سے گھٹا دینا یا نکال دینا، فالنھیان علی ھذا تضمنا الطرفین ای لاتشددوا فتحرمو احلالا ولا تترخصوا فتحلوا حراما (قرطبی) ای لا تبالغوا فی التضییق علی انفسکم تحریم المباحات علیکم کما قال من قالہ من السلف (ابن کثیر) محققین نے کہا ہے کہ آیت میں دو طرفہ رد ہے۔ ایک طرف رد زہاد متشدد دین کا اور دوسری رخصت میں بہت ڈھیل ڈال دینے والے صوفیہ اہل باطل کا۔ قال علماء نافی ھذہ الایۃ وما شابھھا رد علی غلاۃ المتزھدین وعلی اھل البطالۃ من المتصوفین (قرطبی)
Ayah 5:88

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

اور اللہ نے جو کچھ تمہیں حلال، پاکیزہ چیزیں دے رکھی ہیں ان میں سے کھاؤ (پیو) اور اسی اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو،276 ۔

276 ۔ (کہ یہ تقوی یا خوف خدا ہی کی راہ اعتدال و احتیاط وفرمانبرداری پر قائم رکھے گا) اسلامی شریعت کے احکام عقلاء وحکماء کے گڑھے ہوئے نہیں کہ ان میں کسی قسم کی ترمیم، تنقید، اضافہ واصلاح کی گنجائش ہو۔ وہ تو تمامتر حکیم مطلق اور حاکم برحق کے مقرر کیے ہوئے ہیں، اس میں اپنی رائے وتجویز کو دخل دینا مقتضیات ایمان کے سرتاسر خلاف اور حاکمیت الہی سے بغاوت ہے۔ فقہاء محققین نے لکھا ہے کہ جو غذائیں شریعت الہی نے حلال وطیب قرار دی ہیں انہیں چھوڑ دینے میں کوئی دینی فضیلت ہرگز نہیں۔ جیسا کہ خود ساختہ مذہبوں نے ترک لذائذ کو ایک معیار تقوی ومقبولیت سمجھ رکھا ہے۔ یدل علی انہ لا فضیلۃ فی الامتناع من اکلھا (جصاص) خود رسول اللہ ﷺ نے گوشتوں میں علاوہ بکری، بھیڑ، اونٹ وغیرہ کے مرغ کا گوشت بھی تناول فرمایا ہے۔ قد روی ابوموسی الاشعری انہ رای النبی ﷺ یا کل لحم الدجاج (جصاص) فواکہ اور شیرینی اور حلوے کی دوسری لذیذ قسمیں بھی آپ ﷺ سے نوش فرمانا ثابت ہیں۔ رای انہ کان یا کل الرطب والبطیخ (جصاص) روی ان رسول اللہ ﷺ کان یا کل الدجاج والفالوذ وکان یعجبہ الحلواء والعسل (مدارک) (آیت) ” کلوا “۔ کے امرواجازت کا دائرہ صرف کھانے کی چیزوں تک محدود نہیں۔ کھانے، پینے، پہننے، اوڑھنے، سواری ومکان غرض برتنے کی ساری چیزیں اس کے اطلاق میں داخل ہیں۔ الاکل فی ھذہ الایۃ عبارۃ عن التمتع بالاکل والشرب واللباس والرکوب ونحوذلک (قرطبی) ابن عباس ؓ صحابی نے فرمایا کہ جو چاہو کھاؤ جو چاہو، پیو، بس لحاظ صرف اس کا رکھو کہ اسراف اور فخر ونمائش کے حدود تک نہ پہنچ جاؤ۔ عن طاؤس قال سمعت ابن عباس ؓ یقول کل ما شئت واکتس ما اخطأت اثنتین سرفا اومخلیۃ (جصاص) فقیہ جصاص رازی نے لکھا ہے کہ صحابیوں میں حضرت عثمان ؓ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ حضرت حسن ؓ ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ ، حضرت عمران بن حصین ؓ حضرت انس بن مالک ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور مشہور تابعی قاضی شریح سے لباس میں پشمینہ کا استعمال ثابت ہے (احکام القرآن) (آیت) ’ ’ کلوا “۔ صیغہ امر ہے لیکن مراد یہاں وجوب نہیں صرف اباحت ہے۔ کلوا صیغۃ امر وظاھر ھا للوجوب الا ان المراد ھھنا للاباحۃ والتحلیل (کبیر) (آیت) ” مما رزقکم اللہ “ میں۔ من۔ تبعیض کے لیے ہے اس میں ادھر اشارہ ہے کہ جائز چیزوں میں سے کچھ کھاؤ پیو اور کچھ دوسروں کی نذر کردو، تاکہ اسراف سے بھی بچے رہو۔ کلمۃ من للتبعیض فاکانہ قال اقتصروا فی الاکل علی البعض واصرفوا البقیۃ الی الصدقات والخیرات لانہ ارشاد الی ترک الاسراف کما قال ولا تسرفوا (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں رسم ترک حیوانات کا ابطال ہے جو بعض مدعیان طریقت کا طریق ہے۔
Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

اللہ تم سے تمہاری بےمعنی قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا،277 ۔ لیکن جن قسموں کو تم مضبوط کرچکے ہو ان پر تم سے مؤاخذہ کرتا ہے،278 ۔ سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو دیا کرتے ہو یا انہیں کپڑا دینا یا غلام آزاد کرنا،279 ۔ لیکن جس کو (اتنا مقدور نہ ہو تو اس کے لیے تین دن کے روزہ ہیں،280 ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم حلف اٹھا چکے ہو اور اپنی قسموں کو یاد رکھا کرو،281 ۔ اور اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر گزار ہو،282 ۔

277 ۔ مؤاخذہ سے مراد یہاں سزائے دنیوی ہے۔ یعنی ایسی قسم کا کفارہ واجب نہیں۔ (آیت) ” اللغوفی ایمانکم “۔ بےمعنی قسموں پر حاشیہ سورة بقر میں گزر چکا۔ پ 2 آیت 225 ۔ 278 ۔ (اور اس کے توڑنے کی سزائے دنیوی کفارہ ادا کرنا ہے) (آیت) ” بما عقدتم الایمان “۔ جھوٹی قسم ایک تو کسی گزشتہ واقعہ سے متعلق ہوسکتی ہے۔ جیسے کسی واقعہ کا وقوع قسم کھا کر بیان کیا حالانکہ وہ خلاف واقع تھا۔ یہاں ایسی قسموں کا ذکر نہیں، قسموں کی ایک دوسری قسم یہ ہے کہ مستقبل میں کسی امر کے وقوع یاعدم وقوع کو قسم سے مؤکد کرکے بیان کیا جائے، یہاں یہی قسم مراد ہے۔ (آیت) ” عقدتم “۔ عقد کے لفظی معنی گرہ دینے کے ہیں۔ مجازا عہد، قسم بیع وغیرہ کے مؤکد کرنے پر بولا جاتا ہے۔ 279 ۔ یہ کفار قسم توڑنے کے بعد ہی واجب ہوگا۔ اس کے قبل نہیں ادا ہوسکتا۔ یہ قسم خواہ ارادۃ توڑی ہو یا بھول چوک سے ٹوٹ گئی ہو، فقہاء نے لکھا ہے کہ کفارہ دونوں صورتوں میں واجب ہوگا (آیت) ” اطعام “۔ یہ کھانا دونوں وقتوں کا ہوگا، یہ کھانا چاہے دس شخصوں کو ایک دن کھلا دیا جائے یا ایک ہی شخص کو دس دن تک کھلایا جاتا رہے، (آیت) ” کسوتھم “۔ کپڑا ایسا ہو کہ جسم کے اکثر حصہ کے لئے کافی ہو۔ (آیت) ” تحریر رقبۃ “۔ لفظی معنی گردن آزاد کرانے کے ہیں، مراد غلام یا بندی کا آزاد کرنا ہے۔ (آیت) ” رقبۃ کا لفظ سورة النساء ع 13، آیت 92 میں آچکا ہے اور اس کی جمع رقاب سورة البقرہ ع 22، آیت 178 میں۔ او۔ کفارہ کی یہ تین صورتیں جو یہاں ارشاد ہوئیں ان کی ترتیب ذکر سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان پر عمل بھی نمبر وار اسی ترتیب سے ہو، بلکہ اختیار ہے کہ ماحول کا لحاظ کرکے جو کفارہ بہتر ہو وہ ہی دیا جائے۔ لاخلاف فی رد کفارۃ الیمیین علی التخییر (قرطبی) ومعنی اوالتخییر وایجاب احدی الکفارات الثلاث (مدارک) بلکہ فقہا مالکیہ نے تو تصریح کردی ہے کہ ضرورت کا اعتبار کیا جائے۔ وعندی انھا تکون بحسب الحال فان علمت محتاجا فالا طعام افضل لانک اذا اعتقت لم ترفع حاجتم وزدت محتاجا (ابن العربی) 280 ۔ (اور یہ تین روزے متواتر ہونے چاہئیں) یہ رعایتی کفارہ معا ٹوٹ جائے گا جونہی کہ عدم مقدرت کا عذر ختم ہوگیا۔ چناچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ کسی نہ یہ کفارہ کے روزے شروع کئے اور دورروزے ہو بھی چکے تھے کہ اسے طعام یا لباس کی مقدرت حاصل ہوگئی تو ابن تیسرا روزہ رکھنے کے بجائے اسے اصل کفارہ ہی دینا چاہیے۔ (آیت) ” فمن لم یجد “۔ فقہاء نے کہا ہے کہ یہاں مقدرت کا معیار صاحب نصاب ہونا ہے۔ 281 ۔ (تاکہ اس کے توڑنے اور پھر کفارہ دینے کہ نوبت ہی نہ آئے) (آیت) ” اذا حلفتم “۔ یعنی جب تم حلف لے چکے اور اسے توڑ بھی چکے۔ 282 ۔ شکریہ اس کا کہ حاکم علی الاطلاق و حکیم مطلق نے تمہاری چھوٹی بڑی، دینی ودنیوی، انفرادی واجتماعی ساری مصلحتوں اور ضرورتوں کا لحاظ اور سب کی رعایت رکھ لی۔
Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت اور پانسے تو بس نری گندی باتیں ہیں شیطان کے کام،283 ۔ سو اس سے بچے رہو تاکہ فلاح پاؤ،284 ۔

283 ۔ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں فطرت انسانی اور طبیعت بشری سے پھر کچھ نہ کچھ لگاؤ ہوتا ہے لیکن یہ چاروں چیزیں تو ایسی ہیں کہ انسان ان کی جانب تمامتر خارجی مؤثرات ہی کے اثر سے آتا ہے اور یہ بالکل ہی شیطان کی تحریک کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ (آیت) ” رجس من عمل الشیطن “۔ ان کی بالکل صحیح تصویر کشی ہے، فطرت بشری ان سے خود ابا کرتی ہے۔ خمر اور میسر پر حاشیہ سورة البقر رکوع 28 کے تحت میں اور انصاب اور ازلام پر اسی سورة مائدہ کے شروع میں درج ہوچکے۔ شراب اور جوئے کی مادی مضرتوں کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن (آیت) ” من عمل الشیطن “۔ یعنی تحریک شیطانی کا نتیجہ۔ لانہ مسبب عن تسویلہ وتزیینہ (بیضاوی) لانہ یحمل علیہ فکانہ عملہ (مدارک) 284 ۔ اور فلاح میں دینی ودنیوی، مادی وروحانی، جسمانی ودماغی انفرادی واجتماعی ہر قسم کی فلاح شامل ہے۔ مفسرز مخشری نے لکھا ہے کہ حرمت خمرومیسر کے متعدد طریقہ قرآن نے اسی آیت میں جمع کردیئے :۔ ( 1) آیت کی ابتداکلمہ حصر (آیت) ” انما “۔ سے کی، یعنی ان چیزوں کی بس یہی کل حقیقت ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ (2) ان دونوں چیزوں کا ذکر انصاب وازلام جیسی مسلم گندی چیزوں کے ساتھ کیا (3) انہیں رجس قرار دیا (4) انہیں عمل شیطان ٹھہرایا (5) صاف صاف ان سے اجتناب کا حکم دیا (6) ان سے احتراز کو موجب فلاح بتلایا (7) ان کی دینی ودنیوی مضرتوں کا ذکر کیا۔ (آیت) ” فاجتنبوہ “ میں ضمیر (آیت) ” رجس “۔ یا (آیت) ” عمل الشیطن “۔ کی جانب ہے۔ الضمیر للرجس (بیضاوی) الضمیر یرجع الی الرجس اوالی عمل الشیطان (مدارک) حرمت خمر پر اگر دوسرے نصوص نہ موجود ہوں جب بھی یہی ایک آیت کافی ہے اس لئے کہ اول تو لفظ رجس موجود ہے جو خود تحریم کا مقتضی ہے اور پھر (آیت) ” فاجتنبوہ “۔ بہ صیغہ امر ہے۔ اقتضت ھذہ الایۃ تحریم الخمر من وجھین احدھما قولہ رجس لان فاجتنبوہ وذلک امر والامر یقتضی الایجاب (جصاص)
Ayah 5:91

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ تمہارے آپس میں دشمنی اور کینہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے ڈال دے،285 ۔ اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے،286 ۔ سو اب بھی تم باز آؤ گے،287 ۔

285 ۔ شراب نوشی اور قماری بازی کی دنیوی مضرتوں اور اخلاقی قباحتوں کی تفصیل لکھنے پر کوئی آئے تو کتاب کی کتاب تیار ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید نے یہاں ان کی صرف سب سے بڑی اور کلیدی مضرت، خانہ جنگی کی طرف اشارہ کردیا۔ شراب وقمار دونوں کے مضراثرات شروفساد کی شکل میں روز مرہ کے مشاہدے ہیں۔ مے نوشی اور جرائم کا قریبی تعلق آج ماہرین فن کے فراہم کئے ہوئے اعداد سے ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور جوئے کی لت میں پڑکر بڑے بڑے مشاہیر و اکابر کا اپنی دولت، سلطنت، عزت وناموس تک گنوابیٹھنا ہندوستان کے قدیم ترین قصہ مہابھارت سے ظاہر ہورہا ہے۔ جاہلیت عرب کے مہذب باشندے ان دونوں بلاؤں میں بری طرح مبتلا تھے، اسی طرح جیسے آج جاہلیت فرنگ کی مہذب آبادی پر بھی دونوں بلائیں بری طرح مسلط ہیں۔ ملاحظہ ہوراقم سطور کی انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” فی الخمر والمیسر “۔ میں فی سببیہ ہے یعنی ان کے ذریعہ یا واسطہ سے۔ ای بسببھا (جمل) ای بسبب تعاطیھما (روح) (آیت) ” الخمر “۔ خمر کے اصل معنی اگرچہ صرف شراب انگوری کے تھے لیکن بعد کو یہ لفظ ہر قسم کی نشہ آور شراب کے لئے استعمال ہونے لگا۔ الخمرھی عصیر العنب المشتد (جصاص) کل شیء اسکرفھو خمر (جصاص) الخمر سمیت لکونھا خامرۃ لمقر العقل وھو عند بعض الناس اسم لکل مسکر، عندبعضہم اسم للمتخذ من العنب والتمر (راغب) شراب کے سلسلہ میں یہ یاد رہے کہ جس طرح اس کا پینا ناجائز ہے اسی طرح اس کا بنانا، اس کا بیچنا، اس کے کاروبار میں حصہ لینا، اس سے کسی طرح نفع اٹھانا سب ناجائز ہے۔ حدیث ابوداؤد میں ان اللہ حرم الخمر وثمنھا صاف آچکا ہے۔ اور فقہاء نے تمام متعلقات شراب کی حرمت پر دلائل نقل کئے ہیں۔ آبکاری کا عظیم الشان محکمہ اور پر منفعت کاروبار اسلامی حکومت کے تحت میں ایک منٹ کے لئے بھی زندہ نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے اس آیت کے ذیل میں خوب فرمایا کہ معاصی میں جیسے اخروی مضرتیں ہیں، دنیوی قباحتیں بھی بہت ہیں۔ 286 ۔ (آیت) ” ذکر اللہ “۔ اور ” الصلوۃ “۔ میں مناسبت باہمی یہ ہے کہ نماز ذکر الہی ہی کی فرد اعلی و افضل ہے اور عام کے ساتھ اس کی صورت خاص کی تصریح کردینا قرآن مجید کا عام اسلوب بیان ہے۔ ضمنا اس سے نماز کی عظمت اور اہمیت واشرفیت پر پوری روشنی پڑگئی، خص الصلوۃ من الذکر بالافراد للتعظیم والاشعار بان الصاد عنھا کالصاد عن الایمان (بیضاوی) وخص الصلوۃ من بین الذکر لزیادۃ درج تھا کانہ قال وعن الصلوۃ خصوصا (مدارک) شراب اور جوئے کے دنیوی نقصانات کی طرف اشارہ ابھی اوپر ہوچکا اب بیان انکی دینی مضرتوں کا ہورہا ہے۔ میسر کی جو حکمتیں یہاں بیان ہوئیں وہی شطرنج وغیرہ نیم قماری کھیلوں میں بھی مشاہد ہیں اسی لیے فقہاء نے ان کے بھی عدم جواز کا فتوی دیا ہے اور صحابہ اور تابعین سے بھی منقول ہے، روی عن علی ؓ انہ قال الشطرنج من المیسر وقال عثمان وجماعۃ من الصحابۃ والتابعین النرد وقال قوم من اھل العلم القمار کلہ من المیسر (جصاص) ھذہ الایۃ تدل علی تحریم اللعب بالنرد والشطرنج قمارا اوبغیر قمار (قرطبی) 287 ۔ (شراب اور قمار سے) اصحاب نبی کریم ﷺ جو آیت کے مخاطب اولین تھے، اسے سنتے ہی پکاراٹھے، ہم باز آگئے، ہم باز آگئے۔ قال عمر انتھینا انتھینا (ابن جریر) فقالوا انتھینا یارب (ابن جریر) فقالوا انتھینا ربنا انتھینا ربنا (ابن جریر) کیسا ڈسپلن تھا بارگاہ نبوت کا اور کیسی زبردست اصلاحی قوت تھی عرب کے اس امی حکیم کی کہ دم کے دم میں بڑے بڑے پرانے اور عمر بھر کے شرابیوں جو اریوں کو پاکباز و متقی بلکہ پاکبازوں اور صالحین کا سردار بنادیا۔ سچ کہا ہے اکبر الہ آبادی نے۔ ع۔ خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا۔ (آیت) ” فھل انتم منتھون “۔ حرمت شراب وقمار کی تاکید در تاکید تو اوپر سے چلی آرہی تھی اب اس فقرہ نے اسے اور مؤکد کرکے گویا شدت ممانعت پر مہر لگا دی۔ اعاد الحث علی الانتھاء بصیغۃ الاستفھام مرتبا علی ما تقدم من انواع الصوارف (بیضاوی) ایذانا بان الامر فی المنع والتحذیر بلغ الغایۃ وان الاعذار قد انقطعت (بیضاوی) علامہ زمخشری نے ایک سوال یہاں یہ پیدا کیا ہے کہ پہلی آیت میں خمر ومیسر کا ذکر الصاب وازلام کے ساتھ کیا ہے اور اب کی تنہا انہی دو کا ذکر کیوں کیا ہے ؟ اور خود ہی اس کا جواب یہ دیا ہے کہ آیت میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور انہی کو شراب اور قمار سے روکنا مقصود ہے۔ پہلی آیت میں چاروں منکرات کا ذکر ایک ساتھ اس امر کے اظہار کے لئے اور مسلمانوں کو شراب وقمار سے مزید نفرت دلانے کے لئے تھا کہ یہ ایسے اعمال ہیں جن کا ارتکاب اہل جاہلیت ومشرکین ہی کرسکتے ہیں۔ ذکر الانصاب والازلام لتاکید تحریم الخمر والمیسر و اظہار ان ذلک جمیعا من اعمال الجاھلیۃ واھل الشرک ثم افردھما بالذکر لیری ان المقصود بالذکر الخمر والمیسر (کشاف)
Ayah 5:92

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور اطاعت کرتے رہو اللہ کی اور رسول کی اور احتیاط رکھو اور اگر اعراض کروگے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس،288 ۔

288 ۔ (احکام اور پیام کی، سو وہ تبلیغ پوری پوری کرچکے اور عذر کی گنجائش کسی کو نہ رہی) (آیت) ” اطیعوا الرسول “۔ یہ اطاعت اللہ اور رسول کی سارے احکام شریعت میں ہوگی۔ (آیت) ” واحذروا “۔ یہ احتیاط کا حکم احکام کی نافرمانی سے مل رہا ہے۔
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو وہ کھاتے ہوں جبکہ وہ لوگ تقوی رکھتے ہوں،289 ۔ اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں پھر تقوی کریں،290 ۔ اور ایمان رکھتے ہوں اور پھر تقوی کریں اور خوب نیک کاری کریں،291 ۔ اور اللہ تو محبت رکھتا ہے خوب نیکوکاری کرنے والوں سے،292 ۔

289 ۔ (اور اس لئے اس وقت کی حرام چیزوں سے محترز ہوں) (آیت) ” فیما طعموا “۔ جبکہ وہ وہ چیزیں کھا رہے ہوں جو اس وقت میں حلال ہوں۔ طعموا بمالم یحرم علیھم (بیضاوی) روایتوں میں آتا ہے کہ جب شراب وقمار کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے سوال کیا کہ پھر ان کا کیا حشر ہوگا جواب تک شراب پیتے اوقمار کا مال کھاتے رہے ؟ اور پھر اب زندہ بھی نہیں، جو توبہ و استغفار سے کام لیں بلکہ وفات پاچکے ہیں ؟ یہ آیت اسی پر نازل ہوئی۔ سوال اسی پر نازل ہوئی۔ سوال اسی قسم کا تھا جیسے حکم تحویل قبلہ کے بعض صحابیوں نے سوال کیا تھا کہ کہ جو نمازیں بیت المقدس کی طرف پڑھی جا چکی ہیں، ان کا کیا حشر ہوگا ؟ اور اس کا جواب بھی قرآن ہی میں موجود ہے۔ (آیت) ” ماکان اللہ لیضیع ایمانکم “۔ سوال دونوں موقعوں پر بالکل قدرتی تھا۔ اور آج جن لوگوں نے سوال پر استعجاب ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے خود اپنی سطحیت وکم فہمی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ چار چار صحابیوں ابن عباس، جابر وبراء بن عازب وانس بن مالک ؓ اور چار چار تابعیوں حسن، مجاہد، قتادہ، ضحاک کی سند سے جصاص نے لکھا ہے کہ لما حرم الخمر کان قد مات رجال من اصحاب رسول اللہ ﷺ وھم یشربون الخمر قبل ان تحرم فقالت الصحابۃ کیف بمن مات منا وھم یشربونھا فانزل اللہ تعالیٰ ھذہ الایۃ۔ 290 ۔ یعنی ان چیزوں کو ترک کردیں جو پہلے حلال تھیں اور اب حرام ہوگئی ہیں (آیت) ” وعملوا الصلحت “۔ یہ عمل صالح خود دلیل ہے ان کے ایمان وتقوی کی۔ 291 ۔ مطلب یہ ہوا کہ نزول شریعت کے ہر دور میں، ہر منزل میں وہ اتباع احکام اور احترام قیود پر حریص ہوں، احسان سلوک شرعی میں آخری مرتبہ کا نام ہے۔ ایک تو ہوا کسی کام کو محض کردینا اور ایک ہے اس کام کو بہ وجہ احسن کرنا، دل وجان سے کرنا، اس میں حسن و زیبائی کے کمالات پیدا کرکے کرنا۔ اسی کا نام احسان ہے لفظ ” احسان “ اردو میں جس مفہوم کے لئے چلا ہوا ہے اس سے یہاں کوئی تعلق نہیں (آیت) ” ثم اتقوا “۔ اس تقوی سے بھی یہی مراد ہے کہ جو چیز اب حرام ہوئی ہے اسے ترک کردیں (آیت) ” وامنوا “۔ یہاں کی تصریح سے اشارہ اوپر ہوگیا کہ وہی ایمان ہی مبنی اور منشا سارے اعمال صالحہ کا ہے، جصاص رازی نے لکھا ہے کہ تقوی کا ذکر آیت میں تین مرتبہ آیا ہے اور ہر مرتبہ ایک نئی مراد ہے پہلے تقوی سے اشارہ ماضی کی طرف ہے اور دوسرے سے مستقبل کی طرف۔ اور تیسرے سے مراد بندوں پر ظلم و زیادتی سے پچنا ہے۔ واعاد ذکر الاتقاء فی الایۃ ثلاث مرات فاما الاول فمن اتقی فی ماسلف والثانی الاتقاء منھم فی مستقبل الاوقات والثالث اتقاء ظلم العباد والاحسان الیھم۔ 292 ۔ (سو ایسے ایمان، تقوی وحسن عمل والوں کے مبغوض ومردود ہونے کا تو احتمال ہی نہیں۔ ان کا شمار تو محبوبوں اور مقبولوں میں ہے) علماء نے اس پوری آیت سے ہر مباح لذت سے پورے استلذ اذ وانتفاع کا جواز نکالا ہے۔ قال ابن خویز منداد تضمنت ھذہ الایۃ تناول المباح والشھوات والانتفاع بکل لذیذ من مطعم ومشرب ومنکح وان بولغ فیہ وتنوھی فی ثمنہ (قرطبی)
Ayah 5:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ تمہیں آزمائے گا قدرے شکار سے جس تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں،293 ۔ تاکہ اللہ معلوم کرلے کہ کون شخص اس سے بےدیکھے ڈرتا ہے،294 ۔ سو جو کوئی اس کے بعد حد سے نکلے گا تو اس کے لئے عذاب دردناک ہے،295 ۔

293 ۔ یعنی وہ شکار کے جانور تم سے بہت دور بھی نہ ہوں گے۔ قریب ہی پھرتے رہیں گے کہ تمہارے لئے ان کا شکار بہ آسمانی ممکن ہوگا۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہ ذکر مقام حدیبیہ کا ہے۔ شکار کے جانور بالکل آس پاس لگے پھرتے تھے لیکن مسلمان حالت احرام میں تھے اس لیے شکار سے محتاط ومحترز رہے۔ انزلت ھذہ الایۃ فی عمرۃ الحدیبیۃ فکانت الوحش والطیر والصید تفشاھم فی رحالھم (ابن کثیر) (آیت) ” لیبلونکم اللہ “۔ سورة شروع میں آچکا ہے کہ حالت احرام میں شکار ممنوع ہے اب یہاں اس کی کچھ تفصیل بیان ہوگی۔ ملاحظہ ہوں سورة مائدہ کے حواشی نمبر 4 ومابعد۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” لیبلونکم “ سند ہے ان مشائخ کے لیے جو اپنے طالبین کے صدق واخلاص کا امتحان کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” من الصید “۔ میں من یا تو تبعیض کے لئے ہے یا تمییز کے لئے یا جنس کے لئے۔ قیل فی موضع من ھھنا انھا للتبعیض وقیل انھا للتمییز (جصاص) ومن للتبعیض اولبیان الجنس (مدارک) یرید بعض الصید فمن للتبعیض (قرطبی) 294 ۔ یعنی اس ان دیکھے معبود کے احکام کی خلاف ورزی سے ڈرتا ہے۔ (آیت) ” لیعلم اللہ “۔ یعنی تاکہ اللہ دنیا کی نظر میں بھی اس شخص کے عمل سے معلوم کرلے۔ اللہ کا علم تو ہمیشہ ہی سے ہے۔ ایسے موقعوں پر مراد یہ ہوتی ہے کہ اس شخص کے عمل سے بھی یہ کیفیت ظاہر ہوجائے۔ 295 ۔ (آیت) ” بعد ذلک “۔ یعنی اس حکم حرمت کے بعد یا اس شکار کی آزمائش کے بعد۔ بعد ذلک الابتلاء بالصید (بیضاوی) (آیت) ” اعتدی “۔ یعنی احکام شرعی کی حد سے نکلے گا اور شکار ممنوع کا مرتکب ہوگا۔ صحابہ ؓ شکار کے خاص طور پر عادی تھے۔ اس لیے ان کی اطاعت اور قوت ضبط کا پورا امتحان ہورہا تھا۔ (آیت) ” بشیء “۔ یہ دل بڑھانے کے لئے ہے کہ امتحان کوئی ایسا بڑا نہیں۔ ایک حقیر ہی شے کا ہے۔ التقلیل والتحقییر فی بشیء للتنبیہ علی انہ لیس من العظائم (بیضاوی) لیعلم انہ لیس بفتنۃ من الفتن العظام التی تدحض عندھا اقدام الثابتین (کشاف)
Ayah 5:95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

اے ایمان والوشکار کو مت مارو جب کہ تم حالت احرام میں ہو،296 ۔ اور تم میں سے جو کوئی دانستہ اسے مار دے گا تو اس کا جرمانہ اسی طرح کا ایک جانور ہے جس کو اس نے مار ڈالا ہے،297 ۔ (اور) اس کا فیصلہ تم میں دو معتبر شخص کریں گے خواہ وہ جرمانہ چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچائے جاتے ہیں خواہ مسکینوں کا کھانا (کھلا دیاجائے) ،298 ۔ یا اس کے مساوی روزہ رکھ لیے جائیں تاکہ وہ اپنے کیے کی شامت کا مزہ چکھے،299 ۔ جو کچھ ہوچکا اللہ نے اسے معاف کردیا،300 ۔ لیکن جو کوئی پھر یہ حرکت کرے گا اللہ اس سے انتقام لے گا،301 ۔ اور اللہ زبر دست ہے، انتقام پر قادر ہے،302 ۔

296 ۔ (اور یا تم خود تو حالت احرام سے باہر ہو لیکن وہ شکار حدود حرم کے اندر ہو) یہ عام ممانعت خشکی اور تری کے ان جانوروں کے حق میں نہیں جن کے قتل یا شکار کا جواز قرآن مجید ہی کی کسی دوسری آیت یا حدیث صحیح سے ثابت ہوگیا ہے۔ مثلا دریائی جانور یا سانپ بچھو، بھیڑیا، کاٹنے والا کتا وغیرہا، قدروی ابن عباس وابن عمر وابو سعید وعائشۃ عن النبی ﷺ قال خمس یقتلھن المحرم فی الحل والحرم الحیۃ والعقرب والغراب والفارۃ والکلب العقور (جصاص) واما ماکان من السباع لا یعدو (جصاص) (آیت) ” لاتقتلوا “۔ قتل کے معنی اردو میں اہلاک کی ایک بالکل خاص صورت کے ساتھ محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ عربی کے قتل کے مفہوم میں یہ تنگی نہیں، وہ جان لے لینے کی ہر صورت کے لیے عام ہے اور یہی یہاں مراد ہے۔ القتل ھو کل فعل یفیت الروح وھو انواع (قرطبی) 297 ۔ یعنی اس شخص کو جرمانہ میں اسی قیمت کا جانور پیش کرنا چاہیے۔ (آیت) ” مثل ما قتل “۔ مثلیت کا معیار حنفیہ کے ہاں ہم قیمتی ہے۔ قال ابوحنیفۃ وابو یوسف المثل ھو القیمۃ (جصاص) وھو قیمۃ الصید (مدارک) یہ جزاء (جرمانہ) جس طرح قصد وتعمد میں واجب ہے اسی طرح حالت خطا ونسیان میں بھی، حدیث سے بھی ثابت ہے اور فقہاء نے بھی اس کی تصریح کی ہے۔ من الزھری قال نزل القران بالعمد وجرت السنۃ فی الخطا (ابن جریر) ان قتلہ متعمدا او ناسیا حکم علیہ (ابن جریر عن ابن عباس ؓ قال قائلون وھم الجمھور سواء قتلہ عمدا اور خطا فعلیہ الجزاء (جصاص) وانما شرط التعمد فی الایۃ مع ان محظورات الاحرام یستوی فیھا العمد والخطا لان مورد الایۃ فی معنی تعمد (مدارک) الاصل فعل التعمد والخطاء ویلحق بہ وللتغلیظ (مدارک) یحکم علیہ فی العمد والخطاوالنسیان قالہ ابن عباس وروی عن عمروطاؤس والحسن و ابراہیم والزھری وبہ قال مالک والشافعی وابو حنیفۃ واصحابھم (قرطبی) والذی علیہ الجمھور ان العامد والناسی سواء فی وجوب الجزاء علیہ (ابن کثیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس پوری آیت سے اہل ریاضت کے اس طریق کا ثبوت مل جاتا ہے کہ پہلی خطا پر اپنے نفس کو ایسی سزا دیتے ہیں جس کا تحمل اس کو آسان ہوتا ہے۔ اور اگر وہ خطا پھر عود کرے تو اسے ایسی سزا دیتے ہیں جو اس پر قدرے دشوار ہو۔ 298 ۔ یعنی یہ کھانا اسی جانور کی تخمینی قیمت کے مساوی ہو۔ (آیت) ” من النعم “۔ چوپایوں سے مراد ہیں اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، (آیت) ” یحکم بہ ذوا عدل منکم “۔ یعنی اس جانور کی قیمت کا تخمینہ تم میں سے دومتدین، اہل اور صاحب بصیرت اشخاص کریں۔ (آیت) ” بلغ الکعبۃ “۔ ” کعبہ تک “ سے مراد ہے کہ حدود حرم کے اندر پہنچا جائیں۔ حرمت فقہی کے اعتبار سے کعبہ اور کل حرم دونوں یکساں ہیں اور قربانی خاص کعبہ تک تو پہنچتی بھی نہیں۔ بلوغۃ الکعبۃ وجد فی الحرم لاخلاف فی ذلک وھذا یدل علی ان الحرم کلہ بمنزلۃ الکعبۃ فی الحرمۃ (جصاص) ویرسل من الحل الی مکۃ ولم یرد الکعبۃ بعینھا فان الھدی لایبلغھا اذھی فی المسجد وانما اراد الحرم ولا خلاف فی ھذا (قرطبی) الکعبۃ انما اریدیھا کل الحرم لان الذبح والنحر لایقعان فی الکعبۃ ولا عندھا ملازقالھا (کبیر) 299 ۔ مساوی تعداد میں روزہ کے معنی یہ ہیں کہ ہر مسکین کے حصہ کا ایک ایک روزہ رکھا جائے۔ گویا کفارہ کی تین صورتیں ارشاد ہوئیں۔ ھدی۔ اطعام۔ صیام۔ اور تینوں مساوی ہیں۔ جیسا کہ اوکلمہ تخییر کا اقتضاء ہے۔ وما ذکرہ اللہ تعالیٰ فی ھذہ الایۃ من الھدی والاطعام والصیام فھو علی التخییر لان او یقتضی ذلک وروی نحو ذلک عن ابن عباس وعطاء والحسن وابراھیم روایۃ وھو قول اصحابنا (جصاص) 300 ۔ یعنی جو لوگ یہ جرمانہ ادا کرچکے وہ معاف ہوجائیں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ قبل اسلام یا قبل نزول حکم جو کچھ گزر چکا اس سے درگزر کردی جائے گی، عما کان فی الجاھلیۃ (ابن جریر۔ عن عطاء) عما سلف منکم فی جاھلیتکم (ابن جریر) عما مضی فی الجاھلیۃ وعما سلف قبل التحریم فی الاسلام (کبیر) 301 ۔ (اس جسارت اور ڈھٹائی کا) گناہ کا اعادہ خود ایک دلیل ہے ڈھٹائی کی۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ توبہ سے یہ علت انتقام بھی منتفی ہوجائے گی۔ 302 ۔ اس میں رد آگیا بہت سی جاہلی قوموں کے عقیدہ کا جن کا معبود فعالیت سے یکسر محروم، اور ہر طرح بےحس اور جامد ہے۔
Ayah 5:96

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لئے دریائی شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا تمہارے نفع کیلئے اور قافلوں کے لیے،303 ۔ اور تمہارے اوپر جب تک تم کو حالت احرام میں ہوخش کی کا شکار حرام کیا گیا اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے،304 ۔

303 ۔ بحری مسافروں کے لئے دریائی جانوروں کے شکار کی اجازت ان کے حق میں رحمت خاص ہے۔ یہ ہدایتیں حالت احرام کے بارے میں مل رہی ہیں۔ وانتم حرم کے تحت میں (آیت) ” صید البحر “۔ بحر سے صرف سمندر مراد نہیں، ہر قسم کے دریا، ندی جھیل، تالاب وغیرہ غرض پانی کا ہر ذخیرہ اس کے تحت میں آجاتا ہے۔ عنی بالبحر فی ھذا الموضع الانھار کلھا والعرب تسمی الانھار بحارا (ابن جریر) اصل البحر کل مکان واسع جامع للماء الکثیر (راغب) المقصد فیہ صید الماء فسائر حیوان الماء یجوز للمحرم اصطیادہ ولا نعلم خلافا فی ذلک بین الفقھاء (جصاص) والمراد بالبحر جمیع المیاہ والانھار (کبیر) والمراد بالبحر جمیع المیاہ (معالم) اور دریائی جانور کی تعریف فقہاء نے یہ کی ہے کہ وہ وہ جانور ہے جس کا مولد ہی پانی ہے اور مسکن بھی پانی۔ اس لئے مرغابی، بط وغیرہ اس تعریف کے بعد دریائی جانور کے حکم سے نکل گئے۔ (آیت) ” طعامہ “۔ میں ضمیر صید کی طرف ہے۔ قیل الضمیر للصید وطعامہ اکلہ “۔ اور اس پر کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن بہت سے ارباب تفسیر ادھر بھی گئے ہیں کہ ضمیر بحر کی جانب ہے۔ ماقذفہ اونضب عنہ (بیضاوی) تو گویا اب دوچیزیں ہوئیں ایک (آیت) ” صید البحر “۔ اور دوسرے طعام البحر۔ یہ ترکیب مان کر دونوں میں فرق یہ کیا گیا ہے کہ صید البحر وہ جانور ہے جس کا شکار کرکے اسے مارا جائے۔ اور طعام البحر وہ جانور ہے جسے دریا خود پھینک دے یا جو پانی کے پیچھے ہٹ آنے سے رہ جائے اور یہ تفریق حضرت صحابہ بلکہ حضرت صدیق ؓ سے مروی ہے۔ طعامہ ما قذف بہ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ طعام ماقذف منہ (ابن جریر۔ عن قتادۃ) وھو الاحسن ماذکرہ ابوبکر الصدیق ؓ ان الصید ما صید بالحیلۃ حال حیاتہ والطعام ما یوجد مما لفظہ البحر اونضب عنہ الماء من غیر معالجۃ فی اخذہ ھذا ھو الاصح (کبیر) اس (آیت) ” احل لکم “۔ سے مرشد تھانوی (رح) نے یہ استنباط کیا ہے کہ اس میں زہد کی تعدیل اور اس میں غلو کرنے سے منع ہے۔ 304 ۔ ہر حکم، ہر قید کو نفس کے لئے خوشگوار بنادینے والا ہی استحضار حاکم مطلق کی حکومت کا ہے۔ (آیت) ” حرم علیکم “۔ یہ حکم حرمت عام ہے شکار پکڑنے والے اور اس میں (آیت) ” معین “۔ ہونے والے دونوں پر۔
Ayah 5:97

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے کعبہ کے مقدس گھر کو انسانوں کے باقی رہنے کا مدار ٹھہرایا ہے،305 ۔ (نیز) حرمت والے مہینہ کو اور حرم میں قربانی کو، اور گلے میں پٹہ پڑے ہوئے جانوروں کو،306 ۔ یہ اس لئے کہ تم یقین کرلو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ اس سب کا علم رکھتا ہے اور بیشک اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے،307 ۔

305 ۔ (اور اس کے حفظ ادب اور تعظیم شان کے لئے تو یہ سب حرم واحرام کے احکام وقواعد ہیں) (آیت) ” الکعبۃ “۔ جس طرح لفظ اللہ خود دلالت کرتا ہے اپنے مسمی کے سارے مخلوق سے بلند ہونے اور اس کے معبود ہونے پر اور لفظ محمد ﷺ خود جامعیت رکھتا ہے ہر طرح کی بزرگی اور ستودہ صفاتی کی۔ اسی طرح لفظ کعبۃ کے اندر بھی دلالت اس سی عظمت و بزرگی کی موجود ہے۔ کعبہ کے معنی ہی بلند مقام کے ہیں اور یہ بلندی ظاہری ومعنوی دونوں کی جامع ہے۔ سمیت الکعبۃ کعبۃ لارتفاعھا (کبیر) فالکعبۃ لما ارتفع ذکرھا فی الدنیا واشتھرامرھا فی العالم سمیت بھذا الاسم (کبیر) (آیت) ” البیت الحرام “۔ کو بیت الحرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں چھت اور دیواریں ہیں اور یہ حقیقت بیتیت ہے نہ اس لئے کہ اس میں کسی کی سکونت ہے۔ والبیت سمی بذلک لانھا ذات سقف وجدار وھی حقیقۃ البیتیۃ وان لم یکن بھا ساکن (قرطبی) (آیت) ” قیما “۔ یعنی لوگوں کی حفاظت ونگہداشت کا ذریعہ وواسطہ اور پھر قیاما للعرب نہیں (آیت) ” قیما للناس “۔ یعنی ساری کائنات انسانی اسی کے نام سے قائم انسانیت کی سانس اسی کے وجود سے وابستہ۔ گویا اس میں اس کا وعدہ بھی آگیا کہ جب تک انسانی آبادی قائم ہے خانہ کعبہ کا وجود بھی باقی رہے گا۔ ارادانہ جعل ذلک قواما لمعایشھم وعمادا لھم فھو قوام دینھم ودنیاھم (جصاص) اصلہ قوام وھو ما یستقیم بہ الامر ویصلح (کبیر) یعنی یقومون بھا (قرطبی) ای سببا لقوام مصالح الناس (کبیر) ھو سبب لامن الناس عن الافات والمخافات وسبب لحصول الخیرات والسعادات فی الدنیا والاخرۃ (کبیر) ای بسبب اصلاح امورھم (روح) امام رازی (رح) لکھتے ہیں کہ کعبہ کے سبب قوام ہونے کی متعدد توجیہیں کی گئی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ سب درست ہوں اور کعبہ قیاماللناس کسی ایک ہی جہت سے نہیں متعدد جہات سے ہو۔ لا یبعد حمل الایۃ علی جمیع ھذہ الوجوہ وذلک لان قوام المعیشۃ اما بکثرۃ المنافع واما برفع المضار واما بحصول ھذہ الاقسام الاربعۃ وثبت ان قوام المعیشۃ لیس الابھذہ الاربعۃ ثبت ان الکعبۃ سبب لقوام الناس (کبیر) احادیث میں آتا ہے جب خانہ کعبہ کا ہدم کافروں کے ہاتھ سے ہوجائے گا تو اسی کے بعد قیامت بھی آجائے گی ، 306 ۔ ھدی اور قلائد پر حاشیہ پارۂ ششم میں سورة مائدہ کے شروع میں گزر چکے۔ (آیت) ” الشھر الحرام “۔ یعنی حرمت والے چاروں مہینہ۔ وھو اسم جنس والمراد الاشھر الثلاثۃ باجماع من العرب (قرطبی) اراد بالشھر الحرام الاشھر الحرم الاربعۃ الا انہ عبرعنھا بلفظ الواحد (کبیر) عن الحسن انہ قال ھو الاشھر الحرم فاخرجہ مخرج الواحد لانہ اراد الجنس (جصاص) بعض نے صرف ماہ ذی الحجہ ہی مراد لیا ہے۔ ھو ذوالحجۃ لانہ المناسب لقرناۂ (بیضاوی) ای الذی یؤدی فیہ الحج وھو ذوالحجۃ (روح) 307 ۔ (کہ اس کا علم ذاتی بھی اور محیط وکامل بھی ہے، اور اس لئے صرف اسی سے ایسی پیشگوئیوں کا صدور ممکن ہے) کان تعالیٰ فی الازل عالما بجمیع المعلومات من الکلیات والجزئیات (کبیر) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی خانہ کعبہ کا (آیت) ” قیما للناس “۔ ہونا اور اس کی مصلحتیں خصوصا یہ پیش گوئی کہ کائنات انسانی کی عمر کعبہ کے دم کے ساتھ وابستہ ہے۔ اشارۃ الی جعل اللہ ھذہ الامور قیاما (قرطبی) ای ذلک التدبیر اللطیف لاجل ان تتفکروا فیہ (کبیر) (آیت) ” لتعلموا “۔ علم یہاں یقین کے معنی میں ہے (تھانوی)
Ayah 5:98

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

جانے رہو کہ اللہ بہت سخت سزا دینے والا بھی ہے،308 ۔ اور اللہ بڑا مغفرت والا، بڑا رحمت والا بھی ہے،309 ۔

308 ۔ (اس لئے اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو) 309 ۔ (اس لئے اگر خلاف ورزی ہوجائے تو حسب قاعدہ توبہ وتدارک بھی کرلو) امام رازی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے پہلے بھی حق تعالیٰ کی رحمت و ربوبیت ہی کا بیان تھا۔ اور درمیان میں عقاب کا ذکر لاکر آیت کا بھی صفات غفر و رحمت کے ذکر پر ہورہا ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ خلق وایجاد کی ابتدا بھی رحمت ہی سے ہوئی ہے۔ اور خاتمہ بھی رحمت ہی پر ہوگا۔ ھذا تنبیہ علی حقیقۃ وھی ان ابتداء الخلق والایجاد کان لاجل الرحمۃ والظاھر ان الختم لایکون الاعلی الرحمۃ (کبیر)
Ayah 5:99

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

رسول کے ذمہ تو بجز تبلیغ کے اور کچھ نہیں اور اللہ (اس کو بھی) جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور (اس کو بھی) جو کچھ تم چھپاتے ہو،310 ۔

310 ۔ اللہ اور اس کے رسول کی جداگانہ حیثیتوں کی یہ تشریح منش مخاطبین کیلئے بار بار ضروری ہوئی، اور بار بار بتانا پڑا کہ رسول کے ہاتھ میں ہدایت یا تقسیم عذاب وثواب کچھ بھی نہیں، صرف تبلیغ ہے۔ ای لیس لہ الھدایۃ والتوفیق ولا الثواب وانما علیہ البلاغ (قربطی) البلاغ۔ یعنی تبلیغ احکام کی اور پیام کی۔ (آیت) ” ماتبدون “۔ یعنی تمہارے اقوال اور تمہارے اعمال۔ (آیت) ” ما تکتمون “۔ یعنی تمہارے اسرار اور محرکات عمل۔ اللہ کی ان دونوں صفات کو یاد دلا کر گویا یہ بتا دیا کہ اطاعت ظاہری بھی ہونا چاہیے اور اطاعت باطنی بھی۔