4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 4:157

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور بہ سبب ان کے (اس) قول کے کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو مار ڈالا، جو مسیح (علیہ السلام) اور اللہ کے پیغمبر تھے۔396 ۔ حالانکہ نہ وہ آپ کو مار ڈال سکے اور نہ آپ کو سولی ہی پر چڑھا پائے397 ۔ بلکہ ان پر شبہ ڈال دیا گیا،398 ۔ اور یہ لوگ آپ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کررہے ہیں،399 ۔ وہ آپ (علیہ السلام) کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے،400 ۔ ان کے پاس کوئی (صحیح) تو ہے نہیں ہاں بس گمان کی پیروی ہے،401 ۔ اور یقینی بات ہے کہ انہوں نے آپ کو مار نہیں ڈالا،402 ۔

396 ۔ یہ قول کس کا تھا ؟ ظاہر ہے کہ یہود ہی کا تھا، جو اس پر خوش بھی ہوئے تھے، اور اس کا دعوی بھی فخر کے ساتھ کررہے تھے۔ (آیت) ” المسیح۔ رسول اللہ “۔ یہ دونوں الفاظ یہود کے نہیں، وہ انہی دونوں منصبوں یا مسیحیت اور رسالت ہی کے تو منکر تھے، قرآن حمید نے نفس واقعہ کے لحاظ سے ان کا صحیح منصب بیان کردیا۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان عام ہے ھو اخبار من اللہ تعالیٰ بصفۃ عیسیٰ (بحر، عن ابن عطیہ) یجوز ان یضع اللہ الذکر الحسن مکان ذکر ھم القبیح فی الحکایۃ عنھم (کبیر، کشاف) یحتمل ان یکون الستنافامن اللہ تعالیٰ بمدحہ (بیضاوی) یحتمل ان اللہ وصفہ بالرسول وان لم یقولوا ذلک (مدارک) (آیت) ” انا قتلنا “۔ قتل کے اصل معنی روح کو جسم سے جدا کردینے کے ہیں، خواہ کسی طریقہ پر ہو۔ اسی کو اردو محاورہ میں ” ختم کردینا “ یا ” کام تمام کردینا “۔ کہتے ہیں۔ اصل القتل ازالۃ الروح عن الجسد (راغب) قتلہ ای اماتہ بضرب اوحجر اوسم او علۃ (تاج) ھو ازالۃ الروح عن الجسد کالموت (ابو البقاء) اور امام قرطبی نے ایک دوسری آیت (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تقتلوالصید “ کے تحت میں لکھا ہے القتل ھو کل فعل یفیت الروح وھو النواع من النحر والذبح والخنق والرضخ وشبہ۔ یہاں اصطلاح فقہ کا قتل مراد نہیں جس کے معنی محض کسی دھا دار آلہ سے ہلاک کرنے کے ہوتے ہیں۔ تاریخ کا بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سزائے موت اگرچہ رومی عدالت سے ملی، اور وہی ملکی عدالت نفاذ سزا پر قادر تھی، لیکن آپ (علیہ السلام) کو سزا دلوانے میں اور آپ کے لیے سزائے موت کا حکم سنوانے میں ہاتھ تمامتر یہود ہی کا کام کررہا تھا۔ اسی لئے قرآن مجید نے بھی، جو تاریخ کی دقیق حقیقتوں کو بھی نظر انداز نہیں ہونے دیتا بالکل صحیح طور پر آپ کے قتل یا اقدام قتل کی ذمہ داری یہود ہی پر رکھی۔ انجیلیں اتنے جزو پر متفق المعنی (بلکہ ایک حد تک متفق اللفظ بھی) ہیں کہ رومی عدالت کا حاکم پیلا طیس آپ (علیہ السلام) کو سزا دینا ہرگز نہیں چاہتا تھا، بلکہ اس سے برابر بچ رہا تھا، یہ یہود ہی تھے، جنہوں نے استغاثہ جھوٹا گڑھا، گواہیاں جھوٹی فراہم کیں، اور بلوہ و فساد کی دھمکی دے دے کر اسے حکم سنانے پر مجبور کردیا، انجیل متی کا ایک مختصر سابیان ملاحظہ ہو :۔ ” جب پیلاطس نے دیکھا کہ کچھ نہیں بن پڑتا، بلکہ الٹا بلوہ ہوا جاتا ہے، تو پانی لے لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا میں راستباز کے خون سے بری ہوں، تم جانو۔ سب لوگوں نے کہا کہ اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر۔ اس پر اس نے برابا کو ان کی خاطر چھوڑ دیا اور یسوع کو کوڑے لگوا کر حوالہ کیا تاکہ صلیب دی جائے “۔ (27:24، 26) اسی کی تائید دوسری انجیلیں بھی کرتی ہیں، بلکہ لوقا میں تو اتنی تصریح اور زائد ہے کہ حاکم نے ملزم کو سزائے موت سے بچانے کی تین تین بار کوشش کی، لیکن یہود نے ہر دفعہ اس کی بات کو رد کردیا۔ (23:22) یہ بیانات تو مسیحیوں کے تھے۔ خودیہود کی لکھی ہوئی جو قدیم ترین حیات مسیح دنیائے معلوم میں موجود ہے، یعنی جو زیفس کی اور جس کا ترجمہ انگریزی میں Antiquities of Jewish کے نام سے شائع ہوچکا ہے، اس میں اس واقعہ کو ٖخر کے ساتھ اپنی ہی جانب منسوب کیا ہے۔ (حاشیہ صفحہ 46) انجیلوں میں جو پیشگوئیاں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے اپنے قتل ہونے کی بابت منقول ہیں، ان میں بھی ساری ذمہ داری سرداران یہود ہی کے سر ملتی ہے اور رومیوں یا حاکموں کا ذکر نہیں آیا :۔ ” اس وقت سے یسوع اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنے لگا کہ مجھے ضرور ہے کہ یروشلم کو جاؤں اور بزرگوں اور سردار کاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے بہت دکھ اٹھاؤں اور قتل کیا جاؤں۔ “ (متی۔ 16:2 1) ” پھر وہ انہیں تعلیم دینے لگا کہ ضرور ہے کہ ابن آدم بہت دکھ اٹھائے اور بزرگ اور سردار کاہن اور فقیہ اسے رد کریں اور وہ قتل کیا جائے۔ (مرقس 8:3 1) ” ضرور ہے کہ ابن آدم (علیہ السلام) بہت دکھ اٹھائے اور بزرگ اور سردار کاہن اور فقیہ اسے رد کریں اور وہ قتل کیا جائے۔ (لوقا 9 ۔ 22) 397 ۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کا کام تمام کردینا تو الگ رہا یہود تو واقعۃ اتنا بھی نہ کرسکے کہ اس زمانہ میں اس ملک میں جو طریقہ سزائے موت کا تھا اسی تک پہنچ جاتے ! یعنی آپ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھا تک نہ سکے۔ (آیت) ” وما صلبوہ “۔ صلبوا کے اصل معنی محض سولی پر لٹکانے یا چڑھانے کے ہیں، چڑھا کر ختم کردینے کے نہیں۔ ھو تعلیق الانسان للقتل (راغب) اردو میں یہ مفہوم ” سولی دینے “ سے نہیں ” سولی چڑھانے “ ہی سے ادا ہوتا ہے۔ چناچہ شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنے فارسی ترجمہ، اور شاہ عبدالقادر (رح) اور علامہ تھانوی (رح) نے اپنے اپنے اردوترجموں میں بھی یہی مفہوم لیا ہے۔ 398 ۔ یا ” وہ دھوکے میں ڈال دیئے گئے یا ” حقیقت ان پر مشتبہ ہوگئی “۔ یہ شبہ میں کون پڑگئے یا حقیقت کن پر مشتبہ وملتبس ہوگئی ؟ ظاہر ہے کہ مراد وہی یہود یا اعدائے مسیح ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ کانہ قیل وقع علیھم الشبہ (مدارک) التبس علیھم الامر (بیضاوی) یا یوں کہا جائے کہ شبہ انہیں مقتول سے متعلق ہوا، اور وہ دھوکے میں اس کی شخصیت کے بارے میں پڑگئے۔ شبہ لھم المقتول والمصلوب (جلالین) بہرحال اس پر ہمارے سارے مفسرین کا اتفاق ہے، کہ یہود کو دھوکا ہوا، اور وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دھوکے میں کسی اور کو سولی پر چڑھا گئے، لیکن یہ شخص کون تھا، اور دھوکے کی صورت کیا ہوئی، اس کا تصریحی جواب نہ قرآن مجید میں ہے نہ کسی حدیث صحیح میں، اب سوا اس کے چارہ نہیں رہتا کہ تاریخ کی روشنی میں واقعہ کے جزئیات کو ایک ایک کرکے لایا جائے، اس وقت کے پس منظر کو سامنے لایا جائے، اور جو صورت واقعہ نسبۃ قرین قیاس اور مطابق متقضائے حال معلوم ہو، اسی کو ترجیحی طور پر اختیار کیا جائے پہلی بات اس سلسلہ میں یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یروشلم کے لوگوں سے ملتے جلتے کم تھے، نتیجہ یہ تھا کہ عوام تو عوام، خواص بھی آپ (علیہ السلام) کو پوری طرح پہچانتے نہ تھے۔ چناچہ جب آپ (علیہ السلام) کی گرفتاری کا وقت آیا، تو اس کے لیے اکابر یہود اور متعدد سپاہیوں کا ایک پورا گروہ اس ضرورت کے لیے کافی ثابت نہ ہوا، بلکہ آپ (علیہ السلام) کی شناخت کے لیے آپ (علیہ السلام) ہی کی مختصر سی پارٹی کے ایک منافق وغدار کو ساتھ لینا پڑا۔ یہ ایک خالص تاریخی حقیقت ہے لیکن امام المفسرین امام رازی اس راز سے بھی واقف ہیں۔ فرماتے ہیں۔ والناس ماکانوا یعرفوں المسیح الا بالاسم بانہ کان قلیل المخالطۃ للناس (کبیر) متی اور مرقس دونوں انجیلوں میں ہے کہ گرفتاری کرنے والی پارٹی میں سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں کی طرف سے ایک ” بڑی بھیڑ تلواریں اور لاٹھیاں لیے ہوئے “ سپاہیوں کی شامل تھی، اس پر بھی گرفتاری اور شناخت کے لیے انہیں یہوداہ منافق کا سہارا ڈھونڈنا پڑا۔ اور انجیل یوحنا میں ہے کہ جب یہ پلٹن اور پیادے وہاں پہنچے تو ” یسوع نے ان سے پھر پوچھا کہ تم کسے ڈھونڈھتے ہو ؟ وہ بولے یسوع ناصری کو، یسوع نے جواب دیا میں تم سے کہہ تو چکا ہوں کہ میں ہی ہوں “۔ ( 18:3 ۔ 8) ” حضرت مسیح (علیہ السلام) “ کا تعظیمی تخیل تو بہت بعد کی پیداوار ہے۔ معاصر مخالفین ومعاندین کی نظر میں تو آپ (علیہ السلام) کی حیثیت صرف یسوع ناصری نامی ایک بدنام وغیرہ معروف مجرم کی تھی، وہ سامنے موجود تھا، اور پھر بھی کوئی پہچان نہیں رہا تھا، حالانکہ سب آئے تھے اسی کی تلاش میں ! دوسری بات یہ خیال رکھنے کی ہے کہ حضرت (علیہ السلام) کو، یابالفاظ یہود یسوع ناصری کو تبدیل ہئیت میں خاص ملکہ تھا، انجیلوں میں حضرت (علیہ السلام) کی اسی قدرت کو بہ طور معجزہ کے بیان کیا گیا ہے۔ ” چھ دن کے بعد یسوع نے پطرس اور یعقوب اور اس کے بھائی یوحنا کو ہمراہ لیا، اور انہیں ایک اونچے پہاڑ پر الگ لے گیا۔ اور ان کے سامنے اس کی صورت بدل گئی، اور اس کا چہرہ سورج کی مانند چمکا “۔ (متی۔ 17: 1، 2) ” جب وہ دعا مانگ رہا تھا تو ایسا ہوا کہ اس کے چہرہ کی صورت بدل گئی، اور اس کی پوشاک سفید براق ہوگئی “۔ (لوقا 9:29) نیز مرقس 9:2) ۔ یہ معجزہ تھا یا نہ تھا، یہ ایک الگ بحث ہے۔ بہرحال آپ (علیہ السلام) کو نفس قدرت اس پر حاصل تھی، تیسرے، اس تاریخی حقیقت کا استحضار ذہن میں کرلیاجائے، کہ ملک (شام و فلسطین) کی آبادی اس وقت اسرائیلیوں (یہود) کی تھی اور اسی برادری کے ایک فرد آپ (علیہ السلام) بھی تھے۔ لیکن ملک پر حکومت رومیوں کی تھی، اور اعلی عہدہ دار اور پولیس اور فوج رومیوں پر مشتمل تھی، اور یہ رومی نہ صرف مشرک یعنی دین و عقیدہ میں اسرائیلیوں سے مختلف تھے، بلکہ صورت شکل، وضع و لباس، زبان ومعاشرت وغیرہ میں بھی ان سے ایسے ہی الگ تھے جیسے آج انگریز ہندوستانیوں سے مختلف وممتاز ہیں۔ اور جس طرح آج ہندوستانیوں کو سب فوجی گورے یکسان اور گوروں کو سارے ” کالے “ ایک سے معلوم ہوتے ہیں، بدیسی رومی سپاہیوں اور فوجیوں کی نظر میں سب یہود یہود، اور اسرائیلی اسرائیلی بھی ایک ہی تھے، چوتھی کڑی اس سلسلہ کی یہ ملائیے، کہ جس مقام پر رومی عدالت تھی، وہاں سے سرکاری سولی گھر فاصلہ پر تھا، اور سولی یا صلیب جس کی شکل انگریزی چھاپہ کے بڑے حرف (ٹی) T کے مشابہ یاریلوے سگنل سے ملتی جلتی ہوتی تھی، وہ سولی گھر میں پوری گڑی ہوئی نہیں ہوتی تھی، صرف اس کا سیدھا اور کھڑا ستون زمین میں گڑا ہوارہتا تھا، باقی جو لکڑی اس کے اوپر آڑی آڑی پڑتی تھی، اس کے لیے قاعدہ یہ تھا کہ وہ مجرم کو عدالت سے اپنے اوپر لاد کر سولی گھرتک لانی پڑتی تھی، یہاں تک جو کچھ عرض ہوا، اس پر ایک نظر دوبارہ کرکے امور ذیل کو بھی نظر کے سامنے لے آئیے ‘۔ ( 1) حکم جب سنایا گیا ہے، جمعہ کا دن تھا، اور دن آخر ہورہا تھا، اور یہود کو جلدی کتھی کہ ہر طرح فراغت پاکر شاموں شام گھر واپس آجائیں۔ جمعہ کی شام ہی سے ان کا یوم السبت شروع ہوجاتا تھا، اور یوم السبت کے حدود کے اندر مجرم کی سزادہی وغیرہ بھی ممنوع تھی، اور پھر یہود کا اہم تہوار، عید فسخ (Passover) بھی شروع ہورہی تھی، غرض یہود کو اس کی بہت ہی عجلت تھی کہ کسی طرح ان کا یہ مجرم جلد سے جلد سولی پاکر شام سے قبل ہی دفن ہوجائے۔ ( 1) لاغروناتوان مجرم (یعنی خود حضرت مسیح علیہ السلام) کے لیے ممکن نہ تھا کہ اتنی وزنی لکڑی لاد کر اتنا فاصلہ یہود کی خاطر خواہ تیزی سے طے کرسکیں۔ خصوصا جب کہ یہودی بچے اور شریر قسم کے یہود خود ہی قدم قدم پر انہیں چھیڑتے جاتے، اور ان کا راستہ کھوٹا کرتے جاتے۔ اب اس ساری صورت حال کو اس تفصیل کے ساتھ پیش نظر رکھ کر فرمائیے کہ رومی سپاہی، جو مجرم، بلکہ مجرموں کو (آپ کے ساتھ سولی کے لیے دو مجرم اور بھی تھے) حراست میں لیے ہوئے تھے۔ اور یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ وہ رعایا میں سے نہیں، بلکہ حاکم قوم کے افراد تھے، ایسے موقع پر کیا کرتے ؟ خود تو اپنے اوپر وہ سولی والی لکڑی کا بوجھ لادنے سے رہے۔ انہوں نے وہی کیا جو ان کی جگہ پر کوئی بھی ان جیسا انسان کرتا، انہوں نے مجمع ہی میں سے کسی بدتمیز یہودی کو پکڑلیا، اور صلیب کی لکڑی اسی پر لاد دی ! انگریز گارد ایسے موقع پر، یعنی کسی ہندوستانی مجرم حراست میں لیے جاتا ہوتا تو کیا کرتا ؟ یہی کرتا کہ بھیڑ میں کسی ہندوستانی ہی کو پکڑ لیتا اور اس پر لاد دیتا۔ یہ محض قیاس وقرینہ نہیں، انجیلوں میں اتنے جزو کی تصریح موجود ہے :۔ انہیں شمعون نام ایک کرینی آدمی ملا۔ اسے بیگار پکڑا کہ اس کی صلیب اٹھائے “۔ (متی۔ 27:32) ” اور شمعون نام ایک کرینی آدمی اسکندر اور روقس کا باپ دہات سے آتے ہوئے ادھر سے گزرا۔ انہوں نے اسے بیگار میں پکڑا کہ اس کی صلیب اٹھائے “۔ (مرقس۔ 15:2 1) ” اور جب اس کو لیے جاتے تھے، تو انہوں نے شمعون نام ایک کرینی کو جو دیہات سے آتا تھا، پکڑکے صیلب اسی پر رکھ دی کہ یسوع کے پیچھے پیچھے چلے “ (لوقا 23:26) جب یہ مجمع (جو یقیناً کوئی باقاعدہ ومنظم مجمع نہیں، بلکہ عوام کی ایک بھیڑ تھا) اس افراتفری کے ساتھ ایک دوسرے کو ریلتا پیلتا، مجرم سے چھیڑچھاڑ کرتا، اس سے تمسخر کرتا ہوا، سولی گھر کے پھاٹک پر پہنچا، تو رومی پویس گارڈ جو ساتھ تھا، اب اس کی ڈیوٹی ختم ہوگئی، اب یہاں سے جیل کے سنتریوں کا عمل ودخل شروع ہوتا ہے۔ وہ کیا جانیں، کہ یسوع ناصری کس کا نام ہے، وہ اپنے حسب دستور مجرم اسی کو سمجھے جس کے اوپر صلیب لدی ہوئی تھی،۔۔ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو مستحضر کرلیجے کہ جیل کے رومی سپاہیوں کے لئے سب یہودی اجنبی ہی تھے اور اس لیے باہمد گرہم شکل اور یکساں، انہیں ایک اسرائیلی (یسوع ناصری) اور دوسرے اسرائیلی (شمعون کرینی) کے درمیان اشتباہ نہایت آسان تھا، انہیں دونوں کے درمیان کوئی نمایاں فرق ہی نہیں نظر آسکتا تھا، شمعون نے یقیناً واویلا مچایا ہوگا، لیکن ادھر مجمع کا شور وہنگامہ ادھر جیل کے سپاہیوں کی اسرائیلیوں کی زبان سے ناواقفیت، اور پھر سولی پر لٹکا دینے کی جلدی، اسی افراتفری کے عالم میں اسی شمعون کو پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا گیا، اور وہ چیختا چلاتا رہا، حضرت مسیح (علیہ السلام) قدرۃ اس ہڑبونگ میں دشمنوں کے ہاتھ سے رہا ہوگئے اور دشمن دھوکے میں پڑے ہوئے ٹامک ٹوئیے مارتے رہ گئے ! (آیت) ” ولکن شبہ لھم “۔ یہ عقیدہ نو ایجاد نہیں، خود مسیحیوں ہی کا ایک قدیم ترین فرقہ باسلید یہ (Basilidian) کے نام سے گزرا ہے (بانی فرقہ کا سال وفات ( 140 ء۔ ) وہ اسی عقیدہ کا قائل تھا۔ اور کھلم کھلا کہتا کہ مصلوب حضرت مسیح (علیہ السلام) نہیں ہوئے۔ بلکہ شمعون کروینی ہوا ہے۔ قرآن مجید نے اسی عقیدہ کی تصویب کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ لیکن پولوس (متوفی 65 ء۔ ) کے اثر سے جو مسیحیت چلی اور پھیلی، اس کی تو بنیاد ہی عقیدۂ کفارہ پر ہے۔ یعنی اس عقیدہ پر کہ ابن اللہ نے یا خود خدائے مجسم ہوکر، اور صلیب پر جانکنی کی تکلیف اٹھا کر اور اپنی جان دے کر سب کی طرف سے مخلوق کے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا۔ اس لیے یہ رواجی مسیحیت تو بغیر مصلوبیت مسیح (علیہ السلام) کو مانے اور فرض کیے ہوئے ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتی۔ اس لیے لامحالہ اس پولوسی اور کلیسائی مسیحیت نے کل قدیم صحیح العقیدہ مسیحی فرقوں کو ” بدعتی “ اور ” مبتدع “ قرار دے کر کلیسا سے خارج کردیا، اور خود ہی کہنے لگے جو دشمنان عیسیٰ (علیہ السلام) یعنی یہود پہلے ہی سے کہہ رہے تھے، یعنی یہی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) صلیب پر وفات پاگئے ! گوظاہر ہے کہ اس اشتراک عقیدہ میں نیتیں دونوں کی بالکل الگ الگ ہیں، یہود وفات عیسیٰ (علیہ السلام) کو موقع تحقیر و اہانت میں بیان کرتے ہیں، اور مسیحی بعینہ اسی واقعہ سے آپ (علیہ السلام) کی عظمت پر دلیل لاتے ہیں، لیکن نفس عقیدہ بہرحال دونوں میں مشترک ہے۔ اور بڑے تاسف اور قلق کا مقام ہے کہ آج بیسویں صدی عیسوی میں بعض ” مسلمان “ فرقے بھی اسی گمراہی کی طرف واپس جارہے ہیں۔ اور طرفہ یہ ہے کہ وفات مسیح (علیہ السلام) کے اس باطل اور خلاف تحقیق عقیدہ کو ” روشن خیالی “ کا تمغہ اور تحقیق کا پروانہ سمجھ رہے ہیں ! 399 ۔ (آپس میں، کہ کوئی آپ کو مرتبہ الوہیت پر پہنچائے دیتا ہے اور کوئی مرتبہ عبدیت کا ملہ سے بھی نیچے اتارے لاتا ہے) (آیت) ” فیہ “ میں ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جانب ہے ای فی شان عیسیٰ (علیہ السلام) (روح) ای فی عیسیٰ (علیہ السلام) (مدارک) ای فی عیسیٰ (علیہ السلام) (جلالین) (آیت) ” الذین اختلفوا فیہ “۔ سے مراد یہود ونصاری نعوذ باللہ آپ (علیہ السلام) کی خدائی کا کلمہ پڑھ رہا ہے۔ المراد من الموصول مایعم الیہود والنصاری جمیعا (روح) قیل الضمیر عائد علی الیھود والنصاری (بحر) 400 ۔ (آیت) ” شک “ کی بہترین تفسیر مفسرتھانوی (رح) نے کی ہے، یعنی قول بلادلیل، یعنی نظریہ پر نظریہ قائم کرتے چلے جاتے ہیں اور کوئی بات بنائے نہیں بنتی۔ مسیحی مسیحیوں سے دست و گریبان ہیں اور یہود یہودیوں سے، اندر ہی اندر خدا معلوم کتنے فرقے ہوگئے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ 401 ۔ (اور گمان یا اٹکل حقیقت رسی میں کہاں تک کافی ہوسکتی ہے ! ) مسیحیوں نے تو غضب ہی کر رکھا ہے، اپنے سارے مذہب یعنی الوہیت مسیح، وفات مسیح، احیاء مسیح (علیہ السلام) کی بنیاد تمامتر ظن ووہم پر رکھی ہے۔ (آیت) ” لہم “ میں ضمیر (آیت) ” ان الذین اختلفوا “ کی طرف ہے، یعنی وہ لوگ جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے باب میں جھگڑ رہے ہیں۔ یہود نصاری اور ان کے اندرونی فرقے (آیت) ” من علم “۔ علم سے مراد علم صحیح، علم ثابت بالدلائل ہے۔ اور من زائد ہے۔ من زائدۃ (قرطبی) چون نہ دیدند حقیقت رہ افسانہ زدند : یہود اور مسیحی دونوں قوموں کی روایتوں اور مکاتبوں کی بالکل صحیح تصویر قرآن مجید نے ان مختصر وجامع الفاظ میں کھینچ دی ہے۔ لکن یتبعون فیہ الظن الذی تخیلوہ (جلالین) ظن یہاں مقابل علم کے ہے۔ یعنی ایسا قول جو بالکل بلادلیل ہو اور جس کا مبنی نہ کوئی نص ہو نہ اس سے کوئی استنباط۔۔۔ یعنی کج فہموں نے آیتوں کے الفاظ سے نفی قیاس پر جو دلیل قائم کرنا چاہی ہے وہ بےاصل ہے قیاس فقہی تو خود ایک دلیل شرعی ہے استباط واستخراج کے مرادف۔ 402 ۔ (آیت) ” وما قتلوہ یقیناً “۔ میں ” یقیناً “۔ نفی قتل کی تاکید کے لیے ہے۔ کذلک ما قتلوہ حقا (کشاف) ماقتلوہ حقا فیجعل یقیناً تاکیدا لقولہ وما قتلوہ (مدارک) ای حق انتفاہ قتلہ حقا (مدارک) حال موکدۃ لنفی القتل (جلالین) عقیدۂ وفات مسیح (علیہ السلام) یا قتل مسیح (علیہ السلام) چونکہ بہت بڑی غلط فہمی یا گمراہی کا باعث ہے اور دنیا کی دو بڑی قومیں یہود اور مسیحی اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے قرآں مجید کو اسکی تردید کی ضرورت بھی بہت وضاحت اور تاکید کے ساتھ پیش آئی۔
Ayah 4:158

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ آپ (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا،403 ۔ اور اللہ بڑا قوت والا ہے، بڑا حکمت والا ہے،404 ۔

403 ۔ (آیت) ” الیہ “۔ اپنی طرف یا اپنے آسمان کی طرف، قرآن مجید میں اس طرح کے حذف مضاف کی مثالیں بہ کثرت ملتی ہیں۔ اور جس طرح ” اللہ نے اپنی طرف بلالیا ہے مراد “۔ آخرت کی طرف بلالینا سمجھی جاتی ہے، اسی طرح عربی اور اردو دونوں محاروہ میں اللہ کی طرف اٹھالینے سے مراد آسمان کی طرف اٹھالینے سے ہے۔ یحتمل رفعہ الی السماء (راغب) ای الی السماء واللہ تعالیٰ متعال عن مکان (قرطبی) الی السماء (مدارک) الی سمائی (بحر) (آیت) ” رفعہ “۔ رفع کے اصلی معنی رفع جسمانی یا رفع مادی ہی کے ہیں۔ الرفع یقال فی الاجسام الموضوعۃ اذا اعلی تھا عن مقرھا (راغب) مجازی معنی، یعنی رفع مراتب کے بھی جائز ہیں۔ ای رفعہ من حیث التشریف (راغب) لیکن حقیقت کو چھوڑ کر مجاز اختیار کرنے کی کوئی وجہ قوی موجود ہونی چاہیے، اور وہ یہاں موجود نہیں، بعض نادان اور نوخیز فرقوں کا یہ استدلال کہ چونکہ رفع کی نسبت اللہ تعالیٰ کی جانب ہے، اس لیے رفع جسمانی تو مراد ہو ہی نہیں سکتا، اور اس لیے لامحالہ رفع مجازی یعنی قرب ومنزلت ہی مراد ہوگی، قرآن فہمی سے بعد پر مبنی ہے۔ آخر قرآن مجید ہی میں اس طرح کی آیات موجود ہیں یا نہیں :۔ (آیت) ” ومن یخرج من بیتہ مھاجر الی اللہ “ یہاں مہاجرت الی اللہ سے کسی نے مہاجرت الی دار الاسلام یا مہاجرت الی المدینہ نہیں لی ہے ؟ یا پھر (آیت) ” قال انی ذاھب الی ربی “۔ یہاں کون نہیں سمجھتا کہ ذہاب الی رب سے مراد ذہاب الی الشام مراد ہے ؟ وقس علی ھذا “۔ امام رازی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ تعظیم وتشریف کے جس سیاق میں یہاں ذکر رفع الی اللہ کا ہے، وہ خود اس امر کی دلیل ہے کہ یہ رفع کوئی امتیازی اور مخصوص چیز ہے، متقین وصالحین کے عام دخول جنت اور وہاں کی لذات جسمانی وحسی سے الگ۔ رفعہ الیہ اعظم فی باب الثواب من الجنۃ ومن کل ما فیھا من اللذات الجسمانیۃ (کبیر) رفع جسمانی کا عقیدہ لازمہ ایمان اور شرط اسلام ہو یا نہ ہو، بہرحال ظاہر قرآن سے قریب تر ضرور ہے۔ 404 ۔ صف عزیز لا کر یہ یاد دلا دیا کہ وہ اپنے نبی (علیہ السلام) کو بچا لینے پر بھی قادر، اسے اٹھا لینے پر بھی قادر، رفع جسمانی ورفع روحانی دونوں پر قادر۔ صفت حکیم لاکر ادھر اشارہ کردیا کہ اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے دشمنوں کے ساتھ جو معاملہ کیا وہی عین مقتضائے حکمت تھا۔
Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور ہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو آپ (علیہ السلام) پر اپنے مرتے وقت ایمان نہ لے آئے،405 ۔ اور آپ (علیہ السلام) قیامت کے دن ان پر گواہ (کی حیثیت سے پیش) ہوں گے،406 ۔

405 ۔ (جب عالم برزخ کا مشاہدہ شروع ہوجاتا ہے، اور اس لیے وہ ایمان نافع نہیں ہوتا) (آیت) ” قبل موتہ “۔ میں ضمیر کتابی کی طرف ہے اور مراد ہے موت کے وقت۔ یومن بعیسی اذا عاین الملک ولکنہ ایمان لا ینفع لانہ ایمان عند الیاس وحین التلبس بحالۃ الموت (قرطبی) لا یموت یھودی حتی یؤمن بعیسی (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ کل صاحب کتاب یؤمن بعیسی قبل موتہ (ابن جریر، عن مجاہد) ھذا قول اکثر المفسرین واھل العلم (معالم) یعنی اذا عاین قبل انتزھق روحہ حین لاینفعہ ایماننہ لا نقطاع وقت التکلیف (کشاف) حیث یعاین ملئکۃ الموت فلاینفعہ ایماننہ (جلالین) (آیت) ” قبل “۔ کا اطلاق عربی میں جس طرح تقدم منفصل پر ہوتا ہے، تقدم متصل پر بھی ہوتا ہے۔ یستعمل فی تقدم المتصل والمنفصل (راغب) اور یہاں تقدم متصل ہی مراد ہے، یعنی مرتے وقت (آیت) ” بہ “ میں ضمیر بالاتفاق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جانب ہے (آیت) ” لیؤمنن بہ یعنی آپ کا جو صحیح مرتبہ عند اللہ ہے، اسے وہ جان کر، اور اس کا اعتراف واقرار کرکے رہیں گے، (آیت) ” اھل الکتب “ لفظ عام ہے۔ لیکن محاروہ قرآنی میں اکثر اس سے مراد یہود ہی ہوتے ہیں۔ اور یہاں بھی عبارت کا سیاق وسباق انہی کی جانب مشیر ہے۔ ای من الیھود (بحر) لا یموت یھودی حتی یؤمن بعیسی (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ ای الیھود خاصۃ کما اخرج ابن جریر عن ابن عباس ؓ (روح) اور اگر وہی عام ہی معنی لئے جائیں اور یہود وانصاری دونوں مراد سمجھے جائیں، جب بھی معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا، یعنی الیھود والنصاری کما ذھب الیہ کثیر من المفسرین (روح) مراد یہ ہوگی کہ مسیحیوں، یعنی مقام عیسیٰ (علیہ السلام) میں افراط کرنے والوں اور یہود یعنی منصب عیسیٰ (علیہ السلام) میں تفریط کرنے والوں، دونوں پر موت کے وقت صحیح مقام عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکشاف کردیا جائے گا۔ 406 ۔ یعنی یہ بتلائیں گے کہ فلاں فلاں نے میری تصدیق کی تھی، اور فلاں فلاں نے تکذیب۔ یعنی شاھدا علیھم بتکذیب من کذبہ منھم وتصدیق من صدقہ منھم (ابن جریر) (آیت) ” شھید “۔ کے معنی حکم لگانے والے کے بھی ہوتے ہیں۔ وقد یعتبر بالشھادۃ عن الحکم (راغب)
Ayah 4:160

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

سو یہود کی (ایسی ہی) زیادتیوں کے باعث ہم نے ان پر بہت سی چیزیں جو ان پر حلال تھیں حرام کردیں،407 ۔ اور اس سبب سے بھی کہ وہ اللہ کی راہ سے بہت روکتے تھے،408 ۔

407 ۔ جس طرح افراد کے نفس سرکش کی اصلاح کی ایک صورت یہ ہے کہ بعض مباحات سے بھی اسے روک دیا جائے، اسی طرح جب قوم کا مزاج اعتدال سے منحرف ہوجاتا ہے تو اس کے لیے بھی مناسب صورت یہی ہوتی ہے کہ جن جائز چیزوں کی وہ عادی تھی، ان سے اسے محروم کردیا جائے ” بظلم “ میں با سببیہ ہے۔ اس سے یہ صاف نکل آیا کہ امت اسرائیلی پر بعد کو جو کچھ بھی سختیاں ہوئیں، خود انہی کی زیادتیوں کی بدولت ہوئیں، بلاوجہ نہیں ہوئیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ معاصی کے سبب سالک سے واردات کا قبض اسی کے مشابہ ہے۔ 408 ۔ یہود کی قومی فرد جرم کی یہ دوسری دفعہ ہے۔ یعنی خود اپنی جانوں پر تو وہ ظلم کر ہی رہے تھے، ان کی گمراہی متعدی بھی تھی۔ دوسروں کو بھی بھٹکا رہے تھے، (آیت) ” کثیرا “ کثیر کے ایک معنی تو یہی ہیں کہ وہ بہت لوگوں کو راہ حق سے روک دیتے تھے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کی روک یا گمراہ کرنے کی خصلت بہت زائد تھی، تیسرے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ مدت طویل تک روک تھام کرتے رہے۔ غرض کثرت کا تعلق کمیت وکیفیت اور زمانہ تینوں سے ہوسکتا ہے۔ ای جمعا عظیما من الناس اوضدا کثیرا وقدرۃ بعضھم زمانا کثیرا۔ (بحر)
Ayah 4:161

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور (اس سبب سے بھی کہ) وہ سود لیتے تھے، حالانکہ انہیں اس کی ممانعت کردی گئی تھی،409 ۔ اور (اس سبب سے بھی کہ) وہ دوسروں کا مال ناحق کھالیتے تھے،410 ۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لیے ہم نے عذاب درد ناک تیار کر رکھا ہے،411 ۔

409 ۔ (ان کے پیغمبروں کے ذریعہ سے انہی کی کتابوں میں) توریت میں ممانعت سود کے اس طرح کے احکام آج تک لکھے چلے آرہے ہیں۔ ” اگر تو میرے لوگوں میں سے جس کسی کو جو تیرے آگے محتاج ہے کچھ قرض دیوے تو اس سے بیاجیوں کی طرح سلوک مت کر، اور سود مت لے “۔ (خروج۔ 22:25) ” تو اس سے سود اور نفع مت لے۔ اپنے خدا سے ڈرتا کہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگانی بسر کرے، تو اسے سود پر روپیہ قرض مت دے، نہ اسے نفع کے لیے کھانا کھلا۔ “ (احبار۔ 35:36 ۔ 37) یہ اور بات ہے کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ سود خور رقوم یہی یہود ہو۔ اور ان کے شایلاک دنیا کے ادبیات میں ضرب المثل بن گئے ہوں۔ 410 ۔ یعنی ان کی شریعت میں سود، رشوت، خیانت وغیرہ آمدنی کے جن ذریعوں کو حرام کردیا گیا تھا، انہی کو اختیار کر کرکے جن نعمتوں سے یہود محروم کردیئے گئے تھے، وہ جتنی اور جو کچھ بھی ہوں، بہرحال ان سے محرومی کے اسباب یہاں کھول کر بیان کردیئے گئے ہیں : ( 1) ایک ان کی ذاتی زبردستیاں، زیادتیاں گنہگاریاں۔ (آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا) (2) دوسرے ان کی متعدی گمراہیاں (آیت) ”(بصدھم عن سبیل اللہ کثیرا “ ) ۔ (3) تیسرے ان کی سود خوری، وہ بھی ممانعت کے بعد (آیت) (” اخذھم الربوا وقد نھوا عنہ “ ) (4) چوتھے (ناجائز آمدنیوں سے ان کا تامل نہ کرنا (آیت) ” اکلھم اموال الناس بالباطل “۔ 411 ۔ (آخرت میں) اور دنیوی سزاؤں میں خود یہ نعمتوں سے محروم ہوجانا کیا کچھ کم ہے ؟ آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی سزائیں تو عمومی واجتماعی رنگ میں ملتی ہیں، چناچہ فلاں فلاں نعمتوں سے ساری قوم محروم کردی گئی، لیکن آخرت میں سزائیں تمامتر انفرادی اور شخصی حیثیت سے ملتی ہیں، ہر ہر فرد اپنے اپنے اعمال کو بھگتے گا، جہنم کا عذاب الیم صرف انہی افراد کو ہوگا جو کافر ہوں گے۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

البتہ ان میں جو لوگ علم میں پختہ اور ایمان والے ہیں کہ ایمان رکھتے ہیں اس (کتاب) پر جو آپ پر اتری ہے اور اس پر (بھی) جو آپ سے قبل اتر چکی ہے اور نماز کے پابند اور زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں ایسوں کو ہم اجر عظیم ضرور دیں گے،412 ۔

412 ۔ (آخرت میں) آیت میں ایمان کے بھی اہم ترین اجزاء (اللہ پر ایمان، آخرت پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان) آگئے اور عبادات کے بھی اہم ترین عنوانات، یعنی اقامت صلوۃ وادائے زکوٰۃ۔ (آیت) ”’ الرسخون فی العلم “۔ علم سے مراد علم دین ہے۔ (آیت) ” ال مومن ون “۔ یعنی جو ایمان لے آنے والے۔ (آیت) ” سنؤتیھم “۔ س یہاں تیقن کے لیے ہے۔ والسین لتوکید الوعد (روح)
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

یقیناً ہم نے آپ پر وحی بھیجی ہے جیسی کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے نبیوں کی طرف وحی بھیجی تھی اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) پر وحی بھیجی تھی،413 ۔ اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو ایک صحیفہ دیا تھا،414 ۔

413 ۔ یہ جتنے نام یہاں آئے ہیں ان سب پر حاشیے پہلے گزر چکے۔ خطاب کا رخ زیادہ تریہود ہی کی جانب ہے۔ انہی کو بتایا اور سمجھایا ہے کہ سلسلہ وحی کو تو آخر تم مانتے ہو، اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء کی نبوت کو بھی تسلیم کرتے ہو، پھر ایک نئے نبی کی شناخت ومعرفت میں تمہیں اتنی دشواری کیوں پیش آرہی ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وغیرہ ایسے انبیاء کے ساتھ جن کی نبوت یہود کو مسلم تھی، چند ایسے پیغمبروں کے نام بھی لے دیئے گئے ہیں، جن کی نبوت کے یہود منکر (مثلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام) یا تقریبا منکر تھے (مثلا حضرت سلیمان علیہ السلام) 414 ۔ (آیت) ” زبورا “۔ زبور یہاں لفظی معنی میں ہے اور لفظی معنی اس کے ہر لکھی ہوئی چیز کے ہیں۔ الزبیر الکتابۃ، زبر الکتاب کتبہ (لسان) اور الزبور کے بھی معنی لکھی ہوئی کتاب کے ہیں، الزبور الکتاب الزبور (لسان) الزبور الکتب المسطور (تاج) زبور کے نام سے اس وقت جو کتاب حضرت داؤد (علیہ السلام) کی جانب منسوب موجود ہے، وہ عہد عتیق کے مجموعہ صحائف میں سے ایک صحیفہ ہے۔ اس مجموعہ کے نمبر 19 پر ہے۔ اس میں احکام ومسائل شریعت درج نہیں، بلکہ صرف حمد، مناجات، دعائیں وغیرہ ہیں۔ اور جابجا آخری نبی ﷺ کی بابت پیشگوئیاں بھی، پیشگوئیوں کے ڈھکے ہوئے انداز میں موجود ہیں۔
Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور (دوسرے) پیغمبروں پر کہ ان کا حال ہم پیشتر آپ سے بیان کرچکے ہیں (ہم نے وحی بھیجی تھی) اور ایسے پیغمبروں پر (بھی) کہ ان کا حال ہم آپ سے بیان نہیں کیا،415 ۔ اور اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے (خاص طور پر) کلام فرمایا،416 ۔

415 ۔ (اب تک) پھر بعض پیغمبر ایسے ہیں جن کا ذکر اس آیت کے نزول کے بعد قرآن مجید میں آگیا۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں سرے سے آیا ہی نہیں۔ والاکثرون غیر مذکورین علی سبیل التفصیل (کبیر) متکلمین نے یہیں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ ہر ہر نبی پر تفصیل کے ساتھ ایمان لانا ضروری نہیں۔ البتہ سب نبیوں کی اجمالا تصدیق ضروری ہے۔ والایۃ تدل علی ان معرفۃ الرسل باعیانھم لیست بشرط لصحۃ الایمان بل من شرطہ ان یومن بھم جمیعا اذلوکان معرفۃ کل واحد منھم شرط لقص علینا کل ذلک (مدارک) (آیت) ” من قبل “۔ یعنی اس آیت کے نزول سے پیشتر۔ 416 ۔ (آیت) ” تکلیما “ فعل کے بعد اسی مصدر کو اور پھر تنوین کے ساتھ لانے کے معنی یہ ہیں کہ کلام کی کوئی بہت ہی مخصوص نوعیت مراد ہے۔ ورنہ کلام ومخاطبہ انبیاء میں بھی ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ ، ظاہر ہے کہ عام عقول کے لیے تو ناقابل فہم ہی ہوگا۔ مصدر معناہ التاکید (قرطبی) ھو الکلام الحقیقی الذی یکون بہ المتکلم متکلما (قرطبی) والمعنی ان التکلیم بغیر واسطۃ منتھی مراتب الوحی واعلاھا (روح) اشارۃ الی ان المصدر وتنوینہ للتنویع لانہ نوع عجیب لایدرک کنہہ (تھانوی)
Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

اور پیغمبروں کو (ہم نے بھیجا) خوشخبری سنانے والے اور ڈارنے والے (بناکر) تاکہ لوگوں کو پیغمبروں کے (آنے کے) بعد اللہ کے سامنے عذر نہ باقی رہ جائے،417 ۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا زبردست، بڑا حکمت والا،418 ۔

417 ۔ یعنی پیغمبروں کے آجانے کے بعد اب کسی کو قیامت میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع باقی نہیں رہا، کہ ہماری عقل مسائل وحقائق کے سمجھنے سے قاصر رہی، متکلمین نے یہیں سے یہ اخذ کیا ہے کہ بندوں پر حجت الہی ارسال رسل کے بعد ہی قائم ہوئی ہے نہ کہ مجرد عقل کی بنا پر۔ یدل علی ان قبل البعثۃ یکون للناس حجۃ فی ترک الطاعات والعبادات کبیر) احتج اصحابنا بھذہ الایۃ علی وجوب معرفۃ اللہ تعالیٰ لایثبت الا بالسمع (کبیر) فی ھذا کلہ دلیل واضح انہ لایجب شیء من ناحیۃ العقل (قرطبی) فیہ تنبیہ علی ان بعثۃ الانبیاء الی الناس ضرورۃ بقصور الکل عن ادراک جزئیات المصالح والا کثر عن ادراک کل یا تھا (بیضاوی) 418 ۔ صفت عزیز لاکر یاد دلادیا کہ وہ مالک حقیقی ہے، فاعل مختار، پیغمبروں کے بھیجے ہوئے بغیر بھی ہر عذر کو قطع کرسکتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ حکیم بھی تو ہے اس صفت کو لاکر یہ بتادیا کہ اس کی حکمت کاملہ مقتضی اس کی ہوئی کی وہ ظاہری عذر بھی نہ باقی رہنے دے ،
Ayah 4:166

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن،419 ۔ (اس کے ساتھ) اللہ گواہی دے رہا ہے اس (کتاب) کے ذریعہ سے جو اس نے آپ پر نازل کی (اور) اسے اس سے اپنے (کمال) علم سے نازل کیا ہے۔ ،420 ۔ اور فرشتے (بھی) گواہی دے رہے ہیں اور اللہ کی گواہی کافی ہے،421 ۔

419 ۔ (آیت) ” لکن “۔ کلمہ استدراک ہے، اور استدراک قول ماسبق پر ہوتا ہے، یہاں مراد ہے کہ اگر یہ لوگ خصوصا یہود اب بھی اور اس کے باوجود بھی نبوت محمد ﷺ کو نہ مانیں تو روایتوں میں آتا بھی ہے کہ یہود نے پچھلی آیات (آیت) ” انا اوحینا الیک، الخ “۔ کو سن کر کہا تھا کہ ہم تو ان کی رسالت کو گواہی نہیں دیتے۔ مما قال انا اوحینا الیک قال القوم لا نشھد لک بذلک فتزل لکن اللہ یشھد (کبیر) فی الکلام حذف دل علیہ الکلام کان الکفار قالوا ما تشھد لک یا محمد فی ما تقول فمن یشھدلک (قرطبی) 420 ۔ (اور اسی کمال علمی ہی نے تو قرآن کو معجزہ بنادیا ہے) (آیت) ” اللہ یشھد بما انزل الیک “۔ یعنی اللہ کی شہادت اسی قرآن کے ذریعہ سے ظاہر ہورہی ہے۔ (آیت) ” انزلہ بعلمہ “۔ اس میں قرآن کے لیے صفت کمال کا اثبات ہے۔ والمراد من قولہ وصف القران بغایۃ الحسن ونھایۃ الکمال (کبیر) معتزلہ نے جو صفات باری سے انکار کیا ہے اس کا رد بھی متکلمین اہل سنت نے یہیں نکالا ہے، فیہ نفی قول المعتزلۃ فی انکار الصفات فانہ اثبت لنفسہ العلم (مدارک) دلت علی انہ تعالیٰ عالم بعلم (قرطبی) 421 ۔ یعنی حقیقت نفس الامر کے اعتبار سے اللہ کی شہادت ہر دوسری شہادت سے بےنیاز ہے۔ (آیت) ” والمآئکۃ یشھدون “۔ اللہ کی گواہی تو قرآن کے ذریعہ سے ظاہر ہی ہے، لیکن فرشتوں کی گواہی سے کیا مراد ہے ؟ عام مفسرین نے یہ پہلو اختیار کیا ہے کہ فرشتے جو ان منکرین سے کہیں افضل و اشرف ہیں، جب وہ رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر گواہ ہیں، تو ان منکرین کی ہستی اور حقیقت کیا ہے۔ لیکن ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سارا تکوینی کاروبار فرشتوں ہی کے ذریعہ سے انجام پاتا ہے تو گویا کائنات کی فعلی شہادت جو درحقیقت فرشتوں ہی کی شہادت ہے، خود تمامتر رسول اسلام اوردین رسول اللہ ﷺ کی تصدیق وتائید میں ہے (آیت) ” باللہ “ میں ب زائد ہے۔ والباء زائدۃ (قرطبی)
Ayahs 4:167–168

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے (دوسروں کو) روکا، وہ بڑی ہی دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں ،

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا، اور ظلم کیا،422 ۔ اللہ ایسا نہیں کہ انہیں بخش دے اور نہ یہ ہے کہ انہیں کوئی راستہ دکھائے ،

422 ۔ اس ظلم سے مراد دونوں قسم کے ظلم ہوسکتے ہیں، ایک ظلم تو خود اپنے نفس اور جان پر، کفر و انکار کر کرکے۔ دوسرا ظلم یہ ہے کہ دوسروں کو اسلام و ایمان کے راستہ سے ظلم یا مکر سے روکا جائے،
Ayah 4:169

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

بجر راہ جہنم کے،423 ۔ اس میں وہ پڑے رہیں گے (ہمیشہ ہمیش کو) اور اللہ کے نزدیک یہ آسان ہے،424 ۔

423 ۔ یہ بیان ہورہا ہے قانون مجازات اور مکافات عمل کا، کفر اور ظلم کے نتیجے قدرۃ اسلام اور عدل کے نتیجوں سے بالکل مختلف نکلیں گے۔ 424 ۔ اسلام کا خدا مشرک قوموں کے خداؤں کی طرح محدود اور ناقص قوتیں رکھنے والا خدا نہیں، جو اسے اس سزا دہی کے لیے کسی خاص اہتمام یا تکلف کی ضرورت پڑے۔ وہ مطلق الاختیار ہے۔ (آیت) ” فعال لما یرید “ ہے۔ جو کچھ چاہے بات کی بات میں کرسکتا ہے۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے لوگو ! یقیناً تمہارے پاس (یہ) رسول تمہارے پروردگار کے پاس سے آئے ہیں، سچی بات لے کر،425 ۔ پس ایمان لاؤ یہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا،426 ۔ اور اگر تم کفر کرتے رہے،427 ۔ تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا،428 ۔

425 ۔ (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب صرف اہل عرب یا اہل مکہ کو نہیں، سارے جہان کو ہے۔ دعوت قرآنی کی عالمگیری کا ایک اور ثبوت۔ ھذا خطاب للکل (قرطبی) خطاب لجمیع المکلفین (روح) ذکر خطابا عاما یعمھم ویعم غیرھم (کبیر) (آیت) ” الحق “۔ اس میں سچے دلائل دونوں آگئے۔ 426 ۔ ایمان لانے اور زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالنے میں نفع تمامتر بندہ کا اپنا ہی ہے۔ حق تعالیٰ کی کوئی غرض اس سے اٹکی ہوئی نہیں ہے، جیسا کہ مشرک قوموں نے اپنے دیوتاؤں کے بارے میں تصور کر رکھا ہے۔ (آیت) ” فامنوا “۔ میںسے اشارہ اس جانب ہے کہ صحیح دعوی اور صحیح دلیل کا مقتضاہی یہ ہے کہ ایمان لے آیاجائے۔ 427 ۔ (سو اس کا ضرر کسی طرح بھی نہیں، ضرر سر تا سر تمہارا ہی ہے) مشرکوں کو یہ حقیقت بار بار یاد لانے کے قابل تھی وہ اپنے دیوی دیوتاؤں کو بھی اپنا ہی جیسا محتاج اور غرض مند تصور کرتے تھے۔ 428 ۔ صفت علیم لا کر یاد دلا دیا کہ ہر ایک کا کفر ایمان اس پر روشن ہے، اس کے حدود سے باہر کوئی چیز نہیں اور صفت حکیم لا کر یہ اشارہ کردیا کہ وہ سزا بھی موقع مناسب ہی پردے گا۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو نہ کرو،429 ۔ اور اللہ کے بارے میں کوئی بات حق کے سوانہ کہو،430 ۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) تو بس اللہ کے ایک پیغمبر ہی ہیں،431 ۔ اور اس کا کلمہ،432 ۔ جسے اللہ نے پہنچا دیا تھا مریم تک،433 ۔ اور ایک جان ہیں اس کی طرف سے،434 ۔ پس اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ،435 ۔ اور یہ نہ کہو کہ (خدا) تین ہیں،436 ۔ (اس سے) باز آجاؤ،437 ۔ تمہارے حق میں یہی بہتر ہے اللہ تو بس ایک ہی معبود ہے،438 ۔ وہ پاک ہے اس سے کہ اس کے بیٹا ہو،439 ۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے،440 ۔ اور اللہ ہی کارساز ہونا کافی ہے،441 ۔

429 ۔ دین میں غلو کرنا یہ ہے کہ عقائد ومسائل میں اضافہ وافراط کو اپنی طرف سے دخل دے دیا جائے، خواہ کسی نیت سے ہو، الغلوفی الدین ھو مجاوزۃ حد الحق فیہ (جصاص) (آیت) ” اھل الکتب “۔ سے یہاں مراد اہل انجیل یا نصاری ہیں۔ ای اھل الانجیل من النصاری (ابن جریر) والتقدیر یا اھل الکتب من النصاری (کبیر) ینھی تعالیٰ اھل الکتب عن الغلووالاطراء وھذا کثیر فی النصاری (ابن کثیر) نزلت فی النصاری (معالم) یہود کے مطاعن کا ذکر کرکے اور ان کا جواب دے کر اب ذکر عیسائیوں کا شروع ہورہا ہے جو یہود کی تفریط کے مقابلہ پر افراط کی انتہاء پر پہنچ گئے تھے، اور عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کو بجائے ایک صالح اور مقبول بندہ کے خدایا خدا کا بیٹا ماننے لگے تھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہود کا غلو احکام ظاہری میں تعمق تھا اور مسائل باطن کی طرف سے اعراض تھا اور مسیحیوں کا غلو مسائل باطن میں تعمق اور ظاہر کی طرف سے اعراض تھا طریق حق ظاہر و باطن کو جمع کرنا ہے۔ 430 ۔ یعنی الوہیت کے باب میں کوئی عقیدہ اپنی رائے سے گڑھ کر نہ پیش کرو، اور توحید میں کوئی شائبہ بھی شرک کا نہ آنے دو ۔ 431 ۔ (نہ کہ خود معبود یا خدایا مظہر خدا (اللہ کے بھیجے ہوؤں کو، اس کے نائبوں اور رسولوں کو خود معبود سمجھ بیٹھنے کا مرج مشرک قوموں میں عام رہا ہے۔ مسیحیوں نے مصری، یونانی، رومی مشرکوں اور مشرک فلاسفہ سے متاثر ہو کر اپنے پیغمبر برحق کو بھی مظہر خدایا فرزند خدا کا درجہ دے دیا تھا، یہ اس کی تردی ہورہی ہے۔ 432 ۔ یعنی ان کی پیدائش اللہ کے ایک کلمہ ہی کا نتیجہ ہے۔ ای صار بکلمۃ من اللہ مخلوقا (ابن عباس ؓ والمعنی انہ وجد بکلمۃ من اللہ وامرہ عن غیر واسطۃ ولا نطفۃ (کبیر) ای ھو مکون بکلمۃ کن (قرطبی) کلمہ سے مراد یا تو کلمہ کن ہے یا وہ کلمہ جو بواسطہ جبرئیل حضرت مریم پر القاء کیا گیا تھا۔ ومعنی کونہ کلمۃ انہ حصل بکلمۃ کن من غیر مادۃ معتادۃ والی ذلک ذھب حسن وقتادۃ (روح) ای قولہ کن (معالم) لیست الکلمۃ صارت وعسی ولکن بالکلمۃ صارعیسی (ابن کثیر، عن شاذان بن یحیٰی) و تسمیۃ عیسیٰ بکلمۃ لکونہ موجدا بکن (راغب) 433 ۔ (بہ واسطہ فرشتہ جبرئیل کے) ای القاء الکلمۃ کان من اللہ ثم من جبرئیل (علیہ السلام) (ابن عربی) 434 ۔ یعنی اللہ کے زندہ کیے ہوئے اور اللہ کی بنائی ہوئی روح ہیں، جو بلااسباب عادی ظاہری مریم (علیہ السلام) کے باطن میں مجسم ہوگئے۔ ای تخلیقہ وتکوینہ (مدارک) ای بامرمنہ صار ولدا بلااب (ابن عباس ؓ ای احیاء اللہ ایاہ بتکوینہ (ابن جریر) نسب الی انہ روح من اللہ لانہ بامرہ (ابن جریر) ای من خلقہ ومن عندہ (ابن کثیر) ای مخلوق من روح مخلوقہ (ابن کثیر) (آیت) ” روح منہ “۔ روح کا انتساب اللہ کی جانب محض اس کے شرف و عظمت کے لیے ہے۔ جیسے بیت اللہ یا نعمت من اللہ میں نسبت تشریفی وتعظیمی ہوتی ہے۔ والمراد من قولہ منہ التشریف والتفضیل کما یقال ھذہ نعمۃ من اللہ (کبیر) اضیفت الروح الی اللہ علی وجہ التشریف کما اضیفت الناقۃ والبیت الی اللہ (ابن کثیر) ھو روح کسائر الارواح الا انہ تعالیٰ اضافہ الی نفسہ تشریفا (معالم) اضافہ اللہ تعالیٰ تشریفا لہ کما یقال بیت اللہ وسماء اللہ (جصاص) یہ مراد نہیں کہ صرف انہی میں اللہ کی روح تھی، کسی اور میں اللہ کی روح نہیں ہوتی۔ اللہ کی روح تو ہر فرد بشر میں ہے۔ (آیت) ” ونفخت فیہ من روحی “۔ قرآن مجید میں موقع تخصیص و امتیاز پر کبھی کسی کو (آیت) ” عبدہ “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور کبھی کسی کو عبدنا سے، حالانکہ ظاہر ہے کہ اللہ کے عبد سب ہی ہیں۔ 435 ۔ (ان ہی پیغمبروں کی تعلیمات کے مطابق) (آیت) ” فامنوا “ کیمیں اشارہ اس طرف ہے کہ ان صحیح حقائق کو سمجھ لینے کے بعد اب واجب ہے کہ اپنے خود تراشیدہ عقائد وخیالات کو چھوڑ کر ایمان اللہ اور اس کے رسولوں کی ہدایات پر لاؤ۔ 436 ۔ خواہ وہ تین اقنوم ہوں یا تین مستقل بالذات ہستیاں، مسیحی تثلیث کا عقیدہ خود مسیحیوں کے الفاظ میں حسب ذیل ہے :۔” باپ بیٹے اور روح القدس کی الوہیت ایک ہی ہے۔ جلال برابر عظمت ازلی یکساں، جیسا باپ ہے، ویسا ہی بیٹا اور ویسا ہی روح قدس ہے، باپ غیر مخلوق، بیٹا غیر مخلوق، اور روح قدس غیر مخلوق، باپ غیر محدود، بیٹا غیر محدود، اور روح قدس غیر محدود۔ باپ ازلی، بیٹا ازلی اور روح قدس ازلی۔ تاہم تین ازلی نہیں بلکہ ایک ازلی۔ اسی طرح تین غیر محدود نہیں، اور نہ تین غیر مخلوق، بلکہ ایک غیر مخلوق اور ایک غیر محدود۔ یونہی باپ قادر مطلق، بیٹا قادر مطلق، اور روح قدس قادر مطلق، تو یہی تین قادر مطلق نہیں۔ بلکہ ایک قادر مطلق ہے۔ ویسا باپ خدا، بیٹا خدا اور روح قدس خدا، بس یہ ہی تین خدا نہیں بلکہ ایک خدا “۔ ایک طرف یہ گورکھ دھندا اور دوسری طرف اسلام کا صاف وسادہ کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ کوئی مناسب بھی دونوں میں ہے ؟ 437 ۔ (کہ یہ غالیانہ عقائد کفر بلکہ شرک تک پہنچا دینے والے ہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ آیت حلول و اتحاد کے بطلان صریح پر دال ہے، جس کے قائل بعض جہلاء صوفیہ ہوئے ہیں۔ 438 ۔ واحد ہر اعتبار سے اور ہر معنی میں، نہ وہ ایک تین میں تقسیم ہے، اور نہ وہ ایک اپنے کو تین شکلوں میں ظاہر کرنے والا ہے، نہ تو تیمورتی کی کوئی قسم بھی صحیح ہے۔ 439 ۔ یہ ولدیت کا عقیدہ غلط ہی نہیں، بلکہ اصلا مہمل اور تنزیہ الوہیت کیلئے باعث توہین، شان الوہیت کے بالکل منافی ہے۔ 440 ۔ خالق کا صحیح رشتہ مخلوق کے ساتھ صرف مالکیت کا ہے، مالک ومملوک میں مباینت لازمی ہے، برخلاف اس کے والد ومولود کے درمیان مجانست، ہم جنسی وہم قومی 12 شرط ہے۔ تو جب ہر مخلوق اللہ کی مملوک ہے تو کوئی بھی مخلوق اس کی اولاد ہو ہی نہیں سکتی۔ 441 ۔ کیا اسے بندوں کی حاجت روائی اور اپنی کارسازی میں کسی کی اعانت کی محتاجی ہے، جو وہ کسی کو شریک کرے ؟
Ayah 4:172

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح (علیہ السلام) ہرگز اس سے عار نہ کریں گے کہ وہ اللہ کے بندہ ہیں اور نہ مقرب فرشتے بھی،442 ۔ اور جو کوئی اللہ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو اللہ ضرور اپنے پاس سب کو جمع کرے گا،443 ۔

442 ۔ (نہ عالم ناسوت میں، نہ بزرخ میں، نہ آخرت میں) (آیت) ” المسیح۔ الملکۃ المقربون “۔ ایک طرف حضرت مسیح (علیہ السلام) اور دوسری طرف ملائکہ مقربین، یہی دونوں دنیا میں کثرت سے پجے ہیں، مشرکوں نے فرشتوں کو دیوی دیوتا کے نام دے کر شریک الوہیت ٹھہرایا، اور مسیحیوں نے مسیح (علیہ السلام) کو خدائی کے مرتبہ پر پہنچایا، اسی لیے خصوصیت کے ساتھ تصریح سے ان دونوں کی نفی الوہیت کی گئی اور بتایا گیا کہ اللہ کی عبدیت کوئی چیز توہین والی نہیں۔ مسیح (علیہ السلام) اور ملائکہ مقربین تو اس پر فخر کرتے ہیں نہ یہ کہ اس میں کسی قسم کا عار محسوس کرتے ہین، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مراتب شرف میں عبدیت مرتبہ اعلی ہے۔ 443 ۔ یہاں بیان اس عام قانون کا ہورہا ہے کہ کوئی اللہ کی بندگی میں عار اور تکبر کر ہی کیونکر سکتا ہے اللہ تو ایسا حاکم مطلق ہے کہ وقت موعود پر سب ہی کو اس کی خدمت میں حاضری دینا ہے۔
Ayah 4:173

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک کام بھی کئے ہوں گے تو وہ ان کو ان کا پورا پورا اجر دے گا اور انہیں اپنے فضل سے اور زائد دے گا،444 ۔ اور جن لوگوں نے عار اور تکبر کیا ہوگا سو انہیں وہ دردناک عذاب دے گا اور وہ لوگ اپنے حق میں کسی غیر اللہ کو نہ دوست پائیں گے نہ مدد گار،445 ۔

444 ۔ (جس کی کوئی حدونہایت نہیں ہے) (آیت) ” لیوفیھم اجورھم “۔ یعنی جتنااجر مقرر وموعود ہے، وہ تو انہیں پورا ملے ہی گا (آیت) ” الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ یعنی جو لوگ عقیدہ اور عمل دونوں کے اعتبار سے عبد بنے رہے۔ 445 ۔ خلاصہ یہ کہ نیک سے نیک، بزرگ سے بزرگ، مقبول سے مقبول بندے بھی بہرحال بندے ہی ہوتے ہیں، غالی مریدوں، معتقدوں کا اپنے شیخ یا کسی پیغمبر کو اس کی حد عبدیت سے باہر نکال دینا اپنے کو مستحق جہنم بنانا ہے۔ (آیت) ” الذین استنکفوا “ یعنی جنہوں نے عبد بننے سے عار رکھا (آیت) ” ولیا ولانصیرا “۔ ولی اور نصیر سلبی طور پر وقع مضرت پر۔ ولیا ای قریبا ینفعھم (ابن عباس ؓ نصیرا ای مائعا یمنعھم من عذاب اللہ (ابن عباس ؓ
Ayah 4:174

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے پاس یقیناً ایک دلیل تمہارے پروردگار کے پاس سے آچکی ہے،446 ۔ اور ہم تمہارے اوپر ایک کھلا ہوا نور اتار چکے،447 ۔

446 ۔ (کافی اور محکم) (آیت) ” برھان من ربکم “۔ اس برھان سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہے، جن کی سیرت پاک اور تعلیم کی جامعیت نے ہر مشکل کو آسان اور ہر پتھر کو پانی بنادیا ہے ای رسول من ربکم (ابن عباس ؓ یعنی محمد ا ﷺ عن الثوری (قرطبی) الجمھور علی ان البرھان ھو محمد ﷺ (بحر) (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب ساری نسل انسانی، جملہ اہل مذاہب کو عام ہے۔ یایھا الناس من جمیع اصناف الملل (ابن جریر) یقول تعالیٰ مخاطبا جمیع الناس (ابن کثیر) خطاب لکافۃ المکلفین (روح) ۔ 447 ۔ یعنی قرآن مجید جس کے اندر بڑے اور چھوٹے انفرادی اور اجتماعی، سارے مسائل کا حل موجود ہے۔ ای کتابا مبینا (ابن عباس ؓ النور المنزل ھو القران، عن الحسن (قرطبی) وھو القران کما قالہ قتادۃ و مجاھد والسدی (روح)
Ayah 4:175

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

تو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسے انہوں نے مضبوط پکڑا انہیں وہ ضرور اپنی رحمت وفضل میں داخل کرے گا،448 ۔ اور انہیں اپنے تک سیدھی راہ دکھادے گا،449 ۔

448 ۔ یعنی جنت میں داخل کرکے اور بھی نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ (آیت) ” امنوا باللہ یعنی اللہ کی توحید اور نفی شرک پر ایمان لائے ، (آیت) ” واعتصموا بہ “۔ یعنی اللہ کے دین کو مضبوط پکڑے رہے۔ 449 ۔ یعنی دنیا میں انہیں طریق رضا پر ثابت وقائم رکھا جائے گا اور اطاعت کی برکت سے انہیں ثبات علی الطاعات کی توفیق ہوگی۔ ای یثبتھم علی طریق مستقیم فی الدنیا مقدم ومؤخر (ابن عباس ؓ اسی سے تارکین ایمان و اعمال صالحہ حالت معلوم ہوگئی کہ ان کو یہ ثمرات نہ ملیں گے۔ (تھانوی (رح )
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں (میراث) کلالہ کے باب میں،450 ۔ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے، اور اس کے کوئی اولاد نہ ہوا اور اس کے ایک بہن ہو،451 ۔ تو اسے اس ترکہ کا نصف ملے گا۔452 ۔ اور وہ مرد وارث ہوگا اس (بہن کے کل ترکہ) کا اگر اس (بہن) کے اولاد نہ ہو،453 ۔ اگر دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کو ترکہ میں سے دو تہائی ملے گا،454 ۔ اور اگر (وارث) چند بھائی بہن مرد و عورت ہوں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے حصہ کے برابر ملے گا،455 ۔ اللہ تمہارے لیے (یہ احکام) کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم گمراہی میں نہ پڑو،456 ۔ اور اللہ ہر شے کا پورا علم رکھتا ہے،457 ۔

450 ۔ کلالہ وہ ہے جس کے نہ اولاد ہو، اور نہ والدین زندہ ہوں۔ 451 ۔ اور یہ بہن حقیقی یا عینی ہو، یا علاتی یعنی باپ کی طرف سے ہو، اخیافی یعنی صرف ماں کی طرف سے بہن کا حکم سورة کے شروع (آیت 12) میں آچکا ہے۔ 452 ۔ اور بقیہ نصف اگر کوئی عصبہ ہوا تو اسے ملے گا، ورنہ خود اسی بہن پر لوٹ آئے گا) چچا، چچا زاد بھائی وغیرہ عصبات میں داخل ہیں، ادائے قرض اجرائے وصیت پر بہرحال مقدم ہے۔ 453 ۔ (اور والدین بھی نہ ہوں) 454 ۔ اور بقیہ ایک تہائی عصبہ کو ملے گا ورنہ بہ طور رد پھر انہیں بہنوں کو مل جائے گا، بہنیں اگر دو سے زائد ہوں، تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔ 455 ۔ یعنی بھائی کو دہرا اور بہن کو اکہرا حصہ ملے گا، یہ بیان عام قاعدہ یا اصول کا ہے، باقی تفصیلات کہ عینی بھائی اور عینی بہن کا اثر علاتی بھائی بہنوں پر کیا پڑے گا، کتب فقہ وفرائض میں ملیں گی ، (آیت) ” وان کانوا اخوۃ “۔ یعنی ایسی میت کے بھائی بہن ہوں، جس پر اطلاق کلالہ کا ہو، 456 ۔ (اور معاشرت دنیوی اور جزائے آخرت دنوں میں نقصان سے محفوظ رہو) 457 ۔ اپنی صفت علم لا کر یاد دلا دیا کہ ان احکام میں بندوں کی ساری رعایتیں اور مصلحتیں جمع کردی گئی ہیں۔