Ayah 4:43139 ۔ یعنی نشہ اترجائے اور زبان قابو میں آجائے۔ آیت اس وقت کی ہے جب کہ حرمت شراب کا حکم ابھی نازل نہیں ہوا تھا، مطلب آیت کا یہ کہ اوقات نماز میں تو شراب پینے سے باز رہو، یہ مطلب نہیں کہ شراب تو اسی طرح پیتے چلے جاؤ اور نشہ کی حالت میں نماز چھوڑے رہو۔
140 ۔ یعنی حالت جنابت کے بعد غسل کرنا فرض ہے، بغیر اس کے نماز درست نہ ہوگی، مرد کو انزال ہوجانا، عورت کو حیض آجانا، مرد و عورت دونوں کا عمل مباشرت کرنا (خواہ انزال کے بغیر ہو) یہ سب حالتیں جنابت کی ہیں (آیت) ” الصلوۃ “ سے مراد مواضع الصلوۃ بھی لی گئی ہے۔ یعنی مسجدیں ای مواضع الصلوۃ وھی المساجد (مدارک) المراد مواضع الصلوۃ وھو قول الشافعی ( قرطبی)
141 ۔ یعنی بجز حالت سفر کے کہ جب پانی کا ملنا اور غسل کا انتظام ہونا دشوار ہو، ایسی حالت کا حکم ابھی آگے آتا ہے۔ ولا یصح لاحدان یقرب الصلوۃ وھو جنب الابعد الاغتسال الا المسافر فانہ یتیمم وھذا قول ابی حنفیۃ (رح) (قرطبی) جن فقہاء نے الصلوۃ سے مراد مواضع الصلوۃ لی ہے انہوں نے الا عابری سبیل سے جنبی کی ضرورت کے وقت مسجد سے گزرنے کا جواز نکالا ہے۔ فیجوز للجنب العبور فی المسجد عن الحاجۃ (مدارک) ھذا یقتضی جواز العبور للجنب فی المسجد لاالصلوۃ (قرطبی)
142 ۔ (اور مرض اور سفر دونوں صورتوں میں پانی کا استعمال یا مضر ہو، یا اس کا بہم پہنچنا دشوار ہو، یاغسل کا انتظام نہ ہوسکتا ہو)
143 ۔ (اور اس لئے وضو باقی نہ رہا ہو)
144 ۔ (اور اس لئے غسل فرض ہوگیا ہے) لمس اور مس دونوں کے لفظی معنی چھونے کے ہیں، اس لئے بعض فقہانے یہاں بھی محض ملامست مرادلی ہے اور ملامست نساء کو موجبات وضو میں سے قرار دیا ہے لیکن لمس کے مجازی معنی ہم بستری کے ہیں۔ ویکنی بہ وبالملا مسۃ عن الجماع (راغب) من المجاز اللمس والملامسۃ المجامعۃ (تاج) اور مس تو قرآن مجید میں بھی ہم بستری کے معنی میں آیا ہے۔ ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن اس لئے فقہا حنفیہ نے یہاں لمس سے بھی ہم بستری ہی مرا لی ہے اور یہی مذہب قوی ہے۔ حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ جیسے صحابیوں اور مجاہد وطاؤس، حسن بصری سعید بن جبیر وغیرھم تابعین سے بھی یہی منقول ہے۔ ای جامعتم النسآء (ابن عباس ؓ قال قوم ھو المجامعۃ وھو قول ابن عباس والحسن والمجاھد وقتادۃ (معالم) روی عن علی وابی ابن کعب و مجاھد وطاؤس والحسن وعبید بن عمیر و سعید بن جبیر والشعبی وقتادۃ ومقاتل بن حیان نحوذلک (ابن کثیر) وکنی بالملامسۃ من الجماع والی ذلک ذھب علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ وابن عباس ؓ والحسن (روح)
145 ۔ یعنی ایسی مٹی ہو جو خود غیر طاہریا گندی نہ ہو، دو دو بار ہاتھ مار کر پہلی بار پورے چہرہ اور دوسری بار ہاتھوں پر کہنیوں تک پھیرلیا کرو (آیت) ” فلم تجدوا مآء “۔ یعنی کسی سبب سے بھی سہی۔ پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو ماء کے صیغہ نکرہ میں آنے سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ پانی کسی قسم کا بھی ہو، وضو کے لیے درست ہے۔ فھو عام فی کل ما کان من سماء اونھراوعین عذب اوملح (قرطبی) امام ابوحنیفہ (رح) نے اس میں اتنی وسعت یہ رکھی ہے کہ رنگ، مزہ یا بو بدلے ہوئے پانی تک کی اجازت دے دی ہے۔ واجاز ابو حنیفۃ الوضوء بالماء المتغیر (قرطبی) پانی کی معدومیت ایک تو حقیقی ہے وہ یہی کہ پانی موجود نہ ہو۔ دوسری حکمی ہے یعنی موجود تو ہو لیکن اس کا استعمال مرض پیدا کردے یا مرض کو بڑھا دے یا کسی اور وجہ سے اس کے استعمال سے معذوری ہو۔ فقہاء نے نام صرف چند چیزوں کے گنائے ہیں۔ فلم تقدروا علی استعمالہ لعدمہ اوبعدہ اوفقد الۃ الوصول الیہ اوالمانع من حبۃ اوسبع اوعدو (مدارک) لوکان یجد الماء الا انہ مریض فخاف ان استعمل الماء اشتد مرضہ تیمم (ہدایہ) واما ان یخاف فوات الرقیق اوعلی الرجل بسبب طلبہ اولصوصا اوسباعا اوفوات الرقیق اوعطشا علی نفسہ اوعلی غیرہ وکذلک بطبخ یطبخہ لمصلحۃ بدنہ فاذا کان احد ھذہ الاشیاء تیمم وصلے (قرطبی) (آیت) ” صعیدا طیبا “۔ صعید لغت میں کہتے ہیں۔ زمین کے بالائی رخ کو، نہ کہ نفس مٹی کو، الصعید یقال لوجہ الارض (راغب) قال الزجاج لیس ھو التراب انما ھو وجہ الارض ترابا کان اوغیرہ (تاج) والذی یعضد الاشتقاق وھو صریح اللغۃ انہ وجہ الارض علی ای وجہ کان من رمل اوحجر اور مدراوتراب (ابن العربی) اس لیے حنفیہ کے ہاں جنس ارض کی تمام چیزوں پر تمیم جائز ہے خواہ ان پر گرد پڑی ہو یا نہ پڑی ہو اور امام مالک (رح) اور ثوری (رح) وغیرہ دوسرے ائمہ فقہ بھی اس باب میں حنفیہ کے ہم زبان ہیں۔ ویجوز التیمم عند ابی حنفیۃ ومحمد بکل ما کان من جنس الارض (ہدایہ) یتیمم المطھرمن الارض وان لم یکن علیہ نقع (درمختار) یتیمم بوجہ الارض کلہ ترابا کان اور ملا اوحجارۃ اومعدنا او صبغۃ ھذا مذہب مالک وابی حنفیۃ والثوری والطبری (قرطبی) جنس ارض میں سے ہونے کی شناخت یہ ہے کہ وہ آگ میں نہ جل جائے نہ اس سے پگھل جائے، چناچہ گیرو، پتھر، سرمہ، یاقوت، زبرجد وغیرہ پر اس قاعدہ کے موافق اور چونہ پر اس قاعدہ کے خلاف عمل جائز ہے۔ البتہ خاکستر (راکھ) پر جائز نہیں۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک تمیم صرف مٹی ہی پر جائز ہے۔
146 ۔ (چنانچہ دشوار موقعوں کے لئے اس نے کیسے آسان حکم دے رکھے ہیں۔
Ayah 4:44147 ۔ (اے مسلمانو ! ) یہود خود تو علم توریت کے باوجود کفر وضلالت اختیار کئے ہوئے تھے ہی، مسلمانوں کو بھی اسلام سے برگشتہ کرنے کی جو طرح طرح کی تدبیریں کرے رہتے تھے، یہ اشارہ اسی طرح ہے۔ (آیت) ” من الکتب “۔ کتاب سے مراد جنس کتاب ہے یعنی توریت۔ (آیت) ” الم تر “۔ میں خطاب عام ہے ہر مخاطب کیلئے۔
Ayah 4:45148 ۔ (اور اس نے تم کو بھی خبر دار کردیا)
149 ۔ اللہ کا حمایتی ہونا یہ ہے کہ وہ مومن بندوں کی مصلحتوں کی رعایت کرتا رہتا ہے اور اس کا مددگار ہونا یہ ہے کہ وہ انہیں دشمنوں کی نقصان رسانی سے محفوظ رکھتا ہے۔
Ayah 4:46150 ۔ (اور لفظی ومعنوی ہر قسم کی تحریف کرتے رہتے ہیں) (آیت) ” الکم “۔ کلام سے مراد کلام الہی یا توریت ہے۔ (آیت) ” الذین ھادوا “۔ یہ وہ لوگ تھے جو نسلا اسرائیلی نہیں، بلکہ عرب تھے لیکن یہود کی طویل صحبت سے متاثر ہو کر خود بھی یہود کے شعائر و عقائد اختیار کرکے رفتہ رفتہ ان میں جذب ہوچکے تھے، شرارت وخباثت میں یہ بھی نسلی یہود سے کچھ کم نہ تھے تفصیل پارۂ اول میں گزر چکی۔ نحویین کہتے ہیں کہ (آیت) ” ھادوا “۔ اور ” یحرفون “۔ کے درمیان ” من “۔ محذوف ہے۔ قال الفراء المحذوف من المعنی من الذین ھادو امن یحرفون (قرطبی)
151 ۔ (یعنی ان کے حق میں نافع بھی اور مطابق واقعہ بھی) عرب یہود کی مستمر شرارتوں اور خباثتوں میں سے یہ امر بھی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے وقت ایسے الفاظ قصدا بولتے جن میں پہلوئے ذم بھی نکلتا رہتا اور تحقیر یا بدددعاپیدا ہوتی رہتی۔ پارۂ اول میں بھی یہ ذکر پوری وضاحت سے آچکا ہے۔ یہود کی ان گستاخیوں کا دارومدار چونکہ تلفظ اور الفاظ ہی کے سوء استعمال پر ہے اس لیے ترجمہ سے اصل مفہوم پوری طرح ظاہر ہی نہیں ہوسکتا، اصل عربی الفاظ کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ (آیت) ” سمعنا وعصینا “۔ ظاہری مطلب یہ تھا کہ ہم نے آپ کا ارشاد سن لیا اور آپ کے گمراہ کن مخالف ومعاند کا قول نہیں مانا، لیکن اصل مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہم نے تمہاری بات تو سن لی لیکن اسے قبول نہیں کیا۔ (آیت) ” اسمع غیر مسمع “۔ ظاہرا مطلب یہ تھا کہ کوئی مخالف اور رنج دہ بات آپ کے کان میں نہ جائے لیکن اصل مطلب یہ ہوتا تھا کہ تمہیں کوئی اچھی بات سنائی ہی نہ دے۔ (آیت) ” راعنا “۔ راعنا کا ظاہر مطلب یہ تھا کہ ہمارے رعایت سے دوبارہ فرمائیے لیکن تلفظ میں ” ع “ کو ذرا کھینچ کر پڑھنے سے بالکل گستاخانہ مفہوم پیدا ہوجاتا تھا۔ (آیت) ” لیابالسنتھم “۔ یعنی بہ ظاہر لہجہ سے تعظیم و توقیر آتی تھی لیکن زبانیں تقیہ سے کام لیتی ہوتی تھیں اور دل کے بغض وعناد کو چھپائے ہوئے رہتی تھیں۔ (آیت) ” طعنا فی الدین “۔ اس تصریح نے بتادیا کہ عرب یہود کی یہ ساری حرکتیں بےخیالی سے خالی نہ تھیں اور نہ تفریح طبع کے طور پر تھیں۔ بلکہ اللہ کے دین پر طعن کرنا، اسے مجروح کرنا مقصود بھی تھا۔ (آیت) ” سمعنا واطعنا “۔ اسمع، انظرنا، تعلیم ان الفاظ کی ہوئی کہ یہ پہلوئے ذم سے خالی ہیں۔
152 ۔ (آیت) ” لعنھم اللہ “۔ یعنی اللہ نے ان کے دلوں کو اپنی رحمت خاصہ سے دور کردیا۔ لعنت پر حاشیہ پارۂ اول میں گزر چکا۔ (آیت) ” بکفرھم “ اس سے یہ صاف ہوگیا کہ رحمت خاصہ سے بھی یہ دوری اور مہجوری خود بخود اور بلاسبب نہیں ہوئی بلکہ یہ انہی کے کرتوتوں کا ثمرہ ہے۔
153 ۔ اور یہ تھوڑے سے وہی تھے جو آگے چل کر مسلمان ہوگئے باقی سب کا خاتمہ علم الہی کے مطابق کفر ہی پر ہوا۔
Ayah 4:47154 ۔ (آیت) ” اوتوالکتب “۔ میں کتاب سے مراد توریت ہے (آیت) ” بمانزلنا “۔ اس کتاب پر جسے ہم نے اب اپنے رسول پر نازل کیا ہے یعنی قرآن پر (آیت) ” مصدقالما معکم “۔ یعنی قرآن تو اصل توریت کی تصدیق ہی کرنے والا ہے، اس کے محرف اجزا ظاہر ہے کہ اس عام تصدیق سے مستثنی ہیں۔
155 ۔ (غرض اسی طرح کے کسی عذاب شدید وہولناک میں مبتلا کردیں) (آیت) ” نطمس وجوھا “۔ طمس وجہ سے مراد ہے چہرہ کے نقش ونگار اور آنکھ وناک منہ وغیرہ اعضا کو مٹا دینا (آیت) ” فنردھا علی ادبارھا “۔ یعنی ان لوگوں کے چہروں کو گدیوں کی طرف صفاچٹ کردیں۔ ف۔ ہمیشہ تعجب ہی کے لیے نہیں ہوتی کبھی تفصیل اجمال کے لیے بھی ہوتی ہے۔ چناچہ یہاں اسی غرض سے ہے۔ اور یہ دوسرا فقرہ پہلے فقرہ کی تفصیل و توضیح کررہا ہے۔ یہ ڈراوے سب عذاب اخروی کے ہیں لیکن وجوہ کے معنی مجازا سرداروں اور رئیسوں کے بھی آئے ہیں قیل عینی بالوجوہ الاعیان والرؤساء (راغب) یراد بالوجوہ رء وسھم ووجھاؤھم (کشاف) اس لیے فقرہ کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم ان کے سرداروں کو ذلیل و خوار کریں۔ چناچہ کشاف وکبیر وغیرہ میں یہ معنی بھی نقل ہوئے ہیں۔ اسی طرح اس کے متصل فقرہ کے معنی یہ ہوں گے کہ ” ہم ان کی وجاہت واقبال کو سلب کرلیں اور ان پر ذلت وادبار نازل کریں “۔ چناچہ کشاف، بیضاوی وغیرہ میں یہ قول بھی نقل ہوا ہے۔ (آیت) ’ ’ من قبل “ کا صحیح مفہوم پیش نظر نہ رہنے سے ایک سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ طمس ومسخ کی یہ سزا ملی ہی کب ؟ ظاہر ہے کہ ان سزاؤں کا ظہور تو آخرت میں ہوگا اور من قبل ہمیشہ کسی واقعہ کے واقع ہوجانے ہی پر دلالت نہیں کرتا بلکہ صرف اس کے ہوسکنے پر بھی دلالت کرتا ہے اور محل تہدید میں آتا ہے کہ اس معنی میں اس کا استعمال قرآن مجید میں کثرت سے ہوا ہے۔ حدیث نبوی میں ایک دعا آتی ہے۔ اللھم ارزقنی عینین ھطالتین تسقیان القلب یذرون الدمع من خشیتک قبل ان تکون الدموع دما والاضر اس جمرا “۔ قبل کے یہاں یہ کوئی معنی بھی نہیں سمجھتا کہ بعد کا واقعہ صرف زمانا مؤخر ہے اور واقع ہو کر رہے گا بلکہ مطلب صرف اس قدر ہے کہ اس کے وقوع سے اپنے کو بچایا جائے، اردوہی کے محاورہ میں ہم برابر کہتے رہتے ہیں کہ قبل اس کے کہ دوزخ میں پڑو، گناہوں سے توبہ کرلو، اس کا یہ مطلب کوئی بھی نہیں لیتا کہ دوزخ میں تو بہرحال پڑنا ہے صرف زمانا اس سے قبل توبہ کرلینا چاہیے بلکہ صاف مطلب یہ ہے کہ دوزخ سے بچنے کے لیے گناہوں سے توبہ کرلو، اسی طرح آیت کا خلاصہ مفہوم صرف اس قدر ہے کہ طمس ومسخ کی سزاؤں سے بچنے کے لئے قرآن وصاحب قرآن کی تصدیق کرلو۔
156 ۔ (آیت) ” اصحب السبت “ پر حاشیہ پارۂ اول میں گزر چکا۔
157 ۔ (سوطمس، مسخ لعنت جس چیز کا بھی حکم ہوگیا وہ بہرحال پورا ہو کر رہے گا)
Ayah 4:48158 ۔ (سو مشرک عذاب دائمی میں مبتلا رہے گا) مشرک کی نجات کی کوئی صورت ہی نہیں، اس نے جنت کی نعمتوں کے قبول کرنے کی استعداد وصلاحیت ہی اپنے میں باقی نہ رکھی۔
159 ۔ (اور اس جرم عظیم کی بنا پر وہ قابل مغفرت نہ ہوگا) (آیت) ” افتری اثما “۔ گناہ سمیٹا کا محاورہ خاص اس مفہوم کے ادا کرنے کو ہے۔ (آیت) ” مادون ذلک “۔ یعنی اور جتنے بھی گناہ ہوسکتے ہیں، وہ بہرحال شرک سے کمتر ہی ہوں گے۔ (آیت) ” یغفرلمن یشآء “۔ یعنی شرک تو آسمانی حکومت سے صریح بغاوت کے مرادف ہے، بس اسے چھوڑ کر باقی ہر معصیت مغفرت کی گنجائش رکھتی ہے اور جس کسی کے حق میں مشیت الہی ہوگی اسے معافی مل جائے گی، خواہ اس نے توبہ نہ بھی کی، وقد ابانت ھذہ الایۃ ان کل صاحب کبیرۃ ففی مشیءۃ اللہ ان عفا عنہ وان شاء عفاعنہ وان شاء عاقبہ علیہ مالم تکن کبیرتہ شرکاباللہ (ابن جریر) ای یغفر ما دون الشرک وان کان کبیرۃ مع عدم التوبۃ (مدارک) آیت میں رد ہے خوارج وغیرہ ان گمراہ فرقوں کا جو سمجھتے ہیں کہ ہر گناہ شرک ہے اور ہر گناہ کی سزا عذاب ابدی ہے۔ (آیت) ” لمن یشآء “۔ مشیت کا اطلاق بلا کسی قید وشرط کے ہے۔ یہیں سے رد نکل آیامعتزلہ کا جو کہتے ہیں کہ مغفرت ان کی ہوگی جو توبہ کرلیں، نہ ان کی جو توبہ نہ کریں گے۔ توبہ کے بعد تو ظاہر ہے کہ اہل کفر وشرک کی بھی مغفرت ہوجاتی ہے۔ تفسیر کبیر میں امام رازی (رح) نے نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے تھے کہ جس طرح کے ساتھ کوئی عمل نفع نہیں پہنچا سکتا ہے اسی طرح میرا خیال ہے کہ توحید کے ساتھ کوئی عمل ضرر نہیں کرتا، یہ قول حضرت عمرؓ کے سامنے دہرایا گیا تو آپ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔
Ayah 4:49160 ۔ (آیت) ” الم ترالی الذین “۔ یعنی ایسے لوگوں کی حماقت بھی قابل دید ہے۔ (آیت) ” الذین یزکون انفسھم “۔ یعنی اللہ نے توحید وتقوی کو جو معیار فضیلت، ومقبولیت رکھ دیا ہے، اسے چھوڑ چھاڑ لوگوں نے نسل وغیرہ کے طرح طرح کے معیار شرف و بزرگی کے گڑھ لئے ہیں اور ان بنیادوں پر اپنے کو معظم ومقدس سمجھنے لگتے ہیں، یہ تمام ترحماقت وضلالت ہے۔ آیت کا اشارہ خاص یہود کی جانب ہے۔ اپنے کونسل انبیاء میں سے ہونے کی بنا پر مقدس سمجھ رہے تھے باقی ہندوستان میں برہمن، چھتری وغیرہ اپنے کو محض مقدس خدندانوں سے انتساب کی بنا پر مقدس سمجھنے والے، اپنے چندر بنسی، سورج بنسی ہونے پر فخر وناز کرنے والے یا جاپانیوں کی طرح اپنے کو دیوتاؤں کی نسل میں قرار دینے والے سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ اور ہاں پھر کسی درجہ میں مسلمان پیرزادے، مخدوم زادے، سیدزادے وغیرہا۔
161 ۔ یعنی معتبر تو پاکیزگی اسی کی ہے جسے اللہ پاکیزہ قرار دے اور اپنے زعم وپندار میں اپنے کو پاکیزہ ٹھیرالینے سے کیا ہوتا ہے۔
162 ۔ یعنی جو سزا انہیں ملے گی وہ ان کے جرم سے ذرہ بھر بھی زائد نہ ہوگی، ان کا جرم ہے ہی اسی سزا کا مستحق (آیت) ” فتیلا “۔ فتیل کے لفظی معنی دھاگے کے ہیں۔ عربی محاورہ میں مراد حقیر سے حقیر چھوٹی سے چھوٹی چیز سے ہوتی ہے۔ جیسے ایک دوسری جگہ (آیت) ” ولا یظلمون نقیرا “۔ بھی آیا ہے۔ یرجع الی الکنایۃ عن تحقیر الشیء وتصغیرہ (قرطبی) اشارۃ الی اقل شئی (بحر) جیسے اردو میں ایسے موقع پر ” ذرہ بھر “” رتی بھر “۔ بال برابر “ استعمال ہوتے ہیں۔
Ayah 4:50163 ۔ (تو ایسے صریح جرم پر ایسی سزا کیا کچھ ظلم و زیادتی ہے ؟ ) (آیت) ” بہ “۔ میں ضمیر افتراء یعنی افتراء علی اللہ کی جانب ہے۔ والضمیر فی بہ عائد علی الافتراء وھو الذی ان کر علیہم (بحر)
Ayah 4:51164 ۔ یعنی یہود، اور کتاب سے مراد کتاب الہی یا توریت ہے۔
165 ۔ (آیت) ” الجبت “۔ جبت کا اطلاق تو اللہ کے سوا ہر معبود پر ہوتا ہے۔ یقال لکل ما عبد من دون اللہ جبت (راغب) لیکن خصوصیت کے ساتھ اس کا استعمال ساحروں اور کاہنوں کے لئے ہوتا ہے۔ سمی الساحر والکاھن جبتا (راغب) صحابہ اور تابعین دونوں سے یہ معنی منقول ہیں۔ قال عمر ؓ الجبت السحر (ابن جریر) قال ابن عباس وابن جبیر وابو العالیۃ الجبت الساحر (قرطبی) یہود میں عملیات کا اور سحر، کہانت، نجوم، وغیرہ علوم سفلی کا ذوق ابتدا سے چلا آرہا ہے، جیسا کہ پارۂ اول میں آیۃ (آیت) ” واتبعوا ما تتلوا الشیطین “ کے تحت میں دکھایا جاچکا ہے۔ جبت کا لفظ لا کر عجب نہیں کہ اشارہ ان کی اسی قومی خصلت کی جانب کرنا مقصود ہو۔ (آیت) ” الطاغوت “۔ طاغوت پر حاشیہ پارۂ سوم میں گزر چکا۔ طاغوت ہر وہ چیز ہے جو انسان میں طغیان وعدوان پیدا کردے۔ الطاغوت کل ما یطغی الانسان۔ (قرطبی) عجب نہیں کہ یہ لفظ لا کر یہود کے رجحان مادیت اور ذوق مادہ پرستی کی طرف توجہ دلانا منظور ہو۔
166 ۔ روایتوں میں آتا ہے کہ سرداران یہود مکہ میں آئے تو قریش نے ان سے پوچھا کہ ہمارا دین بہتر ہے یا پیروان محمد ﷺ کا۔ اور سوال میں اپنے دینی کارناموں، مثلا خدمت حجاج، خدمت کعبہ کا ذکر بھی کردیا۔ سرداران یہود بولے کہ ان کے دین سے تو تمہارا ہی دین بہتر ہے۔ اور ان سے زیادہ ہدایت یاب تم ہی ہو۔ (آیت) ’ للذین کفروا “۔ الذین کفروا سے مراد قریش ومشرکین مکہ ہیں۔ ل۔ کے معنی ” بابت “ یا ” متعلق “ کے ہیں۔ للذین ای فی حقھم (روح) واللام للتبلیغ (بحر) (آیت) ” الذین امنوا “۔ سے مراد مسلمان ہیں۔
Ayah 4:52167 ۔ خود دین توحید رکھ کر اور آئین انبیاء سے آشنا ہوکر، دین توحید سے اتنی بیزاری اور ذات رسول ﷺ سے اتنا بغض کہ شرک اور مشرکین تک کو ان سے بہتر بتا رہے ہیں۔ ملعونیت کا تحقق ان سے بڑھ کر اور کس پر ہوگا۔
168 ۔ (جو عذاب سے اسے بچا لے یا اس میں کچھ کمی بھی کرادے) مشرک قوموں اور قبیلوں نے خدا کے ساتھ ساتھ اپنے اور بھی حمایتی گڑھ کر رکھے تھے۔
Ayah 4:53169 ۔ یعنی اپنی مقبولیت اور روحانی عظمت الگ رہی، یہود کو اگر دنیوی امارت وسیادت نصیب ہوتی تو یہ اتنے بخیل اور تنگ دل ہیں کہ اس میں بھی کسی کو شریک نہ ہونے دیتے۔ بلکہ لوگوں کے حقوق تک نہ ادا کرتے۔ اور شاید اسی بخیلی دلی کی قومی جبلت کی بنا پر یہود ودنیوی اقتدار سے بھی محروم کردیئے گئے ہیں۔ (آیت) ” نقیرا “۔ کے لفظی معنی اس گڈھے کے ہیں جو کھجور کی گٹھلی میں ہوتا ہے۔ عربی محاورہ میں مثل فتیل کے حقیر سی حقیر اور چھوٹی سی چھوٹی چیز اس سے مراد ہوتی ہے۔ جیسے اردو میں رائی بھر، رتی بھر وغیرہ بولتے ہیں۔ ” تل برابر “ ترجمہ عبدالقادر دہلوی (رح) کا ہے۔ لا یؤتون نقیرا ای یعمنعون الحقوق (قرطبی)
Ayah 4:54170 ۔ (مثلا نعمت نبوت) (آیت) ” الناس “۔ کے لفظی معنی تو ” لوگوں “ کے ہیں لیکن یہاں مراد عرب یا بنی اسمعیل یا خود رسول اللہ ﷺ اور مومنین ہیں۔ الناس ھنا العرب حسد تھا بنواسرائیل (بحر، عن قتادہ) حسدت الیھود قریشا لان النبوۃ فیھم “۔ (قرطبی عن الضحاک) المراد ھھنا الرسول ومن معہ من ال مومنین (کبیر) یہود کو اصلی خلش اسی کی تھی کہ انبیاء تو ہمیشہ اسرائیلیوں میں ہوئے ہیں، یہ ایک عرب کو کیسے نبوت مل گئی۔ (آیت) ” اتھم اللہ من فضلہ “۔ مراد نبوت ہے۔ قتادہ وابن جریج تابعین سے یہی معنی مروی ہیں۔ معنی الفضل فی ھذا الموضع النبوۃ التی فضل اللہ بھا محمد اوشرف بھا العرب (ابن جریر، عن قتادہ، وابن جریج) اولی التاویلین فی ذلک بالصواب قول قتادہ وابن جریج الذی ذکر ناہ قبل (ا بن جریر)
171 ۔ (آیت) ” ال ابرھیم “ اور اس نسل ابراہیمی کی دو شاخیں ہیں۔ بنی اسرائیل اور بنی اسمعیل۔ یہاں یہود کی یاد لایا گیا ہے کہ ہماری نعمتوں کے وعدے تو کل نسل ابراہیم (علیہ السلام) سے ہیں نہ کہ اس کی ایک شاخ سے۔ پھر تم تنہا اپنے ہی کو ان نعمتوں کا حق دار کیسے سمجھنے لگے ہو۔ اور جب ایک اسمعیلی کو یہ نعمتیں مل رہی ہیں تو تمہیں اس پر حسد یا حیرت کیوں ہے ؟ (آیت) ” الکتب والحکمۃ “ دونوں روحانی نعمتیں ہیں۔ ان کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے اور ملک عظیم دنیوی نعمت ہے اس کا ذکر الگ کرکے کیا ہے۔
Ayah 4:55172 ۔ (سو دنیا میں سزا ملنا نہ ملنا چنداں قابل التفات نہیں) (آیت) ” من امن بہ “ میں ضمیر کس طرح ہے ؟ بعض نے مراد کتاب لی ہے۔ بعض نے وہ سارا فقرہ جو آل ابراہیم سے متعلق گزرا ہے اور بعض نے ذات محمدی ﷺ کو، ماحصل تینوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ من امن بالکتب (بحر) بمحمد ﷺ او بما ذکر من حدیث ال ابراھیم (بیضاوی) یعنی بالنبی ﷺ (قرطبی)
Ayah 4:56173 ۔ آیت کا مقصود اہل دوزخ کے دوام عذاب کا اعلان ہے۔ (آیت) ” نضجت “۔ نضج کے لفظی معنی پک جانے کے ہیں۔ یہاں مراد جل چکنے سے ہے مقصود یہاں یہی ہے کہ عذاب منقطع نہ ہوگا۔ اور احساس عذاب ہمیشہ تازہ ہوتا رہے گا۔ یمکن ان یقال ھذا استعارۃ عن الدوام وعدم الانقطاع (کبیر) المقصود بیان دوام العذاب وعدم انقطاعھا (کبیر) صاحب بحر نے بھی اس قول کو نقل کیا ہے اگرچہ قبول نہیں کیا ہے۔ ارشاد یہ ہورہا ہے کہ یہ نہ سمجھنا کہ کھال جب جل جائے گی تو اس میں مزید الم کا ادراک ہی کہاں باقی رہے گا، نہیں بلکہ کھال کا احساس ہر دم تازہ ہوتا رہے گا اور جلد بےحس کبھی بھی نہ ہونے پائے گی، ، آخرت میں خواص اشیاء کو دنیا کے خواص طبعی پر قیاس کرنا یوں بھی کمال بےدانشی ہے۔
174 ۔ چناچہ صفت عزیز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نئے پرانے ہر قسم کے عذاب پر ہر وقت قادر ہے اور صفت حکیم کا تقاضا یہ ہے کہ عذاب ہو یا تجدید عذاب۔ کوئی بھی شے حکمتوں اور مصلحتوں سے خالی نہیں۔
Ayah 4:57175 ۔ یعنی انہیں عیش و راحت ہر طرح کی حاصل رہے گی (آیت) ” ازواج مطھرۃ “ پر حاشیہ پارۂ اول میں گزر چکے ہیں۔
Ayah 4:58176 ۔ (آیت) ” الامنت “۔ امانات کے اندر جملہ حقوق آگئے جن کی ادائی واجب ہے اور (آیت) ” اھلھا “۔ سے وہ سب مراد ہیں جن کے متعلق وہ فرائض عائد ہوتے ہیں۔ خطاب سارے مسلمانوں سے ہے، انہیں حکم ہو رہا ہے کہ جس جس کے جو حقوق واجب ہیں، سب ادا کرتے رہو، اسی میں حقوق اللہ وحقوق العباد سب آگئے۔ ھو یعم جمیع الامانات الواجبۃ علی الانسان من حقوق اللہ علی عبادہ ومن حقوق العباد بعضھم علی بعض (ابن کثیر) حکمھا عام ولھذا قال ابن عباس ومحمد بن الحنفیۃ ھی للبر والفاجر ایھی امر لکل احد (ابن کثیر) ھذہ الایۃ من امھات الاحکام تضمنت جمیع الدین والشرع (قرطبی) والا ظھر فی الایۃ انھا عامۃ فی جمیع الناس (قرطبی)
177 ۔ (ان کے آپس کے حقوق کے باب میں) اب خطاب حکام اور اہل حل وعقد سے ہورہا ہے۔ انھا نزلت فی الامراء یعنی الحکام بین الناس (ابن کثیر)
178 ۔ (کہ اسی طریق معدلت سے دنیا میں بھی انتظامات درست رہیں گے اور آخرت میں بھی اجراسی کا ہے) (آیت) ” یعظکم بہ “۔ سے اشارہ اسی طریق معدلت کی جانب ہے۔
179 ۔ چناچہ وہ ادائے حقوق اور عدل گستری سب کے باب میں تمہارے لفظ وقول کو بھی سنتا رہتا ہے اور تمہاری نیتوں اور محرکات عمل پر بھی نظر رکھتا ہے۔
Ayah 4:59180 ۔ (کہ ان کے احکام بھی احکام خدا اور رسول پر مبنی اور انہی سے ماخوذ ہوں گے) (آیت) ” اطیعوا اللہ “۔ مطاع اصلی اور حاکم حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے (آیت) ” اطیعوا الرسول “۔ رسول مطاع مطلق اس اعتبار سے ہیں کہ اللہ کے احکام کے وہی پہنچانے والے اور وہی ان احکام کی شرح و تفصیل کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” اولی الامر “۔ اولو الامر کون ہیں ؟ اس میں اچھی خاصی قیل وقال ہوئی ہے۔ علماء وفقہاء امت بھی مراد لئے گئے ہیں اور امراء و حکام بھی۔ اور بہتر یہ ہے کہ دونوں ہی مراد لئے جائیں کہ احکام شریعت کے نافذ کرنے والے یہ دونوں ہوتے ہیں۔ ای الولاۃ اوالعلماء (مدارک) روی عن جابر بن عبد اللہ وابن عباس روایۃ والحسن وعطاء ومجاھد انھم اولوا الفقہ والعلم وعن عباس فی روایۃ وابی ہریرہ انھم امراء السرایا ویجوز ان یکونوا جمیعا مرادین بالایۃ لان الاسم یتناولھم جمیعہ (جصاص) اولوالامر۔ خواہ وہ علماء وفقہا ہوں یا امراء و حکام۔ بہرحال ان میں مستقل مطاع ہونے کی صلاحیت ذرا سی بھی نہیں، وہ مطاع صرف اسی حیثیت سے ہیں کہ احکام شریعت کے نافذ کرنے والے یا بعض جزئیات میں شرح کرنے والے ہیں۔ اس حد کے آگے ان کی کوئی اطاعت نہیں۔ (آیت) ” منکم “۔ اس تصریح کے ہوتے ہوئے اس آیت سے جن صاحبوں نے کسی غیر اسلامی حکومت کی اطاعت پر استدلال کیا ہے۔ انہوں نے اپنی فہم سلیم پر بڑا ظلم کیا۔ اطاعت تو مسلم امیر کی بھی ہر صورت وحال میں جائز نہیں۔ چہ جائیکہ کسی غیر مسلم کی۔ وہ اگر جائز ہے بھی تو کم از کم اس آیت سے تو اس کا کوئی تعلق نہیں۔
181 ۔ (اور اس کی تحقیق مزید کرلیا کرو، کہ اولو الامر کا حکم احکام شریعت کے کہاں تک مطابق ہے) (آیت) ” الی اللہ “۔ اللہ کے احکام کی طرف مراجعت کرنا تو ظاہر ہے کہ کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے سے ہر وقت ممکن ہے۔ لیکن (آیت) ” الی الرسول “۔ کی تعمیل کی کوئی صورت رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بجز اس کے ممکن نہیں کہ دفتر احادیث وسنن کی طرف رجوع کیا جائے۔ حدیث وسنت کی حجیت اس طرح فرقہ اہل قرآن کی سطحیت کے علی رغم خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔ (آیت) ” ان تنازعتم “۔ ضمیر جمع مخاطب سے مراد اولوالامر اور عام افراد امت ہیں۔ اس تصریح نے یہ حقیقت اور کھول دی کہ حکام وعلما سے عوام کا اختلاف بالکل جائز ہے۔ آخری اپیل کتاب وسنت ہی کی عدالت میں ہونی چاہیے اور وہی ساری شریعت کا ماخذ ہے۔ یہیں سے اس فرقہ کا بھی رد نکل آئے گا جو رسول معصوم کے علاوہ مستقل ائمہ معصوم کا بھی وجو دتسلیم کئے ہوئے ہیں۔ ہر امام وقت، اپنی ساری بزرگیوں کے باوجود بہرحال غیر معصوم ہے۔
182 (اور اس لئے شتر بےمہار نہیں ہو، بلکہ اپنی ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس رکھتے ہو)
183 ۔ یعنی دنیا میں بھی یہی ذریعہ امن و راحت ہے اور آخرت میں بھی وسیلہ نجات وسعادت۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی طریق عمل جس کا ذکر ابھی ہوچکا۔ اصل اور غیر مشروط اطاعت اللہ کی۔ اللہ ہی کے نائب جس کا ذکر ابھی ہوچکا۔ اصل اور غیر مشروط اطاعت اللہ۔ اللہ ہی کے نائب معصوب کی حیثیت سے اطاعت رسول کی۔ اور پھر ان دونوں کے واسطہ سے اور انہیں کی موافقت و سازگاری کے ساتھ مشروط، اطاعت حکام وعلمائے اسلام کی۔
Ayah 4:60184 ۔ مراد یہود اور منافقین ہیں۔ (آیت) ” انزل من قبلک “۔ یعنی توریت (آیت) ” یزعمون “۔ زعم کے اصل معنی مطابق قول کے ہیں۔ خواہ وہ حق ہو یا باطل لیکن عموما اس کا استعمال جھوٹ یا مشکوک بات کے لئے ہوتا۔ الزعم القول الحق والباطل و اکثر مایقال فیما یشک فیہ ولا یتحقق (تاج) واذا شک فیہ فلم یدرلعلہ کذب اوباطل قیل یزعم فلان (لسان) محاورۂ قرآنی میں یہ ہمیشہ ذم ہی کا پہلولئے ہوئے آیا ہے۔ جاء فی القرآن فی کل موضع ذم القائلون بہ (راغب)
185 ۔ (بجائے اس کے کہ اسے شریعت کی عدالت میں لائیں) طاغوت۔ پر حاشیہ پ 3 میں گزر چکا ہے۔ یہاں مراد ہر غیر اللہ کی حکومت واقتدار ہے۔
186 ۔ یعنی اس کی حاکمیت کے تسلیم کرنے سے انکار کردیں۔ اور طاغوت کے اقتدار کے آگے گردن نہ جھکائیں۔
187 ۔ یعنی بنی آدم کے دشمن ازلی شیطان کی تو تمنا ہی یہ رہتی ہے کہ انہیں راہ حق سے زیادہ سے زیادہ دور کردے۔
Ayah 4:61188 ۔ منافقین یوں تو اسلام کے مدعی تھے۔ لیکن جب کبھی کوئی مقدمہ معاملہ آپڑتا تو فیصلہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے بہت ہی گھبراتے کہ یہاں تو بہرحال بلا ردودرعایت دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو کر رہے گا۔ اور کسی قسم کی سخن سازی وخیانت نہ چل سکے گی۔ تعالوا الی الرسول۔ رسول کی طرف آؤ، کہ آپ قانون شریعت کے موافق فیصلہ کردیں۔
Ayah 4:62189 ۔ مثلا یہی کہ ان کی خیانت یا منافقت کا راز کھل گیا، اور اس پر انکی دھڑ پکڑ شروع ہوگئی۔
190 ۔ یعنی جب ان کی دورنگی کھل جاتی ہے اور باز پرس شروع ہوجاتی ہے تو قسمیں کھا کھا کر یقین دلانے لگتے ہیں کہ ہم بھی تو مومن ہیں۔ اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی حاکمیت سے کچھ انکار تھوڑے ہی ہے۔ ہم تو محض نیک نیتی اور فریقین کی خیر خواہی کے خیال سے مقدمہ کو دوسری جگہ لے گئے تھے۔ آیتوں کی شان نزول میں آتا ہے کہ ایک یہودی اور ایک نام کے مسلمان یعنی منافق کے درمیان کسی معاملہ میں جھگڑا ہوا۔ یہودی نے رسول اللہ ﷺ کی دیانت پر اعتماد کرکے کہا کہ چلو وہیں تصفیہ کرائیں۔ منافق کا پہلو کمزور تھا۔ بولا نہیں بلکہ سردار یہود کعب بن اشرف کے پاس چلیں۔ بالآخر مقدمہ رسول اللہ ﷺ ہی کی خدمت میں آیا اور یہاں سے فیصلہ یہودی کے موافق ہوا کہ وہی اس معاملہ میں حق پر تھا۔ منافق نے کہا کہ چلو اب عمر ؓ کے پاس چلیں وہ غالبا اپنے دل میں یہ سمجھا کہ عمر ؓ کی شدت وغلظت کافروں پر بہت بڑھی ہوئی ہے اور میں ظاہر میں تو بہرحال مسلمان ہوں۔ وہاں میری ہی چل جائے گی، آیات میں تلمیح اسی واقعی کی جانب ہے۔ منافقین اپنا یہ عذر پیش کرتے تھے کہ ہم کسی اور کے پاس مقدمہ کچھ اس خیال سے تھوڑے ہی لے جاتے ہیں کہ فیصلہ کا حق رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی اور کو حاصل ہے، بلکہ ہم تو اس لئے لے جاتے ہیں وہاں حق و انصاف و قانون سے زیادہ فریقین کی مصلحت اور دلجوئی پر نظر رہے گی۔
Ayah 4:63191 ۔ (اور ان کے کرتوتوں کو علم خداوندی اور مواخذۂ خداوندی کے حوالہ رکھیے، خود مؤاخذہ سردست نہ فرمائیے) (آیت) ” مافی قلوبھم “۔ یعنی جو کچھ یہ اپنے دلوں میں کفر ونفاق کی قسم سے چھپائے ہوئے ہیں۔
192 ۔ یعنی خاص ان کی اصلاح سے متعلق ان پر کافی مضامین کو تبلیغ کرتے رہیے کہ ان پر حجت الہی قائم رہے (آیت) ” وعظھم “۔ انہیں نصیحت کرتے رہیے جیسا کہ منصب رسالت کا اقتضا ہے۔
Ayah 4:64193 ۔ یہاں یہ ارشاد ہورہا ہے کہ رسول کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ اس کو حاکم اعلی اور مقتدا تسلیم کیا جائے اور امت اسی کے لائے ہوئے قانون اور بتلائی ہوئی شریعت پر چلنا سیکھے، ورنہ محض زبانی رسول مان لینے سے تو کوئی حاصل ہی نہیں۔ (آیت) ” من رسول “۔ میں من زاید تاکید کی غرض سے ہے۔ من زائدۃ للتاکید (قرطبی) (آیت) ” باذن اللہ “۔ اس قید نے واضح کردیا کہ مطاع حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے، رسول ﷺ مطاع اس کے نائب کی حیثیت سے ہوتا ہے۔
194 ۔ (اور ان کی توبہ قبول ہوگئی ہوتی) (آیت) ” اذ ظلموا انفسھم “۔ اپنی جان پر ظلم اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ رسول زندہ سلامت اپنے درمیان موجود اور پھر ان عدالت سے اعراض (آیت) ” فاستغفروا “۔ مغفرت چاہتے اپنے اس گناہ کی اور گناہ نفاق کی (آیت) ” جآؤک “۔ آپ کے پاس ندامت کے ساتھ حاضر ہوتے۔ تقدیر کلام یہاں یوں سمجھی گئی ہے۔ ثم جاؤک فامنوا واستغفروا “۔ استغفار کے لفظ میں خود ایمان کا مفہوم بھی شامل ہے۔ اس لئے امنوا کی تصریح کی ضرورت نہ رہی۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بغیر ایمان لائے محض حاضری ہرگز کافی نہ تھی۔ (آیت) ” واستغفرلھم الرسول “۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایمان کے ساتھ حاضری اور پھر اللہ سے طلب مغفرت، یہ دونوں چیزیں یقیناً آپ ﷺ کے قلب سے اثر متاذی کو دور کردیتیں اور اس کے بجائے انشراح پیدا کردیتیں اور آپ ضرور ان کیلئے مغفرت طلب کرنے لگتے۔ ایک نو پیدا باطل فرقہ کا آیت کے یہ معنی کرنا کہ ” کتاب اللہ بھی انہیں معافی دے دیتی “ لغت اور قرآن دونوں کے ساتھ تمسخر ہے۔
Ayah 4:65195 ۔ (آیت) ” عنداللہ “۔ یعنی اللہ کے ہاں ان کا ایمان اس وقت تک معتبر نہ سمجھا جائے گا۔ ان لوگوں سے مراد وہی منافقین اور اسلام کے ظاہری اور زبانی دعویدار ہیں۔ (آیت) ” فلا وربک “۔ میں لا زائد وتاکید کے معنی میں ہے۔ مزیدۃ لتاکید معنی انفسھم (مدارک)
196 ۔ آیت نے اسے صاف کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں مقدمات محض لے آنا ہرگز ایمان کے لئے کافی نہیں، عقلی واعتقادی حیثیت سے اطمینان بھی رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر ہونا چاہیے۔ ہاں اس کے بعد بھی کوئی طبعی تنگی باقی رہ جائے تو غیر اختیاری ہونے کی بنا پر معاف ہوگی۔ (آیت) ” حتی یحکموک فیما شجربینھم “۔ آپ ﷺ کی حیات مبارک میں تو آپ ﷺ کا حکم بننا ظاہر ہی تاھ۔ بعد وفات آپ ﷺ کی شریعت حکم بننے کے لئے کافی ہے۔ فقہا نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ جو کوئی اللہ یا اس کے رسول اللہ ﷺ کے کسی حکم میں شک وشبہ کرے یا ماننے سے انکار کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ وفی ھذہ الایۃ دلالۃ علی ان من رد شیئا من اوامر اللہ تعالیٰ اواوامر رسول اللہ ﷺ فھو خارج من الاسلام سواء ردہ من جھۃ الشک فیہ اومن جھۃ ترک القبول والا متناع من التسلیم (جصاص)
Ayah 4:66197 ۔ (اور وہی تھوڑے مومن کامل ہوتے) (آیت) ” ان اقتلوا انفسکم اواخرجوا من دیارکم “۔ ایک معنی میں تو دونوں حکم اب بھی موجود ہیں یعنی جہاد و قتال اور ترک وطن یا ہجرت اپنے اپنے موقع پر اور تحقق شرائط پر اب بھی واجب ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اگر یہ احکام خود بھی مقصود بالذات ہوتے اور قتال و ہجرت ہر حال میں فرض ہوتے۔ (آیت) ’ کتبنا علیھم۔ قلیل منھم “۔ یہ علیھم اور منھم “۔ میں ضمیر جمع غائب کس کی جانب ہے ؟ جائز ہے کہ منافقین کی جانب ہو۔ والضمیر قیل یعود علی المنافقین (بحر) لیکن بہتر یہ ہے کہ مطلق انسانوں یا الناس کی جانب مانی جائے۔ لوکتب اللہ علی الناس ماذکر (کبیر) یخبر تعالیٰ عن اکثر الناس (ابن کثیر) (آیت) ” مافعلوہ “۔ ضمیر حکم کی جانب ہے والضمیر للمکذب ودل علیہ کتبنا (بیضاوی) (آیت) ’ الاقلیل “۔ کی ایک قراءت بجائے رفع کے نصب کے ساتھ (آیت) ” الا قلیلا “۔ بھی آئی ہے۔ لیکن ائمہ نحو نے ترجیح اسی مشہور قرأت کو دی ہے۔
198 ۔ (ایمان کے معاملہ میں) یعنی اگر شک، تذبذب، تزلزل کی راہ چھوڑ کر اطاعت رسول میں یکسوئی کے ساتھ لگ جائیں تو انہیں ایمان میں ثبات و استقلال اور اس کی برکتیں از خود نصیب ہونے لگیں۔ ذکر انہی منافقین اور کمزور ایمان والوں کا چل رہا ہے۔ (آیت) ” فعلوا ما یوعظون بہ “۔ یعنی اللہ و رسول اللہ ﷺ کے احکام کی اطاعت اگر انہوں نے بہ دل وجان کرلی ہوتی۔ ای ما یؤمرون بہ من التوبۃ والاخلاص (ابن عباس) من متابعۃ الرسول ﷺ ومطاوعتہ طوعا ورغبا (بیضاوی) (آیت) ” لکان خیرالھم “۔ یعنی دنیوی واخروی انفرادی واجتماعی ہر اعتبار سے ان کے فلاح کی صورت پیدا ہوجاتی۔ (آیت) ” تثبیتا “۔ پہلے یہ بتایا کہ احکام دین پر اگر عمل کرتے تو یہ چیز انہی کے کام آتی اور انہی کے حق میں بہتر ہوتی۔ اب یہ ارشاد ہورہا ہے کہ احکام پر عمل کرنے سے خود قوت ایمانی، ضعیف سے قوی اور قوی سے قوی تر ہوجاتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تجربہ سے ثابت ہے کہ دین کا کام کرتے رہنے سے اعتقاد ویقین کی باطنی کیفیت کو بھی ترقی ہوتی رہتی ہے۔
Ayah 4:67199 ۔ (آخرت میں) (آیت) ” اذا “۔ یعنی اگر انہوں نے احکام خدا اور رسول ﷺ کا اتباع کیا ہوتا اور نتیجۃ انہیں خیر وصلاح بھی حاصل ہوچکتی اور دین میں ثبات و استقامت بھی نصیب ہوچکتی۔ ای لواتبعوا (جلالین)
Ayah 4:68200 ۔ (کہ بےروک ٹوک سیدھے رضاء الہی کے مقام، جنت میں داخل ہوجائیں) اور عجب نہیں کہ اسی کی برکت سے دنیا میں بھی سعی وعمل کی صراط مستقیم ان پر خوب روشن ہو کر رہے۔
Ayah 4:69201 ۔ دنیا کی مادی اور حسی نعمتیں چاہے جتنی بھی ہوں، انسان ان سے لطف ولذت لینے میں کچھ کمی ہی محسوس کرتا ہے۔ اگر ساتھ ہی یاران بزم اور شرکاء صحبت بھی اپنے ہم مذاق اور دل پسند نہ ہوں، یہاں بشارت اسی نعمت عظیم کو مل رہی ہے کہ اہل جنت کو مادی وروحانی ہر قسم کی نعمتوں کے علاوہ صحبت بھی پاکیزہ ترین، بہترین، انسانیت کے بلند ترین مقام پر فائز ہونے والوں کی نصیب ہوگی، (آیت) ” حسن اولئک رفیقا “۔ میں ایک پہلو حیرت کا بھی ہے اور ایس لئے ترجمہ ” کیسے اچھے “ سے کیا گیا ہے۔ فیہ معنی التعجب کانہ قیل وما احسن اولئک رفیقا (کشاف) (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول “۔ اس اطاعت کا تعلق احکام اور واجبات ضروری سے ہے۔ ورنہ اگر فرائض وواجبات کے علاوہ مستحبات، نوافل، تطوعات کا بھی اسی قدر اہتمام ہوجائے تو پھر درجہ ولایت خود ہی حاصل ہوجائے گا اور بہ طور انعام رفاقت اولیاء نصیب ہونے کے کوئی معنی نہ رہیں گے۔ (آیت) ” اولئک مع الذین انعم اللہ علیہم “۔ عینی باوجود اپنے اعمال میں کمی اور کوتاہی رہ جانے کے اور باوجود بالذات ان کاملین سے مرتبہ میں فروتر ہونے کے انہیں ان کاملین کی جنت نصیب ہوجائے گی، (آیت) ” انعم اللہ علیہم “۔ یہ انعام کمال قرب وصول کی صورت میں ہوگا۔ (آیت) ” صدیقین “۔ یعنی بات کے کھرے اور معاملہ کے سچے، ایسے کہ سچائی اور حق پسندی گویا ان کی فطرت میں رچ گئی اور ان کی طبیعت کا جزء بن گئی ہے۔ ایمان کے ہر جزء سے متعلق انکی تصدیق کامل ہوتی ہے۔ ریب وشک کے حدود سے بالاتر۔ کل من صدق بکل الدین لایتخالجہ فیہ شک فھو صدیق (کبیر) البالغ فی الصدق والتصدیق (قرطبی) اردو میں انہی کو اولیاء کہتے ہیں۔ قرب حق میں ان کا نام انبیاء کے بعد ہی ہوتا ہے۔ افضل الخلق ھم الانبیاء (علیہم السلام) وبعد ھم الصدیقون (کبیر) (آیت) ” شھیدآء “ شہید وہ ہے جو دین کی محبت میں اپنی جان تک سے دریغ نہ کرے۔ اور عمل سے ثابت کردے کہ جس چیز پر وہ ایمان لایا تھا، وہ اسے اس قدر عزیز تھی کہ اس کی خاطر اس نے اپنی جان تک قربان کردی۔ (آیت) ” الصلحین “۔ صالحین وہ افراد امت کہلاتے ہیں جو پورے دیندار اور متبع شریعت ہوتے ہیں۔
Ayah 4:70202 ۔ اللہ کا علم حاوی و محیط ہے۔ ان کی نیتوں کو بھی، ان کے عمل کو بھی، ان کے متقضائے عمل کو بھی، (آیت) ” ذلک الفضل من اللہ “۔ یعنی تمام مومنین کو جو کاملین کی معیت ورفاقت نصیب ہوگی، یہ محض فضل خداوندی کا ظہور ہوگا۔ ان کے اعمال کا۔
Ayah 4:71203 ۔ (جیسا موقع اور جیسی مصلحت ہو) قرآن مجید کی اکثر آیتوں کی طرح ان آیتوں کو بھی پوری طرح سمجھنے کے لئے ان کا پس منظر نظر رکھنا ضروری ہے۔ احد میں ابھی حال ہی میں مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی تھی اور مشرکین کی ٹوٹی ہوئی ہمتیں اس سے قدرۃ بڑھ گئی تھیں اور اکیلے قریش مکہ ہی نہیں گردوپیش کے دوسرے قبیلہ بھی متحد ہو کر اسلام کے خلاف زبردست محاذ تیار کرچکے تھے۔ مسلمانوں کی ہمت، ثبات و استقامت کے یہ درس عین اس وقت دیئے جارہے ہیں۔ (آیت) ” خذوا حذرکم “۔ حذر کا مفہوم بہت وسیع وجامع ہے۔ ہر چیز جو دشمن سے بچاؤ کے کام آتی ہے۔ اس میں شامل ہے۔ خواہ ہتھیار ہوں خواہ تدبیریں۔ وقس علی ھذا۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ دشمن کے مقابلہ میں ہر طرح کیل کانٹے سے درست اور آمادہ رہو۔ “ حذرکم ای ما فیہ الحذر من السلاح وغیرہ (راغب) مایحذربہ کالحزم والسلاح (بیضاوی) حذ حذرک ای استعدبانواع ما یستعد بہ للقاء من تلقاہ (بحر)
Ayah 4:72204 ۔ (ایسی کہ جہاد میں شریک بھی نہیں ہوئے تھے۔ المبطؤن منافقوھم تثاقلوا وتخلفوا عن الجھاد (بیضاوی) (آیت) ” منکم “۔ خطاب یہاں مومنین اور ظاہری مومنین (منافقین) کے مجموعہ سے ہے اور اس مضمون کی آیتوں میں قرآن مجید کا عام طریق خطاب یہی ہے۔ الخطاب لعسکر رسول اللہ ﷺ ال مومنین منھم والمنافقین (بیضاوی) انما جمع بینھم فی الخطاب من جھۃ الجنس والنسب لامن جھۃ الایمان (قرطبی)
205 ۔ (نہیں تو میں بھی اسی مصیبت کا شکار ہوتا) (آیت) ” اصابتکم مصیبۃ “۔ مصیبت مثلا جنگ میں شکست۔ (آیت) ” قال قد انعم اللہ “۔ یہ وہ فخر ومسرت کے ساتھ کہتا ہے۔
Ayah 4:73206 ۔ منافقین کی دورنگی اور سیرت منافقانہ کو آشکار کیا ہے کہ مومنین کو جب کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو منافقین اپنی بےتعلقی اور علیحدگی پر جھٹ اپنی مسرت وفخر کا اعلان کرنے لگتے ہیں کہ خوب ہوا جو ہم شریک نہ تھے ورنہ ہم بھی اسی بلا میں پھنستے اور مسلمانوں کو جب فتح ونصرت حاصل ہوتی ہے تو رشک کرنے لگتے ہیں کہ کاش ! مال غنیمت ہمارے حصہ میں بھی آتا۔ (آیت) ” فضل من اللہ “۔ مثلا جنگ میں فتح ونصرت۔ (آیت) ” کان۔۔۔ مودۃ “۔ یعنی اس خود غرضی کے ساتھ کہتا ہے جیسے تم مسلمانوں کی خوشی سے اس منافق کو کوئی تعلق ہی نہیں۔ اور اسے تاسف و حسرت صرف اپنی ہی قوت و دولت پر ہے۔ یہیں سے یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ امت اسلامیہ کی خوشی سے خوش ہونا علامات ایمان میں سے ہے۔ (آیت) ” فافوز فوزا عظیما “۔ منافق کی زبان سے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ میں بھی خوب دولت حاصل کرتا۔ مال غنیمت میں میرا بھی بڑا سا حصہ ہوتا !
Ayah 4:74207 ۔ (اخلاص کامل اور اللہ کی رضا جوئی کی نیت سے) (آیت) ’ فلیقاتل “۔ میںکے معنی ہیں کہ اگر واقعی اسے فوز عظیم ہی منظور ہے۔
208 ۔ یعنی کافروں سے قتال کرے جو دین کی صحیح تعلیم کو بھلائے ہوئے ہیں اور آخرت کے منکر ہیں۔ (آیت) ” یشرون “۔ شراء لغات اضداد میں سے ہے۔ یعنی اس کے معنی خریدنے کے بھی ہیں اور فروخت کرنے کے بھی۔ کچھ اس بنا پر اور کچھ آیت کی ترکیب الفاظ کی بنا پر، آیت کے ایک بالکل دوسرے معنی بھی کئے جاسکتے ہیں اور کئے گئے ہیں۔ یعنی ” وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے عوض میں فروخت کرچکے ہیں۔ “ اور اس صورت میں آیت کا تعلق تمام تر مومنین مخلصین سے ہوگا جو اپنی ہر دنیوی خوشحالی اور کامرانی کو رضاء الہی پر قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ائمہ تفسیر نے دونون ہی پہلو اختیار کئے ہیں۔ وللمفسرین وجھان الاول ان یشرون معناہ یبیعون والقول الثانی معنی قولہ یشرون ای یشترون (کبیر) یشرون بمعنی یشترون ویبیعون (کشاف) نزلت فی المنافقین ومعنی یشرون یشترون وقیل نزلت فی ال مومنین المخلصین ومعنی یشرون یبیعون (معالم)
209 ۔ (آخرت میں) یہ آخرت کا اجر عظیم مجاہدین کے لئے غلبہ اور شکست (کہ اس کی انتہائی صورت کو (آیت) ” فیقتل “۔ سے تعبیر کیا ہے) کہ ہر صورت میں موعود ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ فوز عظیم کو اجر سے تعبیر کرنا وعدہ کے تاکد اور ترتب کے تیقن کے لئے ہے۔
Ayah 4:75210 ۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ یہ اعلاء کلمۃ اللہ تو خود جہاد کا ایک مستقل محرک اور قوی داعی ہے۔ (آیت) ” مالکم “۔ استفہام سے مقصود ترغیب وتحریص ہے اور خطاب مومنین صادقین سے ہے۔ خطاب للمامورین بالقتال علی طریقۃ الالتفات مبالغۃ فی التحریص والحث علیہ وھو المقصود من الاستفھام (روح)
211 ۔ یہ دوسرا داعی جہاد کے لئے ارشاد ہوا۔ کمزوروں کی دستگیری ونصرت اور مظلوموں کی اعانت اور انہیں ظالم کافروں کے پنجہ سے رہائی دلانا بجائے خود مقاصد جہاد میں سے ہے۔ (آیت) ” والمستضعفین “۔ کا عطف لفظ اللہ پر ہے یعنی فی سبیل اللہ والمستضعفین۔ زجاج اور زہری سے یہی ترکیب منقول ہے۔ عطف علی اسم اللہ عزوجل ای وفی سبیل المستضعفین وھذا اختیار الزجاج وقالہ الزھری (قرطبی)
212 ۔ (آیت) ” ھذہ القریۃ “۔ مراد مکہ کا شہر اور مکہ کی حکومت ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ القریۃ ھنا مکۃ باجماع من المتاولین (قرطبی) (آیت) ” الظالم اھلھا “۔ مکہ والے ظالم دہرے معنی میں تھے۔ ایک تو مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھا رہے تھے۔ دوسری طرف شرک کر کر کے خود اپنی جانوں پر بھی ظلم کررہے تھے۔ ووصف اھلھا بالظلم اما لا شراکھم واما کما حصل منہم من شدۃ الوطاۃ علی المومنین واذلالھم (بحر) لاجل انھم کانوا یؤذون المسلمین ویوصلون الیھم انواع المکارہ (کبیر) بالشرک الذی ھو ظلم عظیم وباذیۃ المومینن ومنعھم عن الھجرۃ (روح)
213 ۔ آیت سے ظاہر ہورہا ہے کہ بچوں، عورتوں، مردوں کی ایک خاصی تعداد اسلام لاچکی ہے۔ مگر یہ لوگ سرداران قریش کے تشدد کے مقابلہ میں اپنے کو بےبس پا رہے ہیں۔ نہ دفع ظلم ہی پر قادر ہیں اور ہجرت پر۔ یہاں مناجات اور فریاد انہی لوگوں کی زبان سے ادا ہورہی ہے۔ آیت سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ ظلم وشقاوت سے بچے، عورتیں، بوڑھے کوئی بھی محفوظث نہ تھے۔ (آیت) ” من لدنک “۔ لفظی معنی ہیں ” اپنے پاس سے “ اردو محاورہ میں ایسے موقو پر ” اپنی قدرت سے “ آتا ہے۔ یعنی غیب سے اس کا سامان کردے۔ (آیت) ” ولیا “۔ ایسا دوست وہمدرد جو اس مصیبت میں ہمارے ساتھ رہے۔ ہم سے ہمدردی وغمخواری کرے۔ (آیت) ” نصیرا “۔ ایسا حمایتی جو ان ظالموں سے ہمیں نجات دلائے۔
Ayah 4:76214 ۔ (اور جیسا کہ خود حق تعالیٰ ہر قسم کی نفسانی آمیزش وآلایش سے منزہ وپاک ہے۔ اللہ والوں کا لشکر بھی کبھی عدوان و طغیان، ظلم وخیانت، مے نوشی وبدکاری کے آلات حرب سے مسلح ہو کر جنگ کر ہی نہیں سکتا) (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ کی قید جو بار بار لگائی جارہی ہے۔ بےمعنی نہیں بہت ہی پر معنی ہے۔ درحقیقت یہ آیت سلسلہ جہاد کی آیتوں میں سے ایک کلیدی آیت ہے اس نے صاف صاف اسلامی جہاد کا فرق دنیا جہان کی تمام جنگوں اور جاہلی محاربات سے واضح کردیا۔ اس نے وضاحت کے ساتھ بتادیا کہ سچا مسلمان جب اپنے ابنائے جنس پر ہتھیار اٹھائے گا تو توسیع ملک کے لئے نہیں، قومی تفوق کے لئے نہیں تجارتی منڈیاں قائم کرنے کو نہیں، دوسرے کو نیچا دکھانے کو نہیں دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنے کو نہیں، رشک وہوس اور جاہ پرستی کے جذبات سے متاثر ہو کر نہیں، بلکہ دنیا کے بلند ترین مقصد، انسانیت کے برترین نصب العین، کلمہ توحید کی برتری اور سربلندی کے لئے، رنگ اور نسل، مرزبوم اور قوم وطن اور قبیلہ کی عزت وحمیت پر کٹ مرنے والے، اسلامی نقطہ نظر کی بلندی کو سمجھ بھی سکتے ہیں ؟ اسلامی جہاد جب تک اسلامی جہاد رہا، کیا وہاں بھی کسی لشکر کیلئے ہزاروں من اور سیکڑوں ٹن شرابوں کی ضرورت پڑی ؟ کیا اس لشکر میں بھی سوزاک اور آتشک کے سیکڑوں ہزاروں مریض سپا ہوں اور افسروں کے لئے امراض خبیثہ کے مخصوص اسپتالوں کا انتظام کرنا پڑا ؟۔۔ مسلمان سپاہی کے سینہ میں تو یہ زندہ ایمان رہتا ہے کہ اسے ایک ایک اقدام کا حساب دینا ہے۔ کبھی ان کا قدم ان گندے راستوں پر پڑسکتا ہے ؟
215 ۔ طاغوت کے لفظی معنی پر حاشیہ پ 3 میں گزر چکا۔ یہاں اس لفظ کو لا کر طاغوتی، جاہلی، سپاہیوں کے تمرد، خدا فرموشی، نفس پرستی اور تجاوز عن الحدود کے پہلو کو نمایاں کرنا ہے۔ طاغوت کا ترجمہ اگر اس موقع پر ” نفس “ سے کیا جائے تو اردو میں شاید پورا مفہوم ظاہر ہوجائے۔ طاغوت اور نفس کی راہ میں آج بھی جو قومیں وطن پرستی، قوم پروری، ملکی آزادی کے خوشنمالفظ اور لقب کے ساتھ جنگ کرتی رہتی ہیں، ان کی اخلاقی حالت کا جائز ہ لے لیاجائے، شقاوت و سنگدلی، فریب وخیانت، شراب خواری و حرام کاری جس معیار سے چاہے چانچ لیا جائے جانوروں اور درندوں سے بھی کہیں ابتر حالت نکلے گی، یہ سب کرشمہ (آیت) ” فی سبیل الطاغوت “۔ لڑنے کے ہیں۔ محاسبہ آخرت سے بےنیاز ہو کر جنگ کرنے کے ہیں۔
216 ۔ (سوشیطانی اور طاغوتی قوتوں کو کبھی بھی مستقل اور پائدار فتح حق کے مقابلہ میں نصیب نہیں ہوسکتی) (آیت) ” فقاتلوا اولیآء الشیطن “۔ مسلمانوں کو لڑنے کا حکم مل رہا ہے۔ مگر کس کے مقابلہ میں ؟ شیطانیوں اور طاغویتوں کے مقابلہ میں۔ ان کے مقابلہ میں جو دنیا میں شر و فساد، فسق وشرک ہی کی حکومت پھیلانا چاہتے ہیں۔ (آیت) ” ان کیدالشیطن کان ضیعفا “۔ اس میں مسلمانوں کو ہمت دلائی ہے کہ شیطان کوئی ڈرنے اور سہمنے کی چیز نہیں وہ تم پر حاکم وآمر نہیں۔ تم ذرا ہمت کرجاؤ تو وہ خود تم سے پناہ مانگتا ہوا بھاگے گا۔ اس میں جان تو ہے ہی نہیں، حربی زندگی سے قطع نظر، اخلاق ومعاشرت، معاملات و عبادات کے میدان میں بھی شیطان سے مقابلہ کرلینا کچھ دشوار نہیں۔ ضرورت صرف ہمت کی ہے۔