4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو انصاف پر خوب قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے رہو،355 ۔ چاہے وہ تمہارے یا (تمہارے) والدین اور عزیزوں کے خلاف ہی ہو،356 ۔ وہ امیر ہو یا مفلس اللہ (بہر حال) دونوں سے زیادہ حقدار ہے،357 ۔ تو خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا،358 ۔ کہ (حق سے) ہٹ جاؤ،359 ۔ اور اگر تم کجی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے خوب خبردار ہے،360 ۔

355 ۔ (اپنے تمام معاملات میں) احکام کی تعمیل میں اور زندگی کے مختلف معاملات میں بار بار ترغیب راہ حق ودیانت سے ہٹنے کی ہوتی رہتی ہے اور کہیں اپنے ذاتی نقصان کے خیال سے، کہیں بزرگوں، عزیزوں کی مروت اور خاطر سے قدم کو بار بار لغزش ہونے لگتی ہے۔ یہاں تاکید ہے کہ ایسے تمام موقعوں پر حق ودیانت پر قائم رہو۔ (آیت) ” شھدآء للہ “۔ اس کے ایک معنی تو یہی ہیں کہ گواہی سے مقصود اللہ رضاجوئی ہے۔ ای تقیمون الشھادات لوجہ اللہ (بیضاوی) ای لا یراعی فی الشھادۃ الا جھۃ اللہ (بحر) لذات اللہ ولو جھہ ولمرضاتہ وثوابہ (قرطبی) اور دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ” اللہ کے گواہ بن جاؤ “۔ یعنی تمہاری شہادت شہادت الہی کے قائم مقام ہوجائے۔ فقہاء نے یہی معنی لے کر استنباط یہ کیا ہے کہ جو امر گواہوں سے ثابت ہوجائے، وہی قطعی ہے۔ اور اس کی مخالفت جائز نہیں۔ چناچہ قاضی اگر معتبر آدمیوں کی شہادت پر مدعی کو ڈگری دے دے اور مدعی علیہ خوب علم رکھتا ہو کہ حق مدعی کا نہیں اور فیصلہ غلط اور نا منصفانہ ہوا ہے۔ تاہم اگر وہ تعمیل نہ کرے گا تو قاضی اسلام کی مخالفت اور گواہوں کی تکذیب کا مجرم ہوگا۔ 356 ۔ یعنی مروت اور رعایت نہ خود اپنی کرو نہ اپنے کسی بزرگ کی نہ کسی عزیز کی، بلکہ صرف اللہ کی اور حق وصداقت کی۔ قرآن مجید پر عامل مسلمان، حلفیہ شہادت کا ذکر نہیں، بلاحلف بھی کبھی جھوٹی گواہی کا مرتکب ہوسکتا ہے ؟ حکم عام ہے ہر قسم کی گواہی کے لئے۔ صرف مالی اور عدالتی معاملات کی حد تک محدود نہیں، محققین لکھتے ہیں کہ اس کے پورے مصداق تو حضرات محدثین ہوئے ہیں کہ انہوں نے روایات حدیث کے باب میں کسی کی ذرارعایت نہ کی۔ اسی لئے وہ اللہ کے گواہ بن گئے۔ اور ان کی روایتوں پر دین کے ایک حصہ کا مدارٹھیر گیا۔ 357 ۔ یعنی جس کے خلاف آکر تمہاری سچی گواہی پڑ رہی ہے اور اس کی خاطر تم سچے اظہار سے بچنا چاہتے ہو، اس پر جتنا حق تمہارا ہے، اس سے کہیں بڑھ کر حق اللہ کا ہے جھوٹی گواہی کے محرک عموما دو ہی ہوتے ہیں، فریق اگر امیر ہے تو اس کا دباؤ لحاظ، مروت اورا گر غریب ہے تو اس کے ساتھ جذبہ ہمدردی، یہاں دونوں کی جڑ کاٹ دی ہے۔ اور بتایا ہے کہ دونوں صورتوں میں، جتنا تمہارا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر اللہ کا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ 358 ۔ (ادائے شہادت میں) تاکید ہے کہ شہادت بالکل واقعہ کے مطابق ہونا چاہیے شاہد کے ذاتی رجحانات کا دخل بھی نہ آنے پائے۔ 359 ۔ یعنی ذاتی رجحانات کو دخل دینے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ قدم راہ حق سے ادھر یا ادھر ہوجائے گا۔ (آیت) ” ان تعدلوا “۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ ان لا تعدلوا (جلالین) ای مخافۃ ان تعدلوا (ابو سعود) 360 ۔ ہر معصیت، ہر بداخلاقی کی طرح ادائے شہادت کی بھی ہر بےعنوانی سے روکنے کا سب سے زیادہ مؤثر طریقہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہمہ بینی، ہمہ دانی کا استحضار ہے۔ جتنا یہ عقیدہ قوی، زندہ اور تازہ ہوگا، اسی قدر سخت پہرہ انسان کے نفس پر قائم رہے گا۔ (آیت) ” ان تلوا “ یعنی شہادت دی تو جائے لیکن بدیانتی، خیانت اور ایچ پیچ کے ساتھ۔ (آیت) ” تعرضوا “۔ یعنی سرے سے شہادت ہی نہ دی جائے۔
Ayah 4:136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول اور (اس) کتاب پر ایمان لاؤ جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس (جنس) کتاب پر بھی جو وہ اس سے قبل نازل کرچکا ہے،361 ۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور قیامت کے دن سے کفر کرتا ہے وہ گمراہی میں بہت دور جاپڑا ہے،362 ۔

361 ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ آیت میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو کلمہ اسلام پڑھ کر اجمالا تو ایمان لاچکے ہیں اور اسی لئے لقب مومنین سے مشرف ہیں اور انہی کو تاکید ہورہی ہے کہ تفصیل کے ساتھ ایمانیات کے ایک ایک جزء پر اپنا عقیدہ مضبوط کریں (آیت) ” امنوا باللہ “۔ یعنی اللہ کی ذات وصفات پر، اس کی اور توحید کے تضمنات پر بہ تفصیل ایمان لاؤ (آیت) ” ورسولہ “۔ رسول ﷺ پر ایمان لانے کے معنی ہیں کہ اس کی شریعت کے ہر ہر جزء کو بےچون وچرامان لیاجائے (آیت) ” الکتب الذی انزل من قبل “۔ مراد یہاں جنس کتاب ہے۔ یعنی ان کتابوں پر ایمان لایا جائے جو قرآن سے قبل نازل ہوچکی ہیں۔ المراد بہ جنس ما انزل علی الانبیاء قبلہ من الکتب (کشاف) نزلت فی جمیع ال مومنین والمعنی یا ایھا الذین صدقوا اقیموا علی تصدیقکم واثبتوا علیہ (قرطبی) یایھا الذین امنوا بحسب الاستدلالات الجمیلۃ امنوا بحسب الدلائل التفصیلیۃ (کبیر) 362 ۔ ان میں سے ہر ہر عقیدہ پر فردا فردا ایمان لانا ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک عقیدہ سے بھی انکار دائرہ اسلام سے خارج کردینے کے لئے کافی ہے۔ ویہاں چاروں جگہ ” او “ کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” یکفر باللہ “۔ اللہ کی ذات سے انکار کی طرح اس کی صفات سے بھی انکار داخل کفر ہے۔ (آیت) ” وملٓئکتہ “۔ بجائے فرشتوں کے جاہلی قوموں کی طرح دیوتاؤں کو ماننا فرشتوں ہی سے کفر کی ایک شکل ہے (آیت) ” وکتبہ “۔ جاہلی مشرک قومیں چونکہ عقیدہ وحی سے محروم ہیں، اس لئے کتب آسمانی کی بھی قائل نہیں۔ (آیت) ” ورسلہ “۔ بجائے پیغمبروں کے اوتاروں یا خدا کے مظہروں کو ماننا رسولوں سے کفر کرنا ہے ای من یکفر بشیء من ذلک (بیضاوی۔ بحر مدارک) لان الفر ببعضہ کفر بلکہ (مدارک)
Ayah 4:137

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں ترقی کرتے گئے اللہ ہرگز نہ ان کی مغفرت کرے گا اور نہ انہیں سیدھی راہ دکھائے گا،363 ۔

363 ۔ (جنت وہدایت کی) ذکر ان لوگوں کا ہے جو اسلام پر قائم نہ رہے بلکہ مرتد ہوگئے۔ اور دوبارہ ایمان لاکر پھر بھی ایمان پر قائم نہ رہے۔ اور توبہ نہ کی، بلکہ اسی حالت کفر و ارتداد پر ختم ہوگئے۔ مگر متعین طور پر کون گروہ مراد ہے ؟ ایک قول ہے کہ یہود مراد ہیں۔ پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ پھر انہی کی زندگی میں گوسالہ پرستی کی اور کافر ہوگئے۔ تائب ہوئے اور ان کی ذریت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے انکار کرکے پھر کافر ہوگئی، اور آخر میں رسول اللہ ﷺ سے انکار کرکے اپنا کفر بڑھاتے ہی رہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مرتدین کا کوئی خاص گروہ مراد ہے۔ جو مکرر مرتد ہوا اور آخر تک مرتد رہا۔ تیسرا قول اور یہ سب سے زیادہ لگتا ہوا ہے۔ یہ ہے کہ مراد منافقین ومتردودین ومذبذبین ہیں اور مقصود ان کے ترددوتذبذب کا اظہار ہے نہ کہ ان کے ارتداد کا تعدد۔ سیاق قرآنی بھی منافقین ہی کو چاہتا ہے۔ کنا نحسبھم المنافقین ویدخل فی ذلک من کان مثلھم (ابن جریر، عن مجاہد) ھولآء المنافقون (ابن جریر۔ عن ابن زید) روی عن ابن عباس ان الایۃ فی المترددین (بحر) لیس المراد بیان ھذا العدد بل المراد ترددھم کما قال مذبذبین بین ذلک (کبیر عن القفال) جعلھا ابن عباس عامۃ لکل منافق فی عہدہ ﷺ فی البر والبحر (روح) (آیت) ” لم یکن اللہ لیغفر لھم “۔ بہ ظاہر نفی تاکید ہے۔ حالانکہ واقعۃ تاکید نفی کے لئے ہے۔ ان نفی التاکید اذا ذکر علی سبیل التھکم کان المراد منہ المبالغۃ فی تاکید النفی (کبیر)
Ayah 4:138

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

آپ منافقین کو سنا دیجئے کہ ان کے لیے عذاب دردناک ہے،364 ۔

364 ۔ (آیت) ” بشر “ تبشیر کے معنی ہمیشہ خوشخبری ہی کے نہیں ہوتے۔ لغت میں عام ہے ہر ایسی خبر کے لئے جس کا اثر چہرہ سے ظاہر ہونے لگے۔ التبشیر الاخبار بما یظھر اثرہ علی البشرۃ (قرطبی) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بشارت یہاں طنز وزجر کے معنی میں ہو۔ اور عرب ایسے موقع پر ایسا ہی استعمال کرتے ہیں۔ قولہ بشرتھکم بھم والعرب تقول تحیتک الضرب وعتابک السیف (کبیر) ذلک قول الشاعر تحیۃ بینھم ضرب وجیع اردو میں تو طنزیہ موقع پر کہتے ہیں۔ لو، اب اپنا انعام لو۔ اب تو مزہ پایا، اب دیکھواپنا تماشا۔
Ayah 4:139

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

(یعنی وہ لوگ) جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائے ہوئے ہیں کیا ان کے پاس عزت کی تلاش کررہے ہو سو عزت تو ساری اللہ ہی کی ہے،365 ۔

365 ۔ یعنی اعزاز تو تمام تر اللہ کی ملک اور قبضہ میں ہے۔ وہ جسے چاہے معزز بنا دے۔ منکرین کے بڑے بڑے امراء و رؤسا تک حقیقی عزت سے خالی ہیں (آیت) ” یتخذون الکفرین “ یعنی یہ مناقین اہل ایمان کے سے دلی عقائد تو کیا رکھتے۔ ظاہری تعلقات بھی ان سے قائم نہ رکھ سکے۔ اور بجائے ان کے الٹے کافروں سے لگے لپٹے ہوئے ہیں، فقہاء نے آیت سے نکالا ہے کہ منکروں اور کافروں سے بلا ضرورت میل جول، خلاملا، ان کی وضع قطع بلاضرورت بنانا، ان کا فیشن اختیار کرنا، ان کے لباس، تمدن ومعاشرت کو فخر وعزت کی چیز سمجھنا یہ سب داخل نفاق ہے۔
Ayah 4:140

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور وہ تمہارے اوپر یہ (فرمان) کتاب میں نازل ہی کرچکا ہے کہ جب تم اللہ کی نشانیوں کے ساتھ کفر اور تمسخر ہوتا ہواسنو تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں کہ اس حال میں یقیناً تم بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے،366 ۔ بیشک اللہ دوزخ میں منافقوں اور کافروں سب کو اکٹھا کرے گا،367 ۔

366 ۔ (نفس معصیت میں) یہ مثلیت اور یکسانی نفس معصیت میں ہوگی۔ رونہ منکرین کا استہزاء ظاہر ہے کہ کفر اعتقادی سے پیدا ہوتا ہے۔ ای فی الذر اذا مکثتم معھم ولم یرد بہ التمثیل من کل وجہ فان خوض المنافقین فیہ کفر ومکث ھولآء معھم معصیۃ (مدارک) ای فی العصیان وان لم تبلغ معصیتھم منزلۃ الکفر (جصاص) (آیت) ” فی الکتب “۔ حوالہ اسی کتاب قرآن کا ہے۔ واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ (سورۂ انعام آیت 67) یہ سورة نساء مدنی ہے اور سورة انعام اس سے بہت قبل کی مکی ہے۔ (آیت) ” ایت اللہ “۔ اللہ کی نشانیوں کا لفظ عام ہے۔ قرآن مجید کی آیتیں بھی انہی میں شامل ہیں۔ حکم کی تکرار یعنی ایک بار مکہ میں نزول اور دوبارہ مدینہ میں، حکم کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ کفر اور تمسخر کرنے والے تھے کون لوگ ؟ مکہ میں تو مشرکین تھے اور مدینہ میں یہ ود اور منافقین۔ آیت کا حکم عام ہے۔ بےدینی کا ہر مشغلہ، کفر و انکار کا ہر مظاہرہ اس کے تحت میں آجاتا ہے۔ مسیحی یا ہندوانہ تعلیمی، تہذیبی، معاشرتی وسیاسی ماحول کے جو گہرے اثرات طبعی طور پر مسلمانوں پر پڑ رہے ہیں، وہ سب اس وعید کے ماتحت آجاتے ہیں۔ اپنے شعائر و اصول دین پر مضحکہ سنتے رہنا خواہ وہ اسکولوں اور کالجوں میں ہو یا بازاروں اور میلوں میں یا تھیڑوں اور سینماؤں میں، یوں بھی بہرصورت بڑی بےغیرتی کی بات ہے۔ (آیت) ” حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ فاسقوں کی مجلس میں شرکت، جس وقت وہ فسق میں نہ مشغول ہوں جائز ہے مگر کراہت کے ساتھ۔ 367 ۔ (کہ آخرت میں ایک کا چھپا ہوا اور ڈھکا ہوا کفر اور دوسرے کا کھلا ہوا کفر دونوں یکساں روشن وظاہر ہوں گے) اسی سے یہ تعلیم بھی نکلتی ہے کہ اصلی جوڑ اور ساتھ کافروں اور منافقوں کا ہے۔ حقیقۃ مناسبت انہی دونوں کے درمیان باہم ہے۔ پاک و صالح انسانوں یعنی مسلمانوں کا ان لوگوں کے ساتھ مجلسی اختلاط ہی کیسا ؟ جامع “ یہاں مضارع یجمع کے معنی میں ہے۔ الاصل جامع بالتنوین محذوف استخفافا فانہ بمعنی یجمع (قرطبی)
Ayah 4:141

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

(یہ وہ لوگ ہیں) جو تمہارے لئے مصیبت کے منتظر رہتے ہیں تو اگر تمہیں اللہ کی جانب سے فتح حاصل ہوگئی تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کو حصہ مل گیا تو (ان سے) کہنے لگتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا نہیں لیا،368 ۔ تو اللہ ہی تم (سب) لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا،369 ۔ اور اللہ کافروں کا ہرگز مومنوں پر غلبہ نہ ہونے دے گا،370 ۔

368 ۔ منافقین کی پوری ذہنیت آشکارو بےنقاب کی جارہی ہے۔ ان لوگوں کا بھی عجب حال تھا۔ جب جنگ چھڑتی تو منافقین کا گروہ لشکر اسلامی کے ساتھ ساتھ ہوتا اگرچہ کافروں سے قتال نہ کرتا یا برائے نام ہی کرتا تو اگر مسلمانوں کو فتح ہوجاتی تو یہ مسلمانوں کے پاس آکر اپنی شرکت، معیت ورفاقت کا حق جتلاتے اور مال غنیمت وغیرہ میں سے اپنا حصہ طلب کرتے۔ لیکن اگر اس کے برعکس کبھی اتفاق سے کافروں ہی کے ہاتھ میدان رہتا تو یہ جھٹ ان کے پاس جاکر ان پر اپنا احسان رکھتے کہ دیکھو فلاں موقع پر لشکر اسلامی کا پلہ بھاری ہورہا تھا۔ اور تم شکست کھانے ہی کو تھے کہ ہم آڑے آگئے ہم نے اپنی کوشش وتدبیر سے تمہارا پلہ وزن دار کردیا اور ہاری ہوئی لڑائی جتا دی، تو اب ہمارا حصہ دلواؤ۔ حربی کافروں سے مسلمانوں کی مخبری کرنا، جاسوسی کرنا سب اسی کے تحت میں آجاتا ہے۔ (آیت) ” یتربصون بکم “۔ یعنی تمہارے لئے آفت ومصیبت کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ای ینتظرون بکم یعنی الدوائر والشدۃ (ابن عباس) (آیت) ” الم نکن معکم “۔ معیت کا تعلق سفر جہاد سے ہے (آیت) ” الم نستحوذ علیکم “ یہاں صیغہ جمع متکلم میں منافقین اپنے کو مجموعہ لشکر اسلام میں شامل کررہے ہیں۔ آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ منافقین کو مال غنیمت میں حصہ نہیں ملتا تھا جب وہی وہ اسے مانگتے اور اس کے لئے مطالبہ کرتے۔ والایۃ تدل علی ان المنافقین کانوا لا یعطونھم الغنیمۃ ولھذا طلبوھا (قرطبی) فتح کے لفظ میں شان و عظمت ہے۔ اس لئے مسلمانوں کی کامیابی کو اس سے تعبیر کیا گیا اور نصیب میں حقارت اور پستی ہے۔ اس لئے کافروں کی کامیابی کے لئے یہ لفظ دیا گیا۔ سمی ظفر المسلمین فتحا تعظیما لشان المسلمین وسمی ظفر الکافرین نصیبا تخسیسا لحظ الکافرین (کشاف) 369 ۔ یعنی آج تو اظہار اسلام کرکے ہر قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں اور مسلمانوں میں مل جلے رہتے ہیں لیکن قیامت میں کیا کریں گے۔ وہاں تو ان کا کفر علانیہ ظاہر ہوگا اور یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہو کر رہیں گے۔ 370 ۔ (اپنے اسی آخری اور اخروی فیصلہ میں) آخرت دارالجزاء ہے۔ وہاں اس دارالعمل کی طرح کسی تکوینی امتحان التباس و اشتباہ کی گنجائش نہیں وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی بہرحال و صورت الگ ہو کر رہے گا، دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اسی دنیا میں کافروں کو مومنوں پر غالب نہ آنے دے گا، حجت عقلی وشرعی کے لحاظ سے۔ قال علی ؓ معنی یوم القیمۃ یوم الحکم وکذاقال ابن عباس ؓ ذاک یوم القیمۃ قال ابن عطیۃ وبھذا قال جمیع اھل التاویل (قرطبی) المراد بالسبیل الحجۃ (بیضاوی) ای حجۃ شرعیۃ لاعقلیۃ (بحر) ای حجۃ عقلیۃ ولا شرعیۃ یستظھرون بھا الاابطلت ودحضت (قرطبی) اس نفی غلبہ وولایت کفار کا تعلق اسی عالم تکوینی سے مان کر بعض فقہاء نے اس سے ذیل کے استنباطات کئے ہیں :۔ ( 1) کافر کی گواہی اگر مسلمان کے مضر پڑ رہی ہو تو قبول نہ کی جائے گی۔ (2) کافر کی ولایت کسی مسلم نابالغ کے نکاح میں جائز نہ ہوگی۔ (3) کافر کو کسی مسلمان کی وراثت نہ پہنچے گی۔
Ayah 4:142

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

بیشک منافقین تو اللہ سے چال چل رہے ہیں حالانکہ اللہ انہی کی چالوں کو ان پر الٹ رہا ہے،371 ۔ اور یہ لوگ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت ہی کاہلی سے کھڑے ہوتے ہیں (صرف) لوگوں کو دکھاتے ہیں، اور اللہ کی یاد کچھ یوں ہی سی کرتے ہیں،372 ۔

371 ۔ (انکی چالوں کو ناکام دیکھ کر، انکی چالوں کی سزا ان کو دے دے کر) (آیت) ” یخدعون اللہ “۔ یعنی اپنے اسلام کا جھوٹا اقرار کرکے اللہ تک کو دھوکا دینا چاہتے ہیں اور اپنے حمق سے یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ جس طرح دنیا میں ان کے ساتھ معاملہ ہورہا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی ہوگا (آیت) ” وھو خادعھم “ خداع کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے تو اس سے مراد مجازات خداع ہوتی ہے۔ ال خداع من اللہ مجازاتھم علی خدا عھم اولیاء ہ ورسلہ (قرطبی) سمی الجزاء علی العمل باسمہ علی مجاوزۃ الکلام (جصاص) ای یجازیھم بالعقاب علی خدا عھم (کبیر) ای ھو الذی یستدرجھم فی طغیانھم وضلاتھم ویخذلھم عن الحق والوصول الیہ فی الدنیا وکذلک یوم القیمۃ (ابن کثیر) 372 ۔ یعنی یہ منافقین اول تو نماز پڑھتے ہی کہاں ہیں۔ جب مسلمانوں کے مجمع میں شرما شرمی پڑھنا ہی پڑی، تو صرف ہئیت ظاہری کے لحاظ سے کچھ دیر اٹھک بیٹھک سی کرلی (آیت) ” قاموا کسالی “۔ عبادت میں نشاط، مستعدی اور چستی تو صرف ایمان و اعتقاد کی قوت سے پیدا ہوتی ہے۔ جب سرے سے یہی مفقود ہے تو ظاہر ہے کہ کاہلی اور بدہمتی کیسے نہ پیدا ہوتی۔ یہاں تو مقصود تمام ترظاہرداری تھی، خلقت کی نظر میں اپنے کو مسلمان ظاہر کرنا، (آیت) ” الا قلیلا “ عارفین نے کہا ہے کہ یہ عمل قلیل ہی اگر اللہ کے لئے ہوتا تو اللہ اسے کثیر ہی قرار دیتا۔ قال الحسن لوکان ذلک القلیل اللہ تعالیٰ لکان کثیرا (مدارک) انما سماہ قلیلا لانہ لغیر وجہہ فھو قلیل فی المعنی وان کثر الفعل منھم (جصاص) (آیت) ” یرآء ون الناس “ محض لوگوں کے دکھاوے کو، تاکہ یہ بھی مسلمان ہی سمجھے جائیں اور ان کے ساتھ بھی مسلمانوں ہی کی سی مراعات ہوتی رہے۔ ریا کے معنی ہیں کسی اچھی چیز کو دکھاوے کیلئے اختیار کرنا نہ کہ حکم الہی کی تعمیل میں۔ الریاء اظھار الجمیل لیراہ الناس لالا تباع امر اللہ (قرطبی) (آیت) ” اذا قاموا الی الصلوۃ “ جب نماز جیسے اہم ترین رکن اسلام کے ساتھ یہ معاملہ ہے تو دوسری عبادتوں کے ساتھ جو معاملہ ہوگا ظاہر ہی ہے۔ نماز کی تصریح خصوصیت کے ساتھ اس لئے کی گئی ہے کہ اعمال میں نماز ہی ایمان واسلام کا ظاہری معیار ہے۔ فقہاء نے کہا ہے کہ جس نماز ریائی کا یہاں ذکر ہے اور جو معصیت کے درجہ میں ہے اور جس نماز کا دہرانا لازم ہے وہ وہ ہے جو عقیدہ کے بغیر لوگوں کو دھوکے میں ڈالنے کے لئے پڑھی جائے کہ اس سے اسے لوگ مسلمان سمجھنے لگیں، باقی جو نماز اس ارادہ سے پڑھی جائے کہ لوگ اسے دیکھ کر اس کے مومن اور مقبول الشھادۃ ہونے کی اور اس کے جواز امانت کی شہادت دیں تو ایسی نماز اس وعید کے تحت میں نہیں آتی۔ یعنی انھم یفعلونھا لیراھا الناس وھم یشھدو نھا لغوافھذا ھو الریاء والشرک فاما ان صلاھا لیراھا الناس یعنی ویرونہ فیھا فیشھدون لہ بالایمان فلیس ذلک الریاء المنھی عنہ وکذلک لوارادبھا طلب المنزلۃ والظھور لقبول الشھادۃ وجواز الامانۃ لم یکن علیہ حرج وانما الریاء ولمعصیۃ ان یظھرھا صیدا للدنیا وطریقا الی الاکل بھا فھذہ نیۃ لاتجزی علیہ الاعادۃ (ابن عربی)
Ayah 4:143

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

درمیان ہی میں معلق نہ (پورے) ادھر ہی کے ہیں نہ (پورے) ادھر ہی کے اور جسے اللہ گمراہ رکھے تو اس کے لئے تو کوئی راہ نہ پائے گا،373 ۔

373 ۔ (ایمان اور ہدایت کی) (آیت) ” مذبذبین بین ذلک “۔ یعنی کافروں اور مومنوں کے درمیان (آیت) ” لاالی ھولآء ولآء الی ھؤلآء یعنی ظاہر اور صورت کے اعتبار سے مومن اور معنی اور معنی اور حقیقت کے لحاظ سے کافر۔ (آیت) ” ومن یضلل اللہ “۔ اللہ کا یہ فعل اضلال اس کی سنت تکوینی کے مطابق ہے جس کے ماتحت وہ ہر عزم عمل پر عمل کا ترتب کردیتا ہے۔
Ayah 4:144

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کی حجت صریح قائم کرلو ؟ ،374 ۔

374 ۔ (اپنے مجرم اور مستحق سزا ہونے کی) اتنی صریح وعیدوں کے باوجود ہم لوگ جو بلاضرورت ہر قسم کے غیر مسلموں، بےدینوں، بددینوں سے دوستی اور صحبت کے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں تو ہم لوگوں کا کیا انجام ہونا ہے۔ اللھم احفظنا۔ (آیت) ” لاتتخذوا الکفرین اولیآء کافروں کے تحت میں پوری طرح وہ چھپے ہوئے کافر بھی داخل ہیں جنہیں منافقین کہا گیا ہے۔ اقتضت الایۃ النھی عن الاستنصار بالکفار والاستعانۃ بھم والرکون الیھم والثقۃ بھم (جصاص) فقہاء حنفیہ نے ذمیوں کو وکیل مال بنانا اور ان سے شرکت تجارت (مضاربت) میں کراہت کی ہے۔ وقد کرہ اصحابنا توکیل الذمی فی الشری والبیع ودفع المال الیہ مضاربۃ وھذہ الایۃ دالۃ علی صحۃ ھذا القول (جصاص)
Ayah 4:145

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

یقیناً منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہوں گے اور تو ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا،375 ۔

375 ۔ (کہ انہیں بچا سکے یا انکی سزا کچھ ہلکی ہی کراسکے) (آیت) ” فی الدرک الاسفل “۔ ہر منافق اصلا کافرہی ہوتا ہے۔ منافق کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے جرم کفر پر ایک مزید جرم مکروفریب کا اضافہ کئے ہوئے ہے اس لئے اگر اسے کھلے ہوئے کافر سے سخت تو سزا ملے تو یہ عین متقضائے عمل ہے۔ (آیت) ” ولن تجدلھم نصیرا “ سے فقہاء مفسرین نے محض گناہگاروں کی شفاعت پر استدلال کیا ہے۔ اور تقریر استدلال یہ ہے کہ عدم نصرت کی تہدید چونکہ اہل نفاق کے لئے مخصوص ہے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ جو منافق نہ ہوں گے، ان کی نصرت وشفاعت ہوسکے گی، واحتج اصحابنا بھذا علی اثبات الشفاعۃ فی حق الفساق من اھل الصلوۃ (کبیر)
Ayah 4:146

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

البتہ جو لوگ توبہ کرلیں اور (اپنی) اصلاح کرلیں اور اللہ کا سہارا پکڑے رہیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کرلیں تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے،376 ۔ اور اللہ مومنوں کو عنقریب اجر عظیم دے گا،377 ۔

376 ۔ (جنت اور درجات جنت میں) مومنین کے ساتھ ان نئے تائبین کا ذکر لانے سے مومنین ہی کی تکریم اور شرف مرتبت نکلتی ہے۔ اوقع اجر المومنین فی التشریف لانضمام المنافقین الیھم (کبیر) مع المومنین کے معنی من المومنین کے بھی کئے گئے ہیں، قال الفراء ای من المومنین (قرطبی) (آیت) ” تابوا “۔ یعنی اپنے عقائد شرک وکفر سے توبہ کرلیں۔ (آیت) ” اصلحوا “ یعنی اپنے افعال واحوال کو شریعت کے مطابق وماتحت کرلیں۔ (آیت) ’ واعتصموا باللہ “۔ اور اس اعتصام باللہ کے تحقق کیلئے کافروں کی رفاقت کا ترک لازمی ہے۔ (آیت) ” اخلصوا دینھم للہ “۔ اللہ کے ساتھ اخلاص کی یہ شرط منافقت کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ فقہاء نے آیت کے اس جرء سے یہ نکالا ہے کہ اعمال تقرب و عبادت ہر قسم کے شائبہ ریا اور ہر قسم کے دنیوی معاوضہ ونفع سے خالی ہونا چاہیے۔ یدل علی ان کل ما کان من امر الدین علی منھاج الحق فسبیلہ ان یکون خالصا للہ سالمامن شوب الریاء وطلب عرض من الدنیا (جصاص) اور یہ بھی نکالا ہے کہ نماز اذان وحج وغیرہ اعمال عبادات پر معاوضہ قبول کرنا جائز نہیں۔ ھذا یدل علی امتناع جواز اخذ شیء من اعراض الدنیا علی ما سبیلہ ان لایفعل الاعلی وجہ القربۃ من نحو الصلوۃ والاذان والحج (جصاص) پوری آیت کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ منافقین جو اس قدر وعیدوں کے مستحق ہیں۔ وہ بھی اللہ کی رحمت ومغفرت سے ہمیشہ کے لئے مایوس نہ ہوجائیں، توبہ اور اصلاح حال تو ان کی اپنی اختیاری چیز ہے۔ جب اور جس وقت چاہیں، سیدھی راہ اختیار کرکے مومنین کی معیت حاصل کرسکتے ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا گناہ بھی ایسا نہیں جو موروثی یا پیدائشی ہو یا اب ناقابل اصلاح وتلافی ہو۔ 377 ۔ (اور جب یہ تائبین اور نو مسلمین، مومنین کے ساتھ ہوئے تو ظاہر ہے کہ اجر عظیم ان کے حصہ میں بھی آکر رہے گا) اس میں سبق ہے ان خاندانی اور پشتینی مسلمانوں کے لئے جو آج ہر کفر وفسق سے تائب نو مسلم یا نوصالح کو حقارت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ اسلامی اور ایمانی برادری میں نئے شامل ہونے والے بھائی ہیں جو اور زیادہ عزت واکرام کے مستحق ہوتے ہیں۔
Ayah 4:147

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اللہ کو تمہارے عذاب سے کیا کرنا ہے، اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لے آؤ اللہ تو بڑا قدر دان ہے بڑا علم والا ہے،378 ۔

378 ۔ خطاب منافقوں سے ہے، انہیں بتایا ہے کہ تمہاری سزا دینے پر اللہ تعالیٰ کا کوئی کام تو معلق ہے نہیں۔ یہ تو محض تمہارا کفر اور کفران نعمت ہے جو تمہیں جنت کی نعمتوں سے استفادہ کے ناقابل بنائے ہوئے ہے۔ اگر اپنے ان عقائد کو چھوڑ دو تو رحمت حق تو خود بخود تمہیں آلے گی۔ اس میں یہ تعلیم بھی آگئی کہ اسلام کا خدا مشرک اور جاہلی قوموں کے خونخوار وسفاک دیوی دیوتاؤں کی طرح نہیں جسے بندوں کے آزار دہی ہی میں لطف آرہا ہے۔ (آیت) ” شاکرا “۔ یعنی خدمت اور عبودیت اور اخلاص کا قدر دان۔ (آیت) ” علیما “۔ یعنی ہر ایک کے درجہ اخلاص سے واقف۔ آیت سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ مومن شاکر عذاب الہی سے بالکل دور رہے گا۔ فقہاء مفسرین نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ صاحب کبیرہ پر عذاب نہیں ہے قال اصحابنا دلت ھذا الایۃ علی انہ لا یعذب صاحب الکبیرۃ (کبیر)
Ayah 4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ منہ پھوڑ کر برائی کرنے کو (کسی کے لئے بھی) پسند نہیں کرتا سوا مظلوم کے، اور اللہ تو ہے ہی خوب سننے والا، خوج جاننے والا،379 ۔

379 ۔ آیت نے اخلاق کی اصطلاح میں غیبت وبدگوئی کو اور قانون کی زبان میں ہتک عزت کو بالکل ناجائز قرار دے دیا ہے۔ اور فردو جماعت، شخص وملت دونوں کے ہاتھ میں فلاح واصلاح کی ایک بڑی اصل دے دی ہے۔ (آیت) ” الجھر بالسوٓء من القول “۔ کے تحت میں پس پشت بھی کسی کے عیب کی تشہیر آگئی اور اس کے ردبرد تلخ کلامی بھی۔ بلاضرورت اور بلامصلحت شرعی کسی کی بد گوئی کسی حال میں بھی جائز نہیں، نہ سامنے نہ پیچھے۔ (آیت) ” الامن ظلم “۔ مظلوم البتہ اپنے دل کا بخار بک جھک کر بھی نکال سکتا ہے اور حاکم کے سامنے فریاد بھی لے جاسکتا ہے۔ انسان کے طبعی تقاضوں اور اضطراری یا نیم اضطراری ضرورتوں کا اس حد تک لحاظ بجز شریعت اسلامی کے اور کس نے کیا ہے ؟ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ جھوٹی بات کی شہرت مظلوم کو بھی جائز نہیں۔ لیجئے مظلوموں کے ساتھ ساتھ ظالموں کے حق بھی اسی سچی، فطری، الہی شریعت نے تسلیم کرلیے۔ (آیت) ” سمیعا “۔ اس میں ایک طرف تو ظالم کو تنبیہ ہے کہ مظلوم کہیں فریاد لے کر جائے نہ جائے، اللہ تو بہر صورت اس کی سن ہی رہا ہے۔ اور دوسری طرف مظلوم کو بھی ترغیب دی ہے کہ خلق کے آگے خواہ مخواہ زیادہ روتا گاتا نہ پھرے، یہ یقین رکھے کہ اللہ تو سننے والا ہے ہی۔ (آیت) ” علیما “۔ یہ صفت لا کر بھی ظالم ومظلوم دونوں کو یاد دلا دیا ہے کہ کوئی زبان سے نکالے یا نہ نکالے، اللہ پر تو ہر ظلم کی نوعیت و حقیقت عیاں ہی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے انتقام کی اجازت نکل رہی ہے، جس کی ایک جزوشکایت بھی ہے۔ اور ضعفاء کی اس میں بڑی رعایت ہے کہ اس سے دل کا کینہ دور ہوجاتا ہے۔
Ayah 4:149

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

تم کسی بھلائی کو ظاہر کرو یا چھپاؤ یا کسی برائی سے درگزر کرجاؤ،380 ۔ تو اللہ تو (بہرصورت) بڑا معاف کرنے والا ہے بڑا قدرت والا ہے،381 ۔

380 ۔ (جوبہر صورت افضل اور اولی ہے) انسان اپنے نفس کو ٹٹولے تو نظر آئے کہ کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے یا اس پر مال خرچ کرنے سے کہیں زیادہ شاق نفس پر یہ گزرتا ہے کہ کوئی ہمیں دکھ پہنچائے اور ہم اس سے درگزر کرجائیں، اور انتقام نہ لیں۔ اس لیے فعل خیر سے الگ اور ممتاز کرکے اس وصف چشم پوشی اور عدم انتقام کو بیان کیا ہے۔ فندب الی العفو و رغب فیہ (قرطبی) 381 ۔ اخلاقی حیثیت سے یہ تین مرتبے الگ الگ ہیں۔ اور انہیں یہاں کیسی صحیح ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (آیت) ” ان تبدوا خیرا “ پہلا درجہ تو یہ ہے کہ انسان نے نیکی کی۔ ساتھ ہی وہ اس کا اظہار واعلان بھی کردیتا ہے۔ خلق سے داد لینے کی خواہش ایک حد تک طبعی ہے۔ ایک درجہ نیکی کا یہ بھی ہوا نیکی یہ بھی ہوئی مگر ہلکی قسم کی۔ مبتدی کی سطح کی۔ (آیت) ” اوتخفوہ “۔ اونچا مرتبہ یہ ہے کہ نیکی کرے، اور خلق سے داد وصلہ کی پرواہی نہ رکھے، بلکہ اسے خلق کے علم میں آنے ہی نہ دے اور مقصود اس سے تمامتر رضاء الہی ہی رکھے۔ (آیت) ” تعفوا عن سوٓء “۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ انسان کو ناگواریاں پیش آئیں، اور وہ انہیں نظر انداز کرجائے اور برائی کرنے والے سے بدلہ نہ لیاجائے، یہ نفس کے لیے بہت ہی شاق ہے۔ اور اس کا مرتبہ سلوک واخلاق کے منتہی ہی کو حاصل ہوتا ہے (آیت) ” عفوا “۔ اس صفت کو لا کر یہ یاد دلادیا کہ درگزر کی صفت تو صفات کمالیہ الہیہ میں سے ہے۔ کیا خوب ہو جو بندہ بھی اپنے کو اسی رنگ میں رنگ لین ! (آیت) ” قدیرا “۔ یہ لفظ لا کر ادھر اشارہ کردیا، کہ بندہ بیچارہ انتقام لے ہی کیا سکتا ہے۔ انتقام پر قدرت کامل تو اللہ ہی کو حاصل ہے۔ اور وہ اس کمال قدرت کے باوجود عفو و درگزر سے کام لیتا رہتا ہے۔ بندوں کو عفو و درگزر کی راہ پر لانے کا کتنا موثر وحکیمانہ طریقہ یہ ہے ! امام رازی (رح) جن کی نکتہ رسی قرآن فہمی میں قابل صد رشک ہے، یہاں پر خوب بات فرمائی ہے کہ آیت کے ان دومختصر سے فقروں میں سارا خلاصہ اخلاق و سلوک آگیا۔ دخل فی ھاتین الکلمتین جمیع انواع الخیر و اعمال البر (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس طرح پہلی آیت میں ضعفاء کی رعایت تھی، یہ آیت اہل ہمت کے مناسب حال ہین۔ اس میں مصلحت عروج الی القرب ہے۔
Ayah 4:150

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے پیغمبروں کے درمیان فرق رکھیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی پر تو ایمان لائے ہیں اور کسی کے ہم منکر ہیں،382 ۔ اور یہ چاہتے ہیں کہ ایک راہ درمیانی نکالیں،383 ۔

382 ۔ یہ ارشاد کن لوگوں کی طرف ہے ؟ اس باب میں بہت کچھ بحث ہوئی ہے۔ بہرحال اتنا تو صاف ہے کہ اصل ارشاد یہود کی جانب ہے جو انبیاء سابقین میں سے بہتوں کے تو قائل تھے۔ لیکن اپنے ہی سلسلہ کے انبیاء میں سے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے منکر تھے۔ اور پھر نبوت مصطفوی کے۔ لیکن قرآن کے الفاظ عام ہیں اور ان کے تحت میں نہ صرف مسیحی آجاتے ہیں، جو نبوت مصطفوی کے تو صاف منکر، اور رسالت مسیح (علیہ السلام) کے بھی منکر ہو کر الوہیت مسیح (علیہ السلام) کے قائل ہوگئے ہیں۔ بلکہ آج کل کے بہت سے ” آزاد خیال “ اور ” روشن خیال “ بھی اس ذلیل میں آجاتے ہیں۔ یورپ میں ایک فرقہ (خدا پرستوں) کا کہلاتا ہے، اور ہندوستان میں برہموسماج ہے، یہ لوگ توحید کے تو قائل ہیں۔ لیکن عقیدہ وحی ونبوت کے منکر ’ یہ سب مثالیں اسی ناقص اور غلط ذہنیت کی ہیں، جسے اسلام بڑھانا اور پیدا کرنا نہیں۔ بلکہ مٹانا اور فنا کرنا چاہتا ہے۔ 383 ۔ جیسے دہلی کے ایک مغل بادشاہ اکبر نے کفر واسلام کو ملا جلا کر ایک ” دین الہی “ ایجاد کیا تھا۔ اور پھر تین پشتوں کے بعد ایک اور شہزادہ داراشکوہ نے بھی کچھ اسی قسم کی کوشش شروع کی تھی، اور بعض ملحد طبع آج بھی شرک و توحید، کفر واسلام کو مخلوط وممزوج کرکے طرح طرح کے خوشنما ناموں کے ساتھ ایک نئے دین کی ترکیب واختراع کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کی نظر دین اسلامی کی وحدت، اور اس کے عقائد وارکان کے اندرونی نظم وارتباط پر سرے سے ہے ہی نہیں !
Ayah 4:151

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

تو یہی لوگ حقیقی کافر ہیں،384 ۔ اور ہم نے کافروں کے لئے ایک عذاب رسوا کرنے والا تیار کر رکھا ہے،385 ۔

384 ۔ کہیں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ایسے لوگوں کا مرتبہ کافروں سے تو بہرحال بہتر ہوگا، نہیں بلکہ یہ لوگ پکے کافر ہیں، (آیت) ” اولءٓک ھم الکفرون “۔ جملہ کی ترکیب خود ہی زور پیدا کرنے کے لئے ہے۔ (آیت) ” حقا “۔ کا اضافہ تاکید مزید کے لیے ہے۔ ای وھم الکاملون فی الکفر (کشاف) ای لاعبرۃ بایمانھم ھذا (بیضاوی) وھو تاکید لمضمون الجملۃ الخبریۃ (بحر) اولئک ھم الکافرون کفرا کاملا ثابتا حقا یقیناً (کبیر) 385 ۔ ایسے لوگوں کے خیالات ونظریات کی تہ میں اصلی روگ اپنی بڑائی کا ہوتا ہے۔ شعوری یا لاشعوری طور پر، بہرحال یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی عقل وحی الہی کے مقابلہ میں زیادہ وزن دار ہے۔ اور پیغمبروں سے (نعوذ باللہ) جو کو تاہیاں رہ گئیں، ان کی تلافی یہ اپنی عقل آرائیوں سے کردیں گے۔ اسی کبر وخود بینی کی سزا انہیں آخرت میں یہ ملے گی کہ علاوہ جسمانی تعذیب کے، یہ خلق کی نظر میں ذلیل ورسوا ہو کر بھی رہیں گے۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور وہ لوگ ان کے درمیان فرق بھی نہیں کرتے،386 ۔ تو ایسے لوگوں کو (اللہ) ضرور ان کا اجر دے گا، اور اللہ تو ہے ہی بڑا مغفرت والا بڑا رحم والا،387 ۔

386 ۔ یعنی یہ نہیں کرتے کہ کسی پیغمبر کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں، قرآن مجید نے وحدت وحی پر بڑا زور دیا ہے، اور سارے انبیاء کو ایک مستقل نظام وسلسلہ کے اندر منسلک قراردیا ہے۔ 387 ۔ (آیت) ” سوف “۔ یہاں قرب زمانی کے لئے نہیں جزم وتیقن کے لئے ہے۔ معناہ ان ایتاء ھا کائن لا محالۃ وان تاخر (کشاف) فالغرض بہ توکیدالود وتحقیقہ لاکونہ متاخرا (کبیر) متکلمین نے آیت سے معتزلہ کا رد بھی نکالا ہے جو مرتکب گناہ کبیرہ کے دوام عذاب کے قائل ہیں۔ حالانکہ آیت میں صاف مضمون موجود ہے کہ ایمان محض پر بھی اجر ملے گا۔ والایۃ تدل علی بطلان قولہ المعتزلۃ فی تخلید المرتکب الکبیرۃ لانہ اخبر ان من امن باللہ ورسلہ ولم یفرق بین احدمنھم یوتیہ اجرہ ومرتکب الکبیرۃ میمن من امن باللہ ورسلہ ولم یفرق بین احدفیدخل تحت الوعد (مدارک) تمسک اصحابنا بھذہ الایۃ فی اثبات العفو وعدم الاحباط فقالوا انہ تعالیٰ وعد من امن باللہ ورسلہ بان یوتیھم اجورھم والمفہوم یوتیھم اجورھم علی ذلک الایمان (کبیر)
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

آپ سے اہل کتاب فرمائش کرتے ہیں کہ آپ ان کے اوپر ایک نوشتہ آسمان سے اتروادیں،388 ۔ سو یہ تو موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑی فرمائش کرچکے ہیں،389 ۔ (ان سے) یہ بولے تھے کہ ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھا دو ۔ سو ان کی (اس) زیادتی پر انہیں کڑک بجلی نے آپکڑا پھر بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں آچکی تھیں، انہوں نے گوسالہ کو (معبود) تجویز کرلیا، لیکن ہم نے اس سے (بھی) درگزر کیا اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک صریح اقتدار عطا کیا،390 ۔

388 ۔ یہ فرمائش کرنے والے یہود مدینہ تھے، خصوصا کعب بن اشرف اور اس کی پارٹی۔ ای کعب و اصحابہ (ابن عباس ؓ یہود کہتے تھے کہ ہم ایسی وحی کے قائل نہیں جو فرشتہ کے ذریعہ سے قلب نبی پر نازل ہو، ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ ہمارے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) پر لکھے لکھائے ہوئے احکام عشرہ نازل ہوئے تھے تو اگر اپنے دعوائے نبوت میں سچے ہو تو اسی طرح کا کوئی لکھا لکھایا صحیفہ پیش کرو ! قالت الیھود ان کنت صادقا فجی بکتاب من السمآء جملۃ کما جاء موسیٰ بالکتاب (بحر۔ عن السدی) سال الیھود رسول اللہ ﷺ ان ینزل علیھم کتابا من السماء کما نزلت التورۃ علی موسیٰ مکتوبۃ (ابن کثیر، عن محمد بن کعب القرظی والسدی وقتادۃ) قانتا بکتاب من السماء جملۃ کما جاء موسیٰ بالالواح (کبیر) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے اس شخص کی مذمت نکل رہی ہے جو برکات سماوی کو شیخ کے اختیار میں سمجھ کر اس سے اضافہ کی درخواست کررہا ہے۔ 389 ۔ (سوایسی قوم سے ایسی فرمائشیں کچھ انوکھی اور نادر نہیں) ضمنا جواب بھی نکل آیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو خود ہی ایسی چیز لائے تھے، پھر اس پر ان ظالموں نے کب بس کیا ؟ ان سے تو یہ فرمائش کردی کہ براہ راست اللہ میاں کا دیدار ہی ہمیں کرادیجئے، یہ سارے واقعات اس غرض کے لئے یاد دلادیے گئے کہ ان لوگوں کی ساری قومی تاریخ ہی ضد وعناد سے بھری پڑی ہے۔ ایسی فرمائشوں سے ان کا مقصود تحقیق حق نہیں بلکہ محض مجادلہ ومکابرہ ہے۔ ھذا یدل علی ان طلب ھولاء لنزول الکتب علیھم من السماء لیس لاجل الاسترشاد بل لمحض العناد (کبیر) 390 ۔ (چنانچہ وہ محض نبی و رسول ہی نہ تھے بلکہ اپنی قوم کے حاکم اعلی اور صاحب اقتدار لیڈر بھی تھے) (آیت) ” ارنا اللہ جھرۃ، فاخذتھم الصعقۃ، ثم اتخذو العجل “۔ ان سب واقعات پر حاشیے پارہ اول میں گزر چکے محققین نے کہا ہے کہ آیت میں اس شخص پر رد نکل رہا ہے جو وقوع رؤیت کا ایسی دنیوی زندگی میں قائل ہے۔ یدل علی الانکار علی من یعتقد وقوع الرؤیۃ فی النشاۃ الدنیویۃ (روح) (آیت) ” بظلمھم “۔ میں ب سببیہ ہے۔ بسبب ظلمھم (بیضاوی) (آیت) ” ثم “۔ یہاں تاخرزمانی کے لیے نہیں استبعاد کے لیے ہے۔ یعنی ایسی بیہودہ فرمائشیں ہی کیا کم تھیں کہ اس سے بڑھ کر حرکت یہ گوسالہ پرستی کی شروع کردی۔ (آیت) ” من بعد ما جآء تھم البینت “۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیش کئے ہوئے دلائل ومعجزات جاننے، سمجھنے، دیکھنے کے بعد، شرک خصوصا اپنی قبیح ترین صورت گوسالہ پرستی میں، یوں بھی برا ہی تھا، فطرت سلیم خود اس سے ابا کرتی ہے۔ لیکن پیغمبر برحق کے لائے ہوئے دلائل قوی اور شواہد بین کے بعد تو اس پستی میں گرنا بدبختی کی انتہا ہے۔
Ayah 4:154

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اوپر طور کو معلق کردیا تھا ان سے قول وقرار کے لیے، اور ہم نے ان سے کہا کہ دروازہ (شہر) میں داخل ہوعاجزی کے ساتھ اور ہم نے ان سے کہا کہ سبت کے بارے میں زیادتی نہ کرنا، اور ہم نے ان سے سخت قول وقرار لیا،391 ۔

391 ۔ (ان احکام نیز دوسرے احکام کی تعمیل کے لیے) (آیت) ” رفعنا فوقھم الطور۔ ادخلو الباب سجدا۔ لا تعدوا فی السبت ‘۔ ان سب واقعات پر حاشیے پارۂ اول میں گزر چکے۔ (آیت) ” بمیثاقھم “۔ میں ب اظہار غرض وغایت کے لیے ہے۔ ای بسبب میثاقھم لیقبلوہ (بیضاوی) والباء للسبب (بحر) (آیت) ” سجدا “۔ یہاں سجدۂ شرعی مراد نہیں۔ بلکہ سجدہ اپنے لفظی معنی میں ہے، یعنی تواضع کے ساتھ۔ ای متطامنین خاضعین۔ (روح)
Ayah 4:155

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

سو ہم نے یہ سب کچھ ان کی عہد شکنی اور بہ سبب آیات الہی سے ان کے کفر کے اور بہ سبب ان کے قتل ناحق انبیاء کے، اور بہ سبب ان کے اس قول کے کہ ہمارے قلوب محفوظ ہیں، (ہم نے انہیں سزا میں مبتلا کیا) ،392 ۔ نہیں بلکہ ہے یہ) اللہ نے ان پر مہرلگا دی، یہ سبب ان کے کفر کے،393 ۔ سو وہ ایمان نہیں لاتے مگر (بہت) تھوڑا سا،394 ۔

392 ۔ یہود کے نقض میثاق اور کفر بایات الہی اور انبیاء کے قتل ناحق پر، اور ان کے قول (آیت) ” قلوبنا غلف “۔ ان سب پر حاشیے پارۂ اول میں گزر چکے (آیت) ” فبما نقضھم “۔ کی اصل تقدیر کلام یوں ہے۔ فبنقضھم میثاقھم لعناھم۔ التقدیر فبنقضھم میثاقھم لعناھم عن قتادۃ وغیرہ (قرطبی) عربی اسلوب بیان میں ایسے محذوفات عام ہیں۔ مخاطبین کے علم کی بنا پر محذوف کردیئے جاتے ہیں۔ حذف ھذا العلم السامع (قرطبی) قال ابن عطیۃ وحذف جواب ھذالکلام بلیغ متروک علی ذھن السامع (بحر) بما میں ما زائدہ تاکید کلام کے لیے ہے ما زائدۃ مؤکدۃ (قرطبی) 393 ۔ یہ مہر ابتداء کبھی نہیں لگتی، جزاء ہی لگتی ہے۔ اور یہاں تو اس کی تصریح ہی موجود ہے۔ بکفرھم ای جزاء لھم علی کفرھم (قرطبی) 394 ۔ (اور وہ بہت تھوڑا سا ایمان نجات کے لئے کافی نہیں) یہ ایمان قلیل غیر نافع اسی لیے ہوگا کہ یہ کل انبیاء پر ایمان پر شامل نہیں۔ ای الا ایمانا قلیلا ای ببعض الانبیاء وذلک غیر نافع لھم (قرطبی) وھو غیر مفید لان الکفر بالبعض کفر بالکل (روح) اہل کتاب کا ” ایمان “ بس ایسا ہی تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے کا اقرار کیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے انکار کرتے رہے۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی تصدیق کی، لیکن حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی تکذیب یا مثلا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو تو مان لیا، لیکن خود خاتم النبیین ﷺ سے انکار کیے گئے۔ ایسی حالت میں لفظ ایمان پر ایمان شرعی کا اطلاق ہو ہی گا نہیں۔ ایمان اصطلاح شریعت میں تو وہ ہے، جو سارے سلسلہ نبوت پر ہو، ورنہ ایک نبی پر ایمان لاکر دوسرے انبیاء سے انکار کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں۔ لانہ ایمان لغوی لا شرعی (تھانوی (رح) فقدبینا ان من یکفر برسول واحد فانہ لا یمکنہ الایمان باحد من الرسل البتۃ (کبیر)
Ayah 4:156

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

نیز بہ سبب ان کے کفر کے اور بہ سبب ان کے مریم (علیہ السلام) پر بہتان عظیم رکھنے کے،395 ۔

395 ۔ (کہ نعوذ باللہ وہ بد وضع تھیں (آیت) ” بھتانا عظیما “۔ یہود کی کتابوں میں ایسی ایسی گندہ روایتیں اس پاک سرشت خاتون کی بابت لکھی ہوئی ہیں، کہ ان صفحات پر بہ غرض رد بھی نقل ہونے کے قابل نہیں، قرآن مجید نے اس سارے طومارخرافات کی طرف بہ کمال بلاغت، بہتان عظیم لاکر اشارہ کردیا۔ (آیت) ’ مریم “۔ پر حاشیہ پ 3 میں گزر چکے۔ یہ عمران کی صاحبزادی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ تھیں۔ نکاح حسب روایات تاریخی یوسف سے ہوا تھا۔ جو نجاری کا کارخانہ قائم کیے ہوئے تھے، دونوں بڑے عابد و خدار رسیدہ تھے ، (آیت) ’ بکفرھم “۔ ذکر یہود کی سزا کا چل رہا ہے کہ ان پر جو یہ عذاب مسلط ہے، فلاں فلاں اسباب سے ہے۔ یہاں کفر یہود سے مراد ان کا کفر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہے۔ ای بعیسی (علیہ السلام) (بیضاوی)