4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 4:20

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ (دوسری) بیوی بدلنا چاہو،69 ۔ اور تم اس بیوی کو (مال کا) انبار دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ بھی واپس مت لو،70 ۔ کیا تم بہتان رکھ کر اور صریح گناہ کرکے اسے (واپس) لوگے،71 ۔

69 ۔ بلا اس کے کہ اس پہلی بیوی کا کوئی قصور ہو۔ یعنی محض اپنی رغبت و خواہش سے تم ایک بیوی چھوڑ کر دوسری کرنا چاہتے ہو۔ 70 ۔ (اور اس طرح اقرار کیے ہوئے مال کو روک بھی مت رکھو) (آیت) ” احدھن “۔ یعنی اس پہلی بیوی کو جسے اب چھوڑ رہے ہو، (آیت) ” قنطارا “۔ کے معنی مال کے انبار کے ہیں۔ القنطار المال العظیم (کبیر وکشاف) اس پر ایک سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ حدیث میں تو مہر کی زیادتی کی ممانعت آئی ہے لیکن خلیفہ راشد حضرت عمر ؓ نے ایک مسجد میں سرمنبر گوپہلے مہر کی زیادتی سے روکا لیکن ایک ضعیفہ کے ٹوکنے پر اس کا جواز بھی تسلیم کرلیا اور خود اس آیت سے بھی ڈھیروں مال کا جواز ثابت ہو رہا ہے ؟ سوال کا ایک مشہور جواب تو امام رازی (رح) کے قلم و دماغ سے ہے یعنی آیت سے جواز کہاں ثابت ہوا ؟ آیت نے تو محض ایک مفروض ومشروط حالت کا ذکر کیا ہے کہ اگر تم ڈھیروں مال دے چکے ہو جب بھی اس کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں، اس سے اس مفروضہ یا شرط کا صحیح ہونا تو لازم نہیں ہوتا۔ لیکن اس سے بھی صاف، دل نشین اور بےتکلف جواب ہمارے زمانہ کے امام شریعت مفسر تھانوی (رح) کے قلم سے نکلا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ” یہ جواز مفہوم من القرآن بہ معنی صحت نفاذ ہے۔ اور حدیث میں جواز بہ معنی اباحت مطلقہ وعدم کراہت کی نفی ہے، پس کچھ تعارض نہیں، اور حضرت عمر ؓ کا ایک واقعہ میں زیادہ مہر کے جواز کو مان لینا اس لیے تھا کہ سامعین اس کو حرام نہ سمجھنے لگیں پس اس سے کراہت کا عدم ثابت نہیں ہوتا نہ حضرت عمر ؓ پر کوئی اعتراض لازم آتا ہے۔ “ 71 ۔ یعنی بلاوجہ واپس لوگے تو یا تو صریح ظلم کے مرتکب ہوگے اور یا پھر بات بنانے کے لیے عورت پر کوئی جھوٹا سنگین الزام، زنا کاری یا نافرمانی کا لگانا ہوگا۔
Ayah 4:21

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم کیسے اسے (واپس) لے سکتے ہو درآنحالیکہ ایک دوسرے سے خلوت کرچکے ہو اور وہ (بیویاں) تم سے ایک مضبوط اقرار لے چکی ہیں،72 ۔

72 ۔ نکاح کے وقت کہ تم مہر ادا کروگے۔ (آیت) ” میثاقا غلیظا “ یعنی عہد مستحکم “۔ وصفہ بالغلظ لقوتہ وعظمہ (کشاف) عھدا وثیقا (مدارک) (آیت) ” وقد افضی بعضکم الی بعض “۔ یعنی جب انہوں نے اپنا جسم تمتع وتلذذ کے لیے تمہارے سپرد کردیا تو اب مہران سے واپس لینا اسے انہیں ادا نہ کرنا بڑی بےحمیتی بلکہ کم ظرفی کی بات ہے۔ افضی، افضاء لغۃ خلوت صحیحہ اور اصل عمل صحبت دونوں کو شامل ہے۔ حنیفہ نے مراد خلوت صحیحہ لی ہے۔ افضی الی امراتہ ای خلابھا (راغب) قال الکلبی الافضاء ان یکون معھا فی لحاف واحد جامعھا اولم یجامعھا وھذا القول اختیار الفراء ومذھب ابی حنیفۃ (رح) (کبیر) ذکر الفراء ان الافضاء ھو الخلوۃ وان لم یقع دخول وقول الفراء حجۃ فی مایحکیہ من اللغۃ (جصاص) ای خلابلاحائل (مدارک) حنفیہ کے ہاں مہر خلوت صحیحہ پر واجب ہوتا ہے۔ والایۃ حجۃ لنا فی الخلوۃ الصحیحۃ وھنا توکد المھر (مدارک)
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں، مگر ہاں جو کچھ ہوچکا (ہوچکا) ،73 ۔ بیشک یہ بڑی بےحیائی اور نفرت کی بات تھی اور بہت برا طریقہ تھا،74 ۔

73 ۔ یعنی اس حکم کے نزول سے قبل جو ہوچکا۔ اب اس پر باز پرس نہیں۔ ای قبل نزول ایۃ التحریم فانہ معفوعنہ (کبیر) (آیت) ” لا تنکحوا “ میں نکاح اپنے لغوی معنی یعنی صحبت کرنے کے مفہوم میں لیا گیا ہے۔ فیہ تحریم وطی موطوء ۃ الاب بنکاح اوبملک یمین اور بزنا کما ھو مذھبنا وعلیہ کثیر من المفسرین (مدارک) (آیت) ” مانکح ابآؤکم “۔ عرب جاہلیت کے اس دستور کی طرف اشارہ ہے کہ سوتیلی ماؤں سے بھی نکاح کرلیا جاتا تھا۔ قال ابن عباس وجمھور المفسرین کان اھل الجاھلیۃ یتزوجون بازواج اباءھم (کبیر) (آیت) مانکح “ میں یتزوجون بازواج اباءھم (کبیر) (آیت) ” مانکح “ میں ما۔ من۔ کے معنی میں ہے۔ مابمعنی من (جلالین) (آیت) ” ابآؤکم “۔ اس کے ذیل میں وہ بیویاں بھی آگئیں جو دادا یا نانا کے نکاح میں رہ چکی تھیں ، 74 ۔ قرآن مجید نے تین لفظ استعمال کیے ہیں اور تینوں سے الگ الگ اشارے ہیں۔ (آیت) ” فاحشۃ “۔ یہ دستور بجائے خود اور عقلا بھی بڑی بےحیائی کی چیز تھا۔ (آیت) ” مقتا “۔ مذاق سلیم رکھنے والوں کے عرف میں بڑی گندی چیز تھا۔ مقت کہتے ہیں ایسی بری چیز کو جسے دیکھ ہی کر طبیعت میں گھن پیدا ہو۔ المقت بغض شدید لمن تراہ تعاطی القبیح (راغب) خود اہل جاہلیت بھی اس نکاح کو بہت بری نگاہ سے دیکھتے تھے اور اس کا نام ہی نکاح المقت پڑگیا تھا (آیت) ” سآء سبیلا “۔ یعنی اس کے نتائج بھی بڑے قبیح تھے۔ امام رازی (رح) نے فرمایا کہ قبیح کے تین درجہ ہوتے ہیں، ایک قبح عقلی، دوسرے قبح شرعی، تیسرے قبح عرفی، فاحشہ میں اشارہ اول کی جانب ہے، مقتا میں دوم کی جانب، ساء سبیلا میں سوم کی طرف۔
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تمہارے اوپر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں رہی ہیں اور جو تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم نے صحبت کی ہے لیکن اگر ابھی تم نے ان بیویوں سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور جو بیٹے تمہاری نسل سے ہوں ان کی بیویاں اور یہ بھی (حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو یکجا کرو مگر ہاں جو ہوچکا (ہوچکا) بیشک اللہ بڑا بخشنے والا ہے، بڑا مہربان ہے،75 ۔

75 ۔ اس لیے جو غلطیاں نزول حکم سے قبل ہوچکیں، ان پر وہ گرفت نہیں کرتا۔ اور ان پر وہ خط عفو کھینچ دیتا ہے۔ قرآن مجید نے یہاں ایک مفصل فہرست دے کر بتا دیا کہ ان ان عورتوں سے مطلقا یا فلاں فلاں صورتوں میں نکاح حرام ہے۔ اور یہ فہرست محرمات قرآن مجید کی کاملیت کے دلائل میں سے ایک قوی دلیل ہے۔ موجودہ انجیل اور خدا معلوم کتنی نام نہاد آسمانی کتابوں میں تعلیم کا یہ ورق سرے سے سادہ موجود ہے۔ (آیت) ” امھتکم “۔ تمہاری مائیں اور اسی طرح ماں کی مائیں، دادیاں، نانیاں وغیرہا۔ والجدۃ من قبل الام والاب ملحقۃ بھن (مدارک) (آیت) ” بنتکم “ تمہاری بیٹیاں اور اسی طرح بیٹیوں کی بیٹیاں، پوتیاں، نواسیاں وغیرہا، وبنات الابن وبنات البنت ملحقات بھن (مدارک) (آیت) ” اخوتکم “۔ اس میں حقیقی کے علاوہ سوتیلی بہنیں بھی آگئیں۔ لاب وام اولاب اولام (مدارک) (آیت) ” عمتکم “۔ اس میں باپ کی اور باپ سے اوپروالوں کی بہنیں آگئیں۔ من الاوجہ الثلاثۃ (مدارک) (آیت) ” خلتکم “۔ اس میں ماں کی اور ماں سے اوپر والوں کی بہنیں آگئیں۔ من الاوجہ الثلاثۃ (مدارک) (آیت) ” بنت الاخ “۔ یعنی سگی اور سوتیلی بھتیجیاں۔ کذلک (مدارک) (آیت) ” بنت الاخت “۔ یعنی سگی اور سوتیلی بھانجیاں۔ کذلک (مدارک) (آیت) ” امھتکم التی ارضعنکم “۔ خیال کرکے دیکھا جائے کہ قرآن مجید دودھ پلائیوں کو ماں کے لقب سے یاد کررہا ہے۔ (آیت) ” اخوتکم من الرضاعۃ “۔ رضاعت کے اوقات گو مختلف ہوں، مگر دودھ ہو ایک ہی ماں کا۔ (آیت) ” امھت نسآئکم “۔ اس میں بیوی کی نانیاں، پرنانیاں وغیرہ سبھی آگئیں۔ ان کی حرمت محض عقد سے لازم آجاتی ہے۔ وھن محرمات بمجرد العقد (کشاف) (آیت) ” ربآئبکم “ اس میں بیوی کی بیٹیوں کے علاوہ نواسیاں وغیرہ بھی آگئیں۔ (آیت) “ فی حجورکم لفظی معنی ہیں کہ تمہاری گودوں میں ہوں، مراد تربیت وپرورش میں ہونا، یہ محض عام عادت وعرف کا بیان ہے کوئی قید یاشرط نہیں۔ ذکر الحجر علی غلبۃ الحال دون الشرط (مدارک) (آیت) ’ من نسآئکم التی دخلتم بھن “۔ یعنی ماں سے مجرد نکاح اس کی بیٹی کی حرمت کے لیے کافی نہیں، حرمت کے لیے ماں سے صحبت کا ہوچکنا ضروری ہے۔ (آیت) ” دخلتم بھن اصلا “ تو کنایہ صرف صحبت سے ہے۔ وھی کنایۃ عن الجماع (بیضاوی، کشاف) لیکن حنفیہ نے لمس شہوانی اور بوس وکنار کو بھی اسی حکم داخل کیا ہے اور امام مالک (رح) و امام شافعی (رح) اور بہت ائمہ فقہ اس میں حنفیہ کے ہمراہ ہیں۔ اللمس ونحوہ یقوم مقام الدخول (مدارک) ھو التمتع من اللمس اوالقبل قال المالک وابو حنفیۃ (ابن العربی) واتفق اصحابنا والثوری ومالک واوزاعی واللیث والشافعی ان اللمس بشھوۃ بمنزلۃ الجماع فی تحریم ام المراۃ وبن تھا (جصاص) الجماع ھو الاصل ویحمل علیہ اللمس لانہ استمتاع مثلہ ویدخل تحت عمومہ (ابن العربی) حنفیہ ومالکیہ نے علاوہ لمس شہوانی کے شہوانی نظروں کو بھی سبب تحریم قرار دیا ہے۔ قال اصحابنا جمیعا اذا نظر اذا الی فرجھا بشھوۃ کان ذلک بمنزلۃ اللمس فی ایجاب التحریم (جصاص) وقال مالک اذا انظر الی شعر جاریتہ تلذذا اوصدرھا او ساقھا او شیء من محاسنھا تلذذا حرمت علیہ امھا وبن تھا (جصاص) واما النظر فانہ فی الدرجۃ الثالثہ شبہ فی الزناذریعۃ الذریعۃ (ابن العربی) (آیت) ” فلاجناح علیکم “۔ ایسی غیر مدخول بہابیوی کی بیٹی سے نکاح کرلینا میں۔ (آیت) ’ ’ من اصلابکم “ یہ صلب یا نسل کی قید اس لیے لگا دی کہ متنبی یا محض منہ بولے بیٹوں کی بیویاں اس میں نہ شامل ہوجائیں جیسا کہ عرب جاہلیت میں دستور تھا۔ من اوما تبنیتم (کشاف) (آیت) ” ان تجمعوا بین الاختین “۔ بہنیں خواہ حقیقی ہوں یا رضاعی ان کا نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور وہ عورتیں بھی (حرام کی گئی ہیں) جو قید نکاح میں ہوں بجز ان کے جو تمہاری ملک میں آجائیں،76 ۔ اللہ نے فرض کردیا ہے (ان احکام کو) تم پر، اور جو ان کے علاوہ ہیں وہ تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں،77 ۔ یعنی تم انہیں اپنے مال کے ذریعہ سے تلاش کرو (اس طور پر کہ) قید نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ مستی نکالنے والے،78 ۔ پھر جس طریقہ سے تم نے ان عورتوں سے لذت لی ہے، سو انہیں ان کے مقرر شدہ مہر دے دو اور تم پر اس (مقدار) کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم لوگ مہر کے طے ہوجانے کے بعدباہم رضامند ہوجاؤ،79 ۔ بیشک اللہ بڑا جاننے والا ہے بڑا حکمت والا ہے،80 ۔

76 ۔ (بہ طور کنیز شرعی کے) (آیت) ’ ’ الا ماملکت ایمانکم “ یعنی ایسی بیاہی ہوئی عورتیں جو اب مسلمانوں کی قید میں جہاد کے بعد آگئی ہیں، ان کی ازواج بن سکتی ہیں باوجود اس کے کہ ان کے شوہر زندہ اور دارالحرب میں موجود ہیں، ان کا وہ نکاح کافرانہ ان کے مسلمانوں کے ملک یمین میں جانے سے مانع نہیں ہوسکتا، (آیت) ” ماملکت ایمانکم “۔ پر حاشیہ اوپر گزر چکا ہے پ 4، حاشیہ 10 لفظی معنی ہیں ” وہ جن کے مالک تمہارے دونوں ہاتھ ہوجائیں “ مراد شرعی کنزیں ہیں۔ (آیت) ” المحصنت “۔ احصان کے معنی ہیں روک میں آجانا۔ الاحصان ھو ان یحمی الشیء ویمنع منہ (ابن قتیبہ) الاحصان فی اللغۃ المنع (کبیر) (آیت) ” محصنت “ کے معنی ہوئے قید میں آجانے والیاں۔ مراد شادی شدہ عورتیں ہیں، عقدنکاح کو قید سے تعبیر کرنے سے یہ اشارہ نکلا کہ ازدواج خود محافظ عفت ہے۔ ای ھن النساء ذوات الازواج لان الازواج احصنوھن ومنعوا منھن (ابن قتیبہ) قیل المحصنت المزوجات تصوران زوجھا ھو الذی احصنھا (راغب) والمراد بالاحصان ھنا العفۃ (روح) مطلب یہ ہوا کہ ایک شوہر کے ہوتے ہوئے اب دوسرا نکاح حرام ہے۔ یہ تو عام قاعدہ ہوا۔ استثنا اس سے شرعی کنیزوں کا ہے جو کافر شوہروں کی زوجیت سے آئی ہیں۔ (آیت) ” والمحصنت “۔ کا عطف نحوی اعتبار سے ان محرمات پر ہے جو قبل میں مذکور ہوچکے۔ عطف علی المحرمات المذکورات قبل (قرطبی) 77 ۔ نظام خانگی ہی کی درستی پر ساری ہیئت اجتماعی کی درستی کا انحصار ہے اور نظام خانگی کا ایک بڑا اہم جزیہ ہے کہ عقد نکاح کس کس کے ساتھ جائز ہے اور کس کس کے ساتھ ناجائز۔ ضروری تھا کہ اس کے اصول قرآن مجید ہی میں محفوظ کردیے جاتے۔ (آیت) ” کتب اللہ علیکم “۔ وہی تاکید و اظہار اہمیت کے لئے ہے۔ (آیت) ” واحل لکم ما ورآء ذلکم “۔ حدیث وسنت سے جن دوسری عورتوں سے حرمت نکاح ثابت ہے مثلا رضاعی بہنوں کے ساتھ پھوپھی کا بھتیجی کے ساتھ یا خالہ کا بھانجی کے ساتھ جمع کرنا، یہ سب کنایۃ قرآن مجید کی آیات بالا میں آگئیں۔ حدیث نے انہیں صرف کھول کر بیان کردیا ہے۔ (آیت) ” کتب اللہ علیکم “۔ تقدیر کلام یوں مانی گئی ہے۔ الزموا ما کتب اللہ علیکم (معالم) یا یوں کتاب اللہ علیکم کتابا (مدارک) 78 ۔ یعنی مقصود فرد وجماعت دونوں کے نزدیک یہ ہے کہ زوجین نکاح کے ذریعہ سے پاک ومنزہ، باعفت مستقل زندگی بسر کریں گے۔ اور نکاح کی شرطیں معلوم ومعروف ہیں مثلا کم سے کم دو گواہوں کی موجودگی میں میاں بیوی کی رضامندی کا اعلان، نکاح کا موقت نہ ہونا وغیرہا۔ المراد بالاحصان ھناالعفۃ وتحصین النفس عن الوقوع فی مالا یرضی اللہ تعالیٰ (روح) معناہ متعففین عن الزنا (قرطبی) (آیت) ’ غیرمسفحین “۔ یعنی مقصود حیوانات کی طرح تمام تر ایک مادی شہوت یا جنسی تقاضہ کا پورا کرنا نہ ہو۔ بیوی کے ساتھ مستقل تاہل، رہنے، سہنے، نباہ کرنے کا ارادہ اور اس کی وقعت و محبت کسی درجہ میں تو ہو (آیت) ” تبتغوا باموالکم “ مال سے مراد مہر ہے۔ یا ملک یمین کی قیمت۔ ان تبتغوا النساء باموالکم بالصرف فی مھورھن (بیضاوی) ای تنکحوا بصداق او تشتروا بثمن (معالم) یعنی المھور (مدارک) فقہا نے یہیں سے استدلال کیا ہے کہ مہرنکاح کا لازمی جزء ہے گو تعداد مہر معین نہ ہو، وفیہ دلیل علی ان النکاح لایکون الا بمھر وانہ یجب وان لم یسم (مدارک) مہر کی بار بار تاکید سے ظاہر ہے کہ شریعت اسلامی کو عورتوں کے حقوق کا کس درجہ اہتمام مطلوب ہے۔ نفس خرچ نکاح وسفاح دونوں میں مشترک ہے۔ فرق یہ ہے کہ نکاح سے زندگی انسانوں کی طرح مقید وپابند ہوجاتی ہے اور سفاح میں انسان جانوروں کی طرح چھوٹا ہوا رہتا ہے۔ (آیت) ” تبتغوا “۔ بغی کے معنی تلاش کرنے طلب کرنے کے ہیں اور حکم کے مخاطب مرد ہیں، گویا نکاح کی درخواست کرنا یا انگریزی محاروہ میں ”(پروپوز) “ کرنا مردکاکام ہے۔ عورت کا کام صرف قبول کرنا منظوری دینا ہے۔ نر اور مادہ کے درمیان یہ فاعلیت وانفعالیت کا فرق زندگی کے ہر شعبہ پر محیط وحاوی ہے۔ 79 ۔ یعنی مقدار مہر ایسی شے نہیں جو ایک مرتبہ بندھ جانے کے بعد کسی طرح قابل تبدیلی نہ ہو، میاں بیوی باہمی رضامندی سے اسے گھٹا سکتے ہیں، بڑھا سکتے ہیں یا بالکل معاف بھی کرسکتے ہیں ، (آیت) ” فما استمتعتم “۔ یعنی بعد نکاح لطف اٹھایا ہے۔ الاستمتاع التلذذ والاجور المھور (قرطبی) 80 ۔ اللہ کا علم کامل ہے بندوں کی ضرورتوں اور مصلحتوں کا، اور اسی علم کا مل کے لحاظ سے اس نے قانون اور ضابطے مقرر کئے ہیں ،
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور تم میں سے جو کوئی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرسکے،81 ۔ تو وہ تمہاری (آپس کی) مسلمان کنیزوں سے جو تمہاری ملک (شرعی) میں ہوں (نکاح کرے) ،82 ۔ اور اللہ تمہارے ایمان (کی حالت) سے خوب واقف ہے،83 ۔ تم (سب) آپس میں ایک ہو،84 ۔ سو ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرلیا کرو،85 ۔ اور ان کے مہر انہیں دے دیا کرومقرر کے موافق،86 ۔ اس طرح کہ وہ قید نکاح میں لائی جائیں نہ کہ مستی نکالنے والیاں ہوں اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں،87 ۔ پھر جب وہ (کنیزیں) قید نکاح میں آجائیں اور پھر اگر وہ (بڑی) بےحیائی کا ارتکاب کریں تو ان کے لئے اس سزا کا نصف ہے،88 ۔ جو آزاد عورتوں کے لیے ہے،89 ۔ یہ اس کے لئے ہے جو تم میں سے بدکاری کا اندیشہ رکھتا ہو،90 ۔ اور اگر تم ضبط سے کام لو تو تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے،91 ۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا ہے اور بڑا مہربان ہے،92 ۔

81 ۔ یعنی ان آزاد شریف بیویوں کا مہر، نفقہ وغیرہ، پوری طرح ادا کرنے کے قابل نہ ہو۔ (آیت) ” المحصنت “ سے یہاں مراد شریف آزاد بیویاں ہیں۔ ای الحرائر (معالم) یرید الحرائر وقالت فرقۃ معناہ العفائف وھو ضعیف (قرطبی) طول کے معنی وسعت ومقدرت کے ہیں۔ الطول السعۃ والغنی قالہ ابن عباس والمجاھد و سعید بن جبیر والسدی وابن زید (قرطبی) 82 ۔ اور کنیز کو بیوی بنالینے میں عار محسوس نہ کرے۔ یہ مشورہ اس مصلحت سے دیا گیا ہے کہ باندی کا مہر نفقہ وغیرہ نسبۃ ہلکا ہوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ ان کے مالک انہیں غریب شوہروں کے نکاح میں دے دینے میں عار بھی محسوس نہ کریں گے (آیت) ” فتیتکم “۔ فتاہ کا لفظ جب باندیوں کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس میں جوان عمر کی قید باقی نہیں بوڑھی، جواں ہر سن وسال کی باندیاں فتیات ہی کہی جائیں گی، العجوز الحرۃ لاتسمی فتاۃ والامۃ شابۃ والعجوز کل واحدۃ منھما تسمی فتاۃ (جصاص) ای امائکم (راغب) ای المملوکات وھی جمع فتاۃ (قرطبی) (آیت) ” فتیتکم ال مومنت “۔ حنفیہ کے یہاں کنیز کتابیہ سے بھی نکاح جائز ہے اور آیت میں مومنات کی قید محض استحبابی ہے۔ ونکاح الامۃ الکتابیۃ یجوز عندنا والتقیید فی النص للاستحباب (مدارک) 83 ۔ (اور ایمان ہی معیار و مدار فضیلت ہے) پھر کوئی آزاد کیوں بہ وقت ضرورت کسی باندی سے عقد کرنے میں عار محسوس کرے فقہاء مفسرین نے آیت سے ظاہر ایمان کے قبول کرنے پر استدلال کیا ہے نیز اس پر کہ ایمان تصدیق قلب کا نام ہے نہ کہ اقرار زبانی کا۔ فیہ تنبیہ علی قبول ظاھر ایمانھن و دلیل علی ان لایمان ھو التصدیق دون عمل اللسان (مدارک) 84 ۔ (مسلمان ہونے کی حیثیت سے بھی اور اولاد آدم ہونے کے لحاظ سے بھی) انتم وارقائکم متناسبون نسبکم من ادم ودینکم الاسلام (بیضاوی) ای لاتستنکفوا من نکاح الاماء فکلکم بنوادم (مدارک) عرب سوسائٹی میں باندیوں سے نکاح کرنا عار اور ذلت کی چیز تھی کہ ان سے جو اولاد ہوگی وہ کنیز زادی کہلائے گی، قرآن مجید نے اس عار کو مٹایا اور بتایا کہ بوقت ضرورت اس میں ذرا تکلف نہ کرنا چاہیے۔ ان العرب کانوا یفتخرون بالانساب فاعلم فی ذکر ھذا الکلمۃ ان اللہ لاینظر ولا یلتفت الیہ (کیبر) 85 ۔ مجرد نکاح سقوط ملک کے لیے کافی نہیں۔ اس لیے مالک کی اجازت بہرحال ضروری ہے۔ (آیت) ” اھلھن “۔ المراد بہ الموالی لانہ لاخلاف انہ لایجوز لھا ان تتزوج بغیر اذن مولاھا وانہ لااعتبار باذن غیر المولی (جصاص) لیکن نفس نکاح میں رضا مندی خود باندیوں کی معتبر ہوگی نہ کہ ان کے مالکوں کی۔ وھو حجۃ لنا فی ان لھن ان یباشرن العقد بانفسھن لانہ اعتبر اذن الموالی لاعقدھم (مدارک) 86 ۔ (اور ان کے کنیز ہونے کی بنا پر اداء مہر کو غیر اہم یا غیر ضروری نہ سمجھو) فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ چونکہ مالک اپنی باندیوں کی ہر کمائی کے مالک ہوتے تھے اس لئے باندیوں کا مہر بھی ان کے مالکوں ہی کو دیا جائے گا، اور تقدیر کلام یوں ہوگی، واتوا موالیھن اجورھن، فکان اداء ھا الیھن اداء الی الموالی لانھن وما فی ایدیھن مال الموالی (مدارک) 87 ۔ یعنی یہ اداء مہر بہ معاوضہ نکاح ہو بہ طور اجرت زنانہ ہو۔ آزاد شریف بیویوں کے مقابلہ میں باہر نکلنے والیوں کے بد چلنی کے امکانات یوں بھی زائد ہوتے ہیں، چہ جائیکہ باندیاں جو عرفا حقیر، غیر معزز ہی سمجھی جاتی ہیں، اس لیے ان کے ذیل میں ان قیدوں کا ذکر صراحت کے ساتھ ضروری ہوا۔ (آیت) ” مسفحت “۔ سے مراد ہیں کھلی ہوئی اور عام کسبیاں۔ اور متخذت اخدان سے مراد ہیں وہ جن کا کوئی ایک آدھ متعین آشنا ہوتا تھا۔ دنیائے حسن میں بیسواؤں کی دو قسمیں تقریبا ہر جگہ قائم رہی ہیں۔ ایک کھلی ہوئی کسبیاں، دوسرے چھپی ہوئی خانگیاں۔ جاہلیت عرب کے تمدن میں بھی یہی تفریق قائم تھی۔ قال اکثر المفسرین المسافحۃ ھی التی تؤاجر نفسھا مع ای رجل ارادھا ومتخذۃ الخدنھی التی تتخذ خدنا معینا وکان اھل الجاھلیۃ یفصلون بین القسمین وما کانوا یحکمون علی ذات الخدن بکونھا زانیۃ (کبیر) 88 ۔ (جیسا کہ قبل نکاح بھی تھا) باندیاں خواہ نکاحی ہوں یا کنواری ان کی سزائے زنا ہر حال میں آزاد شریف بےنکاحی عورتوں کی سزا کی نصف ہے۔ باندیاں جس طرح اکثر حقوق میں بیویوں کا نصف مرتبہ رکھتی ہیں، اسی طرح اس جرم کی سزا بھی ان کیلیے نصف ہی رکھی گئی ہے۔ شاید اس لئے کہ جرم کی ترغیبات بھی ان کے لیے زائد ہیں اور موانع کمتر ہیں۔ (آیت) ” بفاحشۃ “۔ جرم بےحیائی یہاں زنا کاری کے معنی میں ہے۔ وھی الزنا (ابن جریر) (آیت) ” من العذاب “ سے مراد حد شرعی ہے۔ ای من الحد (مدارک) (آیت) ” علی المحصنت “۔ محصنت ‘۔ سے یہاں مراد بیاہی ہوئی نہیں بلکہ بن بیاہی شریف خواتین ہیں۔ احصان کے تحقق کے لیے اس کا محض حرہ (آزاد) ہونا ہی کافی ہے۔ یعنی البکرۃ الحرۃ سما ھاوان لم تزوج لان الاحصان یکون لھا بھا اذا کانت حرۃ ولایکون بالامۃ احصان (ابن قتبیہ) المحصنات ھنا الحرائر الائی لم یزوجن (مدارک) ای الابکار الحرائر (قرطبی) ای ما علی الحرائر الابکار (معالم) ایک آیت اوپر (آیت) ” ان ینکح المحصنت ال مومنت “ کے ذیل میں بھی محصنات مطلق شریف عورتوں کے معنی میں آچکا ہے۔ 89 ۔ یعنی باندی کی زنا کاری کی سزا پچاس درے ہے، شریف کنواری عورت کی سزائے زنا سنگ زنی ہے اور اس کی تنصیف ممکن نہیں اور مملوک پر سرے سے رجم ہی نہیں، اس کی سزا بہر صورت وہی پچاس درے ہے۔ نصف ما علی المحصنت یدل علی انہ الجلد لا الرجم لان الرجم لا ینتصف (مدارک) غلاموں کی حرامکاری کی سزا قرآن مجید میں مذکور نہیں۔ فقہاء نے اسی آیت سے استنباط کرکے ان کی سزا بھی یہی پچاس درے رکھی ہے۔ فرقہ خوارج سزائے رجم کا بالکل منکر ہے اور اس کا مستدل یہی آیت ہے۔ (کبیر) 90 ۔ (خواہ اس لئے کہ طبعی تقاضا مجبور کررہا ہو خواہ اس لیے کہ شریف بیوی میسر نہ آرہی ہو) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی باندی سے نکاح۔ یعنی نکاح الامۃ عند عدم الطول (معالم) ای نکاح الاماء (مدارک) (آیت) ” العنت “۔ عنت کے لفظی معنی ضرور زیان کے ہیں۔ اصل العنت الضرر والفساد (ابن قتیبہ) تودی الیہ غلبۃ الشھوۃ (مدارک) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ شدید ضبط جس سے انسان جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوجائے مثلا اختناق الرحم کی شکایت ہوجائے یا مردوں کو ورم پشت وغیرہ کی۔ امام رازی (رح) جو خود بھی اپنے زمانہ کے نامور طبیب تھے اس قول کو یوں نقل کرتے ہیں :۔ والثانی ان الشبق الشدید والغلمۃ العظیمۃ قد تودی بالانسان الی الامراض الشدیدۃ اما فی حق النساء فقد تودی الی اختناق الرحم واما فی حق الرجال فقد تودی الی اوجاع الورکین والظھر (کبیر) 91 ۔ یعنی اگر خواہش نفس کا اتنا غلبہ نہیں ہے جس سے حرامکاری میں پڑجانے کا قومی اندیشہ ہورہا ہو تو پھر کنیزوں سے نکاح کرنے یہی بہتر ہے کہ خود خواہش نفس پر قابوحاصل کرلیا جائے، ای الصبرعن نکاح الاماء خیرلکم (ابن جریر) ظاہرہ الاخیار عن صبر خاص وھو غیر نکاح الاماء قالہ ابن عباس و مجاھد وابن جبیر والسدی (بحر) 92 ۔ چناچہ اس کی صفت رحیمی اسی سے ظاہر ہے کہ ایسے نکاحوں کی حرمت کا حکم نہیں رہا اور شان غفوریت یہ ہے کہ کنیزوں سے بلاضرورت شدید نکاح کرلینا کراہت تنزیہی کے باوجود نجات کی راہ میں حائل کسی طرح نہیں۔
Ayah 4:26

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ کو منظور ہے کہ تم سے (احکام) کھول کر بیان کردے اور تم کو تم سے قبل والوں کے حالات بتلادے اور تم پر توجہ فرمائے،93 ۔ اور اللہ بڑا علم والا ہے، اور بڑا حکمت والا ہے،94 ۔

93 ۔ (رحمت ومغفرت کے ساتھ) لیبین لکم چناچہ وہ آیات احکام ومسائل تمہاری ہی مصلحت ونفع کیلئے نازل کرتا ہے (آیت) ” یھدیکم سنن الذین من قبلکم “۔ چناچہ وہ آیات قصص و حکایات تمہاری ہی مصلحت ونفع کے لئے نازل کرتا ہے۔ 94 ۔ چناچہ بندوں کی کوئی سی بھی ضرورت ومصلحت اس کے علم کامل سے باہر نہیں۔ اور اپنی حکمت کاملہ سے اس نے احکام ایسے رکھے ہیں جو ہر مصلحت کی پوری پوری رعایت کرنے والے ہیں۔
Ayah 4:27

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے حال پر توجہ فرمائے،95 ۔ اور جو لوگ خواہشوں کے بندے ہیں،96 ۔ انہیں یہ منظور ہے کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ،97 ۔

95 ۔ (شفقت و رحمت کے ساتھ انہیں احکام وتعلیمات کے ذریعہ سے) 96 ۔ اور ہوائے نفس ہی کو اپنا دین و ایمان بنائے ہوئے ہیں) یہ کون لوگ ہیں ؟ الفاظ کا مصداق کفار کا ہونا تو ظاہر ہی ہے باقی فسق پیشہ افراد بھی مراد ہوسکتے ہیں، صحابہ وتابعین سے اس کے معنی اہل کتاب کے بھی مروی ہوئے ہیں، یہود کے بھی اور زانیوں کے بھی اور زانیوں کے بھی وقس علی ھذا “۔ قیل المجوس (کبیر) قیل المجوس وقیل الیھود (بیضاوی) قال بعضھم ھم الزناۃ وقال اخرون بل ھم الیھود والنصاری (ابن جریر) ھم الزناۃ اوالیھود والنصاری اوالیھود خاصۃ اوالمجوس (بحر) قول فیصل یہ ہے کہ الفاظ ان سارے معانی کے محتمل ہیں، اس لیے کہ جو شخص بھی نافرمانی پر دلیر ہے وہی اپنی خواہش نفس کا بندہ ہے۔ کان داخلا فی الذین یتبعون الشھوات الیھود والنصاری والزناۃ وکل متبع باطلا لان کل متبع مانھاہ اللہ عنہ متبع شھوۃ نفسہ (ابن جریر) الفجرۃ (المدارک) اے متبعوا کل شھوۃ قالہ ابن زیاد رجحہ الطبری وظاہرہ العموم (بحر) 97 ۔ (اور راہ راست سے ہٹ کر انہی جیسے ہوجاؤ) ۔ (آیت) ” میلا عظیما “۔ اس سے بڑھ کر کجی اور کیا ہوگی کہ انسان یا تو حرام کو حرام سمجھنے ہی سے انکار کردے اور یا بےباکانہ ارتکاب حرام کرتا رہے۔
Ayah 4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے ساتھ تخفیف برتین اور انسان تو کمزور پیدا ہی کیا گیا ہے،98 ۔

98 ۔ (کمزور جسم کے لحاظ سے بھی اور کمزور ارادہ کے لحاظ سے بھی) (آیت) ” ان یخفف عنکم “۔ چناچہ شریعت کے سارے احکام میں انسان کی سہولتوں کا لحاظ رکھ لیا گیا ہے۔ (آیت) ” خلق الانسان ضعیفا “۔ چناچہ جتنے بھی احکام شرعی ہیں سب کے ضعف جسمانی وضعف ارادی کی ہی رعایت سے ہیں۔
Ayah 4:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاؤ،99 ۔ ہاں البتہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے ہو،100 ۔ اور اپنی جانوں کو قتل مت کرو،101 ۔ بیشک اللہ تمہارے حق میں بڑا مہربان ہے،102 ۔

99 ۔ (آیت) ” بالباطل “۔ یعنی غیر مشروع طریقوں پر۔ خیانت اور بددیانتی کی تمام صورتوں کی بندش اس ایک حکم کے اندر آگئی۔ کاش اسلام کے ایک اسی قانون پر عمل ہو اور آج دنیا کی کایا پلٹ جائے۔ 100 ۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک دوسرے کے مال میں تصرف کی اجازت کسی باطل طریقہ (سود، قمار، وغیرہ) سے تو سرے سے ہی نہیں۔ صرف جائز طریقوں کے اندر ایک دوسرے کی رضا مندی سے تصرف کرسکتے ہو۔ مثلا سرمایہ مشترک سے تجارت، کہ یہ تو عین باعث برکت ہے۔ 101 ۔ (آیت) ” انفسکم “۔ کے معنی عموما اخوانکم یامن جنسکم کئے گئے ہیں۔ اور مراد یہ لی گئی ہے کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اتفقوا علی ان ھذا نھی عن ان یقتل بعضھم بعضا (کبیر) قتل بعضکم بعضا (ابن جریر عن عطاء) ای اھل ملتکم (ابن جریر، عن السدی) یعنی اخوانکم (معالم، عن الحسن) من کان من جنسکم من ال مومنین “ (مدارک) دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ خود کشی نہ کرو اور یہ معنی بھی منقول ہیں۔ ولا یقتل الرجل نفسہ (مدارک) بعض مذہبوں میں خود کشی خود ایک عبادت رکھی گئی ہے۔ مثلا جاپانیوں میں یا بعض قدیم ہندی مذہبوں میں۔ بالبخع کما تفعلہ جھلۃ الھند (بیضاوی) 102 ۔ (چنانچہ یہ سارے احکام بھی اسی شفقت و رحمت کا نتیجہ ہیں)
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو کوئی ایسا کرے گا سرکشی اور ظلم کی راہ سے تو ہم عنقریب اس کو آگ میں ڈالیں گے اور یہ اللہ کے لئے آسان ہے،103 ۔

103 ۔ یہ وعید ان لوگوں کے لئے ہے جو احکام الہی کی خلاف ورزی اتفاقی طور پر یا بہ طور خطائے اختیاری کے نہیں بلکہ دیدہ و دانستہ کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ ای مانھی عنہ (جلالین) یعنی ماسبق ذکرہ من المحرمات (معالم) (آیت) ” عدوانا “۔ یعنی حدود شرعی سے تجاوز کرتے ہوئے یا دوسروں پر ظلم کرتے ہوئے۔ قیل اراد بالعدوان تعدی علی الغیر (بیضاوی) العدوان تجاوز الحد (قرطبی) (آیت) ” ظلما “۔ یعنی اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے قیل اراد بالظلم ظلم النفس (بیضاوی) (آیت) ” کان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ اللہ کی قوت کو یہ دیوتا پرست مشرک کہیں انسانوں یا دیوتاؤں کے محدود قوی پر قیاس نہ کریں۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم ان برے کاموں سے جو تمہیں منع کئے گئے ہیں بچتے رہے، تو ہم تم سے تمہاری (چھوٹی) برائیاں دور کردیں گے،104 ۔ اور تمہیں ایک معزز مقام پر داخل کردیں گے،105 ۔

104 ۔ اور نتیجہ تمہیں عذاب سے بھی بچالیں گے) یہ قانون الہی ہے جس کی تکرار قرآن مجید میں کئی بار آئی ہے۔ اور ایک جگہ اسے بالکل کلی اور عمومی صورت میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ان الحسنت یذھبن السیات “۔ اس قسم کی آیتوں سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ بڑے بڑے اولیاء واتقیاء میں بھی معصوم کوئی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کثرت طاعات پر نظر مرحمت کرکے ان کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگزر کردیتا ہے اور انہیں اعلی سے اعلی مرتبوں سے سرفراز کرتا رہتا ہے۔ عصمت انبیاء کا مسئلہ ایک دوسرے قانون سے ثابت ہے۔ (آیت) ” کبآئر ما تنھون عنہ “۔ یعنی بڑے بڑے گناہ لیکن خود کبیرہ کا اطلاق کس عمل پر ہوتا ہے۔ اس کے متعدد جوابات دیے گئے ہیں۔ سفیان ثوری تابعی (رح) کا قول یہ نقل ہوا ہے کہ کبیرہ بندوں کے اتلاف حقوق کا نام ہے اور صغیرہ صرف اللہ کے اتلاف حقوق کا، قال سفیان الثوری الکبائر مانکان فی المضالم بینک وبین عباد اللہ تعالیٰ والصغائر ماکان بینک وبین اللہ تعالیٰ (معالم) اس ہیچمد ان کے خیال میں کبیرہ وہ عمل ہے جس کی ممانعت صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں آچکی ہو، اور اس کا معصیت ہونا کسی دقیق استنباط یا دلالت خفی کا محتاج نہ ہو۔ یا کم از کم یہ کہ حدیث صحیح میں اس کی ممانعت صراحت اور تاکید کے ساتھ آچکی ہو۔ ممتاز صحابیوں کے نزدیک کچھ ایسا ہی پایا جاتا ہے۔ قال علی ؓ بن ابی طالبھی کل ذنب ختمہ اللہ بنار اوغضب اولعنۃ او عذاب (معالم) اور یہی ابن جریر نے عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی نقل کیا ہے۔ (آیت) ” سیاتکم “۔ سیات، سے مراد چھوٹی برائیاں یا گناہ صغیرہ ہیں۔ ای صغائرکم (بیضاوی) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا ہے کہ کبیرہ پر عتاب کے ساتھ ساتھ فضل کا احتمال اور صغیرہ پر عفو کے ساتھ ساتھ عتاب کا احتمال خاص اہل سنت کا مذہب ہے۔ بہ خلاف معتزلہ کے جن کے نزدیک صغائر واجب المغفرۃ ہیں اور کبائر غیر مغفور ہیں (مدارک) 105 ۔ یعنی جنت میں۔ پہلا وعدہ عذاب سے محفوظ رکھنے کا تھا۔ اب بشارت دخول جنت کی مل رہی ہے۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور تم ایسے امر کی تمنا نہ کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے،106 ۔ مردوں کے لیے ان کے اعمال کا حصہ (ثابت) ہے اور عورتوں کے لئے انکے اعمال کا حصہ (ثابت) ہے،107 ۔ اور اللہ سے اس کے فضل کی طلب کرو،108 ۔ بیشک اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے،109 ۔

106 ۔ (طبعی ووہبی طور پر بلادخل کسی عمل وکسب کے مثلا مردوں کو جو فضیلت عورتوں پر حاصل ہے) کوئی دولت مند ہے، کوئی حسین و جمیل ہے، کوئی خوش آواز ہے، کسی کے قوائے جسمانی بہت مضبوط ہیں۔ اس قسم کے وہبی و طبعی فضائل کو قرب حق میں مطلق دخل نہیں۔ آیت میں تعلیم ہے کہ ان کی بنا پر ایک دوسرے پر رشک کرنا، ایک دوسرے کی جگہ پر ہونے کی حسرت و تمنا کرنا درست نہیں۔ قرب حق میں دخل صرف عمل واکتساب کو ہے۔ شان نزول کی روایتوں میں آیا ہے کہ کچھ عورتوں نے اپنے احساس کمتری کی بنا پر مردوں پر رشک کا اظہار کیا تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بتایا گیا کہ نجات ومغفرت اور قرب حق کا مدار تو اپنے اعمال ارادی واختیاری پر ہے۔ اور اس لحاظ سے مرد و عورت کی حیثیت بالکل یکساں ہے۔ عورتوں کے لئے بھی قانون حسن عمل وہی ہے جو مردوں کے لیے ہے اور اس لیے انہیں مردوں پر رشک کا کوئی محل نہیں۔ یہ فرق تو محض تکوینی مصلحتوں سے رکھ دیے گئے ہیں۔ لان ذلک التفضیل قسمۃ من اللہ تعالیٰ صادرۃ عن حکمۃ وتدبیر وعلم باحوال العباد (مدارک) 107 ۔ (یہ نہ ہوگا کہ مرد کا اجر اس کے مرد ہونے کی بنا پر کچھ بڑھ جائے اور عورت کا اجر اس کے عورت ہونے کی بنا پر کچھ گھٹ جائے) مرد بہ حیثیت مرد ہرگز اللہ کے ہاں مقرب تر اور نجات کا مستحق تر نہیں اور عورت اپنی جنس کی بنا پر ہرگز کسی اجر وقرب سے محروم نہ رہے گی، جیسا کہ بعض دوسرے مذہبوں نے قرار دے رکھا ہے۔ اس میں عورت کے لیے تعلیم ہے کہ وہ اپنا احساس کمتری دور کرے اور سمجھ لے کہ ایک مکلف مخلوق کی حیثیت سے وہ اور مرد دونوں بالکل ایک سطح پر ہیں اور حصول نجات وقرب حق میں وہ مرد سے ذرا بھی فروتر نہیں۔ ہندؤوں نے اپنی منوسمرتی کے اوراق میں اور کیتھولک کلیسانے صدیوں تک اپنی کونسلوں میں جو فیصلہ عورت کی پستی اور پست فطرتی کے کئے ہیں۔ آیت ان سب کی تردید کررہی ہے۔ (آیت) ” ممااکتسبوا۔ ممااکتسبن “۔ اکتساب سے مراد دونوں جگہ اعمال خیر کا کسب ہے۔108 ۔ (توفیق اعمال میں) رشک و تمنا والی اور دعاؤں سے طلب کرنے والی اصل چیز وہبی اور طبعی نعمتیں نہیں بلکہ توفیق حسن عمل ہے۔ 109 ۔ (چنانچہ اپنے اس عمل کامل کے مطابق اس نے ہر مخلوق کو صلاحیت و استعداد بخشی اور وہی ہر ایک کے فرد عمل پر پوری طرح مطلع بھی ہے)
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور جو مال والدین اور قرابت دار چھوڑ جائیں اس کے لیے ہم نے وارث ٹھہرا دیئے ہیں،110 ۔ اور جن لوگوں سے عہد بندھے ہوئے ہیں انہیں ان کا حصہ دے دو ،1 1 1 ۔ بیشک اللہ ہر چیز پر مطلع ہے۔

110 ۔ (قانون میراث کے ذریعہ سے) وارثوں کی تفصیل اسی سورت میں چند رکوع قبل گزر چکی۔ تقسیم ترکہ کی کچھ عارضی صورتیں آغاز اسلام ہی میں بتادی گئی تھیں وہ مکمل قانون میراث کے نازل ہونے کے بعد اب قدرۃ منسوخ ہوگئیں (آیت) ” لکل “۔ میں مضاف الیہ محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے لکل احد۔ 1 1 1 ۔ یعنی کل ترکہ کا 6 1 حصہ۔ (آیت) ” الذین عقدت ایمانکم “۔ اصطلاح میں یہ لوگ مولی الموالاۃ کہلاتے ہیں۔ عرب قدیم میں دستور تھا کہ دو شخص باہم قول وقرار کرکے ایک دوسرے کے اس طرح دوست و مددگار ہوجاتے ہیں کہ اگر ایک پر دیت لازم آئے تو دوسرا اسے ادا کرے اور ایک کی وفات پر دوسرا اد کی میراث پائے۔ اسی عہد کو عقد موالاۃ کہتے ہیں۔ شریعت نے شروع شروع اس دستور کو تھوڑی سی ترمیم کے بعد قائم رکھا۔ اور انصار ومہاجرین میں مواخات قائم کرکے باہم میراث جاری کرادی۔ پھر اس عہد والے کا حصہ 6 1 متعین کیا۔ پھر جب سورت احزاب کی یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” والوالارحام بعضھم اولی ببعض “۔ تو سب وارثوں کے حصے متعین ہوگئے اور اب اس کے لیے گنجائش نہ رہی۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں کے سر ددھرے ہیں،112 ۔ اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے،113 ۔ اور اس لئے کہ مردوں نے اپنا مال خرچ کیا ہے،114 ۔ سو نیک بیویاں اطاعت کرنے والی اور پیٹھ پیچھے اللہ کی حفاظت سے حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں،115 ۔ اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم ان کی سرکشی کا علم رکھتے ہو،116 ۔ تو انہیں نصیحت کرو،117 ۔ اور انہیں خوابگاہوں میں تنہا چھوڑ دو ،118 ۔ اور انہیں مارو،119 ۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو ان کے خلاف بہانے نہ ڈھونڈو،120 ۔ بیشک اللہ بڑا رفعت والا ہے، بڑا عظمت والا ہے،121 ۔

112 ۔ ابھی یہ معلوم ہوچکا ہے کہ روحانیات کی دنیا میں یعنی قرب حق اور حسن عمل کے لحاظ سے مرد و عورت کی حیثیت بالکل مساوی ہے۔ نماز اور روزہ اور زکوٰۃ اور حج اور ساری عبادتیں جس طرح اور جس پیمانہ پر مرد کو قبول ہوسکتی ہیں۔ وہی ساری راہیں عورت کے لیے بھی کھلی ہوئی ہیں اب یہاں یہ بتایا گیا کہ مرد وزن کی یہ مساوات دنیوی معاملات میں اور انتظامی حیثیت سے قائم نہیں، باپ اور بیٹے دونون بہ حیثیت عبد بالکل ایک ہیں۔ عنداللہ اعمال کی مقبولیت کی معیار سے دونوں بالکل مساوی ہیں۔ لیکن دنیا میں شریعت ہی کا حکم ہے کہ باپ افسر ہو کر رہے اور بیٹا ماتحت ہوکر، باپ حکم دے اور بیٹا حکم مانے، اب بتایا جارہا ہے کہ معاشرت کی انتظامی مشین میں مرد کو عورت پر غلبہ وتفوق حاصل ہے۔ الزوجان مشترکان فی الحقوق وللرجال علیھن درجۃ بفضل القوامیۃ (ابن العربی) (آیت) ” قومون “۔ قوام کے معنی ہیں کسی شے کے محافظ، منتظم، مدبر کے اور یہاں مراد یہ ہے کہ عورتوں کے امور کا انتظام کرنے والے، ان کی کفالت کرنے والے، ان پر احکام نافذ کرنے والے ہیں۔ قوام اور قیم ہم معنی ہیں قوام فصیح تر ہے۔ قام الرجل المرأۃ ای قام متکلفلا بامرھا فھو قوام وقد یجی القیام بمعنی المحافظۃ والا صلاح (تاج) الرجال متکفلون بامور النساء (لسان) صارواقواما علیھن نافذ الامر علیھن (ابن جریر) فکانہ تعالیٰ جعلہ امیرا علیھا ونافذالحکم فی حقھا (کبیر) قیامھم علیھن بالتادیب والتدببیروالحفظ والصیانۃ (جصاص) القوام والقیم بمعنی واحد والقوام ابلغ وھو القائم بالمصالح والتدبیر والتادیب (معالم) بائبل نے عورت کو کیا درجہ دیا ہے اس کا اندازہ ذیل کی عبارتوں سے ہوگا :۔” خداوند خدا نے۔۔۔۔ عورت سے کہا اپنے خصم کی طرف تیرا شوق ہوگا۔ اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا “۔ (پیدائش 3: 16) ” اے بیویو اپنے شوہروں کی ایسے تابع رہو جیسے خداوند کی۔ کیونکہ شوہر بیوی کا سر ہے جیسے کہ مسیح کلیسا کا سر ہے۔ اور وہ خود بدن کا بچانے والا ہے۔ لیکن جیسے کلیسا مسیح کے تابع ہے ایسے ہی بیویاں بھی ہر بات میں اپنے شوہروں کے تابع ہوں “۔ (افسیوں 5:24) قرآن حق کا کلام ہے اور ہمیشہ حق ہی کہتا ہے اور کلیسا کی کونسلوں اور منو سمرتی کی طرح عورت کی تحقیر وتذلیل کا ہرگز قائل نہیں لیکن ساتھ ہی اسے جاہلیت قدیم وجاہلیت جدید کی زن پرستی سے بھی ہمدردی نہیں۔ وہ عورت کو ٹھیک وہی مرتبہ ومقام دیتا ہے جو نظام کائنات نے اسے دے رکھا ہے۔ بہ حیثیت ایک عبد اور مکلف مخلوق کے وہ مرد کے مساوی وہم رتبہ ہے۔ لیکن دنیا کے انتظامی معاملات میں مرد کے ماتحت اور تابع ہے۔ 113 ۔ (طبعی اور تکوینی طور پر) مرد کی یہ افضیلت اس کے قوائے جسمانی کی مضبوطی اور دل و دماغ کی برتری دونوں سے عیاں ہے۔ (آیت) ” بعضھم علی بعض “۔ یعنی صنف ذکور کو صنف اناث پر۔ بعضھم وھم الرجال علی بعض وھم النساء (کشاف) (آیت) ” بما فضل اللہ “۔ میں ب سبیہ ہے اور اس کا تعلق قوامون سے ہے۔ الباء للسببیہ وھی متعلق بقوامون ای قوامون علیھن بسبب تفضیل اللہ تعالیٰ ایاھم علیھن (روح) 114 ۔ (عورتوں پر مہر میں اور نفقہ میں) مطلب یہ ہوا کہ مرد کی افضیلت عورت پر دہری حیثیت رکھتی ہے۔ ایک تو طبعی یعنی جسمانی ودماغی قوی میں خلقی برتری۔ دوسری قانونی یا معاشری کہ عورت خرچ میں مرد کے دست نگر رہتی ہے۔ یہیں سے یہ بات بھی نکل آئی کہ قرآنی نظام کی رو سے کمانا یا کسب معاش کرنا اور بیوی کے خرچ اٹھانا مردوں کے ذمہ ہے۔ دلت علی وجوب نفق تھا علیہ (جصاص) 115 ۔ نیک بیویوں کی۔ مومنات صالحات کی علامت یہ ارشاد ہورہی ہے کہ وہ شوہر کی غیبت میں اس کی عزت وناموس اور اس کے مال وجائداد کی نگہداشت کرنے والیاں ہوتی ہیں۔ فرنگیت مآب اسکولوں اور کالجوں کی پڑھی ہوئی لڑکیاں غور کریں کہ انہیں اس قرآنی معیار سے کیا مناسبت ہے۔ (آیت) ” فالصلحت “۔ میںنتیجہ کا ہے۔ یعنی اوپر کے مقدمات سے ایک کھلاہوا نتیجہ یہ نکلتا ہے بما میں ب سبیبیہ ہے۔ یعنی ان کا ایسا کرنا توفیق الہی ہی کے سبب سے ہوتا ہے۔ والباء سببیۃ ای بسبب حفظ اللہ لھن (جمل) ای بتوفیقہ لھن (جمل) 116 ۔ ذکر مہذب، شریف وشائستہ بیویوں کا ابھی اوپر ہوچکا ہے۔ اب اس کے مقابل ناشائستہ اور رذیل فطرت کی بیویوں کا ابھی اوپر ہوچکا ہے۔ اب اس کے مقابل ناشائستہ اور رذیل فطرت کی بیویوں کے باب میں کچھ احکام بیان ہورہے ہیں۔ وہ نظام قانون کا مل نہیں ناقص ہے جو ذکر صرف اچھوں کے انعام واکرام کا کرتا ہے اور بدوں کا تذکروہ ہی چھوڑ جاتا ہے۔ (آیت) ” نشوزھن “۔ عورت کے نشوز کے اصل معنی یہ ہیں کہ شوہر کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوجائے۔ نشزت المرأۃ بزوجھا ای استعصت علی زوجھا وارتفعت علیہ وابغضتہ خرجت عن طاعتہ (تاج) نشوز المرأۃ بغضھا لزوجھا ورفع نفسھا عن طاعتہ (راغب) واصل النشوز الترفع علی الزوج بمخالفتہ (جصاص) ائمہ تفسیر نے اس معنی کی توثیق کی ہے۔ یعنی استعلانھن علی ازواجھن وارتفاعھن عن فرشھم بالمعصیۃ منھن والخلاف علیھم فی مالزمھن طاعتھم فیہ بغضا منھن واعراضاعنھم (ابن جریر، عن محمد بن کعب) گویا پر مسرت ازدواجی زندگی کے بجائے تصادم وبغاوت شروع ہوجائے۔ (آیت) ” تخافون “۔ خوف یہاں علم کے معنی میں ہے۔ یعنی جب ان کی بغاوت ونافرمانی تجربہ میں آجائے۔ یہ نہیں کہ محض بدگمانیاں یا دور کے احتمالات کو اس کے لیے کافی سمجھ لیا جائے۔ یہ نہیں کہ محض بدگمانیاں یا دور کے احتمالات کو اس کے لئے کافی سمجھ لیا جائے۔ تخافون ای تعلمون (ابن عباس) والخوف ھناقیل معناہ الیقین ذھب فی ذلک الی ان الاوامر التی بعد ذلک انما یوجبھا وقوع النشوز لا توقعہ (بحر) حمل الخوف علی العلم (معالم) فارسی مترجمین قرآن نے بھی یہاں خوف کا ترجمہ علم یا دانستن سے کیا ہے آں زناں کہ معلوم کنید سرکشی ایشاں (ولی اللہ دہلوی (رح) آن زنانے کہ میدانید نافرمانی اینہارا (سعدی (رح ) 117 ۔ اب سرکش ونافرمان بیویوں کا علاج بیان ہورہا ہے۔ پہلی منزل یہ ہے کہ انہیں نرمی وآشتی سے سمجھایا جائے، اگر عورت شریف طینت ہے تو یہ کافی ہوجائے گا، اسی میں شوہر کو بھی تعلیم ہے کہ فورا غصہ میں آکر کوئی سخت کاروائی نہ کربیٹھو۔ 118 ۔ یعنی ان سے تحقیق و تجربہ کے بعد۔ اس کے قبل محض ظن وبدگمانی کی بنا پر نہیں۔ ان تحققتم وعلمتم النشوز (جمل) فقہا نے تصریح کردی ہے کہ محض بدگمانی پر دوسری اور تیسری سزاؤں کا قدم اٹھانا جائز نہ ہوگا۔ فالحاصل ان کلامن الھجر والضرب مقید بعلم النشوز ولا یجوز بمجرد الظن (جمل) (آیت) ” واھجروھن “۔ ھجر کے دوسرے معنی ترک کلام کے بھی کئے گئے ہیں۔ یعنی ان سے بات چیت کرنا چھوڑ دو ۔ قال ابن عباس وعکرمۃ والضحاک والسدی ھجر الکلام (جصاص) ای لایکلمھا وان طء ھاقالہ عکرمۃ وابو الضحی (ابن العربی) 119 ۔ (ہلکے ہلکے) ضربا غیر مبرح ولا شائن (ابن عباس) قال الحسن ضربا غیر مبرح وغیر مؤثر (جصاص) یہ تیسرا علاج اس وقت کے لیے ہے جب دوسرا علاج بھی ناکام ثابت ہولے۔ والامور الثلاثۃ مرتبۃ ینبغی ان یدرج فیھا (بیضاوی) اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ یہ ماربالکل ہلکی قسم کی ہو۔ ایسی نہ ہو جس سے چوٹ زیادہ آجائے۔ یا جس سے رفیق زندگی کی توہین لازم آتی ہو۔ بلکہ مفسر صحابی ابن عباس (رح) سے تو یہ منقول ہے کہ یہ مار مسواک جیسی ہلکی پھلکی چیز سے ہو۔ قال ابن عباس بالسواک ونحوہ (بحر) قرآن مجددید کا خطاب ظاہر ہے (لیکن باربار اسے یاد کرلینے کی بھی ضرورت ہے) کہ کسی ایک طبقہ کسی ایک قوم کسی ایک تمدن سے نہیں۔ اس کے مخاطب عرب وعجم چینی اور حبش، انگریز اور ہندی، رومی اور جاپانی، اعلی اور ادنی، شریف ورذیل، عالم وعامی فہیم اور کودن، چمار اور چوہڑے، نائی اور دھوبی، شہری اور دیہاتی، نیک بخت اور بدباطن، ہر طبقہ، ہر سطح، ہر ذہنیت کے، لوگ پہلی صدی ہجری سے لے کر قیامت تک ہر زمانہ اور ہر دور والے ہیں اور اس کے احکام ومسائل میں لحاظ ہر انسانی ضرورت اور ہر بشری ماحول کا کرلیا گیا ہے اور یہ مشاہدہ ہے کہ بہت سے معاشرے اور طبقے ایسے ہیں جہاں عورت کے لیے جسمانی سزائیں عام ہیں۔ علاج کی یہ صورت ظاہر ہے کہ انہی طبقوں کے لیے ہے۔ پھر اتنی اجازت بھی ضرورت پڑنے ہی پر ہے ورنہ سیاق عبارت نرمی ہی کی سفارش کررہا ہے۔ وسوق الکلام للرفق فی اصلاحھن (جمل) فالتخفیف مراعی فی ھذا الباب علی ابلغ الوجوہ (کبیر) وقال الشافعی (رح) والضرب مباح وتر کہ افضل (کبیر) اور اہل تحقیق نے تصریح کردی ہے کہ نرم تدبیر اگر کافی ہوجائے تو سخت ترصورت ہرگز جائز نہیں۔ مھما حصل الغرض بالطریق الا خف وجب الاکتفاء بہ ولم یجز الاقدام علی الطریق الاشد (کبیر) یورب میں بیویوں کی مار پیٹ کا دستور جہاں جہاں رہا ہے اس کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ قرآن مجید میں اس حکم کا ملنا قرآن مجید کے حق میں ذرا بھی مضر نہیں جیسا کہ بعض یورپ زدہ مسلمان سمجھ رہے ہیں بلکہ یہ تو عین دلیل ہے اس کی کہ قرآن مجید کے احکام ہر طبقہ اور ہر مزاج اور ہر سطح انسانی کے لئے ہیں۔120 ۔ (ان پر سختی اور زیادتی کرنے کے لیے) اوپر کی تدبیر تو محض ضرورت کے لئے ہے۔ بلاضرورت اس کا استعمال بیوی کو ستانے اور تکلیف پہنچانے کے لیے ہرگز درست نہیں۔ 121 ۔ (سو تم ایسی رفعت والے، عظمت والے پروردگار کے حقوق میں کوتاہی سے کب ماوراء ہو ؟ ) شوہر اگر یہ مراقبہ کرتے رہیں تو بیویوں سے اپنے مطالبات میں یقیناً نرم پڑجائیں اور ان کی طرف سے ادائے حقوق پر اتنا اصرار جاری نہ رکھیں۔
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تمہیں دونوں کے درمیاں کشمکش کا علم ہو،122 ۔ تو تم ایک حکم مرد کے خاندان سے اور ایک حکم عورت کے خاندان سے مقرر کردو،123 ۔ اگر دونوں کی نیت اصلاح حال کی ہوگی تو اللہ دونوں کے درمیان موافقت پیدا کردے گا،124 ۔ بیشک اللہ بڑا علم رکھنے والا ہے، ہر طرح باخبر ہے،125 ۔

122 ۔ خطاب عام امت اسلامیہ کو ہے اور حکام اور اہل حل وعقد کو بدرجہ اولی۔ الخطاب کما قال ابن جبیر والضحاک وغیرھما للحکام (روح) وقال اخرون المراد کل واحد من صالحی الامۃ (کبیر) خطاب لجمیع ال مومنین (کبیر) (آیت) ” بینھما “۔ یعنی میاں بیوی کے درمیان۔ (آیت) ” شقاق “۔ یعنی ایسی کشمکش جسے وہ باہم نہ سلجھاسکیں۔ امت اور افراد امت کا ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ افراد کے باہمی اور خانگی مناقشوں سے معاشرۂ اسلامی کا دامن بالکل الگ اور بےتعلق نہیں کہ افراد ہی کی صالحیت پر امت کی صالحیت کا مدار ہے آیت میں اس کی تعلیم ہے کہ افراد کی خانگی نزاعوں کی امت اپنی ہی معاملہ سمجھے۔ (آیت) ” ان خفتم “۔ خوف یہاں بھی علم کے معنی میں ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 1 16 والمراد فان علمتم کما قال ابن عباس ؓ (روح) والخوف بمعنی الیقین وقیل ھو بمعنی الظن یعنی ان ظننتم شقاقا بینھما (معالم) 123 ۔ (جو تصفیہ کی اہلیت رکھتے ہوں وہ جاکر تحقیق حال کریں) (آیت) ” فابعثوا “۔ یعنی تصفیہ کی غرض سے ان دو حکموں کو ان میاں بیوی کے پاس بھیجو، میاں بیوی میں نزاع ہونے میں یہ ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ فورا طلاقم طلاق ہوجائے یا اور کسی ایسی ہی شدید کاروائی کی نوبت آجائے، بلکہ پہلے یہ کوشش مصالحت ومفاہمت کی کرلی جائیں۔ رشتہ ازدواج ایک اہم ترین رشتہ ہے، اس پر بےپروائی سے ضرب نہیں لگائی جاسکتی۔ 124 ۔ (آیت) ” ان یریدا “۔ میں ضمیر تثنیہ دونوں حکموں کی جانب ہے اور (آیت) ” بینھما “۔ میں زوجین کی جانب۔ الضمیر الاول للحکمین والضمیر الثانی للزوجین (بیضاوی) والضمیر فی ان یریدا للحکمین وفی بینھما للزوجین (مدارک) ہوسکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر ضمیریں زوجین ہی کے لیے ہوں۔ وقیل کلاھما للزوجین (بیضاوی) اوالضمیران للزوجین (مدارک) (آیت) ” ان یریدا اصلاحا “۔ یعنی اگر اخلاص ودیانت کے ساتھ نیت مصالحت ومفاہمت کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ نیت میں برکت ضرور دے گا۔ اور قلب کی صفائی کی کوئی صورت نکال دے گا۔ فقیہ تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا واجب ہے، اگر زوجین حکام سے رجوع کریں اور دوسروں کے لیے مستحب ہے اور من اھلہ واھلھا کی قید سب کے لئے مستحب ہے۔ 125 ۔ ہر انسانی ضرورت ہر بشری مصلحت پر اس کا علم محیط ہے۔
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ کرو،126 ۔ اور حسن سلوک (رکھو) والدین کے ساتھ اور قرابت داروں کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور پاس والے پڑوسی اور دور والے پڑوسی اور ہم مجلس اور راہ گیر کے ساتھ اور جو تمہاری ملک میں ہے ان کے ساتھ،127 ۔ قطعا اللہ ایسوں کو دوست نہیں رکھتا جو خود بین ہیں فخار ہیں،128 ۔

126 ۔ (نہ ذات میں نہ صفات میں) 127 ۔ حسن سلوک کی تاکید والدین سے لے کر غلاموں اور باندیوں تک معاشرہ کے ہر ہر طبقہ کے ساتھ ! اور پھر اس حکم کا عطف توحید الہی پر ! دنیا کی کسی دوسری آسمانی کتاب میں اس بےنظیر تعلیم کی نظیر ملے گی ؟ اور اسی کے ساتھ محققین کی یہ تصریح کہ ” اہل حقوق اگر کافر ہوں تب بھی ان کے ساتھ احسان کرے، التبہ مسلمان کا حق اسلام کی وجہ سے ان سے زائد ہوگا۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” والجار “۔ حدیث میں آیا ہے جیسا مفسرین نے محدث ابو نعیم اور محدث بزار کے حوالہ سے لکھا ہے کہ پڑوسی تین قسم کے ہیں۔ ( 1) ایک وہ جن پر تہرے حق ثابت ہیں۔ حق جوار، حق قرابت، حق اسلام، (2) دوسرے وہ جن پر دوہرے حق ثابت ہیں، حق جوار، حق اسلام۔ (3) تیسرے وہ جن پر ایک ہی حق ثابت ہے یعنی حق جوار، اور وہ وہ پڑوسی ہے جو مشرک کتابی ہو۔ قرآن مجید کی یہ تصریح بھی یاد رہے کہ دونوں قسم کے پڑوسی حق رکھتے ہیں، قریب والے اور قرابت والے بھی اور دور والے اور اجنبیت والے بھی۔ مسلمان اگر آج ایک اسی تعلیم کو یاد رکھیں تو کتنی خانہ جنگیوں کا خاتمہ ہوجائے۔ بلکہ ایک تفسیر تو یہ بھی منقول ہے کہ جار ذی القربی سے مراد مسلمان پڑوسی ہے۔ اور جار الجنب سے یہودونصرانی۔ والجار ذی القربی قال نوف الشابی ھو الجار المسلم والجار الجنب ھو الجار الیھودی والنصرانی فھی عندہ قرابۃ الاسلام واجنبیۃ الکفر (بحر) یحتمل ان یراد بالجار ذی القربی من لہ مع الجوار قرب واتصال بنسب اودین وبالجار الجنب الذی لاقربۃ لہ ولومشرکا (روح) (آیت) ” والصاحب بالجنب “۔ اس ہم مجلسی یا صحبت میں وقت کی کوئی قید نہیں۔ رفاقت ومصاحبت خواہ سالہا سال کی ہو خواہ چند منٹ کی، بہرحال اپنا حق قائم کرجاتی ہے۔ اس کی تعریف کے ذیل میں ہم سبق، ہم مدرسہ، ہمسفر کھیل کود کے ساتھی، ریل اور جہاز کے ساتھی، شریک صنعت سب آجاتے ہیں۔ (آیت) ’ وابن السبیل “۔ یہ ضرور نہیں کہ مسافر مہمان ” ہی “ بن کر آئے۔ خاطر تواضع بہ قدروسعت وہمت ہر آیندوروند کی ضروری ہے۔ 128 ۔ اب یہاں سے ان موانع کا بیان ہے جو ادائے حقوق کی راہ میں حائل ہوتے رہتے ہیں ان میں سے پہلی چیز خود بینی ہے اور دوسری چیز نمائش وحب جاہ، مختال وہ ہے جو اپنی بڑائی کے خیال میں گرفتار رہتا ہے اور عزیزوں، قریبوں، پڑوسیوں کی طرف التفات کرنے میں کسر شان سمجھتا ہے (آیت) ” فخور “۔ وہ ہے جو دوسروں پر اپنا فخر زبان سے جتلاتا رہتا ہے۔
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو بخل کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیتے ہیں اور جو کچھ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے دے رکھا ہے اسے چھپاتے ہیں،129 ۔ اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے،130 ۔

129 ۔ (کہ ان تینوں قسم کے لوگ اللہ کے ہاں ناپسندیدہ مخلوق میں داخل ہیں) ادائے حقوق میں خود بینی اور فخاری کے بعد تیسرا بڑا مانع یہی بخل ہوتا ہے۔ (آیت) ” مااتھم اللہ من فضلہ “۔ سے مراد مال و دولت کا ہونا ظاہر ہے۔ دوسرے معنی علم دین کی دولت کے بھی کئے گئے ہیں اور وعید میں وہ لوگ شامل سمجھے گئے ہیں، جو مسائل دین کے اظہار میں بخل کرتے رہتے ہیں۔ 130 ۔ انسان عموما بخل اسی لئے کرتا ہے کہ مال بچا کر اس سے اپنے جاہ میں اضافہ کرے۔ اس جاہ پرستی کی سزا قدرۃ یہ ملے گی کہ عذاب سخت دردناک ہونے کے علاوہ اسے خلق کی نظر میں ذلیل ورسوا کرنے والا بھی ہوگا۔
Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور جو لوگو اپنا مال لوگوں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتے رہتے ہیں اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر (تو یہ سب کافروں ہی کے حکم میں داخل ہیں) ،131 ۔ اور جس کا مصاحب شیطان ہوا سو برا مصاحب ہوا،132 ۔

131 ۔ (آیت) ” رء آء الناس “۔ یعنی یہ لوگ اہل حقوق پر خرچ نہیں کرتے بلکہ موقع نمود پر خرچ کرتے ہیں، جن لوگوں کا ایمان خدا اور روز جزا پر نہیں ہوتا وہ جس موقع پر اور جس مقصد سے بھی خرچ کریں گے، بہرحال کوئی نہ کوئی صورت رضاء خلق ہی کی ہوگی، حالانکہ اسلام نے جان کی طرح (گو اس سے کم درجہ میں) مال کی بھی خرچ کی اجازت رضاء خالق ہی کے تحت دی ہے ، 132 ۔ (جو ہمیشہ برائی ہی کی ترغیب دیتا رہے گا) ( ّآیت) ” من یکن الشیطن لہ قرینا “۔ جس کا مصاحب شیطان ہوا۔ جیسا کہ ان لوگوں کا ہے۔
Ayah 4:39

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور انہیں کیا خرابی لاحق ہوجاتی اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لے آتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے،133 ۔ اور اللہ ان سے خوب واقف ہے ،

133 ۔ (دین کی راہ میں اور اخلاص کے ساتھ) (آیت) ” ماذا علیھم “۔ محاورہ عربی میں ایسے موقع پر آتا ہے جیسے اردو میں کہتے ہیں :۔ کیا غضب ہوجاتا، کون سی بڑی بات تھی !
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

بیشک اللہ ذرہ بھر سے ظلم نہیں کرے گا،134 ۔ اور اگر ایک نیکی ہوگئی تو اسے دوگنا کردے گا اور اپنے پاس سے اجر عظیم دے گا،135 ۔

134 ۔ (قیامت کے دن) یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کی کوئی نیکی بلااجر رہ جائے یا کوئی بدی کسی کے حساب میں خواہ مخواہ لکھ لی جائے۔ (آیت) ” ان اللہ لایظلم “۔ اللہ جو خالق مطلق، حاکم مطلق، مالک مطلق ہے، حقیقۃ ظلم کا اطلاق تو اس کے کسی فعل پر بھی کسی حال میں نہیں ہوسکتا، یہاں مراد تو یہ ہے کہ وہ ظاہر میں اور مجازی معنی میں بھی ظلم نہیں کرتا۔ آیت میں دو پہلو اور بھی ہیں۔ ایک تو مشرک قوموں نے اپنی دیوی دیوتاؤں کو ظالم، ستم گر، خون خوار مانا ہے (مثلا کالی مائی) حق تعالیٰ کی تنزیہ اس قسم کی صفات سے کلیۃ ہوگئی۔ دوسرے جن آیتوں میں حق تعالیٰ کی قوت مطلق اختیارات کامل کا اثبات ہے، ان سے ممکن تھا کہ مسلمانوں کو بھی یہ خیال ہوجاتا کہ ہر طرح کا ظلم اس قادر مطلق کے لئے رواہے۔ اس کی تردید بھی آیت سے ہوگئی۔ 135 ۔ (سو کیا ٹھکانا ہے ایسے پروردگار کی رحمت وکرم کا) (آیت) ” من لدنہ “۔ اپنے پاس سے، یعنی زاید ازاستحقاق بلکہ بلااستحقاق۔ اسلام کا خدا نہ کوئی خون خوار دیوتا ہے نہ ایسا معذور کہ کسی پر کرم کرنا چاہے بھی تو اپنی صفت عدل کو برقرار رکھنے کے لئے کسی اور پر ظلم اسے کرنا پڑے ! شرک اور مسیحی شرک دونوں کی تردید آیت سے ہوگئی۔
Ayah 4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

سو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک ایک گواہ حاضر کریں گے،136 ۔ اور ان لوگوں پر آپ کو بہ طور گواہ پیش کریں گے،137 ۔

136 ۔ (قیامت کے دن، اس امت سے متعلق اظہار دینے) یہ گواہ ہر امت کے مقابل اس امت کے رسول ہوں گے۔ جو اس کی شہادت دیں گے کہ وہ احکام کی پوری پوری تبلیغ کر آئے تھے۔ 137 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” ھولآء “۔ (ان لوگوں) کا اشارہ کس جانب ہے ؟ بہ ظاہر وہ لوگ مراد معلوم ہوتے ہیں۔ جو قرآن کے بر اہ راست یا بالواسطہ مخاطب تھے، اور جن سے رسول اللہ ﷺ کا سابقہ تھا۔ ای علی امتک (ابن جریر) یعنی قومہ المخاطبین بالقران (کبیر) دوسری تفسیر یہ ہے کہ اشارہ ان گواہوں کی جانب ہے، یعنی ان گواہوں کے صدق بیان پر گواہ ہوکر، نشھد علی صدق ھولآء الشھداء لعلمک بعقائدھم (بیضاوی) بہرصورت جب رسول اللہ ﷺ اس آیت پر پہنچے تھے تو اپنی ذمہ داری کے احساس اور فرط خشیت سے دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ آنسو چشم مبارک سے ظاہر ہوجاتے تھے، کان النبی ﷺ اذا اتی علیھا فاضت عیناہ (ابن جریر) جن بیدردوں نے قرآن کو کلام محمد ٹھیرایا، وہ غور کریں، اپنے گھڑے ہوئے کلام سے بھی انسان کے آنسو جاری ہوسکتے ہیں ؟
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور پیغمبر کی نافرمانی کی ہے وہ اس روز تمنا کریں گے کہ کاش زمین ان پر برابر کردی جائے، اور اللہ پر کوئی بات نہ چھپا سکیں گے،138 ۔

138 ۔ (بلکہ ہر چھپا ہوا راز اس روز ظاہر ہو کر رہے گا) (آیت) ’ ’ یومئذ “۔ اس روز سے ظاہر ہے کہ روز حشر مراد ہے۔ (آیت) ” لوتسوی بھم الارض “۔ تاکہ وہ پیوند زمین ہو کر حشر کی رسوائی اور عذاب سے محفوظ ہیں۔