Ayah 4:100283 ۔ (اقامت دین اور اظہار کلمہ حق کے لئے) یعنی کوئی ہجرت کرکے دیکھے تو۔ اللہ کی سرزمین تنگ نہیں۔ اس زمین پر اسے متعدد جگہیں مل جائیں گی جہاں وہ آزادی سے اپنے دین کا اظہار کرسکے گا۔ بعض اہل لطائف نے کہا کہ مراغم اور سعۃ دو الگ الگ لفظ لانے میں اشارہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اظہار دین کی جگہیں مل جائیں گی اور آخرت میں فراخ اور وسیع بہشتیں ملیں گی،
284 ۔ (قبل اس کے کہ وہ اپنی منزل مقصود یا ہجرت گاہ تک پہنچ سکے اور اس لیے گویا بہ ظاہر ناکام رہے) فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ ہر ایسی مجبوری جو انسان کو عاجز وبے بس کردے، موت ہی کے حکم میں داخل ہے۔ (آیت) ” مھاجرا الی اللہ ورسولہ “۔ یعنی ایسے کی طرف چلے جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دین کا اظہار کرسکے۔ اے الی حیث امر اللہ ورسولہ (مدارک) محققین نے لکھا ہے کہ ہر ایسا سفر جو رضاء الہی کے لئے ہو مثلا سفر حج، یا طلب علم دین کے لئے سفر ہاجر کے لحاظ سے سفر ہجرت کے حکم میں داخل ہے۔ قالوا کل ھجرۃ لطب العلم اوحج جھاد اوقرار الی بلد یزاد فیہ طاعۃ اوقناعۃ اوزھدا اوابتغاء رزق طیب فھی ھجرۃ الی اللہ ورسولہ (مدارک)
285 ۔ (تو اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ وہ اس ناکامی پر بھی پورا وہی اجر دے دے جو کامیابی پر موعود تھا) ھذا یدل علی من خرج متوجھا لفعل شیء من القرب اللہ یجازیہ بقدرنیتہ وسعیہ وان اقتطع دونہ (جصاص)
Ayah 4:101286 ۔ یہ آخر کا فقرہ جیسا کہ شارع (علیہ السلام) کا عمل اس پر گواہ ہے اور سارے اہل علم بجز خوارج کے اس پر متفق ہیں، بہ طور شرط کے نہیں کہ صرف اسی حالت میں نماز قصر کی جائے بلکہ اس فقرہ میں نزول آیت کے وقت کی صرف حالت واقعی کا بیان ہے ورنہ قصر صلوۃ کا حکم ہر سفر کے لئے عام ہے۔ والخوف شرط جواز القصر عند الخوارج بظاھر النص وعند الجمھور لیس بشرط (مدارک) والذی علیہ الائمۃ ان القصر المشروع فی الامن ایضا وقد تظاھرت الاخبار علی ذلک (روح) (آیت) ” اذا ضربتم فی الارض “۔ سفر شرعی کی مسافت تین منزل کی قرار پائی ہے اور منزل کا اندازہ فقہا نے 20 میل کا کیا ہے۔ لیکن یہ سب اندازے اور تخمینے ہی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے اس سے بہت کم فاصلہ پر بھی قصر نماز ثابت ہے۔ جمہور فقہاء کا قول ہے کہ سفر جس جائز غرض، مقصد سے بھی ہو، شرعی سفر کے حکم میں داخل ہے۔ الجمھور علی جواز القصر فی السفر المباح التجارۃ ونحوھا (قرطبی) (آیت) ” لیس علیکم جناح “۔ یعنی بادی النظر میں رکعات نماز میں کمی کردینا ایک گناہ کی چیز معلوم ہوتی ہے اور وسوسہ تمہیں بھی گناہ کا ضرور ہورہا ہے۔ لیکن اطمینان رکھو کہ اس میں مضائقہ نہیں۔ اللہ کی طرف سے یہ جائز کیا جارہا ہے۔ (آیت) ” الصلوۃ “۔ صلوۃ (نماز) سے مراد صلوۃ مکتوب یا نماز فرض ہے۔ حنفیہ کے ہاں سفر میں نماز قصر مستحب ہی نہیں واجب ہے۔ قلنا القصر عزیمۃ غیر رخصۃ ولا یجوز الاکمال (مدارک) روی عن جماعۃ انہ فرض وھو قول عمر بن عبد العزیز والکوفیین والقاضی اسمعیل وحماد بن ابی سلیمان (قرطبی) اور یہ قصر چار رکعتوں والی تینوں نمازوں میں ہوتا ہے۔ ظہر، عصر، عشاء میں فرض کی دو دو رکعتیں رہ جاتی ہیں۔ مسائل قصر کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں ملیں گی۔ (آیت) ” فی الارض “۔ سے مراد یہ نہیں کہ سفر صرف خشکی ہی میں ہو۔ ارض کا لفظ بروبحر کے لیے عام ومشترک ہے اور مقصد یہ ہے کہ کوئی سا بھی ہو۔ المراد من الارض مایشمل البروالبحر والمقصود التعمیم ای اذا سافرتم فی ای مکان یسافر فیہ من بروبحر (روح)
Ayah 4:102287 ۔ یعنی حالت نماز میں بھی مسلح رہیں۔ (آیت) ” اذکنت فیھم “۔ صیغہ واحد حاضر ہے محض رسول اللہ ﷺ ہی مراد نہیں۔ آپ ہوں یا آپ کا کوئی قائم مقام۔ قال الائمۃ نواب عن رسول اللہ ﷺ فی کل عصر (مدارک) ھذہ الایۃ خطاب للنبی ﷺ وھو یتناول الامراء الی یوم القیمۃ ھذا قول کافۃ العلماء (قرطبی) (آیت) ” فاقمت لھم الصلوۃ “۔ یعنی جب وقت نماز آجانے پر آپ میدان جنگ میں امامت نماز کے لئے کھڑے ہوجائیں اور اندیشہ ہو کہ دشمن موقع پاکر حملہ کردے گا (آیت) ” فلتقم طآئفۃ منھم معک “۔ یعنی ایسے موقع پر چاہیے کہ سپاہ کے دو گروہ ہوجائیں کچھ لوگ تو نماز شروع کردیں اور کچھ لوگ نگہبانی کے لئے دشمن کے مقابل کھڑے ہوجائیں، یہ سب بیان صلوۃ الخوف کا ہو رہا ہے۔ پوری تفصیلات کے لئے فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے۔
288 ۔ فقہا نے یہاں سے یہ استنباط کیا ہے کہ عین عبادت منصوص کی حالت میں بھی اسباب انتظام پر نظر رکھنا اولی ہے۔ (آیت) ” فاذا سجدوا “۔ یعنی پہلا گروہ ایک رکعت تمام کرلے۔ (آیت) ” فلیکونوا من ورآئکم “۔ یعنی پہلے گروہ والے تمہارے پاس سے ہٹ کر دشمن کے مقابلہ میں آجائیں۔ (آیت) ” ولتات۔۔۔ لم یصلوا “۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے ابھی نماز شروع بھی نہیں کی ہے اور ابھی تک وہ دشمن کا مقابلہ کررہے تھے وہ اب پہلے گروہ کی جگہ پر آجائیں۔ (آیت) ” فلیصلوا معک “۔ یعنی نماز کی جو رکعت ابھی امام کے لئے باقی ہے، اس میں آکر اس کے شریک ہوجائیں۔
289 ۔ کیا ٹھکانا ہے ہماری شریعت کی پیدا کی ہوئی اس چستی، مستعدی، ہر چستی اور ہمہ وقتی بیداری کا، دشمن سامنے ہے، قتل وخون کا بازار گرم ہے۔ جان کا سودا ہورہا ہے۔ عین اس وقت نماز بھی ہوئے جائے اور ہتھیار بھی برابر ساتھ رہیں۔ سستی کاہلی، غفلت، آرام طلبی کہیں شریعت اسلامی کے ساتھ جمع ہوسکتی ہیں ؟
290 ۔ نماز خوف کی جو صورتیں یہاں ارشاد ہوئی ہیں، وہ سب اس وقت کے لئے ہیں جب سب سپاہی ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیں اور حضور ﷺ کی موجودگی میں سب کا آپ ﷺ ہی کے پیچھے پڑھنے پر حریص ہونا بالکل قدرتی تھا۔ لیکن جب امام ہی دو یا زائد ہوں تو پھر ان انتظامات کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ فقہا نے لکھا ہے کہ خوف کی بھی دو حالتیں ہیں اور دونوں کے حکم الگ الگ ہیں :۔ ( 1) یہ کہ عین معرکہ قتال گرم ہو اور جماعت کا اہتمام ہی سرے سے نہ بن پڑے ایسی حالت میں نماز جماعت اڑا دی جائے گی اور اس کا ذکر سورة بقرۂ آیت 239 میں موجود ہے۔ شدت خوف کی حالت میں نماز الگ الگ پڑھی جائے گی، سوار یا پیادہ ہر حال میں جائز ہے۔ رکوع و سجدہ کیلئے کافی ہے۔ استقبال قبلہ ہی ضروری نہ رہے گا۔ (2) دوسرے یہ کہ ہو تو میدان جنگ میں، لیکن قتال ابھی شروع نہ ہوا ہو۔ اور نماز جماعت کا موقع ہو۔ جیسا کہ (آیت) ” فاقمت لھم الصلوۃ “۔ سے اشارہ ہورہا ہے۔ اس آیت میں جن انتظامات کی ہدایت ہوئی ہے وہ اسی صورت حال سے متعلق ہے۔
Ayah 4:103291 ۔ (غرض ہر صورت میں حال کے مناسب) علی ای حال کنتم (قرطبی) (آیت) ” علی جنوبھم “۔ کے لفظی معنی ہیں۔ اپنے پہلوؤں پر۔ یا اردو محاروہ میں مراد لیٹنے سے ہے۔ (آیت) ” فاذکروا للہ “۔ مطلب یہ ہوا کہ تخفیف نماز میں تو یہ ہوگئی باقی ذکر الہی میں کوئی تخفیف نہیں۔ اور اسی لیے ہے۔ یہاں تک کہ عین قتال کے وقت بھی ذکر الہی دل سے تو جاری ہی رہ سکتا ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ احکام شریعت کا اتباع بجائے خود ذکر الہی ہے۔ (آیت) ” فاذا قضیتم الصلوۃ “۔ الصلوۃ سے یہاں مراد وہی نماز خوف ہے جس کی ایک ہیئت مخصوص ہے عام نمازی ہئیت سے ہٹی ہوئی۔ اس نماز کے لئے لفظ (آیت) ” قضیتم “۔ ارشاد فرمانا اس کی دلیل ہے کہ یہ بظاہر نامکمل، ناتمام نماز بھی عنداللہ ادا ہوجاتی ہے۔
292 ۔ (اصلی قاعدہ کے مطابق اور پورے شرائط کے ساتھ) (آیت) ” اقیموا الصلوۃ “۔ صلوۃ اصلی کے لئے یہاں اقامت استعمال کرنا اس کی دلیل ہے کہ اقامت صلوۃ سے مراد نماز کا اس کے جملہ شرائط ہی کے ساتھ ادا کرنا ہوتا ہے۔ (آیت) ” فاذا اطماننتم “ َ یعنی سفر اور خوف کی حالتیں ختم ہوجائیں۔
293 ۔ یہاں نماز کی صفت یہ بیان ہوئی کہ وہ علاوہ فرض ہونے (کتابا) کے پابندی وقت کے لحاظ سے فرض ہے۔ (آیت) ” موقوتا “۔ اس لئے سوا حالت معذوری کے، اسے وقت سے ہٹا دینا جائز نہ ہوگا۔ موقاتا ای محدود الاوقات لایجوز اخراجھا من اوقا تھا فی شیء من الاحوال (روح) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا ہے کہ فرض ہونے کی وجہ سے اس کا ادا کرنا ضرور ہے اور موقت ہونے کی وجہ سے وقت پر ہی ادا کرنا ضرور۔ اس لئے مخصوص حالات میں اس کی ہئیت کچھ کچھ تبدیل کردی گئی تھی۔ جب وہ عارض دور ہوگیا تو اس کی اصل ہئیت واجب الحفظ ہوگئی۔
Ayah 4:104294 ۔ (جب تعاقب کی ضرورت آپڑے) روایتوں میں آتا ہے کہ آیت غزوۂ حمراء الاسد کے سلسلہ میں نازل ہوئی تھی، اس کا ذکر غزوۂ احد کے سلسلہ میں سورة آل عمران رکوع 18 میں آچکا ہے۔ (آیت) ” الذین استجابوا للہ والرسول “۔ کے ماتحت۔
295 ۔ یعنی اجر آخرت کی۔ جس کے مقابل کوئی چیز منکروں کے پاس نہیں۔ تو قوت قلب کے لحاظ سے تم ان سے کہیں بڑھے چڑھے رہے۔ دنیوی فتح مندیوں اور کامیابیوں کی پیش گوئیاں بھی اس کے تحت میں آسکتی ہیں۔
296 ۔ چناچہ علیم کل ہونے کی بنا پر اس نے تمہاری قوت تحمل سے زیادہ تمہیں کوئی حکم نہیں دیا۔
Ayah 4:105297 ۔ (اسی قرآن کے ذریعہ سے) (آیت) ” ارک اللہ “۔ یہاں بتادیا، سمجھادیا، سکھا دیا کے مفہوم میں ہے۔ بما اراک اللہ ای بما علمک (راغب) بما علمک اللہ فی القرآن (ابن عباس ؓ (آیت) ” بالحق “۔ یعنی قانون عدل کے مطابق آیت اس باب میں صریح ہے کہ فیصلہ جو کچھ بھی کئے جائیں قرآن ہی کے مطابق وماتحت کئے جائیں نہ کہ اپنے ہوائے نفس کے موافق یا کسی انسانی دماغ کے گڑھے ہوئے آئین ودستور کے ماتحت آیت کا پس منظر یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنوابیرق کے ایک گھرانے میں تین بھائی بشیر، بشر اور مبشر مسلمان تھے اور ان کا ایک بھائی بشیر منافق تھا۔ ایک مرتبہ چور حضرت رفاعہ بن زید انصاری ؓ کے گھر میں نقب لگا کر ان کے ہتھیار اور میدے کی ایک بوری لے گئے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ بشیر منافق اور اس کے بدمعاش ساتھیوں نے چوری کی ہے۔ حضرت رفاعہ ؓ نے اپنے برادرزادہ جناب قتادہ بن نعمان سے کہا کہ تم آستان نبوت میں جاکر واقعہ بیان کرو تو عجب نہیں کہ ہمارا مال مل جائے۔ انہوں نے جاکر سارا واقعہ آنحضرت ﷺ کے گوش گزار کیا۔ جب بشیر کے اقرباء نے سنا کہ نبی ﷺ کے پاس استغاثہ ہوا تو وہ آکر کہنے لگے یا رسول اللہ ! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا رفاعہ ہمارے آدمی پر جو مسلمان ہوچکا ہے ناحق چوری کی تہمت لگاتے ہیں۔ “ اس کے بعد قتادہ حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا تم ایسے شخص پر بغیر کسی ثبوت کی تہمت لگاتے ہو جو دائرہ اسلام میں داخل ہوچکا ہے ؟ یہ سن کر قتادہ ؓ کے دل میں آرزو ہوئی کہ کاش میں نے آپ سے چوری کی شکایت نہ کی ہوتی، تھوڑی دیر گزری تھی کہ خالق کرد گار نے اپنے رسول پاک ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترمذی ابواب تفسیر القرآن)
298 ۔ خائنوں سے بنو ابیرق مراد ہیں۔ جب یہ آیتیں نازل ہوئیں تو بنوابیرق نے بشیر اور اس کے ساتھیوں کو مجبور کرکے چوری کا مال برآمد کرلیا اور تمام اسلحہ نبی ﷺ کے پاس بھجوادیئے۔ بشیر نفاق کا لباس فریب اتار کر علانیہ مشرکوں سے جاملا۔ (ترمذی)
Ayah 4:106299 ۔ یہ استغفار کا حکم رسول ﷺ کو کس کے لئے مل رہا ہے ؟ اپنے حق میں یا امت کے حق میں۔ بہ ظاہر یہ حکم استغفار ان لوگوں کے حق میں معلوم ہوتا ہے، جو برادری کے خیال سے اس مجرم منافق کے حق میں ساعی اور سفارشی تھے اور قرآن مجید میں اس اسلوب بیان کی مثالیں اور جگہوں پر بھی ملتی ہیں۔ مثلا (آیت) ” یایھا النبی اتق اللہ “۔ یا و، ان کنت فی شک “۔ وغیرھا۔ چناچہ اہل تفسیر کا ایک گروہ اسی طرف گیا ہے۔ قیل الخطاب للنبی ﷺ المراد بنو ابیرق (قرطبی) والمعنی استغفر اللہ للمذنبین من امتک والمتخاصمین بالباطل (قرطبی) یحتمل ان یکون المراد واستغفروا اللہ لاولئک الذین یذبون عن طعمۃ ویریدون ان یظھروا براء تۃ عن السرقۃ (کبیر) لیکن اگر یہ معنی لئے جائیں کہ اے پیغمبر آپ اپنے حق میں مغفرت طلب کیجئے تو اس سے اشارہ آپ ﷺ کے صرف اس میلان طبع کی جانب ہے کہ آپ نے بنوابیرق کی شکایت پر حضرت قتادہ بن نعمان ؓ سے اظہار ناراضی فرمایا۔ یہ میلان طبع ظاہر ہے کہ معصیت کبیرہ کیا معنی صغیرہ کا بھی درجہ نہیں رکھتا لیکن پیغمبر تقوی اور طہارت قلب کے جس بلند ترین مقام پر ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے اس قدر ارادہ اور میلان طبع بھی قابل استغفار قرار پایا۔
Ayah 4:107300 ۔ (یہ ہدایت آیندہ کے لئے ہے۔ جیسا کہ اب تک بھی آپ نے پیش کیا ہے)
301 ۔ خوان اور اثیم کے لانے سے یہ مقصود نہیں کہ جو کم درجہ کے خائن اور گنہ گار ہیں وہ اللہ کی نظر میں غیر محبوب نہیں۔ بلکہ مقصود صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ منافق کی برادری کے جن لوگوں نے اسے مجرم جان کر بھی خواہ مخواہ حق پوشی اور باطل کوشی کی، وہ خائن اور گناہگار بڑے درجہ کے تھے (آیت) ” الذین یختانون انفسھم “۔ خیانت کا ضررو وبال بالآخر خود خائن ہی کو بھگتنا پڑتا ہے اس لئے خیانت کو خیانت نفس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جعلت خیانۃ الغیر خیانۃ لانفسھم لان وبالھا وضررھا عائد علیھم (روح)
Ayah 4:108302 ۔ (اس کے احاطہ علم سے کون سی کارروائی مخفی سے مخفی بھی باہر رہ سکتی ہے ؟ ) اس حقیقت کا استحضار ہر جرم، ہر معصیت سے باز رکھنے کو کافی ہے۔ (آیت) ” یستخفون من الناس “۔ یعنی خلق کے سامنے ذلت ورسوائی سے شرماتے ہیں۔ (آیت) ” لا یستخفون من اللہ “۔ یعنی اللہ کے حضور میں بہ طور مجرم پیش ہونے سے نہیں شرماتے ہیں۔ (آیت) ” اذ یبیتون۔۔۔ القول “۔ اشارہ ہے اس طرف کہ اس خاص معاملہ میں رات کو باہم راز دارانہ مشورہ ہوا تھا کہ صبح کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گفتگو اسی طریقہ پر کی جائے گی۔ (آیت) ” وھو معھم “۔ معتزلہ، قدریہ، جہمیہ، وغیرہ نے اس قسم کی آیتوں سے حق تعالیٰ کی معیت مکانی پر استدلال کیا ہے۔ قال الجھمیۃ والقدریۃ والمعتزلۃ ھو بکل مکان تمسکا بھذہ الایۃ وما کان مثلھا (قرطبی) لیکن اہل سنت اسے شان تزیہی کے منافق سمجھتے ہیں۔ اور انہوں نے مراد صرف معیت علمی لی ہے۔ ای بالعلم والرؤیۃ والسمع ھذا قول اھل السنۃ (قرطبی) یرید بالعلم والقدرۃ والرؤیۃ (کبیر)
Ayah 4:109303 ۔ اس حقیقت کبری کو یاددلایا ہے کہ اصل پیشی اور جوابدہی تو عدالت آخرت ہی کی ہے۔ یہاں کسی طرح اگر بات بنا بھی لی گئی تو کیا ہوتا ہے مومن کیلئے اصل خوف کی چیز تو وہی آخرت کی عدالت ہے جہاں کسی قسم کی بھی تلبیس کی گنجائش نہیں (آیت) ” ھانتم “۔ خطاب ہے مجرم کی برادری اور محلہ والوں کی طرف جنہوں نے سازش کرکے مجرم کی پشت پناہی کی تھی۔
Ayah 4:110304 ۔ اوپر کی وعیدی وانذاری آیتوں کے بعد گنہگاروں اور کمزور ایمان والوں کے لئے یہ کیسی حکیمانہ اور مناسب حال دلدہی ہے (آیت) ” من یعمل سوءا “۔ متعدی برائی مراد ہے یعنی کسی دوسرے کے ساتھ برائی کی جائے۔ مثلا ظلم، دغا، سود خواری، رشوت ستانی وغیرھا (آیت) ” یظلم نفسہ “۔ وہ برائی جو خود اپنے ہی حق میں کی جائے۔ مثلا ترک نماز، شراب خواری وغیرہا۔ (آیت) ” یستغفر اللہ “۔ یہ استغفار قواعد شرعی کے مطابق ہونا چاہیے۔
Ayah 4:111305 ۔ علیم کل ہونے کے حیثیت سے وہ سب کے چھوٹے بڑے گناہوں سے باخبر ہے، حکیم ہونے کے اعتبار سے وہ جزا وسزا سب کے مناسب حال ہی تجویز کرتا ہے۔ (آیت) ” انما یکسبہ علی نفسہ “۔ یعنی گناہ کا ضرر ووبال خود اسی کو بھگتنا ہوگا۔ اس لئے توبہ و استغفار، تدارک وتلافی لازمی ہے۔
Ayah 4:112306 ۔ (اور اپنے جرم کی کئی گنابڑھا دیا) تو بہ نہ کرنا اپنی جگہ پر نادم ومنفعل نہ ہونا، تلافی وکفارہ اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہ کرنا یہ جرائم بجائے خود ! کیا کم ہیں۔ چہ جائیکہ اپنا گناہ الٹا کسی بےگناہ کے سرتھوپ دیا جائے۔ قرآنی اخلاقیات میں یہ جرم ضمیر واخلاق کی انتہائی پستی کا نمونہ ہے اور اس لئے لازمی طور پر اس پر گرفت بھی سخت رکھی گئی ہے۔ (آیت) ” خطءٓۃ “۔ وہ چھوٹا گناہ ہے جس میں قصد وتعمد لازمی نہیں یا وہ گناہ ہے ج وصرف خدا اور بندہ کے درمیان ہو۔ الخطیۃ قد تکون من قبل العمد وغیر العمد (ابن جریر) ای صغیرۃ اوما لاعمد فیہ من الذنوب (روح) ذنب بینہ وبین ربہ (مدارک) اثم۔ وہ بڑا گناہ ہے جس میں قصد وتعمد لازمی طور پر ہو۔ یا جو بندوں کا گناہ ہو۔ الاثم لایکون لاامن العمد (ابن جریر) اوکبیر ۃ او ما لایکون من العمد (روح) ذنب فی مظالم العباد (مدارک)
Ayah 4:113307 ۔ یعنی اپنی اس ناپاک کوشش میں کامیاب ہونا تو ان کے لئے ممکن نہیں۔ البتہ اس سعی سے اپنے ہی کو یہ مستحق عقوبت بنا رہے ہیں۔ (آیت) ” لولا فضل اللہ علیک روحمتہ “۔ اللہ کا فضل وکرم تو آپ ﷺ پر عموما اور ہر حال میں تھا لیکن اس خاص قضیہ میں خصوصیت کے ساتھ اس کا ظہور رہا۔ (آیت) ” ان یضلوک “۔ یعنی آپ کو غلطی اور دھوکے میں مبتلا کرکے آپ سے غلط فیصلہ حاصل کرلیں۔ ان یخطؤک عن الحکم (ابن عباس ؓ ای بان یضلوک عن القضاء بالحق (روح)
308 ۔ (احکام دین وقضا یا کے باب میں) یعنی شیطان اور اس کے چیلوں (منافقین) کو یہ قوت نہیں دی گئی ہے کہ وہ آپ ﷺ کو دین کے کسی شعبہ میں کچھ بھی مغالطہ میں ڈال سکیں۔
309 ۔ یہ کتاب کا نزول، حکمت کا نزول، علوم خاصہ کی تعلیم یہ سب اسی فضل عظیم کے شواہد ہیں اور اللہ کا فضل جس پر عظیم ہو اس پر کس کا قابوچل سکتا ہے ؟ (آیت) ” انزل الکتب “۔ اور اس کتاب ہی کے ذریعہ سے منافقین کی معاندانہ روش کا پردہ بھی چاک کیا گیا۔ (آیت) ” علمک مالم تکن تعلم “۔ یعنی جو علوم عالیہ آپ پر قبل نبوت ونزول قرآن منکشف نہ تھے، اب سب منکشف ہوگئے۔
Ayah 4:114310 ۔ (اور ان اغراض کے لئے خفیہ گفتگو اور سرگوشی کی ضرورت پڑجائے تو اس میں البتہ کوئی ہرج نہیں۔ ، بلکہ ایسے موقع پر خیروبرکت ہوگی) (آیت) ” نجوھم “۔ میں ضمیر ھم مطلق انسان کی جانب ہے۔ ای نجوی الناس جمیعا (ابن جریر) یعنی کلام الناس (ابن کثیر) المراد لاخیر فی مایتناجی فیہ۔
311 ۔ (نہ کہ اپنے ذاتی دنیوی اغراض کے لئے) اخلاص نیت اور حصول رضاء الہی کی شرط ہر اہم موقع کے لئے یہاں بھی لگی ہوئی ہے۔
Ayah 4:115312 ۔ (آیت) ” من بعد ما تبین لہ الھدی “۔ اسے صاف کردیا کہ آیت میں بیان مرتدوں کے خصائل رذیلہ کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” نولہ ما تولی “۔ یعنی ہم اسے اسی طریق پر چھوڑے رکھتے ہیں اپنے قانون مشیت تکوینی کے موافق۔ مقصود یہ ہے کہ جبرواکراہ سے کسی کو راہ حق کے قبول کرنے اور ماننے پر مجبور نہیں کیا جاتا، بلکہ وضوح حق کے بعد جو بدبخت اپنی کجروی پر قائم رہنا چاہتا ہے۔ اسی پر اسے قائم رہنے دیا جاتا ہے۔ (آیت) ” ومن یتبع غیر سبیل ال مومنین “۔ اس اتباع کا تعلق اموردین سے ہے (آیت) ” یتبع۔۔۔۔ جھنم “۔ آیت کے اس جز سے فقہاء کو ایک بہت بڑی اصل ہاتھ آگئی ہے۔ اور اس کو انہوں نے اجماع امت کے حجت شرعی ہونے کا مبنی قرار دیا ہے۔ اور تقریر استدلال یہ ہے کہ طریق مومنین سے الگ ہونا جب حرام اور مستحق جہنم ٹھیرا تو لازمی ہے کہ اس کا عکس یعنی اتباع طریق مومنین واجب ہو۔ اور اس کی مخالفت بھی کتاب وسنت کی مخالفت کے بعد ناجائز ٹھہرے۔ اور یہاں قرآن مجید نے عدم اتباع طریق مومنین کو مخالفت رسول ﷺ کے ساتھ جمع کرکے فرمایا ہے۔ ھو دلیل علی ان الاجماع حجۃ لا تجوز مخالف تھا کما لاتجوز مخالفۃ الکتاب والسنۃ لان اللہ تعالیٰ جمع بین اتباع غیر سبیل ال مومنین وبین مشاقۃ الرسول فی الشرط وجعل جزاۂ الوعید الشدید فکان اتباعھم واجبا کموالاۃ الرسول (مدارک) وقرن اتباع غیر سبیل ال مومنین الی مباینۃ الرسول فی ما ذکر لہ من الوعید فدل علی صحۃ اجماع الامۃ لالحاقہ الوعید بمن اتبع غیر سبیلھم (جصاص) وتقریر الاستدلال ان اتباع غیر سبیل المومنین حرام فوجب ان یکون اتباع سبیل ال مومنین واجبا (کبیر) وھو من احس الاستنباطات واقواھا (ابن کثیر)
Ayah 4:116313 ۔ (ایسا کہ اب حق کی طرف اس کی مراجعت ممکن نہیں) (آیت) ” ان یشرک بہ، من یشرک باللہ “۔ شرک ضد ہے توحید کی۔ اور جس طرح توحید اصل اصول ہے تمام ممکن بھلائیوں اور نیکیوں کی، اسی طرح شرک اصلی بنیاد ہے ساری شرمآبیوں اور برائیوں کی اس لئے اور کسی معصیت پر شرک کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ راہرو کا رخ اگر منزل مقصود کی طرف ہو تو گرتا پڑتا، وقت ضائع کرتا کبھی نہ کبھی منزل سے دور تر ہی کرتا رہے گا اور قیامت تک بھی اگر چلتا رہے تو منزل تک نہ پہنچ سکے گا۔ مشرک قبول رحمت کی ساری صلاحیتوں واستعدادوں ہی کو سوخت کردیتا ہے اس لئے وہ آخرت کی کسی نعمت، کسی لذت، کسی رحت کے قابل ہی نہیں رہ جاتا۔ ملاحظہ ہوں اس سورت کی آیت 49 کے حاشیہ 160 آیت میں خوراج کے اس عقیدہ کا بھی رد آگیا کہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہوا جاتا ہے۔ فیہ رد علی الخوارج حیث زعموا ان مرتکب الکبیرۃ کافر (قرطبی)
Ayah 4:117314 ۔ مشرک قوموں کی دیومالا (میتا لوجی) میں ہمیشہ دیویوں دیوتاؤں کی ایک بڑی اور اہم توداد رہی ہے۔ ہندؤوں میں درگادیوی، کالی مائی، لکشمی جی، سرسوتی دیوی کے نام ایک ایک کی زبان پر ہیں۔ عرب جاہلی میں یہ دیوی پرستی اور زیادہ زور کے ساتھ جاری تھی، چناچہ قرآن مجید میں بھی جاہلی معبودوں کے سلسلہ میں صراحت جن ناموں کی آئی ہے وہ دیویوں ہی کے ہیں۔ یعنی لات، منات اور عزی، ملاحظۃ حاشیہ تفسیرانگریزی۔ اناث۔ لغت میں اس کے ایک معنی دیوی، کمزور اور ضیعف العمل چیزوں کے بھی آتے ہیں۔ قیل لما یضعف عملہ انثی (راغب) پھر چونکہ جمادات تمام تر انفعالیت کے مظہر ہوتے ہیں۔ اور پتھر کے بت یا مورتیاں انہی کی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ ؛ جن میں نہ جان ہوتی ہے اور نہ کوئی قوت فاعلی۔ اس لئے لغت نے لفظ اناث کا مجازی استعمال ان کے لئے بھی جائز رکھا ہے۔ لماکانت معبوداتھم من جملۃ الجمادات التیھی منفعلۃ غیر فاعلۃ سماھا اللہ تعالیٰ انثی (راغب) من کل شیء اخسہ (ابن جریر) چناچہ اکابر تفسیر میں سے بھی بہت سے اسی طرف گئے ہیں۔ ، ای اصناما بلاروح (ابن عباس ؓ میتا لاروح فیہ (ابن جریر عن قتادہ)
315 ۔ یہ مشرکوں کی حماقت کو واضح کیا ہے کہ ان بتوں اور دیویوں کو پکارنا عین شیطان کو پکارنا ہے۔
Ayah 4:118316 ۔ (اور لعنت کی باعث اسکی یہی سرکشی اور بےحکمی ہوئی ہے)
317 ۔ یہ بنی آدم کو وضاحت سے بتا دیا ہے کہ شیطان تو ان کا پرانا دشمن اور بدخواہ ہے۔ (آیت) ” لاتخذن۔۔۔ نصیبا مفروضا “۔ یعنی اپنی راہ پر لگا کر رہوں گا۔
Ayah 4:119318 ۔ یعنی ان کے عقائد اور بنیادی خیالات کو بھی ڈگمگادوں گا۔ اور ان کی نفسانی جذبات اور خواہشات کو بھی ابھار دوں گا۔ گمراہیاں دو ہی طریقوں سے آسکتی ہیں اور انسانی شیطانی اثر دو ہی شکلوں سے قبول کرسکتا ہے۔ ایک عقل وفکر کی راہ سے۔ دوسرے جذبات اور احساسات کا راستہ ہے۔ قرآن مجید کے دو لفظوں نے ان سب کا احاطہ کرلیا۔ ضلال کے تحت میں ہر قسم کی عقلی، فکری، نظری گمراہیاں آگئیں۔ اور تمنی کے تحت میں معاصی، فواحش کی جانب میلان اور نظر سے ان کی مضرتوں کا غائب ہوجانا آگیا۔
319 ۔ (بتوں کے نام پر) عرب جاہلیت کے ایک خاص دستور کی طرف اشارہ ہے۔ کان کے پیچھے جو غدود ہوتے ہیں، وہ غدود بندروں کے کاٹ کاٹ کر انسان کے جسم میں ان کی تقلیم کی ہوا جو اس زمانہ میں چلنی شروع ہوئی ہے۔ اور عجب نہیں کہ کل بندروں سے گزر کر دوسرے جانوروں اور چوپایوں تک پہنچ جائے، ادھر اگر فاطر کائنات کے کلام میں اشارہ ہے تو کچھ عجب نہیں۔
320 ۔ تغییر خلق اللہ کی دو بڑی تقسمیں ہوسکتی ہیں، ایک خلق تکوینی میں تغییر، دوسرے خلق تشریعی میں تغییر، قدیم مفسرین نے تغییر خلق تکوینی کی مثال میں داڑھی منڈانے اور جسم گدانے کو پیش کیا ہے۔ لیکن جاہلیت جدید کی ترقیوں نے ان سے کہیں بڑھ بڑھ کر مثالیں نہ صرف ایجاد کرلی ہیں بلکہ انہیں فیشن میں داخل کردیا ہے۔ مثلا مردوں کا چہرہ کے بال بالکل صاف کرکے اور طرح طرح کی نزاکتیں اختیار کرکے زیادہ حد تک عورت بن جانا، عورتوں کا سر کے بال کٹا کر اور مردانہ وضع و لباس اختیار کرکے زیادہ سے زیادہ حد تک مرد بن جانا، ایسے اپریشن کرانا جس سے جنس تبدیل ہوجائے یعنی عورت مرد بن جائے اور مرد عورت ہوجائے۔ وقس علی ہذا۔ خلق تشریعی میں تغییر کے معنی دین اور احکام دین تحریف کردینا ہے۔ قیل معناہ یغیرون حکمہ (راغب) ابن جریر نے خلق اللہ کے معنی دین اللہ کے ابن عباس ؓ صحابی اور مجاہد تابعی اور عکرمہ تابعی سے نقل کئے ہیں اور دوسروں نے بھی یہی معنی لئے ہیں۔ ای دینہ بالکفر واحلال ما حرم وتحریم ما احل (جلالین) قال معناہ ابن عباس وعن عکرمۃ وابو صالح وذلک کلہ تعذب للحیوان وتحریم وتحلیل بالطغیان وقولہ بغیر ھجۃ ولا برھان (قرطبی) یہ بھی کہا گیا ہے کہ آفتاب پرستی، شجر پرستی، حیوان پرستی وغیرہ سب اس تغییر خلق اللہ کی صورتیں ہیں کہ مشرک ان سے وہ کام لے رہا ہے جس کے لئے ان کی خلقت ہوئی ہی نہ تھی۔ (قرطبی)321 ۔ شیطان کا دوست بنانا یہی ہے کہ احکام شریعت کو چھوڑ کر خود ساختہ طور طریقوں کو اختیار کیا جائے اور مخلوق کے چلائے ہوئے رسم و رواج کو دلیل راہ بنا لیاجائے۔
Ayah 4:120322 ۔ چناچہ ان وعدوں کی بےحقیقتی اکثر تو اسی دنیا میں روشن ہو کر رہتی ہے، ورنہ موت کے وقت تو بہرصورت کھلتی ہی ہے۔ (آیت) ” یعدھم “۔ شیطانی وعدے مثلا یہ کہ حشر نشر، حساب کتاب کوئی چیز نہیں، جو کچھ ہے یہی مادی دنیا ہے۔ عقل جزوی ہی سب سے بڑا معیار اور آخری معیار ہے۔ وحی الہی محض وہم ہے۔ مادہ کی قوتیں، اور قوانین ہی سب کچھ ہیں۔ ان کے اوپر کوئی مشیت اعلی حاکم نہیں۔ وقس علی ھذا (آیت) ” یمنیھم “۔ شیطانی جذبات مثلا یہ کہ فحش کاری میں کوئی عیب وہرج نہیں۔ شراب صحت کے لئے ضروری ہے۔ قانون حجاب ترقی کی راہ میں حائل ہے۔
Ayahs 4:121–122323 ۔ دائمی راحت کی زندگی صرف قرآن اور شریعت کے اتباع سے ممکن ہے۔
Ayah 4:123324 ۔ (اس برائی کے متناسب اور اس شخص کے مناسب حال) یہ اس حقیقت کا بیان ہے کہ مدار کار طاعت ہے محض آرزوئیں اور خوش خیالیاں لاشئی محض ہیں خواہ وہ کسی کی بھی ہوں۔ (آیت) ” سوٓء ا “۔ کے معنی یہاں شرک کے بھی کئے گئے ہیں لیکن جمہور مفسرین نے اسے عام ہی رکھا ہے۔ قال الجمھور لفظ الایۃ عام والکافر والمومن مجاز بعملہ السوء (قرطبی)
Ayah 4:124325 ۔ (کہ ان کی کوئی نیکی لکھنے سے جزئا یا کلا، رہ جائے) (آیت) ” وھو مومن “۔ ایمان کی قید بہت ضروری ہے۔ ہر عمل کے واقعۃ صالح ہونے کے لئے لازم ہے کہ محرک عمل بھی صحیح ہو۔ ریا، نمایش یا وہم پرستی مقصود نہ ہو۔ اسی اخلاص نیت کا نام اصطلاح شریعت میں ایمان ہے۔ اور بغیر اخلاص نیت کے کوئی مقبول نہیں اسکے بغیر عمل صالح صرف صورۃ ہی صالح ہوگا۔ حقیقت صالحیت سے خالی۔ یہیں سے اس بحث کا بھی خاتمہ ہوا جاتا ہے جو بعض سطحی دماغ والوں نے آج کل پیدا کر رکھی ہے یعنی آیا کافروں کے اعمال صالحہ قبول ہوں گے ؟ جواب یہ ہے کہ بغیر اخلاص نیت یا ایمان کے کسی عمل پر عمل صالح کا اطلاق ہی درست نہیں، تو اس کے اجر کا کیا سوال ہے (آیت) ” یعمل من الصلحت۔۔ کے بعد ھو مومن “۔ کے اضافہ نے اس مسئلہ کو صاف کردیا کہ ایمان اور عمل صالح دو الگ الگ چیزیں ہیں، باہم مرادف نہیں۔ فیہ اشارۃ الی ان الاعمال لیست من الایمان (مدارک) (آیت) ” من ذکر اوانثی “۔ اس میں تردید آگئی ان تمام جاہلی مذہبوں کی جو حسن عمل کے باوجود عورت کو محض اس کے عورت ہونے کی بنا پر ثمرۂ حسن عمل سے محروم ٹھہرائے ہوئے ہیں، اسلام میں عورت کو اس کی جنس کی بنا پر ہرگز اجر سے محروم نہیں کیا ہے۔ ” نقیر “۔ پر حاشیہ اوپر گزر چکا ہے۔
Ayah 4:125326 ۔ یعنی فرمانبرداری دل سے ہو، منافقانہ نہ ہو۔ موحد محسن بالقول والفعل (ابن عباس ؓ متابعاللشریعۃ فیصح ظاہرہ بالمتابعۃ و باطنہ بالاخلاص (ابن کثیر) (آیت) ” اسلم وجھہ “۔ یعنی فرمانبرداری اختیار کرے عقائد میں بھی، اعمال میں بھی، ای اخلص دینہ وعملہ للہ (ابن عباس ؓ
327 ۔ (کہ اس ملت ابراہیمی کا دوسرا نام دین اسلام ہے)
328 ۔ توریت میں بھی ابراہیم (علیہ السلام) کا لقب خدا کا ” دوست “ آیا ہے :۔ ”’ کیا تو ہمارا خدا نہیں، جس نے اس سرزمین کے باشندوں کو اپنی گروہ اسرائیل کے آگے سے خارج کیا اور اسے اپنے دوست ابرہام کی نسل کو ہمیشہ کے لئے دیا۔ “ (2 ۔ تواریخ 20:7) ” اے اسرائیل میرے بندے، اے یعقوب جسے میں نے پسند کیا، جو میرے دوست ابرہام کی نسل سے ہے “ (یسعیاہ 4 1:8) (آیت) ” خلیلا “۔ خلۃ کہتے ہیں محبت خالص کو اور خلیل دوست خالص کو۔ الخلۃ ھی المودۃ التی لیس فیھا خلل (بحر) محبۃ تامۃ لاخلل فیھا (تاج) قال الزجاج الخلیل ھو المحب الذی لاخلل فی محبتہ (تاج) سمی خلیلا لان اللہ احبہ واصطفا (معالم) قال ثعلب انما سمی الخلیل خلیلا لان محبتہ تتخلل القلب فلا تدع فیہ خللا الاملاتہ (قرطبی) خلت الہی سے مراد ہے تقرب ومقبولیت کا اعلی مقام، قرآن مجید نے ایک طرف تو ملت ابراہیمی کی پیروی ضروری قرار دی اور دوسری طرف ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنایا۔ اس میں صاف اشارہ یہ نکل آیا کہ اسی ملت کی پیروی سے آج بھی کوئی نہ کوئی درجہ خلت کا حاصل ہوسکتا ہے۔
Ayah 4:126329 ۔ (اپنے علم وقدرت سے) (آیت) ’ ’ للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ میں بیان کیا گیا اللہ کے کمال علم کا۔ یعنی چھوٹی بڑی کوئی سی شئے کائنات میں نہ اس کی ملک وسلطنت سے باہر ہے اور نہ اس کے احاطہ علم سے۔ مشرکین کو علی العموم انہی دو صفات کا اثبات قرآن مجید بار بار کرتا ہے۔
Ayah 4:127330 ۔ یعنی ان کے مہر، میراث وغیرہ کے باب میں، ان کے حقوق وفرائض کے بارہ میں۔ ای یطلبون منک تیبین المشکل من الاحکام فی النسآء ومما یجب لھن وعلیھن (روح) یہ سوال کرنے والے صحابی حضرات تھے۔ نزلت بسبب سوال قوم من الصحابۃ امر النساء واحکامھن فی المیراث وغیرذلک (قرطبی) آیت کے مضمون کا ربط سورت کی ابتدائی آیتوں سے ہے۔ ھذہ الایۃ مرجوع الی ما افتتحت بہ السورۃ من امر امرالنساء (قرطبی)
331 ۔ (جو پہلے مل چکا ہے) مثلا یہ کہ عورتوں کہ ترکہ سے محروم نہ رکھو۔ ایک بندھا ہوا حصہ انہیں دو جو یتیم عورتیں تمہاری پرورش میں ہیں ان کا نکاح کہیں اچھی جگہ دیکھ کر کردو، اگر اپنے ہی سے کرتے ہو تو ان کا مہر پورا ادا کرو، وقس علی ہذا۔
332 ۔ یعنی ان کا مہر یا ترکہ میں ان کا حصہ۔ وقس علی ہذا (آیت) ” ما یتلی علیکم فی الکتب “۔ یعنی وہ آیتیں جو اس کے قبل نازل ہوچکی ہیں۔ اشارہ جاہلیت کے ظالمانہ دوستوروں کی جانب ہے کہ مثلا یتیم عوررتوں کے ساتھ معاملہ یہ رکھتے ہو کہ اگر وہ صاحب مال اور صاحب جمال ہوئیں تو ان سے عقد تو کرلیتے ہو لیکن ان کے جو حقوق مقرر ہیں، وہ انہیں ادا انہیں کرتے ہو۔ یتیموں کے حقوق اور عورتوں کے حقوق آج معمولی سی بات معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن یہ تو آج ہے ظہور اسلام کے ساڑھے تیرہ سو سال بعد۔ باقی اگر ان احکام کی اہمیت کا پورا اندازہ کرنا ہے تو تاریخ کے مطالعہ سے یہ معلوم کرلیا جائے کہ چھٹی صدی عیسوی میں عرب کی خصوصا اور ہندوستان، ایران، چین یورپ کل دنیا کی عموما کیا حالت حقوق نسواں کے باب میں تھی ،
333 ۔ یعنی چونکہ وہ صاحب جمال نہیں، اس لئے اپنے عقد میں انہیں لینے سے گزیز کررہے ہو، اور ساتھ ہی چونکہ صاحب مال ہیں۔ اس لئے دوسری جگہ بھی انہیں نکاح نہیں کرنے دیتے ہو کہ اس طرح مال ہاتھ سے چلاجائے گا۔ (آیت) ” ترغبون “۔ کے ساتھ اس کا صلہ عن یہاں مذکور نہیں، لیکن اکثر ائمہ تفسیر نے مقدر مانا ہے اور اسی لئے تفسیر بیزاری سے کی ہے۔ اور خود عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ یعنی ترغبون عن نکاحھن (ابن عباس) ای ترغبون عنھن (ابن جریر، عن الحسن) ای وترغبون عن ان تنکحوھن ثم حذفت عن (قرطبی) و حدیث عائشہ ؓ یقوی حذف عن (قرطبی) دوسری تفسیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مقدر بجائے عن کے فی یا الی کو مانا جائے اور معنی یہ کئے جائیں کہ ” تم رغبت تو ان سے عقد کی رکھتے ہو ان کے صاحب مال یا صاحب جمال ہونے کی بناپر، لیکن ان کے مہر پورے نہیں دینا چاہتے ہو۔ “ اکابر کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے۔ قال سعید بن جبیر و مجاھد ویرغب فی نکاحھا اذا کانت کثیرۃ المال (قرطبی) کشاف نے فی اور عن دونوں کے احتمالات نقل کردیے ہیں، اور کبیر میں ابوعبیدہ لغوی کا قول نقل ہوا ہے۔ کہ معنی رغبت اور بیزاری دونوں کے نکلتے ہیں۔ قال ابوعبیدۃ ھذا یحتمل الرغبۃ والنفرۃ۔ لب لباب دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ یعنی عورتوں کے باب میں عدم ادائے حقوق۔
334 ۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ یفتیکم فی یتامی النساء وفی المستضعفین وفی ان تقوموا (مدارک) یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ ساری آیات احکام جو پہلے گزر چکی ہیں، بدستور واجب العمل ہیں۔ ان احکام میں کوئی ترمیم یا تنسیخ نہیں ہوئی ہے۔ یتیموں کی حق رسی، یتیم لڑکوں کے ساتھ حسن سلوک، عورتوں کی مردوں کے ساتھ میں وجہ مساوات وغیرہ کے باب میں آیات ذیل پہلے گزر چکی ہیں۔ (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم “۔ الخ۔ ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی “۔ الخ۔” واتوالیتمی اموالھم “۔ الخ “۔ ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا “۔ الخ “۔ للرجال نصیب مما اکتسبوا “۔335 ۔ (اور اسی علم کامل کے مطابق جزائے خیر بھی دے گا) (آیت) ” وما تفعلوا من خیر “۔ اسی عمل خیر میں یتیموں اور عورتوں کے ساتھ حسن سلوک وحسن معاشرت بھی آگیا۔
Ayah 4:128336 ۔ (بہ شرطی کہ شرائط صلح اصلاجائز ہوں، حرام وممنوع نہ ہوں) فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ صلح اگر کسی حرام شرط کے ساتھ مشروط ہوگی تو باطل ہوگی، مثلا شوہر نے صلح کی یہ شرط لگا دی کہ وہ بیوی کے ساتھ اس کی بہن کو بھی زوجیت میں رکھے گا اور بیوی نے اسے منظور کرلیا، جب بھی چونکہ یہ ایک امر حرام ہے۔ ، اس لئے یہ مصالحت باطل رہے گی، (آیت) ” صلحا “۔ کی تنوین تنویع کے لئے ہے۔ یعنی ایک خاص قسم کی صلح، پوری صلح اگر طیب خاطر کے ساتھ ہوجائے تو پھر تو کسی شرط وغیرہ کا سوال ہی نہیں رہ جاتا۔ (آیت) ” ان یصلحا بینھما صلحا “ مثلا اس طور پر کہ بیوی اپنے شوہر کو رضا مند رکھنے کے لئے اپنے حقوق میں سے کچھ چھوڑ دے۔ اپنا مہر معاف کردے، یا اس میں کمی کردے، اپنی باری کا دن دوسری بیوی کو دے دے، اپنے مصارف کا بار ہلکا کردے وقس علی ہذا۔ فقہا نے لکھا ہے کہ بیوی کے حق شوہر پر دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک ثابت ومستقل مثلا رقم مہر، دوسرے وہ جو وقتا فوقتا پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ مثلا نفقہ یا ہم بستری، صلح کے لئے عورت دستبرداری دونوں قسم کے حقوق سے کرسکتی ہے۔ البتہ یہ فرق ہے کہ قسم اول کے حقوق میں نقض صلح کا اختیار نہ رہے گا۔ یعنی جو چھوڑا، بس وہ ساقط ہوگیا اور الساقط لایعود۔ لیکن دوسرے قسم کے حقوق میں بیوی کو یہ اختیار باقی رہے گا کہ وہ جب چاہے، کسی چھوڑے ہوئے حق کا مطالبہ از سر نو کردے۔ (آیت) ” فلاجناح علیھما “۔ بیوی کی طرف سے یہ دستبرداری بظاہر ایک صورت رشوت کی معلوم ہوتی ہے۔ یہاں اس وہم کو دفع فرمایا ہے اور بتادیا ہے کہ نہیں اس میں کچھ مضائقہ نہیں، بالکل جائز و درست ہے۔ (آیت) ’ نشوزا “۔ نشوز کے معنی پر حاشیہ اوپر گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ان امراۃ خافت “ َ بیوی کی طرف سے جو نشوز ہو اس کا علاج اوپر بتایا جا چکا ہے۔ اب یہاں یہ بتلایا جارہا ہے کہ نشوز اگر شوہر کی طرف سے ہو تو وہ بھی لاعلاج نہیں۔ اس کی بھی تدبیریں ہیں (آیت) ” خافت “۔ خوف یہاں توقع کے معنی میں ہے خافت یعنی تو قعت (قرطبی)
337 ۔ (ہر نزاع وافتراق سے، ہر فساد وعناد سے) من الفرقۃ اوسوء العشرۃ اومن الخصومۃ (بیضاوی) نزاع وافتراق یوں بھی عقل و شریعت کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ چہ جائیکہ خانگی زندگی میں اور میاں بیوی جیسے قریب ترین رشتوں کے درمیان۔
338 ۔ بیوی کے لیے ان الفاظ میں صاف ترغیب ہے کہ وہ اپنے کچھ حقوق چھوڑ ہی دے بلا سے۔ تعلق زوجیت تو قائم رہے۔ تو شوہر جب دیکھے گا کہ اس کے اپنے حقوق وحظوظ میں کچھ فرق نہیں آتا اور بیوی ہی اپنے بعض حقوق کا مطالبہ چھوڑے دے رہی ہے تو عجب نہیں کہ مصالحت پر جلد آمادہ ہوجائے (آیت) ” الشح “۔ شح ایسے بخل کو کہتے ہیں جس کے ساتھ حرص ملی ہو۔ الشح بخل مع حرص (راغب) مراد یہ ہے کہ خود غرضی اور نفس کی آرام طلبی سے کوئی بھی فریق خالی نہیں۔ یہ اپنی راحت ڈھونڈتا ہے وہ اپنی۔ ای کل واحد منھما یطلب مافیہ راحتہ (مدارک)
339 ۔ (اور اس کی طرف سے وعدہ ہر تقوی اور حسن سلوک پر اجر کا ہے) اس میں درپردہ شوہروں کو نصیحت ہے کہ نفاق وافتراق تو خیر بہت دور کی چیز ہے انہیں تو تقوی اور حسن سلوک کی روش پر قائم رہ کر بیویوں سے کسی حق کی دستبرداری کی بھی توقع نہ رکھنی چاہیے۔ (آیت) ” وان تحسنوا وتتقوا “۔ ذکر یہاں شوہروں کے نشوز واعراض کا چل رہا ہے اس لئے یہ خطاب بھی شوہروں سے ہے (آیت) ” تحسنوا “۔ تو شوہر جب بیوی سے حسن سلوک کا خوگر ہوجائے گا تو اس سے اس کی بھی توقع نہیں رکھے گا۔ کہ وہ اپنے کسی حق سے دستبردار ہوجائے (آیت) ” وتتقوا “۔ اور جب تقوی اختیار کرے گا تو نشوز واعراض خود ہی کافور ہوجائیں گے۔ خوب خیال کرکے دیکھ لیاجائے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں حسن معاشرت زوجین کا ذکر آیا ہے میاں بیوی میں سے کسی کو ادائے حقوق پر توجہ دلائی ہے۔ ایک جامع لفظ تقوی کا لایا گیا ہے اور اس خانگی حسن معاشرت کو تقوی ہی کی ایک اہم فردوقرار دیا گیا ہے اور حق یہ ہے کہ اس سے بہتر اور مؤثر تر تدبیر کوئی اور ہے ہی نہیں۔
Ayah 4:129340 ۔ (سو یہ حد تمہارے اختیار سے باہر ہے۔ اس لئے تم اس حد کے مکلف بھی نہیں) (آیت) ” ان تعدلوا بین النسآء “۔ برابری ہر چیز میں، یہاں تک کہ رغبت قلب اور امور غیر اختیاری میں بھی، شروع سورت میں جہاں چار تک کی تعداد ازواج کی اجازت صراحت کے ساتھ مرحمت ہوئی تھی، (آیت) ” فانکحوا ماطاب لکم من النسآء مثنی وثلث وربع “۔ وہاں معنی یہ بھی ارشاد ہوا تھا کہ ان کے درمیان عدل رکھنا اور اگر عدل نہ کرسکو تو ایک ہی پر قناعت رکھنا۔ (آیت) ” وان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ۔ اس موقع پر عدل سے مراد تھی عدل معاملات میں، عدل امور اختیاری میں، یعنی ہر بیوی کی ضروریات کا، مزاح و مذاق کا لحاظ رکھنا، بہ خلاف اس کے یہاں جس عدل کی نفی کی جارہی ہے اور ارشادہوررہا ہے کہ ایسے عدل پر تم قادر ہی نہیں ہوسکتے چاہے لاکھ اس کی تمنا کرو، (آیت) ’ ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء “۔ اس عدل سے مراد ہے مساوات امور غیر اختیاری میں، کیفیات قلب میں، مثلا محبت ورغبت میں اور ایسی مساوات کامل تو والدین تک عادۃ اپنی ساری اولاد کے درمیان نہیں رکھ سکتے۔ لفظ عدل دونوں جگہ مشترک ہے لیکن مفہوم الگ الگ ہے۔ اور اس اسلوب بیان کی مثالیں قرآن مجید میں کثرت سے ملتی ہیں۔ اخبر تعالیٰ بنفی الا ستطاعۃ فی العدل بین النساء وذلک فی میل الطبع فی المحبۃ والجماع والحظ فی القلب (قرطبی) روی عن ابی عبیدۃ قال یعنی المودۃ ومیل الطباع وکذلک روی عن ابن عباس والحسن وقتادۃ (جصاص) پس بعض جدید محرفین نے اس آیت سے یہ جو نکالنا چاہا ہے کہ قرآن مجید نے عدل بین الازواج کو ناممکن بتایا ہے اور تعداد ازدواج کی اجازت صرف عدل کے ساتھ دی ہے تو اس طرح اس اجازت کو ایک بار دے کر پھر واپس لے لیا ہے تو ایسے لوگوں نے نادانستہ سہی، لیکن بہرحال قرآن پر بڑا ظلم کیا ہے۔ اور اس کی جانب بےتکلف اس عیب کو منسوب کردیا ہے کہ وہ جس چیز کو روکنا چاہتا ہے اسے براہ راست منع نہیں کردتیا بلکہ اس کے لئے خواہ مخواہ ایک پر پیچ راستہ اختیار کرتا ہے۔
341 ۔ (کہ مساوات کامل اور رغبت قلب کی بےاختیاری کو بہانہ کرکے بیوی کے ظاہری اور اپنے اختیار کے اندر والے حقوق بھی پامال کرنے لگو) قال مجاھد لا تتعمدوا الاساء ۃ بل الزموا التسویۃ فی القسم والنفقۃ لان ھذا مما یستطاع (قرطبی)
342 ۔ (کہ وہ بیچاری نہ تو عام شوہر والیوں کی طرح اپنے حقوق سے مستفید ہوتی رہے۔ اور نہ طلاقنوں کی طرح اپنے کو آزاد وخود مختار پائے) (آیت) ” فتذروھا “۔ میں ضمیر مؤنث مظلوم بیوی کی جانب ہے۔ ای لاھی مطلقۃ ولا ذات زوج قالہ الحسن (قرطبی) التی لیست ذات بعل ولا مطلقۃ (بیضاوی) شریعت نے اس ادھر میں پڑی رہنے والی کو حالت کو بدترین قرار دیا ہے۔ شوہر کو چاہیے کہ اپنے امکان بھر پوری کوشش حسن معاشرت کی اور تعلق زوجیت کے حق کی کرے۔ لیکن جب دیکھے کہ کوئی صورت اس میں کامیابی کی نہیں تو پھر صاف طور پر قاعدہ شرعی کے مطابق طلاق دیدے، یہ ظالمانہ صورت بہرحال نہ اختیار کرے کہ عورت سہاگن اور شوہردارہو، لیکن حقیقۃ اپنے کسی حق سے بھی متمتع نہیں ہورہی ہے۔
343 ۔ (سو اس کے ہاں ماضی کی اصلاح حال کی احتیاط اور مستقبل کے عزم احتیاط کے بعد تمام تر مغفرت و رحمت ہی ہے) (آیت) ” ان تصلحوا “ َ یعنی اپنی پچھلی بدعنوانیوں کی اصلاح حسب قاعدہ شرعی کرلو۔ (آیت) ” تتقوا “۔ اس تقوی کا تعلق حال اور مستقبل سے ہے۔
Ayah 4:130344 ۔ (ایک دوسرے سے) یعنی اگر صلح وموافقت کی ہر تدبیر ناکام رہے اور نوبت بالآخر علیحدگی ہی کی آجائے تو زیادتی (نشوز) اور بےالتفاتی (اعراض) کرنے والا فریق یہ سمجھے رہے کہ اللہ کسی کے کام کو کسی سے اٹکائے نہیں رکھتا۔ وہ بغیر کسی بندہ کی شرکت اور مدد کے ہر ایک کا کام چلا دینے کے لئے کافی ہے۔
345 ۔ (اسے ہر ایک لئے مناسب سبیل نکال لینا کیا مشکل ہے)
Ayah 4:131346 ۔ (سو اس مالک الملک اور ملک الملوک کی رضا جوئی کے بجائے کسی اور کی رضا طلبی کیسی شدید حماقت ہے وہ زمین و آسمان کے سارے خزائن کا مالک ہے۔ اسے دوسروں کو غنی بنادیتے کیا دیر لگ سکتی ہے۔
347 ۔ (کہ یہی خوف خدا اور تقوی الہی بنیاد ہی تمام احکام الہی کی تعمیل کی ہے اور اسے آسان اور خوش گوار بنادینے والی بھی) انسان کی ساری زندگی کا سنگ بنیاد یہی تقوی ہے اور اس لئے یہ عین متقضائے حکمت ہے کہ قرآن مجید اس کی تاکید سے لبریز ہے۔ مسیحیوں کا دعوی ہے کہ ان کے مذہب کی بناء خوف خدا پر نہیں، بلکہ محبت الہی پر ہے اور ان کے پادری اسے بہت فخر سے پیش کرتے رہتے ہیں حالانکہ ان کی انجیل ان تاکیدوں سے خالی نہیں مثلا :۔” اسی سے ڈرو جو روح اور بدن دونوں جہنم میں ہلاک کرسکتا ہے۔ “۔ (متی 1:28) اس سے ڈرو جس کو قتل کرنے کے بعد اختیار ہے کہ جہنم میں ڈالے، ہاں میں تم سے کہتا ہوں کہ اسی سے ڈرو “ (لوقا 12:5) رہی توریت تو اس کے حوالوں کے لئے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
348 ۔ (سو ایسے کی ناشکری اور نافرمانی سے اس کا کیا ضرر۔ ضرر تو خود تمہارا ہی ہے) (آیت) ” ان تکفروا “۔ احکام الہی کی مخالفت ہی کا نام ناشکری ہے۔
349 ۔ مشرک جاہلی قوموں کے دیوی، دیوتا اپنی صفات میں ناقص اور اپنی ذات کے لحاظ سے محدود ہوتے ہیں۔ ان کے پرستار اور بچاری جو منتروں سے جاپ کرتے رہتے ہیں۔ اس سے ان کے نقائص کی تکمیل ہوتی رہتی ہے۔ اور وہ اپنی الوہیت ومعبودیت کے لئے غذا حاصل کرتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید نے یہاں ان دو صفات کا ذکر کرکے ان خرافات کی تردید کردی۔ اللہ بذات خود ہر طرح کامل مکمل ہے۔ کسی کی عبادت سے اس کی تکمیل کا خیال ہی مہمل ہے اور اس کی صفات سب عالی وستودہ ہیں نقص کا گزر نہیں۔
Ayah 4:132350 ۔ اس کی کارسازی عالم کو ناکافی سمجھ کر کسی مخلوق کی طرف التفات کرنا اور اس سے کارسازی کی توقع رکھنا کیسی خرافت ہے) خلقت کائنات دتدبیر کائنات سب اس کے لئے آسان ہیں۔
Ayah 4:133351 ۔ (اور جو کام اسے لینے ہیں، وہ اسی نئی مخلوق سے لے) یہ بیان اس کے کمال قدرت کا ہے (آیت) ” اخرین “۔ یعنی نوع انسان کے علاوہ کوئی اور ہی نئی مخلوق۔ ای خلقا اخرین مکان الانس (بیضاوی) جوز الزمخشری وابن عطیۃ ومقلد وھما ان یکون المرادجنسا غیر جنس الناس (روح)
352 ۔ (سو اس قدرت کے باوجود وہ اگر ایسا نہیں کرتا اور تمہارے بجائے کسی جدید مخلوق کو وجود میں نہیں لارہا ہے تو اس کا تمہارے ہی اوپر کمال احسان ہے کہ وہ اس طرح حصول اجر کا موقع دیے جارہا ہے) کان لانے سے مفہوم ماضی مقصود نہیں۔ بلکہ صفت قدرت کی ازلیت اور غیر متناہیت کا اثبات مقصود ہے۔ القدرۃ صفۃ ازلیۃ لاتتناھی معلوماتہ والماضی والمستقبل فی صفاتہ بمعنی واحد (قرطبی) صیغہ ماضی لانے میں نکتہ یہ ہے کہ صفت کے قدیم ہونے کی طرف اشارہ ہوجائے، ذات وصفات کو کوئی حادث نہ سمجھ لے۔ انما خص الماضی بالذکر لئلا یتوھم انہ یحدث فی ذاتہ وصفاتہ (قرطبی)
Ayah 4:134353 ۔ (سو اس لازوال انعام ولذت کو چھوڑ کر صرف عارضی اور فانی لذتوں پر قناعت کرلینا کس درجہ بےدانشی اور عاقبت نااندیشی ہے)
354 ۔ سو وہ سب کی دعاؤں کو، التجاؤں کو خوب سنتا رہتا ہے۔ خواہ وہ معاوضہ دنیوی کے باب میں ہوں یا اجر اخروی سے متعلق اور سب کی نیتوں کے اخلاص وعدم اخلاص کو دیکھتا رہتا ہے۔