37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 37:159

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اللہ پاک ہے اس سے جو بیان کرتے ہیں،87۔

87۔ یعنی صاحب ولد ہونے، صاحب زوج ہونے سے، اور اس قسم کے سارے خرافاتی جاہلی دعو وں اور عقیدوں سے۔
Ayahs 37:160–163

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر ہاں جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے ہیں (وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

لیکن تم اور تمہارے معبود

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

(سب مل کر بھی) کسی کو اللہ سے نہیں پھیر سکتے

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

مگر ہاں اسی کو جو جہنم میں گرنے والا ہی ہے،88۔

88۔ (علم الہی میں) یعنی شیاطین میں اور کسی میں بھی، قوت نہیں علم الہی مشیت تکوینی کے مطابق پہلے سے تجویز کئے ہوتا ہے۔ یہ علم الہی بھی ظاہر ہے کہ کسی بندہ کو کفر وضلالت کے اختیار پر مجبور نہیں کرتا۔
Ayahs 37:164–166

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

اور ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین درجہ ہے

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم (سب) صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

اور ہم (سب) پاکی بیان کرنے میں لگے رہتے ہیں،89۔

89۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہم عبد محض اور محکوم خالص ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرسکتے۔ جو خدمت ہم میں سے جس کے سپرد ہے، بس وہ ایس میں لگا رہتا ہے۔ یہ سب مضمون فرشتوں کی زبان سے ادا ہورہا ہے۔ اس سے ایک طرف تردید ان جاہلی قوموں کی بھی ہورہی ہے، جنہوں نے فرشتوں میں الوہیت اور معبودیت کی شان پائی ہے، اور دوسری طرف اہل کتاب کی بھی تردید ہے جنہوں نے بعض فرشتوں کو خطاکار وعصیاں شعار قرار دیا ہے (آیت) ” وما ...... معلوم “۔ بعض نے اس سے یہ اشارہ سمجھا ہے کہ ملائکہ کے لیے مقامات معین ومعلوم ہیں، جن میں علو و ترقی کی گنجائش نہیں، بخلاف انسان کے کہ وہ جس قدر بھی جدوجہد کرے، قرب وعلو کے مراتب طے کرتا رہے گا۔ یشیر الی ان الملک لایتعدی مقامہ الی ما فوقہ ولا یھبط عنہ الی ما دونہ وھذا بخلاف ونوع الانسان فان من افرادہ من سار الی مقام قاب قوسین بل طار الی منزل اوادنی (روح) اور صاحب تفسیر مظہری نے سورة بقر میں قصہ تخلیق آدم کے سلسلہ میں لکھا ہے :۔” مراد اس سے یہ ہے کہ ملائکہ مقام اسماء وصفات سے آگے مقام ذات تک ترقی نہیں کرسکتے ؛۔ بخلاف بشر کے کہ وہ مقام محرومی سے مقام ظلال اور وہاں سے مقام صفات واسماء اور شؤنات اور پھر مقام ذات تک ترقی کرسکتا ہے “۔
Ayahs 37:167–169

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہا کرتے تھے

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت (کی کتاب) پہلے لوگوں کی طرف آتی

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم اللہ کے خاص بندے ہوے،90۔

90۔ (اور تکذیب ومخالفت کرنے والوں میں نہ ہوتے) مشرکین مکہ کہا کرتے تھے کہ کوئی نبی اگر ہم میں پیدا ہوا ہوتا اور اس پر کوئی کتاب نازل ہوئی ہوتی جیسے بنی اسرائیل پر نازل ہوئی تو ہم یقیناً تصدیق کرنے والوں میں ہوتے اور اطاعت الہی کا ایک نمونہ اپنے ذات میں پیش کردیتے۔ اوپر یہ ہی مضمون (آیت) ” لئن جآء ھم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم “۔ (سورۃ الفاطر، پ 22) کے تحت میں آچکا ہے۔
Ayah 37:170

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

پھر یہ لوگ اس کا انکار کرنے لگے، سو عنقریب ان کو معلوم ہی ہوا جاتا ہے،91۔

91۔ (کہ کفر وتکذیب کا کیا انجام ہوتا ہے) (آیت) ” فکفروا بہ “۔ یعنی اب جب ان کی تمنا کے مطابق رسول اور صاحب کتاب و شریعت رسول، ان کی قوم میں آگئے تو یہ اپنے سب پچھلے قول اور قرار بھول بیٹھے، اور تکذیب و انکار میں پچھلی قوموں سے بازی لے گئے۔ (آیت) ” سوف یعلمون “۔ کفر کا انجام موت کے وقت تو بہرحال منکشف ہوجاتا ہے۔ باقی بعض عقوبتیں زندگی میں بھی واقع ہوجاتی ہیں۔
Ayahs 37:171–173

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اور ہمارا (یہ) قول ہمارے بندگان مرسل کیلئے پہلے سے مقرر ہوچکا ہے

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

کہ بیشک غالب وہی کئے جائیں گے

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

اور ہمارا ہی لشکر غالب رہتا ہے،92۔

92۔ (انجام کار) غلبہ آخر کار حق ہی کو ہوتا ہے، باطل کی شان و شوکت محض عارضی اور کسی مصلحت تکوینی کے ماتحت ہوتی ہے۔ اور اگر غلبہ سے مراد بجائے مادی غلبہ کے محض قوت دلائل سمجھی جائے، تو یہ غلبہ تو ہر دور میں اور ہر وقت اہل حق کو حاصل رہا ہے، اور ہے۔ (آیت) ” جندنا۔ یعنی اہل حق۔ (آیت) ” کلمتنا “۔ آگے جس وعدہ کا ذکر ہے، وہ تو ایک پوری عبارت ہے، اس کے لیے کلمہ بصیغہ واحد یوں آیا ہے کہ ساری عبارت مل کر معنی ایک ہی دیتی ہے۔ اور کلمۃ کا لفظ اسی پورے مفہوم کے لیے ہے۔ وانما سماھا کلمۃ وھی کلمات لانھا لما انتظمت فی معنی واحد کانت فی حکم کلمۃ مفردۃ (مدارک)
Ayahs 37:174–175

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

سو اب تھوڑے زمانہ تک ان کا خیال نہ کیجیے

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور ذرا انہیں دیکھتے رہئے، سو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے،93۔

93۔ موت پر تو اپنا حال زار بہرحال دیکھیں گے، اور ممکن ہے دنیا میں بھی عذاب کی جھلک دیکھ لیں۔ (آیت) ” فتول ..... حین “۔ یعنی چندے ان کی ایذارسانیوں پر التفات نہ کیجئے۔
Ayahs 37:176–177

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں ؟

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

تو وہ جب ان کے روبرو آنازل ہوگا، سو وہ دن ان لوگوں کا جنہیں ڈرایا جاچکا ہے بہت برا ہوگا،94۔

94۔ یعنی جب وہ وقت موعود آجائے گا، پھر ٹالے ٹل نہ سکے گا۔ ساحۃ کے لفظی معنی صحن یا انگنائی کے ہیں۔ یعنی جب وہ عذاب ان سے ایسا متصل ہوجائے گا کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہ رہے گی ،
Ayahs 37:178–179

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

اور آپ تھوڑے زمانہ تک ان کا خیال نہ کیجیے

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور ذرا انہیں دیکھتے رہئے، سوعنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے،95۔

95۔ یعنی آپ کو ہمارے کہنے سے یقین ہی ہے، باقی معائنہ ومشاہدہ کے بعد انہیں بھی یقین ہو کر رہے گا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ ابھی ابھی جو اوپر گزرا ہے۔ وہاں اس کا تعلق عذاب اہل باطل سے ہے۔ اس لیے مضمون کی تکرار صرف صورۃ ہے، معنی نہیں۔
Ayahs 37:180–182

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

پاک ہے آپ کا پروردگار بڑی عظمت کا پروردگار ان چیزوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور سلام ہو پیغمبروں پر

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور ساری خوبیاں اللہ پروردگار عالم کے لئے ہیں،96۔

96۔ (معبودیت، الوہیت، ربوبیت کا حقدار وہی اکیلا، بلاشائبہ شرکت غیرے ہے) (آیت) ” سبحن .... یصفون “۔ حق تعالیٰ پاک ومنزہ ہے ان تمام لغویات و خرافات سے جو اہل شرک اس کی جانب منسوب کرتے رہتے ہیں۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ قرآن کا یہ فقرہ بڑا جامع ہے۔ معرفت باری کے سارے مدارج اس مختصر سے فقرہ میں آگئے۔ کلمۃ محتویۃ علی اقصی الدرجات واکمل النھایات فی معرفۃ الہ العالم (کبیر) (آیت) ” رب العزۃ “۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ رب میں اشارہ ہے کمال حکمت و رحمت کی جانب، اور عزت میں کمال قدرت کی جانب۔ (آیت) ” یصفون “۔ کے عموم واطلاق سے اہل لطائف نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ حق تعالیٰ جس طرح اہل شرک وضلالت کی یا وہ گوئیوں سے منزہ و برتر ہیں، اسی طرح مومنین صادق کی غایت مدح وثناء اور عارفین کاملین کے احاطہ فہم رسا سے بھی بالا تر ہیں اور عارف روفی (رح) نے ترجمانی اسی مقام کی کی ہے۔ ع :۔ بابروں از پاک وناپا کی ہمہ وزگراں جانی وچالا کی ہمہ : (آیت) ” سلم علی المرسلین “۔ حق تعالیٰ خود جن بندوں پر سلام بھیجیں، ان کا واجب الاتباع ہونا بالکل ظاہر ہے۔