37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 37:119–121

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر سلام ہو

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں،64۔

64۔ (کہ ان کو مورد دعا ومستحق ثنا بنادیتے ہیں)
Ayah 37:122

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

بیشک وہ دونوں ہمارے (کامل) ایمان دار بندوں میں تھے،65۔

65۔ (اس لئے صلہ بھی کامل عطا ہوا) قرآن مجید نے پیغمبروں کے ذکر میں جو بار بار اس قسم کی تصریحات کی ہیں، ان کے مقصد دو (2) ہیں۔ ایک تو پیغمبروں کی مدح، ان کا مستحق دعا وثنا ہونا، ان کا قابل تقلید ہونا، اہل کتاب کی بدگوئی اور اتہام تراشیوں سے انہیں محفوظ رکھنا، اور ان کی طرف سے صفائی، ورنہ تو ریت موجودہ میں تو پیغمبروں کی وہ بری گت بنائی گئی ہے کہ اخلاقی ودینی، عملی واعتقادی کبائر میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ان کی جانب منسوب نہ کردئیے گئے ہوں، یہاں تک کہ (نعوذ باللہ) کفر وشرک بھی ! دوسری غرض اسکے بالمقابل یہ بھی رہی ہے کہ انہیں ان کے مرتبہ سے زیادہ نہ بڑھایا جائے، انہیں ہر حال میں بندہ ہی سمجھا جائے اور الوہیت کا کوئی جزو بھی شامل نہ ہونا سمجھا جائے۔
Ayah 37:123

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھے،66۔

66۔ (آیت) ” الیاس “۔ ایک مشہور اسرائیلی نبی گزرے ہیں، توریت میں ان کا نام ایلیاہ (ELJJAH) آیا ہے۔ وہ بادشاہ احی، ب ( AHAB) ہم عصر ہوئے ہیں، جو شمالی مملکت کا فرمانروا تھا۔ اس بادشاہ کا زمانہ 876 ؁ تا 854 ؁ ق، م ہوا ہے۔ توریت میں ان کے کرامات ومعجزات کا ذکر کتاب سلاطین حصہ اول ودوم میں ملتا ہے، یہودی عقیدہ ہے کہ آپ حضرت ادریس کی طرح آسمان پر زندہ اٹھالئے گئے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayahs 37:124–125

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

(اس وقت کا ذکر کیجیے) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (اللہ) سے ڈرتے نہیں ہو ؟

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارا کرتے ہو اور اسے چھوڑے ہوئے ہو جو سب سے بڑھ کر بنانے والا ہے،67۔

67۔ (آیت) ” احسن الخالقین “۔ کا لفظ لاکر حق تعالیٰ کے اس صفاتی پہلو پر بھی توجہ دلادی گئی ہے کہ چھوڑے ہوئے بھی ہو تو کس کو ؟ اس کو جو تمہارا پروردگار تمہارا خالق ہے ! اور خالق بھی کیسا ؟ ہر اعتبار سے اشرف واحسن !.... ذرا تو اپنی اس بغاوت وسرکشی کو سوچو سمجھو، اور اس پر شرماؤ۔ بعل فینقی (فینبثین) قوم کے سب سے بڑے دیوتا کا نام تھا۔ اسرائیلی بادشاہ احی، ب نے جب غیر قوموں میں شادیاں کیں تو ان میں سے کوئی بیوی اپنے ہمراہ بعل پرستی بھی شاہی محل میں لے آئی اور شاہی محل سے رفتہ رفتہ ساری اسرائیلی قوم میں سرایت کرگئی، انبیاء اسرائیل میں سے چند نے اس نئے شرک کا مقابلہ پورے زور وقوت کے ساتھ کیا، اور ان میں ممتاز نام حضرت الیاس نبی کا ہے، بعض روایتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعل نام کسی دیوتا کا نہیں، بلکہ سب سے بڑی دیوی کا تھا۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم فلسطین کے مغربی وسطی علاقہ سامرہ (SAMARIA) میں آباد تھی، اور وہی بعل کی پوجا زور شور سے جاری تھی۔
Ayahs 37:126–127

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

اللہ ہی تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا گلے باپ دادوں کا بھی پروردگار

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

سو ان لوگون نے بھی جھٹلایا، پس وہ لوگ پکڑے جائیں گے،68۔

68۔ (عذاب آخرت میں اپنے اس جھٹلانے کی پاداش میں)
Ayahs 37:128–131

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

مگر ہاں جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے تھے

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

(وہ ثواب واجر میں ہوں گے) اور ہم نے الیاس (علیہ السلام) کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ سلام ہو الیاسین پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں،69۔

69۔ (کہ انہیں مستحق اجر ومورددعا وثنابنا دیا) (آیت) ” ال یاسین “۔ لفظ الیاس ہی کا یہ دوسرا تلفظ ہے۔
Ayahs 37:132–135

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے (کامل) ایمان دار بندوں میں سے تھے

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور بیشک لوط (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں ہوئے ہیں

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

(وہ وقت یاد کیجیے) جب ہم نے انہیں اور ان کے گھروں والوں سب کو نجات دی تھی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

بجز ایک بوڑھی کے (کہ) وہ رہ جانے والوں میں رہ گئی،70۔

70۔ (اور وہ آپ کی کافر بیوی تھی) حضرت لوط (علیہ السلام) اور قوم لوط پر حاشیے کئی بار گزر چکے، خصوصا سورة الاعراف پ 8) میں۔
Ayahs 37:136–138

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر مارا

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم تو ان پر صبح وشام گزرا کرتے ہو

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

تو کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے،71۔

71۔ (کہ کفر وعدوان کا آخری انجام کیا ہوتا ہے) (آیت) ’ الاخرین “۔ یعنی لوط واہل لوط کے علاوہ اور جو لوگ تھے۔ (آیت) ” انکم “۔ خطاب قریش مکہ سے ہے، جن کے تجارتی قافلے ملک شام کو جاتے ہوئے برابر شرق اردن کے علاقوں سے گزرتے رہتے تھے۔
Ayah 37:139

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور بیشک یونس (علیہ السلام) پیغمبروں میں تھے،72

72۔ یونس (علیہ السلام) اور آپ کے قصہ پر حاشیے بھی گزر چکے خصوصا سورة یونس (پ 11) میں۔
Ayah 37:140

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

(اس وقت کا قصہ یاد کیجیے) جب وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے،73۔

73۔ (اور اس مسافروں اور سامان سے لدی ہوئی کشتی میں سوار ہوگئے) آپ نے اپنی نافرمان اور شرکش قوم کو بہ حکم الہی عذاب کی خبر سنائی۔ اور اس کے بعد اسی توقع پر شہر چھوڑ کر چلے گئے۔ اور اس روانگی کے لئے کسی الگ اجازت کی ضرورت نہ سمجھی۔ قوم میں ابھی کچھ سمجھ باقی تھی، عذاب ابھی آنے پایا نہ تھا۔ محض دور سے اس کے ابتدائی آثار دیکھ ڈرگئے، اور توبہ و استغفار گریہ وزاری میں مشغول ہوگئے۔ اس پر عذاب ٹل گیا۔ آپ کو خبر پہنچی تو آپ حیائے طبعی کے اثر سے وطن آنے کے بجائے، کسی بحری سفر پر روانہ ہوگئے۔ اور اس کے لئے بھی اجازت الہی کے انتظار کی ضرورت نہ سمجھی۔ توریت میں ہے :۔” یوفاہ خداوند کے حضور سے ترسیس کو بھاگنے کے لئے اٹھا اور وہ یافا میں اتر گیا۔ اور وہاں ایک جہاز کو جو ترسیس کو جانے پر تھا پایا (یوفاہ۔ 1: 3) ترسیس اور یافا کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سفر بحر روم میں تھا۔ لیکن ہمارے ہاں کی روایات میں نام دجلہ کا آتا ہے، جو عراق کا مشہور اور بڑا دریا ہے جس کا طول ساڑھے گیارہ سو (.....) میل کا ہے۔
Ayah 37:141

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر وہ بھی شریک قرعہ ہوئے تو وہ مجرم قرار پائے،74۔

74۔ یعنی قرعہ میں نام انہیں کا نکلا، عقیدہ اس وقت یہ پھیلا ہوا تھا کہ کوئی بھگوڑا غلام یا کوئی مجرم اگر کشتی میں سوار ہوجاتا ہے، تو کشتی خطرہ میں آجاتی ہے، اور اس کا علاج یہی ہے کہ اس شخص کو اتار دیاجائے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی کشتی کو طغیانی وطوفان کا سامنا ہوا۔ ملاحوں نے مجرم کی تعیین کیلئے قرعہ اندازی پر اتفاق کیا، اور قرعہ میں نام حضرت یونس (علیہ السلام) کا نکلا، اور ملاحوں نے آپ کو سمندر میں ڈال دیا۔ توریت میں ہے :” خداوند نے سمندر پر ایک بڑی آندھی بھیجی، اور سمندر کے درمیان طوفان نے شدت کی، ایسی کہ گمان تھا کہ جہاز تباہ ہوجائے گا، تب ملاح ہراساں ہوئے اور ہر ایک نے اپنے معبود کو پکارا ...... اور انہوں نے آپس میں کہا کہ آؤ ہم لوگ قرعہ ڈال کر دریافت کریں کہ کس کے سبب سے ہم پر یہ بلاآئی، چناچہ انہوں نے قرعہ ڈالا اور قرعے میں یوفاہ کا نام نکلا۔ اور انہوں نے یوفاہ کو اٹھا کر سمندر میں ڈال دیا اور سمندر کا تلاطم موقوف ہوگیا (یوفاہ 1: 4۔ 15) (آیت) ” فساھم “۔ اس سے بعض لوگوں نے غلام وغیرہ کے باب میں قرعہ اندازی کا جواز نکالا ہے، لیکن محققین فقہاء کا قول ہے کہ یہ اس وقت کے پیغمبر کا ایک مخصوص فعل تھا، اس سے کوئی عام جواز نہیں نکل سکتا۔ ذلک لایجوز عند احدمن الفقھاء فدل علی انہ خاص فیہ (علیہ السلام) دون غیرہ (جصاص)
Ayah 37:142

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

انہیں مچھلی نے نگل لیا،75۔ درآنحالیکہ وہ اپنے کو ملامت کررہے تھے،76۔

75۔ عجب نہیں کہ آپ پیرا کی جانتے ہوں، اور ممکن تھا کہ پیر کر کنارہ تک پہنچ جاتے کہ حکم خداوندی سے ایک بڑی قدآور مچھلی نے آپ کو نگل لیا، شارک وغیرہ کی قسم کی بڑی قدآور مچھلیوں کا انسان کو نگل لینا حال میں بھی مشاہدہ میں آچکا ہے۔ صاحب روح المعانی نے جو عراقی ہیں، اور یونس سے متعلق روایت توریت سے بھی خوف واقف ہیں، اپنا مشاہدہ دجلہ سے متعلق لکھا ہے :۔ وقد شاھدنا فیھا حیتانا عظیمۃ جدا ہم نے اس میں بہت ہی عظیم الجثہ مچھلیاں دیکھی ہیں، توریت میں ہے :” خداوند نے ایک، بڑی مچھلی مقرر کر رکھی تھی کہ یوفاہ کو نگل جاوے، اور یوفاہ تین دن رات مچھلی کی پیٹ میں رہا (یوفاہ۔ 1: 17) 76۔ (اپنی اس اجتہادی غلطی پر) قرب عذاب کے وقت شہر چھوڑ کرچلا جانا کوئی معصیت نہ تھی۔ تاہم ایک پیغمبر کے مرتبہ سے بعید تھا کہ ایماء خداوندی کے بغیر اتنا قدم بھی اٹھائے۔ اور اس پر بطور تنبیہ کچھ کلفت جسمانی اٹھانا پڑی، ورنہ حقیقی معصیت اور حقیقی عذاب سے تو کسی نبی کو کوئی واسطہ ہی نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 37:143–144

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

سو اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو اسی کے پیٹ میں قیامت تک رہتے،77۔

77۔ یعنی انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکلنا نصیب نہ ہوتا، اور وہ اسی کی عذا بنادیئے جاتے۔ یہ مطلب نہیں کہ مچھلی کا پیٹ قیامت تک محفوظ وسالم رہتا۔ (آیت) ” لو ...... المسبحین “۔ آیت سے معلوم ہوا کہ تسبیح و استغفار کی برکت سے جسمانی کلفتیں اور اذیتیں دور ہوجاتی ہیں۔ توریت میں ہے :۔” تب یوفاہ نے مچھلی کے پیٹ میں خداوند اپنے خدا سے دعا مانگی (یوفاہ۔ 20: 1) (آیت) ” الی یوم یبعثون “۔ محاورہ میں مراد ہمیشہ تک رہنے سے ہوتی ہے۔
Ayah 37:145

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو ایک میدان میں ڈال دیا اور وہ مضمحل تھے،78۔

78۔ (شکم ماہی میں قید کے اثر سے) مچھلی نے جب بحکم خداوندی آپ کو ساحل پر اگل دیا تو آپ نے اپنے کو ایک چٹیل میدان میں پایا۔ عرآء سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی ایک بھی درخت اس میدان میں نہ ہو۔ توریت میں ہے :۔” اور خداوند نے مچھلی کو کہا، اور اس نے یوفاہ کو خشکی پر اگل دیا۔ (یوفاہ 30: 10) (آیت) ” سقیم “۔ پر مفصل حاشیہ ابھی نمبر 41 میں گزر چکا ہے۔ آپ شکم ماہی میں کتنی مدت رہے، اس کے جواب میں متعدد قول سلف سے نقل ہوئے ہیں، لیکن جیسا کہ امام رازی (رح) نے کہا ہے۔ کسی بھی مدت کی تعیین پر کوئی دلیل قائم نہیں۔ ولا ادری بای دلیل عینوا ھذہ المقادیر (کبیر)
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک بیل دار درخت بھی اگادیا،79۔

79۔ (جو آپ کو مکھیوں وغیرہ سے محفوظ رکھتا تھا، اور جس کی ہوا صحت بخش تھی) (آیت) ” یقطین “۔ کے لفظی معنی ہر بیلدار درخت کے ہیں، کدو، خربوزہ وغیرہ سب اس میں آجاتے ہیں۔ وکل شجرۃ لاتقوم علی ساق کالدباء والبطیخ والحنظل ونحو ذلک فھی عند العرب یقطین (ابن جریر) روایتوں میں آتا ہے کہ مراد اس سے لوکی کا درخت ہے۔
Ayah 37:147

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایک لاکھ (آبادی) یا اس سے بھی زیادہ کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا تھا،80۔

80۔ یہ شہرنینوا تھا جو دریائے دجلہ کے داہنے کنارے پر واقع تھا۔ جہاں آج موصل واقع ہے ٹھیک اس کے مقابل۔ توریت میں اس کی آبادی ایک لاکھ بیس ہزار آدمیوں سے زیادہ درج ہے ، (یوفاہ۔ 4: 11) کپتان جو نس نے 1853 ؁ء میں جاکر شہر کے کھنڈروں کی باضابطہ پیمائش کی تھی، ان کی تحقیق میں شہر کا رقبہ 1800 ایکڑ تھا، اور ہر فرد کے لیے اگر 50 گز مربع زمین فرض کیجائے، تو کل آبادی کا تخمینہ ایک لاکھ جو ہتر ہزار یا 75 ہزار تک پہنچتا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ اوتخییر کے لیے ہے۔ یعنی اگر صرف عاقلوں، بالغوں کو رکھو تو ایک لاکھ، اور کل آبادی کو لوتو اور زائد۔ توریت میں ہے :۔” یوفاہ خداوند کے کلام کے مطابق اٹھ کر نینوا کو گیا، اور نینوا خدا کے سامنے ایک بڑ اشہر تھا، کہ اس کا احاطہ تین دن کی راہ تھی “۔ (یوفاہ۔ 3: 2)
Ayahs 37:148–149

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

تو وہ ایمان لے آئے، سو ہم نے انہیں ایک زمانہ تک عیش دیا،

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

اب آپ لوگوں سے پوچھئے کہ کیا تمہارا پروردگار کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ؟ ،81۔

81۔ خطاب اس گروہ سے ہے جو اس کا قائل تھا کہ خدا کے بیٹیاں ہیں، جو دیویاں ہیں، مشرکین عرب کے معبودوں میں دیوتاؤں سے کہیں زائد دیویاں تھیں، ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” الربک البنات “۔ میں ہمزہ انکار توبیخی یا انکار ابطالی کا ہے۔ (مفتی، جلداول صفحہ 16)
Ayah 37:150

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

کیا ہم نے فرشتوں کو عورت پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے،82۔

82۔ یعنی جنہیں تم دیویاں قرار دے رہے ہو، اور درحقیقت وہ ملائکہ الہی ہیں، کیا ان کی نسوانیت تمہارے مشاہدہ میں آچکی ہے ؟ مفصل حاشیہ سورة آل عمران (پ 4) آیت 117 کے تحت میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 37:151–152

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

خوب سن لو کہ وہ لوگ محض اپنی سخن تراشی سے کہہ رہے تھے

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ اللہ کے اولاد ہے، اور یہ لوگ یقیناً بالکل جھوٹے ہیں۔83۔

83۔ یعنی خدا کے صاحب اولاد ہونے کا عقیدہ کوئی بھی شائبہ حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا۔
Ayahs 37:153–155

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اللہ نے بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دی ؟

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا تم کیسا (بےہودہ) حکم لگاتے ہو ؟

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کیا تم سوچ سے (ذرا) کام نہیں لیتے،84۔

84۔ ایک تو اللہ کے صاحب ولد ہونے کا دعوی خود ہی کس درجہ حماقت ہے، اور پھر اس پر مستزاد اولاد میں بھی لڑکوں کا نہیں، لڑکیوں کا تحقق جنہیں مشرکین خود ہی حقیر و ذلیل سمجھتے تھے۔
Ayahs 37:156–157

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل بھی موجود ہے ؟

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

تو اچھا اپنی وہ کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہو،85۔

85۔ یعنی دلیل عقلی نہیں قائم کرسکتے ہو تو کوئی مستند مذہبی نوشتہ ہی پیش کرو، جس میں یہ عقیدہ درج ہو۔
Ayah 37:158

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ اور جنات کے درمیان رشتہ قرار دے دیا ہے، حالانکہ خود جنات خوب سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ عذاب میں گرفتار ہوں گے،86۔

86۔ (تو حق تعالیٰ کے رشتہ داروں کا معاذ اللہ جہنمی ہونا تمہاری موٹی عقل بھی قبول کرتی ہے ؟ ) (آیت) ” وجعلوا ..... نسبا “۔ اس عقیدہ کے لیے ملاحظہ ہوں سورة سبا (پ 22) آیت 40۔ 41 کے حاشیے ہوسکتا ہے کہ اس میں اشارہ عقائد مجوس کی جانب بھی ہو، جیسا کہ امام رازی (رح) کا خیال ہے۔ مجوس کا عقیدہ یہ ہے کہ یزدان واہرمن (خدا وابلیس) دونوں ایک ہی جنس کی چیزیں ہیں، فرق یہ ہے کہ اول خیر محض ہے اور دوسرا شرمحض۔ لیکن بہرحال ہیں دونوں ہم نسب ہی۔ (آیت) ’ الجنۃ “۔ سے مراد کافر جنات ہیں۔ (آیت) ” ولقد ..... لمحضرون “۔ یعنی جنات خود اپنی حقیقت اپنی مسؤلیت سے خوب واقف ہیں۔ (آیت) ” لمحضرون “۔ محضرون سے مراد عذاب میں گرفتار ہونا ہے۔ اے محضرون فی العذاب (بیضاوی) اے واللہ لقد علمت الشیاطین اے جنسھم ان اللہ تعالیٰ یحضرھم ولا بدالنار ویعذبھم بھا (روح) (آیت) ”۔ انھم “۔ ھم کی ضمیر جائز ہے کہ جنات کی طرف نہیں، بلکہ ان کے اور حق تعالیٰ کے درمیان رشتہ داری کے قائلوں کی جانب لی جائے۔ یعنی قائلی ھذا القول (معالم) اے الذین قالوا ذلک (ابن کثیر)