37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 37:40–43

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر ہاں جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے ہیں

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

انکے لئے غذائے معلوم ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

یعنی میوے اور وہ عزت کے ساتھ

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

راحت کے باغوں میں ہوں گے،18۔

18۔ چناچہ یہ سارے ماکولات ان کے سامنے عزت واحترام کے ساتھ پیش کئے جائیں گے، یہ نہیں کہ جیسے گداگر کی جھولی میں کچھ ڈال دیا گیا۔ (آیت) ” فواکہ “۔ عربی میں یہ لفظ بڑی وسعت رکھتا ہے اور اردو کے کسی ایک لفظ سے اس کا ترجمہ ممکن نہیں۔ عربی میں فاکھہ سے مراد صرف میوے ہی نہیں۔ بلکہ ہر وہ لذیذ نفیس چیز ہے جو انسان پیٹ بھرنے کے لئے نہیں، بلکہ ذائقہ کے لئے کھاتا ہے۔ جنت میں اہل جنت کے جسم کو تغذیہ کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہوگی اس لئے کہ وہاں جسم فنا پذیر نہ ہوں گے۔ اہل جنت تو جو کچھ کھائیں پئیں گے صرف مزے اور لطف ہی کیلئے۔ وھی کل مایتلذذ بہ ولا یتقوت کحفظ الصحۃ یعنی ان رزقھم کلہ فواکہ لانھم مستغنون عن حفظ الصحۃ بالاقوات (کشاف) الفاکھۃ عبارۃ عما یوکل لاجل التلذذ لالا جل الحاجۃ (کبیر) الفاکھۃ مایقصد لتلذذدون التغذی (بیضاوی) (آیت) ” جنت النعیم “۔ ایسے باغ جن میں راحت ہی راحت ہوگی، تکلیف کا کہیں گزر بھی نہ ہوگا۔ فی جنت لیس فیھا الا النعیم (بیضاوی)
Ayahs 37:44–47

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوئے

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

ان پر جام دور کرے گا بہتی ہوئی (شراب) سے (لبریز

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

سفید سفید، پینے والوں کے حق میں

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

خوب لذیذ اس سے نہ چکر آئے گا، اور نہ اس سے وہ بہکی بہکی باتیں کریں گے،19۔

19۔ یعنی اس میں صرف سرور ہی سرور، لذت ہی لذت، لطافت ہی لطافت ہوگی۔ نشہ، خمار دوران سر، وغیرہ کی ساری تکلیف دہ کیفیات سے جو دنیا کی لطیف سے لطیف شرابوں کا بھی جزوہوتی ہیں، وہ یکسر خالی ہوگی، غرض یہ کہ دنیا کی شرابوں اور اس شراب طہور کے درمیان بجز نام کے اور کوئی چیز مشترک نہ ہوگی۔ (آیت) ” من معین “۔ اشارہ کثرت کی جانب ہے۔ یعنی شراب کے دریابہ رہے ہوں گے۔ معین وہ چیز ہے جو پانی کی طرح چشمہ سے ابل رہی ہو۔ المعین ماخوذ من عین الماء اے یخرج من العیون کما یخرج الماء (کبیر) لذۃ میں حذف مضاف ہے، یعنی ذات لذۃ۔ قال الزجاج اے ذات لذۃ وعلی ھذا حذف مضاف (کبیر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وصف لذت کی زیادتی کے اظہار کے لئے لذیذ چیز کو نفس لذت سے اور صیغہ مصدر سے تعبیر کردیا گیا ہو۔ وصفت بالمصدر للمبالغۃ بجعلھا نفس اللذۃ (روح) صاحب بحر نے دونوں ترکیبیں نقل کردی ہیں۔ کاس۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں آیا ہے، مراد شراب ہی سے ہے۔ قال ابن عباس ؓ والضحاک والاخفش کل کاس فی اقران فھو خمر (بحر) اور محاروۂ عرب میں بھی یہی ہے کہ شراب سے بھرے ہوئے ہی جام کو کاس کہتے ہیں ورنہ قدح یا اناء والعرب تقول للاناء اذا کان فیہ خمر کاس فاذا لم یکن فیہ خمر قالوا اناء وقدح (قرطبی) (آیت) ” غول “۔ کے معنی فساد کے بھی ہیں، اور درد سر کے بھی۔ قال اللیث الغول الصداع (کبیر)
Ayahs 37:48–49

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ والیاں بڑی آنکھ والیاں ہوں گی

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ انڈے ہیں چھپے چھپائے (رکھے ہوئے) ،20۔

20۔ (اور گرد و غبار وداغ سے بالکل محفوظ) تشبیہ صرف صفائی اور آب وتاب میں ہے، اردو خواہ اس پر حیرت نہ کریں، محاورہ عرب میں عورت کے گورے رنگ اور حسن کیلئے یہ تشبیہ عام ہے۔ کان ھذا اللون فی غایۃ الحسن والعرب کانوا یسمون النساء بیضات الخدور (کبیر) العرب تشبہ النساء ببیض النعام (ابن قیتبہ) والعرب تشبہ المراۃ بالبیضۃ الصفاءھا وبیاضھا (قرطبی) (آیت) ” عین “ خلاصہ آگیا ان کے حسن و جمال کا۔ اور قاصرات الطرف سے اشارہ ہوگیا کہ علاوہ حسن صورت کے غیرت وحسن عفت سے جنت میں بھی موصوف رہیں گی ،
Ayah 37:50

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے،21۔

21۔ انفرادی، مادی لذتیں بڑی سی بڑی بھی اہل جنت کے لئے کافی نہ ہوں گی، ہم مشربوں، دوستوں، عزیزوں کے اجتماع کا لطف ان سب لذتوں کو دوبالا ہوگا۔
Ayahs 37:51–53

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ملاقاتی تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

وہ کہا کرتا تھا کیا تو بھی (حشر کے) معتقدین میں سے ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

تو کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو جزا وسزا دیئے جائیں گے ؟ ،22۔

22۔ یعنی دنیا میں میرا ایک ملنے والا تھا، وہ مجھ سے طنزا کہا کرتا تھا کہ کیوں میاں ! تم بھی حشر ونشر کے ڈھکوسلوں کے قائل ہو ؟
Ayah 37:54

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ کیا تم (اسے) جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ؟ ،23۔

23۔ (آیت) ” قال “۔ کا فاعل حق تعالیٰ بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ مفسر تھانوی (رح) نے قرار دیا اور بیضاوی وغیرہ میں بھی یہ قول نقل ہوا ہے، اور خود وہ جنتی بھی ہوسکتا ہے، جو اپنے رفیقوں، ہم نشینوں سے کلام کرے گا اور یہ قول جمہور مفسرین کا اختیار کیا ہوا ہے۔ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ ساری جنت میں ایک ہی شخص اس کا قائل ہو۔ بلکہ (آیت) ” انتم مطلعون “۔ کے صیغہ جمع سے تو ظاہر ہورہا ہے کہ یہ بہتوں کا تجربہ ہوگا
Ayah 37:55

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

سو وہ (شخص) جھانکے گا تو اسے وسط جہنم میں دیکھے گا،24۔

24۔ (آیت) ” سوآء الجحیم “۔ کے لفظ سے یہ مراد نہیں کہ وہ جن ہم کا وسط حقیقی ہے۔ محاورات میں ” بیچوں بیچ “ برابر بول دیتے ہیں، جب مراد صرف خوب گھرے ہوئے ہونے سے ہوتی ہے (آیت) ” فاطلع “۔ سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ جنت اعلی میں اور دوزخ اسفل میں ہے ”۔ فاطلع “۔ سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ جنت اعلی میں اور دوزخ اسفل میں ہے اور اس وقت باہم ایسی غیبت ہوگی کہ جھانکنے سے نظر آجائے گا۔ (تھانوی (رح)
Ayahs 37:56–57

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

(اور) بول اٹھے گا اللہ کی قسم تو تو مجھے ہلاک ہی کر ڈالنے کو تھا

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر میرے پروردگار کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی ماخوذ لوگوں میں ہوگا،25۔

25۔ یعنی تو نے مجھے خراب کرنے اور اپنا ہم خیال بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی، یہ محض فضل خداوندی تھا جس نے مجھے عقیدہ صحیح پر قائم رکھا۔
Ayahs 37:58–59

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

تو کیا ہم (اب) نہ مریں گے

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

بجز پہلی بار کے مر چکنے کے اور نہ ہم کو عذاب ہوگا،26۔

26۔ یہ سب کچھ جوش مسرت میں اس جنتی کی زبان پر آجائے گا۔
Ayah 37:60

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک بہت بڑی کامیابی یہی ہے،27۔

27۔ یعنی جنت کی ان نعمتوں سے سرفرازی۔ الاشارۃ الی ما ھم علیہ من النعمۃ والخلود والامن من العذاب (بیضاوی) یہ حور اور قصور، جنت کی لذتیں اور سرور قابل مضحکہ نہیں کہ ہمارے صوفی اور شاعر انہیں طنز و تمسخر کا نشانہ بنائے رکھیں، یہ سب شرعی ہیں۔ محل ومظہر رضاء الہی ہیں۔ قرآن مجید انہیں بار بار بطور مقصود کے پیش کررہا ہے۔ افسوس اور صد ہزار افسوس ہے کہ ان پر فقرے کہہ کر اور پھبتیاں کس کر بھی ہمارے بہت سے شاعر اور صوفی، بزرگ اور مقبول سمجھے جارہے ہیں۔
Ayahs 37:61–62

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بھلا یہ دعوت بہتر ہے یا زقوم کا درخت ؟ ،28۔

28۔ (آیت) ” الزقوم “۔ ایک درخت ہے جو عرب میں اپنی تلخی کے لئے مشہور تھا۔ فارسی میں اسے حنظل اور اردو میں تھوہڑ کہتے ہیں۔ دوزخ میں آگ سے پیدا ہوگا، اور کسی طرح بھی انسانی غذا کے قابل نہ ہوگا۔ یوں بھی زہریلا اور تلخ ہوتا ہے، اور پھر دوزخ کے زقوم کا کہنا ہی کیا۔ مجازا ہر زہریلی اور بدمزہ چیز کو کہہ سکتے ہیں۔ قال ثعلب الزقوم کل طعام یقتل (تاج) عبارۃ عن اطعمۃ کریھۃ فی النار (راغب)
Ayah 37:63

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس کو کافروں کے لئے (موجب آزمائش بنایا ہے،29۔

29۔ (اسی دنیا میں) کہ دیکھیں کون اسے سن کر اس کی تصدیق کرتا ہے اور کون تکذیب وتضحیک) زقوم کے ایک اور معنی خرما اور سکہ کے بھی ہیں۔ مشرکین عرب نے یہی معنی لے کر مضحکہ شروع کردیا تھا۔ (آیت) ” الظلمین “۔ ظالموں سے یہاں مراد کافر ہی ہیں۔
Ayahs 37:64–65

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے جو قعر دوزخ میں سے نکلتا ہے

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے پھل ایسے ہیں جیسے سانپ کے پھن،30۔

30۔ جیسے ہندوستان میں ناگ پھنی کے پتے ہوتے ہیں، نواح یمن میں بھی اسی نام کا ایک بدمنظر پودا ہوتا ہے۔ نبت معروف قبیح الرأس (کبیر) شجرۃ معروفۃ تکون بناحیۃ الیمن منکرۃ الصورۃ (روح) اور صاحب روح نے دو شعر بھی اسی معنی میں نابغہ اور اصمعی کے پیش کئے ہیں۔ (آیت) ” الشیطن “۔ شیطان کے مجازی معنی بدہیئت سانپ کے ہیں۔ اور وہی یہاں مراد ہیں۔ قیلھی حیۃ خفیفۃ الجسم (راغب) وقیل الشیاطین حیات ھائلۃ قبیحۃ المنظر (بیضاوی) وھی من اقبح الحیات وبھا یضرب المثل فی القبح (کبیر)
Ayahs 37:66–67

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

تو وہ لوگ اس سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر انہیں کھولتا ہوا پانی ملا کردیا جائے گا،31۔

31۔ (غساق یعنی پیپ کے ساتھ) یعنی بھوک سے مضطر ہو کر تو زقوم سے پیٹ بھریں گے، اور پیاس سے بےقرار ہوکرکھولتا ہوا پانی پیپ ملا ہوا پیٹ میں انڈیلیں گے۔
Ayahs 37:68–70

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر اخیر ٹھکانا ان کا دوزخ ہی کی طرف ہوگا

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

انہوں نے اپنے بڑوں کو گمراہ پایا تھا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

سو یہ بھی انہیں کے قدم پر تیزی کے ساتھ چل پڑے،32۔

32۔ یعنی گمراہی کے راستہ میں بڑے شوق ورغبت سے چلنے لگے (آیت) ” انھم ...... ضآلین “۔ آیت نے صاف کردیا کہ ان نتیجہ کا ترتب اہل جہنم پر صرف اس لئے ہوگا کہ انہوں نے دلیل صحیح کی پیروی چھوڑ کر محض اندھی تقلید شروع کردی تھی۔ والمقصود من الایۃ انہ تعالیٰ علل استحقاقھم للوقوع فی تلک الشدائد کلھا بتقلید الابآء فی الدین وترک اتباع الدلیل (کبیر) اور امام رازی نے لکھا ہے کہ اندھی تقلید کے ذم میں اگر کوئی اور آیت قرآن میں نہ ہوتی تو یہی ایک آیت کافی تھی، ولولم یوجد فی القران غیرھذہ الایۃ فی ذم التقلید لکفی (کبیر)
Ayahs 37:71–74

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور ان سے پہلے بھی اگلوں میں اکثر گمراہ ہوچکے تھے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں بھی ڈرانے والے بھیجے تھے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

سو دیکھ لیجئے ان کا کیسا برا انجام ہوا جنہیں ڈرایا گیا تھا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

البتہ وہ نہیں جو اللہ کے خاص کئے ہوئے بندے تھے،33۔

33۔ (بلکہ وہ اس عذاب دنیوی سے بھی محفوظ نہ رہے) یعنی جنہوں نے پیغمبروں کی نہ سنی، ان پر دنیا میں بھی کیسے کیسے عذاب آئے۔ (آیت) ” عباد اللہ المخلصین “۔ یعنی اہل ایمان۔
Ayah 37:75

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا، اور ہم خوب فریاد کے سننے والے ہیں،34۔

34۔ (چنانچہ ہم نے نوح کی بھی سن لی) (آیت) ” ولقد نادنا “۔ یعنی ہمیں اپنی نصرت اور کافروں سے انتقام کے لئے پکارا۔ (آیت) ’ ’ واھلہ “۔ اھل سے مراد حضرت نوح کے خاندان والے نہیں۔ بلکہ ہم عقیدہ اہم ایمان لئے گئے ہیں۔ یعنی اھل دینہ وھم من امن معہ (قرطبی)
Ayah 37:76

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑے بھاری غم سے نجات دی،35۔

35۔ (اور کافروں کو غرق کردیا) (آیت) ” الکرب العظیم “ سے مراد ہے کافروں کی تکذیب وایذاء سے پیش آنے والا غم، قصہ نوح (علیہ السلام) پر حاشیے کئی بار گزر چکے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ طبعی غم کمال کے منافی نہیں، اقتضاء ات طبعی کاملین میں بھی باقی رہتے ہیں، اور اس کے خلاف جو کچھ منقول ہے وہ غلبہ حال۔
Ayahs 37:77–79

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ہم نے باقی انہیں کی نسل کو رہنے دیا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لئے پیچھے آنے والوں میں

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

(یہ بات) رہنے دی کہ نوح (علیہ السلام) پر سلام ہو عالم والوں میں،36۔

36۔ چناچہ آج تک ملائکہ ومومنین ان پر سلام بھیجتے اور ان کے حق میں رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” وجعلنا ..... ھم البقین “۔ چناچہ آج دنیا میں جتنی بھی آبادی ہے، سب حضرت نوح ہی کی نسل ہے۔