37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 37:80–82

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

بیشک ہم مخلصین کو (ایسا ہی) صلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں تھے

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے غرق کردیا اوروں کو،37۔

37۔ یعنی دوسرے کیش اور مذہب والوں کو، مشرکوں کو۔ اے المغابرین لنوح واھلہ وھم کفارقومہ اجمعین (روح) (آیت) ” ثم “۔ یہاں تراخی ذکر ہی کے لئے ہے۔ ورنہ آسمانی اعتبار سے (آیت) ” جعلنا زریتہ ھم البقین “۔ اور (آیت) ” اغرقنا الاخرین “۔ دونوں فعلوں کا وقوع ساتھ ہی ساتھ ہوا تھا۔ (آیت) ” انا ..... المحسنین “۔ سے یہ لازم نہیں آتا کہ تشبیہ تمام امور میں ہے۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ محسنین کو جزائے حسن دیا کرتے ہیں، اب جس مرتبہ کا احسان، اس مرتبہ کی جزاء بس انبیاء میں تساوی لازم نہیں آتی (تھانوی (رح)
Ayah 37:83

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور ان کے طریقہ والوں میں براھیم بھی تھے،38۔

38۔ یعنی انھیں کے خاندان میں سے اور عقائد و اصول میں ان سے متحد۔ اے ممن شایعہ فی الایمان و اصول الشریعۃ (بیضاوی) اے من اھل بیتہ وعلی امتہ ومنھاجہ (کبیر) اے ممن شایعہ علی اصول الدین او شایعہ علی التصلب فی دین اللہ (مدارک) قال ابن عباس ؓ اے من اھل دینہ وقال مجاھد اے علی منھاجہ وسنتہ (قرطبی) (آیت) ” ابرھیم “۔ ذکر بار ہا آچکا اور آپ پر حاشیے بھی گزر چکے۔
Ayah 37:84

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

(ان کا قصہ یاد کیجئے) جب وہ اپنے پروردگار کی طرف قلب سلیم کے ساتھ متوجہ ہوئے،39۔

39۔ یعنی جس دل میں عقیدۂ توحید خالص واخلاص کامل تھا، اس کے ساتھ، سیدخل فیہ کونہ سلیما عن الشرک وعن الشک وعن الغل والغش والحقد والحسد (کبیر)
Ayahs 37:85–87

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب کہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کرتے ہو

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا گڑھے ہوئے معبود اللہ کے دوا (معبود بنانا) چاہتے ہو ؟

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

تو تمہارا پروردگار عالم سے متعلق کیا خیال ہے ؟ ،40۔

40۔ (جو سورج اور چاند اور تمہارے سارے بڑے بڑے دیوتاؤں کا خالق ہے) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اب توحید کی تبلیغ شروع کرتے ہیں۔ (آیت) ” لابیہ “۔ آپ کے والد کا نام آزر تھا۔ ان کی بت پرستی وبت تراشی پر حاشیے پہلے گزر چکے۔ (آیت) ” وقومہ “۔ آپ کی یہ قوم بابل کلدانیہ میں سکونت گزیں، ستارہ پرستی اور بت پرستی کے دہرے دہرے شرک میں مبتلا تھی، ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayahs 37:88–90

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر ابراہیم نے ستاروں کو ایک نگاہ بھر کے دیکھا

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

اور کہہ دیا کہ میں مضمحل ہوں

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

غرض وہ لوگ ان کو چھوڑ کر چلے گئے،41۔

41۔ اب صورت واقعہ یہ ہے کہ قوم کے سالانہ میلہ کا وقت آگیا ہے (جاہلی قوموں میں میلوں ٹھیلوں کی جو اہمیت ہوتی ہے وہ بالکل ظاہر ہے) اور لوگ آپ کو اپنا ہم عقیدہ سمجھ کر آپ سے بھی ہمراہ چلنے کو کہتے ہیں۔ آپ عذر کررہے ہیں۔...... یہ بیان اسی موقع کا ہے۔ (آیت) ” نظر نظرۃ فی النجوم “۔ گھڑی کی ایجاد سے قبل وقت وغیرہ کے علم کے لئے نظر قدرۃ رات کے وقت ستاروں کی طرف اٹھا کرتی تھی، جیسا کہ آج بھی ان ملکوں میں دستور ہے جہاں گھڑیاں ابھی نہیں پہنچی ہیں۔ اور پھر اہل کلدانیہ (بابل) تو فن نجوم، جوتش وغیرہ کے پرستاروں میں تھے۔ فال وغیرہ کے کتنے احکام تاروں ہی سے لیا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نظر آسمان کی طرف اٹھائی، اور وہ لوگ اپنی حسب عادت یہ سمجھے کہ یہ ستاروں کی مدد سے اپنا مستقبل دریافت کررہے ہیں۔ (آیت) ” فقال انی سقیم “۔ آپ نے بطور عذر فرمایا کہ آج مضحمل ہوں اس لئے تمہارا ساتھ دینے سے معذور ” سقیم “۔ یہاں ایک مشہور سوال یہ چلا آرہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو مریض نہ تھے، پھر کیسے اپنے کو مریض ظاہر ر کردیا ؟ جوابات اس کے مختلف اور متعدد دیئے گئے ہیں۔ ایک سوال نفس سوال ہی پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ آپ کا مریض نہ ہونا کہاں سے فرض کیا گیا ہے، قرآن مجید میں تو اس کی صراحت کیا معنی اشارہ بھی نہیں، اور نہ کسی معتبر روایت میں یہ ذکر ہے۔ بالکل آسانی سے ممکن ہے کہ آپ مریض رہے ہوں گے اور اسی حال کا اظہار بھی آپ نے کردیا، صرف ستاروں پر نظر کرنے کا جزو الگ تھا، اور وہ اس مصلحت سے تھا کہ اہل شرک کو مزید سوالات کا موقع نہ رہے۔ پھر سقیم کے معنی بھی مریض کیوں فرض کرلئے گئے ؟ اور اس کا اردو ترجمہ بیمار سے کرنا کیونکر لازم آگیا ؟ سقیم کا اطلاق ہر مضمحل پر ہوتا ہے، جیسے خود قرآن مجید ہی میں، بلکہ اس کی اسی سورت میں آگے چل کر آرہا ہے۔ (آیت) ” فنبذنہ بالعرآء وھو سقیم “۔ (آیت نمبر 145) یہاں کوئی اس کے معنی کے نہیں لیتا۔ اور پھر جیسا کہ علامہ راغب نے لکھا ہے، بیماری کا تعلق ماضی سے بھی ہوسکتا ہے، اور مستقبل سے بھی اور حال سے بھی۔ اور صحت کامل تو کسی کی بھی نہیں ہوتی، کچھ نہ کچھ بیمار تو ہر شخص رہتا ہی ہے۔ (آیت) ” انی سقیم “۔ کے معنی ” میں بیمار ہونے کو ہوں “ یا ” بیمار ہونے کے قریب ہوں “ ہی کئے گئے ہیں۔ اے مشارف للسقم (کشاف) اے ساسقم (مدارک) اے یشارف السقم (بحر) اراد نہ سقیم (روح) فالمعنی انی سقیم فی مااستقبل فتوھمھم انہ سقیم الساعۃ (قرطبی)
Ayahs 37:91–92

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

تو یہ انکے ٹھاکروں میں جا گھسے اور کہنے لگے کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا، تم بولتے ہی نہیں، ؟ ،42۔

42۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ ساری گفتگو ظاہر ہے کہ بطور تعریض کے ہے۔ (آیت) ” الا تاکلون “۔ مورتیوں پر ان کے پجاری بڑے بڑے چڑھاوے چڑھاتے رہتے ہیں۔ آپ کا اشارہ انہی کی جانب ہے۔
Ayah 37:93

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر ان پر قوت کے ساتھ جا پڑے اور مارنے لگے،43۔

43۔ (جس سے وہ مورتیاں ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئیں) (آیت) ” ضربا بالیمین “۔ یعنی بڑی شدت وقوت کے ساتھ۔ وتقیید الضرب بالیمین للدلالۃ علی شدتہ وقوتہ (روح) اے ضربا شدیدا قویا (کشاف)
Ayah 37:94

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

پھر وہ لوگ انکے پاس دوڑتے آئے،44۔

44۔ اس کی خبر آپ کے ہم قوموں کو ہوئی ہے، اور وہ اب دوڑے گھبرائے ہوئے اور غصہ میں بھرے ہوئے آتے ہیں۔
Ayah 37:95

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

(ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا کیا تم ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں (خودہی) تراشتے ہو،45۔

45۔ (اور خدا اسے تسلیم کرتے ہو ! جو خود تمہارا پیدا کیا ہوا اور تراشیدہ ہے ! )
Ayah 37:96

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ تم کو اور جو کچھ تم بناتے ہو (سب کو) اللہ ہی نے پیدا کیا ہے،46۔

46۔ (اور مستحق عبادت صرف وہی ہے) متکلمین اہل سنت نے کہا ہے کہ یہ آیت اس باب میں نص ہے کہ انسان ہی کا نہیں، اس کے اعمال وافعال کا خالق بھی حق عالیٰ ہی ہے۔ اور یہ آیت صاف تردید کررہی ہے مسلک اہل اعتزال کی، جو اعمال کو غیر مخلوق سمجھتے ہیں۔ احتج جمھور الاصحاب علی ان فعل العبد مخلوق للہ تعالیٰ (کبیر) وھو دلیلنا فی خلق الافعال اے اللہ خالقکم و خالق اعمالکم (مدارک) وفی ھذا ابطال مذاھب القدریۃ والجبریۃ (قرطبی) (آیت) ” ماتعملون “ میں ما مصدریہ ہے۔ اس لئے (آیت) ” وما تعملون “ کے معنی وعملکم کے ہوئے اور تقدیر کلام یہ ہوئی۔ واللہ خلقکم وخلق عملکم، مامصدریۃ اے وخلق اعمالکم (مدارک) البتہ صاحب بحر نے کہا ہے کہ ما کو مصدری معنی میں لینا طریق بلاغت کے خلاف ہے۔
Ayahs 37:97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

وہ لوگ بولے اس کیلئے ایک آتش کدہ تعمیر کرو اور اس دہکتی ہوئی آگ میں اسے ڈال دو

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

غرض ان لوگوں نے اس کے ساتھ برائی کر ان چاہا سو ہم نے انہیں کو نیچا دکھا دیا،47۔

47۔ اس قصہ پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔ (آیت) ” الجحیم “۔ جحیم کے ال معرفہ کے ساتھ آنے کے معنی یہ ہیں کہ اس عمارت کی بھٹی، والالف واللام فی الجحیم تدل علی الکنایۃ اے فی جحیم ذلک البنیان (قرطبی) (آیت) ” بنیانا “۔ بنیان کے لفظی معنی عمارت کے ہیں، یہاں مراد آگ کی بھٹی ہے۔ اے موقع ایقادالنار (بحر) حائطا تو قدون فیہ النار (روح)
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے پروردگار کی طرف چلا جاتا ہوں، سو وہ مجھے پہنچا ہی دے گا،48۔

48۔ (منزل مقصود تک) (آیت) ” الی ربی “۔ یعنی اپنے پروردگار کی راہ میں کسی طرف اس کے حکم کے مطابق۔ اے الی موضع امرنی بالذھاب الیہ (مدارک) الی حیث امرہ بالمھاجرۃ الیہ (کشاف) مراد ملک شام کہے جو آپ کے وطن عراق سے شمال مغرب میں واقع تھا (آیت) ” سیھدین “۔ میں اس تاکید وقوع کے معنی میں ہے۔ والسین لتاکید الوقوع فی المستقبل (روح)
Ayahs 37:100–101

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھے ایک صالح (فرزند) دے

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

سو ہم نے انہیں ایک حلیم المزاج لڑکے کی بشارت دی،49

49۔ مراد حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہیں۔ (آیت) ” حلیم “۔ لڑکے کے لئے یہ صفت حلم مزاجی کی تصریح یہود ونصاری کے رد میں ہے، جو آج تک حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو تند مزاجی وبدخوئی میں ضرب المثل کی شہرت دیئے ہوئے ہیں، (آیت) ” رب ھب لی من الصلحین “۔ فرزند صالح کی دعا مانگتے رہنا کسی کمال روحانی کے منافی ہونا الگ رہا۔ عین سنت انبیاء رہا ہے۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

سو جب وہ لڑکا ان کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا بیٹا ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں، سو تم بھی سوچ لو تمہاری کیا رائے ہے وہ بولے اے میرے باپ آپ کر ڈالیے جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے، آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے،50۔

50۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) جب سیانے ہو کر باپ کا ہاتھ بٹانے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عالم رؤیا میں دیکھا کہ آپ ان کو ذبح کررہے ہیں۔ حضرات انبیاء کا خواب بھی وحی ہی کی ایک قسم ہوتا ہے، آپ اسے امر الہی سمجھے اور تعمیل پر آمادہ ہوگئے۔ یہ گتفگو ایس وقت کی ہے۔ قصہ کی تفصیلات احادیث نبوی میں آئی ہیں۔ (آیت) ” فانظر ما ذا تری “۔ سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ آپ تعمیل ارشاد میں صاحبزادہ کی تائید کے محتاج تھے ..... آپ کا خیال ہوگا کہ لڑکا بھی اگر اس کی تائید کردے تو دل اور قوی ہوجائے گا اور اگر اسے تائید میں تامل ہوا تو مزید گفتگو کرکے اسے آمادہ کردیا جائے گا۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” افعل ما تؤمر “۔ اس فقرہ نے اس حقیقت کو بالکل واضح کردیا کہ آپ کو ذبح اسمعیل (علیہ السلام) کیلئے حکم ملا تھا، اور آپ اسی پر مامور تھے۔ ظاھرہ یدل علی انہ کان مامورا بذبحہ وقد اقتضی الامر قولہ افعل ما تؤمر (جصاص) (آیت) ” انی اری فی المنام “۔ محققین نے اس ذیل میں لکھا ہے کہ نبی کا خواب حجت ہے۔ ورؤیا الانبیاء وحی کا لوحی فی الیقظۃ (مدارک) رؤیا الانبیاء وحی کالیقظۃ (بحر) اس پر غیر نبی کے خواب کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ (آیت) ” فلما بلغ معہ السیع “۔ یعنی جب آپ اپنے والد کے ساتھ دوڑنے دھوپنے کے قابل ہوگئے۔ اے بلغ ان یسعی مع ابیہ فی اشغالہ وحوائجہ (کشاف۔ مدارک)
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پھر جب دونوں نے حکم کو تسلیم کرلیا اور (باپ نے بیٹے کو) کروٹ پر لٹا دیا،51۔

51۔ (جیسا کہ ذبح کے وقت جانور کو لٹاتے ہیں، اور گلے پر چھری پھیرا ہی چاہتے تھے)
Ayahs 37:104–105

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں آواز دی کہ اے ابراہیم

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تم نے خواب کو خوب سچ کردکھایا،52۔ (وہ وقت ہی عجب تھا) ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں،53۔

52۔ یعنی خواب میں جو حکم ملا، اس پر اپنی طرف سے تو پورا عمل کر ہی گزرے۔ اب ہم اس حکم کو منسوخ کرتے ہیں۔ محققین نے لکھا ہے کہ عزم فعل پر موقوف نہیں۔ 53۔ کہ انہیں راحت کونین سے مالامال کردیتے ہیں۔ اکابر اہل سنت نے (بخلاف معتزلہ کے) اس آیت اور واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ بالکل جائز ہے کوئی حکم نازل ہو اور قبل اس کے کہ اس پر عمل ہو، وہ منسوخ کردیا جائے، وقد استدل بھذہ الایۃ والقصۃ جماعۃ من علماء الاصول علی صحۃ النسخ قبل التمکن من الفعل خلافا لطائفۃ من المعتزلۃ والدلالۃ من ھذہ ظاہرۃ (ابن کثیر)
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بیشک یہ تھا بھی کھلا ہوا امتحان،54۔

54۔ (جسے بجز مخلص کامل کے کوئی دوسرا برداشت نہیں کرسکتا تھا) خواب میں حکم ہونے کی شاید یہ حکمت ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا انقیاد زیادہ ظاہر ہو کہ خواب کو خیال نہیں سمجھا، اتنے بڑے کام پر آمادہ ہوگئے (تھانوی (رح)
Ayah 37:107

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا،55۔

55۔ (آیت) ” عظیم “۔ یہاں بمعنی عظیم القدر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک دنبہ تھا جو جنت سے آیا تھا۔ اس پر یہ شبہ نہ ہو کہ جنت کی چیز نے فنا کیسے قبول کرلی، جب وہ ناسوت میں لایا گیا تو تاثیرات و خصوصیات بھی یہی کی پیدا ہوگئیں، اور ہوسکتا ہے کہ یہ جنت میں شروع سے اسی غرض مخصوص کے لئے رکھا گیا ہو۔ فقہاء نے یہاں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ آیا ذبح ولد کی نذر ماننا اور اس کا ایفاء بکری کے ذبح سے کرنا جائز ہے۔ ؟ اور پھر جواب دیا ہے کہ آیت کو نذر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو محض امتثال امر تھا نہ کہ ایفاء نذر۔ لڑکے کے ذبح کرنے کی نذر بہرصورت اور بالاتفاق ناجائز ہے۔ لیکن اگر کوئی بدعقل ایسی نذر مان لے تو امام مالک (رح) کے نزدیک اس کے بدلہ بکری قربان کر دے۔ لیکن امام شافعی (رح) نے کہا ہے کہ یہ سرے سے معصیت ہے جس پر اسے استغفار کرنا چاہیے۔ (ابن العربی) حنفیہ میں امام ابو حنفیہ (رح) اور امام محمد (رح) کی رائے ہے کہ بکری کی قربانی دینی چاہیے، کہ یہ شریعت ابراہیمی سے ثابت ہے، اور اس کا نسخ منقول نہیں، قال ابوحنیفۃ ومحمد علیہ ذبح شاۃ وظاھر الایۃ علی قول ابی حنفیۃ (جصاص) لیکن امام ابو یوسف کی رائے ہے کہ ایسی نذر ہی سرے سے باطل ہے، اس لئے اس کا کچھ کفارہ اور بدلہ بھی نہیں۔ وقال ابویوسف لاشیء علیہ (جصاص)
Ayahs 37:108–110

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم مخلصین کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں،56۔

56۔ (کہ انہیں مورددعا وبشارت بنادیتے ہیں۔ )
Ayah 37:111

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں تھے،57۔

57۔ (توحید کامل کے علمبردار، عبدیت کامل کے مظہر) یہ موقع ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی انتہائی مدح وثنا کا ہے، اس موقع پر بھی کیا ارشاد ہوتا ہے ؟ یہ کہ وہ ہمارے بڑے اچھے بندے تھے ! ...... گویا مشرک وجاہلی قوموں کو یاد دلایا کہ کہیں انہیں خدائی کے مرتبہ پر نہ پہنچا دینا، اور ان کے نام کو برھما وغیرہ کی شکل میں بدل کر کہیں انہیں دیوتا نہ بنا لینا ! اللہ اللہ کس درجہ اہتمام توحید ہے !
Ayah 37:112

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اسے بشارت دی اسحاق (علیہ السلام) کی کہ نبی اور نیک بندوں میں ہوں گے،58۔

58۔ یہ بنی اسمعیل (علیہ السلام) کو خاص طور پر سنایا جارہا ہے، کہ کہیں بنی اسرائیل کے مطاعن اسمعیل (علیہ السلام) اور بنی اسمعیل کے خلاف سنتے سنتے جواب میں یہ بھی حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نبوت و جلالت قدر سے انکار نہ کربیٹھیں (آیت) ” من الصلحین “۔ اسرائیلیوں کے ہاں ” نبی “ کے ساتھ ” صالح “ ہونا لازمی نہ تھا۔ کاہن کی طرح صرف غیب بین، غیب دان ہونا کافی تھا۔ قرآن اسی لئے بار بار انبیاء کے وصف صالحیت کو نمایاں کرتا رہتا ہے۔
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اور اسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل کیں،59۔ اور ان دونوں کی نسل میں بعض بعض اچھے بھی ہیں اور بعض صریحا اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں،60۔

59۔ (کہ دونوں کی نسل سے بکثرت انبیاء پیدا کیے گئے) انبیاء بنی اسرائیل ظاہر ہے کہ سب کے سب حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہی کی اولاد میں تھے 60۔ (یہاں تک کہ ایمان سے محروم ہیں) ایسے لوگوں کے لئے پیغمبر زادگی ہرگز کام نہیں آسکتی۔ (آیت) ” ذریتھما “ کے صیغہ تثنیہ سے اشارہ ادھر بھی ہوگیا کہ نسل ابراہیمی علاوہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے کسی اور واسطہ سے بھی چلے گی۔
Ayahs 37:114–115

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر بھی احسان کیا

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بڑے غم سے نجات دی،61۔

61۔ یعنی ظالم و مشرک حکومت کے پنجہ سے رہائی دی۔ (آیت) ” ولقد .... ہارون “۔ یعنی انہیں نبوت اور دوسرے کمالات سے مشرف کیا۔
Ayah 37:116

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ہم نے ان سب کی مدد کی، سو یہی لوگ غالب رہے،62۔

62۔ (اور فرعون بایں صولت و شوکت ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا، اور آخر خود ہی غرق ہو کر رہا)
Ayahs 37:117–118

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کو ایک واضح کتاب دی

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں سیدھے راستہ پر قائم رکھا،63۔

63۔ (یہاں تک کہ وصف عصمت سے ممتاز کیا۔ جو ہدایت و استقامت کا بلند ترین مرتبہ) اس میں رد آگیا یہود ونصاری کا جو ہارون (علیہ السلام) کو بہت سے امور میں ضلالت وخطا پر سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ موجودہ توریت میں گوسالہ پرستی تک ان سے منسوب کردی گئی ہے۔ (آیت) ” اتینھما الکتب المستبین “۔ توریت موسیٰ (علیہ السلام) کو تو اصالۃ اور براہ راست عطاہوئی تھی، شریک رسالت حضرت ہارون بھی تھے، اس لیے تبعا وبالواسطہ ” توریت “ ان کی جانب بھی منسوب کی جاسکتی ہے۔