3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ کتاب کو پوری طرح ظاہر کردینا، (عام) لوگوں پر اور اسے چھپانا مت،392 ۔ سو انہوں نے اس (عہد) کو اپنے پس پشت پھینک دیا اور اس کو ایک حقیر قیمت کے عوض میں بیچ ڈالا،393 ۔ سو کیسی بری چیز ہے جسے وہ خرید رہے ہیں،

392 ۔ (چنانچہ اس حکم کی شہادت کسی درجہ میں تو موجودہ منحرف توریت اور انجیل بھی دے رہی ہے۔ ” تم اس کلام میں جو میں تمہیں فرماتا ہوں کچھ زیادہ نہ کیجیو اور نہ اس میں کم کیجیو “ (استثناء 4:9) ” اس نے۔۔۔ بنی اسرائیل میں ایک شریعت بنا رکھی جس کی بابت اس نے ہمارے باپ دادوں کو حکم کیا کہ وہ اسے اپنی اولاد کو سکھلا دیں تاکہ آنے والی پشت وہ فرزند جو پیدا ہو ویں سیکیں اور وہ اٹھ کے اپنی اولاد کو سکھلا ویں “ (زبور۔ 78:5، 6) ” جو کچھ میں تم سے اندھیرے میں کہتا ہوں اجالے میں کہو اور جو کچھ تم کہتے ہو کوٹھوں پر اس کی منادی کرو “ (متی 10:27) (آیت) ” لتبیننہ “۔ تبیین کے معنی خوب کھول کر بیان کرنے کے ہیں۔ ہ، کی ضمیر کتاب کی طرف ہے۔ یعنی جو کتاب تمہیں ملے، اس کو اور اس کے مضامین کو خوب پھیلاؤ۔ (آیت) ” ولا تکتمونہ “۔ یعنی اس کے کسی حصہ، کسی مضمون کو کسی غرض سے بھی نہ چھپاؤ۔ 393 ۔ یعنی احکام الہی کو سستے داموں بیچ کر دنیا خرید کی ! (آیت) ” ثمناقلیلا “ آخرت کے مقابلہ میں دنیا ہمیشہ کم قیمت ہی رہے گی، یہ مراد نہیں کہ ان نافرمانوں نے تحریف کا معاوضہ ہلکا لیا انہیں اس سے زیادہ لینا تھا۔ (آیت) ” نبذوہ “۔ ضمیر اسی عہد کی طرف ہے ای المیثاق (بیضاوی)
Ayah 3:188

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

جو لوگ اپنے کرتوتوں پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام نہیں کیے ہیں، ان پر بھی ان کی مدح کی جائے،394 ۔ سو ایسے لوگوں کے لیے ہرگز نہ خیال کرو کہ وہ عذاب سے حفاظت میں رہیں گے ان کے لیے دردناک عذاب ہے،395 ۔

394 ۔ خاص طور پر مراد ہیں علماء یہود اور منافقین یہود، عنی بذلک قوم من اھل النفاق (ابن جریر) عنی بذلک قوم من احبار الیود (ابن جریر) ” بمااتو “۔ مثلا ان کا یہی کارنامہ کہ حق کا اخفاء اور اپنی بدکرداریوں کا کتمان کرتے رہے۔ (آیت) ” مالم یفعلوا “۔ مثلا یہی کہ دین حق کی نشرواشاعت نہ کی۔ 395 ۔ (آخرت میں) (آیت) ” بمفازۃ من العذاب “ اس عذاب سے مراد اسی دنیا میں سزائیں ہیں۔ چناچہ یہود چند ہی سال کے اندر قتل ہوئے، گرفتار ہوئے، جلاوطن ہوئے، اور منافقین یہود ذلیل ورسوا ہوئے۔
Ayah 3:189

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،396 ۔

396 ۔ (چنانچہ مجرموں کی دنیوی واخروی سزاؤں پر بھی) اللہ کی ملکیت تامہ اور قدرت کاملہ کا استحضار رہے تو شاید ایک بھی معصیت نہ سرزد ہو۔
Ayah 3:190

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے ادل بدل میں اہل عقل کے لیے (بڑی) نشانیاں ہیں،397 ۔

397 ۔ (اللہ کی توحید اور فردیت کی، اس کی حکمت وصنعت کی اور اس کی قدرت وحاکمیت کی) نظام فلکی اور اس کی تفصیلات، چاند، سورج، ستاروں کی تعداد، ان کے درمیان فاصلے، ان کے باہمی تعلقات وتاثرات، ان کی گردشوں کی پیمائش، گرہن کے اسباب واوقات، انکے طلوع و غروب، نور و حرارت وغیرہ کے قاعدہ ضابطہ، اس قسم کی تفصیلات سے علم ہیئت کی کتابوں کے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔ رہی زمین تو ہیئت ارض، مساحت ارض، طبقات ارض، معدنیات ارض، کشش ارض، ہواؤں اور موسموں کے تغیرات وغیرہ کے لیے تو کوئی ایک پورا فن بھی کافی نہ ہوا بلکہ جغرافیہ، جغرافیہ طبعی، جیالوجی، فزالوجی، میٹیر ولوجی، آرکیالوجی خدا جانے کتنے فنون پر فنون نکلتے چلے آرہے ہیں اور حکمت باری اور صنعت باری کے انداز اور تخمینے ختم ہونے کے قریب بھی نہیں آرہے ہیں ! آیت میں ضمنا ان مشرک قوموں کا بھی رد آگیا جنہوں نے آسمان یا زمین یا رات دن کو دیوی دیوتا سمجھا ہے، معبودیت کی صلاحیت ان میں سے کسی میں بھی نہیں، یہ سب کے سب مملوک ومسخر ہیں ایک صانع اعظم کے۔
Ayah 3:191

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

یہ ایسے ہیں کہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر (برابر) یاد کرتے رہتے ہیں،398 ۔ اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں،399 ۔ اے ہمارے پروردگار تو نے یہ (سب) لا یعنی نہیں پیدا کیا ہے،400 ۔ تو پاک ہے،401 ۔ سو محفوظ رکھ ہم کو دوزخ کے عذاب سے،402 ۔

398 ۔ یعنی یاد الہی خواہ دل سے ہو یا زبان سے، ہر حال اور ہر ہئیت کے ساتھ کرتے رہتے ہیں۔ المرادمنہ کون الانسان دائم الذکر فان الاحوال لیست الاھذہ الثلاثۃ (کبیر) قال سائر المفسرین ارادبہ المداومۃ علی الذکر فی عموم الاحوال (معالم) (آیت) ” علی جنوبھم “۔ سے مراد ہے لیٹے ہوئے۔ ای مضطجعین (قرطبی) 399 ۔ کائنات طبعی کے ان عظیم الشان موجودات کے قوانین طبعی اور قواعد تکوینی سے صانع اعظم و خالق عالم کی قدرت، حکمت، صنعت پر استدلال کرتے رہنا عبادت ہی نہیں ایک اعلی و اشرف عبادت ہے۔ ھو افضل العبادات کما قال علیہ الصلوۃ لاعبادۃ کالتفکر لانہ المخصوص بالقب والمقصود من الخلق (بیضاوی) دلت الایۃ علی ان اعلی مراتب الصدیقین التفکر فی دلائل الذات والصفات (کبیر) کاش آج ہماری قوم کے ماہرین فن ہیئت، فلکیات، ریاضیات وغیرہ علوم طبعی پر دینی و ایمانی نقطہ نظر سے قلم اٹھاتے ! 400 ۔ یعنی بلاغایت وبے مقصد نہیں پیدا کیا ہے، بڑے بڑے مصالح ومقاصد اس کے اندر رکھے ہیں۔ اس میں رد آگیا علاوہ مادئین ودہرئین کے جو کائنات کو محض بخت واتفاق کا نتیجہ نتیجہ سمجھتے ہیں، ان مذاہب باطلہ کا بھی جن کے نزدیک یہ نظام کائنات محض کسی دیوتا کا کھیل تماشہ یا ایک طرح کا طلسم وشعبدہ ہے۔ 401 ۔ (ہر فعل عبث اور لاحاصل ہے) تنزیھا عن الوصف بخلق الباطل (مدارک) 402 ۔ (اور وہ اس طرح کہ ہمیں راہ ہدایت پر چلائے اور راہ ظلالت کے سایہ سے بھی بچائے)
Ayah 3:192

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار تو نے جسے دوزخ میں داخل کردیا اسے واقعی رسوا ہی کردیا اسے واقعی رسوا ہی کردیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں،403 ۔

403 ۔ (کہ انہیں میرے عذاب سے کچھ بھی بچا سکے) (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم سے یہاں کھلی ہوئی مراد کافر سے ہے۔ ای الکفار (قرطبی) والمراد الکفار (مدارک) القران دل علی ان الظالم بالاعلان ھو الکافر (کبیر) (آیت) ” من تدخل النار “۔ مراد وہ لوگ ہیں جو کفر وشرک میں مرے اور عذاب ابدی کے لیے دوزخ میں جھونکے جائیں گے، وہ گنہگار مسلمان مراد نہیں ہیں جو گناہوں سے پاک صاف ہونے کے لیے عارضی ووقتی طور پر دوزخ میں بھیجے جائیں گے۔ قال سعیدبن المسیب الایۃ خاصۃ فی قوم لا یخرجون من النار (قرطبی) حکماء وعلماء اسلام کے گروہ نے آیت سے یہ استنباط کیا ہے کہ عذاب روحانی عذاب جسمانی سے بھی بڑھ کر زبردست وشدید ہوگا اس لیے کہ قرآن (آیت) ” خذی “۔ (رسوائی) کا ذکر عذاب دوزخ کے بعد کرتا ہے (کبیر)
Ayah 3:193

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا ایمان کی پکار کرتے ہوئے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ، سو ہم ایمان لے آئے،404 ۔ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو بخش دے، اور ہم سے ہماری خطاؤں کو زائل کردے، اور ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے،405 ۔

404 ۔ (اس داعی حق کی ہدایت کے مطابق) ایمان شریعت میں وہی معتبر ومستند ہے جو پیغمبر کی ہدایات کے مطابق ہو نہ کہ اپنے ظن وتخمین کے ماتحت۔ امام ماتریدی نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ اپنے ایمان کو انشاء اللہ کے ساتھ مقید ومشروط کرنا درست نہیں۔ قال الشیخ ابو منصور (رح) فیہ دلیل بطلان الاستثناء فی الایمان (مدارک) (آیت) ” منادیا “ پکارنے والے سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ (آیت) ” ینادی للایمان “ یہ ضرور نہیں کہ پیغمبر کی دعوت براہ راست ہی پہنچتی ہو، کسی واسطہ سے بھی پہنچے، بہرحال پیغمبر ہی کی دعوت ہوگی ، (آیت) ” للایمان “ میں ل الی کے معنی میں ہے۔ اللام بمعنی الی ای الی الایمان (قرطبی) 405 ۔ (اور آخرت میں ان کی رفاقت نصیب کر) مخصوصین بصحبتھم ومعدودین فی زمرتھم (بیضاوی) (آیت) ” ذنوب سے مراد بڑے گناہ ہیں۔ ای کبائرنا (بیضاوی) (آیت) ” سیاتنا “۔ سیات سے مراد چھوٹے گناہ ہیں۔ ای صغائرنا (بیضاوی)
Ayah 3:194

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہمیں عطا کر وہ چیز جس کا تو ہم سے اپنے پیغمبروں کی معرفت وعدہ کرچکا ہے اور ہم کو قیامت کے دن رسوا نہ کرنا،406 ۔ بیشک تو تو وعدہ خلافی نہیں کرتا،407 ۔

406 ۔ یعنی ابتداء ہی سے ہم پر فضل وکرم رکھ۔ جہنم وغیرہ کے جو شدید ترین عذاب ہیں، وہ تو خیرالگ رہے، باقی میدان حشر میں پبلک رسوائی، عام تفضیح، کچھ کم ہے، ذرا اس پر خیال تو کیا جائے، (آیت) ” اتنا ما وعدتنا “۔ یعنی اجر موعود، جنت موعود ، (آیت) ” علی رسلک “۔ اللہ کے وعدے معتبر تمامتر وہی ہیں جو پیغمبروں کی وساطت سے ہوں، مہر تصدیق صرف انہی پر لگی ہے نہ کہ اپنی عقل و ذہانت سے فرض کیے ہوئے وعدوں پر۔ (آیت) ” ربنا “۔ اس سلسلہ دعا میں بار بار اس لفظ کی تکرار، اللہ کی صفت ربوبیت کو بار بار مخاطب کرنا اور گویا اسے اس کی صفت کا واسطہ دینا دلیل ہے دعا کرنے والے کی خشیت اور الحاح اور تضرع کی۔ 407 ۔ (اس لیے تیرے وعدہ پر تو قطعا بھروسہ ہے لیکن اس کا اطمینان تو نہیں کہ ان وعدوں کا تحقق ہمارے حق میں ہو، ہم ہی ان وعدوں کے مصداق ٹھہریں)
Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

سو ان کی دعا کو ان کے پروردگار نے قبول کرلیا،408 ۔ اس لیے کہ میں تم میں کسی عمل کرنے والے کے خواہ مرد ہو یا عورت عمل کو ضائع نہیں ہونے دیتا تم آپس میں ایک دوسرے کے جز ہو،409 ۔ تو جن لوگوں نے ترک وطن کیا اور اپنے شہروں سے نکالے گئے اور (اور بھی) تکلیفیں انہیں میری راہ میں دی گئیں اور وہ لڑے اور مارے گئے، ان کی خطائیں ضرور ان سے معاف کردی جائیں گی،410 ۔ اور میں ضرور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، (یہ) اللہ کے پاس سے ثواب ملے گا اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے،411 ۔

408 ۔ (اور انہیں اپنے فضل وکرم کی جنت میں داخل کردیا) (آیت) ” استجاب “ یہاں بھی اجاب کے معنی میں ہے۔ استجابہ ای اجابہ (قرطبی) 409 ۔ (اور تم دونوں الگ الگ قسم کی مخلوق نہیں ایک ہی نوع کی دو شاخیں ہو) (آیت) ” انی لا اضیع “۔ ہر زبان کا ایک مخصوص اسلوب بیان وطرز انشاء ہوتا ہے، اوپر سے برابر صیغہ غائب چلا آرہا ہے۔ اب دفعۃ اس آیت کے اندر صیغہ متکلم آگیا، عربی ادب وانشاء میں یہ فوری انتقال صیغہ داخل عیب نہیں، داخل ہنر ہے اور اپنے موقع ومحل پر ایک خاص صفت، یہاں صیغہ متکلم خاص طور پر دلالت کررہا ہے تخصیص و شفقت پر۔ (آیت) ” من ذکر او انثی “۔ جاہلی مذہبوں میں یہاں تک کہ مسیحیت میں بھی عورت ہونا بجائے خود ایک جرم ونقص تھا، عورت غریب محض اس لیے کہ عورت تھی بہت سے درجات سے، بہت سے ثوابوں سے محروم تھی اس گمراہی کو مٹانے کے لیے صراحت کے ساتھ یہ بیان کرنے کی ضرورت تھی کہ جنس مذکر ومونث سے عمل واجر عمل پر مطلق کوئی اثر نہیں پڑتا، عمل کے لحاظ سے ہر عامل یکساں ہے۔ نماز اس کی بھی قبول اس کی بھی، روزہ اس کا بھی مقبول اس کا بھی، عصمت اس کی بھی قابل غور اس کی بھی وقس علی ھذہ۔ (آیت) ” لااضیع “ لا کر یہ بھی بتادیا کہ عمل پر ثمرات کا ترتب تمامتر اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ (آیت) ” بعضکم من بعض “۔ یہ تصریح ہے اس کی کہ انسانیت دونوں جنسوں میں مشترک ہے اس لیے حکم بھی دونوں کا مشترک ہی رہے گا۔ لانھما من اصل واحد (بیضاوی) لا تفاوۃ فی الاجابۃ ولا فی الثواب بین الذکر والانثی (کبیر) بینت فیھا شرکۃ النساء مع الرجال فی ما وعداللہ عبادہ الصالحین (مدارک) ذرا اسے یاد کرلیا جائے کہ دونوں جنسوں کی درمیان اشتراک انسانیت کی یہ تعلیم بیسویں صدی عیسوی میں نہیں ساتویں صدی عیسوی کی ابتدا میں مل رہی ہے، جبکہ فرنگستان اور ہندوستان دونوں میں عورت ہونا خود ایک جرم تھا اور عورت کا وجود مرادف تھا گندگی اور ناپاکی کے۔ (آیت) ” من ذکر “ میں من تاکید کے لیے ہے، دخلت من للتاکید (قرطبی) 410 ۔ (اور یہ کفارہ سیئات والا انعام علاوہ اس اجر کے ہوگا جو انہیں اپنے اعمال شاقہ اور حسنات پر ملے گا) (آیت) ” الذین ھاجروا۔۔۔ وقتلوا “ یہ ذکر ہورہا ہے حضور ﷺ کے رفیقوں اور صحابیوں کی جان نثاریوں کا۔ اور بیان میں چند اعمال کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے، بطور مثال ونمونہ کے یا فہرست حسنات کے مہمات عنوان کے طور پر بتایا کہ انہی پر سارے اعمال حسنہ کا قیاس کرلیا جائے ان سے حسنات کا حصر مقصود نہیں۔ (آیت) ” لاکفرن عنھم سیاتھم “۔ اس تصریح سے صاف ظاہر ہوگیا کہ یہ حضرات باوجود ان مرتبوں کے، باوجود صحابی اور مہاجر اور مظلوم فی سبیل اللہ اور غازی اور شہید ہونے کے معصوم نہ ہوں گے، لغزش وخطا سے ماوراء نہ ہوں گے، صاحب سیئات ہوں گے عام بشری لغزشوں کے یہ بھی مرتکب ہوں گے البتہ فضل خداوندی ان کے حسنات کو ان کے سیئات پر کہیں غالب رکھے گا۔ آج جو ہر ” شیخ “ اور ہر ” بزرگ “ کو عملا تقدس مآب ومعصوم اور بشریت سے ماوراء سمجھا جانے لگا ہے اس عقیدۂ فاسدہ کی تردید قرآن مجید قدم قدم پر کررہا ہے۔ 411 ۔ صیغہ حصر کا وارد ہوا ہے یعنی یہ بہترین وبرترین نعمت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی اور کے ہاتھ میں نہیں، ای یختص بہ ولا یقدر علیہ غیرہ (مدارک)
Ayah 3:196

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

(یہ) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے،412 ۔

412 ۔ یعنی اے مخاطب اہل کفر کا حظوظ دینوی سے بہرہ ور ہونا، مادی نعمتوں کا حصہ دار ہونا کہیں تجھے اس دھوکے میں نہ ڈال دے کہ ان کی حالت بھی قابل وقعت اور مستحق احترام ہے۔ یہ دھوکا بھی کتنا عام ہے اور آج دنیا کتنا زیادہ اس دھوکے میں پڑی ہوئی اور اس فریب پر مٹی ہوئی ہے۔ الخطاب لکل احد (مدارک) ھذا خطاب لکل من سمعہ من المکلفین کانہ قیل لاکفرنک ایھا السامع (کبیر)
Ayah 3:197

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

(یہ) چند روزہ بہار ہے،413 ۔ پھر تو ان کو ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسی بری آرام گاہ ہے

413 ۔ (آخرت کی ابدی نعمتوں اور سرافرازیوں سے ان حظوظ دنیوی کو نسبت ہی کیا ؟ حدیث نبوی ﷺ میں آیا ہے کہ دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں کوئی سمجھنا چاہے تو موجیں مارتے ہوئے سمندر میں انگلی کا سرا ڈالے اور نکال لے پھر دیکھے کتنا پانی میں اس میں آیا ہے۔
Ayah 3:198

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے باغ ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ (ہمیش) رہیں ٗ گے (یہ تو) مہمانی (ہوگی) اللہ کی طرف سے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے حق میں کہیں بہتر ہے،414 ۔

414 ۔ (ہر دنیوی لذت ونعمت سے، کیفیت میں، کمیت میں، غرض ہر اعتبار وہر جہت سے) (آیت) ” وما عنداللہ “۔ یعنی اخروی نعمتوں کی قسموں میں سے۔ (آیت) ” اتقوا ربھم “۔ اور اس تقوی الہی کی پہلی منزل قبول اسلام ہے۔ (آیت) ” نزلا من عندا للہ “۔ اللہ نے اہل جنت کو اپنا ” مہمان “ ٹھہرا کر ان کا مرتبہ اعزاز واکرام جس حد تک بڑھا دیا ہے الفاظ اس کے ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ النزل مایھیا للضیف (کبیر)
Ayah 3:199

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ضرور ہیں جو اللہ پر اور جو کچھ تم پر اتارا گیا ہے، اور جو کچھ ان پر اتارا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں، اللہ سے ڈرنے والے ہیں، اللہ کی آیتوں کا حقیر قیمت پر سودا نہیں کرتے،415 ۔ انہیں ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ضرور ملے گا بیشک اللہ حساب بہت جلد لے لیتا ہے،416 ۔

415 ۔ یعنی کسی بھی مصلحت ومنفعت کے خیال سے اپنی آسمانی کتابوں میں تحریف، ترمیم، تصحیف، تلبیس گوارا نہیں کرتے۔ (آیت) ” ثمناقلیلا “۔ پر حاشیہ اوپر گزر چکے۔ ہر دنیوی معاوضہ بڑا ہو یا چھوٹا حقیر ہی قیمت کا کہا جائے گا۔ (آیت) ” یؤمن باللہ “۔ یعنی اللہ کی ذات وصفات پر ایمان پورے تو حیدی رنگ میں ہے اس میں شرک کی آمیزش نہیں۔ (آیت) ” مآانزل الھیم یعنی اپنی اپنی آسمانی کتابوں توریت، انجیل وغیرہ پر ان کی اصلی، غیر محرف صورتوں میں ایمان رکھتے ہیں۔ یہ مدح جیسا کہ ظاہر ہے ان اہل کتاب کی ہو رہی ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اسلام قبول کرلیا۔ 416 ۔ (سووہاں کسی کو انتظار کی بھی زحمت نہ اٹھانی پڑے گی) حشر کے مجمع عظیم کو دنیوی مجمعوں کی بھیڑ بھاڑ اور دنیوی عدالتوں کی تعویق اور تاخیر پر ہرگز قیاس نہ کیا جائے۔
Ayah 3:200

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے ایمان والو (خود) صبر کرو، اور مقابلہ میں صبر کرتے رہو، اور مقابلہ کے لیے مستعد رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، عجب نہیں جو فلاح پاجاؤ،417 ۔

417 ۔ (آیت) ” اصبروا “۔ یعنی جو صعوبتیں راہ حق میں از خود پیش آئیں ان پر صبر کیے جاؤ۔ ای علی مشاق الطاعات وما یصیبکم من الشدائد (بیضاوی) ای الصبر بالطاعات وعن الشھوات (قرطبی) قال الحسن وقتادۃ وابن جریج والضحاک اصبروا علی طاعۃ اللہ (جصاص) (آیت) ” صابروا “۔ یعنی جو مصیبتیں مخالفین ومعاندین کے ہاتھوں پیش آئیں انہیں بھی برداشت کرو، ای غالبوا اعداء اللہ، فی الصبر علی شدائد الحرب (بیضاوی) معناہ مصابرۃ الاعداء قالہ زید بن اسلم (قرطبی) صابروا اعداء اللہ (جصاص) (آیت) ” رابطوا “ یعنی خارجی دشمنوں اور اپنے اندرو ونی دشمن (نفس) دونوں سے مقابلہ کے لیے مستعد رہو۔ الرباط حمل النفس علی النیۃ الحسنۃ والجسم علی فعل الطاعۃ ومن اعظمہ ارتباط الخیل فی سبیل اللہ وارتباط النفس علی الصلوۃ (ابن عربی) (آیت) ” واتقوا اللہ لعلکم تفلحون “۔ صبرومصابرہ ومرابطہ سب کا اصلی مصدر اور آخری ماخذ تقوی الہی ہے۔ آخر میں اس کی تاکید ہے اور اسی کا نتیجہ دنیا وعقبی میں فلاح ہے۔ ولا بدللانسان فی کل فعل یفعلہ من داعیۃ وغرض وجب ان یکون للانسان فی ھذہ المجاہدۃ غرض و باعث وذلک ھو تقوی اللہ لنیل الفلاح والنجاح (کبیر)