Ayah 3:81183 ۔ (یہ ایمان دل وجان سے ہو اور نصرت دست و زبان سے) (آیت) ” اخذ اللہ میثاق النبین “ یعنی ارواح انبیاء سے عہد لیا۔ عالم ارواح میں اس ناسوتی دنیا کے وجود سے قبل۔ یہاں یہ واضح رہے کہ جو احکام انبیاء کو ملے ان میں ان کی امتیں بدرجہ اولی شامل ہیں۔ (آیت) ” من کتب و حکمۃ “۔ کتاب سے مراد کتاب آسمانی ہونا ظاہر ہے۔ (آیت) ” حکمۃ “۔ سے مراد معرفت الہی بھی ہوسکتی ہے اور نبوت بھی۔ (آیت) ” مصدق “۔ تصدیق ہونے سے بھی بڑھ کر یہ حالت ہے کہ وہ بعد کا آنے والا رسول خود ان پچھلی تعلیمات وہدایات کا مصداق بھی ہو۔ (آیت) ” لتؤمنن بہ ولتنصرنہ “۔ عارفین صوفیہ نے کہا ہے کہ شیوخ پر لازم ہے کہ ان کا جو معاصر علم وعمل میں ان فوق ہو بلکہ ان کا مساوی ہو اس سے دعا کرانے میں عار نہ کریں۔ (آیت) ” رسول “۔ اگرچہ نکرہ ہے لیکن اشارہ ایک فرد معین کی جانب کر رہا ہے۔ اور یہ اسلوب قرآن میں عام ہے۔ الرسول ھنا محمد ﷺ فی قول علی ؓ وابن عباس ؓ واللفظ وان کان نکرۃ فالاشارۃ الی معین (قرطبی) ۔
184 ۔ انبیاء کی زبان سے اقرار یوں بھی اقرار صالح اور حلف مؤکد کے برابر ہیں۔ اللہ کی اس گواہی نے مؤکد کو مؤکد تر کردیا۔ (آیت) ” اصری “۔ اصر کے لفظی معنی بوجھ کے ہیں۔ مراد عہد ہی سے ہے الاصر فی اللغۃ الثقل فسمی العھد اصر الانہ منع وتشدید (قرطبی)
Ayah 3:82185 ۔ (آیت) ” فمن تولی “۔ یعنی مومنوں میں جو کوئی اس عہد سے اعراض کرے گا، خود انبیاء معصومین سے تو اس کا احتمال ہی نہیں۔ اس لئے لامحالہ افراد امت مراد ہوں گے۔ ھذا الحکم بالنبسۃ الی اتباعھم (بحر)
Ayah 3:83186 ۔ (قیامت کے دن) سو ڈرتے رہنا اس ہستی سے چاہیے جو آج بھی اس قدر بااختیار ہے اور کل بھی سابقہ اسی سے پڑے گا۔ اور اسی کی عبادت میں لگے رہنا چاہیے (آیت) ” یبغون “۔ یہ باطل کے تلاش کرنے والے عام اہل باطل ہیں۔ (آیت) ” دین اللہ “۔ یہاں صراحت کے ساتھ اسلام کے لئے دین اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ (آیت) ” اسلم من فی السموت والارض “۔ یہاں مراد ہے انقیاد تکوینی۔ یعنی اس کی مشیت سے باہر تو کوئی بھی نہیں جاسکتا۔ (آیت) ” طوعا “۔ یعنی اپنے ارادہ واختیار سے۔ (آیت) ” کرھا “۔ یہ اشارہ غیر ذوالعقول، حیوانات، نباتات، جمادات وغیرہ کی طرف ہے۔
Ayah 3:84187 ۔ یہاں یہ حقیقت ایک بار پھر دہرادی گئی ہے کہ اسلام کوئی نیا، نوپیدا اور انوکھا دین نہیں۔ وہی پرانا دین توحید ہے۔ سارے انبیاء ومرسلین اسی کی تبلیغ کرتے چلے آئے ہیں۔ اور مسلمان کا ایمان سارے پیغمبروں پر یکساں ہوتا ہے۔ (آیت) ” قل۔ یعنی اے پیغمبر آپ اپنی امت کی طرف سے کہہ دیجئے (آیت) ” انزل علینا “۔ یعنی قرآن مجید، نزول قرآن کا انتساب جس طرح عموما پیغمبر کی طرف کیا گیا ہے، اسی طرح کبھی کبھی پیغمبر کی امت کی جانب بھی کردیا گیا ہے۔ اور فعل انزال کا صلہ قرآن مجید میں حرف علی اور الی دونوں کے ساتھ آتا ہے۔ (آیت) ’ ’ الاسباط “۔ یعنی اولاد یعقوب میں سے جو جو پیغمبر ہوئے ہیں۔ اس لفظ پر حاشیہ پارۂ اول میں گزر چکا۔ ان سب انبیاء کے اسماء گرامی پر بھی حاشیے گزر چکے۔
188 ۔ (ان کی صداقت کے لحاظ سے، کہ بعض کو مانیں اور بعض کو جھٹلائیں جیسا کہ یہود، نصاری وغیرہ مقہور اور معتوب امتوں کا شیوہ ہے)
189 ۔ (آیت) ” مسلم “۔ ایک طرف امت محمدی ﷺ کا اصطلاحی نام بھی ہے۔ اور دوسری طرف اس کے لفظی معنی فرمانبردار کے ہیں۔
Ayah 3:85190 ۔ (آیت) ” الاسلام “۔ سے یہاں کھلی ہوئی مراد اصطلاحی دین اسلام ہے۔ ورنہ لفظی معنی کے لحاظ سے تو کائنات کا ذرہ ذرہ مسلم ہے۔ اعلم ان ظاہر ھذہ الایۃ یدل علی ان الایمان ھو الاسلام (کبیر) (آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام “۔ وغیرہ متعدد آیتوں میں یہ مضمون صاف صاف بیان ہوچکا ہے کہ سچا اور مقبول دین صرف یہی دین ہے۔ جس کی کتاب قرآن مجید ہے۔ اور جس کے لانے والے اور سکھانے والے محمد رسول اللہ ﷺ ہیں، اس ایک دین کے علاوہ اور جتنے بھی دین و مذہب چلے ہوئے ہیں سب کی مثال کھوٹے اور جعلی سکوں کی سی ہے کہ کہنے کو سکے وہ بھی ہیں۔ لیکن جب چل نہ سکے تو ان کا سکہ ہونا نہ ہونا برابر۔ یہ آیت اس حقیقت کو اور زیادہ مؤکدوآشکار کررہی ہے۔ دوسرے ادیان و مذاہب کو بھی اس دین حق کی طرح سچا سمجھنا۔ ہر دین مذہب کو نجات کے لئے کافی سمجھنا۔ سب مذہبوں کو ملاجلا کر ان کا ایک ملغوبہ تیار کرنا، یا یہ کہنا کہ دیر وحرم، کعبہ وکلیسا سب یکساں ہیں، ضلالت وبے دینی کی انتہائی شکلیں ہیں۔ اکبر، داراشکوہ، وغیرہ ان ناکام کوششوں کے لئے بجاطور پر بدنام ہوچکے ہیں، اور بڑے قلق کا مقام ہے کہ ہمارے زمانہ میں بھی بعض اہل قلم ایسی ہی نامراد کوششیں کرچکے ہیں۔
Ayah 3:86191 ۔ (آیت) ” القوم الظلمین “ یعنی ایسے بےانصافوں کو جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں۔ اتنے دلیر ہیں۔ (آیت) ” کفروا بعدایمانہم “۔ یعنی دین حق سے مرتد ہوگئے۔ (آیت) ” البینت “۔ کھلی ہوئی نشانیاں، رسول اسلام اوردین اسلام کی صداقت کی، دلائل، معجزات، سب ان بینات کے تحت میں داخل ہیں۔
Ayah 3:87192 ۔ (آیت) ” لعنۃ “۔ رحمت الہی سے محرومی ومہجوری پر حاشیے پارۂ اول میں گزر چکے۔
Ayah 3:88193 ۔ (جہنم میں پڑنے سے قبل) (آیت) ” لا یخفف عنھم العذاب “۔ جہنم میں پڑنے کے بعد بھی کوئی تخفیف عذاب میں نہ ہوگی۔ (آیت) ” فیھا۔ یعنی اس حالت ملعونیت ومغضوبیت میں۔ ای خالدین فی اللعنۃ (کبیر) دوسرے معنی جہنم میں پڑے رہنے کے بھی ہیں۔ قال ابن عباس ؓ ای فی جہنم (کبیر)
Ayah 3:89194 ۔ (آیت) ” تابوا “۔ یعنی صدق واخلاص کے ساتھ توبہ کرلیں (آیت) ” غفور “۔ سو وہ اپنی اس صفت غفر کے تقاضہ سے ان کی پچھلی خطاؤں کو بخش دے گا (آیت) ” رحیم “۔ سو وہ اپنی صفت رحیمیت کے تقاضہ سے ان پر مزید فضل کرے گا۔
Ayah 3:90195 ۔ (دوسرے معاصی وسیئات سے) یعنی پڑے تو رہیں کفر و ارتداد میں اور چاہیں کہ انہیں ان کے دوسرے اعمال حسنہ کا صلہ مل جائے، سو بغیر ایمان و اعتقاد صحیح کے ان اعمال پر سرے سے ” حسنہ “ و ” صالحہ “ کا اطلاق ہی نہ ہوسکے گا جو ان پر اجر وصلہ کی توقع رکھی جائے۔
196 ۔ یعنی گمراہ کا مل، انتہاء درجہ کے گمراہ۔ ورنہ گمراہ تو سب ہی کافر ہوتے ہیں، ھذا محمول علی انھم ھم الضالون علی سبیل الکمال (کبیر)
Ayah 3:91197 ۔ (قیامت کے دن) یعنی بالفرض قیامت کے دن کافر مال کا مالک ہو اور اس کے دے ڈالنے پر بھی قادر ہو (آیت) ” ذھبا “۔ ذھب سے سونے کی مخصوص و متعین دھات ہی مراد نہیں۔ بلکہ مراد کسی عزیز سے عزیز اور زیادہ سے زیادہ قیمتی شے کے فدیہ سے ہے۔ الذھب کنایۃ عن اعز الاشیاء (کبیر) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ کوئی شخص آج چاہے کہ حالت کفر میں قائم رہ کر روئے زمین کے برابر روپیہ کار خیر میں خرچ کردے اور اس کے معاوضہ میں قیامت میں نجات حاصل کرے تو ایسا ہرگز نہیں ہونے کا۔ ای من مات علی الکفر فلن یقبل منہ خیر ابدا ولوکان قدملء الارض ذھبا فیمایراہ قربۃ “ (ابن کثیر)
Ayah 3:92198 ۔ (اے مسلمانو ! ) (آیت) ” البر “۔ مطلق نیکی کو کہتے ہیں، یہاں مراد کمال خیر ہے۔ اور نیکی کا درجہ اعلی یا یہ کہا جائے گا کہ حقیقت خیر ابواب خیر کی جامعیت ہی مراد لی گئی ہے۔ البر الاحسان و کمال الخیر (روح) ای لن تبلغوا حقیقۃ البر (مدارک) قال ابو منصور البر خیر الدنیا والاخیرۃ (تاج) (آیت) ” تنفقوا “۔ یعنی اللہ اور اس کے دین کی راہ میں نہ خرچ کروگے، انفاق یہاں بہت وسیع معنی میں ہے اس میں خیر یا نیکی کے تمام ابواب آگئے۔ قیلھی سبل الخیر کلھا وھی الصحیح لعموم الایۃ (ابن عربی) قال الزجاج کل ماتقرب بہ الی اللہ من عمل خیر (بحر) قال الزجاج قال بعضہم کل ما تقرب بہ الی اللہ عزوجل من عمل خیر فھو انفاق (تاج) (آیت) ” مما تحبون “۔ محبوب چیز کے ماتحت ہر وہ چیز آجاتی ہے جسے انسان عزیز رکھتا ہے، مال، دولت، عزت، حکومت، قوت، وقت وغیرہ تنہا مال و دولت ہی مقصود نہیں، بعض اوقات جاہ قربانی مال کی قربانی سے کہیں زیادہ سخت و دشوار ہوتی ہے۔ ای من المال اومایعمہ وغیرہ کبذل الجاہ فی معاونۃ الناس والبدن فی طاعۃ اللہ۔۔۔ فی سبیلہ (بیضاوی) (آیت) ” مما “۔ میں من تبعیض کے لیے ہے۔ من فی مما تحبون للتبعیض (بحر)
،199 ۔ (اور وہ جزا بھی اسی کے مطابق دے گا) مطلب یہ ہے کہ نیک کام کے لیے جو کچھ بھی لگاؤ گے اس کا اجر تو بہرحال ملے گا۔ باقی خیر کامل کا جو درجہ اعلی ہے وہ تو اسی وقت حاصل ہوگا جب راہ حق میں اپنے محبوبات ومرغوبات کی قربانی پیش کرو۔ والحاصل انہ لا وصول الی المطلوب الا باخراج المحبوب (مدارک) (آیت) ” من شیء “۔ یعنی عام اس سے کہ وہ محبوب ہو یا نہ ہو۔ من یہاں تبیعین کے لیے ہے۔ من للتبیین ای من ای شیء کان۔ (مدارک) ای من ای شیء محبوب او غیرہ ومن لبیان ما (بیضاوی)
Ayah 3:93200 ۔ (اپنے اس دعوی میں کہ فلاں فلاں غذائیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے حرام چلی آتی ہیں) یہود کو تو روز ایک نیا فتنہ مسلمانوں کے خلاف اٹھانا تھا، آپ پر ایک الزام یہ ہوگیا، فلاں فلاں غذائیں تم جائز سمجھتے ہو اور اپنے کو دین ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع بھی کہے جاتے ہو، حالانکہ یہ چیزیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے حرام ہیں۔ (آیت) ” کل الطعام “۔ یعنی وہ غذائیں جن کے باب میں یہود سے بحث وگفتگو ہو رہی ہے، ساری دنیا کے کھانے مراد نہیں، ای مطعومات التی فیھا التزاع (مدارک) (آیت) ” حرم اسرآء یل علی نفسہ “۔ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے آپ نے بعض طبی ضرورتوں سے بعض جائز غذائیں بالکل ترک کردی تھیں، روایتوں میں آتا ہے کہ آپ کو مرض عرق النساء کی شکایت تھی، تو آپ نے اونٹ کے دودھ اور گوشت سے پرہیز شروع کردیا تھا، اور ظاہر ہے کہ اس طبی پرہیز کا حرمت شرعی سے کوئی تعلق نہیں۔ قیل فعل ذلک للتداوی باشارۃ الاطباء (بیضاوی) قیل اشارت علیہ الاطباء باجتنابہ ففعل ذلک باذن من اللہ فھو کتحریم اللہ ابتداء (کشاف) بعضے جاہل صوفیہ کا یہ سمجھنا کہ ترک حیوانات یا بعض دوسری غذاؤں کے ترک کو قرب الہی میں کوئی دخل ہے تمام تر نادانی ہے۔ عاملوں کی مشقیں اور ریاضتیں بالکل دوسری چیز ہیں ورنہ جو غذائیں انسان کی روحانی ترقی میں مانع ہیں وہ خود ہی حرام کردی گئی ہیں۔ کسی غذا کے حلال ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ اس راہ میں مانع نہیں۔ وفی ھذہ الایۃ دلالۃ علی بطلان قول الممتعین من اکل اللحوم والاطعمۃ اللذیذۃ تزھدا لان اللہ تعالیٰ قد نھی عن تحریمھا (جصاص) قل (یعنی ان یہود سے کہیے جو معترض ہورہے ہیں) (آیت) ” فاتوا بالتورۃ “۔ توریت میں تو آج تک یہ لکھا چلا آرہا ہے ‘۔ ” وہ سب جیتے چلتے جانور تمہارے کھانے کے لیے ہیں میں نے ان سب کو نباتات کی مانند تمہیں دیا ہے “ (پیدائش 9:3)
201 ۔ (اپنے حق میں) یعنی واضح اور صریح شہادتوں کے بعد بھی اپنے جھوٹ پر قائم رہیں اور یہ کہے جائیں کہ فلاں فلاں چیزیں خدا کی طرف سے حرام کی ہوئی ہیں۔ (آیت) ” من بعد ذلک “۔ یعنی اس واضح شہادت کے بعد ای من بعدما لزمتھم الحجۃ (بیضاوی) بعد ظھور الحجۃ (جلالین)
Ayah 3:94202 ۔ یعنی قرآن نے امر حق واضح کردیا ہے، اور تم نے جو جھوٹ اپنے ہی اکا بر اور اپنے مقدس نوشتوں کی بابت گڑھ رکھے تھے، ان کی قلعی کھول دی۔
Ayah 3:95203 ۔ (آیت) ” ابرھیم “۔ ملۃ ابراھیم، حنیف، سب پر حاشیہ پارۂ اول کے ختم کے قریب سورة بقرہ کے رکوع 15، 16 میں گزر چکے۔ (آیت) ” فاتبعوا ملۃ ابرھیم، یعنی انہی ابراہیم کے دین کی پیروی کرو جنہیں تم بھی اپنا مقتدی و پیشوا مانتے ہو۔
Ayah 3:96204 ۔ (دنیا میں بہ طور عبادت گاہ کے) مراد خانہ کعبہ ہے جس کی اولین تعمیر حضرت آدم (علیہ السلام) نے کی تھی اور اس کے منہدم ہوجانے کے بعد از سر نو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے۔ (آیت) ” وضع للناس “۔ یعنی لوگوں کی طاعت و عبادت کے لیے بنا۔ ای وضعہ اللہ موضعا للطاعات والخیرات والعبادات (کبیر) ای لعموم الناس لعبادتھم ونسکھم یطوفون بہ ویصلون بہ ویعتکفون عندہ (ابن کثیر) وضع للناس بعبداللہ فیہ (معالم) (آیت) ” اول بیت “۔ حدیث نبوی ﷺ اوراقوال تابعین سب میں اس اولیت اوراقدمیت کی تشریح ملتی ہے۔ ثبت فی صحیح مسلم عن ابی ذر قال سالت رسول اللہ ﷺ من اول مسجد وضع فی الارض قال المسجد الحرام (قرطبی) قال مجاھد خلق اللہ موضع ھذا البیت قبل ان یخلق شیء من الارض بالفی سنۃ (قرطبی (
205 ۔ (بہ طور قبلہ کے) کعبہ کو سب سے پہلے معبد بتا کر یہود کو یہ بھی جتلا دیا گیا کہ کعبہ تو بیت المقدس سے بھی قدیم تر ہے۔ بکۃ۔ مکہ ہی کا دوسرا نام ہے۔ عربی میں ایک قاعدہ ہے جس سے حرف م اور حرف ب میں اکثر تبادلہ ہوجاتا ہے، مثلا لازم اور لازب میں یاراتم اور راتب میں یا نمیط اور نبی ط میں۔ اسی قاعدہ کا عمل یہاں بھی ہوا۔ ھی علم لبلد الحرام ومکۃ وبکۃ لغتان فیہ (کشاف) بکۃ لغۃ فی مکۃ عند الکثرین (روح) قال مجاھد بکۃ ھی مکۃ۔ (قرطبی) من اسماء مکۃ علی المشھور (ابن کثیر) ایک قول یہ بھی ہے کہ مکہ نام ہے کل شہر کا اور بکہ کا اطلاق ہے مسجد حرام اور مطاف پر (آیت) ” بکۃ “۔ ھو موضع المسجد (ابن عباس ؓ بکۃ موضع البیت ومکۃ ماسوی ذلک (ابن جریر عن ابن مالک) بکۃ موضع البیت ومکۃ سائر البلد عن مالک بن انس (قرطبی) قال ابو مالک وابو صالح وابراھیم النخعی وعطیۃ العوفی ومقاتل بن حبان بکۃ موضع البیت ماسوی ذلک مکۃ (ابن کثیر) بائبل میں بھی ایک جگہ ذکر وادی مکہ کا تحریفات کے باوجود رہ گیا ہے ” وہ بکا کی وادی میں گزر کرتے ہوے ایک کنواں بتاتے “ (زبور 84:6) بائبل کے قدیم مترجمین نے اپنی تحریف کی عادت مستمرہ کے مطابق ترجموں میں اسے بجائے علم کے اسم نکرہ قرار دے کر اس کا ترجمہ رونے کی وادی کرڈالا صدیوں کے بعد اب غلطی کا احساس ہوا اور اب جیوش انسائیکلوپیڈیا میں اقرار ہے کہ یہ ایک مخصوص (بےآب) وادی کا نام ہے (جلد 2 صفحہ 4 15) اللہ ان کو اتنا سمجھنے کی توفیق اور دے دے کہ یہی ” بےآب وادی “ مکہ معظمہ ہے۔ (آیت) ” مبرکا “۔ یہ وہ مقام ہے جس میں مادی اور روحانی دنیوی اور دینی برکتیں جمع کردی گئی ہیں۔ (آیت) ” للذی “ میں لام تاکید کا ہے۔ واللام توکید (قرطبی) مکہ کی قدامت پر بادل ناخواستہ مسیحی مؤرخین کو بھی اب شہادت دینی پڑی (ملاحظہ ہوحواشی تفسیر انگریزی۔
Ayah 3:97206 ۔ تقدیر کلام یوں ہے منھا مقام ابراہیم والتقدیر منھا مقام ابراھیم قال الاخفش (قرطبی) (آیت) ” فیہ “۔ یعنی اس اول بیت میں (آیت) ”۔ ایت بینت “۔ کھلے ہوئے توحید الہی کے شعائر یا حج کے شعائر۔ والمراد بالایات شعائر الحج (کبیر) (آیت) ” مقام ابرھیم “۔ پر حاشیہ پارۂ اول کے آخر یعنی سورة بقرہ کے رکوع 16 میں گزر چکا۔ (آیت) ” بیت “۔ سے یہاں مراد خانہ کعبہ نہیں بلکہ سارا حرم شریف ہے۔ (آیت) ” مقام ابرھیم “۔ کے نام سے جو پتھر رکھا ہوا ہے وہ خانہ کعبہ کے اندر نہیں باہر ہی ہے۔ المراد بالبیت ھنا الحرم کلہ لان ھذہ الایات موجودۃ فی الحرم ومقام ابراھیم لیس فی البیت انما ھو خارج البیت (جصاص)
207 ۔ (شریعت الہی کی نظر میں) (آیت) ” امنا “۔ پر حاشیہ پارۂ اول کے آخر یعنی سورة بقرہ کے رکوع 16 میں گزر چکا۔
208 ۔ (بہ لحاظ زاد سفر وامن راہ وغیرہ) (آیت) ” استطاع الیہ سبیلا “۔ استطاعت سبیل سے مراد وہاں تک پہنچ جانے ذرائع واسباب ہیں۔ اسطاعۃ السبیل الیہھی امکان الوصول الیہ (جصاص) اسطاعۃ السبیل الی الشئی عبارۃ عن امکان الوصول الیہ (کبیر) (آیت) ” حج البیت “۔ حج وفرضیت حج پر حواشی پارۂ دوم کے وسط میں گزر چکے۔ (آیت) ” علی الناس “۔ میں علی شدت تاکید کے لیے ہے۔ ھی من اوکد الفاظ الوجوب عند العرب فاذا قال العربی لفلان علی کذا فقد وکدہ واوجبہ (قرطبی)
209 ۔ (سو وہ سیاہ بخت اپنا نقصان آپ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کو کیا نقصان پہنچا سکے گا) اللہ تعالیٰ کی صفت غنا کا اثبات ان مشرک قوموں کے رد میں ہے۔ جن کے دیوی دیوتاؤں کا وجود ان کے پچاریوں ہی کے دم سے قائم ہے۔ اور وہ دیوتا اپنے کھانے پینے تک کے لیے اپنے پجاریوں کے محتاج رہتے ہیں۔
Ayah 3:98210 ۔ اور اس حاظر وناظر، ہمہ بین۔ ہمہ دان حاکم کے آگے کوئی حیلہ۔ بہانہ نہ چل سکے گا) (آیت) ” اھل الکتب “ سے اشارہ خاص طور پر یہود کی جانب ہے جو مسلمانوں کو طرح طرح پر بہکاتے رہتے تھے۔ (آیت) ” تکفرون بایت اللہ “۔ آیات اللہ سے مراد خاص طور پر نبوت محمدی ﷺ کے شواہد و دلائل ہیں۔ اور کفر سے مراد نبوت محمدی ﷺ سے انکار ہے۔ المراد من ایات اللہ الایات اللتی نصھا اللہ تعالیٰ علی نبوۃ محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) والمراد بکفرھم بھا کفر ھم بدلال تھا علی نبوۃ محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) (کبیر) مشرکوں کو بار بار یہ جتلانے اور یاد دلانے کی ضرورت تھی کہ اللہ صرف موجود ہی نہیں بلکہ ذرہ ذرہ سے باخبر بھی ہے۔ مشرکوں کے دیوتاؤں کی طرح بیخبر ، ناقص العلم اور گم سم نہیں۔
Ayah 3:99211 ۔ (سو اس کی گرفت اور عذاب سے اپنے کو باہر نہ سمجھو) (آیت) ” تصدون عن سبیل اللہ “۔ یہود خود تو اسلام سے منکر تھے ہی اب ان کی جرأتیں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ طرح طرح کے مکروفن سے دوسروں کو بھی دین حق سے ہٹانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ (آیت) ” تبغونھا عوجا “۔ یہود مسلمانوں کے آپس میں طرح طرح کی مخفی فتنہ انگیزی اور مفسدہ پردازی کرتے رہتے تھے کہ اگر وہ کچھ نہیں بن پڑتا تو یہی ہو کہ یہ آپس میں مرکٹ کے تباہ ہوجائیں، چناچہ ایک مرتبہ ایک مجمع میں جہاں مدینہ کے دونوں مشہور اور جنگجو قبیلوں اوس اور خزرج کے مسلمان جمع تھے ایک یہودی شماس بن قیس نے ان کی عہد جاہلیت کی مشہور لڑائی جنگ بعاث کے پرجوش جنگ نامہ کے اشعار پڑھوادیئے۔ دلوں میں گزشہ عداوتوں کی یاد تازہ ہوگئی اور فریقین قدرۃ بھڑک اٹھے اور عین موقع پر اگر رسول اللہ ﷺ خود تشریف نہ لے آتے تو خانہ جنگی شروع ہی ہوچکی ہوتی۔ (آیت) ” تبغونھا “ میں ضمیر مؤنث غائب سبیل کی طرف ہے۔ الھاء فی تبغونھا عائدۃ الی السبیل (کبیر) (آیت) ” وانتم شھدآء “۔ یعنی تمہارا ضمیر خود گواہی دے رہا ہے کہ اسلام دین حق ہے۔
Ayah 3:100212 ۔ (عقیدہ نہ سہی عملا سہی۔ تو یہی عملی ارتداد بھی کیا کم ہے) (آیت) ” ان تطیعوا “۔ یعنی اگر اپنے عقائد و اعمال میں ان لوگوں سے متاثر ہونے لگو گے۔ (آیت) ” فریقا من الذین اوتوا الکتب “۔ یہ نام کے تو اہل کتاب ہیں لیکن تلے ہوئے ہیں عداوت اسلام پر۔
Ayah 3:101213 ۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے دین حق سے ارتداد کی گنجائش ہی کب ہے جبکہ تم میں قرآن اور سنت رسول اللہ ﷺ موجود و محفوظ ہے ؟ ذلک لان تلاوتہ ایات اللہ علیھم حالا بعد حال مع کون الرسول فیھم الذی یزیل کل شبھۃ ویقرر کل حجۃ کالما نع من وقوعھم فی الکفر (بحر) (آیت) ” کیف تکفرون “۔ میں کفر سے مراد اعمال کفر کی طرف باز گشت ہے اور کیف اظہار تعجب کے لیے ہے۔ قالہ تعالیٰ علی جھۃ التعجب (قرطبی) قیل المراد بکفر ھم فعلھم افعال الکفرۃ (روح) (آیت) ” ایت اللہ “۔ یعنی قرآن کی آیتیں اور قرآن کے درمیان موجود و محفوظ ہے۔ (آیت) ” وفیکم رسولہ “۔ یعنی سردست تو وہ بہ نفس نفیس تشریف فرما ہیں ہر شبہ مٹا سکتے اور راہ بتا سکتے ہیں باقی ان کے بعد ان کے سنن وآثار یہی کام دیں گے۔ قیل الخطاب بجمیع الامۃ لان اثارہ وسننہ فیھم وان لم یشاھدوہ (بحر)
214 ۔ یہ صراط مستقیم یا سیدھی راہ دنیا میں فلاح کامل کی ہے اور آخرت میں جنت کی۔ (آیت) ” فقد ھدی “۔ یعنی اللہ سے تمسک کرتے ہو، یہ راہ راست ضرور ہی مرتب ہو کر رہے گی ،
Ayah 3:102215 ۔ (ہماری طاقت اور استطاعت کے لحاظ سے) ورنہ حق تعالیٰ سے اس کے مرتبہ کے لائق خشیت بھلا کون بشر اختیار کرسکتا ہے۔ والمعنی حق تقتہ ما استطعتم (قرطبی)
216 ۔ یعنی جیو تو قانون تقوی الہی کے ماتحت اور مرو تو قانون ہو کر ہی گزرنا ہے۔
Ayah 3:103217 ۔ اس تعلیم کے ایک عملی پہلو کا اعتراف ایک غیر مسلم کی زبان سے :۔ ” اسلام نے ان قبیلوں کو متحد کردیا جو اس وقت تک برابر ایک دوسرے سے مصروف پیکار رہتے تھے “ (آرنلڈ کی پریچنگ آف اسلام صفحہ 2 1) حبل اللہ محاورۂ عربی میں حبل سے مراد عھد بھی ہوتا ہے اور مطلقا ہر وہ شے جو ذریعہ یا وسیلہ کا کام دے سکے۔ یستعار الحبل للعھد۔ (روح) واستعیر للوصل وبکل ما یتوصل بہ الی شیء (راغب) یہاں مراد شریعت اسلامی یا قرآن ہے۔ متعدد قول نقل ہوئے ہیں اور وہ سب متقارب ہیں۔ قال ابن مسعود حبل اللہ القران ورواہ علی وابو سعید الخدری عن النبی ﷺ و عن مجاھد وقتادۃ مثل ذلک (قرطبی) العھد اوالقران اوالدین او الطاعۃ او اخلاص التوبۃ او الجماعۃ او اخلاص التوحید او الاسلام اقوال السلف یقرب بعضھا من بعض (بحر) (آیت) ” جمیعا “۔ یعنی امت مجموعا بھی اور افراد امت بھی۔
218 ۔ (اور سب کو رشتہ اسلام میں متحد ومنسلک کردیا) (آیت) ” نعمت اللہ “۔ اس انعام کے تحت میں علاوہ فلاح اخروی کے اتحاد قومی کی فلاح دنیوی بھی شامل ہے۔ اتحاد امت بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ (آیت) ” اذ کنتم اعدآء “۔ ظہور اسلام سے قبل یعنی زمانہ جاہلیت مکہ۔ عرب قبائل کی باہمی دشمنی اور جنگجوئی ضرب المثل کی حد تک پہنچی ہوئی تھی۔ بات بات میں چھڑ جاتی تھی جو لڑائیاں تاریخی روایات میں محفوظ رہ گئی ہیں ان کی تعداد 1700 ہوتی ہے۔
219 ۔ (دین اسلام اور شریعت اسلامی مرحمت کرکے) دنیا میں یوں ایک انقلاب عظیم بر پا کردینا اسلام کا معجزہ ہی تھا۔ اس کا اعتراف آج فرنگی محققین بھی کر رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” فاصبحتم بنعمتہ اخوانا “۔ جس طرح عرب قبل اسلام کی عداوت حد ضرب المثل تک پہنچی ہوئی تھی اسی طرح بعد اسلام عرب کی آپس کی محبت، یگانگت، اخلاص بھی بےنظیر رہا۔ جہاں مکی مکی کا اور مدنی مدنی کا دشمن تھا۔ وہاں اسلام نے مکہ کے مہاجرین اور مدینہ کے انصار کو ایسا شیروشکر کرا دیا کہ دونوں واقعی آپس میں بھائی بھائی معلوم ہونے لگے برٹانیکا اور گبن دونوں کے صفحات میں اس کا اعتراف موجود ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” علی شفا حفرۃ من النار۔ ذکر زمانہ قبل اسلام کا ہے کہ اس وقت عقائد و اعمال مشرکانہ کی بنا پر اہل عرب دوزخ کے کنارہ تک پہنچ ہی چکے تھے۔
ترجمہ : اور ضرور کہ تم میں ایک ایسی جماعت رہے جو نیکی کی طرف بلایا کرے اور بھلائی کا حکم دیا کرے اور بدی سے روکا کرے اور پورے کامیاب یہی تو ہیں،
Ayah 3:104220 ۔ کسی درجہ میں اور ایک چھوٹے پیمانہ پر تو یہ فرض ہر فرد امت کا ہے۔ لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ ایک مستقل جماعت خاص اسی کام کے لیے ہو۔ اس کا کام ہی یہی ہو کہ خلق کو دعوت خیر دے۔ معروف (بھلے کاموں) کی طرف بلائے منگر (برے کاموں) سے روکے۔ (آیت) ” امۃ “۔ یہ بھی کمال رحمت اور ضعف بشری کی انتہائی رعایت ہے کہ ساری امت کے بجائے اس فریضہ پر ایک مخصوص جماعت ہی کو مامور کیا گیا، ورنہ اس فریضہ کی ادائی کے لیے جن اوصاف اور شرائط کی ضرورت ہے کیا عجب کہ بہتوں کو وہ سخت دشوار معلوم ہوتے۔
Ayah 3:105221 ۔ (توحید، رسالت، وحی، جزاوسزا وغیرہ اصولی وبنیادی عقائد کے باب میں) (آیت) ” کالذین “۔ مراد سابق اہل کتاب، یہود ونصاری ہیں۔ یعنی الیھود والنصاری فی قول جمھور المفسرین (قرطبی) (آیت) ” تفرقوا واختلفوا “۔ یعنی از راہ نفسانیت وشرارت وحدت دینی کو پارہ پارہ کردیا اور اپنے الگ الگ مذہب گڑھ لیے۔ مسائل وجزئیات احکام میں اختلاف جو اخلاص نیت کے ساتھ اجتہاد کی بنا پر ہو، وہ اسلام میں ہرگز ممنوع نہیں، بلکہ وہ تو امت کے حق میں عین رحمت ہے، اختلاف مذاق وطبیعت کی بنا پر کسی مسلک میں آسانی معلوم ہوتی ہے اور کسی کو کسی میں (آیت) ” البینت “۔ اس کے تحت میں احکام، دلائل، معجزات سب آگئے۔
Ayah 3:106222 ۔ یہ خطاب اہل دوزخ سے تو بہر حال ہوگا، گفتگو اس میں ہوئی ہے کہ ان سب سے ہوگا یا ان کے صرف بعض گروہوں سے ؟ ایک قول یہ ہے کہ ان سب سے ہوگا اور ایمان سے یہاں مراد اظہار ایمان ہے۔ ھم المنافقون (ابن جریر، عن الحسن) ایک قول ہے کہ مخاطب اہل کتاب ہیں اور حجت ان پر قائم کی جائے گی کہ تمہاری کتابوں میں نبی آخر الزمان ﷺ کا ذکر پوری طرح موجود اور پھر تم مکر گئے۔ المراد اھل الکتب (کبیر عن عکرمہ والاصم والزجاج) بعض اہل نظر نے ترجیح اسی قول کو دی ہے۔ والظاھر من السیاق والسباق ان ھولآء اھل الکتاب (روح) ابن جریر نے بعض تابعین سے استناد کرکے یہ شق اختیار کی ہے کہ خطاب سارے کافروں کے لیے عام ہے اور جس ایمان کا یہاں ذکر ہے وہ اظہار ایمان عالم ارواح میں عہد الست کے وقت کا ہے۔ ھو الایمان الذی کان قبل الاختلاف فی زمان ادم (ابن جریر، عن ابی بن کعب) عنی بذلک جمیع اھل الکتاب (ابن جریر) (آیت) ” تبیض وجوہ “۔ یوم حشر تو کشف حقائق کا وقت ہوگا، ضرور ہے کہ اہل حق کے چہرے اس دن انوار حق سے چمکتے جگمگاتے نظرآئیں۔ (آیت) ” تسودوجوہ “۔ کشف حقائق کے وقت یہ بالکل قدرتی ہے کہ اندر کی سیاہیاں اور باطن کی کدورتیں نکل نکل کر اہل باطل کے چہروں پرچھا چھا جائیں۔ عربی محاورہ میں ابیضاض وجہ اور اسوداد وجہ سے مراد محض مسرت، غم بھی ہوسکتی ہے۔
Ayah 3:107223 ۔ اور اسی محل رضا ومحل رحمت کا نام جنت ہے، جنت کی ایک ایک نعمت کو قرآن مجید نے محل ترغیب میں ذکر کیا ہے۔ وہ رضائے الہی سے الگ کوئی چیز نہیں، جیسا کہ جاہل صوفیہ اور گستاح شاعروں کے کلام سے مترشح ہوتا ہے۔
Ayah 3:108224 ۔ (اس لیے اس کے فیصلے ہمیشہ عادلانہ اور حکیمانہ ہوتے ہیں) اسلام کا خدا تمامتر رحیم ہے۔ عادل ہے۔ شفیق ہے۔ مشرک قوموں کے دیوی دیوتاؤں کی طرح ظالم وخونخوار نہیں ہے۔ قرآن مجید کو بار بار خداوند تعالیٰ کی تنزیہ کا اثبات ان صفات ذمیمہ سے کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ اور تو اور توریت تک کے خدا میں صفات قہری کہیں زیادہ زور وقوت کے ساتھ جلوہ گر نظر آرہے ہیں۔ (آیت) ” بالحق “۔ یعنی بالکل صحیح۔ جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ ای بالصدق (قرطبی)
Ayah 3:109225 ۔ (اور کوئی دیوی دیوتا نہ اس مرجعیت امور میں اس کا شریک وسہیم ہے نہ آسمان و زمین کے کسی جزء کی ملک و تصرف میں) جاہلی قوموں کی ان گمراہیوں کا ذکر پچھلے حاشیوں میں بار بار آچکا ہے۔ (آیت) ” ترجع الامور “۔ میں تاکید اس امر کی ہے کہ آخری فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ناطق ہوگا، کسی کو بھی اس میں دخل دینے کی مجال نہیں۔
Ayah 3:110226 ۔ یعنی تم اس لیے بنائے گئے ہو کہ لوگ تمہارے نقش قدم پر چلیں۔ تم ساری دنیا کے لیے ایک نمونہ بنا کر بھیجے گئے ہو، خطاب امت محمدی ﷺ اور ملت اسلامی سے ہے۔ (آیت) ” کنتم “۔ کان یہاں یا تو زائد ہے یا تامہ استعمال ہوا ہے اور اگر ناقصہ ہے جب بھی مراد دوام نسبت ہے۔ قیل ھو کان التامۃ المعنی خلقتم ووجدتم خیر امۃ وقیل کان زائدۃ المعنی انتم خیر امۃ (قرطبی) لایراد ھھنا الدلالۃ علی معنی الزائد و انقطاع النسبۃ بل المراد دوام النسبۃ (بحر)
227 ۔ (پورا پورا جیسا کہ حق ہے ایمان باللہ کا) آیت کے اس جزء میں امت اسلامی کی اعتقادی، اخلاقی اور عملی زندگی کے کامل ومکمل ہونے کا پورا فوٹو آگیا۔ مطلب یہ ہوا کہ اے مسلمانو ! تم اپنی ذمہ داری پوری طرح محسوس کرو تم توحید کے امانت دار ہو، زمین پر اللہ کے نائب وخلیفہ ہو۔ بہ طور اس کی پولیس کے ہو۔ الہی قانون کے نفاذ و تحفظ کے لیے، دنیا کے نظام عدل کو برقرار رکھنے کے لیے بھیجے گئے ہو۔ تمہاری زندگی کا مشن ہی یہ ہے کہ حکومت الہیہ کو چلاؤ، نظام حق کے ایک ایک کل پرزہ کو درست رکھو اور نظام باطل کا زور چلنے ہی نہ دو ۔ ظلم ہوتا اگر اس ذمہ دار فعال (اگزیکٹو) جماعت کو جدال و قتال کی آزادی نہ ملتی ! بلااجازت جہاد، بلااجازت اجراء حدود وتعزیرات اس قوم پر ذمہ داریاں ڈال دینے کے معنی یہ ہوتے کہ ہاتھ پیرباندھ کر حکم دریا میں تیرنے کا دیا جارہا ہے۔ کیا تماشہ ہے کہ انگریز ہندوستان میں ستی کی رسم کو جرم قرار دے دیں تو وہ ملک کے محسن، ہندوؤں میں بچپن کی شادیوں کے دستور کو روک دیں تو ان کا شکریہ واجب۔ لیکن اللہ کے سپاہی اور مالک الملک کے پیارے اگر یہ حق حاصل کرنا چاہیں کہ قانون الہی سے بغاوت کرنے والوں اور امن عالم کو غارت کرکے رکھ دینے والوں کی داروگیر کریں تو ” روشن خیالی “ کے جبین تحمل پر شکن آجائے اور ” تہذیب “ کا پروپیگنڈسٹ اسے رواداری کے خلاف قرار دینے لگے (آیت) ” تنھون عن المنکر “۔ منکر کے تحت میں آج کے شراب خانہ اور تھیڑ، سینما اور کنسرٹ ہال، ناچ گھر اور میوزک کالج، اسکول آف آرٹ اور تصویر خانے سب آجاتے ہیں، آیت سے ظاہر ہے کہ اس امت کی خیریت وافضیلت اسی وقت تک ہے جب تک وہ ان صفات کی حامل ہے۔ یعنی ایمان باللہ میں مضبوط ہے، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (ایجابی وسلبی دونوں قسم کی اخلاقی خوبیوں) پر قائم ہے۔
228 ۔ (حالا بھی اور قالا بھی۔ فی الفور بھی اور بہ لحاظ انجام کار بھی) یہ ایمان لے آنا تو ان اہل کتاب کا فرض ہی تھا اور عملی مثال مسلمانوں کی دیکھ بھی رہے تھے۔
229 ۔ (آیت) ” فاسق “۔ یہاں کافر کے معنی میں ہے۔ یعنی حد عبودیت سے باہر نکل جانے والے۔ کامل فی فسقہ متمرد فی کفرہ (بحر) عبرعن الکفر بالفسق (روح) ای الکافرون (معالم) الضلالۃ الکفر الفسق العصیان (ابن کثیر) (آیت) ” منھم ال مومن ون “۔ اس گروہ میں عبداللہ ؓ بن سلام یہودی کی طرح دوسرے اہل کتاب بھی داخل ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ ہی میں ایمان لے آئے تھے۔
Ayah 3:111230 ۔ اشارہ ہے یہود کی طرف، جن کا خاص مدینہ اور حوالی مدینہ میں بڑا زور و غلبہ تھا۔ آپ ﷺ نے وقوع سے بہت قبل پیشگوئی کردی کہ یہود اپنے بڑے مضبوط قلعوں کے باوجود، بڑے بڑے خزانوں کے مالک ہونے کے باوجود مسلمان کو ہرگز کوئی قابل ذکر نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ (آیت) ” اذی “۔ ضرر کے مقابلہ میں بہت ہلکی اور چھوٹی چیز ہے۔ ای ضررا یسیرا کطعن وتھدید (بیضاوی) الاذی بمعنی الضرر الیسیر (روح)
231 ۔ یعنی اگر وہ اتنی ہمت کر ہی جائیں کہ تم سے مقابلہ ومقاتلہ کو آئیں تو ہرگز غلبہ نہ پاسکیں گے بلکہ الٹی شکست کھاکر بھاگیں گے۔ یہ ایک پیشگوئی نہیں۔ مجموعہ ہے کئی پیشگوئیوں کا۔ اور سب کی سب ظاہری قرائن وقیاسات کے خلاف پوری طرح پیشگوئیاں صحیح نکلیں۔ بنوقریظہ، بنو نضیر، بنوقینقع، یہود خیبر سب کے باب میں اس جزم کے ساتھ بجز خدائے علیم وخبیر کے اور کون جرأت بھی ایسی پیشینگوئیوں کی کرسکتا تھا۔
232 ۔ ایک اور پیشگوئی۔ وضاحت کے ساتھ یہ بھی بتادیا گیا کہ خود مظفر ومنصور ہونا الگ رہا، عرب کے جن مشرک قبیلوں کی حمایت کا غرہ ان یہود کو ہے۔ ان میں سے کوئی ان کی مدد کو بھی تو نہ آئے گا اور نہ مدینہ کے منافقین ہی ان کے کام آسکیں گے۔
Ayah 3:112233 ۔ بنی اسرائیل کی مغضوبیت اور پستی وذلت پر حاشیہ پارۂ اول کے رکوع 6 کے ذیل میں مفصل گزر چکے۔ (آیت) ” ضربت علیھم الذلۃ “۔ یعنی ان کی جانوں، ان کے مالوں، ان کی عزتوں سب کی بےوقعتی اور ناقدری خلق اللہ کے دل میں پیدا ہوگئی ہے۔ (آیت) ” این ماثقفوا “۔ ابھی دو ہی چار سال ادھر یہود کی جو گت جرمنی میں ہنگری میں، اٹلی میں زیکوسلاویکا میں اور دوسرے ملکوں میں باوجود ان کی اس خوش حالی وامارت کے بن چکی ہے وہ آیت کی بہترین تفسیر ہے۔ (آیت) ” حبل من اللہ “۔ سے ان کی ایسی آبادی مراد ہوسکتی ہے جسے خود شریعت الہی نے قتل، ہلاکت اور تعزیری وانتقامی کاررروائیوں سے مستثنی رکھا ہے مثلا ان کے بچہ، ان کی عورتیں، ان کے گوشہ نشین زاہد، درویش وغیرہ۔ (آیت) ” حبل من الناس “۔ سے مراد ان کی وہ جماعتیں ہوسکتی ہیں جو معاہدوں کے ذریعہ سے امن حاصل کرلیتی ہیں۔ (آیت) ’ ’ حبل “ کے معنی پہلے ہی بیان ہوچکے ہیں۔ مراد عہد وذمہ سے ہے۔ الحبل العھد والذمۃ والامان (لسان) (آیت) ” وحبل “۔ میں وعطف کے لیے نہیں بلکہ او کے معنی میں ہے۔
234 ۔ یعنی حدود عبدیت وطاعت سے۔ یہود کی مسلسل سرکشی اور نافرمانی کی داستان سے عہد عتیق، عہد جدید اور خود یہود کی لکھی ہوئی تاریخیں سب بھری پڑی ہیں۔ (آیت) ” کانوا یکفرون۔ وکانوا یعتدون “۔ دونوں موقعوں پر فعل کے ساتھ (آیت) ” کانوا “۔ لانے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کوئی استثنائی یا اتفاقی واقعہ ان کی زندگی میں نہ تھا، بلکہ کفر وعدوان انکی قومی خصلت بن گئے تھے، ان کی سرشت کے جزء بن گئے تھے (آیت) ” عصوا “۔ نافرمانی ان لوگوں نے اپنے رسولوں ہی کی نہیں کی بلکہ آخر میں خاتم رسل کی بھی کی (آیت) ” بغیر حق “۔ یعنی انبیاء کو خود اپنے معیار عدل و قانون کے بھی خلاف ہی قتل کرتے تھے۔ مسکنت، قتل انبیاء، کفر بآیات اللہ وغیرہ پر مفصل حاشیہ پارۂ اول رکوع 6 کے ذیل میں گزر چکے۔
Ayah 3:113235 ۔ (اپنی حق ناشناسی اور اسلام سے متعلق اپنے طرز عمل کے لحاظ سے) لیس اھل الکتاب مسویا (بحر) والضمیر الاھل الکتاب (بیضاوی) اوپر جو کچھ ذکر ہوا۔ اہل کتاب کی یہ اکثریت کا تھا، باقی ان میں سے بعض بعض حق شناس، انصاف دوست بھی تھے اور وہ بالآخر مشرف بہ اسلام ہو کر رہے۔
236 ۔ یعنی نماز پڑھتے رہتے ہیں۔ والمراد ھم یصلون (روح) یصلون عن الفراء والزجاج (قرطبی) نماز شب کے فضائل آیت سے ظاہر ہیں۔ (آیت) ” امۃ قآئمۃ “۔ یہ وہ جماعت تھی جو دین حق پر قائم وثابت رہی۔ ای المستقیمۃ العادلۃ (بیضاوی) انھا ثابتۃ علی التمسک بالدین الحق ملازمۃ لہ (کبیر) (آیت) ” ایت اللہ “۔ یعنی قرآن کی آیات۔ والمراد یقرء ون القران (روح) مفسرین نے یہاں عبداللہ بن سلام، ثعلبہ بن سعید اسید بن سعیہ، اسد ؓ بن عبید وغیرہم کے نام درج کئے ہیں جو یہودیت سے ایمان لائے تھے۔
Ayah 3:114237 ۔ قرآن مجید جنہیں صالح قرار دیتا ہے۔ ان کے اوصاف و خصوصیات یہاں کس جامعیت و ایجاز کے ساتھ ارشاد کردیئے گئے ہیں۔ پہلی بات یہ بتائی کہ وہ ایمان میں کامل ہوں گے، جو کچھ بھی خرچ کریں گے، مقصد صحیح کے ساتھ اور راہ حق میں کریں گے، دوسری بات یہ ارشاد ہوئی کہ وہ لوگ نہ صرف خود ہی ایجابی وسلبی ہر حیثیت سے اخلاق اور پاکیزہ کرداری کے پتلے ہوں گے بلکہ دوسروں کو بھی اسی راہ پر لائیں گے اور لگائیں گے اور نیکیوں کی طرف دلی شوق ورغبت کے ساتھ بڑھیں گے۔ (آیت) ” یسارعون فی الخیرت “۔ یعنی نیکیوں کی طرف بےدلی اور بدشوقی کے ساتھ گویا ہار اور تھک کر نہیں، بلکہ بڑے شوق واشتیاق، چاؤ اور رغبت کے ساتھ لپکیں گے۔ المسارعۃ فی الخیر ناشءۃ عن فرط الرغبۃ (بحر) (آیت) ” من الصلحین “ کے معنی (آیت) ” مع الصلحیں “۔ کے بھی کیے گئے ہیں (قرطبی)
Ayah 3:115238 ۔ (اور چونکہ یہ پرہیزگار ہیں، اس لیے انہیں بھی خوب جانتا ہے) یہ خیال نہ گزرے کہ کوئی متقی اللہ تعالیٰ کے علم میں آجانے سے رہ جائے گا۔ غیر قوموں کے عقائد کی تردید کے لیے اس جزء کا اضافہ ضروری تھا۔ (آیت) ” فلن یکفروہ “۔ یعنی کہیں نہ سمجھ لینا کہ جب ماضی خراب رہ چکا ہے تو اب نجات ومغفرت کی امید ہی کیا اور اب ایمان وحسن عمل سے حاصل کیا ؟ غیر مذہب والوں نے ایسے ہی عقائد گڑھ رکھے تھے۔ اس لیے تنبیہ ضروری تھی ، (آیت) ” یکفروہ “ میں ضمیر عمل خیر کے اجر وثواب کی جانب ہے۔ ای لن تجحدوا ثوابہ (قرطبی) ای لن تمنعوا ثوابہ وجزاۂ (کبیر)
Ayah 3:116239 ۔ (آیت) ” اولٓئک “۔ سے مراد ایمان سے محروم کفار ہیں۔ اور چونکہ اس لفظ سے حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے، اہل سنت نے اس آیت سے معتزلہ کے خلاف استدلال کرکے کہا کہ خلود نار کی سزا صرف کافروں کے لیے ہے، گنہگار مومنین کے لیے نہیں، ولما افادت ھذہ الکلمۃ معنی الحصرثبت ان الخلود فی النار لیس الاللکافر (کبیر) (آیت) ” لن تغنی عنھم اموالھم “۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ مال کو بہ طور کفارہ یا توبہ پیش کرکے نجات حاصل کرلی جائے۔ یہود کے جو غلط سلط عقیدے اس باب میں ہوچکے تھے، ان کا ذکر پارۂ اول کے حاشیوں میں آچکا ہے۔ (آیت) ” ولا اولادھم “۔ ہندوؤں اور جینیوں میں یہ گمراہی خاص طور پر بڑھی ہوئی ہے۔ اولاد نرینہ کی اہمیت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ لڑکا ہی مرے ہوئے باپ کو پانی دے دے کر عذاب سے چھڑا لیتا ہے۔ منوجی کا یہ قول کتابوں میں نظر سے گزرا ہے کہ بیٹے کو سنسکرت میں ” پتر “ کہتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ باپ کو ” پت “ (دوزخ) سے چھڑا لاتا ہے۔
Ayah 3:117240 ۔ آسان اور عام فہم مثال میں ان لوگوں کے مال کے ضائع جانے کو بیان کیا ہے جو ایمان سے محرومی کی حالت میں اس دنیا کے حصول کے لیے، ریاوناموری کے لیے اپنی دولت خرچ کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” کمثل “۔ مثال ضائع جانے اور عبث ہونے میں ہے۔ (آیت) ” صر “۔ سخت ٹھنڈی چیز کو کہتے ہیں جیسے پالا یا برف، قال ابن عباس الصر البرد الشدید (قرطبی) قال اکثر المفسرین واھل اللغۃ الصر البرد الشدید۔ قال ابن زید (کبیر) (آیت) ” ظلموا انفسھم “۔ اپنے ہاتھوں اپنی جان پر ظلم کیا، یعنی کفر اور بےدینی کر کرکے۔ (آیت) ” ما ظلمھم اللہ “۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا کہ ان کے صرف مال کو خواہ مخواہ لا حاصل اور ضائع کردیا۔ (آیت) ” ولکن انفسھم یظلمون “۔ وہ خود ہی تو اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں کہ مال کو بےمحل اور خلاف اذن الہی خرچ کررہے ہیں۔
Ayah 3:118241 ۔ (ایسا کہ اس سے اپنی ذاتی اور ملی راز کہہ ڈالو) (آیت) ” من دونکم “۔ یعنی بجز اپنی ملت والوں کے (آیت) ” بطانۃ “۔ کہتے ہیں راز دار دوست کو۔ ای مختصابکم یستبطن امورکم (راغب) بطانۃ الرجل خاصتہ الذین یستنبطون امرہ (قرطبی) قانون اسلام کے منکروں اور باغیوں سے تعلقات ایک خاص حد سے آگے بڑھانے کی اجازت کسی مسلم کو یا اسلامی اسٹیٹ کی رعایا کو نہیں کہ اس سے فرد اور ملت دونوں کو ضرر کے اندیشہ اور خطرے کھلے ہوئے ہیں، اور اس صریحی، معقول، مناسب اور ضروری انتظام کا نام بعض عقل کے دشمنوں نے ” تنگ نظری “ رکھا ہے۔ سبحان اللہ ! امراض وبائی میں پرہیز و احتیاط کا نام تو فخر کے ساتھ ” اصول حفظان صحت “ رکھا جائے، اور جو انتظام کفر و طغیان یعنی دنیا وآخرت دونوں کی بربادی سے بچنے کے لیے کیا جائے اس کا نام ” تنگ نظری “ پڑجائے۔ عقل دشمنی کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔ فقہاء مدینہ بلکہ فقہاء حجاز نے عموما آیت سے استنباط کیا ہے کہ دشمن کی شہادت دشمن کے حق میں معتبر نہیں۔ لیکن امام ابوحنفیہ (رح) کے مذہب میں جائز ہے۔ وفی ھذہ الایۃ دلیل علی ان شھادۃ العدو علی عدوہ لاتجوز وبذلک قال اھل المدینۃ والحجاز وروی عن ابی حنیفۃ جواز ذلک (قرطبی) افسوس ہے کہ مسلمانوں نے آیت کے حکم پر عمل میں سستی اور مداہنت شروع ہی سے برتنی شروع کردی اور ابھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کو چندصدیاں بھی نہیں ہونے پائی تھیں کہ سلطنت کے کاروبار میں کھلم مسیحیوں، مسجوسیوں وغیرہ کو شریک کیا جانے لگا، امام قرطبی (رح) کا زمانہ پانچویں صدی ہجری کا ہے۔ حسرت، قلق اور درد کے لہجہ میں لکھتے ہیں۔ ” وقد انقلبت الاحوال فی ھذہ الازمان باتخاذ اھل الکتاب کتبۃ وامناء وتسودوا بذلک عند الجھلۃ الاغنیاء من الولاۃ والامراء یہ حال جب اس زمانہ کا تھا تو آج چودھویں صدی ہجری میں جبکہ زندگی کے ہر شعبہ میں کافروں کا غلبہ اور تسلط مسلمانون پر نمایاں ہے۔ صورتحال پر اظہار خیال کن لفظوں میں کیا جائے ! فقہاء مفسرین نے آیت کے ذیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ کافروں سے تشبہ تک جب جائز نہیں تو ان کے ساتھ مصاحبت تو بدرجہ اولی ممنوع ہوگی۔ لا خلاف بین علماء نا ان المراد بہ النھی عن مصاحبۃ الکفار من اھل الکتاب حتی نھی عن التشبہ بھم (ابن عربی)
242 ۔ یعنی ان کی مخفی عداوت کا درجہ تو اس سے بھی کہیں بڑھا ہوا ہے (آیت) ” ودوا ماعنتم “۔ فقرہ کافرانہ ذہنیت کا پورا ترجمان ہے۔ اس کے اندر گہری تعلیم اس بات کی آگئی کہ کوئی غیر مسلم کسی حال میں مسلموں کا حقیقی دوست اور ہوا خواہ ہو نہیں سکتا۔ (آیت) ” بدت البغضآء من افواھھم “ شدت عداوت میں غیر اختیاری طور پر زبان سے بھی ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں۔ اشارہ زیادہ تر یہود مدینہ کی جانب ہے۔ یہ لوگ اب اپنا بغض اسلام مسلمانوں سے چھپا بھی نہیں رکھ سکتے تھے اور بےاختیار ان کی زبانوں سے ظاہر ہو ہی جاتا تھا۔
243 ۔ آیت کے معنی دو طرح پر کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کافروں کے بعض وعداوت کے آثار و علامات تم پر روشن ہوگئے ہیں، جن سے تم انہیں فورا پہچان سکتے ہو، ثم بین اللہ تعالیٰ ان اظھار ھذہ الاسرار للمومنین من۔۔۔ علیھم (کبیر) دوسرے معنی یہ کہ تمہارے لیے ان سے ترک موالات کی آیتیں کھول کر بیان کی جاچکی ہیں۔ ای اظھرنا لکم الایات الدالۃ علی النھی عن موالاۃ اعداء اللہ تعالیٰ ورسولہ (روح) الدالۃ علی موالاۃ ال مومنین ومعاداۃ الکافرین (بیضاوی)
Ayah 3:119244 ۔ یعنی ساری کتب الہی پر الکتب۔ بہ طور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔ والکتاب اسم جنس قالہ ابن عباس (قرطبی) بجنس الکتاب کلہ (بیضاوی) (آیت) ” تحبونھم “۔ یہ مسلمانوں کی سادہ دلی اور نیک طبعی کا ذکر ہے۔ (آیت) ” ولا یحبونکم “۔ یہ محبت تو تم سے کیا رکھتے۔ الٹے عداوت رکھتے ہیں، اور تمہاری کتاب الہی کے منکر ہیں، مطلب یہ ہوا کہ تم تو ان کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور وہ پھر بھی تم سے کسی درجہ میں علاقہ محبت نہیں رکھتے۔
245 ۔ (آیت) ” عضوا علیکم الانامل من الغیظ “۔ غصہ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کھانا عربی محاورہ میں کنایہ شدید جھنجھلاہٹ سے ہے، جیسے اردو میں اپنی بوٹیاں نوچنا ” بوٹیاں چبانا “” دنت پیسنا “ وغیرہ۔ ذکر منافقین مدینہ کا ہے۔ یعنی المنافقین (قرطبی)
246 ۔ (چنانچہ اس نے تمہارے دلوں کے اندر کے کینہ اور عداوت کو کھول کر بیان کردیا ہے) (آیت) ” موتوا بغیظکم “۔ یعنی شدت ناکامی ونامرادی میں مررہو، اس لیے کہ جو تمہاری تمنا ہے یعنی اسلام کی مغلوبیت، ہزیمت وہ پوری ہونے کی نہیں۔
Ayah 3:120247 ۔ منافقوں کی خباثت نفس اور کینہ پروری کا بیان ہے کہ مسلمانوں کی تکلیف سے خوش ہوتے ہیں۔ اور ان کی خوشی اور خوشحالی سے رنجیدہ۔ (آیت) ” حسنۃ “ مسلمانوں کی اندرونی تنظیم یا کافروں پر ان کی فتح و غلبہ (آیت) ” سیءۃ “۔ مثلا کوئی ہنگامی شکست۔
248 ۔ (اللہ ان کی سزا پر ہر طرح قادر ہے) (آیت) ” وان تصبروا “۔ منافقین کے کید ومکر اور شدید مخالفین کے عناد ومخالفت کے نتائج سے محفوظ رہنے کا کتنا آسان اور سہل الحصول نسخہ یہاں مسلمانوں کو بتادیا گیا ہے۔ تم اپنے کام سے کام رکھو، اپنی اصلاح میں لگے رہو۔ استقامت علی الحق کا دامن ہاتھ سے نہ دو ۔ کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ (آیت) ” وان تصبروا وتتقوا “۔ صبر وتقوی، ان دو مختصر سے عنوانات کے اندر ساری تنظیمی جدوجہد ومشغولیت کس ایجاز و جامعیت کے ساتھ آگئی۔ آیت میں اس کی تعلیم بھی آگئی کہ دشمن سے محفوظ رہنے کے لیے بہترین حربہ صبر وتقوی کا ہے۔ ھذا تعلیم من اللہ و ارشاد الی ان یستعان علی کید العدو بالصبر والتقوی (مدارک)