3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 3:31

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو،80 ۔ تو میری پیروی کرو،81 ۔ اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا،82 ۔ اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے،83 ۔

80 ۔ (جیسا کہ تمہارا دعوی ہے۔ اور اپنے اسی زعم کی بنا پر جو توقع رکھتے ہو، کہ اللہ بھی تم سے محبت کرے گا) خطاب رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے عامۃ الناس سے ہے۔ (آیت) ”۔ تحبون “۔ محبت کے جو معنی عربی میں ہیں اس میں ارادہ کا شمول ضروری ہے۔ قال ابن عرفۃ المحبۃ عند العرب ارادۃ الشئی علی قصدلہ (قرطبی) 81 ۔ (کہ میں جامع کمالات انسانی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میری زندگی ساری کائنات انسانی کے لئے ہر شعبہ میں معیار اور نمونہ کا کام دے گی) محبت الہی کے دعوی کی جانچ کے لیے کیا اچھا معیار بتادیا گیا۔ یعنی اتباع رسول اللہ ﷺ جو جتنا زیادہ متبع رسول اللہ ﷺ ہوگا اسی قدر اس کی محبت الہی مسلم ومعتبر ہوگی، اسی معیار پر آج بڑے بڑے مدعیان مشیخت ومدعیان محبت الہی کے دعو وں کو جانچئے توبہتوں کی قلعی کھل کر رہے۔ 82 ۔ (کہ اس کے آگے اور کوئی درجہ کمال نہیں) یہ طریقہ جو پچھلوں کو بتایا گیا، یہی آواز اگلوں کے کان میں ڈال دی گئی ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے جو الفاظ اناجیل مروجہ میں نقل ہوئے ہیں۔ حسب ذیل ہیں :۔ ” اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ آیا ہے “۔ (یوحنا 14: 15، 16) یہ مددگار کا لفظ اردو انجیلوں کے متن میں ہے۔ حاشیہ پر وکیل اور شفیع دونوں لفظ درج ہیں گویا اصل یونانی لفظ کے یہ سب معنی ہوسکتے ہیں۔ انگریزی انجیل میں لفظ ” کمفارٹر “ (Comforter) آیا ہے جس کے معنی تسلی دہندہ کے ہیں، اس پیشگوئی کرنے والے مسیح (علیہ السلام) کے پانچ صدی بعد آیا۔ اور ایک ابدی اور غیر منسوخ شریعت لے کر ابد تک ساتھ رہنے ہی کے لیے آیا۔ اور اسی حیثیت کو نمایاں کرنے کے لیے خاتم النبیین کہلایا۔ پر صلیب کے پرستاروں اور مسیح (علیہ السلام) کی عبادت کرنے والوں نے اسے برابر جھٹلایا۔ (آیت) ” یحببکم اللہ “۔ اللہ کی محبت بندہ کے ساتھ یہی ہے کہ اسے مغفرت سے سرفراز فرمائے۔ محبۃ اللہ للعباد انعامہ علیہ بالغفران (قرطبی) 83 ۔ (آیت) ” غفور “۔ اس کی شان غفر کا تقاضا ہے کہ تمہارے معاصی ” ذنوب “۔ کی مغفرت کردے گا۔ (آیت) ” رحیم “۔ سو اس کی شان رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا۔ (آیت) ” یغفرلکم ذنوبکم “۔ وہ تمہاری تقصیروں کو نظر انداز کردے گا اور تمہارے مراتب قرب میں ذرا کمی نہیں آنے دے گا۔
Ayah 3:32

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو،84 ۔ اس پر بھی اگر وہ رو گردان رہیں تو اللہ کافروں سے (ذرا) محبت نہیں رکھتا،85 ۔

84 ۔ خطاب عامہ ناس سے پیغمبر کے واسطہ سے ہے۔ (آیت) ” اطیعوا اللہ “۔ اللہ کی اطاعت اصالۃ اور بہ طور مقصود کے ہے (آیت) ” والرسول “۔ رسول کی اطاعت تبعا ونیابۃ ہے بہ طور آلہ وواسطہ کے۔ یعنی اس حیثیت سے کہ پیغمبر اللہ ہی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ 85 ۔ (اور یہ لوگ کافر ہی تو ہیں جو اطاعت رسول سے منہ موڑے ہوئے ہیں خواہ محبت الہی کے جیسے ہی دعوے ان کی زبانوں پر ہوں) (آیت) ” فان تولوا “ یعنی ایسے صاف وصریح حکم کے ماننے سے انکار کریں۔
Ayah 3:33

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ نے آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) اور خاندان براہیم (علیہ السلام) اور خاندان عمران کو سارے دنیا جہاں پر برگزیدہ کیا ہے،86 ۔

86 ۔ (چنانچہ وہ خود اور ان کے گھرانے والے توحید کے علمبردار رہے ہیں) (آیت) ” اصطفی “۔ یہ برگزیدگی توحید کے علمبردار ہی کی حیثیت سے رہی ہے۔ (آیت) ” ادم “۔ حاشیہ پارہ نمبر 1 رکوع 4 کے ذیل میں گزر چکے۔ (آیت) ” نوح “۔ حضرت نوح بن لامخ (یالمک) عراق میں ایک نہایت قدیم پیغمبر گزرے ہیں۔ حسب روایت توریت حضرت آدم (علیہ السلام) سے دسویں پشت میں تھے۔ عمر 950 سال پائی۔ (آیت) ” ال ابرھیم “۔ آل ابراہیم ہی کے تحت میں اسمعیل (علیہ السلام) اور خاندان اسمعیل (علیہ السلام) بھی آگئے۔ ابراہیم اور اسمعیل (علیہما السلام) دونوں پر حاشیہ پارہ 1 رکوع 15 میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ال عمران “۔ عمران کے نام کی تاریخی شخصیتیں دوگزری ہیں۔ 1 ۔ ایک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ماجد عمران بن یصہر۔ 2 ۔ دوسرے انکے کئی صدی بعد حضرت مریم (علیہ السلام) کے والد ماجد اور حضرت مسیح جدمادری۔ عمران بن ماتان۔ یہاں مراد دونوں سے ہوسکتی ہے۔ لیکن بہ لحاظ سیاق ترجیح عمران ثانی کو ہے۔ حسن (رح) اور وہب (رح) تابعین سے یہی قول منقول ہے۔ والمراد بعمران ھذا ھو والد مریم بنت عمران (ابن کثیر) والمراد بال عمران عیسیٰ (علیہ السلام) وامہ مریم بنت عمران قالہ الحسن ووھب (روح) فقد اختلفوا فیہ فمنھم من قال المراد عمران والدموسی وھارون ومنھم من قال بل المراد عمران بن ماتان (کبیر)
Ayah 3:34

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور اللہ (خوب) سننے والا ہے (خوب) جاننے والا ہے۔87 ۔

87 ۔ (آیت) ” سمیع “ سننے والا تمام زبان سے نکلے ہوئے الفاظ وکلمات کا۔ (آیت) ’ علیم “۔ جاننے والا تمام دل کے اندر کے جذبات وخیالات کا۔ (آیت) ” ذریۃ بعضھا من بعض “۔ نوح اولاد میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہیں اور حضرت ابراھیم (علیہ السلام) ان دونوں کی اولاد میں۔ اور حضرت عمران ان تینوں کی اولاد میں۔
Ayah 3:35

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

(اور وہ وقت یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے عرض کیا،88 ۔ کہ اے میرے پروردگار میں نے تیرے لئے نذر مانی ہے اس (بچہ) کی جو میرے پیٹ میں ہے کہ (وہ) آزاد رکھا جائے گا،89 ۔ سو تو (یہ) مجھ سے قبول کر تو تو خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے،90 ۔

88 ۔ یہ (آیت) ” امرات عمرن “۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کی والدہ اور حضرت عیسیٰ کی جدہ مادری تھیں۔ مسیحی نوشتوں میں ان کا نام حنہ (Haunnae,) آیا ہے۔ ہمارے مفسرین نے لکھا ہے کہ شام وغیرہ میں کلیسائے حنہ کے نام سے مشہور ہیں اور ان کی قبر دمشق میں ہے۔ ودیر حنۃ بالشام معروف وثم دیر اخر یعرف بدیرمنہ (بحر) وقبر حنۃ جدۃ عیسیٰ (علیہ السلام) بظاھر دمشق (بحر) 89 ۔ (ہر قسم کے دنیوی کاروبار سے اور تیری ہی خدمت و عبادت کے لیے وقف رہے گا) حضرت مریم (علیہ السلام) کی ولادت سے قبل آپ کی والدہ ماجدہ نے جو نذر نیاز مانی تھی۔ اس کی بابت بہت سی تفصیلات قدیم ترین مسیحی نوشتوں میں درج تھیں، لیکن بزرگان کلیسانے جب کاٹ چھانٹ کرکے مستند اناجیل اربعہ مرتب کرنا شروع کیں تو ان میں ” میں نے منت مانی ہے “۔ (آیت) ” لک “ میں لام تعلیل ہے یعنی مخصوص تیری خدمت و عبادت کے لیے۔ ای لعبادتک (قرطبی) لخدمۃ بیتک (روح) محررا۔ ای حقیقا خالصا اللہ تعالیٰ خادما للکنیسۃ حبیسا علیھا (قرطبی) ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کی خدمت اور مجاوری کے لیے اولاد کو نذر کردینے کا دستور یہود کے ہاں جاری تھا۔ 90 ۔ (آیت) ” سمیع “۔ سننے والا میری دعاؤں کا (آیت) ” علیم “۔ جاننے والا میرے اخلاص کا۔
Ayah 3:36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب اس نے (مریم علیہ السلام) کو جنا تو بولی کہ اے میرے پیروردگار میں نے تو لڑکی جنی،91 ۔ اور اللہ تو خوب جانتا تھا کہ اس نے کیا جنا ہے اور لڑکا (اس) لڑکی جیسا نہیں ہوسکتا تھا،92 ۔ اور میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں،93 ۔

91 ۔ (اور لڑکی کس طرح تیر معبد میں مجاور بن سکے گی ؟ ) حضرت مریم (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ بہ صد حسرت ویاس بارگاہ الہی میں مناجات کررہی تھیں کہ تمنا تو لڑکے کی اس لیے کی تھی کہ اسے ہیکل کی نذر کردیا جاتا۔ وہ یہیں کی جاروب کشی اور مجاوری میں عمر بسر کرتا۔ اولاد تو ہوئی مگر لڑکی نکلی۔ لڑکی سے کیسے یہ نذر پوری ہوسکتی ہے ؟ اسرائیلی قانون میں لڑکی سے اس خدمت کی کوئی صورت ہی نہ تھی ، 92 ۔ یہ پورا فقرہ والدہ مریم (علیہ السلام) کی تقریر کا حصہ نہیں۔ بہ طور ایک مستقل جملہ معترضہ کے براہ راست ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ اس لڑکی کی عظمت ومنزلت سے تو خدائے تعالیٰ ہی خوب واقف تھا۔ ماں غریب کیا سمجھ سکتی تھی۔ قال مکی ھو اعلام من اللہ تعالیٰ لنا علی طریق التثبیت (قرطبی) (آیت) ” الذکر “۔ یعنی جو لڑکا والدہ مریم (علیہ السلام) کے حسب خواہش ہوتا۔ (آیت) ” واللہ اعلم بما وضعت “۔ یعنی اس مولود سے جو جو عظمتیں وابستہ تھیں ان کی خبر ماں غریب کو کیا ہوسکتی تھی۔ ان سے تو بس اللہ ہی خوب واقف تھا۔ ای اللہ اعلم بالشیء الذی وضعتہ وما علق بہ من عظائم الامور ودقائق الاسرار وواضح الایات وھی غافلۃ عن ذلک کلہ (روح) 93 ۔ والدۂ مریم (علیہ السلام) کی توحید پرستی مناجات کے لفظ لفظ سے نمایاں ہے۔ (آیت) ” وذریتھا “۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ والدہ مریم (علیہ السلام) اللہ سے امید لگائے ہوئے تھیں کہ لڑکی کا سلسلہ نسل چلے گا۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پھر اس کے پروردگار نے اس کو بوجہ احسن قبول کرلیا،94 ۔ اور اس کو اچھا نشوونما دیا،95 ۔ اور اس کا سرپرست زکریا (علیہ السلام) کو بنا دیا،96 ۔ جب کبھی زکریا (علیہ السلام) ان کے پاس حجرہ میں آتے تو ان کے پاس کوئی چیز کھانے (پینے) کی پاتے،97 ۔ (ایک بار) بولے کہ مریم یہ کہاں سے تجھے مل جاتی ہیں ؟ ،98 ۔ وہ بولیں یہ اللہ کی طرف سے آجاتی ہیں،99 ۔ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے،100 ۔

94 ۔ یعنی والدہ مریم (علیہ السلام) کی نذر کو اس لڑکی کی شکل میں بھی اللہ نے قبول کرلیا۔ جو تاریخ خدمت ہیکل میں ایک نئی بات تھی، مسیحی نوشتوں کے بہ موجب حضرت مریم (علیہ السلام) تین سال کی عمر میں ہیکل کی خادمہ کی حیثیت سے قبول کرلی گئی تھیں اور معبد کے چھوٹے بڑے سب خادم اس کمسن بچی کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔ ملاحظہ ہو ہیسٹنگز (Hastings) کی ڈکشنری آف دی بائبل، جلد 3 ۔ صفحہ 288 نیزبج (Budge) کی حکایات خاتون مریم (علیہ السلام) Legends of Lady Mary۔ 95 ۔ یہ اچھا نشوونما ممکن ہے کہ قوائے جسمانی کے اعتبار سے ہو اور ممکن ہے کہ قوائے روحانی واخلاقی کے اعتبار سے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں حیثیتوں سے ہو۔ یعنی سوی خلقھا من غیر زیادۃ ولا نقصان (قرطبی) ای رباھا الرب تربیۃ حسنۃ فی عبادۃ وطاعۃ لربھا قالہ ابن عباس (روح) مجاز عن تربیتھا بما یصلحھا فی جمیع احوالھا (بیضاوی) عبارۃ عن حسن النشاۃ والجودۃ فی خلق وخلق فانشاھا علی الطاعۃ والعبادۃ (بحر) عجیب تماشہ ہے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے شرف و عظمت کی یہ ساری تفصیلات انجیل میں نہیں، قرآن مجید ہی میں مل رہی ہیں انجیل اس قسم کے جزئیات سے بالکل خاموش ہے۔ 96 ۔ (آیت) ” ذکریا اللہ “۔ کے پیغمبر تھے۔ مسیحی صحیفے ان کے تذکرہ سے گویا بیگانہ ہیں، چار مقدس ومستند انجیلوں میں لے دے کر صرف ایک جگہ ان کا ذکر انجیل لوقا میں آتا ہے۔ وہ بھی پیغمبر کی حیثیت سے نہیں صرف ایک بزرگ ور استباز کاہن کی حیثیت سے۔ یہود یہ کے بادشاہ ہیرودیس کے زمانہ میں ابیاہ کے فریق میں زکریا نام کا ایک کاہن تھا (لوقا 1:5) یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) رشتہ میں حضرت مریم (علیہ السلام) کے خالو تھے۔ یعنی آپ کے خالہ کے شوہر۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کے والد ماجد جناب عمران کی وفات آپ کے بچپن ہی میں ہوگئی تھی اور ان کی وفات کے بعد ہیکل کے خادموں (یا یہود کی اصطلاح میں کاہنوں) کی سرداری حضرت زکریا (علیہ السلام) کے حصہ میں آئی تھی۔ آپ ایک تو مریم (علیہ السلام) کے عزیز قریب اور پھر خدام ہیکل کے سردار حضرت مریم (علیہ السلام) کی تربیت کا واسطہ و ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کو بنایا۔ (آیت) ” کفلھا “۔ کے لفظ میں اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ یہ سب خدائی انتظامات تھے۔ زکریا (علیہ السلام) کی حیثیت محض واسطہ یا ذریعہ کی تھی۔ 97 ۔ (آیت) ” المحراب “۔ محراب حجرہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی سب سے الگ تھلگ ہو کر بیٹھے۔ محراب مسجد کو بھی محراب اسئی لیے کہتے ہیں کہ اس در میں امام نماز سب سے الگ اور تنہاکھڑا ہوتا ہے۔ المحراب الغرفۃ (قاموس) قال الازھری وسمی المحراب محرابا لانفرادہ الامام فیہ وبعدہ من الناس (لسان) (آیت) ” کلما “۔ ہیکل کے خادموں کے رہنے اور عبادت کرنے کے لیے ہیکل کے ادھر ادھر زاویے، حجرے، یا خلوت خانے بنے ہوئے تھے، انہی میں سے ایک حجرہ حضرت مریم (علیہ السلام) کا تھا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ایک تو یوں بھی سردار خدام تھے۔ اور اس حیثیت سے ہر خادم وخادمہ کی نگرانی رکھنا آپ کے فرائض میں داخل تھا اور پھر حضرت مریم (علیہ السلام) کے تو آپ بزرگ و سرپرست بھی تھے ان کے حجرہ میں قدرۃ آپ کی آمدورفت رہا کرتی۔ قرآن حکیم کے ایک ذرا سے لفظ (آیت) ” کلما “۔ نے اس سارے مفہوم یعنی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کثرت آمد ورفت اور غیر متوقع وجود رزق سب کی طرف اشارہ کردیا۔ وکلما تقتضی التکرار فیدل علی کثرۃ تعھدہ وتفقدہ لاحوالھا ودلت الایۃ علی وجد الرزق عندھا کل وقت یدخل علیھا (بحر) رزقا کھانے پینے کا سامان۔ مثلا تروتازہ میوے۔ بعض ” جدت پسندوں “ نے یہاں رزق کے معنی فیض اور علم و حکمت کے لیے ہیں۔ لیکن محققین نے کہا ہے کہ یہ تفسیر کے حدود سے تجاوز کرجاتا ہے۔ بعد من فسر الرزق ھنا بانہ ” فیض “۔ (بحر) ھذا شبیہ بتفسیر الباطنیۃ (بحر) (آیت) ” رزقا “۔ کی تنوین تعظیم وتفحیم کے لیے ہے یعنی وہ رزق کوئی ندرت کا پہلو رکھتا تھا۔ التنکیر فی قولہ رزقا یدل علی تعظیم حال ذلک الرزق کانہ قیل رزقا ای رزق غریب عجیب (کبیر) مریم (علیہ السلام) اپنی ساری عظمت و جلالت کے باوجود بہرحال پیغمبر نہ تھیں اسی بنا پر محققین اہل سنت نے آیت کو اثبات کرامات اولیاء کے باب میں نص قراردیا ہے۔ اور علماء فرقہ شیعہ بھی اس باب میں ان سے متحد ہیں۔ اختلاف صرف معتزلہ کو ہے۔ واستدل بالایۃ علی جواز الکرامۃ للاولیآء لان مریم لانبوۃ لھا وھذا ھو الذی ذھب الیہ اھل السنۃ والشیعۃ وقالت فی ذلک المعتزلۃ (روح) وھو دلیل جواز الکرامۃ للاولیآء (بیضاوی) احتج اصحابنا علی صحۃ القول بکرامۃ الاولیآء بھذہ الایۃ (کبیر ( 98 ۔ یعنی لاتا تو میں ہی لاتا۔ میرے سوا اور کون اس سامان کا پہنچانے والا ہوسکتا ہے ؟ سوال اظہار حیرت کے لیے ہے۔ استغرب زکریا وجود الرزق عندھا وھو لم یکن اتی بہ فسأل علی سبیل التعجب من وصول الرزق الیھا (بحر) 99 ۔ (براہ راست اور بلاکسی واسطہ ظاہری کے) اہل اللہ کے ساتھ اس قسم کے خوارق کا ظہور کوئی انوکھی بات نہیں۔ ہوتے ہی رہتے ہیں۔ اور بالفرض اس مومنہ قانتہ کو یہ سامان کسی ظاہری واسطہ سے بھی پہنچ رہے ہوں۔ جب بھی اس کی نظر تو اس واسطہ پر نہیں براہ راست اللہ تعالیٰ پر تھی۔ 100 ۔ (خواہ واسطوں سے ہو، خواہ بلاواسطہ اور بلااستحقاق) ( اللہ اپنی مشیت تکوینی کے ہر جزئیہ میں جس طرح آزاد ہے اسی طرح تقسیم رزق کے باب میں ہے۔ اس میں رد آگیا ان مشرک قوموں کا جنہوں نے خوشحالی اور بدحالی کو پہلے جنم کے اعمال کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

(بس) وہیں زکریا (علیہ السلام) اپنے پروردگار سے دعا کرنے لگے،101 ۔ عرض کی اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے کوئی پاکیزہ اولاد عطا کر،102 ۔ بیشک تو دعا کا (بڑا) سننے والا ہے،103 ۔

101 ۔ (قدرت الہی کے تازہ مشاہدہ سے متاثر ہوکر) (آیت) ” ھنا “۔ کا دوسرا ترجمہ (وہیں) کے علاوہ (معا) بھی ہوسکتا ہے۔ ہنا ظرفیہ کے لیے ہے۔ اور اس میں ظرف مکان اور ظرف زمان دونوں شامل ہیں۔ یعنی اسی جگہ بھی اور اسی وقت بھی۔ اسم یشاربہ للمکان القریب وقد یشاربہ للزمان اتساعا (جمل) گو اصلی مفہوم ظرف مکان ہی کا ہے۔ یستعمل للزمان والمکان واصلہ للمکان (قرطبی) ای فی ذلک المکان اوفی ذلک الوقت فقد یستعارھنا وثم وحیث للزمان (کشاف) ھنا ظرف مکان وجوزان یراد بھا الزمان مجازا (روح) (آیت) ” ھنالک دعا “۔ آیت سے استدلال مکان مبارک میں دعا کی مقبولیت پر کیا گیا ہے۔ علی ھذا وقت مبارک میں بھی دعا کی مقبولیت پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو جب یہ مشاہدہ ہوگیا کہ یہ مقام خرق عادت کے صدور کا ہے تو آپ بھی وہیں دعا کرنے لگے۔ فی قولہ ھنالک دعا دلالۃ علی ان یتوفی العبد بدعاۂ الامکنۃ المبارکۃ والازمنۃ المشرفۃ (بحر) 102 ۔ (جو میرے سلسلہ روحانی کو آگے چلا سکے) (آیت) ” ھب لی من لدنک “۔ مجھے بھی اپنی عنایت سے اسی طرح دے جیسے کہ والدہ مریم (علیہ السلام) کو مریم (علیہ السلام) عنایت ہوچکی ہیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا سن زیادہ ہوچکا تھا اور بیوی صاحبہ بھی عقیم سمجھ لی گئی تھیں، ایک خارق عادت کو دیکھ کر آپ کا ذہن معا اسی طرف زور شور کے ساتھ منتقل ہوا کہ جو خدا اس پر قادر ہے کہ بلاسباب ظاہری یہاں تروتازہ میوے پہنچا دے، وہ یقیناً اس پر بھی قادر ہے کہ اس سن میں مجھے نعمت اولاد سے سرفراز کردے۔ (آیت) ” من لدنک “۔ یہ خبر صاف ظاہر کررہی ہے کہ دعا کرنے والے کی نظر اس عالم اسباب میں بھی اسباب سے کہیں زیادہ مسبب الاسباب پر ہے۔ (آیت) ” ذریۃ “۔ اولاد کی خواہش ایک امر طبعی ہے اور زہد کیا معنی کمال زہد کے بھی منافی نہیں۔ قرآن مجید نے بار بار پیغمبروں کی زبان سے اس قسم کی دعائیں نقل کرکے بتادیا کہ وہ مذاہب حقیقت سے کتنی دور ہیں جنہوں نے بیوی بچوں کو مطلق صورت میں جنجال قرار دیا ہے۔ ہماری شریعت حقہ میں اولاد کی خواہش تو سنت انبیاء وصدیقین بتائی گئی ہے اور صحیح بخاری میں تو مستقل عنوانات طلب ولد کے فضائل میں ہیں :۔ دلت ھذہ الایۃ علی طلب الولد وھی سنۃ المرسلین والصدیقین (قرطبی) وقد ترجم البخاری علی ھذا باب طلب الولد والاخبار فی ھذا المعنی کثیر ماتحث علی طلب الولد وتندب الیہ (قرطبی) (آیت) ” ذریۃ طیبۃ “۔ طیبہ کے اضافہ نے اسے صاف کردیا کہ اہل اللہ کی نظر آخرت پر بہرحال رہتی ہے اولاد کی خواہش میں بھی مطلق کوئی مضائقہ نہ تھا لیکن حضرت زکریا (علیہ السلام) محض اولاد ہی نہیں چاہتے۔ اولاد صالح چاہتے ہیں جو ان کے بعد ان کے مشن تبلیغ توحید کو جاری رکھے، اللہ والوں کی نگاہ میں اخلاقی وروحانی فضائل بہر صورت مقدم رہتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ایسے امور کے لیے دعا کرنا جو اسباب قریبہ سے ہٹ کر ہوں، آداب دعا کے منافی نہیں۔ 103 ۔ (اور بڑا قبول کرنے والا ہے) حق تعالیٰ کی اس صفت پر بار بار زور دینا مادی اور نیچری عقیدہ کے لوگوں کے رد میں ہے جو واقعات کو تمامتر اسباب ظاہری ہی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اور ارادہ حق تعالیٰ کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں رکھتے۔ انجیل میں ہے کہ ” زکریا نام کا ایک کاہن تھا۔ اور اس کی بیوی ہارون کی اولاد میں سے تھی اور اس کا نام الیشبع تھا۔ اور ان کے اولاد نہ تھی کیونکہ الیشبع بانجھ تھی اور دونوں عمررسیدہ تھے “۔ (لوقا۔ 1:5 ۔ 7)
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

پس انہیں فرشتوں نے آواز دی اس حال میں کہ وہ حجرہ میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے کہ اللہ آپ کو یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دیتا ہے،104 ۔ جو کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے اور مقتداء ہوں گے اور بڑے ضبط نفس کرنے والے ہوں گے اور نبی ہوں گے صالحین میں سے۔105 ۔

104 ۔ (دعا معا قبول ہوگئی۔ اور آپ کی حالت نماز ہی میں فرزند کی بشارت مل گئی) (آیت) ” المآئکۃ “۔ صیغہ جمع ہے لیکن لازمی نہیں کہ آواز دینے والے کئی ہوں، صیغہ جمع اسم جنس کا بھی کام دیتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ آواز دینے والاایک ہی فرشتہ ہو۔ و جائز فی العربیۃ ان یخبر عن لفظ الجمع (قرطبی) قال الزجاج ای اتاہ النداء من ھذا الجنس الذین ھم الملئکۃ (ابوسعود) ذلک جائز فی کلام العرب بان تخبر عن الواحد بمذھب الجمع (ابن جریر) (آیت) ” یحی “۔ عہد جدید کے صحیفوں میں ان کا نام یوحنا آتا ہے۔ انجیل میں اس موقع پر آتا ہے۔” فرشتہ نے اس سے کہا۔ اے زکریا خوف نہ کر کیونکہ تیری دعا سنی گئی اور تیری بیوی الیشبع تیرے لئے بیٹا جنے گی تو اس کا نام یوحنا رکھنا اور تجھے خوشی وخرمی ہوگی (لوقا 1: 14) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خالہ زاد بھائی اور آپ سے سن میں حسب روایت انجیل صرف چھ مہینہ بڑے تھے 30 ء ؁ میں والئے ہیرود کے حکم سے شہید ہوئے۔ 105 ۔ (آیت) ” کلمۃ من اللہ “۔ جس طرح روح القدس لقب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کا ہے کلمۃ اللہ لقب حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ہے۔ یعنی عیسیٰ فی قول اکثر المفسرین (قرطبی) وھو اختیار الجمھور (کبیر) قالہ ابن عباس و مجاھد والحسن وقتادۃ والسدی وغیرھم (بحر) مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ آپ کی اصل حیثیت مسیح (علیہ السلام) کے پیش رو اور نقیب ہی کی تھی۔ بعض نے کلمۃ اللہ سے مراد کتاب اللہ بھی لی ہے۔ قال ابوعبید معنی بکلمۃ من اللہ بکتاب من اللہ (قرطبی) (آیت) ” سیدا “۔ یعنی دین کے باب میں مقتدا و پیشوا۔ مسیحی تو خیر آپ کے تقدس کے قائل ہی ہیں۔ یہود جو آپ کے منکر اور آپ کے سخت دشمن ہیں، وہ بھی آپ کی مرجعیت ومقبولیت سے انکار نہیں کرتے۔ (آیت) ” حصورا “۔ یعنی لذات وشہوات پر اسے قابوحاصل ہوگا۔ اور وہ نہایت درجہ محتاط و متقی ہوگا۔ انجیل میں آپ کے زہد وتبتل کا ذکر تصریح کے ساتھ ہے۔ مثلا ‘۔ ” وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگا اور ہرگز نہ مئے نہ کوئی شراب پئے گا۔ اور اپنی ماں کے پیٹ ہی سے روح القدس سے بھرجائے گا “۔ (لوقا۔ 1: 16) اور بہت سے بنی اسرائیل کو خداوند کی طرف جو ان کا خدا ہے پھیرے گا اور وہ انبیاء کی روح اور قوت میں اس کے آگے آگے چلے گا کہ والدوں کے دل اولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راستبازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خداوند کے لیے ایک مستعد قوم تیار کرے “۔ (لوقا۔ 1: 17، 18) ” اور وہ لڑکا بڑھتا اور روح میں قوت پاتا گیا اور اسرائیل پر ؔ ظاہر ہونے کے دن تک جنگلوں میں رہا “۔ (لوقا۔ 1:80) (آیت) ” نبیا من الصلحین “۔ حضرت یحی (علیہ السلام) کی نبوت کا اثبات یہود کے مقابلہ میں ہے جو نعوذ باللہ آپ کو ایک بنا ہوا انسان سمجھتے تھے اور آپ کی صالحیت کا اثبات یہود کے مقابلہ میں تو مسلم ہے لیکن خود مسیحیوں کے مقابلہ میں بھی ہے جن کے نزدیک عصمت وتقوی لازمۂ نبوت تھیں۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

(زکریا علیہ السلام) بولے اے میرے پروردگار میرے بیٹا کس طرح ہوگا درآنحالیکہ مجھے بڑھاپا آپہنچا ہے اور میری بیوی بانجھ ہیں،106 ۔ ارشاد ہوا اسی طرح اللہ کردیتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے،107 ۔

106 ۔ انجیل میں اس موقع پر ہے۔” زکریا (علیہ السلام) نے فرشتہ سے کہا میں اس بات کو کس طرح جانوں کیونکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بھی عمر رسیدہ ہے “۔ (لوقا۔ 1: 18) ان کے اولاد نہ تھی کیونکہ الیشبع بانجھ تھی اور دونوں عمررسیدہ تھے “۔ (لوقا 1:7) (آیت) ” انی یکون لی غلم “۔ یعنی اس بشارت کے تحقق کی متعین صورت آخر کیا ہوگی ؟ آیا میری جوانی عود کر آئے گی یا اور کوئی خاص انقلاب ہوگا ؟ وعدہ الہی سے بےاعتباری کا یہاں کوئی سوال نہیں۔ حضرت تو محض متعین صورت جاننا چاہتے ہیں۔ لیکن بالفرض عدم اطمینان بھی مراد لی جائے۔ جب بھی خلاف اسباب عاد یہ کسی شے کے غیر وقوع پر حیرت بالکل طبعی ہے اور پیغمبر بھی امور طبعی میں بالکل بشر ہی تھے۔ 107 ۔ (کہ اس حقیقت کا مراقبہ ہر استبعاد کے رفع کردینے کے لیے کافی ہے) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی عود شباب وغیرہ کچھ نہ ہوگا۔ بس اسی موجودہ حالت کے ساتھ ولادت فرزند ہوگئی۔
Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

(زکریا علیہ السلام) بولے اے میرے پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے۔108 ۔ ارشاد ہوا کہ تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا تین دن تک بجز اشارہ کے،109 ۔ اور اپنے پروردگار کو بکثرت یاد کرتے رہو اور تسبیح کرتے رہو دن ڈھلے بھی اور صبح بھی،110 ۔

108 ۔ (جس سے مجھے معلوم ہوجائے کہ گھر میں حمل ہے اور زمانہ ولادت قریب ہے اور میں ادائے شکر کا سامان کرسکوں) (آیت) ” ایۃ “۔ ہر ایسی چیز ہے جس سے قدرت الہی نصرت غیبی خاص طور پر ظاہر ہورہا ہے۔ ایسی چیز کو قدرۃ معمول عام سے کی قدر ہٹا ہونا چاہیے اور اس واقعہ میں اعجازی رنگ ضرور ہونا چاہیے۔ 109 ۔ (اور تسبیح و عبادت الہی میں اس حال میں بھی جاری رہے گی) (آیت) ” الاتکلم الناس “۔ انجیل کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی بڑی معصیت حضرت زکریا (علیہ السلام) سے سرزد ہوگئی تھی۔ اور اس کی سزا میں ان کی قوت گویائی چند روز کے لئے سلب کرلی گئی تھی۔” اور دیکھ جس دن تک یہ باتیں واقع نہ ہولیں تو چپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا۔ اس لیے کہ تو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر ہوں گی یقین نہ کیا۔ جب وہ باہر آیا تو ان سے بول نہ سکا۔ پس انہوں نے معلوم کیا کہ اس نے مقدس رؤیا دیکھی ہے اور وہ ان سے اشارے کرتا تھا۔ اور وہ گونگاہی رہا “۔ (لوقا، 1:20، 22) قرآن مجید جو تمام قدیم صحیفوں پر مہیمن یا نگران ونگہبان ہے اور ان کی تمام غلطیوں اور غلط بیانیوں کی تصحیح کرتا جاتا ہے، یہاں بھی اس نے حسب معمول اپنا فرض ادا کیا اور حضرت زکریا (علیہ السلام) سے یہ بہتان رفع کرکے صحیح صورت حال یہ بیان کی کہ ایک علامت غیبی عطاہوئی تھی کہ آپ تسبیح وذکر الہی تو اپنی جگہ پر بدستور کرتے رہیں گے۔ البتہ لوگوں سے بات چیت کی قوت آپ کو تین دن کے لیے حاصل نہ رہے گی۔ (آیت) ” تکلم الناس “۔ میں الناس “ ہی تو فقرہ کی جان ہے۔ انما خص تکلیم الناس لیعلم انہ یحبس لسانہ عن القدرۃ علی تکلیمھم خاصۃ مع ابقاء قدرتہ علی التکلم بذکر اللہ (مدارک) (آیت) ” ثلثہ ایام “۔ تین دن اور تین راتیں۔ دن کہنے سے رات اس میں تبعا شامل ہوگئی ہے۔ سکوت طویل خصوصا صوم سکوت کی حالت میں قدیم مذاہب وادیان میں جزء عبادت رہ چکا ہے۔ (آیت) ” رمزا “۔ رمز میں سرکے اشارے بھی آگئے اور ہاتھوں کے بھی۔ انجیل میں ہے :۔ ” اور وہ ان سے اشارے کرتا تھا “۔ (لوقا، 1: 13) فقہاء مفسرین نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ اشارہ بھی کلام کا قائمقام ہے۔ فی ھذہ الایۃ دلیل علی ان الاشارۃ تنزل منزلۃ الکلام وذلک موجود فی کثیر من السنۃ (قرطبی) 110 ۔ (دل و زبان سے) (آیت) ” واذکر۔ وسبح “۔ یعنی ذکر الہی وتسبیح کا شغل دل میں بھی جاری ہے اور زبان سے بھی یہ نہ ہوگا کہ آپ کی زبان بہ طور مرض یا عذاب الہی کے مطلقا بند ہوجائے اور آپ بالکل ” گونگے “ ہوجائیں (جیسا کہ انجیل میں درج ہے) بلکہ ذکر وتسبیح میں آپ برابر لگے رہیں گے۔ البتہ لوگوں سے گفتگو پر قادر نہ رہیں گے اور یہی اس امر کی علامت ہوگی کہ حمل قرار پا گیا اور ظہور یحییٰ (علیہ السلام) کا زمانہ قریب آگیا۔ عشی۔ زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک کا سارا وقت اس میں آگیا۔ العشی من حین ان تزول الشمس الی ان تغیب (کشاف) (آیت) ” ابکار “۔ طلوع فجر سے دن چڑھے تک کا وقت اس میں شامل ہے۔ الابکار من طلوع الفجر الی وقت الضحی (کشاف) محاورہ میں مراد صبح وشام کے اوقات کی تعیین و تخصیص ہی نہیں بلکہ دوام بھی ہوسکتی ہے۔
Ayah 3:42

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم بیشک اللہ نے آپ کو برگزیدہ کیا ہے،1 1 1 ۔ اور پاک کردیا ہے اور آپ کو دنیا جہان کی بیویوں کے مقابلہ میں برگزیدہ کرلیا ہے،112 ۔

1 1 1 ۔ (بعض خصوصیات کے لحاظ سے) (آیت) ” اذ قالت المآئکۃ “۔ یہ قول خواہ بہ طور الہام ہو جس کا تعلق محض قلب و باطن سے ہے خواہ بہ طور نداء ہو جس کا تعلق سماعت اور ظاہر سے ہے ملئکۃ کے صیغہ جمع سے یہ لازم آتا ہے کہ کہنے والے کئی کئی فرشتے ہوں۔ ملئکۃ سے مراد جنس ملائکہ بھی ہوسکتی ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ ملائکہ کا غیر انبیاء کے ساتھ ہم کلام ہونا آیت سے ثابت ہے البتہ ملائکہ کے لائے ہوئے پیام تبلیغ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص ہیں۔ (آیت) ” اصطفک “۔ اس اصطفاء کا تعلق مریم (علیہ السلام) کے بچپن سے ہے یعنی اللہ نے تو شروع ہی سے آپ کو بزرگی دے رکھی ہے، آپ کی والدہ کی دعاؤں کو سن کر آپ کو خلعت وجود بخشا گیا۔ پھر ہیکل کی خدمت کا کام لڑکوں اور مردوں کے لیے مخصوص تھا۔ آپ کو لڑکی ہونے باوجود اس کا موقع عنایت کیا گیا۔ پھر آپ کو آپ کے حجرہ میں غذائیں جس اعجازی رنگ میں پہنچائی گئیں اس نے زکریا (علیہ السلام) نبی تک کو متحیر کردیا۔ یہ سب شواہد آپ کی برگزیدگی ہی کے ت وہیں۔ (آیت) ” طھرک “ یعنی آپ کو گناہوں کی آلائش سے پاک صاف کردیا۔ آپ کو اخلاقی پاکیزگی کا ایک نمونہ بنادیا۔ یعنی طھر دینک من الریب والادناس التی فی ادیان نساء بنی ادم (ابن جریر) ای نزھک عن الاخلاق الذمیمۃ والطباع الردیۃ (روح) روی عن الحسن وابن جبیر ان المراد طھرک بالایمان عن الکفر وبالطاعۃ عن المعصیۃ (روح) طھرک من الافعال الذمیمۃ والعادات القبیحۃ (کبیر) عن مجاہد عما یعم النساء فی خلق وخلق ودین (بحر) عن مجاہد من الریب والشکوک (بحر) یہ خصوصیت کے ساتھ یہود کے رد میں ہے جو اپنی خباثت سے طرح طرح کے گندے الزامات حضرت مریم (علیہ السلام) پر لگائے ہوئے تھے اور آج تک لگاتے چلے آرہے ہیں۔ 112 ۔ (آیت) ” اصطفک علی نسآء العلمین “۔ پہلے اصطفاء کا تعلق مریم (علیہ السلام) کے بچپن سے ہے۔ یعنی پیدائش ہی ایسی ہوئی اس اصطفاء کا تعلق ان کے بلوغ کے بعد سے ہے۔ یہ دوسری برگزیدگی خاص خاص حیثیات سے تھی، مثلا اس صفت میں کہ مرد کے توسط کے بغیر محض مس ملکی سے انہیں ماں بنادیا گیا انجیل میں بھی فضیلت مریم (علیہ السلام) کا ذکر ہے لیکن قرآن مجید سے کہیں ہلکے لفظوں میں :۔ اس کنواری کا نام مریم (علیہ السلام) تھا اور فرشتہ نے اس کے پاس اندر آکر کہا سلام تجھ کو جس پر فضل ہوا ہے خداوند تیرے ساتھ ہے (لوقا۔ 1:27، 28)
Ayah 3:43

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم اپنے پروردگار کی اطاعت کرتی رہ اور سجدہ کرتی رہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہ،113 ۔

113 ۔ آیت ماقبل اگر یہود کے رد میں تھی جنہوں نے مریم (علیہ السلام) کی ذات کو اتہامات کا ہدف بنارکھا تاھ تو یہ آیت یہود ونصاری دونوں کے رد میں ہے۔ یہود کو تو یہ بتایا گیا کہ آپ بڑی عبادت گزار وطاعت شعار خاتون تھیں اور نصرانیوں کو یہ جتلایا گیا کہ مریم (علیہ السلام) نہ (نعوذ باللہ) خدا کی ماں تھیں اور نہ کسی قسم کی دیوی، کہ ان کی پرستش کی جائے یا انہیں کسی درجہ میں بھی شریک عبادت کیا جائے۔ بلکہ ان کی ساری بزرگی وبرگزیدگی تو بس یہ تھی کہ وہ اپنے مالک ومولی کی مخلص پرستار، فرمانبردار اور نہایت درجہ عبادت گزار وطاعت شعار تھیں۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

یہ (واقعات) غیب کی خبروں میں سے ہیں ہم آپ کے اوپر ان کی وحی کررہے ہیں،114 ۔ اور آپ تو ان لوگوں کے پاس تھے نہیں، اس وقت جب وہ اپنے اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم (علیہ السلام) کی سرپرستی کرے اور نہ آپ ان کے پاس اس وقت تھے جب وہ باہم اختلاف کررہے تھے،115 ۔

114 ۔ (اے پیغمبر ! ) یعنی یہ واقعات وہ ہیں جو آپ سے کئی سو سال قبل ایک دوسرے ملک میں پیش آئے تھے اور اب دنیا سے ان کی صحیح تاریخ مٹ چکی ہے اور ان کے علم واقعی کا کوئی ذریعہ بھی اب بجز وحی الہی کے باقی نہیں۔ آپ کو بالکل ٹھیک ٹھیک وحی کے ذریعہ سے القاء کئے جارہے ہیں اور یہ بجائے خود ایک دلیل آپ کی صداقت کی ہے۔ 115 ۔ (شام کے دریائے یردن میں تفاؤل کے لئے) (آیت) ” اذیلقون “۔ اس فعل کے فاعل کون تھے ؟ یروشلم کے ہیکل مقدس کے خدام اور کاہن (بہ اصطلاح یہود) (آیت) ” اقلامھم “۔ ہیکل سلیمانی کی خدمت ونگہداشت کے لیے خادموں کی ایک بڑی جماعت رہا کرتی تھی جیسے کہ بڑی مسجدوں کی خدمت کے لئے جاروب کشوں، فراشوں دربانوں مؤذنوں وغیرہ کا پورا عملہ رہتا ہے، حضرت مریم (علیہ السلام) کے والد حضرت عمران اپنے زمانہ میں ان خادمان حرم کے سردار تھے۔ ان کی وفات پر سوال یہ پیدا ہوا کہ اب مریم (علیہ السلام) کا سرپرست کون ہو، رشتہ ان خادموں میں سب سے قریب حضرت زکریا (علیہ السلام) کا تھا کہ آپ مریم (علیہ السلام) کے خالو تھے۔ طے یہ پایا کہ سوال کا حل فال کے ذریعہ سے کیا جائے فال اشارۂ غیبی کی قائم مقام تھی، فال کا طریقہ یہ رائج تھا کہ نے کے قلم جو توریت لکھنے کے ہوتے تھے، ان پر توریت شریف ہی کے کچھ کلمات لکھ کر انہیں دریائے یردن میں ڈال دیا جاتا تھا۔ اور قلم عموما دریا ہی کے رخ بہنے لگتے لیکن بعض قلم مخالف رخ کو بہتے اور یہی مخالف بہاؤ کامیابی کی علامت سمجھی جاتی جیب ایسے ہی قلم کے مالک کی سمجھی جاتی، گویا غیب سے ڈگری اس کے حق میں ہوگئی۔ یہی صورت یہاں ہوئی اور قرعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ (آیت) ” وما کنت لدیھم “۔ خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ یعنی جب یہ مریم (علیہ السلام) کی کفالت وسرپرستی کا قضیہ طے ہورہا تھا تو آپ خود تو وہاں موجود نہ تھے اور نہ کوئی معتبر وچشم دید شہادت ہی آپ تک پہنچی، پھر جو آپ اتنی صحیح اور سچی خبریں اپنی زبان سے ادا کررہے ہیں۔ ان کا ذریعہ بجز وحی الہی کے اور ہو کیا سکتا ہے ؟
Ayah 3:45

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

(اور وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم (علیہ السلام) ! اللہ آپ کو خوشخبری دے رہا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی ان کا نام (ولقب) مسیح (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم (علیہ السلام) ہوگا،116 ۔ دنیا وآخرت (دونوں) میں معزز اور مقربوں میں سے،117 ۔

،116 ۔ (آیت) ” المآئکۃ “۔ کے صیغے جمع پر حاشیے دو بار ابھی اوپر گزر چکے۔ (آیت) ” یبشرک بکلمۃ “۔ کلمۃ اللہ پر حاشیہ ابھی چند آیتیں قبل گزر چکا ہے۔ بشارت یہاں مریم (علیہ السلام) کو بیٹے کی مل رہی ہے۔ وہ بیٹا جسے بن باپ کے ہونے کی بنا پر کلمۃ اللہ کہا گیا ہے۔ حضرت مریم (علیہ السلام) اس وقت تک یہودی رسم و رواج کے لحاظ سے ناکت خدا اور کنواری تھیں البتہ آپ کی منگنی آپ ہی کے کفو وقبیلہ آل داؤد کے ایک نوجوان یوسف نامی سے ہوچکی تھی۔ جن کے ہاں کاروبار چوب سازی کا ہوتا تھا۔ انجیل کا بیان ہے۔ ” جبریل (علیہ السلام) فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرہ تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا جس کی منگنی داؤد کے گھرانے کے ایک مرد یوسف نام سے ہوئی تھی، اور اس کنواری کا نام مریم (علیہ السلام) تھا۔ لوقا۔ 1:26، 27) ” یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب آپ کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوگئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی۔ (متی۔ 1: 18) رسم منگنی کی جو اہمیت یہود کے ہاں تھی اس کے لحاظ سے ہمیں اپنی اصطلاح و زبان میں یوں کہنا چاہیے کہ آپ (علیہ السلام) کا عقد ہوگیا تھا۔ مگر رخصتی ابھی نہیں ہوئی تھی، گویا خلوت کی اجازت ابھی عرفا نہیں ہوئی تھی۔ (آیت) ” اسمہ “۔ اسم کی وسعت مفہوم و جامعیت پر حاشیہ پارۂ اول میں (آیت) ” علم ادم الاسمآء “ کے تحت میں گزر چکا ہے۔ اسم مسمی کے تعارف کے لئے ہوتا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تعارف کے لیے یہ پوری عبارت ضروری تھی، المسیح عیسیٰ ابن مریم۔ (آیت) ” المسیح “۔ لفظ مسیح کے اشتقاق میں اختلاف ہے لیکن خواہ یہ لفظ عربی الاصل ہو خواہ عبرانی کے کسی لفظ کا معرب۔ بہرصورت اپنے معنی کے لحاظ سے ” مبارک “ کامرادف ہے۔ (آیت) ” عیسیٰ (علیہ السلام) “۔ انجیل کے تلفظ اور املا میں ” یسوع “۔ ،117 ۔ (اللہ تعالیٰ کے) (آیت) ” ابن مریم “۔ یہودیت اور مسیحیت دونوں کے رد ساتھ ساتھ چل رہے ہیں (آیت) ” ابن مریم “۔ کہہ کر قرآن مجید نے یہ حقیقت بیان کردی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خود تو بشر تھے ہی، فرزند بھی کسی دیوی دیوتا کسی مافوق البشر کے نہ تھے۔ محض عورت ذات کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے۔ (آیت) ” وجیھا فی الدنیا والاخرۃ “۔ یہ یہود کے رد میں ہے کہ تم جس کے حق میں ہر قسم کی توہین وافتراء روا رکھتے ہو وہ صاحب عزت واکرام ہیں۔ یہود کی قدیم کتابوں میں کوئی دقیقہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی توہین وتحقیر کا اٹھ نہیں رہا ہے۔ یہ قرآن ہی کی برکت واعجاز ہے کہ اس کے نزول کے بعد سے رفتہ رفتہ اب خود یہود کے لہجہ کی تلخی نرمی میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ اور تالمود کے الزامات دہراتے ہوئے یہود کو شرم آنے لگی ہے۔ آخرت کے اعزاز کا مشاہدہ تو خیر جب ہوگا، ہوگا، دنیا کا اعزاز اس سے ظاہر ہے کہ روئے زمین کے 40 ۔ 50 ۔ کروڑ مسلمان آج انہیں اللہ کا پیغمبر برحق مان رہے ہیں۔ ان کا نام بغیر (علیہ السلام) کے نہیں لیتے اور کروڑوں کی تعداد میں عیسائی ہیں جو انہیں انسان کے مرتبہ سے بھی بلند تر سمجھ رہے ہیں، یہ عقیدہ گواحمقانہ ہے لیکن بہرحال آپ کی تعظیم واحترام ہی سے ناشی ہے، (آیت) ” من المقربین “۔ قرآن مجید کا یہ کمال اعجاز ہے کہ ایک ایک لفظ سے پورا پورا مضمون ادا ہوجاتا ہے۔ یہاں اس لفظ سے ایک طرف تو آپ کا اصل مقام بتا دیا، یعنی تقرب الہی۔ دوسری طرف یہودیت کے رد میں آپ کی شہادت دے دی، تیسری طرف (آیت) ” من المقربین “۔ کی ترکیب سے یہ ظاہر کردیا کہ اس مقبولیت میں وہ منفرد نہیں، دوسرے بندے بھی ان کے ساتھ شریک ہیں اور مسیح (علیہ السلام) بایں عظمت واجلال بہرحال عبدیت سے مافوق کوئی مرتبہ نہیں رکھتے۔
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور وہ لوگوں سے گفتگو کریں گے۔ گہواروہ میں بھی اور پختہ عمر میں بھی اور صالحین میں سے ہوں گے،118 ۔

،118 ۔ (نہ کہ معاذ اللہ ساحر یا شعبدہ باز یا بداخلاق جیسا کہ یہود نے افتراء کر رکھا ہے) لیکن بایں عظمت واجلال بہرحال دوسرے ہی بندگان صالح کی طرح ہوں گے۔ (آیت) ” من الصلحین “ نہ کہ ان سے مافوق کچھ اور جیسا کہ مسیحیوں نے اپنے دل سے ٹھہرا لیا ہے۔ (آیت) ” یکلم الناس “ اس سے اشارہ نکلتا ہے آپ کے جوش تبلیغ کی جانب۔ لوگوں سے آپ کی گفتگو قصہ کہانی کی نہیں، یقیناً توحید وتصحیح عقائد ہی پر ہوگی۔ انجیلوں سے بھی جتنی شہادتیں ملتی ہیں سب سے تائید آپ کے جوش تبلیغ ہی کی ہوتی ہے۔ (آیت) ” فی المھد “۔ یعنی بالکل بچپن سے۔ یا اس سن سے جو گہوارہ میں لیٹے رہنے کا ہوتا ہے۔ ای طفلا (کشاف) حال، کونہ طفلا (بیضاوی) اتنی کم سنی سے گفتگو پر یہ قدرت اعجازی رنگ میں تھی، انجیلی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بارہ سال کے سن میں تبلیغ کرنے لگے تھے۔ اور اچھے اچھے دانا آپ کی گفتگو سن کر دنگ رہ جاتے تھے۔ (لوقا، 2:42، 47) (آیت) ” کھلا “۔ سے مراد پختہ عمر سے ہے یہ نہیں بچپن اور بڑھاپے کا درمیانی زمانہ اس کا اطلاق 30 سے اوپر 50 سال کے سن تک ہوتا ہے۔ الکھل بین حال الغلومۃ وحال الشیخوخۃ (قرطبی) الکھل ما بین الشاب والشیخ (روح) حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بچپن اور پھر پختہ عمری کے ذکر سے اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ ہر انسان کی طرح آپ کا نشوونما بھی تدریجا ہوتا رہا۔ اور یہ نشوونما خود ایک مستقل دلیل رد الوہیت پر ہے۔
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

وہ بولیں اے میرے پروردگار میرے لڑکا کسی طرح ہوگا درآنحالیکہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا ہے،119 ۔ ارشاد ہوا ایسے ہی اللہ پیدا کردیتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے،120 ۔ جب وہ کسی بات کو پورا کرنا چاہتا ہے تو بس اس سے کہتا ہے کہ ہوجا،121 ۔ سو وہ ہوجاتی ہے

،119 ۔ (بہ طریق مواصلت) حسب بیان انجیل حضرت مریم (علیہ السلام) کی رخصتی ابھی نہیں ہوئی تھی اور رخصتی کے قبل نامزد شوہر سے خلوت یہودی قانون میں بالکل ممنوع تھی (آیت) ” قالت رب “۔ انجیل میں اس مقام پر ہے کہ ” مریم (علیہ السلام) نے فرشتہ سے کہا “ (لوقا۔ 1:24) قرآن مجید نے اپنے حسب دستور اس موقع پر بھی انجیل کے بیان کی تصحیح کرکے یہ بتادیا کہ مریم (علیہ السلام) کی مخاطبت اب فرشتہ سے نہیں براہ راست حق تعالیٰ سے تھی، اور ہر صاحب نظر پر واضح ہے کہ اس سے مریم (علیہ السلام) کا مرتبہ معرفت و ایمان کتنا بڑھ جاتا ہے۔ (آیت) ” انی یکون لی ولد “۔ فرشتہ کی زبان سے وہ پوری تقریر سن کر اب حضرت مریم (علیہ السلام) اپنے مالک ومولی سے عرض کررہی تھیں۔ آپ کا یہ سوال ظاہر ہے کہ حیرت اور واقعہ کی غرابت کی بنا پر تھا نہ کہ شک و انکار کی بنا پر۔ فرشتہ یا فرشتوں سے دو بدو ہوجانے اور ان کی گفتگو سن لینے کے بعد انکار کا تو اب کوئی محل رہا ہی نہیں تھا۔ استبعاد البتہ باقی تھا جو عین لازمہ بشریت تھا۔ انجیل نے اس موقع پر جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ درج ذیل ہیں :۔ ” فرشتہ نے اس کے پاس اندر آکر کہا۔ سلام تجھ کو جس پر فضل ہوا ہے۔ خداوند تیرے ساتھ ہے۔ وہ اس کلام سے بہت گھبراگئی۔ اور سوچنے لگی کہ یہ کیسا کلام ہے۔ فرشتہ نے اس سے کہا اے مریم (علیہ السلام) خوف نہ کر کیونکہ خدا کی طرف سے تجھ پر فضل ہوا ہے۔ اور دیکھ تو حاملہ ہوگئی اور بیٹا جنے گی، اس کا نام یسوع ہوگا، وہ بزرگ ہوگا۔ مریم (علیہ السلام) نے فرشتہ سے کہا۔ یہ کیونکر ہوگا جس حال میں کہ میں مرد کو نہیں جانتی اور فرشتہ نے جواب میں اس سے کہا کہ روح القدس تجھ پر نازل ہوگا اور خدا تعالیٰ کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالے گی “۔ (لوقا۔ 1:28، 34) ،120 ۔ رفع استبعاد کے لئے حضرت مریم (علیہ السلام) کو یہاں یاد دلایا جارہا ہے کہ نظر مسبب الاسباب پر رکھنی چاہیے کہ وہی فاعل حقیقی ہے نہ کہ اسباب طبعی وظاہری پر کہ ان کی حیثیت محض واسطہ اور ذریعہ کہ ہے۔ (آیت) کذلک “۔ یعنی مس بشر کے بغیر ہی (آیت) ” یخلق ما یشآء “۔ ابھی چند ہی آیتیں قبل ذکر زکریا (علیہ السلام) اور بڑھاپے میں ان کی اولاد کا آچکا ہے۔ وہاں اس موقع کے لیے جو آیت تھی اس کے الفاظ تھے (آیت) ” کذلک اللہ یفعل ما یشآء “۔ وہاں (آیت) ” یفعل “۔ اور یہاں ” یخلق “۔ کا استعمال محض اتفاقی نہیں۔ مفسر محقق ابوحیان غرناطی نے خوب لکھا ہے کہ وہاں تو ولادت عام سنت الہی کے مطابق یعنی مرد وزن کے اتصال سے تھی اگرچہ وہ مرد وزن سن سے اتر چکے تھے وہاں قدرت الہی کے اظہار کے لئے یفعل بالکل کافی تھا، برخلاف اس کے یہاں عام وجاری سنت الہی سے ہٹ کر بغیر مردوزن کے اتصال کے صرف عورت ہی سے ولادت کا تحقق کرانا ہے۔ اس لیے یہاں لفظ بھی یخلق لایا گیا جو حق تعالیٰ کی صفت ایجاد واختراع پر دلالت کررہا ہے۔ ھناک یفعل لانہ ممکن اذھو من ذکر وانثی مسنین وھنا یخلق لانہ لم یعھد مولود من غیر ذکر فجاء بلفظ یخلق الدال علی الاختراع الصرف من غیر مادۃ ذکر (نہر) من حیث ان امر زکریا داخل فی الامکان العادی الذی یتعارف وان قل وفی قصۃ مریم یخلق لانہ لایتعارف مثلا وھو وجود ولدمن غیر والدفیہ ایجاد واختراع من غیر سبب عادی فلذلک جاء بلفظ یخلق الدال علی ھذا المعنی (بحر) ،121 ۔ (اور وہ ہوجاتا ہے خواہ اسباب کے واسطہ سے ہو یا بلاکسی سبب ظاہری کے) اس قسم کی آیتیں برابر ان فلسفیوں اور باطل مذہبوں کی رد میں ہیں جو حادث پر قیاس کرکے قدیم کو بھی سلسلہ اسباب کا پابند سمجھتے ہیں۔ (آیت) ” لہ “۔ نادانوں نے ایک سوال یہ پیدا کیا ہے کہ کوئی شے جب ابھی سرے سے موجود ہی نہیں ہے تو حق تعالیٰ کا خطاب اس سے ہوتا کس طرح ہے ؟ کھلا ہوا جواب یہ ہے کہ علم الہی میں تو موجود ہی ہے یعنی اس کو حکم ہوتا ہے کہ خارج میں بھی موجود ہوجا۔ (آیت) ” یقول لہ کن “۔ قول۔ کن سے مراد اس دو حرفی لفظ کا تلفظ نہیں کہ یہ حروف تو خود ہی حادث ہیں۔ مراد اللہ تعالیٰ کا قول اس کیفیت کے ساتھ ہے جو اس کے شان کمال کے لائق ہیں۔ مراد اللہ تعالیٰ کا قول اس کیفیت کے ساتھ ہے جو اس کے شان کمال کے لائق ہے۔ اور جس طرح اس کی تمام صفات کی تفصیلات فہم بشری کی گرفت سے باہر ہیں اس کے قول کی یہی کیفیت تفصیل سے نہیں سمجھی جاسکتی۔ مراد صرف یہ کہ ارادۂ الہی اور اس کی تعمیل کے درمیان کوئی شئی حائل یا حاجب نہیں۔
Ayah 3:48

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور (اللہ) اسے کتاب اور حکمت اور انجیل سکھا دے گا،122 ۔

،122 ۔ (آیت) ” یعلمہ “ میں ضمیر مفعول ظاہر ہے کہ ولد مریم (علیہ السلام) یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جانب ہے،۔ حضرت کا جو مقام عظمت ان الفاظ سے بیان کرنا مقصود ہے وہ تو ظاہر ہی ہے لیکن خود مریم (علیہ السلام) کی بھی تشفی خاطر کا کتنا سامان ضمنا ہوا جارہا ہے۔ ارشاد گویا یہ ہورہا ہے کہ تم غم نہ کرو اور پریشان نہ ہو۔ بےشوہر ہی اولاد کی بنا پر خلق تمہیں جتنا بدنام اور مطعون کرے گی، اس کی تلافی کے لیے اولاد بھی تمہیں کس پایہ کی مرحمت کی جارہی ہے۔ (آیت) ” الکتب “۔ یعنی کتب سماوی۔ لفظ کتاب بہ طور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔ ذھب کثیرون الی ان ال فیہ للجنس والمراد جنس الکتب الالھیۃ (روح) (آیت) ” الحکمۃ “۔ حکمت سے مراد یا تو جمیع امور دین ہیں (اور اس سے ضمنا اس پر بھی روشنی پڑجاتی ہے کہ پیغمبر دینی تعلیم، اپنی کتاب یا صحیفہ کے علاوہ بھی لے آئے ہیں) اور یا تہذیب اخلاق، جمیع ماعلمہ من امور الدین (روح) المراد بالحکمۃ تعلیم العلوم وتھذیب الاخلاق (کبیر)
Ayah 3:49

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور وہ پیغمبر ہوگا بنی اسرائیل کے لئے،123 ۔ (اور وہ کہے گا) میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں،124 ۔ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندوں کی مانند صورت بنا دیتا ہوں پھر اس میں دم کردیتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور مبروص کو اچھا کردیتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں اور تم جو کچھ کھاتے ہو اور جو کچھ اپنے گھروں میں ذخیرہ جمع کرتے ہو وہ تمہیں بتلا دیتا ہوں بیشک ان (سارے واقعات) میں تمہارے لئے ایک نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو،125 ۔

123 ۔ (آیت) ” رسولا “۔ آپ کا مرتبہ پیغمبری کا ہوگا۔ نہ آپ معاذ اللہ ساحر وشعبدہ باز ہوں گے جیسا کہ بدتمیز یہود نے آپ کو سمجھا، اور نہ (نعوذ باللہ) آپ خود خدایا فرزند خدا ہوں گے۔ جیسا کہ نصرانیوں نے اپنی بیہودگی سے فرض کرلیا۔ (آیت) ” الی بنی اسرآء یل “۔ یہ بالکل صریح ہے اس باب میں کہ آپ کی دعوت بنی اسرائیل تک محدود تھی اور دوسرے بنی اسرائیلی پیغمبروں کی طرح آپ (علیہ السلام) بھی صرف قومی نبی تھے، انجیل تک میں یہ تصریح، اتنی تحریفوں کے بعد بھی باقی رہ گئی ہے :۔ ” ان بارہ کو یسوع نے بھیجا اور انہیں حکم دے کے کہا کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔ (متی۔ 10:5 ۔ 7) ” اس نے جواب میں کہا کہ بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس بھیجا نہیں گیا “ (متی۔ 16 ۔ 24) تقریبا دو ہزار سال کی کلیسا کی ساری ملمع سازیوں کے بعد بھی آج بھی خود مسیحی فاضلوں کو اقرار ہے کہ تبلیغ نصرانیت کی یہ عالمگیری ایجاد بندہ ہے ورنہ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ہاں اس تعلیم کا پتہ نہیں۔ مسیح (علیہ السلام) نے اسرائیل کے باہر اپنے مرید تلاش نہیں کئے “۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 5 ص 63 1 طبع چہاردہم) اور مسیح (علیہ السلام) تو مسیح (علیہ السلام) حواریوں تک کا بھی یہ خیال نہ تھا :۔ ” اولین شاگردوں کو تعلیم مسیح کی عالمگیری کا احساس نہ ہوا۔ (ایضا 632) 124 ۔ (آیت) ” جئتکم بایۃ “۔ ایۃ کے لفظی معنی نشان کے ہیں، یہاں معجزہ کے مفہوم میں آیا ہے۔ معجزہ ایسے واقعہ کے ظہور کا نام ہے جو عام و متعارف سلسلہ اسباب سے الگ ہو۔ پیغمبر کے ذریعہ سے ایسے غیر عادی واقعہ کا وقوع اس امر کی دلیل ہوتا تھا کہ نصرت حق وتائید الہی پیغمبر کے ساتھ ہے۔ معجزہ کا فاعل کائنات کے بڑے چھوٹے، معمولی غیر معمولی ہر واقعہ کی طرح صرف اللہ تعالیٰ ہوتا ہے پیغمبر محض واسطہ یا ذریعہ ہوتا ہے۔ جو لوگ ایک قادر مطلق کے وجود کے قائل ہیں، ان کے لیے کسی بڑے سے بڑے معجزہ کا نفسی امکان تو قابل انکار بلکہ قابل اشتباہ بھی ہو ہی نہیں سکتا، طبعی، غیر طبعی، عادی، غیر عادی، متعارف ومجہول، جلی وخفی اسباب کی تفریق تو بشری تجربات کے لحاظ سے ہے قادر مطلق کے لیے سب بالکل یکساں ہیں۔ اب رہا کسی متعین معجزہ کا ثبوت تو اس کا تعلق منطق سے نہیں تاریخ سے۔ عقل سے نہیں نقل سے درایت سے نہیں روایت سے ہے۔ ظن وتخمین کا یہاں دخل نہیں۔ اب گفتگو صرف سند متصل اور شہادت معتبر کی رو سے ہوگی۔ معجزات مسیح (علیہ السلام) کا ذکر انجیلوں میں بہ کثرت آیا ہے (آیت) ” من ربکم “۔ یہ اضافہ اس حقیقت کی تاکید اور اس پر زور دینے کے لیے ہے کہ معجزہ کا ظہور حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ نہ کہ پیغمبر کے اختیار وقدرت سے۔ یہ اور بات ہے کہ اس سے مقصود پیغمبرہی کی تائید ونصرت ہوتی ہے۔ 125 ۔ یعنی اگر تم خبث باطن اور ضد وعناد کو چھوڑ کر ایمان کے طالب اور یقین و اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہو۔ (آیت) ” اخلق “۔ فعل خلق کا انتساب جب خالق کی جانب ہوتا ہے تو اس سے مراد نیست سے ہست کرنا، عدم سے وجود میں لانا ہوتا ہے۔ اور جب انسان کی جانب ہوتا ہے تو اس سے مراد ہوتا ہے اندازہ کرنا ایک خاص انداز سے بنانا اور صورت پیدا کرنا اور یہاں کھلی ہوئی مراد ویہی ہے۔ خلقہ تقدیدہ ولم یرد انہ یحدث معدوما (تاج) الخلق اصلہ التقدیر المستقیم (راغب) الذی یکون بالا ستحالۃ فقد جعلہ اللہ تعالیٰ بغیرہ فی بعض الاحوال والخلق لایستعمل فی کافۃ الناس الاعلی وجھین احدھما فی معنی التقدیر (راغب) ای اقدر واصور (کبیر) والمراد بالخلق التصویر والا براز علی مقدار معین (روح) (آیت) ” لکم “۔ یعنی تم میں یقین پیدا کرنے کے لیے۔ ای لاجل تحصیل ایمانکم ودفع تکذیکم ایای (روح) واللام فی لکم معناہ التعلیل (بحر) عوام ہمیشہ بجائے دلائل وعقلیات کے معجزہ وخارق عادت ہی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور یہود تو اپنی اعجوبہ پسندی میں خصوصیت کے ساتھ بڑھے ہوئے تھے، (آیت) ” من الطین “۔ اس فقرہ نے اور زیادہ کھول کر اس حقیقت کو حضرت کی زبان سے ادا کردیا ہے کہ میں عدم محض سے وجود میں ہرگز نہیں لاتا صرف مادہ میں ایک خاص ترکیب وترتیب کے ساتھ تصرف کردیتا ہوں تقیید بانہ لایوجد من العدم الصرف بل ذکرالمادۃ التی یشکل منھا صورۃ الطیر (بحر) (آیت) ” کھیءۃ الطیر “ یعنی پرندوں کی شکل کے کھلونے مٹی سے بناتا ہوں۔ طیر۔ یہاں بہ طور اسم جنس کے ہے (آیت) ” فانفخ فیہ فیکون طیرا “۔ یعنی میرے نفخ دم سے ان میں جان پڑجاتی ہے اور وہ سچ مچ کے پرندے بن کر اڑنے لگتے ہیں۔ چاروں انجیلیں جو کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا کے نزدیک مستند ہیں ان میں اس معجزہ کا ذکر نہیں لیکن جو انجیل کلیسائے قبط (مصر) Coptic Church کی مستند الیہ ہے، اس میں یہ صاف مذکور ہے جیسا کہ ڈاکٹر بج Budge نے اپنی کتاب Legends of our lady Mary کے مقدمہ صفحہ 29 میں نقل کیا ہے کہ :” وہ پرندوں کی شکل کے جانور بنادیتے تھے جو اڑ سکتے تھے “۔ (آیت) ” باذن اللہ “۔ یعنی یہ جو کچھ بھی میں خردکھاتا ہوں، اسے کہیں میری قوت وقدرت کا نتیجہ نہ سمجھ لینا یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے سب محض مشیت خداوندی وقدرت الہی کا ثمرہ ہے۔ (آیت) ” الاکمہ “۔ اندھوں کو بغیر اپریش کے بینا کردینا یوں بھی آسان نہیں چہ جائے کہ مادر زاد اندھوں کو : اور اکمہ ایسے ہی کو کہتے ہیں۔ اس معجزۂ مسیح (علیہ السلام) کا ذکر انجیلوں میں متعدد مقامات پر ہے مثلا انجیل متی۔ 9:27، 30 میں اور انجیل مرقس 8:22، 25 ۔ میں لیکن سب سے زیادہ تفصیل انجیل یوحنا 9: 1، 7 میں ہے اور اس میں تصریح اندھے کے مادرزاد یا پیدایشی ہونے کی ہے۔ (آیت) ” الابرص “۔ کو ڑھیوں کے اچھا کرنے کا ذکر انجیل میں دو جگہ ہے۔ ایک جگہ ایک کوڑھی کو شفا دینے کا اور دوسری جگہ دس کوڑھیوں کو ” جب وہ اس پہاڑ سے اترا تو بہت سی بھیڑ اس کے پیچھے ہولی اور دیکھو ایک کوڑھی نے پاس آکر اسے سجدہ کیا اور کہا۔ اے خداوند اگر تو چاہیے تو مجھے پاک صاف کرسکتا ہے اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھوا اور کہا میں چاہتا ہوں تو پاک صاف ہوجا۔ وہ فورا کوڑھ پاک صاف ہوگیا “ (متی 8 : 1 ۔ 3) ” اور ایسا ہوا کہ یروشلیم کو جاتے ہوئے وہ سامریہ اور گلیل کے بیچ سے ہو کر جارہا تھا اور ایک گاؤں میں داخل ہوتے وقت دس ( 10) کوڑھی اس کو ملے۔ انہوں نے دور کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا۔ اے یسوع، اے صاحب ہم پر رحم کر، اس نے انہیں دیکھ کر کہا جاؤ اپنے تئیں کاہنوں کو دکھاؤ اور ایسا ہوا کہ وہ جاتے جاتے پاک صاف ہوگئے (لوقا۔ 17: 1 1، 14) انجیل کے جدید ناقدوں نے طرح طرح پر جرح کرکے پچھلی صدی میں اناجیل اربعہ کا گوشہ گوشہ مجروح کرڈالا ہے۔ لیکن اتنے جزء پر یہ ناقدین بھی متفق ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کے معجزات شفا بخشی ثابت شدہ ہوں۔ (ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ج 15 ص 62) نیز انسائیکلوپیڈایا ببلیکا جو خاص انہیں تنقیدات کے لیے ہے۔ اس کا کلام 2445 (آیت) ” احی الموتی برناباحواری کی جو انجیل چلی آرہی ہے اس میں تو معجزہ احیاء اموات کی تصریح بھی موجود ہے (ص 437، 44 1 ۔ انگریزی ایڈیشن) رہیں اور اور انجیلیں جو موجودہ مسیحیوں کو مسلم اور ان کے نزدیک مستند ہیں وہ بھی اس ذکر سے خالی نہیں بلکہ ان میں متعدد مثالیں اس قسم کے معجزہ کی مذکورہ ہیں چناچہ لوقا جو یونان میں طبیب کی حیثیت سے مشہور تھے ان کی جانب منسوب انجیل میں یہ درج ہے :۔” تھوڑے عرصہ کے بعد ایسا ہوا کہ وہ مائین نامی ایک شہر کو گیا اور اس کے شاگرد اور بہت سے لوگ اس کے ہمراہ تھے جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدیک پہنچا تو دیکھا ایک مردے کو باہرلئے جاتے تھے وہ اپنی ماں کا اکلوتا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہتیرے لوگ اس کے ساتھ تھے اسے دیکھ کر خداوند کو ترس آیا اور اس سے کہا رو نہیں۔ پھر اس نے پاس آکر جنازے کو چھوا اور اٹھانے والے کھڑے ہوگئے اور اس نے کہا اے جوان میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھو وہ مردہ اٹھ بیٹا اور بولنے لگا اور اس نے اسے اس کی ماں کو سونپ دیا اور سب پر دہشت چھا گئی (لوقا۔ 7: 1 1، 16) نیز (7:22) انجیل متی (9: 18 ۔ 25) میں ایک تازہ میت (ایک سردار کی لڑکی) کے جلا اٹھانے کا ذکر ہے۔ اور انجیل یوحنا ( 1 1: 1 ۔ 44) میں بڑی تفصیل کے ساتھ ایک چار روز کے دفن شدہ مردہ لعزر کے احیاء کا۔ (آیت) ” باذن اللہ “۔ مزید تاکید وتصریح کے لئے اس فقرہ کو مکرر لایا گیا ہے کہ کہیں ان اعجازی تصرفات کو میری جانب نہ منسوب کردینا۔ جو کچھ بھی ہوا۔ محض خدائے برحق کی قدرت ومشیت سے ہوا۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ بعض اہل حال سے جو ایسے اقوال منقول ہیں جن میں وہ اپنی جانب ایسے افعال کو منسوب کرگئے ہیں جو حق تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں تو بشرط صحت نقل وہ دعوی غلبہ حال پر محمول ہوں گے لیکن انمیں جو اہل ادب ہیں وہ ہر ایسے موقع پر حضرت مسیح (علیہ السلام) ہی کی طرح باذن اللہ یا اس کے مرادف کسی فقرہ کی قید لگا دیتے ہیں۔ (آیت) ” بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم “۔ یہ بات آیت نے مثال اور نمونہ کے طور پر فرمائی یعنی تمہاری مخفی چیزوں پر بھی اللہ مجھے مطلع کردیتا ہے (آیت) ” ایۃ “۔ یعنی نشان میرے پیغمبر اور مؤید من اللہ ہونے کا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ہاتھ سے خوارق کا بہ کثرت صادر ہونا تاریخ کا ایک مسلم واقعہ ہے خواہ ان کی توجیہ مفکرین کچھ بھی کرتے رہے ہوں۔ یہود نے انہی خوارق کو دیکھ کر آپ کو ساحر وشعبدہ باز کہنا شروع کردیا چناچہ جو زیفس (متوفی ( 100 ء) نے اپنی تاریخ آثار یہود میں آپ کا ذکر اس حیثیت سے کیا ہے اور جیوش انسائیکلوپیڈیا میں آپ کا ذکر ان الفاظ میں لکھا چلا آتا ہے :۔ ” یسوع نے بہ حیثیت معلم دین یا قانون ساز کے نہیں بلکہ بہ حیثیت شعبدہ باز کے اپنی زندگی میں شہرت وناموری گلیل کے سادہ مزاج باشندوں میں حاصل کی “ (جلد 7 صفحہ 167)