3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 3:121

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کیجئے جب آپ صبح کو اپنے گھر والوں (کے پاس) سے نکلے مسلمانوں کو قتال کے لیے مناسب مقامات پر لے جاتے ہوئے،249 ۔ اور اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے،250 ۔

249 ۔ (دامن جبل احد کی طرف) اب ذکر جنگ احد کا شروع ہورہا ہے۔ احد مدینہ منورہ سے شمال کی جانب ڈھائی تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی ہے۔ بدر میں شکست کھائے ہوئے مشرکین مکہ جوش انتقام سے دیوانہ ہورہے تھے۔ ہجرت کا تیسرا سال قریب ختم کے تھا۔ اور واقعہ بدر پر ایک سال گزر چکا تھا، مکہ والوں کی تیاریاں مکمل ہوگئیں۔ اب کی تیاریاں بڑے انتظام واہتمام کے ساتھ اور بہت بڑے پیمانہ پر ہوئی تھیں۔ قریش کی جمعیت 3 ہزار کی تھی، ان میں 700 جوان زرہ پوش تھے، 200 سوار اور باقی شترسوار تھے، قوم اور قبیلہ کے بڑے بڑے سردار سب ساتھ ہوئے، بڑی بات یہ کہ عورتیں بھی شریک جنگ ہوئیں۔ ہاتھوں میں باجے لیے ہوئے، بڑی برجوش نظمیں پڑھتی جاتی تھیں اور مقتولین بدر کے انتقام پر اپنے عزیزوں، قریبوں کو خوب ابھارتی جاتی تھیں، جنگ میں عورتوں کی شرکت آج بیسویں صدی کی ” جدت “ نہیں، جاہلی مشرک قوموں کا پرانا شعار ہے، اسلامی فوج اس کے مقابلہ میں کل ایک ہزار تھی اور سامان کی کیفیت یہ تھی کہ علاوہ رسول اللہ ﷺ کی سواری مبارک فوج بھر میں صرف ایک گھوڑا اور تھا۔ اس سے بڑھ کر ستم یہ ہوا کہ صبح سویرے عین اس وقت جب غنیم سامنے نظر آیا اور مسلمان اپنے مقدس جامیر الجیش کے ساتھ ابھی نماز ہی میں مشغول تھے، عبداللہ بن ابی مدینہ کا پرانا اور ذی اثر لیڈر یہ عذر کرکے کہ جب ہماری رائے نہیں سنی جاتی اور شہر کے اندر ہی محصور ہو کر نہیں لڑا جاتا تو ہم بیکار اپنی جانیں دوسرے کے کہنے پر کیوں دیں اپنے 300 ساتھیوں کو لے کر شہر کو واپس چلا گیا، لشکر اسلام کی کل جمعیت 700 کی رہ گئی، ان میں بھی زرہ پوش کل 100 ۔ مقابل فوج تعداد میں چوگنی سے زائد۔ اور سازوسامان کے لحاظ سے بھی کہیں زیادہ آراستہ ! (آیت) ” واذ غدوت من اھلک “ میں من۔ (آیت) ” عند “۔ کے معنی میں ہے اور آنحضرت ﷺ اس وقت حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ سے برآمد ہوئے تھے۔ کان الخروج من حجرۃ عائشۃ (روح) یعنی خرجت بالصباح من منزلک من عند عائشۃ (قرطبی) (آیت) ” مقاعد للقتال “۔ ترتیب صفوف اور مورچوں کی تناسب موضعیت کی اہمیت جس طرح سکندر ودارا کے زمانہ میں تھی، جدید فن حرب میں بھی بالکل مسلم، اور ملٹری سائنس کی کتابوں میں ” پوزیشن “ Position کی اہمیت کی تشریح میں صفحہ کے صفحہ وقف رہتے ہیں، امت کا رہبر کامل، مقدس نبی ہونے کے علاوہ سپہ داراعظم کی حیثیت سے بھی بےنظیر تھا۔ (Tom andre) نامی بیسویں صدی کا ایک مسیحی مؤرخ عرب ہے، وہ اپنی سوانح محمد ﷺ میں آپ ﷺ کے اس کمال خصوصی کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے ” برخلاف اپنے مخالفین کے جو محض ہمت و شجاعت ہی رکھتے تھے۔۔۔ محمد ﷺ نے کہنا چاہیے کہ فن حرب کی بھی نئی راہ نکالی۔ مکہ والوں کی بےدھڑک اور اندھا دھند جیوٹ کے مقابلہ میں محمد ﷺ نے خوب دوراندیشی اور سخت قسم کے نظم وانضباط سے کام لیا “۔ (صفحہ 203) (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی) مولانا شبلی مرحوم نے الفاظ کے ذریعہ سے گویا پورا معرکہ احد کا کھینچ دیا ہے :۔ آنحضرت ﷺ نے احد کو پشت پر رکھ کر صف آرائی کی، مصعب بن عمیر کو علم عنایت کیا، زبیر ؓ بن عوام رسالہ کے افسر مقرر ہوئے، حضرت حمزہ ؓ کو اس حصہ فوج کی کمان ملی جو زرہ پوش نہ تھے، پشت کی طرف احتمال تھا کہ دشمن ادھر سے آئیں، اس لیے پچاس تیر اندازوں کا دستہ متعین فرمایا، اور حکم دیا کہ گو لڑائی فتح ہوجائے، تاہم وہ جگہ سے نہ ہٹیں، عبداللہ بن جبیران تیر اندازوں کے افسر مقرر ہوئے، قریش کو بدر میں تجربہ ہوچکا تھا اس لیے انہوں نے نہایت ترتیب سے صف آرائی کی میمنہ پر خالد بن ولید کو مقرر کیا، میسرہ عکرمہ کو دیا جو ابوجہل کے فرزند تھے، سواروں کا دستہ صفوان بن امیہ کی کمان میں تھا، جو قریش کا مشہور رئیس تھا، تیراندازوں کے دستے الگ تھے، جن کا افسر عبداللہ بن ابی ربیعہ تھا، طلحہ علمبردار تھا، اور سوگھوڑے کو تل رکاب میں تھے کہ ضرورت کے وقت کام آئیں (سیرۃ النبی جلد 1 صفحہ 273 طبع اول) 250 ۔ (آیت) ” سمیع علیم “۔ سمع وعلم کی صفات کو یاد دلا کر اس طرف اشارہ کردیا کہ اس وقت مخالفین وموافقین جو کچھ اپنی اپنی جگہ پر کہہ سن رہے ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں آچکا، اور اس موقع پر مخالفین وموافقین دونوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس میں سے کوئی شے اس سے مخفی نہ رہی۔
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

جب تم سے دو جماعتیں اس کا خیال کر بیٹھی تھیں کہ ہمت ہاردیں،251 ۔ درآنحالیکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا،252 ۔ اور مسلمانوں کو تو اللہ ہی پر اعتماد رکھنا چاہیے،253 ۔

251 ۔ (اور جنگ سے الگ ہوبیٹھیں۔ لیکن اس ارادہ پر عمل نہیں کرنے پائیں) (آیت) ” ھمت “۔ ھم “۔ کے معنی میں عربی میں پختہ قصد وعزم کے بھی ہیں اور محض خفیف سے خیال اور شائبہ قصد کے بھی، یہاں مراد یہی آخری معنی ہیں، الھم قد یراد بہ العزم وقد یراد بہ الفکر وقد یراد بہ حدیث النفس (کبیر) والظاھر ان ھذا لھم لم یکن عن عزم بل کان مجرد حدیث نفس ووسوسۃ (روح) (آیت) ” طآئفتن “ ان دو جماعتوں سے مراد قبیلہ اوس کے بنی حارثہ اور قبیلہ خزرج کے بنی سلمہ ہیں۔ الطائفتان بنو سلمۃ من الخزرج وبنو حارثۃ من الاوس (ابن ہشام) ان دونوں دستوں نے عبداللہ بن ابی کی مثال دیکھ آن کی آن کمزوری اور بد ہمتی محسوس کی لیکن اللہ کے فضل نے دستگیری کی، اور وسوسہ کو وسوسہ کے درجہ سے آگے بڑھنے نہ دیا، اور یہ خیال بھی جو انہیں پیدا ہوا، اپنی قلت تعداد، قلت سامان، غرض ضعف مادی کی بنا پر پیدا ہوا نہ کی ضعف ایمان سے۔ انما کلہ ذلک منھا من ضعف او وھن اصابھما من غیر شک فی دینھما (ابن ہشام) انیسویں صدی عیسوی کا انگریز باسورتھ آسمتھ ابتدائی غزوات اسلام سے متعلق جو عموما تاریخی استناد رکھتے ہیں، کہتا ہے کہ یہ مظاہرے اخلاص وایثار و شجاعت کے لحاظ سے ہومر کے افسانوں سے بڑھے ہوئے ہیں (محمد اینڈ محمد نزم صفحہ 207) 252 ۔ (چنانچہ اس موقع پر بھی اس نے دستگیری کی اور اپنا فضل قائم رکھا) آیت ان دونوں ٹکڑیوں پر اظہار عتاب کے لیے نہیں، اظہار عنایت خاص والتفات کے لیے ہے “۔ حافظھما وولا ھما عن ذلک (ابن عباس ؓ 253 ۔ (اور چاہیے کہ آئندہ یاس وبدہمتی کے جذبات کو اپنے پاس بھی نہ پھٹکنے دیں) توکل طریقت کے اعلی صفات میں سے ہے اور محققین صوفیہ نے اس کی حقیقت پر مفصل بحثیں کی ہیں۔
Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور یقیناً اللہ نے تمہاری نصرت کی بدر میں حالانکہ تم پست تھے، تو اللہ سے ڈرتے رہو، عجب کیا کہ شکر گزار بن جاؤ،254 ۔

254 ۔ (یعنی تقوی کی عادت تمہیں شکر گزار بنا دے گی) (آیت) ” بدر “۔ مدینہ کے جنوب ومغرب میں کوئی 20 میل کے فاصلہ پر ایک پڑاؤ اور منڈی کا نام ہے۔ اس وقت اسے اہمیت اس لیے حاصل تھی کہ یہاں پانی کی افراط تھی اور یہ عرب میں ایک بڑی چیز تھی۔ توحید اور شرک کے درمیان یہیں سب سے پہلا قابل ذکر تصادم بروز جمعہ 17 رمضان 2 ؁ ہجری ( 1 1، مارچ 624 ء۔ ) کو پیش آیا تھا، اس غزوہ نے گویا اسلام کی اور اس طرح بالواسطہ ساری دنیا کی تاریخ کا رخ ہی پلٹ دیا تھا۔ فرنگی مؤرخین بھی اس کی اہمیت کے پوری طرح قائل ہیں۔ ہسٹورینس ہسٹری آف دی ورلڈ میں ہے :۔ فتوحات اسلامی کے سلسلہ میں جنگ بدر انتہائی اہمیت رکھتی ہے ‘۔ (جلد 8 صفحہ 122) اور امریکی پروفیسر ہٹی Hitti کی ” ہسٹری آف دی عربس “ میں ہے :۔ ” یہ اسلام کی سب سے پہلی فتح مبین تھی “۔ (صفحہ 1 17) (آیت) ” وانتم اذلۃ “ یعنی تعداد میں قلیل اور سامان میں حقیر۔ مسلمان تعداد میں کل 3 13 تھے، اس ” فوج “ کے ہمراہ گھوڑے صرف دو تھے اور اونٹ 70 کی تعداد میں، انہی پر لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔ ای بقلۃ العدد والسلاح (جلالین) معناھا قلیلون (قرطبی) فی حالۃ قلۃ وذلۃ (بحر) یعنی ما کانوا علی من الضعف وقلۃ السلاح والمال والمرکوب (بحر) (آیت) ” فاتقوا اللہ “۔ یعنی جیسا کہ ابھی واقعہ بدر کی مثال میں تم نے دیکھ لیا۔ تم نے دیکھ لیا۔ تم نے اپنی طرف سے تقوی کا حق ادا کردیا، تو ادھر سے فضل باری اور نصرت الہی نے بھی کیسی دستگیری کی۔ (آیت) ” ولقد نصرکم اللہ ببدر “۔ خطاب مومنین سے ہے، انہیں مستقبل میں ثابت قدم رکھنے کے لیے ماضی قریب سے نظیر لائی جارہی ہے کہ دیکھو ابھی پچھلے ہی سال تم نے کس قدر نازک موقع پر اعتماد علی اللہ سے کام لیا تو فضل الہی نے تمہیں کیسے حیرت انگیز طریقہ پر کامیاب کردکھایا۔
Ayah 3:124

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

(وہ وقت یاد کیجئے) جب آپ مومنین سے کہہ رہے تھے کہ کیا یہ تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری مدد تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں سے کرے،255 ۔

255 ۔ (جو آسمان سے خاص اسی غرض کے لیے اتارے گئے ہوں) (آیت) ” اذ تقول “۔ میں ذکر اس وقت کا ہے، جب میدان بدر میں یہ خبر اڑگئی تھی کہ غنیم کو زبردست کمک پہنچ گئی ہے، اور آپ ﷺ مومنین کو تسلی دے رہے تھے۔ (آیت) ” الن یکفیکم “۔ تمہارے لیے کافی نہیں، یعنی کیا تمہاری تسکین و تسلی کے لیے یہ کافی نہیں۔ (آیت) ” یمدکم ربکم “۔ امداد غیبی کے موقع پر صفت ربوبیت کا اظہار اور وہ بھی مخاطبین کی طرف اضافت کے ساتھ بہترین پیرایہ بلاغت واسلوب بیان ہے، آج کے ماہرین فن حرب پر بھی خوب روشن ہے کہ سپاہ کی ہمت قائم رکھنا، ان کے Morale کا درست رکھنا جنگ میں کامیابی کا کتنا بڑا اور اہم عنصر ہے !
Ayah 3:125

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

کیوں نہیں، بشرطیکہ تم نے صبر وتقوی قائم رکھا،256 ۔ اور اگر وہ تم پر فورا آپڑیں گے،257 ۔ تو تمہارا پروردگار تمہاری مدد پانچ ہزار نشان کیے ہوئے فرشتوں سے کرے گا،258 ۔

256 ۔ (میدان جنگ میں اور اطاعت رسول ﷺ سے منہ نہ موڑوگے) غور کرکے دیکھ لیا جائے سارا زور صبر وثبات اور اطاعت رسول ﷺ پر ہے۔ جنگ احد سے قبل امت کے سپہدار اعظم ﷺ نے جو خطبہ اپنی سپاہ کے سامنے دیا تھا، اور جو حدیث کی کتابوں میں منقول چلا آتا ہے، اس میں یہ مضمون خصوصیت کے ساتھ ہے کہ :۔ اگر ثابت قدم رہوگے تو اللہ تمہی کو مظفر ومنصور کرے گا، اپنے پروردگار پر اعتماد رکھو، ثابت قدم رہو، اور فتح تمہی کو نصیب ہوگی “۔ 257 ۔ (اور اچانک حملہ کی حالت میں امداد ” بشری “ عادۃ ممتنع ہوتی ہے) (آیت) ” یاتوکم “ کے فاعل وہی مخالفین ومعاندین ہیں۔ ای المشرکون “ (روح) (آیت) ” من فورھم “۔ لفظۃ الفور تدل علی السرعۃ والعجلۃ “۔ (بحر) استعیر للسرعۃ (بیضاوی) 258 ۔ (آیت) ” مسومین “۔ یعنی کسی امتیازی علامت کے ساتھ ممتاز۔ ای معلمین بعلامات (قرطبی) رہا یہ امر کے واقعۃ نزول ملائکہ ہو اور انہوں نے کافروں سے قتال کیا تو قرآن اس باب میں خاموش ہے، اور روایتوں میں قول دونوں قسم کے ملتے ہیں۔ ” لم تتعرض الایۃ الکریمۃ لنزول المآئکۃ ولا لقتالھم المشرکین وقتلھم بل ھو امر مسکوت عنہ فی الایۃ (بحر) قال ابن عباس و مجاھد لم تقاتل الملائکۃ الایوم بدر وقال بعضہم انما کانت الفائدۃ فی کثرۃ الملائکۃ انھم کانوا یدعون ویسبحون ویکثرون الذین یقاتلون یومئذ فعلی ھذا لم تقاتل الملائکۃ یوم بدر وانما حضروا للدعاء بالتثبیت والاول اکثر (قرطبی) لا دلیل فیھا علی وقوع قتالھم ولا علی عدمۃ لا حتمالھا الا مرین وبکل قال بعض (روح) عامر شعبی کی روایت ہے کہ مسلمان کو خبر یہ پہنچی تھی کہ مشرکین کی مدد کے لیے کرزبن جابر محاربی آرہا ہے، اس ڈر کو مسلمانوں کے دل سے دور اور انہیں ڈھارس بندھانے کے لیے ان سے کہا گیا کہ تمہاری کمک پر بھی تو فرشتوں کے جھنڈ موجود ہیں، لیکن ادھر نہ کر زمع اپنی جماعت کے آیا اور نہ ادھر فرشتوں کو قتال کی ضرورت پڑی۔ فبلغت الکرز الھزمیۃ فرجع ولم یمدھم بالخمسۃ (ابن جریر) فبلغ کرز اواصحابہ الھزیمۃ فلم یمدھم ولم تتنزل الخمسۃ (ابن جریر)
Ayah 3:126

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور یہ تو اللہ نے اس لیے کیا کہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہیں اس سے دلجمعی حاصل ہوجائے، ورنہ نصرت تو بس زبردست اور حکمت والے اللہ ہی کی طرف سے ہے،259 ۔

259 ۔ (نہ کہ فرشتوں، یا اور کسی مخلوق کی طرف سے) یہ گویا صاف طور پر بتادیا کہ حقیقۃ متصرف ذات باری تعالیٰ ہے، فرشتے ہوں یا کوئی اور، کسی کا بھی ذریعہ امداد ہونا سبب ظاہری کے درجہ سے زیادہ نہیں، ملائکہ پرستی، دیوتا پرستی کی جڑ یہیں سے کٹ جاتی ہے۔ ضمنا اس جانب بھی اشارہ ہوگیا کہ اسلام کی کامیابی، اور فتح مندی حقیقۃ تمامتر تائد غیبی کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” وما جعلہ “ میں ضمیر اسی وعدہ امداد ملائکہ کی جانب ہے۔ الھاء للوعد او الامداد (قرطبی 9 ای الا مداد (روح) (آیت) ” الا بشری لکم ولتطمئن قلوبکم بہ “۔ یعنی یہ تو فتح نصرت کا صرف مقدمہ تھا۔ (آیت) ” وما النصر “ سے مراد نصرت حقیقی وواقعی ہے۔ (آیت) ” العزیز “۔ اس پر قادر کہ جب اور جیسے بلااسباب ظاہر، بلکہ خلاف اسباب ظاہر فتح دلا دے اور کامیاب کرادے۔ (آیت) ” الحکیم “۔ عام فطرت بشری کی رعایت سے اسباب ظاہری کا جمع کردینے والا۔
Ayah 3:127

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(اور یہ نصرت اس غرض سے تھی) تاکہ کفر کرنے والوں میں سے ایک گروہ کو ہلاک کردے یا انہیں خوار کردے کہ وہ ناکام ہو کر واپس جائیں،260 ۔

260 ۔ ذکر ابھی غزوۂ بدر کا چل رہا ہے۔ اور اشارات وتلمیحات اسی کی جانب ہیں۔ (آیت) ” لیقطع طرفا “۔ قطع یہاں ہلاک کرنے کے معنی میں ہے۔ اور ل، کا تعلق نصرکم (آیت ماقبل) سے ہے، ونظم الایۃ ولقد نصرکم اللہ ببدر لیقطع (قرطبی) ای لیھلک جماعۃ (راغب) لیھلک طائفۃ منھم (کشاف) (آیت) ” لیقطع طرفا من الذین کفروا “۔ یعنی کافروں کو تمہارے ہاتھوں تباہ وہلاک کرادے جیسا کہ جنگ بدر کے موقع پر ہوا، کہ قریش کے لیڈروں میں سے ستر (70) کی تعداد میں اس روز قتل ہوئے اور اسی قدر قید بھی (آیت) ” یکتبھم “۔ یعنی دنیا کی نظروں میں ذلیل ورسوا ،
Ayah 3:128

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں، (اللہ) خواہ ان کی توبہ قبول کرے، خواہ انہیں عذاب دے اس لیے کہ وہ ظالم ہیں،261 ۔

261 ۔ (اور اس لیے فوری عذاب کے مستحق) روایتوں میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے چند شدید اور موذی قسم کے کافروں کے حق میں بددعا کی تھی، اس پر آیت نازل ہوئی (آیت) ” یتوب علیہم “۔ یعنی انہیں قبول اسلام کی توفیق دے دے، اتنے ہی ٹکڑے سے ظاہر ہوگیا تھا کہ مکہ کے کافروں میں سے کچھ ضرور ایمان لے آئیں گے، چناچہ لے آئے۔ (آیت) ” یعذبھم “۔ یعنی اسی دنیا میں عذاب دے دے۔
Ayah 3:129

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،262 ۔

262 ۔ (سو معاملہ مغفرت و رحمت کرنے کے لیے اسے کسی خ اس سبب کی ضرورت ہی نہیں) (آیت) ” یغفر لمن یشآء “۔ اور یہ مغفرت اس کے عام قانون رحمت کے مطابق ہوگی، (آیت) ” یعذب من یشآء “۔ اور یہ عذاب اس کے خاص قانون حکمت کے ماتحت ہوگا، اللہ کی ملکیت آسمان و زمین پر حاشیے سورة بقر میں گزر چکے۔
Ayah 3:130

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو سود کئی کئی حصہ بڑھا کر نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاجاؤ،263 ۔

263 ۔ (آیت) ” واتقوا اللہ لعلکم تفلحون “ ، تقوی اور فلاح میں یہ لزوم بتاکرگویا اس حقیقت کا اظہار کردیا کہ فلاح و کامیابی یا دنیا میں عافیت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا راز، احکام تقوی پر عمل کرنے میں ہے۔ (آیت) ” لعلکم۔ لعل “۔ کے لفظی معنی ” عجب نہیں “۔ کے ہیں۔ لیکن اوپر گزر چکا ہے کہ (آیت) ” لعل “۔ جب وعدۂ الہی کے بیان میں آتا ہے تو اس کے مفہوم میں بجائے شک وتردد کے یقین پیدا ہوجاتا ہے۔ اور ترجمہ ” تاکہ “ سے صحیح ہوتا ہے۔ قال اھل التفسیران لعل وعسی من اللہ للتحقیق (مدارک) (آیت) ” لا تاکلوا الربوا “۔ یعنی سودی کاروبار، لین دین کو بالکل حرام سمجھو، حرمت سود پر حاشیے پارۂ سوم میں ختم سورة بقر کے قریب گزر چکے۔ (آیت) ” اضعافا مضعفۃ “۔ سود کم بخت کی خاصیت ہی یہ ہے کہ جو مفلس ہیں وہ مفلس تر اور جو امیر ہیں وہ امیر تر ہوتے جاتے ہیں۔ آیت میں سود کے اسی دوگنے چوگنے ہوجانے والے وصف کی طرف اشارہ ہے، یہ مراد نہیں کہ سود مرکب نہ لو اور سود مفرد لے سکتے ہو، متکلمین نے کہا ہے کہ آیت سے فرقہ مرجۃ کا رد نکل رہا ہے، جن کا عقیدہ یہ تھا کہ ایمان کے بعد کوئی معصیت کفر نہیں، اور نہ مومن کے لیے کسی حال میں دوزک کا عزاب ہے، فیہ رد علی المرجءۃ فی قولھم لا یضر مع الایمان ذنب ولا یعذب بالنار اصلا (مدارک)
Ayah 3:131

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے،264 ۔

264 ۔ یعنی وہ جہنم کی آگ اصلا ہے کافروں ہی کے لیے کہیں تم کافروں کے سے اعمال کر کر کے اپنے ان کی لپیٹ میں نہ لے آنا۔ اکثر ائمہ تفسیر اس طرف گئے ہیں کہ یہ وعید ان لوگوں کے لیے ہے، جو سود خواری کو عقیدۃ حلال سمجھتے تھے اور اس لیے حدود کفر میں داخل تھے، قال کثیر من المفسرین وھذا الوعید لمن استحل الربوا ومن الستحل الربوا فانہ یکفر (قرطبی) وقال ابن عباس ھذا تھدیدلل مومنین لئلا یستحلوا الربوا (بحر) وقال الزجاج والمعنی، اتقوا ان تحلوا ما حرم اللہ فتکفروا (بحر) امام ابوحنیفہ (رح) سے منقول ہے کہ یہ قرآن مجید کی بہت ہی زیادہ ڈرانے والی آیت ہے، کہ اس میں دوزخ سے جو حقیقۃ کفر کی سزا ہے، ان لوگوں کو بھی ڈرایا گیا ہے، جو اللہ کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں سے نہیں بچتے۔ کان ابو حنیفۃ (رح) یقولھی اخوف ایۃ فی القرؤن حیث اوعداللہ المنافقین بالنار المعدۃ للکفرین ان لم یتقوہ فی اجتناب محارمہ (مدارک)
Ayah 3:132

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے،265 ۔

265 ۔ (دنیا اور آخرت، دونوں میں) (آیت) ” لعل “۔ پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا ہے۔ (آیت) ” واطیعوا “۔ یعنی اللہ اور رسول کی اطاعت خوش دلی کے ساتھ کرو۔
Ayah 3:133

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور مغفرت کی طرف جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے، ڈرو اور جنت کی طرف (دوڑو) جس کا عرض سارے آسمان اور زمین ہیں،266 ۔ اور جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے،267 ۔

266 ۔ (اپنے اعمال کے ذریعہ سے) (آیت) ” الی مغفرۃ من ربکم “۔ ہر مومن کا منتہائے عمل اور منزل مقصود یہی مغفرت پروردگار ہونا چاہیے۔ 267 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام محض ایک سلبی حقیقت کا نام نہیں، محض گناہوں سے بچنا کافی نہیں، بلکہ مسلمانوں کو حکم اس کا بھی ملا ہے کہ اسلام کے ایجابی پہلو کا بھی پورا حق ادا کریں، نیکیوں کی جانب لپکیں اور اس طرح جنت کو حاصل کرکے رہیں جو رضاء الہی کا محل اور ظہور رحمت کامل کا مقام ہے۔ (آیت) ” عرضھا السموت والارض “۔ یعنی وہ بےانتہا وسیع ہے، اس میں سب کی گنجائش ہے۔ وہاں چپقلش اور عدم گنجائش کا احتمال ہی نہیں، جنت کی بجنسہ پیمائش بیان کرنا مقصود نہیں، بلکہ صرف اس کی بےانتہاوسعت اور گنجائش کا اظہار مقصود ہے، عربی محاورہ میں انتہاء وسعت کے اظہار کا یہی پیرایہ ادا ہے۔ کنایۃ عن غایۃ السعۃ بما ھو فی تصور السامعین (روح) المقصود فی وصف سعۃ الجنۃ وذلک لانہ لاشئی عندنا اعرض منھما (کبیر) قال القفال لیس المراد ھھنا ماھو خلاف الطول بل ھو عبارۃ عن السعۃ (کبیر)
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو فراغت اور تنگی (دونوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کے ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے،268 ۔

268 ۔ آرنلڈ وغیرہ فرنگی فاضلوں نے کہا ہے کہ عرب جیسی تندخو، جنگجو، جدل پیشہ قوم کے سامنے حلم وضبط، صلح ا آشتی کے ایسے معیار پیش کرنا، اور پھر اس تعلیم کو کامیاب بنانا بجائے خود ایک اعجاز ہے۔ (آیت) ” ینفقون “۔ یعنی راہ حق میں، دین کی خدمات میں خرچ کرتے رہتے ہیں، مطلق خرچ کرتے رہنا، چاہے کیسے ہی بیہودہ مقاصد کے لیے ہو، ظاہر ہے کہ شریعت میں ہرگز پسندیدہ نہیں، (آیت) ” فی السرآء والضرآء “۔ یعنی ہر حال اور ہر صورت میں دین اور امت کی مالی ضرورتوں سے متعلق خرچ کرتے ہیں، یہ نہیں کہ خوش حال ہوئے تو مسرفانہ عیش پرستیوں میں پڑکر نیک کاموں سے ہاتھ ہی روک لیا یا تنگدست ہوئے تو ناشکری میں آکر اپنی بساط بھر بھی خرچ کرنے سے رک گئے (آیت) ” الکظمین الغیظ “۔ کظم کہتے ہیں غصہ کے ضبط کرجانے کو، تو یہ لوگ وہ ہوئے جو غصہ سے مغلوب نہیں ہوجاتے، بلہ اس سے مقابلہ کرکے اسے زیر کرلیتے ہیں، اور اپنے اوپر قابو رکھتے ہیں، بعض اہل تحقیق نے یہ خوب لکھا ہے کہ یہاں فاقدمن الغیظ ارشاد نہیں ہوا ہے یعنی مدح اس کی نہیں آئی ہے کہ غصہ سرے سے آتا ہی نہیں ہو، بلکہ اس کی آئی ہے کہ اسے قابو میں رکھا جائے، اور عقل جذبات کے اوپر حاکم رہے، غصہ پیدا ہوتا ہے حرارت طبعی یا حمیت سے، اسے سرے سے فنا کردینا ہرگز اسلام کو مقصود نہیں، مقصود اسے صرف حدود کے اندر رکھنا ہے، غصہ مطلق صورت میں ہرگز ممنوع نہیں، نہ شرعا معصیت نہ عقلا مضر، بلکہ اگر حدود کے اندر ہے اور محل مناسب پر پیدا ہو تو عیب نہیں ہنر ہے، غصہ کے ضبط کرجانے کی فضیلتیں حدیث نبوی میں بہ کثرت وارد ہوئی ہیں، مثال کے لیے صرف ایک حدیث ملاحظہ ہو، من کظم غضبا وھو یقدر علی انفاذہ ملأاللہ قلبہ امنا و ایمانا۔ (قدرت نفاذ کے باوجود جو شخص اپنے غصہ کو روک لے جائے اللہ اس کا قلب امن و ایمان سے لبریز کردے گا۔ (آیت) ” العافین عن الناس “۔ یعنی لوگوں کے قصوروں، اور خطاؤں کو معاف بھی کردیتے ہیں، یہی نہیں کہ باوجود قدرت واستطاعت عطا وار سے انتقام نہیں لیتے، بلکہ اسے معاف بھی کردیتے ہیں، یہ درجہ کا ظمین الغیظ سے بلند تر ہے، وہ اگر محض ایک سلبی کیفیت تھی، تو یہ ایک ایجابی مرتبہ ہے۔ (آیت) ” المحسنین “۔ محسنین کا درجہ کا ظمین وعافین دونون سے بلند تر ہے۔ یعنی عفو سے بھی آگے بڑھ کر یہ اور حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، خلاقی تعلیم کے موقع پر قرآن نے اکثر تدریج کو پیش نظر رکھا ہے، اور اس کی بہترین مثال یہ آیت ہے، تینوں مقامات فضیلت کے ہیں لیکن یہ تیسرا مقام فاضل ترین ہے۔ محدث بیہقی نے سیدنا حضرت علی بن حسین ؓ سے متعلق روایت نقل کی ہے کہ آپ کو ایک جاریہ وضو کرا رہی تھی کہ لوٹا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر آپ پر گرا۔ غصہ آنا امر طبعی تھا۔ جاریہ نے فورا الفاظ قرآنی (آیت) ” الکظمین الغیظ “۔ اپنی زبان سے ادا کئے۔ آپ کا غصہ دور ہوگیا، پھر جاریہ نے (آیت) ” العافین عن الناس “۔ پڑھا، آپ نے فرمایا ” میں نے معاف کردیا “۔ اب جاریہ کی زبان پر (آیت) ” واللہ یحب المحسنین “۔ آیا آپ نے فرمایا ” جا میں نے تجھے آزاد کردیا “۔ (روح) رسول اسلام ﷺ کی زندگی تو خیر من وعن، قرآن کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی تھی ہی۔ رسول ﷺ سے متعلق قرب و قرابت رکھنے والے بھی کس درجہ نفوس قدسیہ کے مالک بن چکے تھے۔
Ayah 3:135

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی بیجا حرکت کربیٹھتے یا اپنے ہی حق میں کوئی ظلم کر ڈالتے ہیں تو اللہ کو یاد کرلیتے ہیں اور اپنے گناہوں سے معافی طلب کرنے لگتے ہیں،269 ۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہے کون جو گناہوں کو بخشتا ہو۔ اور یہ (لوگ) اپنے کیے ہوئے پر اصرار نہیں کرتے درآنحالیکہ وہ جان رہے ہوں،270 ۔

269 ۔ (قاعدہ شرعی کے مطابق) (آیت) ” فعلوافاحشۃ “۔ فاحشۃ کا اطلاق ہر گناہ کے لیے عام ہے، یہاں مراد وہ برائی ہے جو کسی دوسرے کے ساتھ کی جائے یعنی کسی حق عبد کی ادائی میں کوتاہی ہوجائے، الفاحشۃ مطلق علی کل معصیۃ (قرطبی) اصل الفحش مجاوزۃ الحد فی السوء (روح) الفاحشۃ الذنب الذی فیہ۔۔ (بحر) (آیت) ” اوظلموا انفسھم “۔ یعنی حقوق اللہ کا اتلاف اگر ان سے ہوجائے۔ ولعل الفاحشۃ مایتعدی وظلم النفس ما لیس کذلک (بیضاوی) ظلم النفس مابین العبد وبین ربہ (بحر) (آیت) ” ذکروا اللہ “۔ کا اشارہ اس طرف ہے کہ نافرمانیاں ان سے پورے قصد وتعمد کے بعد خباثت نفس کی بنا پر سرزد نہیں ہوا کرتیں، بلکہ احکام الہی کا ذہول ان کے ذہن سے وقتی طور پر ہوجاتا ہے۔ آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ گاہ گاہ لغزشوں کا صادر ہوتے رہنا، قرب وتعلق مع اللہ کے منافی نہیں۔ اصل اور مقدم شے ہر غلطی اور کوتاہی کی تلافی اور تدارک کی فکر اور اس کی مناسب تدبیر ہے۔ (آیت) ” فاستغفروا “۔ استغفار صحیح ومعتبر وہی ہے جو محض زبان سے نہیں دل کی حسرت وندامت کے ساتھ اور اس عزم کے ساتھ ہو کہ اب وہ گناہ دوبارہ نہیں ہونے پائے گا ورنہ اگر ہاتھ میں تسبیح چل رہی ہے اور دل بدستور گناہوں سے لذت لے رہا ہے تو اکابر نے کہا ہے کہ یہ استغفار خود قابل استغفار ہے اور عجب نہیں کہ ایسے استغفار کا شمار استہزاء میں ہوجائے الاستغفار المطلوب ھو الذی یحل عقد الاصرار ویثبت معناہ فی الجنان لاالتلفظ باللسان (قرطبی) روی عن الحسن البصری انہ قال استغفار نا یحتاج الی استغفار (قرطبی) ھذا یقولہ فی زمانہ فکیف فی زماننا ھذا الذی یری فیہ الانسان قائما علی الظلم حریصا علیہ لا یقلع والسبحۃ فی یدہ زاعما انہ یستغفر اللہ من ذنبہ۔۔۔ واستخفاف (قرطبی) 270 ۔ (یعنی اپنی کسی غلطی پر جان بوجھ کر ہرگز جمے نہیں رہتے) (آیت) ” ومن یغفر الذنوب الا اللہ “۔ یہ تنبیہ ہے اس پر کہ گناہوں کی معافی صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، کسی نبی، ولی، فرشتہ وغیرہ کے ہاتھ میں نہیں، اور اس میں خصوصیت کے ساتھ رد ہے اس مسیحی عقیدہ کا کہ گناہوں کی معافی مسیح بلکہ ان کے نائبوں کے اختیار میں ہے۔ ملاحظہ ہوانجیل :۔ ” جس طرح باپ نے مجھے بھیجا ہے، میں تمہیں بھیجتا ہوں، اور یہ کہہ کر ان پر پھونکا اور ان سے کہا کہ روح القدس کو لو، جن کے گناہ تم بخشو، ان کے بخشے گئے ہیں اور جن کے گناہ تم بخشو، ان کے بخشے گئے ہیں، اور جن کے گناہ تم قائم رکھو، ان کے قائم رکھے گئے ہیں “۔ (یوحنا۔ 20:2 1 ۔ 24) (آیت) ” یعلمون “۔ ای یعلمون قبح فعلھم “۔ (روح) والمراد لم یصروا عالمین (روح)
Ayah 3:136

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسے لوگوں کی جزا ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے اور (بہشت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ (ہمیش) رہیں گے، اور کام کرنے والوں کے لیے کیسا اچھا معاوضہ ہے،271 ۔

271 ۔ (آیت) ” اولٓئک “۔ کا اشارہ صاف انہی لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر ابھی آچکا ہے، غلطیاں، خطائیں، لغزشیں بھی ان سے صادر ہوتی رہتی ہیں، اور ساتھ ہی وہ ان کی تلافی اور تدارک بھی کرتے رہتے ہیں، انہی کے لیے یہ جنت کی نعمتیں بیان ہورہی ہیں، (آیت) ” عاملین “۔ لفظی معنی عمل کرنے والے کے ہیں، محاورۂ قرآنی میں اس سے مراد عمل صالح کرنے والے ہیں۔
Ayah 3:137

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

یقیناً تم سے قبل (مختلف) طریقہ گزر چکے ہیں، سو تم روئے زمین پر چلو پھرو اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے،272 ۔

272 ۔ (آیت) ” سنن “۔ یعنی مختلف طور طریقہ اور ان طور طریقوں پر عمل کرنے والے، مختلف مسلکوں اور مشربوں کے لوگ، مشرک و کافر بھی، موحد و مومن بھی، قال الزجاج والمعنی اھل سنن فحذف المضاف (قرطبی) ساری گزشتہ امتوں اور قوموں کی طرف جامع اشارہ ان الفاظ میں آگیا۔ اور سنۃ کے معنی خود امۃ کے بھی کیے گئے ہیں، اس لیے سنن، امم کا مرادف ہوگا، السنۃ الامۃ والسنن الامم (قرطبی) وقال الفضل ان المراد بھا الامم وقد جاءت السنۃ بمعنی الامۃ فی کلامھم (روح) (آیت) ” سیروا۔ فانظروا “۔ دونوں صیغہ امر کے ہیں۔ لیکن مقصود سیاحت نہیں بلکہ سرکش جاہلی قوموں سے عبرت حاصل کرنا ہے۔ خواہ جس ذریعہ سے بھی حاصل ہو، سیاحت سے، تاریخ سے، وقس علی ہذا۔ لیس المراد الامر بذالک لا محالۃ بل المقصود تعرف احوالھم فان حصلت ھذہ المعرفۃ بغیر السیر فی الارض کان المقصود حاصلا (کبیر) تاریخ اثریات وغیرہ کا مطالعہ اگر صحیح نقطہ نظر اور ایمان ومعرفت کے پہلو سے کیا جائے تو یہ بجائے خود ایک جہاد ہے۔ (آیت) ” المکذبین “۔ یعنی دین حق کی جھٹلانے والی قوموں اور امتوں کا۔
Ayah 3:138

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ ایک اعلان ہے (سارے) لوگوں کے لیے اور ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ونصیحت ہے،273 ۔

273 ۔ مطلب یہ ہوا کہ قرآن اعلان نامہ تو ہے ساری دنیا کے لیے لیکن اس سے نفع وہی لوگ اٹھائیں گے جن کے دلوں میں خوف خدا موجود ہوگا۔ (آیت) ” ھذا “ اشارہ قرآن مجید کی جانب ہے۔ یعنی القرآن عن الحسن وغیرہ (قرطبی) قال الحسن وقتادۃ وابن جریج والربیع الاشارۃ الی القران (بحر) ای ھذا القران (معالم) بعض نے وہ امرونہی، وعدہ ووعید مراد لیے ہیں جو اوپر گزر چکے ہیں۔ یعنی یقول ھذا ماتقدم بین امرہ ونھیہ ووعدہ ووعیدہ (کبیر) الاشارۃ الی ما خص من امر الکفار والمتقین والتائبین (روح) ای القران اوماتقدم من الکتب (مدارک)
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور نہ ہمت ہارو اور نہ غم کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن رہے،274 ۔

274 ۔ (اے ایمان والو) (آیت) ” ان کنتم مومنین “۔ وعدۂ غلبہ کے لیے شرط ایمان پر ثبات کی لگی ہوئی ہے، یہ خوب خیال رہے۔ (آیت) ” الاعلون “۔ یہ علو و غلبہ “ کا وعدہ ہر قسم کے علووغلبہ کو حاوی ہے۔ خواہ وہ مادی ہو یا روحانی، گوبیان پر نظر کرکے غلبہ مادی ہی اغلب ہے۔ یعنی الغالبین علی الاعداء (قرطبی)
Ayah 3:140

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تمہیں کوئی زخم پہنچ جائے تو ان لوگوں کو بھی تو ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے،275 ۔ اور ہم ان ایام کی الٹ پھیر تو لوگوں کے درمیان کرتے ہی رہتے ہیں،276 ۔ تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ کو شہید بنانا تھا اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا،277 ۔

275 ۔ (تو تمہاری کسی افتاد سے ان مخالفوں کو کیا تسلی ہوسکتی ہے، انہیں تو ایسی ہی افتاد پیش آچکی ہے) (آیت) ” ان یمسسکم قرح “۔ اشارہ ہے ہونے والی جنگ احد کی طرف۔ (آیت) ” مس القوم قرح مثلہ “۔ اشارہ ہے جنگ بدر کی طرف، اس میں قریش کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ 276 ۔ (مصالح تکوینی کے اعتبار سے) سو مجرد فتح وشکست کو حق و باطل کا معیار نہ سمجھا جائے۔ (آیت) ” تلک الایام “۔ یعنی فتح وظفر کا زمانہ۔ والمراد بالایام اوقات الظفر والغلبۃ (کشاف) 277 ۔ (سو ظالموں کے بر سر حق ہونے کا تو گمان بھی نہ کیا جائے، خواہ تکوینی مصلحتوں کی بنا پر انہیں عارضی اور ہنگامی کامیابیاں کیسی ہی حاصل ہوجائیں) (آیت) ” لیعلم اللہ الذین امنوا “۔ یعنی مومنین کا ایمان عالم آشکارہوجائے، ان کے اعمال ایثار اور جانبازی کی بنا پر۔ (آیت) ” ویتخذ منکم شھدآء “ شہادت راہ حق، معلوم ہے کہ شریعت اسلامی میں روحانی ترقی کی معراج اور قرب الہی کا اعلی مرتبہ ہے۔
Ayah 3:141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور تاکہ اللہ ایمان والوں کو میل کچیل سے صاف کردے اور کافروں کو مٹا دے،278 ۔

278 ۔ (انہیں اسی عارضی کامیابی پر اور زیادہ مغرور کرکے) ذکر اسی غزوہ احد کا چل رہا ہے، ایک فرنگی مؤرخ نے حال میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ گو قریش احد میں فتحمند ہوئے لیکن یہی عارضی فتح مندی ان کے مستقل زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ (آیت) ” ولیمحص اللہ الذین امنوا “ اہل ایمان کو ابتلاء جب بھی پیش آتا ہے تو دفع سیئات کے لیے ہوتا ہے اور یارفع درجات کے لیے۔
Ayah 3:142

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

شاید تم اس گمان میں ہو کہ جنت میں جا داخل ہوگے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا اور نہ صبر کرنے والوں کو جانا،279 ۔

279 ۔ (ان کے اعمال کے ذریعہ سے) اللہ تعالیٰ کے علم سرمدی میں جو کچھ بھی ہے، اشخاص کا استحقاق تو جنت میں کسی درجہ کے لیے بھی اس مادی دنیا میں اعمال کے بعد ہی ثابت ہوسکتا ہے۔ ام یہاں بل کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اسی لیے ترجمہ میں مفہوم ” شاید “ سے ادا کیا گیا ہے۔ ام بمعنی بل (قرطبی) ام ای بل (جلالین) (آیت) ” ان تدخلوا الجنۃ “ یعنی جنت میں امتیاز خاص کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، خطاب یہاں صحابہ کرام ؓ سے ہے صحابہ کرام ؓ حصول جنت ہی کے مشتاق نہ تھے بلکہ اس کے اعلی درجوں اور مرتبوں کا بھی حوصلہ اور ظرف رکھتے تھے اور ان مدارج کے لیے جہاد کی کڑی کڑی منزلوں سے گزرنا ناگزیر تھا۔
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم تو موت کی تمنا کررہے تھے قبل اس کے کہ اس کے سامنے آؤ سو اس کو تو اب تم نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا،280 ۔

280 ۔ (پھر اب اس سے خوف وہراس کیوں ہے ؟ ) خطاب صحابہ ؓ کی ایک جماعت سے ہے۔ الخطاب للمومنین وظاھرہ العموم والمراد الخصوص (بحر) خوطب بہ الذین لم یشھدوا بدرا (مدارک) الخطاب للذین لم یشھدوا بدرا وتمنوا ان یشھد وامع رسول اللہ ﷺ (بیضاوی) معرکہ بدر میں مسلمانوں کی غیر متوقع بلکہ خلاف توقع کا میابی سن کر بعض اشخاص کو خیال پیدا ہوا کہ افسوس ہے ہم اس موقع پر حاضر نہ تھے، اب کاش کوئی معرکہ پھر اس قسم کا پیش آئے تو ہم بھی اپنی جانوں کی بازیاں لگا لگا کر شہداء بدر کا سا مرتبہ حاصل کریں، یہاں انہی کو جواب دیا جارہا ہے کہ پہلے تو یہ ہمت تھی، سو اب ایسی پست ہمتی کا اظہار کیوں ہورہا ہے ! (آیت) ” ویعلم الصبرین “۔ ویہاں حتی کے معنی میں بھی لیا گیا ہے یعنی جب تک ان کا صبر نہ ثابت ہوجائے۔ الواوھنا بمعنی حتی قالہ الزجاج (قرطبی ای حتی یعلم صبرھم (قرطبی) (آیت) ” من قبل ان تلقوہ “ (یعنی اس معرکہ احد کے وقوع سے قبل) (آیت) ” تمنون الموت “ موت سے مراد سبب موت۔ ذریعہ موت یعنی جہاد و قتال ہے یا خود موت شہادت الموت ای سبب الموت (معالم) ای الحرب فانھا من اسباب الموت اوالموت بالشھادۃ (بیضاوی) (آیت) ” رایتموہ “۔ ضمیر موت یا سبب موت کی جانب ہے۔ یعنی الموت (ابن کثیر) یعنی اسباب الموت (معالم)
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو بس ایک رسول ہی ہیں،281 ۔ ان کے قبل اور بھی رسول گزر چکے ہیں،282 ۔ سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے،283 ۔ اور جو کوئی بھی الٹے پاؤں چلا جائے جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا،284 ۔ اور اللہ عنقریب شکر گزاروں کو بدلہ دے گا،285 ۔

281 ۔ (اور اس لیے فنا پذیر بھی ہیں۔ کوئی خدایا جزء خدایا مظہر خدا تو ہیں نہیں جو قانون حیات وممات سے بالا تر ہوں) (آیت) ” محمد “ اسم مبارک قرآن میں پہلی بار آیا ہے۔ لفظی معنی ہیں وہ شخص جس کی مدح بہت یا بار بار کی جائے یا جو صفات حسنہ کا مجموعہ ہو۔ یقال فلان محمد اذاکثرت خصالہ المحمودۃ (راغب) اسم علم ہے ہمارے رسول ﷺ اور دنیا کے آخری نبی کا۔ حضور ﷺ کی بعثت سے قبل اس نام کا رواج بہت کم تھا۔ علامہ ابو جعفر محمد بن حبیب بغدادی المتوفی 245 ھ ؁ نے کل سات آدمی اس نام کے گنائے ہیں (کتاب المعتبر صفحہ 130) اور ان میں سے ایک محمد بن سفیان بن مجاشع کی بابت تو یہ کہا ہے کہ ان کے والد نے ایک شامی راہب سے یہی سن کر کہ آئندہ پیغمبر کا نام محمد ہوگا اپنے لڑکے کا یہی نام رکھ دیا۔ کان سفیان اتی الشام تنزل علی راھب فاعجبتہ فصاحتہ وعقلہ فسال الراھب عن نسبہ فانتسب لہ الی مضر فقال لہ اما انہ یبعث فی العرب نبی یقال لہ محمد فسمی سفیان ابنہ محمدا تاج العروس اور لسان العرب میں بھی یہی سات نام نقل ہوئے ہیں۔ لیکن یہ نام عام طور سے عرب میں شائع نہ تھا۔ اور تصریحات اس قسم کی ملتی ہوئے ہیں۔ لیکن یہ نام عام طور سے عرب میں شائع نہ تھا۔ اور تصریحات اس قسم کی ملتی ہیں کہ لم یکن شائعا بین العرب ھذا الاسم اور تاج میں بھی اسی سے ملتا جلتا قول موجود ہے۔ راقم آثم کے ایک قدیم اور جواں مرگ دوست مولنا عبدالرحمن ندوی نگرامی مرحوم کا ایک مستقل مقالہ اسم پاک محمد ﷺ پر ہے، ان کی یادگار کے طور پر اور ان کی روح کو ثواب پہنچانے کی خاطر اس مقالہ کا بیشتر حصہ سورة کے آخر میں بہ طور ضمیہ کے شامل کیا جاتا ہے۔ 282 ۔ (اور ان سب نے اپنے اپنے وقت پر دنیا کو خیر باد کہا، سو یہ بھی اپنے وقت موعود پر وفات پائیں گے اور اس میں نہ کوئی بات حیرت کی ہوگی اور نہ کوئی پہلو آپ کی اہانت کا نکلے گا) رسول کا مرتبہ خوب سمجھ لیا جائے، رسول محض عبد ہوتے ہیں صاحب وحی، عقیدہ حلول، مظہریت، ابنیت وغیرہ پر ضرب لگانے کے لیے مرتبہ رسالت اور رسولیت کی بار بار تصریح ضروری تھی، حضور ﷺ کی وفات کا حادثہ اس قدر سخت تھا کہ حضرت عمر فاروق ؓ جیسے باوقار عالی ظرف بھی صبر وضبط کھوبیٹھے اور بےاختیار ہوگئے، عین اس وقت ایک ان سے بھی برتر شخصیت ابوبکر صدیق ؓ اسی آیت کی برمحل تلاوت کرکے ان کے اور سب کے جذبات کو قابو میں لے آئے تھے ، 283 ۔ (کفر اور بےدینی کی طرف) مطلب سوال کا یہ ہے کہ جب دین کی حقیقت تمہاری نظر میں ثابت ہوچکی، تو اب قاصد یا پیغامبر کی زیست یا وفات کا اس حقیقت وصداقت پر کیا اثر ! غزوۂ احد میں جب حضور ﷺ کو زخم پہنچا اور کسی شیطان نے یہ افواہ اڑا دی کہ آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہوگئے تو بعض صحابہ نے اس انتہائی صدمہ انگیز خبر سے بددل اور شکستہ خاطر ہو کر میدان جنگ چھوڑنا شروع کردیا تھا اور منافقین کی وقتی طور پر بن آئی تھی۔ انہوں نے برابر طنز کرنا اور ارتداد کی ترغیب دینی شروع کردی تھی، آیت میں ان سب پہلوؤں کی طرف اشارہ ہے۔ (آیت) ” افائن مات “۔ اشارہ طبعی اسباب سے آنے والی موت کی طرف ہے۔ (آیت) ” اوقتل “۔ اشارہ معرکہ جنگ وغیرہ میں شہادت کی طرف ہے۔ (آیت) ” انقلبتم علی اعقابکم۔ من ینقلب علی عقبیہ “۔ محاورہ میں کنایہ ہے ارتداد سے۔ جنگ سے فرار بھی مراد ہوسکتی ہے۔ مجاز من الارتداد اوالا نھزام (مدارک) 284 ۔ (بلکہ اس کا وبال خود اپنے ہی سر لائے گا) جاہلی مذہبوں میں دیوتاؤں اور بچاریوں کے درمیان ایک طرح کی مساوات ہمیشہ رہی ہے۔ یعنی معبود بھی اپنی پرستش وعدم پرستش سے برابر متاثر ہوتے رہے ہیں۔ قرآن نے بار بار اسی جاہلی ذہنیت پر ضرب لگائی ہے۔ 285 ۔ شاکرین۔ یہ شکریہ (کافر) کے مقابلہ میں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ عنقریب جزائے خیر ان لوگوں کو ملے گی جو اللہ کی اصلی اور بڑی نعمت دین حق کا شکریہ اس کے قبول واختیار کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ الشاکرین علی نعمۃ الاسلام بالثبات علیہ (بیضاوی) ضمیمہ پ 4 اسم پاک محمد ﷺ (بہ سلسلہ حاشیہ نمبر 281 پ 4) حضور کا نام نامی آپ کے دادا ” عبدالمطلب “ نے رکھا تھا۔ عام طور پر اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ رجاء ان یحمد عبدالمطلب نے آثار نیک دیکھ کر محمد ﷺ نام رکھا کہ مستقبل میں یہ مولود سعید آقائے مجموعہ محامد اور مرجع خلائق بنے۔ ارباب تصوف موشگافی کی انتہا کردیتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لفظ ” محمد ﷺ “ خدا کے نام ” احد “ سے مشتق ہے۔ اگرچہ عام طور پر نام کی صرف اس قدر ضرورت سمجھی جاتی ہے کہ چندچیزوں میں باہم امتیاز قائم رہے لیکن نام کی صحیح اور حقیقی غرض یہ نہیں۔ اسم کو اپنے مسمی کے صفات، خواص اور حالات کا آئینہ ہونا چاہیے۔ افراد کے نام رکھنے میں تو اس کا کم لحاظ کیا جاتا ہے۔ لیکن عموما انواع واجناس کے نام اسی مقصد کو پورا کرتے ہیں، مثلا انسان، مسلم، قوم۔ شاذونادر طریقہ پر افراد واشخاص کے ناموں میں بھی اس کا لحاظ کرلیا جاتا ہے جیسے لیکن عموما انواع واجناس کے نام اسی مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ مثلا انسان، مسلم، قوم، شاذو نادر طریقہ پر افردواشخاص کے ناموں میں بھی اس کا لحاظ کرلیا جاتا ہے جیسے ” مسیح “ اور ” بدھ “ یہ دونوں نام اپنے مسمی کے اوصاف اور خواص کو بتلاتے ہیں۔ یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جیسا کہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے عرب میں کہیں اس نام کا پتہ نہیں چلتا۔ مؤرخین اکثر لکھتے ہیں۔ ولم یکن شائعا بین العرب ھذا الاسم اس حالت کو تسلیم کرتے ہوئے دیکھا جائے تو اتفاقی طور سے ” نام مبارک “ کا ” عبدالمطلب “ کے ذہن میں آنا منشاء خداوندی معلوم ہوتا ہے کہ جب اس نام کا محل کامل دنیا کو اپنے وجود گرامی سے مشرف کرچکا تو پھر اسم بھی فطری طور سے نام رکھنے والے کے ذہن میں وارد ہوا۔ نام مبارک کا عام اور سادہ ترجمہ یہی کیا جاتا ہے کہ ” وہ ذات جس کی تعریف کی گئی “ اس ترجمہ کی صحت میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن اس جامعیت کبری، برزخ کامل اور مقصود آفرینش کے فضائل و کمالات کے سامنے ترجمہ ہیچ ہے خدا کے تمام نبی اس کے نزدیک موجب توصیف ہیں۔ دنیا کے تمام حکیم، فاتح عام انسانوں کی نظروں میں لائق مدح و ستائش ہیں اس لیے اس ترجمہ کی صحت کو پورے طور پر تسلیم کرتے ہوئے تفحص کو اور زیادہ وسعت دیں، صاحب مفردات ” محمد “ کے معنی لکھتے ہیں الذی اجمعت فیہ الخصال المحمودۃ یعنی مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ لفظ محمد ﷺ کے معنی مجموعہ خوبی کے ہیں۔ ع : اے کہ تو مجمویہ خوبی بچہ نامت خوانم۔ کار ساز قدرت کی وسعت لامحدود اس کے کرشمے ناقابل شمار اس کی خلقت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے وا ہے، غور کرنے سے ہم اپنی عقل کے مطابق اس فیصلہ پر پہنچتے ہیں کہ قدرت نے تخلیق انواع کے لیے ایک معیار مقرر کیا ہے، مخلوقات کی ہر نوع کا ایک درجہ کمال ہے، کہ جس کے آگے اس کا قدم نہیں بڑھتا ” حیوانات “ ” نباتات “ اور ” جمادات “ تک میں اس کے شواہد مل سکتے ہیں، صورتیں ایک ہیں شکلیں متحد ہیں، اوصاف مختلف ہیں، لیکن ان مختلف اوصاف کی ایک انتہا ہے جسے جنس اعلی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ کہ جس کے آگے کوئی درجہ نہیں، ہر نوع میں جنس اعلی کو جس پر اوصاف جامعیت کے ساتھ جاکر ختم ہوتے ہیں ہم مقصود فطرت اور نقطہ تخلیق کہہ سکتے ہیں۔ اس نقطہ تخلیق کی اصطلاح کو پوری تشریح کے ساتھ ذہن میں رکھنا چاہیے یہ بات تھوڑے سے غور اور مشورے سے بہ آسانی سمجھ میں آسکتی ہے، تفحص اور تفتیش کے بعد تمام انواع مخلوقات کے اوصاف کا ایک درجہ اعلی پاتے ہیں کہ جس کے آگے انسانی معلومات میں کوئی درجہ نہیں۔ دوسرے تمام انواع کی طرف اس مقصود فطرت کو انسانوں کی جماعت میں بھی تلاش کرنا ضروری ہے دوسری مخلوقات اور انسانوں میں ایک عام اور بین فرق یہ ہے کہ وہاں نوع کے سینکڑوں افراد ہیں اور یہاں اوصاف و خصوصیات کے اعتبار سے ہر ہر فرد اپنے مقام پر نوع مستقل ہے۔ آفرینش انسان کی مجمل یا مفصل تاریخ پر ایک اجمالی نظر بتلا سکتی ہے کہ آج بھی انسان کی شکل وشباہت اس کے اعضاء وجوارح اس کا ڈھانچہ جسمانی ساخت ٹھیک وہی ہے سب چیزیں وہی ہیں جو دنیا کے پہلے انسان کی تھیں، لیکن دماغی کیفیتوں کا حال ان سے جداگانہ ہے۔ ان میں برابر ارتقاء واختلاف جاری ہے۔ اب اگر انسان کی اس ارتقائے دماغی پر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ماقبل وما بعد ادبوں، زبانوں کی تاریخ میں ارتقائے دماغی کی آخر ترین سر حد اگر کوئی معلوم ہوسکتی ہے تو وہ ذات قدسی صفات آقائے نامدار رسول خدا ﷺ کی ہے لغات قاموس نے لفظ ” حمد “ کے ایک معنی قضاء الحق کے بھی بتلائے ہیں پس لفظ ” محمد ﷺ “ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ جس کا حق پورا دیا گیا ہو یعنی قدرت کی جانب سے نوع انسان کو جس سرحد کمال تک پہنچانا مقصود تھا اور انسان کا اپنے خالق پر جو حق تخلیق مقرر تھا وہ محمد ﷺ پر پورا کردیا گیا، علم وعمل، خلق وخلق، دماغ وکیرکڑارتقائے ذہنی وارتقائے عملی یہی دو چیزیں انسان کا خلاصہ اور اس کی کائنات تخلیق کا لب لباب ہیں اول ثانی کے لیے بنیاد ہے عمل علمپر، کیرکٹر دماغ پر، خلق خلق پر قائم ہے، یہ ایک عجیب نکتہ ہے جس کی تشریح کسی دوسرے مقام پر آئے گی کہ جتنی ہی کسی انسان کی حالت مکمل ہوگی اسی قدر اس کی خلقی کیفیت راسخ ومستحکم ہوگی ایک کا کمال دوسرے کے کمال کی علامت اور ایک کا نقصان دوسرے کے نقصان کی نشانی ہے، تاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ کیرکٹر اور اخلاق کی جملہ شاخوں کی پختگی اور تکمیل کا جو نمونہ آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک نے پیش کیا عالم انسانی اس کی نظیر سے عاجز ہے حتی کہ خود دشمنوں کے اقرار سے اس کو فرمادیا گیا۔ (آیت) ” انک لعلی خلق عظیم “۔ محاورات عرب سے حمد کے یہ بھی معنی معلوم ہوتے ہیں کہ کسی کام کو اپنی قدرت کے مطابق انجام دینا حماسیات میں نیزہ کے بھرپور پڑنے کے وقت، حمدت بلاء ہ ، (میں نے وار پورا کیا) کا محاورہ بہت مشہور ہے۔ اس معنی کو سامنے رکھتے ہوئے اور اوپر کے مضمون کو پیش نظر رکھ کر بےتامل کہا جاسکتا ہے کہ لفظ محمد ﷺ کے معنی مخلوق کامل کے بھی ہیں۔ منجملہ دیگر کمالات نبوت ومعجزات رسالت کے ایک معجزہ گرامی حضور اقدس ﷺ کا نام نامی بھی ہے۔ یہ زندہ جاوید معجزہ بعثت کے وقت سے تاہنوز اپنے فضائل کی شہادتیں پیش کررہا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ محمد الذی یحمد مرۃ بعد مرۃ جس کی تعریف کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو، تعریف کے بعد تعریف اور توصیف پر توصیف ہوتی رہے۔ زمانہ جوں جوں بڑھتا جاتا ہے اور انسان اپنی سعی و کوشش کے مطابق جس درجہ ترقی کرتا جاتا ہے محض اعتقادا نہیں بلکہ واقعۃ رسالتماب روحی فداہ ﷺ کے کمالات سے پردہ اٹھتا جاتا ہے۔ علماء وفضلاء یورپ کی اکثریت تاریخ اسلام کے ماتحت اپنا مطالعہ جس قدر گہرا کرتی جاتی ہے دنیا کی مختلف پریشانیوں اور بےقراریوں کو معدوم کرنے کی ضرورت جتنی ہی ان کے نزدیک بڑھتی جاتی ہے، بادل ناخواستہ انہیں اسی راہ کی طرف آنا پڑتا ہے اور زبان اعتراف کھولنا پڑتا ہے کہ بےشبہ پیغمبر عرب کے قانون دنیا کی ضرورتوں کے کفیل اور ان کے زندگی عالم انسان کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ اہل ایشیا کا رجحان طبعی جتنا روحانیت اور سادگی کی طرف بڑھ رہا ہے اسی قدر وہ پیغمبر عالم محمد رسول اللہ ﷺ سے قریب تر ہوتا جاتا ہے “۔ یہ دنیا کا صرف واحد معجزہ ہے کہ نام مبارک تیرہ سو برس پہلے سے اس آنے والی حالت کا پتہ دے رہا ہے مستقبل میں دنیا کی عمر جس قدر دراز ہوگی خواہ وہ اپنی موجودہ حالت میں ترقی کرے جس کی بظاہر امید نہیں اور خواہ اپنے پچھلے سبق دہرائے، دونوں حالتوں میں اسے کمالات نبوت کے اعتراف سے چارہ نہ ہوگا اس حیثیت سے نام مبارک محمد ﷺ کا ترجمہ سلسلہ اوصاف ومحامد ہوگا۔ جیسا اوپر کہا گیا ہے عام طور سے اشخاص کے نام اور اوصاف باہم کوئی نسبت نہیں رکھتے شاذ ونادراتفاقی حیثیت سے تناسب بھی مل جاتا ہے اور ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ کسی انسان کا وہ نام رکھا گیا ہو جو اس کی تمام زندگی کا آئینہ اور اس کے شعبہائے حیات کی تفصیل ہو۔ مگر نام نامی آقائے نامدار اس سے مستثنی ہے۔ اسی مطابقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خاص نام کے رکھنے کے متعلق ضرور عبدالمطلب کو ایک غیبی تحریک ہوئی، اب غور کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی کا خلاصہ دوست و دشمن کی یکساں تنقید حاضر و غائب کی رائے زنی کا محاصل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ علم وعمل، ظاہر و باطن، خلق وخلق ہر حیثیت سے حضور ﷺ کی زندگی قابل تعریف تھی اور اسی خلاصہ حیات کا ترجمہ ہے محمد ﷺ ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب امر یہ ہے کہ نام مبارک حضور کے نہ صرف نبی بلکہ خاتم النبیین ہونے کی دلیل بھی ہے۔ کمال و کمال اخلاق بھی انبیاء (علیہم السلام) کی مخصوص اور ممتاز صفات میں سے ہیں، دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کا کمال علمی وعملی کسی ایک خاص صفت میں مخصوص تھا لیکن حضور کی جامعیت آپ ﷺ کی سوانح وتعلیمات سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ لفظ ” محمد “ کے معنی مجموعہ خوبی اور ” مخلوق کامل “ کے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔ اس کے آگے کوئی نقطہ ہی نہیں۔ اسی حالت پر کمال کلی کی انتہا اور معارف کا اختتام ہے جس کے بعد نہ کسی نبی کی حاجت نہ کسی نبی کا وجود ممکن ہے۔ مستشرقین یورپ میں سے جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا ہے وہ باوجود ہزار سعی تنقیص اعتراف کمال پر مجبور ہوئے ہیں۔ سرولیم میور اور مارگولیٹ جیسے سخت لوگوں کو بھی کھلے اور چھپے لفظوں میں اس کا اقرار کرنا پڑا کہ پیغمبر اسلام کی تعلیم انتہائی سچائی اور حقیقی صداقت پر منبی نظر آتی ہے۔ عہد نبوت میں بھی اسی قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں کہ بعض سخت ترین منکر ایک توجہ نظر اقدس کی تاب نہ لاسکے۔ عبداللہ بن سلام جو نامور علماء یہود میں سے تھے وہ جس طرح اسلام لائے معلوم ہے۔ بعثت کے حالات سیرت طیبہ تعلیم وتلقین اپنے اندر کچھ ایسی کشش رکھتی ہے کہ مخالف سے مخالف اور سخت سے سخت حریف اعتراف پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اسی خاصیت اور بےاختیار انہ کشش کو نام مبارک میں بیان کیا گیا لفظ ” محمد “ عربی زبان میں تحمید سے مشتق ہے جو باب تفعیل کا مصدر ہے اس باب کے معنی کے خواص میں سے ہے کہ کسی کام کا وجود میں آنا اس طور پر مانا جائے کہ گویا کسی مخفی یا ظاہر طاقت نے اس کو وجود میں آنے کے لیے مجبور کیا جیسے صرف (پھیر دیا) ۔ یعنی کسی طاقت نے بےاختیار کرکے پھیر دیا اسی طرح ” محمد “ کے معنی ہیں وہ جس کی تعریف بےاختیار کی گئی ہو۔ اس معنی سے اسی قوت جاذبہ اور کشش اصلی کی طرف اشارہ ہے۔ عبداللہ ؓ بن سلام کے متعلق مروی ہے کہ وہ چہرہ اقدس کو دیکھتے ہی پکار اٹھے ” ھذا لیس بوجہ کذاب “ یورپ میں بڑی ہوشیار انہ تدبیر سے محمد رسول اللہ ﷺ کو بدترین پیرایوں میں دکھلانے کی کوشش کی گئی ہیں لیکن اب آج کل بعض جماعتوں اور خدا ترس بندوں کی طرف سے جو مساعی جمیلہ کی جارہی ہیں انہیں نے تجربہ کرادیا کہ جب کبھی اصل صورت ان کی سامنے پیش کی گئی ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ یہی تو ہمارا کعبہ مقصود ہے۔ اس باب کی دوسری خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ کسی کام کے اس طور پر ہونے کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام پہلوؤں کا استقصاء کئے ہوئے ہے کوئی جزء اس سے چھوٹا ہوا نہیں استعمال میں آتا ہے قتلہ تقتیلا یعنی خوب خوب قتل کیا اس خاصیت کا لحاظ رکھتے ہوئے نام مبارک کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ ” محمد “ یعنی جس کا جزء جزء قابل تعریف ہے ” اصلاح نفس “ تدبیر منزل اور تدبیر مدن کی وہ کونسی شاخ ہے جس کا عملی نمونہ ذات قدسی صفات محمد رسول اللہ ﷺ نے پیش نہیں کردیا۔ انبیاء (علیہم السلام) کا تمامتر سلسلہ عالم میں ایک خاص ترتیب ونظام کے ساتھ آیا اور ہر ایک اپنے اندر کوئی نہ کوئی کمال اخلاقی یا عرفانی یا انتظامی لایا یہ بابرکت سلسلہ جب اپنی حدونہایت کو پہنچا تو ضرورت ہوئی کہ عالم انسان کے سامنے ایک ایسا نمونہ کامل پیش کیا جائے۔ جو ان تمام صفات کا مجمع اور فضائل کا آئینہ ہو۔ جس کی زندگی کو سامنے رکھنے سے موسویانہ مستی، مسیحانہ اخلاق، ابراہیمی محبت بیک وقت نظر کے سامنے آجائے، اور پھر ان تمام اوصاف میں وہ اپنے متقدمین سے بالا ترہو، وہ ہستی کا جامع اور برزخ کامل ذات پاک حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہے اسی لیے حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنی بشارت میں لفظ ” احمد “ فرمایا۔ یعنی وہ آئے گا جو اپنے تمام پہلے آنے والوں کا سردار اور سب پر فائق ہوگا۔ دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب نے اپنی کامل نشوونما جب ہی پائی ہے جب وہ معرفت وروحانیت کی آغوش سے نکل کر سلطنت اور حکومت کی گود میں چلے گئے ہیں۔ مسیحی مذہب کی ترقی رومی بادشاہوں کی رہین احسان ہے۔ بودھ نے بہت کچھ تبلیغ کی لیکن اس کا عالمگیرمذہب بھی اسی وقت اپنی تکمیل کرسکا جب وہ اشوک خاندان کی سرپرستی میں آگیا۔ لیکن اسلام میں بالکل علیحدہ ہے وہ جن جن ملکوں میں گیا اور جن جماعتوں میں پھیلا اخلاق وروحانیت سے گیا غریب تلوار اسلام میں روحانیت اور مذہب کے داخلہ کے بعد گئی ہے۔ افریقہ اور ہندوستان کی نظیریں اس بارے میں بہت صاف ہیں۔ اس خاص نعمت تبلیغ کو بھی نام مبارک میں ظاہر کردیا گیا ہے۔ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العالمین بظاہر اسباب مفاسد کے مٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی لیکن فطرت کی تدبیریں اندر اندر جاری رہتی ہیں اور ایک وقت معین پر ظاہر ہوجاتی ہیں، فطرت کی رفتار ہوا کی طرح تیز اور سیلاب کی طرح نرم ہوتی ہے۔ خوش تدبیری اور حسن اسلوب کے موقع پر بھی حمد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے پس لفظ ” محمد “ کے ایک بھی معنی قرار دیئے جاسکتے ہیں کہ وہ جس کے ساتھ خوش تدبیری نے ترقی کی آپ ﷺ کی تعلیم کا انتشار آپ ﷺ کا لایا ہوا دین خدا کی خاص مرضی اور خاص تدبیر سے عالم میں پھیل گیا جس کی سرعت اور بغیر جدوجہدو رفتار ترقی سے اس وقت بھی دنیا متحیر ہے۔ الغرض اسلام کی تمام معنوی خوبیوں کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام کا نام مبارک بھی اپنے معانی کے لحاظ سے مختلف خوبیوں کا مرقع بہترے فضائل کا خلاصہ ہے ایک طرف وہ اپنے مسمی کے کام اور کام کے انجام کی پیشن گوئی ہے دوسری طرف اس کے کاموں کی تاریخ اور اس کی تعلیم کا لب لباب ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جس نے اپنے نبی کا ایسا پاک نام رکھا اور پاکیزہ ہے وہ نبی جسے اس کے معبود نے ایسی فضیلتوں سے آراستہ کیا۔ والحمد للہ رب العالمین ‘
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور ممکن نہیں، کسی کے لیے کہ وہ ایک میعاد مقرر پر حکم خدا کے بغیر مرجائے،286 ۔ اور جو کوئی دنیا کا فائدہ چاہتا ہے ہم اس کو دنیا کا حصہ دے دیتے ہیں اور جو کوئی آخرت کا نفع چاہتا ہے تو اسے اس آخرت کا حصہ دے دیں گے اور عنقریب ہم شکر گزاروں کو بدلہ دے دیں گے،287 ۔

286 ۔ (اور اس میعاد مقرر کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں پھر آخر شرکت جنگ میں اتنا جی چرانے سے کیا حاصل ؟ ) موت جب بھی آئے گی حکم خدا ہی سے آئے گی اس کے بدون نہیں آسکتی۔ اور پھر جب آئے گی وقت موعود میں آئے گی اس کے قبل نہیں آسکتی۔ خواہ خطرات کیسے ہی شدید ہوں ان حقائق کا اگر استحضار رہے تو موت کا طبعی خوف بھی حد اعتدال پر قائم رہے۔ 287 ۔ (جنہوں نے نعمت الہی کا شکریوں ادا کیا اور جنگ میں شریک ہوئے اور جہاد سے جی نہیں چرایا) پہلی آیت میں شاکرین سے وہ لوگ مراد تھے جنہوں نے دین قبول کیا اور اعمال نیک پر قائم رہے۔ یہاں شاکرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ان اعمال میں آخرت کی نیت کیے ہوئے جہاد میں شریک ہوئے۔ الذین شکروانعمۃ اللہ فلم یشغلھم شیء عن الجھاد (بیضاوی) (آیت) ” ومن یرد ثواب الدینا “۔ دنیا ہی کے لیے ہو۔ اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ ہی نہ ہو۔ (آیت) ” ثواب الدنیا “۔ سے مراد ہے کہ مقصود یہی دنیا ہو اور (آیت) ” فی الدنیا حسنۃ “ سے مراد ہے کہ بھلائی حاصل ہو اور اس کا محل حصول یہ دنیا ہی ہو۔ دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ (آیت) ” نؤتہ منھا “۔ یعنی اگر ہماری مشیت ہوئی تو اس کی یہ آرزو پوری کردیں گے اور آخرت سے محروم کرکے اسے یہیں نقد کا نقد معاوضہ دے دیں گے۔ (آیت) ” ومن یرد ثواب الدنیا نؤتہ منھا “۔ یہ ثواب آخرت جو ہے اللہ کی طرف اور ذمہ ہے، اس (آیت) ” نؤتہ منھا “۔ اور قبل کے نؤتہ منھا “ کے درمیان بڑا فرق ہے۔
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور کتنے ہی نبی ہوچکے ہیں کہ ان کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والے لڑے ہیں،288 ۔ سو جو کچھ انہیں اللہ کی راہ میں پیش آیا اس سے نہ تو انہوں نے ہمت ہاری اور نہ وہ دبے اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے،289 ۔

288 ۔ (راہ حق میں جہاد فی سبیل اللہ میں) یہ بتلایا ہے کہ جہاد کی سنت انبیاء قدیم کے وقت سے چلی آتی ہے اور اس راہ کے رہرو وں کو برابر ان منزلوں سے گزرنا ہوتا ہے (آیت) ” ریبون “۔ ربی ربانی کے مرادف ہے اور اور معنی بھی کیے گئے ہیں۔ ای ربانیون (کشاف) اخرج سعید بن منصور عن الحسن انھم العلماء الفقھاء واخرجہ ابن جبیر عن ابن عباس ایضا فھو منسوب الی الرب (روح) (آیت) ” کاین “ کم کے مرادف ہے یعنی بہت سے کتنے ہی۔ کاین بمعنی کم (قرطبی) صارت بمعنی کم (بیضاوی) 289 ۔ (اور دنیا اور آخرت میں اس کا درجہ اور مرتبہ بڑھاتا رہتا ہے) (آیت) ” مااصابھم فی سبیل اللہ “۔ یعنی طرح طرح کی مصبتیں اور پریشانیاں۔ (آیت) ” وما ضعفو ا “ یعنی ہر اس و دہشت کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیا۔ (آیت) ” وما استکانوا “ یعنی کفر واہل کفر کے سارے سازوسامان وشان و شوکت سے ذرا مرعوب نہ ہوئے، (آیت) ” وھن۔ ضعف۔ استکانۃ “۔ تین متقارب المعنی الفاظ کے درمیان فرق امام رازی (رح) نے یہ نقل کیا ہے کہ وھن تو کہتے ہیں قلب کی کمزوری یا بدہمتی کو، اور ضعف مطلق ہے، اس کا تعلق جسمانی قوت ومادی قدرت سے زیادہ ہے اور استکانۃ اظہار عجز کو کہتے ہیں۔
Ayah 3:147

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور ان کا کہنا تو بس اتنا ہی تھا کہ وہ کہتے رہے کہ اے، ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو اور ہمارے باب میں ہماری زیادتی کو بخش دے اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور ہم کو کافروں پر غالب کر،290 ۔

290 ۔ (آیت) ” وما کان قولھم “۔ اس سے اشارہ ہوگیا کہ ان لوگوں کے عمل میں تو لغزش کیا ہوتی، زبان تک بھی ان کی کلمات تحمید وتمجید اور اعتراف عجزوقصور کے لیے وقف رہی (آیت) ” ذنوبنا۔ اسرافنا “۔ ذنوب سے یہاں مراد صغائر سے لی گئی ہے اور اسراف سے کبائر مراد ہیں۔ ذنوبنا یعنی مراد صغائر سے لی گئی ہے اور اسراف سے کبائر مراد ہیں۔ ذنوبنا یعنی الصغائر واسرافنا یعنی الکبائر (قرطبی) ابن فورک نے کہا ہے کہ اس سے قدریہ کا رد بھی نکل رہا ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ افعال عبد کا خالق نہیں ہے (بحر)