Ayah 3:148291 ۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے انہیں دنیا وآخرت دونوں میں کامیاب بنایا اور آخر میں نکوکاری کی بشارت اللہ کی محبوبیت کی صورت میں دی، دنیا اور آخرت کے سارے انعامات سے بڑھ چڑھ کر۔ (آیت) ” ثواب الدنیا “۔ یعنی فتح وظفر۔ (آیت) ” حسن ثواب الاخرۃ “۔ یعنی جنت اور وہاں کی نعمتیں۔
Ayah 3:149292 ۔ سو کافروں کی ہم خیالی، ہم مذاقی سے بچو۔ (آیت) ” یردو کم علی اعقابکم “۔ یعنی تمہیں الٹے پاؤں ارتداد اور بےدینی کی طرف دھکیل لے جائیں گے۔
Ayah 3:150293 ۔ (سو اس کے ہوتے ہوئے تم نصرت واعانت کے لیے مخلوق پر کیوں نظر رکھتے ہو ؟ ) (آیت) ” اللہ مولکم اللہ “۔ تمہارا دوست ومحافظ ہے۔ سو وہی تمہیں بچائے گا۔
Ayah 3:151294 ۔ (یعنی ان کے لیے جو خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہتے ہیں) (آیت) ” مالم ینزل بہ سلطنا “۔ یعنی شرک کی تائید میں نہ کوئی عقلی ہی دلیل موجود ہے اور نہ نقلی۔ (آیت) ” سنلقی فی قلوب الذین کفروالرعب “۔ دشمنان دین کے دلوں میں القاء رعب یا ہیبت حق کے معجزانہ ظہور کی ایک یاد گار مثال تاریخ کے صفحات میں یوں محفوظ ہے کہ معرکہ احد جب آخری فتح بہ ظاہر مشرکین مکہ کو ہوگئی تو اب قدرتی نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ وہ لوگ وہیں سے شہر مدینہ پر چڑھ دوڑتے۔ فاصلہ اب رہ ہی کتنا گیا تھا۔ لیکن اس کی ہمت انہیں کسی طرح نہ پڑی اور الٹے انہیں واپس ہی جاتے بنی۔ اور تعاقب اس کے برعکس خود ” شکست خوردہ “۔ مسلمانوں نے اپنے بےمثل وبے مثال سالار لشکر کے ماتحت مدینہ سے آٹھ میل دور حمراء الاسد تک کیا، یہاں تین دن تک ان کا کیمپ رہا اور لگے ہاتھوں غنیم کا ایک آدمی بھی گرفتار کرتے لائے۔ قال ابن اسحاق فخرج رسول اللہ ﷺ حتی انتھی الی حمراء الاسد وھی من المدینۃ علی ثمانیۃ امیال فاقام بھا الاثنین والثلاثاء والاربعاء (ابن ہشام) اور یہ اہم جنگی کا روائی اس خدائی سپہ دار اعظم نے کی ہی اس غرض سے کہ مشرکین مکہ پر پورا رعب پڑے جائے اور ان کا یہ وہم و گمان مٹ کررہے کہ مسلمانوں نے ہار مان لی ہے۔ وانما خرج رسول اللہ ﷺ ترھیبا للعدو ولیبلغھم انہ خرج فی طلبھم لیظنوابہ قوۃ وان الذین اصابھم من عدوھم (ابن ہشام) (آیت) ” بمااشرکوا “۔ میں ب تعلیل کے لیے ہے۔ یعنی یہ رعب ان کے شرک کی بنا پر ڈالا گیا۔ ای کان سبب القاء الرعب فی قلوبھم اشراکھم (قرطبی) الباء للسبب ای بسبب اسراکھم باللہ الھۃ (بحر)
Ayah 3:152295 ۔ (غزوۂ احد کا اندر) پوری آیت میں بیان غزوۂ احد کے مختلف پہلوؤں کا ہے۔ یہاں ذکر اس وقت کا ہے جب تک مسلمان ابتداء معرکہ میں اطاعت احکام رسول اللہ ﷺ پر قائم تھے (آیت) ” تحسونھم “۔ سے اشارہ دشمنان دین مشرکین مکہ ہیں۔ حس کے معنی قتل کے ہیں۔ عبربہ عن القتل (راغب) ای تقتلونھم قتلا ذریعا (کشاف) قال ابو عبیدہ الحس الاشتغال بالقتل (قرطبی) (آیت) ” باذنہ “۔ میں اذن سے مراد اللہ کا حکم تکوینی ہے۔ ای بعلمۃ اوبقضاء ہ وامرہ (قرطبی) بتیسیرہ و توفیقہ (روح) ای بارادتہ (جلالین)
296 ۔ یعنی اپنی فتح اور غنیم کی شکست جس کا مشاہدہ تم برأی العین کررہے تھے۔ (آیت) ” حتی اذا فشلتم “ یعنی فتح وفیروزمندی کی کیفیت اس وقت تک قائم رہی، جب تک تم اپنی استقامت میں کمزور نہ پڑگئے۔ اس وقت تم اپنی رائے میں مذبذب ہوگئے اور تیر اندازوں کے دستہ نے خود رائی سے کام لے کر اطاعت رسول اللہ ﷺ کی پروانہ رکھی۔ معرکہ احد میں جنگ شروع ہونے سے قبل مسلمانوں کی مقدس اور نہایت درجہ بالغ نظر سالار لشکر نے امکانات نقشہ جنگ کا بالکل صحیح اندازہ کرکے ایک گھاٹی میں ایک بلند ٹیکری پر 50 چیدہ وماہر تیر اندازوں کا ایک دستہ متعین کردیا تھا اور احکام دے دیئے تھے کہ اس مورچہ سے کسی حال میں نہ ٹلنا یہاں تک کہ اگر ہم شکست کھاجائیں، جب بھی ہماری مدد کو نہ آنا۔ بلکہ اپنے عقب کا خیال رکھنا جنگ شروع ہوئی اور مسلمانوں نے پورے جوش شجاعت کے ساتھ یلغار کی، مشرکین کا لشکر بہ این فراوانی اور بہ این سروسامانی زبردست ٹکر کی تاب نہ لاسکا اور اس کے قدم اکھڑ گئے، مسلمان اور آگے بڑھے اور بدر کا جوش و خروش تازہ ہوگیا۔ لیکن اب کی افراط جوش میں توازن قائم نہ رہا، ان کا خط ٹوٹ گیا اور صفوف میں ترتیب باقی نہ رہی اور ایک جماعت نے مزید پیش قدمی کرکے غنیم کے خیمے ڈیرے لوٹنے شروع کردیئے، ادھر ٹیکری والے تیر انداز دستہ نے جو یہ دیکھا کہ دشمن میدان چھوڑ رہا ہے اور مال غنیمت لٹنا شروع ہوگیا ہے تو یہ سوچا کہ اب یہاں مورچہ پر جمے رہنے کے کیا معنی۔ حکم جس وقت تک کے قیام کے لیے تھا، اس کی تعمیل ہوچکی۔ چناچہ اس خیال کے ماتحت 50 ۔ میں سے 40 تیرانداز سپاہی اپنی پوزیشن چھوڑ کرنیچے میدان میں دوسروں کے ساتھ غنیمت کی تاخت میں شریک ہوگئے۔ خالد بن ولید جو بعد کو ایمان لائے اور سیف اللہ کہلا کر مسلمانوں کے مشہور جنرل ہوئے، اس وقت تک مشرکوں کے رسالہ کے سردار تھے۔ ان کی دوربین نگاہ موقع کے گھات ہی میں تھی، اپنے سواروں کے ساتھ کا واکاٹ اسی درہ کی طرف سے ہلہ بول دیا، گنتی کے دس سپاہی کتنی دیر ٹھہر سکتے تھے، جنگ کا پانسہ آنا فانا پلٹ گیا، اور فتح مسلمانوں کے ہاتھ سے آکر چھن گئی، قرآن اپنے معجزانہ رنگ میں اس سارے پس منظر پر تبصرہ کررہا ہے۔ (آیت) ” وتنازعتم فی الامر “۔ یعنی اپنے قائد اعظم ﷺ کے حکم کے باب میں بحث کرنے لگے کہ آیا اب بھی وہ حکم قائم اور واجب الاتباع ہے، 50 میں سے 40 ناوک افگن سپاہی لوٹ پر ٹوٹ پڑے تھے اور باقی 10 امیر لشکر کے حکم پر آخر تک قائم رہے۔ (آیت) ” وعصیتم “ یعنی اپنے سالار لشکر اور رسول برحق ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ یہ حالت ایک استثنائی تھی اور اس لیے اس پر گرفت بھی اتنی سخت ہوئی ورنہ اسلامی فوجیں عام طور پر تو نظم وضبط، اطاعت وامتثال (ڈسپلن) کی تصویر ہوتی تھیں، (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی)
297 ۔ (اور اسی لیے غنیمت کی لوٹ میں پڑگئے) اشارہ انہیں 40 جلد باز تیر اندازوں کی طرف ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ لوٹ بھی مبنی ومتفرع دشمنان دین کی شکست ہی پر تھی، اس لیے ایسی دنیا طلبی بھی تمامتر مذموم نہیں، یہاں برا اسے اس لیے ٹھہرایا گیا کہ اس میں مخالفت تھی حکم رسول کی، گو وہ بھی اعتبارا ہی تھی ،
298 ۔ یہ وہ دس تیر انداز تھے جو نص نبوی کے تمامتر متبع ہو کر آخر تک اپنی جگہ پر قائم رہے۔
299 ۔ (ایک عارضی وہنگامی شکست کے ذریعہ سے) یہ ثبوت ہے صحابہ نبوی پر کمال رحمت کا، یہ عارضی شکست بھی غضب الہی یا عذاب کی کوئی فرد نہ تھی بلکہ اس سے بھی مقصود صحابہ کی قوت ایمانی کا مزید امتحان ہی تھا (آیت) ” ثم صرفکم عنھم “۔ یعنی جب تم میں عدم ثبات وتزلزل پایا تو اللہ نے اپنی وہ آسمانی امداد ونصرت روک لی۔
300 ۔ (اس لیے اب مؤاخذہ آخرت کا کھٹکا نہیں) کیا ٹھکانا ہے مومنین پر بالعموم اور صحابہ رسول ؓ پر بالخصوص شفقت کا کن کن عنوانات سے تسلی دی جارہی ہے۔
Ayah 3:153301 ۔ (کہ ادھر آؤ۔ میں ادھر ہوں) یہ بیان ہورہا ہے مسلمان سپاہ کی بھگدڑ اور شدت بدحواسی کا۔ اور واقعی بات ہے کہ جب فوج میں بھگدڑ پڑتی ہے تو ایسی ہی بےحواسی پھیل جاتی ہے، نفسی نفسی کا عالم ہوتا ہے، کوئی کسی کی نہیں سنتا، ہر ایک کو اپنی جان بچانے کی فکر پڑجاتی ہے۔ (آیت) ” اذ تصعدون “۔ یعنی جب بھاگتے ہوئے چڑھے جارہے تھے۔ (آیت) ” والرسول یدعوکم “۔ رسول اسلام (علیہ الصلوۃ والسلام) علاوہ اپنے دوسرے کمالات و فضائل کے ہمت و شجاعت میں بھی فرد اور بےعدیل تھے۔
302 ۔ یعنی اس رنج کے عوض میں جو تمہاری ذات سے رسول اللہ ﷺ کو اٹھانا پڑا تھا، تمہیں بھی ایک رنج دے دیا گیا۔ ای اثابکم غما بسبب غم اذ قتموہ رسول اللہ ﷺ بعصیانکم لہ ومخالفتکم امرہ (روح)
303 ۔ (اور اسی باخبری کے مطابق جزاوسزا بھی دے گا) (آیت) ” لکیلا تحزنوا الخ “۔ یہ اشارہ ہے ان حکمتوں اور مصلتحوں کی جانب جو اس واقعہ شکست میں پوشیدہ تھیں۔ لکی۔ یعنی تاکہ آئندہ کے لیے اس واقعہ سے سبق لو اور ہمت و استقلال کو کام میں لاؤ۔
Ayah 3:154304 ۔ مسلمان تھکے ماندے تو تھے ہی، دوپہر کے وقت ان پر نیند کا غلبہ ہوا اس سے تازہ دم ہوگئے، تھکی ہوئی فوج کو نیند جیسی نعمت کے میسر آجانے کی قدر کوئی اہل فوج ہی کے دل سے پوچھے۔
305 ۔ (اور مسلمانوں سے حجت اور تکرار کررہے تھے کہ تم سے جو وعدۂ فتح ونصرت تھا، وہ کیا ہوا ؟ ) مراد منافقین ہیں۔۔۔ مسلمانوں کے ساتھ ملے جلے ہوئے تھے، اس لیے خطاب بھی ان سے اکثر مسلمانوں کے ساتھ مشترک ہی ہے۔ یعنی المنافقین (قرطبی) ھم المنافقون (بیضاوی) (آیت) ” اھمتھم انفسھم “۔ یعنی اس قسم کا سوچ بچار کہ دیکھئے یہاں سے بچ کر بھی جانا ہوگا، اپنی جان کی فکر بجائے خود کوئی بری چیز نہیں، یہاں مراد یہ ہے کہ ان منافقین کو اپنی ہی پڑی تھی نہ دین کی کوئی فکر تھی نہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی خیال تھا۔ ماھمھم الانفسھم وخلاصھا لاھم الدین ولا ھم رسول اللہ (مدارک) (آیت) ” یظنون غیر الحق۔ اللہ سے متعلق ان کی بدگمانیاں خلاف وقعیت و حقیقت تھیں انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ مومنین کو نصرت حق وتائید غیبی نصیب نہ ہوگی (آیت) ” ظن الجاھلیۃ “ اس سے بڑھ کر ان کے خیالات اس حد تک پہنچ گئے تھے جو مشرک اور جاہلی ہی قوموں کے ہوتے ہیں ان کے نزدیک یہ بھی ممکن تھا کہ اللہ کسی سے وعدہ تائید ونصرت کرے اور پھر اسے پورا نہ کرے۔ ایسے عقائد مشرک قوموں میں عام تھے۔ (آیت) ” الجاھلیۃ “۔ جاھلیۃ محاورۂ قرآنی میں اسلام سے قبل کا دور شرک ہے، یہ جاہلیت توحید کے منافی ہے۔ (آیت) ” ظن الجاھلیۃ کی ترکیب یوں سمجھی گئی ہے۔ کظن اھل الجاھلیۃ۔
306 ۔ (ورنہ ہم تو شروع ہی سے اس جنگ سے منع کررہے تھے، کسی نے ہماری نہ سنی، ہماری سن لی گئی ہوتی تو آج یہ مصیبت ہی کیوں پیش آتی) یہ منافقین اپنی خفت وندامت مٹانے کے لیے کہہ رہے تھے۔
307 ۔ (اور قضاء الہی ہر انسانی تدبیر پر غالب وحاکم ہے) خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے کہ آپ ﷺ یہ ان منافقین سے کہہ دیجئے۔
308 ۔ یعنی اپناکفر ونفاق۔ اس کو رسول اللہ ﷺ اور مومنین سے مخفی رکھنے کا ہی تو خاص اہتمام تھا۔
309 ۔ ینی اگر ہمارے مشورہ پر عمل ہوتا تو نہ لڑائی ہی کی نوبت آتی اور نہ اس شکست اور اتنے مقتولین کی۔
310 ۔ مطلب یہ ہوا کہ احکام تکوینی تقدیری سے باہر رہنا کسی کے لیے کسی صورت میں ممکن نہیں، کوئی نہ کوئی ظاہری سبب بھی مقتل تک ان کے کھنچ آنے کا ضرور نکل آتا۔
311 ۔ (شیطانی اور نفسانی میل کچیل سے) (آیت) ” ولیمحص “۔ تمحیص کے معنی ہیں آمیزشوں سے، کدورتوں سے پاک کرنا۔ (آیت) ” مافی صدورکم “۔ یعنی تمہارے اخلاص کی آزمائش ہوجائے۔
Ayah 3:155312 ۔ (میدان احد میں) (آیت) ” ان الذین تولوا “۔ مراد وہی صحابی ہیں جن سے احد کے موقع پر کمزوری کا اظہار ہوا تھا۔ انہی کی تسکین و تسلی کے لیے نیز آئندہ کی نتبیہ وہدایت کی غرض سے یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں۔
313 ۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ آگیا کہ ہر پچھلا گناہ سبب بن جاتا ہے مزید وجدید معصیت کا، یہاں مراد ہے حب حیات اور مال غنیمت کی ہوس۔ وقال بعض العلماء حبھم الغنیمۃ والحرص علی الحیاۃ (بحر) معنی السببیۃ الجرارھا الیہ لان الذنب یجر الذنب کما ان الطاعۃ تجر الطاعۃ (روح) (آیت) ” انما استزلھم الشیطن “ اس میں اس ادب کی تعلیم آگئی کہ گناہ جو بھی سرزد ہوجائے اس کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب نہیں بلکہ شیطان کی جانب دینا چاہیے، قال الکعبی الایۃ تدل علی ان المعاصی لاتنسب الی اللہ فانہ تعالیٰ نسبھا فی ھذہ الایۃ الی الشیطان (کبیر) فالاضافۃ الی الشیطان لطف وتغریب والتعلیل بکسبھم وعظ وتادیب (مدارک) خود کلام مجید میں بھی دوسری آیتیں اس قسم کی ہیں مثلا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے (آیت) ” ھذا من عمل الشیطن “۔ یا حضرت یوسف کی زبان سے (آیت) ” من بعد ان نزغ الشیطن بینی وبین اخوتی “۔ یا خادم موسیٰ کی زبان سے (آیت) ” وما انسنیہ الا الشیطن “۔
314 ۔ (ان کے توبہ و استغفار کی بنا پر) یہی مضمون تین آیت قبل بھی بیان ہوچکا ہے۔ (آیت) ” ولقد عفا اللہ عنہم “۔ تکرار سے ان صحابیوں کی مزید تسلی و اطمینان مقصود ہے جو لوگ ان صحابیوں کو اس واقعہ احد کی بنا پر موردطعن سمجھ رہے ہیں وہ صاف آیات قرآنی کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
315 ۔ یہاں دو صفات باری کا اثبات کیا ہے۔ (آیت) ” غفور “ ایک صفت غفر کا، اس کا ظہور آخرت میں ہوگا۔ (آیت) ” حلیم “۔ دوسرے صفت حلم کا، اس کا ظہور اسی دنیا میں ہوتا رہتا ہے، کہ فورا مؤاخذہ نہیں کرتا بلکہ توبہ و استغفار کا موقع برابر دیتا رہتا ہے۔
Ayah 3:156316 ۔ (لیکن زبان پر دعوی اسلام و ایمان کا رکھتے ہیں) مراد منافقین ہیں۔ یعنی المنافقین (بیضاوی) ھولآء المنافقون اصحاب عبداللہ بن ابی (ابن جریر عن السدی) (آیت) ” لاتکونوا کالذین کفروا “۔ ہدایت مومنین کو ہورہی ہے کہ تم اپنی گفتگو میں منافقین کے مثل نہ ہوجاؤ ان کی سی باتیں نہ کرنے لگو، اس قسم کی باتیں صرف ان ایمان سے محروموں کے شایان ہے۔ نھی تعالیٰ ال مومنین ان یکونوا مثلھم فی ھذہ المقالۃ الفاسدۃ (بحر) امام رازی (رح) نے فرمایا ہے کہ یہاں منافقین پر (آیت) ” الذین کفروا “۔ کا اطلاق ہوا ہے، حالانکہ منافقین کو زبانی دعوی اسلام کا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ مجرد دعوائے اسلام ایمان کے لیے کافی نہیں جب تک کہ تصدیق قلب بھی شامل نہ ہو۔ (آیت) ” فالایۃ تدل علی ان الایمان لیس عبارۃ من الاقرار باللسان کما تقول الکرامیۃ (کبیر)
317 ۔ (اور کسی جہاد یا اسلامی سفر پر روانہ نہ ہوتے تو مزے سے زندگی بسر کرتے رہتے اور کسی خطرہ میں نہ پڑتے) (آیت) ” لاخوانھم “ میں ل تبلیغ کا نہیں، اس لیے اس کے معنی ” سے “ کے نہیں بلکہ تعلیل یا سببیت کا ہے، اس کے معنی ” کی بابت “ یا ” کے باب میں “ کے ہوں گے۔ ای لاجل اخوانھم (کشاف) واللام لام السبب ای لاجل اخوانھم ولیست لام التبلیغ (بحر) (آیت) ” اخوانھم “۔ اخوان “ سے مراد نسبی بھائی یعنی مسلمان بھی مراد ہوسکتے ہیں اور اعتقادی بھائی یعنی دوسرے منافقین بھی، ترجیح نسبی بھائیوں یا مسلمانوں کو ہے۔ مسلمانوں کی موت یا شہادت کی خبر جب منافقین سن پاتے تو اسی طرح کے فقرے کہتے۔ ومعنی الاخوۃ اتفاق الجنس اوالنسب (کشاف) (آیت) ” اذا ضربوا فی الارض یعنی کسی اسلامی، دینی مقصد سے سفر کو جاتے اور وہیں وفات پاجاتے۔ (آیت) ” اوکانوا غزی “۔ یعنی جہاد پر جاتے اور اسی میں شہید ہوجاتے۔ ” اذا “ اگرچہ عموما مستقبل کے لیے ہے، لیکن۔ اذا۔ اور اذا، دونوں کا ایک دوسرے کے بجائے لانا بھی درست ہے۔ قال قطرب کلمۃ اذ واذا یجوز اقامۃ کل واحدۃ منھما مقام الاخری واقول ھذا الذی قالہ قطرب کلام حسن (کبیر)
318 ۔ یعنی ایسے خیالات دماغ میں موجزن ہونا اور ان زبان پر لانا یہ خود ایک وبال ان کی منافقت اور نور ایمان سے محرومی کا ہے، دل میں وہ ایقان تو ہوتا ہی نہیں جو تسکین پیدا کرتا ہے، اس لیے ہر امر تکوینی تقدیری سے ان کے دلوں میں حسرت اور کڑھن کا اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ ای یجعل ظنھم انھم لو لم یخر جو وا ماقتلوا حسرۃ (قرطبی)
319 ۔ موت وزندگی دونوں تمامتر اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اس مسبب الاسباب وعلت حقیقی کو چھوڑ کر نظر ظاہری اور فوری اسباب پر جانا اور فوری اسباب پر جانا اور سفر یا جہاد کو موت یا قتل کی علت تامہ قرار دینا کیسی شدید جہالت وسفاہت ہے، امریکہ میں اس وقت سوشیالوجی (عمرانیات) کا ایک ماہر فاضل ڈینی سن Denison اپنی کتاب Emotion a basis of Civilisation میں ایک جگہ لکھتا ہے :۔ ” مسلمانوں کی اس عقیدہ تقدیر یا ہر امر تکوینی کو خدا کے تفویض کردینے کی عادت نے نیز عقیدۂ شہادت نے (کہ شہید معا جنت میں داخل ہوجاتے ہیں، جہاں اسے 72 حوریں ملتی ہیں، اور کھانے کے لیے سونے کے ظروف) مسلمانوں میں معرکہ جنگ کے اندر بڑی ہی قوت اور استقامت پیدا کردی تھی۔ “ (صفحہ 206) امریکی فاضل کا ایمان نہ عقیدۂ تقدیر پر ہے نہ عقیدۂ شہادت پر، اس پر بھی وہ ان عقیدوں کی نافعیت اور اس کی حیثیت افادی کی داد دینے پر اپنے کو بےاختیار پارہا ہے۔
320 ۔ (سو اگر کہیں خدانخواستہ تم نے منافقین کے طرز خیال وگفتگو کی تقلید کی تو یہ بھی سب اس خدائے دانا وبصیر، ہمہ بین وہمہ دان کے علم میں آکر رہے گا)
Ayah 3:157321 ۔ (حظوظ دنیوی میں سے) مطلب یہ ہے کہ موت تو اپنے وقت موعود ہی پر آئے گی جہاد یا سفر فی سبیل اللہ سے خواہ مخواہ تو آنہ جائے گی البتہ اگر اس حالت میں وقت ہی پورا ہوگیا تو اجر اور ابدی زندگی کی نعمتیں بیشمار ہیں، (آیت) ” اومتم “۔ یعنی چاہے وہ موت طبعی ہی ہو لیکن مشغولی اس وقت اللہ کے کام میں ہو۔
Ayah 3:158322 ۔ سو مومن کے لیے تو کوئی خوف وہراس کی بات ہی نہیں) (آیت) ” متم “ یعنی طبعی موت سے اپنے وطن میں وفات پاگئے۔ (آیت) ” قتلتم “۔ یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں مارے گئے۔
Ayah 3:159323 ۔ (آیت) ” لھم “۔ یعنی ان لوگوں کے ساتھ نرم رہے جو جنگ احد میں آپ ﷺ کی نافرمانی کرکے مسلمانوں کی شکست وتفضیح کا سبب بنے تھے، نافرمان سپاہیوں کے ساتھ، عین معرکہ جنگ میں خود رائی سے کام لینے والے سپاہیوں کے ساتھ، شفقت وملاطفت کا معاملہ قائم رکھنا دنیا کی جنگی تاریخ میں شاید اپنی نظیر آپ ہی ہو۔ (آیت) ” بما “۔ میں ما زائدہ تاکید کے لیے ہے۔ ترجمہ میں اسی لیے ” ہی “ لایا گیا ہے۔ وما مزیدۃ للتاکید والتنبیہ (بیضاوی) وما مزیدۃ للتاکید وعلیہ اجلۃ المفسرین وبہ الماثور عن قتادۃ (روح) صلۃ فیھا معنی التاکید (قرطبی) والدلالۃ علی ان لینہ لھم ما کان الابرحمۃ من اللہ (کشاف)
324 ۔ حضور انور ﷺ کے حلم و تحمل، نرمی وخوش خوئی، شفقت وملاطفت کے واقعات سے تو حدیث اور سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ کوئی کہاں تک گنائے اور یہ حقیقت تو خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اپنی ذات کے لیے آپ ﷺ نے کسی سے انتقام نہیں لیا، غیروں (اور غیر ہی کیسے، بعض معاند تک) کے دو ایک قول سننے کے قابل ہیں۔ لین پول نے کہا ہے :۔ ” ظلم محمد ﷺ کی سرشت ہی میں نہ تھا “۔ اور باسورتھ اسمتھ کا بیان ہے :۔ ’ انہوں نے عمر بھر کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔۔ کوئی مصافحہ کرتا تو نہ وہ اپنا ہاتھ الگ کرنے میں سبقت کرتے نہ از خود اس سے الگ ہوتے، گفتگو بہت نرم وشیرین کرتے “۔ اور ہسٹورینس ہسٹری آف دی ورلڈ میں ہے :” پیغمبر کا میلان طبع ہمیشہ نرمی ہی کی جانب رہتا “۔ مفصل حوالوں کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی، لیکن نرمی وملاطفت کے بھی شریعت میں حدود مقرر ہیں۔ جہاں دین کی توہین ہورہی ہو یا احکام دین کے اجراء کی ضرورت ہو وہاں سختی اور سزا لازمی ہوجاتی ہے۔ اللین والرفق انما یجوز اذا لم یفض الی امھال حق من حقوق اللہ فاما اذا ادی الی ذلک لم یجز (کبیر)
325 ۔ (حسب دستور سابق) گویا اسلام کے نظام شوری جمہوری میں حکم یہ ہے کہ ایسے مجرموں کو بھی مسائل ملی میں رائے زنی سے محروم نہ کیا جائے اور ان سے ووٹ کا حق سلب نہ کیا جائے۔۔۔ کیا حد ہے اس رحمت کی آج دنیا کی بڑی بڑی آزاد جمہوریتیں بھی اس کی مثال پیش کرسکیں گی ؟ (آیت) ” فاعف عنھم “۔ یعنی جہاں آپ ﷺ کے حقوق کے اتلاف کا تعلق ہے، آپ ﷺ معاف کردیجئے۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس حکم کی تعمیل میں ان خطاکاروں کو زبانی تہدید بھی نہ فرمائی۔ لم یخاطبھم الرسول ﷺ بالتغلیظ والتشدید وانما خاطبھم بالکلام اللین (کبیر) (آیت) ” واستغفرلھم “ یعنی جہاں تک حقوق اللہ کے اتلاف کا تعلق ہے، آپ ﷺ ان کے لیے دعائے مغفرت کردیجئے۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ جہاد میں بھاگنے سے بڑھ کر گناہ کبیرہ اور کیا ہوگا لیکن قرآن مجید نے ان اصحاب نبی ؓ کے عفو ومغفرت کی بار بار تصریح کرکے یہ صاف کردیا کہ ان حضرات کے کبائر بھی معاف ہوگئے تھے (آیت) ” وشاورھم فی الامر “۔ مشورہ کی بڑی فضیلتیں حدیث میں آئی ہیں اور ظاہر ہے کہ مشورہ کا حکم جب رسول صاحب وحی کو مل رہا ہے تو دوسروں کے لیے اس کی احتیاج کتنی زائد رہے گی، فقہاء ومفسرین نے اس آیت سے اجتہاد اور قیاس شرعی کے جواز کی دلیل پکڑی ہے فیہ دلالۃ جواز الاجتھاد وبیان ان القیاس حجۃ (مدارک)
326 ۔ یعنی جب کسی امر میں مشورہ ہولے تو بس اب تذبذب وتامل کو دخل نہ دیجئے اور بلاتکلف وتوقف اللہ کے بھروسہ پر عمل اسی پختہ عزم پر کرنے لگئے۔۔ شخصیت واجتماعیت، فردیت وشوریت کا یہ کیسا حکیمانہ امتزاج ہے۔ اس میں اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ اعتماد کی چیز اللہ کی ذات ہے۔ نہ کہ انسانی مشورے۔ قال قتادہ امر اللہ نبیہ (علیہ السلام) اذا عزم علی شیء ان یمضی ویتوکل علی اللہ لا علی مشاورتھم (قرطبی) والمقصود ان لایکون للعبد اعتماد علی شیء الا علی اللہ فی جمیع الامور (کبیر)
327 ۔ اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ اس گئی گزری حالت حالت میں بھی نظام شرعی سے اس قدر بعد کے بعد بھی مسلمانوں کو صبر و قناعت کی دولت لازوال حاصل ہے اور خود خشی کے فیشن سے دنیائے اسلام ناواقف ہے۔
Ayah 3:160328 ۔ (جیسا کہ معرکہ بدر میں تم نے دیکھ لیا اور وہ ثمرہ طاعت کا تھا) المقصود من الایۃ الترغیب فی الطاعۃ والتحذیر عن المعصیۃ (کبیر)
329 ۔ (جیسا کہ معرکہ احد میں تمہیں تجربہ ہوگیا اور وہ ثمرہ خود رائی کا تھا) (آیت) ” من بعدہ “ یعنی اس کی ترک نصرت کے بعد ای من بعد خذلانہ (کشاف) آیت سے یہ بھی استنباط کیا گیا ہے کہ ایمان ثمرہ ہوتا ہے اعانت الہی کا اور کفر خذ لان الہی کا۔ احتج الاصحاب بھذہ الایۃ ان الایمان لا یحصل الاباعانۃ اللہ والکفر لا یحصل الابخذلانہ (کبیر)
Ayah 3:161330 ۔ یعنی یہ شان نبوت کے بالکل منافی ہے۔ المراد ان النبوۃ والخیانۃ لایجتمعان (کبیر) والمعنی انہ لایمکن ذلک منہ لان الغلول معصیۃ والنبی ﷺ معصوم وھذا النفی اشارۃ الی انہ لاینبغی ان یتوھم فیہ ذلک (بحر) آیت کا پس منظر ہے کہ جنگ بدر کے بعد جب مال غنیمت تقسیم ہورہا تھا تو ایک سرخ رنگ کا جبہ ذخیرہ سے غائب معلوم ہوا۔ اس پر کوئی بول اٹھا کہ رسول اللہ ﷺ نے لے لیا ہوگا، یہ قول اب اگر کسی منافق کا تھا تو اس بدبخت نے کھلا ہوا حملہ رسول اللہ ﷺ کی دیانت پر کردیا اور اگر کسی نومسلم کی زبان سے نکلا تھا تو وہ یقیناً اس غلط فہمی میں تھا کہ رسول اللہ کو بغیر اطلاع بھی تصرف کا حق حاصل ہے۔ آیت ہر مفروضہ کی تردید کررہی ہے۔ اور ایسے عمل کو خیانت سے تعبیر کررہی ہے۔ مشرک غریب تو سرے سے جانتے ہی تھے کہ مرتبہ نبوت کس منصب عظیم کا نام ہے اور پیغمبرانہ اخلاق کے معنی کیا ہیں۔ یہود ونصاری البتہ پیغمبروں کے نام اور کارناموں سے آشنا تھے لیکن ان ظالموں نے بھی رفتہ رفتہ مرتبہ نبوت کی اخلاقی عظمت کو بالکل ہی بھلا دیا تھا اور نبی کو کاہن کی قسم کا محض ایک پیشین گوئی کرنے والا انسان سمجھ رکھا تھا۔ آیت سب غلط خیالیوں کی اصلاح کررہی ہے۔
331 ۔ اتنی بڑی مفسرین نے لکھا ہے کہ غلول یا خیانت معصیت کبیرہ ہے۔ قال العلماء الغلوکبیرۃ من الکبائر (قرطبی) وقد عظم النبی ﷺ امر الغلول حتی اجراہ مجری الکبائر (جصاص) اور یہ بھی کہا ہے کہ حکام کا ہدیہ قبول کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔ ومن الغلول ھدایا العمال وحکمہ فی الفضیحۃ فی الاخرۃ حکم الغال (قرطبی)
332 ۔ پیغمبروں کا اعزاز واکرام قطعی ہے۔ تو کسی نبی کی جانب خیانت جیسے ذلیل جرم کی نسبت کی ہی کیونکر جاسکتی ہے ؟
Ayah 3:162333 ۔ (جیسا کہ ہر نبی لازمی طور پر ہوتا ہے)
334 ۔ (جیسے خائن یا اور کوئی مجرم)
Ayah 3:163335 ۔ (اور اپنے اسی علم کامل کے مطابق جزا وسزا دینے والا ھم یعنی یہ سب لوگ رضاء حق پر چلنے والے ہیں۔ اور راہ حق کی مخالفت کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” ھم درجت “ یہ مختلف طبقہ اللہ کے ہاں محبوبیت اور مغضوبیت کے لحاظ سے ہوں گے۔ تقدیر کلام یوں ہے ھم ذو درجت یالھم درجت، معنی ھم درجت۔ ای ذو درجت اولھم درجت (قرطبی) وتقدیر الکلام لھم درجت عند اللہ (کبیر) (آیت) ” عند اللہ سے مراد ہے اللہ کی عدالت میں۔ ای فی حکم اللہ وعلمہ (کبیر)
Ayah 3:164336 ۔ اللہ کی بہترین نعمت ہونے کے لحاظ سے بعثت رسول اللہ ﷺ کا احسان ہے تو سارے عالم پر۔ مسلمانوں کی تخصیص ذکر کی وجہ ظاہر ہے کہ بعثت سے فائدہ اٹھانے والے یہی لوگ تھے۔ (آیت) ” من انفسھم “۔ یعنی انہی کی جنس میں سے اس میں مومنین کے لیے بڑی بشارت ہے کہ پیغمبر بھی بس تمہارے ہی جیسے ایک بشر ہیں۔ ارادبہ ال مومنین کلھم ومعنی من انفسہم انہ واحد منھم وبشر مثلھم (قرطبی) رسول اللہ ﷺ کی تلاوت آیات، تزکیہ تقوی، تعلیم کتاب و حکمت پر حاشیہ پارۂ اول کی آیت کے ذیل میں گزر چکے۔
337 ۔ (آیت) ” فی ضلل مبین “ قرآنی دستور العمل اور محمد ﷺ نمونہ عمل سے قبل دنیا پر عقائد، معاملات، عبادات اخلاق ہر اعتبار سے اندھیرا ہی چھایا ہوا تھا اور انسانی آبادی صحیح معنی میں (آیت) ” فی ضلل مبین “ کی تصویر تھی، ان۔ یہاں۔ ان۔ کا مخفف ہے اور تاکید کے معنی دے رہا ہے۔ انھی المخففۃ یعنی الثقیلۃ (کشاف)
Ayah 3:165338 ۔ (اس کے قبل بدر میں) (آیت) ” اصابتکم مصیبۃ “ یعنی احد میں جب تمہیں شکست ہوئی اور تمہارے ستر آدمی شہید ہوئے (آیت) ’ اصبتم مثلیھا “۔ یعنی بدر میں جب مشرکین کے ستر آدمی قتل ہوئے تھے اور ستر گرفتار۔ او میں وعطف کا ہے اور۔ ا۔ تفریح و استفہام کا۔ الھمزۃ للتفریع والتقریر والواو عاطفۃ (بیضاوی) الالف للاستفھام والواوللعطف (قرطبی)
339 ۔ یعنی تمہارے اپنے ہاتھوں ہوئی، ہمارا وعدہ فتح ونصرت تمہاری طاعت و اطاعت کے ساتھ مشروط تھا۔ جب تم نے اس کا لحاظ نہ رکھا تو اب وعدہ کہاں باقی رہا۔ (آیت) ” انی ھذا “۔ حیرت طبعی میں مسلمان بار بار استعجاب سے کہتے تھے کہ ہم صاحب ایمان بندہ، اللہ کی راہ میں لڑنے والے پھر ہم میں نبی موجود اور مقابل مشرکین اور پھر بھی شکست ہم ہی کو۔
340 ۔ فتح دینے پر بھی قادر اور فتح سے محروم کردینے پر بھی قادر۔
Ayah 3:166341 ۔ (اور اللہ کی ہر مشیت اللہ ہی جانتا ہے کتنی حکمتوں اور مصلحتوں کی سرمایہ دار ہوتی ہے) (آیت) ” باذن اللہ “ اذن یہاں مشیت کے معنی میں ہے۔ ای بقضاء ہ وقدرہ (قرطبی) المراد من الاذن قضاء اللہ بذلک (کبیر عن ابن عباس ؓ (آیت) ” یوم التقی الجمعن “ یعنی معرکہ احد میں مکہ کا ایک لشکر ابوسفیان کی کمان میں اور مدینہ کی فوج محمد رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں۔ المراد یوم احد (کبیر)
Ayah 3:167342 ۔ یعنی علانیہ اس کا امتحان ہوجائے کہ مومن کون کون ہے اور منافق کون کون ہے۔
343 ۔ یہ منافقین سے کہا گیا تھا۔ لھم میں ھم کی ضمیر انہی کی طرف ہے۔ ای للمنافقین (مدارک) (آیت) ” اوادفعوا “۔ یعنی اگر لڑتے نہیں ہو تو کم از کم اپنی شمولیت ہی سے مسلمانوں کی تعداد کافروں کی نظر میں بڑھائے رہو۔ ای کثروا سواد ناوان لم تقاتلوا معنا (قرطبی) یہ اس وقت کا ذکر ہے جب منافقین کا تین سو کا گروہ آغاز جنگ میں مسلمانوں سے کٹ کر مدینہ کو واپس آرہا تھا۔
344 ۔ (لیکن یہ تو جنگ نہیں صریح خود کشی ہے) ولا یقال لمثلہ قتال ھو القاء بالانفس الی التھلکۃ (کشاف) منافقین کا کہنا یہ تھا کہ دشمن اول تو تعداد میں تم سے چوگنا پھر سازوسامان میں کہیں زائد ایسی حالت میں شہر سے باہر نکل کر ان کا مقابلہ کرنا سارے اصول جنگ کے خلاف، صریح دیوانگی ہے)
345 ۔ (یعنی ایمان ظاہری ولفظی سے بھی بہت دور ہوگئے اور حقیقی ایمان تو خیر کبھی تھا ہی نہیں) اور کفر سے قریب تر علانیہ بھی ہوگئے۔ (آیت) ” یؤمئذ “۔ یعنی جس روز ایسی باتیں زبان سے نکالیں۔
346 ۔ (چنانچہ ان کا یہ عذر بھی مخلصانہ نہیں) اصل نیت ان منافقین کی کسی حال میں بھی مسلمانوں کی اعانت کی نہ تھی۔ اور کیوں ہونے لگی تھی، جبکہ سرے سے ایمان ہی دلوں میں نہ تھا۔ (آیت) ” بافواھھم۔ بافواھھم “۔ کا اضافہ زور اور تاکید کے لیے ہے جیسے اردو محاورہ میں کہتے ہیں ” یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے “۔ یا۔ ” اپنے کانوں یہ سنا ہے “۔ والتقیید بالافواہ للتاکید (مدارک)
Ayah 3:168347 ۔ (اور ہماری ہی طرح جنگ سے علیحدہ رہے) (آیت) ” لاخوانھم “۔ اخوان۔ سے مراد اخوان دینی واعتقادی نہیں۔ بلکہ اخوان نسبی ووطنی ہیں۔ ذکر منافقین کی زبان سے مسلمان شہداء کا ہورہا ہے۔ فی النسب لافی الدین ھم شھداء احد (معالم) وھم اخوۃ نسب مجاورۃ لا اخوۃ الدین (قرطبی) ل۔ واسطہ کا ہے، معناہ لاجل اخوانھم (قرطبی) اخوان اور ل دونوں پر حاشیہ اوپر قریب ہی گزر چکا ہے۔
348 ۔ یعنی اگر تمہارا نظر یہ یہ ہے کہ موت معرکہ جنگ ہی میں جانے سے ہوئی ہے تو تم بہرحال جنگ سے احتراز کیے ہوئے ہو، دیکھنا ہے کہ موت سے کب تک بچے رہتے ہو۔
Ayah 3:169349 ۔ (عالم برزخ میں ایک حیات مخصوص کے ساتھ) (آیت) ” ولا تحسبن۔۔۔ امواتا “ شہداء کی موت عام انسانوں کی موت کی طرح نہیں ہوتی بلکہ انہیں برزخ میں ایک مخصوص قسم کی زندگی حاصل رہتی ہے۔ (آیت) ” احیآء۔۔ یرزقون “ یہ حیات اور یہ رزق سب اسی عالم برزخ کے متناسب ہوتے ہیں۔ (آیت) ” عند ربھم “۔ یہ اپنے پروردگار کے مقرب بھی ہوتے ہیں۔ عندھنا تقتضی غایۃ القرب (قرطبی) بمعنی القرب والشرب (روح) پارۂ دوم، آیت رکوع 3 کے حاشیہ بھی ملا حظہ کرلیے جائیں۔
Ayah 3:170350 ۔ (مگر آخر کار شہید ہو کر ان سے جا ملنے والے ہیں) من فضلہ “۔ اس فضل خداوندی کے اندر ہر قسم کی نعمتیں اور سرافرازیاں آگئیں۔
Ayah 3:171351 ۔ اس حقیقت کا تو انہیں عینی مشاہدہ ہورہا ہے۔ (آیت) ” نعمۃ من اللہ “۔ فضل یہ کہ انعام واکرام استحقاق سے کہیں بڑھ کر ملا۔ ای زیادہ علیہ (بیضاوی)
Ayah 3:172352 ۔ (اور رسول کی اطاعت میں خوش دلی کے ساتھ جنگ کے لیے نکل پڑے) (آیت) ” استجابوا یہاں اجابوا کے معنی میں ہے اور حروف، س، و، ت، اس میں زائد ہیں۔ بمعنی اجابوا والسین والتاء زائدتان (قرطبی) استجاب بمعنی اجاب (کبیر)
353 ۔ (جنگ احد میں، اور وہ زخم ابھی تازہ ہی تھا) معرکہ احد میں لشکر اسلام کو جو صدمہ پہنچا تھا۔ ، اس نے اہل مکہ کی ہمتیں بڑھا دی تھی، سال ہی بھر بعد ایک بار پھر ابوسفیان قرشی اموی کی قیادت میں مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ (ابوجہل، ابولہب، عتبہ وغیرہ کے قتل وہلاکت کے بعد اب قوم قریش کی سرداری کی باگ ابوسفیان ہی کے ہاتھ میں تھی) دوہزار پیادہ فوج، مع پچاس سواروں کی جمعیت کے، لیکن دو ہی ایک روز بعد خود ان لوگوں پر کچھ ایسی ہیبت سوار ہوئی کہ الٹے پاؤں واپس چلے گئے۔ آیات قرآنی میں اشارہ انہی واقعات کی جانب ہے۔
354 ۔ (اور نیک اور متقی تو یہ سب ہی ہیں) (آیت) ” منھم “ جس طرح تبعیض کے لیے آتا ہے، یعنی کل میں سے کسی جزء کے بتانے کو، اسی طرح تبیین یعنی توضیح کے لیے بھی آتا ہے۔ چناچہ یہاں اسی معنی میں ہے اور (آیت) ” احسنوا اور اتقوا “ کے لیے آنے سے مقصود اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ (آیت) ” الذین استجابوا “ کی ممدوحیت کی علت یہی دو اوصاف احسان وتقوی ہیں۔ ومن للبیان والمقصود من ذکر الوصفین المدح والتحلیل لا التقیید لان المستیبین کلھم محسنون متقون (بیضاوی) قد احسنوا کلھم واتقوا لابعضھم (مدارک)
Ayah 3:173355 ۔ (اور یہ ابوسفیان کے سکھائے پڑھائے ہوئے اس کی طرف سے پروپیگنڈا کرنے والے تھے) تاریخ میں اس پروپیگنڈسٹ جماعت کے لیڈر کا نام نعیم آتا ہے۔ یہ شخص قبیلہ ثقیف کا تھا۔
356 ۔ (اور تم کسی طرح ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہو) (آیت) ” ان الناس “۔ یہاں ناس سے مراد قوم قریش ہے۔ اس روایت کی نشرواشاعت سے مقصود مسلمانوں کے دلوں میں قریش کا رعب بٹھانا اور ان کی طرف سے دہشت پیدا کرنی تھی۔ ” حرب اعصاب “ War of Nerves جس طرح آج حرب اسلحہ کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے اور اس کا ایک اہم جزء ہے، زمانہ قدیم میں بھی ہوتی رہتی تھی اور ابوسفیان اپنے وقت اور اپنی قوم میں اس فن کا ماہر تھا، اس نے اپنے آدمی چھوڑ رکھے تھے کہ مسلمانوں سے مل مل کر انہیں قریش کی عسکری قوت اور حربی عظمت سے ایسا مرعوب کردیں کہ ان کی ہمت پست پڑجائے اور مقابلہ کا حوصلہ ہی باقی نہ رہے۔
357 ۔ (ہماری حمایت، حفاظت، سب کے لیے) یعنی اس خبر کیا اشاعت اور پروپیگنڈا نے بجائے ان میں پست ہمتی پیدا کرنے کے مسلمانوں میں جوش ایمانی اور تیز کردیا اور وہ توکل اور اعتماد علی اللہ کی پوری قوت کے ساتھ بول اٹھے کہ غنیم جو چاہے کرے ہمارا کارساز تو اللہ ہے اور وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ (زادھم قول الناس ایمانا) (قرطبی)
Ayah 3:174358 ۔ (اور یہی رضاء الہی سر چشمہ ہے دنیوی اور اخروی ہر قسم کے نفع و راحت کا) (آیت) ” فانقلبوا “۔ یعنی مقام بدر تک جا کر مسلمان واپس آئے، اہل سیر وتاریخ کی زبان میں یہ واقعہ غزوۂ بدر ثانیہ کے نام سے موسوم ہے اور اس کا زمانہ شعبان 4 ہجری کا ہے۔ سیرت ابن ہشام میں ہے :۔” آپ ﷺ نے ابوسفیان کا انتظار آٹھ دن تک کیا اور ابوسفیان بھی مکہ والوں کو لے کر روانہ ہوا مگر نواحی ظہران میں پہنچا تو اس کی رائے مکہ واپس چلے آنے کی ہوئی اور اس نے قریش سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہارے سفر کے لیے تو ایسا موسم مناسب ہے جس میں تم اپنے جانوروں کو چرا بھی سکو اور دودھ بھی خوب پی سکو اور یہ موسم تو خشکی کا ہے سو میں تو واپس چلا تم بھی واپس چلے چلو چناچہ وہ لوگ واپس ہوگئے “۔ (آیت) ” بنعمۃ من اللہ “۔ یعنی نعمت مقبولیت اور ترقی ایمان کے ساتھ۔ (آیت) ” فضل “۔ یعنی دنیوی نفع کے ساتھ بھی۔ مال کی نکاسی خوب ہوئی۔
359 ۔ چناچہ یہاں اس کا فضل مسلمانوں پر ان صورتوں میں ظاہر ہوا۔ ( 1) ان کے درجہ ایمان میں ترقی ہوئی۔ (2) انہیں معرکہ جہاد میں نکلنے کی توفیق ہوئی۔ (3) وہ ہر قوت دشمن کی شوکت وصولت سے ذرا مرعوب نہ ہوئے۔ مقابلہ کی ہمت قائم رکھی۔ (4) مالی وتجارتی دنیوی نفع حاصل ہوئے۔ (5) اجر عظیم کی بشارت ملی۔
Ayah 3:175360 ۔ شیطان کہیں اپنی اصلی صورت میں سامنے آکر حملہ نہیں کرتا جب وار کرتا ہے کسی نہ کسی انسانی شکل و قالب میں آکر اور یہی اولیاء الشیطان کہلاتے ہیں، یہاں اس جماعت کا لیڈر نعیم ثقفی تھا۔ اولیاء ای باولیاء ہ (قرطبی)
361 ۔ (کہ اللہ کے خوف کو مخلوق کے خوف پر غالب رکھنا لازمہ ایمان ہے) (آیت) ” لاتخافوھم۔ ھم۔ سے مراد ہیں شیطان کے دوست یا اللہ کے دشمن۔
Ayah 3:176362 ۔ یعنی ان لوگوں کے لیے آپ فکروغم میں نہ پڑیں (آیت) ” الذین یسارعون فی الکفر “۔ مراد منافقین ہیں۔ ادھر مسلمانوں کو خفیف سی بھی شکست ہوئی اور ادھر یہ کھلم کھلا کفر میں جا پڑے۔ اور کافروں کے علانیہ بھی شریک ہونے لگے۔ نزلت فی المنافقین (کبیر)
363 ۔ یعنی اللہ کے دین کو ذرا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ آیت سے مقصود پیغمبر ﷺ کو تسکین دینا ہے کہ آپ کو بڑی فکر اس کی ہے کہ منافقین کی چالوں سے کہیں اشاعت اسلام نہ رک جائے۔ سواطمینان رکھیے ان کی چالیں ذرا بھی کامیاب نہ ہوں گی۔
364 ۔ (ان کے کفر اختیاری کی پاداش میں) ارادتہ ان لایکون لھم ثواب فی الاخرۃ لاتکون بدون ارادۃ کفرھم ومعاصیھم (مدارک)
Ayah 3:177365 ۔ (بلکہ الٹے خود ہی ہر طرح کے خسارہ میں رہیں گے) (آیت) ” الذین اشتروا الکفربالایمان “۔ اس میں اسلام کے دشمن خفیہ وعلانیہ ہر قسم کے آگئے۔
Ayah 3:178366 ۔ (اور فورا انہیں عذاب کی گرفت میں نہیں لے رہے ہیں) ۔
367 ۔ (عمر ومہلت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ) یعنی ہمارے قانون تکوینی کا اقتضاء یہی ہے کہ جب گرفت فوری نہیں ہوتی تو غفلت وجسارت اور بڑھتی جاتی ہے۔
Ayah 3:179368 ۔ (طرح طرح کے امتحانوں سے اور آزمائشوں کے ذریعہ سے) خطاب عام نوع انسانی سے ہے۔ علی ماانتم ایھا الناس (جلالین) (آیت) ” لیذر) میں ل تاکید نفی کے لیے ہے، واللام لتاکید النفی (مدارک) (آیت) ” ماانتم علیہ “۔ (یعنی مومنین ومنافقین کی ملی جلی ہوئی قوم) علی ماانتم علیہ من اختلاط ال مومن بالمنافق (قرطبی) من اختلاط ال مومن الخلص والمنافقین (مدارک) المعنی لایترککم مختلطین لا یعرف مخلصکم من منافقکم (بیضاوی) (آیت) ” الخبیث “ اور الطیب “ سے ظاہر مراد منافقین اور مومنین ہیں۔
369 ۔ (مثلا یہی کہ وہ بتلادے کہ فلاں فلاں شخص منافق ہیں اور فلاں فلاں مومن) یہ منافقین کے جواب میں ارشاد ہوا ہے جو مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اچھا بڑے سچے بنتے ہو تو یہی بتا دو کہ منافق کون کون سے ہیں (آیت) ” لیطلعکم “ میں خطاب عالم انسانی سے ہے یا صرف مسلمانوں سے۔ (آیت) ” الغیب “ سے تکوینی حقیقتیں مراد ہوسکتی ہیں جو اس سے پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔
370 ۔ (بعض امور غیب کی اطلاع کے لیے) (آیت) ” من یشآء “ یعنی جسے وہ چاہتا ہے اپنی مصلحت و حکمت تکوینی کے ماتحت، متکلمین نے کہا ہے کہ آیت نص ہے عقیدہ باطنیہ کے مقابلہ میں جو علم غیب کا اثبات علاوہ رسول کے اپنے امام کے لیے بھی کرتے ہیں۔ الایۃ حجۃ علی الباطنیۃ فانھم یدعون ذلک العلم لامامھم (مدارک)
371 ۔ (آیت) ” رسلہ “۔ صیغہ جمع میں۔ رسولہ صیغہ واحد میں۔ مقصود تو اب صرف نبوت محمد ﷺ پر ایمان لانے کی ترغیب دینا ہے لیکن اس ضمنی موقع پر بھی حکم تمام انبیاء پر ایمان لانے کامل رہا ہے۔ کس قدر اہتمام قرآن کو وحدت پیام اور سلسلہ وحی کی اہمیت و عظمت کا ہے۔
Ayah 3:180372 ۔ (صرف واجب کے موقع پر) البخل فی اللغۃ ان یمنع الانسان الحق الواجب علیہ (قرطبی) نزلت فی مانعی الزکوۃ المفروضۃ قالہ ابن مسعود و ابوہریرہ وابن عباس ؓ والشعبی و مجاھد (بحر)
373 ۔ (یعنی یہی شیوہ بخل) ھو ای البخل (مدارک)
374 ۔ (اور یہ طوق سانپ کی شکل میں ہوں گے ان کی گردنوں میں لپٹے ہوئے) حشر میں جب مجردات اور معانی مادی جسم اور شکل اختیار کرلیں گے۔ بخل اور منع زکوٰۃ حدیث میں آیا ہے کہ سانپ بن کر مجرموں کی گردن میں لپٹے گا۔ قال رسول اللہ ﷺ مامن احد لایودی زکوٰۃ مالہ الامثل لہ شجاع اقرع یطوقہ (ابن جریر عن ابن مسعود) (آیت) سیطوقون “ میں س تاکید کے لیے ہے۔ السین مزیدۃ للتاکید (روح)
375 ۔ (اور وہی آج بھی سب کا مالک حقیقی ہے) سو یہ لوگ بخل درحقیقت اپنے مال میں نہیں بلکہ اس کے مال میں کررہے ہیں جو اور بھی قبیح ہے۔ وللیس ھذا بمیراث فی الحقیقۃ ھو الذی یرث شیئا لم یکن ملکہ قبل واللہ سبحانہ تعالیٰ مالک السموت والارض وما بینھما (قرطبی) والمقصود من الایۃ انہ یبطل ملک جمیع المالکین الاملک اللہ سبحانہ وتعالیٰ (کبیر)
376 ۔ (اس لیے اخلاص کا اہتمام قدم قدم پر رکھنا لازمی ہے)
Ayah 3:181377 ۔ یہ کہنے والے یہود تھے اور ان یہ قول بہ طور مضحکہ و تمسخر کے تھا۔ یہود کا ایک قبیلہ بنی قینقاع کے نام سے نواح مدینہ میں آباد تھا یہ زرگروں اور مہاجنوں ساہوکاروں کا گروہ تھا۔ انہی نے آیۃ کریمہ (آیت) ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا “ سن کر بہ طور تعریض وتضحیک اس قسم کی بدگوئی شروع کردی تھی، یہود کی بدتمیزوں اور گستاخانہ طنز و تمسخر کو کوئی آج سمجھنا چاہے تو آریہ سماجیوں کا مناظرانہ لٹریچر اٹھا کر پڑھ لے !
378 ۔ یعنی فرشتوں کے ہاتھ سے ان لوگوں کے نامہ اعمال میں لکھا کر رہیں گے اور ایسی گستاخانہ پھبتیوں کو ہرگز نظر انداز نہ ہونے دیں گے۔ (آیت) ” سنکتب۔ س یہاں بھی تاکید کے لیے ہے۔ السین للتاکید ای لن یفوتنا ابدا تدوینہ (روح)
379 ۔ جو اس درجہ شقی القلب ہوں کہ اپنے پیغمبروں تک کو ہلاک کرڈالیں ان سے ایسے گستاخی کے کلمہ بعید ہی کیا ہیں ؟ قتل انبیاء اور ناحق قتل انبیاء پر حاشیہ پارۂ اول میں گزر چکے۔ رکوع 7 ۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جو یہود قتل انبیاء سے راضی ومطمئن رہے وہ بھی گویا عملا قتل میں شریک اور قتل کے ذمہ دار ہوئے ہیں۔ اور پھر یہ حقیقت کلی درج کی ہے کہ رضا بالمعصیت معصیۃ (قرطبی)
380 ۔ (قیامت کے دن)
Ayah 3:182381 ۔ یہ عین اس کی صفت عدل کا تقاضا ہوگا کہ ایسے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، نہ یہ کہ اس میں ذرا بھی شائبہ ظلم ہو۔ مشرک قوموں نے اپنے دیوی دیوتاؤں کو ظالم، جابر سب ہی کچھ مانا ہے، یہاں ان عقائد کی بھی پوری تردید ہوگئی (آیت) ” بماقدمت ایدیکم “۔ حشر میں عذاب تو صرف متشکل ہو کر سامنے آجائے گا ورنہ ہوگا تو حقیقۃ ان مجرموں کی دنیوی کرتوتوں ہی کا ثمرہ۔
Ayah 3:183382 ۔ (اور تمامتر جھوٹ کہتے ہیں)
383 ۔ یعنی مدعی نبوت کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ جو قربانی مذبح میں پیش کی جائے اسے آگ آسمان سے آکر جلاجائے۔ سوختنی قربانی کا ذکر توریت میں کثرت سے آیا ہے۔ (آیت) ” عھد الینا “۔ یعنی ہم نے نسل اسرائیل کا حکم دیا تھا۔
384 ۔ یعنی اگر تمہارا یہ دعوی صحیح ہے کہ مرتبہ نبوت اور اس خاص معجزہ کا ظہور لازم ملزوم ہیں تو آخرتمہاری قوم کے جن انبیاء نے یہ معجزہ دکھایا تم خود ان کے منکر کیوں رہے ؟ (آیت) ” جآء کم رسل “۔ یعنی خاص تمہاری ہی نسل وقوم کے پیغمبر جو تمہارے پاس آچکے ہیں۔ (آیت) ” بالذی قلتم “۔ توریت میں اس قسم کے متعدد واقعات مندرج ہیں مثلا ” ایلیا نبی نزدیک آیا اور بولا کہ اے خدا وند ابرہام اور اسحاق اور اسرائیل کے خدا آج کے دن معلوم ہوجائے کہ تو اسرائیل کا خدا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے یہ سب کچھ تیرے کہے سے کیا ہے۔ تب خداوند کی طرف سے آگ نازل ہوئی اور اس نے اس سو ختنی قربانی اور لکڑیوں اور پتھروں اور پانی کو جلایا “ ( 1 ۔ سلاطین۔ 18:37، 38) ” اور جب سلیمان دعا مانگ چکا تو آسمان سے آگ اتری اور سوختنی قربانی اور ذبیحوں کو کھاگئی اور وہ گھر خداوند کے جلال سے بھر گیا “ (2 ۔ تواریخ 7: 1)
Ayah 3:184385 ۔ (اس لیے آپ کچھ غم نہ کریں، کہ یہ معاملہ تو سارے انبیاء ومرسلین کے ساتھ ہوتا آیا ہے) (آیت) ” بالبینت “۔ بینات دلائل عقلی اور معجزات سب کا جامع ہے۔ ای الحجج والمعجزات (کبیر) ای الحجج والبراھین القاطعۃ (ابن کثیر) (آیت) ” الزبر “۔ زبور کی جمع ہے، مراد وہ مختصر رسالے ہوتے ہیں، جن میں صرف اخلاقی موعظہ ہوتے ہیں، اس کی بہترین مثالیں اناجیل اربعہ ہیں۔ قیل الزبر المواعظ والزواجر (بیضاوی) (آیت) ” الکتب “۔ اصطلاح قرآنی میں اس سے مراد ایسی کتاب ہوتی ہے، جس میں احکام وشرائع سب ہوں، اور پوری طور پر ہادی ہو۔ والکتاب فی عرف القران مایتضمن الشرائع والاحکام (بیضاوی)
Ayah 3:185386 ۔ (خواہ وہ کوئی اور کیسا ہی ہو) گویا اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ موت ایک طبعی تتمہ وتکملہ ہے حیات کا، اسے نکوکاری اور بدکاری سے کوئی تعلق نہیں اور نہ یہ انسان کے لیے بہ طور سزا کے مقرر ہوئی ہے۔ اس میں مسیحیوں اور یہود دونوں کا رد آگیا جن کے عقیدہ میں موت نام ہے گناہ کی سزا یا نتیجہ کا۔ انجیل کے صحیفوں میں ہے :۔” جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب موت آئی اور موت سب آدمیوں میں پھیل گئی “۔ (رومیون 5: 12) ” گناہ کی مزدوری موت ہے “۔ (رومیون 60: 13) ” خواہش حاملہ ہو کر گناہ کو جنتی ہے اور گناہ جب بڑھ چکا تو موت پیدا کرتا ہے “ (یعقوب 7: 15) یہود کا عقیدہ کہ موت نتیجہ ہوتی ہے شخصی گناہ کا، ان کا معتبر ومستند جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد 4 صفحہ 483 میں درج ہے۔
387 ۔ (سو اگر آج کوئی شخص یہاں قانون مکافات کی گرفت سے بچ بھی گیا تو اس کی یہ محفوظیت عارضی ہے کہ یہ دنیوی زندگی سلسلہ حیات کا ایک بہت ہی ناقص وناتمام حصہ ہے) خطاب یہاں عام نوع انسانی سے ہے۔ (آیت) ” اجور “۔ ؛ اجر کا لفظ اپنے وسیع معنی میں جزاء کی طرح عذاب وثواب دونوں کے لیے عام ہے۔ فاجر المومن ثواب واجر الکافر عذاب (قرطبی) تعطون جزاء اعمالکم خیرا کان اوشرا تاما وافیا (بیضاوی)
388 ۔ (اور یہاں کے سارے عیش تمامتر عارضی، فانی اور بےثبات ہیں) ایک اس عقیدہ کا استحضار رہے تو ہر انسان کس قدر فرشتہ خصلت بن جائے۔ (آیت) ” زحزح عن النار “۔ یہ بچنا خواہ شروع ہی سے ہو، خواہ کچھ سزا بھگتنے کے بعد۔
Ayah 3:186389 ۔ (اے مسلمانو ! ) یعنی نقصان مال اور نقصان جان دونوں طرح تمہاری آزمائش ہوگی (آیت) ” وانفسکم “۔ اس سے رد نکل آیا ان فلاسفہ ومتکلمین کا جنہوں نے مادئین کی طرح نفس کو صرف جسم مادی ومرئی کے مرادف قرار دیا ہے۔ وھذ الایۃ دلیل علی ان النفسھی الجسم المعاین وان مافیہ المعنی الباطل کما قال بعض اھل الکلام و الفلاسفۃ (مدارک)
390 ۔ (سوصبر وثبات، تحمل و استقامت کی عادت برابر قائم رکھنا چاہیے) (آیت) ” اذی کثیرا “ میں دین کی تحقیر، پیغمبر کی توہین وغیرہ سب چیزیں آگئیں۔ قرآن مجید کی یہ پیش گوئی آج تک کیسی صحیح آتی ہے۔ یہود کی، مسیحیوں کی، ہندوؤں کی زبانوں سے اپنے پیغمبر، اپنے دین اور اپنی کتاب کے بارے میں کیا کچھ سننا نہیں پڑچکا ہے !
391 ۔ (اور اس لیے ہر طرح واجب العمل) ای من معزوما تھا التی یعزم علیھا (جلالین) ای الامور التی ینبغی ان یعزمھا (روح) ایں از کارہائے مقصود است (ولی اللہ دہلوی (رح) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی صبر وتقوی یعنی الصبر والتقوی (بیضاوی)