26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 26:195–196

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

صاف عربی زبان میں

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور ہے اس (کا ذکر) پہلی امتوں کی کتابوں میں ہے،102۔

102۔ (آیت) ” انہ “ میں مضاف مقدر ہے۔ عربی محاورہ میں عام طور سے آتا ہے۔ فلان فی دفتر الامیر۔ اور فلاں سے مراد فلاں کے نام یا ذکر سے ہوتی ہے۔ اے اسمہ وذکرہ فی دفتر یہاں بھی تقدیر کلام کچھ یوں ہی معلوم ہوتی ہے۔ ان ذکر ہ فی زبر الاولین، یعنی ذکرہ (کشاف) اے ذکر انزال القران قالہ اکثر المفسرین (معالم) اے ذکر ھذا القران والتنویہ بہ (ابن کثیر) یعنی ذکرہ ثبت فی سائر کتب السماویۃ (مدارک) لیکن بہرحال الفاظ قرآنی سے یہ بھی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ چونکہ ” قرآن “ کا ”(آیت) ” زبر الاولین “ میں ہونا ارشاد ہوگیا ہے۔ حالانکہ قرآن ان اگلی کتابوں میں بجنسہ عربی زبان میں نہیں اس لیے قرآن کا اطلاق غیر عربی کے قرآن پر بھی صحیح وصادق آتا ہے۔ ھذا مما یحتج بہ فی ان نقلہ فی لغۃ اخری لایخرجہ من ان یکون قرانا لاطلاق اللفظ بانہ فی زبر الاولین مع کونہ فیھا بغیر اللغۃ العربیۃ (جصاص) واحتج صاحب الکشاف والمدارک والھدایۃ علی القران قران وان ترجم بغیر العربیۃ فیکون دلیلا علی جواز قراء ۃ القران بالفارسیۃ فی الصلوۃ لانہ لم یکن فی زبر الاولین الابغیر العربیۃ (احمدی) فیہ دلیل علی ان القران قران اذا ترجم بغیر العربیۃ فیکون دلیلا علی جواز قراء ۃ القران قران اذا ترجم بغیر العربیۃ فیکون دلیلا علی جواز قراء ۃ القران بالفارسیۃ فی الصلوۃ (مدارک) اور یہیں سے امام ابوحنفیہ (رح) نے نماز میں فارسی ترجمہ قرآن خود قرآن کا قائم مقام قرار دیا ہے۔ واشتھر من الامام ابی حنیفۃ انہ جوز قراء ۃ القران بالفارسیۃ والترکیۃ والھندیۃ وغیر ذلک من اللغات مطلقا استدلالا بھذہ الایۃ وفی روایۃ تخصیص الجواز بالفارسیۃ (روح) لیکن محققین کا بیان ہے کہ بعد کو امام نے اپنی رائے سے رجوع بھی کرلیا تھا۔ اور اپنے استدلال کی خامی انہیں خود نظر آگئی۔ وقد صحح رجوعہ عن القول بجواز القراء ۃ بغیر العربیۃ مطلقا جمع من الثقات المحققین (روح) وکان رجوع الامام علی الرحمۃ عما اشتھرعنہ لضعف الاستدلال بھذہ الایۃ علیہ (روح) وقد صح رجوعہ عن قولہ وعلیہ الاعتماد (احمدی)
Ayah 26:197

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لئے یہ (کافی) دلیل نہیں کہ اسے علمائے بنی اسرائیل جانتے ہیں ؟ ،103۔

103۔ (اور کبھی اس کا اعتراف بھی کرلیتے ہیں) (آیت) ” یعلمہ “ میں ضمیر قرآن مجید کی جانب ہے۔ (آیت) ” لھم “۔ ضمیر قریش کی جانب ہے، علماء بنی اسرائیل کے علم وفضل کے خود بھی قائل ومعتقد تھے، مطلب یہ ہوا کہ یہ امر تو ان کے نزدیک خود ایک دلیل معتبر ہونا چاہیے، کہ علماء بنی اسرائیل اپنے مقدس صحیفوں میں قرآن مجید کا ذکر اور اخبار پاتے ہیں۔ اے اولیس یکفیھم من الشاھد الصادق علی ذلک ان العلماء من بنی اسرائیل یجدون ذکر ھذا القران فی کتبھم التی یدرسونھا (ابن کثیر)
Ayahs 26:198–199

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کسی عجمی پر نازل کرتے

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

پھر وہ ان کے سامنے اسے پڑھ بھی دیتا جب بھی یہ لوگ اسے نہ مانتے،104۔

104۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن اپنی ساری موجودہ شان اعجاز کے ساتھ کسی فصاحت ناآشنا شخص پر نازل کردیا جاتا، تو اس وقت تو وجہ اعجاز اور زیادہ واضح ونمایاں ہوجاتی لیکن ان ظالموں کو اس درجہ عناد اور ضد ہے کہ ایمان یہ اس صورت میں بھی نہ لاتے اور خدائی کلام اسے جب بھی نہ تسلیم کرتے، قال تعالیٰ مخبرا عن شدۃ کفر قریش وعنادھم لھذا القران انہ لونزل علی رجل من الاعاجم ممن لایدری من العربیۃ کلمۃ وانزل علیہ ھذا الکتاب ببیانہ وفصاحتہ لایؤمنون بہ (ابن کثیر) والمراد بیان فرط عنادھم وشدۃ شکیمتھم فی المکابرۃ کانہ قیل ولونزلنا بھذا النظم الرائق المعجز علی من لایقدر علی التکلم بالعربیۃ فقرأہ علیھم قراء ۃ صحیحۃ خارفۃ للعادۃ (روح) اے لونزلناہ علی بعض الاعاجم لایحسن العربیۃ فضلا عن ان یقدر علی نظم مثلہ فقرء ہ علیھم ھکذا معجزا لکفروا بہ (مدارک) (آیت) ” ماکانوا بہ مومنین “۔ منکرین، معاندین کے ایمان کی طرف سے اتنی یاس دلانا غالبا رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لیے ہے۔
Ayah 26:200

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

ہم نے اسی طرح اس (ایمان نہ لانے) کو ان نافرمانوں کے دلوں میں ڈال رکھا ہے،105۔

105۔ اور وہ لوگ اپنے انکار پر ہٹ کی شدت کے ساتھ قائم ہیں۔ اعجمی اور عجمی کے درمیان یہی فرق ہے کہ عجمی غیر عرب کے لیے آتا ہے اور اعجمی غیر فصیح کیلیے خواہ وہ عرب ہی ہو۔ العجم خلاف العرب والعجمی منسوب الیھم والاعجم من فی لسانہ عجمۃ عرب یا کان اور غیر عربی (راغب) یقال رجل اعجمی واعجم اذا کان غیر فصیح وان کان عرب یا ورجل عجمی وان کان فصیحا ینسب الی اصلہ (قرطبی) (آیت) ” سلکنہ “۔ میں ضمیر کفر وعدم ایمان کی طرف ہے، جو شامل ہے (آیت) ” ما کانوا بہ مومنین “۔ میں۔ اے التکذیب والکفر والجحود والعناد (ابن کثیر) قال ابن عباس و مجاھد ادخلنا الشرک والتکذیب (معالم) اے ادخلنا التکذیب او الکفر وھو مدلول قولہ ما کانوا بہ مومنین (مدارک) یہ دلوں میں کفر وتکذیب کا ڈال رکھنا ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے محض تکوینی حیثیت سے ہے۔ اور آیت اس پر دلیل ہے کہ امور تکوینی جتنے بھی ہیں، سب اللہ ہی کی طرف سے ہیں۔ یدل علی ان الکل بقضاء اللہ وخلقہ (کبیر) اور آیت سے اہل سنت نے معتزلہ کے مقابلہ میں استدلال کیا ہے کہ ہر فعل خیروشر کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وھو حجتنا علی المعترلۃ فی خلق افعال العباد خیرھا وشرھا (مدارک)
Ayahs 26:201–203

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

یہ لوگ اس پر ایمان نہ لائیں گے جب تک عذاب دردناک کو نہ دیکھ لیں گے

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

جو اچانک ان کے سامنے آکھڑا ہوگا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

پھر (اس وقت) کہیں گے کیا (اب) ہمیں مہلت مل سکتی ہے ؟ ،106۔

106۔ (حالانکہ وہ وقت نہ مہلت ملنے کا ہوگا نہ قبول ایمان کا)
Ayah 26:204

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

یہ لوگ ہمارے عذاب (کوسن کر اس) کی کیا جلدی چاہتے ہیں،107۔

107۔ (بہ راہ انکار) کفار معاندین عذاب کی وعیدسن سن کر کہتے ہیں، کہ اگر یہ خبر سچ ہے، تو عذاب آخر آ کیوں نہیں جاتا ؟
Ayahs 26:205–207

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

ذرا بتلا اگر ہم انہیں چند سال تک عیش میں رہنے دیں

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر جس (عذاب) کا ان سے وعدہ ہے وہ ان پر آجائے

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو وہ ان کا عیش ان کے کیا کام آسکتا ہے،108۔

108۔ تو اگر انہیں مہلت مل بھی جائے تو اس سے حاصل کیا ؟ جب عذاب ان پر آنا ہی ہے، اور انہیں ایمان نہ لانا ہی ہے، تو جیسے آج ویسے چند سال بعد، عارضی مہلت والتوا سے کچھ جان تو ان کی بچ نہ جائے گی۔
Ayahs 26:208–209

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے جتنی بھی بستیاں ہلاک کیں سب میں ڈرانے والے آچکے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

نصیحت کے واسطے،109۔ اور ہم کچھ ظلم کرنے والے تو تھے نہیں

109۔ اور جب ان لوگوں نے پیغمبر کی کچھ نہ سنی بلکہ الٹے اسی کے رد ومضح کہ میں لگ گئے، جب کہیں جا کر عذاب نازل ہوا۔
Ayahs 26:210–211

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نہیں آئے

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

اور نہ وہ اس قابل اور نہ یہ ان کے بس کی بات،110۔

110۔ (جو اس کے مضامین میں کسی خلط کا احتمال ہو، یا اسے غیر خدائی وضع وتحریف کا نتیجہ سمجھا جائے)
Ayah 26:212

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

وہ تو (وحی کے) سننے سے محروم کئے جا چکے ہیں،111۔

111۔ (چنانچہ متعدد عرب کا ہنوں اور مشرکوں سے ان کے جنات نے اس ناکامی کا خود اعتراف کیا، اور انہوں نے اس کی خبر دوسروں کو بھی دی) عرب، کاہنوں اور ساحروں کے خوگر، قرآن مجید کے اعجاز سے قائل ولاجواب ہو کر یہی سمجھنے لگتے تھے کہ ہو نہ ہو یہ ” نبی “ کوئی کاہن ہیں، ان کے پاس یہ کلام ان کے مؤکل شیاطین لے کر آئے ہیں۔ قرآن اس کے جواب میں کہتا ہے، کہ تم لوگ بھی کس درجہ بدعقل ہو، شیاطین توتمامتر ظلمت وضلالت ہیں، اور قرآن سر تا سر نور وہدایت، قرآن کے مضامین عالیہ وعلوم کو بھلا شیطانی ہفوات سے مناسبت کیا ؟ اور پھر شیطانوں میں اتنی قوت وقدرت ہی کہاں، کہ وحی الہی کو گڑھ سکیں، یا اس میں اپنی طرف سے کوئی جزو ہی شامل کرسکیں !
Ayah 26:213

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

آپ اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارئیے ورنہ آپ کو بھی سزا ہونے لگے گی،112۔

112۔ یہ صیغہ حاضر کمال تخویف اور انتہائی اہمیت کے اظہار کے لیے ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ ولی سے کسی حال میں بھی تکلیف شرعی ساقط نہیں ہوسکتی۔
Ayah 26:214

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

آپ اپنے کنبہ کے عزیزوں کو ڈراتے رہئے،113۔

113۔ چناچہ آپ نے اس کی تعمیل میں اپنے عزیزوں کو بلاکر جمع کیا، اور ان پر تبلیغ کی، صحیح بخاری وغیرہ میں اس کی تفصیل موجود ہے ...... قریبی عزیزوں کے ذکر کی تخصیص اس لیے ہے تاکہ انہیں بھی معلوم ہوجائے کہ نجات بغیر پیغمبر کے اتباع کے نہیں اور آپ سے محض رشتہ داری ہرگز کافی نہیں۔ (آیت) ” خصھم لیعلموا انہ لایغنی عنھم من اللہ شیئا وان النجاۃ فی اتباعہ دون قربہ (مدارک) (آیت) ” عشیرتک الاقربین “۔ فقہاء نے کہا ہے کہ وعظ فرض کفایہ ہے۔ شروع اپنے عزیزوں قریبوں سے کرے، اور پھر جہاں تک ہوسکے پھیلاتا جائے۔
Ayah 26:215

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو مسلمانوں میں داخل ہو کر آپ کی راہ پر چلے تو آپ اس کے ساتھ (مشفقانہ) فروتنی سے پیش آئیے،114۔

114۔ کہاں پیغمبر اور کہاں امتی، شرف ومنزلت کے اعتبار سے دونوں کا مقابلہ ہی کیا، لیکن یہاں صراحت کے ساتھ حکم مخدوم وآقا کو مل رہا ہے کہ وہ اپنے متبعین کے ساتھ فروتنی سے پیش آئیں۔ یہ تعلیم اسلام کے سوا کہاں ملے گی ؟ محققین نے کہا ہے کہ فروتنی کا حکم جب سردار ومخدوم کو اپنے خادموں کے مقابلہ میں مل رہا ہے تو خادموں، مریدوں، شاگروں کو تو اپنے بزرگوں، مرشدوں، استادوں کے حضور میں کہیں زیادہ فروتنی کے ساتھ رہنا چاہیے ! (آیت) ” واخفض جناحک “۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ خفض جناح کی صورتیں دو ہیں۔ ایک تو وہ جو اطاعت سے پیدا ہوتی ہے جیسے اولاد کی فروتنی والدین کے مقابلہ میں، دوسری وہ جو شفقت سے پیدا ہوتی ہے، وہی یہاں مقصود ہے۔
Ayah 26:216

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

لیکن اگر یہ آپ کا کہا نہ مانیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں،115۔

115۔ (آیت) ” واخفض جناحک “۔ میں تعلیم ابھی ابھی حب فی اللہ کی تھی اب (آیت) ” فان عصوک “ میں تعلیم بغض فی اللہ کی مل رہی ہے۔
Ayahs 26:217–219

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور آپ بھروسہ رکھئے بڑے قوت والے بڑے رحم والے (خدا) پر

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور نمازیوں کے کے ساتھ آپ کی نشست برخاست کو دیکھتا رہتا ہے،116۔

116۔ (اور وہی ہر ضرر سے آپ کی حفاظت کے لئے کافی ہے) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آپ ﷺ ضرر حقیقی سے ہمیشہ محفوظ رہے اور متوکل کو جو ضرر پہنچتا ہے، وہ صرف ضرر صوری ہوتا ہے، جس کے اندر ہزاروں نفع ہوتے ہیں، جن کا ظہور خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں، اور مقام توکل صوفیہ کے ہاں ایک معروف ومسلم مقام ہے۔ (آیت) ” یرک حین تقوم “۔ یعنی حالت نماز میں اے تقوم الی صلاتک میں اکثر المفسرین (معالم) اللہ دیکھتا تو بہرحال اور ہر وقت ہی رہتا ہے، یہاں حالت نماز سے متعلق تخصیص ہے۔ (آیت) ” یرک “۔ کہنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ عنایت خاص کی نظر سے دیکھتا رہتا ہے۔ تقلب کے لفظی معنی گھومنے پھرنے الٹ پلٹ کے ہیں۔ التقلب التصرف (راغب) مراد یہاں نشست وبرخاست سے لی گئی ہے۔ (آیت) ” السجدین “۔ کے لفظی معنی سجدہ کرنے والے کے ہیں، مراد نمازی ہیں، خود سجود کے مجازی معنی نماز کے ہیں۔ وقد یعبر بہ عن الصلوۃ (راغب) فی السجدین اے فی المصلین (ابن جریر عن قتادۃ) الساجدین المصلین (ابن جریر، عن ابن زید) والمراد بالساجدین المصلین (کشاف)
Ayah 26:220

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

بیشک وہ بڑا ہی سننے والا جاننے والا ہے،117۔

117۔ آپ کی دعاؤں کا خوب سننے والا۔ آپ کے پاکیزہ حالات کا خوب جاننے والا ہے، آپ کے دشمنوں کی کھلی اور چھپی ہوئی دشمنی اس پر عیاں ہے۔
Ayah 26:221

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

اچھا تو میں تم کو بتاؤں کہ شیطان کس پر اترا کرتے ہیں،118۔

118۔ (اور تمہارے اس فریب ذہنی کو بھی دور کردوں ؟ ) مشرکین مکہ کا ایک وسوسہ یہ بھی تھا کہ رسالت (نعوذ باللہ) ایک شعبہ کہانت کا ہے۔ اور کاہنوں کو غیب کی خبریں موکل شیطانوں کے ذریعہ سے مل جایا کرتی ہیں، قرآن مجید یہاں جواب ان کے اسی شبہ کا دے رہا ہے۔
Ayahs 26:222–223

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

ایسوں پر اترا کرتے ہیں جو (جھوٹے) لپاٹیے ہوں بدکردارہوں

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

اور جو (ان کی طرف) کان لگائے رکھتے ہوں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں،119۔

119۔ (اپنے دعوائے کہانت وغیب دانی میں) قرآن مجید خود مشرکوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ بات بک ڈالنے سے پیشتر یہ بھی تو سوچ لیاکرو، کہ کچھ لگتی ہوئی بھی ہے۔ شاگرد و استاد میں کچھ تو مناسبت ہونا چاہیے۔ شیطان سے تعلق رکھنے والے کون لوگ ہوتے ہیں ؟ شیطان سے فیض پانے والے کس سیرت کس اخلاق کے ہوتے ہیں ؟ شیطان کے تربیت یافتہ تو وہی ہوتے ہیں جو جھوٹے، لپاٹیے، بدکردار، گناہوں کی گندگی میں آلودہ ہوتے ہیں۔ یعنی ٹھیک ان پاکیزہ خو، فرشتہ صفت اصحاب نبوی کے برعکس، جن کے اوصاف ابھی سورة الفرقان میں بیان ہوچکے ہیں۔ ایسے متقیوں پاکبازوں کے سردار کو بھلا شیطان کے سایہ سے بھی کوئی مناسبت ہوسکتی ہے ؟ (آیت) ” اکثرھم کذبون “۔ میں اکثر سے مراد کل لی گئی ہے۔ یعنی یہ سب کے سب جھوٹے ہیں۔ وقد فسر الاکثر بالکل (بیضاوی) دوسرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ یہ لوگ کثرت سے جھوٹ بولنے والے ہیں، گویا کثرت کا تعلق تعداد سے نہیں، ان کے اقوال سے ہے۔ والا ظھران الاکثربۃ باعتبار اقوالھم (بیضاوی) سب سے زیادہ دل نشین معنی وہ ہیں جو زمخشری نے کیے ہیں۔ یعنی ان میں سے اکثر خود دعوی کہانت ہی میں جھوٹے ہیں، شیاطین سے جو خبریں پانابیان کرتے ہیں، خود اس دعوے میں یہ سچے۔ و اکثر الافاکین کاذبون یفترون علی الشیطین مالم یوحوالیھم (کشاف) کاذبون فی مایقولون ویخبرون (ابن جریر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں یہ بڑا اشارہ ہے کہ شیطان طالب صادق و متقی کے اندر ایساتصرف نہیں کرسکتا، جس سے اس کے دین کو ضرر پہنچے۔
Ayah 26:224

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور رہے شاعر تو ان کی پیروی بدراہ لوگ کرتے ہیں،120۔

120۔ دوسرا بڑا شبہ مشرکین ومنکرین کا آپ ﷺ سے متعلق شاعر ہونے کا تھا۔ شاعر سے مراد ناظم نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں، جو خیالی فضا اور رنگین عبارت کو اپنا پیشہ بنائے ہوئے ہیں، عرب جاہلی کی تہذیب و تمدن میں شعراء کا ایک خاص اور بڑا ممتاز مرتبہ تھا۔ عیب کو ہنر، ہنر کو عیب بنادینا ان کا معمولی کرتب تھا۔ شاعروں کی ذریت تو انہیں لوگوں پر شامل رہتی ہے جو خود بھٹکے ہوتے ہیں۔ (آیت) ” الغاون “ کے تحت میں وہ سب لوگ آگئے، جن کے ایمان اور جن کے اخلاق کمزور ہیں۔ اے السفھاء اوالرادون او الشیاطین او المشرکون (مدارک)
Ayah 26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تجھے خبر نہیں کہ وہ (شاعر) ہر میدان میں حیران پھرا کرتے ہیں،121۔

121۔ (خیالی مضامین کی تلاش میں ٹکریں مارتے، ٹھوکریں کھاتے) یعنی شاعروں کو واقعیت و حقیقت سے واسطہ کیا ہوتا ہے ؟ یہ تو تمامتر تخیل پرستی میں مبتلا رہتے ہیں۔ قرآن جو سرتا سر دفتر حقائق ہے وہ تو شعر و شاعری کی بالکل ضد ہے۔
Ayah 26:226

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور وہ کہتے وہ ہیں جو وہ کرتے نہیں،122۔

122۔ شاعر کو عمل کی زندگی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ وہ مضامین شجاعت و مردانگی کے باندھے گا لیکن خود بھاگنے والوں میں سب سے آگے ہوگا، وہ قصیدہ خوانی عفت وعصمت کی کرے گا، اور خود انتہا درجہ کا بدچلن اور سیاہ کار ہوگا۔ عام دستور ہر ملک وقوم کے شاعروں کا یہی ہے۔ قوم کی قوت عملی کو وہ اور کمزور کرتے رہتے ہیں۔ تاریخوں میں آتا ہے کہ دور اموی کے مشہور عرب شاعر فرزدق نے جب اپنا وہ شعر جس میں اپنی حرامکاری کو مزے لے لے کر بیان کیا ہے خلیفہ وقت سلیمان بن عبدالملک کو سنایا تو خلیفہ نے برجستہ کہا کہ اس اقبال جرم کے بعد تم پر حد شرعی واجب آگئی، شاعر نے فورا یہی آیت قرآنی اپنی صفائی میں پڑھ کر اپنی جان بچائی۔ یعنی اس نے گویا یہ ظاہر کردیا کہ ہم شاعر لوگ ہیں۔ ہمارے کلام سے ہمارے عمل کا بھلا کیا پتہ چل سکتا ہے۔
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور کثرت سے اللہ کا ذکر کیا اور بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوچکا (اس کا بدلہ لیا (تو وہ اس حکم میں داخل نہیں) ،123۔ اور عنقریب ان لوگوں کو معلوم ہوجائیگا جنہوں نے ظلم کر رکھا ہے کیسی جگہ ان کو لوٹ کرجانا ہے،124۔

123۔ اسلام اکثر ” فنون لطیفہ “ کی طرح عموما شاعری کا بھی ہرگز قدرداں نہیں، اور نہ شاعروں کی ہمت افزائی کرنا چاہتا ہے۔ اسلام کے دربار میں کوئی کرسی ہرگز شاعری میں بجز خیال آرائی اور مبالغہ پروری کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ اعلم ان الایات الدالۃ علی تقبیح الشعر اکثر من ان یحضی (احمد ی) لیکن اس عام بےراہ روی کی شاعری کے حکم سے وہ شاعری یقیناً مستثنی ہے، جو حقائق اور صداقتوں کی جامع ہے، جو نصرت وحمایت حق میں کی جائے، جس سے کام دین کے غلبہ کا لیا جائے۔ (آیت) ” ذکروا اللہ کثیرا “۔ اسلامی نظمیں، جوش دینی پیدا کرنے والی، عصبیت اسلامی کو بیدار کرنے والی، سب ذکر الہی ہی کی فرد ہیں، شاعر دربار نبوت حضرت حسان بن ثابتؓ سے لے کر مولانا روم (رح) اور پھر اقبال وجوہر واکبر کی شاعر اسی طبقہ میں آتی ہے۔ 124۔ یعنی جہنم میں۔ (آیت) ” ای منقلب “۔ کیسی جگہ سے مراد کیسی تکلیف ومصیبت کی اور بری جگہ ہے۔ یہ ان منکرین سے متعلق وعید ہے جواب بھی رسول اللہ ﷺ کو تکلیف ہی پہنچاتے رہے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے، رسول کے، بندوں کے حقوق تلف کرتے رہے۔