26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 26:156–157

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ تمہیں ایک بڑے سخت دن کا عذاب آپکڑے گا

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر (اس پر) پچھتائے،88۔

88۔ (جب عذاب کی آمد دیکھ لی) یہ پچھتاوا ایک تو یوں بھی بیکار تھا اس لیے کہ ایک محض طبعی کیفیت تھی، تلافی وتدارک اور تجدید ایمان کا کوئی جزو اس کے ساتھ نہ تھا، اور پھر یہ بھی اس وقت جب آثار عذاب نمایاں ہوچکے تھے، صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ یہ ندامت اس لیے لاحاصل رہی کہ انہوں نے اپنے فعل کی تلافی ایمان سے نہ کی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ توبہ کے لیے ندامت طبعی کافی نہیں ندامت عقلی ہونا چاہیے۔
Ayahs 26:158–161

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

پھر ان کو عذاب نے آلیا بیشک اس ماجرے میں ایک (بڑا) نشان ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار بڑا قوت والا ہے بڑا رحمت والا ہے

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب کہ ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کیا تم لوگ ڈرتے نہی ہو،89۔

89۔ حضرت لوط اور قوم لوط پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” المرسلین “۔ کے صیغہ جمع پر حاشیہ اوپر گزر چکا، (آیت) ” اخوھم “۔ اخ انہیں یہاں اس لحاظ سے کہا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) عراق سے آکر انہیں کے ملک شرق یردن میں بس گئے تھے۔
Ayahs 26:162–166

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تمہارے لئے ایک متدین پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس پروردگار علم کے ذمہ ہے تمام جہان والوں میں سے

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

تم (یہ حرکت کرتے ہو کہ) مردوں سے فعل کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑے رہتے ہو بات یہ ہے کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو،90۔

90۔ ذکر دقوم لوط کی اس غیر طبعی شہوت پرستی کا ہے جس میں وہ لوگ آج کل کی بھی ” مہذب ومتمدن “ قوموں کی طرح شدت سے مبتلا تھے۔ (آیت) ” بل انتم قوم عدون “۔ یعنی ان بدفعلیوں کی محرک کوئی طبعی جنس خواہش کسی درجہ میں بھی نہ تھی۔ یہ محض نفس کا خبث اور طبیعت کا شیطانی میلان تھا جو انہیں اغلام ولواطت کی طرف لے آیا تھا۔ ” حد سے گزر جانے والے “ یعنی حدود انسانیت سے گزر جانے والے یا جرائم پیشہ یا مجرمانہ فطرت کے لوگ۔
Ayahs 26:167–168

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

وہ لوگ بولے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو تم ضرور نکال دیئے جاؤ گے

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

(لوط (علیہ السلام) نے) کہا کہ میں تمہارے (اس) عمل سے سخت نفرت رکھتا ہوں،91۔

91۔ (اور میں تمہاری ان دھمکیوں میں آکر اپنے وعظ وپند وتبلیغ سے رک نہ جاؤں گا) (آیت) ” القالین “۔ قلی بغض شدید کو کہتے ہیں۔ القلی البغض الشدید (کشاف) القلی شدۃ البغض (راغب) پیغمبر جیسے صالح الفطرت کی تو خود فطرت ایسے گندے جرم سے اباء کرنے لگتی ہے۔ انہیں تو جتنی بھی بیزاری ایسے جرم سے ہو کم ہے۔
Ayahs 26:169–171

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھے اور میرے گھروالوں کو نجات دے اس کام (کے وبال سے) جو یہ کرتے رہتے ہیں

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

سو ہم نے انہیں اور ان کے گھروالوں سب کو نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

البتہ ایک بڑھیا کہ وہ رہ جانے والوں میں رہ گئی،92۔

92۔ مراد زوجہ لوط ہے تفصیلی قصہ سورة ہودپ 12 میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ممایعملون “ میں مضاف مقدر ہے۔ اے من عقوبۃ عملھم (کشاف) اے من شوم عملھم (روح)
Ayahs 26:172–173

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے اور سب کو ہلاک کردیا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا سو کیسا برا مینہ تھا جو ڈرائے ہوؤں پر برساء،93۔

93۔ ملاحظہ ہوں سورة الاعراف پ 8 اور سورة ہود پ 12 کے حاشیے۔
Ayahs 26:174–176

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بیشک اس (ماجرے) میں ایک (بڑا) نشان ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار بیشک بڑا قوت والا ہے بڑا رحمت والا ہے

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اصحاب ایکہ نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا،94۔

94۔ (آیت) ” اصحب لئیکۃ “۔ پر حاشیہ سورة الحجر پ 14 میں گزر چکا۔
Ayahs 26:177–182

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب کہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تمہارے لئے ایک متدین پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ تو مانگتا نہیں میرا صلہ تو بس پروردگار عالم کے ذمہ ہے

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

تم لوگ پورا ناپاکرو اور نقصان پہنچانے والے نہ بنو

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور صحیح ترازو سے تولا کرو،95۔

95۔ (یعنی نہ ڈنڈی مارا کرو، نہ تولنے کے بانٹوں میں گڑبڑ کیا کرو) ہدایات قرآنی کی مخاطب یہ کوئی زراعت پیشہ، تجارت پیشہ قوم تھی۔ کاروباری بداخلاقی، بددیانتی، خیانت میں مبتلا، تعلیم انہیں تجارتی اخلاقی وستائستگی کی دی جارہی ہے۔ حاشیے سورة الاعراف پ 8 وسورۃ الحجرپ 14 وسورۂ ہود پ 12 میں گزر چکے۔
Ayah 26:183

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کا نقصان ان کی چیزوں میں نہ کیا کرو اور ملک میں فساد مچایا کرو،96۔

96۔ کاروباری بداخلاقی، بددیانتی کا انجام آخرکار اجتماعی فساد پر ہوتا ہے۔
Ayah 26:184

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس (خدا) سے ڈرو جس نے تمہیں اور (ساری) اگلی مخلوقات کو پیدا کیا،97۔

97۔ خطاب، ہوسکتا ہے کہ یہاں عام نوع انسانی سے ہو، اور (آیت) ” الاولین “۔ سے مراد اس صورت میں ان مخلوقات سے ہوگی جو انسان سے قبل خلعت وجود سے مشرف ہوچکی تھی، فرشتہ وجنات وغیرہا۔
Ayahs 26:185–187

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

وہ لوگ بولے کہ تم تو بس سخت سحر زدہ ہو اور تم ہی کیا ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

بجز ہمارے ہی جیسے ایک آدمی کے اور ہم تو تم کو جھوٹوں ہی میں سمجھتے ہیں

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اچھا تو تم ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا لا گراؤ اگر تم سچے ہو،98۔

98۔ نبی کے سحر زدہ ہونے اور اس کی بشریت و رسالت کے درمیان حسب تخیل مشرکین تنافی پر حاشیے کئی بار اوپر گزر چکے۔ (آیت) ” فاسقط ..... السمآء “۔ شعیب کے قوم والے کہتے ہیں کہ اگر دعوائے نبوت میں برحق ہو تو کوئی ایسا نمایاں خارق عادت پیش کرو، جیسے یہی کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا ٹوٹ کر ہم پر گر پڑے۔ (آیت) ” ان ..... الصدقین “۔ گویا وبال نازل نہ ہونا ان جاہلوں کے خیال میں دلیل تھی ان کے انکار کے قبیح ترنہ ہونے کی۔ اور یہی ذہنیت آج بھی بہت سے جاہلیوں اور جاہلوں کی ہے۔ کسی بزرگ سے انکار پر وبال نازل نہ ہونے کو اس انکار کے قبیح نہ ہونے کی دلیل قرار دیتے ہیں۔
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

(شعیب (علیہ السلام) نے) کہا میرا پروردگار ہی خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے رہتے ہو،99۔

99۔ (سوتمہارے عمل کا جو مقتضا ہے یعنی عذاب کیا ہو اور کب ہو، اسے بھی وہی خوب جانتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ خوارق اہل اللہ کے بس میں نہیں۔
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

پھر ان لوگوں نے انہیں جھٹلایا سو انہیں عذاب سائبان نے آلیا بیشک وہ بڑے سخت عذاب کا دن تھا،100۔

100۔ عذاب کے وقت پہلے ایک ابر نمودار ہوا تھا، گرمی پہلے سے مسلط تھی، لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں اس کے نیچے جمع ہوگئے، اس میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل گئے، وہ ابر سائبان سا تھا۔ اسی بناء پر اسے عذاب سائبان سے تعبیر کیا گیا۔
Ayahs 26:190–194

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

یقیناً اس (ماجرے) میں ایک (بڑا) نشان ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار بڑا قوت والا ہے بڑا رحم والا ہے

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور بیشک یہ (قرآن) پروردگار کا عالم کا اتارا ہوا ہے

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اسے روح الامین نے آپ کے قلب پر اتارا ہے

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوں،101۔

101۔ یہاں قرآن مجید سے متعلق سب سے پہلی بات یہ ارشاد ہوئی کہ وہ کسی مخلوق کا نہیں، خود پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے اور دوسری بات یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک تک جبرئیل امین جیسے زبردست محافظ نے پہنچایا ہے۔ جن کے لائے ہوئے پیام پر کسی غلطی وتحریف کا امکان نہیں۔ (آیت) ” نزل بہ “۔ نزل صلہ ب کے بعد انزل کے معنی میں ہے۔ اے انزل علی ان الباء للتعدبۃ (روح) (آیت) ” روح الامین “۔ یعنی امانت دار فرشتہ مراد حضرت جبرئیل ہیں، اور ملت کا اس پر اتفاق ہے۔ وھوجبرئیل (علیہ السلام) قال غیر واحد من السلف۔ ابن عباس ومحمد بن کعب وقتادۃ وعطیۃ العوفی والسدی والضحاک والزھری وابن جریج وھذا ممالانزاع فیہ (ابن کثیر) ان کے وصف امانت کو یہاں نمایاں کرنے کے یہی معنی ہیں کہ انکالا یا ہوا پیام قطعا اور تمامتر محفوظ ہے۔ (آیت) ” بلسان عربی مبین “۔ رسول اللہ ﷺ کی دو حیثیتیں تھیں۔ ایک یہ کہ آپ نبی عالم تھے دوسرے یہ کہ آپ نبی عرب تھے، یہاں بھی آخری حیثیت مراد ہے اسی لیے زبان عرب کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ قرآن کے عربی زبان میں ہونے پر یہاں اور دوسرے مقامات پر جو زور دیا گیا ہے، اس سے بعض فقہاء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ غیر عربی قرآن پر یعنی کسی ترجمہ قرآن پر حکم قرآن کا نہیں لگایاجاسکتا۔ (آیت) ” علی قلبک “۔ وحی کا مخاطب اصلی قلب ہی ہوتا ہے۔ اور باقی دوسرے اعضاء قلب کے ماتحت ہوتے ہیں۔ القلب ھو المخاطب فی الحقیقۃ لانہ موقع التمییز والاختیار واما سائر الاعجاء فمسخرۃ لہ والدلیل علی القران والحدیث ولمعقول (کبیر) محققین سے منقول ہے کہ نبی کے پاس قبول وحی کے لیے ایک قلب بھی مخصوص ہوتا ہے اور ایک مخصوص سامعہ وباصرہ بھی۔