26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 26:41

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پھر جب جادوگر آئے تو فرعون سے بولے کہ ہم کو کوئی (بھاری) انعام ملے گا نا ؟ اگر ہم غالب رہے،35۔

35۔ طالبان دنیا کی نظر مہارت و کمال فن کے باوجود عموما نفع عاجل ہی پر رہتی ہے۔ برطانوی حکومت کے زمانہ میں ہندوستانیوں سے جب کوئی بڑا کارنمایاں انجام پا جاتا تھا، تو یہ برابر توقع خان بہادری کی، رائے بہادری کی، اور نائف ہڈ کی، اور دوسرے خطابات کی رکھتے تھے۔
Ayah 26:42

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے) کہا ضرور اور تم اس صورت میں ہمارے مقربوں میں داخل ہوجاؤ گے،36۔

36۔ فرعون نے کہا کہ انعام محض مالی ہی نہ رہے گا، بلکہ ” اسٹیٹ “ تمہاری اور بھی ہر طرح سرپرستی کرے گی، مالی وجان دونوں سے تمہاری حوصلہ افزائی ہوگی۔
Ayahs 26:43–44

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا ڈال چلو جو کچھ تمہیں ڈالنا ہو

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

سو انہوں نے ڈالیں اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں،37۔ اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم،38۔ غالب یقیناً ہم ہی رہیں گے

37۔ (اور وہ سحر کے اثر سے سب کو سانپ دکھائی دینے لگیں) مصری عقائد میں سانپ کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ (آیت) ” قال ...... القو “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قول سے کیا یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ سحر کی اجازت دے رہے تھے ؟ سحر ایسی معصیت ہے جو محض فسق ہی نہیں، بلکہ اس کے ڈانڈے کفر سے ملے ہوئے ہیں۔ تو کیا پیغمبر اپنی رضاء کفر یاتقریبا کفر کو دے رہے تھے ؟ صاحب روح المعانی کہتے ہیں کہ اس میں بظاہر امر ہے سحر کرنے کا، لیکن در حقیقت آپ نے انہیں اس عمل کا حکم دیا، جو آپ کو الہام یا فراست یا قرائن سے معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کرکے رہیں گے۔ مقصود آپ کا رد تھا اس سحر کا اور خود وہ رد موقوف تھا سحر کے اظہار پر۔ بالکل ایسی ہی بات۔ جیسے زندیق سے کہا جائے کہ اپنے دعوی باطل پر دلیل قائم کر، اور مقصود اس دلیل کا ابطال ہو۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ شبہ کے مٹانے کے لیے جب یہی صورت تھی تو یہ امر جائز ہوگیا تھا۔ لما تعین ذلک طریقا الی کشف الشبھۃ صار جائزا (کبیر) عارف تھانوی (رح) نے یہاں سے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے کہ بعض مشائخ سے جو کھلے ہوئے منکرات پر چشم پوشی منقول ہے۔ اس کی تہ میں کوئی مصلحت دینی ہی ہوتی ہے جو اس وقت خفی ہوتی ہے، اور بعد واضح ہوجاتی ہے۔ 38۔ (آیت) ” بعزۃ فرعون “۔ ایسا ہی فقرہ ہے جیسا کہ آج میلوں ٹھیلوں، کانگرسوں وغیرہ کے موقع پر ” بھارت ماتا کی جے “” سری رامچندر کی جے “ وغیرہ کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
Ayah 26:45

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈال دیا سو وہ لگا ان کے بنائے ہوئے گو رکھ دھندے کو،39۔

39۔ (یعنی جادو کے ان مصنوعی سانپوں کو)
Ayah 26:46

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

سو جادوگر سجدہ میں گرپڑے،40۔

40۔ (موسی (علیہ السلام) کے معجزہ سے متاثر اور اس کے سامنے لاجواب اور بےبس ہوکر)
Ayahs 26:47–48

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

بولے کہ ہم ایمان لے آئے پروردگار عالم پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کے پروردگار پر،41۔

41۔ یعنی شرک چھوڑ کر توحید پر ایمان لے آئے۔” پروردگار عالم “ کے تخیل ہی سے یہ اب تک ناآشنا تھے، اور اس کا نام بھی انہوں نے دونوں پیغمبروں کی زبان سے سنا تھا۔
Ayah 26:49

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا تم اس پر ایمان لے آئے بغیر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ضرور یہی تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اچھا تو تمہیں ابھی حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے میں تمہارے ہاتھ کاٹوں گا ایک طرف کے اور تمہارے پاؤں دوسری طرف کے اور سولی پر تم سب کو چڑھاؤں گا،42۔

42۔ سولی پر چڑھانے اور اعضاء کے قطع کردینے کی سزائیں مصری حکومت میں رائج تھیں، مفصل حاشیہ کے لیے ملاحظہ ہوں سورة اعراف پ 9 کے حاشیے۔ (آیت) ” قبل ان اذن لکم “۔ قبل کے معنی یہاں پیشتر کے نہیں، اور نہ یہ مراد ہے کہ اگر فرعون سے اجازت لے لی جاتی تو وہ اس کی اجازت دے دیتا۔ بلکہ معنی بغیر یابدون کے ہیں، اور قبل کے اس مفہوم نفی پر حاشیہ اس سے قبل گزر چکا ہے۔
Ayah 26:50

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

جادوگر) بولے کچھ ہرج نہیں ہم اپنے پروردگار کے پاس جاپہنچیں گے،43۔

43۔ (جو حقیقی امن و عافیت اور دائمی راحت کا ٹھکانا ہے) ۔ اللہ اللہ توحید کا عقیدہ بھی سکون خاطر بہم پہنچا دینے میں کس درجہ مؤثر ہوتا ہے !
Ayah 26:51

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہماری خطاؤں کو معاف کرے اس لئے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لے آئے،44۔

44۔” سب سے پہلے “ یعنی مخالفین ومنکرین کے اس مجمع میں سب سے پہلے۔ یا قوم فرعون میں سب سے پہلے۔ فالمراد لان کنا اول المومنین من الجماعۃ الذین حضروا ذلک الموقف (کبیر) اے من اھل زماننا (معالم) ان یہاں لان کے مرادف ہے یعنی ” اس لیے کہ “ یا ” اس بنا پر کہ “ معناہ لان کنا (کشاف) اے بسبب انا بادرنا قومنا من القبط الی الایمان (ابن کثیر)
Ayah 26:52

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ شباشب میرے (ان) بندوں کو لے کر نکل جاؤ تم لوگوں کا پیچھا (بھی) کیا جائے گا،45۔

45۔ اب یہ قصہ بعد کا ہے، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ کرتے ایک عرصہ گزر گیا، اور فرعون کی طرف سے اسرائیلیوں پر سلسلہ آزار جاری رہا تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم الہی یہ ملا کہ ایک روز راتی رات اپنی قوم کو لے کر نکل جاؤ اگرچہ فرعون تمہارا تعاقب زبردست کرے گا۔
Ayahs 26:53–56

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

فرعون نے شہروں میں ہر کارے بھیجے

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

کہ یہ لوگ ایک چھوٹی سی جماعت ہیں

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور انہوں نے ہم کو بہت غصہ دلایا ہے

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سب کو ان سے خطرہ ہے،46۔

46۔ (امن عامہ کی خاطر ان کا قلع قمع فورا کردینا چاہیے) آج بھی قاہر اور چنگیزی حکومتیں اسی قسم کے اعلان شائع کرتی رہتی ہیں کہ بس ایک مٹھی بھر لوگ ہماری خلاف شورش پھیلا رہے ہیں اور طرح طرح کی حرکتیں امن سوزی اور قانون شکنی کی کررہے ہیں، اس لیے امن عامہ کی خاطر انہیں دباہی دینا چاہیے۔ (آیت) ” قلیلون “۔ سے اشارہ علاوہ قلت تعداد کے، ان لوگوں کی بےوقعتی اور کم حیثیتی کا بھی نکلتا ہے۔ یجوز ان یرید بالقلۃ الذلۃ لاقلۃ العدد والمعنی انھم بقلتھم لایبالی بھم ولا یتوقع علیھم وعلوھم (کبیر)
Ayahs 26:57–58

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

پھر ہم نے انہیں نکال باہر کی باغوں اور چشموں

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور عمدہ مکانات سے،47۔

47۔ یعنی ظالم فرعونیوں کی حکومت، ثروت، اقبال مندی سب مٹ کر رہی۔
Ayah 26:59

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

یوں ہی ہوا اور ہم نے ان کے بعد ان کا مالک بنی اسرائیل کو بنادیا،48۔

48۔” ھا “ کی ضمیر مطلق باغوں اور چشموں اور علامات امارت وغیرہ کی جانب ہے، خاص مصر ہی کے باغ اور چشمے مراد نہیں چناچہ اسرائیلیوں کو ایک عرصہ کے بعد فلسطین میں حکومت مل گئی، اور داؤد وسلیمان (علیہما السلام) کی زبردست بادشاہتیں قائم ہوگئیں، اور اگر مصر ہی کے باغ اور چشمے مراد لیے جائیں، جب بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصر کے علاقے دارالسلطنت میں شامل ہوگئے تھے۔ اور یرمیاہ نبی کے زمانہ میں تو مصر یہود کا وطن از سر نو بن گیا تھا۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayah 26:60

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

غرض سورج نکلنے پر انہوں نے ان کو پیچھے سے جالیا،49۔

49۔ درمیان میں ایک جملہ معترضہ آگیا تھا اب پھر اس قصہ کا تسلسل شروع ہوا، توریت میں ہے :۔” اور جب شاہ مصر کو خبر دی گئی کہ وہ لوگ بھاگ گئے ..... تب اس نے اپنی گاڑیاں جو تیں اور اپنے لوگ ساتھ لیے، اور اس نے چھ سوچنی ہوئی گاڑیاں اور مصر کی سب گاڑیاں ساتھ لیں اور ان سب پر سردار بٹھائے۔ اور خداوند نے شاہ مصر فرعون کے دل کو سخت کردیا اور بنی اسرائیل کے پیچھے چڑھ دوڑا “۔ (خروج 14: 5۔ 8)
Ayah 26:61

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہی (گھبراکر) بول اٹھے کہ ہم تو بس پکڑے گئے،50۔

50۔ توریت میں ہے :۔” اور جب فرعون نزدیک ہوا اور بنی اسرائیل نے آنکھیں ادھر کیں، اور مصریوں کو اپنے پیچھے آتے ہوئے دیکھا اور وہ شدت سے ڈرے۔ تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فریاد کی۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ کیا مصر میں قبروں کی جگہ نہ تھی کہ تو ہم کو وہاں سے بیابان میں مرنے کے لیے لایا “۔ (خروج 14: 10، 11)
Ayah 26:62

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے) فرمایا کہ ہرگز نہیں کیونکہ میرے ہمراہ میرا پروردگار ہے وہ مجھے ابھی راہ بتا دے گا،51۔

51۔ ان لوگوں کو اپنے مقابلہ میں شاہی باقاعدہ فوج کو دیکھ کر گھبرا جانا ایک حد تک امر طبعی تھا۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وعدۂ نصرت الہی پر بھروسہ تھا۔ آپ نے پیغمبرانہ وقار ومسکنت کے ساتھ فرمایا کہ گھبراؤ نہیں ایسا ہرگز نہ ہونے پائے گا، میرے پروردگار نے میرا ساتھ کہیں چھوڑ تھوڑے ہی دیا ہے وہ مخلصی کی راہیں ابھی ابھی مجھے دکھا کر رہے گا، توریت میں ہے :۔” تب موسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں کو کہا، خوف نہ کرو، کھڑے رہو، اور خداوند کی نجات دیکھو، جو آج کے دن وہ تمہیں دیوے گا۔ کیونکہ ان مصریوں کو جنہیں تم آج دیکھتے ہو تم انہیں پھر تا ابد نہ دیکھو گے، خداوند تمہارے لیے جنگ کرے گا، اور تم چپ چاپ رہوگے “۔ (خروج 14: 13، 14) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ان دس آیتوں کے مجموعہ میں مسئلہ تدبیر کے درمیان اعتدال وتوسط کی تعلیم ہے۔ تدبیر تو یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کو لے کر شباشب چلے جاؤ۔ پھر جب انہوں نے پکڑے جانے کا اندیشہ ظاہر کیا، جس سے مقصود یہ تھا کہ کچھ اور تدبیر کی جائے، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو (آیت) ” ان معی ربی سیھدین “۔ فرما کر یہ بتلایا کہ حق تعالیٰ کی تدبیر کے ہوتے ہوئے ہماری کسی تدبیر کی ضرورت نہیں اور عارف کی بھی یہی شان ہے کہ وہ تمسک کرتا ہے اسباب سے۔ مگر توسط کے ساتھ اور اس میں مبالغہ نہیں کرتا۔ “
Ayahs 26:63–66

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے عصا کو دریا پر مارو چناچہ وہ دریا پھٹ گیا اور ہر حصہ اتنا بڑا تھا جیسے بڑی پہاڑی

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور ہم نے دوسرے فریق کو بھی اس مقام کے قریب پہنچا دیا

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں سب کو بچا لیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر دوسرے فریق کو غرق کردیا،52۔

52۔ بحر قلزم کے کنارے فرعونیوں کے غرق ہونے پر مفصل حاشیے سورة بقرہ پ 1 میں گزر چکے ،” کالطود العظیم “۔ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ صحابیوں، اور متعدد تابعین سے معنی یہی بڑی پہاڑی کے منقول ہیں۔ اے کالجبل الکبیر قالہ ابن مسعود وابن عباس ؓ ومحمد بن کعب وقتادۃ والضحاک وغیرہ (ابن کثیر) (آیت) ” ثم “۔ یعنی وہیں۔ اسی مقام تک، اے ھنالک قال ابن عباس وعطاء الخراسانی وقتادۃ والسدی (ابن کثیر) (آیت) ” الاخرین “۔ یعنی فرعون اور فرعونیوں کو۔ یعنی قوم فرعون (معالم) فرعون و جنودہ (ابن کثیر) (آیت) ” فاوحینا “۔ الخ، صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ حق تعالیٰ تو بغیر عصائے موسیٰ (علیہ السلام) کی ضرب کے بھی سمندر میں راستہ بنادینے پر قادر تھا، لیکن اس واسطہ کے اختیار کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کلیم اللہ کی بھی عظمت کا اظہار ہوگیا۔ اور مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اولیاء اللہ کے ساتھ خوارق کے ظاہر کرنے کی یہی حکمت ہوتی ہے اور اسی لیے اسے کہتے بھی کرامات ہی ہیں۔
Ayah 26:67

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس واقعہ میں ایک بڑا نشان ہے،53۔ اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے،54۔

53۔ (اللہ کی قدرت و حکمت کا اور مخالفین حق کی سزا یابی کا) اے فی ھذہ القصۃ وما فیھا من العجائب والنصر والتائید لعباد اللہ ال مومنین لدلالۃ وحجۃ قاطعۃ و حکمۃ بالغۃ (ابن کثیر) 54۔ یعنی قوم فرعون واہل مصر میں سے، اے من اھل مصر (معالم) اے اکثر قوم فرعون وھم القبط (بحر) بعض نے رسول اللہ ﷺ کے معاصر کفار اہل عرب بھی مراد لیے ہیں۔
Ayah 26:68

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار بڑا قوت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،55۔

55۔ چناچہ صفت عزیز کے تقاضہ سے وہ جب اور جسے چاہے سزا دے دے۔ لیکن صفت رحیم کے تقاضہ سے فورا گرفت نہیں کرتا بلکہ بہت موقع دیتا رہتا ہے۔
Ayahs 26:69–71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیجیے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

(اس وقت کا) جب کہ انہوں نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

وہ بولے ہم تو بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہم انہیں پر جمے رہتے ہیں،56۔

56۔ آزر اور قوم ابراہیم کے مذہب شرک پر مفصل حاشیے اوپر گزر چکے۔ سورة الانعام، سورة ہود، سورة الانبیاء وغیرہ میں۔
Ayahs 26:72–73

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا اچھا تو یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو ؟

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا یہ تم کو کچھ نفع پہنچا تے ہیں یا ضرر پہنچا سکتے ہیں ؟ ،57۔

57۔ یہ جرحین بڑی وسعت واطلاق رکھتی ہیں، دنیا میں کسی بت پرست کے پاس انکا کوئی جواب نہیں۔
Ayah 26:74

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

وہ بولے (نہیں یہ کچھ نہیں) البتہ ہم نے اپنے بڑوں کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا ہے،58۔

58۔ (اور اسی لیے ہم بھی یہی کررہے ہیں) گویا اثبات شرک وبت پرستی پر نہ کوئی دلیل عقلی اور نہ کوئی دلیل نقلی بلکہ صرف اندھی تقلید۔
Ayahs 26:75–77

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم خود اور تمہارے پرانے بڑے بھی ؟

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

یہ تو میری نظر میں دشمن ہیں،59۔ مگر ہاں پروردگار عالم

59۔ یعنی یہ معبود اور میرا سہارا تو کیا ہوتے، یہ تو اور دشمن ہیں، انہیں کے ذریعہ سے گمراہی پھیل رہی ہے۔ یہ تو واسطہ شرک اور باعث تباہی و بربادی ہیں۔ عدو کا لفظ صدیق کی طرح واحد وجمع دونوں موقعوں پر آجاتا ہے۔ یہاں جمع کے معنی میں ہے۔ والعدو والصدیق یجیئان فی معنی الوحدۃ والجماعۃ (کشاف)
Ayahs 26:78–80

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

(وہ ہے) جس نے مجھ کو پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی کرتا ہے

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہی جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے،60۔

60۔ یعنی اس خدائے واحد کی ذات تمام صفات کمال کی جامع ہے۔ وہی خالق ہے اور وہی ہادی ومدبر بھی، یہ نہیں کہ خلق کا کام کوئی اور دیوتا کرے اور انتظام وہدایت کا دیوتا کوئی اور ہو۔ کھانا اور پانی دونوں وہی خدائے واحد دیتا ہے۔ یہ نہیں کہ ایک دیوتا زراعت ونباتات کا ہو اور کوئی دیوتا بارش کا۔ صحت وشفا بھی وہی خدائے واحد دیتا ہے۔ یہ نہیں کہ بیماری سے صحت بخشنے کے لیے کوئی الگ دیوی یادیوتا ہو۔ مشرک جاہلی قوموں نے انہی صفات کے لیے برابر الگ الگ دیویوں، دیوتاؤں کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” الا رب العلمین “۔ یہ استثناء اس لیے کہ مشرکین دوسرے دیویوں اور دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ حق تعالیٰ کی بھی پرستش جاری رکھے ہوئے تھے۔ انھم کانوا یعبدون الاصنام مع اللہ فقال ابراھیم کل من تعبدون اعدائی الا رب العلمین (معالم) (آیت) ” فھو یھدین۔ یطعمنی ویسقین، فھو یشفین “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ان فقروں کے اندر پوری تعلیم عبدیت اور ادب کی موجود ہے جاہل مدعیان زہد دنیوی نعمتوں کی تحقیر کرتے اور ان سے اپنا استغناء ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ یہاں ایک پیغمبر کی زبان سے یہ کہلایا جارہا ہے کہ اسے تمنا جس طرح ہدایت کی ہے۔ اسی طرح کھانے اور پینے اور بیماری سے تندرست ہونے کی بھی ہے۔ (آیت) ” اذا مرضت فھو یشفین “۔ آیت کے الفاظ پر غور ہو۔ حضرت یہ نہیں کہتے کہ وہی مجھے بیمار ڈالتا ہے اور وہی شفا دیتا ہے، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ بیمار جب میں پڑتا ہوں، تو شفاوہی دیتا ہے۔ گویا بیماری یا نقص کا انتساب تمامتر اپنی جانب اور شفا بخشی یا کمال کا تمامتر حق تعالیٰ کی جانب۔ اسی کا نام رعایت ادب اور ادائے حق عبدیت ہے۔