26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 26:117–121

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے) دعا کی کہ اے میرے پروردگار میری قوم مجھے جھٹلا رہی ہے

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو آپ ہی میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا ہوافیصلہ کردیجیے اور مجھے اور میرے ساتھ جو ایمان والے ہیں انہیں نجات دیجیے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

چناچہ ہم نے انہیں اور جو ان کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں تھے (سب) کو نجات دی

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

اس ماجرے میں (بھی بڑا) نشان ہے،76۔ اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

76۔ (ہماری قوت اور قدرت انتقام کا) قوم نوح (علیہ السلام) کی غرقابی پر مفصل حاشیے سورة ہود وغیرہ میں گزر چکے۔ (آیت) ” فافتح بینی وبینھم فتحا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو شخص دین کو ضرر پہنچا رہا ہو اس کے لیے بددعا کرنا کمال صبر وحلم کے منافی نہیں۔
Ayahs 26:122–124

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار بڑا قوت والا ہے بڑا رحمت والا ہے

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

قوم عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب کہ ان سے ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے کہا،77۔

77۔ ھود، قوم عاد وغیرہ پر حاشیے سورة اعراف پ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” کذبت عاد “۔ لفظ عاد کے لیے فعل مؤنث قبیلہ عاد یا جماعت عاد کی رعایت سے لایا گیا ہے۔ التانیث بمعنی القبیلۃ والجماعۃ (قرطبی) (آیت) ” اخوھم “۔ بھائی، ہم وطنی یا ہم نسلی کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔
Ayahs 26:125–129

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

کہ کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ؟ میں تمہارا متدین پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں نے تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس پروردگار عالم ہی کے ذمہ ہے

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

تو کہا تم ایک محض فضول یادگار ہر اونچے مقام پر بناتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے تمہیں ہمیشہ ہی رہنا ہے،78۔

78۔ یہ قدیم شائستہ ومتمدن قوم بڑی صناع وکاریگر تھی، خصوصا انجینئری اور فن تعمیرات کی ماہر۔ ملاحظہ ہوں پ 8 سورة الاعراف کے حاشیے۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہ خوب لکھا ہے کہ اس سورة میں مختلف انبیاء کی دعوت میں بار بار انہی فقروں کی تکرار اس لیے ہے کہ ایک ہی طرز تبلیغ سب کا تھا۔ (آیت) ” تعبثون “۔ سے ظاہر ہے کہ یہ شوق تعمیر کسی ضرورت کی بنا پر نہ تھا۔ محض جذبات فخر ونمائش کی تسکین کے لیے تھا، مرشد تھانوی (رح) نے کہا کہ تعبثون سے عبث (محض فضول) کی مذمت صریح نکلتی ہے، خواہ وہ عبث بہ لحاظ قول ہو یا فعل۔ مرشد تھانوی (رح) نے یہ بھی فرمایا کہ عقیدۃ یہ لوگ ان تعمیرات کے ذریعہ سے خلود کے قائل نہ تھے، مگر ان کا طرز عمل گویا اس قسم کے عقیدہ پر مبنی تھا اس لیے ان کو اسی عقیدہ کا معتقد فرمایا گیا۔ یہیں سے حضرات صوفیہ کے اس تعامل کی توجیہ ہوجاتی ہے کہ کافروں کے سے کام کرنے والوں کو کافر کہہ دیا جاتا ہے۔ اور حدیث میں بھی اس کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں، فقہاء نے لکھا ہے کہ بلاضرورت بڑی بڑی عمارتیں نام کے لیے تعمیر کرانا سرتاسر داخل اسراف ہے۔
Ayah 26:130

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم کسی پر دارو گیر کرتے ہو تو بالکل جابر بن کر دارو گیر کرتے ہو،79۔

79۔ غفلت وسرمستی کی افراط کے ساتھ قوم عاد کی دوسری خصوصیت ان کا ظلم وتشدد تھا، قرآن مجید نے پچھلی مشرک ومعذب قوموں کا جہاں جہاں بیان کیا ہے، ان کے شرک وجہالت کے ساتھ، کہ وہ سب میں مشترک ہے، ذکر ان کے مخصوص قومی جرائم کا بھی کرتا گیا ہے، کوئی قوم تجارتی بددیانتی، خیانت وغبن فاحش میں خاص طور پر آلودہ گزری ہے کوئی ظلم وشقاوت و سنگدلی میں، کوئی بدچلنی وشہوت پرستی میں، وغیرہا، صاحب روح المعانی کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایسی گرفت ہے جس میں نہ رحم ہو، نہ اس سے تادیب کا قصد ہو، اور نہ اس میں انجام پر نظر رہے، اور مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس گرفت میں یہ امور ملحوظ رہیں وہ اصلاح ہے اور منافی طریق نہیں۔
Ayahs 26:131–134

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

سوا للہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری مدد ان چیزوں سے کی جنہیں تم جانتے ہو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

تمہاری مدد کی مویشیوں اور بیٹوں

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اور باغوں اور چشموں سے،80۔

80۔ مطلب یہ ہے کہ تم کو جو ناز اپنی کثرت تعداد پر ہے نیز اپنے ملک کے باغ وسبزہ زار پر، اور اپنے ہاں کے نہر ودریا پر ہے یہ سب آخر انعامات الہی ہی تو ہیں، یہ عطیے کسی دیوی دیوتا، کے نہیں اور نہ تمہارے اپنے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اسی معبود واحد ہی کے تو ہیں۔ توحید کا تو تمہیں اور زائد قائل ہونا چاہیے، قرآن مجید نے توحید پر استدلال جس طرح انسان کی غربت و افلاس سے کیا ہے اسی طرح اس کی خوشحالی وامارت سے بھی کیا ہے۔ (آیت) ” جنت وعیون “۔ قوم عاد، خیال رہے کہ جزیرہ نمائے عرب کے شاداب وزرخیز ترین علاقہ میں آباد تھی، یعنی یمن، حضرموت میں، خلیج فارس کے ساحل پر، اور عراق عرب کی سرحد تک ،
Ayahs 26:135–138

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھے تمہارے لئے اندیشہ ہے بڑے سخت دن کے عذاب کا

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ لوگ بولے ہمارے لئے برابر ہے خواہ تم نصیحت کرو خواہ ناصح نہ بنو

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ تو بس اگلے لوگوں کی ایک رسم ہے

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم کو (ہرگز) عذاب نہیں ہونے کا،81۔

81۔ یعنی اس قسم کا وعظ وپند تو پرانے زمانہ کے لوگ ہمیشہ کرتے آئے ہیں، اس کے اندر حقیقت کبھی نہ دیکھی۔ (آیت) ” ھذا “ یعنی جو کچھ تم ہمیں سنا رہے ہو۔ اے ھذا الذی جئتنا بہ (روح)
Ayah 26:139

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

غرض ان لوگوں نے (ہود کو) جھٹلایا سو ہم نے انہیں ہلاک کردیا،82۔ بیشک اس میں ایک (بڑا) نشان ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

82۔ (زبردست اور تند آندھیوں سے) قوم عاد کی ہلاکت کے لیے ملاحظہ ہوں پ 8 سورة الاعراف کے حاشیے۔
Ayahs 26:140–145

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار بیشک بڑا قوت والا ہے بڑا رحمت والا ہے

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب کہ ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کہ تم لوگ ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تمہارے لئے ایک متدین پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں تم سے کوئی صلہ اس پر نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس پروردگار عالم کے ذمہ ہے،83۔

83۔ قوم ثمود اور حضرت صالح دونوں پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم “۔” بھائی “ سے مراد وہی وطنی یا نسلی برادری ہے نہ کہ دینی یا اعتقادی۔ باقی آیتیں اس سلسلہ کی بار بار آچکی ہیں، اور اوپر ان کے حاشیے گزر چکے۔
Ayahs 26:146–149

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا تم کو انہیں چیزوں میں بےفکری سے رہنے دیا جائے گا

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

باغوں اور چشموں

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتوں اور خوب گندھے ہوئے گھچے والے کھجوروں میں ؟

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو تراش کر اتراتے ہوئے مکان بناتے ہو،84۔

84۔ قوم ثمود کی تہذیب و تمدن اور فنون سنگ تراشی وغیرہ پر حاشیے پ 8 سورة الاعراف میں گزر چکے۔ (آیت) ” جنت وعیون۔ زروع ونخل “۔ قوم ثمود عرب کے شمالی ومغربی علاقہ میں جو خوب سرسبز و شاداب تھا آباد تھی۔
Ayahs 26:150–152

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور حدود سے نکل جانے والوں کا کہا نہ مانو

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو ملک میں فساد کرتے رہتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے،85۔

85۔ خداوندی قانون کو نہ ماننے اور اس پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ دنیا میں ہمیشہ خرابیوں ہی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ شراب نوشی وزنا کاری، سود خواری، رشوت وخیانت، رشک وحسد سے ہمیشہ جسمانی اور اخلاقی بیماریاں ہی بڑھی ہیں۔ اور معاشری ابتری ہر قسم کی پیدا ہوتی رہی ہے۔ قرآن نے ان سارے انفرادی واجتماعی امراض کے لیے ایک جامع لفظ فساد فی الارض کا استعمال کردیا ہے۔ (آیت) ” المسرفین “۔ قوت عقلی ہو یا فعلی یا اعتقادی ان کا بےجاصرف کرنا سب داخل اسراف ہے۔
Ayahs 26:153–154

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

وہ لوگ بولے کہ تم پرتو کسی نے سخت جادو کردیا ہے

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تم بس ہمارے ہی جیسے ایک آدمی ہو سو کوئی نشان پیش کرو اگر تم سچے ہو،86۔

86۔ نشان یعنی خارق عادت، انبیاء کی دعوت کا اصل جوہر خود ان کی تعلیمات رہی ہیں۔ جاہلی قوموں نے بجائے ان تعلیمات کی قدر کرنے کے ہمیشہ مطالبہ خوارق ومعجزات کا کیا ہے۔ اور پیغمبروں کی بشریت ہی کو ان کی رسالت کا مانع اور اس کے منافی قرار دیا ہے۔ مظہر خدا، فرزند خدا، زوج خدا یہ سب کچھ تو وہ سمجھ سکتے تھے لیکن رسول خدا کا تصور ہی گویا انکی دماغی گرفت سے باہر تھا، آج اولیاء اللہ کو بھی، بہت سے جاہل ان کے لوازم طبعی اور حوائج بشری کی بناء پر کم وقعت و حقیر سمجھتے ہیں۔
Ayah 26:155

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

) صالح (علیہ السلام) نے) کہا یہ ایک اونٹنی ہے پانی پینے کیلئے ایک باری اس کی ہے اور ایک مقرر دن میں ایک باری تمہاری،87۔

87۔ یعنی ایک باری میں وہ اونٹنی پانی پیا کرے اور دوسری باری میں تمہارے جانور، مفصل حاشیے اس سارے ماجرے پر سورة الاعراف پ 8 میں گرز چکے ؛۔