26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 26:81–82

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہی مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہی جس سے میں آس لگائے ہوں کہ وہ میری غلط کاری کو قیامت کے دن معاف کردے گا،61۔

61۔ وہی الہ المعاد بھی وہی الہ المعاش بھی، وہی موت وفنا طاری کرنے والا بھی اور وہی جزا وسزا کے لیے دوبارہ جلانے والا بھی، یہ نہیں کہ افناوا اہلاک کا دیوتا کوئی الگ ہو، اور حشر میں داوری کے وقت سامنا کسی اور کا کرنا پڑے، جیسا کہ عموما مشرک ونیم مشرک قوموں نے فرض کیا ہے۔ اور پھر مغفرت کی امیدیں بھی تمامتر اسی خدائے واحد کی ذات سے ہیں، نہ کہ کسی اور سے۔ مشرک اور جاہلی قوموں کو شرک کی ٹھوکریں جب جب لگی ہیں، انہیں صفات ہی سے متعلق لگی ہیں۔ (آیت) ” اطمع ....... الدین “۔ الفاظ آیت کے اندر رعایت ادب کس درجہ موجود ہے ! اول تو پیغمبر صاف صاف اپنے لیے خطیءۃ کا وجود تسلیم کرتے ہیں، محض اجتہادی غلطی کہہ کر نہیں گزر جاتے اور پھر اپنی مغفوریت کو بھی جزم کے ساتھ نہیں بیان کرتے، اس کی صرف امید یا آس لگاتے ہیں۔ کہاں پیغمبر جلیل حضرت خلیل (علیہ السلام) کا یہ ادب ودرجہ تواضع۔ اور کہاں صوفیہ خامکار کے یہ دعوے کہ ہم اپنے مریدوں میں سے جس کو چاہیں گے چھڑا لیں گے !
Ayahs 26:83–84

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھے حکمت عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ شامل کر

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور میرا ذکر آئندہ آنے والوں میں جاری رکھ،62۔

62۔ (تاکہ وہ لوگ میرے طریق پر چلیں اور میرے لیے اضافہ ثواب وحسنات کا باعث ہوں) (آیت) ” بالصلحین “۔ صالحین سے یہاں مراد ان کی اعلی فرد یعنی انبیاء عالی شان ہیں۔ (آیت) ” ھب لی حکما “۔ نفس حکمت تو حضرت کو دعا کے وقت بھی حاصل تھی، دعا سے مقصود جامعیت علم وعقل میں مزید حصول کمال معلوم ہوتا ہے۔ (آیت) ” رب ھب لی “۔ ابراہیم (علیہ السلام) خلیل ابھی تک برابر صیغہ غائب استعمال کررہے تھے، (آیت) ” ھو یھدین، ھو یطعمنی “۔ وغیرہ، صفات کمال بیان کرتے کرتے غلبہ، حضور سے براہ راست مناجات شروع کردیتے ہیں۔ (آیت) ” واجعل لی لسان صدق فی الاخرین “۔ فقہاء محققین نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ انسان کا اپنے ذکر خیر کو محبوب رکھنا اور اس کی تمنا کرنا مطلق صورت میں معیوب و مذموم نہیں۔ بلکہ یہ آیت تو عین محل ترغیب پر ہے۔ عن اشھب عن مالک قال لابأس ان یحب الرجل ان یثنی علیہ صالحا ویرعی فی عمل الصالحین اذا قصد بہ وجہ اللہ تعالیٰ (قرطبی) قال المحققون من شیوخ الذھد فی ھذا دلیل علی الترغیب فی العمل الصالح الذی یکسب الثناء الحسن (قرطبی) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض بزرگوں سے جو اپنے سلسلہ کے بقاء و قیام کی تمنا ودعا منقول ہے، اس کی اصل اس آیت میں مل گئی۔
Ayahs 26:85–86

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے جنت نعیم کے مستحقوں میں سے کر دے

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کی مغفرت کر کہ وہ گمراہوں میں سے ہے،63۔

63۔ (سو تو اس کے لیے مغفوریت کے اسباب، یعنی ایمان اور اس کے برکات میسر کردے) دعا آزر کی زندگی ہی کے آخر زمانہ کی معلوم ہوتی ہے۔ (آیت) ” واجعلنی ........ النعیم “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے ان لوگوں کا رد نکل آیا جو جنت سے مستغنی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔
Ayahs 26:87–89

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے رسوا نہ کرنا اس دن جب سب اٹھائے جائیں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

مگر ہاں جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے،64۔

64۔ (تو اسے البتہ کوئی کھٹکانہ ہوگا) (آیت) ” بقلب سلیم “۔ یعنی ایسا دل جو کفر وشرک کی آلائش سے پاک ہو، یعنی من الشرک (ابن کثیر) اے خالص من الشرک والشک (معالم) اے القلب السلیم عن مرض الکفر والنفاق ھو الماثور عن ابن عباس و مجاھد وقتادۃ وابن سیرین وغیرھم (روح) یہ مراد نہیں کہ قلب گناہوں سے خالی ہو، کہ ایسا قلب کون سا ہوسکتا ہے، فاما الذنوب فلیس یسلم منھا احد ھذا قول اکثر المفسرین (معالم) قالہ قتادۃ وابن زید و اکثر المفسرین (قرطبی) ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ وہ ایسا قلب ہو جو بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن ہو۔ قال ابو اسحاق النیشا بوری ھو القلب الخالی من البدعۃ والمطمئن علی السنۃ (معالم) (آیت) ” یوم لاینفع مال ولا بنون “۔ جاہلی قومیں جس ادھوری، مبہم ناقص حد تک حشر کی قائل بھی تھیں، تو آخرت کو دنیا پر قیاس کرکے یہ فرض کیے رہتی تھیں کہ جس طرح دنیا میں کام آنے والی چیزیں مال واولاد ہیں آخرت میں بھی یہی کام آجائیں گی، ہندوستان کی بھی بعض مشرک قومیں اس کی قائل تھیں کہ ان کی اولاد نرینہ ان کے بعد اگر ان کے نام پر ایک خاص طریق پر کھانا پانی تصدق کرے تو اس سے نجات ہوجائے گی، (آیت) ”‘ ولا تخزنی یوم یبعثون “۔ اللہ اللہ ! ابراہیم (علیہ السلام) پیغمبر جلیل اور اپنے رب کی خلیل ہیں، اس پر بھی دعاومناجات یہی کر رہے ہیں، کہ اپنے پروردگار قیامت کی رسوائی سے مجھے محفوظ رکھنا !
Ayah 26:90

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور جنت متقیوں کے نزدیک کردی جائے گی،65۔

65۔ (تاکہ وہ اسے دیکھیں اور اس میں عنقریب داخلہ کی بشارت سے خوش ہوں) اللہ اکبر ! مومنین ومتقین کے مرتبہ اکرام کا کیا کہنا بجائے اس کے کہ ان کا کوچ جنت کی طرف کرایا جائے، الٹی جنت ہی خود ان کی طرف بڑھ آئے گی۔
Ayah 26:91

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور گمراہوں کے سامنے دوزخ ظاہر کردی جائے گی،66۔

66۔ (تاکہ وہ اسے دیکھیں اور اس میں عنقریب داخلہ کی خبر سے اور زیادہ افسردہ مایوس ہوں) (آیت) ” برزت “۔ دوزخ تو شروع ہی سے ان خبیثوں کو گھیرے ہوئے تھی، آخرت میں فرق یہ ہوگا کہ وہ ان پر نمایاں اور ظاہر ہو کر ہی رہے گی۔
Ayahs 26:92–93

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ (اب) وہ کہاں گئے جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اللہ کے سوا کیا وہ تمہارا ساتھ دے سکتے ہیں یا وہ اپنا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں ؟ ،67۔

67۔ معبودان باطل کی غایت بےبسی وبیچارگی کا بیان ہے۔ کہ وہ دوسروں کو کیا چھڑائیں گے، خود اپنے کو بچانے پر بھی قادر نہیں (آیت) ” قیل ...... تعبدون “۔ یہ سوال ظاہر ہے کہ اہل دوزخ سے انہیں اور زیادہ جلانے کے لیے کیا جائے گا،
Ayahs 26:94–96

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر وہ اور گمراہ لوگ اور ابلیس کا لشکر

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

سب کے سب اس میں اوندھے منہ ڈال دیئے جائیں گے

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

وہ اس (دوزخ) میں باہم جھگڑتے ہوئے کہیں گے،68۔

68۔ یہ کہنے والے وہی مشرکین اور دیوی دیوتاؤں کے بچاری ہوں گے، اور ان سے کہیں گے جنہیں دنیا میں وہ دیوتا دیوی، ٹھاکر، اوتار وغیرہ مانتے رہے تھے، (آیت) ” وھم فیھا یختصمون “۔ اہل دوزخ، عابد و معبود، برابر باہم لڑتے، جھگڑتے رہیں گے۔
Ayahs 26:97–101

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

کہ بخدا بیشک ہم صریح گمراہی میں تھے

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب کہ تم کو پروردگار عالم کے برابر کرتے تھے

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو تو بس ان (بڑے) مجرموں نے گمراہ کیا

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

سو اب کوئی ہمارا سفارشی نہیں

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی مخلص دوست ہی ہے،69۔

69۔ (جو رہائی دلانا تو خیر دور رہا، کم ازکم ایسا ہی ہوتا کہ خالی ہمدردی ودلسوزی ہی کی بات کرلے) ان الفاظ میں اہل دوزخ کی بےبسی کا پورا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔
Ayahs 26:102–103

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

سو کاش ہمیں (دنیا میں) پھرجانا ملتا تو ہم مومن ہوجاتے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

بیشک اس ماجرے میں ایک نشان ہے،70۔ اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے

70۔ (ہماری توحید وقدرت کا) ” اس ماجرا میں “ یعنی یہی جو اوپر مذکور ہوا۔ حضرت ابراہیم کا قصہ اور قیامت کے دن کا نقشہ۔
Ayahs 26:104–107

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار بڑا قدرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب کہ ان سے ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں ہوں تمہارا راست باز پیغمبر،71۔

71۔ (سومجھ پر اور میرے لائے ہوئے پیام پر اعتماد کرو) (آیت) ” نوح “۔ اور قوم نوح دونوں پر حاشیے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” امین “۔ یعنی متدین۔ دیانت و احتیاط کے ساتھ پیام الہی پہنچانے والا، (آیت) ” المرسلین “۔ صیغہ جمع شاید اس لیے لایا گیا کہ ایک پیغمبر کی تکذیب سارے سلسلہ نبوت کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ اور جاہلی قوموں کا مقصود اصلی کسی پیغمبر کی شخصی تکذیب ہوتی ہی نہیں، بلکہ وہ لوگ سرے سے اس تخیل رسالت ہی کے منکر ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم نوح “۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) جو انہیں لوگوں کے ہم قوم، ہم وطن، وہم نسل تھے۔
Ayahs 26:108–110

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس پروردگار علم کے ذمہ ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو،72۔

72۔ یعنی توحید اور عقائد حقہ کے قائل ہوجاؤ۔ (آیت) ” وما ....... العلمین “۔ یہ مضمون کئی بار پیشتر بھی بیان ہوچکا ہے۔ پیغمبر اپنی تبلیغ کی کوئی فیس نہیں طلب کیا کرتے، نہ نقد میں نہ جنس میں، نہ مال سے نہ جاہ سے، انہیں رضائے الہی کی دولت ہر دنیوی فیس اور معاوضہ سے مستغنی کردینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

وہ بولے تو کیا ہم تمہیں ماننے لگیں درآنحالیکہ تمہارے پیرو تو بس رذیل ہی ہیں،73۔

73۔ پیغمبروں، داعیان حق اور مصلحوں پر شروع شروع میں ایمان لانے والے اور ان کی دعوت کو قبول کرنے والے زیادہ تر غیب غربا عوام الناس ہی ہوتے ہیں، کہ ان پر حب جاہ وحب ریاست کی تہیں بہت ہلکی چڑھی ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح پر ابتدائی ایمان لانے والے تو تاریخ کی شہادت ہے کہ غریب مچھیرے (ماہی گیر) ہی تھے، اور خود ہمارے رسول کریم ﷺ کی دعوت پر ابتدائی لبیک کہنے والوں میں رؤسا وامراء سے کہیں زیادہ عوام وغرباء تھے (آیت) ’ الارذلون “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی آبادی کے ایک حصہ کو نیچ اور اچھوت قرار دینے کا مرض مشرک جاہلی قوموں میں شروع سے چلا آرہا ہے ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض اہل اللہ سے جو لوگ استفادہ اس بناء پر نہیں کرتے کہ ان کی حیثیت ظاہری پست ہے وہ ایسی ہی ذہنیت میں مبتلا ہیں، محققین نے تنبیہ کی ہے کہ مسلمان مسلمان سب برابر وہم سطح ہیں، اور فقہاء نے جو کفاءت کا باب باندھا ہے تو اس کا تعلق محض عرف عام اور دنیا کی انتظا میں مصلحتوں سے ہے۔ نہ کہ قبولیت عند اللہ سے۔ وما ذکرہ الفقہاء فی باب الکفاء ۃ مبنی علی عرف العامۃ لانتظام امر المعاش ونحوہ علی انہ روی عن الامام مالک عدم اعتبار شیء من ذلک اصلا وان المسلمین کیفما کانوا اکفاء بعضھم لبعض (روح)
Ayahs 26:112–115

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

) نوح (علیہ السلام) نے) کہا ان کے کام سے مجھے کیا بحث

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان سے حساب لینا تو بس میرے پروردگار ہی کا کام ہے کاش تم اسے سمجھتے

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں ایمان والوں کو (اپنے پاس سے) دور کرنے والا نہیں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں،74۔

74۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا کہ مجھے ان کی پیشوں، حرفوں، صناعتوں کے اعلیٰ وادنی ہونے سے کیا بحث، اور اگر ان کا ایمان دل سے نہیں، صرف زبان سے ہے، جب بھی میرے اوپر کیا ذمہ داری۔ وہ جانے ان کا خدا جانے۔ میں بہرحال انہیں اپنے پاس سے تمہارے خوش کرنے کو ہٹا سکتا ہوں، میرا فرض تبلیغ پر ختم ہوجاتا ہے، دلوں کی ٹٹول اور احتساب میرا کام نہیں۔
Ayah 26:116

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

وہ بولے کہ اگر اسے نوح تم باز نہ آئے تو ضرور ہی سنگسار کردیئے جاؤ گے،75۔

75۔ سنگساری، یاد رہے کہ دنیا کی قدیم ترین سزاؤں میں سے ہے۔ اور معاصرین نوح (علیہ السلام) انہیں اپنا قومی مجرم سمجھ کر اسی سزا دینے پر آمادہ تھے۔