Ayah 4:157مسیح کہنے کی وجوہ :
آیت 157 : وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ (اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ بیشک ہم نے قتل کیا مسیح کو)
مسیح کو مسیح کہنے کی وجہ یہ ہے نمبر 1۔ کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے ان کو برکت سے چھوا۔ پس وہ ممسوح ہوئے گویا مسیح بمعنی ممسوح ہے۔
نمبر 2۔ وہ مریض اور مادرزاد نابینا اور کوڑھی کو ہاتھ لگاتے تو وہ درست ہوجاتا۔ تو مسیح بمعنی ماسح ہوا۔
رسول اللہ کہنے کی وجہ :
عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (عیٰھ بن مریم جو اللہ کے رسول ہیں) نمبر 1۔ یہود کو آپ کی رسالت کا اعتقاد نہ تھا۔ یہ جملہ انہوں نے بطور استہزاء کہا۔ جیسا کہ کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو کہا : یایہا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون۔
نمبر 2۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کیلئے یہ لقب ذکر فرمایا۔ انہوں نے نہ کہا ہو (بلکہ اس کی جگہ کوئی قبیح لفظ کہا ہو)
وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ (اور انہوں نے عیٰسی ( علیہ السلام) کو نہ قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا۔ لیکن انکو اشتباہ ہوگیا) ۔
اسرائیلی روایات :
روایت اسرائیل میں وارد ہے کہ یہود کی ایک جماعت نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی والدہ محترمہ کو گالیاں دیں۔ آپ نے ان کے لئے بددعا فرمائی : اللّٰہم انت ربی وبکلمتک خلقتنی۔ اللّٰہم العن من سبنی وسب والدتی۔ اے اللہ تو میرا رب ہے اور اپنے کلمہ سے تو نے مجھے پیدا کیا۔ اے اللہ تو ان پر لعنت کر جنہوں نے مجھے اور میری والدہ کو گالیاں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعا سے ان کی صورتیں۔ بندروں اور سوروں کی طرح کردیں۔ اس پر تمام یہود نے آپ کے قتل پر اتفاق کرلیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دی کہ میں تم کو آسمان کی طرف اٹھاؤنگا اور یہود کے ہاتھوں سے پاک کر دوں گے۔
اس پر آپ نے اپنے صحابہ کو فرمایا۔ تم میں کون اس بات پر راضی ہے کہ اس کو میری شکل دیدی جائے اور وہ قتل ہو کر صلیب پر لٹکایا جائے اور جنت میں میرے ساتھ داخل ہو۔ پس ایک شخص نے ان میں سے اٹھ کر رضا مندی ظاہر کی۔ کہ میں اس کیلئے تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر عیسیٰ کی شبیہ ڈال دی یعنی اسکی شکل عیسیٰ ( علیہ السلام) جیسی کردی۔ پس اسکو پکڑ کر قتل کردیا اور صلیب پر لٹکا دیا گیا۔
دوسری روایت :
دوسری روایت میں یہ ہے کہ ایک آدمی عیسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ منافقانہ تعلق رکھتا تھا۔ جب یہود نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا۔ تو اس نے جاسوسی کی پیش کش کی۔ چناچہ پولیس کو لے کر وہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے گھر میں داخل ہوا۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اٹھا لیا گیا اور اس منافق کی شکل عیسیٰ ( علیہ السلام) جیسی کردی گئی۔ پس پولیس نے اسی کو پکڑ کر قتل کردیا۔ پولیس کو یقین تھا کہ یہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ہیں۔
نکتہ : ان دونوں میں سے جو صورت ہو ایسے لوگوں کے حق میں بالکل درست ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر طعنہ زنی کرنے والے اور ایمان قبول نہ کرنے میں ضد پر جمے ہوئے ہوں۔
مسئلہ : شبّہ کا اسناد لہم جار ٗمجرور کی طرف ہے۔ جیسا کہتے ہیں خُیِّلَ الیہ۔ گویا تقدیر عبارت یہ ہے۔ ولکن وقع لہم التشبہ اور لکنہ ان کو اشتباہ پیدا ہوگیا۔
نمبر 2۔ ضمیر مقتول کی طرف اسناد ہے جس پر انا قتلنا دلالت کر رہا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ ولکن شبہ لہم مَن قتلوہُ ۔ لیکن ان کو شبہ پڑگیا جنہوں نے اس کو قتل کرنے کی کوشش کی)
وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ (اور بیشک وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا ان کے بارے میں) ہٖ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ ( علیہ السلام) ہیں۔ اختلفوا کی ضمیر کا مرجع یہود ہیں۔
یہودی کہنے لگے۔ چہرہ تو عیسیٰ ( علیہ السلام) والا ہے اور بدن ہمارے ساتھی کا ہے۔ یا نصاریٰ نے اختلاف کرتے ہوئے کہا۔ الٰہ اور ابن الٰہ ٗ تینوں میں تیسرا۔
گمان کے پیروکار :
لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَالَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ (ان کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں ان کو اس کا کچھ بھی علم نہیں مگر صرف گمان کی اتباع) ۔
یہ استثناء منقطع ہے۔ کیونکہ اتباع ظن علم کی جنس سے نہیں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ گمان کی اتباع کرتے ہیں۔ البتہ شک سے تعبیر کی وجہ یہ ہے۔ شک یہ ہے کہ دونوں جانبوں میں سے کوئی جانب راجح نہ ہو پھر ظن سے تعبیر کیا۔ ظن یہ ہے کہ ایک جانب راجح ہو۔ کیونکہ مقصد یہ ہے۔ ان کو شک تھا کچھ بھی علم نہ تھا۔ لیکن علامات نظر آئیں تو انہوں نے ظن قائم کرلیا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ : ان الذین اختلفوا فیہ میں ہٖ کی ضمیر کا مرجع فی قتل عیسیٰ ہے۔ اور لفی شک منہ سے مراد بھی انکے قتل میں شک ہے۔ کیونکہ وہ کہا کرتے تھے۔ اگر یہ عیسیٰ ہے تو ہمارا ساتھی کہاں گیا ؟ اور اگر یہ ہمارا ساتھی ہے تو عیسیٰ (d) کہاں ہیں ؟
ایک نحوی تحقیق :
وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًـا (اور انہوں نے یقینا ان کو قتل نہیں کیا) یعنی نمبر 1 یقینی قتل نمبر 2۔ انہوں نے اس کو نہیں قتل کیا اس حال میں کہ وہ یقین کرنے والے تھے۔ نمبر 3۔ انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا قطعاً ۔ پس یَقِیْنًا کا لفظ تاکید ہے ماقتلوہ کی تقدیر اس طرح حق انتفاء قتلہ حقًّا۔ انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا جیسا اس کے قتل کے انتفاء کا حق تھا۔
Ayah 4:158آیت 158 : بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ (بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا) نمبر 1۔ اس طرح کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی کے حکم کا دخل نہ ہوگا۔ نمبر 2۔ اس کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔
وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا (اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے) یہود سے انتقام لینے میں حَکِیْمًا (وہ حکمت والا ہے) اس تدبیر میں جو اس نے اپنی طرف اٹھانے کے لئے فرمائی۔
Ayah 4:159آیت 159 : وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ (اور کوئی بھی اہل کتاب میں سے ایسا شخص نہیں مگر مرنے سے پہلے ضرور اس پر ایمان لائے گا)
جملہ قسمیہ :
نحو : لیؤمننَّ بہٖ یہ جملہ قسمیہ ہے۔ موصوف محذوف کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : وان من اہل الکتاب احدٌ
الا لیؤمنن بہٖکہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں مگر وہ ضرور اس پر ایمان لائے گا۔ اور اس کی مثل دوسری آیت میں ہے : وما منّا الا لہ مقام معلوم۔ الصافات۔ 164۔ ہم میں کوئی ایسا نہیں جس کا مقام معلوم نہ ہو یعنی ہر ایک کا مقام معلوم ہے۔
آیت کا مطلب ‘ چار تفاسیر :
اب مطلب آیت کا یہ ہے۔ یہود و نصاریٰ میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں مگر وہ ضرور ایمان لائیگا اپنی موت سے پہلے عیسیٰ ( علیہ السلام) پر اور اس بات پر کہ وہ اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں یعنی جب اسکی روح پرواز کے قریب آتی ہے اور اسکا ایمان لانا بھی فائدہ مند نہ ہوگا۔ کیونکہ مجبوری کا ایمان ہے یا دوسری تفسیر یہ ہے۔ دونوں ضمیریں عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں۔ یعنی ان میں سے کوئی ایسا نہیں مگر وہ عیسیٰ ( علیہ السلام) پر ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ ( علیہ السلام) کی موت سے پہلے۔ اس طرح اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو انکے زمانہ نزول کو پائینگے۔
روایات میں ہے کہ وہ آسمان سے آخری زمانہ میں اتریں گے۔ پس اس وقت سارے اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ یہاں تک کہ ایک ہی ملت ہوجائے گی۔ اور وہ ملت اسلام ہی ہے۔
نمبر 3۔ تیسری تفسیر یہ ہے۔ بہٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔
نمبر 4۔ بہٖ کی ضمیر کا مرجع محمد ﷺ ہیں۔ اور دوسری ضمیر کتابی کی طرف لوٹتی ہے۔ مطلب یہ کہ کوئی بھی اہل کتاب میں سے نہیں کہ اپنے مرنے سے پہلے محمد ﷺ یا اللہ تعالیٰ کو نہ مان لے۔
وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا (اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہونگے) یعنی وہ یہود کے خلاف گواہی دیں گے کہ انہوں نے اس کو جھٹلا دیا اور نصاریٰ کے خلاف گواہی دیں گے کہ انہوں نے ان کو ابن اللہ کہہ کرپکارا۔
Ayah 4:160آیت 160 : فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ (یہودیوں کی بےجا حرکتوں کی وجہ سے ہم نے ان پر پاکیزہ چیزیں حرام کردیں جو ان پر حلال کی گئیں تھیں) اور اس کا تذکرہ سورة انعام کی اس آیت : وعلی الذین ہادوا حرمنا کل ذی ظفر (الانعام۔ 146) میں ہے
آیت کا مطلب :
اب آیت کا مطلب یہ ہوا ہم نے ان پر طیبات حرام نہیں کیں مگر اس عظیم ظلم کی وجہ سے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا اور وہ وہی ہے جو ابھی شمار کیا گیا ہے : وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ کے راستہ سے روکنے کے سبب سے) یعنی دوسروں کو ایمان سے روکنے کی وجہ سے۔ کَثِیْرًا (بہت زیادہ) یعنی بہت زیادہ مخلوق کو یا بہت زیادہ روکنے کی وجہ سے۔
Ayah 4:161حرمت سود بنی اسرائیل میں بھی تھی :
آیت 161 : وَاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوْا عَنْہُ (اور ان کے سود لینے کی وجہ سے حالانکہ ان کو سود سے منع کیا گیا تھا) بنی اسرائیل پر بھی سود اسی طرح حرام تھا جیسا ہم پر حرام ہے۔ مگر وہ آپس میں لیتے دیتے تھے۔
وَاَکْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ (اور لوگوں کے مال ناجائز ذرائع سے کھانے کی وجہ سے) یعنی تمام حرام ذرائع اور رشوت وغیرہ۔ وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ مِنْہُمْ (اور ہم نے تیار کر رکھا ہے ان میں سے کفار کے لئے) نہ کہ ایمان والوں کے لئے۔ عَذَابًا اَلِیْمًا (درد ناک عذاب آخرت میں)
Ayah 4:162صفات کاملین :
آیت 162 : لٰکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ (مگر جو علم میں پختہ ہیں) یعنی دین میں جمے رہنے والے۔ متقین جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان جیسے دیگر : مِنْہُمْ (ان میں سے) ہم سے مراد اہل کتاب ہیں۔ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (اور مؤمن) یعنی ان میں سے ایمان والے اور مہاجرین وانصار کے مومن یُؤْمِنُوْنَ (وہ ایمان لانے والے ہیں)
نحوی تحقیق :
الراسخون مبتداء اور یؤمنون اس کی خبر ہے۔ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ (جو آپ پر اتارا گیا) یعنی قرآن : وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (اور وہ جو اتارا گیا آپ سے پہلے) یعنی تمام کتب منزلہ۔ وَالْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ (اور وہ جو نماز ادا کرنے والے ہیں)
نحو : یہ فعل مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔ کیونکہ اس میں نماز کی فضیلت مذکور ہے۔ عبداللہ کے صحیفہ میں المقیمون ہے۔ مالک بن دینار کی قراءت میں یہی ہے۔
وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ (اور وہ زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں) وَالْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (اور اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہیں) اُولٰٓئِکَ سَنُؤْتِیْہِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا (یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہم عظیم اجر عنایت فرمائیں گے)
قراءت : حمزہ (رح) نے سیؤتیہم پڑھا ہے۔
نحو : المؤتون بمع معطوف مبتداء اولٰٓئکَ سنؤتیہم خبر ہے۔
Ayah 4:163اہل کتاب کے سابقہ سوال کا جواب :
آیت 163 : اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (بیشک ہم نے آپ کی طرف وحی کی) اس میں اہل کتاب کو ان کے اس سوال کا جواب دیا گیا کہ وہ ہم پر ایک کتاب آسمان سے اتار لائے۔ اس آیت سے ان کے خلاف دلیل بیان کی کہ آپ کی حالت وحی کے معاملہ میں اسی طرح ہے جیسا کہ آپ سے پہلے انبیاء ( علیہ السلام) کی تھی۔
کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍٍ وَّالنَّبِیّٖنَ مِنْم بَعْدِہٖ (جیسا کہ ہم نے نوح ( علیہ السلام) اور ان کے بعد والے انبیاء ( علیہ السلام) پر وحی کی) جیسے ہود ٗ صالح و شعیب ( علیہ السلام) وغیرہم۔ وَاَوْحَیْنَآ اِلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِیْسٰی وَاَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ ہٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ ٰاتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا (اور ہم نے وحی کی ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد اور عیسیٰ و ایوب و یونس و ہارون و سلیمان کی طرف اور دائود ( علیہ السلام) کو ہم نے زبور دی)
قراءت : حمزہ نے زُبُوْر پڑھا ہے۔ یہ مصدر ہے جس کا معنی مفعول والا ہے یہ داؤد ( علیہ السلام) پر اترنے والی کتاب کا نام ہے۔
Ayah 4:164آیت 164 : وَرُسُلاً ۔ : اَوْ حَیْنَا کے ہم معنی فعل ارسلنا ونبأنا وغیرہ سے منصوب ہے۔ قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ (اور وہ رسول جن کے واقعات ہم نے آپ کو بیان کردیئے) من قبل سے مراد اس سورت سے پہلے۔ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ (اور وہ رسول جن کے واقعات ہم نے آپ پر بیان نہیں کیے)
تعدادِ رُسل والی روایت :
حضرت ابوذر ؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ انبیاء کی تعداد کتنی ہے تو فرمایا : مائۃ الف واربعۃ وعشرون الفًا۔ (ایک لاکھ چوبیس ہزار) پھر سوال کیا ان میں سے رسول کتنے ہیں۔ تو فرمایا تین سو تیرہ۔ سب سے پہلے رسول آدم ( علیہ السلام) اور سب سے آخری تمہارے نبی محمد ﷺ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ چار عربی ہود و صالح ٗ شعیب اور محمد ﷺ ۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ (361)
تمام انبیاء پر ایمان شرط لازم ہے :
آیت دلالت کر رہی ہے کہ رسل کی پہچان معین طور پر شرط لازم نہیں۔ جس پر ایمان کا دارو مدار ہو۔ بلکہ شرط یہ ہے کہ ان تمام پر ایمان لائے اگر تمام کی معرفت بنام وتعداد سے لازم ہوتی تو آیت میں بیان کردی جاتی۔
وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کلام کیا کلام کرنا) یعنی بلاواسطہ جبرئیل۔
Ayah 4:165بعثت کا مقصد :
آیت 165 : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ (اور اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے تاکہ پیغمبروں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے متعلق لوگوں کو کوئی عذر باقی نہ رہے)
نمبر 1۔ رسلا ًیہ فعل مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای اعنی رسلاً ۔
نمبر 2۔ اور پہلے رُسُلًاسے بدل بھی ہوسکتا ہے۔ نمبر 3۔ مفعول ہو فعل محذوف ارسلنا کا اور لئلا کی لام مبشرین اور منذرین کے متعلق ہے۔
مطلب یہ ہوا کہ انبیاء ورسل ( علیہ السلام) کا بھیجنا یہ اس سبب کی وضاحت اور لوگوں پر حجت کو تمام کرنے کے لئے ہے۔ تاکہ قیامت کو یہ نہ کہہ سکیں : لولا ارسلت الینا رسولاً ۔ تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا جو ہمیں جگاتا اور غفلت سے خبردار کرتا۔ اور اس پر متنبہ کرتا جس پر متنبہ ہونا چاہیے تھا۔ اور ہمیں فرمانبرداری کا طریق کار سکھلاتا مثلاً عبادات ٗ شرائع ٗ میری مراد اس سے عبادات کی مقدار ٗ اوقات کیفیات ہیں اصول مراد نہیں۔ کیوں کہ اصول تو عقل کی روشنی سے پہچانے جاتے ہیں۔
وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والے ہیں) انکار کی سزا پر قدرت رکھتے ہیں اور رسولوں کی بعثت میں حکمت والے ہیں تاکہ ان کو ڈرایا جاسکے۔
Ayah 4:166کتاب کی صحت کا ثبوت اظہار معجزات سے :
آیت 166 : جب آیت : اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے کہا : نشہد لک بہذا۔ ہم آپ کے متعلق اس بات کے گواہ ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَآ اَ نْزَلَ اِلَــیْکَ لیکن اللہ تعالیٰ گواہ ہے۔ اس کا جو آپ پر اتاری۔
شَہَادَۃَ اللّٰہِ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ کا مطلب یہ ہے اس کتاب کی صحت کا ثابت کرنا معجزات کے اظہار کے ذریعہ ہے۔ جیسا کہ دعاوی کا ثبوت دلائل سے ہوتا ہے۔ اس لئے کہ حکیم جھوٹے کی تائید و مدد معجزات سے نہیں کرتا۔
قرآن آپ کے لائق ہونے کے سبب اتارا :
اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ (اس نے اپنے علم سے اس کو اتارا) مطلب یہ ہے۔ نمبر 1۔ کہ اس نے قرآن کو اتارا ہے اور وہ بخوبی جانتا ہے کہ تم اس کے اتارے جانے کے لائق ہو اور تم اس کو پہنچانے والے ہو۔
تردید معتزلہ :
نمبر 2۔ اس کو بندوں کی مصلحتیں جانتے ہوئے ان کے مطابق اتارا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے علم کو ثابت کیا تو صفات فعلیہ کے متعلق معتزلہ کے باطل عقیدہ کی تردید ہے۔ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَشْہَدُوْنَ (اور فرشتے بھی گواہ ہیں) آپ کی نبوت کے۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا (اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے) اگر اور کوئی گواہی نہ بھی دے تو پرواہ نہیں۔
Ayah 4:167آیت 167 : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا) محمد ﷺ کی تکذیب کر کے۔ اور مراد اس سے یہود ہیں۔ وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے دوسروں کو روکا) اور لوگوں کو حق کے راستہ سے منع کیا اس قسم کی باتیں کر کے : انا لا نجد فی کتابنا۔ ہم اپنی کتاب میں ان کا تذکرہ نہیں پاتے۔
قَدْضَلُّوْا ضَلٰـلًام بَعِیْدًا (یہ گمراہ ہوئے بہت دور کا گمراہ ہونا) بعید سے مراد رشد و ہدایت سے دور ہونا۔
Ayah 4:168آیت 168 : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا) اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ وَظَلَمُوْا (اور انہوں نے ظلم کیا) محمد ﷺ کے ساتھ زیادتی کی آپ کی تعریف کو تبدیل کر کے آپ کی نبوت کا انکار کردیا۔ لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَلَہُمْ (اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہ کرے گا) جب تک کہ وہ کفر پر قائم رہیں گے۔
Ayah 4:169آیت 169 : وَلَا لِیَہْدِ یَہُمْ طَرِیْقًا اِلَّا طَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَداً ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا ( اور نہ ان کو کوئی راستہ دکھائے گا سوائے جہنم کے راستہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے) یعنی ان کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں رکھنا اس کے لئے آسان ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح : یعاقبہم خالدین۔ وہ ان کو خلود کی سزا دے گا۔ یہ حال مقدرہ ہے۔ یہ دونوں آیات ان لوگوں کے متعلق ہیں۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ ان کی موت کفر پر آئے گی۔
Ayah 4:170آیت 170 : یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّکُمْ (اے لوگو ! تمہارے پاس رسول حق لے کر تمہارے رب کی طرف سے آئے) حق سے مراد یہاں اسلام ہے۔ اور یہ حال واقع ہے اس حال میں کہ حق کو ثابت کرنے والا ہے۔
ایمان و توحید خیر ہے :
فَٰامِنُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ۔ سو (تم ایمان لائو جو تمہارے لئے بہتر ہو) اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ : اِنْتَہُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ۔
(النساء : 171)
نحو : خیرًا یہ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ان کو ایمان پر آمادہ کیا۔ اور تثلیث سے باز رہنے کا حکم دیا۔ تو معلوم ہوا ایک بات پر ان کو آمادہ کیا جا رہا ہے پس فرمایا : خیرًا لکم۔ تم قصد کرو اور ایک ایسے امر پر ثابت قدم رہو جو تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس کی بنسبت جس میں تم مبتلا ہو یعنی کفر و تثلیث۔ اور وہ بہتر چیز ایمان اور توحید ہے۔ وَاِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( اور اگر تم ناشکری کرو تو اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے) تمہارا کفر اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ ان کو خوب جاننے والے ہیں جو ایمان لانے والے اور انکار کرنے والے ہیں) حَکِیْمًا (وہ حکمت والے ہیں) دونوں کے بدلے میں برابری نہیں برتتے۔
Ayah 4:171آیت 171 : یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ (اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو) یعنی حد سے تجاوز نہ کرو۔ یہود نے مسیح ( علیہ السلام) کے مرتبہ کو کم کرنے میں غلو کیا یہاں تک کہ ان کو زانیہ کا بیٹا قرار دیا (معاذ اللہ) ۔ اور نصاریٰ نے ان کو بڑھانے میں غلو سے کام لیا یہاں تک کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنادیا (معاذ اللہ) ۔ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلاَّ الْحَقَّ (اور تم اللہ تعالیٰ کے متعلق وہی بات کہو جو سچی ہے) اور وہ اس کا شرک وابنیت سے پاک ہونا ہے۔
اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ (بیشک مسیح عیسیٰ بن مریم ہے) ابن اللہ نہیں ہے۔ رَسُوْلُ اللّٰہِ (اللہ کا رسول ہے)
نحو : المسیح مبتداء عیسیٰ عطف بیان یا بدل اور رسول اللہ اس کی خبر۔ کلمتہ کا عطف رسول اللہ پر ہے۔ وَکَلِمَتُہٗ (وہ اللہ کا کلمہ ہے) ان کو کلمہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے جیسا کلام سے کی جاتی ہے۔
اَلْقٰہَآ اِلٰی مَرْیَمَ (وہ کلمہ اللہ تعالیٰ نے پہنچایا مریم تک) یہ حال بھی ہے اور اس کے ساتھ مراد بھی ہوسکتا ہے یعنی وہ کلمہ پہنچایا مریم تک اور ڈالا اس میں۔
روح کہنے کی وجہ :
وَرُوْحٌ (اور روح ہے ) ۔
نحو : اس کا عطف بھی رسول اللہ پر ہے۔
ان کو روح کہنے کی وجہ نمبر 1۔ وہ مردوں کو زندہ کرتے جیسا کہ قرآن کو بھی روح فرمایا : وکذلک اوحینا الیک روحًا من امرنا۔ الشوریٰ ۔ 52۔ نمبر 2۔ وہ دلوں کو زندہ کرتے تھے۔
مِّنْہُ ۔ (اس کی طرف سے) یعنی اس کی تخلیق اور تکوین سے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وسخرلکم مافی السمٰوٰت وما فی الارض جمیعًا منہ۔ الجاثہ۔ 13۔
عجیب لطیفہ :
ہارون رشید کے دربار میں ایک نصرانی غلام تھا۔ اس نے مجلس ہارون رشید میں کہا تمہاری کتاب میں ایک آیت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ اللہ میں سے ہیں علی بن حسین بن واقد جو اس مجلس میں موجود تھے انہوں نے فرمایا اگر مِّنْہُ سے عیسیٰ کا اللہ تعالیٰ سے ہونا ثابت ہوتا ہے تو پھر قرآن مجید میں سورة جاثیہ میں ارشاد ہے : وسخرلکم مافی السمٰوٰت وما فی الارض جمیعًا منہ۔ پھر اب تو ساری مخلوق اس کا حصہ بن گئی۔ عیسیٰ کی کیا خصوصیت رہی۔ وہ لاجواب ہوگیا۔
فَٰامِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ( پس تم مانو اللہ اور اس کے رسولوں کو اور نہ کہو کہ معبود تین ہیں)
نحو : ثلاثۃ یہ خبر ہے اس کا مبتداء الاٰلہۃ محذوف ہے۔
اِنْتَہُوْا (تم باز رہو) یعنی تثلیث سے۔ خَیْرًا لَّکُمْ (تمہارے لئے بہتر ہوگا) قرآن مجید کی واضح دلالت سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ عیسائیوں کے ہاں اللہ ٗ مسیح اور مریم تین معبود ہیں۔ اور مسیح اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے جو مریم سے پیدا ہوا۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی میں ہے : ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ [ المائدہ : 116] دوسری آیت میں فرمایا : وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ [ التوبہ : 30]
اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰـــہٌ وَّاحِدٌ ( بیشک اللہ ہی تنہا معبود ہے)
نحو : لفظ اللہ مبتداء الٰہ خبر ٗ واحد تاکید برائے الٰہ۔
تنزیہ باری تعالیٰ :
سُبْحٰنَہٗ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ (وہ اس امر سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو) میں اس کی تسبیح بیان کرتا ہوں اس سے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اس کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے) اس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کا بیان ہے۔ اس غلط نسبت سے جو اس کی طرف کی گئی۔ اس طرح کہ آسمان و زمین میں سب اس کی مخلوق و مملوک ہے۔ پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ بعض ملکیت اس کا حصہ ہو۔ کیونکہ بیٹا ہونا اور ملک ہونا دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ اور جزء ہونا تو اجسام کی خصوصیت سے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تو جسمیت سے پاک ہے۔
وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا (اور اللہ کافی کار ساز ہے) وہ حافظ ہے آسمان و زمین کا اور ان میں تدبیر امر کرنے والا ہے اور جو کسی امر کی کفایت سے عاجز ہوتا ہے وہ بیٹے کا محتاج ہوتا ہے جو اس کی معاونت کرے۔
Ayah 4:172نصاریٰ کے اعتراض کا جواب :
آیت 172 : جب وفد نجران نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ آپ ہمارے صاحب عیسیٰ کے عیب کیوں نکالتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا۔ پھر میں نے کیا کہا ہے ! کہنے لگے تم نے کہا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔ آپ نے فرمایا۔ یہ تو عار کی بات نہیں۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو۔ انہوں نے کہا کیوں کر۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ (مسیح ہرگز عار نہیں کرینگے) یعنی نفرت نہیں کریں گے۔ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ (کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے کہلائیں) اس میں نصاریٰ کی تردید ہے۔ وَلَا الْمَلٰٓئِکَۃُ (اور نہ ملائکہ) اس میں عرب کے ان لوگوں کی مذمت ہے جو فرشتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اس کا عطف مسیح پر ہے۔ الْمُقَرَّبُوْنَ (مقرب) یعنی کروّبی فرشتے جو عرش الٰہی کے گرد رہتے ہیں مثلاً جبرئیل۔ میکائیل۔ اسرافیل ( علیہ السلام) اور جو ان کے طبقہ میں شامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ملائکہ مقربین بھی اللہ تعالیٰ کے بندے کہلانے میں عار محسوس نہ کریں گے۔ اس کلام کو دلالت کی وجہ سے حذف کردیا گیا اور وہ عبداللہ کا لفظ ہے مختصراً ۔
اعتراض :
معتزلہ نے اس آیت سے ملائکہ کی انسانوں پر فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ دلیل یہ دی ترقی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہوتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے : فلان لا یستنکف عن خدمتی ولا ابوہٗ ۔ اگر کہا جائے ولا عبدہ۔ تو یہ کلام درست نہیں۔ آیت میں : ولا الملائکۃ المقربون کا مطلب یہ ہے کہ نہ ملائکہ مقربون اور نہ وہ جو ان سے مرتبہ میں اعلیٰ ہیں۔ اور عظمت میں بڑھ کر ہیں اور مقربین کی تخصیص اس پر دلالت کر رہی ہے۔
جواب : ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ثانی کو اول پر فضیلت حاصل ہے۔ لیکن اس کا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں۔ جس میں تنازع پایا جاتا ہے۔ کیونکہ آیت بتلا رہی ہے کہ ملائکہ مقربین تمام وہ عیسیٰ ( علیہ السلام) سے افضل ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ تمام ملائکہ مقربنج ایک انسانی رسول سے افضل ہیں۔ بعض اہلسنّت نے یہ جواب دیا ہے۔ کیونکہ آیت کی مراد یہ ہے کہ ملائکہ۔ عظیم طاقت کے باوجود جو انسانوں سے بڑھ کر ہے اور لوح محفوظ کے علوم جن سے وہ براہ راست فیضیاب ہوتے ہیں اور ازدواجی زندگی سے بالکل خالی ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ کے بندہ ہونے سے عارمحسوس نہیں کرتے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے سے کیسے عارو انکار کرسکتا ہے۔ جو دوسرے سے پیدا ہوا۔ اور قدرت و طاقت بھی محدود قسم کی ہو۔ اور علم بھی فرشتوں کی طرح کا نہ ہو۔
اور اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہیے سخت پکڑ۔ وسعت علم۔ وجود کی غرابت حماقت کا شکار کردیتی ہے۔ جیسا کہ عیسائی۔ اور عبودیت سے بلند ہونے کا وہم پیدا کردیتی ہے۔ پس عیسائیوں کو کہا گیا کہ یہ اوصاف تو ملائکہ میں مسیح کی بنسبت زیادہ کامل ہیں مگر وہ ان اوصاف کے ہوتے ہوئے بھی عبودیت سے عار محسوس نہیں کرتے تو مسیح کیسے محسوس کرسکتے ہیں ؟
خلاصہ کلام یہ ہے۔ خاص انسان یعنی انبیاء ( علیہ السلام) وہ خاص ملائکہ سے افضل ہیں اور وہ خاص ملائکہ کہ رسل ملائکہ ہیں مثلاً جبرئیل میکائیل ٗ عزرائیل وغیرہ۔ اور خاص ملائکہ عام مؤمنین سے افضل ہیں۔ اور عام مومن انسان۔ عوام ملائکہ سے افضل ہیں۔
تفضیل بشر کی دلیل :
انسانوں نے اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی خاطر دبایا باوجود اس بات کے کہ خواہشات فطرت ِبشریہ ہیں۔
پس انبیاء ( علیہ السلام) ملائکہ ( علیہ السلام) پر عصمت میں فوقیت لے گئے۔ اور نفسانی واردات کو دبانے میں ان کو فرشتوں پر افضلیت حاصل ہوگئی۔ اور جسمانی دواعی کو مغلوب کرنے میں ان پر بڑھ گئے پس ان کی اطاعت و عبادت وہ فرشتوں کی بنسبت بہت شاق و گراں ہے۔ کیونکہ وہ مختلف چکروں سے گزر کر کرنا ہوتی ہے اور ملائکہ کی اطاعت جبلی و فطری ہے۔ پس انبیاء ( علیہ السلام) کی اطاعت ثواب میں بڑھ گئی۔
وَمَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَیَسْتَکْبِرْ (جو اس کی بندگی سے عار محسوس کرے گا اور تکبر اختیار کرے گا) فَسَیَحْشُرُہُمْ اِلَیْہِ جَمِیْعًا (پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے ہاں جمع کریگا) پھر ان کے غرور آمیز انکار وتکبر پر ان کو سزا دے گا۔ پھر تفصیل فرمائی۔ چناچہ فرمایا۔
Ayah 4:173اجمال کی تفصیل :
آیت 173 : فَاَ مَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ وَ یَزِیْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ وَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْکَفُوْا وَ اسْتَکْبَرُوْا فَیُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا وَّلَا یَجِدُوْنَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا (پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ تو ان کو ان کا ثواب پورا پورا دیگا اور اپنی مہربانی سے زیادہ عطا فرمائے گا اور پھر جن لوگوں نے عار محسوس کی اور بڑے بنے تو اللہ تعالیٰ ان کو دکھ آمیز عذاب دے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے لئے کوئی کارساز و مددگار نہ پائیں گے)
اہم سوال : تفصیل اجمال کے مطابق نہیں۔ کیونکہ تفصیل میں دو فریق ہیں۔ اور اجمال میں ایک فریق کا تذکرہ ہے۔
الجواب بالصواب : اس کی مثال اس طرح ہے کہ امام نے خروج کرنے والوں کو جمع کیا۔ پس جنہوں نے اس کے خلاف خروج نہ کیا تھا ان کو لباس و سواری دینا اس کے ذمہ ہے اور جنہوں نے خروج کیا ان کو سزا دینا اس کے ذمہ تھا۔ یہ جواب دو اعتبار سے صحیح ہے۔ نمبر 1۔ بڑی دلیل ایک فریق کے تذکرہ کو حذف کردیا کیونکہ تفصیل اس پر خود دلالت کر رہی تھی۔ نمبر 2۔ ایک کا تذکرہ دوسرے کے تذکرہ کی دلیل ہے۔ جیسا کہ تفصیل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں ایک فریق کو حذف کردیا ہے۔ فاما الذین ٰامنوا باللّٰہ واعتصموا بہٖ ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ دوسروں پر احسان ان کو غم میں مبتلا کرنے والا ہے۔ تو یہ غم بھی من جملہ عذاب میں داخل ہے۔ گویا اس طرح کہہ دیا گیا۔ جو اس کی بندگی اور عبادت سے عار محسوس کرے گا اور تکبر اختیار کرے گا۔ پس عنقریب اس کو حسرت کا عذاب میسر آئے گا جبکہ وہ عمل کرنے والے کے بدلے ملاحظہ کرے گا اور اس سبب سے جو اللہ تعالیٰ کا عذاب اس کو پہنچے گا۔
ایک نکتہ :
آیت میں : لن یستنکف میں غیر مستنکفین اور من یستنکف میں مستنکفین کا ذکر موجود ہے۔
پس تفصیل اجمال کے بالکل مطابق ہے۔ طویل بادیہ پیمائی کی حاجت نہیں۔ (الحمدللہ)
Ayah 4:174آیت 174 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمْ بُرْہَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ (اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آگئی) یعنی وہ رسول ہیں جو منکرین کو معجزات سے حق واضح کر رہے ہیں۔
وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا (اور ہم نے تمہاری طرف واضح روشنی اتاری) ایسا قرآن جس سے حیرت کے اندھیرے روشن کیے جاتے ہیں۔
Ayah 4:175فَاَمَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَاعْتَصَمُوْا بِہٖ (جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کو مضبوطی سے تھام لیا) یعنی اللہ پر ایمان لائے یا قرآن پر ایمان لائے۔
فَسَیُدْخِلُہُمْ فِیْ رَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ (وہ عنقریب ان کو اپنی رحمت و فضل میں ضرور داخل فرمائے گا) رحمت سے مراد جنت ہے اور فضل سے مراد زیادتیٔ نعمت : وَّیَہْدِیْہِمْ (اور وہ ان کی راہنمائی کرے گا) اِلَیْہِ (اللہ تعالیٰ کی طرف) یا فضل کی طرف یا اپنے راستے کی طرف۔ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا (سیدھا راستہ )
نحو : صراطا یہ مضاف محذوف سے حال ہے۔
Ayah 4:176کلالہ کا حکم :
آیت 176 : یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ ( لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو کلالہ کے بارے میں حکم دیتے ہیں) ۔
واقعہ جابر :
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیمار تھے۔ رسول اللہ ﷺ عیادت کیلئے تشریف لائے۔ تو انہوں نے عرض کیا۔ یارسول اللہ ﷺ ! میں کلالہ ہوں۔ میں اپنے مال کا کیا کروں ؟ تو یہ آیت اتری : اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیْسَ لَہٗ وَلَدٌ ( اگر کوئی آدمی مرجائے اور اسکی کوئی اولاد نہ ہو)
نحو : امرؤ مرفوع ہے اس مضمر کی وجہ سے کہ ظاہر جس کی تفسیر ہے اور لیس لہ ولد یہ صفت کی وجہ سے مرفوع ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ان ہلک امرؤ غیر ذی ولد۔
الولد سے یہاں مراد بیٹا ہے۔ ویسے یہ لفظ مذکر و مؤنث دونوں پر بولا جاتا ہے۔ کیونکہ ابن کی وجہ سے اخت (بہن کا حصہ ساقط ہوجاتا ہے۔ مگر بنت کی وجہ سے بہن کا حصہ ساقط نہیں ہوتا)
حقیقی بھائی بہنوں کا مسئلہ :
(یاد رہے کہ یہ آیت حقیقی بھائی بہنوں کے متعلق ہے جیسا شروع سورت میں روایت مذکور ہوئی)
وَلَہٗ اُخْتٌ (اور اس کی حقیقی بہن ہو) یعنی ماں ٗ باپ کی طرف سے یا باپ کی طرف سے۔ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ (تو بہن کو حقیقی بھائی کے ترکہ میں سے نصف ملے گا) جو اس میت نے چھوڑا ہے۔
وَہُوَ یَرِثُہَآ لیکن اگر بہن حقیقی مرجائے (اور اس کی اولاد نہ ہو) تو بھائی حقیقی اس کے تمام مال کا وارث ہوگا۔ اگر معاملہ علی العکس اس کی موت کا پیش آئے۔ اور وہ بھائی اس کی موت کے بعد باقی ہو۔ (اور میت کا باپ ٗ دادا موجود نہ ہو۔ )
اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہَا وَلَدٌ (اگر اس بہن کی کوئی اولاد نہ ہو) یہاں ولد سے مراد بیٹا ہے۔ کیونکہ بیٹا۔ بھائی کو ساقط کرتا ہے بیٹی نہیں۔
سوال : بیٹا اکیلے بھائی کو ساقط نہیں کرتا۔ باپ بھی اسقاط میں اس کی مثل ہے۔ پھر آیت میں ولد کی نفی پر اکتفاء کیونکر فرمایا گیا۔
جواب : انتفائے ولد کا حکم واضح بیان کردیا اور انتفائے والد کا حکم سنت کے بیان پر چھوڑ دیا۔ اور وہ ارشاد نبوت ﷺ ہے : الحقوا الفرائض باہلہا فما بقی فلاولی عصبۃ ذکر۔ (البخاری۔ 6732۔ مسلم 1615۔ احمد 292۔ جلد 1)
اور باپ بھائی سے زیادہ حقدار ہے۔
اخوت کو تغلیبًا ترجیح دی :
فَاِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ (اگر بہنیں دو ہوں) اور اس پر ولہٗٓ اخت بھی دلالت کر رہا ہے۔ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرکَ وَاِنْ کَانُوْٓا اِخْوَۃً (تو ان کے لئے (بھائی کے ترکہ سے) دو ثلث ہونگے اس میں سے جو میت نے چھوڑا اور اگر بھائی بہنوں کی جماعت ہو) یینے اخوت کی وجہ سے میراث پانے والے بہن بھائی بہت سے ہوں۔ یہاں اخوات پر اخوت کو غلبہ دے کر ذکر کیا۔
رِجَالًا وَّنِسَآئً (مذکر و مؤنث دونوں ہوں) فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا (پس ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا (تقسیم میں) اللہ تعالیٰ کھول کر بیان فرماتے ہیں تاکہ تم گمراہ نہ ہوجائو) ۔
حجۃ الوداع کی راہ میں اتری :
یبین سے سچا بیان۔ یہ یبین کا مفعول محذوف ہے۔ اور ان تضلوا سے قبل کر اہۃ کا لفظ محذوف ہے۔ (انکے بعد لا محذوف ہے) وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز معلوم ہے) وہ اشیاء کو ان کے وجود سے قبل اور اسکے بعد انکی حقیقتوں اور امثلہ سمیت جانتے ہیں (اس آیت کو آیت الصیف گرمیوں و الی کہتے ہیں۔ اور یہ آیت حجۃ الوداع کے بعد راستہ میں اتری۔