Ayah 4:35آیت 35 :
اس آیت میں خاندان و برادری والوں کو فرمایا۔
ضمیر کا مرجع :
وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا (اگر تمہیں اختلاف کا خطرہ ہو ان کے مابین) الشقاق عداوت و دشمنی ٗ کیونکہ ہر ایک ان میں سے وہ کام کرتا ہے جو اس کے دشمن پر شاق گزرتا ہے۔ یا شقاق، ایک طرف مائل ہونا۔ گویا ہر ایک ان میں سے اپنے ساتھی کی مخالف جانب میں جھکا ہوتا ہے۔ ضمیر کا مرجع میاں بیوی ہیں حالانکہ ان کا تذکرہ نہیں ہوا مگر ان دونوں کے حالات پر دلالت کرنے والی باتیں گزریں مثلا مردوں اور عورتوں کا تذکرہ ہوا۔ : شقاق بینہما۔ اصل میں شقاقًا بین ہما ہے۔ یہاں مصدر کی اضافت ظرف کی طرف کی گئی ہے۔ اور ظروف میں وسعت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ بل مکر الیل والنہار۔ سبا۔ 33۔ اصل میں یہ بل مکرکم الیل والنہار تھا۔ فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا (تم مقرر کرو ایک فیصلہ کرنے والا مرد کے اہل میں سے اور ایک عورت کے اہل میں سے) حَکَمْمیاں بیوی کے خاندانوں میں سے بنانے کا حکم دیا۔ کیونکہ قریبی رشتہ دار اندرونی حالات سے واقفیت رکھتے ہیں۔ اور وہ اصلاح کے بھی دوسروں کی بنسبت زیادہ طلب گار ہیں اور میاں بیوی بھی ان پر اطمینان و اعتماد کرنے والے ہیں۔ پس وہ اپنی اندرونی بات ان کے سامنے محبت و بغض اور مصاحبت و مفارقت کی قسم سے ظاہر کردیں گے۔
ضمائر کے مراجع اور اصلاح ذات البین :
نمبر 1: اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا (اگر ان دونوں کو اصلاح منظور ہوگی) میں ضمیر حکمین کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور یُوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا (تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی میں اتفاق فرمادینگے) میں ضمیر زوجین کی طرف جاتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر حکمین اصلاح ذات البین کا ارادہ رکھتے ہوں گے اور ان کی نیت صحیح ہوگی۔ تو ان کی وساطت میں برکت دی جائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ زوجین کے مابین الفت و موافقت کی کوشش کو واقع فرما دیں گے اور ان کے دلوں میں مودت و اتفاق ڈال دیں گے۔ نمبر 2۔ دونوں ضمائر کا مرجع حکمین ہوں۔ تو مطلب یہ ہوگا۔ اگر حکمین اصلاح ذات البین کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور میاں بیوی کے خیر خواہ ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے مابین موافقت ڈال دیں گے۔ پس حکمین ایک بات پر اتفاق رائے کرلیں گے اور موافقت کی تلاش میں اتنی تگ و دو کریں گے یہاں تک کہ مراد پوری ہوجائے۔
نمبر 3: یا دونوں ضمائر زوجین کی طرف راجع ہوں۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر میاں بیوی اپنے مابین اصلاح کے خواستگار ہونگے اور بھلائی کے خواہاں ہونگے۔ اور باہمی مخالفت دور کرنا چاہتے ہونگے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے مابین الفت القاء فرما دیں گے۔ اور دشمنی کو موافقت سے بدل دیں گے۔ اور بغض کو محبت میں بدل دیں گے۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا (بےشک اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والے) اور ارادئہ حکمین سے بھی واقف ہیں۔ خَبِیْرًا (خبر رکھنے والے ہیں) وہ زوجین میں سے ظالم کو جاننے والے ہیں۔ حکمین کو تفریق کا اختیار نہیں مگر امام مالک کا اس میں اختلاف ہے۔
Ayah 4:36خلاصہ عبودیت اور احکام شرعیہ :
آیت 36 : وَاعْبُدُوا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) کہا گیا ہے کہ عبودیت چار باتوں کا مجموعہ ہے نمبر 1۔ وفاء بالعہد۔ نمبر 2۔ رضا بالموجود۔ نمبر 3۔ حدود کی حفاظت۔ نمبر 4۔ ہاتھوں سے کھوئے جانے والی چیز پر صبر۔ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا (اور اس کے ساتھ کسی چیز (صنم وغیرہ) کو شریک نہ ٹھہرائو) شیئًا مفعول بہ ہے یا پھر مفعول مطلق اشراکًا کی صفت ہے۔ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا (اور والدین کے ساتھ احسان کرو) یعنی قول فعل سے اور بوقت ضرورت انفاق کے ذریعہ ان کے ساتھ احسان کرو۔ وَبِذِی الْقُرْبٰی (اور قرابت داروں کے ساتھ) خواہ بھائی ہو یا چچا یا دیگر۔ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی (اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی کے) یعنی پڑوس میں رہنے والا قرابت دار۔ وَالْجَارِ الْجُنُبِ : دور کا پڑوسی۔ یا پڑوسی قریب النسب اور پڑوسی اجنبی۔
ہم مجلس کی مراد :
وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ (ہم مجلس کے ساتھ) نمبر 1۔ پہلو والا ساتھی یعنی زوجہ۔ حضرت علی ؓ کا قول یہی ہے۔ نمبر 2۔ یا وہ شخص جو تیرے پہلو میں رہے خواہ رفیق سفر بن کر یا شریک فی التعلیم رہ کر یا شاگرد بن کر۔ نمبر 3۔ یا تیرے پہلو میں بیٹھنے والا کسی مجلس یا مسجد میں۔
وَابْنِ السَّبِیْلِ (مسافر یا مہمان) وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (اور جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں) مثلاً غلام۔ لونڈیاں۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًا (بیشک اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑا خیال کرنے والا شیخی کی باتیں کرنے والا ہو) مختالاس شخص کو کہتے ہیں جو متکبر اور قرابت داروں اور پڑوسیوں سے نفرت کرتا ہو اور ان کی طرف بالکل توجہ نہ کرتا ہو۔ فخوروہ شخص جو تکبر سے اپنی تعریف کرے۔ شکور اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی اچھائی بطور اعتراف و تحدیث نعمت کے ذکر کرے۔
Ayah 4:37آیت 37:
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْ مُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ (جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں)
نحو و قراءت :
نمبر 1۔ الذین یبخلون، من کان مختالا فخورًا کا بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مَنْ کے معنی کا لحاظ کر کے
جمع لائے یا بطورمذمت جمع لائے۔ نمبر 2۔ ہم مبتداء محذوف اور الذین یبخلون اس کی خبر۔
قراءت : حمزہ اور علی رحمہما اللہ نے البَخَل پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جیسا کہ الرشد اور الرَشَد۔
مفہوم آیت :
آیت کا معنی یہ ہے وہ جو کچھ اپنے ہاتھ میں ہے اس میں بخل کرتے ہیں اور جو لوگوں کے پاس ہیں اس میں بھی بخل کرتے ہیں کہ ان کو بخل کی تعلیم دیتے ہیں صرف سخاوت کی دشمنی کرتے ہوئے۔
الفاظ کا باہمی فرق :
البخل : خود تو کھائے مگر دوسرے کو نہ کھلائے۔
الشح : نہ خود کھائے نہ دوسرے کو کھلائے۔
السخاء : خود کھائے دوسرے کو کھلائے۔
الجود : دوسروں کو کھلائے خود نہ کھائے۔
اظہارِ نعمت :
وَیَکْتُمُوْنَ مَآ ٰاتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (اور وہ چھپاتے ہیں اس چیز کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عطاء کی ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مال اور خوشحالی دی ہے اس کو چھپاتے ہیں۔ حدیث میں وارد ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر انعام کرتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ بندے پر اپنی نعمتیں دیکھیں۔ (ترمذی۔ 2819)
واقعہ عجیبہ :
ہارون الرشید کے ایک عامل نے ایک محل اس کے محل کے سامنے بنایا۔ کسی نے ہارون رشید سے اس کی چغلی کردی۔ اس عامل نے کہا۔ اے امیر المؤمنین ! سخی کو یہ بات پسند آتی ہے کہ وہ اپنی نعمت کا اثر دیکھے میں نے چاہا کہ آپ کو میں آپ کے احسان پر نگاہ ڈلوا کر خوش کروں ہارون الرشید کو اس کی یہ بات بہت پسند آئی۔
: ایک قول یہ بھی ہے کہ ان یہود کے متعلق اتری جنہوں نے محمد ﷺ کی تعریف تورات میں چھپالی تھی۔
وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَاباً مُّہِیْنًا (اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے) جس کے ساتھ ان کی تذلیل کی جائے گی۔
Ayah 4:38آیت 38: وَالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ الخ (اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھلاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں)
نحو : یہ یبخلون پر عطف ہے یا کافرین پر۔ رِئَائَ النَّاسِ اس کا مفعول لہٗہے۔ رِئاء کا مطلب فخر کے لئے تاکہ ان کو بڑا سخی کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے نہیں۔ اس سے مراد منافقین یا مشرکین مکہ ہیں۔
وَلَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَہٗ قَرِیْنًا فَسَآئَ قَرِیْنًا (وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جس کا شیطان دوست ہو پس وہ بہت برا دوست ہے) اس لئے کہ وہ ان کو بخل اور ریا کاری اور دیگر بداعمالیوں پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ یہ وعید ہے۔ پھر مطلب یہ ہے کہ شیطان کو آگ میں ان کا قرین بنایا جائے گا۔
Ayah 4:39آیت 39 :
وَمَاذَا عَلَیْہِمْ لَوْ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ (ان کا کیا نقصان ہوتا اگر یہ اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان لے آتے اور اس میں سے خرچ کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو رزق دیا ہے) ان کے ایمان پر کیا وبال پڑتا۔ اور انفاق فی سبیل اللہ پر کیا بوجھ پڑتا۔ دراصل اس انداز سے ان کی مذمت و توبیخ کی گئی ہے۔ ورنہ تو ہر منفعت اور مصلحت اس میں یہی حکم رکھتی ہے۔ یہ اسی طرح بات ہے جیسے نافرمان بیٹے کو کہا جائے۔ اگر تو نیک ہوتا تو تیرا کیا نقصان تھا ؟ اور یہ بات معلوم ہوچکی کہ نیکی میں تو کوئی مضرت نہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ تو بیخ و مذمت ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ بِہِمْ عَلِیْمًا (اللہ تعالیٰ ان کو خوب جاننے والے ہیں) اس جملہ میں کافروں کو دھمکی ہے۔
Ayah 4:40آیت 40 : اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ (بیشک اللہ تعالیٰ ایک ذرہ کے برابر ظلم کرنے والے نہیں)
ذرّہ کی تحقیق :
ذَرَّۃٌ۔ اصل میں چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے۔ کہ انہوں نے اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا۔ پھر اس کو اوپر اٹھایا پھر اس میں پھونک ماری پھر فرمایا۔ کہ ان میں سے ہر ایک ذرہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ دھول اور اڑتے غبار کا ہر جزء ذرہ ہے۔
وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃً ( اور اگر ذرہ بھر نیکی ہوگی) مثقال کی ضمیر مؤنث لائی گئی۔ کیونکہ اس کی نسبت حسنۃ مؤنث کی طرف ہے۔
نحو و قراءت :
نحو : حجازی ٗ کَانَ کو تامہ قرار دیتے ہیں۔ تکن کی نون کو کثرت استعمال کی وجہ سے حذف کردیا۔ یُّضٰعِفْہَا (وہ اس کا ثواب کئی گنا کر دے گا) ۔
قراءت : مکی وشامی قراء نے یُضَعِّفْہَا پڑھا ہے۔ وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا (اسے اجر عظیم عنایت فرمائیں گے) یعنی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اس نیکی کرنے والے کو بہت بڑا اجر عنایت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جس اجر کو خود عظیم فرمایا اس کی مقدار کو کون جانتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے سامان کو متاع قلیل کہا۔
ردِ معتزلہ :
اس میں معتزلہ فرقہ کی تردید ہے کہ جنہوں نے گناہ کبیرہ کے مرتکب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنمی قرار دیا خواہ اس کی کتنی ہی نیکیاں کیوں نہ ہوں۔
Ayah 4:41آیت 41 : فَکَیْفَ (ان کفار کا کیا حال ہوگا) خواہ وہ یہود ہوں یا دیگر۔ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ (جبکہ ہر امت سے ہم ایک ایک گواہ حاضر کریں گے) جو ان پر ان کی کارکردگی کی گواہی دے گا اور وہ ان کا پیغمبر ہوگا۔
قیامت کی گواہی :
وَجِئْنَابِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآئِ شَہِیْدًا (اور آپ کو اے محمد ﷺ ان پر بطور گواہ لایا جائے گا) ہٰؤلآء کا مشارٌالیہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات ہے۔
شَہِیْدًا یہ حال ہے۔ یعنی شاہد کے طور پر لایا جائے گا۔ کہ آپ ایمان لانے والے اور کفر اختیار کرنے والے اور منافقت اختیار کرنے والوں پر گواہ ہونگے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سورة نساء تلاوت کی جب میں وجئنا بک علی ھٰؤلاء شھیدًا پر پہنچا تو رسول اللہ ﷺ پر گریہ طاری ہوا۔ اور زبان مبارک سے فرمایا حسبنا احمد 380 جلد 1 بخاری 4582
Ayah 4:42آیت 42 : یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰی بِہِمُ الْاَرْضُ (اس دن کافر چاہیں گے اور وہ جنہوں نے رسول کی نافرمانی کی کاش وہ پیوندزمین ہوجائیں)
قراءت و نحو :
یومئذ۔ ظرف ہے یودالذین کا تَسَوَّی تا مفتوحہ اور تخفیف سین اور امالہ کے ساتھ اصل میں تتسوی ہے یہ حمزہ وعلی رحمہما اللہ نے پڑھا۔ تَسَّوّٰی۔ تا کا سین میں ادغام کر کے مدنی و شامی رحمہما اللہ نے پڑھا ہے۔
وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللہَ حَدِیْثًا (اور اللہ تعالیٰ سے وہ کوئی بات نہ چھپا سکیں گے) یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے چھپانے کی قدرت نہ پائیں گے۔ کیونکہ ان کے جوارح خود ان پر گواہ ہونگے۔
فائدہ : ابودائود ٗ ترمذی و حاکم میں ہے۔ کہ حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ نے اپنے دوستوں کے لئے کھانا تیار کرایا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب شراب مباح تھی۔ انہوں نے کھایا پیا۔ پھر ایک کو اپنے میں سے نماز کے لئے آگے کردیا۔ تاکہ مغرب کی نماز پڑھائے۔ اس نے قل یٰٓایہا الکافرونکو لا اعبد کی بجائے اعبد اور انتم عابدون کو بھی لا کے بغیر پڑھا۔
Ayah 4:43آیت 43: پس یہ آیت اتری : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ (اے ایمان والو ! تم نماز کے قریب نہ جائو اس حال میں کہ تم نشہ میں ہو۔ یہاں تک کہ جانو۔ جو کچھ تم کہتے ہو) یعنی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جائو۔ تقولون کا مطلب تقرء ون ہے۔
نشہ میں کلمہ کفر کا حکم :
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ نشے والے کا ارتداد ارتداد شمار نہ ہوگا کیونکہ لفظ لا کو گرا کر سورة کافرون کا پڑھنا کفر ہے۔ حالانکہ ان پر کفر کا حکم نہیں لگایا گیا۔ بلکہ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا سے خطاب فرمایا۔ اور آنحضرت ﷺ نے بھی ان کے اور ان کی ازواج کے درمیان تفریق کا حکم نہیں دیا۔ اور نہ تجدید ایمان کا حکم دیا۔ کیونکہ امت کا اجماعی مسئلہ ہے کہ جس کی زبان پر کفر غلطی سے جاری ہوا۔ اس پر کفر کا حکم نہ لگایا جائے گا۔
وَلَا جُنُبًا (اور نہ اس حال میں کہ تم جنابت سے ہو) : اس کا عطف انتم سکارٰی پر ہے۔ جملہ محلاً منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ لا تقربوا الصلوۃ سکاری ولا جنبًا یعنی جنابت کی حالت میں نماز نہ پڑھو۔
جنب کی تفصیل :
اَلْجُنُبُ : کا لفظ واحد و جمع کے لئے اور مذکر و مؤنث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ اسم ہے جو مصدر اَلْاِجْنَاب کی جگہ استعمال ہوا ہے۔
مسجد اور جنابت :
اِلاَّ عَابِرِیْ سَبِیْلٍ (مگر یہ کہ تم (مسافر ہو) راستہ عبور کرنے والے ہو) یہ جنبًا کی صفت ہے تقدیر عبارت یہ ہے : لا تقربوا الصلوۃ جنبًا غیر عابری سبیل یعنی جنبا مقیمین غیر مسافرین۔ یہاں جنب سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حاجت غسل کے باوجود غسل نہ کیا ہو۔
یہ ہوا لاتقربوا الصلاۃ غیرمغتسلین۔ تم نماز کے قریب نہ جائو جبکہ تم غسل نہ کرنے والے ہو۔ حَتّٰی تَغْتَسِلُوْا (یہاں تک کہ تم غسل کرلو) یعنی مگر یہ کہ تم مسافر ہو اور پانی نہ پانے والے ہو تیمم کرنے والے ہو۔ آیت میں تیمم کرنے والے کو مسافر کہا۔ کیونکہ مسافر کی عام حالت بغیر پانی کے ہوتی ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے۔
البتہ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : لا تقربوا الصلوۃ تم نماز کے مقامات کے قریب نہ جائو۔ یعنی مساجد ولا جنبا کا مطلب تم مسجد کے قریب جنابت کی حالت میں مت جائو۔ الا عابری سبیل : مگر راستہ عبور کرنے کی غرض سے۔ جنابت والے کے لئے مجبوری کی حالت میں مسجد میں سے گزرنا جائز ہے۔ وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآئَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ (اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے ہو کر آیا ہو)
الغائط۔ نشیبی زمین کو کہتے ہیں۔ وہ قضائے حاجت کے لئے نشیبی جگہوں میں جاتے تھے۔ پس وہ بول کر حدث سے فراغت کا کنایہ کردیا۔ اَوْلٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ (یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو) یعنی ان سے قربت کی ہو۔ حضرت علی و ابن عباس ؓ سے یہی تفسیر مروی ہے۔
پانی نہ پانے کی حدود :
فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً (پس تم پانی نہ پائو) یعنی اس کے نہ ہونے یا دور ہونے کی وجہ سے استعمال پر قدرت نہ رکھتے ہو۔ یا اسی طرح عدم قدرت میں پانی تک پہنچنے کے آلہ کا نہ پانا اور سانپ ٗ درندہ ٗ دشمن وغیرہ کا پانی کے پاس ہونے کی وجہ سے پانی تک نہ پہنچ سکنا شامل ہے۔
شرط میں چار اشیاء :
فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا (پس تم پاکیزہ مٹی سے تیمم کرو) چار چیزیں شرط کے تحت داخل ہیں نمبر 1 مریض۔ نمبر 2۔ مسافر۔ نمبر 3۔ بےوضو۔ نمبر 4۔ بےغسل۔ فا، جزاء کی لا کر تیمم کا امر فرمایا جو کہ تمام سے متعلق ہے۔
مسئلہ : جب مریض پانی نہ پائے خواہ حرکت نہ کرسکنے اور پانی تک نہ پہنچنے میں عاجزی کی وجہ سے اور مسافروں سے پانی دور ہونے کی بناء پر ان کی دسترس سے باہر ہو۔ اور بےوضو اور جنابت والے جب پانی نہ پائیں تو ان کو تیمم درست ہے۔
معنی ٔ صعید :
زجاج (رح) کہتے ہیں، صعید۔ سطح زمین کو کہتے ہیں۔ خواہ مٹی ہو یا اور کچھ اگر سخت چٹان ہو جس پر مٹی کا نشان بھی نہ ہو اسی پر تیمم کے لئے ضرب مار کر ہاتھ اور چہرے پر پھیرلیا تو تیمم سبب طہارت بن گیا۔ اور مِن کا حرف سورة مائدہ میں تبعیض کے لئے نہیں بلکہ ابتدائے غایت کے لئے ہے۔ طیب کا معنی طاہر ہے۔
قراءت : لمستم پڑھا حمزہ اور علی رحمہما اللہ نے۔ فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ (تم مل لو اپنے چہروں اور بازئو وں پر) وجوہ کم کی با بعض نے زائد قرار دی ہے۔ اِنَّ اللہَ کَانَ عَفُوًّا (بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے) رخصت و آسانی عنایت فرما کر۔ غَفُوْرًا (بخشنے والے ہیں) خطائوں اور تقصیرات کو۔
Ayah 4:44آیت 44 : اَ لَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ (کیا تم نے ان لوگوں کی حالت کی طرف نظر نہیں کی جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا) الم تر میں نمبر 1۔ رئویت قلب مراد ہے۔ اور رئویت پر الٰی لا کر۔ اَلَمْ ینتہ علمک الیہم کے معنی میں کردیا گیا۔ کیا تمہارا علم ان تک نہیں پہنچا۔ نمبر 2۔ الم تربمعنی الم تنظر ہے کیا تم نے غور نہیں کیا ان کی طرف۔ نصیبًاکا معنی تورات کا تھوڑا سا علم مراد اس سے احبار یہود ہیں۔
یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَۃَ (وہ گمراہی کو ہدایت کے بدلہ میں لیتے ہیں) مراد اس سے ان کا نبوت رسول اللہ ﷺ پر واضح دلائل قائم ہوجانے کے بعد بھی یہودیت پر اصرار کرنا ہے۔ حالانکہ وہ جان چکے ہیں کہ آپ وہ النبی العربی ہیں جن کی خوش خبری تورات وانجیل میں دی جا چکی ہے اور وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَ (وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم راستہ سے گمراہ ہوجائو) تضلوا کی ضمیر کا مرجع مومن ہیں اور السبیل سے مراد اسلام کا حق والا راستہ ہے۔ یعنی وہ تمہیں بھی گمراہ دیکھنا چاہتے ہیں جیسے وہ خود گمراہ ہوئے۔
Ayah 4:45آیت 45 :
وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآپکُمْ (اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتے ہیں) اسی نے تمہیں ان کی دشمنی کی اطلاع دی ہے اپنے معاملات میں ان سے کوئی مشورہ مت طلب کرو۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیًّا (اللہ تعالیٰ تمہارا پورا کار ساز ہے) وہ کارسازی کر کے تمہیں نفع پہنچائے گا۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیْرًا (وہ اللہ پورا پورا مددگار ہے) ان کے ضرر کو دفع کریگا پس اس کی مددو نصرت پر یقین کرو ان کی مکاریوں سے بچانے کیلئے۔
یا ان کی کچھ بھی پرواہ مت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ان کے خلاف نصرت کرے گا اور ان کی مکاریوں کیلئے کافی ہوجائے گا۔
نحو : وَلیًّا اور نصیرًا یہ تمیز کی وجہ سے منصوب ہیں یا پھر حال ہیں۔
Ayah 4:46آیت 46: مِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ (کچھ یہود تبدیل کرتے ہیں کلمات (تورات) کو اس کے مقامات سے) ۔
ایک نحوی تحقیق :
نمبر 1۔ یہ الذین اوتوا الکتاب کا بیان ہے۔ یا نمبر 2۔ اعدائکم کا بیان ہے اور درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔ یا نمبر 3۔ نصیرًا کے متعلق ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ینصرکم من الذین ہادوا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : وَنَصَرْنٰہُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا [ لانبیاء : 77]
نمبر 4۔ محذوف سے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : من الذین ہادوا قوم یحرفون الکلم۔ پس قوم مبتداء اور یحرفون اس کی صفت اور من الذین ہادوا اس کی خبر مقدم۔ اس صورت میں موصوف قوم کو حذف کر کے اس کی صفت موضحہ یحرفون الکلم کو اس کے قائم مقام کردیا۔
تحریف مواضع کی مثال :
یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ (وہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے) یحرفون کا معنی پھیرنا اور زائل کرنا ہے۔ کیونکہ وہ ان کو بدل کر ان کی جگہ دیگر کلمات رکھ دیتے تو گویا ان کے اپنے مقامات سے پھیر دیتے۔ جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو رکھا تھا۔ اور اس سے زائل کردیتے۔ اس تحریف کی مثال آپ کی تعریف میں یہ کلمہ تھا۔ أسمر ربعۃ مناسب قد سیاہی سفیدی مائل۔ انہوں نے بدل کر گندم گوں طویل القامت کردیا۔
اس آیت میں عن مواضعہ کے الفاظ ہیں۔ اور مائدہ۔ 41 میں من بعد مواضعہ ہے۔ دونوں میں فرق : عن مواضعہ کا مطلب یہ ہے کہ ان کلمات کو ان مقامات سے ہٹاتے جہاں حکمت الٰہیہ کے مطابق ان کو رکھا گیا تھا۔ اس کا مقصد اپنی شہوات کی اتباع ہے۔ اور من بعد مواضعہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ کلمہ ایسے مقام پر رکھتا جہاں رکھنا زیادہ مناسب تھا۔ جب انہوں نے اس کی تحریف کی تو اس لفظ کو چھوڑ دیا تو وہ اس مسافر کی طرح بن گیا۔ جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ اپنے ان مخصوص مقامات کے بعد۔ دونوں معانی قریب ہی ہیں۔
وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا (اور وہ کہتے ہیں ہم نے سنا آپ کا قول اور نافرمانی کی آپ کے حکم کی) دوسرا قول یہ بھی ہے کہ وہ عصینا آہستہ کہتے۔ وَاسْمَعْ (تو سن ہماری بات) ۔
کلمہ مدح و قدح :
غَیْرَ مُسْمَعٍ (نہ سنائے جائو) یہ مخاطب سے حال ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ اسمع و انت غیر مسمع۔ یہ کلمہ دو طرفیں رکھتا ہے۔ مذمت و مدح۔ مذمت اس طرح۔ نمبر 1۔ تو ہم سے سن ہم تمہیں بددعا دے رہے ہیں لا سمعت کی کیونکہ اگر ان کی بددعا قبول ہو تو کچھ نہ سنتے۔ اس لئے کہ اصم غیر مسمع ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اس بات پر اعتماد کرتے ہوئے کہی کہ ان کا قول لا سمعت مقبول بددعا ہے۔ نمبر 2۔ تو سن تمہیں ایسا جواب نہ دیا جائے جس کی طرف تم بلاتے ہو مطلب یہ ہے کہ کبھی موافق جواب نہ سننے پائو۔ گویا کہ تم نے کچھ سنا ہی نہیں۔ نمبر 3۔ تم سنو پسندیدہ بات، نہ سنائے جائو۔ کیونکہ تمہارے کان اس کو سننا پسند نہیں کریں گے۔
مدح کا احتمال بھی ہے۔ کہ تم سنو اور ناپسندیدہ بات نہ سنائے جائو یہ اس محاورہ سے نکلا ہے۔ اسمع فلان فلانا۔ فلاں نے فلاں کو خوب جلی کٹی سنائیں۔
مراد راعنا :
وَرَاعِنَا (تو ہماری رعایت کر) نمبر 1۔ راعنا میں یہ احتمال بھی ہے کہ تو ہمارا انتظار کر تاکہ ہم تجھ سے بات کریں۔ اور نمبر 2۔ عبرانی سریانی کلمے کے مشابہ بھی ہوسکتا ہے۔ جس سے وہ گالی دیتے تھے وہ ” راعینا “ ہے۔ وہ اس سے دین کا مذاق اڑاتے اور رسول اللہ ﷺ سے تمسخر کرتے یہ ذو معنیین (دونوں معنوں کا احتمال رکھنے والا) کلام کر کے گالی اور توہین مراد لیتے اور ظاہر کرتے کہ وہ توقیر و اکرام کر رہے ہیں۔
حق کو باطل کی طرف موڑنا :
لَـیًّا بِاَلْسِنَتِہِمْ (اپنی زبانوں کو موڑ کر) یعنی بل دے کر اور تبدیل کر کے۔ نمبر 1۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی زبانوں کے ساتھ حق کو باطل کی طرف موڑتے۔ اس طرح کہ انظر نا کی بجائے راعنا کہتے اور لا سمعت مکروہًا کی بجائے غیر مسمعٍ کہتے۔ نمبر 2۔ اپنی زبانوں کو بل دے کر بطور منافقت اس طرف موڑتے جو گالی و برائی ان کے باطن میں چھپی تھی۔ وَطَعْنًا فِی الدِّیْنِ (اور دین میں طعنہ زنی کی خاطر) اس سے مراد ان کا وہ قول ہے کہ اگر یہ سچے پیغمبر ہوتے تو ضرور یہ اطلاع دیتے اس اعتقاد کی جو ہمارے باطن میں ہے۔ وَلَوْ اَنَّہُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا (کاش وہ سمعنا اور اطعنا کے لفظ کہتے) اور عصینانہ کہتے اور واسمع کہتے اور اس کے ساتھ غیر مسمعٍ نہ ملاتے اور انظرنا کہتے راعنا نہ کہتے۔ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ (تو اس کا کہنا ان کے حق میں بہترہوتا) یعنی ان کی یہ بات اللہ تعالیٰ کے ہاں پسند ہوتی۔ وَاَقْوَمَ (اور زیادہ عدل و انصاف والی ہوتی) وَلٰکِنْ لَّعَنَہُمُ اللہُ بِکُفْرِہِمْ ( اور لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے باعث ان پر لعنت کی) اور ان کے کفر اختیار کرلینے کی وجہ سے رحمت سے دور پھینک دیا۔ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلاَّ قَلِیْلًا (پس بہت تھوڑے ان میں سے ایمان لائیں گے) ان میں سے بعض حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جیسے حضرات مسلمان ہوئے۔ نمبر 2۔ یہ اتنا کمزور ایمان رکھتے ہیں جو ناقابل اعتبار ہے اور یہ کہ بعض پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں اور دوسری کتابوں سے انکار کرتے ہیں۔
Ayah 4:47آیت 47 : جب وہ ایمان نہ لائے تو یہ آیت اتری : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ٰامِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا (اے اہل کتاب تم ایمان لائو اس پر جو ہم نے اتارا) نزلنا سے مراد قرآن ہے۔ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ (وہ تصدیق کرنے والا ہے، اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے) مراد تورات ہے۔
طمس وجوہ کا معنی :
مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْہًا (اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو بالکل مٹا ڈالیں) یعنی عین ٗ ابرو ٗ ناک ٗ منہ کے نشانات کو مٹا ڈالیں۔ فَنَرُدَّہَا عَلٰٓی اَدْبَارِہَآ (اور ہم ان کو گد ّی کی طرح کردیں) کہ نشان مٹ کر وہ بھی گد ّی کی طرح سپاٹ ہوجائیں فا اس میں سببیہ ہے اور فا تعقیب کے لئے بھی ہوسکتی ہے۔ کہ ان کو دو سزائوں سے ڈرایا گیا جن میں ایک دوسرے کے بعد آئے گی ان چہروں کا پشت کی طرف پھیرنا مٹانے کے بعد ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں اور چہروں کو پشت کی طرف پھیر دیں۔ اور گدی کو اگلی طرف یہ بھی کہا گیا کہ طمس سے مراد تبدیل کرنا اور بدلنا ہے۔ جس طرح قبطیوں کے اموال کو پتھر بنادیا اور وجوہ سے ان کی وجاہت اور سرداری مراد ہو یعنی اس سے قبل کہ ان کے باوجاہت لوگوں کے حالات بدل ڈالیں اور ان کی ترقی چھین کر ذلت اور وجاہت کو پستی سے بدل دیں۔
دو میں سے ایک عذاب :
اَوْ نَلْعَنَہُمْ کَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ (یا ان پر ہم لعنت کریں جیسا ہم نے ہفتہ والوں پر لعنت کی) یعنی ان کو مسخ کر کے رسوا کریں جیسا ہفتے والوں کو مسخ کیا۔ ہم ضمیر وُجُوہ کی طرف راجع ہے اگر اس سے مراد صاحب وجاہت ہوں۔ یا ضمیر الذین اوتوا الکتاب کی طرف لوٹتی ہے۔ بطریق التفات۔ اور یہ وعید اس وقت ان سے متعلق ہوتی جب کہ کوئی بھی ان میں سے ایمان نہ لاتا۔ حالانکہ بعض ایمان لا چکے جیسے عبداللہ بن سلام ؓ ۔ انہوں نے اس وقت آیت سنی جبکہ وہ شام سے لوٹ رہے تھے۔ وہ گھر جانے سے قبل ہی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر مسلمان ہوگئے اور کہنے لگے۔ میں نہیں سمجھتا تھا کہ میں اپنے گھر بھی پہنچ سکوں گا۔ اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ میرے چہرے کو مسخ کر دے۔
نمبر 2 دوسری تفسیر یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دو باتوں میں سے ایک سے ڈرایا۔ نمبر 1۔ طمس وجوہ۔ نمبر 2۔ لعنت۔ پس اگر طمس نے ان کے سرداروں کے حالات کو بدل دیا پھر دو میں سے ایک بات تو ہوگئی۔ اور اگر ان رؤ ساکو نہیں بدلا تو لعنت ان کو پہنچ گئی۔ وہ ہر زبان سے ملعون ہیں۔
نمبر 3۔ یہود کے متعلق اس پیشن گوئی کے پورے ہونے کا قیامت سے قبل انتظار ہے۔ وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلاً (اور اللہ تعالیٰ کا حکم ضرور پورا ہو کر رہتا ہے) امر اللہ سے جس کا حکم دیا گیا۔ اور وہ عذاب ہے۔ جس سے ان کو ڈرایا گیا۔ مَفْعُوْلًا یعنی ہر صورت پورا ہوگا۔ اگر وہ ایمان نہ لائیں گے تو دو میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔
Ayah 4:48آیت 48: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ (بیشک اللہ نہ بخشے گا یہ کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے اور بخش دے گا اس کے علاوہ کو) نہ بخشنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر موت شرک پر آگئی۔ ذلک کا مشارٌ الیہ مادون الشرک ہے۔ خواہ کبیرہ بدون توبہ ہو۔
شرک مغفور بالتوبہ :
الحاصل : شرک مغفور بالتوبہ ہے۔ اور جو توبہ نہ کرے مگر گناہ شرک کے علاوہ ہوں تو اس سے بخشش کا وعدہ ہے۔ مطلب یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ بخشے گا اس کو جو شرک کرتا ہے۔ اس لئے کہ وہ مشرک ہے۔ اور گنہگار کو گناہ ہونے کے باوجود بخش دے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ملے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراتا ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور اس کی غلطیاں اس کو نقصان نہ دیں گی۔ (احمد ص : 362‘ جلد 2)
محبوب ترین آیت :
لِمَنْ یَّشَآئُ (جس کے لئے وہ چاہے گا) یہ مشیت کی قید آیت کو اس کے عموم سے نہیں نکالتی۔ جیسا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اَللّٰہُ لَطِیْفٌ، بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ (الشوریٰ : 19) حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ قرآن مجید میں سب سے زیادہ محبوب آیت میرے لئے یہ ہے۔ (اس لئے کہ اس میں مغفرت ِالٰہی کی بہت بڑی امید دلائی گئی ہے) ۔
معتزلہ کا قول اور اس کا جواب :
یہ مَادُوْنَ کی مغفرت کا وعدہ توبہ کے ساتھ معلق ہے۔ مگر یہ باطل بات ہے۔ کیونکہ کفر تو مغفور عنہ توبہ کے ساتھ اس آیت سے ہے۔ قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلہم ما قد سلف۔ الانفال۔ 38۔ پس اس سے کم درجہ کے گناہ تو توبہ سے بخشے جانے کے زیادہ حقدار ہیں۔ حالانکہ یہ آیت زیر تفسیر ان دونوں چیزوں کے مابین فرق کیلئے اتاری گئی ہے۔ اور وہ اسی طرح ہوسکتی ہے جیسا ہم نے کہا۔
وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرٰٓی اِثْمًا عَظِیْمًا (جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا پس اس نے بہت بڑا طوفان باندھا) اس نے ایسا بڑا جھوٹ بنایا ہے جس سے دردناک عذاب کا حقدار بن گیا۔
Ayah 4:49آیت 49 : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے یہود و نصاریٰ میں سے اپنے آپ کو پاک قرار دیا کہ ہم تو انبیاء (علیہم السلام) کے بیٹے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور کہا ہمارے سواء جنت میں کوئی نہ جائے گا۔
اللہ کا تزکیہ معتبر ہے :
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَہُمْ (کیا تم نے ان لوگوں کی حالت پر غور نہیں کیا جو اپنے آپ کو پاک قرار دیتے ہیں) اس میں تمام ایسے لوگ شامل ہیں جو اپنے طور پر پاک باز بنتے ہیں اور اپنے عمل کی پاکیزگی سے اپنے نفس کو موصوف قرار دیتے ہیں۔ اور اطاعت وتقویٰ کے اضافہ سے نفس کو متصف مانتے ہیں۔ بَلِ اللہُ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآئُ (بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں پاک کرتے ہیں) اس میں یہ بات بتلائی کہ اللہ تعالیٰ کا تزکیہ ہی قابل اعتبار ہے۔ کسی دوسرے کا تزکیہ معتبر نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی اہل تزکیہ کو جاننے والے ہیں۔ اسی طرح کی دوسری آیت سورة النجم 32 فَلاَ تُزَکُّوْٓ ا اَنْفُسَکُمْ 1 ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی کہ اپنے کو پاک مت قرار دو ۔ وہ متقین کو خوب جانتا ہے۔ وَلَا یُظْلَمُوْنَ (ان پر ظلم نہ کیا جائے گا) یعنی جو لوگ اپنے آپ کو پندار میں پاک قرار دیتے ہیں۔ ان کو ان کے پاک قرار دینے پر پوری سزا دی جائے گی یا جن کو وہ چاہے گا ان کی پاکیزگی پر ثواب دیا جائے گا اور ان کے ثواب میں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی۔ فَتِیْلًا (بٹے ہوئے دھاگے کی مقدار) الفتیل ہاتھوں سے میل کی مروڑی بنانا۔
Ayah 4:50آیت 50 : اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ (غور کرو۔ یہ کس طرح اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں) اپنے خیال کے مطابق وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاکیزہ ہیں۔ وَکَفٰی بِہٖٓ اِثْمًا مُّبِیْنًا (اس افتراء کا کھلا گناہ ہونا ظاہر ہے) یعنی ان کے تمام گناہوں میں یہ تزکیہ والا زعم گناہ ہونے کے اعتبار سے کافی ہے (کسی دلیل کا محتاج نہیں) ۔
Ayah 4:51آیت 51: اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ (کیا تم نے غور کیا ان لوگوں کی حالت پر جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا) یعنی یہود یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ (وہ بتوں پر ایمان لاتے ہیں) الجبتہر وہ چیز جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے۔ وَالطَّاغُوْتِ (اور شیطان) وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآءِ ءِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا سَبِیْلًا (اور وہ کافروں کو کہتے ہیں کہ یہ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں) اس کا واقعہ اس طرح ہے حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف دونوں یہودی سردار ایک یہودی جماعت کے ہمراہ مکہ گئے۔ تاکہ قریش سے رسول اللہ ﷺ کے خلاف لڑنے کا معاہدہ کریں۔ انہوں نے کہا۔ تم اہل کتاب ہو۔ اور محمد ﷺ کے تم زیادہ قریب ہو اور وہ ہماری نسبت تم سے قریب تر ہیں۔ ہمیں تمہارے اس فریب پر اعتبار نہیں۔ بس ایک صورت ہے کہ تم ہمارے معبودوں کو سجدہ کرو تو ہم تم پر اعتبار کرلیں گے۔ انہوں نے بتوں کو سجدہ کیا۔ پس جبت و طاغوت پر ایمان لانا اسی بات کو قرار دیا گیا کیونکہ اصنام کو سجدہ ریزی اس کا عملی مظاہرہ تھا۔ انہوں نے ابلیس ملعون کی اتباع کی۔ پھر ابوسفیان نے کہا تم بتلائو کیا ہم زیادہ ہدایت یافتہ ہیں یا محمد ﷺ تو کعب کہنے لگا۔ تم زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔
Ayah 4:52آیت 52 : اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ (یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے) کہ ان کو اپنی رحمت سے دور ہٹا دیا ہے۔ وَمَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ نَصِیْرًا (جس پر اللہ تعالیٰ لعنت فرمائیں تم ہرگز اس کے لئے کوئی مددگار نہ پائو گے) کہ جو اپنی مدد سے اس کی نصرت کرے۔
Ayah 4:53آیت 53 : پھر یہود کی بخل و حسد سے ان کی تعریف کی حالانکہ یہ دونوں بدترین خصلتیں ہیں۔ وہ اپنے مال کو تو روک کر رکھتے ہیں مگر تمنا اس چیز کے ملنے کی کرتے ہیں جو دوسروں کو ملی۔ چناچہ فرمایا۔ اَمْ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْکِ -
نحو : ام۔ منقطعہ ہے۔ اور ہمزہ استفہام انکاری کے معنی میں ہے۔ ہاں ان کے پاس کوئی سلطنت کا حصہ نہیں ہے۔
یہود کی شدت بخل :
فَاِذًا لاَّ یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًا (ایسی حالت میں تو یہ لوگوں کو ذرا سی چیز بھی نہ دیتے) یعنی اگر حکومت کا کچھ حصہ ہوتا۔ اہل دنیا کی حکومت یا اللہ تعالیٰ کی مملکت تو پھر بھی یہ شدت بخل کی وجہ سے لوگوں کو ایک معمولی چیز بھی نہ دیتے۔
النقیر : وہ گڑھا جو گٹھلی کی پچھلی جانب پایا جاتا ہے۔ یہ فتیل کی طرح قلت کی مثال بیان کی۔
Ayah 4:54آیت 54 : اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ ٰاتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (بلکہ یہ لوگوں پر حسد کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھی ہے) یعنی رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے حسد کرتے ہیں۔ باوجودیکہ حسد قبیح چیز ہے۔ اور حسد کی وجہ وہ نصرت و غلبہ اور عزت میں اضافہ اور ہر روز کی ترقی تھی (جو ان کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی) فَقَدْ ٰاتَیْنَآ ٰالَ اِبْرَاہِیْمَ الْکِتٰبَ (تحقیق ہم نے آل ابراہیم کو کتاب یعنی تورات دی) وَالْحِکْمَۃَ (اور نصیحت) یعنی دین کی گہری سمجھ بوجھ۔
یہود کو الزامی جواب :
وَ ٰاتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا (اور ہم نے ان کو بہت بڑی بادشاہت دی) یعنی بادشاہت یوسف و دائود و سلیمان ( علیہ السلام) یہ یہود کو الزامی جواب دیا خود اسی بات سے جس کو وہ جانتے بوجھتے تھے۔ کہ اسلاف محمد ﷺ یعنی آل ابراہیم ( علیہ السلام) کو کتاب ٗ حکمت اور مملکت دی جا چکی۔ اس لئے اگر آج آل ابراہیم کے جلیل القدر فرزند کو نبوت و حکومت اسلاف کے مشابہ دے دی جائے تو اس میں کیا استبعاد ہے۔
Ayah 4:55آیت 55 : فَمِنْہُمْ مَّنْ ٰامَنَ بِہٖ (پس ان میں سے کچھ تو ایمان لائے) اس پر یعنی یہود میں کچھ لوگوں نے آل ابراہیم والی بات پر یقین کرلیا۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْہُ (اور کچھ نے اس سے منہ پھیرلیا) باوجودیکہ وہ اس کے صحیح ہونے کا یقین رکھتے تھے۔
دوسری تفسیر :
ان یہود میں سے کچھ تو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور بعض نے اس نبوت کو اوپر اقرار دے کر انکار کی ٹھان لی۔
وَکَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیْرًا (جہنم کی بھڑکتی آگ ان کے لئے کافی ہے) جو ایمان لانے سے باز رہے۔
Ayah 4:56آیت 56 :
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ (بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ہماری آیات کے ساتھ عنقریب ہم انکو داخل کرینگے) ۔
نَارًا کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا۔ (آگ میں۔ ہر دفعہ جب ان کی کھال جل جائے گی۔ تو ہم پہلی کھال کی جگہ دوسری کھال بنادیں گے) نَضجت کا معنی جلنا۔ بَدّلناجلودًا غیرہا کا معنی ان کھالوں کو ان جلی کھالوں سے بدلنا ہے۔ پس تبدیلی اور تغیر دونوں ہئیتوں کے مختلف ہونے کے ساتھ ہوگی، نہ کہ اصل کی تبدیلی کے ساتھ۔ اہل حق کا یہی مسلک ہے۔ فرقہ کر امیہ کا اس میں اختلاف ہے۔ فضیل (رح) کہتے ہیں جلی کو ان جلی بنادیا جائے گا۔ لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ (تاکہ وہ عذاب کو چکھیں) اور عذاب کا ذائقہ ہمیشہ رہے۔ اور منقطع نہ ہو۔ جیسے کسی عزیز کو تم کہتے ہو۔ اعزک اللّٰہ یعنی اللہ تمہیں عزت میں دوام میسر فرمائیں۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیْزًا (بیشک اللہ تعالیٰ زبردست ہیں) انتقام لے سکتے ہیں۔ کوئی چیز اس کے ارادے کو مجرمین پر نافذ کرنے سے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ حَکِیْمًا (وہ حکمت والے ہیں) اس کام میں جو کافروں کے ساتھ وہ کریں۔
Ayah 4:57آیت 57 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْ خِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَداً لَہُمْ فِیْہَآ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ (اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ہم ان کو جنتوں میں ضرور داخل کریں گے۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی۔ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لئے وہاں ستھری بیویاں ہونگی) مطہرۃ کا مطلب نجاسات ٗ حیض و نفاس سے پاک ہونا۔
خوبصورت سایہ میں داخلہ :
وَّ نُدْخِلُہُمْ ظِلاًّ ظَلِیْلًا (اور ہم ان کو وسیع سایہ میں داخل کرینگے) ظلیلیہ صفت کا صیغہ ہے جو ظل سے لیا گیا۔ اور اس کے معنی کی تاکید کے لئے لایا گیا۔ جیسا کہتے ہیں۔ لیل الیل۔ طویل رات۔ ظلیل وہ سایہ جو دراز خوبصورت ہو۔ نہ اس میں سوراخ ہو۔ اور ہمیشہ کا سایہ ہو کہ جس کو سورج نہ مٹا سکے اور ایسا سہانا کہ نہ اس میں گرمی ہو نہ ٹھنڈک۔ اور یہ صفات جنت کے سایہ کے علاوہ کسی میں نہیں۔
Ayah 4:58تمام فرائض امانتیں :
آیت 58 : پھر حکام کو مخاطب کر کے ادائیگی امانات کا حکم دیا۔ اور عدل کا حکم دیا اپنے اس ارشاد سے : اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانٰتِ اِلٰٓی اَہْلِہَا (اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم امانتیں امانت والوں کو ادا کردو) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس حکم میں ان فرائض کی ادائیگی بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ جن کو انسان نے اٹھایا ہے۔ اور حواس کی حفاظت بھی انہیں میں شامل ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں۔ وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ (اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو) حکمتم کا معنی فیصلہ کرنا۔ العدل کا معنی برابری کرنا اور انصاف کرنا ہے۔
عثمان ؓ تو حدیبیہ کے بعد اسلام لا چکے تھے :
دوسرا قول یہ ہے۔ کہ عثمان بن طلحہ بن عبدالدار بیت اللہ کا چابی بردار تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کعبہ کی چابی لی۔ جب آیت نازل ہوئی تو علی ؓ کو حکم دیا۔ کہ یہ چابی اس کو واپس کردو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے متعلق قرآن اتارا ہے۔ یہ آیت عثمان کو پڑھ کر سنائی وہ سنتے ہی مسلمان ہوگیا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دی کہ چابی برداری عثمان کی اولاد میں ہمیشہ رہے گی۔ (حاشیہ کشاف)
اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ (اللہ تعالیٰ تمہیں بہت اچھی چیز کی نصیحت کرتے ہیں)
نحو و قراءت :
ما نکرہ منصوبہ موصوفہ ہے یعظُکُمْ ، سے تقدیر عبارت یہ ہے۔ نعم شیئًا یعظکم بہٖ ۔
نمبر 2۔ ما موصولہ مرفوعۃ المحل۔ مابعد اس کا صلہ۔ تقدیر عبارت یہ ہے نعم الشیٔ الذی یعظکم بہٖ مخصوص بالمدح محذوف ہے۔ یعنی نعما یعظکم بہ ذاک۔ ذاک کا مشار الیہ ادائیگی امانات اور عدل فی الحکم ہے۔
قراءت : نِعْمَ مدنی اور ابوعمر ونے پڑھا۔ نَعِم شامی اور حمزہ وعلی نے پڑھا۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًا (بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والے) بَصِیْرًا ( تمہارے اعمال کو دیکھنے والے ہیں) ۔
Ayah 4:59آیت ربط :
آیت 59 : جب حکام کو ادائیگی امانات اور انصاف سے فیصلے کرنے کا حکم دیا تو لوگوں کو حکم فرمایا کہ وہ ان کی اطاعت کریں۔ فرمایا : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ (اے ایمان والو ! تم اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بات مانو۔ پس اگر تم کسی چیز میں تنازع کرو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ) اولی الامر سے مراد حکام یا علماء ہیں کیونکہ ان کا حکم حکام پر چلتا ہے۔ اگر تم اور حکام کسی دینی امر میں مختلف ہوجائو تو اس میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرو۔
اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلاً (اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے سب سے اچھی اور تاویل کے اعتبار سے سب سے بہتر ہے) ایمان اطاعت کو لازم کرتا ہے نہ کہ نافرمانی کو۔ یہ آیت بتلا رہی ہے کہ امراء کی اطاعت لازم ہے جبکہ وہ حق کی موافقت کریں۔ جب وہ حق کی مخالفت کریں تو پھر ان کی اطاعت نہیں۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ( لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق) (احمد 409‘ جلد 1)
دلچسپ حکایت : مسلمہ بن عبدالملک نے ابو حازم کو مخاطب کر کے کہا کیا تمہیں ہماری اطاعت کا حکم نہیں دیا گیا۔ جو اللہ کے اس ارشاد میں ہے و اولی الامرمنکم۔
ابو حازم : کیا جب تم حق کی مخالفت کرو تو تمہاری اطاعت ختم نہیں ہوجاتی۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے : فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ یعنی قرآن اور رسول آپ کی زندگی میں اور وفات کے بعد آپ کی احادیث کی طرف۔
ذٰلِکَ اس کا مشارڑالیہ الرَّدّ ہے۔ کتاب و سنت کی طرف لوٹانا۔ خیرٌ۔ بہت بہتر ہے۔ جلد ملنے والا ہے۔ وَاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا اور بہت بہتر ہے تاویل کے لحاظ سے۔ یعنی انجام کے لحاظ سے۔
Ayah 4:60بشر منافق اور یہودی کا قصہ :
آیت 60 : بشر منافق اور یہودی کے درمیان جھگڑا تھا۔ یہودی نے اس کو کہا کہ آئو نبی اکرم ﷺ سے فیصلہ کروا لیں۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آپ رشوت نہیں لیتے۔ منافق نے کہا چلو کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں۔ اس کا مقصد تھا کہ اس کو رشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لے۔ پھر دونوں فیصلہ لے کر حضرت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ آپ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ مگر منافق راضی نہ ہوا۔ اور کہنے لگا آئو۔ ہم عمر کے پاس فیصلہ لے جاتے ہیں۔ یہودی نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ مگر یہ راضی نہیں ہوا۔ اس پر عمر ؓ نے منافق کو کہا۔ کیا بات اسی طرح ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ تو حضرت عمر ؓ نے کہا تم دونوں یہاں ٹھہرو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس نکل کر آئوں۔ حضرت عمر ؓ اپنی تلوار لے کر نکلے۔ اور منافق کی گردن مار دی۔ اور کہا میرا فیصلہ اس کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوتا یہی ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ (کیا تم نے ان لوگوں کی حالت کو دیکھا جن کا گمان یہ ہے) جبرئیل نے کہا عمر نے حق و باطل میں تفریق کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تو فاروق ہے۔ (اسباب النزول للواحدی)
اَنَّہُمْ ٰامَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلَی الطَّاغُوْتِ (کہ وہ ایمان رکھتے ہیں اس پر جو اتاری گئی آپ کی طرف اور وہ جو اتاری گئی آپ سے پہلے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ شیطان کی طرف اپنا فیصلہ لے جائیں) ۔
نحو : یریدون۔ یزعمون کی ضمیر سے حال ہے۔
طاغوت سے مراد کون ہے ؟
نمبر 1۔ طاغوت سے مراد کعب بن اشرف یہودی ہے اس کو طاغوت اس لئے کہا کیونکہ وہ سرکشی میں حد سے بڑھنے والا تھا۔ اور عداوت رسول میں انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔
نمبر 2۔ اس کو شیطان سے تشبیہ دی۔ نمبر 3۔ غیر اللہ کی طرف فیصلہ لے جانے کو تحاکم الی الطاغوت قرار دیا اور اس کی دلیل آیت کا اگلا حصہ ہے۔ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَیُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّہُمْ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا (حالانکہ ان کو شیطان کی نافرمانی کا حکم دیا۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو دور کی گمراہی میں مبتلا کردے) ۔
ضلال بعید کیا ہے :
یضل سے مراد حق سے ہٹانا۔ ضلال بعید سے مراد موت تک قائم رہنے والی گمراہی ہے۔
Ayah 4:61آیت 61 :
وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ (جب منافقین کو کہا جاتا ہے) تَعَالَوْ اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ (آئو فیصلہ کرانے کے لئے اس حکم کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے اتارا اور رسول کی طرف) رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا (تم دیکھو گے کہ منافقین تم سے رکتے ہیں رکنا) یعنی وہ آپ سے اعراض کر کے دوسرے کی طرف جاتے ہیں۔ تاکہ اس کو رشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لیں۔
Ayah 4:62آیت 62 : فَکَیْفَ (پس ان کا کیا حال ہوگا) اور یہ کیا کچھ کر رہے ہیں۔ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ (جب ان کو کوئی مصیبت پہنچ جاتی ہے) یعنی عمر ؓ کے ہاتھ سے بشر کا قتل۔ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ (جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا) یعنی تمہارے سواء اور کسی کے پاس فیصلہ لے گئے اور فیصلے میں آپ پر بےانصافی کی تہمت لگائی۔ ثُمَّ جَآئُ وْکَ (پھر آپ کے پاس مقتول کے منافقین ساتھی آئے) یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّآ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا (اس حال میں کہ وہ اللہ کی قسمیں اٹھا رہے ہیں کہ ہم نے تو آپ کے علاوہ دوسرے کے ہاں فیصلہ لے جا کر بھلائی اور متخاصمین کے درمیان موافقت کا ارادہ کیا) برائی اور آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔ اور نہ ہی آپ کے فیصلہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔
نحو : کیف میں استفہام تعجبی ہے۔ یحلفون باللّٰہ حال ہے۔
منافقین کو وعید :
در حقیقت یہ ان کے فعل پر وعید ہے۔ کہ وہ عنقریب شرمندہ ہونگے۔ جبکہ ان کو شرمندگی کچھ کام نہ آئے گی۔ اور نہ معذرت فائدہ دے گی۔
ایک قول یہ ہے کہ منافق کے رشتہ دار اس کے خون کا مطالبہ لے کر آئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خون کو رائیگاں قرار دیا۔ اور کہنے لگے ہم تو عمر کے پاس فیصلہ لے کر اس لئے گئے تھے۔ کہ وہ عادلانہ فیصلہ سے ہمارے ساتھی پر احسان کریں اور اس کے اور اس کے مخالف کے درمیان موافقت کروا دیں۔ ہمارے دل میں یہ خیال تک بھی نہ تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کر ڈالیں گے جو انہوں نے کردیا۔
Ayah 4:63آیت 63 : اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰہُ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ (یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو ان کے دلوں میں ہے) یعنی منافقت۔ فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ (آپ ان سے اعراض فرمائیں) ۔ وَعِظْہُمْ وَقُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلًام بَلِیْغًا (اور ان کو نصیحت کریں اور ان کو ان کے متعلق موثر بات کہیں)
اعرض کا مفہوم :
اَعْرِضْکا مطلب۔ نمبر 1۔ ان کا عذر قبول کرنے سے اعراض کریں۔ اور ڈانٹ ڈپٹ اور انکار کے ساتھ ان کو نصیحت کریں۔ اور ان کو نصیحت کرنے میں تخویف وانذار میں خوب مبالغہ کریں۔ یا نمبر 2۔ انجام سے اعراض کریں اور عتاب سے نصیحت کریں اور ان کی اس حرکت کے متعلق آپ کے دل میں جو آخری نصیحت ہے وہ ان کو کریں۔ اور بلاغت کا قاعدہ ہے کہ اپنی زبان سے اس حقیقت کو پہنچے جو ان کے دل و جنان میں ہے۔
نحو : فی انفسہم یہ قل لہم سے متعلق ہے۔ ای قل لہم فی انفسہم الخبیثۃ وقلوبہم المطویۃ علی النفاق۔ ان کے خبیث نفوس اور نفاق پر لپٹے ہوئے دل کے اندر اترنے والی بات کہیں۔ قولاً بلیغًاپوری بات جو ان تک پہنچ جائے اور ان میں اثر انداز ہو۔