Ayah 4:92کافر کا خون مباح ‘ مومن کا حرام :
آیت 92: وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ (کسی مسلمان کو زیبا اور مناسب نہیں) یعنی اس کے لئے صحیح و درست نہیں اور نہ اس کے حال کے لائق ہے۔ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا (کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے) یعنی ابتدائی طور پر بلا کسی قصاص کے۔ اس میں بتلا دیا کہ مومن اور کافر برابر نہیں۔ کافر کا خون تو مباح ہے۔ نہ کہ مومن کا۔ اِلاَّ خَطَأً (مگر غلطی سے) یعنی غلطی کی وجہ سے۔
نحو : یہ استثناء منقطع ہے۔ اور لکن کے معنی میں ہے عبارت اس طرح ہوگی۔ لکن ان وقع خطأً ۔ لیکن اگر غلطی سے مار ڈالے۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ مصدر کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی الا قتلاً خطأً ، مگر وہ قتل جو غلط طور پر ہو۔ مطلب یہ ہوا مومن کی شان یہ ہے کہ قتل مومن کا پایا جانا اس سے منتفی ہو ابتداء ً ۔ مگر جب اس سے بلا قصد غلطی سے پایا جائے۔ اس طرح کہ وہ کافر کو تیر مارے اور مسلمان کو لگ جائے۔ یا کسی کو کافر سمجھ کر مارا اور وہ مسلمان تھا۔
وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ (جس نے کسی مومن کو خطاء ًقتل کردیا پس ایک مومنہ گردن آزاد کرنا ہے) ۔
نحو : خطأًیہ قتلاً مصدر محذوف کی صفت ہے۔ ای قتلاً خطأً ۔ تحریر رقبۃ مبتداء ہے اور خبر محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ فعلیہ تحریر رقبۃ۔ پس اس کے ذمہ ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے۔
حکمت تحریر :
التحریر۔ آزاد کرنا۔ آزاد اور آزاد کیا ہوا شریف شمار ہوتے ہیں۔ کیونکہ شرافت آزاد لوگوں میں ہے۔ جیسا کہ کمینگی غلاموں میں ہے۔ اسی سے عتاق الطیر اور عتاق الخیل عمدہ پرندوں اور گھوڑوں کے لئے بولا جاتا ہے۔
آزادی میں زندگی :
الرقبہ : گردن سے مراد جان ہے۔ اہل عرب اس کی تعبیر رأس سے کرتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں : فلانا یملک کذا راسًا من الرقیق۔ فلاں اتنے غلاموں کا مالک ہے۔ کہا جاتا ہے۔ کہ جب اس نے ایک مومن جان کو ٗ من جملہ زندوں سے نکال دیا تو ضروری ہوگیا کہ وہ ایک مومن جان اسی طرح کی آزاد لوگوں میں شامل کرے۔ کیونکہ غلام کو آزادی سے رہا کرنا اس کو زندہ کرنے کی طرح ہے۔ کیونکہ غلام کا شمار تو مردوں میں ہوتا ہے۔
کیونکہ غلامی کفر کا اثر ہے اور کفر موت ہے۔ جیسا قرآن مجید میں : او من کان میتاً فاحیینٰـہُ ۔ الانعام۔ 122۔ اسی لئے اس کو منع کیا گیا کہ وہ آزاد لوگوں جیسا تصرف کرے۔ مگر یہ اشکال والی بات ہے۔ اس لئے کہ اگر بات اسی طرح ہوتی تو قتل عمد میں بھی گردن کی آزادی لازم ہوتی۔ لیکن یہ بات بطور احتمال کہہ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر مومنہ گردن کی آزادی لازم کی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قاتل کی مومن جان کو باقی رکھا۔ وہ اس طرح کہ قصاص لازم نہ کیا۔ اسکی بجائے اس کی مثل رقبہ مومنہ لازم کردی۔
دیت ترکہ کی طرح ہے :
وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَہْلِہٖ (اور دیت جو سپرد کی جائے۔ میت کے ورثاء کو) اور وہ اس کو باہمی تقسیم کرلیں۔ جیسا کہ میراث کو وہ تقسیم کرتے ہیں۔ اس میں اور بقیہ ترکہ کی تقسیم میں کوئی فرق نہیں۔ اس میں سے قرضہ ادا کیا جائے گا۔ اور وصیت بھی نافذ ہوگی۔ اور اگر کوئی وارث نہ رہے گا تو وہ بیت المال کا حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اشیم الضبابی ؓ کی بیوی کو اس کے خاوند اشیم کی دیت سے حصہ دیا۔ دیت کی ادائیگی البتہ عاقلہ پر ہوگی۔ اور کفارہ قاتل پر۔ اِلَّآ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا (مگر یہ کہ وہ دیت معاف کردیں) یصدقوا اصل میں یتصدقوا ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ اس پر ہرحال میں دیت ہے۔ مگر معاف کردینے کی صورت اس سے مستثنیٰ ہے۔ فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّلَّکُمْ (اگر وہ اس قوم میں سے ہے جو تمہارے دشمن ہیں) یعنی مقتول خطاء تمہارے دشمنوں میں سے ہے۔ العدو کا لفظ مفردوجمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ وَہُوَ مُؤْمِنٌ اور وہ مقتول مومن ہے۔
دارالحرب میں مقتول مسلمان کا حکم :
فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ (تو ایک مومنہ گردن کا آزاد کرنا ہے) اگر کوئی حربی دارالحرب میں مسلمان ہوا۔ اور ہجرت کر کے دارالاسلام میں نہیں آیا۔ کسی مسلمان کے ہاتھوں وہ خطاء ً قتل ہوگیا۔ تو اسلام کی وجہ سے بطور کفارہ لونڈی آزاد کرنی ضروری ہے۔ دیت لازم نہیں۔ کیونکہ خون کی معصومیت تو دارالاسلام پر موقوف ہے۔ اور یہ دارالاسلام نہ تھا۔ وَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ (اگر وہ مقتول ایسی قوم میں سے ہے کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے) فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَہْلِہٖ وَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ (تو دیت سپرد کی جائے اس کے اہل کو اور ایک مومنہ گردن کا آزاد کرنا لازم ہے) یعنی اگر مقتول ذمی ہو تو اس کا حکم مسلمان والا ہے۔
فائدہ : اس آیت میں دلیل ہے کہ ذمی کی دیت مسلم کی طرح ہے۔ ہم احناف کا قول یہی ہے۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ (جو نہ پائے گردن) یعنی اس کا مالک نہ ہو۔ اور نہ اس تک اس کی وسعت ہے۔ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ (تو اس پر دو ماہ کے روزے ہیں) مُتَتَابِعَیْنِ تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ (جو مسلسل رکھے جائیں یہ توبہ کے طور پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ہے) ۔
نحو : مضاف محذوف ہے اور شہرین سے حال ہے۔ یعنی روزے رکھنا ایسی حالت میں ہے کہ قبول توبہ ہو اس کی طرف سے اور رحمت اس کی طرف سے۔ یہ تاب اللہ علیہ سے ماخوذ ہے جس کا معنیاذا اقبل توبتہٗ یعنی یہ توبہ کے لئے مشروع ہوا۔ اس صورت میں یہ مفعول لہٗ ہے یا فلیتب توبۃ اس کو توبہ کرنی چاہیے۔ اس کا نصب مصدریت کی وجہ سے ہے اور مفعول مطلق بن گیا۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ جاننے والے ہیں اس کو جو اس نے حکم دیا۔ اور اس میں حکمت والے ہیں) جس میں اس نے قدرت کو ظاہر فرمایا۔
Ayah 4:93آیت 93 : وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا (جس شخص نے قتل کیا کسی مسلمان کو قصداً ) متعمدًا۔ یہ قاتل کی ضمیر سے حال ہے مطلب یہ ہوگا وہ مومن کو مومن ہونے کی وجہ سے قتل کرے یا اس کے قتل کو حلال سمجھتے ہوئے قتل کر دے۔ یہ دونوں کفر ہیں۔
خلود سے طول قیام مراد :
فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا (پس اس کی سزا جہنم ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کے قول کے مطابق اگر وہ اس کو سزادے تو اس کی سزا ہمیشہ کی جہنم ہے بعض اوقات خلود سے طول قیام مراد لیا جاتا ہے۔ اور معتزلہ کا یہ کہنا کہ وہ ایمان سے نکل جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ہے : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی (البقرہ : 178) وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ (اور اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے دور کردیں گے) یعنی اس سے بدلہ لیں گے اور رحمت سے اس کو دور کردیں گے۔ وَاَعَدَّلَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کیا ہے) کیونکہ اس نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ اور بڑی مصیبت کا حدیث میں فرمایا گیا۔ دنیا کا زوال اللہ تعالیٰ پر آسان ہے مومن کے قتل سے۔ (ترمذی۔ 1395)
Ayah 4:94معاملہ کی تحقیق کرو :
آیت 94 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا 1ِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اے ایمان والو جب تم سفر کرو اللہ تعالیٰ کی راہ میں یعنی غزوہ میں جائو) فَتَبَیَّنُوْا (تو ہر کام کو تحقیق کر کے کیا کرو) فتثبتوا حمزہ وعلی رحمہما اللہ نے پڑھا۔ یہ دونوں تفعل سے ہیں اور استفعال کے معنی میں ہیں۔ مطلب یہ ہے۔ معاملہ کی مکمل تحقیق کرلو اور جانچ لو اور اس میں عجلت سے کام نہ لو۔ وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (اور جو شخص تمہیں السلام علیکم کہے تو اس کو مت کہو کہ تو مومن نہیں) ۔
قراءت : السَّلٰمَ کو السَّلَمَ مدنی ٗ شامی ٗ حمزہ نے پڑھا ہے۔ اور دونوں کا مطلب فرمانبرداری ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ السلام علیکم کہنا ہے۔ ایک قول ہے۔ اسلام مراد ہے۔
نحو : لَسْتَ مُؤْمِنًا۔ یہ موضع نصب میں ہے۔ لاتقولوا کا مقولہ ہونے کی وجہ سے۔
واقعہ مرداس بن نہیک۔ :
روایت میں ہے کہ مرد اس بن نہیک ؓ اسلام لائے۔ مگر ان کی قوم اسلام نہ لائی۔ رسول اللہ ﷺ کے ایک لشکر نے علاقہ پر حملہ کیا۔ وہ بھاگ گئے۔ مرد اس وہاں رہا کیونکہ اسے اپنے مسلمان ہونے کا یقین تھا۔ جب اس نے گھوڑوں کو دیکھا تو اپنی بکریوں کو پہاڑ کی اوٹ میں کردیا۔ اور خود پہاڑ پر چڑھ گیا۔ جب گھوڑے پہنچے اور انہوں نے تکبیر بلند کی تو اس نے بھی تکبیر بلند کی اور اتر کر آگیا۔ اور لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ‘ اور السلام علیکم کہا مگر اسامہ بن زید ؓ نے اس کو قتل کردیا۔ اور اس کی بکریاں ہنکا کرلے گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ تو رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دی۔ آپ اس پر سخت غمگین ہوئے۔ اور فرمایا کیا تم نے اس کو قتل کردیا اس سامان کی خاطر جو اس کے پاس تھا۔ پھر حضرت اسامہ کو یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو) یعنی تم غنیمت چاہتے ہو۔ حالانکہ وہ جلدی ختم ہونے والا سامان ہے۔ یہی تمہیں ثابت قدمی سے چھوڑنے کی طرف لے جانے والا ہے۔ اور اسی نے تمہیں مقتول کے حالات کی بحث و کرید سے روکا۔ القرض سے مراد مال ہے۔ عرض کہنے کی وجہ اس کا جلد زوال پذیر ہونا ہے۔
نحو : تبتغون، تقولوا کی ضمیر سے حال ہے۔
فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ (پس اللہ تعالیٰ کے ہاں بیشمار غنائم ہیں) جو اللہ تعالیٰ تمہیں عنایت فرمائیں گے۔ جو تمہیں اسلام کا اظہار کرنے والے کے قتل سے بےنیاز کردیں گی۔ اور اس سے تم اس کے مال کی طرف تعرض کرنے سے بچ جائو گے کہ اس پر قبضہ کرو۔
مفہوم :
کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ (تم بھی تو اس سے قبل اسی طرح تھے) جبکہ تم نے شروع شروع میں اسلام قبول کیا۔ اور تمہارے مونہوں سے کلمہ شہادت سنا پس اسی سے تمہارے مال محفوظ ہوگئے۔ بغیر اس انتظار کے کہ تمہاری زبانیں اور دل موافقت کریں۔ کذٰلک کا کاف کان کی خبر ہے۔ اور اس کو کان کے اسم بلکہ کان سے بھی مقدم کیا گیا ہے۔ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ (پس اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا) ایمان پر ثبات اور ایمان پر شہرت دے کر پس ایمان میں داخل ہونے والوں سے اسی طرح کا سلوک کرو۔ جیسا تم سے کیا گیا۔ فَتَبَیَّنُوْا (خوب تحقیق کرلو) تبینوا کو دوبارہ عظمت و تاکید کیلئے لائے۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا (بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی خبر رکھتے ہیں) پس قتل کی طرف فوراً مت گرو بلکہ اس میں پوری احتیاط و بچائو سے کام لو۔
Ayah 4:95آیت 95 : لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ (بلا عذر جہاد سے بیٹھے رہنے والے مسلمان برابر نہیں) قاعدون سے مراد جہاد سے بیٹھ رہنے والے۔
نحو ٗ قراءت : مدنی۔ شامی ٗ علی (رح) نے غَیْرَ پڑھا ہے۔ کیونکہ یہ قاعدون سے استثناء ہے۔ یا حال ہے۔ البتہ حمزہ (رح) نے مؤمنین کی صفت قرار دے کر مجرور پڑھا ہے۔ باقی تمام قراء رحمہم اللہ نے قاعدون کی صفت بنا کر مرفوع پڑھا ہے۔ الضررؔ سے مراد مرض ہے یا معذوری جیسے نابینا ٗ لنگڑا ٗ اپاہج پن وغیرہ۔
قاعد و مجاہد برابر نہیں :
وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ (اور جہاد کرنے والے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال وانفس کے ساتھ) اس کا عطف القاعدون پر ہے۔ بلا عذر بیٹھ رہنے والے اور مجاہد میں برابری کی نفی فرمائی۔ اگرچہ اس کو معلوم ہو۔ اور جہاد سے بیٹھ رہنے والے کو توبیخ کر کے ابھارنا مقصود ہے۔ دوسری آیت میں فرمایا : ہل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون۔ الزمر۔ 9۔ اس آیت میں طلب علم پر آمادہ کیا اور جہل پر رضامندی اختیار کرنے پر متنبہ کیا۔
ایک سوال کا جواب :
فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا درجہ بہت زیادہ بنایا ہے جو اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں بنسبت گھر بیٹھنے والوں کے) اس جملہ کو جملہ اول کے لئے بطور بیان کے لایا گیا۔ اور اس بات کی وضاحت فرمائی کہ قاعدین کا درجہ کیوں مجاہدین کے برابر نہیں۔ گویا اس آیت کو سن کر سوال ابھرتا تھا کہ آخر یہ کیوں برابر نہیں تو جواب دیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والے ہیں جہاد سے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دی ہے۔ دَرَجَۃً یہ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ کسی شے کا مفہوم تفضیل میں ظاہر کرنے کے لئے لایا جاتا ہے۔ گویا تقدیر عبارت یہ ہے : کانہ فضلہم تفضلۃً ۔ اس نے ان کو فضیلت دی ایک درجہ۔ جیسا کہتے ہیں : ضربہ سوطاً ۔ وَکُلاًّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی (اور ہر دو فریق سے اللہ تعالیٰ نے اچھے بدلے کا وعدہ فرمایا)
نحو : کُلاًّ یہ وعداللہ کا پہلا مفعول اور الحسنٰی دوسرا مفعول ہے۔
کُلاً سے مراد مجاہدین و قاعدین کے دونوں فریق ہیں۔ الحسنٰی سے مراد جنت ہے۔ اگرچہ مجاہدین کو قاعدین سے درجات میں فضیلت میسر ہوگی۔
وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو جہاد سے بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم سے فضیلت دی ہے)
Ayah 4:96آیت 96 : دَرَجٰتٍ مِّنْہُ وَ مَغْفِرَۃً وَّ رَحْمَۃً (درجات اپنی طرف سے اور مغفرت اور رحمت)
نحو : نمبر 1: اجرًا یہ فضل کی وجہ سے منصوب ہے اور درجات و مغفرۃ و رحمۃ یہ اجرًاسے بدل ہیں گویا عبارت یہ ہے ٰ اجرہم اجرًا…
نمبر 2۔ درجات۔ منصوب ہے درجہ کی وجہ سے۔ عبارت اس طرح ہوگی فضلہم تفضیلاتٍ ۔ جیسا کہتے ہیں۔ ضربہ اسواطاً ای ضربات اور اجرًا عظیمًا منصوب ہے درجاتٍ نکرہ کی وجہ سے اور مغفرۃ ورحمۃ، منصوب ہیں فعل مضمر کی وجہ سے۔ گویا عبارت اس طرح ہے : وغفرلہم ورحمہم مغفرۃ ورحمۃً ۔
آیت کا مطلب :
مطلب آیت کا یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بالعذر بیٹھ رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے اور بلا عذر آنحضرت ﷺ کے حکم سے بیٹھ رہنے والے دوسروں کی کفایت کی وجہ سے کئی درجہ فضیلت رکھتے ہیں۔ کیونکہ جہاد فرض کفایہ ہے۔
وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ عذر کو معاف کر کے بخشش کرنے والے اور زیادہ اجر بڑھا کر رحم کرنے والے ہیں)
Ayah 4:97آیت 97 :
یہ آیت ان لوگوں کے متعلق اتری جو اسلام لائے مگر ہجرت نہ کی۔ جبکہ ہجرت فرض تھی۔ اور مشرکین کے ساتھ بدر میں آئے مرتد ہو کر اور قتل کیے گئے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ۔ تَوَفّٰی۔ ماضی کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور مضارع بھی تتوفاہم ایک تا کو حذف کردیا گیا۔ التوفی۔ قبض روح کو کہتے ہیں۔ ملائکہ سے مراد ملک الموت اور اسکے معاون۔ اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰپکَۃُ (بیشک وہ لوگ جن کی ملائکہ روح قبض کرتے ہیں) ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ (اس حال میں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں) یہ تو فاہم کی ضمیر مفعولی سے حال ہے۔ یعنی اس حالت میں کہ وہ اپنے نفسوں پر کفر والا، ترک ہجرت والا ظلم کرنے والے ہیں۔
قَالُوْا (وہ روح قبض کرنے والے فرشتے کہتے ہیں) فِیْمَ کُنْتُمْ (تم اپنے دین کے سلسلہ میں کس چیز پر تھے) اس کا مقصد تو بیخ ہے کہ تم اپنے دین میں کسی چیز پر نہ تھے۔ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ (وہ کہتے ہیں کہ ہم ہجرت سے عاجز تھے) اس لئے کہ مغلوب تھے۔ فِی الْاَرْضِ (سر زمین مکہ میں) انہوں نے ہمیں جبرو اکراہ سے نکالا۔ قَالُوْٓ ا (ملائکہ ان کو بطور توبیخ کہتے ہیں) اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَا جِرُوْا فِیْہَا (کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے) اس سے مراد یہ ہے کہ تمہیں مکہ سے کسی بھی علاقے کی طرف ہجرت کی قدرت حاصل تھی۔ جہاں تمہیں اپنے دین کے ظاہر کرنے میں رکاوٹ نہ تھی اور رسول اللہ ﷺ کی طرف بھی ہجرت کرسکتے تھے۔ فتہاجروا یہ جواب استفہام کی وجہ سے منصوب ہے۔ فَاُولٰٓپکَ مَاْوٰٹہُمْ جَہَنَّمُ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا (سو ان لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ جانے کیلئے بری جگہ ہے) یہ اِنَّ کی خبر ہے۔ اولئک پر فا اس لئے لائے کیونکہ الذین میں ابہام ہے جو شرط کے مشابہ ہے۔ یا قالوا فیم کنتم اور ضمیر عائد محذوف ہے یعنی قالوا لہم۔
فائدہ : اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص کسی جگہ اپنے دین کو قائم نہ رکھ سکتا ہو جیسا قائم رکھنا چاہیے اور دوسری جگہ قائم رکھنے کا امکان ہو تو اس پر ہجرت ضروری ہے۔ حدیث میں وارد ہے۔ جو اپنے دین کو لے کر ایک زمین سے دوسری زمین میں گیا خواہ وہ ایک بالشت دور ہو تو جنت اس کیلئے لازم ہوگئی اور وہ اپنے باپ ابراہیم اور نبی محمد ﷺ کا رفیق ہوگا۔ (ثعلبی نے مرسلاً روایت کی ہے)
Ayah 4:98آیت 98 :
اِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ (مگر جو مرد اور عورتیں اور بچے مغلوب کردیئے گئے) ۔ اس میں مغلوب لوگوں کو اہل وعید سے مستثنیٰ کیا گیا۔ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّلَا یَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا (نہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں اور نہ راستہ سے واقف ہیں)
یعنی محتاجی اور عاجزی کی وجہ سے نکلنے کی تدبیر نہیں رکھتے اور نہ ان کو راستوں کی پہچان ہے۔
نحو : لایستطیعون یہ مستضعفین کی صفت ہے۔ یا الرجال و النساء والولدان کی صفت ہے اور یہ بات درست ہے۔ جملہ حکماً نکرہ ہے۔ موصوف میں حرف تعریف کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کی نظیر یہ ہے۔ ولقد امرّ علی اللئیم یسبنی۔ شعر میں یسبنی جملہ اللَّئیم کی صفت ہے۔
Ayah 4:99آیت 99 : فَاُولٰٓپکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْہُمْ (پس ان کے لئے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرے گا) یہاں عسٰی کا لفظ اگرچہ امید و طمع کے لئے آتا ہے۔ مگر شاہی محاورہ میں وجوب کے لئے ہے۔ کیونکہ سخی کا طمع دلانا وعدہ پورا کرنا ہے۔
وَکَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا (اور اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے) اپنے بندوں کی تخلیق سے قبل ہی عفو و غفور ہے۔
Ayah 4:100آیت 100 : وَمَنْ یُّہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا (جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے گا۔ اس کو زمین میں منتقل ہونے کے مقام مل جائیں گے)
معنی الرغم :
مراغمًا ہجرت کے مقامات اور راستے جن پر چل کر وہ اپنی قوم کی ناک خاک آلود کرنے والا ہوگا۔ یعنی وہ ان سے ان کی ناک خاک آلود کر کے جدا ہو۔ الرغمذلت و رسوائی کو کہتے ہیں۔ اصل میں ناک کا خاک آلود کرنا ہے۔ رُغاممٹی کو کہتے ہیں۔ محاورہ ہے راغمت الرجل۔ جب وہ اس سے جدا ہو اور وہ اپنی ذلت و رسوائی کی وجہ سے جدائی کو پسند نہ کرتا ہو۔ کَثِیْرًا وَّسَعَۃً (بہت اور رزق میں وسعت) یا دین کو ظاہر کرنے کی وسعت یا سینے کی وسعت کیونکہ اس کا خوف امن میں بدل گیا۔ وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْم بَیْتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (جو آدمی اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف مہاجربن کر نکلا) یعنی جس طرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے نکلنے کا حکم دیا۔ مہاجرًا یہ یخرج کی ضمیر سے حال ہے۔
ہجرت الی اللہ :
ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ (پھر اس کو ہجرت گاہ میں پہنچنے سے قبل موت آگئی) اس کا یخرج پر عطف ہے۔ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ (اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر واقع ہوا) یعنی وعدئہ الٰہی کے مطابق اس کو اجر ملے گا۔ عَلَی اللّٰہ ِفرمانا صرف تاکید وعدہ کے لئے ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں۔ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والے مہربان ہیں) ۔
مسئلہ : علماء نے فرمایا۔ ہر وہ ہجرت جو طلب علم ٗ حج ٗ جہاد ٗ ایک شہر سے دوسرے شہر جانا تاکہ وہاں اطاعت الٰہی میں اضافہ ہو۔ یا قناعت حاصل ہو یا زہد میں ترقی ہو یا پاکیزہ رزق میسر ہو۔ تو یہ تمام اقسام ہجرت الی اللہ ورسولہٖ میں شامل ہیں۔ اگر ان کے راستہ میں موت آگئی تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں مل گیا۔
Ayah 4:101آیت 101 : وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ (جب تم زمین میں سفر کرو) الضرب کا معنی یہاں سفر کرنا ہے۔ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ (تو تم پر کچھ گناہ نہیں) اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ (کہ تم نماز میں قصر کرو) یعنی رکعات نماز میں قصر کہ چار کی دو پڑھو۔
اعتراض : آیت کے ظاہر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قصر سفر میں رخصت ہے۔ اور تکمیل عزیمت ہے۔ جیسا کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا۔ کیونکہ لا جناح تخفیف و رخصت کے مواقع میں مستعمل ہوتا ہے۔ لازم ہونے کے معنی میں نہیں آتا۔
نقصان کے خیال پر اطمینان کے لئے گناہ کی نفی کی :
جواب : قصر عزیمت ہے۔ نہ کہ رخصت۔ حضرت عمر ؓ کے قول کے مطابق اکمال جائز نہیں۔ صلاۃ السفر رکعتان تمام غیر قصر علی لسان نبیکم۔ رہی آیت تو انہیں اتمام سے الفت تھی پس اس بات کا امکان تھا۔ کہ ان کے دلوں میں قصر کی وجہ سے نماز میں نقصان کا خیال گزرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے نفسوں کو قصر کے سلسلہ میں اطمینان دلانے کے لئے گناہ کی نفی کی تاکہ دلوں میں خوشی پیدا ہو۔ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اگر تمہیں خطرہ ہو کہ کافر تمہیں فتنے میں مبتلا کریں گے) یعنی اگر تمہیں خطرہ ہو کہ کفار تمہارے قتل کا قصد کریں گے۔ یا زخمی کرنے کی ٹھانیں گے۔ یا پکڑ لیں گے۔
خارجیوں : کے نزدیک قصر کے جائز ہونے کے لئے خوف شرط ہے۔ جیسا کہ بظاہر نص میں خوف کے موقع پر قصر کا جواز اترا۔
جمہور : کے نزدیک خوف کی شرط نہیں۔ اس کی تاکید حضرت یعلٰی بن امیہ ؓ کی روایت سے ہوتی ہے کہ انہوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا۔ ہم کیوں قصر کرتے ہیں جبکہ اب ہم امن میں ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے بھی تعجب ہوا جس بات سے تمہیں ہوا۔ تو میں نے دربار رسالت مآب ﷺ میں اس کے متعلق سوال کیا۔ تو فرمایا : صدقۃ تصدق اللہ بہا علیکم فاقبلوا صدقتہ۔ (مسلم احمد 1/25)
یہ صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کیا ہے۔ پس اس کو قبول کرو۔
قصر صدقہ ہے :
مسئلہ : اس روایت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سفر کی صورت میں تکمیل جائز نہیں۔ کیونکہ ایسا صدقہ جس میں تملیک کا احتمال بھی نہ ہو وہ محض اسقاط ہے۔ اور اس کے واپس کرنے کا احتمال بھی نہیں۔ اگر صدقہ کرنے والا ایسے لوگوں میں سے ہو جس کی اطاعت لازم نہیں مثلاً متولی قصاص جب وہ معاف کر دے۔ پس جس کی اطاعت لازم ہے اس کی طرف سے کیا جانے والا صدقہ لزوم کا زیادہ حقدار ہے۔
وقت نزول کی کیفیت کا تذکرہ :
آیت کے نزول کے وقت ان کی حالت اسی طرح تھی۔۔ پس حالات کے موافق اتری جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ان اردن تحصنًا۔ النور۔ 33۔ (کیونکہ کچھ لوگ ارادہ تحصن کے باوجود ان سے برے کام کرواتے) اس کی دلیل عبداللہ بن عباس ؓ کی قراءت بھی ہے۔ من الصلاۃ ان یفتنکم ہے یعنی لئلاَّ یفتنکم اس طرح کہ قصر سے مراد حالات میں قصر ہے۔ وہ یہ ہے کہ خوف شدید کے وقت جانور کے اوپر ہی اشارہ کرلے۔ یا رکوع ٗ سجود و قراءت و تسبیح میں تخفیف کرے جیسا کہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اِنَّ الْکٰفِرِیْنَ کَانُوْا لَکُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا (بیشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں) پس ان سے بچو۔
Ayah 4:102آیت 102 : وَ اِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ (اے محمد ﷺ جب آپ ان میں ہوں اور نماز پڑھانے کا ارادہ کریں) ہم سے مراد اصحاب رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اقمت یہاں اردت کے معنی میں ہے۔
صلوٰۃ خوف آپ کی خصوصیت نہیں :
امام ابویوسف (رح) نے اس کو اپنے ظاہر سے متعلق کیا اسی لئے انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہی نماز خوف کو خاص مانا ہے، مگر طرفین رحمہما اللہ کہتے ہیں۔ ائمہ، ہر زمانہ میں آپ ﷺ کے نائب ہیں پس آپ کو خطاب ان تمام کو شامل ہوگا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں : خذ من اموالہم صدقہ تطہرہم۔ التوبہ۔ 103۔ اب زکوٰۃ ہر زمانہ میں ہے اور اس کی دلیل صحابہ ؓ کا عمل ہے۔
فَلْتَقُمْ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ (پس ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہو) ان کی دو جماعتیں بنادیں۔ ایک ان میں سے آپ کے ساتھ کھڑی ہو کر نماز ادا کرے اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی رہے۔
وَلْیَاْخُذُوْٓ ا اَسْلِحَتَہُمْ ۔ (وہ اپنا اسلحہ ضرور ساتھ لے لیں جو کہ دشمن کے سامنے ہیں) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اگر اس سے مراد نمازی ہو تو وہ ایسا اسلحہ جو نماز میں ان کو مشغول کرنے والا نہ ہو لے لیں، مثلاً تلوار، خنجر وغیرہ۔
سجدئہ نماز مراد ہے :
فَاِذَا سَجَدُوْا (پس جب وہ سجدہ کرچکیں) یعنی اپنی رکعت کو سجدہ سے مقید کرچکیں۔ سجود سے ظاہری سجدہ مراد ہے۔ مگر امام مالک (رح) سجدہ سے نماز مراد لیتے ہیں۔
فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِکُمْ : (پس وہ تمہارے پیچھے چلے جائیں) یعنی جب آپ کے ساتھ والی جماعت ایک رکعت ادا کرلیں۔ تو وہ پیچھے لوٹ کر دشمن کے سامنے کھڑے ہوجائیں۔
وَلْتَاْتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ اور دوسری جماعت آئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی وہ آپ کے ساتھ نماز پڑھیں۔ لم یصلوا موضع رفع میں طائفۃ کی صفت ہے۔ فلیصلوا سے مراد وہ دوسرا گروہ ہے جو ابھی دشمن کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ رکعت ثانیہ میں شریک ہوگا۔
وَلْیَاخُذُوْا حِذْرَہُمْ وَ اَسْلِحَتَہُمْ (وہ اپنے بچائو کا سامان اور اسلحہ ساتھ لے لیں) حذر سے مراد بچائو والی چیز زرہ وغیرہ۔ اسلحہ جمع سلاح کی ہے۔ جس سے دشمن کے ساتھ قتال کیا جائے۔ اسلحہ لینا امام شافعی (رح) کے نزدیک شرط ہے۔ اور ہمارے نزدیک مستحب ہے۔ صلوٰۃِ خوف کی کیفیت تو معروف ہے۔
وَدَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ (کافر لوگ تمنا کرتے ہیں کہ کاش تم اپنے اسلحہ اور سامان کی طرف سے غافل ہوجائو) یعنی ان کی تمنا یہ ہے کہ نماز کے دوران دھوکے سے تم پر حملہ آور ہوں۔ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُمْ مَّیْلَۃً وَّاحِدَۃً (پس وہ تم پر ٹوٹ پڑیں یک بارگی) یعنی وہ تم پر یکبارگی حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَکُمْ وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ (اور تم پر گناہ نہیں اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو۔ کہ تم اپنا اسلحہ رکھ دو اور اپنا بچائو لے لیا کرو)
دشمن سے محتاط رہو :
اس آیت میں اسلحہ رکھنے کی رخصت دی جبکہ اسلحہ بوجھل ہو بارش سے تر ہوجانے کی بناء پر یا مرض کی وجہ سے کمزوری ہو۔ اور اس کے باوجود بچاوا لینے سے غفلت نہ اختیار کرو۔ کہیں دشمن اچانک حملہ آور نہ ہوجائے۔ اِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّہِیْنًا (بیشک اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے) اس آیت میں مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرنے کے لئے اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ ان کے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور مسلمانوں کو یہ بتلانے کے لئے کہ بچاوے کا حکم غلبہ کی توقع میں قبول نہیں کرنا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر انجام دینا ہے۔ تاکہ ثواب ملے۔
Ayah 4:103تین طرز تفسیر :
آیت 103 : فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْداً وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ ( جب تم نماز سے فارغ ہوچکو۔ تو اللہ تعالیٰ کو قیام وقعود اور اپنے پہلوئوں پر پڑے یاد کرو) یعنی تمام احوال میں ذکر اللہ کی مداومت کرو۔ یا جب نماز کی ادائیگی کا ارادہ کرو تو کھڑے نماز ادا کرو جبکہ کھڑے ادا کرسکتے ہو۔ اور اگر قیام سے عاجز ہو تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھنے کی سکت نہ ہو تو پہلو پر لیٹ کر۔ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ (جب تم اطمینان کی حالت میں ہوجائو) یعنی خوف زائل ہو کر اطمینان میسر آجائے۔ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (تو نماز کو قائم کرو) یعنی ایک جماعت کے ساتھ اس کو مکمل ادا کرو۔ یا جب تم نماز قائم کرو تو پوری نماز پڑھو قصر نہ کرو۔
یا تیسری تفسیر یہ ہے۔ جب صحت پر اطمینان میسر ہوجائے تو قیام و رکوع و سجود کو مکمل کرو۔ اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا (بیشک نماز ایمان والوں کیلئے وقت کی تعیین کے ساتھ فرض ہے) یعنی اوقات معلومہ کے ساتھ محدود ہے۔
Ayah 4:104آیت 104 : وَلَا تَہِنُوْا (کافروں کے سلسلہ میں کمزوری نہ دکھائو اور سستی نہ کرو) فِی ابْتِغَآئِ الْقَوْمِ (کافروں سے لڑنے کی طلب میں) اور ان کے سامنے رکاوٹ بننے میں۔ پھر اس ارشاد سے مسلمانوں پر حجت قائم کی۔ اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّہُمْ یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ (اگر تم دکھ محسوس کرتے ہو تو وہ بھی زخموں کا دکھ محسوس کرتے ہیں۔ اور تم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہو (ثواب کی) اور وہ اس کی توقع نہیں رکھتے) ۔
تلقین صبر :
مطلب یہ ہے کہ زخموں کی تکلیف یا قتل کا دکھ یہ فقط تمہارے ساتھ خاص نہیں بلکہ وہ تمہارے اور ان کے مابین مشترک ہے۔ ان کو اور تمہیں پہنچتا ہے۔ پھر وہ کافر ہو کر صبر کرتے ہیں۔ تم صبر کیوں نہیں کرتے جیسے وہ کرتے ہیں۔ حالانکہ تمہیں بدرجہ اولیٰ صبر کرنا چاہیے کیونکہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے وہ توقعات ہیں جو انہیں نہیں۔ جیسے تمام ادیان پر اسلام کا غلبہ اور آخرت کا عظیم الشان وعدہ۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا (اللہ تعالیٰ جاننے والے ہیں) یعنی مسلمانوں کے دکھ و آلام کو جاننے والا ہے۔ حَکِیْمًا (ان کے معاملات کی تدبیر میں حکمت والا ہے)
Ayah 4:105طعمہ بن ابیرق اور حضرت قتادہ بن نعمان ؓ کا واقعہ :
آیت 105 : روایت میں ہے کہ بنی ظفر کے ایک شخص طعمہ بن ابیرق نے اپنے پڑوسی قتادہ بن نعمان کی زرہ چرائی۔ وہ زرہ ایک آٹے کی بوری میں تھی۔ بوری میں سوراخ تھا ‘ آٹا بوری کے سوراخ سے گرتا گیا اور نشان پڑتا گیا۔ چور نے یہ بوری زید بن السمین یہودی کے پاس چھپا دی۔ تلاش کرنے پر زرہ طعمہ کے پاس نہ ملی۔ اس نے اس کے متعلق قسم اٹھائی کہ اس نے نہیں لی۔ اور نہ اسے اس کا علم ہے۔ انہوں نے اسے چھوڑا اور آٹے کے نشان پر چلتے چلتے یہودی کے مکان پر پہنچے اور اس کو جا پکڑا۔ یہودی نے کہا۔ یہ تو طعمہ رکھ کر گیا ہے۔ اور اس سلسلے میں بعض یہود نے گواہی دی۔ بنو ظفر نے کہا چلو۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے ہاں لے چلو۔ چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ اس کی طرف سے یہود کو جواب دیں۔ اور کہنے لگے۔ اگر آپ نے نہ کیا تو ہمارا ساتھی ہلاک و رسوا ہوجائے گا اور یہودی بری الذمہ ہوجائے گا۔
آپ ﷺ نے اس کا ارادہ فرما لیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ (بیشک ہم نے آپ کی طرف کتاب کو حق کے ساتھ اتارا ہے) حق کا معنی محق ہے حق کو ثابت کرنے والی۔ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمآ اَرٰکَ اللّٰہُ (تاکہ تم لوگوں کے مابین فیصلہ کرو۔ اسکے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم دیا ہے) ارٰی کا معنی بتلانا ہے جو وحی کے ذریعہ ہو۔ شیخ ابو منصور (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی بما الہمک بالنظر فی اصولہ المنزلۃ۔ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام کیا اس کے نازل شدہ اصولوں کی روشنی میں۔
نحو : اس میں دلالت ہے کہ آپ ﷺ کے لئے اجتہاد جائز تھا۔ وَلَا تَکُنْ لِّلْخَآپنِیْنَ خَصِیْمًا (آپ خائنین کی خاطر مخاصم نہ بنیں) یعنی بنو ظفر کی خاطر یہود سے مخاصمت نہ کریں۔
Ayah 4:106آیت 106 : وَاسْتَغْفِرِ اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں) اس ارادے کا جو آپ نے فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (بیشک اللہ تعالیٰ بخشش فرمانے والے مہربان ہیں)
Ayah 4:107آیت 107 : وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَہُمْ (اور نہ مجادلہ کریں ان لوگوں کی طرف سے جو اپنے نفسوں کی خیانت کرنے والے ہیں) وہ معصیت کر کے اپنے نفسوں کی خیانت کرتے ہیں۔
معصیت خیانت ہے :
مسئلہ : نافرمانوں کی معصیت کو ان کے نفوس کی خیانت فرمایا۔ کیونکہ اس کا نقصان بالآخر نفوس کی طرف لوٹتا ہے۔ اس سے مراد طعمہ ہے۔ اور اسی طرح اس کی قوم میں سے جو اس کے معاون تھے۔ حالانکہ ان کو علم تھا کہ وہ چور ہے۔ یا لفظ جمع سے اس لئے ذکر کیا تاکہ طعمہ اور ہر خائن کو شامل ہوجائے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا (بےشک اللہ تعالیٰ نہیں پسند فرماتے جو کہ بڑا خائن گناہ گار ہو) یہاں خَوَّانًا مبالغہ کا لفظ لایا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ طعمہ خیانت میں بہت بڑھنے والا ہے اور خیانت پر جم جانے والا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ طعمہ راتوں رات مکہ بھاگ کر مرتد ہوگیا۔ اور وہاں ایک دیوار میں نقب زنی کی۔ وہ دیوار اس پر آگری اور وہ ہلاک ہوگیا۔
گناہ سے گناہ ملتا ہے :
مسئلہ : جب آدمی کا قدم کسی گناہ پر لڑ کھڑا جاتا ہے تو اس گناہ کے کئی اور بھائی بھی ہوتے ہیں۔ جو ساتھ آجاتے ہیں۔
مقولہ عمر ؓ۔ آپ نے ایک چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اس کی ماں روتی ہوئی آئی۔ وہ کہہ رہی تھی۔ یہ پہلی بار کی چوری ہے جو اس سے ہوئی اس کو معاف کردیں۔ آپ نے فرمایا۔ تو جھوٹ بول رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو پہلی مرتبہ کی غلطی پر نہیں پکڑتے۔
Ayah 4:108آیت 108 : یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ (وہ لوگوں سے حیاء کرتے ہوئے چھپاتے پھرتے ہیں) ان کے ضرر کے خطرہ سے۔
حیاء کا حقدار سب سے بڑھ کر اللہ عز ّوجل ہے :
وَلَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ سے چھپا نہیں سکتے) اور نہ اس سے شرم کرتے ہیں۔ وَہُوَ مَعَہُمْ (حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہے) ان کے حالات سے مطلع ہے۔ اور اس پر کوئی چھپائی جانے والی چیز مخفی نہیں۔
فائدہ : یہ آیت ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے رب سے حیاء نہیں کرتے اور اس سے نہیں ڈرتے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ اس کے سامنے ہیں۔ ان کے اور اس کے سامنے کوئی آڑ نہیں اور نہ اوٹ ہے اور نہ کوئی چیز اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَالَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ (جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف گفتگو کے متعلق تدبیریں کرتے رات گزارتے ہیں) یبیّتون کا معنی تدبیر کرنا رات کے وقت۔
مالا یَرْضٰی سے مراد طعمہ کی یہ تدبیر کہ زرہ زید یہودی کے گھر پھینک آیا۔ تاکہ چور اور بن جائے اور یہ قسم کھالے کہ اس نے چوری نہیں کی۔
کلام دل کا قصد ہے :
مسئلہ : اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ کلام دراصل وہ مقصد ہے جو دل میں ٹھان لے اس لئے کہ یہاں تدبیر کو قول سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا (اور اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کا احاطہ کرنے والے ہیں) کوئی عمل اس کے احاطہ علمی سے باہر نہیں۔
Ayah 4:109ایک نحوی تحقیق :
آیت 109 : ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآئِ ۔ ہَا یہ تنبیہ کے لئے ہے۔ انتم مبتداء اور اولاء خبر ہے۔ جٰدَلْتُمْ عَنْہُمْ (ہاں تم تو ایسے لوگ ہو کہ تم نے ان کی طرف سے جواب دہی کی باتیں کرلیں) مجادلہ کا معنی ان کی طرف سے جھگڑنا۔ نحو : نمبر 1۔ یہ جملہ مبینہ ہے۔ کیونکہ اولآء خبر واقع ہو رہی ہے۔ جیسے سخی کو کہیں انت حاتم تجود بمالک۔
نمبر 2۔ اولآء اسم موصول بمع الذین اور جادلتم، صلہ اب مطلب یہ ہوا۔ چھوڑو ! تم تو ان کی طرف سے مجادلہ کر رہے ہو۔ ہم کی ضمیر کا مرجع طعمہ اور اس کی معاون پارٹی۔
فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقَیٰمَۃِ (دنیا کی زندگی میں پس کون اللہ تعالیٰ سے ان کی طرف سے قیامت کے دن جھگڑے گا) یعنی جب اللہ تعالیٰ ان کو عذاب میں پکڑیں گے تو کون طعمہ کی طرف سے جھگڑے گا۔ اَمْ مَّنْ یَّکُوْنُ عَلَیْہِمْ وَکِیْلًا (یا وہ کون شخص ہوگا جو ان کا کام بنانے والا ہوگا) جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور پکڑنے سے محافظت کرے گا۔
Ayah 4:110ظلم کی مراد :
آیت 110 : وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓ ئً ا ( جو شخص کوئی برائی کرے) سوء سے مراد ایسا گناہ جو شرک سے کم درجہ ہو۔ اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ (یا اپنے نفس پر ظلم کرے) ظلم سے مراد شرک ہے۔ یا ایسی برائی جس کا نقصان دوسروں کو پہنچے جیسا کہ طعمہ نے قتادہ اور یہودی کے سلسلہ میں کیا۔ (ایک کی چوری کی دوسرے کے ذمہ جھوٹ لگا دی) اور ظلم سے مراد ایسا برا کام جس کا وبال اسی تک پہنچتا ہو جیسے جھوٹی قسم کھانا۔
ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ (پھر اللہ تعالیٰ سے معافی کا طلبگار ہوا) یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا مہربان پائے گا)
اس میں طعمہ کو توبہ و استغفار پر آمادہ کیا گیا ہے۔
Ayah 4:111آیت 111 : وَمَنْ یَّکْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَکْسِبُہٗ عَلٰی نَفْسِہٖ (جو شخص گناہ کا کام کرتا ہے۔ تو وہ اپنے نفس پر اس کا اثر پہنچاتا ہے) کیونکہ اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ علم والے حکمت والے ہیں) پس وہ گناہ کی سزا، کرنے والے کے علاوہ دوسرے کو نہیں دیتے۔
Ayah 4:112تعریف بہتان :
آیت 112 : وَمَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْئَۃً (جو شخص کوئی چھوٹا گناہ کرے) خطیئۃ سے گناہ صغیرہ مراد ہے۔ اَوْ اِثْمًا۔ اثم کبیرہ گناہ۔ اگر پہلے سے حقوق اللہ کو تلف کرنا مراد ہو تو دوسرے سے حقوق العباد مراد ہونگے۔ ثُمَّ یَرْمِ بِہٖ بَرِیْئًا (پھر اس نے اس کا الزام کسی بےقصور پر ڈال دیا) جیسا کہ طعمہ نے زید پر ڈالا۔ فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا (اس نے بڑا عظیم جھوٹ اپنے اوپر لادا اور کھلا ہوا گناہ بےقصور پر ڈالا) کیونکہ وہ کسب گناہ سے گناہ گار بن گیا اور بری الذمہ پر لگانے کی وجہ سے بہتان بن گیا۔ گویا اس نے دو گناہ کیے۔ الْبُہْتَانْایسا جھوٹ جس پر عقل حیران رہ جائے اور وہ ایسے آدمی پر باندھا جائے جس کو کچھ علم نہ ہو۔
Ayah 4:113آیت 113 : وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُہٗ (اگر آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتی) فضل سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت وعصمت اور رحمت سے مراد اس کی خصوصی مہربانی جس سے ان کو رازوں کی اطلاع دی۔
بنی ظفرؔ کا طرز عمل :
لَہَمَّتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ (تو ان میں سے ایک گروہ آپ کو بھٹکانے کا قصد کرچکا تھا) مراد بنی ظفر۔ یا بنو ظفر کا ایک گروہ ہے ہُمْ سے مراد لوگ۔ اَن یُّضِلُّوْکَ (کہ وہ آپ کو بھٹکا دیتے) صحیح فیصلہ سے اور طریق عدل کی پیروی سے باوجود اس بات کے جان لینے کے کہ ان کا ساتھی مجرم ہے۔ وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ (اور وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو) کیونکہ اس کا وبال ان کو پہنچے گا۔ وَمَا یَضُرُّوْنَکَ مِنْ شَیْئٍ (وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے) کیونکہ آپ نے ظاہر حال کے مطابق فیصلہ فرمایا تھا اور آپ کے دل میں یہ خیال تک بھی نہ تھا کہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔
وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ (اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب قرآن اتاری) وَالْحِکْمَۃَ اور سنت۔ وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ (اور آپ کو وہ علم دیا جو آپ نہ جانتے تھے) یعنی امور دین و شریعت کے سلسلہ میں یا مخفی امور اور دلوں کے راز۔ وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ کا فضل آپ پر بہت بڑا ہے) اس سلسلہ میں کہ آپ کو علم دیا اور انعامات فرمائے۔
Ayah 4:114آیت 114 : لَا خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰہُمْ (ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں) ہُمْ سے مراد لوگ اِلاَّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ (مگر وہ سرگوشی جو صدقہ کی کی جائے) ۔
نحوی تحقیق :
نحو : نمبر 1۔ کثیر مبدل منہ اور مَنْ اَمَرَ بدل مجرور ہے۔ نمبر 2: یا نجواہم مبدل منہ اور مَنْ اَمَرَ بدل۔ نمبر 3: مستثنیٰ منقطع کی وجہ سے منصوب ہے۔ الا بمعنی لکن ای من امر بصدقۃٍ ففی نجواہ الخیر۔ (اِلاَّ کو غیر کے معنی میں لینا زیادہ بہتر ہے گویا الا وصفی ہے۔ فتدبر)
نیکی وہ جو شہرت سے بچ جائے :
اَوْ مَعْرُوْفٍ (یا کسی نیک کام کا) جیسے نمبر 1۔ قرض۔ نمبر 2۔ مظلوم کی داد رسی۔ نمبر 3۔ ہر اچھائی۔ صدقہ سے مراد زکوٰۃ لیں تو معروف سے نفلی صدقہ مراد ہے۔ اَوْ اِصْلَاحٍم بَیْنَ النَّاسِ (یا لوگوں میں صلح صفائی) وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ (جو یہ کام کرے گا) جن کا ذکر ہوا۔ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی خاطر) اس شرط سے ریاکاری اور شہرت کے لئے کرنا خود خارج ہوگیا۔ یہ مفعول لہٗ ہے۔
ایک اشکال کا جواب :
اشکال : پہلے فرمایا الا من امر۔ پھر فرمایا ومن یفعل ذلک۔ پہلے امر کہا پھر فعل کا ذکر کیا۔ حالانکہ امر تو قول ہے فعل نہیں۔
جواب : امرؔ خیر کے ساتھ امر کا لفظ ذکر کیا تاکہ وہ اس کے کرنے والے پر دلالت کرے۔ کیونکہ جب حکم دینے والا پسندیدہ لوگوں میں آگیا تو فاعل بدرجہ اولیٰ اس میں داخل ہوگا۔ پھر من یفعل فرما کر اجر عظیم کا وعدہ اس سے منسلک کردیا۔ یا حکم دینے والے کو بمنزلہ فاعل کے قرار دے کر یہ تعبیر فرما دی۔ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا (عنقریب ہم آپ کو بہت بڑا اجر دیں گے) قراءت : ابوعمرو اور حمزہ نے یؤتیہِ پڑھا ہے۔
Ayah 4:115آیت 115 : وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی ( جو شخص رسول کی مخالفت کریگا اس کے بعد کہ امر حق ظاہر ہوچکا تھا) یعنی دلیل یقینی سے واضح ہونے اور قطعی طور پر معلوم ہونے کے بعد کہ وہ ہدایت ہے۔ وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ (وہ مؤمنوں کے راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ پر چلے گا) سبیل سے مراد دین حنیفی کا راستہ۔
اجماع حجت ہے :
مسئلہ : اس آیت میں دلیل ہے۔ کہ اجماع حجت ہے اس کی مخالفت جائز نہیں۔ جیسا کہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزیں۔ غیر سبیل المؤمنین اور مخالفت رسول کو ایک شرط سے مشروط کیا۔ اور اس کی سزا وعید شدید کی صورت میں ذکر کی۔ پس ان کی اتباع بھی موالات الرسول کی طرح ضروری ہے۔ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی (ہم اس کو پھیر دیں گے جدھر وہ پھرا) یعنی جس گمراہی کو اس نے اختیار کیا ہم وہی اس کو دے دیں گے۔ اور دنیا میں جس چیز کو اس نے چنا ہے۔ اس میں اس کو چھوڑ دیں گے۔
وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَآء َتْ مَصِیْرًا (اور آخرت میں اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے) اس آیت میں طعمہ اور اس کے ارتداد کے متعلق جہنم کا ذکر فرمایا یہ آیت اسی کے متعلق اتری (کذا قال البغوی)
Ayah 4:116شرک کی معافی نہیں :
آیت 116 : اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ ۔ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا۔ اس کی تفسیر گزری بعیدًاسے مراد راہ حق سے دور ہوا۔
بیشک اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو معاف نہیں کریگا۔ اور شرک کے علاوہ جس کو معاف کرنا چاہے گا معاف کر دے گا ( خواہ توبہ کے بعد یا بغیر توبہ کے) اور جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے۔ وہ راہ حق سے بھٹک گیا دور کا بھٹکنا) ۔
Ayah 4:117اصنام کو اناث کہنے کی وجہ :
آیت 117 : اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ (نہیں وہ عبادت کرتے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر) اِلَّآ اِنٰـثًا (مگر مؤنثوں کی) اناث جمع انثٰی کی اور وہ لات عزّیٰ و مناۃ ہیں۔ اہل عرب کا ہر قبیلہ کسی نہ کسی بت کی پوجا کرتا تھا۔ وہ اس کا نام فلاں قبیلہ کی مؤنث رکھتے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ اپنے اصنام کے متعلق کہتے یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ وَاِنْ یَّدْعُوْنَ (وہ عبادت نہیں کرتے) اِلاَّ شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا (مگر شیطان مردود کی) کیونکہ شیطان نے ان کو بتوں کی عبادت پر آمادہ کیا۔ اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔ پس اس کی اطاعت کو عبادت قرار دیا۔ مَّرِیْدًا اطاعت سے نکلنے والا اور بھلائی سے عاری اور اسی سے امرد بھی ہے۔
Ayah 4:118آیت 118: لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَقَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا (اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور شیطان نے کہا میں تیرے بندوں میں سے اپنا حصہ ضرور لونگا) شیطان کی پہلی صفت مریدًا اور دوسری لعنہ اللّٰہ ہے اور شیطان نے یہ انتہائی دشمنی والی بدترین بات کہی۔ مَّفْرُوْضًا قطعی جو میرے لئے لازم ہوگا۔ ایک ہزار میں سے 999 شیطان کے لئے۔ ایک اللہ کے لئے۔
Ayah 4:119شیطانی چالیں :
آیت 119 : وَلَاُ ضِلَّنَّہُمْ (اور میں ضرور ان کو راہ حق سے بھٹکائوں گا) گمراہی کی طرف دعوت دے کر اور وسوسہ اندازی سے۔ اگر شیطان کے پاس گمراہی کو نافذ کرنے کی قوت ہوتی تو تمام گمراہ ہوجاتے۔
وَلَاُ مَنِّیَنَّہُمْ (اور میں ان کے دلوں میں باطل ہو سیں دلاؤں گا) یعنی باطل و بےکار تمنائیں ان کے دلوں میں ڈالوں گا۔ جیسے درازیٔ عمر ٗ امیدوں کو پالینا۔ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ ٰاذَانَ الْاَنْعَامِ (میں ان کو تعلیم دونگا جس سے وہ جانوروں کے کان کاٹیں گے) البتک کاٹنا، کثرت سے چیرنا۔ بار بار چیرنا۔ مطلب یہ ہے کہ میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ چوپایوں کے کان کاٹیں۔ وہ پانچ بچے جننے والی اونٹنی کے کان کاٹ دیتے۔ جبکہ پانچواں بچہ نر ہو۔ اور اس سے نفع اٹھانا اپنے لئے حرام کرلیتے۔ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ (اور میں ضرور ان کو حکم دونگا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بناوٹ کو بدل ڈالیں گے) حامی (نرسانڈ) کی ایک آنکھ پھوڑ کر چھوڑ دیتے اور اس پر سواری نہ کرتے۔ یا غلاموں کو خصی کردیتے۔ یہ جانوروں میں درست ہے البتہ غلاموں میں ناجائز ہے۔ یا گود کر جسم پر تصاویر بناتے۔ انساب کی نفی کر کے دوسرے نسبوں کی طرف نسبت کرتے۔ یا سفید بالوں کو سیاہ رنگ کرتے۔ یا اپنی طرف سے تحریم و تحلیل کرتے یا خنثیٰ بناتے۔ یا دین اسلام جو اللہ تعالیٰ کا فطری دین ہے اس کو تبدیل کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا : لا تبدیل لخلق اللّٰہ۔ الروم۔ 30۔ وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (جس نے شیطان کو اپنا دوست بنایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر) اور اس بات کو قبول کیا جس کی طرف شیطان نے دعوت دی۔ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا (وہ کھلے ہوئے نقصان میں مبتلا ہوا دونوں جہانوں میں) ۔
Ayah 4:120آیت 120 : یَعِدُہُمْ (وہ شیطان ان سے وعدے کرتا ہے) ان کو اس طرح کے وساوس ڈالتا ہے کہ جنت نہیں۔ دوزخ نہیں اور نہ ہی بعث و حساب ہے۔ وَیُمَنِّیْہِمْ (اور ان کو امیدیں دلاتا ہے) جن کو وہ کبھی پا نہیں سکتے۔ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْطٰنُ اِلاَّ غُرُوْرًا (اور شیطان کا وعدہ ان سے محض فریب ہی ہوتا ہے) غرور ؔ۔ دیکھے کچھ اور ظاہر اس کے الٹ ہو۔
Ayah 4:121آیت 121 : اُولٰٓئِکَ مَاْوٰہُمْ جَہَنَّمُ وَلَا یَجِدُوْنَ عَنْہَا مَحِیْصًا (ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ اس سے چھٹکارے اور بھاگنے کا راستہ نہ پائیں گے)
Ayah 4:122آیت 122 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے) اور شیطان کی کفریہ باتوں میں اتباع نہیں کی۔
سَنُدْ خِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا (عنقریب ہم ان کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے)
قراءت : نخعی کی قرء ات میں سید خلہم ہے۔ وَعْدَاللّٰہِ حَقًّا (اللہ تعالیٰ نے اس کا سچا وعدہ کیا ہے)
نحو : وعد اور حَقًّا دونوں مصدر ہیں مفعول مطلق برائے تاکید لائے گئے ایک اپنے فعل کی تاکید جبکہ دوسرا اسی فعل کی تاکید ہے۔
استفہام بمعنی نفی :
وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًا (کون بات میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچا ہے) قیل کا معنی قول ہے۔ یہ استفہام ہے جو نفی کے معنی میں آیا ہے۔ جس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے سچے وعدوں اور شیطان کے جھوٹے وعدوں میں تقابلی موازنہ کرنا ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے کوئی بھی زیادہ سچا نہیں۔ یہ تیسری تاکید ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ کیے گئے وعدے ضرور پورے فرمائیں گے۔