Ayah 4:17آیت 17 :
اِنَّمَا التَّوْبَۃُ (بےشک توبہ قبول کرنا) اس سے اس شخص کی توبہ مراد ہے۔ جس پر اللہ تعالیٰ رجوع فرما کر توبہ قبول کرلیں۔ عَلَی اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے ذمہ) اس سے مراد وجوب نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کوئی چیز واجب نہیں۔ بلکہ علیٰ ، وعدے کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ بہر صورت ہو کر رہے گا۔ جس طرح واجب چھوڑا نہیں جاسکتا۔ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓئَ (صرف ان لوگوں کیلئے ہے۔ جو برائی کرلیتے ہیں) گناہ کو سوء کے لفظ سے ذکر اسلئے کیا۔ کیونکہ گناہ کا وبال برا ہے۔ بِجَہَالَۃٍ (نادانی کے ساتھ)
جہالت کی قید کا فائدہ :
نحو : بجہالۃٍ موضع حال میں ہے یعنی یعملون السوء جاہلین سفہاء۔ وہ برائی کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ
ناواقف و نادانی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ قبیح کے ارتکاب کی طرف حماقت آمادہ کرتی ہے۔ حضرت مجاہد (رح) کہتے ہیں۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وہ جاہل ہے جب تک کہ وہ جہالت سے باز نہ آجائے۔
ترغیب توبہ :
دوسرا قول : اس کی جہالت یہ ہے کہ اس نے فانی لذات کو باقی لذات کے مقابلہ میں ترجیح دی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے وہ ناواقف نہیں کہ اس نے گناہ کیا۔ لیکن وہ اس کی سزا سے ناواقف ہے۔ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ (پھر قریب وقت میں وہ توبہ کرلیتے ہیں) احتضار موت سے پہلے پہلے دوسری آیت میں فرمایا حتی اذا حضر احدہم الموت کہ جب ان میں سے کسی ایک کو موت آنے لگتی ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ احتضار کا وقت ایسا ہے۔ کہ اس میں توبہ قبول نہیں ہوتی۔ ضحاک (رح) کہتے ہیں۔ موت سے پہلے کی جانی والی ہر توبہ قریب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ موت کا فرشتہ دیکھنے سے پہلے ‘ اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ان اللّٰہ تعالیٰ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر۔
(رواہ احمد 2 / 132 ترمذی 3537 ٗ ابن ماجہ 4253)
بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتے ہیں جب تک غرغرہ میں مبتلا نہ ہو۔ مِنْ تبعیض کے لئے ہے۔ یعنی کسی قریب زمانہ میں توبہ کرلیتے ہیں۔
گویا کہ (ترغیب توبہ کے لئے) معصیت اور حضور موت کے درمیانی زمانے کو بہت قریبی زمانہ قرار دیا۔ (کہ وہ تھوڑا سا وقت ہے فوراً توبہ کرلینی چاہیے)
فَاُولٰٓپکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ (ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ رجوع فرمائیں گے) یہ وعدہ ہے کہ وہ اس کو پورا فرمائیں گے۔ اور بتلا دیا کہ بخشش بہر صورت ہونے والی ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا (اور اللہ تعالیٰ ان کے توبہ کے ارادہ کو جاننے والے ہیں) حَکِیْمًا (حکمت والے ہیں) کہ شرمندہ ہونے کو توبہ قرار دیا۔
Ayah 4:18آیت 18 :
وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ حَتّٰی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ (اور توبہ مقبول نہیں ان لوگوں کی جو برے کام کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہنے لگتا ہے اب میں توبہ کرتا ہوں) مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی کوئی توبہ نہیں جو گناہ کرتے رہتے ہیں۔ اور اپنی توبہ کو ٹالتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان سے تکلیف دور ہوجائے اسباب موت جمع ہو کر اور ملک الموت کو سامنے دیکھ کر۔ ایسے لوگوں کی توبہ غیر مقبول ہے کیونکہ یہ اضطراری حالت ہے۔ اختیاری نہیں۔ قبولیت توبہ تو ثواب و رجوع ہے اسکا کوئی کسی سے وعدہ نہیں مگر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پسند کرلیا جائے۔ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَہُمْ کُفَّارٌ ( اور نہ انکی توبہ قبول ہے جو کفر کی حالت میں مرجاتے ہیں)
نحو : اس کا عطف للذین یعملون السیئات پر ہے یہ بھی موضع جر میں ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے لیست التوبۃ للذین یعملون السیئات ولا للذین یموتون وہم کفار۔ ہم کفار۔ یموتون کی ضمیر سے حال ہے۔
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں۔ پہلی آیت مؤمنین کے متعلق اور درمیانی منافقین سے متعلق اور پچھلی آیت کفار کے متعلق ہے۔
نحو و قراءت :
بعض مصاحف میں یہ دو لام کے ساتھ ہے۔ یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر اولئک اعتدنا لہم عذابًا الیمًا ہے۔
اُولٰٓپکَ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا (ان لوگوں کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے) اعتدنا یہ عتید سے ماخوذ ہے۔ عتید کا معنی حاضر ہے یا اس کا اصل اعددنا۔ دال کو تا سے بدل دیا۔
Ayah 4:19آیت 19 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَایَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآئَ کَرْہًا۔ (اے ایمان والو ! تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم مالک بن جائو عورتوں کے زبردستی)
طریق جاہلیت کا خاتمہ :
زمانہ جاہلیت میں آدمی عورتوں کے اس طرح وارث بن جاتے کہ اپنا کپڑا اس پر ڈال دیتے اور بلا مہر اس سے شادی کرلیتے۔ خواہ عورت کو پسند ہو یا نہ، یہ آیت اتاری کہ تمہارا ان کو بطور وراثت لینا درست نہیں۔ جس طرح کہ میراث لی جاتی ہے۔ جبکہ عورتیں بھی اس کو ناپسند کرنے والی ہوں۔ یا ان کو مجبور کر کے ایسا کرو۔
نحو ٗ قراءت :
کَرہًا فتحہ کے ساتھ یہ کراہت سے ہے۔ اور ضمہ کے ساتھ اکراہ سے ہے اور مصدر ہے۔ حمزہ ٗ علی رحمہما اللہ نے ضمہ سے پڑھا ہے۔ یہ مفعول سے حال ہے۔
فائدئہ مہمہ :
کَرہ کی قید لگانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جب کرہ نہ ہو تو ایسا کرنا جائز ہوجائے گا۔ کیونکہ کسی شیٔ کو ذکر کر کے تخصیص کرنا ماسواء کی نفی پر دلالت نہیں کرتا۔ جیسا اس آیت میں ہے۔ ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق۔ کہ تم اپنی اولاد کو بھوک کے ڈر سے قتل نہ کرو الاسراء۔ 31۔ اب بھوک کا خطرہ نہ ہو بلکہ وسعت مالی میسر ہو تو ایسی حالت میں بھی اولاد کا قتل جائز نہیں۔
وَلَا تَعْضُلُوْہُنَّ (اور تم ان کو نہ روکو) جاہلیت میں رواج تھا کہ جب آدمی کسی عورت سے نکاح کرتا حالانکہ اس کو اس کی ضرورت نہ ہوتی تو اس کو روک لیتے۔ خود اچھا سلوک نہ کرتے۔ یہ سلوک اس لئے کرتے تاکہ وہ اس کا مال حاصل کرلیں اور وہ مال سے خود علیحدگی اختیار کرلے۔
نحو : نمبر 1۔ ان ترثوا پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور لا تاکید نفی کے لئے ہے۔ اب مطلب یہ ہوا۔ نہ ان کا مال میراث کی طرح مالک بننا حلال ہے اور نہ ان کو روکے رکھنا حلال ہے۔ نمبر 2۔ یہ جملہ مستانفہ ہے اور لا نہی کا ہے۔ اب کَرہًا پر وقف ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا۔ تم مت ان کو روکو۔
العضل روکنے اور تنگ کرنے کو کہتے ہیں۔
لِتَذْہَبُوْا بِبَعْضِ مَآ ٰاتَیْتُمُوْہُنَّ تاکہ جو مہر تمہارے مردہ باپ یا عزیز نے انکو دیا ہے۔ تم ان سے اسکا کچھ حصہ واپس لے لو۔
نحو : یہ لتذھبوا بتاویل مصدر لام کا مجرور ہو کر لا تعضلوا کے متعلق ہے۔
بدسلوکی میں اجازت خلع :
اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ (مگر یہ کہ وہ کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں) فاحشہ سے مراد خاوند کی نافرمانی اور خاوند اور اس کے اہل و عیال کو بدکلامی سے ایذاء دینا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر بدسلوکی ان عورتوں کی طرف سے ہو تو پھر تم خلع کے مطالبہ میں معذور ہو۔
حضرت حسن بصری (رح) سے مروی ہے کہ الفاحشۃ سے مراد زنا ہے۔ پس اگر عورت نے ایسا کیا تو اس کے خاوند کے لئے خلع کا مطالبہ درست ہے۔
قراءت : مُبَیِّنَۃٍ ۔ کو مکی اور ابوبکر نے یا کے فتحہ سے پڑھا۔ استثناء عام ظرف سے زیادہ عام ہے یا استثناء مفعول لہ ہے۔ گویا تقدیر عبارت یہ ہوگی ان کو تمام اوقات میں مت روکو مگر اس وقت جبکہ وہ فاحشہ کا ارتکاب کریں۔ دوسرا معنی۔ ان کو تم کسی علت و غرض سے نہ روکو مگر روکنے کی علت ارتکاب فاحشہ ہو۔
وہ عورتوں سے بدسلوکی کرتے پس انہیں حکم دیا گیا۔ وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (ان سے حسن معاشرت اختیار کرو) اور وہ نفقہ اور مبیت میں انصاف کرنا ہے۔ اور بات مجمل و مناسب کہنا۔ فَاِنْ کَرِہْتُمُوْہُنَّ (پس اگر تم ان سے نفرت کرتے ہو) ان کی بدصورتی یا بداخلاقی کی وجہ سے فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْئًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا (پس ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس میں بہت سی بھلائی رکھی ہو) ہٗ کی ضمیر اس شے کی طرف یا کرہ و ناپسندیدگی کی طرف راجع ہے۔ خیرًاکثیرًاسے مراد ثواب جزیل ہے یا پھر اولاد صالح۔
مفہوم ومطلب :
آیت کا یہ ہے۔ پس اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو ان سے جدائی صرف نفس کی کراہت کی وجہ سے اختیار نہ کرو۔ بسا اوقات نفس ایسی چیز کو ناپسند کرتا ہے۔ جو دینی اعتبار سے اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور بھلائی سے قریب تر ہوتا ہے۔ اور ایسی چیز کو نفس پسند کرتا ہے۔ جو دینی اعتبار سے انتہائی نقصان دہ ہے بلکہ عورتوں سے جدائی اسباب صلاح پر نظر کرتے ہوئے ہونی چاہیے۔
نحو : فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوَا۔ جزاء ہے۔ اور ان کرہتموہن شرط ہے۔ اب آیت کا مطلب یہ ہوا۔ ان کرہتموہن فاصبروا علیہن مع الکراہۃ فلعل لکم فیما تکرہونہ خیرًا کثیرًا لیس فیما تحبونہ۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو کوئی بات نہیں صبر کرو باوجود کراہت کے ان کو اپنے ہاں روک کر رکھو۔ شاید کہ جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو اسی میں بہت سی بھلائی ہو جو اس چیز میں نہ ہو جس کو تم پسند کرتے ہو۔
Ayah 4:20آیت 20: ایک جاہلانہ روش :
زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھتا اور وہ اس کو پسند آجاتی۔ تو اپنی سابقہ بیوی پر بہتان لگاتا اور زنا کی طرف اس کی نسبت کرتا۔ تاآنکہ مجبور ہو کر وہ اپنے مہر سے دست بردار ہوتی یا اس کو واپس کرتی۔ اس آیت میں فرمایا گیا۔ وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ (اگر تم ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری کو اس کی جگہ بدلنا چاہتے ہو) وَ ٰاتَیْتُمْ اِحْدٰٹہُنَّ (اور تم نے ایک بیوی کو دے رکھا ہے) احدٰٹہن سے احدی الزوجات مراد ہے۔ اور زوج سے مراد جمع ہے۔ کیونکہ ٰاتَیْتُمْ میں ضمیر خطاب جماعت رجال کو ہے۔ قِنْطَارًا (خزانہ) بہت زیادہ مال جیسا کہ آل عمران میں گزرا۔ حضرت عمر ؓ نے منبر پر فرمایا۔ لا تغالوا بصدقات النساء۔ عورتوں کے مہروں کے سلسلہ میں گرانی نہ کرو۔ تو ایک عورت نے کہا۔ کیا ہم تمہاری بات مانیں یا اللہ تعالیٰ کا فرمان : وٰاتیتم اِحدٰہن قنطارًا۔ تو عمر ؓ نے کہا ہر شخص دینی سمجھ میں عمر سے زیادہ ہے۔ تم جتنے مہر پر مرضی ہو نکاح کرو۔ (بکر بن عبداللہ المزنی کی روایت میں ہے کہ فاروق اعظم نے فرمایا میں تمہیں کثرت مہر سے منع کرنے لگا۔ تو میرے سامنے یہ آیت : ٰاٰتتیم احدٰٹہن قنطارا آگئی پس میں اس سے رک گیا)
فَـلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ (پس تم اس دیئے ہوئے مال میں سے نہ لو) ہٗ کی ضمیر قنطار کی طرف راجع ہے۔ شَیْئًا اَتَاْخُذُوْنَہٗ بُہْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا (کیا تم اس مال کو باطل طور پر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کر کے لو گے) مبینًا بمعنی واضح۔
تعریف بہتان :
البہتان کسی آدمی کے متعلق کوئی ایسی بری بات یافعل کی نسبت کرنا جو اس نے نہ کیا ہو۔ کیونکہ وہ اس فعل یا بات کو سن کر مبہوت یعنی حیران ہوگا۔ اس لئے اس کو بہتان کہتے ہیں۔ یہاں فعل ہی مراد ہے۔
نحو : بُھْتَانًایہ حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ یعنی اس حال میں کہ تم بہتان لگانے والے اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے ہوگے۔
Ayah 4:21آیت 21 :
پھر اس آیت میں جماع کے بعد مہر لینے کو اور زیادہ براقرار دیتے ہوئے فرمایا۔ وَکَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ (تم کس طرح اس کو لے لو گے۔ جبکہ تم جماع کرچکے) افضاء۔ ایسی خلوت جس میں رکاوٹ نہ ہو۔ اسی سے فضاء بمعنی صحراء ہے۔
احناف کی دلیل :
نحو : یہ آیت ہم احناف کے لئے خلوت صحیحہ کے بعد لزوم مہر کی دلیل ہے۔
آیت میں مہر واپس لینے کو ناپسند قرار دیا گیا۔ اور اس کی علت اگلی آیت میں بیان فرمائی۔
پختہ وعدہ کی مراد :
وَاَخَذْنَ مِنْکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظاً (اور وہ عورتیں تم سے پختہ وعدہ بھی لے چکیں) اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فامساک بمعروف او تسریح باحسان (البقرہ۔ 229) کہ یا تو ان عورتوں کو دستور کے موافق روک رکھو یا احسان سے رخصت کردو)
اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ اپنے بندوں سے ان عورتوں کی خاطر لیا۔ تو یہ ایسے ہی ہوگیا جیسے ان عورتوں نے اپنے خاوندوں سے براہ راست لیا۔
دوسری تفسیر : میثاقاً غلیظا سے مراد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ استوصوا بالنساء خیرًا۔ تم عورتوں سے بھلا سلوک کرو فان ہن عوان فی ایدیکم اخذتموہن بامانۃ اللّٰہ۔ وہ تمہارے ہاتھوں میں ریوڑ کی طرح ہیں۔ واستحللتم فروجہن بکلمۃ اللّٰہ (ترمذی 1163۔ ابن ماجہ 1751 مسلم۔ 1851۔ تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی امان سے لیا اور ان کی شرمگاہوں کو بحکم خدا اپنے لئے حلال بنایا۔
Ayah 4:22آیت 22 : جب یہ آیت لایحل لکم ان ترثوا اتری۔ تو لوگوں نے کہا ہم نے سابقہ رواج کو ترک کردیا۔ ہم ان کی ناپسندیدگی سے ان کے وارث نہ بنیں گے۔ لیکن ہم ان کو پیغام نکاح دیں گے اور ان کی رضا ورغبت سے ان سے نکاح کریں گے۔ تو اس پر یہ آیت اتری۔
باپ کی موطوءہ حرام ہے :
وَلَا تَنْکِحُوْا مَانَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ (ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے) ایک قول یہ ہے کہ نکاح سے مراد وطی ہے۔ یعنی ان عورتوں سے وطی نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے وطی کی ہو۔
فائدہ : اس سے یہ ثابت ہوا کہ باپ کی موطوءہ سے نکاح حرام ہے خواہ وہ موطوءہ نکاح سے ہو یا ملک یمین یا زناء سے جیسا کہ ہمارا مسلک احناف ہے۔ اور اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے۔ جب انہوں نے یہ کہا کہ ہم ایسا کریں گے۔ تو اس کی ممانعت کردی گئی تو اگر اپنی طرف سے ایسا کریں گے تو اس کا حال خود سوچ لیں کیا ہوگا فرمایا۔ اِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ (لیکن جو پہلے ہوچکا) اس پر تو تم سے مواخذہ نہ کیا جائے گا۔
نحو : سیبویہ کہتے ہیں کہ یہ استثناء منقطع ہے۔
اللہ کی ناراضگی و ناپسندیدگی :
آیت کے اگلے حصے میں عقد کی حیثیت بتلا دی۔ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً (کہ یہ بےحیائی ہے اور قباحت میں انتہاء کو پہنچنے والی ہے) وَّمَقْتًا (اور ناراضگی میں) میں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں مبغوض اور ایمان والوں کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ بعض لوگ عورتوں کی ناراضی کے باوجود اپنے وقار کے لئے ایسا کرتے تھے اور اس کو نکاح مقت کہتے تھے۔ اور اس سے جو اولاد پیدا ہوتی اس کا لقب المقتی مشہور ہوتا۔ وَسَآئَ سَبِیْلًا (اور یہ بہت برا راستہ ہے)
Ayah 4:23آیت 23 … بیان محرمات :
جب شروع سورت میں ان عورتوں کا ذکر کیا جن سے نکاح حلال تھا۔ اور اس سے قبل بعض محرمات کا ذکر دیا گیا۔ اور وہ باپوں کی موطوءہ ہیں۔ تو اب باقی محرمات کا ذکر فرمایا۔ وہ سات نسب سے ہیں۔ سات سبب سے ہیں۔ ابتداء نسب والی عورتوں سے کی۔ فرمایا۔ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّہٰتُکُمْ (تم پر تمہاری مائیں حرام کردی گئیں) مراد ان سے نکاح کا حرام ہونا ہے عند البعض۔ ہم نے شرح المنار میں مختار قول ذکر کردیا ہے۔ نانی یا دادی وہ بھی امہات میں شامل ہیں۔
وَبَنٰتُکُمْ (اور تمہاری بیٹیاں) پوتیاں ٗ نواسیاں وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔
قاعدہ : جب جمع کا مقابلہ جمع سے ہو تو پھر تقسیم احاد کی احاد پر ہوتی ہے۔
پس ہر ایک پر اس کی ماں اور اس کی بیٹی حرام ہوگی۔ وَاَخَوٰتُکُمْ (اور تمہاری بہنیں) جو باپ یا ماں یا صرف باپ کی طرف سے یا صرف ماں کی طرف سے ہوں۔ یعنی حقیقی ٗ علاتی۔ اخیافی۔
عمات سے مراد :
وعَمّٰتُکُمْ (تمہاری پھوپھیاں) حقیقی علاتی ٗ اخیافی۔ وَخٰلٰتُکُمْ (اور تمہاری خالائیں) تینوں قسم حقیقی ٗ علاتی ٗ اخیافی۔ وَبَنٰتُ الْاَخِ (بھتیجیاں) تینوں قسم حقیقی ٗ علاتی ٗ اخیافی۔ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ (بھانجیاں) تینوں قسم ان دونوں قسم میں پوتیاں اور نواسیاں بھی شامل ہونگی۔
حرمت رضاعت :
آگے سبب سے جو محرمات ہیں ان کو بیان کیا۔ وَاُمَّہٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ (تمہاری رضاعی مائیں اور بہنیں) اللہ تعالیٰ نے رضاعت کو نسب کے قائم مقام کیا ہے۔ اسی لئے مرضعہ کو دودھ پینے والے بچے کی ماں سے تعبیر فرمایا۔ اور اس کی بیٹیوں کو بہن سے تعبیر فرمایا۔ اسی طرح مرضعہ کے زوج کو رضیع کا باپ اور اس کے ماں باپ کو دادا دادی اور باپ کی بہن کو اس کی پھوپھی ہر بچہ جو اس خاوند سے اس عورت کا پیدا ہو وہ اس رضیع کے بھائی ٗ بہنیں حقیقی ہیں۔ اور اس عورت کا جو بچہ دوسرے خاوند سے پیدا ہو وہ اس کے ماں جائے بہن بھائی ہیں۔ اور اس کی اصل رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے۔ یحرم من الرضاعۃ مایحرم من النسب۔ بخاری۔ 5239۔ مسلم۔ 1444۔ رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔
عقد کی محرمات :
وَاُمَّہٰتُ نِسَآپکُمْ (اور تمہاری بیویوں کی مائیں) یہ محرمات فقط عقد سے ہیں۔ وَرَبَآپبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ (وہ ربیبہ جو تمہاری پرورش میں ہوں) عورت کی وہ اولاد جو موجودہ کے علاوہ خاوند سے ہو اس کو ربیب اور ربیبہ کہا۔ کیونکہ یہ خاوند ان کو پالتا ہے۔ جیسا کہ عموماً والد اپنی اولاد کو پالتا ہے۔ پھر مفہوم میں وسعت پیدا ہوئی اور تربیت نہ کرنے کی صورت میں بھی نام یہی رکھا گیا۔ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ (جو تمہاری گودوں میں ہیں) دائو دظاہری نے کہا اگر وہ اس کے زیر نگرانی نہ ہوں تو حلال ہیں۔
حجور کی قید کا مطلب :
حجورکم کا تذکرہ غالب حالت کے پیش نظر ہے۔ یہ شرط نہیں۔ باقی اس انداز سے لانے کا مقصد حرمت کی علت بیان کرنا ہے۔ ان کی حرمت تمہارے ان کو گود میں لے لینے کی وجہ سے ہے یا اس بناء پر کہ وہ تمہارے گود میں لینے کے میلان میں ہیں۔ گویا کہ تم ان کی بیٹیوں سے عقد کرنے میں اس طرح ہو گے جیسے اپنی بیٹیوں سے عقد کرنے والے ہو۔
مِنْ نِّسَآپکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّ (تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم نے قربت کی ہو) یہ ربائبکم سے متعلق ہے یعنی کہ اس ربیبہ سے نکاح حرام ہے۔ جو مدخول بہا ہو۔ اگر اس عورت سے دخول نہ ہوا ہو تو پھر وہ ربیبہ حلال ہے۔ اور دَخَلْتُمْ بِہِنَّ یہ جماع سے کنایہ ہے۔ جیسے عرب کہتے ہیں بنی علیہا ٗ وضرب علیہا الحجاب یعنی تم نے ان کو ستر میں داخل کیا ہو۔ با تعدیہ کی ہے۔ لمس وغیرہ دواعی جماع وہ قائم مقام دخول ہیں۔
بعض علماء نے اللاتی دخلتم بھن کو نساء متقدمہ اور متاخرہ کی صفت بنایا ہے۔ حالانکہ اس طرح نہیں۔ کیونکہ ایک وصف دو ایسے موصوف کا وصف نہیں بن سکتا جن کا عامل مختلف ہو۔ اور یہاں نساء متقدمہ مجرور بالا ضافت ہیں اور نساء متاخرہ مِنْکی وجہ سے مجرور ہیں۔ اور اس طرح کہنا درست نہیں مررت بنسائک و ہر بت من نساء زید الظریفات اس طور پر کہ پہلی نساء اور دوسرا لفظ نساء کی صفت بنے۔ زجاج نے اس طرح کہا۔ یہ قول صاحب کشاف کے قول سے زیادہ بہتر ہے۔
فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فـَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ (اگر تم نے ان سے قربت نہ کی ہو تم پر کوئی گناہ نہیں) کہ تم ان کی بیٹیوں سے نکاح کرلو۔ جبکہ پہلے ان کو طلاق دے کر فارغ کردو۔ یا وہ نکاح کے بعد مرجائیں۔ وَحَلَآپلُ اَبْنَآپکُمُ (اور تمہاری بہوئیں) حلائل جمع حلیلہ ہے۔ زوجہ کو کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لئے حلال ہے۔ یا ایک دوسرے کا بستر اس کے لئے حلال کیا گیا۔ یہ حل سے ہے یا حلول سے ہے۔
اصلاب کی قید سے متبنّیٰ کو خارج کیا :
الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ (وہ بیٹے جو تمہاری صلب سے ہیں) وہ نہیں جن کو تم نے متبنّیٰ بنایا ہے۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے نکاح فرمایا۔ جب ان کو زید ؓ متبنّیٰ رسول اللہ ﷺ نے جدا کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَ زْوَاجِ اَ دْعِیَـآپہِمْ (الاحزاب : 37) تاکہ ایمان والوں کو اپنے منہ بولے بیٹوں کے سلسلہ میں کوئی تنگی نہ رہے۔ یہ آیت رضاعی بیٹے کی بیوی کی حرمت کے لئے نہیں ہے۔
رضاعی بیٹے کی بیوی بھی محرمات سے ہے :
(اس کی حرمت حدیث : یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب سے ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے) وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ (اور یہ کہ تم جمع کرو دو بہنوں کو) یعنی نکاح میں جمع کرنا۔ : اس کا عطف محرمات پر ہے۔ اور یہ موضع رفع میں ہے۔ یعنی تم پر جمع بین الاختین حرام کیا گیا۔
اِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ (مگر جو ہوچکا) اب تک جو ہوا وہ معاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے اِنَّ اللّٰہ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ( بیشک اللہ تعالیٰ بخشش فرمانے والے مہربان ہیں)
امام محمد (رح) کا قول :
امام محمد (رح) فرماتے ہیں کہ اہل جاہلیت ان تمام محرمات کو جانتے تھے مگر باپ کی بیوہ اور نکاح اختین مروج تھا اسی لئے ان کے متعلق الا ماقد سلف فرمایا۔
Ayah 4:24آیت 24 :
وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ (اور خاوندوں والی عورتیں) کیونکہ انہوں نے اپنی شرمگاہوں کو نکاح کے ذریعہ محفوظ کرلیا۔
قراءت : یہاں کسائی نے محصنات۔ صاد کے فتحہ سے پڑھا۔ اور باقی تمام قرآن مجید میں کسرئہ صاد سے پڑھا۔
لونڈیوں کی حلّت :
اِلاَّ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (مگر جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں) قید ہوجانے کی وجہ سے جبکہ اس کا خاوند دارالحرب میں ہو۔ مطلب یہ ہوا، تم پر منکوحہ عورتوں سے نکاح حرام ہے۔ یعنی وہ عورتیں جن کے خاوند ہوں مگر وہ عورتیں کہ جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ بنے ان کے قید ہوجانے کی وجہ سے اور ان کے بلا خاوند نکالنے کی وجہ سے۔ دارین کے مختلف ہونے کی وجہ سے ان میں فرقت واقع ہوگئی۔ قید کی وجہ سے نہیں۔ دارین سے مراد دارالکفر اور دارالاسلام ہے۔ اسی لئے غانم کے لئے ملک یمین (لونڈی) استبرائے رحم کے بعد حلال ہے۔
کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ (یہ اللہ تعالیٰ کا فریضہ ہے تم پر) کتاب یہ مصدر مؤکد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر لکھ دیا لکھ دینا اور فرض کیا فرض کرنا۔ اور فرض کا مطلب جو حرام کی گئی چیزیں ہیں ان کا حرام قرار دینا ہے۔ وَاُحِلَّ لَکُمْ (اور حلال کردی گئیں تمہارے لئے)
نحو : فعل مضمر نے کتاب اللہ کو نصب دی اس پر اس کا عطف ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے لکھ دی تم پر ان کی تحریم اور اس کو حلال کردیا تمہارے لئے۔ مَّاوَرَآئَ ذٰلِکُمْ (ان مذکورہ محرمات کے علاوہ عورتیں) ۔
قراءت : کوفی قراء نے سوائے ابوبکر کے حرمت پر عطف کرتے ہوئے واُحِلّ ۔ ضمہ سے پڑھا ہے۔
نحو : اَنْ تَبْتَغُوْا (یہ کہ طلب کرو تم) یہ مفعول لٰہٗ ہے۔ یعنی اس چیز کو جو حلال ہے اس چیز سے جدا کر کے جو حرام ہے اس نے بیان کردیا تاکہ تم طلب کرو ان کو اپنے مالوں کے ساتھ۔ یا یہ ماوراء ذلکم سے بدل ہے۔ اور تبتغوا کا مفعول اس صورت میں مقدر ہے اور وہ النساء ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ مقدر نہ مانا جائے۔
بِاَمْوَالِکُمْ (اپنے اموال کے ساتھ) مال سے مراد یہاں مہر ہے۔
لطیف استدلال :
فائدہ : اس میں اس بات کی مضبوط دلیل ہے۔ کہ نکاح بلا مہر درست نہیں اور مہر لازم ہوجاتا ہے۔ خواہ مقرر نہ کیا جائے۔ اور غیر مال مہر نہیں بن سکتا۔ اور معمولی مقدار بھی مہر نہیں بن سکتا۔ اس لئے کہ ایک دانہ عادۃً مال شمار نہیں ہوتا۔
مُحْصِنِیْنَ (اس حال میں کہ تم پاکدامنی اختیار کرنے والے ہو) غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ (نہ ہونا جائز تعلق رکھنے والے) تاکہ تم اپنے اموال کو ضائع کرنے والے نہ بنو اور اپنے آپ کو محتاج کرلو ایسی چیز سے کہ جس میں تمہارے دین و دنیا کا نقصان ہو۔ اور ان دونوں خساروں میں مبتلا آدمی بہت بڑے بگاڑ کا شکار ہوگیا۔
الا حصانپاکدامنی۔ حرام میں مبتلا ہونے سے نفس کو بچانا۔ المسافحزانی یہ السفح سے ہے اس کا معنی منی بہانا ہے۔
فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْہُنَّ (پس جس طریق سے تم عورتوں سے لذت اندوز ہوچکے ہو) تو ان کے مہران کو دو ۔ یعنی عورتوں سے تم نکاح کرچکے ہو۔ فٰاتوہن اجورہن (تو ان کے مہر ان کو دے دو ) کیونکہ مہر بضع کی طرف لوٹنے والا ہے۔ : مَا اس موقعہ پر نساء کے معنی میں ہے۔ اور من تبعیضیہ یا بیانیہ ہے۔ بہ کی ضمیر لفظ کے لحاظ سے تو مِنْ کی طرف راجع ہے اور معنی کے لحاظ سے فٰاتوہنکی طرف لوٹتی ہے۔
فَرِیْضَۃً (جو کچھ مقرر ہوچکے ہیں) : یہ اجورہن سے حال ہے۔ ای مفروضۃ مقرر کیے ہوئے۔ یا یہ ایتاء کی جگہ ہے۔ کیونکہ دینا فرض ہے۔ یا یہ مصدر مؤکد ہے اور فعل محذوف ہے فرض ذلک فریضۃ۔ وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ِفیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِہٖ مِنْم بَعْدِ الْفَرِیْضَۃِ (کوئی حرج نہیں اس مقدار میں جس پر تم باہمی رضا مند ہوجائو مقرر ہوجانے کے بعد) یعنی مہر میں سے جو کم کرے یا تمام ہبہ کرے یا اس مقدار میں اضافہ کر دے۔ یا جس پر وہ باہمی ٹھہرانے پر رضا مند ہو یا فراق پر۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا (بیشک اللہ تعالیٰ اشیاء کو ان کی پیدائش سے قبل جاننے والے) حَکِیْمًا (اور حکمت والے ہیں) اس میں جو اس نے عقد نکاح کو لازم کیا جس سے انساب کا تحفظ ہے۔
ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ فما استمتعتم آیت متعہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی۔ جو اس وقت تین دن کے لئے مباح ہوا جب اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح کرایا۔ پھر منسوخ ہوگیا۔
Ayah 4:25آیت 25:
وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا (جو تم میں سے طاقت نہ رکھتا ہو) طول کا معنی زائد ٗ کہا جاتا ہے لفلان علیّ طول یعنی فلاں کو مجھ پر فضل و اضافہ حاصل ہے۔ یہ یستطع کا مفعول ہے۔ اَنْ یَّنْکِحَ (کہ وہ نکاح کرے) : یہ طول کا مفعول ہے۔ یہ مصدر ہے۔ اور اپنے فعل کا عمل کرتا ہے۔ یا طَوْلًا سے بدل ہے۔
الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ (پاکدامن مومنہ عورتوں سے) مراد آزاد مسلمان۔ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ (پس جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں تمہاری مومنہ لونڈیوں میں سے) یعنی اس کو مسلمان لونڈی سے نکاح کرلینا چاہیے۔ من فتیاتکم سے مراد مسلمانوں کی لونڈیاں ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ جو اس قدر مالی وسعت نہیں رکھتا جس سے وہ آزاد عورت سے نکاح کرے تو اسے لونڈی سے نکاح کرلینا چاہیے۔ اور کتابی لونڈی سے نکاح ہمارے نزدیک بھی جائز ہے۔ اور یہ قید استحبابی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ایمان تو بالا تفاق آزاد عورتوں میں بھی شرط نہیں حالانکہ اس کے ساتھ قید موجود ہے۔
روایت ابن عباس۔ :
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر جو وسعتیں فرمائیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ لونڈی سے نکاح۔ اہل کتاب یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح ٗ اگرچہ وہ خوشحال ہو۔ یہ روایت مسألہ طول میں ہم احناف کی دلیل ہے۔
وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ (اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو جانتے ہیں) اس میں متنبہ کردیا کہ ان کے ظاہری ایمان کو قبول کرلیا جائے گا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے زبان کا عمل نہیں۔ کیونکہ ایمان مسموع کا علم تو مختلف فیہ نہیں ہے۔ بَعْضُکُمْ مِّنْم بَعْضٍ (تم ایک دوسرے سے ہو) لونڈیوں کے نکاح سے نفرت نہ کرو۔ کیونکہ تم سب اولاد آدم ( علیہ السلام) ہو۔ اس میں ڈرایا گیا کہ انسان پر عیب جوئی اور حساب پر فخر نہ کرنا چاہیے۔ فَانْکِحُوْہُنَّ بِاِذْنِ اَہْلِہِنَّ (ان سے نکاح ان کے مالکوں کی اجازت سے کرو) اس میں ہماری دلیل ہے کہ عورتوں کو حق ہے کہ وہ عقد ٗ براہ راست کریں۔ لیکن موالی کی اجازت کا اعتبار کیا گیا نہ کہ ان کے عقد کا۔ اور غلام اور لونڈی کے لئے جائز نہیں کہ نکاح اپنے موالی کی اجازت کے بغیر کریں۔
بلا ٹال مٹول مہر ادا کرو :
وَ ٰاتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (اور تم ان کے مہر دستور کے موافق دے دو ) یعنی ان کے مہر بغیر ٹال مٹول اور تکلیف پہنچانے کے دے دو ۔ اور ان کے مہروں کے مالک ان کے موالی ہیں۔ ان کو ادا کرنا موالی کو ادا کرنا ہی ہے۔ کیونکہ وہ اور جو ان کے قبضہ میں ہے۔ وہ ان کے موالی کا ہے۔ یا تقدیر عبارت یہ ہے۔ وآتوا موالیہن۔ وہ مہر ان کے موالی کو دو ۔ اس صورت میں مضاف حذف کیا گیا ہے۔
مُحْصَنٰتٍ (وہ پاکدامنی اختیار کرنے والیاں ہوں)
نحو : یہ ٰاتوہن کے مفعول سے حال ہے۔
غَیْرَمُسٰفِحٰتٍ (نہ ہوں وہ علانیہ زنا کرنے والیاں) وَلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ (اور نہ خفیہ یارانہ کرنے والیاں ہوں) یعنی خفیہ زنا کرنے والیاں نہ ہوں اخدان۔ پوشیدہ یار۔ فَاِذَا اُحْصِنَّ (جب پاک دامن ہوجائیں) نکاح کے ذریعہ۔
قراءت : اَحْصَنَّ ۔ حفص کے علاوہ کوفی قراء نے پڑھا۔
یہاں محصنات سے غیر شادی شدہ عورتیں مراد ہیں :
فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ (پس اگر وہ بےحیائی کا ارتکاب کریں) فاحشہ سے مراد زنا ہے۔ فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ (پس ان پر نصف سزا ہے اس کی جو آزاد پاکدامن عورتوں پر ہے) مِنَ الْعَذَابِسزا۔ مراد حد ہے۔ پچاس کوڑے۔ اور نصف ما علی المحصنات دلالت کرتا ہے۔ کہ ان کی سزا کوڑے ہیں سنگساری نہیں۔ کیونکہ رجم نصف نہیں اور محصنات سے یہاں آزاد عورتیں مراد ہیں جو غیر شادی شدہ ہوں۔
فائدہ : العنت کا معنی :
ذٰلِکَ (یہ اس شخص کے لئے ہے) اس سے لونڈی کے نکاح کی طرف اشارہ کیا۔ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ (جس کو تم میں سے گناہ کا خطرہ ہو) ایسا گناہ جو غلبہ شہوت تک پہنچانے والا ہو۔ العنت کا اصل معنی جڑنے کے بعد ہڈی کا ٹوٹنا۔ پھر استعارۃً ہر نقصان و مشقت کے لئے استعمال کیا گیا۔ اور گناہوں میں ابتلاء سے بڑھ کر کوئی نقصان دہ چیز نہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ العنت کا معنی زناء ہے کیونکہ وہ ہلاکت کا سبب ہے۔
وَاَنْ تَصْبِرُوْا (اور تمہارا صبر کرنا) بجائے لونڈی کے نکاح کے۔ خَیْرٌ لَّکُمْ (تمہارے لئے بہت بہتر ہے) کیونکہ اس سے اولاد غلام ہوگی۔ اور وہ لونڈی ہر وقت باہر نکلنے والی ٗ داخل ہونے والی۔ محنت و مشقت کرنے والی ہے۔ یہ تمام چیزیں نکاح کرنے والے کے لئے نقصان اور توہین کا باعث ہیں۔
اور عزت ایمان والوں کی صفات سے ہے حدیث میں فرمایا۔ آزاد عورتیں گھر کی درستی ہیں اور لونڈیاں گھر کی ہلاکت ہیں۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ ( اور اللہ بخشش کرنے والے) گناہ چھپانے والے ہیں۔ رَحِیْمٌ (مہربان ہیں) رکاوٹ کا ازالہ فرمانے والے ہیں۔
Ayah 4:26آیت 26 :
یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ (اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے لئے کھول کر بیان کرے) اصل اس طرح ہے یرید اللّٰہ ان یبین لکم اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے بیان کرنا چاہتے ہیں۔ ارادئہ تبیین کو پختہ کرنے کے لئے لام کو بڑھا دیا۔ جیسا کہ لا ابالک میں اَبْ کی طرف اضافت میں تاکید بڑھا دی گئی۔ مطلب آیت کا یہ ہوا اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں۔ کہ وہ کھول کر بیان کردیں وہ مصالح جو تم پر مخفی ہیں اور وہ عمدہ اعمال جو معلوم نہیں۔ وَیَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (اور تمہاری راہنمائی کر دے ان لوگوں کے راستے کی طرف جو تم سے پہلے ہوئے) یعنی پہلے انبیاء ( علیہ السلام) اور صالحین کے راستے اور وہ طریقے جن پر وہ اپنے دین کے سلسلہ میں چلے۔ تاکہ تم ان کی اقتداء کرو۔ وَیَتُوْبَ عَلَیْکُمْ (اور تمہاری توبہ قبول کرے) اور تمہیں ان باتوں میں جن میں مخالفت ہوجائے توبہ کی توفیق دے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصالح سے واقف ہیں۔ حَکِیْمٌ (اور حکمت والے ہیں) ان باتوں میں جو ان کے لئے مشروع کی ہیں۔
Ayah 4:27آیت 27 :
وَاللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ (اللہ تعالیٰ تم پر رجوع فرمانا چاہتے ہیں) تاکید کے لئے دوبارہ لایا گیا۔ پختگی اور تقابل کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ وَیُرِیْدُ (اور چاہتے ہیں) ۔ یعنی فجار
شہوت پرستوں کا مقصد :
الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّہَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلاً عَظِیْمًا (وہ لوگ جو شہوات کے پیروکار ہیں کہ تم مائل ہوجائو بالکل مائل ہونا) میل عظیم۔ حق اور میانہ روی سے مائل ہونا۔ اور یہ سب سے بڑا میلان ہے۔ کہ اتباع شہوات ٗ خواہشات میں معاونت کی جائے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ان سے مراد یہود ہیں کیونکہ انہوں نے باپ کی بہنوں ‘ بھتیجیوں اور بھانجیوں کو حلال قرار دیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام کیا۔ تو وہ کہنے لگے تم خالہ کی بیٹیوں اور پھوپھی زاد کو حلال قرار دیتے ہو حالانکہ خالہ اور پھوپھی تو تم پر حرام ہیں بھتیجیوں اور بھانجیوں سے نکاح کرلو۔ پس یہ آیت اتری۔ کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ان کی طرح زانی بن جائو۔
Ayah 4:28آیت 28 : یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْکُمْ (اللہ تعالیٰ تم سے تخفیف چاہتے ہیں) لونڈیوں کے نکاح کی رخصت دے کر۔ وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا (اور انسان کمزور پیدا کیا گیا) کہ شہوات سے صبر نہیں کرتا۔ اور طاعات کی مشقتیں برداشت نہیں کرتا۔
Ayah 4:29آیت 29 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ (اے ایمان والو ! تم اپنے مال اپنے درمیان ناجائز طریقہ سے مت کھائو) جن کاموں کو شریعت نے مباح قرار نہیں دیا جیسے چوری ٗ خیانت۔ غصب۔ قمار۔ معاملہ ربا وغیرہ۔
اِلاَّ ٓاَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً (مگر یہ کہ تجارت ہو) یعنی کھانے کا ذریعہ تجارت ہو۔ قراءت : کوفی قراء نے تجارۃً پڑھا ہے۔ یعنی تجارت ہو۔ عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ (اپنے مابین رضا مندی سے) یہ تجارت کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ تجارۃ صادرۃ عن تراض بالعقد۔ تجارت جو باہمی رضا مندی کے معاہدہ سے ہو یا لیکن تجارت باہمی رضا مندی والی ممنوع طرق سے نہ ہو۔
تخصیص تجارت کی وجہ :
تجارت کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر اسباب رزق تجارت سے متعلق ہیں۔ آیت میں بتلایا گیا کہ بیع لین ٗ دین ‘ دست بدست سے بھی درست ہے۔ اور بیع موقوف کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ جبکہ اجازت پائی جائے کیونکہ رضا مندی پائی گئی اور مجلس کے خیار کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ اس میں تجارت کے ساتھ کھانے کی اجازت مکان عقد سے جدا ہونے کی قید کے بغیر ہے۔ اور جدا ہونے کی قید لگانا نص پر اضافہ ہے (جو کہ درست نہیں)
قتل نفس کیا ہے ؟
وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ (تم خود کشی نہ کرو) نمبر 1۔ انفس سے مراد تمہاری جنس سے جو مومن ہیں کیونکہ مومن ایک جان کی طرح ہیں۔ نمبر 2۔ خود کشی نہ کرے جیسا کہ بعض جاہل کرتے ہیں۔ نمبر 3۔ القتل کا معنی ناجائز اموال کا کھانا ہے۔ پس غیر پر ظلم کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنے والے کی طرح ہے نمبر 4۔ نفس کی خواہشات پر مت چلو ورنہ تم اس کو قتل کردو گے۔ یا ایسے کام کر گزرو گے جو قتل کو لازم کرنے والے ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا (بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والے ہیں) رحمت ہی کی بناء پر تمہیں ایسی چیزوں کے متعلق خبردار کیا۔ جس میں تمہارے اموال کی حفاظت اور تمہارے ابدان کی بقاء ہے۔
اس کا دوسرا معنی یہ بھی کیا گیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو توبہ کے لئے نفسوں کو قتل کا حکم دیا اور ان کی غلطیاں مٹانے کے لئے بھی یہی حکم دیا۔ کَانَ بِکُمْ (وہ تم پر مہربان ہے) اے امت محمد ﷺ رَحِیْمًا (رحم کرنے والا) کہ ایسی مشکل تکالیف کا تمہیں مکلف نہیں بنایا۔
Ayah 4:30آیت 30 : وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ (جو ایسا کرے گا) یعنی قتل کا اقدام نفسوں پر عُدْوَانًا وَّظُلْمًا (قصدا دوسرے پر زیادتی کرتے ہوئے اور ظلم کرتے ہوئے) اپنی جان پر یعنی نہ ظلماً نہ قصا صاً ۔ یہ دونوں مصدر موضع حال میں واقع ہیں۔ یا مفعول لہ ہیں۔ فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا (عنقریب ہم اسے مخصوص آگ میں داخل کریں گے) جس کا عذاب سخت ہے۔
وَکَانَ َذٰلِکَ (یہ آگ کا داخلہ) عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا (اللہ تعالیٰ پر آسان ہے) یہ وعید اس کے متعلق ہے جو ہمیشگی کو حلال قرار دینے والا ہے اور دوسرے کے متعلق آگ کے داخلہ کا استحقاق بتلانے کیلئے ہے۔ اور ساتھ ہی مغفرت کا وعدہ بھی فرما دیا گیا ہے۔
Ayah 4:31آیت 31 : اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآپرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (اگر تم ان بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے روکا گیا ہے۔ تو ہم تمہاری چھوٹی غلطیاں مٹا دیں گے) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ الکبائر۔ بڑے گناہ وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے سورة نساء میں ابتداء سے ان تجتنبوا کبائر ما تنہون عنہ تک بیان کیا۔
کبائر تین ہیں :
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ کبائر تین ہیں۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا۔ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے بےخوف ہوجانا۔
ایک تفسیر اس کی کفر کی اقسام ہیں۔ اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قراءت کبیر ماتنہون عنہ ہے اور وہ بڑی بات جس سے تمہیں روکا گیا اور وہ کفر ہے۔ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْ خَلًا کَرِیْمًا (اور ہم تمہیں داخل کریں گے عمدہ داخل ہونے کی جگہ) ۔
سورة نساء کی آٹھ آیات ‘ ساری دنیا سے بہتر :
قراءت : مدنی قراء نے مَدْخَلاً پڑھا۔ دونوں مکان کے معنی میں ہیں اور مصدر ہیں۔ کریماً ۔ کا معنی عمدہ ٗ اچھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سورة نساء کی آٹھ آیات اس امت کے لئے اس ساری دنیا سے بہتر ہیں جس پر سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔ نمبر 1۔ یریداللّٰہ لیبین لکم۔ نمبر 2۔ واللّٰہ یریدان یتوب علیکم۔ نمبر 3۔ یرید اللّٰہ ان یخفف عنکم۔ نمبر 4۔ ان تجتنبوا کبائر ماتنہون عنہ نکفر عنکم۔ نمبر 5۔ ان اللّٰہ لا یغفر ان یشرک بہٖ ۔ نمبر 6۔ ان اللّٰہ لا یظلم مثقال ذرۃٍ ۔ نمبر 7۔ ما یعمل سوءا او یظلم نفسہ۔ نمبر 8۔ من یفعل اللّٰہ بعذابکم۔
معتزلہ کا استدلال :
اس آیت سے معتزلہ نے استدلال کیا کہ صغائر کی بخشش لازمی ہے۔ جبکہ کبائر سے پرہیز کیا جائے اور کبائر کی بخشش نہیں۔
شرک کی معافی اللہ کی مشیت میں ہے :
مسئلہ : یہ استدلال باطل ہے۔ کیونکہ تمام کبائر وصغائر مشیت الٰہی میں برابر ہیں۔ ان دونوں پر چاہے تو عذاب دے سکتا ہے۔ اور دونوں کو معاف کرسکتا ہے۔ جیسا اس ارشاد میں ان اللّٰہ لایغفر ان یشرک بہٖ ویغفر مادون ذلک لمن یشائ۔ النسائ۔ 48۔ کہ اللہ تعالیٰ شرک کو نہ بخشیں گے۔ اور ان کے سواجو چاہیں گے جس کو چاہیں گے معاف فرما دیں گے۔ شرک کے علاوہ گناہ پر مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور پھر دونوں کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ملایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ان الحسنات یذہبن السیئات۔ کہ نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں۔ یہ آیت بتلاتی ہے کہ صغائرو کبائر تمام کا حسنات سے معاف ہونا ممکن ہے۔ کیونکہ السیئات دونوں پر بولا جاتا ہے۔
Ayah 4:32بیجا تمنا کی ممانعت :
آیت 32 : جب دوسرے کے مال اور جاہ کی تمنا کر کے دوسرے کا مال ناجائز ذرائع سے درست نہ تھا اور قتل نفس ناحق بھی اسی ضمن میں تھا۔ تو مسلمانوں کو اس بات سے بھی منع کردیا۔ کہ وہ مال و جاہ کی اس فضیلت پر دل میں تمنا کرنے لگیں جو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے پر ان کو دی ہے۔
تقسیم ربّانی پر راضی رہو :
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ (اور تم نہ تمنا کرو اس کی جو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے فضیلت دی ہے بعض کو بعض پر) کیونکہ یہ فضیلت خداداد ہے۔ اور تدبیر و حکمت الٰہیہ سے اس طرح ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے حالات کا بخوبی علم ہے۔ کس کے لئے رزق کا کس قدر کھولنا مناسب ہے۔ یا تنگ کرنا۔ ہر شخص کو تقسیم ربانی پر راضی رہنا چاہیے۔ اور دوسرے کے حصہ اور نصیب پر حسد نہ کرے۔
حسدو رشک میں فرق :
یہ ہے کہ تمنا کرے کہ یہ چیز اس کو مل جائے اور اس سے چھن جائے۔ غبطہ ورشک۔ جو چیز اس کے پاس ہے اسی چیز کی تمنا کرے۔ اس کی شریعت نے اجازت دی اور حسد سے روک دیا۔
مسئلہ : جب مردوں نے کہا۔ کہ ہمارا اجر بھی دوگنا ہوگا۔ جس طرح میراث میں ہمارا حصہ عورتوں سے دوگنا رکھا گیا۔ عورتوں نے کہا ہمارا بوجھ بھی قیامت کے دن مردوں کے بوجھ سے نصف ہوگا جیسا کہ میراث کا حصہ۔ تو یہ آیت اتری۔
درجہ بمطابق عمل :
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ (مردوں کے لئے حصہ (ان کے اعمال کا مقرر ہے) جو وہ کمائیں اور عورتوں کے لئے (ان کے اعمال کا) حصہ ہے جو وہ کمائیں) یہ میراث کے مطابق نہیں۔ وَسْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ (اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو) اس کے خزانوں میں کمی نہیں۔ اور جو لوگوں کو فضیلت ملی اس کی تمنا مت کرو۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا (بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں) پس فضیلت اس کی طرف سے بقدر استحقاق ہے۔ ابن عیینہ (رح) کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سوال کا اسی لئے حکم دیا تاکہ وہ عطاء کرے۔
اللہ سے سوال میں خجل :
حدیث میں وارد ہے۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتا اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔ (ابن ماجہ۔ 3827) اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائی بندے سے روک کر رکھتے ہیں۔ اور فرماتے ہیں۔ میں اپنے بندے کو اس وقت تک نہیں دونگا جب تک وہ مجھ سے نہ مانگے گا۔
Ayah 4:33قراءت : وسلوا۔ مکی وشامی نے پڑھا۔
آیت 33 : وَلِکُلٍّ (ہر ایک کے لئے) : مضاف الیہ محذوف ہے۔ لکل احدٍ او لکل مالٍ ۔ جَعَلْنَا مَوَالِیَ (ہم نے وارث مقرر کردیئے) جو مال لیتے اور میت کے وارث ہوتے ہیں۔ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ (اس مال میں سے جو چھوڑا ماں ٗ باپ اور اقارب نے)
نحو : یہ مال محذوف کی صفت ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ ہر اس مال سے جس کو چھوڑ جائیں والدین الخ۔ یہ فعل محذوف کے متعلق ہے۔ موالی کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ یرثون مما ترک۔ وہ وارث ہونگے ترکہ کے جس کو چھوڑا والدین و اقارب نے۔
وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ (اور وہ لوگ جن سے تمہارے عہد بندھے ہوئے ہیں) یعنی تمہارے ہاتھوں نے معاہدہ کیا ہے۔ فَـٰاتُوْہُمْ نَصِیْبَہُمْ (ان کا حصہ ان کو دے دو ) : والذین (الاٰیۃ) یہ مبتداء ہے جس میں شرط کا معنی پایا جاتا ہے۔ اس کی خبر فٰاتوہم نصیبہم ہے۔
بہتریہ ہے کہ فٰاتوہم سابقہ جملہ کی شرح ہو اور الذین کا عطف الوالدان پر ہے۔ فَا سمیت۔ کو فی قراء نے عقَدَت پڑھا۔ یعنی عقدت عہودہم ایمانکم تمہارے دائیں ہاتھوں نے ان کے معاہدوں کو مضبوط کیا ہے۔ مراد اس سے عقد موالات ہے۔ یہ مشروع اور جائز تھے۔
اہل عقود کو وصیت سے حصہ ملے گا :
صحابہ کرام ؓ کی اکثریت اس کی قائل ہے اور یہی ہم احناف کا قول ہے۔ اس سے وراثت میں حصہ ثابت ہوجاتا ہے۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے جب کوئی مرد یا عورت مسلمان ہوتا جس کا کوئی وارث نہ ہوتا اور نہ وہ عربی ہوتا اور نہ کسی کا آزاد کردہ غلام ہوتا۔ تو وہ دوسرے مسلمان کو اس طرح کہتا۔ میں تم سے عقد موالات کرتا ہوں۔ کہ جب میں جنایت کروں تو تو تاوان ادا کرے گا۔ اور اگر میں مر جائوں تو تو میرا وارث ہوگا۔ دوسرا جواباً کہتا میں نے اس معاہدہ کو قبول کرلیا۔ چناچہ اوپر والا دوسرے کا وارث بن جاتا۔ مگر موالی کا حصہ آیت اولوا الارحام سے منسوخ ہوچکا ہے۔ اب صرف بطور وصیت ان کو دیا جائے گا جیسا اس آیت میں صراحت ہے : اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدًا (بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہیں) یعنی وہ عالم الغیب والشہادہ ہے۔ یہ انتہائی بلیغ انداز میں وعدہ بھی ہے اور وعید بھی۔
Ayah 4:34آیت 34: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ (مرد عورتوں کے ذمہ دار ہیں) وہ ان پر نگرانی امرو نہی کے سلسلہ میں کریں گے۔ جیسے والی رعایا پر کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کو قوام فرمایا گیا۔
اسبابِ فضیلت :
بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ (اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض مردوں کو بعض (عورتوں) پر فضیلت دی) بَعْضَهُمْ کی ضمیر مردوں اور عورتوں کی طرف لوٹتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مرد ان عورتوں پر غلبہ رکھتے ہیں عقل ٗ عزم ٗ حزم ٗ تیر اندازی ٗ قوت ‘ غزوہ و حرب ٗ کمال صوم وصلوٰۃ اور نبوت و خلافت و امامت و اذان اور خطبہ و جماعت و جمعہ کی وجہ سے بلکہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تکبیرات تشریق کی وجہ سے بھی فضیلت والے ہیں۔ بلکہ شہادت فی الحدود والقصاص ٗ دوگنا حصہ وراثت اور میراث میں عصبہ بننے کی وجہ سے افضل ہیں۔ اسی طرح نکاح و طلاق کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں رکھی ہے اور اولاد کی نسبت نسبی بھی انہی کی طرف ہوتی ہے۔ اور مرد ہی داڑھیوں اور پگڑیوں سے مزین کیے گئے ہیں۔
وَبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ (اور اس وجہ سے بھی کہ مرد اپنا مال ان عورتوں پر صرف کرتے ہیں) یعنی عورتوں کے نفقہ ونان کی ذمہ داری ان مردوں پر ہے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل پائی جاتی ہے کہ عورتوں کا نفقہ مردوں پر لازم ہے۔ پھر ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔
عورتوں کی تقسیم :
قسم اوّل : فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ (پس نیک عورتیں فرمانبرداری کرنے والیاں ہیں) قانتات کا معنی اطاعت گزار اور خاوندوں کے حقوق کو پورا کرنے والیاں۔ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ (اور خاوندوں کی غیر موجودگی میں حفاظت کرنے والی ہیں) للغیب کا مطلب جو غیر موجودگی میں ان پر لازم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے خاوند موجود نہ ہوں تو اپنی شرمگاہوں ٗ اموال ٗ بیوت کی پوری حفاظت کرنے والی ہوں۔
دوسرا قول یہ بھی ہے کہ للغیب کا مطلب ان کے پوشیدہ راز نہ ظاہر کرنے والی ہیں۔ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ (اس حفاظت کے سبب جو اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی) کہ خاوندوں کو ان کے متعلق نصیحت فرمائی : وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (لنساء : 19) کہ عورتوں سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آئو۔
یا ماکو مصدر یہ مانیں تو مطلب یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حفاظت غیب کا حکم دیا اور اس کی توفیق بخشی۔ مَا موصولہ ہو، یعنی عورتوں کو اس طرح بنادیا کہ مردوں کو ان کے حقوق کا نگران بنایا۔ اور اس کے بدلے ان پر عصمت اور مردوں کے اموال و اولاد کی حفاظت ان کے ذمہ کی۔
قسم ثانی : وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَہُنَّ (اور وہ عورتیں جن کی نافرمانی کا تمہیں خطرہ ہو) اور خاوند کی اطاعت سے نکل جانے کا۔ النشزبلند جگہ کو کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے۔ نشز یہ ہے کہ خاوند کے حقوق کی ادائیگی میں تخفیف کا مطالبہ کرے اور خاوند کی بات نہ مانے۔
فَعِظُوْہُنَّ (ان کو (زبانی) نصیحت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ کی سزا سے ان کو ڈرائو۔ العظہ، وعظ اس نرم کلام کو کہتے ہیں۔ جو سخت دلوں کو نرما دے اور نفرت والی طبائع کو جھکا دے۔
کنایۃً ترک جماع :
وَاہْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ (تم ان کی خوابگاہوں میں علیحدگی اختیار کرو) یعنی اپنے لحاف میں مت داخل کرو۔ یہ ترک جماع سے کنایہ ہے۔ یا بستر میں منہ اس سے پھیر لے۔ کیونکہ فی المضاجع فرمایا عن المضاجع نہیں فرمایا۔ وَاضْرِبُوْہُنَّ (اور ان کو مارو) جس کا نشان نہ پڑے اللہ تعالیٰ نے اولاً نصیحت کا حکم فرمایا پھر خوابگاہوں میں ان سے علیحدگی اختیار کرلینے اور آخر میں ضرب کا حکم فرمایا۔ گویا پہلی دونوں صورتیں نہ بن پڑیں تو تب تیسری اختیار کی جائے۔
فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَـلَا تَبْغُوْا عَلَیْہِنَّ سَبِیْلًا (اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو تم خواہ مخواہ ان پر اعتراض کا راستہ مت تلاش کرو) یعنی ایذاء سے تعرض مت کرو۔
اللہ کی عظمت کا خیال کرو :
نحو : سبیلا یہ تبغوا کا مفعول ہے۔ یہ بغیت الامر بمعنی طلبت الامر ہے۔ مت ڈھونڈو ان پر بات اعتراض والی۔ اِنَّ
اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا (بیشک اللہ تعالیٰ بڑی عظمت وکبریائی والے ہیں) اگر تمہارے غلبے والے ہاتھ ان پر ہیں تو یقین کرلو کہ اس کی قدرت اس سے بہت بڑھ کر ہے جتنی تم کو ان پر حاصل ہے۔ اس لئے ان پر ظلم سے گریز کرو۔ دوسری تفسیر یہ ہے اللہ تعالیٰ تو بڑی عظمت وکبریائی والے ہیں۔ پھر تم اس کی علو شان کے باوجود اس کی نافرمانی کرتے ہو۔ بڑی بادشاہت کے باوجود نافرمانی کر رہے ہو۔ پھر تم توبہ کرتے ہو تو وہ توبہ قبول فرماتا ہے۔ پس تمہارے حق میں جو زیادتی کر بیٹھا تم اس کو معاف کرنے کے زیادہ حقدار ہو۔ پس معاف کردو۔