4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 4:123

لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِ١ؕ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ١ۙ وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:123 in the Quran reader

(نجات) نہ تو تمہاری آرزؤوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزؤوں پر جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی طرح کا بدلہ دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مدد گار

جھوٹی تمنا بےفائدہ ہے : آیت 123 : لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ (حقیقت امر تمہاری تمنائوں پر نہیں) اے مشرکو ! کہ تمہارے یہ بت تمہیں فائدہ دیں گے۔ وَلَآٓ اَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ (اور نہ حقیقت اہل کتاب کی تمنائوں سے وابستہ ہے) جبکہ وہ اس حد تک دعویٰ کرنے والے ہیں : نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤُہٗ [ لمائدہ : 18] کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔ اسی طرح : لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَ یَّامًا مَّعْدُوْدَۃً (البقرہ : 80) کہ ہمیں تو آگ چند دن لگے گی۔ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْئً ا یُّجْزَبِہٖ (جو شخص کوئی برا عمل کرتا ہے اس کا بدلہ دیا جائے گا) خواہ مشرکین سے ہو یا اہل کتاب میں سے جیسا کہ آیت کے اگلے حصہ میں فرمایا : وَلَا یَجِدْلَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا (وہ اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست اور مددگار نہ پائے گا) اس میں کفار کو وعید سنائی گئی کیونکہ بعد والی آیت میں فرمایا۔
Ayah 4:124

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا Open ayah 4:124 in the Quran reader

اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

آیت 124 : وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ (جو شخص بھی کوئی نیک عمل کرے گا۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت اس حال میں کہ وہ مومن ہو) ۔ نحو : ہو مومن یہ حال ہے۔ اور پہلا مِنْ ۔ تبعیضیہ اور دوسرا من یعمل کے ابہام کو دور کرنے کے لئے ہے۔ نکتہ : اس آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اعمال ایمان کا جز نہیں ہیں۔ ایمان دخول جنت کا اصل سبب ہے : فَاُولٰٓپکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ (پس وہ جنت میں داخل ہونگے) قراءت : مکی ٗ ابوعمرو اور ابوبکر رحمہم اللہ نے یُدْخَلون پڑھا ہے۔ وَلَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا (اور ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی) نَقِیْر وہ گڑھا جو گٹھلی کی پشت میں ہوتا ہے۔ لا یظلمون کی ضمیر نیک و بد عمل کرنے والے تمام کی طرف ہے۔ اور یہ کہنا بھی درست ہے کہ ایک فریق کے ہاں اس کا تذکرہ کرنا دوسرے فریق کے ہاں تذکرہ کرنے کیلئے دلیل ہو۔ اور ارشاد الٰہی : من یعمل سوئً ا یجزبہٖ اور ومن یعمل من الصالحات کو اہل کتاب کی تمنیات کے بعد ذکر کرنا جیسے کہ دوسری آیت : بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْـئَتُہٗ (البقرہ 81) اور ارشاد الٰہی : والذین ٰامنوا وعملوا الصالحات کو اپنے اس ارشاد کے بعد لائے۔ وقالوا لن تمسنا النار الا ایامًا معدودۃ۔ (تو گویا ایک فریق کا تذکرہ فرمایا وہاں دوسرا خود اس سے سمجھا اور مانا جاتا ہے)
Ayah 4:125

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا Open ayah 4:125 in the Quran reader

اور اس شخص سے کس کا دینا اچھا ہوسکتا ہے جش نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکو کار بھی ہے اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسو (مسلمان) تھے ؟ اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا

آیت 125: وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ (اور ایسے شخص سے کس کا دین اچھا ہوگا جس نے پھیرلیا اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کی طرف) یعنی جس نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کردیا اور مکمل طور پر اس کے سپرد کردیا کہ اس کے سوا کسی کو رب و معبود جانتا ہی نہیں۔ وَہُوَ مُحْسِنٌ (اس حال میں کہ وہ مخلص ہو) یعنی نیک کاموں کو اپنانے والا ہو۔ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا (اور اس نے اتباع کی ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کی جو سب سے یکسو ہوجانے والے تھے) حَنِیْفًا : باطل دینوں سے منہ موڑ کر راہ حق پر گامزن۔ نحو : حنیفا یہ ابراہیم سے حال ہے یا وَاتَّبَعَ سے حال ہے۔ لفظ خلیل کی تحقیق و تعریف : وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرٰہِیْمَ خَلِیْلًا (اور اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو اپنا خالص دوست بنایا) خلیلایہ اپنے اصل کے لحاظ سے المخال تھا۔ اس کو کہتے ہیں جو تمہارے خلل اور بگاڑ کی درستگی کرے۔ یا خلال اصل ہے جس کا معنی گھر میں آنا جانا ہے۔ یا خلل کا معنی رخنہ اور شگاف ہے جو تمہارے شگاف و خلل کو اسی طرح دور کرے جیسا وہ اپنے شگاف کو کرتا ہے۔ خُلّت خالص دوستی کو کہتے ہیں۔ جو رازوں کے خالص ہونے کی وجہ سے خصوصیت کو لازم کرتی ہے۔ اور محبت زیادہ مخلصانہ ہے کیونکہ وہ دل کی گہرائی سے ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔ جیسا کہ شاعر کے اس کلام میں۔؎ یالیت شعری والحوادث جمۃ جملہ کا فائدہ : ملت و طریق ابراہیمی کی اتباع کی تاکید کردی۔ کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس مرتبہ کو پہنچا ہو۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو خلیل بنایا۔ تو اس کا راستہ اتباع و پیروی کے لئے لائق و مناسب ہے۔ اگر اس کو ماقبل جملوں پر بطور عطف لایا جاتا تو یہ معنی نہ دے سکتا۔ حدیث شریف میں وارد ہے رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا جبرئیل بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو خلیل کیوں بنایا۔ تو انہوں نے جواب دیا کیونکہ وہ مخلوق کو کھانا کھلاتے۔ اور لوگوں کو خوب سلام کہتے۔ اور رات کو لوگ سوتے اور وہ نماز میں مشغول ہوتے۔ (بیہقی 9616 فی شعب الایمان) ایک قول یہ بھی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں نے تجھے خلیل بنایا کیونکہ تو لینے کی بجائے دینا پسند کرتا ہے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے تو لوگوں کو دیتا ہے خود ان سے طلب نہیں کرتا۔
Ayah 4:126

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠ Open ayah 4:126 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا پر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

خلیل کو اللہ کی خلت کی حاجت ہے : آیت 126 : وَلِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے) اس میں اس بات کی دلیل بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی خُلّت کی خلیل کو حاجت ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی خُلّت کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ وہ اس سے پاک ہے۔ وکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطًا (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والے ہیں) اپنے علم کے لحاظ سے۔
Ayah 4:127

وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّ١ۙ وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ فِیْ یَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیْمًا Open ayah 4:127 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتوی طلب کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ انکے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بےکس بچوں کے بارے میں اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

فتویٰ ‘ مبہم کی وضاحت کا نام : آیت 127 : وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ (وہ عورتوں (کی میراث) کے متعلق آپ سے دریافت کرتے ہیں) یعنی وہ آپ سے عورتوں کے متعلق فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ اور افتاء مبہم کو واضح کرنے کو کہتے ہیں : قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّ وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ ۔ (اے محمد) کہہ دیں کہ اللہ عورتوں کے متعلق تم کو اپنا حکم کھول کر بتاتا ہے۔ اور جو تم پر پڑھا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یتیم عورتوں کے متعلق) یعنی اللہ تعالیٰ اپنا حکم بتا رہے ہیں۔ الکتاب سے مراد قرآن مجید اور فی یتامٰی سے مراد یہ آیت ہے : وان خفتم الا تقسطوا فی یتامٰی النسائ۔ 3۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں۔ اعجبنی زید وکرمہ۔ مجھے زید کی سخاوت نے تعجب میں ڈالا۔ نحو : وما یتلی۔ یُفتیکم کی ضمیر عطف کی وجہ سے مرفوع ہے یا لفظ اللہ پر عطف کی وجہ سے۔ یتلٰی کا صلہ فی یتامی النساء ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے،۔ یتلی علیکم فی معناہن۔ نمبر 2۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فی یتامی النساء فیہن سے بدل ہو۔ اور اضافت من کے معنی میں ہو۔ غلط روش کی تردید : الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ (وہ عورتیں جن کو تم ان کا لازم کردہ حق نہیں دیتے ہو) یعنی جو ان کا میراث میں حصہ مقرر ہوا۔ اور عرب میں یتیم بچیوں کو اپنے ساتھ ملاتے اور ان کا مال بھی لے لیتے۔ اگر خوبصورت ہوتیں تو ان سے شادی کرلیتے اور مال کھا جاتے اور اگر بدصورت ہوتیں تو شادی سے ان کو روکتے یہاں تک کہ وہ مرجاتیں اور وہ ان کے وارث بن جاتے۔ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ (اور تم ان سے نکاح میں رغبت رکھتے ہو) ان کی خوبصورتی کی وجہ سے یا ان کی بدصورتی کی وجہ سے نکاح سے بےرغبتی رکھتے ہو۔ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ (اور کمزور بچے) یعنی یتیم۔ نحو : المستضعفین یہ یتامی النساء پر عطف کی وجہ سے مجرور ہے۔ نحوی تحقیق : زمانہ جاہلیت میں مضبوط آدمی کو وارث بناتے بچوں اور عورتوں کو چھوڑ دیتے۔ وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰی (یہ کہ تم قائم کرو انصاف یتامیٰ کے لئے) : (1) یہ بھی المستضعفین کی طرح مجرور ہے۔ معنی اس طرح ہے یفتیکم فی یتامی النساء و فی المستضعفین، و فی ان تقوموا۔ نمبر 2۔ یا منصوب ہے۔ اور معنی یہ ہے۔ یامر کم ان تقوموا۔ اس صورت میں ذمہ داروں کو خطاب ہے کہ وہ ان کی دیکھ بھال کریں۔ اور ان کے حقوق پورے پورے دیں۔ بِالْقِسْطِ (انصاف و عدل کے ساتھ) ان کے اموال و میراث کے سلسلہ میں۔ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ (اور جو تم بھلائی کا کام کرو) فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا (پس اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والے ہیں) وہ اس پر بدلہ دیں گے۔ نحو : ماتفعلوا شرط فان اللّٰہ یہ جواب شرط ہے۔
Ayah 4:128

وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:128 in the Quran reader

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ وہ تو میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبعیتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہے اور اگر تم نیکو کاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

شرط پر صلح میں حرج نہیں : آیت 128: وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْم بَعْلِہَا نُشُوْزًا (اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بد دماغی کا خطرہ ہو) یعنی علامات و قرائن سے احتمال ہو۔ النشوز خاوند بیوی سے خشکی دکھائے اور اس کا حق اور خرچہ روک دے۔ اور گالی گلوچ اور ضرب سے تنگ کرے۔ اَوْ اِعْرَاضًا یا رخ پھیر لینے کا خطرہ ہو۔ کہ وہ اس سے میل جول میں کمی کرتا اور انس و محبت میں کمی کرتا ہو خواہ اس کے بڑھاپے یا بدصورتی کی وجہ سے یا اس کے اخلاق یا خلقت یا رنج یا دوسری سے آنکھ لگ جانے کی وجہ سے یا اور اسی طرح کی صورت ہو۔ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا تو کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنے مابین (کسی شرط پر) مصالحت کرلیں۔ قراءت : کوفی نے یصَّالحا پڑھا۔ یصّالحا اصل میں یتصالحا ہے تا کو صاد کر کے ادغام کیا گیا ہے۔ صُلحاً یہ مصدر ہے اور ہر دو فعل مصدر کے معنی میں ہیں الصلح کا معنی یہ ہے کہ وہ دونوں باہمی خوشدلی سے صلح کرلیں کہ وہ عورت خوشدلی سے کسی تقسیم پر راضی ہوجائے یا بعض حصے پر راضی ہوجائے یا بعض مہر خاوند کو واپس کر دے یا تمام واپس کر دے یا خرچہ کا مطالبہ نہ کرے۔ صلحًا (ان یصلحا کا کو مفعول بنانا صحیح ہے خواہ مجرد و مزید کا فرق ہے جیسا کہ اس آیت میں انبتہُ اللّٰہ نباتًا) وَالصَّلْحُ خَیْرٌ (اور صلح بہت بہتر ہے) جدائی سے یا نافرمانی سے یا ہر چیز میں جھگڑا ڈالنے سے۔ یا الصلح خیر من الخیور کہ بھلائیوں میں سے بڑی بھلائی صلح ہے جیسا کہ جھگڑا شرور میں سے بڑا شر ہے۔ بخل طبع انسانی کا حصہ ہے : نحو : یہ جملہ معترضہ ہے۔ جیسا کہ : وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ انسانی طبائع سے حرص غائب نہیں ہوتی۔ اس آیت میں بخل کو نفس انسانی کے پاس ہر وقت حاضر باش قرار دیا کہ وہ کبھی اس سے غائب نہیں۔ یعنی وہ طبع انسانی کا حصہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ عورت اپنے حصہ سے درگزر کے لئے تیار نہیں اور مرد اس کو اس کا حصہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ جب کہ وہ اس سے بےرغبتی رکھتا ہو۔ ہر ایک اپنے آرام کا طالب ہے۔ احضرت کے دو مفعول ہیں اول انفس اور دوسرا الشح۔ پھر طبیعت کی مخالفت پر آمادہ کیا اور شریعت کی اتباع کا حکم دیا۔ وَاِنْ تُحْسِنُوْا (اور اگر تم احسان کرو) اگرچہ وہ تمہیں ناپسند اور دوسری پسند ہوں مگر حق صحبت کا خیال کرتے ہوئے ان کو قائم رکھو۔ وَتَتَّقُوْا (بےرغبتی اور اعراض سے بچو) اور ان چیزوں سے بھی جو جھگڑے اور ایذاء کا باعث ہوں۔ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ، تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال احسان وتقویٰ سے خَبِیْرًا (مطلع ہیں) پس وہ تمہیں ثواب عنایت فرمائیں گے۔ لطیفہ : عمران خارجی علیہ ما علیہ بنی آدم کے انتہائی ٗ بدصورت لوگوں میں سے تھا۔ اور اس کی بیوی انتہائی خوبصورت۔ عورت نے اس کو دیکھ کر کہا الحمدللہ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اور تو جنتی ہیں۔ عمران نے کہا وہ کیسے۔ عورت نے کہا تمہیں مجھ جیسی خوبصورت ملی تو تم نے شکر کیا اور مجھے تجھ جیسا بدصورت ملا تو میں نے صبر کیا اور جنت تو شاکرین و صابرین کے لئے تیار کی گئی ہے۔ (اگر خارجی ان میں سے ہوئے تو ! فافہم)
Ayah 4:129

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ١ؕ وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:129 in the Quran reader

اور تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

عدل کی تعریف : آیت 129 : وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْااَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآئِ (تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ تم عورتوں کے درمیان عدل کرو) یعنی ایسی برابری اور عدل کہ بالکل جھکائو نہ ہو۔ پس عدل کی تکمیل اسی میں ہے کہ ان کے مابین تقسیم ٗ نفقہ ٗ خیال رکھنے ‘ التفات نظر ٗ متوجہ ہونا ٗ دل لگی کی گفتگو ٗ خوش طبعی وغیرہ میں برابری کی جائے۔ ایک قول یہ بھی کہ العدل کا مطلب محبت میں برابری ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں تقسیم کے سلسلہ میں برابری فرماتے اور فرماتے اے اللہ یہ میری تقسیم اس سلسلہ میں ہے جو میرے قبضہ میں ہے۔ لیکن جو بات میرے قبضہ میں نہیں صرف تیرے اختیار میں ہے۔ اس میں تو میری پکڑ نہ کر۔ یعنی محبت۔ کیونکہ آپ ﷺ کو حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ محبت تھی۔ حتی الامکان عدل کرو : وَلَوْ حَرَصْتُمْ (اگرچہ تم اس کی کتنی خواہش کرو) فَـلَا تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ (مگر کامل طور پر جھک نہ جانا) یعنی اس میں میلان اختیار کر کے مرغوب کی طرف زیادہ نہ جھکو کہ اس کی رضامندی کے بغیر اس کا حصہ روک لو۔ یعنی تمام میلان سے پرہیز تو آسانی اور سہولت کی غرض سے ہے۔ مگر اس میں تفریط سے کام نہ لو کہ بالکل عدل سے ہی تفریط ہوجائے۔ اس ارشاد میں ایک طرح کی توبیخ ہے۔ نحو : کُلَّ کا لفظ مصدر کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ اس کا حکم مضاف الیہ کا ہوتا ہے۔ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ (کہ تم اس کو ادھر میں لٹکی ہوئی کی طرح چھوڑ دو ) کہ نہ وہ رانڈ رہے نہ سہاگن۔ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا ( اور اگر تم ان کی اصلاح کرلو۔ اور بگاڑ سے بچتے رہو) فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے مہربان ہیں) وہ دلوں کا میلان تمہیں معاف کردیں گے اور تم پر رحمت فرماتے ہوئے سزا نہ دیں گے۔
Ayah 4:130

وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا Open ayah 4:130 in the Quran reader

اور اگر میاں بیوی میں (موافقت نہ ہو سکے) اور ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کر دے گا اور خدا بڑی کشائش والا (اور) حکمت والا ہے

آیت 130 : وَاِنْ یَّتَفَرَّقَا (اور اگر وہ دونوں الگ الگ ہوجائیں) اور کسی چیز پر صلح نہ کریں اور خلع یا طلاق سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ اور اس کا حق مہر اور نفقہ عدت پورا پورا دے دیں۔ یُغْنِ اللّٰہُ کُلاًّ (تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کو دوسرے کا محتاج نہ رکھے گا) مِّنْ سَعَتِہٖ (اپنی وسعت (قدرت اور غناء) کے ساتھ) یعنی عورت کو بہتر خاوند دے دے گا اور اچھی گزران پہلی گزران سے۔ وَکَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا (اور اللہ تعالیٰ وسعت والے ہیں) کہ اس نے نکاح کو حلال کردیا۔ حَکِیْمًا (اور حکمت والے ہیں) کہ رخصت کرنے کی اجازت دے دی۔ السعت : قدرت و غناء کو کہتے ہیں۔ الواسعالغنی، المقتدر۔
Ayah 4:131

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا Open ayah 4:131 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمد ﷺ تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا بےپروا اور سزا وار حمد وثنا ہے

آیت 131 : اس آیت میں اپنا غنی اور قادر ہونا بتلایا۔ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے) پیدا کرنے کے اعتبار سے، اور وہ اپنے غلاموں کو بطور غلام مالک بنانے والا ہے۔ وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ (تحقیق ہم نے وصیت کی ان لوگوں کو جن کو کتاب دی گئی) الکتاب میں الف لام جنس کا ہے اور تمام آسمانی کتابیں مراد ہیں۔ مِنْ قَبْلِکُمْ (تم سے پہلے) گزشتہ امتیں۔ اصل سعادت تقویٰ ہے : نحو : یہ وصینا یا اوتوا سے متعلق ہے۔ وَاِیَّاکُمْ (اور تمہیں) یہ الذین اوتوا کا معطوف ہے۔ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ (کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو) یا ان مفسرہ ہے کیونکہ وصیت قول کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ پرانی وصیت ہے جو پرانے زمانہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو فرماتے ہیں۔ یہ صرف تمہیں ہی نہیں کی گئی کیونکہ بندے تقویٰ سے ہی اس کے ہاں سعادت مند بنتے رہے ہیں۔ وَاِنْ تَکْفُرُوْا (اور اگر تم کفر کرو) اس کا عطف بھی اتقوا پر ہے۔ کیونکہ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور تمہیں تقویٰ کا حکم دیا۔ اور انہیں بھی کہا اور تمہیں بھی کہتے ہیں۔ اگر تم ناشکری کرو گے۔ فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ غَنِیًّا حَمِیْدًا (پس بیشک اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ غنی اور حمید ہیں) غنی ہیں یعنی مخلوق سے اور ان کی عبادات سے اور حمید ہیں یعنی مستحق حمد ہیں اس کی تعریف کثرت انعام کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ خواہ ان کی کوئی تعریف کرے یا نہ کرے ( وہ ان کی تعریف کا محتاج نہیں)- حکم تقویٰ مالک ہونے کی وجہ سے : نکتہ : نمبر 1۔ للّٰہ مافی السمٰوٰت وما فی الارض دوبارہ لایا گیا۔ تاکہ یہ بات پختہ طور پر ثابت کردی جائے کہ اس کے تقویٰ کا سبب یہ ہے کہ ساری خلق اسی ہی کی ہے اور وہ ان کا خالق ومالک ہے۔ پس اس کا حق یہ ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے اور نافرمانی نہ کرے۔ نمبر 2۔ اس میں یہ بھی ثبوت مہیا کردیا کہ تقویٰ تمام بھلائیوں کی جڑ ہے۔ اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد ان تکفروا لا کر بتلا دیا کہ مراد تقویٰ سے شرک سے بچنا ہے۔
Ayah 4:132

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:132 in the Quran reader

(اور پھر سن رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا ہی کار ساز کافی ہے

کار ساز وہی ہے : آیت 132 : وَلِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں ہے جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ کا کارساز ہونا کافی ہے) پس اسی کو کار ساز بنائو۔ غیروں پر بھروسہ نہ کرو۔
Ayah 4:133

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِیْرًا Open ayah 4:133 in the Quran reader

لوگو ! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کر دے اور خدا اس بات پر قادر ہے

عظمت قدرت : آیت 133 : اس آیت میں بندوں کو ڈرایا اور اپنی قدرت کو بیان فرمایا : اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ (اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے) اَیُّہَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ (اے لوگو ! اور دوسروں کو لے آئے یا انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق لے آئے) وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قدرت حاصل ہے) اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بلیغ انداز میں بیان فرمایا۔ (اور کفار کو دھمکی دی) ۔
Ayah 4:134

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 4:134 in the Quran reader

جو شخص دنیا (میں عملوں) کی جزا کا طالب ہو تو خدا کے پاس دنیا اور آخرت (دونوں) کے لیے اجر (موجود) ہے اور خدا سنتا اور دیکھتا ہے

فقط طلب دنیا طلب خسیس ہے : آیت 134 : مَنْ کَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا (جو دنیا کے ثواب کا طالب ہے) جیسے کوئی مجاہد اپنے جہاد سے مال غنیمت کا طالب ہو۔ فَعِنْدَ اللّٰہِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (پس اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اور آخرت کا ثواب ہے) پس یہ شخص کیوں صرف ایک کا طالب بنتا اور دوسرے کو چھوڑتا ہے۔ اور جو یہ طلب کرتا ہے وہ تو بہت ہی حقیر و خسیس ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًــا (اور اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والے ہیں) بَصِیْرًا (اور ہر فعل کو دیکھنے والے ہیں) اس حصہ آیت میں وعدہ اور وعید دونوں پائے جاتے ہیں (سبحان اللہ)
Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو ! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اسمیں) تمہارا یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا اگر تم پیچ دار شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

آیت 135 : یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّا ِمیْنَ بِالْقِسْطِ (اے ایمان والو ! انصاف پر خوب قائم رہنے والے ہوجائو) یعنی اقامت عدل میں خوب کوشش کرو یہاں تک کہ ظلم نہ کرو۔ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے لئے گواہی دینے والے) یعنی تم اپنی گواہی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے دو ۔ نحو : قوامین خبرا ول اور شہداء خبر ثانی ہے۔ اقرار شہادت علی النفس : وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ (اگرچہ وہ گواہی اپنے نفسوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو) شہادت علی نفسہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے نفس کے خلاف اقرار کیونکہ یہ بھی شہادت ہے۔ کیونکہ حق کو اپنے اوپر اس نے لازم کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دعویٰ ٗ شہادت ‘ اقرار یہ تینوں چیزیں کسی ایک کے دوسرے پر حق کی خبر و اطلاع میں برابر ہیں۔ البتہ تینوں میں فرق یہ ہے کہ دعویٰ یہ اپنے ذاتی حق کی اطلاع ہے جو غیر کے ذمہ ہے۔ اقرارکسی دوسرے کا حق اپنے اوپر تسلیم کرنا۔ شہادت دوسرے کے حق کے لئے دوسرے کے خلاف اطلاع دینا ہے۔ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ (یا والدین اور قرابت داروں کے خلاف ہو) یعنی اگر شہادت اپنے ماں ٗ باپ اور اقارب کے خلاف ہو۔ اِنْ یَّکُنْ (اگرچہ وہ شخص) جس کے خلاف گواہی دی گئی ہے۔ غَنِیًّا (مالدار ہو) تو پھر بھی گواہی سے نہ رکے اس کی مالداری کی وجہ سے کہ اس کی رضا مندی کو چاہنے لگے۔ اَوْ فَقِیْرًا (یا فقیر ہو) اس پر شفقت و رحمت گواہی سے نہ روکے۔ فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِہِمَا (اللہ تعالیٰ کا تعلق ان دونوں سے زیادہ ہے) یعنی ان کو دیکھ کر اور ان پر رحمت کھاتے ہوئے۔ ایک لغوی تحقیق : نحو : بہما میں ضمیر تثنیہ لائے حالانکہ ضمیر واحد لانی چاہیے تھی۔ کیونکہ مطلب اس کا یہ ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایک ہے اس لئے کہ جس پر قول باری تعالیٰ : غنیا او فقیرًا دلالت کرتا ہے ضمیر اس کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور وہ فقیر و غنی کی جنس ہے۔ گویا کلام اس طرح ہے۔ فاللّٰہ اولی بجنسی الغنی والفقیر یعنی بالاغنیاء والفقرائ۔ پس دونوں کی جنس مراد ہے تو تثنیہ کی ضمیر درست ہوئی۔ (جس کے حق یا خلاف شہادت دی جا رہی ہے۔ وہ دونوں سیاق کلام سے معلوم ہو رہے ہیں ان کی طرف ضمیر لوٹا لی جائے تو اشکال نہیں رہتا۔ فافہم) فَـلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓی (نہ اتباع کرو خواہش نفس کی) بالا رادہ۔ اَنْ تَعْدِلُوْا (کہیں تم حق سے ہٹ جائو) یہ عدول سے ہے یا اس بات کے خطرے کے پیش نظر کہ تم لوگوں کے درمیان عدل سے مڑ جائو۔ وَاِنْ تَلْوٗا اَوْ تُعْرِضُوْا (اگر تم کج بیانی کرو یا پہلوتہی اختیار کرو) قراءت و نحو : تَلُوْا۔ ایک وائو اور لام کے ضمہ سے۔ شامی و حمزہ نے پڑھا ہے۔ یہ الولایۃ سے ہے۔ اگر تمہیں شہادت کے قائم کرنے کا ذمہ دار بنایا جائے یا اس کے قائم کرنے سے اعراض کرو۔ ان کے علاوہ قراء نے دو وائو اور سکون لام سے پڑھا۔ اس صورت میں یہ اللیّ سے ہے۔ مطلب یہ ہوگا اگر تم موڑو ! اپنی زبانیں حق کی شہادت سے یا عادلانہ فیصلہ سے۔ یا تم شہادت سے اعراض کروجو تمہارے پاس ہے اور اس کو روک لو۔ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا (تو اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی خبر ہے) پس وہ اس پر تمہیں بدلہ دے گا۔
Ayah 4:136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

مومنو ! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنے پیغمبر (آخر الزماں ﷺ پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ اور جو شخص خدا اور اسکے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روز قیامت سے انکار کرے وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑا

تفسیر آیت 136 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓ ا ( اے ایمان والو) ۔ ثبات و اخلاص کی دعوت : امِنُوْا (ایمان کے سلسلہ میں اتباع کرو) اور اس پر مداومت اختیار کرو۔ یہ ایمان والوں کو خطاب ہے یا اہل کتاب کو کیونکہ کتاب کے بعض حصے پر ان کو ایمان تھا اور کچھ رسل پر۔ اور بعض رُسُل کا انکار کرتے تھے۔ یا منافقین کو خطاب فرمایا۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا۔ اے وہ لوگو ! جو منافقت کے طور پر ایمان لائے ہو تم مخلص مسلمان بن جائو۔ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول) یعنی محمد ﷺ پر۔ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ (اور اس کتاب (یعنی قرآن) پر جو اس نے اپنے رسول پر اتارا) وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ (اور وہ کتاب جو اس نے اس سے پہلے اتاری) الکتاب سے جنس کتاب مراد ہے۔ جو پہلے انبیاء ( علیہ السلام) پر اتریں۔ اور اس پر دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشادو کتبہٖ دلالت کرتا ہے۔ قراءت و نحو : نُزِّل و اُنْزِل۔ مکی و شامی نے پڑھا اور ابو عمرو نے بھی۔ اور دوسرے قراء نے ان دونوں الفاظ کو مبنی للفاعل پڑھا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نزل علٰی رسولہٖ اور انزل من قبل کیلئے ہے کیونکہ قرآن مجید جدا جدا ٗ تھوڑا تھوڑا بیس سال میں اترا بخلاف ان کتب کے جو اس سے پہلے اتریں۔ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓپکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (اور جو شخص اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور یوم آخرت کا انکار کرے گا) یعنی ان میں سے کسی ایک چیز کا انکار کرے گا) فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰـلًام بَعِیْدًا (پس تحقیق وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا) کیونکہ بعض کا انکار تمام کا انکار ہے۔
Ayah 4:137

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا راستہ دکھائے گا

آیت 137 : اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے) یعنی موسٰی ( علیہ السلام) پر۔ ثُمَّ کَفَرُوْا (پھر انہوں نے انکار کردیا) جبکہ بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ ثُمَّ ٰامَنُوْا (پھر دوبارہ موسٰی ( علیہ السلام) پر طور سے واپسی پر ایمان لے آئے) ثُمَّ کَفَرُوْا (پھر انہوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کا انکار کردیا ) ۔ ازدیاد کفر خطرناک ہے : ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا (پھر کفر میں مزید ترقی کر گئے) حضرت محمد ﷺ کا انکار کرنے کی وجہ سے۔ لَّمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَلَہُمْ وَلَا لِیَہْدِیَہُمْ سَبِیْلاً (اللہ تعالیٰ ان کو بخشنے والے اور ان کی مغفرت فرمانے والے اور ان کو ہدایت کی طرف راستہ دینے والے نہیں ہیں) سبیل سے مراد نجات کا راستہ یا جنت کا راستہ۔ یا پھر اس سے مراد منافقین ہیں جو کہ ظاہر میں ایمان لائے اور پوشیدہ طور پر کفر کرتے رہے مسلسل۔ اب ازدیادکفر سے مراد موت تک کفر پر قائم رہنا ہے۔ اور اس کی تائید اس ارشاد الٰہی سے ہوتی ہے۔
Ayah 4:138

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ منافقوں (یعنی دوزخے لوگوں) کو بشارت سن دو کہ ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ (کہ منافقین کو تم خوشخبری دے دو ) یعنی اطلاع دے دو اور بشر کا صیغہ تھکم اور استہزاء کے لئے لایا گیا۔ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا (کہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے)
Ayah 4:139

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا یہ ان کے ہاں عزت (حاصل) کرنا چاہتے ہیں ؟ تو عزت سب خدا ہی کی ہے

منافقین کا طرز عمل : آیت 139 : الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ (وہ لوگ جو کافروں کو دوست بناتے ہیں ایمان والوں کو چھوڑ کر کیا وہ ان کے ہاں عزت کے طالب ہیں) نحو : الذین نمبر 1۔ ذم کی وجہ سے منصوب ہے۔ یا نمبر 2۔ مرفوع ہے۔ بمعنی ارید الذین۔ یا نمبر 3۔ ہم الذین۔ منافقین کفار سے دوستی اختیار کرنے والے تھے۔ ان سے مدد و حفاظت کے طالب ہوتے اور کہتے کہ محمد ﷺ کا معاملہ تکمیل پذیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا (پس بیشک عزت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے) مکمل اور جس کو وہ عزت دے جیسے نبی اکرم ﷺ اور مومن جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولِلّٰہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین۔ المنافقون۔ 8۔
Ayah 4:140

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہو رہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں ان کے پاس مت بیٹھو ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں (سب کو) دوزخ میں اکٹھا کرنے والا ہے

آیت 140 : وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ (تحقیق اس نے تم پر اتارا) فِی الْکِتَابِ (یعنی قرآن میں) قراءت : نَزَّلَ نون کے فتحہ کے ساتھ عاصم نے پڑھا۔ جبکہ دوسروں نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ مجالست منافقین کی ممانعت : اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ ٰایٰتِ اللّٰہِ یُکْفَرُبِہَا وَیُسْتَہْزَاُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ (کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور استہزاء ہوتا ہوا دیکھو تو ان کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مصروف ہوجائیں) یعنی یہاں تک کہ کفر و استہزاء قرآن کے علاوہ کوئی اور بات شروع کردیں۔ الخوضشروع ہونا۔ اَنْ یہ مخففہ من المثقلہ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ انہ اذا سمعتم یعنی تم پر اتارا کہ معاملہ اس طرح ہے۔ والشان سے مراد وہ حالت جو جملہ سے شرط جزاء سمیت معلوم ہو رہی ہے۔ نحو : اَن اپنے اس موقعہ کے لحاظ سے نُزِّلَ سے موضع رفع میں ہے۔ یا پھر نَزّل کی وجہ سے موضع نصب میں ہے اور المنزل علیہ۔ کتاب میں وہ آیات ہیں جو مکہ میں اتریں جیسا یہ آیت : وَاِذَا رَاَ یْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ ٰایٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ [ الانعام : 68] اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ قرآن مجید کا تذکرہ اپنی مجالس میں کر کے اس کا مذاق اڑاتے۔ مسلمانوں کو ان کی مجالست سے روک دیا گیا۔ جب تک کہ وہ اس میں مصروف رہیں۔ مدینہ میں منافقین نے بھی مشرکین مکہ کا طرز عمل اپنا لیا۔ اس لئے مسلمانوں کو ان کے ساتھ بیٹھنے سے روک دیا گیا۔ جیسا کہ ان کو مشرکین مکہ کی ہم مجلسی سے روکا گیا۔ گناہ کے اعتبار سے تمثیل : اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ (بیشک تم اس وقت ان کی طرح ہو) گناہ میں جبکہ تم ان کے ساتھ ٹھہرے رہے۔ یہاں ہر اعتبار سے تمثیل مقصود نہیں۔ منافقین کا ایسی باتوں میں مصروف ہونا کفر ہے۔ اور مسلمانوں کا ان کے ساتھ بیٹھنا معصیت ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْکٰفِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمَِیْعًا (بیشک اللہ تعالیٰ منافقین اور کفار کو جہنم میں جمع کرنے والے ہیں) کیونکہ وہ کفر و استہزاء میں دونوں جمع ہیں۔
Ayah 4:141

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کو فتح نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے ؟ اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھ سے بچایا نہیں ؟ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

آیت 141 : الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ (وہ ایسے ہیں کہ تم پر مصیبت وافتاد پڑنے کے منتظر رہتے ہیں) کہ تمہیں کوئی کامیابی و غنیمت نہ ملے یا تمہارے میں ایسی چیز کے منتظر ہیں جس سے نئی فتح میسر ہو۔ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ (اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں فتح ہوگئی) اور نصرت و غنیمت مل گئی۔ قَالُوْٓا اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ (تو کہتے ہیں کیا ہم تمہاری پشت پناہی کرنے والے نہ تھے) پس ہمیں بھی غنیمت میں شریک کرو۔ مومن و کافر کی کامیابی میں فرق : وَاِنْ کَانَ لِلْکٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ (اور اگر کافروں کو حصہ مل جاتا ہے) مسلمانوں کی کامیابی کو فتح فرمایا تاکہ ان کی عظمت شان ظاہر ہو۔ کیونکہ یہ اتنا بڑا معاملہ ہے۔ جس سے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور کفار کی کامیابی کو نصیب کہا جو کہ ایک خسیس حصہ ہے۔ کیونکہ بچی کھچی دنیا ان کو ملے گی۔ نحو : الذین یہ الذین یتخذون سے بدل ہے یا منافقین کی صفت ہے۔ یا فعل ذم کی وجہ سے منصوب ہے۔ قَالُوْٓا (وہ کہتے ہیں) یعنی کفار کو اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ (کیا ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے) اور تمہارے قتل پر قدرت نہ پالی تھی مگر ہم نے تمہیں چھوڑ دیا۔ الاستحواذ کا معنی غلبہ و استیلاء ہے۔ وَنَمْنَعْکُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا نہیں لیا) کہ ہم نے ان کو ایسا خیال دلایا جس سے ان کے دل کمزور ہوگئے۔ اور وہ تمہارے قتال سے سست پڑگئے۔ اور تمہارے خلاف ان کی معاونت میں ہم نے سستی کی پس ہمارا حصہ نکالو ! جو تم نے مال غنیمت پایا ہے۔ قیامت میں کافر مغلوب ہوگا : فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ (پس اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اے مؤمنو اور منافقو فیصلہ فرمائے گا) یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (قیامت کے دن) پس منافقین کو آگ میں داخل کرے گا۔ اور مؤمنین کو جنت عنایت فرمائیں گے۔ وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً (اور ہرگز اللہ تعالیٰ نے کافروں کو مؤمنوں پر کوئی راستہ نہیں دیا) قیامت میں جس کی دلیل اول آیت کا حصہ ہے۔ حضرت علی ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔ یا سبیل کا معنی حجت ہے۔ اسی طرح عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے۔
Ayah 4:142

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم

منافقین کے اعمال کی کیفیت : آیت 142 : اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ (بیشک منافق اللہ تعالیٰ سے مخادعہ کرتے ہیں) یعنی وہ ایسا معاملہ کرتے ہیں جو دھوکا دینے والے کی طرح ہو۔ کہ ایمان کا اظہار اور دل میں کفر۔ منافق جو ایمان کو ظاہر کرے اور باطن میں کفر چھپائے۔ یا وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو دھوکا دیتے ہیں یعنی مؤمنوں کو۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دھوکا کو اپنے ساتھ دھوکا قرار دیا مسلمانوں کی عظمت و شرافت کو بڑھانے کے لئے۔ وَہُوَ خَادِعُہُمْ (اور وہ ان کی چالبازی کی سزا ان کو دینے والے ہیں) اللہ تعالیٰ ان سے وہ سلوک فرمانے والے ہیں جو دھوکا میں غالب آنے والا کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ ان کو دنیا میں محفوظ اموال و دماء والا کردیا۔ اور آخرت میں ان کے لئے آگ کا سب سے نچلا طبقہ منتخب فرمایا ہے۔ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی (جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں) ناپسندیدگی اور بوجھل پن سے۔ البتہ غفلت کا شکار تو کبھی کبھی مومن بھی ہوجاتا ہے۔ کسالیٰ جمع کسلان جیسے سکارٰی جمع سکران۔ یُرَآ ئُ وْنَ النَّاسَ (وہ لوگوں کے سامنے دکھلاوا کرتے ہیں) یہ حال ہے۔ وہ اپنی نماز سے دکھلا وے اور شہرت کا قصد کرتے ہیں۔ المراء ۃیہ رؤیت سے باب مفاعلہ ہے۔ کیونکہ دکھلاوے والا ان کو اپنا عمل دکھلا رہا ہوتا ہے۔ اور وہ لوگ اس کو استحسان کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وَلَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلاَّ قَلِیْلًا (وہ اللہ تعالیٰ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں) وہ تھوڑی نماز پڑھتے ہیں۔ یعنی لوگوں کی غیر موجودگی میں تو وہ بالکل نماز نہیں پڑھتے۔ یا تسبیح تہلیل سے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت قلیل۔ اللہ کے لئے قلیل بھی بہت ہے : حضرت حسن بصری (رح) فرماتے اگر وہ قلیل بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا تو بہت ہوتا۔
Ayah 4:143

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف ہوتے ہیں اور نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو تم اس کے لئے کبھی بھی راستہ نہ پاؤ گے

مذبذب کی حقیقت : آیت 143 : مُّذَبْذَبِیْنَ یہ منصوب علی الذم ہے۔ یعنی رد کیئے ہوئے۔ مطلب یہ ہوا کہ شیطان اور خواہشات نے ان کو کفر و ایمان کے درمیان مذبذب کردیا ہے۔ وہ ان کے مابین حیران پھرنے والے ہیں اور مذبذب کی حقیقت تو یہی ہے کہ وہ دونوں طرفوں سے ہی دفع کیا جاتا ہے۔ وہ ایک جانب قرار نہیں پاتا۔ الذبذبۃ میں جو تاکید ہے وہ الذب میں نہیں۔ بَیْنَ ذٰلِکَ (اس کے درمیان) یعنی کفر و ایمان کے درمیان۔ لَآ اِلٰی ہٰٓؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ہٰٓؤُلَآئِ (نہ تو وہ ان کی طرف منسوب ہیں کہ وہ مومن شمار ہوں اور نہ ان کی طرف منسوب ہیں کہ ان کو مشرک کہا جائے) وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَلَہٗ سَبِیْلاً (جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پس تم ہرگز اس کے لئے کوئی راستہ نہ پائو گے) یعنی ہدایت کی طرف ان کو راہ نہ ملے گی۔
Ayah 4:144

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو۔

آیت 144 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ( اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر تم کافروں کو دلی دوست نہ بنائو۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارے لئے واضح حجت اللہ تعالیٰ کے ہاں پیدا ہوجائے) سلطان مبین سے عذاب دینے کی واضح دلیل مراد ہے۔
Ayah 4:145

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے اور تم ان کو کسی کا مددگار نہ پاؤ گے

منافقین کا عذاب سخت ہونے کی وجہ : آیت 145 : اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (بیشک منافقین آگ کے سب سے نچلے درجہ میں ہونگے) یعنی اس طبقہ میں جو جہنم کی گہرائی میں ہے اور آگ کے سات درکات ہیں ان کو درکات کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پے در پے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ اور منافق کا عذاب کافر سے زیادہ رکھا گیا۔ کیونکہ وہ دنیا میں تلوار سے محفوظ رہا پس اس کے بدلے میں آخرت میں سب سے نچلے طبقے کا حقدار بنا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ کفر میں کافر کی طرح ہے۔ اور کفر کے ساتھ استہزاء بالاسلام و باہل الاسلام کا اس نے اضافہ کرلیا ہے۔ قراءت : الدرککو سکون راء کے ساتھ سوائے اعشٰی کے تمام کو فی قراء نے پڑھا ہے۔ اور دیگر تمام قراء نے راء کا فتحہ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ زجاج (رح) نے ذکر کیا کہ مختار قول راء کے فتحہ کا ہے۔ وَلَنْ تَجِدَلَہُمْ نَصِیْرًا (تم ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائوگے) جو ان سے عذاب کو روک سکے۔
Ayah 4:146

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمان بردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دیگا

تائبین کا مقام : آیت 146 : اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا (مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی نفاق سے) نحو : یہ لن تجد کی ضمیر مجرور سے استثناء ہے۔ وَاَصْلَحُوْا ( اور درستی کرلی) جو احوال و اسرار اپنے انہوں نے حالت نفاق میں بگاڑے ہیں۔ وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ پر اسی طرح وثوق رکھیں) جس طرح مومن مخلص اعتماد کرتے ہیں۔ وَاَخْلَصُوْا دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ (اور انہوں نے خالص کیا اپنے دین کو اللہ کے لئے) وہ اپنی اطاعت کے سبب اس کی ذات ہی کے طالب ہیں۔ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ (پس وہ مؤمنوں کے ساتھ ہونگے) یعنی وہ مؤمنوں کے ساتھی اور دارین میں رفیق ہیں۔ وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا (اور عنقریب اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو بہت بڑا اجر دیں گے) پس وہ لوگ اس میں ان کے ساتھ شریک ہونگے۔ یہاں لفظ کی اتباع میں یا کو لکھنے میں بھی حذف کردیا گیا۔
Ayah 4:147

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اگر تم (خدا کے) شکر گزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا کو تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اور خدا تو قدر شناس اور دانا ہے۔

تقدیم شکر کی حکمت : آیت 147 : پھر دوبارہ تاکید سے سمجھایا۔ کہ وہ شاکر مومن کو عذاب نہ دیں گے۔ پس فرمایا : مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ (اور اللہ تعالیٰ تم کو عذاب دے کر کیا کریگا۔ اگر شکر گزاری کرو اللہ کے لئے) وَٰامَنْتُمْ (اور ایمان لے آئو) ما منصوب ہے یفعل کی وجہ سے۔ اور بمعنی ای شیٔ ہے۔ یعنی اس نے تمہیں عذاب دے کر کیا کرنا ہے۔ الایمان : انعام کرنے والے کی پہچان۔ الشکر : اعتراف نعمت۔ کفرِ منعم ہو یا نعمت یہ عناد ہے۔ اسی لئے کافر عذاب کا حقدار ہے۔ اور یہاں شکر کو ایمان سے مقدم لائے۔ کیونکہ عقل مند اپنے اوپر عظیم انعامات پاتا ہے جو اس کی خلقت یا حصول منافع میں حاصل ہو رہے ہیں۔ پس وہ مبہم انداز میں شکریہ ادا کرتا ہے۔ جب اس کی نگاہ منعم کی پہچان تک پہنچتی ہے تو وہ ایمان لے آتا ہے۔ پھر تفصیلی شکریہ ادا کرتا ہے۔ پس گویا کہ شکر ایمان پر متقدم ہے۔ وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا (اور اللہ تعالیٰ شکر کے قدردان ہیں) وہ تمہیں تمہارے شکریہ پر بدلہ دیں گے یا معمولی عمل کو قبول کرلیتا ہے۔ اور بہت زیادہ ثواب دیں گے۔ عَلِیْمْاً (وہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کا علم رکھنے والے ہیں) ۔
Ayah 4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

جہر کا ذکر زیادہ نقیح کیلئے : آیت 148 : لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْٓئِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ (اللہ تعالیٰ بری بات کو زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے سوائے مظلوم کے) اللہ تعالیٰ تو جہر اور غیر جہر تمام بری باتوں کا زبان پر لانا پسند نہیں کرتے مگر جہر زیادہ قبیح ہے اس لئے اس کو خصوصاً ذکر فرمایا۔ اگرچہ مظلوم اپنی بات ظالم کے متعلق کہہ سکتا ہے۔ الا کے ذریعہ ناپسندیدہ جہر میں سے مظلوم کی بات کو مستثنیٰ کردیا اور وہ یہ ہے کہ ظالم کے متعلق بد دعا کرے اور اس کے اندر پائی جانے والی برائی ذکر کرے۔ بعض کا کہنا کہ الجہر بالسوء سے مراد گالی دینا ہے۔ اگر مظلوم اسی طرح کی گالی دے تو درست ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : ولمن انتصر بعد ظلمہ۔ وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا (اور اللہ تعالیٰ سننے والا ہے) مظلوم کی شکایت کو عَلِیْمًا (جاننے والا ہے) ظالم کے ظلم کو۔
Ayah 4:149

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔ یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنیولا اور صاحب قدرت ہے۔

آیت 149 : اس آیت میں معافی پر آمادہ کیا اور کوئی شخص کسی کی برائی کو سرعام نہ کہے خواہ بدلہ کے طور پر ہی ہو۔ مظلوم کے لئے ظالم کی مذمت مطلقاً اظہار کی اجازت کے بعد یہاں افضلیت کا ذکر کیا اور خیر کے ظاہر کرنے اور اخفاء کرنے کو معافی کا سبب قرار دیا۔ پس فرمایا۔ معافی پر آمادہ کیا : اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا (اگر تم نیک کام علانیہ کرو) برائی کو سرعام بیان کرنے کی بجائے۔ اَوْ تُخْفُوْہُ (یا پوشیدہ طور پر کرو) پھر ان دونوں پر عفو کو بطور عطف ذکر کیا۔ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓئٍ (یا برائی سے در گزر کرو) یعنی اپنے دلوں سے اس کو مٹا دو ۔ نکتہ : یہاں ابتداء اگرچہ خیر کے ابداء و اخفاء سے کی مگر اصل مقصود عفو کا ذکر کرنا ہے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے۔ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا (پس بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے قدرت والے ہیں) یعنی وہ ہمیشہ سے گناہ کو معاف کرنے والے ہیں اس کے باوجود کہ اسے انتقام کی قدرت حاصل ہے۔ پس تمہیں اس کے طریق کو اپنانا چاہیے۔
Ayah 4:150

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہے کہ تم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

آیت 150 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ (بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے پیغمبروں کے درمیان فرق رکھیں اور کہتے ہیں ہم بعض پیغمبروں کو مانتے ہیں اور بعض کو سچا نہیں مانتے) جیسے یہود جنہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا اور اسی طرح انجیل اور قرآن مجید کا انکار کیا۔ اور نصرانیوں کی طرح کہ جنہوں نے حضرت محمد ﷺ اور قرآن کا انکار کیا۔ وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّـتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً (اور وہ چاہتے ہیں کہ کفر و اسلام کے درمیان راہ اختیار کریں) یعنی درمیانہ دین جو کفر و ایمان کے درمیان ہو حالانکہ ان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے۔
Ayah 4:151

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ بلا اشتباہ کافر ہے اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

آیت 151 : اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ (ایسے لوگ یقینا کافر ہیں) یعنی وہ مکمل کافر ہیں کیونکہ ایک کا انکار تمام کا انکار ہے۔ حَقًّا : (پکے) نحوی نکتہ : نحو : یہ گزشتہ جملہ کے مضمون کی تاکید ہے۔ جیسے کہتے ہیں : ہذا عبداللہ حقًا یعنی یہ پکی بات ہے قطعاً یا یہ کافرین کے مصدر کی صفت ہے تقدیر یہ ہے : ہم الذین کفروا کفرًا حقا ثابتاً یقینا لا شک فیہ۔ تاکید اس لئے لائے تاکہ ظاہر کردیا جائے کہ وہ کفر میں کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ تقدیر عبارت کا ترجمہ وہ وہی لوگ ہیں جو کہ پکے کافر ہیں ایسا کفر جو ثابت ہونے والا ایسا یقینی ہے کہ جس میں شک نہیں۔ وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّہِیْنًا (اور ہم نے کافروں کلئے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے) جو آخرت میں ان کو ملے گا۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے میں عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت 152 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر اور انہوں نے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کیا) نحو : لفظ احد کی طرف اضافت بَیْنَ کی درست ہے کیونکہ احد کا لفظ واحد ٗ مذکر و مؤنث اور جمع تثنیہ و جمع مذکر و مؤنث میں برابر ہے۔ نکرہ ہے عموم نفی پر دلالت کرتا ہے۔ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (ان لوگوں کو ضرور اللہ تعالیٰ ان کا ثواب عنایت فرمائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بخشنے والے مہربان ہیں) ۔ قراءت : یؤتیہم کو حفص نے یا سے پڑھا جبکہ حمزہ عاصم ٗ ابن کثیر ٗ ابو عمرو ٗ نافع ٗ ابن عامر وکسائی وابو جعفر ٗ خلف نے نُؤتیہم نون سے پڑھا ہے۔ اجور سے مراد موعودہ ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے غفور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سیئات کو چھپا دیتے ہیں۔ رحیمًا مہربان ہیں کہ نیکیاں قبول کرتے ہیں۔ تردید معتزلہ : اس آیت میں معتزلہ کے اس باطل اعتقاد کی تردید ہے کہ کبیرہ گناہوں والا ہمیشہ آگ میں رہے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ اور اس نے اعتقاد میں رسولوں کے درمیان تفریق نہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کا اجر دیتے ہیں۔ اور مرتکب کبیرہ ان تمام عقائد کو ماننے والا ہے۔ پس وہ بھی اس وعدہ میں داخل ہوگیا۔ اسی طرح ان لوگوں کے قول کی بھی تردید ہے جو اللہ تعالیٰ کی فعلی صفات کے قدیم ہونے کے قائل نہیں جیسے رحمت مغفرت وغیرہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وکان اللّٰہ غفورًا رحیمًا کہ وہ غفور رحیم ہے۔ حالانکہ ان کا قول یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ازل میں غفور رحیم نہیں بلکہ اب غفور رحیم بنا ہے۔ (فافہم و تدبر)
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

(اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ۔ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (آنکھوں سے) دکھا دو ۔ سو ان کے گناہ کی وجہ سے انکو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا۔

فخاض یہودی کی بَڑ : آیت 153 : یہودی عالم فخاص اور اس کے ساتھیوں نے نبی اکرم ﷺ کو کہا اگر تم سچے نبی ہو۔ تو آسمان سے اکٹھی کتاب اتار لائو۔ جیسا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو دی گئی تو یہ آیت اتری : یَسْئَلُکَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ (آپ سے اہل کتاب مطالبہ کرتے ہیں کہ تم ان پر اتار لائو) قراءت : تُنْزِلَ تخفیف کے ساتھ مکی اور ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَاءِ (آسمان سے ایک کتاب) یعنی اکٹھی کتاب جس طرح تورات یکبارگی اتری۔ یہ بات انہوں نے ضد کی وجہ سے کہی۔ حسن بصری (رح) کہتے ہیں۔ اگر ہدایت کی غرض سے وہ مانگتے تو ایسی کتاب مل جاتی۔ کیونکہ قرآن مجید کا اکٹھا اتارا جانا بالکل ممکن ہے۔ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰی اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ (انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے بڑا سوال کیا) سوال : انہوں نے تو سوال نہ کیا تھا بلکہ ان کے آبائو اجداد جو زمانہ موسیٰ ( علیہ السلام) میں تھے انہوں نے کیا مگر سوال کی نسبت ان کی طرف کردی گئی۔ اور وہ ستر منتخب افراد تھے۔ نسبت کی وجہ رضائے اعمال ہے : جواب : یہ یہود ان کے مذہب پر تھے۔ اور ان کے اس سوال پر راضی و خوش تھے۔ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰہَ جَہْرَۃً (اللہ تعالیٰ ہمیں آمنے سامنے دکھائو) یعنی کھلم کھلا ہمیں دکھائو تاکہ ہم کھلم کھلا دیکھیں۔ فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ (ان کو کڑک نے پکڑ لیا) خوفناک عذاب یا جلانے والی آگ) بِظُلْمِہِمْ (ان کے ظلم کی وجہ سے) ۔ جو انہوں نے اپنے نفسوں پر کیا نامناسب سوال کر کے یا معجزات کے سلسلہ میں اپنے پر غمبا سے ضد اختیار کی اور دیدار کا سوال کرکے ہٹ دھرمی اختیار کی۔ مطلقاً دیدار کا سوال اس کا سبب نہیں کیونکہ وہ ممکن ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کو یکبارگی اتروانے کا سوال اور دلیل یہ ہے کہ اگر یہ سزا فقط سوال رؤیت پر ملی تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے بھی سوال کیا وہ پھر اس کے (نعوذ باللہ) زیادہ حقدار تھے۔ انہوں نے : رب ارنی انظر الیک کہا مگر ان کو صاعقہ نے نہ پکڑا مگر ان کو مزید طمع دلائی اور امکان کی قید لگائی۔ اور ممکن سے معلق ممکن الثبوت ہی ہوتا ہے۔ پھر ان کو زندہ کردیا۔ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ (پھر انہوں نے بچھڑے کو بنا لیا معبود) مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ (اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلائل آئے) یعنی تورات اور معجزات مسیح ( علیہ السلام) ۔ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِکَ (پھر ہم نے ان کو معاف کردیا مہربانی کرتے ہوئے) اور ان کا استیصال نہیں کیا۔ وَ ٰاتَیْنَا مُوْسٰی سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا (اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو واضح معجزات دیئے) یعنی مخالفین کے خلاف غالب دلائل۔
Ayah 4:154

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا۔ اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاوز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا۔

آیت 154 : وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِہِمْ (ہم نے ان کے میثاق کے سبب طور کو ان پر بلند کیا) تاکہ وہ ڈریں اور وعدے کو نہ توڑیں۔ وَ قُلْنَالَہُمُ (اور ہم نے انہیں کہا) جبکہ طور ان پر لٹکنے والا تھا۔ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا (تم دروازے میں سرجھکائے ہوئے داخل ہو) یعنی دروازہ بیت المقدس (ایلیا) میں داخل ہوتے وقت اپنے سروں کو جھکائے داخل ہو۔ وَقُلْنَالَہُمْ لَا تَعْدُوْا (اور ہم نے انہیں کہا حد سے تجاوز نہ کرو) قراءت : ورش نے تَعَدّوا پڑھا۔ تَعْدّوا۔ سکون عین اور تشدید دال کے ساتھ ورش کے علاوہ مدنی قراء نے پڑھا یہ دونوں ادغام کے ساتھ ہیں۔ البتہ قراءت ابی ؓ میں تعتدوا ہے۔ تا کو دال میں ادغام کیا اور عین کو ساکن رکھا ایک روایت میں اور دوسری روایت میں تا کا فتحہ عین کی طرف منتقل کردیا۔ فِی السَّبْتِ (ہفتہ کے سلسلہ میں) مچھلیاں پکڑ کر۔ وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا (اور ہم نے ان سے پکا وعدہ لیا) غلیظ سے مراد انتہائی تاکید والا۔
Ayah 4:155

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

آیت 155 : فَبِمَا نَقْضِہِمْ (پس ان کے توڑ دینے کے سبب سے) نحو : ما تاکید کے لئے لایا گیا۔ با، حرمنا علیہم سے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت ہے۔ حرمنا علیہم طیبات بنقضہم ہم نے ان پر پاکیزہ چیزیں حرام کیں ان کے عہد توڑ دینے کی وجہ سے۔ مِّیْثَاقَہُمْ (اپنا پختہ وعدہ)- نحوی تحقیق : نحو : فبظلم من الذین ہادوا۔ یہ فبمانقضہم سے بدل ہے۔ اور تاکید کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ طیبات کی حرمت نقض عہد اور اس کے معطوفات کفر ٗ قتل انبیاء وغیرہ کی وجہ سے تھی۔ وَکُفْرِہِمْ بِٰایٰتِ اللّٰہِ (اور ان کے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے کے باعث) آیات سے مراد معجزات موسیٰ ( علیہ السلام) ہیں۔ وَقَتْلِہِمُ الْاَنْبِیَآئَ (اور انبیاء ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کے سبب) جیسے زکریا ویحییٰ وغیرہ (علیہما السلام) بِغَیْرِ حَقٍّ (ناحق) یعنی بغیر کسی ایسے سبب کے ارتکاب کے کہ جس سے قتل کے مستحق ٹھہریں۔ وَّقَوْلِہِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ (اور ان کی اس بات کے سبب کہ ہمارے دل پردے میں ہیں) غُلف یہ جمع اغلف ہے۔ اس کا معنی بند ہونا کہ جس میں کوئی وعظ و نصیحت اثر انداز نہ ہو۔ فخریہ دعویٰ کی تردید : بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْہَا بِکُفْرِہِمْ (بلکہ اللہ تعالیٰ نے کفر کی وجہ سے ان پر مہر لگا دی) یہ جملہ قلوبنا غلف کے فخریہ دعویٰ کی تردید ہے۔ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلاَّ قَلِیْلًا (پس نہیں ایمان لائے مگر تھوڑے) جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔
Ayah 4:156

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر بہتان عظیم باندھنے کے سبب۔

بار بار کفر کا ارتکاب : آیت 156 : وَبِکُفْرِہِمْ (اور ان کے کفر کے باعث) نحو : اسکا عطف فبما نقضہم پر ہے یا اسکے قریب بکفرہم پر اس لئے کہ انہوں نے بار بار کفر کیا۔ انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کا انکار کیا پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) اور پھر محمد ﷺ کا انکار کردیا۔ اسی لئے ان کے ایک کفر کو دوسرے پر عطف کیا۔ وَقَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا (اور ان کے اس قول کی وجہ سے جو انہوں نے مریم پر ایک عظیم بہتان کے طور پر لگایا) وہ بہتان عظیم ان پر زناء کا الزام تھا۔