Ayah 9:111204 اہل ایمان سے جنت کا پختہ وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو خریدلیا اس عوض میں کہ ان کے لیے جنت ہے۔ جو لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں۔ پھر وہ مرتے بھی ہیں اور مارتے بھی ہیں۔ سو ان کے لیے اللہ کے ذمے یہ وعدہ ہے تورات و انجیل میں بھی اور قرآن میں بھی۔ یعنی ان سے یہ وعدہ ان تینوں آسمانی کتابوں میں موجود و مذکور تھا۔ تو پھر اس سے پکی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ قرآن حکیم میں تو یہ وعدہ اور حکم جہادآج تک پوری آب وتاب کے ساتھ جوں کا توں موجود و مذکور ہے اور قیامت تک رہے گا لیکن تورات و انجیل میں بھی طرح طرح کی تحریفات کے باوجود اس کا کچھ نہ کچھ ذکر وبیان اب تک موجود ہے۔ (المراغی، محاسن التاویل وغیرہ) بہرکیف دولت ایمان سے سرفرازی انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے۔ کہ اسی کے ذریعے اور اسی کے نتیجے میں انسان اپنے خالق ومالک حق کو پہچانتا اور اس کی رضا و خوشنودی کے شرف سے مشرف ہوتا ہے۔ واباللہ التوفیق لمایحب ویریدوعلیٰ مایحب ویرید، وہوالہادی الیٰ سواء السبیل۔
205 اہل ایمان کے لیے خوشی ومسرت کا مقام : سو ارشاد فرمایا گیا پس تم خوش ہوجاؤاپنے اس سودے پر ایمان والو، کہ یہ ایک عظیم الشان اور بےمثال سودا ہے۔ اور اس پر خوشی کا حکم وارشاد اس کا ایک طبعی تقاضا اور منطقی نتیجہ ہے کہ اس سے بڑھ کر خوشی کا مقام اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہماری جانوں اور ہمارے مالوں کے خریدارحضرت حق جل مجدہ خودہوں ؟ اور پھر جان ومال کے اس سرمایہ کو جو کہ حقیقت میں اسی کی چیز ہے ہماری ملک اور ہمارا مال قراردے کر وہ اسے ہم سے خریدیں۔ اور وہ بھی جنت کی اس عظیم الشان اور دائمی نعمت کے بدلے میں جس کے مقابلے میں یہ سب کچھ نہ ہونے کے برابر ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں دائمی اور ابدی ہیں جبکہ ہماری جان ومال کا یہ سرمایہ بہرحال فانی ہے۔ فللہ الحمد والمنۃ فکن اللہم لناواجعلنالک۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان اور بیمثال سودے کی قدر اور عظمت شان کو پہچاننے اور اس کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم اور ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 9:112206 (سائحون) کا معنی اور اس سے مراد ؟ : یعنی اس سے مراد روزے دار ہیں اور یہ قول حضرت ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ وغیرہ کا ہے۔ اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ روزہ دار بھی اسی طرح طعام و شراب وغیرہ سے رکتا اور مشقت اٹھاتا ہے جس طرح کہ سیاح اور مسافر۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ سے بھی ایک ارشاد میں وارد ہے کہ میری امت کی سیروسیاحت روزہ ہے " سیاحۃ امتی الصوم " جب کہ بعض حضرات نے اس سے مجاہد مراد لیے ہیں اور بعض نے طلبہ علم (الجامع، الکبیر، المحاسن، المراغی، وغیرہ) لیکن لفظ کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ لہذایہ سب ہی مرادلئے جاسکتے ہیں اور یہ سب ہی مقصود اور مہتمم بالشان ہیں اور ان سب میں قدرمشترک مشقت و ریاضت کا پایاجانا ہے جو کہ دین فطرت کے مقاصد کی تحصیل و تکمیل کے لیے ایک اہم اور بنیادی عنصر ہے اور روزے، اعتکاف، اور جہاد وغیرہ میں یہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ ان سب میں مشقت و ریاضت کا پہلوغالب ہے۔ اس لیے اس کو یہاں پر اہل ایمان اور اہل جنت کی صفات میں بطور خاص ذکر فرمایا گیا۔
207 اہل ایمان کے لیے خوشخبری سنانے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ خوشخبری سنادو ایمان والوں کو سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ دولت ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرور کرنے والی دولت ہے۔ کیونکہ یہاں پر مبشربہ کو ذکر نہیں فرمایا گیا جس سے تعمیم کا فائدہ حاصل ہوتا ہے یعنی ان صفات کے حامل اور ایسے ایمانداروں کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی بشارت ہے۔ سو صدق ایمان و یقین اور عمل صالح کی دولت ایسی عظیم الشان دولت ہے کہ انسان کو ہر خیر سے مشرف کرتی اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے نوازتی ہے۔ بہرکیف جب یہ وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس وحدہ لاشریک سے بڑھ کر اپنے وعدے کو پورا کرنے والا اور کوئی ہوسکتا ہی نہیں کہ ایسا ہونا کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ تو پھر تمہیں اے دولت ایمان رکھنے والو اپنے عظیم الشان اور بےمثال سودے پر باغ باغ ہونا چاہے۔ اور جو کچھ اس مالک الملک، واہب مطلق نے تم سے مانگا وہ اس کی طلب پر بخوشی اس کے حوالے کردو اور جو کچھ اس کے عوض ملا ہے اس بپر مطمئن ہو جاؤنیز یہاں پر اہل ایمان کی ان صفات کے ذکر وبیان سے یہ اہم اور بنیادی درس بھی ملتا ہے کہ جنت سے سرفرازی کا تعلق حسب ونسب جیسی غیر اختیاری چیز پر نہیں۔ کیونکہ یہاں پر معاملہ فلاں ابن فلاں پر نہیں بلکہ یہاں پر سارا دارومدار انسان کے اپنے عقیدہ و ایمان اور عمل وکردارپر ہے۔ واباللہ التوفیق لمایحب ویریدوعلیٰ مایحب ویرید، وہوالہادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayahs 9:113–114208 مشرکوں کے لیے بخشش کی دعاء مانگنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیغمبر اور دوسرے اہل ایمان کو روا نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعاء کریں کہ مشرک اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ ان کے بخشش کی دعا کی جائے کہ شرک کا جرم دراصل بغاوت کا جرم ہے جو کہ ناقابل معافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ صحیح بخاری ومسلم کی روایت کے مطابق جب آنحضرت ﷺ کے چچا ابوطالب کے انتقال کا وقت آن پہنچا تو آپ اپنی عظیم الشان رحمت اور شفقت کی بناء ان کے پاس تشریف لے گئے اور اس کو کلمہ توحید پڑھنے اور دین حق کے قبول کرنے کی دعوت دی تاکہ وہ دوزخ کی آگ سے بچ سکے۔ تو اس موقع پر مشرکین مکہ کے سرداروں میں سے ابوجہل اور ابن ابی امیہ نے اس کو طعن وتشنیع کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم مرتے وقت اپنے باپ دادا کے دین سے پھرنا چاہتے ہو ؟ تو اس نے آنحضرت ﷺ کی اس قدر خواہش اور کوشش کے باوجود دین حق کو قبول کرنے اور کلمہ توحید کا اقرار کرنے سے انکار کردیا۔ اور وہ کفرہی پر مر کر دوزخ کا مستحق ہوا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اسی لئے بعض روایات میں وارد ہوا ہے کہ اس نے دوزخ کی آگ کو تو اختیار کرلیا مگر عار کو برداشت نہ کیا " اختارالنار علی العار " پھر بھی نبی رحمت ﷺ نے اپنے وفور رحمت کی بناء پر فرمایا چچا اللہ کی قسم میں آپ کیلئے بخشش کی دعاء کرتا رہونگا یہاں تک کہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے ؟ " واللہ لاستغفرن لک مالم انہ عنہ " تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس سے آپ ﷺ کو اس کے لئے دعائے بخشش سے روک دیا گیا۔ " صلوت اللہ وسلامہ علیہ " قول مشہور کے مطابق یہی قصہ اس آیت کریمہ کی شان نزول اور سبب ورود ہے۔ (روح، ابن جریر، ابن کثیر، مراغی، محاسن، جامع اور معارف وغیرہ وغیرہ) سو اس سے ایک تو یہ بات واضح اور محقق ہوگئی کہ کفر اور شرک پر مرنے والے کسی انسان کے لیے نہ تودعائے مغفرت کرنا کسی شخص کے لئے روا اور جائز ہوسکتا ہے اور نہ ہی کفر و شرک پر مرنے والے ایسے کسی شخص کو اس سے کسی طرح کا کوئی فاعدہ پہنچ سکتا ہے خواہ وہ دعاء حضرت امام الانبیاء ﷺ کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو ؟ نیز اس سے یہ امر بھی پوری طرح واضح ہوگیا کہ پیغمبر نہ تو عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ ہی مختار کل، جیسا کہ دور حاضر کے کچھ اہل زیغ وضلال کا کہنا اور ماننا ہے۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو نہ آنحضرت ﷺ ایک ایسے شخص کے لئے جس کا انجام اس طرح طے اور مقرر ہوچکا تھا اس طرح دعاء فرماتے اور نہ ہی ابوطالب اس طرح دولت ایمان و یقین سے محرومی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوتا اور جب حضرت الانبیاء۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم۔ کی شان عبدیت و بندگی کا یہ عالم ہے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جس کے بارے میں اس طرح کا کوئی عقیدہ رکھا جاس کے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر بہکے بھٹکے اور بگڑے ہوئے ہیں وہ لوگ جو قرآن وسنت پر ایمان و یقین کے دعو وں کے باوجود اور حضرت نبی اکرم ﷺ سے عشق و محبت کے اظہار کے باوصف اس طرح کے عقائدرکھتے ہیں کہ " ساڈا عبدالقادر قادر ہے۔ سانوں ہور کسے دی لوڑ نہیں " یعنی " ہمارا عبدالقادر قادر ہے اور ہمیں کسی اور کی کوئی ضرورت ہی نہیں "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ والی المشتکی وہو اعلم بمایقولون ومایعتقدون ومایظنون۔ بہرکیف اس واقعہ سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ بلکہ علم غیب کلی اور اختیارکلی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی شان اور اسی کا اختصاص ہے سبحانہ وتعالیٰ
Ayah 9:115209 تبیین حق اور اتمام حجت کی ضرورت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ نہیں کہ وہ کسی قوم کو یونہی گمراہی کے حوالے کردے یہاں تک کہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان نہ کردے وہ سب کچھ جس سے ان کو بچنا ضروری ہوتا ہے سوا اتمام حجت کے لیے تبیین حق ضروری ہے تاکہ حق پوری طرح واضح ہوجائے۔ خواہ اس کا تعلق اقوال سے ہو یا اعمال سے۔ سو ایسے واضح بیان کے بغیر کسی قوم کو گمراہ قرار دینا اور اس پر اس کی گرفت وپکڑ کرنا نہ اس ذات اقدس واعلی کی شان عدل وانصاف کے لائق ہے اور نہ ہی ایسا کرنا ان حکیمانہ سنن کونیہ کے مناسب ہے جو کہ اس کی اس کائنات میں کار فرما ہیں اسی لئے نہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر کوئی مواخذہ اور نہ حضرت امام الانبیاء پر۔ (المراغی وغیرہ) سو آپ کا استغفارمنع کرنے سے پہلے تھا۔ جونہی آپ کو اس سے منع فرمایا گیا آپ اس سے رک گئے۔ سو اس ارشاد سے اس ممانعت کی تاکید فرمادی گئی جو اوپر مسلمانوں کو مشرکین کے لیے استغفار کے بارے میں کی گئی۔ پس جن لوگوں کی حق دشمنی واضح ہوگئی ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا ذہنی اور قلبی لگاؤنہ رکھا جائے۔ کیونکہ یہ چیز بسا اوقات آدمی کے لیے بڑے فتنے کا باعث بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اپنے اصول وعقائدتک نگاہوں کے سامنے سے اوجھل ہوجاتے ہیں اور خون ونسب کا رشتہ وتعلق تمام حقائق پر غالب آجاتا ہے۔ آج جو لوگ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے کے باوجود " نحن ابناء الفراعنۃ " کا نعرہ لگاتے ہیں اور جو محمد بن قاسم کی بجائے راجہ داہرپرفخر کرتے ہیں وہ سب اسی فتنے کا شکار ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اسی بنا پر نسلی بنیادوں پر قائم ہونے والی بعض سیاسی تنظیموں نے اپنے دینی اور ایمانی رشتوں کو پس پشت ڈال دیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 9:116210 زندگی وموت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی زندگی بخشتا ہے اور اسی کی شان ہے موت دینا۔ پس اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی بھی زندہ یا مردہ ہستی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ مار سکتی ہے یا زندہ کرسکتی ہے، جائز نہیں۔ جیسا کہ آج کل کے بہت سے کلمہ گو مشرک کہتے ہیں کہ فلاں شخص کو فلاں بزرگ نے مار دیا، یا فلاں بزرگ نے فلاں شخص کو زندہ کردیا۔ یہاں تک کہ اہل بدعت کے ایک معروف تحریف پسند نے بارہ برس کے ڈوبے ہوئے بیڑے کو زندہ کرکے غرقابی سے نکال باہر کرنے کے موضوع، من گھڑت اور جھوٹے قصے کو قرآن حکیم کے حواشی تک میں لکھ دیا۔ اور اس کو قرآنی تفسیر کے طور پر درج کردیا۔ سو اس سے بڑھ کر تحریف اور ظلم اور کیا ہوگا ؟ بہرکیف اس آیت کریمہ میں دوسری بہت سی آیتوں کی طرح اہل ایمان کو یہ درس عظیم دیا گیا ہے کہ جب زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ وحدہ لاشریک ہی کے لیے ہے اور جب زندگی وموت بھی اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے اور جب اس کے سواتمہارا کوئی حمایتی و مددگار بھی نہیں تو پھر تمہیں کسی اور سے کوئی توقع رکھنے یا اس سے ڈرنے کی ضرورت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ (المراغی وغیرہ) ۔ اور جب اس کی ان سفات میں اس کا کو کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ پس معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، اس کے سوا اور کسی کے آگے جھکنا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 9:117–118211 صدق و اخلاص رحمت خداوندی کو متوجہ کرنے کا اہم ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ان پر رحمت فرمادی ان کے اس صبروتحمل اور صدق و اخلاص کی بناء پر جس کا مظا ہرہ انہوں نے سختی اور تنگی کے اس نازک موقع پر بھی کیا، اور اخلاص وللہیت سے اور محض اللہ کی رضا کے لیے کیا کہ اللہ پاک کے یہاں اصل میں قدروقیمت بھی اسی چیز کی ہے۔ یعنی صدق و اخلاص اور ثبات واستقامت۔ اللہم ارزقنا التوفیق لذالک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ سو صدق و اخلاص اور صبر و استقامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا اہم ذریعہ ہیں وباللہ التوفیق۔ بہرکیف اس سے توبہ کی قبولیت اور اس عام بشارت کا اعلان فرمایا جارہا ہے جو اس سورة کریمہ کی تنبیہات وتحذیرات کے بعدرحمت کی گھٹابن کر ان لوگوں پر برسی جنہوں نے اپنے صدق و اخلاص سے اپنے آپ کو اس کا اہل اور مستحق ثابت کیا تھا اور اس فہرست میں سرفہرست نبی کریم ﷺ کا ذکر فرمایا گیا ہے، اس لیے اس پاکیزہ اور بےمثال معاشرے کے گل سرسید تو آپ ہی تھے اور ان تمام رحمتوں کا مدارو محور اور باعث وسبب آپ کی ذات اقدس ہی تھی۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور اس سیاق وسباق میں آپ کا ذکر اس لیے نہیں فرمایا گیا کہ آپ سے اس طرح کی کوئی غلطی صادر ہوگئی تھی جس طرح کی غلطیاں بعض دوسرے حضرات سے صادرہوئی تھیں بلکہ آپ کا ذکر یہاں پر اس اعتبار سے ہوا کہ آپ اپنی رافت و رحمت کی بنا پر منافقین کے بارے میں اب تک نرمی اور چشم پوشی سے کام لے رہے تھے جس کا ذکر (عفا اللہ عنک لم اذنت لہم) وغیرہ بعض آیات میں فرمایا گیا ہے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے دامن عفو و رحمت میں جگہ دے دی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 9:119214 عظیم الشان دونکاتی انقلاب آفرین پروگرام : سبحان اللہ۔ کیسا عظیم الشان اور انقلاب آفرین دونکاتی پروگرام تعلیم فرمایا گیا ہے کہ ایک تو تم خودمتقی اور پرہیزگار بن جاؤ۔ یعنی ہراس چیز سے بچوجو تمہارے خالق ومالک کی ناراضگی کا باعث ہو۔ اس طرح تم خود پاکیزہ اور قیمتی انسان بن جاؤگے۔ اور اس کے بعد دوسراکام یہ کرو کہ تم دوسرے سچے متقی اور پرہیزگار لوگوں کا ساتھ دو تاکہ اس طرح تم حق اور اہل حق اور سچ اور سچوں کی قوت کا ذریعہ بنو۔ اور اس طرح پورا معاشرہ پاکیزہ اور نمونے کا معاشرہ بن جائے اور اس طرح ایسے سب لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکیں۔ وباللہ التوفیق وھوالمیسر لکل عسیر۔ بہرکیف سچوں کی معیت اور ان کا ساتھ دینے سے جہاں ایک طرف مومن دوسرے مومنوں کی تائید وتقویت کا ذریعہ وسبب بنتا ہے وہیں دوسری طرف اس میں انسان کی خود اپنی اصلاح وترقی کا سامان بھی ہے کیونکہ بروں کی صحبت اور ان کی معیت سے انسان کے اندران کے برے اثرات اور ان کے جراثیم پیدا ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان بگڑتے بگڑتے کہیں کا کہیں جاپہنچتا ہے۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ وہ انہی کے زمرے کا آدمی بن جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اسی لیے مسلمانوں کو دارالکفر سے نکل کر دارالاسلام میں آنے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا تاکہ وہ ان کے اثرات بد سے بچ سکیں۔ واباللہ التوفیق لمایحب ویریدوعلیٰ مایحب ویرید، وہوالہادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayah 9:120215 صحبت خیر سے محرومی باعث محرومی والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اچھوں کی صحبت معیت سے محرومی بڑے خسارے کا سودا ہے۔ والعیاذبا اللہ : اس لیے مدینے والوں اور ان کے آس پاس والوں کو رسول سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے تھا کہ اول تو سچوں کے امام و پیشوا اس نبی معصوم کی معیت ورفاقت کا شرف بذات خود مامور ومطوب اور ایک عظیم الشان سعادت ہے اور دوسرے اس راہ حق میں پیش آنے والی ایک ایک تکلیف ومشقت اور ایک ایک حالت و کیفیت پر نیکی اور اجر وثواب لکھا جاتا ہے۔ تو پھر سعادت درسعادت پر مشتمل اس سفر مبارک سے تخلف کتنی بڑی محرومی اور کس قدربڑا خسارہ ہے تو پھر ایسا کرنا کس طرح روا ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیمسو اس ارشاد سے اس مضمون کی تاکید مزید فرمادی گئی جو ابھی اوپر بیان ہوا ہے اور اس میں کمزور مسلمانوں کے لیے حوصلہ افزائی ہے کہ وہ صادقین و مخلصین کی رفاقت ومعیت کو اختیار کریں کہ اس راہ میں پیش آنے والی ہر مشکل و مصیبت اور ہر ابتلاء و آزمائش میں ان کے لیے اجروثواب اور عزت و عظمت کا سامان ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔
216 یکوکاروں کے لیے پیغام مسرت واطمینان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ نیکوکاروں کا اجرضائع نہیں کرتا " محسن " " احسان " سے بنا ہے جو کہ ماخوذ ہے " حسن " سے۔ جس کے معنی اچھائی اور خوبی کے آتے ہیں اور یہ ظاہری بھی ہوتی ہے اور معنوی و باطنی بھی معنوی یہ کہ نیت و ارادہ درست ہو کہ جو کچھ کرے پورے صدق و اخلاص کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی رضاء وخوشنودیہی کے لئے کرے۔ کسی دوسری غرض کا کوئی شائبہ اس میں شامل نہ ہو اور ظاہری یہ کہ وہ کام اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات مقدسہ اور ہدایات و ارشادات عالیہ کے مطابق کرے۔ سو ایسے نیکوکاروں کا اجر کبھی ضائع نہیں ہوگا۔ جعلنا اللہ منہم۔ سو " احسان " ایک عظیم الشان صفت ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو جو عمل احسان وخوبی اور اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کے لیے کیا جائیگا دوسری کسی غرض کا اس میں کوئی شائبہ نہیں ہوگا وہ کبھی ضائع نہیں ہوگا اور اس رب غفور و شکور کے یہاں اس کی شان کرم واحسان کی بناء پر ضرور شرف قبولیت و باریابی سے مشرف ہوگا۔ سو اس میں محسنین یعنی نیکوکاروں کے لیے بڑا پیغام مسرت واطمینان ہے۔ واباللہ التوفیق لمایحب ویریدوعلیٰ مایحب ویرید، وہوالہادی الیٰ سواء السبیل۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنی رضاء و خوشنودی سے سرفرازرکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 9:121217 نیک اعمال کا بدلہ بہترین شکل میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ تعالیٰ بہترین بدلہ دے ان لوگوں کو ان کے ان کاموں کا جو یہ کرتے ہیں یعنی نیک اعمال کا بدلہ صرف برابر، ناپ تول کر نہیں، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر اور بہتر شکل میں دیا جائے گا۔ چناچہ انسان کو اپنے اعمال صالحہ کے نتیجے میں جنت کی وہ دائمی اور ابدی نعمتیں بخشی جائیں گی جو بےمثال محدود و غیرمحدود ہیں۔ اور جن کا یہاں پر تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔ سو یہ بھی اس رب رحیم و کریم کے بےمثال اور لامتناہی کرم کا ایک نمونہ اور ثبوت ہے پس جنت اور اس کی نعمتیں عدل کی بناء پر نہیں بلکہ اس کے فضل وکرم کے طور پر بخشی جائیں گی۔ فسبحانہ مآاعظم شانہ وما اکرم انعامہ۔ سوروزجزاء میں ہر انسان اپنے عمل کا بہتر سے بہتر اور عمدہ سے عمدہ صلہ وبدلہ پائے گا کیونکہ یہ جزاء انسان کو اس ذات اقدس واعلیٰ کی طرف سے ملے گی جس کے کرم واحسان کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہاء۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ! ہم سے عدل کا نہیں فضل کا معاملہ فرمانا۔ کیونکہ عدل کے ترازو میں تلنے کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔ بس تیرے فضل وکرم کی امید اور اسی کا آسراوسہارا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے فضل وکرم اور انعام سے نوازنا کہ تیری تو شان ہی فضل وکرم کرنے اور انعام واحسان سے نوازنے کی شان ہے۔ تبارکت وتعالیت۔
Ayah 9:122218 اہل ایمان کو حسن انتظام سے متعلق ایک حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مؤمنوں کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ سب نکل پڑیں۔ یعنی جہادفی سبیل اللہ کے لیے اور اپنے پیچھے کسی کو بھی نہ چھوڑیں۔ سو ایسا کرنا درست نہیں کہ یہ حسن انتظام کے خلاف ہے روایات میں ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے والے منافقین کے بارے میں جو سخت آیات اور تنبیہات نازل ہوئیں تو اس کی بناء پر اس کے بعد کے غزوات وسرایا میں سب ہی لوگ نکل پڑے۔ تو اس سے روکنے کے لیے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (جامع البیان وغیرہ) سو اس میں تنبیہ فرمائی گئی کہ مؤمنوں کو یہ نہیں چاہئے کہ سب ہی نکل پڑیں بلکہ حسب ضرورت معقول تعداد میں نکلیں بھی اور معقول تعداد کو پیچھے بھی چھوڑ جائیں۔ تاکہ ایک مستقل اور معتدبہ تعداددین کو سیکھنے سکھانے والوں کی بھی موجود ہو جو تعلیم دین کے فریضے کو نبھانے کا انتظام کرے۔
219 قوم کو تنبیہ وتذکیر کی ضرورت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اہل ایمان کو اس طرح کرنا چاہئے تھا کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت چلی جاتی تاکہ وہ لوگ دین میں سمجھ پیدا کریں اور وہ اپنی قوم کو خبردار کریں جب کہ وہ ان کے پاس لوٹ کر واپس آئیں تاکہ وہ ان کو خبردار کریں ان چیزوں سے جن سے ان کو بچنا ضروری ہے معلوم ہوا کہ ایک ایسی جماعت کا مسلمانوں کے اندر موجود ہونا ضروری ہے جو خودد ین سیکھ کر دوسروں کو سکھائے اور ان کی دینی راہنمائی کرئے ورنہ سب گنہگارہوں گے اسی کو فقہی اصطلاح میں " فرض کفایہ " کہا جاتا ہے اس آیت کریمہ کی تفسیر و تشریح میں کئی احتمال و اقوال ہیں جن کی تفصیل انشاء اللہ ہم اپنی مفصل تفسیر میں عرض کریں گے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف اس ارشاد کا ایک اہم محمل ومطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر ایک ایسی جماعت کا ہونا ضروری ہے جو دین میں تفقہ اور فہم و بصیرت حاصل کرے۔ تاکہ ایسے لوگ اپنی بقیہ قوم کو ان کے انجام سے خبردار کرسکیں اور ان کو اپنی آخرت کی اصل، حقیقی اور ابدی زندگی کے لیے تیاری کی تعلیم و تلقین کرتے رہیں کہ اصل کامیابی تو آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ واباللہ التوفیق لمایحب ویریدوعلیٰ مایحب ویرید، وہوالہادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayahs 9:123–124220 کفار سے جہاد کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " ایمان والو ! تم لڑوان کافروں سے جو تمہارے آس پاس ہیں کہ اقرب فالاقرب کے طبعی اور فطری اصول و ضابطہ کا تقاضا یہی ہے چناچہ اسی حکم وارشاد کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں سب سے پہلے مدینہ میں رہنے والے یہودی قبائل بنوقینقاع، بنوقریظہ، اور بنونظیر سے جہاد فرمایا اس کے بعد یہودخبیر سے۔ اور اس طرح آس پاس کے جہاد سے فراغت کے بعد آپ نے سب سے آخر میں رومیوں سے جہاد کرنے کے لیے غزوہ تبوک کا سفر فرمایا اور پھر اس کے بعد حضرات صحابہ کرام علیہم الرحمۃ والرضوان جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر مشرق ومغرب میں پھیل گئے اور انہوں نے ہر طرف اسلام کا پھریرا لہرادیاسو اس سورة کریمہ کے آخر میں یہ آیت کریمہ دراصل اس پوری سورة کریمہ کے اصل مضمون کا خلاصہ ہے۔ سو کفار و مشرکین پر اتمام حجت ہوجانے کے بعداول تو ان لوگوں سے اعلان براءت فرمایا گیا اور اب یہ اس کے آخر میں ان دشمنوں کے خلاف اعلان جنگ ہے اور یہی دین حنیف کا اصل مطالبہ ہے جو اہل ایمان کے سامنے رکھ دیا گیا تاکہ اس طرح شر و فساد کی قوتوں کا قلع قمع کیا جاس کے اور دین حق کی راہ میں موجود رکاوٹوں کا ازالہ کیا جاس کے تاکہ دین حق غالب ہو کر رہے۔ اور اس طرح خلق خدا کا بھلا اور فائدہ ہوسکے دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی اور یہ عظیم الشان مقصد اور اس کا حصول اس دین حنیف کے بغیرممکن نہیں۔
221 پرہیزگاروں کے لیے معیت خداوندی کا مژدہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یقین جانو کہ اللہ ساتھ ہے پرہیزگاروں کے۔ یعنی وہ ان کے ساتھ ہے اپنی حمایت اور نصرت ومدد کے اعتبار سے۔ اور جب معیت خداوندی کا یہ شرف واعزاز تمہیں حاصل ہے اے ایمان والو ! تو پھر تمہیں اور کسی کی کیا کوئی پرواہ ہوسکتی ہے ؟ پس تم تقوی و پرہیزگاری کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ جانے دینا کہ یہی تمہاری اصل قوت اور وسیلہ فتح وظفر ہے ورنہ ظاہری اسباب و وسائل اور مادی قوت کے اعتبار سے تمہارے دشمن تم سے کہیں زیادہ ہیں۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ جب مسلمانوں نے تقوی کے اس باطنی اسلحہ اور حقیقی قوت کو پوری طرح اور صحیح طور پر اپنایا تو فتح وظفرنے ہمیشہ ان کے قدم چومے۔ اور اس کی تازہ مثال ہمارے سامنے جہاد افغانستان کی ہے جس سے نہ صرف یہ کہ روس جیسی شیطانی سپرپ اور نے شکست کھائی بلکہ اس کا وجودہی صفحہ ہستی سے مٹ گیا اور ایسا کہ اس جہاد سے پہلے اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ پھر اس کے بعداسی ارض افغانستان میں طالبان تحریک نے تقوی و پرہیزگاری کے اسی اسلحہ کے بل بوتے پر جو بیمثال انقلاب برپا کیا اس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ سو تقوی و پرہیزگاری کی قوت بےمثال اور لازوال قوت ہے۔ اللہ تمام اسلامیان عالم کو نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 9:125222 دل کے روگیوں پر پلیدی کا اضافہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے یعنی کفر و شرک اور انکارونفاق کا روگ تو اس سے ان کی پلیدی پر اور پلیدی کا اضافہ ہوتا ہے کہ ان کا اپنا باطن پلید ہے۔ سو باران رحمت تو ایک ہی ہوتی ہے مگر کہیں اس سے پھول کھلتے اور پھل نکلتے ہیں اور کہیں کانٹے اور بدبودار جھاڑیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پس فرق زمین کا ہے نہ کہ باران رحمت کا کہ وہ تو بہرحال ایک ہی ہے۔ سو ایسے ہی یہاں ہے کسی نئی سورت کے نازل ہونے سے اہل ایمان کے تو نور ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں کہ رحمت کی ایک گھٹا اور برسی۔ ان کا سرور دوبالا ہوتا ہے اور ان کا اجر وثواب ڈبل ہوجاتا ہے مگر کفر ونفاق کے روگیوں کا روگ ہی بڑھتا ہے۔ اور اس نئی سورت کے کفر وانکار سے ان کے کفر ونفاق کی ناپاکی ونجاست ہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ان کی پلیدی اور بڑھتی اور ان کی نجاست پر مزیدنجاست کے ردے لگتے جاتے ہیں اور ان کفر ونفاق کی سیاہی مزیدبڑھتی اور گہری ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ مرتے ہیں تو بھی کفر ونفاق ہی کی حالت میں مرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں یہ ہمیشہ کے لیے فی الناروالسقر ہوجاتے ہیں اور یہ وہ ہولناک اور سب سے بڑا خسارہ ہے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا اور جس سے نکلنے اور چھٹکارا پانے کی کوئی صورت پھر ممکن ہی نہیں رہتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر موقع ومقام پر اپنی حفاظت وپناہ کے سائے میں رکھے آمین ثم آمین۔ اور نفس و شیطان کے ہر دھوکے اور فریب سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین یارب العالمین۔
Ayah 9:126223 منافقوں کی باربار کی آزمائش کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ دیکھتے اور سبق نہیں لیتے کہ ان کو ہر سال آزمائش میں ڈالا جاتا ہے۔ ایک یا دو مرتبہ۔ کبھی قحط وخشک سالی سے اور کبھی جنگ وجدال سے اور کبھی دوسرے مصائب وآلام اور آفات وبلیات سے مگر یہ لوگ ہیں کہ اس کے باوجود نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی سبق لیتے ہیں۔ سو معلوم ہوا کہ مصائب وآلام سے سبق نہ لینا دراصل دولت ایمان سے محروم لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کے بعدانسان خیروصلاح کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ چونکہ اپنی رحمت بےپایاں اور عنایت بےنہایت کی بنا پر اپنے ہر بندے پر رحمت فرمانا چاہتا ہے اس لیے اس نے اس دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر شخص کو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑاسال میں ایک دو بار ضرور کسی نہ کسی آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرسکے اور وہ توبہ وانابت اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوسکے اور اس کے نتیجے میں اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے سرفرازی نصیب ہوسکے۔ سو جو صاحب توفیق ہوتے ہیں وہ ایسی آزمائش سے سبق حاصل کرتے ہیں لیکن جو محروم اور بدنصیب ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اور وہ اپنی شقاوت کی راہ پر چلتے جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 9:127224 منافقین دستور خداوندی کی زد میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پھرگئے تو اللہ نے پھیردیا ان کے دلوں کو۔ ان کے اپنے خبث باطن، سوء اختیار اور بدنیتی کی وجہ سے۔ جس کی بناء پر یہ حق سے محروم ہوجاتے ہیں کہ جیسی نیت ویسی مراد۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا (فلمازاغوا ازاغ اللہ قلوبہم) معلوم ہوا کہ حق اور اہل حق کی مجالس سے منہ موڑنابڑی محرومی اور بدبختی ہے اور اس سے انسان نورحق و ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ اثرونتیجہ ہے ان لوگوں کی محرومی کا یہ بدنصیب لوگ موقع پاکرمجلس نبوی سے اس طرح کھسک جاتے ہیں۔ آپس میں کنکھیوں سے اشارے کرتے ہوئے وہاں سے نکل بھاگتے ہیں اور اس کو یہ لوگ اپنی ہوشیاری اور چالاکی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کی اپنی حماقت و محرومی ہے۔ بہرکیف جب یہ لوگ پھرگئے اپنے ارادہ واختیار سے تو اللہ نے ان کو دلوں کو پھیر دیا کہ اس کا قانون و دستور یہی ہے کہ جو لوگ نورحق و ہدایت سے منہ موڑلیتے ہیں ان کو محروم کردیا جاتا ہے اور وہ اپنے ارادہ واختیار سے جدھر جانا اور چلنا چاہتے ہیں ان کو ادھرہی چلتا کردیا جاتا ہے۔ (نولہ ماتولیٰ ) کے ضابطہ واصول کا تقاضایہی ہے اور یہی دستور خداوندی اور سنت الہٰی ہے۔ سو ایسے لوگ اپنی بدبختی اور سوء اختیار کی بنا پر دستور خداوندی کی زد میں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
225 اصل علم وہی ہے جو انسان کو حق اور حقیقت سے آگاہ کرے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اپنی اسی بدنیتی اور خبث باطنی کی بنا پر یہ لوگ سمجھتے نہیں حق اور حقیقت کو اور ظاہر ہے کہ جب ان کی نیت ہی صحیح نہیں اور یہ غور و فکر سے کام لیتے ہی نہیں تو پھر انہیں حق اور حقیقت سمجھ آئے ہی کس طرح ؟۔ سبحان اللہ۔ قرآن پاک کس طرح غور و فکر سے کام لینے کی ترغیب جگہ جگہ اور طرح طرح سے دے رہا ہے مگر اس کے باوجودآج کا مسلمان ہے کہ حق و حقیقت کی طلب وتلاش سے غافل و لاپرواہ ہے اور اس حدتک کہ اس کا مقصدومشن بطن وفرج کی شہوت پرستی کے سواکچھ رہ ہی نہیں گیا۔ الاماشآء اللہ۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اصل میں علم وہی ہے جو انسان کو راہ حق و حقیقت سے آگاہ کرے ورنہ انسان سراسر اندھیرے میں ہے، خواہ کہنے کو اور ظاہر کے اعتبار سے اس نے کتنی ہی ڈگریاں کیوں نہ اٹھا رکھی ہوں سو جو لوگ اپنے دل ودماغ کی صلاحیتوں سے خداوند قدوس کی تنبیہات کے بعد بھی کام نہیں لیتے وہ محروم کے محروم رہتے ہیں ان کی صلاحیتوں کو قانون قدرت کے مطابق ادھرہی موڑ دیا جاتا ہے جدھرکا رخ وہ خود کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ہولناک انجام سے ہمیشہ ہمیش کے خسارے میں مبتلا ہوجاتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (نولہ ماتولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا) (النساء : 115) کہ یہاں پر سودا جبرو اکراہ کا نہیں بلکہ اپنی رضاء ورغبت کا ہے سو انسان کے بناؤ اور بگاڑ کا اصل تعلق خود اس کے اپنے قلب وباطن سے ہے۔ واباللہ التوفیق لمایحب ویریدوعلیٰ مایحب ویرید، وہوالہادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayah 9:128226 بعثت نبوی کے احسان عظیم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک آچکے تمہارے پاس اے لوگو ایک عظیم الشان رسول خود تم ہی میں سے۔ یعنی تمہاری ہی جنس میں سے تاکہ تم زندگی کے ہر معاملے میں اور ہر موڑپران کی پیروی کرسکو۔ چناچہ وہ انسان وبشر ہیں اور تمہاری ہی طرح عربی، قریشی اور ہاشمی ہیں۔ مگر جنس ونوع کے اس اشتراک کے ساتھ ساتھ مرتبہ ومقام کے لحاظ سے وہ اتنے اونچے اور ان کی شان اس قدربلند ہے کہ خدائے پاک کی ساری خدائی اور تمام مخلوق میں ان کی دوسری کوئی نظیرومثال نہ کبھی ہوئی ہے نہ آئندہ کبھی ہونی ممکن ہے۔ قرآن پاک میں بشریت پیغمبر سے متعلق اس حقیقت صادقہ اور امر واقعہ کو جگہ جگہ اور طرح طرح سے آشکارہ فرمایا گیا ہے مگر اس کے باوجوداہل بدعت کی الٹی کھوپڑیوں میں یہ سادہ اور واضح حقیقت اب تک نہیں آرہی اور وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور اس ضمن میں وہ طرح طرح کی ٹامک ٹوئیوں اور تحریفات سے کام لیتے ہیں جو نتیجہ وانجام ہے بدنیتی، بدعت پرستی اور اہل حق سے عداوت دشمنی کا والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہاں پر اسی حقیقت صادقہ اور نعمت عظمیٰ کو بیان فرمایا گیا ہے کہ تمہارے پاس ایک ایسے عظیم الشان رسول آگئے جو خود تم ہی سے ہیں تاکہ وہ تم لوگوں کو سعادت دارین سے سرفرازی کی راہوں کی تعلیم دے سکیں۔
227 پیغمبر کی رافت وشفقت کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بڑا بھاری اور گراں ہے ان پر تمہارا مشقت میں پڑنا جو کہ ہم جنس ہونے کی اسی حقیقت صادقہ کے آثارونتائج میں سے ہے (ماعنتم) میں مامصدریہ ہے (جامع البیان) سو معنٰی یہ ہوگا کہ ان پر تمہارامشقت اور تکلیف میں پڑنا بہت بھاری اور گراں ہے۔ سو ایسی ہمدرد اور مہربان ہستی کی آواز پر لبیک نہ کہنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان کی رحمت وشفقت اور افت و عنایت کا عالم یہ ہے کہ تمہارا مشقت اور مشکل میں پڑنا ان پر سخت بھاری اور گراں ہے۔ اور ان کی ساری تگ ودو، محنت ومشقت اور دعوت و تبلیغ کا اصل مدعا و مقصود یہی ہے کہ تم لوگ دنیاوآخرت کی سعادتوں اور فائزالمرامیوں سے سرفراز اور بہرہ مند ہوسکو۔ لیکن جو لوگ دنیا کی اسی عارضی اور فانی زندگی کی لذتوں اور ان کے وقتی فائدوں ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان لوگوں کو اس پیغمبر کی وہ باتیں گراں گزرتی ہیں جو ان کو اپنے وقتی مفادات اور دنیاوی فائدوں کے خلاف نظرآتی ہیں۔ سو یہ ایسے لوگوں کی اپنی تنگ نظری اور کوتاہ بینی کا نتیجہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم
228 پیغمبر کی اپنی امت کے لیے حرص کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بڑے حریص ہیں تمہاری فلاح و بہبود کے، پس پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے اور اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ تم ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہو کر دارین کی سعادتوں سے بہرہ مند ہوجاؤ۔ سو پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے میں خود تمہارا ہی بھلا اور فائدہ ہے اور اس سے منہ موڑنے میں تمہارا اپناہی نقصان ہے والعیاذ باللہ العظیم پیغمبر کی اس میں اپنی کوئی غرض شامل نہیں۔ وہ ایمان واسلام کی دعوت تمہیں خود تمہارے ہی بھلے اور فائدے کے لیے دے رہا ہے۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ پس جو لوگ ان کی دعوت کو صدق دل سے اپنائیں گے وہ خود اپنی ہی سعادت و سرخروئی کا سامان کریں گے۔ اور جو اس سے منہ موڑیں گے۔ وہ خوداپناہی نقصان کریں گے والعیاذ باللہ کہ اس کا نتیجہ وانجام دارین کی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
229 پیغمبرمؤمنوں پر انتہائی شفیق اور مہربان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ انتہائی شفیق اور بڑے ہی مہربان ہیں ایمان والوں پر نہ کہ اہل کفر و باطل پر کہ ایسے لوگوں نے کفر و باطل پر اصرار کرکے اپنے آپ کو اس قابل چھوڑا ہی نہیں کہ وہ آپ کی اس شفقت و مہربانی کے مستحق بن سکیں والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایمان و یقین کی دولت ایسی عظیم الشان دولت ہے کہ اس سے انسان پیغمبر کی شفقت ورافت کا مستحق اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایات کا مورد بنتا ہے سو وہ " رؤف " و " رحیم " ہونے کی بناء پر چاہتا ہے کہ ہر شرتم سے دور ہو اور ہر خیر تمہیں نصیب ہو۔ یہاں پر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ " رؤف " اور " رحیم " کی یہ دونوں صفتیں اللہ تعالیٰ کی صفات حسنیٰ میں سے ہیں اور یہی دونوں یہاں پر پیغمبر کے لیے استعمال ہوئی ہیں جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ پیغمبرخلق خدا کے ساتھ رحمت ورافت کے معاملے میں صفات الہیہ کے کامل مظہر تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ علی الہ وصحبہ وسلم ومن اھتدی بھدیہ ودعابدعوتہ الی یوم الدین۔ اللہ ہمیں ان سے صحیح اور سچی محبت اور اطاعت و اتباع کی دولت وسعادت سے نوازے۔ آمین۔
Ayah 9:129230 اللہ تعالیٰ کی کفایت کے اعلان کا حکم وارشاد : سو پیغمبر کو خطاب کرکے حکم ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کافی ہے مجھ کو اللہ اعانت ونصرت کے لئے کسی اور کی نہ مجھے کوئی ضرورت ہے نہ پرواہ۔ لہذا تمہارا راستہ الگ میرا الگ۔ (لکم دینکم ولی دین) سبحان اللہ نبیوں کے امام و پیشوا کو بھی اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم دی جارہی ہے اور آپ بھی فرما رہے ہیں کہ مجھے اللہ ہی کافی ہے اور میرا بھروسہ اسی پر ہے۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجودآج آپ کی امت کا کلمہ گو مشرک اللہ پاک کو چھوڑ کر اس کی عاجزمخلوق پر تکیہ کرتا اور اسی کو مدد کے لیے پکارتا ہے اور وہ دھڑلے سے کہتا ہے " یا علی مدد " یاغوث۔ بلکہ غوث الاعظم۔ دستگیر "، یا معین الدین چشتی پارلگادے کشتی " یابہاء الحق بیڑادھک " وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر انہی ہستیوں کو جن کو مرے ہوئے صدیاں گزرچکی ہیں خوش کرنے کیلئے وہ ان کے نام کی نذریں مانتا، نیازیں دیتا، چڑھاوے چڑھاتا اور طرح طرح کے دوسرے شرکیہ اعمال و افعال کا ارتکاب کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ فانا للہ وانآالیہ راجعون۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ قرآن وسنت کی تعلیمات مقدسہ کیا کہتی ہیں اور ان بزرگان دین کے اپنے ارشادات کیا تھے اور ان جاہلوں کے طور طریقے کیا ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ والیہ المشتکی وہو المستعان فی کل حین وآن۔
231 اللہ ہی پر بھروسہ کرنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی زبان سے کہلوایا گیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس (وحدہ لاشریک) کے۔ میں نے بہرحال اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے اور وہی ہے مالک عرش عظیم کا۔ یعنی جو کہ مالک ہے اس عرش عظیم کا جو کہ سب مخلوق کو محیط اور اس کے لئے بمنزلہ چھت کے ہے۔ پس جب وہ اس عرش عظیم کا بھی مالک ہے تو باقی تمام مخلوق کا بھی بطریق اولی مالک ومختا رہے کہ یہ سب اس کے نیچے اور اس کے ماتحت ہے۔ پس جس کو ایسی ذات اقدس واعلیٰ پر توکل و بھروسہ کی سعادت نصیب ہو جو کہ سب کی خالق ومالک، سب پر حاکم و متصرف اور وکیل و مختار اور سب پر حاوی و محیط ہے تو اس کو اور کسی کی پرواہ ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ سو اس سورة کریمہ کے بالکل آخر میں اب یہ پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر اب بھی یہ لوگ تمہاری قدر نہیں کرتے اور تمہاری بات ماننے کو تیار نہیں ہوتے تو ان کی پرواہ مت کرو بلکہ ان سے صاف طور پر کہہ دو کہ میرے لیے میرا اللہ کافی ہے جو کہ مالک ہے عرش عظیم کا۔ ایسے میں مجھے تمہاری کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ واخر دعوانآ ان الحمدللہ رب العالمین۔ الذی بیدہ تصریف الامور وبتوفیقہ تتم الصالحات جل جلالہ وعم نوالہ۔ سبحانہ وتعالیٰ فایاہ نعبدوبہ نستعین فی کل ان وحین۔