9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 9:18

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرسکتے ہیں، جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، جو قائم رکھتے ہوں نماز کو اور ادا کرتے ہوں زکوٰۃ، اور وہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں سوائے اللہ کے، سو ایسے لوگوں کے بارے میں امید ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے،1

42 مساجد کی تولیت کے حقداروں کی صفات کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ مساجد کو آباد کرنا اہل ایمان کا کام اور ان ہی کی شان ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور انما کے کلمہ حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرسکتے ہیں جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور قیامت کے دن پر جو قائم کرتے ہوں نماز کو اور وہ ادا کرتے ہوں زکاۃ۔ اور وہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں سوائے اللہ کی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کی تعمیر و تولیت کے لئے اولین شرط ایمان ہے جس کا تعلق قلب اور باطن سے ہے اور اس کی ظاہری علامت اور اثرات ایمان کے وہ آثار وثمرات ہیں جو اس پر مرتب ہوتے ہیں اور جن کا ذکر یہاں پر بعد میں آنے والے اعمال اور صفات کی صورت میں فرمایا گیا ہے۔ یعنی نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا وغیرہ۔ ان میں سب سے پہلے ایمان کا ہونا ضروری اور بنیادی شرط ہے۔ ورنہ ان کی کوئی قدروقیمت نہیں۔ سو مساجد کی تولیت اور ان کی آبادکاری ایسے ہی سچے ایمانداروں کا کام اور ان ہی کی شان ہے جن کی یہ اور یہ صفات ہوں کہ یہی وہ صفات ہیں جن سے ان کے صدق ایمان کا ثبوت مل سکتا ہے۔ سو انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے ایمان و عقیدے اور اس کے عمل و کردار سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 43 ہدایت یافتہ لوگوں کی نشاندہی : سو اس ارشاد سے ہدایت یافتہ لوگوں کی تعیین اور ان کی نشاندہی فرما دی گئی ہے۔ یعنی وہ وہ لوگ ہوتی ہیں جنکے اندر یہ اور یہ صفات پائی جاتی ہوں۔ یعنی یہ کہ وہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں۔ وہ نماز قائم کرتے اور زکاۃ دیتے ہوں اور وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ اور آیت کریمہ کے آخر میں جو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کے بارے میں امید ہے کہ یہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے تو یہ شاہانہ کلام کا ایک خاص انداز ہے۔ سو " امید ہے " " عَسٰی " کے بارے میں عام طور پر مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ اللہ پاک کے کلام میں یہ لفظ یقین ہی کے معنی میں آتا ہے۔ اور یہ شاہانہ کلام کا ایک انداز ہوتا ہے کہ کوئی دنیاوی بادشاہ بھی اگر کسی سے " امید ہے " کے الفاظ سے کوئی وعدہ کرلے تو وہ یقینی وعدہ تصور ہوتا ہے تو پھر اس ملک الملوک اور احکم الحاکمین کے وعدوں کے کہنے ہی کیا۔ لیکن اللہ پاک کے کلام میں کلمات ترجی " عَسٰی " وغیرہ کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ پاک کے وعدے تو بلاشبہ قطعی اور یقینی ہیں لیکن اس کی کیا ضمانت کہ ہمارے اعمال اس کے یہاں شرف قبولیت پانے کے قابل بھی ہیں۔ پس شک یا عدم قبولیت کا خدشہ دراصل ہمارے اپنے اعمال کی نسبت سے ہے۔ اس لئے بندہ مومن کو ان وعدوں پر تکیہ کرنے اور مست ہونے کی بجائے اپنے ہر عمل میں زیادہ سے زیادہ صدق و اخلاص سے کام لینا چاہیئے تاکہ وہ اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں شرف قبولیت پانے کے قابل ہو سکے ۔ وباللہ التَّوْفِیْقَ لما یحب ویرید وہو الہادی الي سواء السبیل -
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے (اے مشرکو ! ) حاجیوں کے پانی پلانے کو، اور مسجد حرام کی آباد کاری (یعنی اس کے مجاور و خادم بننے) کو، اس شخص کے برابر ٹھہرا رکھا ہے جو ایمان رکھتا ہو، اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اور وہ جہاد کرتا ہو اللہ کی راہ میں ؟ یہ برابر نہیں ہوسکتے اللہ کے یہاں، اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا ظالم لوگوں کو،2

44 اعمال ایمان کا بدل نہیں ہوسکتے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اعمال ایمان کا بدل نہیں ہوسکتے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے [ اے مشرکو ! ] حاجیوں کے پانی پلانی کو اور مسجد حرام کی آبادکاری یعنی اس کے مجاور وخادم بننے کو اس شخص کے برابر ٹھہرا رکھا ہے جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ؟ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی یہ اعمال ایمان باللہ کا بدل اور اس کے برابر نہیں ہوسکتے بلکہ ایمان کے بغیر ان کی سرے سے کوئی قدر و قیمت ہی نہیں۔ اس میں رد ہے ان مشرکین عرب پر جو اپنے ان اعمال پر فخر جتایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہوا اگر ہم ایمان نہیں لائے کہ ہم بھی تو یہ اور یہ اعمال خیر کرتے ہیں ۔ کما ھُوَ مَرْوِیٌّ عَنِ ابْنِ عباس ۔ اور صحیح مسلم وغیرہ میں روایت ہے کہ اس آیت کریمہ کا نزول اس وقت ہوا جب کہ مسلمان باہمدگر ان اعمال صالحہ پر فخر جتا رہے تھے تو بتایا گیا کہ اصل اور سب سے اہم شے اور بنیادی چیز ایمان ہے۔ (مسلم کتاب الامارۃ) ۔ سو اعمال صالحہ کا وزن بھی دراصل قوت ایمان و یقین ہی سے ہے۔ الفاظ و کلمات کریمہ کا عموم بہرحال ان سب ہی احتمالات کو شامل ہے۔ سو اس سے ایمان کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ ہر عمل کی قدر و قیمت اسی سی وابستہ ہے ورنہ کچھ بھی نہیں۔ سو اصل چیز ایمان و عقیدہ ہے۔ باقی تمام امور کا دار و مدار اسی پر ہے۔ پس اعمال صالحہ خواہ کتنی ہی بڑی شان کے کیوں نہ ہوں وہ ایمان و یقین کا بدل نہیں ہوسکتے بلکہ اصل چیز ایمان و یقین کی دولت ہے ۔ اللہ فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام ۔ 45 ظالموں کو ہدایت نہیں مل سکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہدایت نہیں دیتا ظالموں کو۔ یعنی ایسے لوگوں کو اس ہدایت سے فیضیاب ہونے کی توفیق نہیں ملتی کہ ان کے دلوں میں اس کی نیت اور طلب ہی نہیں ہوتی۔ اور طلب و تڑپ کے بغیر نور ہدایت جیسی عظیم الشان اور انمول دولت کیونکر نصیب ہوسکتی ہے ؟ سو اس طرح یہ لوگ ظلم پر ظلم ڈھاتے ہیں کہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی بجائے اس کی عاجز و بےجان مخلوق کی پوجا کرتے ہیں اور زندگی کی اس فرصت محدود کو جو کہ دراصل بندگی حق ہی کے لئے لوگوں کو بخشی گئی تھی اس کو یہ لوگ غیر اللہ کی پوجا میں ضائع کر رہے ہیں۔ اور اس طرح یہ جنت کی سدا بہار نعمتوں کی بجائے دوزخ کے دائمی عذاب کی راہ پر چلے جارہے ہیں اور اپنی اسی کیفیت میں رخصت ہونے والے پھر کبھی دوزخ سے رہائی نہیں پاس کیں گے۔ سو یہ وہ خسارہ ہے جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت کبھی ممکن نہیں ہوسکتی۔ پس نور ایمان و یقین سے محرومی خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایمان و عقیدے کی دولت سے سرفرازی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔
Ayahs 9:20–21

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے ہجرت کی، اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں، اپنے مالوں سے بھی، اور اپنی جانوں سے بھی، اللہ کے یہاں ان کا درجہ بہت بڑا ہے، اور یہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے،

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کو خوشخبری سناتا ہے ان کا رب ایک عظیم الشان رحمت کی اپنی طرف سے، اور ایک بڑی رضامندی، اور ایسی عظیم الشان جنتوں کی، جن میں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہوں گی،

46 اہل ایمان کے لیے سب سے بڑے درجے کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سچے ایمان والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے بڑا درجہ ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے انہوں نے ہجرت اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا درجہ ہے۔ سو ایسوں کا درجہ و مرتبہ بہت بڑا ہے۔ ان لوگوں کے مقابلے میں جو ان صفات سے محروم ہیں۔ اور پھر ان کا درجہ کتنا بڑا ہے اس کی تحدید نہیں فرمائی گئی کہ اس کی عظمت اور بڑائی کو اللہ پاک ہی جانتا ہے ۔ جل جلالہ وعم نوالہ ۔ سو سچے ایمان والوں کا درجہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا ہے۔ اور جتنا کوئی ایمان میں سچا اور پکا اور اعمال میں مخلص ہوگا اتنا ہی اس کا درجہ بڑا ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کا درجہ و مرتبہ بہت بڑا ہے جو سچے پکے ایمان کی دولت سے سرشار ہیں اور اسی کی روشنی میں وہ اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کرتے اور اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ اپنی جانوں سے بھی اور اپنی مالوں سے بھی۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں محض حسب و نسب کی مفاخرت زبانی کلامی دعو وں اور فلان ابن فلاں نسبتوں سے کا من نہیں چلے گا بلکہ اس کے لیے صدق ایمان اور عمل و کردار کی پونجی ہی کام آسکے گی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 47 کامیاب لوگوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے۔ پس اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل اور حقیقی کامیابی ان اہل ایمان ہی کیلئے ہے : جن کا ایمان و عقیدہ بھی درست ہو اور عمل و کردار بھی ۔ سو یہاں پر حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں کامیابی اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہونے والے کہ یہ خوش نصیب ان عظیم الشان دائمی اور سدا بہار نعمتوں سے ہمکنار و سرفراز ہوں گے جن کو کبھی زوال نہیں، جن کی عظمت شان اور بلندی مقام کا اس دنیا میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اور جن کے سامنے دنیا کی ہر نعمت اور تمام کامیابیاں ہیچ ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ پس اصل اور حقیقی کامیابی یہی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم جن لوگوں نے اپنے آپ کو کامیاب سمجھ رکھا ہے اور وہ دنیاوی مال و دولت اور جاہ و منصب وغیرہ کو اپنی کامیابی کی علامت اور نشانی قرار دیتے ہیں وہ سب سراسر دھوکے میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کی اصل اور پوری حقیقت کل کے اس یوم حساب میں پوری طرح واضح ہوجائے گی جس کو یوم قیامت کہا جاتا ہے اور جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہوگا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 9:22

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

جن میں ہمیشہ ہمیش رہنا نصیب ہوگا ان کو، بیشک اللہ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے،3

48 اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے : اتنا اور ایسا بڑا کہ اس دنیائے دوں میں اس کی کوئی نظیر و مثال بھی ممکن نہیں ہوسکتی۔ پس ہر کام میں اسی کے اجر وثواب کو پیش نظر رکھنا اور مقصود اصلی بنانا چاہیئے ۔ فَوَفِّقْنَا اللّٰہُمَّ لِکُلِّ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَاہُ ۔ سو آخرت کا اجر وثواب اور رب کی خوشنودی و رضا ہی وہ اصل اور حقیقی مقصود ہے جسکو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ پس جن خوش نصیبوں کو اپنے رب کی عنایت اس کی رضا و خوشنودی اور ایسی عظیم الشان جنتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی جن میں سدا بہار دائمی نعمتیں موجود ہو نگی اور مزید یہ کہ ان کو ان عظیم الشان اور بےمثال جنتوں میں ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا نصیب ہوگا ان کی سعادت مندی خوش نصیبی اور فائز المرامی کے کہنے ہی کیا۔ اور ایسے عظیم الشان اور بےمثال اجر وثواب سے سرفرازی اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کہیں سے ملنا ممکن ہی نہیں ۔ فللہ الحمد رب العالمین -
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو ! تم مت بناؤ اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو اپنا دوست، اگر وہ ترجیح دیں کفر کو ایمان پر، اور جو کوئی (اس کے باوجود) تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا، تو ایسے لوگ ظالم ہوں گے،1

49 ایمان کا رشتہ سب رشتوں پر مقدم : سو اہل ایمان کو ہدایت فرمائی گئی کہ تم لوگ اپنے باپوں، بھائیوں یعنی اپنے ایسے قریبی رشتہ داروں کو بھی اپنا دوست نہ بنانا اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیں۔ کہ ایمان کا رشتہ اصل اور سب رشتوں پر مقدم اور سب سے بڑھ کر ہے۔ سو مومن صادق کے نہ یہ شایان شان ہے اور نہ اس کے لئے یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ رشتہء ایمانی کی قیمت اور اس کی قربانی پر دوسرے کسی رشتہ کو اپنائے اور اس کو دین و ایمان کے رشتے پر ترجیح دے۔ اور جو ایسا کرے گا اس کے ایمان کا دعویٰ محض زبانی جمع خرچ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو رشتہ ایمان کو ہمیشہ اور ہر حال میں ہر چیز پر مقدم اور فائق رکھنا ایمان کا تقاضا ہے کہ یہی رشتہ اصل اور اساس ہے دوسرے تمام رشتوں کے اخذ و ترک کے سلسلے میں باقی سب رشتے اور تعلق اسی کے تابع ہیں۔ یہی تقاضا ہے صدق ایمان اور صحت و یقین کا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 50 رشتہ ایمانی پر دوسرے کسی بھی رشتہ کو مقدم رکھنا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے جو کوئی اس کے باوجود ایسا کرے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر ظلم و زیادتی اور بےانصافی و حق تلفی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ کوئی شخص رشتہ ایمانی کی قیمت و قربانی پر دوسرے کسی رشتے کو گلے لگائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو رشتہ ایمانی دوسرے ہر رشتہ پر فائق اور مقدم ہے اور مومن صادق کا کام اور اس کی شان یہی ہے کہ رشتہ ایمانی کو دوسرے ہر رشتے پر فائق اور مقدم رکھے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور دین و ایمان کا رشتہ ہی وہ رشتہ ہے جس پر انسان کی دارین کی سعادت اور صلاح و فلاح موقوف ہے۔ اور یہی وہ رشتہ ہے جو اس دنیا کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی باقی رہے گا اور کام آئے گا جبکہ دوسرے تمام تعلقات نہ صرف یہ کہ ختم ہوجائیں گے بلکہ الٹا وہ دشمنوں میں بدل جائیں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جس کے رشتے اور تعلقات دنیا میں زیادہ ہوں گے اسی قدر اس کی وہاں پر دشمنیاں زیادہ ہونگی۔ کیونکہ ایمان و یقین کے رشتوں کے سوا دوسرے تمام رشتے اور تعلقات وہاں پر دشمنیوں میں بدل جائیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا { اَلاَخِلاَّئُ یَوْمَئِذٍ بَّعْضُہُمْ لِّبَعْضٍ عُدُوٌّ الاَّ الْمُتَّقِیْنَ } ( الزخرف :67) ۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں، اور تمہارا کنبہ، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کما رکھے ہیں اور تمہاری وہ تجارت جس کے ماند پڑجانے کا تمہیں اندیشہ لگا رہتا ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تمہیں پسند ہیں (اگر یہ سب کچھ) تمہیں زیادہ پیارا ہو اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے، تو تم انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ لے آئے اپنا حکم اور اللہ نور ہدایت سے نہیں نوازتا بدکار لوگوں کو،2

51 اللہ اور اس کے رسول کی محبت سب سے مقدم اور سب پر فائق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اگر تم لوگوں کو یہ اور یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ پیاری ہیں تو تم لوگ انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ لے آئے اپنا حکم۔ یعنی اپنا عذاب خواہ وہ فوری طور پر اسی دنیا میں ہو خواہ آخرت میں۔ سو اس ارشاد ربانی میں ان لوگوں کے لئے بڑی تہدید اور تخویف ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں ان مذکورہ چیزوں کو ترجیح دیں۔ پس مومن صادق کا کام اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز کو ٹھکرا دے، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا " قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے یہاں اس کے والد، اس کی اولاد اور سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں "۔ اور مسند احمد کی روایت میں ہے " جب تک کہ میں اس کے یہاں اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں "۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو رشتہ ایمانی پر دوسرے کسی بھی رشتہ کے مقدم رکھنے کا نتیجہ و انجام بہت برا اور نہایت ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ یہاں اللہ کے عذاب کو اللہ کے حکم " امر اللہ " سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس سے اس حقیقت کو ظاہر فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو عذاب دینے کیلئے کسی طرح کی تیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ وہاں صرف حکم دینے اور امر فرمانے کی دیر ہوتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا بھی اور جب بھی کسی عذاب کا حکم دیا وہ فورا آگیا۔ پس اس کے عذاب سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہئے اور کبھی بھی اس سے نڈر اور بےخوف نہیں ہونا چاہئے کہ اس سے نڈر اور بےخوف ہونا بڑے خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا { فَلاَ یَاْمَنُ مَکْرَ اللَّہِ الاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُوْنَ } (الاعراف :99) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کی ہر غلط روی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 52 فاسقوں کو ہدایت نہیں مل سکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہدایت سے نہیں نوازتا فاسق اور بدکار لوگوں کو۔ یعنی اس کی ہدایت تو اگرچہ سارے عالم کے لئے عام اور بالکل مفت ہے مگر اس سے مستفید صرف وہی ہوسکتا ہے جو اس کی طلب اور تڑپ رکھتا ہو۔ اور جو لوگ اپنے فسق و فجور کی وجہ سے اس کے حکم و اطاعت کے دائرے سے نکلے ہوئے ہوں اور وہ نور حق و ہدایت کے طالب اور اسکے خواہش مند ہی نہ ہوں تو ان کو اس کا فیض کیونکر پہنچ سکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ اپنی بدباطنی اور سوئِ اختیار کی بناء پر نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں ہوسکتے۔ اور ایسے لوگ اپنی محرومی کا باعث خود ہیں۔ سو کامیابی اور اس کی خوش بختی و بدبختی وغیرہ سب کا اصل اور حقیقی تعلق انسان کے اپنے قلب و باطن سے ہے۔ اگر اس کے باطن کی دنیا درست ہوگی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہی رحمت اور عنایت ہی عنایت ہے۔ اور اگر اس کے باطن کی دنیا بگڑی ہوئی ہوگی تو اس کے لیے محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ ایک طبعی اور معقول چیز ہے۔ کیونکہ برتن اگر سیدھا رکھا ہوگا اور اس کا منہ کھلا ہوگا تو وہ آسمان سے نازل ہونے والے باران رحمت کے قطروں سے بھر جائے گا۔ اور اگر وہ اوندھا اور الٹا رکھا ہوگا تو جتنی بھی بارش بر سے گی وہ خالی کا خالی ہی رہے گا۔ سو یہی مثال ہے انسان کے قلب و باطن کی۔ اسی کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا { طَائِرُکُمْ مَّعَکُمْ } ( یس :19) ۔ یعنی اپنی بدبختی کے ذمہ دار تم لوگ خود ہو ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ مدد فرماچکا ہے تمہاری (اے مومنو ! ) بہت سے موقعوں میں، اور حنین کے دن بھی، جب کہ تم غرے میں آگئے تھے اپنی کثرت کی بناء پر، پھر تمہاری وہ کثرت تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکی، اور تنگ ہوگئی تم پر زمین اپنی فراخی کے باوجود، پھر تم لوگ بھاگ نکلے پیٹھ دے کر،

53 معرکہ حنین میں اللہ کی مدد کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور بلاشبہ اللہ بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرما چکا ہے [ اے مسلمانو !] اور حنین کے دن بھی جبکہ تم لوگ غرے میں آگیے تھے اپنی کثرت کی بنا پر مگر وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکی۔ جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ فتح و نصرت کا مدار کثرت تعداد پر نہیں بلکہ اللہ کی نصرت و امداد پر ہے۔ حنین مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے جس میں فتح مکہ کے بعد مسلمانوں اور کفار کے درمیان معرکہ ہوا تھا، جو غزوہ حنین کے علاوہ غزوئہ ہوازن و ثقیف کے نام سے بھی مشہور ہے۔ جس میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ اور اپنی اس عددی کثرت کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کے مونہوں سے نکلا کہ " آج ہم کمّی بناء پر کسی بھی طرح مغلوب نہیں ہوسکتے " " لَنْ نُّغْلَبَ الْیَوْمَ مِنْ قِلَّۃٍ " کیونکہ اتنی بڑی تعداد مسلمانوں کی اس سے پہلے کسی بھی معرکے میں جمع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے ان کے دلوں میں اپنی کثرت تعداد کی بناء پر یہ خیال پیدا ہوگیا جو کہ ایک طرح کا طبعی امر تھا۔ مگر ایسا خیال ان سچے مسلمانوں کی عظمت شان کے لائق اور انکے شایان شان نہیں تھا۔ اس لیے ان پر اس بنا پر گرفت فرمائی گئی جس سے ان کے جمے ہوئے قدم اکھڑ گئے اور ان کی فتح شکست میں بدل گئی۔ اور اس طرح ان کو اور ان کے ذریعے پوری امت کو یہ درس دیا گیا کہ فتح و نصرت کا مدار کثرت تعداد پر نہیں بلکہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی نصرت و امداد پر ہے۔ اس لیے اہل ایمان کو اصل بھروسہ اسی وحدہ لاشریک پر اور اسکی تائید و نصرت اور اسکی امداد و اعانت پر رکھنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 54 مومن کا اصل سرمایہ نصرت و امداد خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے کچھ کام نہ آسکی تمہاری وہ کثرت۔ پس معلوم ہوا کہ مسلمان کا اصل سرمایہ نصرت و تائید خداوندی ہے نہ کہ دنیاوی اسباب و وسائل کی کثرت۔ اس لئے اسباب تو بیشک مقدور کی حد تک اختیار کئے جائیں لیکن دل کا اعتماد و بھروسہ ہمیشہ اللہ پر اور صرف اللہ ہی پر رکھا جائے { وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ } اسی لیے انکو ہمیشہ اسی بات کو پیش نظر اور ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے کہ اس خالق ومالک کے ساتھ ہمارا تعلق صحیح اور مضبوط ہو، تاکہ اس کی تائید و نصرت حاصل رہے کہ اس کی تائید و نصرت سے سرفرازی کے بعد پھر نہ کوئی شکست دے سکتا ہے اور نہ کسی سے کوئی خطرہ ہوسکتا ہے۔ کہ وہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں بلا شرکت غیرے حاکم و متصرف ہے۔ اور اس کی نصرت و امداد کے طور طریقوں اور اسکے لشکروں کو بھی اس کے سوا کوئی جان نہیں سکتا { وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ } اللہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں سے نوازے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر لحظہ و لمحہ میں اپنی عبدیت و عبودیت اور اطاعت و بندگی میں رکھے ۔ اَللّٰہُمَّ فَہٰذِہِ نَوَاصِیَنَا بَیْنَ یَدَیْکَ فَخُذْنَا بِہَا اِلٰی مَا تُحِبُّ وَ ترضی وَنَحْنُ بِکَ وَلَکَ وَاِلَیْکَ اَنْتَ مَوْلاَناَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ- 55 حنین میں شکست کے بعد مسلمانوں کی فتح : سو حنین کے اس معرکے کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں پر زمین تنگ ہوگئی اپنی فراخی کے باوجود۔ پھر تم لوگ بھاگ کھڑے ہوئے پیٹھ دے کر سوائے حضرت صاحب رسالت ۔ عَلَیْہِ اَفْضُلَ الصَّلٰوۃِ وَاَتَمُّ التَّسْلِیْمِ ۔ کے کہ آپ ﷺ پہاڑ کی سی استقامت اور مضبوطی کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے اور آپ کے ساتھ حضرت عباس ؓ اور حضرت ابوسفیان ؓ وغیرہ صحابہء کرام ۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔ کی ایک مختصر سی جماعت بھی جو کہ بعض روایات کے مطابق تین سو تھی اور بعض کے مطابق بارہ تھی۔ وہ بھی آپ کے ساتھ موجود رہی۔ مگر وہ بھی یہ نہیں چاہ رہے تھے کہ آپ ﷺ آگے بڑھیں۔ سو اس موقعہ پر حضور ﷺ نے حضرت عباس ؓ کو حکم دیا کہ بلند آواز سے پکارو کہ کہاں ہیں جنہوں نے شجرہ کے نیچے جہاد کی بیعت کی تھی ؟ کہاں ہیں سورة بقرہ والے اور کہاں ہیں وہ انصار جنہوں نے جان کی بازی لگا دینے کا عہد کیا تھا ؟ سب سے کہو کہ واپس آؤ اللہ کے رسول ﷺ یہاں ہیں۔ حضرت عباس ؓ کی یہ آواز بجلی کی کوند کی طرح سب طرف دوڑ گئی۔ اس سے سب بھاگنے والوں کو پشیمانی لاحق ہوئی۔ ان کو اپنی تقصیر اور کوتاہی کا احساس ہوا اور انہوں نے پلٹ کر بڑی بےجگری اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا اور اس کے ساتھ ہی فرشتوں کی مدد بھی ان کو پہنچ گئی، جس سے دشمن کے حوصلے ٹوٹ گئے اور ان کے چھکے چھوٹ گئے اور ان کا کمانڈر مالک بن عوف اپنے اہل و عیال اور مال و متاع سب کو چھوڑ کر بھاگ نکلا اور طائف کے قلعے میں جا چھپا، جسکے نتیجے میں اس کی پوری قوم بھاگ نکلی۔ ان کے ستر سردار مارے گئے اور ان کا سب مال و متاع مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔ چھ ہزار جنگی قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی کا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔ (معارف، ابن کثیر اور قرطبی وغیرہ) ۔ اس طرح مسلمانوں کو ابتدائی طور پر جھنجھوڑنے اور پھر فتح سے ہمکنار کردیا گیا ۔ فالحمد للہ ۔ سو فتح ونصرت اور انجام کار کامیابی اہل حق ہی کی ہے ۔ والعاقبۃ للمتقین ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رحمت و عنایت کے سائے میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 9:26

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے (اپنے کرم سے) اتاردی اپنی سکینت اپنے رسول اور دوسرے اہل ایمان پر، اور اس نے اتار دیئے ایسے لشکر جو تمہیں نظر نہیں آرہے تھے، اور اس نے سزادی کافروں کو، اور یہی ہے بدلہ کافروں کا،3

56 فرشتوں کی غیبی مدد کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اللہ نے اتارے ایسے لشکر جو تم لوگوں کی نظر میں آ رہے تھے۔ یعنی فرشتوں کے لشکر (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو فرشتوں کے یہ لشکر اللہ تعالیٰ نے تمہاری نصرت و امداد کیلئے فوری اور خاص طور پر بھیجے اور یہ بھی ظاہری اسباب کے درجے میں تاکہ اس سے تمہارے دلوں کے اطمینان کا سامان ہوسکے۔ ورنہ اصل مدد پھر بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے کلمات حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا { وَمَا النَّصْرُ الاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ }۔ یعنی " مدد تو اصل میں اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو کہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے "۔ بہرکیف یہاں پر اس آیت کریمہ میں ارشاد فرما دیا گیا کہ حنین کے اس معرکے کے شروع میں جو صورت پیش آئی وہ محض ایک قسم کی تنبیہ اور تذکیر کے طور پر تھی جس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت مسلمانوں کی طرف متوجہ ہوئی۔ ان کے اکھڑے ہوئے قدموں کو پھر سے جما دیا گیا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی سکینت کا بھی سبب و ذریعہ بنی جس سے لڑائی کا پانسہ پلٹ گیا اور شکست کو فتح میں تبدیل کردیا گیا۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے دل کا بھروسہ ہمیشہ اسی پر رکھا جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 57 کافروں کے کفر کی کچھ سزا دنیا میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے سزا دی کافروں کو اور یہی بدلہ ہے کافروں کا کہ انہوں نے شکست کھائی، قتل و قید کی ذلت اٹھائی اور اپنے ساتھ لائے ہوئے مال و دولت کے انبار ان کو بطور غنیمت مسلمانوں کے حوالے کرنا پڑے۔ سو مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب اور مفتوح ہونے کی یہ سزا جو ان کے کفر کی نقد سزا کے طور پر ان کو ملی، محسوس و مشاہد اور دنیاوی سزا تھی۔ جبکہ اصل اور حقیقی سزا ان کو آخرت میں ملے گی جو کہ بہت بڑی اور سخت سزا ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا { وَلَعَذَاب الاخِٓرَۃِ اَکْبَر } پس کافر اگر دنیاوی شکست اور یہاں کے عذاب سے بچ بھی جائیں تو بھی انکو آخرت کا عذاب بہرحال بھگتنا ہے۔ دنیا میں خواہ ان کو شکست اور عذ 1 ب ہو یا نہو وہاں کا عذاب تو ان کے لیے بہرحال طے اور مقرر ہے۔ سو کفر محرومیوں کی محرومی اور دارین کی ذلت و رسوائی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ ایمان کی صورت میں اگر دنیاوی فتح نصیب ہو تو کامیابی پر کامیابی۔ نہیں تو اجر وثواب اور آخرت کی کا میابی بہرحال مقرر و محقق ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayahs 9:27–28

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اللہ توبہ کی توفیق نصیب فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے،1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

ایمان والو ! مشرک لوگ تو نرے پلید ہیں، پس وہ مسجد حرام کے قریب بھی نہ پھٹکنے پائیں اپنے اس سال کے بعد،2 اور اگر تمہیں اندیشہ ہو مفلسی (وتنگدستی) کا، تو اللہ (سے امید رکھو کہ وہ) عنقریب تمہیں غنی بنادے گا اپنے فضل سے اگر اس نے چاہا، بیشک اللہ بڑا ہی علم والا، نہایت ہی حکمت والا ہے،

58 عنایات خداوندی کا دارومدار انسان کے باطن پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ توبہ کی توفیق نصیب فرماتا ہے جن کو چاہتا ہے۔ ان کی نیت اور باطن کے ہی اعتبار سے کہ جن کا باطن صحیح اور ان کی نیت درست ہوگی ان کو توبہ کی توفیق ملے گی۔ اور جو ایسے نہیں ہوں گے وہ اس توفیق و عنایت سے محروم ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ اس واقعہ کے کچھ ہی دنوں بعد ان ہی کفار میں سے بہت سے لوگ مسلمان بن کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ ﷺ نے مسلمانوں کی رائے اور مشورے سے ان کے قیدی واپس کر دئیے اور ان کے اموال بطور غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دئیے۔ (جامع البیان، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو سارا مدار باطن کی صحت و صفائی پر ہے۔ اسی کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی عنایات متوجہ ہوتی ہیں، جیسا کہ ابھی کچھ ہی اوپر حاشیہ نمبر 52 میں اس بارے قدرے تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

تم لڑو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر، اور نہ قیامت کے دن پر، اور نہ وہ حرام جانتے ہیں ان چیزوں کو جن کو حرام فرمایا ہے اللہ نے اور اس کے رسول نے، اور نہ وہ قبول کرتے ہیں دین حق کو ان لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی، یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے، اور وہ رہیں ماتحت بن کر،3

63 مشرکین کے بعد اہل کتاب سے جہاد و قتال کا حکم : سو مشرکین سے جہاد و قتال کے حکم کے بعد اب یہ اہل کتاب (یہود و نصاری) سے لڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلی آیت کریمہ ہے جس میں اہل کتاب سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چناچہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہود بنو قریظہ و بنو نضیر سے بھی جہاد فرمایا اور نصاریٔ روم سے بھی۔ اور اس غرض کے لئے آپ ﷺ تیس ہزار کا لشکر لے کر سخت گرمی کے زمانے میں طویل اور مشکل سفر طے کر کے تبوک کے مقام پر پہنچے اور بیس دن تک وہاں قیام فرما کر واپس لوٹے ۔ صَلَوَات اللّہِ وَسَلاَمْہ عَلَیْہِ وَ عَلٰی اٰلہٖ وَ صَحْبِہ اَجْمَعِیْن ۔ پس جن حضرات نے اس کا مصداق صرف قتال روم اور غزوئہ تبوک کو قرار دیا، جیسا کہ مجاہد سے مروی ہے، یا جنہوں نے صرف غزوئہ بنو قریظہ و بنو نضیر کو اس کا مصداق قرار دیا، جیسا کہ کلبی کا کہنا ہے وہ درست نہیں معلوم ہوتا، کیونکہ یہ تخصیص بلا کسی دلیل اور بغیر کسی مخصص کے ہے۔ اور آیت کریمہ کا عموم و شمول ان سب ہی کو محیط اور حاوی ہے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس کو اپنے ظاہر اور عموم پر ہی رکھا جائے۔ سو اس میں مطلق اہل کتاب سے جہاد و قتال کا حکم و ارشاد ہے کہ یہ لوگ بھی مشرک اور دین حق کے دشمن ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان کے بھی یہ اور یہ جرائم ہیں جو اس کے بعد بیان فرمائے گیے۔ 64 تحلیل و تحریم اللہ ہی کی صفت ہے : سو اہل ایمان کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ تم لڑو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور نہ ہی وہ حرام جانتے ہیں ان چیزوں کو جن کو جرام فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے۔ یعنی رسول نے اس کی تحلیل و تحریم کو بیان فرمایا۔ سو تحلیل و تحریم اصل میں اللہ پاک کی صفت اور اسی کا اختیار ہے کہ مالک و مختار وہی ہے۔ پیغمبر ﷺ کی طرف اس کی نسبت اظہار وبیان کے اعتبار سے ہوتی ہے کہ بندے کے پاس اللہ پاک کی تحلیل و تحریم کو جاننے کا کوئی ذریعہ پیغمبر کی خبر وبیان کے سوا نہیں۔ پس اہل بدعت کا اپنی شرکیات کے لئے اس طرح کے ارشاد سے دلیل پکڑنا درست نہیں، ورنہ قرآن پاک میں پیغمبر خدا ﷺ کو { لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ } جیسے کلمات سے خطاب نہ فرمایا جاتا۔ اور خود نبیء اکرم ﷺ نے اپنے ارشادات عالیہ سے جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس امر کو واضح اور منقح فرمایا ہے کہ تحریم و تحلیل کا اختیار میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ چناچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں ایسا نہیں کہ اپنے طور پر کسی حرام کو حلال ٹھہراؤں یا کسی حرام کو حلال۔ اگر میں کسی کے ظاہری بیان اور اس کی حجت بازی کی بناء پر اس کے حق میں کسی خلاف واقعہ چیز کے بارے میں فیصلہ کردوں تو اس سے وہ چیز اس کے لیے حلال نہیں ہوجائے گی۔ بلکہ وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ کا ایک ٹکڑا ہوگا جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ کی صحیح روایات میں مذکور و موجود ہے اور پہلے گزر چکا ہے۔ سو تحلیل وتحریم کا اختیار اللہ ہی کو ہے۔ 65 دین حق صرف اسلام ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہ وہ قبول کرتے ہیں دین حق یعنی اسلام کو کہ دین حق یہی ہے ۔ { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الاِسْلام } اور یہ دین حق سابقہ تمام ادیان سماویہ کے لئے ناسخ ہے۔ اب نجاح و فلاح کی کوئی راہ اس دین حق کے سوا ممکن نہیں۔ (روح، ابن کثیر، صفوۃ اور معارف وغیرہ) ۔ سو جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ اور اسکے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں جانتے، دین حق کو، اسلام کو نہیں مانتے اور اللہ اور آخرت پر صحیح معنوں میں ایمان نہیں رکھتے، ان سے تم لوگوں کو ضرور لڑنا چاہیئے کہ ان میں سے ایک ایک امر جنگ کا متقاضی ہے چہ جائیکہ جب یہ سب یکجا ہی موجود ہوں۔ 66{ عن یدٍ } کا معنیٰ و مطلب ؟ : یعنی مالداری اور دولت مندی سے۔ پس فقیر اور محتاج سے نہیں لیا جائے گا۔ اور " ید " کا لفظ کنایتہ دولت و ثروت کے لئے بولا جاتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے " فَلانٌ ذَاتُ یَدٍ اَیْ ثَرْوَۃٍ " نیز اس کا مطلب بالادستی تسلیم کرنا بھی ہوتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے " اعَطَاہ یَدَہ " " اس نے اس کو اپنا ہاتھ دے دیا "۔ یعنی اس کی بالا دستی کو تسلیم کرلیا اور " نَزَعَ عَنْہُ یَدَہٗ " یعنی " اس نے اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا " یعنی وہ اس کی ماتحتی سے کنارہ کش ہوگیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ { عن ید } سے مراد بدست خود دینا ہے (محاسن التاویل، الاساس فی التفسیر، صفوۃ التفاسیر، المراغی وغیرہ) ۔ سو آیت کریمہ میں وارد { عَن یَّدٍ } کے عموم میں یہ سب ہی مفہوم اور مطلب داخل ہیں اور یہ ان سب کو عام اور شامل ہے۔ اور ہم نے ترجمہ کے اندر بھی اسی عموم کو اپنایا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا الذی بیدہ ازمۃ التوفیق وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور (ان لوگوں کی شرکیات کا عالم یہ ہے کہ) یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اور نصاری نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، یہ بےحقیقت باتیں ہیں ان کے مونہوں کی، یہ نقل کرتے ہیں ان کافروں کی جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں، خدا ان کا ناس کرے، یہ کدھر الٹے کئے جا رہے ہیں ؟

67 یہود کے ایک شرک کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہود نے کہا کہ عزیز اللہ کے بیٹے ہیں۔ سو یہ اس کفر و شرک کا ایک اور ثبوت ہے جس کی بناء پر ان لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ پاک کی صفت تو { لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ } ہے کہ " نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ خود کسی کی اولاد " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کی کوئی اولاد کیونکر ہوسکتی ہے جب کہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں { اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُنْ لِّہُ صَاحِبۃ } مگر ان ظالموں نے اپنے ایمان اور اہل کتاب ہونے کے دعو وں کے باوجود اس سنگین کفر و شرک کا ارتکاب کیا کہ انہوں نے اللہ کی اولاد ٹھہرائی۔ اس لئے تم اے مسلمانو ! لڑو کفر و شرک کے ان علمبرداروں سے۔ تہ تیغ کرو ان کو اور کمر توڑ کر رکھ دو ان کے زعم باطل کی۔ یہاں تک کہ یہ جزیہ دے کر ذلیل ہو کر اور ماتحت بن کر رہیں۔ اور راہ حق میں روڑے نہ اٹکا سکیں۔ اور اس میں رکاوٹ نہ بن سکیں تاکہ غلبہ دین حق ہی کا ہو جو آیا ہی سب دینوں پر غالب ہونے کے لیے ہے اور جس کے غلبے میں تمام مخلوق کا بھلا ہے۔ کہ یہی دین حق سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ 68 اہل کتاب کے بےبنیاد اور بےحقیقت دعوے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ میح اللہ کے بیٹے ہیں۔ سو یہ سب محض ان لوگوں کے اپنے مونہوں کی باتیں ہیں، جن کی نہ کوئی اصل ہے نہ اساس۔ نہ ثبوت ہے نہ وجود۔ نیز یہ ان لوگوں کی اپنی کہی ہوئی اور ان کے اپنے مونہوں کی بنائی ہوئی باتیں ہیں نہ کہ کوئی خواہ مخواہ کا الزام جو ان پر تھوپا جا رہا ہو۔ اور نہ کوئی ڈھکی چھپی شئی جس کو یونہی ان کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہو۔ بہرکیف یہ بےبنیاد اور بےحقیقت باتیں ہیں جو یہ لوگ اپنے مونہوں سے نکالتے ہیں۔ ورنہ عقل اور نقل کی کوئی سند ان کیلئے موجود نہیں۔ اور یہ کوئی قیاس یا الزام نہیں بلکہ ان کی اپنی کہی ہوئی باتیں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اللہ کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ خود کی کی اولاد ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر یہ لوگ ہیں کہ ایمان اور توحید کا دعوی کرنے کے باوجود اس طرح کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ 69 موجودہ کافر پہلے کافروں کی نقل کرتے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ نقل کرتے ہیں ان کافروں کی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں کہ اس سے پہلے بھی مشرق و مغرب کی بہت سی قومیں ایسی گزری ہیں جو اسی طرح کے شرکیہ عقیدے رکھتی رہی ہیں۔ مثلاً ہندوستان کے ہندو براہمن، چین و جاپان وغیرہ کے بدھ مت کے پیروکار اور مصر ویونان وغیرہ کے قدیم مشرکین۔ جنہوں نے اسی طرح کے کفر و شرک کا ارتکاب کیا تھا، جیسا کہ دور حاضر کی تحقیقات کے نتیجے میں تقابل ادیان سے متعلق کتابوں میں اس کی تفصیلات جابجا ملتی ہیں۔ اور ان کو طرح طرح سے جمع کیا گیا ہے۔ مثلاً کتاب " العقائد الوثنیۃ فی الدیانات النصرانیۃ " یا استاذ ابوزہرہ کی کتاب " مقارنۃ الادیان " وغیرہ۔ اور جیسا کہ استاذ سعید حوی نے اپنی تفسیر " الاساس فی التفسیر " کی چوتھی جلد میں ص 2250 سے ص 2275 تک میں اس کی تفصیلات کو جمع کیا ہے۔ یہ سب پڑھئے اور پھر اندازہ کیجئے کہ { یُضَاہِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ } کا ارشاد ربانی کس قدر معجزانہ ارشاد ہے ۔ وللہ الحمد رب العالمین ۔ اگر ہمیں مفصل تفسیر لکھنے کی توفیق نصیب ہوئی تو اس بارے ان تفصیلات کو ذکر کریں گے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں اپنے عالموں اور اپنے پیروں کو اپنا رب بنادیا اللہ کے سوا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ ان کو حکم نہیں ہوا تھا مگر اس بات کا کہ یہ لوگ بندگی کریں ایک ہی معبود کی (جو کہ برحق ہے) کوئی بھی معبود نہیں سوائے اس (وحدہ لاشریک) کے، پاک ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں،1

70 اہل کتاب کے اپنے پیروں اور مولویوں کو رب بنانے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے عالموں اور پیروں کو اپنا رب بنادیا اللہ کے سوا کہ یہ لوگ کہ ان کے کہنے کے مطابق یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور اس کی حلال فرمودہ اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں، جیسا کہ سنن ترمذی اور مسند امام احمد کی روایت کے مطابق حضرت عدی بن حاتم ؓ سے مروی ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے اسلام لانے کا طویل قصہ بھی ذکر فرمایا ہے۔ (ترمذی کتاب التفسیر، طبری، قرطبی، الاساس فی التفسیر، محاسن التاویل، ابن کثیر وغیرہ وغیرہ) ۔ سو مخلوق میں سے کسی کو تحلیل و تحریم کا مالک و مختار سمجھنا اس کو رب بنانے کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ ہی کا اختیار اور اسی کا خاصہ ہے ۔ سبحانہ وتعالی - 71 عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا ماننا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کو بھی اپنا رب بنادیا اللہ کے سوا کہ ان بدبختوں نے ان کو خدا کا بیٹا بلکہ خدا ہی قرار دے دیا (صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ اور بھی کھلا اور فحش کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کفر پر عیسائی دینا آج تک بدستور قائم اور بضد ہے۔ اور آج بھی ان کا کہنا ہے کہ خدا تین ہیں۔ اللہ، عیسیٰ اور مریم۔ اور اس بناء پر یہ لوگ " توحید فی التلثیت " اور " تثلیث فی التوحید " کے اس گورکھ دھندے میں بری طرح الجھے اور پھنسے ہوئے ہیں جو ۔ اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ سو یہ ہوتا ہے نتیجہ کلام الہی میں تحریف اور اتباع ھویٰ کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح ان لوگوں نے اللہ کے دین کو شرک کا پلندہ بنادیا ۔ والعیاذ باللہ - 72 اللہ تعالیٰ ہر شائبہ شرک سے پاک ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں اور دوسرا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ پاک ہے ان تمام شریکوں سے جن کو یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ مدعا و مآل دونوں کا بہرحال ایک ہی ہے کہ وہ وحدہ لا شریک ہر قسم کے شریک اور ہر طرح کے شرک اور اس کے ہر شائبے سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نہ اس کی ذات وصفات میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ اسکے حقوق و اختیارات میں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے ہر قسم کی شرک اور اس کے شوائب سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنے مونہوں (کی پھونکوں) سے مگر اللہ انکار کرتا ہے (ہر صورت کا) بجز اس کے کہ وہ پورا کر کے رہے اپنے نور کو، اگرچہ یہ امر برا لگے کافروں کو،2

73 دین حق ایک عظیم الشان اور بےمثال نور ہے : ایسا عظیم الشان اور بےمثال نور جو انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہیں روشن کرتا ہے۔ مگر یہ بدبخت چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھادیں اللہ کے نور کو، یعنی دین حق اسلام کو جو کہ ایسا جلیل القدر معنوی نور اور ایسے عظیم الشان روشنی ہے، جس سے حق و صداقت اور حقیقی کامیابی کی وہ راہ روشن ہوتی ہے جو دارین کی سعادت و کامرانی کی ضامن و کفیل ہے۔ پس جس طرح یہ دین اپنی ہدایت اور معنوی روشنی کے اعتبار سے نور ہے اسی طرح ہمارے پیغمبر بھی معنوی اعتبار سے نور ہیں کہ آپ ﷺ ہی کے ذریعے دنیا کو ہدایت کی یہ عظیم الشان اور بےمثل روشنی نصیب ہوئی ہے۔ اسی حقیقت کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کی ذات بشر ہے اور صفت نور۔ مگر افسوس کہ اہل بدعت کو یہ صاف وصریح بات اور کھلی حقیقت سمجھ نہیں آتی اور انہوں نے خود ساختہ اضافوں اور طرح طرح کی پیوند کاریوں سے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ راہ حق پر ثابت قدم اور اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے ۔ آمین۔ 74 دشمنانِ حق کی حماقت کا ایک مظہر و نمونہ : کہ یہ لوگ دین ِحق کے نور مبین کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ تو کیا شمس نصف النہار کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھانا کسی کے لیے ممکن ہوسکتا ہے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر دین حق کے آفتاب عالمتاب اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھانا کسی کے لیے کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ سو دین حق کے نور مبین کو بجھانے کی کوشش کرنا ظلم و بےانصافی بھی اور حماقت و بیوقوفی بھی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ دین کی سربلندی اور دین والوں کی سرفرازی سے کڑھنا اور جلنا کفر اور کافروں کا کام ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لیکن اسی میں ان لوگوں کی حماقت کا بھی ثبوت ہے۔ کیونکہ سورج کو جو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھانا چاہیں گے ان سے بڑھ کر احمق و بیوقوف اور کون ہوسکتا ہے ؟ نیز اس میں ان لوگوں کے ظلم و بےانصافی اور ان کی بےقدری اور ناشکری کا ثبوت بھی ہے کہ ان کو نور حق کی اس عظیم الشان روشنی سے نوازا گیا تھا تاکہ اس سے ان کیلئے حق و ہدایت کی راہیں روشن ہوں، لیکن انہوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے الٹا اس کو بجھانے کی کوشش کی اور اس طرح انہوں نے اپنی محرومی اور سیاہ بختی کے ٹھپے کو اور پکا کیا اور اپنے لیے ایسے ہولناک خسارے کا سامان کیا جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ نور حق و ہدایت سے محرومی کا خسارہ سب سے بڑا اور نہایت ہی ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کی ہر کجی اور ہر قسم کے انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو غالب کرے تمام دینوں پر، اگرچہ یہ امر برا لگے مشرکوں کو۔3

75 دین حق سب دینوں پر غالب ہونے کیلئے آیا ہے : یعنی یہ دین ماتحت اور مغلوب ہو کر رہنے کے لئے نہیں بھیجا گیا بلکہ اس لئے بھیجا گیا ہے کہ سب دینوں پر غالب ہو اور حکم اسی کا چلے کہ حق یہی اور صرف یہی ہے۔ اور حق کی شان ہے غالب ہونا نہ کہ مغلوب و ماتحت ہونا۔ سو حجت وبرہان کے اعتبار سے غلبہ تو ہمیشہ اسی دین حق کا رہا کہ یہ قطعی طور پر ثابت واضح اور حق ہے۔ اور سیاست و حکم کے اعتبار سے بھی غلبہ اسی کا ہے بشرطیکہ اس کے نام لیوا صحیح معنوں میں اس کے ماننے والے اور اس کی تعلیمات کے مطابق چلنے والے ہوں۔ اور وہ اس دین کے غلبہ اور سربلندی کے لئے ویسی محنت اور جدوجہد کریں جیسی کہ اس کے لئے درکار ہے۔ اور تاریخ اس کی شاہد عدل ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی مسلمان بن کر ایمان و یقین کی قوت سے سرشار ہو کر اس دین حق کی سربلندی کے لئے کام کیا عزت و عظمت انہی کی رہی۔ اور غلبہ اسی دین حق کا رہا کہ غلبہ ہمیشہ اور بہرحال حق ہی کا ہے۔ اور اسی کے غلبہ میں پوری خلق خدا کا بھلا ہے۔ اور اسی میں سعادت دارین سے سرفرازی کا راز مضمر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور دین حق کا خادم بنائے رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

ایمان والو، یقینا بہت سے عالم اور پیر ایسے ہیں جو کھاتے ہیں لوگوں کا مال باطل (اور ناحق) طریقوں سے، اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے، اور جو لوگ جوڑ جوڑ کر رکھتے ہیں سونے اور چاندی کو، اور وہ ان کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں، تو خوشخبری سنادو ان کو ایک دردناک عذاب کی۔4

76 لفظِ { باطل } کا عموم و شمول اور اسکی مختلف شکلیں : سو " باطل " کا کلمہ عام ہے جو اکل حرام کی ہر ناجائز شکل کو شامل ہے خواہ وہ رشوت ستانی و فتوی فروشی کی شکل میں ہو اور خواہ ناجائز تعویذ گنڈوں کے کاروبار کی شکل میں۔ اور اس سلسلے میں نت نئی بدعات کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی خرافات اور خود ساختہ رسوم کو رواج دینے کی صورت میں۔ خواہ غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز کے ذریعے اور دوسرے ان مختلف بدعی طور طریقوں سے ہو جن کا قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ میں اور حضرات صحابہ کرام، تابعین عظام اور سلف صالحین کے دور میں کوئی ثبوت و وجود اور نام و نشان نہیں، بلکہ عربی زبان میں ایسا کوئی لفظ تک نہیں پایا جاتا جو ان بدعات کے لئے بولا جائے۔ یہ صرف ہمارے برصغیر کے جہالت کدوں کے رسوم و رواج ہیں اور بس۔ علامہ مراغی مرحوم نے اپنی تفسیر میں اس موقع پر " اَکُل بالْبَاطِل " کی اور بھی کئی صورتیں ذکر کی ہیں۔ بہرکیف اس طرح کی تمام صورتیں لفظ " باطل " کے عموم میں داخل ہیں۔ لہذا وہ سب ہی ممنوع و محذور ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ قرآن پاک کی صداقتوں پہ قربان جائیں کہ { کَثِیْرًا مِّنَ الاَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ } " بہت سے عالم اور پیر " فرمایا ہے، یہ نہیں فرمایا کہ " سب ہی احبارو رہبان ایسے ہیں " بلکہ یہ فرمایا کہ " بہت سے احبارو رہبان ایسے ہیں "۔ اور امر واقع بھی یہی ہے کہ سب ایسے نہیں۔ بہت سے ایسے ہیں۔ جب بھی یہی تھا اور اب بھی یہی ہے۔ کل بھی یہی صورت تھی اور آج بھی یہی صورت ہے۔ وہاں بھی یہی حال تھا اور یہاں بھی یہی پوزیشن ہے۔ اور مزید یہ کہ ایسے بدعت پرستوں کی خود ساختہ عظمتوں کے لئے بڑے بڑے القاب و آداب بناوٹی قصوں کہانیوں، من گھڑت افسانوں، بےبنیاد کرامتوں اور بڑی بڑی عباؤں، قباؤں اور جبوں قبوں وغیرہ کے ایسے بھاری بھرکم اور رعب دار بوجھ عام لوگوں کے دل و دماغ پر ڈال دئے جاتے ہیں کہ سادہ لوح عوام ان کے نیچے سے سرک بھی نہیں نکال سکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ فرزندان شرک و بدعت ان آیات بینات کے بارے میں اپنے مریدان سادہ لوح کو بتاتے ہیں کہ یہ تو اہل کتاب کے پادریوں پنڈتوں وغیرہ کے بارے میں ہیں نہ کہ ہمارے بارے میں۔ ہمیں تو چھٹی ہے، جو چاہیں کریں۔ مگر کوئی ان سے یہ پوچھے کہ صاحب پھر { یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } کے الفاظ سے اہل ایمان کو خطاب کیوں فرمایا گیا ہے ؟ اور پھر کیا عبرت و موعظت اور وعظ و تذکیر کے اعتبار کے بغیر یونہی قصہ گوئی اس کتاب ہدایت قرآن مجید کی عظمت شان کے لائق ہوسکتی ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ پس حقیقت یہ ہے کہ اس میں اہل کتاب کے عالموں اور انکے پیروں اور پیشواؤں کا یہ حال بیان فرما کر دراصل مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ یہ چیزیں جن کے مرتکب وہ لوگ ہوئے تمہارے اندر نہ آنے پائیں، تاکہ تم لوگ بھی اس انجام میں مبتلا نہ ہوجاؤ جس میں اس سے پہلے وہ لوگ اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں مبتلاء ہوچکے ہیں۔ افسوس کہ اس کے باوجود اس امت میں ایسے پیر اور مولوی نہ صرف یہ کہ موجود ہیں اور اس جرم کے خود مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ وہ اس کو جائز ثابت کرنے کے لئے الٹا اس ارشاد خدا وندی میں طرح طرح کی تاویلات سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس حکم و ارشاد کے مخاطب و مامور ہی نہیں ہیں بلکہ یہ حکم تو اہل کتاب کے لئے ہے اور بس ۔ { فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ } ۔ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے عالم اور پیر ایسا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے اور باطل کی ہر شکل سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 77 اہل کفر و باطل کا راہ حق سے روکنے کا جرم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ وہ دوسروں کو راہ حق و ہدایت سے روکتے ہیں تاکہ جس طرح یہ خود حق سے محروم ہیں اسی طرح دوسروں کو بھی اس سے محروم کردیں۔ چناچہ یہ بات بھی آج کے اہل بدعت اور دوسرے اہل باطل میں پوری طرح موجود ہے کہ یہ بھی عام لوگوں کو راہ حق و صواب سے طرح طرح سے روکتے ہیں، اور اس کے لئے یہ لوگ اہل حق کے خلاف تحریر و تقریر اور زبان وبیان سے طرح طرح کے جھوٹے اور زہریلے پروپیگنڈے کر کے سادہ لوح عوام کو ان سے روکتے اور متنفر کرتے ہیں۔ تاکہ وہ حق اور اہل حق کے دائرے میں آ کر خود ان لوگوں سے دور نہ ہوجائیں اور اس طرح یہ ان کے نذرانوں اور دوسرے مادی فوائد و منافع سے محروم نہ ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسے لوگ نہیں سمجھتے کہ اس طرح وہ ضلال اور اضلال کے دوہرے جرم کا ارتکاب کرکے اپنے لیے ڈبل محرومی اور دوہرے نقصان کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل کتاب کے بہت سے عالم اور پیر لوگوں کے مال طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے سمیٹتے کھاتے اور ان کو راہ حق و ہدایت سے روکنے کے اس سنگین جرم و گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس لیے تم لوگوں کو اے ایمان والو ایسے گندم نما جو فروشوں سے بچ کر اور اس سے محتاط رہنا چاہئے اور خبردار کہ اس طرح کی کوئی خطرناک بیماری تمہارے اندر نہ آنے پائے ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 78 راہ حق میں خرچ نہ کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ جوڑ جوڑ کر رکھتے ہیں سونے اور چاندی کو اور وہ ان کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں تو ان کو خوشخبری سنادو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی۔ سو اپنے مالوں کو راہ حق میں خرچ نہ کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خوشخبری سنانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ -: یعنی جو نہ ان کو یہ لوگ وجوہ خیر میں صرف کرتے ہیں اور نہ ان کی فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ (صفوۃ وغیرہ) ۔ چناچہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا کی جاتی ہو وہ " کنز " نہیں ہے۔ اگرچہ وہ سات زمینوں کے نیچے ہی کیوں نہ ہو۔ اور جس مال کی زکوٰۃ نہ ادا کی جاتی ہو وہ " کنز " ہے اگرچہ وہ زمین کے اوپر ہی پڑا کیوں نہ ہو۔ (محاسن، اساس، روح اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو جو لوگ اپنے مالوں کو جوڑنے اور جمع کرنے ہی کی فکر میں ہوتے ہیں اور اس کو وہ راہ حق میں خرچ نہیں کرتے وہ اپنے لیے بڑے برے انجام اور ہولناک خسارے کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ تو اپنی جگہ خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے اتنا اور اتنا مال جمع کرلیا اور اس اس قدر سونے چاندی کے ڈھیر لگا دیے اور وہ اتنے اور اتنے مال کے مالک بن گیے۔ اور ان کے بینک بیلنس اتنے اور اتنے ہوگئے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس طرح وہ دراصل اپنے لیے ہولناک آگ اور دوزخ کے عذاب کا سامان کر رہے ہیں۔ سو ان کو ایسے ہولناک اور دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن تپایا جائے گا ان کو دوزخ کی آگ میں، پھر انکے ذریعے داغا جائے گا ان لوگوں کی پیشانیوں، پیٹھوں، اور پہلؤوں کو (اور ان سے کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ کچھ جو تم لوگ جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے اپنی جانوں کے لیے، سو اب چکھو مزہ تم لوگ اپنی اس دولت کا جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔

79 اہل دوزخ سے تحقیر و تذلیل کا خطاب : سو ان بدبختوں سے قیامت کے روز اس طرح کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا وہ مال جو تم لوگ اپنے جانوں کے جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔ سو اب تم لوگ مزہ چکھو اپنی دولت کا جو تم اس طرح جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔ سو ان سے ایسا کہا جائے گا۔ ان کی تذلیل و تحقیر کے لئے۔ اور اس طرح یہ لوگ وہاں پر دوزخ کی ظاہری آگ کے ساتھ ساتھ حسرت و افسوس اور تذلیل و تحقیر کی اس باطنی آگ سے بھی جلیں گے اور " عَذَابًا فَوْقَ عَذَابٍ " کی دوہری سزا میں مبتلا ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا کس قدر کرم اور احسان ہے کہ آخرت کے اس غیبی جہان میں ہونے والے اس طرح کے ان ہولناک عذابوں سے اس نے اپنے بندوں کو پیشگی اس دنیا ہی میں آگاہ فرما دیا اور اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ آگاہ فرما دیا کہ کوئی غموض و خفاء باقی نہیں رہ گیا، تاکہ جنہوں نے بچنا ہو وہ ان سے بچنے کی فکرو کوشش کرسکیں، قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ مختصر اور محدود فرصت ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ مگر اس کے باوجود دنیا ہے کہ اس سے غفلت میں پڑی ہے اور لاپرواہی برت رہی ہے ۔ والعیاذُ باٰللّٰہ مِنْ کُلِّ شکَلٍْ مِّنْ اَشْکَالِ الْغَفْلَۃِ وَللّا مُبالاۃ فاِنَّہ ھُوَ المستعَان وعَلَیْہِ التَّکْلَان بکُلِّ حالٍ مِنَ الْاَحوالٍ وَفِیْ کُلِّ حِیْنٍ مِّنَ الْاَحْیَان ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ان لوگوں کے جمع کردہ سونے اور چاندی کو پگھلا کر اس کے ذریعے ان کی پیشانیوں، پیٹھوں اور ان کے پہلؤوں کو داغا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ کچھ جس کو تم لوگ دنیا میں جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔ سو اب تم اپنے اس جوڑے اور جمع کردہ مال و دولت کا مزہ چکھو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ایسا ہولناک خسارہ ہوگا کہ اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ عذاب کی ہر شکل وصورت سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین -