9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

بلاشبہ مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں،1 (اس دن سے) جس دن کہ پیدا فرمایا اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو، ان میں سے چار مہینے (عزت وحرمت) والے ہیں، یہی ہے سیدھا دین، پس تم لوگ مت ظلم کرو، ان مہینوں کے بارے میں اپنی جانوں پر، اور لڑو تم مشرکوں سے مل کر، اور یقین جانو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

80 حرمت والے مہینے چار ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ مہینوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں (اس دن سے کہ) جس دن اللہ نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ جن میں سے تین پے درپے ہیں یعنی ذوالعقدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ اور ایک الگ ہے یعنی رجب۔ ان چاروں کی حرمت زمانہ جاہلیت میں بھی مسلم تھی، مگر ان کے یہاں طریقہ یہ تھا کہ اگر لڑتے لڑتے کبھی حرمت والا کوئی مہینہ آگیا، تو اس کو حلال قرار دے دیا، اور اس کے بدلے میں دوسرے حلال مہینے کو حرام قرار دے دیا۔ مثلاً محرم کو صفر اور صفر کو محرم قرار دے دیا۔ اور اس طرح وہ سمجھتے کہ ہم نے حرمت والے مہینوں کی گنتی پوری کرلی۔ اور ان کی مت ایسی ماری گئی تھی کہ ان کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا محض نام بدلنے سے اور صرف ہمارے کہنے سے کسی چیز کی حقیقت بدل سکتی ہے ؟ بکرے کو خنزیر یا خنزیر کو بکرا کہنے سے کیا ان کی اصل اور حقیقت میں کوئی فرق واقع ہوسکتا ہے ؟ بہرکیف ان لوگوں نے اپنی اسی غلط روش سے معاملہ کو اس قدر خلط ملط کردیا تھا اور صورت حال کو اس حد تک بگاڑ دیا تھا کہ اصل اور نقل میں فرق کرنا ناممکن ہوگیا تھا۔ یہاں تک کہ حجتہ الوداع کے موقع پر قدرت کی طرف سے مہینوں کا یہ پھیر اپنی گردش پوری کرکے اپنی اصل حالت میں آگیا تھا اور اس موقع پر آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا کہ " زمانہ اپنی طبعی گردش کو پورا کر کے اب اپنی اصل پر آگیا ہے "۔ یعنی اس مرتبہ کا یہ حج اپنے صحیح وقت پر ہو رہا ہے۔ سو اس کے بعد یہ اپنی طبعی حالت پر رہے گا۔ اور نسئی کا یہ غلط اور ناجائز رواج اب ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا ۔ فللہ ا لحمد رب العالمین ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر صورت سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 81 پرہیزگاروں کے لیے معیت خداوندی کا مژدئہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ یقین جانو کہ بیشک اللہ ساتھ ہے پرہیزگاروں کے۔ یعنی اپنی نصرت و تائید کے ذریعے۔ پس تم لوگ تقویٰ کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا کہ یہی ذریعہ ہے اس کی تائید ونصرت کے حصول کا ۔ اللہ توفیق دے ۔ آمین۔ سو مومن کی اصل قوت تقویٰ و پرہیزگاری ہی ہے کہ اسی کے ذریعے وہ نصرت خداوندی سے بہرہ ور و سرشار ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی معیت دو قسم پر ہے۔ ایک معیت عامہ جو کہ سب کے ساتھ موجود ہے اور جو عبارت ہے اس کے علم اور قدرت سے۔ سو اس کے احاطہ علم اور دائرئہ قدرت سے کوئی بھی اور کچھ بھی باہر نہیں۔ اور دوسری معیت " معیت خاصہ " ہے جو کہ عبارت ہے اس کی نصرت و امداد سے جو کہ اس کے خاص بندوں کے لیے ہوتی ہے۔ یعنی ان سے جو ایمان و یقین اور تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں۔ سو مطلب اس ارشاد ربانی کا یہ ہوا کہ تم لوگ ان مہینوں کی حدود حرمت کا خیال رکھتے ہوئے ان مشرکوں سے من حیث الجماعت لڑو جس طرح وہ تم سے من حیث الجماعت لڑتے ہیں۔ یعنی یہ جنگ ان مشرکین سے من حیث الجماعت ہو۔ اس بنیاد پر ان کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہ کیا جائے کہ ان میں سے کسی کے ساتھ کوئی رشتہ و قرابت یا دوستی کا تعلق ہے۔ یا خاندان اور قبیلے کی بنا پر کسی خاندان و قبیلے سے کوئی ہمدردی ہے یا ان کے کسی گروہ سے کوئی سیاسی یا تجارتی یا معاشی مفاد وابستہ ہے۔ سو اس قسم کے ہر تعلق اور مفاد کو بالائے طاق رکھ کر تمام مشرکوں کے خلاف لڑو اور ان سب سے بلا استثناء جنگ کرو جس طرح کہ وہ تم سے کرتے ہیں۔ تاکہ شرک اور مشرکوں کا زور ٹوٹے۔ حق کا راستہ صاف ہو اور فتنہ باقی نہ رہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

یہ مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں (ترقی اور) زیادتی کے سوا کچھ نہیں، اس کے ذریعے گمراہ کیا جاتا ہے عام کافروں کو، یہ اس کو حلال کرلیتے ہیں ایک سال، اور حرام کرلیتے ہیں دوسرے سال، تاکہ اس طرح یہ گنتی پوری کرلیں ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرام قرار دیا، سو اس طرح یہ لوگ حلال ٹھہراتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے حرام قرار دیا، خوشنما بتادیا گیا ان کے برے اعمال کو، اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا کافر لوگوں کو،

82 نسی کفر میں زیادتی اور اضافہ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور انما کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں ترقی اور زیادتی کے سوا اور کچھ نہیں کہ اللہ پاک کی جانب سے کسی حلال فرمودہ چیز کو حرام سمجھنا یا اس کی طرف سے حرام کردہ کسی شیٔ کو حلال سمجھنا کفر ہے۔ اس طرح اس نسئی کے ذریعے ان لوگوں کے کفر ہی میں اضافہ ہوگا۔ ایک پہلے والا کفر اور دوسرا یہ نسئی والا کفر۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور نسی سے مراد زنانہ جاہلیت کی اصطلاح میں وہ مہینہ ہوتا تھا جس کو وہ لوگ کچھ دنوں کے لیے پیچھے ہٹا کر اس میں کچھ دنوں کا اضافہ کردیتے تھے۔ اس طرح وہ لوگ اپنے زعم کی مطابق یہ سمجھتے کہ انہوں نے قمری مہینوں اور خاص کر اشہر حرم کا احترام بھی قائم رکھا اور اپنے تجارتی فوائد و مصالح کے اعتبار سے قمری نظام کو شمسی بھی بنا لیا۔ سو اس طرح وہ لوگ اپنے طور پر تو یہ کہتے کہ ہم نے اشہر حرم کی تعداد بھی پوری کرلی جو کہ دینداری کا مقتضیٰ ہے اور اپنے کاروباری مفاد کو بھی محفوظ رکھا۔ اور یہی ذہنیت ہر بدعت کی ایجاد کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے۔ اور بدعتی لوگ ہمیشہ اسی قسم کے خبط میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم نے دین اور دنیا دونوں کے تقاضے پوری کردیے حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قرآن حکیم نے یہاں پر ان لوگوں کی اسی خود ساختہ اور مصنوعی دینداری پر ضرب لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ ان کے کفر میں مزید اضافہ ہے جس سے یہ لوگ راہ راست اور دین قیم یعنی ملت ابراہیم سے منحرف اور مزید دور ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ - 83 خواہشات نفس کی پیروی ہلاکت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے ذریعے گمراہ کیا جاتا ہے عام کافروں کو۔ یہ لوگ اس کو حلال ٹھہرا لیتے ہیں ایک سال اور حرام ٹھہرا لیتے ہیں دوسرے سال۔ تاکہ اس طرح یہ گنتی پوری کرلیں ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ سو اس طرح یہ لوگ حلال ٹھہرا لیتے اس چیز کو جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ سو خواہشات نفس کی پیروی کی بنا پر ان لوگوں کا حال یہ ہوگیا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے مقرر فرمودہ مین ہوں کو اس طرح اپنے فرضی اور وہمی مفروضوں کی بنا پر آگے پیچھے کرلیتے۔ کہ جب لڑنے کا موڈ ہوا تو اس کو حلال قرار دے دیا اور جب نہ ہوا تو اس کو حرام سمجھ لیا۔ پیروی بہرحال نفس اور اس کی خواہش ہی کی تھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نور حق سے اعراض و روگردانی اور محرومی اور اتباع ھویٰ یعنی خواہشات نفس کی پیروی انسان کو راہ حق و ہدایت سے محروم کرکے اس کو طرح طرح کے مہالک میں ڈال دیتی ہے یہاں تک کہ اس کی مت ہی مار دی جاتی ہے جس سے وہ حق اور باطل کے درمیان فرق و تمییز کی اہلیت اور صلاحیت ہی سے محروم ہوجاتا ہے اور انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر اور خیر البریہ ۔ بہترین مخلوق ۔ کے شرف و اعزاز سے محروم ہو کر شر البریۃ ۔ بدترین مخلوق ۔ بن کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 84 برے اعمال کو اچھا کرکے دکھانا برے لوگوں کیلئے ایک نقد سزا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ برے اعمال کو اچھا کر کے دکھانا برے لوگوں کے لیے ایک نقد سزا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس سے وہ برائی کو بھی اچھائی سمجھ کر کرنے لگتے ہیں۔ سو قدرت کی طرف سے ملنے والی یہ سزا نقد اور ایک بڑی سخت سزا ہے جو افراد کو بھی ملتی ہے اور قوموں اور جماعتوں کو بھی۔ کل بھی ملتی تھی اور آج بھی ملتی ہے۔ سو باطل کے کتنے کتنے راستے اور کتنے کتنے کام ہیں جن کو لوگ مختلف ناموں سے اور مختلف شکلوں میں سینوں سے لگائے ہوئے ہیں اور ان سے بچنے اور باز آنے کی بجائے یہ لوگ الٹا طرح طرح کی تاویلات وغیرہ کے ذریعے ان کو اچھا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور الٹا ان سے روکنے والوں کو برا کہتے اور بتاتے ہیں۔ تو کیا نفس و شیطان کے مارے ہوئے ان بدنصیبوں کی محرومی کا کوئی اندازہ کیا جاسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا { اَ فَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا } " بھلا اس شخص کی بدبختی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس کے لئے خوشنما بنادیا گیا ہو اس کے برے عملوں کو ؟ " ۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وشر۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے لیے ان کے برے اعمال کو خوشنما بنادیا گیا جس سے یہ نور حق و ہدایت سے محروم ہوگئے کیونکہ حب کوئی برے عمل کو اچھا سمجھے گا تو اس کو چھوڑے گا کیونکر ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

ایمان والو ! تم کو کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو تم اللہ کی راہ میں، جہاد و قتال کے لئے تو تم گرے جاتے ہو زمین پر، کیا تم لوگ راضی ہوگئے آخرت کے مقابلے میں اسی (چندروزہ) دنیاوی زندگی پر ؟ سو (واضح رہے کہ) دنیاوی زندگی کا یہ متاع فانی تو آخرت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے،1

85 غزوئہ تبوک کا ذکر اور جہاد کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں جہاد و قتال کے لیے نکلو تو تم لوگ زمین پر ڈھے جاتے ہو کیا تم لوگ آخرت کے مقابلے میں اسی دنیاوی زندگی پر راضی ہوگئے ہو ؟ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ایمان والوں کی شان یہ نہیں ہوا کرتی بلکہ ان کی شان یہ ہوتی ہے اور یہی ہونی چاہیئے کہ جب ان کو جہاد کیلئے بلایا جائے تو یہ اس کیلئے فوراً اٹھ کھڑے ہوں۔ بہرکیف یہاں سے اس سورة کریمہ کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جس کا تعلق غزوئہ تبوک سے ہے اور جو آنحضرت ﷺ کا آخری غزوہ ہے۔ جو سنہ 9 میں ہوا اور جو بڑی تنگی اور دشواری کے عالم میں پیش آیا تھا۔ اسی لئے اس کو غزوئہ ذات العسرہ بھی کہا جاتا ہے۔ جس کی تفصیلات میں بہت کچھ دروس عبرت ہیں۔ جو انشاء اللہ ہم اپنی مفصل تفسیر میں عرض کریں گے اگر زندگی نے وفا کی اور قدرت کو منظور ہوا تو ۔ فَاِنَّہٗ بِیَدِہِ الاَمْرُ کُلُّہْ جَلَّ وَعَلا وَتَبَارَکَ وَتَعَالٰی ۔ اللہ بقدر کفایت اس کا کچھ ذکر ان مختصر حواشی و فوائد میں بھی آجائے گا ۔ انشاء اللہ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 86 دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لینا خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی پر راضی ہوجانا اور اسی کو سب کچھ سمجھ لینا خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ دنیاوی زندگی آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ معلوم ہوا کہ اصل ممنوع و محظور دنیا کی وہ محبت ہے جو آخرت کے مقابلے میں ہو کہ یہی دراصل باعث ہے خسران مبین کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی پر راضی ہوجانا خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ دنیاوی زندگی اور اس کی ہر چیز فانی ہے۔ اور یہاں پر انسان کو عیش و عشرت اور آرام و راحت کا جو بھی سامان مل جائے وہ بہرحال وقتی، عارضی اور فانی ہے جس نے وقت آنے پر بہرحال فنا کے گھاٹ اتر کر رہنا ہے جبکہ آخرت اور وہاں کی ہر نعمت کامل بھی ہے اور ابدی و دائمی بھی۔ سو عارضی اور فانی کو دائمی اور ابدی پر ترجیح دینا سب سے بڑی حماقت، خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لیے قرآن حکیم نے ایسے لوگوں کی عقل و ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے خطاب کیا اور ارشاد فرمایا { بَلْ تُؤثِرُوْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی } (الاعلی :61 ۔ 17) ۔ یعنی خفا والتباس کی کوئی وجہ نہیں کہ حق پوری طرح واضح ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت دنیا سے کہیں بڑھکر بہتر اور اعلی و عمدہ ہے اور ہمیشہ رہنے والی بھی ۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وانحراف۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 87 دنیاوی زندگی آخرت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے : کمیت کے اعتبار سے بھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی کہ آخرت کے مقابلے میں ایک تو دنیا کا ظرف ہی بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے اور دوسرے اس لئے کہ اس کی ہر نعمت عارضی وفانی ہے۔ جبکہ جنت کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ آسمان و زمین کی مجموعی وسعت کے برابر اس کا عرض ہوگا جو کہ طول سے کم ہوتا ہے۔ تو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنت کس قدر وسیع ہوگی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ پھر اس کی ہر نعمت عظیم الشان اور کامل و بےمثال اور دائمی و ابدی ہے { وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی } (الاعلیٰ : 17) ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ سو آخرت اور اس کے تقاضوں کو بھول کر اور ان کو پس پشت ڈال کر دنیا کی چکا چوند پر ریجھ کر اور اسی کا ہو کر رہ جانا خساروں کا خسارہ اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم لوگ نہیں نکلوگے، تو اللہ تمہیں مبتلا کردے گا ایک دردناک عذاب میں، اور وہ لے آئے گا تمہاری جگہ کسی اور قوم کو تمہارے سوا، اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے،2

88 اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لاسکتا ہے : پس نہ وہ تمہارا محتاج ہے کہ وہ ہر کسی سے اور ہر طرح سے غنی و بےنیاز ہے اور نہ اس کا دین تمہارا حاجت مند ہے۔ اس لئے تمہیں اگر اس کے دین کی خدمت کی سعادت نصیب ہوتی ہے تو وہ خود تمہارے ہی لئے خیر و برکت کا ذریعہ ہے۔ اس لئے تم اس کو اپنے لئے غنیمت وسعادت سمجھو۔ ورنہ تم لوگ اگر نہیں اٹھو گے تو خدا کا یا اس کے دین کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اس کا کوئی کام تمہارے اوپر منحصر نہیں۔ وہ قادر مطلق اپنے دین کی حمایت و نصرت کے لیے اپنے دوسرے بندوں کو اٹھا کھڑا کرے گا جو تمہاری طرح تن آسان پست ہمت اور مفاد پرست نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لاَ یَکُوْنُوْا اَمْثَالَکُمْ } (محمد : 38) ۔ اللہ وفقنا لما تحب وترضی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر قائم رہنے اور خدمت خلق کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم لوگوں نے پیغمبر کی مدد نہ کی تو اللہ (خود ہی ان کی مدد کو کافی ہے سو وہ) اس وقت بھی ان کی مدد کرچکا ہے جب کہ ان کو نکال دیا تھا کافروں نے (ان کے گھر بار سے) جب کہ وہ دو میں کے دوسرے تھے، جب کہ وہ دونوں غار میں تھے، جب کہ وہ فرما رہے تھے اپنے ساتھی سے، کہ غم نہ کرو، یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے،3 پھر اللہ نے اتاردی ان پر اپنی سکینت اور ان کی مدد فرمائی ایسے لشکروں کے ذریعے جو تم کو نظر نہیں آرہے تھے، اور اس نے کردیا کافروں کے بول کو نیچا، اور اللہ کا بول تو ہے ہی اونچا، اور اللہ سب پر غالب، بڑا ہی حکمت والا ہے،

89 اللہ کا رسول تمہاری مدد کا محتاج نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں نے اللہ کے رسول کی مدد نہ کی تو اللہ خود ہی ان کی مدد کے لیے کافی ہے۔ یعنی جواب شرط یہاں پر محذوف ہے اور اس کے ما بعد کا مذکور اس محذوف کے لئے بمنزلہ علت کے ہے۔ اور وہ جواب شرط جو محذوف ہے اسی طرح کے کسی جملے سے مقدر مانا جاسکتا ہے۔ سو جب اللہ کی مدد اللہ کے رسول کو حاصل ہے تو پھر ان کو تمہاری مدد کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے۔ پس تمہیں اگر ان کی نصرت و امداد کا موقع ملتا ہے تو یہ خود تمہارے لیے باعث سعادت ہے۔ اس لیے تم لوگ ایسے ہر موقع کو غنیمت سمجھو۔ 90 حضرت صدیق اکبر ؓ کی صحابیت کا ثبوت نصِّ قرآن سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب پیغمبر فرما رہے تھے اپنے ساتھی سے یعنی صدیق اکبر۔ ؓ ۔ سے۔ پس حضرت صدیق ؓ کی صحابیت نصِّ قرآن سے ثابت ہے۔ اس لئے آپ ؓ کی صحابیت کا انکار کرنا یا اس میں شک کرنا کفر ہے کہ یہ صریح آیت کا انکار ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور حضرات علمائے کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ کی فضیلت اور صحابیت کا منکر کافر ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ (ملاحظہ ہو، روح، قرطبی، مدارک، کبیر اور صفوہ وغیرہ) ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ اور اس ارشاد ربانی سے حضرت صدیق اکبر ؓ کی صحابیت اور آپ کی امتیازی شان واضح ہوجاتی ہے ۔ ؓ وارضاہ وعنا معہ - 91 حاجت روا اور مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : یعنی جبکہ پیغمبر اپنے یار غار صدیق اکبر سے فرما رہے تھے کہ " غم نہ کرو یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے " ۔ سبحان اللہ ! ۔ پیغمبر اور پیغمبروں کے بھی امام و پیشوا کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ ہی ہے ۔ جل جلالہ ۔ اور وہ بھی مشکل کے اس وقت میں اپنے ساتھی اور یار غار سے کہہ رہے ہیں اور صاف اور صریح طور پر کہ رہے کہ " گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے " اور اپنے اس قول و فعل سے صاف اور صریح طور پر یہ درس دے رہے ہیں کہ ہم سب اسی کے محتاج و دست نگر اور اسی کے حضور دعاگو ہیں۔ سو حضرت امام الانبیائ ﷺ بھی اپنے ساتھی کو یہی تلقین فرماتے اور اسی کا درس دیتے ہیں کہ اللہ پر بھروسہ کرو وہ ہمارے ساتھ ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا کلمہ گو مشرک اللہ کو چھوڑ کر اس کی طرح طرح کی عاجز مخلوق کو حاجت روا و مشکل کشا جانتا و مانتا ہے۔ اور وہ " یا اللہ " کہنے کی بجائے " یا علی مدد "، " یا غوث دستگیر "، " یا بہاء الحق بیڑا دھک " وغیرہ جیسے شرکیہ نعرے لگاتا ہے اور اس کے لئے اس کے استدلال کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو کہ ہمارے ملک میں اہل بدعت کے ایک مشہور گویّا مولوی صاحب ہوتے تھے جو ابھی کچھ ہی عرصہ قبل اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔ اور ان کو اہل بدعت بڑے بڑے القاب و آداب سے یاد کیا کرتے تھے۔ مگر ان کا مبلغ علم اور حدود اربعہ یہ تھا کہ وہ بھرے جلسے میں کہا کرتے تھے کہ ا وہ وہابیا ! تیری گولی قبض کشا ہے تو علی مشکل کشا کیوں نہیں ہوسکتے ؟ اور اس کے جواب میں عوام کالانعام حاضرین کی طرف سے انکو واہ واہ وغیرہ سے خوب داد ملا کرتی تھی ۔ فَاِلَیِ اللّہ المثتکیٰ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عناد و ہٹ دھرمی کی بنا پر اور شرک و بدعت کی نحوست کے نتیجے میں انسان کتنا اندھا اور کس قدر اوندھا ہوجاتا ہے۔ اور وہ توحید کے منصہ شرف سے گر کر شرک و بدعت کے کس قدر ہولناک گڑھے میں جا پہنچتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 92 غیر مرئی لشکروں کی مدد سے سرفرازی : یعنی فرشتوں وغیرہ کے وہ لشکر جن کی حفاظت میں آپ ﷺ اتنے زیادہ اور ایسے سخت جانی دشمنوں کے نرغے سے بھی تن تنہا بحفاظت تمام نکل گئے اور ان سب دشمنوں کی آنکھیں اس طرح بند کردی گئیں کہ وہ آپ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔ نیز اس کے علاوہ غزوئہ بدر، اَحزاب اور حنین وغیرہ کے معرکوں میں بھی انہی فرشتوں کے ذریعے آنحضرت ﷺ کی نصرت و مدد فرمائی گئی۔ (روح، قرطبی، اور جامع وغیرہ) ۔ سو جب انسان کا ایمان و یقین کامل ہوتا ہے اور اس کا تعلق اپنے خالق ومالک سے صحیح اور مضبوط و مستحکم ہوجاتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد سے اسی طرح سرفراز فرمایا جاتا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد اس وقت بھی فرمائی جبکہ کافروں نے ان کو گھر سے باہر نکالا تھا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے اور آپ دو میں کے دوسرے تھے۔ کوئی تیسرا آپ کے ساتھ نہ تھا۔ سارا قریش جو کہ آپ کے خون کا پیاسا تھا آپ ان سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بحفاظت ان کے نرغے سے نکل آئے۔ کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہ کرسکا۔ پھر جب آپ غار ثور میں اپنے ساتھی سے کہ رہے تھے کہ " غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے " سو وہی اللہ آئندہ بھی ہمیشہ ان کی مدد فرمائے گا کہ اس کی تائید و نصرت ہمیشہ اس کے ساتھ ہے۔ 93 قدرت نے کافروں کا بول نیچا کردیا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے نیچا کردیا کافروں کے بول کو کہ وہ اپنے منصوبے میں ناکام ہوئے۔ نہ وہ آپ کو دیکھ سکے اور نہ قتل و قید کرسکے۔ (الجامع، وغیرہ) ۔ ان لوگوں نے اپنے لئے شقاوت و بدبختی کے سوا کچھ نہ کمایا۔ تدبیر اللہ ہی کی غالب رہی ۔ { وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہ وَلٰکَنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْن } ۔ سو یہ بھی قدرت کی نصرت غیبی کا ایک ثبوت و مظہر ہے جس سے وہ اپنے خاص اور مقبول بندوں کو نوازتا ہے ۔ جل و علا شانہ ۔ پس مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک سے اپنے تعلق کو زیادہ سے زیادہ مضبوط و مستحکم کرنے کی فکر و کوشش کرے اور اپنی عبدیت اور رجوع الی اللہ میں کمال پیدا کرنے کی سعی کرے کہ یہی اس کی قوت کا راز اور اس کا اصل اور حقیقی سرمایہ ہے جس سے سرفرازی کے بعد اس کو اور کسی کی نہ ضرورت ہوتی ہے نہ حاجت ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ ہمیشہ اپنا بنائے اور اپنے کام میں لگائے رکھے ۔ آمین۔ 94 اللہ کا بول ہے ہی اعلیٰ وبالا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کا بول تو ہے ہی اونچا کہ وہ سب پر غالب اور بڑا ہی حکمت والا ہے۔ سو اس کا بول تو ہے ہے اونچا۔ ہر حال میں اور ہر صورت میں کہ وہ حق اور سراسر حق ہے۔ اور حق کی شان یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اعلیٰ وبالا رہے۔ جیسا کہ لسان نبوت سے فرمایا گیا " الْحَقُّ یَعْلُوْ وَلا یُعْلٰی عَلَیْہِ " یعنی حق غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔ اور انجام کار کامیابی بھی حق والوں ہی کی ہے { وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْن } اور جو حق کے مقابلے میں آئے گا اور حق کو نیچا دکھانے کی سعی نامراد کرے گا وہ خود ذلیل و خوار ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العزیز۔ اور جو اللہ کے بول کو سربلند کرنے کی سعی میں حصہ لے گا وہ سربلندی پائے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

نکلو تم خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے بھی اور اپنی جانوں سے بھی، یہ خود تمہارے ہی لئے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو

95 اللہ کی راہ میں ہر حال میں نکلنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں نکلو خواہ تم ہلکے ہوا کرو یا بوجھل یعنی ہر حال میں، خواہ اسلحہ خوب ہو یا نہ ہو۔ خواہ تم تیز چلنے والے ہوؤ یا آہستہ۔ خواہ بیمار ہوؤ یا صحت میں۔ پیا دہ ہوؤ یا سوار۔ بوڑھے ہوؤ یا جوان۔ دولت مند ہوؤ یا محتاج۔ (روح، طبری، جامع، ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی جس سے جس قدر ممکن ہو اتنا اس میں حصہ لے کہ جہاد ایک عظیم الشان عبادت اور جلیل القدر حکم ہے۔ اور اس میں شرکت و حصہ داری ایک عظیم الشان سعادت ہے۔ اس نے قیامت تک باقی رہنا ہے۔ اور قوائے شر و طغیان کی سرکوبی اور معاشرے کی اصلاح و تطہیر کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ لہذا مومن کو اس کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے اور جب بھی اور جیسا کہ موقع ہو اس کے لیے نکلنا چاہیے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ نکلو تم لوگ (اے ایمان والو) اللہ کی راہ میں خواہ تم ہلکے ہوا کرو یا بوجھل اور جہاد کرو تم لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے بھی اور اپنی جانوں سے بھی۔ یہ خود تمہارے ہی لیے بہتر ہے اگر تم جانو ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر کوئی مال ہوتا نزدیک کا، اور سفر ہوتا ہلکا، تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے لیکن ان کو بہت دور لگا یہ کھٹن راستہ، اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہمارے بس میں ہوتا، تو ہم ضرور نکلتے آپ لوگوں کے ساتھ،1 یہ لوگ خود ہلاکت میں ڈالتے ہیں اپنے آپ کو اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں،2

96 اصل قوت ایمان کی قوت ہے : سو اصل قوت ایمان و یقین کی قوت ہے جو کہ ایک حیات آفریں اور کیف آور قوت ہے۔ جس کے بعد کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی اور ہر حالت خیر ہی خیر ہوجاتی ہے۔ جبکہ اس سے محروم لوگوں کے لیے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جہاد کا یہ سفر بھی مشکل لگتا ہے جس کے طے کرنے کے لئے مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ کیونکہ منافق لوگ دنیاوی فوائد و منافع ہی کے لئے نکلتے تھے جو بظاہر یہاں موجود نہیں تھے۔ اس لئے ان کو مشقت کا یہ سفر بہت بھاری لگ رہا تھا ۔ سبحان اللہ ! ۔ ایمان و عقیدہ کی قوت بھی کیسی عظیم الشان اور کتنی زبردست اور انقلاب آفریں قوت ہوتی ہے کہ اس سے بڑی سے بڑی مشقت و تکلیف، یہاں تک کہ جان کا نذرانہ پیش کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔ جبکہ اس سے محرومی کی صورت میں معمولی مشقت بھی ناقابل برداشت بوجھ بن جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان و یقین کی قوت ایک حیات بخش انقلاب آفریں اور کیف آور قوت ہے جبکہ اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ زندگی اور اس کی قوت سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ قوت ایمان و یقین میں اضافہ فرمائے اور ہمیشہ ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 97 جھوٹی قسمیں ہلاکت و تباہی کا باعث۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جھوٹی قسمیں کھا کر یہ لوگ خود اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ جھوٹی قسم ہلاکت و بربادی کا باعث ہے جیسا کہ ایک روایت میں آنحضرت ﷺ سے منقول ہے کہ جھوٹی قسم شہروں کو ویران کر کے رکھ دیتی ہے " الیمین الفاجرۃ تدع الدِّیارَ بَلاقِعَ " ( المراغی وغیرہ) ۔ چناچہ آج ہم اس کے آثار و نتائج جابجا دیکھ رہے ہیں۔ جھوٹی قسموں کا رواج ایسا عام ہے کہ لوگوں کو اس بارے کسی بات کی پرواہ تک نہیں، جسکے نتیجے میں فتنوں اور فسادات کا چہار سو دور دورہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لیکن دنیا ہے کہ اس کا کوئی احساس و خیال تک نہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دین حنیف کی ان تعلیمات مقدسہ کا دنیا پر کس قدر احسان عظیم ہے کہ ان کے ذریعے دنیا کو ان اہم اور بنیادی مخفی حقائق سے اس طرح آگہی بخشی ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ منافق لوگ اپنی جھوٹی قسموں کے ذریعے اپنی صفائی بیان کرتے ہیں اور اس کو اپنی چالاکی جانتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ اس طرح یہ لوگ خود اپنے آپ ہی کو ہلاکت اور تباہی کے ہولناک گڑھے میں ڈال رہے ہیں مگر ان کو اس کا احساس و شعور نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ نے معاف فرمادیا آپ کو (اے پیغمبر ! ) آپ نے ان کو کیوں اجازت دے دی یہاں تک کہ کھل کر آپ کے سامنے آجاتے وہ لوگ جو سچے ہیں اور آپ جان لیتے جھوٹوں کو،3

98 پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل : سو آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ نے اے پیغمبر ان لوگوں کو کیوں اجازت دی یہاں تک کہ کھل کر آپ کے سامنے آجاتے وہ لوگ جو سچے ہیں اور آپ جان لیتے ان کو جو چھوٹے ہیں۔ یہ اس موقع سے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے جب کہ آنحضرت ﷺ نے کچھ منافقوں کو ان کے ان حیلوں بہانوں کی بنا پر پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی تھی جو کہ اصل میں جھوٹے اور بےبنیاد حیلے بہانے تھے۔ سو اس پر آنحضرت ﷺ سے اس طرح پرسش فرمائی جاتی ہے مگر لطف و کرم کی شان خاص ملاحظہ ہو کہ { عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ } کا مژدہ آغاز ہی میں سنا دیا گیا۔ بہرکیف اس سے یہ امر صاف اور واضح ہوگیا کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل ﷺ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ ورنہ نہ آپ ﷺ ان منافقوں کے ان جھوٹے حیلوں بہانوں کو سنتے مانتے نہ ان پر اعتماد کرتے اور نہ ہی ان کی بناء پر ان لوگوں کو پیچھے رہنے کی اجازت دیتے اور نہ ہی ان کو اجازت دینے پر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے آپ ﷺ پر اس طرح گرفت فرمائی جاتی۔ پس اس سے اہل بدعت کے علم غیب کلی اور اختیار کلی کے شرکیہ عقیدوں کی جڑ نکل جاتی ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو عالم غیب اور مختار کل اللہ وحدہ لا شریک کی ذات اقدس و اعلی ہی ہے اس میں کوئی بھی ہستی اس کی شریک نہیں اور نہ ہی کوئی شریک ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور عقل و نقل دونوں کے صاف وصریح دلائل اسی حقیقت کی تصدیق و تائید کرتے ہیں۔
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

وہ لوگ تو آپ سے اجازت مانگتے ہی نہیں جو (صدق دل سے) ایمان رکھتے ہیں، اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اس سے کہ وہ جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے، اور اللہ خوب جانتا ہے پرہیزگاروں کو،4

99 قوت ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قوت ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والے تو آپ سے پیچھے رہنے کی اجازت مانگتے ہی نہیں۔ بلکہ وہ تو جہاد و قتال کے ایسے موقعوں میں شامل و شریک ہونا اور ان میں حصہ لینا ایک عظیم سعادت اور ذریعہ قرب و نجات سمجھتے ہیں۔ اور اس کی آرزو اور تمنا رکھتے ہیں۔ ہاں مرض نفاق کے روگی اور مریض ہیں جو اس طرح کے جھوٹے حیلے بہانوں کے ذریعے اجازت مانگتے اور جہاد و قتال میں شرکت کے شرف سے محروم رہتے ہیں۔ سو ایمان و یقین کی قوت دنیا و آخرت کی سعادت و کامرانی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے جبکہ اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر خیر سے محرومی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے منافقین اور مخلصین کے درمیان ایک نمایاں اور واضح فرق بیان فرما دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر سچا پکا ایمان رکھتے ہیں وہ جہاد سے پیچھے رہنے کے لیے اجازت نہیں مانگتے بلکہ وہ شرکت جہاد کے شرف سے مشرف ہونے کے لیے سچی طلب رکھتے ہیں۔ لیکن جو نفاق کے روگی ہیں اور ان کے ایمان کے دعوے محض زبانی کلامی اور کھوکھلے ہیں وہی پیچھے رہنے کے لیے درخواستیں پیش کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہی ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا - 100 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ خوب جانتا ہے پرہیزگاروں کو۔ سو وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کون متقی و پرہیزگار ہے اور کون نہیں ؟ اور کس کا تقویٰ اور پرہیزگاری کس درجے کی ہے اور کون اس کی رضا و خوشنودی کے لئے نیک عمل کرتا ہے ؟ اور کون دکھلاوے اور ظاہر داری کے لئے ؟ یا دنیا کے کسی اور نفع اور فائدے کے پیش نظر ؟ پس وہ اپنے اسی علم محیط و کامل کے مطابق ہر کسی کو اس کی جزا سے نوازے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم لوگ ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صاف اور صحیح رکھنے کی فکر اور کوشش کرتے رہا کرو۔ نیت کے اعتبار سے بھی اور عمل کے اعتبار سے بھی ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ اللَّھُمَّ فَخُذْ بِنَواصِیْنَا الی مَا فِیْہِ حُبّکَ وَرِضَاکَ ۔ سو اللہ تعالیٰ اپنے متقی اور پرہیزگار بندوں کو اچھی اور پوری طرح جانتا ہے۔ اور وہ فریضہ جہاد سے پیچھے رہنے کی درخواست کبھی نہیں پیش کرتے بلکہ وہ اس میں شرکت اور اجر وثواب کی کمائی کے مشتاق و متمنی اور اس کے خواہشمند رہتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لتقواہ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 9:45

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

آپ سے اجازت تو بس وہی لوگ مانگتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر، اور قیامت کے دن پر اور شک (کی دلدل) میں پڑے ہیں ان کے دل، پس اپنے شک میں ہی پڑے بھٹک رہے ہیں،

101 ایمان و یقین سے محرومی ہر خیر سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر خیر سے محرومی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ سے جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت تو بس وہی لوگ مانگتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ اور وہ شک اور نفاق کی دلدل میں پھنسے پڑے ہیں۔ سو جہاد سے تخلف کی اجازت منافق لوگ ہی مانگتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے۔ معلوم ہوا کہ شک و نفاق کے مریض سکون و اطمینان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں اور اس طرح اپنے کئے کی ایک نقد سزا ان کو یونہی اور یہیں اس دنیا ہی میں ملتی رہتی ہے کہ وہ سکون و اطمینان کی دولت سے محروم رہتے ہیں۔ اور سکون و اطمینان کی یہ دولت عقیدہ و ایمان کی مضبوطی و پختگی کے بغیر نصیب نہیں ہوسکتی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلّ سُوْئٍ وّ شّرٍ فیِ الْعَقِیْدَۃِ وَالْعَمَلٍ ۔ سو ایمان و عقیدہ کی دولت ایسی عظیم الشان دولت ہے جو انسان کو اللہ پاک کی توفیق و عنایت سے آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفراز کرنے سے پہلے اس دنیا میں بھی امن و سکون اور اطمینان قلب کی دولت سے سرفراز کرتی ہے۔ اور اس سے انسان کو حیات طیبہ [ پاکیزہ زندگی ] کی دولت ملتی ہے جس سے اس کو اس دنیا میں بھی جنت کی سی خوشی نصیب ہوتی ہے جبکہ اصل اور حقیقی بدلہ ان کو آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں ملے گا جو کہ " دار الجزاء " ہے۔ جبکہ دنیا کی یہ منزل " دار العمل " ہے۔ سو مومن صادق کا دل اس دنیا میں بھی مطمئن اور شاداں وفرحاں رہتا ہے اور راہ حق میں ہر قربانی کو وہ باعث سعادت و سرفرازی سمجھتا ہے۔ جبکہ منافق اس کے برعکس ہمیشہ مذبذب اور ڈانواں ڈول ہی رہتا ہے اور منافقت کے روگ کی بنا پر وہ سکون و اطمینان کی دولت سے ہمیشہ محروم رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر واقعی ان کا نکلنے کا ارادہ ہوتا تو یہ اس کے لئے کچھ نہ کچھ سامان تو ضرور تیار کرتے لیکن اللہ کو اٹھنا پسند نہ تھا تو اس نے بٹھا دیا ان (کے دلوں) کو، اور کہہ دیا گیا (ان سے تکوینی طور پر) کہ بیٹھے رہو تم بیٹھنے والے (محروم) لوگوں کے ساتھ،

102 فساد نیت محرومی کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ان کو بٹھا دیا ان کی اس بدنیتی اور خبث باطن کی بناء پر، جس کے نتیجے میں یہ لوگ اس کار خیر میں حصہ لینے کے قابل ہی نہ رہے۔ ان کے دل بیٹھ گئے۔ اور یہ ایسے عظیم الشان اجرو ثواب سے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نیت کا فساد محرومی کی جڑ بنیاد ہے اور حسن نیت توفیق کی اصل و اساس۔ جیسا کہ فرمایا گیا " نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ " ۔ فَوَفِّقْنَا یَا رَبَّنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی یَا مَنْ لَّاحَدَّ لِجُوْدِہٖ وَلا نِہَایَۃَ لِکَرَمِہٖ واِحْسَانِہٖ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان لوگوں کے اندر جہاد کے لیے اٹھنے کا ارادہ ہوتا تو یہ اس کے لیے کچھ نہ کچھ تیاری کرتے۔ پھر ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق بھی مل جاتی لیکن ان کے اندر تو جہاد کے لیے کوئی ارادہ ہی سرے سے موجود نہیں تھا۔ اس لیے یہ جہاد کیلیے نکلنے کی سعادت و توفیق سے محروم ہوگئے کہ اللہ کا دستور اور اس کی سنت یہی ہے کہ جو لوگ نیکی کمانے کے لیے اپنے ارادہ کو حرکت میں نہیں لاتے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق نہیں ملتی ۔ والعیاذ باللہ - 103 بدنیتی کی ایک نقد سزا محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہ دیا گیا یعنی تکوینی طور پر کہ تم بیٹھ رہو بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ۔ یعنی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں و معذوروں کے ساتھ۔ کہ اپنی بدنیتیوں اور دوں ہمتیوں کے باعث کہ تم اس لائق ہو ہی نہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ کے شرف سے مشرف ہوسکو جو کہ دارین کی سعادتوں کا ضامن و کفیل ہے۔ سو یہ بدنیتی اور سوئِ باطن کی ایک نقد سزا ہے جو انسان کو اس طرح کی محرومی کی شکل میں ملتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ توفیق خداوندی کے باب میں ایک سنت الہی کا ذکر وبیان ہے کہ جو لوگ کسی چیز کو دل سے نہیں چاہتے اور اس کا ارادہ نہیں کرتے تو ان کو اس سے محروم کردیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ " تثبیط " کے معنی کسی کو کسی کام سے روک دینے اور ہٹا دینے کے آتے ہیں۔
Ayahs 9:47–50

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تمہارے اندر شامل ہو کر نکلتے بھی تو تمہارے اندر خرابی کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے، اور وہ ضرور دوڑ دھوپ کرتے تمہارے درمیان فتنہ پردازی کی، اور اب تمہارے درمیان ان کے لئے سننے والے موجود ہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے ایسے ظالموں کو،1

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

انہوں نے یقینا اس سے پہلے بھی فتنہ پردازی کرنا چاہی تھی، اور یہ الٹ پھیر کرچکے ہیں طرح طرح کی کاروائیوں کا آپ (کی ضرر رسانی) کے لئے، یہاں تک کہ آگیا حق، اور غالب ہو کر رہا اللہ کا حکم، اور یہ (جلتے اور) کڑھتے ہی رہے،

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے اجازت دے دیجئے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے، آگاہ رہو کہ فتنے میں تو یہ لوگ واقعی پڑگئے ہیں، اور یقینا جہنم نے پوری طرح گھیرے میں لے رکھا ہے کافروں کو،2

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آئے تو ان کو یہ امر برا لگتا ہے اور اگر کوئی مصیبت پڑجائے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا، اور یہ لوٹتے ہیں خوشیاں کرتے ہوئے،

104 ایمان صادق حفاظت و پناہ کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ تمہارے اندر شامل ہو کر سفر میں نکلے بھی تو تمہارے اندر خرابی کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور وہ تمہارے اندر فتنہ پردازی ہی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے۔ پس تم ۔ اے مسلمانو !۔ ان کے پیچھے رہ جانے سے افسوس کرنے کی بجائے خوش ہوجاؤ کہ " خس کم جہاں پاک " کے علاوہ تم ان کی شرانگیزیوں اور فتنہ رسانیوں سے بچ گئے ہو کہ انہوں نے تمہارے درمیان رہ کر بہرکیف شرانگیزی ہی کیلئے کوشش اور تگ و دو کرنا تھی۔ سو قدرت کے اس تکوینی فیصلے سے تم لوگ اے مسلمانو ان کی شرانگیزیوں سے بچ گئے۔ لہذا تم کو انکے پیچھے رہ جانے پر افسوس کرنے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے۔ اس میں مسلمانوں کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ مومنین صادقین کی بہتری کا انتظام اللہ پاک خود فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو صدق ایمان دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اسی سے انسان کے اندر قوت پیدا ہوتی اور اس کو کون ملتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ 105{ وَفِیْکُمْ سَمَّاعُوْنَ لَہُمْ } کا مطلب ؟ : یعنی تمہارے اندر اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کے لئے جاسوسی کرتے ہیں۔ پس تمہیں ان سے محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا مطلب اس ارشاد کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہارے درمیان کچھ سادہ لوح مسلمان اب بھی ایسے موجود ہیں جو ان منافقوں کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں۔ سو ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ان کے نفاق کی علامات کھل کر تمہارے سامنے آگئی ہیں۔ الفاظ و کلمات کریمہ کا عموم ان دونوں ہی مفہوموں کو عام اور شامل ہے اور یہ دونوں ہی اہم ہیں۔ اور ان میں اہل ایمان کو حزم واحتیاط سے کام لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے تاکہ وہ ان کے شرور و فتن سے محروم رہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

(ان احمقوں سے) کہو کہ ہمیں ہرگز نہیں پہنچاتا مگر وہ کچھ جو کہ اللہ نے ہمارے لئے لکھ رکھا ہے، وہی ہمارا کار ساز ہے، اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے، سب ایمانداروں کو،

109 تقدیر کے لکھے نے بہرحال ہو کر رہنا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ ہمیں ہرگز نہیں پہنچتا مگر وہی کچھ جو کہ قدرت نے ہمارے لیے لکھ رکھا ہے کہ لکھے ہوئے نے بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ یعنی جو لکھا ہے لوح محفوظ میں۔ اور جو وہاں لکھا ہوگا وہ بہرحال ہو کر رہے گا۔ کسی کے خوش یا ناخوش ہونے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پس تمہارا خوش ہونا دراصل تمہاری اپنی ہی حماقت کی دلیل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (جامع البیان، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ کیونکہ تقدیر کے لکھے نے بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ اس میں کسی کا کوئی دخل اور اختیار نہیں۔ سو خدا نے جو کچھ ہمارے لیے لکھ رکھا ہے وہ بہرحال ہو کر رہے گا۔ وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتا۔ اور اس نے جو کچھ ہمارے لیے لکھ رکھا ہے اسی میں ہماری بہتری ہے کہ وہ ہمارا مولی ہے۔ پس اس نے ہمارے لیے جو کچھ لکھ رکھا ہے اسی میں ہماری بہتری ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو مومن کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے۔ اور اس کا دل ہر حال میں مطمئن ہی رہتا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا - 110 ایمان کا تقاضا کہ بھروسہ اللہ ہی پر ہو : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو کہ ایمان صادق کا تقاضا یہی ہے کہ بھروسہ و اعتماد اسی وحدہ لاشریک پر کیا جائے کہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی کے اشارہ و ارشاد سے ہوتا ہے کہ وہی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر افسوس کہ آج کے کلمہ گو مسلمان کا حال اس سے مختلف بلکہ اس کے برعکس ہے کہ کہیں اس کا بھروسہ و اعتماد ظاہری اور مادی اسباب و وسائل پر ہے اور کہیں کسی زندہ یا مردہ انسان پر۔ کہیں کسی جبے قبے اور بنی ٹھنی قبر پر اور کہیں کسی خود ساختہ اور من گھڑت " سرکار " پر وغیرہ وغیرہ۔ اسی لئے وہ غیر اللہ کو طرح طرح کے ناموں سے پکارتا ہے۔ ان کے نام کی نذریں مانتا، نیازیں دیتا، چڑھاوے چڑھاتا، ان پر چادریں ڈالتا، جھنڈے لگاتا، کپڑے چیتھڑے باندھتا، قبروں کو دھوتا، غسل دیتا، ان کو چومتا چاٹتا، سلامیاں دیتا اور ڈالیاں پیش کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ جب کہ اللہ پاک صاف وصریح طور پر اور حصر و تاکید کے ساتھ فرماتا ہے کہ ایمان والوں کو صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے ۔ فَاِلَی اللّٰہِ الْمَشْتَکیٰ وَھُوَالْمُسْتَعَان ۔ بہرکیف یہاں پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرما دیا گیا کہ ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے کہ سچے ایمان و یقین کا تقاضا یہی ہے۔ ورنہ محض زبانی کلامی دعو وں کا کچھ فائدہ نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ تم لوگ ہمارے بارے میں انتظار نہیں کرتے مگر دو بھلائیوں میں سے ایک کا، جب کہ ہم تمہارے بارے میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تم پر واقع کردے کوئی عذاب (براہ راست) اپنی طرف سے، یا ہمارے ہاتھوں سے دلوائے، سو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہیں،

111 مومن کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ تم لوگ ہمارے لیے دو بھلائیوں میں سے ایک کی ہی انتظار کرتے رہو۔ یعنی یا فتح و ظفر کی، جس میں عزت و عظمت بھی ہے اور دولت و غنیمت بھی۔ اور یا قتل و شہادت کی، جس پر اللہ پاک کے فضل و کرم سے جنت کی دائمی اور سدا بہار نعمتیں ملیں گی۔ سو ناکامی تو ہمارے لئے ہے ہی نہیں۔ پھر تمہارے لئے ہمارے بارے میں کسی مسرت و شادمانی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحان اللہ ! ۔ ایمان و عقیدہ کی دولت بھی کیسی عظیم دولت ہے کہ اس کے بعد ایک مومن صادق کے لئے کامیابی ہی کامیابی ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذِہ النِّعْمَۃِ الْعُظْمٰی والسَّعادَۃِ الْقُصْوٰی ۔ فِزِدْنَا اللّٰہمُ اِیْمَانَاً وَ یَقِیْنًا ۔ سو مومن کی ہر حالت خیر ہی خیر کی ہے۔ ناکامی اور محرومی اس کے لیے ہے ہی نہیں۔ اگر اس کو نعمت ملے گی تو اس پر وہ حق تعالیٰ کا شکر ادا کرے گا جس سے وہ اس کے لیے خیر بن جائے گی۔ اور اگر کوئی تکلیف پیش آئے گی ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس پر وہ صبر کرے گا جس سے وہ اس کے لیے خیر بن جائے گی ۔ فالحمد للہ - 112 اللہ کا عذاب کبھی براہ راست اللہ کی طرف سے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ ہم تمہارے بارے میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تم پر براہ راست اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے۔ جیسے زلزلہ، سیلاب، طوفان یا آسمان سے نازل ہونے والی کوئی دوسری بلا۔ جیسا کہ پہلی قوموں سے ہوچکا ہے اور آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے۔ زلزلوں، سیلابوں اور طوفانوں وغیرہ کی صورت میں ہوتا رہتا ہے، جن کے ذریعے دیکھتے ہی دیکھتے شہروں کے شہر تباہ و برباد ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے کافروں کو اہل ایمان کی طرف سے جواب دیا گیا کہ مومن جب اللہ کی راہ میں لڑتا ہے اور فتح و نصرت سے سرفراز ہوتا ہے تو دنیاوی عزت و عظمت اور مال و دولت سے سرفرازی کے ساتھ غازی بن کر لوٹتا ہے۔ اور اگر مارا گیا تو شہید بن کر اپنی حقیقی مراد کو پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس کافروں کے لیے ہر حال میں خسارہ ہی خسارہ ہے کہ ان کو یا تو کبھی اللہ کی طرف سے براہ راست کسی عذاب میں دھر لیا جاتا ہے یا اہل ایمان کے ہاتھوں کسی رسوا کن عذاب سے دوچار کیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 113 کفار کو عذاب اہل ایمان کے ہاتھوں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یا اللہ تم لوگوں کو کوئی عذاب دے دے ہمارے ہاتھوں۔ جیسے قتل، قید اور کوئی ذلت آمیز شکست وغیرہ۔ سو ہم لوگ تمہارے بارے میں اس طرح کے کسی انجام بد کے منتظر ہیں جس سے تم نے اپنے کفر و انکار کی بناء پر بہرحال مبتلا ہونا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تم لوگ بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار میں ہیں وقت آنے پر اصل حقیقت خود تمہارے سامنے آجائے گی۔ سو کفر و انکار ہلاکت و تباہی کی اساس اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ تسلیم کرے یا نہ کرے۔ اور کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العزیز۔ کہ کفر و انکار کی راہ بغاوت و سرکشی کی راہ ہے جس کا نتیجہ و انجام بہرحال برا ہے۔ خواہ وہ کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں سامنے آئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی کی راہ و روش کو ترک کر کے دین و ایمان کی راہ کو اپنائے جو کہ سلامتی ونجات کی راہ ہے اور جس میں انسان کے لیے دنیا و آخرت کا بھلا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ خواہ تم لوگ خوشی سے خرچ کرو، یا ناگواری سے، بہرحال تم سے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا کہ تم لوگ پکے کردار کے لوگ ہو1

114 منافق کا انفاق کبھی قبول نہیں ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ تم لوگ خواہ خوشی سے خرچ کرو یا ناگواری سے بہرحال تم سے کبھی قبول نہیں کیا جائے گا کہ تم لوگ پکے بدکار ہو۔ پس ایسے منافقوں کا انفاق کبھی قبول نہیں ہوگا۔ نہ تو اس میں اخلاص ہے اور نہ ہی رضاء ِالہی کا قصد۔ اور اس طرح کا کوئی بھی صدقہ و انفاق قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ یہ آیت کریمہ نازل تو اگرچہ منافقین کے بارے میں ہوئی مگر حکم اس کا عام ہے کہ جس صدقہ و خیرات میں بھی رضائِ الہی مقصود نہ ہو وہ قابل قبول نہیں۔ خواہ وہ کہیں بھی ہو اور کسی کی طرف سے بھی ہو۔ (جامع البیان وغیرہ) کہ اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں وہی چیز شرف قبولیت پاسکتی ہے جس میں صدق و اخلاص پایا جاتا ہو۔ اور جو بذات خود ہو بھی حلال اور پاکیزہ۔ پھر وجہ اس کی یہ بیان فرمائی گئی کہ یہ لوگ فاسق ہیں۔ اور فاسق " فسق " سے ماخوذ ہے اور فسق کے معنیٰ خروج کے آتے ہیں " خروج عن الطاعۃ "۔ اور یہ کفر کو بھی شامل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں شرف قبولیت سے سرفرازی کے لیے صدق و اخلاص اولین اساس و بنیاد ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کے دیئے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی وجہ سے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ انہوں نے کفر کیا اللہ (جل شانہ) کے ساتھ، اور اس کے رسول (برحق) کے ساتھ، اور (اس باطنی کفر کی ظاہری علامات یہ ہیں کہ) یہ لوگ نماز پڑھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے، اور یہ خرچ کرتے ہیں تو ناگواری کے بوجھ تلے دبے ہوئے،

115 منافقوں کی دو خاص علامتوں کا ذکر : یعنی ادائیگی نماز میں سستی و ریاکاری اور انفاق فی سبیل اللہ میں ثقل و ناگواری ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کا نتیجہ و انجام یہی ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں کوئی شخض محض اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے کسی کام کے کرنے کا حوصلہ اور ہمت ہی نہیں پاسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں منافقوں کی دو علامتیں ذکر فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نماز پڑھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے۔ اور دوسری یہ کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو ناگواری کے ساتھ۔ سو اس میں ایک طرف تو یہ درس عبرت ہے کہ ایمان و عقیدہ کی محرومی کے بعد منافقانہ ایمان کا یہی حال ہوتا ہے کہ عبادات میں کسی لذت و سرور کا کوئی سوال باقی نہیں رہ جاتا۔ بلکہ ایسے میں عبادات کی ادائیگی محض ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے جسے ایسے لوگوں کو بادل نخواستہ ایک بوجھ کے طور پر بجا لانا پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری طرف اس میں اہل ایمان کے لیے یہ درس ہے کہ وہ اس طرح کی منافقانہ روش سے بچ کر رہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ کفر و نفاق کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 116 منافقانہ ایمان کا اثر و نتیجہ : سو اس سے منافقانہ ایمان کے اثر و نتیجہ کو ظاہر فرما دیا گیا۔ یعنی نماز میں سستی و ریاکاری اور انفاق فی سبیل اللہ میں بخل و ناگواری اور ظاہر ہے کہ جب اس کے اجر وثواب کا انہیں یقین ہی نہیں تو پھر یہ خوش دلی اور رضا ورغبت سے خرچ کر ہی کس طرح سکتے ہیں ؟ سو دولت ایمان و یقین سے محرومی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اس کے بعد نہ کسی عبادت میں کوئی لذت نصیب ہوسکتی ہے اور نہ زندگی کا سرور۔ سو ایسے محروم اور بدبخت لوگ محض مارے باندھے یا دکھلاوے اور نمائش کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ سو اس طرح کے انفاق کی اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ کوئی وقعت ہوسکتی ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی قدر و قیمت۔ اس غنی مطلق کی شان اقدس و اعلیٰ بہت ہی بلند اور اعلیٰ وبالا ہے۔ اس کے یہاں تو وہی پاکیزہ چیز قبول ہوسکتی ہے اور شرف قبولیت سے سرفراز و بہرہ ور ہوسکتی ہے جو سچے ایمان اور صدق و اخلاص کے ساتھ ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 9:55–56

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

پس تعجب میں نہ ڈالنے پائیں آپ کو ان لوگوں کے مال، اور نہ ہی ان کی اولادیں، سوائے اس کے نہیں کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان کو عذاب دے انہی چیزوں کے ذریعے دنیا کی زندگی میں، اور ان کا دم نکلے تو کفر ہی کی حالت میں نکلے،2

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کی قسمیں کھا کھا کر تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ یہ تم ہی لوگوں میں سے ہیں، حالانکہ یہ تم میں سے نہیں ہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ڈرتے ہیں،

117 اہل کفر و باطل کا مال و دولت ان کیلئے باعث عذاب و وبال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دولت ایمان و یقین سے محروم ان لوگوں کے اموال اور ان کی اولادوں سے تم لوگوں کو تعجب میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو انہی چیزوں کے ذریعے سزا دے۔ دنیا کی زندگی میں اور ان کی جان نکلے تو کفر ہی کی حالت میں نکلے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اول تو یہ لوگ اس مال و دولت کے حصول میں طرح طرح کے پاپڑ بیلتے اور پریشانیاں اٹھاتے ہیں۔ پھر ان مالوں کی حفاظت اور بڑھوتری کے لئے یہ قسما قسم کے جتن کرتے ہیں۔ اور پھر اس مال و دولت کے ضیاع اور نقصان کے سلسلے میں ہمیشہ لگے رہنے والے دھڑکے کی بناء پر یہ ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں وغیرہ۔ (المراغی، الصفوۃ وغیرہ) ۔ اور آخرت کا حساب الگ ہے۔ اور ان سب سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ اموال ان کے تکبر و غرور کے اضافے کا باعث بن کر ان کو حق و صداقت کے نور سے اور دور اور محروم کردیتے ہیں جو کہ سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف مال اور اولاد کی دونوں نعمتیں قدرت کی دو عظیم الشان نعمتیں ہیں۔ اگر انسان کا دین و ایمان اور قلب و باطن درست ہو تو وہ ان کے ذریعے اپنی دنیا بھی بنا سکتا ہے اور آخرت بھی۔ اور اپنے صدق و اخلاص کے ذریعے مال و اولاد کی ان نعمتوں سے اپنی دنیا بھی بنا سکتا اور آخرت بھی اور ان کے ذریعے وہ مراتب عالیہ سے سرفراز ہوسکتا ہے۔ اور جب وہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہوتا ہے تو اس کے مال و اولاد ترقی و عروج کی کمندوں کی بجائے غلامی و تنزل کے پھندے بن جاتے ہیں اور اس کو عروج مدارج عالیہ سے بہرہ ور کرنے کی بجائے اس کو قعر مذلت سے ہمکنار کر کے چھوڑتے ہیں۔ اور ایسے لوگ دارین کے عذاب میں مبتلا ہو کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 9:57–59

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

(اور یہ مجبور ہیں ورنہ) اگر ان کو مل جائے کوئی پناہ گاہ، یا کوئی غار، یا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ ہی، تو یہ اس کی طرف سرپٹ دوڑ پڑیں،3

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ پر (اے پیغمبر ! ) عیب لگاتے ہیں صدقات کے بارے میں، اگر ان کو ان میں سے (ان کی مرضی کے مطابق) کچھ مال جائے تو یہ خوش ہوجاتے ہیں اور اگر نہ ملے تو یہ لوگ یکایک بگڑجاتے ہیں،

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر یہ راضی ہوجاتے اس پر جو ان کو عطا فرمایا تھا اللہ نے اور اس کے رسول نے، اور کہتے کہ کافی ہے ہم کو اللہ، عنقریب ہی اللہ ہمیں (اور بہت کچھ) دے گا اپنے فضل سے اور اس کا رسول بھی، بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں (تو یہ خود انہی کے لئے بہتر ہوتا)1

119 منافقوں کی گھٹن اور ان کے باطن کی کیفیت کا ذکر : سو ان لوگوں کے باطن کی گھٹن کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان کو کوئی پناہ گاہ مل جائے یا کوئی غار یا کہیں گھس بیٹھنے کی کوئی جگہ ہی میسر آجائے تو یہ سرپٹ اس کی طرف دوڑ پڑیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے درمیان یہ لوگ کس قدر گھٹن اور تنگی کی زندگی گزارتے ہیں اور اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھ کر ان کے دل و دماغ پر کیا گزرتی ہے اور ان کو ذہنی طور پر کس قدر کوفت و کرب میں مبتلا رہنا پڑتا ہے۔ یہ بھی قرآن حکیم کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ اس نے ان کے باطن کی کیفیت کو اس طرح واضح و آشکارا کردیا۔ اور یہ اسی ذات اقدس و اعلیٰ کی شان ہوسکتی ہے جو کہ { عَلِیْمٌ بِذَات الصَّدُوْرِ } ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے انسان کو امن و سکون کی دولت نصیب ہوتی ہے اور وہ ہر حال میں مطمئن اور پر سکون رہتا ہے۔ جبکہ ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کے نتیجے میں انسان سکون و اطمیان سے محروم رہتا ہے اور وہ اپنے باطن میں ہر وقت ایک گھٹن اور کرب میں مبتلا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -